فیصلے کی کمزوریاں اور مغالطے

فیصلے کی کمزوریاں اور مغالطے

آج کا فیصلہ پڑھ کر متعدد نئی چیزوں کا انکشاف ہوا

1۔یہ نیا قانون وضع کیا گیا ہے کہ اگر 5 دن بعد ایف آئی آر کاٹی جائے تو شک پیدا ہو جاتا ہے. حالانکہ منصف اس بات کو جانتا ہے کہ ملک کے موجودہ قانون کے مطابق کسی بھی معاملے میں ایف آئی آر کا اندراج کتنا مشکل ہے. تو پھر اتنے حساس معاملے میں اندراج میں 5 دن کی تاخیر سے شک کیسے پیدا ہوگیا؟ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ ایف آئی آر بیس بیس سال بعد کٹی، ان کی سماعت بھی ہوئی اور سزائیں بھی سنائی گئی. حالیہ سب سے بڑی مثال سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ہے. اس کی ایف آئی آر بھی تاخیر سے کاٹی تو اب کیا اس نئے فلسفہ کی بنیاد پر 14 شہداء کو انصاف نہیں ملے گا؟

2۔ کیا اب نیا معیار وضع کیا جا رہا ہے کہ گواہی کیلئے گواہ کا خواندہ یا نیم خواندہ ہونا بھی دیکھا جائے گا؟

3۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق توہین آمیز کلمات پر گرفت اس وقت ہوگی جب ملزم بیٹھے بیٹھائے کلمات بولنا شروع کر دے اگر کسی مسلمان سے ذاتی جھگڑا ہو اور پھر وہ ایسے ناپاک کلمات بولے تو اس کی گواہی کو اس لئے مشکوک کہا جاتا ہے کہ گواہ کا اس سے جھگڑا ہوا تھا

لیکن منصف کو کون سمجھائے کہ گواہ کا مسیح کے ہاتھ سے پانی نہ پینا ملزم کو اکسانے کا سبب ہے یا نہیں اور جھگڑے کی بنیاد ذاتی لڑائی تو تھی نہیں کہ ملزم کا ایوب مسیح کی طرح کوئی پلاٹ کے لین دین کا معاملہ ہوگا بلکہ جھگڑے کی بنیاد مذھب ہی تھا۔

4۔ کھیت کا مالک ادریس کورٹ کے حکم پر گواہی دینے آئے تو اس کا بیان لے بھی لیا تو اب یہ کہ کر مشکوک بنایا جا رہا ہے کہ وہ خود کیوں نہیں آیا؟ کمال ہے جی یہ بھی گواہ کی اہلیت کا نیا پیمانہ ایجاد ہوا ہے. اگر انصاف کرنا مقصود تھا تو یہ گواہان کو خود بلاکر تصدیق کر لیتے.

5۔ لکھا گیا کہ وقوعہ کے وقت 25 سے 30 خواتین موجود تھیں تو وہ بیان دینے کیوں نہیں آئی

منصف کو کون سمجھائے کہ کیا ان عورتوں کا یہ بیان آیا ہے کہ ہمارے سامنے وقوعہ نہیں ہوا ؟

ہرگز ایسا نہیں ہوا بلکہ ملزمہ کے اقرار کے باعث اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی نہ جانے الٹا کیوں سوچتا ہے

6۔ لکھا گیا کہ ایک تیسری عورت یاسمین بی بی جو بطور گواہ فہرست میں تھی لیکن اس کو کٹہرے میں نہیں بلایا گیا ۔اس لئے یہ سب استغاثہ کی کہانی میں شک کو جنم دینا ہے۔

بڑی حیرانی ہوئی جناب کسی گواہ کو آپ کے کورٹ کا حج کٹہرے میں بلوا کر بیان نہ لکھے تو اس سے استغاثہ نے شک کیسے پیدا کر دیا

