فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں ‘ پہلے قول کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو آپ کے لشکر میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک فریق نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسرے فریق نے کہا ہم ان کو قتل نہیں کریں گے۔ 

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔ (النساء : ٨٨) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جسے لوہے سے زنگ نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢١٦٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آگئے تھے ‘ انہوں نے مسلمانوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں پھر وہ مکہ واپس چلے گئے اور مکہ والوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مشرک ہیں : امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

مجاہد اس آیت کے شان نزول میں بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مہاجر ہیں ‘ پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ مکہ سے اپنا مال لا کر تجارت کریں گے تو انکے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا ‘ بعض مسلمانوں نے کہا وہ منافق ہیں اور بعض نے کہا وہ مومن ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان کردیا اور ان سے قتال کا حکم دیا وہ اپنا مال لے کر مدینہ جانے کا ارادہ کر رہے تھے تو ان سے ہلال بن عویمر اسلمی نے ملاقات کی ‘ اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا اور یہی وہ شخص تھا جس کا مسلمانوں سے لڑتے لڑتے دل تنگ ہوچکا تھا یا وہ اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے عاجز ہوچکا تھا ‘ اس نے ان لوگوں کی مدافعت کی اور کہا یہ مومن ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو ان کی سرکشی اور ان کے کفر کی وجہ سے دین سے گمراہ کردیا ہے ‘ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ منافق سچے اور مخلص مسلمان بن جائیں ‘ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ کیا تم ان لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانا چاہتے ہو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ سے گمراہ کردیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو جنت کے راستہ کی ہدایت نہیں دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا  ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ (النساء : ٨٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سلام کا احسن طریقہ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اجنبی شخص تم کو سلام کرے تم اس کو مسلمان جانو ‘ اور یہ نہ سمجھو کہ اس نے جان بچانے کے لیے سلام کیا ہے اور اس کے دل میں کفر ہے کیونکہ باطن کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ‘ اور جس نے اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں وہ کافر تھا اس کا حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا ‘ اس لیے اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ لہذا ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے صدق کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 

امتناع کذب کا بیان :

اللہ تعالیٰ واجب بالذات ہے اور اس کی تمام صفات قدیم اور واجب بالذات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا صدق بھی قدیم اور واجب بالذات ہے اور کذب صدق کی نقیض ہے جب کذب آئے گا تو صدق نہیں رہے گا اور کذب آ نہیں سکتا لہذا صدق جا نہیں سکتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا کذب ممتنع بالذات ہے۔ 

امتناع کذب پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخرالدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور اس کے کلام میں کذب اور خلف محال ہے ‘ ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کاذب ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا زوال ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ قدیم کا عدم ممتنع ہے ‘ اور جب کذب کا زوال ممتنع ہوگا تو اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ ایک ضد کا وجود دوسری ضد کے وجود سے مانع ہے ‘ اس لیے اللہ کو کاذب مانا جائے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا ‘ لیکن اس کا کذب ممتنع ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس علم کے مطابق اس چیز کی خبر دے سکتا ہے اور یہی صدق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت ہوگیا تو اس کا کاذب ہونا ممتنع ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨) 

نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ کذب کا امکان صدق عدم کے امکان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور قدیم ہے اس کا عدم اور سلب ممکن نہیں ہے لہذا اس کے کلام میں کذب بھی ممکن نہیں ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ تفتازانی کے دلائل : 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر رازی تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا کلام ازل میں ماضی ‘ حال اور استقبال کے ساتھ متصف نہیں تھا ورنہ لازم آئے گا کہ ازل میں اللہ کا کلام مثلا فعصی فرعون ” فرعون نے معصیت کی “ کاذب ہو کیونکہ ازل میں فرعون تھا نہ اس نے معصیت کی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کذب محال ہے اولا ‘ اس لیے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے ‘ ثانیا اس لیے کہ معجزہ کی دلالت سے انبیاء (علیہم السلام) کی خبروں کا صدق تواتر سے ثابت ہے اور ان کا صدق اللہ کے کلام پر موقوف نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے کلام کے صدق پر موقوف ہو ‘ ثالثا اس لیے کہ تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے کیونکہ نقص عجز ‘ جہل یا عبث کو مستلزم ہے ‘ رابعا ‘ اس لیے کہ اگر ازل میں اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہو تو ازل میں اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ جس چیز کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ‘ جب ازل میں اللہ تعالیٰ صادق ہے تو ازل میں کذب محال ہوگا۔ (شرح المقاصد ملخصا ج ٤ ص ١٥٩۔ ١٥٨‘ مطبوعہ ایران) 

