معرکہ کربلا کیا سیاسی اقتدار کی جنگ تھا؟

معرکہ کربلا کیا سیاسی اقتدار کی جنگ تھا؟

سید انجم رضوی,  Tahaffuz, July 2008

اعلان نبوت سے لے کر آج تک ہر دو رمیں بنام اسلام عقائد باطلہ کا ظہور وقفہ وقفہ سے ہوتا رہا۔ نئے نئے نظریات اور اعتقادات جو بظاہر خوشنما نظر آتے تھے‘ آہستہ آہستہ اپنی گمراہی کا انکشاف از خود کرتے رہے۔ دلچسپ اور دلنواز خول میں لپٹی خباثت بہرحال آشکارہ ہوہی جاتی ہے۔ اور پھر شفیع امم‘ نبی محتشم ﷺ کا مقدس خاندان یعنی اہل بیت کرام وہ معیار حق ہیں جو فورا ہی حق و باطل کے درمیان امتیاز کو واضح کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیب داں نبیﷺ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ ’’میں تمہارے درمیان قرآن پاک‘ اپنی سنت اور اہل بیت چھوڑے جارہا ہوں‘‘ اس حدیث مبارک سے اہل بیت کرام کا راہ حق اور باعث نجات ہونا یقینا ثابت ہوتا ہے۔ اہل بیت کرام کے فضائل ومناقب کا بیان ایک مستقل موضوع ہے کسی ایک مضمون میں ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک کیو ٹی وی کے حوالہ سے برصغیر میں جانے جاتے ہیں۔ ان کی چند تقریریں عوام میں کافی مقبول ہیں۔ کسی دینی مدرسہ سے باقاعدہ فارغ نہ ہونے کے باوجود ان کی تقاریر میں قرآن کریم اور احادیث مبارکہ کے بے شمار حوالے عوام کو متحیر کرتے ہیں۔ ویسے یہ کوئی بہت زیادہ حیرت انگیز بات بھی نہیں۔ ہاں! عوام کے لئے دلچسپی کا پہلو یہ ہوتا ہے کہ کوٹ پینٹ میں ملبوس ایک ’’ڈاکٹر‘‘ قرآن و حدیث کی باتیں کرتا ہے۔ یہ بات بھی الگ ہے کہ ذاکر نائیک کے پیش کردہ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کے تراجم کس قدر درست اور ان کا استدلال کس درجہ مناسب ہے۔ اور حق پرست علمائے کرام ان کی تقاریر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں اور وہ انہیں کس قدر پسند یا ناپسند کرتے ہیں۔
ذاکر نائیک کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی تقاریر میں چند ایسی متنازع باتیں ضرور کہہ گزرتے ہیں جن کا تعلق مختلف طبقات کے جذبات سے ہوتا ہے اور جو انتہائی حساس ہوتے ہیں۔ لیکن ہمیشہ ان باتوں کو مسلکی عناد اور مکاتب فکر کے تعصب پر محمول کرتے ہوئے نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ کبھی وہ جشن میلاد النبیﷺ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں‘ کبھی اپنے محدود علم کے ذریعے وسیلے کی شرعی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہیں۔ کبھی علم غیب کے موضوع پربیباکانہ لب کشائی کرتے ہیں تو کبھی بزم خود جلیل القدر محدث کے فرائض انجام دیتے ہوئے احادیث مبارکہ کے طبقات کا جائزہ لیتے ہیں۔ لیکن معاشرہ کے باشعور افراد بخوبی جانتے ہیں کہ عوام الناس کی ایک مختصرطبقہ کو چھوڑ کر ڈاکٹر صاحب کی تقاریر نظر التفات سے نہیں دیکھی جاتیں اور بالخصوص طبقہ علماء پھر چاہے ان کا تعلق کسی بھی مکتب فکر سے ہو‘ ڈاکٹر صاحب کی تقاریر کو اہمیت نہیں دیتے۔ علمائے کرام کے فرائض منصبی ان کو اس بات کی نہ تو اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے کہ وہ روز بہ روز ذاکر نائیک کی تقاریر سن سن کر ان کا ردبلیغ کرتے پھریں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقاریر سے متعلق ایک عام سا مثبت تاثر معاشرہ میں پروان چڑھانا جارہا ہے اور کم علم عوام انہیں اسلام کا مخلص داعی اور مبلغ سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ تو ذاکر نائیک صاحب ہی بتاسکتے ہیں کہ ان کے اس ’’جدید دعوتی نظام‘‘ نے کتنے افراد کو حلقہ بگوش اسلام کیا ہے۔ لیکن قربان جایئے آل رسولﷺ کے معیار حق ہونے پر کہ بالاخر انہی کے صدقہ و طفیل ذاکر نائیک کے حقیقی خدوخال عوام کے سامنے آگئے اور ان کے عقائد و نظریات منظرعام پر آگئے۔
گزشتہ دنوں ذاکر نائیک کے ایک متنازع بیان پر پونہ میں کافی ہنگامہ آرائی ہوئی تھی مگر پربات آئی گئی ہوگئی۔ لیکن اب جبکہ ذاکر نائیک کی زبان بے مہار آل رسول ﷺ کی شان ذی وقار میں گستاخانہ لب و لہجہ اختیار کرگئی تو پھر محبان رسولﷺ اور عاشقان اہل بیت عظام کا غصہ بھی حدوںکو پار کرگیا۔ یہ فطری بات بھی ہے اور اسلام کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اﷲ و رسول اور اہل بیت سے محبت کی جائے۔ ذاکر نائیک کا بیان کسی ’’متنازعہ مسئلہ‘‘ پر نہیں ہے۔ یہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی جذبات پر ناپاک حملہ ہے۔ کیونکہ علمائے حق کی نظر میں یزید پلید کبھی بھی ’’متنازع‘‘ نہیں رہا۔ اسے علماء کے تمام ہی طبقات نے فاسق و فاجر اور لعنتی تسلیم کیا ہے۔ پھر ذاکر نائیک کا بیان ’’مسلکی تنازع‘‘ بھی نہیں ہے۔ تقریبا تمام ہی مسالک کے نزدیک یزید کو رضی اﷲ عنہ کہنا اور حق و باطل میں خط امتیاز کھینچنے والے معرکہ کربلا کو ’’اقتدار کی جنگ‘‘ کہنا ناقابل برداشت ہے اور اسے شیعہ سنی اختلافات کا شاخسانہ بتانا بڑی جہالت ہے۔ کیا اہل بیت اطہار سے صرف شیعہ حضرات ہی محبت کرتے ہیں اور یزید کی تعریف سے صرف انہیں کو تکلیف ہوتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ سنی مسلمانوں کی غالب اکثریت کو ذاکر نائیک نے تکلیف پہنچائی ہے اس لئے اس معاملہ میں محض شیعہ حضرات کو نشانہ بناکر انہیں خاموش رہنے کی بار بار تلقین کرنا بھی درست نہیں۔ ممبئی کے کمشنر آف پولیس کا یہ اعلان کہ محرم کی مجالس میں اس معاملہ پر لب کشائی نہ کی جائے‘ بڑا عجیب محسوس ہوتا ہے۔ ایک شخص پہلے تو ہمارے جذبات کو مجروح کرے‘ پھر لوگوں کے ردعمل سے گھبرا کرمعافی کا ناٹک کرے اور پھر ہمیں ہی ڈرا دھمکا کر خاموش رہنے کے لئے کہا جائے‘ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کوئی بھی معیاری مسلمان یہ بات ہرگز گوارا نہیں کرسکتا کہ شان رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وسلم یا ان کی اولاد کی شان میں کوئی شاتم گستاخی بکے یاپھر دشمنان خدا یا ان کی اولاد کی شان میں کوئی شاتم گستاخی بکے یا پھر دشمنان خدا و رسول و اہل بیت کی مدح سرائی کرے۔ ذاکر نائیک نے یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہہ کر اور معرکہ کربلا کو سیاسی جنگ بتا کر اہل بیت کرام سے اپنی مذموم دشمنی کا ببانگ دہل اعلان کیا ہے۔ ان کی پھیلائی ہوئی غلط فہمی کے ازالہ کے لئے دنداں شکن جواب دینا ’’مسلکی جنون‘‘ نہیں ہے بلکہ عین ایمانی تقاضا ہے۔ محرم کی مجلس کا اس قدر خوف کیوں ہے؟ گستاخان خدا اور رسول و اہل بیت کو اپنے ناپاک عقائد سے باز رہنے کی تلقین کرنے کی بجائے حق پرست مسلمانوں کو احقاق حق و ابطال باطل سے روکنا تعصب سے تعبیر کیا جائے گا۔
ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
اہل بیت کرام سے بغض و عناد رکھنا ویسے بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مصطفے جان رحمت ﷺ کے دور مبارک سے لے کر آج تک ہر دور ایک ایسا طبقہ ضرور رہا ہے جو آل رسولﷺ کی عظمت و رفعت سے بوجہ حسد ہمیشہ جلتا کڑھتا رہا ہے۔ طبقہ خوارج آئے روز اپنے عقائد کی خباثت کا اظہار کرتے رہتے ہیں اورعاشقان آل رسولﷺ ان کا دندان شکن جواب بھی دیتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے ایک صاحب ہیں محمود احمد عباسی جو بغض اہل بیت کے اسی مہلک مرض میں مبتلا ہیں اور اپنی تصانیف کے ذریعہ مسلمانوں میں اپنی خباثتیں بکھیرنے کی ناکام کوششیں کرتے رہتے ہیں۔ شاید ذاکر نائیک نے ان کی ایک آدھ تصنیف کا مطالعہ مرعوب اور مغلوب ذہنیت کے ساتھ کرلیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہہ رہے ہیں۔ محمود احمد عباسی نے اپنی اولین تصنیف ’’خلافت معاویہ و یزید‘‘ لکھ کر اپنی رسول اور آل رسول سے دشمنی کا برملا اعلان کیا تھا۔ اس بدنام زمانہ کتاب میں یزید کو خلیفہ اسلام قرار دیتے ہوئے (معاذاﷲ) امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ عنہ کو باغی قرار دیا گیا تھا۔ یہ بات الگ ہے کہ خوش عقیدہ علمائے کرام نے اس مذموم کتاب کے رد میں تصانیف کا ایک انبار لگادیا اور ’’خلافت معاویہ و یزید‘‘ کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دی۔ پھر جماعت اسلامی کے بانی ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی ایک تصنیف ’’خلافت و ملوکیت‘‘ منظر عام پر آئی۔ اس کے چند اقتباسات بھی کافی متنازع قرار دیئے گئے۔ بالخصوص خلیفہ سوم حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ سے متعلق استدلال پر کافی اعتراضات کئے گئے۔ اس کتاب کے جواب کے طور پر بھی محمود احمد عباسی نے ایک کتاب بعنوان ’’تبصرہ محمودی برہفوات مودودی‘‘ تالیف کی۔ یہ کتاب بھی اپنے بیشتر گمراہ کن مواد کی وجہ سے کافی مطعون کی گئی۔ عباسی کی اس کتاب کے رد میں بھی کئی کتابیں لکھی گئیں۔ ان میں پاکستان کے مایہ ناز عالم دین حضرت علامہ محمد شفیع اوکاڑوی کی تصنیف’’امام پاک اور یزید پلید‘‘  سرفہرست کہی جاسکتی ہے۔
اپنی کتاب میں علامہ اوکاڑوی نے دلائل وبراہین کے انبار لگادیئے ہیں۔ آپ نے تحقق انیق فرماتے ہوئے یزیدی ٹولہ کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ اوکاڑوی صاحب کی تصنیف ’’امام پاک اور یزید پلید‘‘ محمود احمد عباسی اور مودودی صاحب کے اختلافات سے قطع نظر عباسی کی کتاب ’’تبصرہ محمودی برہفوات مودودی‘‘ کے حصہ دوم جو سوالات پر مشتمل ہے‘ کے مدلل جوابات پر محیط ہے۔ علامہ اوکاڑوی نے اس کتاب میں یزید پلید کے کفر و ضلالت اور فسق و فجور کو مسند حوالہ جات کے ذریعہ پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے۔ علاوہ اوکاڑوی کی مذکورہ تصنیف ڈاکٹر ذاکر نائیک کے علاوہ غلامان یزید پلید کے لئے بھی تازیانہ عبرت ہے۔
یزید پلید کی تکفیر میں گوکہ ائمہ اربعہ میں اختلاف پایا جاتا ہے مگر اس کے فاسق اور فاجر ہونے میں چاروں امام متفق ہیں۔ یہ ایک طویل بحث ہے۔ ناچیز چوں کہ گدائے اہل بیت اطہار ہونا باعث نجات تصور کرتا ہے‘ اس لئے اس موضوع پر کئی تصانیف زیر مطالعہ رہ چکی ہیں اور امام عالی مقام امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت عظمیٰ اور اہل بیت اطہار کے فضائل و مناقب میں سیر حاصل گفتگو کرنے کا بحمدہ تعالیٰ متحمل ہے۔ لیکن یہاں طوالت کے خوف کے پیش نظر یزید پلید کی خباثتوں پر مبنی چند مستند حوالے پیش کرنے پر ہی اکتفا کرتا ہے۔ جن کے مطالعہ کے بعد قارئین کرام خود فیصلہ فرمالیں گے کہ یزید پلید کو رضی اﷲ عنہ کہنے والے اور اس خبیث کی مدح سرائی کرنے والے کا شریعت مطہرہ میں کیا مقام ہے۔
حضرت علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ جو ہندوپاک میں بلا تفریق مسلک قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔ اسلامی دنیا میں جن کانام محتاج تعارف نہیں۔ ان کی ایک فارسی تصنیف ’’تکمیل الایمان‘‘ کے صفحہ نمبر ۹۷سے ایک اقتباس ملاحظہ فرمائیں۔
’’بعض علماء یزید بدبخت کے بارے میں (لعنت کرنے میں) توقف کرتے ہیں۔ اور بعض لوگ تو براہ غلو و افراط یزید کے معاملے میں اور اس کی دوستی میں اس قدر بہہ گئے ہیں کہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے اتفاق سے امیر ہواتھا اور اس کی اطاعت امام حسین پر واجب تھی۔ ہم اس قول اور اس اعتقاد سے اﷲ کی پناہ مانگتے ہیں۔ حاشا کہ وہ یزید امام حسین کے ہوتے ہوئے کیونکر امام و امیر ہوسکتا ہے اور مسلمانوں کا اتفاق بھی اس پر کب ہوا؟ صحابہ کرام اور تابعین جواس کے زمانے میں تھے سب اس کے منکر اور اس کی اطاعت سے خارج تھے؟ اسی طرح علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ مدینہ منورہ کی ایک جماعت جو یزید پلید سے ملاقات کرکے لوٹی تھی‘ اس کا قول اس طرح نقل فرماتے ہیں۔
’’(یزید) اﷲ کا دشمن‘ شرابی‘ تارک الصلواۃ‘ زانی‘ فاسق اور حرام چیزوں کا حلال کرنے والا ہے‘‘
پھر آگے محدث دہلوی صاحب تحریر فرماتے ہیں…
’’ایسی باتیں بنانے والوں (یزید پلید کی حمایت کرنے والوں) پر افسوس ہے کہ وہ صریح احادیث نبویﷺ پر نظر نہیں رکھتے کہ حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد کے ساتھ بغض رکھنا اور ان کو ایذا پہنچانا اور ان کی توہین کرنا حقیقت میں رسول اﷲﷺ کے ساتھ بغض رکھنا اور آپ کو ایذا پہنچانا اور آپ کی توہین کرناہے اور یہ بلاشک و شبہ موجب کفر و لعنت اور خلود نار جہنم ہے‘‘
علامہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ یزید پلید کے سیاہ کارناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے مزید تحریر فرماتے ہیں:
’’یزید ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض ہے۔ اس شقی نے اس امت میں وہ کام کئے کہ کسی اور نے نہیں کئے (مثلا) امام حسین کے قتل اور اہل بیت کی اہانت کرنے کے بعد مدینہ منورہ کی تخریب کے لئے لشکر بھیجنا اور صحابہ وتابعین کے قتل کا حکم کرنا اور مدینہ منورہ کی تخریب کے بعد حرم مکہ کو ڈھانے کا حکم دینا وغیرہ‘‘ پھر محدث دہلوی رحمتہ اﷲ علیہ اس طرح فرماتے ہیں:
’’آیئے! ہم جیسے گنہ گار بھی اس دعا میں شامل ہوجائیں ’’حق تعالیٰ ہمارے اور تمام مسلمانوں کے دلوں کو اس کی اور اس کے دوستوں اور مددگاروں کی محبت و دوستی سے محفوظ رکھے اور ہر اس شخص جس نے اہل بیت نبوت سے برائی کی ہو اور ان کا برا چاہا ہو‘ کی محبت سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے۔ اﷲ تعالیٰ اپنے احسان و کرم سے ہم کو اور ہمارے دوستوں کو قیامت کے دن اہل بیت نبوت کے سچے محبوں میں اٹھائے اور دنیا و آخرت میں دین اسلام اور ان کے طریقہ پر رکھے وھو قریب مجیب امین (بحوالہ’’ امام پاک اور یزید پلید‘‘) انہی دعائیہ کلمات پرمبنی وصیت شاعر مشرق ڈاکٹر اقبال نے اپنے بیٹے جاوید کو کی ہے‘ جو اس طرح ہے)
’’جاوید کو میری عام وصیت یہی ہے کہ وہ دنیا میں شرافت اور خاموشی کے ساتھ اپنی عمر بسر کرے۔ باقی دینی معاملے میں صرف اس قدر کہنا چاہتا ہوں کہ میں اپنے عقائد میں بعض جزوی مسائل کے سوا‘ جو ارکان دین سے نہیں ہیں‘ سلف صالحین کا پیروکار ہوں اور یہی راہ بعد کامل تحقیق کے محفوظ معلوم ہوتی ہے۔ جاوید کو بھی میرا یہی مشورہ ہے کہ وہ اسی راہ پر گامزن رہے اور اس بدقسمت ملک ہندوستان میں مسلمانوں کی غلامی نے جو دینی عقائد کے نئے فرقے مختص کرلئے ہیں ان سے احتراز کرے۔
بعض فرقوں کی طرف لوگ محض اس واسطے مائل ہوجاتے ہیں کہ ان فرقوں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے میں دنیوی فائدہ ہے۔ میرے خیال میں بڑا بدبخت ہے وہ انسان جو صحیح دینی عقائد کو مادی منافع کی خاطر قربان کردے۔ غرض یہ ہے کہ طریقہ حضرات اہل سنت محفوظ ہے‘ اسی پر گامزن رہنا چاہئے اور ائمہ اہل بیت کے ساتھ محبت اور عقیدت رکھنی چاہئے۔ محمد اقبال ۱۷ اکتوبر ۱۹۳۵ء (اوراق گم گشتہ مرتب رحیم بخش شاہین‘ مطبوعہ مرکزی مکتبہ اسلامی‘ دہلی)
شاعر مشرق ‘نباض قوم اور اسلام و مسلمانوں کا بے پناہ درد رکھنے والے ڈاکٹر اقبال بھی اپنے بیٹے جاوید کو ائمہ اہل بیت اطہار سے عقیدت و محبت رکھنے کی تلقین فرما رہے ہیں اور کامل تحقیق کے بعد حضرات اہل سنت و جماعت کے طریقے پر گامزن رہنے کی وصیت فرما رہے ہیں۔
علامہ جلال الدین سیوطی رحمتہ اﷲ علیہ نے بھی اپنی تصنیف تاریخ الخلفاء میں یزید پر لعنت ملامت کی ہے۔ یہاں تک کہ ابن تیمیہ نے بھی کہہ دیا ہے کہ ’’وہ (یزید) کسی مدح و ثناء اور تعظیم و تفضیل کا مستحق نہیں ہے‘‘ اب آیئے! ہم بطور حرف آخر یزید پلید کے ہم عصر صحابی حضرت عبداﷲ بن حنظلہ غسیل الملائکہ رضی اﷲ عنہ کا قول نقل کرتے ہیں۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:
’’خدا کی قسم! ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جب کہ ہمیں یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کی وجہ سے ہم پر آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں۔ کیونکہ یہ شخص (یزید) مائوں‘ بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیتا اور شراب پیتا اور نمازیں چھوڑتا تھا‘‘ (طبقات ابن سعد ۵ ص ۶۶‘ ابن اثیر ۴‘ ص ۴۱‘ بحوالہ امام پاک اور یزید پلید)
یزید پلید کے فسق و فجور سے متعلق صحابی رسول حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ عنہ کے اس اعلان حق کے بعد اب اس کے ’’معصوم‘‘ ہونے کی گنجائش قطعی باقی نہیں رہتی اور یزید پلید کے فاسق و فاجر ہونے میں کسی بھی دور کے علمائے حق میں اختلاف نہیں رہا۔ جہاں تک یزید کے کفر کا معاملہ ہے تو ہمارے امام اعظم ابو حنیفہ رضی اﷲ عنہ نے سکوت فرمایا ہے۔ لیکن یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امام اعظم نے یزید کو مسلمان بھی نہیں کہا ہے۔ اور جس شخص کے ایمان کی گواہی دینے میں امام اعظم رحمتہ اﷲ علیہ سکوت فرمالیں اس کی بدبختی کا اندازہ ہم خود بھی لگاسکتے ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ممبئی کے ایڈیشنل پولیس کمشنر کے آفس میں لی گئی اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ کسی بھی صحابی یا تابعی کو رضی اﷲ عنہ کہہ سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ محض تابعی ہی کیوں بلکہ کسی بھی ولی کامل اور نیک بندہ کو بھی رضی اﷲ عنہ کہہ سکتے ہیں اور یہ کوئی ایسی نئی بات نہیں ہے‘ ہم اپنے علماء اور بزرگوں کو صدیوں سے رضی اﷲ عنہ لکھتے آرہے ہیں۔ مگر معاملہ یزید پلید جیسے ایک شقی القلب شخص کا ہو تو پھر اوپر پیش کئے گئے مباحث سے یہ نکتہ روز روشن کی طرح عیاں ہوگیا ہے کہ یزید پلید کے لئے یہ دعائیہ کلمہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہوسکتا اور نہ ہی ماضی میں کبھی حق پرست علماء نے یزید پلید کے لئے رضی اﷲ عنہ کہا ہے۔ جہاں تک علمائے اہلسنت کا سوال ہے تو انہوں نے یزید پلید کے ایمان و فکر میں امام اعظم کی پیروی کرتے ہوئے سکوت فرمایا ہے تاہم یزید پلید کے فاسق و فاجر ہونے نے اس پر لعنت و ملامت کرنے میں تو کسی کو کوئی تردد نہیں ہے۔
اخبارات میں شائع شدہ خبروں کے مطابق ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی پریس کانفرنس میں اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا ہے بلکہ اسے ثابت کرنے کے لئے یہ بے سروپا دلائل پیش کئے ہیں اور پھر یہ کہہ دیا ہے کہ ’’میری باتوں سے اگر کسی کو تکلیف پہنچی ہوں تو میں معافی چاہتا ہوں‘‘ دراصل اپنے موقف پر اڑے رہتے ہوئے اس طرح معافی طلب کرنے سے ’’معاملہ ختم‘‘ نہیں ہوتا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ذاکر نائیک اپنے موقف سے بھی رجوع کرتے۔ لہذا ہم جیسے سگان اہل بیت اطہار کی یہ اولین ذمہ داری ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ کریں اور ان کی بہتان تراشیوں کا دندان شکن جواب دیں۔ اتحاد ملت کے لئے یہی ضروری ہے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بھی یہی تقاضا ہے کیونکہ ذاکر نائیک کی بیان بازیوں سے معاشرہ میں جو انتشاری کیفیت پیدا ہوگئی ہے اس کا سدباب کرنا قوم کے حق ہی میں ہے۔ پھر مسٹر نائیک نے اپنے گمراہ کن موقف کی تائید میں مزید غلط فہمیوں کو پیدا کرنے کی نیت سے امام غزالی اور امام احمد رضا رضی اﷲ عنہا کا بھی تذکرہ کردیا ہے‘ اب یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ مذکورہ بالا شخصیات جلیلہ کی کتابوں سے اسے ثابت کریں۔ ورنہ فورا توبہ کریں۔