7۔ ملزمہ نے بیان دیتے ہوئے جو یہ کہا میں تو مسلمان ہی نہیں دین اسلام کو جانتی ہی نہیں تو میں توہین آمیز باتیں کیسے کر سکتی ہوں لیکن منصف نے یہاں تو کوئی جرح نہیں کی کہ مسلمانوں کے ملک میں رینے والا دو چار باتیں تو جانتا ہی ہے جبکہ گستاخ نے 40 سال اسی جگہ گزارے اور گالی دینے کے لئے دین کی تعلیمات کب جاننا ضروری ہے ؟ منصف نے ملزمہ پر تو جرح نہیں کی

8۔اکیسویں صدی کا ایک عجوبہ یہ پڑھنے کو ملا جیساکہ اردو فیصلے کے صفحہ 22 پر لکھا ہوا ہے کہ مدعی اور گواہوں میں مفادات کا رشتہ تھا لھذا مدعی نے جن عورتوں کو گواہی کے لئے پیش کیا ان کی گواہی مشکوک ہو جاتی ہے

اور وہ مفاد کا رشتہ یہ تھا کہ گواہ یعنی دو خواتین مدعی یعنی قاری صاحب کی بیوی کے پاس قرآن پڑھتی ہیں

کتنا بڑا مفادات کا تعلق ثابت کیا گیا ہے نا!! کمال ہو گیا ہے۔

9۔ سابقہ فیصلوں کو غلط ثابت کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ شک ثابت کیا جائے لھذا ایک گواہ ادریس کے متعلق لکھا گیا کہ کہ اس کا مذکورہ بالا خواتین یعنی گواہوں سے قریبی تعلق ہے لھذا وہ اپنا مفاد رکھتا ہے۔

کیا تعلق رکھتا ہے ؟ اور کیا مفاد ہے ؟ یہ نہیں لکھا گیا ۔

حالانکہ ملزمہ سمیت ساری ہی خواتین ادریس کے کھیت میں دیہاڑی ہر کام کرتی تھیں ادریس سے ان کا مفاد ہےیہ تو کہا جا سکتا ہے لیکن ادریس کو ان سے کیا مفاد ہو سکتا ہے ؟ یہ بات سوچنے کی ہے اس کے لئے تو ملزمہ و گواہ سب سے ایک جیسا ہی تعلق تھا۔

10۔ پیرا گراف 30 میں معافیہ بی بی اور اسماء بی بی جو کہ ملزمہ کے خلاف گواہ بنی ہیں ان کے بیان کے سقم یعنی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں اور مدعی قاری سلام کے بیان کی کمزوریاں بیان کی گئی ہیں

ان کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ضابطہ فوجداری کے تحت اولا بیان دیا اور جب جرح کے درمیان بیان دیا تو کچھ باتیں ایسی بھی ہیں جو پہلے نہیں بتائی تھیں ۔

جناب۔

ایسا تو ہر شخص کے ساتھ ہوتا ہے جب کہ کسی ایک ہی وقوعہ پر آپ بات کریں تو نئی سے نئی چیز ذہن میں تازہ ہوتی رہتی ہے اس کو یہ تھوڑی کہا جائے گا کہ گواہ نے انحراف کیا پرانے بیان سے

مثلا لکھا گیا کہ

معافیہ نے بتایا کہ عوامی اجتماع یعنی پنچائیت میں 1000 سے زائد لوگ تھے یہ بات پہلے نہیں بتائی گئی لھذا گواہ نے بیان سے انحراف کیا جناب اصل بات پر تو گواہ قائم رہے مزید کچھ تفصیل کا اضافہ کیا ہے تو یہ انحراف کیسے ہو سکتا ہے ؟

قاری سلام کے بیان کا تضاد یہ لکھا گیا کہ اس نے پہلے بیان دیا تھا کہ دونوں خواتین جب بیان دینے آئیں تو وہ گاوں میں موجود تھا اور افضل اور مختار کے سامنے انہوں نے وقوعہ بیان کیا