امتناء کذب پر میر سید شریف کے دلائل :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کی تین دلیلیں ہیں :

(١) پہلی دلیل یہ ہے : کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے نیز اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب واقع ہو تو لازم آئے گا کہ بعض اوقات ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ کامل ہوں یعنی جس وقت ہمارا کلام صادق ہو (اور اس کا کلام کاذب ہو) 

(٢) دوسری دلیل یہ ہے : کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا جو کذب کا مقابل ہے ورنہ اس کی صفت کذب کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے اس کے زوال کو محال فرض کرچکے ہیں کیونکہ اس کی صفات قدیم ہیں اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے اور لازم باطل ہے یعنی اللہ پر صدق کا ممتنع ہونا باطل ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس علم کے مطابق خبر دے۔ 

(٣) اور تیسری اور متعمد دلیل جو کلام لفظی اور کلام نفسی دونوں میں کذب بالبداہت معلوم ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ تواتر سے منقول ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے ‘ جس طرح تواتر سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ‘ اگر اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صادق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق کی اور ان کو صادق فرمایا اب اگر اللہ کا صادق ہونا اور اس پر کذب کا ممتنع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے قول اور ان کی خبر سے ثابت ہو تو یہ دور ہوجائے گا انبیاء کا صادق ہونا اللہ کی خبر پر اور اللہ کا صادق ہونا انبیاء کی خبر پر موقوف ہوا اور یہ کسی شے کا اپنے نفس پر موقوف ہونا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا صدق اللہ کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے بلکہ معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اپنے دعوی نبوت پر معجزہ خارق عادت پیش کرتے ہیں جس سے ان کا صدق ثابت ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا صادق اور متکلم ہونا انبیاء (علیہم السلام) کی خبر پر موقوف ہے ‘ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متکلم اور صادق ہے۔ (شرح موافق ج ٨ ص ١٠٣۔ ١٠١‘ مطبوعہ ایران) 

شرح مواقف کے دلائل پر علامہ میر سید شریف کے اعتراضات 

صاحب مواقف نے امتناع کذب پر پہلی دلیل یہ قائم کی کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے ‘ پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ کلام نفسی میں کذب نقص ہے کلام لفظی میں کذب نقص نہیں ہے ‘ کیونکہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جسم میں کلام کاذب پیدا کردے ‘ اس کا جواب یہ دیا کہ کلام کاذب کو پیدا کرنا بھی نقص ہے اور وہ اللہ پر محال ہے ‘ ثابت ہوا کہ اللہ کے کلام میں کذب مطلقا محال ہے ‘ اس پر علامہ میر شریف نے یہ اعتراض کیا کہ اشاعرہ افعال کا حسن اور قبح شرعی مانتے ہیں اور قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں اور قبح عقلی اور نقص میں کوئی فرق نہیں ہے اور جب اللہ پر قبح عقلی جائز ہے تو اس پر نقص بھی جائز ہونا چاہیے اور جب اللہ پر نقص جائز ہوگیا تو اس کے کلام میں کذب کا ممتنع ہونا ثابت نہیں ہوا۔ (شراح المواقف ج ٨ ص ١٠٣ مطبوعہ ایران) 

علامہ میر سید شریف کے اعتراضات کے جوابات :

ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ فنی نفسہ حسن ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ فی نفسہ قبیح ہے مثلا منعم کا شکر ادا کرنا حسن ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ بھی دیتا تب بھی فی نفسہ حسن ہی رہتا اور قتل ناحق فی نفسہ قبیح ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہ بھی فرماتا تب بھی یہ قبیح ہی رہتا ‘ کیونکہ اول الذکر کے حسن اور ثانی الذکر کے قبح کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے اور یہ معنی ہے ان کے اس قول کا کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے ‘ اور اشاعرہ یہ کہتے ہیں کہ حسن اور قبح شرعی ہے یعنی جس کا شارع نے حکم دیا ہے وہ حسن ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ‘ اگر بالفرض شارع قتل ناحق کا حکم دیتا تو وہ حسن ہوتا اور شکر منعم یا عبادت کرنے سے منع کرتا تو ہو قبیح ہوتی۔ اور اس بحث میں حسن کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مدح کا اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو اور قبیح کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت کا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو ‘ اس حسن اور قبح کو اشاعرہ کہتے ہیں کہ شرعی سے عقلی نہیں ہے یعنی عقل اس کے ادراک میں مستقل نہیں ہے مثلا عقل کیسے جان سکتی ہے کہ تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا موزہ کے اوپر کے حصے پر مسح کرنے سے طہارت ہوجاتی ہے یا سونے اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے ان کا حسن اور قبح شرعی ہے اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی عقل ‘ ان کے حسن اور قبح کی ادراک میں مستقل ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا افعال کے حسن اور قبح کے عقلی ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف اسی معنی میں ہے۔ 

حسن کا دوسرا معنی ہے صفت کمال جیسے علم اور صدق ‘ قبح کا دوسرا معنی ہے صفت نقصان جیسے جہل اور کذب اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ سمیت تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا حسن اور قبیح عقلی ہے اور جب یہ واضح ہوگیا تو مواقف میں جو یہ لکھا ہے کہ کذب نقص ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کذب کا نقص ہونا تو قبح عقلی ہے اور اس کو اشاعرہ نہیں مانتے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ اشاعرہ حسن اور قبح جس معنی کو شرعی کہتے ہیں اور اس کے عقلی ہونے کی نفی کرتے ہیں وہ اور معنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو وہ قبیح ہے اور جس کیوجہ سے دنیا میں میں تعریف اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو وہ حسن ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کے لیے اس معنی کے لحاظ سے نہ کوئی فعل حسن ہے نہ قبیح ‘ اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے حسن وہ فعل ہے جس میں کمال ہو اور قبیح وہ ہے جس میں نقص ہو اور اس معنی کے لحاظ سے حسن اور قبح کا عقلی ہونا اشاعرہ سمیت سب کے نزدیک مسلم ہے اس لیے کذب صفت نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے اور اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ مسلم الثبوت اور اس کی شروحات میں بھی یہی لکھا ہے لیکن ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے اس کو بہت آسان ‘ سہل اور واضح کرکے پیش کیا۔ (شرح مسلم الثبوت للخیر آبادی ص ٨٣۔ ٥٢ ملخصا مطبوعہ کوئٹہ ‘ فوتح الرحموت مع المتصفی ج ١ ص ٤٦۔ ٢٦‘ ملخصا مطبوعہ مصر) 

صاحب مواقف نے دوسری دلیل یہ قائم کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا ‘ جو کذب کا مقابل ہے اور اگر کذب قدیم نہ ہو تو اس کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے فرض کرچکے ہیں کہ کذب اس کی صفت ہے اور قدیم ہے اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے پس اگر کذب کو اللہ کی صفت مانا جائے تو اس کا صادق ہونا محال ہوگا اور یہ باطل ہے کیونکہ ہم بداھۃ جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق خبر دے سکتا ہے۔ 

علامہ سید شریف نے اس دلیل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس دلیل سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی میں کذب محال ہو ‘ کیونکہ قدیم کلام نفسی ہے ‘ رہا کلام لفظی تو وہ مخلوق اور حادث ہے اور کلام لفظی جو صادق ہو وہ ممکن اور حادث ہونے کی وجہ سے زائل بھی ہوسکتا ہے اور کلام لفظی میں صدق کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام لفظی صادق اور حادث ہے اور حادث کا زوال بھی ممکن ہے لیکن کلام صادق کے زوال سے کلام کاذب کا امکان لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ کذب کا معنی ہے ایسی خبر جو واقع کے خلاف ہو اور کلام صادق کے زوال اور عدم کے امکان سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ایسی خبر وجود میں آجائے جو واقع کے خلاف ہو ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کلام لفظی صادق کے زوال کا امکان عام ہے اور کلام کاذب کا ثبوت خاص ہے اور عام کا ثبوت خاص کے ثبوت کو مستلزم نہیں ہوتا ‘ عام کی خاص پر دلالت نہ مطابقی ہوتی ہے نہ تضمنی نہ التزامی ‘ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ کلام صادق لفظی کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ میرسید شریف کی تصریحات : 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