فضائل محرم الحرام وعاشورہ

فضائل محرم الحرام وعاشورہ

حضرت علامہ مولانا سید شاہ تراب الحق قادری,

 

ملت اسلامیہ کے نزدیک سال کے بارہ مہینے ہیں۔ جیسا کہ اﷲ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔

ترجمہ: بے شک مہینوں کی گنتی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں‘ اﷲ تعالیٰ کی کتاب میں‘ جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے‘ ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پرظلم نہ کرو (سورہ توبہ پارہ 10)

اسلامی مہینوں کے نام

1۔ محرم الحرام              2۔ صفر المعظم               3۔ ربیع الاول               4۔ ربیع الآخر

5۔ جمادی الاولی             6۔ جمادی الثانی             7۔ رجب المرجب          8۔ شعبان المعظم

9۔ رمضان المبارک       10۔ شوال المکرم          11۔ ذوالقعدہ               12۔ ذوالحجہ

حرمت والے مہینے

حرمت و عزت والے مہینے چار ہیں۔ تین متصل ہیں اور ایک الگ

1۔ ذوالقعدہ‘  2۔ذوالحجہ ‘ 3۔ محرم الحرام ‘ 4۔ رجب المرجب

ان کی حرمت و عزت یہ ہے کہ ان میں عبادت کرنے کا ثواب بہت ملتا ہے اور اسی طرح ان میں گناہ کا عذاب بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے ان مہینوں میں کثرت سے عبادت کرنی چاہئے اور ہر قسم کے گناہوں سے بچنا چاہئے‘ زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ ان مہینوں کی حرمت کے قائل تھے اور ان میں قتال حرام جانتے تھے۔ اسلام میں ان مہینوں کی حرمت و عظمت اور زیادہ بیان کی گئی۔ اہل عرب ان مہینوں میں تلواریں اپنے نیام میں ڈال دیتے تھے اور لوٹ مار سے رک جاتے تھے اور لوگ اپنے دشمنوں سے بے خوف ہوجاتے تھے‘ یہاں تک کہ آدمی اپنے باپ یا بھائی کے قاتل سے ملتا تھا تو اس سے کچھ تردد نہ کرتا تھا (عجائب المخلوقات ص 44)

عاشورہ کے دن نیک کام

عاشورہ ایک مقدس دن ہے‘ اس میں ہر ایک نیک کام بڑے اجروثواب کا باعث ہے‘ چند نیک کاموں کا ذکر کیا جاتا ہے۔

1۔ یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرنا ثواب ہے۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رحمتہ للعالمینﷺ نے فرمایا:

جو شخص عاشورہ کے دن یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اﷲ تعالیٰ اس کے لئے یتیم کے سر کے ہر بال کے عوض ایک ایک درجہ جنت میں بلند فرمائے گا (غنیتہ الطالبین ج 2ص 53)

ویسے بھی یتیم کے ساتھ محبت والفت کرنا باعث اجر عظیم ہے۔ خواہ عاشورہ کا دن ہو یا کوئی اور دن ہو‘ سیدنا ابو امامہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رحمت للعالمین شفیع المذنبینﷺ نے فرمایا:

جو شخص محض اﷲ تعالیٰ کی رضا کے لئے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرے گا تو اسے ہر بال کے عوض نیکیاں ملیں گی جن پر ہاتھ پھیرے گا اور جو یتیم بچی یا یتیم بچہ جو اس کے پاس ہے‘ کے ساتھ احسان کرے گا تو میں اور وہ جنت میں ان دو انگلیوں کی طرح اکھٹے ہوں گے اورآپ نے دونوں انگلیوں کو ملادیا (مشکوٰۃ ص 423)

2۔ عاشورہ کے روز غسل کرنا ہر مرض و بیماری سے بچائو کا سبب ہے۔ رحمت للعالمینﷺ فرماتے ہیں۔

جو شخص عاشورہ کے روز غسل کرے تو کسی مرض میں مبتلا نہ ہوگا سوائے مرض موت کے (غنیتہ الطالبین ج 2ص 53)

3۔ عاشورہ کے روز گناہوں اور معاصی سے توبہ کرنی چاہئے‘ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔ سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی اور حکم ہوا:

’’اپنی قوم کو حکم دو کہ وہ دسویں محرم کو میری بارگاہ میں توبہ کریں اور جب دسویں محرم کا دن ہو تو میری طرف نکلیں یعنی توبہ کریں‘ میں ان کی مغفرت فرماؤں گا‘‘ (فیض القدیر شرح جامع صغیر ج 3ص 34)

4۔ عاشورہ کے روز آنکھوں میں سرمہ ڈالنا‘ آنکھوں کی بیماریوں کے لئے شفاء ہے۔ سید دو عالمﷺ فرماتے ہیں:

جو شخص عاشورہ کے روز اثمد کا سرمہ آنکھوں میں لگائے تو اس کی آنکھیں کبھی بھی نہ دکھیں گی (بیہقی)

حضرت ملاعلی قاری رحمتہ الباری اپنی کتاب موضوعات الکبیر میں فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے روز آنکھوں میں سرمہ لگانا خوشی کے اظہار کے لئے نہیں ہونا چاہئے کیونکہ یہ خارجی لوگوں کا فعل ہے کہ وہ اس میں خوشی کا اظہار کرتے ہیں بلکہ حدیث شریف پر عمل کرنے کے لئے آنکھوں میں سرمہ ڈالنا چاہئے۔

5۔ عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال کے واسطے گھر میں وسیع پیمانے پر کھانے کا انتظام کرنا چاہئے تاکہ اﷲ تعالیٰ اس گھر میں سارا سال وسعت فرمائے۔ سیدنا حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول خداﷺ نے فرمایا:

جو کوئی عاشورہ کے دن اپنے اہل وعیال پر نفقہ میں وسعت دے گا تو اﷲ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائے گا (مشکوٰۃ ص170)

حضرت سفیان ثوری نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو ایسے ہی پایا۔

حضرت محبوب سبحانی قطب ربانی سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوث اعظم رحمتہ اﷲ علیہ اپنی کتاب غنیتہ الطالبین جلد دوم ص 54 میں لکھتے ہیں کہ حضرت سفیان ثوری رحمتہ اﷲ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی دیکھی۔

اسی طرح علامہ مناوی فیض القدیر جلد 6 ص 236 میں لکھتے ہیں کہ سیدنا حضرت جابر صحابی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کا تجربہ کیا تو اس کو صحیح پایا اور سیدنا ابن عیینہ رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ ہم نے پچاس یا ساٹھ سال اس کا تجربہ کیا تو وسعت ہی پائی‘ لہذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اس دسویں محرم کو وسیع پیمانہ پر کھانا پکانا چاہئے۔

6۔ عاشورہ کے دن بیمار کی بیمار پرسی کرنا بڑا ثواب ہے۔ محبوب کبریاﷺ فرماتے ہیں۔

جو کوئی عاشورہ کے روز بیمار کی بیمار پرسی کرتا ہے گویا کہ اس نے تمام بنی آدم کی بیمار پرسی کی ہے (غنیتہ ج 2ص 54)

7۔ عاشورہ کے روز لوگوں کو خصوصا فقراء کو پانی یا دودھ وغیرہ پلائے تو بڑا ثواب ہے۔ رحمتہ عالمیان سید کون و مکانﷺ نے فرمایا:

جو عاشورہ کے روز (لوگوںکو)پانی پلائے تو گویا اس نے تھوڑی دیر کے لئے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کی (غنیتہ الطالبین ج 2ص 54)

محرم کے روزے

1۔ سیدنا حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم رئوف ورحیمﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی محرم کے پہلے جمعہ کو روزہ رکھے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔

2۔ سرکاردوعالمﷺ نے فرمایا کہ جو کوئی محرم کے یہ تین روزے رکھے‘ جمعرات‘ جمعہ اور ہفتہ میں تو اس کے لئے نو سو سال کی عبادت لکھی جاتی ہے۔

3۔ طبرانی کی روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جو شخص محرم کے روزے رکھے تو ایک دن کے روزے کا ثواب تیس دنوں کے روزوں کے برابر ہے۔

4۔ سیدہ حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ رحمتہ للعالمینﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی محرم کے پہلے دس دن عاشورہ تک روزے رکھے تو وہ فردوس اعلیٰ کا وارث و مالک ہوگا۔

یوم عاشورہ کا روزہ

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا: تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: یہ عظمت والا دن ہے۔ اسی دن اﷲ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون اور اس کے لشکر سے نجات دی۔ ادائے شکر کے لئے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس دن روزہ رکھا۔ اس لئے ہم بھی روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ تمہاری نسبت ہم موسیٰ علیہ السلام کی سنت پر عمل کرنے کے حق دار ہیں۔ چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کرام کو روزہ رکھنے کا حکم دیا (بخاری‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 446)

انہی سے مروی ہے کہ جب آقا و مولیٰﷺ نے عاشورہ کا روزہ رکھا اور اس کا حکم دیا تو صحابہ کرام نے عرض کی اس دن کی تو یہودونصاریٰ تعظیم کرتے ہیں۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا: اگر آئندہ سال حیات (ظاہری) باقی رہی تو نویں محرم کا بھی روزہ رکھوں گا (مسلم ‘ مشکوٰۃ‘ جلد 1ص 442)

یہ 10ھ کا واقعہ ہے اگلے سال رحمت عالمﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمالیا۔

ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس دن اﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی بندے پر انعام ہوا ہو‘ اس دن شکر الٰہی بجالانا اور اس دن کی یادگار قائم کرنا نبی کریمﷺ کی سنت ہے اور صحابہ کرام کی بھی‘ یہاں تک کہ اگر بالفرض اس میں کفار کے ساتھ کچھ مشابہت کا احتمال ہو تو بھی اس فعل کو ترک نہ کیا جائے بلکہ کفار کی مخالفت کی کوئی اور صورت پیدا کی جائے۔

سرکار مدینہﷺ کا ارشاد ہے: رمضان کے بعد افضل روزہ اﷲ تعالیٰ کے مہینے محرم کاروزہ (عاشورہ کا روزہ) اور فرض نمازوں کے بعد افضل نماز‘ رات کی نماز (تہجد) ہے (مسلم‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 441)