فیصلہ میں لکھا گیا کہ قاری سلام نے اس سے پہلے بیان دیا تھا کہ دونوں عورتوں نے اس کو اور گاوں کے دوسرے لوگوں کو اطلاع دی

کمال ہے جناب اس دونوں بیانات میں کسی قسم کا کوئی تضاد یا تعارض یا انحراف کہاں سے ثابت ہو جاتا ہے

سمجھ سے باہر ہے

11۔پیراگراف 33 میں ایک بہت بڑا شک بیان کیا گیا اتنا بڑا کہ جس کی کوئی مثال ہی نہیں ملتی

ایسے شک بیان کرنے پر تو بہت بڑا انعام ملنا چاہیے

یہ لکھا گیا کہ پانچ مرلے کے مکان میں عوامی اجتماع یعنی پنچائیت منعقد ہوئی اور ایک گواہ نے کہا کہ اس میں 100 افراد تھے دوسرے نے کہا کہ اس میں 1000 افراد تھے تو تیسرے نے کہا کہ اس میں 200 سے 250 افراد تھے

لھذا بیانات میں تضاد ہے

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اس مکان میں پنچائیت ہوئی ملزمہ نے اقراری بیان دیا اس بات سے

نہ ملزمہ کو انکار ہے

نہ حج کو

اسی لئے فیصلہ میں لکھا گیا کہ چونکہ اقرار عوامی اجتماع ہوا تھا لھذا اس بیان کو آزادانہ نہیں کہا جا سکتا تو اس مکان میں جمع ہونے کا قائل بڈھا بھی ہے۔

یہاں منصف میاں سے ایک سوال تو یہ ہے کہ جب پنچائیت وقوع پذیر ہوئی اور اس کا اقرار سب کو ہے اس کے وقوع میں کسی کو اختلاف نہیں

تو آپ چاہ کیا رہے ہیں؟

گواہی دینے والے کوئی انجینئر تو ہیں نہیں کہ بغیر گنتی کیے لوگوں کی درست تعداد اندازے سے بتا سکتے ہیں جب وقوعہ کا ہونا ثابت شدہ امر ہے تو کھینچ تان کر اس سے متعلق بیانات میں تشکیک پیدا کرنا اس کی کیا ضرورت ہے ۔

سوال کرنا تھا تو اصل وقوعہ پر کرتے کہ وہ واقع ہوا ہے یا نہیں ؟اس پر تو آپ سوال کر نہیں سکتے تھے

کسی دن آپ کے گھر پر کوئی تقریب ہو تو اگلے ملاقات پر مہمانوں سے تعداد پوچھ لیجے گا اندازہ ہو جائے گا کہ تعداد کے بارے میں کیا بیان دیتے ہیں

ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ جس مقصد کے لئے آتے ہیں اس کو ہی فوکس رکھتے ہیں ادھر ادہر زیادہ دھیان نہیں ہوتا ۔تو آپ کو بھی اصل وقوعہ یعنی پنچائیت کے سامنے اقراری بیان پر دھیان دینا چاہیے تھا کہ وہ ثابت ہے۔

لوگوں کی تعداد اور گنتی کی طرف کس کا دھیان ہوتا ہے صرف اتنا ذہن میں ہوتا ہے کہ گھر خالی تھا یا پورا بھرا ہوا تھا۔

12۔پیراگراف 36 میں بھی ادھر ادھر کی باتیں ہیں کہ پنچائیت میں ملزمہ کو لے کر کون آیا وہ کس طرح آئی جناب وہ آئی اس سے اگر اختلاف ہے تو بالکل یہ سب تحقیق کی جائے کہ وہ کیسے پہنچی لیکن اس کے آنے کا تو اس کو بھی اقرار ہے پھر بلا وجہ کی پخ نکال کر آپ کیا کرنا چاہ رہے ہیں ۔