(فرق باطلہ میں سے) مزداریہ نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے ‘ علامہ میر سید شریف اس کا رد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو وہ جھوٹا خدا ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٣٨١‘ مطبوعہ ایران)

امتناع کذب کے متعلق دیگر علماء کی تصریحات اور دلائل :

علامہ محمد عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی ذات پر جہل اور کذب دونوں محال ہیں۔ (حاشیہ عبدالحکیم علی الخیالی ص ٢٥٧‘ مع مجموعہ الحواشی السجھیہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ١٣٩٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق نہیں ہوسکتا اور کذب اللہ پر محال ہے کیونکہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے۔ 

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : زیادہ صادق ہونے کی نفی کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صدق میں اللہ کے مساوی بھی نہیں ہوسکتا ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں کذب عقلا اور شرعا محال ہے کیونکہ جھوٹ یا تو کسی ضرورت کی بناء پر بولا جائے گا یا بلاضرورت ‘ کسی ضرورت کی بناء پر جھوٹ بولنا اللہ پر اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مستغنی ہے اور بلاضرورت جھوٹ عدم علم کی وجہ سے بولا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ‘ یابلاضرورت قصدا جھوٹ بولا جائے گا اور یہ حماقت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس دلیل سے تو کلام نفسی میں جھوٹ محال ہوگا اور کلام لفظی میں تو جھوٹ ممکن رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں ایسی خبر پیدا کردے جو واقع کے خلاف ہو بایں طور کہ وہ اس مخلوق کا کلام نہ ہو بلکہ اللہ کا کلام ہو اور غیر کی طرف منسوب ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جیسے قرآن کلام لفظی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی نقص ہے کیونکہ اس سے جہل تو لازم نہیں آتا لیکن اس میں تجہیل ہے اور دوسروں کو جاہل بنانا ہے اور یہ بھی اللہ کے لیے نقص ہے اور نقص اللہ پر عقلا محال ہے ‘ علاوہ ازیں یہ محال شرعی بھی ہے۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کون ہے جس کی بات اللہ کی بات سے زیادہ سچی ہو۔ “ اس کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے نہ کوئی صدق میں اس کے برابر ہے اور نہ کوئی صدق میں اس سے زیادہ ہے ‘ مخلوق میں سب سے زیادہ سچے انبیاء (علیہم السلام) ہیں لیکن ان کا صدق واجب بالغیر ہے اور ان کے کلام میں کذب ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ اگر اللہ کا صدق بھی اسی طرح ہو اس کے کلام میں بھی کذب ہو ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہو تو انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ تعالیٰ صدق میں مساوی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ یعنی وہ سب سے زیادہ سچا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کا صدق قدیم اور واجب بالذات ہو اور اس کا کذب ممتنع بالذات ہو۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا جھوٹ ممتنع بالذات ہے کیونکہ پیغمبر کا جھوٹ ممتنع بالغیر اور رب تعالیٰ تمام سے زیادہ سچا تو اس کا سچا ہونا واجب بالذات ہونا چاہیے ورنہ اللہ کے صدق اور رسول کے صدق میں فرق نہ ہوگا۔ (نور العرفان ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

امتناع کذب کے متعلق علماء دیوبند کا عقیدہ : 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں : 

آپ نے مسئلہ امکان کذب کو استفسار فرمایا ہے مگر امکان کذب بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے خلاف پر وہ قادر ہے مگر باختیار خود اس کو وہ نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے اور اس عقیدہ پر قرآن شریف اور احادیث صحاح شاہد ہیں اور علماء امت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ مثلا فرعون پر ادخال نار کی وعید ہے مگر ادخال جنت فرعون پر بھی قادر ہے اگرچہ ہرگز اس کو نہ دیوے گا ‘ اور یہی مسئلہ مبحوث اس وقت میں ہے بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا اس قدرت اور عدم ایقاع کو امکان ذاتی وامتناع بالغیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ فقط : (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٨٥۔ ٨٤ مطبوعہ قرآن محل کراچی)

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممتنع اور محال بالذات ہے اور محال بالذات تحت قدرت نہیں ہوتا ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کا عدم محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جہل اور کذب بھی محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل عبارت میں ہے۔ 