غیب بتانے والے آقا و مولیٰﷺ نے فرمایا: مجھے اﷲ تعالیٰ کے کرم سے امید ہے کہ وہ عاشورہ کے دن کا روزہ رکھنے والے کے لئے اس روزہ کو پچھلے سال کے گناہوں کا کفارہ بنادے گا (مسلم‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 443)

حضرت جابر بن سمرہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیںکہ محبوب کبریاﷺ ہمیں عاشورہ کے دن کے روزہ کا حکم فرماتے‘ ترغیب دلاتے اور ہماری نگرانی بھی فرماتے تھے۔ (مسلم ‘ مشکوٰۃ جلد 1ص 446)

عاشورہ کے دن جو کام ممنوع ہیں

عاشورہ کے دن سیاہ کپڑے پہننا‘ سینہ کوبی کرنا‘ کپڑے پھاڑنا‘ بال نوچنا‘ نوحہ کرنا‘ پیٹنا‘ چھری‘ چاقو سے بدن زخمی کرنا‘ جیسا کہ رافضیوں کا طریقہ ہے‘ حرام اور گناہ ہے‘ ایسے افعال شنیعہ سے مکمل بچنا چاہئے (موضوعات الکبیر)

شب عاشورہ کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا: جو شخص عاشورہ کی رات عبادت کرے اور دن کو روزہ رکھے‘ اسے موت کے وقت تکلیف کا احساس تک نہ ہوگا۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نور مجسمﷺ کا ارشاد ہے‘ جو شخص عاشورہ کی رات کو عبادت کے ذریعے زندہ رکھے (یعنی شب بیداری کرے) تو جب تک چاہے گا اﷲ تعالیٰ اسے بھلائی پر زندہ رکھے گا (غنیتہ الطالبین ص 534)

نبی کریمﷺ نے فرمایا: رمضان کے بعد افضل روزہ محرم کا ہے اور فرض نمازوں کے بعد عاشورہ کی رات میں نفل پڑھنا افضل ہے (ایضا)

عاشورہ کی رات کے نفل

عاشورہ کی رات کے متعلق بہت نفل نمازیں آئی ہیں۔

1۔ جو شخص اس رات میں چار رکعت نماز پڑھے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد پچاس بار قل ہوا اﷲ احد پڑھے تو مولائے کریم اس کے پچاس برس گزشتہ اور پچاس سال آئندہ کے گناہ بخش دیتا ہے اور اس کے لئے ملاء اعلیٰ میں ایک ہزار محل تیار کرتا ہے (ماثبت من السنہ‘ ص 16‘ غنیتہ الطالبین ج 2ص 54)

 2۔ اس رات کو دو رکعت نفل قبر کی روشنی کے واسطے پڑھے جاتے ہیں‘ جن کی ترکیب یہ ہے کہ ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد تین تین بار قل ہو اﷲ احد پوری سورہ پڑھے‘ جو آدمی اس رات میں یہ نمازپڑھے گا تو اﷲ تبارک و تعالیٰ قیامت تک اس کی قبر روشن رکھے گا (جواہر غیبی)

عاشورہ کے دن کے نفل

امام الانبیاء و المرسلینﷺ نے فرمایا کہ جو آدمی عاشورہ کے روز چار رکعت نفل نماز پڑھے ک ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور قل ہو اﷲ احد گیارہ گیارہ مرتبہ پڑھے تو اﷲ تعالیٰ اس کے پچاس برس کے گناہ بخش دیتا ہے اوراس کے لئے ایک نورانی ممبر بناتا ہے (نزہتہ المجالس ج 1ص 146) (دو رکعت نفل شہدائے کربلاکے لئے پڑھئے)

سانحہ کربلا

عاشورہ کے روز یزیدی ظالم حکومت نے سیدنا حضرت امام حسین مظلوم رضی اﷲ عنہ کو سلطنت و ملک کے ہوس میں شہید کردیا تھا انا ﷲ و انا الیہ راجعون جس کے متعلق حبیب کبریاﷺ نے گاہے بگاہے خبردار کیا تھا۔

چنانچہ سیدنا حضرت علی مرتضیٰ شیر خدا رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے کہ آقائے رحمتﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے خبر دی ہے کہ میرا لخت جگر فرات ندی کے کنارے شہید کیا جائے گا۔

اور سیدہ حضرت عائشہ بنت صدیق اکبر رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ محبوب رب العالمین شفیع المذنبینﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد میرا بیٹا حسین (رضی اﷲ عنہ) ارض طف (سرزمین کربلا) میں شہید کیا جائے گا اور جبرائیل (علیہ السلام) اس جگہ کی مٹی میرے پاس لائے ہیں جو حسین (رضی اﷲ عنہ) کی قتل گاہ ہے

اور ام فضل بنت حارث رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول کریم رئوف رحیمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت عنقریب میرے اس پیارے بیٹے (حسین رضی اﷲ عنہ) کو شہید کردے گی اور اس جگہ کی سرخ مٹی میرے پاس لائی گئی ہے۔

اور سیدہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے مجھے خبر دی کہ میرا بیٹا فرات کی زمین میں شہید کیا جائیگا۔ میں نے جبرائیل سے کہا کہ مجھے اس کے مقتل کی مٹھی دکھائو تو جبرائیل علیہ السلام نے وہ مٹی لاکر مجھے دی اور کہا کہ یہ اسی مقتل کی مٹی ہے۔

طبرانی کبیر میں سیدہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ سرکار مدینہﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے بتایا کہ میری امت کے لوگ میرے اس نور نظر حسین (رضی اﷲ عنہ) کو شہید کردیں گے اور اﷲ تعالیٰ کے قاتلوں پر سخت غضب فرمائے گا۔

ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ میرے اس بیٹے حسین (رضی اﷲ عنہ) کو سرزمین عراق میں شہید کردیا جائے گا پس جو شخص وہاں حاضر ہو تو حسین (رضی اﷲ عنہ) کی مدد کرے۔

طبرانی کبیر میں حضرت زینت بنت حجش راوی ہے کہ حضور اقدسﷺ نے فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی ہے کہ میں نے یحییٰ بن ذکریا کے بدلے ستر 70 ہزار کو قتل کیا اور تیری صاحبزادی کے بیٹے حسین (رضی اﷲ عنہ) کے بدلے ستر70 ہزار اور ستر 70 ہزار یعنی دو چند کو قتل کروں گا۔

سلمیٰ انصاریہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کے پاس حاضر ہوئی تو دیکھا کہ وہ رو رہی ہیں۔ میں نے رونے کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ میں نے ابھی خواب میں رحمتہ للعالمینﷺ کو دیکھا۔ آپ کا سر اور داڑھی مبارک غبار آلود تھی اور آپ رو رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یارسول اﷲﷺ آپ کوکیا ہوگیا ہے؟ فرمایا: میں ابھی مقتل حسین (رضی اﷲ عنہ) میں گیا تھا۔

واقعہ کربلا کی مزید تفصیل درج ذیل کتاب میں پڑھی جاسکتی ہے (ماثبت من السنہ)

عاشورہ اور صدقہ

یوم عاشورہ میں صحابہ کرام اور اہل بیت عظام خصوصا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور دیگر شہدائے کربلا کی ارواح مبارکہ کو ایصال ثواب کرنا بہت ثواب کا کام ہے۔ اسی لئے مسلمان عموما اس روز قرآن خوانی کرتے ہیں۔ آیات واحادیث کی روشنی میں شہادت کی فضیلت اور امام حسین رضی اﷲ عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے اور سنتے ہیں پھر شربت‘ حلیم اور دیگر طعام پر فاتحہ پڑھ کر ان نفوس قدسیہ کو ایصال ثواب کرتے ہیں۔ یہ سب امور جائز و مستحب ہیں۔

شیخ عبدالحق محدث دہلوی قدس سرہ فرماتے ہیں ’’خبردار! روافض کی بدعتوں میں شامل نہ ہونا‘ گریہ زاری آہ و بکا‘ سینہ کوبی‘ نوحہ‘ ماتم‘ ظاہری اظہار (جیسے سیاہ لباس وغیرہ) میں مشغول نہ ہوجانا‘ کیونکہ ان کاموں کا مسلمانوں کے عقائد و اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے‘‘ (ماثبت من السنہ ص 20)

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اب تلوار کیوں اٹھائی اور پہلے کیوں نہ اٹھائی تھی؟

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الحمد ﷲ والصلوٰۃ والسلام علی حبیب اﷲ وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اب تلوار کیوں اٹھائی اور پہلے کیوں نہ اٹھائی تھی؟

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے تمام خلفاء راشدین کے دور میں حتی کہ حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے تک کسی حکومت کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی بلکہ اطاعت گزاری کو اختیار کئے رکھا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے دور حکومت میں سیدنا امام حسن اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہا دونوں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے پاس شام میں آیا جایا کرتے تھے اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ان دونوں شہزادوں کابہت احترام فرماتے تھے۔ ان کی خدمت میں بہت سے عطیات اوروظائف پیش کرتے تھے اور دونوںشہزادے انہیں بخوشی قبول فرماتے تھے (البدایہ والنہایہ، جلد 8، ص 158)

حضرت داتا صاحب علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ ایک دن حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے پاس ایک غریب آدمی نے آکر خیرات مانگی۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جائو ہمارا وظیفہ آنے والا ہے، جیسے ہی وظیفہ پہنچ جائے گا، آپ کو دے دیا جائے گا۔ تھوڑی دیر میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کی طرف سے ایک ایک ہزار دینار کی پانچ تھیلیاں پہنچ گئیں۔ تھیلیاں پہنچانے والوں نے عرض کیا کہ حضرت امیر معاویہ نے معذرت کی ہے کہ یہ تھوڑی سی رقم ہے اسے قبول فرمائیں۔ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے ساری رقم اس غریب آدمی کے حوالے کردی اور اس سے معذرت چاہی (کشف المحجوب، ص 77)

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کیا تھا یا نہیں؟ اس کے بارے میں دو قول موجود ہیں۔ پہل قول یہ ہے کہ آپ نے اسے ولی عہد مقرر نہیں کیا بلکہ اس نے خود بخود حکومت سنبھال لی تھی۔ یہ بات علامہ ابوالشکور سالمی رحمت اﷲ علیہ (متوفی پانچویں صدی) نے اپنی مایہ ناز کتاب التمہیدکے صفحہ 169 پر بیان فرمائی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یزید کو ولی عہد مقرر کرنے کے لئے حضرت امیر معاویہ نے مختلف اکابر سے مشورہ لیا تھا۔ کچھ لوگ اس تجویز سے متفق ہوگئے جبکہ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر، حضرت عبداﷲ ابن عباس، حضرت عبداﷲ بن عمر، حضرت عبداﷲ بن زبیر اور حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہم اس بات سے متفق نہیں تھے۔ یہ سب باتیں شیعہ کتاب (تاریخ یعقوبی جلد 2، ص 229) پر اور اہل سنت کی کتاب (البدایہ والنہایہ جلد8، ص 158) پر درج ہیں۔ نیز مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یزید سے کہا تھا کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھ اچھا رویہ اختیار رکھنا فصل رحمہ وارفق بہ (البدایہ والنہایہ جلد8 ص 169 اور شیعہ کی کتاب جلاء العیون ص 388 فصل دوازدہم)

حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ ایک باپ ہونے کی حیثیت سے یزید کے کرتوتوں سے آگاہ نہیں تھے۔ اور اگر کوئی چھوٹی موٹی خرابی آپ کے علم میں تھی بھی تو آپ نے یہ سوچ کر یزید کو اپنا ولی عہد مقرر کردیا کہ جب ذمہ داری سر پر آئے گی تو انسان بن جائے گا۔ مگر یزید نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ کے زمانے میں ہی عراق کے شیعہ لوگوں نے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو حضرت امیر معاویہ کے خلاف اکسایا تھا مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے شیعہ کی اس بات کوقبول نہ فرمایا اور صبر سے کام لینے کا حکم دیا

ایشان را مجاب ننمود و بصیرامر کرد (شیعہ کی اپنی کتاب جلاء العیون ص 348)

یہی بات شیعہ کے مشہور عالم شیخ مفید نے اپنی کتاب الارشاد کے صفحہ 182 پر عربی زبان میں لکھی ہے۔

فاتبع علیہم وذکر ان بینہ و بین معاویۃ عہدا و عقدا لایجوز لہ نقضہ حتی تقضی المدۃ (الارشاد 182)

غورفرمایئے! آخر کیا بات ہے کہ سن60 ہجری تک سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے تمام خلفاء علیہم الرضوان کی تابعداری کو قبول کئے رکھا مگر سن 61ھ میں جب یزید کی باری آئی تو آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کھینچ لی؟

حضرت داتاگنج بخش سید علی ہجویری علیہ الرحمہ اپنی مایہ ناز کتاب کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ ’’تاحق ظاہر بود مرحق را متابع بود و چوں مفقود شد شمشیر برکشید‘‘ یعنی جب تک حق ظاہر تھا امام حسین رضی اﷲ عنہ حق کے تابع رہے۔ مگر یزید کے دور میں حق رخصت ہوگیا تو آپ رضی اﷲ عنہ نے تلوار کھینچ لی (کشف المحجوب ص 76)

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کا عمل اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ چاروں خلفائے راشدین اور حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ میںسے ہر ایک کے ساتھ امام عالی مقام متفق تھے۔ اسی لئے ان کے تابع رہے اور ان سے وظیفہ بھی قبول فرماتے رہے۔ مگر یزید سے متفق نہ تھے اسی لئے اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔

کوفیوں کی طرف سے خطوط

کوفہ کے شیعوں نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی خدمت میں بے شمار خطوط لکھے اور عرض کیا کہ آپ کوفہ میں تشریف لائیں آپ ہی ہمارے امیر ہیں۔ ہم نے یہاں کے حکمرانوں کی اطاعت چھوڑ رکھی ہے اور کوفہ کے والی نعمان بن بشیرکے پیچھے جمعہ تک ادا نہیں کرتے (الاصابہ جلد 1، ص 332، تحت حسین بن علی، شیعہ کی کتاب جلاء العیون، ص 356)

فبعث اہل العراق الی الحسین الرسل والکتب یدعونہ الیہم (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 165)

جلاء العیون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ وسائر شیعان اواز مومنان و مسلمانان اہل کوفہ یعنی یہ خط کوفہ کے تمام حسینی شیعوں کی طرف سے ہے (جلاء العیون ص356)

یزید نے حکومت سنبھالتے ہی اہل مدینہ سے بیعت کامطالبہ کیا۔ خصوصا سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور سیدنا صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کے نواسے حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ سے بیعت لینے پر زور دیا تاکہ ان دونوں معتبر ہستیوں کے بیعت کرلینے کے بعد باقی اہل مدینہ کے لئے بیعت کا راستہ آسان ہوجائے۔ مگر ان دونوںمقدس ہستیوں نے بیعت نہ کی بلکہ راتوں رات مدینہ طیبہ سے نکل کر مکہ شریف چلے گئے۔

فبعث الی الحسین وابن الزبیر فی اللیل ودعاہما الی بیعۃ یزید فقالا نصبح و ننظر فیما یعمل الناس ووثبا فخرجا (سیر اعلام النبلاء للذہبی جلد 3، ص 198)

صحابہ کرام علیہم الرضوان سے مشورہ

کوفہ کے شیعوں کی طرف سے اس قدر بے تحاشا خطوط آنے کے بعد امام عالی مقام سیدنا حسین رضی اﷲ عنہ جیسی ذمہ دار ہستی کے پاس لبیک کہنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ مگر پھر بھی آپ رضی اﷲ عنہ نے صحابہ کرام اور اکابر امت علیہم الرضوان سے مشورہ فرمایا اور انہیں کوفیوں کے خطوط کے انبار دکھائے۔

اس کے باوجود صحابہ کرام علیہم الرضوان بلکہ بعض اہل بیت اطہار نے بھی آپ رضی اﷲ عنہ کو کوفہ جانے سے منع فرمایا۔ منع کرنے والوں میں حضرت عبداﷲ بن عمر،حضرت عبداﷲ بن عباس، امام عالی مقام کے بھائی حضرت محمد بن حنفیہ، حضرت جابر، حضرت ابو سعید اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن بن حارث علیہم الرضوان جیسی ہستیاں شامل تھیں۔ ان بزرگوں کے بیانات سیر اعلام النبلاء جلد 2 ص 197، البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 72 اور المصنف لابن ابی شیبہ جلد 15 ص 96-97 وغیرہ پر موجود ہیں۔ مثلا نبی کریمﷺ کے سگے چچا زاد بھائی اور سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے چچا حضرت عبداﷲ بن عباس کا یہ فرمان ملاحظہ فرمایئے۔ آپ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔

جآء نی حسین یستشیر نی فی الخروج الی ماہہنا یعنی العراق فقلت لولا ان یزروابی وبک لشبئت یدی فی شعرک الی این تخرج؟ الی قوم قتلوا اباک وطعنوا اخاک؟