13۔پیراگ گراف 40 میں لکھا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری کیسے ہوئی اس کے حوالے سے بیانات میں تضاد ہے منصف صاحب جب یہ مقدمہ آئے کہ ملزمہ گرفتار ہوئی یا اغوا تو ضرور یہ تحقیق کر لیجے گا لیکن جب وہ گرفتار ہوئی ہے اس کے بیانات پر اگر پولیس کا کوئی تضاد پر مشتمل بیان آیا بھی ہے تو اس سے اصل وقوعہ اور استغاثہ پر کیا اثر پڑے گا یہ تو محکمہ جاتی غفلت کے معاملات ہیں اس سے اصل وقوعہ میں تشکیک کہاں سے ثابت ہو جائے گی

لیکن ایک فائدہ ضرور ہوگا آپ پیرا گراف نمبر 41 میں یہ کیسے لکھ سکتے ہیں کہ ان سب باتوں کے تضاد سے پتا چلا کہ استغاثہ کی صداقت پر شبہات موجود ہیں ۔

لھذا کینچھ تان کر ادھر ادھر اور غیر متعلقہ باتوں میں مجبورا شک کی گنجائش ماننا جداگانہ چیز ہے۔

13۔یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ ملزمہ نے اپنے بیان سے انکار کب کیا اور ملزمہ کا بیان جج یا مجسٹریٹ نے کیوں ریکارڈ نہیں کیا اس کی ایک وجہ تو یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مقر تھی اس لئے اس کے عوامی اجتماع کے بیان ہی کو جج نے کافی سمجھا ہو دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ سیشن جج یا مجسٹریٹ نے اس کا وہ بیان جان بوجھ کر نہ لے کر قانونی تقاضہ پورا نہ کرنے کا جرم کسی مفاد کی وجہ سے کیا ہو۔تا کہ ملزمہ کو فائدہ دیا جا سکتے

15۔منصف میاں سے سوال ہے کہ جب آپ بہت سارے موت کے قیدیوں کی سزائے موت شک کا فائدہ دیتے ہوئےعمر قید میں بدل دیتے ہیں تو اس کیس میں ایسی کیا خاص بات تھی اس کو سرے سے ہی آزاد کر دیا؟

آسیہ مسیحی توہین رسالت کیس

جن احباب نے اردو یا انگلش زبان میں فیصلہ مکمل پڑھ لیا ہے وہ متوجہ ہوں!!

آسیہ مسیحی توہین رسالت کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ تضادات کا مجموعہ اور بنیادی قانونی غلطیوں سے پُر ہے۔ فیصلے کے اردو ترجمے میں بھی عوام کو گمراہ کیا گیا ہے۔

ایک قانونی ماہر کی جانب سے فیصلے کا پوسٹ مارٹم

کیا فیصلہ میرٹ پر ہوا:

کچھ فیس بکی فلاسفرز یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آسیہ مسیح فیصلہ میرٹ پر ہوا۔۔۔۔۔ان میں کچھ تو دین پی ٹی آئی یا پالشی مذھب سے تعلق رکھتے ہیں(ان کا کچھ علاج نہیں) جبکہ کچھ وہ سادہ لوح مخلص لوگ بھی شامل ہیں جو اردو فیصلہ پڑھ کر اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہوے۔

بطور وکیل آپ کو بتاتا چلوں کہ ایک تھرڈ کلاس مجسٹريٹ اگر رشوت لے کر بھی آپ کے خلاف فیصلہ لکھے تو وہ بھی اتنا اچھا لکھتا ہے کہ فیصلہ پڑھ کر داد دیے بنا نہیں رہ سکتے۔۔۔ صرف ”پریکٹسنگ“ وکیل ہی ایسا فیصلہ سمجھ سکتا ہے۔۔۔۔۔!!!

لہذا عام عوام کی رائے اس فیصلہ کے حق میں ہو جانا کچھ بعید نہیں۔۔۔!!