خلف وعید کا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کذب کو مستلزم نہیں ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام قرافی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ کافر کی مغفرت کی دعا کرنا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کو طلب کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ (الی قولہ) کیا خلف فی الوعید جائز ہے ؟ مواقف اور مقاصد کی ظاہر عبارت کا تقاضایہ ہے کہ اشاعرہ خلف فی الوعید کے قائل ہیں کیونکہ خلف فی الوعید جود اور کرم ہے نقص نہیں ہے ‘ اور علامہ تفتازانی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے ‘ علامہ نسفی نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے کیونکہ خلف فی الوعید محال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مایبدل القول لدی “۔ اور فرمایا ہے (آیت) ” لن یخلف اللہ وعدہ ای وعیدہ “ اور اشبہ بالحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف فی الوعید جائز ہے۔ اور کفار کے حق میں جائز نہیں ہے تاکہ دونوں طرف کے دلائل میں تطبیق ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ اور مسلمان نے خواہ کبیرہ گناہ کیا ہو اس کی مغفرت ہوجائے گی ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ ان آیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کی جو وعید فرمائی ہے اس کا خلاف محال ہے اور گنہگار مسلمانوں کے لیے جو عذاب کی وعید ہے اس کا خلاف ہوجائے گا کیونکہ مسلمان کے حق میں وعید کا یہ معنی ہے کہ اگر تم نے فلاں گناہ کیا تو میں تم کو عذاب دوں گا بشرطیکہ میں نے چاہا یا میں نے تم کو معاف نہ کیا اور اس سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے آیات وعید عدم عفو یا مشیت کے ساتھ مقید ہیں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٥١ ملخصا وموضحا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ خلیل احمد ایبیٹھوی متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کی خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ (براھین قاطعہ ص ٢ مطبوعہ مطبع بلالی ہند) 

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اشاعرہ جو خلف وعید کے قائل ہیں وہ گناہ گار مسلمانوں کے حق میں خلف وعید کے قائل ہیں اور عذاب کی آیات کو عدم عفو کے ساتھ مقید کرتے ہیں اور کفار کے حق میں خلف وعید کے قائل نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کذب کے لزوم سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ 

علامہ کمال الدین بن ابی شریف اشعری المذہب متوفی ٩٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اشعریہ اور ان کے غیر کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وہ شے جو بندوں کے حق میں نقص ہو وہ اللہ پر محال ہے اور کذب بندوں کے حق میں وصف نقص ہے سو وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ (مسامرہ ج ١ ص ١٨٤‘ مطبوعہ مکران) 

اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی بن نظام الدین لکھنوی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

حق یہ ہے کہ حقیقت سے عدول کرنے کا موجب موجود ہے اور وہ گنہ گار مسلمانوں ‘ نہ کہ مشرکوں کے لیے جو از عفو کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت آفتاب نیم روز کی طرح قطعی اور یقینی ہے پس کفار کے غیر (گناہ گار مسلمانوں) کی وعیدوں میں ظاہر سے عدول کرنا ضروری ہے پس یا تو آیات وعید کو عدم عفو کے ساتھ مقید کیا جائے گا ‘ (یعنی اگر اللہ ان کو معاف نہ کرے تو یہ سزا دے گا) یا ان کو انشاء تخویف پر محمول کیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہ گار مسلمانوں کو عذاب دینے کی خبر نہیں دی بلکہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لیے ایسا فرمایا ہے) رہا وعد تو اس میں حقیقت سے عدول کرنے کا کوئی موجب نہیں تو وہ آیات اپنی حقیقت پر ہیں۔ (فواتح الرحموت مع المستصفی ص ٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٢٩٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 7 سورہ البقرہ آیت نمبر60 تا 61

وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَؕ-فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًاؕ-قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْؕ-كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(۶۰)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے (ف۹۹) ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا کھاؤ اور پیو خدا کا دیا (ف۱۰۰) اور زمین میں فساد اٹھاتے نہ پھرو (ف۱۰۱)

(ف99)

جب بنی اسرائیل نے سفر میں پانی نہ پایا شدت پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسٰی علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو آپ کے پاس ایک مربع پتھر تھا جب پانی کی ضرورت ہوتی آپ اس پر عصا مارتے اس سے بارہ چشمے جاری ہوجاتے اور سب سیراب ہوتے یہ بڑا معجزہ ہے لیکن سید انبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے انگشت مبارک سے چشمے جاری فرما کر جماعت کثیرہ کو سیراب فرمانا اس سے بہت اعظم واعلیٰ ہے کیونکہ عضو انسانی سے چشمے جاری ہونا پتھر کی نسبت زیادہ اعجب ہے۔ (خازن ومدارک)