یعنی میرے پاس حسین آئے اور عراق جانے کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا۔ میں نے کہا کہ میرا بس چلے تو میں آپ کو سر کے بالوں سے پکڑ کر عراق جانے سے روک دوں۔ آپ کہاں جانا چاہتے ہیں؟اس قوم کی طرف جس نے آپ کے والد ماجد کو شہید کیا اور بھائی کو نیزہ مارا؟ (المصنف جلد 15 ص 96-97، البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 166)

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے بھائی محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے مشورہ دیا کہ آپ کا عراق جانا درست نہیں مگر امام حسین رضی اﷲ عنہ نے ان کا مشورہ قبول نہ فرمایا۔ اس کے بعد محمد بن حنفیہ رضی اﷲ عنہ نے اپنی اولاد کو ساتھ جانے سے روک دیا جس کی وجہ سے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اپنے بھائی محمد بن حنفیہ سے ناراض ہوگئے (البدایہ والنہایہ، جلد 8، ص 172)

شرعی مسائل

ظالم حکمران کے خلاف کارروائی کرنا شرعا فرض نہیں بلکہ حق واضح کرنے کے بعد اس سے جان چھڑا کر خاموش ہوجانے کی اجازت ہے۔ اس اجازت کو شریعت کی زبان میں رخصت کہا جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی بلند ہمت اور بلند رتبہ شخصیت ظالم حکمران کے خلاف ڈٹ جائے تو شریعت اس بات کی بھی اجازت دیتی ہے۔ ظالموں کے خلاف ڈٹ جانے کی اس اجازت کو شریعت کی زبان میں عزیمت کہا جاتا ہے۔ عزیمت کا معنی ہے ’’مضبوط اور پختہ ارادہ‘‘

صحابہ کرام علیہم الرضوان نے امام عالی مقام رضی اﷲ عنہ کو عراق جانے سے منع فرمایا۔ وہ رخصت پر عمل کرنے کو ترجیح دے رہے تھے۔ اس کے برعکس سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے عراق جانا پسند فرمایا۔ آپ اپنے مقام اور مرتبے کے لحاظ سے عزیمت کو ترجیح دے رہے تھے۔ دونوں طرف کے فیصلے میں کوئی عیب نہیں۔ یہ بھی حق ہے اور وہ بھی حق ہے۔ اجتہادی مسائل میں اختلاف ہوجانا کوئی بڑی بات نہیں۔

شیعہ حضرات صحابہ کرام علیہم الرضوان پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے امام پاک رضی اﷲ عنہ کا ساتھ کیوں نہ دیا؟ اس کے برعکس خارجی حضرات امام حسین رضی اﷲ عنہ پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ منع کرنے کے باوجود باز کیوں نہ آئے۔ الحمدﷲ ہم نے ثابت کردیا کہ اہل تشیع اور خارجی دونوں بے ادب اور گستاخ ہیں اور امام حسین اور صحابہ کرام علیہم الرضوان دونوں حق پر ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو معلوم تھا کہ خواہ کوفہ جائیں یا مکہ شریف میں رہیں۔ جام شہادت نوش کرنا ہمارا مقدر ہے۔ مگر آپ رضی اﷲ عنہ نے مکہ شریف میں شہید ہوکر یزید کو مکہ کی بے حرمتی کرنے کا موقع نہ دیا بلکہ کوفہ کی طرف بڑھ کر شہادت کو گلے لگایا۔ چنانچہ علامہ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ امام پاک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:

فقال لان اقتل بمکان کذا و کذا احب الی من ان اقتل بمکۃ وتسحل بی

اس سے زیادہ بہتر ہے کہ میں مکہ میں قتل کیا جائوں اور مکہ کی بے حرمتی ہو (البدایہ وا لنہایہ جلد 8، ص 172)

تیسری بات یہ ہے کہ کوفہ کے شیعوں نے جس قدر خطوط لکھے تھے۔ اگر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اب بھی ظالم حکمران کے خلاف عوامی دعوت کوقبول نہ فرماتے تو کوفی لوگ قیامت کے دن امام پاک کے خلاف بیان بازی کرسکتے تھے۔ لہذا آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی ذمہ داری نبھانا ضروری سمجھا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ مکمل سوجھ بوجھ اور مشورے کے بعد جب آپ نے ایک عزم اور ارادہ کرلیا تو اپنے عزم پر ڈٹ گئے۔ اﷲ پر توکل کرنے والوںکا یہی طریقہ ہوا کرتا ہے۔ اﷲ کریم فرماتا ہے:

وشاورہم فی الامر فاذا عزمت فتوکل علی اﷲ

یعنی ان سے مشورہ کریں اور جب کوئی عزم کرلیں تو اﷲ پر توکل کرتے ہوئے ڈٹ جائیں (آل عمران 159:)

پانچویں بات یہ ہے کہ صحابہ کرام علیہم الرضوان کے مشورے کو آپ رضی اﷲ عنہ نے مکمل طور پر نہیںپھینکا بلکہ پہلے احتیاطاً اپنے چچا زاد بھائی حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو کوفہ بھیجا تاکہ اگر کوفہ والے حضرت مسلم رضی اﷲ عنہ سے بے وفائی کریں تو ان کا شعری طورپر منہ بند ہوجائے اور اگر وفا کریںتو صحابہ کرام علیہم الرضوان کو مطمئن کیا جاسکے۔

حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کی روانگی

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کوفہ کے حالات کا جائزہ لے کر اطلاع دینے کے لئے اپنے چچا زاد بھائی اور بہنوئی حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو روانہ فرمایا۔ جب وہ کوفہ پہنچے تو تقریبا بارہ ہزار کوفیوں نے آپ کے ہاتھ مبارک پر بیعت کرلی (الاصابہ جلد 1، ص 332)

آپ نے حالات سے مطمئن ہوکر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو اطلاع دی کہ کوفہ کے حالات ہمارے لئے سازگار ہیں۔ آپ جلد تشریف لے آئیں۔ اس وقت کوفہ کے والی نعمان بن بشیر تھے۔ جب یہ اطلاع سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو پہنچ گئی تو کوفہ میں حکومت کے حامیوں نے کوفہ کے والی تک حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کے خلاف شکایت پہنچائی مگر کوفہ کے والی نعمان بن بشیر نے نرمی سے کام لیا اور حضرت مسلم کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔ اس پر حکومت کے حامیوں نے یزید کو اس صورتحال سے آگاہ کردیا۔ یزید نے فورا نعمان بن بشیر کو برطرف کردیا اور اس کی جگہ بصرہ کے والی عبیداﷲ بن زیاد کو کوفہ کی ذمہ داری بھی سونپ دی۔ حضرت مسلم بن عقیل نے حضرت ہانی بن عروہ کے گھر میں قیام کر رکھا تھا۔ تمام کوفیوں نے حکومت کے خوف سے حضرت مسلم بن عقیل کا ساتھ چھوڑ دیا اور ابن زیاد نے حضرت مسلم اور ہانی بن عروہ رضی اﷲ عنہما کو شہید کردیا (طبقات ابن سعد جلد 4، ص29 تحت عقیل بن ابی طالب) ادھر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کواس واقعہ کی کوئی خبر نہ تھی۔

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کی روانگی

حالات کو سازگار سمجھتے ہوئے حضرت سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ تقریبا 80 افراد کا قافلہ لے کر کوفہ کی طرف روانہ ہوئے۔یہ واقعہ 3 ذوالحج 60ھ کا ہے۔ ادھر اسی روز حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو شہید کردیا گیا تھا۔

کوفہ جاتے وقت راستے میں امام حسینرضی اﷲ عنہ کو حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت کی افسوسناک خبر ملی۔اسی راستے میں مختلف لوگوں سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان میں بشیر بن غالب، عبیداﷲ بن مطیع اور اہل بیت کے مداح اور مشہور شاعر فرزدق خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ان سب نے سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو آگے جانے سے منع فرمایا۔ فرزدق نے کہا کہ کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں یزید کے ساتھ ہیں۔

یہ حالات سننے کے بعد امام حسین رضی اﷲ عنہ کے ساتھیوں میں مختلف خیالات پیدا ہوگئے۔ ایک مرتبہ آپ رضی اﷲ عنہ نے بھی واپسی کا ارادہ ظاہر فرمایا۔ لیکن حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کے بھائی نے فرمایا کہ ہم ہرگز واپس نہیں جائیں گے۔ طویل گفتگو کے بعد یہی طے پایا کہ کوفہ جانا چاہئے۔ جب قافلہ کوفہ کے قریب پہنچا تو حر بن یزید سے ملاقات ہوئی۔ حر کے ساتھ ایک ہزار فوجی سوار تھے۔ اس نے امام حسین رضی اﷲ عنہ سے عرض کیا کہ میں آپ کا خیر خواہ اور وفادار ہوں، مگر سرکاری ملازمت میری مجبوری ہے۔مجھے ابن زیاد نے آپ کو گرفتار کرکے اس کے پاس لانے کا حکم دیاہے۔ میں آپ کے ادب و احترام کی وجہ سے آپ کو گرفتار نہیں کرتا۔ لیکن آپ بھی میرے حال پر مہربانی فرمائیں اور کوفہ میں داخل نہ ہوں۔ مجبوراً سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کو کوفہ میں داخل ہونے کی بجائے قریب ہی میدان کربلا میں پڑائو ڈالنا پڑا۔

عبیداﷲ بن زیاد نے اہل بیت اطہار علی جدہم وعلیہم الصلوٰۃ والسلام سے جنگ کرنے کے لئے عمرو بن سعد کو ایک ہزار مسلح گھڑ سواروں کے لشکر کا امیر بناکربھیجا۔ ابن زیاد نے بعد میں مزید کمک بھی بھیجی اور اس کے لشکر کی تعداد تقریبا 22 ہزار تک پہنچ گئی۔

گنتی کے مقدس افراد کا مقابلہ کرنے کے لئے اس لاتعداد لشکر کا پہنچ جانا ان لشکریوں کی بزدلی اور اہل بیت اطہار علیہم الرضوان کی عظمت و شجاعت کا زندہ ثبوت ہے۔ پھر اس پر بھی بس نہیں۔ کوفی فوج کو اس قدر خوف تھا کہ اتنی کثرت کے باوجود باقاعدہ جنگی تدبیریں اور حکمت عملیاں اختیار کی گئیں۔ تین دن تک پانی بند کردیا گیا۔

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کسی صورت بھی جنگ نہیں کرنا چاہتے تھے اور خصوصا تلوار چلانے میں پہل کرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن جو حالات نظر آرہے تھے ان حالات میں مخالفین پر حجت قائم کرنے کی غرض سے آپ نے فرمایا۔ میری تین باتوں میں سے کوئی ایک بات تسلیم کرلو۔

1… مجھے مسلمانوں کے خلاف لڑنے کی بجائے اسلامی سرحدوں پر جاکر کفار کے خلاف جہاد کرنے دو۔

2… مجھے مدینہ شریف جانے دو۔

3… یا یزید سے میری ملاقات کرادو۔ تاکہ میں اس سے خود بات کرکے مصالحت کی صورت نکال سکوں

(الاصابہ جلد 1، ص 333، البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 204)

عمرو بن سعد نے یہ باتیں ابن زیاد تک پہنچادیں مگر ابن زیاد نے ان میں سے ایک بات کو بھی قبول نہ کیا اور امام حسین رضی اﷲ عنہ سے بیعت کا مطالبہ کرتا رہا۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ نے بیعت سے انکار فرمادیا جس پر کوفیوں نے جنگ چھیڑ دی۔

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ اور آپ کے ساتھی راتوں کو نمازیں پڑھتے، استغفار اور دعائیں کرتے اور اﷲ کی بارگاہ میںعاجزی پیش کرتے رہے تھے اور دشمنوں کے گھوڑے ان کے اردگرد گھومتے رہتے تھے (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 185)

دسویں محرم کو سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے غسل فرمایا اور زبردست خوشبو لگائی اور بعض دوسرے ساتھیوں نے بھی غسل فرمایا (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 185)

جنگ شروع ہوئی۔ کربلا کے اردگرد کے مسلمانوں کو جب اس جنگ کی خبر ہوئی تو بہت سے لوگ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کا ساتھ دینے کے لئے میدان میں آگئے اور امام پاک پر اپنی جانیں قربان کردیں۔ سیدنا حضرت حر بن یزید رضی اﷲ عنہ نے بھی یزیدی لشکر کو خیرباد کہہ دیا اور سیدنا امام حسین سے پہلے جام شہادت نوش فرمایا (البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 188)

جنگ کے دوران جب ظہر کی نماز کا وقت آیا تو سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ دشمنوں سے کہو جنگ روک دیں تاکہ ہم نماز ادا کرسکیں۔

دخل علیہم وقت الظہر فقال الحسین رضی اﷲ عنہ مروہم فلیکفوا عن القتال حتی نصلی

(البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 190)

آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں سمیت نماز خوف ادا فرمائی۔

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے سوتیلے بھائی اور مولا علی رضی اﷲ عنہ کے شہزادے حضرت ابوبکر بن علی، حضرت عمر بن علی، حضرت عثمان بن علی اور حضرت عباس بن علی علیہم الرضوان بھی باری باری شہادت سے سرفراز ہوئے۔ مولا علی رضی اﷲ عنہ کے ان تمام شہزادوں کے نام شیعوں کی اپنی کتاب جلاء العیون کے صفحہ 414 پر اور بہتر تارے کے صفحہ 111, 107, 98 پر موجود ہیں اور اہل سنت کی کتاب البدایہ والنہایہ جلد 8 صفحہ 197 وغیرہ پر بھی موجود ہیں۔ حضرت عبداﷲ (علی اصغر) جوشیر خوار بچے تھے۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ خیمے کے دروازے پر انہیں اپنی گود میں لے کر بیٹھے۔ انہیں بوسے دینے، الوداع کہنے اور اپنے گھر والوں کو وصیت کرنے لگے۔ بنی اسد کے ایک ظالم شخص نے جس کا نام ابن موقد النار تھا، انہیں تیر مار دیا جو ان کی گردن مبارک میں آکر لگا اور ننھے شہزادے نے جام شہادت نوش کرلیا (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 194)

بالاخر سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کوفیوں کے لشکر کا تنہا مقابلہ فرمایا۔ اپنے کثیر التعداد بھائیوں، جگر کے ٹکڑوں اور ہمراہیوں کی شہادت کا منظر اپنی مبارک آنکھوں سے دیکھ چکنے کے باوجود سیدنا امام حسین صبر و استقامت کا پیکر تھے۔ ہمت و شجاعت کی وہ مثال قائم فرمائی کہ جس طرف بھی آپ کا گھوڑا بڑھتا تھا۔ آپ دشمنوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹتے چلے جاتے تھے۔ جب لاتعداد کوفیوں کوگھائل کرچکے تو کوفیوں نے سوچا کہ اس سے پہلے کہ یہ فرد واحد ہم ہزاروں کا خون کر ڈالے مل کر حملہ کرنا چاہئے۔ چنانچہ ان سب نے یک بارگی تیروں کی برسات کردی۔ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے جام شہادت نوش فرمایا اور آپ کا جسم اطہر گھوڑے کی پشت سے زمین پر آگیا۔ سنان بن عمرو، یا شاید خولی بن یزید، یا شاید شمر بن یزید، یاشاید ثمر بن ذی الجوش نے آگے بڑھ کرآپ رضی اﷲ عنہ کے سر مبارک کو تن سے جدا کردیا (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 195)

سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے دس محرم 61ھ جمعہ کے دن شہادت پائی۔ آپ کی عمر شریف 56 سال 5 ماہ 5 دن تھی۔ کربلا میں سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے 72 ساتھی شہید ہوئے جبکہ یزیدی فوج کے 88 افراد قتل ہوئے (البدایہ والنہایہ جلد 8، ص 197)

میدان کربلا سے بچ کر آنے والوں میں صرف ایک نوجوان حضرت سیدنا امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ تھے جو طبیعت مبارک کی ناسازی کی وجہ سے جنگ میں شریک نہ ہوسکے تھے۔ باقی سب اہل بیت اطہار خواتین تھیں۔ جن میں حضرت زینب رضی اﷲ عنہاکا نام نامی اسم گرامی سرفہرست ہے۔ آپ سیدنا امام حسین رضی اﷲ عنہ کی سگی بہن تھیں۔

امام حسین کا سیاسی اور دینی تدبر

امام حسین کا سیاسی اور دینی تدبر

علامہ رفعت رضا نوری

نظریاتی کشمکش

عام نظریہ یہ ہے کہ کربلائے معلی میں امام حسین رضی اﷲ عنہ اور یزیدیوں کے درمیان گھمسان کی جنگ ہوئی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی جنگ ہی نہیں تھی کیونکہ جنگ کے لئے جس طرح کی سروسامانی، قوت و طاقت اور فوج کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ایک طرف تو تھی مگر امام حسین رضی اﷲ عنہ کی طرف ان کے اہل وعیال کے علاوہ چند وفا پیشہ جاں نثار رفقاء تھے، کیا کوئی شوق میں اپنی اہل وعیال کو قتل کے بھینٹ چڑھانا گوارا کرے گا؟ دراصل کربلا کی تاریخ کا پورا پس منظر اس محور پر گردش کررہا ہے کہ دور یزید میں ایک ناقابل درست نظریہ (یعنی بیعت یزید) کو امام حسین رضی اﷲ عنہ پر تھوپنے کی کوشش کی گئی اور امام نے اس نظریہ کا سختی سے انکار کیا اور ہر موقع پر دانش مندی کا مظاہرہ کیا۔ اس لئے کربلا کے حادثے کو فکرونظر کی جنگ کا نتیجہ تو کہا جاسکتا ہے مگر اسے حقیقی جنگ نہیں قرار دیا جاسکتا۔