(فیصلے کے میرٹ پر بات کرنے سے قبل یہ وضاحت کر دوں کہ پچھلے نو سال اس کیس کے بارے سنتا رہا لیکن میں اس کیس کے حقائق نہ جانتا تھا اس لیے آسیہ کو گستاخ کہنے سے ہمیشہ خاموشی اختیار کی۔۔۔۔۔آج یہ فیصلہ پڑھ کر یقین ہونے لگا ہے کہ معاملہ گستاخی کا ہی تھا۔)

فیصلہ:

اس فیصلہ میں بہت سی باتیں ایسی ہیں جن سے نہ چاہتے ہوے بھی کورٹ کی بد نیتی ظاہر ہوتی ہے….. چند اہم درجذیل ہیں:

1: پیرا نمبر 31 میں شہادت ڈسکس کرنے سے قبل آگے پیچھے کے سوالات تو لکھ لیے لیکن سب سے اہم سوال یعنی ”توہین رسالت ہوئی یا نہیں“ گول کر لیا گیا۔۔۔۔۔تا کہ اس پر موجود تاقابل تردید شہادت ڈسکس ہی نہ کرنی پڑے۔ کیا یہ بد دیانتی نہیں…!!؟

2: پیرا نمبر انیس میں دو گواہان یاسمین بی بی اور مختار احمد کا ذکر ہے۔۔ انگش میں لکھا ہے:

“yasmin bibi and mukhtar ahmad were given up”

جبکہ اسی کا اردو ترجمہ لکھا ہے:

”استغاثہ کے گوہان یاسمین بی بی اور مختار احمد "منحرف” ہو گئے“

چونکہ نناوے فیصد عوام نے اردو فیصلہ پڑھنا تھا۔۔۔اور وٹس ایپ پر پھیلایا بھی اردو فیصلہ ہی گیا۔۔۔۔ اسی لیے اس میں given up کا مطلب ”منحرف“ لکھ دیا۔ جس سے پڑھنے والے کو گمراہ کرنا انتہائی آسان ہو گیا۔

ایسا نہیں کہ ترجمہ کرنے والے کو given up کا مطلب نہیں آتا تھا۔۔۔ بلکہ اسی فیصلہ میں آگے انہی گواہان کے لیے ”متروک“ لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

3: پیرا 40 انگلش میں سب انسپیکٹر کا بیان لکھتے ہیں کہ ملزمہ کو گرفتاری کے بعد مجسٹريٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ اردو میں لکھتے ہیں ملزمہ کو مجسٹريٹ کی موجودگی میں گرفتار کیا۔

4: پیرا نمبر 30 میں لکھتے ہیں کہ گواہان نے اپنے ابتدائی بیانات (161 ض ف)سے deviate کیا۔ اس کی مثال میں اکثر وہ باتیں لکھی ہیں جو ابتدائی بیان میں تو نہ تھیں لیکن جرح (cross examination) میں کہی گئیں۔

میں حیران ہوں کہ یہ بات کرتے ہوے اتنی بڑی غلطی(چول) کیسے کی گئی۔۔۔۔؟!!!

جس وکیل نے کچہری میں چار دن لگائے ہوں وہ جانتا ہے کہ deviation یا improvement وہ کہلاتی ہے جو ابتدائی بیان میں تو نہ ہو لیکن (examination in chief) میں آ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کہ (cross examination) میں۔

کروس اگزامینیشن میں تو ہمیشہ وہ جوابات ہوتے ہیں جو ڈیفینس وکیل کے سوال سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ان میں تقریبا ہر قسم کا سوال اور جواب آ سکتا ہے۔

5: قانون کے مطابق جرم ثابت کرنا پراسیکیوشن کا کام ہے۔لیکن اگر ملزم کچھ پلی لیتا ہے تو اسے ثابت کرنا مکمل طور پر ملزم پر ہے۔