(ف100)

یعنی آسمانی طعام من و سلوٰی کھاؤ اور اس پتھر کے چشموں کا پانی پیو جو تمہیں فضل الٰہی سے بے محنت میسر ہے۔

(ف101)

نعمتوں کے ذکر کے بعد بنی اسرائیل کی نالیاقتی دوں ہمتی اور نافرمانی کے چند واقعات بیان فرمائے جاتے ہیں۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰى طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُخْرِ جْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا وَ قِثَّآىٕهَا وَ فُوْمِهَا وَ عَدَسِهَا وَ بَصَلِهَاؕ-قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ هُوَ اَدْنٰى بِالَّذِیْ هُوَ خَیْرٌؕ-اِهْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْؕ-وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ وَ الْمَسْكَنَةُۗ-وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّؕ-ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَ۠(۶۱)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ (ف۱۰۲) ہم سے تو ایک کھانے پر (ف۱۰۳) ہرگز صبر نہ ہوگا تو آپ اپنے رب سے دعا کیجئے کہ زمین کی اگائی ہوئی چیزیں ہمارے لیے نکالے کچھ ساگ اور ککڑی اور گیہوں اور مسور اور پیاز فرمایاکیا ادنیٰ چیزکو بہتر کے بدلے مانگتے ہو (ف۱۰۴) اچھا مصر (ف۱۰۵) یا کسی شہر میں اترو وہاں تمہیں ملے گا جو تم نے مانگا (ف۱۰۶) اور ان پر مقرر کردی گئی خواری اور ناداری (ف۱۰۷) اور خدا کے غضب میں لوٹے (ف۱۰۸) یہ بدلہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے اور انبیاء کو ناحق شہید کرتے (ف۱۰۹) یہ بدلہ تھا ان کی نافرمانیوں اور حد سے بڑھنے کا

(ف102)

بنی اسرائیل کی یہ ادا بھی نہایت بے ادبانہ تھی کہ پیغمبر اولوالعزم کو نام لے کر پکارا یا نبی اللہ یارسول اللہ یا اور کوئی تعظیم کا کلمہ نہ کہا( فتح العزیز) جب انبیاء کا خالی نام لینا بے ادبی ہے تو ان کو بشر اور ایلچی کہنا کس طرح گستاخی نہ ہوگا غرض انبیاء کے ذکر میں بے تعظیمی کا شائبہ بھی ٍناجائز ہے۔

(ف103)

( ایک کھانے ) سے ( ایک قسم کا کھانا) مراد ہے

(ف104)

جب وہ اس پر بھی نہ مانے تو حضرت موسٰی علیہ السلام نے بارگاہِ الہی میں دعا کی ارشاد ہوا ”اِھۡبِطُوۡ ا”

(ف105)

مصر عربی میں شہر کو بھی کہتے ہیں کوئی شہر ہواور خاص شہر یعنی مصر موسٰی علیہ السلام کا نام بھی ہے یہاں دونوں میں سے ہر ایک مراد ہو سکتا ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہاں خاص شہر مصر مراد نہیں ہوسکتا کیونکہ اس کے لئے یہ لفظ غیر منصرف ہو کر مستعمل ہوتا ہے اور اس پر تنوین نہیں آتی جیسا کہ دوسری آیت میں وارد ہے ۔ ” اَلَیْسَ لِیْ مُلْکُ مِصْرَ” اور ”اُدْخُلُوْا مِصْرَ ” مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ سکون اوسط کی وجہ سے لفظ ہند کی طرح اس کو منصرف پڑھنا درست ہے نحو میں اس کی تصریح موجود ہے علاوہ بریں حسن وغیرہ کی قرأت میں مصر بلا تنوین آیا ہے اور بعض مصاحف حضرت عثمان اور مصحف اُبَیّ رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں بھی ایسا ہی ہے اسی لئے حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ میں دونوں احتمالوں کو اخذ فرمایا ہے اور شہر معین کے احتمال کو مقدم کیا۔

(ف106)