چنانچہ جب حضرت امیر معاویہ نے اپنے دور امارت میں والی مدینہ مروان بن حکم کو اہل مدینہ سے یزید کی ولی عہد کی بیعت لینے کا حکم دیا تو امام حسین، عبداﷲ بن زبیر، عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہم نے یزید کی ولی عہدی تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اس موقع پر عبدالرحمن بن ابی بکر نے مروان کو ایسا کرارا جواب دیا کہ بھاگ دوڑ تک نوبت پہنچ چکی تھی۔

(البدایۃ والنہایۃ، لابن کثیر، ج 48/8، دارالحدیث القاہرہ 1998ئ)

جب مروان کی دال نہیں گلی تو حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے شام، مصر، عراق اور دیگر شہروں میں یزید کی ولی عہدی کی زمین ہموار کرنے کے لئے امراء کو خفیہ احکام جاری فرمائے اور تقریبا ہر طرف سے زمین ہموار ہوچکی۔ لے دے کر حجاز مقدس کی زمین بچی ہوئی تھی، یہاں اسلام کی مقتدر ہستیاں تشریف فرما تھیں۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ خود مدینہ آئے اور مدینہ کے باہر امام حسین، عبداﷲ بن عمر، عبداﷲ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن رضی اﷲ عنہم کو بلوایا، لیکن امیر معاویہ اور صحابہ کرام میں سخت کلامی ہوگئی اور یزید کی ولی عہد کا معاملہ حل نہ ہوسکا اور یہ چاروں حضرات دل برداشتہ ہوکر مدینہ چھوڑ کر مکہ آگئے۔ کچھ دنوں بعد پھر حضرت امیر معاویہ مکہ آئے۔ یہاں معاملہ بالکل برعکس نکلا، حضرت امیر معاویہ نے ان چاروں صحابہ کرام کے ساتھ انتہائی حسن سلوک کا مظاہرہ کیا۔ سب کو تنہائی میں بلاکر امیر معاویہ نے فرمایا تم بیعت کرلو۔ عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے تین تجویز رکھیں، مگر کوئی بھی منظور نہ ہوسکی۔ یہاں سے یہ بات بھی صاف طور پر واضح ہوگئی کہ یزید کی خلافت و امارت کے استصواب پر اکابر صحابہ کا اختلاف تھا، اس لئے یزید کی امارت متفق علیہ نہیں تھی۔

امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سیاسی اور دینی تدبر

60ھ میں جب یزید تخت نشین ہوا تو اس نے ولید بن عتبہ بن ابی سفیان سے کہا! انہیں بیعت پر مجبور کرو اور پوری سختی کرو، ولید نے حکم پورا کیا مگر اسے اپنے منہ کی کھانی پڑی۔ امام حسین نے دانش مندی اور سیاسی تدبرسے جواب دیا کہ میرے ایسے شخص کی بیعت کو کافی نہ سمجھو گے، جب یہ معاملہ مجمع عام میں رکھو گے تو مجھ سے مطالبہ کرنا (الطبری 188/6، الکامل 264/3، بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ، پنجاب ص 326/8)

دوسرے دن امام حسین مدینہ سے مکہ تشریف لائے، مکے میں عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ کا اثرورسوخ ہونے کے باوجود لوگوں کا ہجوم آپ کے پاس اکھٹا ہوگیا۔ حتی کہ لوگوں نے بیعت کے لئے پیشکش بھی کی مگر امام نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا۔ کیونکہ وہ امت میں فساد نہیں چاہتے تھے۔ اگر آپ بیعت کرلیتے تو حضرت عبداﷲ بن زبیر کی جانب سے ردعمل سامنے آسکتا تھا۔ اس لئے آپ نے یہاں بھی حسن تدبیر سے کام لیا اور خاموشی میں بہتری سمجھی (البدایہ 143/8)

دوسری جانب کوفے میں یزید کے خلاف بدامنی پھیل گئی۔ اہل کوفہ کی جانب سے پیہم خطوط آنا شروع ہوگئے۔ انہوں نے آپ کو اپنا قائد، امام تسلیم کرنے اور آپ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ امام حسین کے سامنے یہاں کئی چیزیں تھیں، ایک طرف قوم خود بخود ظالم و جابر حکمران کے ظلم و زیادتی سے تنگ آکر دوسری قیادت و خلافت کا مطالبہ کررہی ہے۔ جبکہ دوسری طرف کوفیوں کی سابقہ بدعہدی اور بے وفائی کی داستان بھی امام کے پیش نظر تھی۔ اور ان کی بے وفائی کی وجہ سے صحابہ کرام بھی شدت کے ساتھ منع کررہے تھے۔ اس دوراہے پر امام حسین نے جس دانش مندی، دوربینی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ہے، دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ امام حسین کو نہ سیاسی اقتدار کی خواہش تھی اور نہ خلافت و بیعت کا شوق تھا، ورنہ آپ مکے ہی میں لوگوں کی پیشکش قبول کرچکے ہوتے مگر ایسا نہیں کیا۔ لیکن جب آپ کو یقین ہوگیا کہ امت فساد کا شکار ہوچکی ہے، ان پر ظلم و زیادتی کی ایسی انتہا ہوچکی ہے کہ اب وہ بہ زبان خود دوسری قیادت کا مطالبہ کررہی ہے، اس لئے اس وقت امت کو شروفساد سے محفوظ کرنے کے لئے کھڑا ہونا گویا واجب ہوچکا تھا اور تیسری طرف یزید کا کیا عالم تھا، مندرجہ ذیل تصریحات پڑھیئے

ظہر فسق یزید عندالکافۃ من اہل عصرہ… (مقدمہ ابن خلدون ص 180) یزید کا فسق وفجور تمام اہل زمانہ پر آشکارا ہوگیا۔

یعنی مروی ہے کہ یزید سرور ونغمہ، شراب نوشی اور سیروشکار کے لئے مشہور تھا۔ نوعمر لڑکوں، گانے والیوں اور کتوں کو اپنے گرد جمع رکھتا تھا۔ لڑاکا مینڈھوں، سانڈھوں اور بندروں کے درمیان لڑائی کا مقابلہ کرواتا تھا۔ ہر دن صبح کے وقت مخمور رہتا تھا۔ زین کسے ہوئے گھوڑوں پر بندروں کو اسی سے بندھوا دیتا تھا اور ادھر ادھر پھرواتا تھا، بندروں اور نوخیز لڑکوں کو سونے کی ٹوپیاں پہناتا تھا، گھوڑوں کے درمیان دوڑ کا مقابلہ کرواتا تھا اور جب کوئی بندر مرجاتا تو اس کا سوگ مناتا تھا۔ (البدایہ والنہایہ، ابن کثیر)

ابن کثیر مزید فرماتے ہیں۔

یزید کے اندر شہوتوں کی طرف میلان بھی زیادہ تھا اور بعض نمازیں ترک کرنے اور اکثر اوقات انہیں نذر غفلت کردینے کا عادی تھا۔

ایسی رستہ خیز اور قیامت آشوب دور میں امام حسین کے لئے امت کو ایسی قیادت فراہم کرنا واجب ہوگیا تھا جو یزیدی عہد حکومت کے مفاسد کی اصلاح اور ملت کی تطہیر کا فریضہ انجام دیتی اور سلطان جائر (یزید) کے سامنے کلمہ حق کی آواز بلند کرتی اور اس قیادت کی سب سے زیادہ اہلیت آپ کے اندر تھی۔

ابن کثیر لکھتے ہیں : لانہ السید الکبیر، وابن بنت رسول اﷲﷺ فلیس علی وجہ الارض یومئذ احد یسامیہ ولایساویہ، ولکن الدولۃ الیزیدیۃ کانت کلھا تناوئہ (البدایۃ 144/8)

ابن خلدون رقم طراز ہیں : فاما الاہلیۃ فکانت کماظن وزیادۃ (ابن خلدون / مقدمہ 180)

یعنی جہاں تک اہلیت و صلاحیت کا تعلق ہے تو وہ بلاشک و شبہ ان میں تھی جیسا کہ ان کا گمان بلکہ اس سے بھی زیادہ تھی۔

خود امام حسین نے قادسیہ کے راستے سے کربلا کی طرف پلٹتے وقت جو تاریخی خطبہ دیا ہے، اقدام کا پس منظر سمجھنے کے لئے خطبے کا حرف حرف ضمانت ہے

ترجمہ: لوگو! رسول اﷲﷺ نے فرمایا کہ جو شخص کسی ظالم بادشاہ کو دیکھے کہ اس نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال کرلیا ہے۔ پیمانہ الٰہی کو توڑ رہا ہے، سنت نبوی کی مخالفت کررہا ہے، اﷲ کے بندوں کے ساتھ ظلم و زیادتی کا معاملہ کرتا ہے، ایسی صورت حال میں بھی وہ اپنے قول و عمل سے شر کو نہ مٹائے تو اﷲ کا حق ہے کہ وہ اس کو اس کے ٹھکانے تک پہنچادے۔ (ابن اثیر الکامل فی التاریخ 40/4)

خبردار ہوجائو! ان لوگوں (یزیدیوں) نے اپنے اوپر شیطان کی پیروی لازم کرلی ہے۔ خدا کی عبادت ترک کردی ہے ،ہر طرف فساد برپا کردیا ہے ،شرعی حدود کو معطل کردیا ہے ،سرکاری مال اپنے مفاد پر خرچ کررہے ہیں اور اﷲ کے حرام کو حلال اور اس کے حلال کوحرام کردیا ہے اور سن لو! ان مفاسد اور شر کو مٹانے کا میں سب سے زیادہ حق دار ہوں۔

گویا امام حسین کے سامنے پہلے نکتے کے تحت دوسری قیادت فراہم کرنے کے سارے شرعی و عصری تقاضے فراہم ہوچکے تھے، مگر دوسری طرف کوفے والوں کی بدعہدی بھی ایک زمینی حقیقت تھی، اسی وجہ سے صحابہ کرام منع بھی کررہے تھے اور بہت سے ان میں مجتہد بھی تھے۔ چنانچہ امام حسین نے اسی پورے معاملے کی انکوائری کرنے کے تجرباتی طور پر مسلم بن عقیل کو اپنا نائب بنا کر کوفہ روانہ کیا تاکہ صحابہ کا گمان بھی غلط نہ ہو اور اقدام کے لئے اتمام حجت بھی ہوجائے۔

چنانچہ امام مسلم بن عقیل کوفہ روانہ ہوگئے اور تقریبا 18 ہزار کوفیوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی، اس کے بعد امام مسلم بن عقیل نے کوفہ والوں کی وفائی کا توثیق نامہ لکھ کر امام حسین کو تشریف لانے کی دعوت دی (البدایہ والنہایہ 144/8)

امام مسلم کے خط سے گویا صحابہ کرام کو ظاہری اطمینان بھی ہوگیا اور امام حسین نے تجرباتی طور پر اتمام حجت بھی کرلی، اس لئے خط ملتے ہی آپ اہل وعیال کے ساتھ کوچ کرگئے۔ امام حسین کے پاس اہلیت تو تھی ہی ساتھ ہی طاقت و شوکت بھی ان کے پاس تھی، یہاں امام طبری نے ایک نہایت کچی بات کی ہے کہ امام حسین کے پاس دنیاوی شوکت نہیں تھی۔

امام حسین سے شرعی لغزش تو نہیں ہوئی، جہاں تک قوت و شوکت کا تعلق ہے، تو اس کے سمجھنے میں غلطی ہوئی، اﷲ ان پر رحم فرمائے‘‘ (مقدمہ ابن خلدون ص  181)

امام طبری کی بات کی ناپختگی کی وجہ یہ ہے کہ جن کوفیوں نے امام مسلم بن عقیل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی انہوں نے تو دراصل امام حسین کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وہ پوری فوج امام کی فوج تھی۔ امام کے حکم پر کچھ بھی کرسکتی تھی، اس لئے امام کو دنیاوی شوکت بھی حاصل تھی۔ ممکن ہے طبری کو یہ غلط فہمی اس وجہ سے ہوئی ہو کہ جس وقت امام حسین خروج کررہے تھے، ان کے پاس کوئی دنیاوی شوکت و طاقت نہیں تھی تو پہلی بات تو یہ ہے کہ امام کسی جنگ کے ارادے سے نکل ہی نہیں رہے تھے کہ ان کے پاس لشکر جرار ہونا ضروری تھا ورنہ ان کے ساتھ چند نفوس قدسیہ مع اہل خانہ نہیں ہوتے اور تاریخ یہ ثبوت پیش کرنے سے بھی قاصر ہے کہ انہوں نے مکے اور مدینے والوں میں کسی فرد کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی تھی اور اگر مان لیا جائے کہ یزید کی طرف سے ان سے جنگ بھی ہوسکتی تھی، تو امام حسین کے 18 ہزار کوفی وفادار دفاع کرنے کے لئے کافی تھے۔ گویا امام کو اپنی دنیاوی شوکت کا بھرپور اندازہ تھا۔ یہاں یہ نکتہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ جنگ کے لئے قائد کا بذات خود وہاں موجود ہونا ضروری نہیں۔ صرف اس کا حکم ہونا ضروری ہے لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ پوری فوجی طاقت تو دراصل قائد کی ہی ہوتی ہے۔ ان نکات کو پیش نظر رکھ کر امام طبری کے نظریئے کا تجزیہ کیجئے اور بے لاگ ہوکر فیصلہ کیجئے۔

فریب ہی فریب

امام عالی مقام مکہ سے کوفے کے لئے نکلے تھے مگر ایک سچی سمجھی سازش کے تحت قادسیہ کے آگے مقام ذوحشم میں حربن یزید نے امام کو محاصرہ میں لے لیا اور کوفے کی بجائے کربلا تک پہنچادیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 328/8)

مقام ذو حشم میں امام نے حر وغیرہ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ میں تمہارے دعوتی خطوط پر آیا ہوں، مجھے تمہارے قول و قرار پر یقین ہے، اس لئے اطاعت کرلو، ورنہ میں جہاں سے آیا ہوں مجھے جانے دو، لیکن مجھے بیعت یزید ہرگز قبول نہیں (مرجع سابق 328/8)

اسی طرح کربلا تک لوگوں سے ملاقات رہی، لوگوں نے سوالات کئے مگر امام نے یہی جواب دیا کہ میں تمہارے دعوتی خطوط کی بنیاد پر آیا ہوں۔ جب آپ میدان کربلا پہنچے تو کوفے کا سارا نقشہ بدل چکا تھا، جنہوں نے حسینی ہونے اور اپنی وفاداری کی قسمیں کھائی تھیں، اب وہ اپنے قسموں کے پیمانے توڑ چکے تھے اور سامنے یزیدیوں کا ایک لشکر جرار موجود تھا، عمر بن سعد کو ابن زیاد نے حکم دے دیا تھا کہ یا تو حسین سے بیعت کرلو یا انہیں قتل کردو۔ امام حسین کو صرف کربلا ہی میں نہیں راستے ہی میں یقین ہوچکا تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، لیکن آپ نے ہر موقع پر امت کو یزید کے ظلم و جور سے بچانے کے لئے ان کے عہد ناموں کی یاد دہانی کرائی اور عزیمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہاں تشریف لائے مگر قوم نے ساتھ نہ دیا۔ جب کربلا میں یہ امر واضح ہوگیا کہ ان پر جنگ مسلط کی جاچکی ہے اور عمرو بن سعد جبراً بیعت لینا چاہتا ہے تو آپ نے اولا بیعت سے انکار کیا اور پھر اصول جنگ کے مطابق دو بنیادی تجویزیں پیش کیں۔

(1) یا تو وہ جہاں سے آئے ہیں وہیں جانے دیا جائے۔

(2) یا انہیں چھوڑ دیا جائے کہ وہ وسیع و عریض زمین میں جہاں چاہیں نکل جائیں (البدایہ 166/8)

مگر ان کی کوئی تجویز منظور نہیں کی گئی اور یہ جبرواکراہ جنگ پر مجبور کیا گیا۔

بعض مورخین نے یہاں امام حسین کی تیسری تجویز یہ نقل کی ہے کہ آپ نے یہ کہا کہ مجھے یزید کے پاس جانے دیا جائے، تاکہ میں اس کے ہاتھ پر بیعت کرلوں، اس تجویز کی تردید و تضعیف کے لئے کربلا کے واقعات کے عینی شاہد، امام عالی مقام کے رفیق سفر اور تمام مورخین کے مستند راوی عقبہ بن سمعان کا صرف یہ قول نقل کردینا کافی ہے:

لقد صحبت الحسین من مکۃ الی حین قتل، واﷲ مامن کلمۃ قالہا فی موطن الاوقد سمعتہا، وانہ لم یسال ان یذہب الی یزید فیضع یدہ الی یدہ ولا ان یذہب الی ثغرمن الشغور، ولکن طلب منہم احد امرین، امام ان یرجع من حیث جائ، وامام ان یدعوہ، یذہب فی  الارض العریضۃ حتی ینظر یایصیر امر الناس الیہ (البدایۃ لابن کثیر 166/8، دارالحدیث القاہرہ 1998ئ)

کیا یہ حیرت انگیز بات نہیں کہ امام نے ہمیشہ سے جن نظریئے کی تردید کی ہو، وہ کربلا میں جاکر اسی کو گلے لگالیا؟ اگر یہ تجویز سامنے آچکی تھی تو یزیدیوں کا جنگ کے لئے تیار ہونا، چہ معنی دارد؟ کیوں کہ وہ تو اسی کے لئے لڑنے آئے تھے۔

ایک طائرانہ نظر

آپ دور معاویہ رضی اﷲ عنہ کے آغاز سے لے کر شہادت امام عالی مقام تک نظر ڈالیں تو فکرونظر کی کشمکش ہر جگہ نظر آتی ہے، مگر امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے نظریاتی کشمکش صحیح ودرست تھے کیونکہ وہ خود مجتہد تھے۔ اس لئے ان کا اجتہاد بھی درست تھا مگر یزیدی دور میں یزید صالح و طاہر آدمی نہیں تھا بلکہ وہ فاسق معلن تھا اور امام عالی مقام کو اسی ظالم و جابر کی بیعت لینے پر مجبور کیا جاتا رہا، مگر انہوں نے بھی اس باطل نظریئے کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ کیوں کیا؟ گفتگو ہوچکی ہے اور اس نظریئے کے لئے وہ آخر تک جدوجہد کرتے رہے، اس کے لئے انہوں نے وفا پیشہ جاں نثاروں سمیت ریگزار کربلا پر اپنا آخری سجدہ کرنا گوارا تو کرلیا مگر ایک نادرست اور غیر اسلامی نظریئے کو باطل کے سامنے سجدہ ریز ہونے نہیں دیا۔ امام حسین کی یہ نظریاتی جیت دراصل اسلام، ایمان اور یقین کی ایک فکری جیت تھی اور باطل فکرکی ایک ناقابل تردید شکست فاش

ولادت

امام حسین رضی اﷲ عنہ کی ولادت عام شہرت کے مطابق شعبان 4ھ / جنوری 26ء کو مدینہ طیبہ میں ہوئی (تاریخ طبری 39/3)

نبی کریمﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی۔ منہ میں لعاب دہن ڈالا اور پھر آپ کے لئے بارگاہ خداوندی میں دعا فرمائی۔ ساتویں دن آپ کا نام حسین رکھا اور اسی دن عقیقہ کیا۔ آپ کی کنیت ’’ابوعبداﷲ‘‘ اور لقب ’’سبط الرسول‘‘ اور ’’ریحانتہ الرسول‘‘ ہے۔ آپ کی صحابیت پر امت کا اجماع ہے، اسی وجہ سے امام بخاری سمیت دیگر جمہور محدثین نے صحابیت کے لئے بلوغ کی قید کو مردود قرار دیا ہے، کیونکہ حسنین رضی اﷲ عنہما کی صحابیت مسلمات سے ہے اور دلیل و حجت مسلمات سے ہی قائم کی جاتی ہے۔

فضائل و کمالات

امام حسین رضی اﷲ عنہ نے جس گھر اور جس ماحول میں آنکھ کھولی تھی، وہ گھرانہ علم وحکمت کا مخزن، فضل و کمال کا سرچشمہ اور پورا ماحول انوار نبوت سے روشن تھا۔ جہاں ہر وقت قال اﷲ وقال رسول اﷲ کی صدائیں بلند ہوئی تھیں، جہاں گرتوں کو اٹھانے، محتاجوں کی دستگیری کرنے اور دنیا سے غلامی کے خاتمے کا درس بھی دیا جاتا تھا اور اس کو عملی جامہ بھی پہنایا جاتا تھا اور پھر امام حسین تو اہل بیت نبوت کے خاص جوہر تھے، جن پر فیضان نبوت کی ہمیشہ بارش ہوا کرتی تھی، بیک وقت کئی پاکیزہ نفوس کی صحبت نے آپ کے ظاہر وباطن کو ایسا شفاف آئینہ بنادیا تھا کہ اس پر میل و کچیل تو کجا گردوغبار کا شائبہ بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ امام حسین رضی اﷲ عنہ کی پاکیزہ ذات و صفات کے لئے رسول اﷲﷺ نے فرمایا ’’حسین منی وانا من الحسین، احب اﷲ من احب حسینا، حسین سبط من الاسباط‘‘ (ترمذی ج 2،ص 218، ایچ ایم سعید کمپنی ادب منزل پاکستان)

حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں جو حسین کو محبوب رکھتا ہو وہ اﷲ کو محبوب رکھتا ہے، حسین فرزندوں میں ایک فرزند ہیں۔

ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ، حضرت فاطمہ زہرا رضی اﷲ عنہا کے گھر تشریف لائے اور حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسین کریمین رضی اﷲ عنہم سب کو چادر میں لے کر فرمایا ۔ اللھم ہؤلاء اہل بیتی، اللھم اذہب عنہم الرجس وطہرم تطہیرا اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی

انما یرید اﷲ لیذہب عنکم الرجس اہل البیت ویطہر کم تطہیرا (احزاب 33)

اﷲ تو یہی چاہتا ہے اے (رسول کے) گھر والو! کہ تم سے ہر ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں خوب خوب کرکے صاف ستھرا رکھے۔

یہ آیت اہل بیت نبوت کے فضائل کا منبع ہے اور آیت میں متعدد کلمات حصر سے پتا چلتا ہے کہ اس سے معمولی طہارت مراد نہیں، بلکہ سب سے عہدہ اور نہایت اعلیٰ اور غیر معمولی قسم کی پاکیزگی مراد ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اہل بیت کو اﷲ تعالیٰ نے ہر طرح کی اعتقادی عملی، اخلاقی اور دیگر ناپاکیوں اور برائیوں سے پاک و منزہ فرماکر ان کے ظاہر و باطن کو وہ عظیم مقام عطا فرمایا جس کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز اور فائق ہیں، لہذا اس آیت قرآنی پر ایمان رکھتے ہوئے یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ آپ کا قلب مبارک حبُ جاہ و مال اور ہوس اقتدار اور تمام رذائل دنیا سے پاک اور مبرا تھا (امام پاک اور یزید پلید ص 236)

حضورﷺ نے حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام پر گفتگو کے لئے نجران کے وفد کے پاس مباہلے کے لئے حضرت حسنین کریمین حضرت فاطمہ، حضرت علی رضی اﷲ عنہم کو لے کر باہر تشریف لارہے تھے، یہ نورانی صورتیں دیکھ کر لاٹ پادری نے کہا! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں جن کی دعا پہاڑوں کو ان کی جگہ سے سرکا سکتی ہے۔ ان سے مباہلہ کرکے ہلاک نہ ہو، چنانچہ یہودیوں نے اپنا ارادہ ترک کردیا (اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8)

امام حسین قرآن کریم کے مطالب اور رسول اﷲﷺ کی احادیث بیان فرماتے تھے۔ عبادت و ریاضت آپ کا معمول تھا، بہ کثرت نوافل پڑھتے تھے، قیام اللیل آپ کا عام دستور تھا۔ روزے بہ کثرت رکھا کرتے تھے اور سادہ غذا سے افطار کیا کرتے تھے، پچیس حج کئے۔ رمضان المبارک میں کم از کم ایک مرتبہ قرآن مجید ضرور ختم کرتے (سیر اعلام النبلا للذہبی 196/3 بحوالہ اردو دائرہ معارف اسلامیہ 325/8، دانش گاہ، پنجاب لاہور)

حضرت جابر بن عبداﷲ فرماتے ہیں کہ میں حجتہ الوداع میں عرفہ کے دن حضورﷺ کو ناقہ قصواء پر خطبہ فرماتے ہوئے سنا کہ

یاایھا الناس انی ترکت فیکم ما ان اخدتم بہ لن تضلوا کتاب اﷲ وعترتی اہل بیتی (ترمذی باب مناقب الحسن والحسین ج 218/2)

اے لوگو! بے شک میں نے تم میں دو چیز چھوڑی ہے اگر اس کو مضبوطی سے پکڑے رہو گی تو گمراہ نہیں ہوگے۔ وہ کتاب اﷲ (قرآن مجید) اور میری عترت میرے اہل بیت ہیں۔

حضرت زید بن ارقم فرماتے ہیں کہ حضورﷺ نے حضرت علی، فاطمہ، حسن و حسین رضی اﷲ عنہم کے متعلق فرمایا

انا حرب لمن حاربہم وسلم لمن سالہم

جو ان سے لڑے، میں ان سے لڑنے والا ہوں اور جو ان سے صلح رکھے، میں ان سے صلح رکھنے والا ہوں۔

حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں۔ حضورﷺ نے فرمایا

من سرہ ان ینظر الی رجل من اہل الجنۃ فی لفظ الی سید شباب اہل الجنۃ فلینظر الی الحسین بن علی (ابن عساکر)

جو کسی جنتی مرد کو دیکھ کر خوش ہونا چاہے، اور ایک روایت کے الفاظ میں ہیں، جو کسی جنتی نوجوانوں کے سردار کو دیکھ کر خوش ہو تو وہ حسین بن علی کو دیکھ لے۔

اﷲ و رسول کے ارشادات سے ثابت ہوا کہ اہل بیت کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے، امام حسین رضی اﷲ عنہ خدا اور رسول کے محبوب و مقبول اور جنتی جوانوں کے سردار ہیں۔ آپ سے محبت گویا ایمان کی پہچان ہے اور آپ سے بغض گمرہی کی نشانی۔ آپ کے فضائل و مناقب خیالی ہی نہیں بلکہ حقیقی ہیں، جن کے تذکرے سے اہل ایمان کے دلوں کو جلا اور روح کو تازگی ملتی ہے۔

ماتم کی ابتداء اور اس کا شرعی حکم

ماتم کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

 علامہ مفتی محمد نصر اللہ صاحب آسوی

مصیبت پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اپنی مصیبت یا مصائب اہل بیت کو یاد کرکے ماتم کرنا یعنی ہائے ہائے، واویلا کرنا، چہرے یا سینے پر طمانچے مارنا، کپڑے پھاڑنا، بدن کو زخمی کرنا، نوحہ و جزع فزع کرنا، یہ باتیں خلاف صبر اور ناجائز و حرام ہیں۔ جب خود بخود دل پر رقت طاری ہوکر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلیں اور گریہ آجائے تو یہ رونا نہ صرف جائز بلکہ موجب رحمت و ثواب ہوگا۔ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔

ولاتقولوا لمن یقتل فی سبیل اﷲ اموات بل احیاء ولٰکن لاتشعرون

اور جو خدا کی راہ میں مارے جائیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہاں تمہیں خبر نہیں (سورۃ البقرہ آیت 154)

ماتم تو ہے ہی حرام، تین دن سے زیادہ سوگ کی بھی اجازت نہیں ہے

حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اﷲﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ جو عورت اﷲ اور آخرت پر ایمان لائی ہو، اس کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔ البتہ اپنے خاوند کی (موت پر) چار ماہ دس دن سوگ کرے (بخاری حدیث 299، الکتاب الجنائز، مسلم، حدیث 935، مشکوٰۃ حدیث 3471 کتاب الجنائز)

امام حضرت امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں:

لیس لاحد ان یعداً اکثر من ثلاثۃ ایام الا المراۃ علی زوجہا حتی تنقضی عدتہا

کسی مسلمان کو کسی کی موت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرنا سوائے عورت کے کہ وہ عدت کے ختم ہونے تک اپنے خاوند کی موت پر سوگ کرسکتی ہے

(من لایحضرہ الفقیہ ج 1)

اس حدیث سے ان لوگوں کو عبرت حاصل کرنی چاہئے جو ہر سال حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سوگ مناتے ہیں اور دس دن سینہ کوبی کرتی ہیں۔ چارپائی پر نہیں سوتے، اچھا لباس نہیں پہنتے اور کالے کپڑے پہنتے ہیں۔ ہاں ایصال ثواب کرنا ان کی یاد منانا اور ذکر اذکار جائز ہے، یہ سوگ نہیں ہے۔

مسلمانوں کا شرف یہ ہے کہ صابر اور شاکر ہو

خیال و فعل میں حق ہی کا شاغل اور ذاکر ہو

حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ زینب بنت رسول  اﷲﷺ فوت ہوئیں تو عورتیں رونے لگیں تو حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنے کا ارادہ کیا تو انہیں حضورﷺ نے اپنے ہاتھ سے ہٹایا اور فرمایا: اے عمر چھوڑو بھی پھر فرمایا: اے عورتوں شیطانی آواز سے پرہیز کرنا پھر فرمایا:

مہما یکن من القلب والعین فمن اﷲ عزوجل ومن الرحمۃ ومہما کان من الید واللسان فمن الشیطان

جس غم کا اظہار آنکھ اور دل سے ہو، وہ اﷲ کی طرف سے ہے اور رحمت ہے اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو، وہ شیطان کی طرف سے ہے (مشکوٰۃ کتاب الجنائز باب البکاء علی المیت 1748) احمد حدیث 3093

حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:

لیس منا من ضرب الخد وشق الحیوب ودعا بدعوی الجاہلیۃ

وہ ہم میں سے نہیں جو منہ پیٹے، گریبان پھاڑے اور ایام جاہلیت کی طرح چیخ و پکار کرے (بخاری حدیث 1297، مسلم حدیث 103، مشکوٰۃ حدیث 1725، کتاب الجنائز باب البکائ)

یعنی میت وغیرہ پر منہ پیٹنے، کپڑے پھاڑنے، رب تعالیٰ کی شکایت، بے صبر کی بکواس کرنے والی ہماری جماعت یا ہمارے طریقہ والوں سے نہیں ہے۔ یہ کام حرام ہیں۔ ان کاکرنے والا سخت مجرم۔ یہ عام میت کا حکم ہے لیکن  شہید تو بحکم قرآن زندہ ہیں، انہیں پیٹنا تو اور زیادہ جہالت ہے۔

حضرت ابو مالک اشعری رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:

میری امت میں زمانہ جاہلیت کی چار چیزیں ہیں جن کولوگ نہیں چھوڑیں گے، حسب و نسب پر فخر کرنا، دوسرے شخص کو نسب کا طعنہ دینا، ستاروں کو بارش کا سبب جاننا اور نوحہ کرنا اور نوحہ کرنے والی اگر مرنے سے پہلے توبہ نہ کرے تو اسے قیامت کے دن گندھک اور جرب کی قمیص پہنائی جائے گی (مسلم حدیث 934، مشکوٰۃ حدیث 1727، کتاب الجنائز باب البکائ) (شیعوں کی معتبر کتاب، حیات القلوب، ملا باقر مجلسی جلد 2، ص 677)

میت کے سچے اوصاف بیان کرنا ندبہ ہے اور اس کے جھوٹے بیان کرنا نوحہ ہے۔ ندبہ جائز ہے نوحہ حرام ہے۔ گندھک میں آگ بہت جلد لگتی ہے اور سخت گرم بھی ہوتی ہے اور جرب وہ کپڑا ہے جو سخت خارش میں پہنایا جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے نائحہ پر اس دن خارش کا عذاب مسلط ہوگا کیونکہ وہ نوحہ کرکے لوگوں کے دل مجروح کرتی تھی تو قیامت کے دن اسے خارش سے زخمی کیا جائے گا (مراۃ جلد 2، ص 503)

دو کفریہ کام

حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:

اثنتان فی الناس ہما بہم کفر: الطعن فی النسب والنیاحۃ علی المیت

لوگوں میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ کفر میں مبتلا ہیں، کسی کے نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا (مسلم حدیث 67، کتاب الایمان)

اس حدیث میں میت پر نوحہ کرنے کو کفر قرار دیا گیا ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ حلال سمجھ کر میت پر نوحہ کرنا کفر ہے اور اگر اس کام کو برا سمجھ کر کیا جائے تو یہ حرام ہے۔

دو ملعون آوازیں

حضرت انس رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا:

صوتان ملعونان فی الدنیا والاخرۃ مزمار عند نعمۃ ورنۃ عند مصیبۃ

دو آوازوں پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی ہے۔ نعمت کے وقت گانا بجانا اور مصیبت کیوقت چلا کر آواز بلند کرنا یعنی نوحہ اور ماتم وغیرہ (بزار حدیث 795، ترغیب امام منذری کتاب الجنائز حدیث 5179)

حضرت ابو ہریرہ رضی اﷲ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: نوحہ کرنے والی عورتوں کی جہنم میں دو صفیں بنائی جائیں گی۔ ایک صف ان کے دائیں طرف اور ایک صف ان کے بائیں طرف تو وہ عورتیں دوزخیوں پر کتوں کی طرح بھونکیں گی (طبرانی فی الاوسط ترغیب امام منذری کتاب الجنائز حدیث 5182)