ملزمہ کے مطابق اس الزام لگانے کی وجہ(motive) پانی پلانے پر ہونے والے جھگڑے کو قرار دیا گیا۔ پہلی بات یہ کہ پریکٹسنگ وکلاء سمجھ سکتے ہیں کہ اگر یہ ثابت بھی ہو جاتا تو بھی یہ کتنا کمزور اور مضحکہ خیز defence تھا۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ ثابت کرنے کے لیے ملزمہ نے حلف لینے سے سے بھی انکار کیا اور کوئی دوسرا گواہ بھی پیش نہ کیا۔

جبکہ کورٹ نے زبردستی دو ایسے گواہان کے بیانات پر اسے پورے واقعے کو جھگڑا قرار دے دیا جو دونوں واقعے کے عینی شاہد نہ تھے۔۔۔!!!!! اور ان کے بھی پورے بیان لکھنے کی زحمت نہ کی۔۔۔۔۔۔!!!

6: جرگہ ہوا یا نہیں اس پر دس صفحات لکھ دیے۔۔۔خاتون کا اپنے دفاع میں دیا گیا بیان غیر ضروری طور پر تین مرتبہ لکھ دیا۔۔۔لیکن خاتون کا ہی یہ بیان ”کہ اس نے جرگہ کے سامنے اَنڈر پریشر کنفیشن کی“ نہیں لکھا۔۔۔کیوں؟

(ایک ایسا خاندان جو دہائیوں سے مسلمانوں کے ساتھ رہتا رہا۔۔۔۔۔صرف پانی کے جھگڑے پر توہین رسالت کا ملزم ٹھرے اور پورے گاوں سے ایک بھی گواہ اپنے حق میں نہ پائےــ!!!؟)

ــــــــــــــــــــ

ــــــــــــــــــــ

اس کے علاوہ بہت سی باتیں ہیں لیکن تحریر کو مختصر رکھنے کے لیے آخری اور اہم پوائنٹ:

کسی بھی کریمینل کیس میں ملزم کے بری ہونے کے کےلیے ”میٹیریل کنٹراڈکشنز“ کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ججز نے بھی ”میٹیریل کنٹراڈکشن“ کا لفظ بار بار استعمال کیا ہے۔

لیکن جو بات انتہائی اہم ہے وہ اس لفظ کا ”قانونی“ مفہوم ہے۔۔۔۔۔ قانون کے مطابق ”میٹیریل کنٹراڈکشن“ وہ ہے جو براہ راست ملزم پر لگائے گئے الزام\جرم(offence) سے متعلقہ ہو۔۔۔۔۔نا کہ اس جرم کے بعد کے حالات و واقعات میں پائی جانے والے تضادات….!!

اس میں سب سے اہم عینی شاہدین کی اس جرم کے سرزد ہونے کے بارے گواہی ہوتی ہے۔ جس پر فیصلہ خاموش ہے۔

چونکہ ججز کے اٹھائے گئے سوالات میں سب سے اہم سوال ”توہین رسالت ہوئی یا نہیں؟“ رکھا ہی نہیں گیا۔ لہذا تمام فیصلہ جرم ہونے کے بعد کے حالات و واقعات کے گرد گھومتا ہے۔۔۔۔۔!! اور انہیں کو غلط ثابت کرتے ہوے توہین رسالت کو بھی رد کر دیا گیا۔

لطیفہ:

آسیہ کا مطلب گنہگار ہے۔ جسٹس کھوسہ

(ویسے کھوسہ صاحب نے پتہ نہیں کسے دکھانے کے لیے چیف صاحب کی لکھی باتیں دوبارہ دوبارہ لکھ کر صفحات ضائع کے ہیں)

نوٹ:

اگر درج بالا بدنیتی پر مبنی باتیں نہ ہوتیں اور میرٹ پر بری کیا جاتا(جو کہ شاید ناممکن تھا) تو مجھے کچھ اعتراض نہ ہوتا۔ لیکن اب مجھے ان لوگوں کی باتیں حقیقت لگنے لگی ہیں جن کے مطابق عالمی اداروں اور قوتوں کو خوش کرنے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی عجلت میں کیا گیا۔

افسوس کہ مدینہ کی ریاست اور تبدیلی کے نعرے لگانے والوں نے ناموس رسالت کی بھی پرواہ نہ کی….!!