یعنی ساگ ککڑی وغیرہ کو ان چیزوں کی طلب گناہ نہ تھی لیکن ” مَنۡ وسَلوٰی” جیسی نعمت بے محنت چھوڑ کر ان کی طرف مائل ہونا پست خیالی ہے ہمیشہ ان لوگوں کا میلان طبع پستی ہی کی طرف رہا اور حضرت موسیٰ و ہارون وغیرہ جلیل القدر بلند ہمت انبیاء (علیہم السلام) کے بعد بنی اسرائیل کی لئیمی و کم حوصلگی کا پورا ظہور ہوا اور تسلط جالوت و حادثہ بخت نصر کے بعد تو وہ بہت ہی ذلیل و خوار ہوگئے اس کا بیان ” ضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ” میں ہے ۔

(ف107)

یہود کی ذلت تو یہ کہ دنیا میں کہیں نام کو ان کی سلطنت نہیں اور ناداری یہ کہ مال موجود ہوتے ہوئے بھی حرص سے محتاج ہی رہتے ہیں

(ف108)

انبیاء و صلحاء کی بدولت جو رتبے انہیں حاصل ہوئے تھے ان سے محروم ہوگئے اس غضب کا باعث صرف یہی نہیں کہ انہوں نے آسمانی غذاؤں کے بدلے ارضی پیداوار کی خواہش کی یا اُسی طرح کی اور خطائیں جو زمانہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میں صادر ہوئیں بلکہ عہد نبوت سے دور ہونے اور زمانہ دراز گزرنے سے ان کی استعدادِیں باطل ہوئیں اور نہایت قبیح افعال اور عظیم جرم ان سے سرزد ہوئے۔یہ ان کی اس ذلت و خواری کا باعث ہوئے ۔

(ف109)

جیسا کہ انہوں نے حضرت زکریا و یحیی و شعیا علیہم السلام کو شہید کیا اور یہ قتل ایسے ناحق تھے جن کی وجہ خود یہ قاتل بھی نہیں بتاسکتے۔

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞

ترجمہ:

جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (النساء : ٨٥) 

شفاعت کا معنی اور اس کی اقسام : 

شفاعت لفظ شفع سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے ایک انسان دوسرے ضرورت مند انسان کے ساتھ مل جائے اور دونوں مل کر اس ضرورت کے متعلق سوال کریں ‘ اور یہاں پر مراد ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور جو مسلمان آپ کی ترغیب سے جہاد کریں گے تو ان کی اس نیکی میں آپ کا بھی حصہ ہوگا ‘ یہ شفاعت حسنہ ہے ‘ اور شفاعت سیئہ یہ ہے کہ منافق اپنے بعض منافقوں کو جہاد میں شریک نہ کرنے کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شفاعت کرتے تھے کہ ان کو فلاں فلاں عذر ہے اور اس شفاعت سے جہاد میں شریک نہ ہونے کا گناہ دونوں کو ہوگا ان کو بھی جو شریک نہیں ہوئے اور ان کو بھی جنہوں نے ان کے لیے اس کی سفارش کی۔ 

اسی طرح کسی بھی نیک کام میں سفارش کرنا اچھی شفاعت ہے مثلا کسی طالب علم کو دینی مدرسہ میں داخل کرنے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی ضرورت مند عالم دین کے لیے کسی تونگر سے سفارش کرنا کہ ان کی ضرورت کی کتابیں ان کو خرید کردیں ‘ مسجد اور دینی مدرسہ بنوانے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی مجاہد کے لیے اسلحہ کے حصول میں سفارش کرنا ‘ کسی غریب لڑکی کی شادی کے لیے رشتہ یا جہیز کی سفارش کرنا ‘ کسی بےروزگار کے لیے ملازمت کی سفارش کرنا بہ شرطی کہ وہ وہ اس ملازمت کا اہل ہو ‘ اللہ کے حضور کسی مسلمان کے لیے دعا کرنا اس کی مغفرت چاہنا ‘ یہ سب اچھی سفارشیں ہیں ‘ اور بری سفارش یہ ہے کہ شراب خانہ کے پر مٹ کے لیے سفارش کی جائے ‘ سینما بنانے کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ آلات موسیقی کی دکان کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ بینک اور انشورنس کمپنی میں ملازمت کے لیے سفارش کی جائے یا کسی نااہل اور غیر مستحق کے لیے سفارش کی جائے۔ 