ماتم کی ابتداء کس نے کی تھی؟

سب سے پہلے ابلیس نے ماتم کیا تھا: علامہ شفیع بن صالح شیعی عالم لکھتے ہیں کہ شیطان کو بہشت سے نکالا گیا تو اس نے نوحہ (ماتم) کیا۔ حدیث پاک میں ہے کہ غناء ابلیس کا نوحہ ہے۔ یہ ماتم اس نے بہشت کی جدائی میں کیا۔ اور رسول اﷲﷺ نے فرمایا: ماتم کرنے والا کل قیامت کے دن کتے کی طرح آئے گا اور آپ نے یہ بھی فرمایا: کہ ماتم اور مرثیہ خوانی زنا کا منتر ہے۔ (شیعہ کی معتبر کتاب مجمع المعارف حاشیہ حلیۃ المتقین، ص 142، ص 162، اور حرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)

امام حسین رضی اﷲ عنہ کا پہلا باقاعدہ ماتم کوفہ میں آپ کے قاتلوں نے کیا (جلاء الیون ص 424-426 مطبوعہ ایران)

پھر دمشق میں یزید نے اپنے گھر کی عورتوں سے تین روزہ ماتم کرایا (جلاء العیون ص 445 مطبوعہ ایران)

ابن زیاد نے آپ کے سر مبارک کو کوفہ کے بازاروں میں پھرایا۔ کوفہ کے شیعوں نے رو رو کر کہرام برپا کردیا۔ شیعوں کی اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ کوفہ والوں کو روتا دیکھ کر سیدنا امام زین العابدین نے فرمایا:

ان ہولاء یبکون علینا فمن قتلنا غیرہم

یہ سب خود ہی ہمارے قاتل ہیں اور خود ہی ہم پر رو رہے ہیں ۔

(احتجاج طبرسی، جلد 2، ص 29)

حضرت سیدہ طاہرہ زینب نے فرمایا: کہ تم لوگ میرے بھائی کو روتے ہو؟ ایسا ہی سہی۔ روتے رہو، تمہیں روتے رہنے کی کھلی چھٹی ہے۔ کثرت سے رونا اور کم ہنسنا۔ یقینا تم رو کر اپنا کانا پن چھپا رہے ہو۔ جبکہ یہ بے عزتی تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم آخری نبی کے لخت جگر کے قتل کا داغ آنسوئوں سے کیسے دھو سکتے ہو جو رسالت کا خزانہ ہے اور جنتی نوجوانوں کا سردار ہے (احتجاج طبرسی ج 2، ص 30)

اسی طرح شیعہ کی کتاب مجالس المومنین میں لکھا ہے کہ کوفہ کے لوگ شیعہ تھے (مجالس المومنین ج 1، ص 56)

کیا شیعوں نے امام حسین کو چھوڑ دیا تھا؟

امام حسین رضی اﷲ عنہ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کرکے فرمایا: کہ مجھے خبر ملی ہے کہ مسلم بن عقیل کو شہید کردیا گیا ہے اور شیعوں نے ہماری مدد سے ہاتھ اٹھالیا ہے جو چاہتا ہے ہم سے الگ ہوجائے، اس پر کوئی اعتراض نہیں (جلاء العیون ص 421، مصنفہ ملا باقر مجلسی، منتہی الاعمال مصنفہ شیخ عباس قمی ص 238)

مذکورہ بالا خطبہ سے معلوم ہوگیا کہ قاتلان حسین شیعہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ علمائے شیعہ نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے۔ ملا خلیل قدوینی لکھتا ہے: ان کے (یعنی شہدائے کربلا کے) قتل ہونے کا باعث شیعہ امامیہ کا قصور ہے تقیہ سے (صافی شرح اصول کافی)

کیا امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل شیعہ تھے؟

ملا باقر مجلسی 150 خطوط کا مضمون بایں الفاظ تحریر کرتا ہے۔ ایں عریضہ ایست بخدمت جناب حسین بن علی از شیعان وفدویان و مخلصان آنحضرت)

ترجمہ: یہ عریضہ شیعوں فدیوں اور مخلصوں کی طرف سے بخدمت امام حسین بن علی رضی اﷲ عنہا (جلاء العیون ص 358)

ان تمام بیانات سے معلوم ہوا کہ امام حسین کے قاتل بھی شیعہ تھے اور ماتم کی ابتداء کرنے والے بھی شیعہ تھے اور ان ماتم کرنے والوں میں یزید بھی شامل تھا۔ اب اگر امام حسین کے غم میں رونے یا ماتم کرنے سے بخشش ہوجاتی ہے تو بخشش کا سرٹیفکیٹ کوفیوں کو بھی مل جائے گا اور یزیدیوں کو بھی مل جائے گا۔

بارہ اماموں کے عہد تک موجودہ طرز ماتم کا یہ انداز روئے زمین پر کہیں موجود نہ تھا۔ چوتھی صدی ہجری 352ھ میں المطیع اﷲ عباسی حکمران کے ایک مشہور امیر معزالدولہ نے یہ طریق ماتم و بدعات عاشورہ ایجاد کیں۔ اور دس محرم کو بازار بند کرکے ماتم کرنے اور منہ پر طمانچے مارنے کا حکم دیا اور شیعہ کی خواتین کو چہرہ پر کالک ملنے، سینہ کوبی اور نوحہ کرنے کا حکم دیا۔ اہل سنت ان کو منع کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے، اس لئے کہ حکمران شیعہ تھا۔ (شیعوں کی کتاب منتہی الاعمال، ج 1، ص 452، اور اہلسنت کی کتاب، البدایہ والنہایہ، ج 11، ص 243، تاریخ الخلفاء ص 378)

بے صبری کا انجام کیا ہوتا ہے؟

کتب شیعہ کی روشنی میں بیان کریں

حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:

ینزل الصبر علی قدر المصیبۃ ومن ضرب یدہ علی فخذیہ عند مصیبۃ حبط عملہ

صبر کا نزول مصیبت کی مقدار پر ہوتا ہے (یعنی جتنی بڑی مصیبت اتنا بڑا صبر درکار ہوتا ہے) جس نے بوقت مصیبت اپنے رانوں پر ہاتھ مارے تو اس کے تمام اچھے اعمال ضائع ہوگئے (شیعوں کی معتبر کتاب، نہج البلاغہ، ص 495، باب المختار من حکم امیر المومنین حکم 144) (شرح نہج البلاغہ لابن میثم ج 5، ص 588)

بے صبر کے پاس ایمان نہیں

امام زین العابدین رضی اﷲ عنہ نے فرمایا

الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الحسد ولاایمان لمن لا صبر لہ

صبر کا مقام ایمان میں ایساہے جیسا کہ سر کاآدمی کے جسم میں، اس کے پاس ایمان نہیں جس کے ہاں صبر نہیں ۔

(جامع الاخبار مصنفہ شیخ صدوق، ص 132 الفصل 71، فی الصبر)

فرمان امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ

الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الحسد فاذا ذہب الراس ذہب الجسد کذالک اذا ذہب الصبر ذہب الایمان

صبر کا ایمان سے ایسا تعلق ہے جیسا کہ جسم انسانی کے ساتھ سر کا، جب سر نہ رہے، جسم نہیں رہتا، اسی طرح جب صبر نہ رہے، ایمان نہیں رہتا (اصول کافی جلد 2، ص 87، کتاب الایمان والکفر باب الصبر)

عن ابی عبداﷲ علیہ السلام قال قال رسول اﷲﷺ ضرب المسلم یدہ علی فخذہ عند المصیبۃ احباط لاجرہ

امام جعفر صادق رضی اﷲ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا: مصیبت کے وقت مسلمان کا اپنے ہاتھ رانوں پر مارنا اس کے اجر وثواب کو ضائع کردیتا ہے۔ یعنی ماتم سے نیکیاں برباد ہوتی ہیں (فروع کافی جلد سوم، کتاب الجنائز باب الصبر والجزع)

کیا پیغمبر، امام یا شہید کا ماتم کرنا جائز ہے؟

جواب: کسی کا بھی ماتم جائز نہیں۔

نبی کریمﷺ نے اپنی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا کو فرمایا۔

اذا انامت فلا تخمشی علی وجہا ولاتنشری علی شعراً ولا تنادی بالویل والعویل ولاتقیمی علی نائحۃ

بیٹی جب میں انتقال کرجائوں تو میری وفات پر اپنا منہ نہ پیٹنا، اپنے بال نہ کھولنا اور ویل عویل نہ کرنا اور نہ ہی مجھ پر نوحہ کرنا (فروع کافی، جلد 5، ص 527، کتاب النکاح باب صفۃ مبایعۃ النبیﷺ، حیات القلوب، ج 2،ص 687، جلاء العیون ص 65)

نبی کریمﷺ کی وفات پر حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا

لولا انک امرت بالصبر ونہیت عن الجزع لانفدنا علیک ماء الشئون

یارسول اﷲ! اگر آپ نے ہمیں صبر کا حکم نہ دیا ہوتا اور ماتم کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو ہم آپ کا ماتم کرکے آنکھوں اور دماغ کا پانی خشک کردیتے۔ (شرح نہج البلاغہ لابن میثم شیعہ، ج 4، ص 409، مطبوعہ قدیم ایران)

کربلا میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کی اپنی بہن کو وصیت

یااختاہ اتقی اﷲ وتعزی بعزاء اﷲ واعلمی ان اہل الارض یموتون واہل السماء لایبقون جدی خیر منی وابی خیر منی وامی خیر منی واخی خیر منی ولی ولکل مسلم برسول اﷲﷺ اسوۃ فعزاً مابہذا ونحوہ وقال لہا یا اخیۃ انی اقسمت علیک فابری قسمی لاتشقی علی جیباً ولا تخمشی علی وجہا ولاتدعی علی بالویل والثبور اذا اناہلکت

حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ نے کربلا میں اپنی بہن سیدہ زینب کو وصیت کی فرمایا۔ اے پیاری بہن! اﷲ سے ڈرنا اور اﷲ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق تعزیت کرنا، خوب سمجھ لو۔ تمام اہل زمین مرجائیں گے اہل آسمان باقی نہ رہیں گے، میرے نانا، میرے بابا، میری والدہ اور میرے بھائی سب مجھ سے بہتر تھے۔ میرے اور ہر مسلمان کے لئے رسول اﷲﷺ کی زندگی اورآپ کی ہدایات بہترین نمونہ ہیں۔ تو انہی کے طریقہ کے مطابق تعزیت کرنا اور فرمایا: اے ماں جائی میں تجھے قسم دلاتا ہوں۔ میری قسم کی لاج رکھتے ہوئے اسے پورا کر دکھانا۔ میرے مرنے پر اپنا گریبان نہ پھاڑنا اور میری موت پر اپنے چہرہ کو نہ خراشنا اور نہ ہی ہلاکت اور بربادی کے الفاظ بولنا۔ (الارشاد للشیخ مفید ص 232، فی مکالمۃ الحسین مع اختہ زینب، اعلام الوریٰ ص 236 امرالامام اختہ زینب بالصبر، جلاء العیون جلد 2، ص 553 فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران، اخبار ماتم ص 399)

ملا باقر مجلسی لکھتے ہیں: کہ امام حسین نے میدان کربلا میں جانے سے پہلے اپنی بہن زینب کو وصیت فرمائی، اے میری معزز! بہن میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ جب میں اہل جفا کی تلوار سے عالم بقاء میں رحلت کرجائوں تو گریبان چاک نہ کرنا، چہرے پر خراشیں نہ ڈالنا اور واویلا نہ کرنا (جلاء العیون جلد 2، ص 553، فارسی مطبوعہ کتاب فروشے اسلامیہ ایران)

شاعر نے حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کی وصیت کو اپنے انداز میں پیش کیا

اﷲ کو سونپا تمہیں اے زینب و کلثوم

لگ جائو گلے تم سے بچھڑتا ہے یہ مظلوم

اب جاتے ہی خنجر سے کٹے گا میرا یہ حلقوم

ہے صبر کا اماں کے طریقہ تمہیں معلوم

مجبور ہیں ناچار ہیں مرضی خدا سے

بھائی تو نہیں جی اٹھنے کا فریاد وبکاء سے

جس وقت مجھے ذبح کرے فرقہ ناری

رونا نہ آئے نہ آواز تمہاری

بے صبروں کا شیوہ ہے بہت گریہ و زاری

جو کرتے ہیں صبر ان کی خدا کرتا ہے یاری

ہو لاکھ ستم رکھیو نظر اپنے خدا پر

اس ظلم کا انصاف ہے اب روز جزاء پر

قبر میں ماتمی کا انجام کیا ہوگا؟

قبر میں ماتمی کا منہ قبلہ کی سمت سے پھیر دیا جائے گا:

ایک روایت میں ہے رسول اﷲﷺ نے فرمایا: کہ سات آدمیوں کا قبر میں منہ قبلہ کی طرف سے پھیر دیا جاتا ہے۔

(۱) شراب بیچنے والا

(۲) شراب لگاتار پینے والا

(۳) ناحق گواہی دینے والا

(۴) جوا باز

(۵) سود خور

(۶) والدین کا نافرمان

(۷) ماتم کرنے والا (شیعہ کی معتبر کتاب، مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 168، درحرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)

گانا گانے والے اور مرثیہ خواں کو قبر سے

اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا

رسول اﷲﷺ سے منقول ہے کہ غنا کرنے والا اور مرثیہ خواں کو قبر سے زانی کی طرح اندھا اور گونگا کرکے اٹھایا جائے گا۔ اور کوئی گانے والا جب مرثیہ خوانی کے لئے آواز بلند کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ دو شیطان اس کی طرف بھیج دیتا ہے جو اس کے کندھے پر سوار ہوجاتے ہیں۔ وہ دونوں اپنے پائوں کی ایڑھیاں اس کی چھاتی اور پشت پر اس وقت تک مارتے رہتے ہیں۔ جب تک وہ نوحہ خوانی ترک نہ کرے (شیعہ کی معتبر کتاب: مجمع المعارف حاشیہ برحلیۃ المتقین ص 163، درحرمت غنا مطبوعہ تہران طبع جدید)

حضورﷺ نے فرمایا: میں نے ایک عورت کتے کی شکل میں دیکھی۔ کہ فرشتے اس کی دبر (پاخانے کی جگہ) سے آگ داخل کرتے ہیں اور منہ سے آگ باہر آجاتی ہے۔ اور فرشتے گرزوں کے ساتھ اس کے سر اور بدن کو مارتے ہیں۔ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا نے پوچھا۔ میرے بزرگوار ابا جان مجھے بتلایئے کہ ان عورتوں کا دنیا میں کیا عمل اور عادت تھی کہ اﷲ تعالیٰ نے ان پر اس قسم کا عذاب مسلط کردیا ہے۔ حضورﷺ نے فرمایا: کہ وہ عورت جو کتے کی شکل میں تھی اور فرشتے اس کی دبر میں آگ جھونک رہے تھے۔ وہ مرثیہ خواں، نوحہ کرنے والی اور حسد کرنے والی تھی (شیعہ کی معتبر کتاب، حیات القلوب جلد 2، ص 543، باب بست و چہارم در معراج آنحضرت، عیون اخبار الرضا جلد 2، ص 11، انوار نعمانیہ جلد 1، ص 216)

کیا ماتم سننے کی بھی ممانعت ہے؟

نہ صرف ماتم کرنے بلکہ سننے کی بھی ممانعت ہے حضرت ابو سعید خدری رضی اﷲ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ

لعن رسول اﷲﷺ النائحۃ والمستمعۃ

رسول اﷲﷺ نے نوحہ کرنے والی اور سننے والی پر لعنت فرمائی (ابو دائود حدیث 3128، مشکوٰۃ حدیث 732، کتاب الجنائز باب البکائ)

کیونکہ اکثر عورتیں ہی نوحہ کرتی ہیں اس لئے مونث کا صیغہ استعمال فرمایا تو جو مرد ہوکر نوحہ کرے تو وہ مرد نہیں زنانہ ہے۔

شیعہ حضرات کے شیخ صدوق نقل کرتے ہیں۔

نہی رسول اﷲ عن الرنۃ عند المصیبۃ ونہی عن النیاحۃ والاستماع الیہا

رسول اﷲﷺ نے بوقت مصیبت بلند آواز سے چلانے، نوحہ و ماتم کرنے اور سننے سے منع فرمایا (من لایحضرہ الفقیہ ج 4، ص 3)

ایک شبہ: فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کی بشارت دی۔

فاقبلت امراتہ فی صرۃ فصکت وجہہا

آپ کی بیوی چلانے لگیں، پس اپنا منہ پیٹ لیا (شیعہ ترجمہ) معلوم ہوا کہ ماتم کرنا حضرت سارہ کی سنت ہے۔

جواب: کوئی شیعہ اس آیت سے حضرت سارہ کا ماتم کے لئے پیٹنا ہرگز ثابت نہیں کرسکتا کیونکہ قدیم ترین شیعہ مفسر علامہ قمی کے مطابق مصکت پیٹنے کے معنی میں نہیں ہے۔ غطت ڈھانپنے کے معنی میں ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ حضرت سارہ عورتوں کی جماعت میں آئیں اور حیا سے اپنا چہرہ ڈھانپ لیا کیونکہ جبریل علیہ السلام نے انہیں اسحاق علیہ السلام کی پیدائش کی خوشخبری سنائی تھی (تفسیر قمی ج 2، ص 330)