بشکریہ: ضیا کاظمی ایڈوکیٹ

 

 

(تحفظ ناموس رسالت کی کوششیں (تحسین‘ چشم پوشی‘ مخالفت

(تحفظ ناموس رسالت کی کوششیں (تحسین‘ چشم پوشی‘ مخالفت

راجا رشید محمود ماہنامہ تحفظ مئی ۲۰۰۸

ایک ہستی…

کہ جہاں پیدا ہوئی‘ جہاں اس کا بچپن گزرا‘ جہاں اس نے اوائل شباب اور پھر بھرپور شباب کے دن گزارے‘ جس چھوٹے سے گائوں میں اس کے چالیس تینتالیس سال بیتے تھے‘ اس کے کردار نے دیکھنے والوں‘ ملنے والوں‘ اس کے ساتھ کاروبار کرنے والوں کی آنکھیں خیرہ کئے رکھیں۔ وہ ہستی اپنے قبیلے کی آنکھ کا تارا ہی نہ تھی‘ وہاں کے سب قبیلے اس کو ’’حکم‘‘ مانتے تھے۔ اس کے شفاف اور بے داغ کرداسر و عمل کی‘ اس کی دانش و حکمت کی‘ اس کی صداقت و امانت کی قسم کھاتے تھے‘ اپنی امانتیں اس ہستی کے پاس رکھواتے تھے۔ اپنے مناقشات اس سے فیصل کراتے تھے۔ جب وہ ہستی کوہ صفا پر کھڑی ہوئی تو کوئی ایک آواز ایسی نہ تھی جو اس کے خلاف اٹھتی‘ کوئی ایک انگلی نہ تھی جو اس کی زندگی کے کسی پہلو کی طرف اٹھ سکتی۔

وہ ہستی…

جس نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا‘ خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کی راہ دکھائی‘ خود ساختہ بتوں اور مظاہر فطرت کو پوجنے سے منع کیا‘ آبائوواجداد کی راہوں پر چلنے والوں کو ان کی غلط روی کا احساس دلانے کی کوشش کی تو مخالفتیں ہوئیں‘ حق کو تلسیم نہ کرنے کی روش اختیار کی گئی۔ اس ہستی کی دعوت کے راستے میں کانٹے بھی بچھائے گئے… لیکن … اس کی سیرت پر حرف زنی نہ کی جاسکی۔ بات نہ مانی لیکن جھوٹا نہ کہا جاسکا… اس ہستی اور اس کے مٹھی بھر ساتھیوں کا مقاطعہ تک کیا گیا‘ لین دین روک دیا گیا‘ مگر اپنی امانتوں کا امانت دار اس کے سوا کسی اور کو نہ بنایا جاسکا۔

وہ ہستی…

اپنی جنم بھومی چھوڑ کر دوسرے شہر کو ہجرت بھی کرگئی‘ اسے مار دینے کی سازشں نے سو اونٹوں کی پیشکش تک بات پہنچائی۔ اس دوسرے شہر میں بھی کوشش کی گئی کہ ان کا ناطقہ بند کیا جائے۔ لڑائیاں تک لڑی گئیں‘ لیکن ان کے بے داغ اور مصفی کردار پر کلوخ اندازی تو کیا‘ ہلکے پھلکے جھوٹ کی کوئی تلوار بھی سیدھی نہ کی جاسکی۔

وہ ہستی…

جس کی دعوت و تبلیغ نے جھوٹے خدائوں کے سروں کو نیموڑا دیا‘ جھوٹوں کی کمر توڑ دی‘ آس پڑوس ہی نہیں دور دور کے رہنے والے اس ہستی کی بارگاہ میں حاضر ہو ہوکر اس کی حقانیت کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنے لگے۔ ایسے میں بھی معاندین اس ہستی کی مہر آسا شخصیت کی طرف کسی اعتراض کی نگاہ نہ اٹھا سکے۔