نیکی کے کاموں میں شفاعت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کوئی شخص حاجت طلب کرتا تو آپ فرماتے تم شفاعت کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٦‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٠٠‘ ٤٠٣‘ ٤٠٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٧‘ صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٥٣١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جو آپ سے سواری طلب کرتا تھا ‘ آپ کے پاس اس وقت کوئی سواری نہیں تھی۔ آپ نے اس کی کسی اور شخص کی طرف رہنمائی کی اس شخص نے اس کو سواری دے دی ‘ اس سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر اس کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا نیکی کی رہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی مثل ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٦٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٩٣‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٩‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٧٠٨٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١٤٢) 

کسی برے کام کے حصول کے لیے شفاعت کی ممانعت پر اس آیت میں دلیل ہے : 

(آیت) ” ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “۔ (المائدہ : ٢) 

ترجمہ : اور گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا ‘ اور آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی ‘ عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا اور اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے اور اس کا عذاب بہت شدید ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا۔ (النساء : ٨٤) 

شان نزول اور ربط آیات : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی بہت زیادہ ترغیب دی تھی ‘ اور ان لوگوں کی مذمت کی تھی جو جہاد سے روکتے تھے اور منع کرتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا آپ ان لوگوں کے منع کرنے کی طرف توجہ اور التفات نہ کیجئے بلکہ آپ خود اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور بہادر ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد کا حکم دیا ہے خواہ آپ کو تنہا کافروں سے جہاد کے لیے جانا پڑے ‘ ابو سفیان نے بدر الصغری میں آپ سے مقابلہ کا وعدہ کیا تھا ‘ بعض مسلمانوں نے وہاں جانا ناپسند کیا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ آپ نے کسی کے منع کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ستر مسلمانوں کے ساتھ آپ روانہ ہوئے اگر کوئی نہ جاتا تو آپ تنہا روانہ ہوجاتے۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور دلیر تھے اور قتال کے احوال کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے ‘ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کا مکلف کیا ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے ‘ سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کرنے کے لیے بہت ارشادات فرمائے جن کو ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا ‘ اللہ کے کلام میں جب بھی عسی (عنقریب) کا لفظ آئے تو وہ یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں یہ پیش گوئی ہے کہ عنقریب کفار مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب ہوں گے ‘ سو بعد میں ایسا ہی ہوا اور تمام جزیر عرب مسلمانوں کے تسلط میں آگیا اور جب تک مسلمان احکام شرعیہ سے تغافل ‘ عیاشی اور باہمی تفرقہ میں مبتلا نہیں ہوئے اور تبلیغ اسلام کے لیے دنیا میں جہاد کرتے رہے تمام ممالک ان کے زیر تسلط آتے رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

گناہوں کا نیکیوں میں بدلنا

گناہوں کا نیکیوں میں بدلنا

اللہ تعالی فرماتا ہے:

مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمۡ حَسَنٰتٍ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا o

(الفرقان:70)

یعنی جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے تو یہ وہ لوگ ہیں جن کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بہت بخشنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے-

امام ابو منصور ماتريدی (متوفی 333ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

گناہوں کو نیکیوں سے بدلنے کے دو معنی ہیں؛ ایک یہ کہ گناہ کرنے والے جب اپنے گناہوں سے توبہ کر لیتے ہیں اور ان گناہوں پر نادم ہوتے ہیں تو اللہ تعالی ان کو آئندہ کی زندگی میں یہ توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ ہَر گزشتہ گناہ کی جگہ ایک نیکی کر لیتے ہیں اور یوں (اس توفیق کے سبب) ان کا ہر گناہ نیکی میں تبدیل ہو جاتا ہے،

اور دوسرا معنی یہ ہے کہ دنیا میں لوگوں کو اگر اپنے گناہوں پر ندامت اور حسرت پیدا ہو جائے تو اللہ تعالی آخرت میں ان گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل فرما دے گا-

(تاویلات اھل السنة، ج8، ص45 بہ حوالہ نعم الباری فی شرح صحیح البخاری، ج8، ص410)

ہمارے گناہوں کی تعداد بہ ظاہر نیکیوں سے کئی گنا زیادہ ہیں!

ہمیں اپنے گناہوں پر نادم ہونا چاہیے اور ہمیشہ گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہنی چاہیے تاکہ اللہ تعالی ہمارے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دے- بے شک اللہ تعالی کی رحمت کے آگے یہ ایک چھوٹی سی چیز ہے-

عبد مصطفی