اگر اب بھی تسلی نہ ہوئی تو شیعہ صاحبان کو چاہئے کہ ماتم شہداء کی بجائے بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری سن کر کرنا چاہئے تاکہ اپنے خیال کے مطابق سنت سارہ پر عمل پیرا ہوسکیں۔ اہل بیت کرام نے رسول اﷲﷺ کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے صبر کا مظاہرہ فرمایا۔ نہ خود ماتم کیا اور نہ کرنے کا حکم دیا اور ہم محب اہل بیت ہیں اور ان کے قول و فعل کو اپناتے ہوئے صبر کا اظہار کرتے ہیں اور جو رسول اﷲﷺ اور ائمہ کرام کے فرمان کو نہ مانے اور بے صبری کا مظاہرہ کرے وہ محب اہل بیت نہیں ہوسکتا۔

عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا اور مہندی، پنجہ، گھوڑا

اور تعزیہ نکالنے کا کیا حکم ہے

مہندی، پنجہ، گھوڑا ار تعزیہ نکالنا یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل ہے

کہا جاتا ہے کہ کربلا میں قاسم بن حسن رضی اﷲ عنہ کی شادی ہوئی تو حضرت قاسم نے مہندی لگائی مروجہ رسم مہندی نکالنے کی اسی کی نقل ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت مخفی نہیں کہ کربلا کا معرکہ خونی شادی کا موقع ہرگز نہ ہوسکتا تھا۔ نیز مہندی پانی میں ملا کر لگائی جاتی ہے اور اہل بیت کے لئے تو پانی بند تھا۔ یونہی پنجہ و گھوڑا نکالنا اور مروجہ تعزیہ بنانا یہ سب بدعت باطلہ اور انصاب میں داخل ہیں۔ ائمہ اہل بیت سے ان چیزوں کی قطعا کوئی سند نہیں ملتی۔ فی الحقیقت یزیدیوں نے صرف ایک دفعہ اہل بیت پر مظالم ڈھا کر کوفہ و دمشق کے بازاروں میں گھمایا تھا لیکن یہ لوگ ہر سال یزیدیوں کے کرتوتوں کی نقل بناکے گلی کوچوں میں گھماتے پھرتے ہیں۔ پھر اس پر دعوت محبت بھی۔ اﷲ ہدایت دے۔

عشرہ محرم میں سیاہ لباس پہننا ممنوع ہے

مذہب مہذب اہل سنت و جماعت میں علی العموم سیاہ لباس پہننا محض مباح ہے۔ نہ تو اس پر کسی قسم کا ثواب مرتب ہوتا ہے، نہ گناہ۔ البتہ ماتم کی غرض سے سیاہ کپڑے پہننا شرعا ضرور ممنوع ہے۔ شیعہ اثناء عشریہ کے مذہب میں ماتم کا موقع ہو یا نہ، ہر حال میں سیاہ لباس سخت گناہ و ممنوع و حرام ہے۔ پھر اسے ثواب جاننا بالکل الٹی گنگا بہانا اور شیعہ مذہب کے مطابق ڈبل گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ چنانچہ شیعہ لٹریچر کی انتہائی مستند کتب سے دلائل ملاحظہ ہوں۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲﷺ نے فرمایا

لا تلبسوا لباس اعدائی

میرے دشمنوں کا لباس مت پہنو اور میرے دشمنوں کے کھانے مت کھائو اور میرے دشمنوں کی راہوں پر مت چلو، کیونکہ پھر تم بھی میرے دشمن بن جائو گے جیسا کہ وہ میرے دشمن ہیں۔ اس کتاب کا مصنف (شیخ صدوق شیعی) کہتا ہے کہ رسول اﷲﷺ کے دشمنوں کا لباس، سیاہ لباس ہے۔

(عیون اخبار الرضا، شیخ صدوق باب 30، الاخبار المنشور حدیث 51)

شیعہ حضرات کے یہی صدوق رقم طراز ہیں:

حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ

لا تلبسوا السواد فانہ لباس فرعون

سیاہ لباس نہ پہنا کرو کیونکہ سیاہ لباس فرعون کا لباس ہے۔ (من لایحضرہ الفقیہ، شیخ صدوق باب یصلی فیہ من الثیلب حدیث 17)

مشہور شیعہ محدث جعفر محمد بن یعقوب کلینی اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق نے فرمایا۔

انہ لباس اہل النار

بے شک وہ (سیاہ لباس) جہنمیوں کا لباس ہے (الکافی کلینی کتاب الزی والتجمیل باب لباس السواد)

شیعوں کے مشہور محدث شیخ صدوق لکھتے ہیں کہ امام جعفر صادق سے سیاہ ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے جواب میں فرمایا:

لاتصل فیہا فانہا لباس اہل النار

سیاہ ٹوپی میں نماز مت پڑھو بے شک وہ (سیاہ لباس) جہنمیوں کا لباس ہے۔ (من لایحضرہ الفقیہ باب ما یصلی فیہ حدیث 19765، حلیۃ المتقین ملا باقر مجلسی باب اول در لباس پوشیدن فصل چہارم در بیان رنگہائے)

کربلا جانے والے اہل بیت کی تعداد کیا تھی؟

حضرت امام حسین کے تین صاحبزادے (۱) علی اوسط امام زین العابدین (۲) علی اکبر (۳) علی اصغر رضی اﷲ عنہم اور ایک بیٹی حصرت سکینہ جن کی عمر سات سال تھی۔ دو بیویاں بھی ہمراہ تھیں حضرت شہربانو اور علی اصغر کی والدہ

حضرت امام حسن کے چار صاحبزادے (۱) حضرت قاسم (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت ابوبکر (۴) حضرت عمر رضی اﷲ عنہم کربلا میں شہید ہوئے۔

حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پانچ (۱) حضرت عباس (۲) حضرت عثمان (۳) حضرت عبداﷲ (۴) حضرت جعفر (۵) حضرت محمد اصغر (ابوبکر) رضی اﷲ عنہم

حضرت علی کی کل اولاد (۲۷) ہیں، ان میں سے پانچ کربلا میں شہید ہوئے ۔

(کشف الغمہ فی معرفۃ الائمہ 440/1)

حضرت عقیل کے (۴) فرزندوں سے حضرت امام مسلم پہلے ہی شہید ہوچکے تھے اور تین کربلا میں شہید ہوئے (۲) حضرت عبداﷲ (۳) حضرت عبدالرحمن (۴) حضرت جعفر رضی اﷲ عنہم

حضرت زینب امام حسین کی بہن کے دو بیٹے عون اور محمد رضی اﷲ عنہم

ان کے والد کا نام حضرت عبداﷲ بن جعفر رضی اﷲ عنہ کربلا میں شہید ہوئے۔ اہل بیت کرام میں سے کل سترہ افراد آپ کی ساتھ کربلا میں شہید ہوئے (سوانح کربلا، طبری خطبات محرم جلال الدین امجدی، ص 378)

شیعہ نہ اہل بیت کو مانتے ہیں اور نہ شہداء کربلا کو، حضرت امام حسن کے صرف ایک بیٹے حضرت قاسم کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عبداﷲ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اﷲ عنہم تین کا نام نہیں لیتے۔ اگر وہ شہداء کربلا کا نام لے لیں تو ان کا عقیدہ ختم ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کا صحابہ کرام سے پیار تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنی اولاد کے نام خلفائے راشدین کے نام پر رکھے۔ اہل سنت چاروں کا نام لیتے تو حقیقت میں شہداء کربلا کو ماننے والے سنی ہیں، شیعہ ان کے منکر ہیں۔

شیعہ حضرت علی کی اولاد کے بھی منکر ہیں۔ پانچ شہداء کربلا میں صرف ایک کا نام لیتے ہیں۔ حضرت عباس کا، ان کا علم بھی لگاتے ہیں، باقی چار کا نام تک نہیں لیتے حالانکہ حضرت عباس کے حضرت عثمان، حضرت عبداﷲ اور حضرت جعفر کے سگے بھائی ہیں۔ ان کی والدہ کا نام ام البنین بنت حرام ہے اور حضرت محمد اصغر (ابوبکر) بن علی کا نام بھی نہیں لیتے ان کی والدہ کا نام لیلی بنت مسعود تھا تو شہداء کربلا اور اہل بیت کا منکر کون اور محب کون؟

شیعہ حضرت امام حسین کی اولاد کو امام مانتے ہیں جو کربلا میں شہید بھی نہیں ہوئے اور آپ کے سگے بھائی حضرت امام حسن کی اولاد کو امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔ کتنی ناانصافی ہے اور حضرت علی کی اولاد کو بھی امام نہیں مانتے جو کربلا میں شہید ہوئے ہیں۔

اہل بیت کی تین قسمیں ہیں (۱) اہل بیت سکونت یعنی ازواج (۲) اہل بیت ولادت (۳) اہل بیت نسب پہلی قسم اہل بیت سکونت یعنی (۱۱) ازواج میں سے صرف ایک زوجہ حضرت خدیجہ کو مانتے ہیں۔ باقی سب کا انکار کرتے ہیں بلکہ ان کو گالیاں دیتے ہیں حالانکہ قرآن نے ان کو اہل بیت اور مومنوں کی ماں فرمایا ہے۔ اہل سنت سب کو مانتے ہیں۔

دوسری قسم اہل بیت ولادت چار بیٹیوں میں سے صرف ایک بیٹی کو مانتے ہیں لہذا اہل بیت کے منکر ہوئے بلکہ یہ حضرت علی کی بیویوں کے بھی منکر ہیں۔ حضرت علی کی ایک بیوی کا نام امامہ تھا۔ یہ نبی کریمﷺ کی نواسی تھیں۔ حضرت زینب کی بیٹی اگر نبی کریمﷺ کی صرف ایک ہی بیٹی تھی۔ حضرت فاطمہ تو پھر حضرت علی کی بیوی حضرت امامہ بنت زینب بنت رسول اﷲ کہاں سے آگئیں۔ معلوم ہوا کہ اہل سنت ہی اہل بیت اور شہداء کربلا کے محب ہیں ۔

اہل بیت کے سچے محب کون ہیں؟

اہل بیت کے سچے محب سنی ہیں، شیعہ منکر اہل بیت ہیں کیونکہ یہ نبی کریمﷺ کی چاربیٹیوں میں سے ایک کو اور تمام زواج میں سے صرف ایک زوجہ کو مانتے ہیں۔ اس لئے یہ منکر اہل بیت ہیں نیزاس واقعہ سے بھی اہل سنت کی حقانیت واضح ہے۔

ضلع شیخوپورہ میں موٹر وے پر خانقاہ ڈوگراں انٹرچینج کے قریب ڈیرہ سروٹھ میں صحیح العقیدہ سنی بریلوی نوجوان محمد سرفرازپر آگ گلزار ہوگئی جبکہ منکر صحابہ شاہد نامی آگ میں جل گیا۔ تفصیلات کے مطابق ۱۰ محرم الحرام ۱۴۳۱ھ بمطابق ۲۸ دسمبر ۲۰۰۹ بروز پیر ڈیرہ سروٹھ میں شاہد نامی نوجوان (جوکہ شیعہ مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہے) اپنے خود ساختہ عقیدہ کے مطابق عمل کرکے بوقت عصر اپنے ڈیرے پر پہنچا تو بعض سنی حضرات نے اسے کہا ’’الحمدﷲ ہم بھی اہل بیت کے غلام ہیں اور ہم بڑے ادب کے ساتھ قرآن خوانی اور فضائل و شہادت کا بیان سن سنا کر امام حسین کی یاد مناتے ہیں۔ تم بھی اسی طریقہ سے امام حسین کی یاد منایا کرو، خود ساختہ نظریات چھوڑ دو، اس پر شاہد ولد اشرف خان نے کہا کہ ’’ہمارا طریقہ ٹھیک ہے اور جنت کی ٹکٹیں ہمارے پاس ہیں، ہمارے علاوہ باقی سب دوزخی ہیں اور میرا چیلنج ہے کہ پورے ملک میں سے کوئی سنی آگ میں چھلانگ لگائے جو سچا ہوگا بچ جائے گا جو جھوٹا ہوگا جل جائے گا۔ یہ بات سن کر محمد سرفراز ولد محمد انور بھٹی نمبردار نے شاہد سے کہا ’’مجھے تیرا چیلنج منظور ہے‘‘ چنانچہ اسی وقت آگ لگائی گئی اور محمد سرفراز شاہدکا بازو پکڑکر آگ میں داخل ہوگیا۔ محمد سرفراز نے آگ میں داخل ہوتے ہی شاہد کا بازو چھوڑ دیا تو شاہد کے کپڑوں کو فوری طور پر آگ لگ گئی اور محمد سرفراز تین منٹ تک آگ کے شعلوں میں کھڑا ہوکر کلمہ طیبہ الصلوۃ والسلام علیک یارسول اﷲ وعلی الک واصحابک یا حبیب اﷲ کا ورد کرتا رہا۔ اس منظر کو موقع پر موجود بیس پچیس افراد نے اپنی آنکھوں سے دیکھا (ماہنامہ رضائے مصطفے گوجرانوالہ ربیع الاول ۱۴۳۱ھ)

دیوبندی مکتبہ فکر کے روزنامہ اسلام کی ۱۵ جنوری ۲۰۱۰ء کی اشاعت میں بھی یہ واقعہ شائع ہوا۔

اسی طرح کا ایک واقعہ ۱۹۹۸ء میں لاڑکانہ میں بھی ہوا تھا جس میں ایک وہابی اور ایک عاشق رسول محمد پناہ ٹوٹانی کا نبی کریمﷺ کا حاضر و ناظر اور اختیار پر مباہلہ ہوا تھا جس پر دونوں نے آگ میں چھلانگ لگائی تھی وہابی جل گیا اور سنی کا ایک بال بھی نہ جلا، کپڑے بھی محفوظ رہے۔ اﷲ تعالیٰ نے حق و باطل دنیا میں ہی دکھا دیا۔

ہو اگر آج بھی ابراہیم کا ایمان پیدا

آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا

72 شہدائے کربلا

72 شہدائے کربلا

1 حضرت امام حسین

2 حضرت عباس بن علی

3 حضرت علی اکبر بن حسین

4 حضرت علی اصغر بن حسین

5 حضرت عبداللہ بن علی

6 حضرت جعفر بن علی

7 حضرت عثمان بن علی

8 حضرت ابوبکر بن علی

9 حضرت ابوبکر بن حسن بن علی

10 حضرت قاسم بن حسن بن علی

11 حضرت عبداللہ بن حسن

12 حضرت عون بن عبداللہ بن جعفر

13 حضرت محمد بن عبداللہ بن جعفر

14 حضرت عبداللہ بن مسلم بن عقیل

15 حضرت محمد بن مسلم

16 حضرت محمد بن سعید بن عقیل

17 حضرت عبدالرحمن بن عقیل

18 حضرت جعفر بن عقیل

19 حضرت حبیب ابن مظاہر اسدی

20حضرت أنس بن حارث اسدی

21 حضرت مسلم بن عوسجہ اسدی

22 حضرت قیس بن عشر اسدی.

23 حضرت ابو ثمامہ بن عبداللہ

24 حضرت بریر ہمدانی

25 حضرت ہنزلہ بن اسد

26 حضرت عابس شاکری

27 حضرت عبدالرحمن رہبی

28 حضرت سیف بن حارث

29 حضرت عامر بن عبداللہ ہمدانی.

30 حضرت جندا بن حارث

31 حضرت شوذب بن عبداللہ

32 حضرت نافع بن حلال

33 حضرت حجاج بن مسروق مؤذن

34 حضرت عمر بن کرضہ

35 حضرت عبدالرحمن بن عبد رب

36 حضرت جندا بن کعب

37 حضرت عامر بن جندا

38 حضرت نعیم بن عجلان

39 حضرت سعد بن حارث

40 حضرت زہیر بن قین

41 حضرت سلمان بن مضارب

42 حضرت سعید بن عمر

43 حضرت عبداللہ بن بشیر

44 حضرت وھب کلبی

45 حضرت حرب بن عمر-شیخ الاسلام قیس

46 حضرت ظہیر بن عامر

47 حضرت بشیر بن عامر

48 حضرت عبداللہ ارواح غفاری

49 حضرت جون غلام ابوذر غفاری

50 حضرت عبداللہ بن امیر

51 حضرت عبداللہ بن یزید

52 حضرت سلیم بن امیر

53 حضرت قاسم بن حبیب

54 حضرت زید بن سلیم

55 حضرت نعمان بن عمر

56 حضرت یزید بن سبیت

57 حضرت عامر بن مسلم

58 حضرت سیف بن مالک

59 حضرت جابر بن حجاج

60 حضرت مسعود بن حجاج

61 حضرت عبدالرحمن بن مسعود

62 حضرت بیکر بن حئ

63 حضرت عمار بن حسن تائی

64حضرت زرغامہ بن مالک

65 حضرت کینانہ بن عتیق

66 حضرت عقبہ بن سولت

67 حضرت حر بن یزید تمیمی

68 حضرت عقبہ بن سولت

69 حضرت حبلہ بن علی شیبنی

70 حضرت کنب بن عمر.

71 حضرت عبداللہ بن یکتیر

72 حضرت اسلم غلام ای ترکی

رضوان الله تعالى عليهـم اجمعين