وہ ہستی…

چودہ سو سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود اس ہستی کے ماننے والوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی خواہشیں دل میں پالنے والی طاقتوں کی ساری کوششوں کے باوجود‘ آج بھی نظر رکھنے والے ‘ صاحب دل اور اہل انصاف جس کی سیرت و کردار کے حضور حرف استحسان پیش کرتے ہیں۔ جس شخص کی نگاہ نقد اس ہستی کے سوانح کے تمام گوشوں میں جستجو کرتی ہے‘ اسے خوبیوں کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ وہ خوبیاں جوشخصیت کو تو بڑا ثابت کرتی ہی ہیں‘ معاشرے کو بھی صاف ستھرا بناتی ہیں‘ ماحول کو بھی ہر آلودگی سے پاک رکھتی ہیں۔ انسانیت کو اس کے اوج کمال تک پہنچانے کی راہ دکھاتی ہیں۔ اس مبارک ہستی کی زندگی کے ایک ایک گوشے سے پھوٹتی ہیں۔

اس صورتحال میں جب کوئی بدبخت‘ شپرہ چشم ‘ ٹرنا مشخص اس ہستی معصوم کی شان میں کسی گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ اس پر نگاہ غیظ ڈالتا ہے‘ کائنات کا مالک و مختار اسے ’’اتر‘‘ کرتا ہے۔ اس کے ’’زینم‘‘ ہونے کا اعلان فرماتا ہے۔ جس ہستی کے لئے کائناتیں تخلیق کی گئیں‘ جسے رب کریم نے اپنے اوصاف کا مظہر بنا کر دنیا میں مبعوث فرمایا‘ جس کی معصومیت اپنے ذمے رکھی جس کی جان کے دشمن بھی اس کی ذات کے کسی گوشے کی طرف انگشت نمائی نہ کرسکے‘ اس کے خلاف کچھ کہنے والے‘ اس کی شان سے فروتر کوئی کلمہ ادا کرنے والے‘ اس کی ناموس و حرمت پر ژاژخائی کی جسارت کرنے والے سے بڑھ کر مستحق قتل اور کون ہوسکتا ہے؟

حضور پرنور ہادی اعظم‘ نور مجسم رحمت ہر عالمﷺ‘ خالق و مالک حقیقی جل شانہ کے محبوب ہیں۔ متفق علیہ حدیث پاک ہے

’’حضور سرور کائنات علیہ السلام والصلواۃ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی تمام تر محبتوں سے زیادہ محبت میرے ساتھ نہ رکھے‘ وہ مومن نہیں‘‘

پھر خدا کے محبوبﷺ کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت کرنے سے بڑھ کر کفر کیا ہوگا۔ اور اگر کوئی اپنی سب سے محبوب ہستی کی ناموس پر کوئی چھینٹا پڑنے دے تو اس کا ایمان کہاں ہے؟

اصل میں اسلام دشمن طاقتیں وقتا فوقتا ایسی جسارتوں کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ ’’روح محمدﷺ‘‘ مومن کے دل سے نکال دیں۔ لیکن ہر زمانے میں ناموس رسالت کے کسی نہ کسی محافظ نے ایسی کوششوں‘ ایسی تحریکوں کے سدباب کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے عالم کفر پر ثابت کردیا ہے کہ ہم ان کی تہذیبی‘ ثقافتی‘ سیاسی یورشوں کے آگے تو سربخم نظر آتے ہیں مگر جہاں ہمارے آقا و مولا علیہ التحیتہ والثناء کی حرمت و ناموس کا موقع آتا ہے‘ ہمارے لئے جان لینا اور جان دینا کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

عہد نبویﷺ اور عہد صحابہ (رضی اﷲ عنہم) سے لے کر آج کے دور انحطاط تک جہاں کہیں ایسا واقعہ پیش آیا‘ غیرت اسلامی کا ایک نہ ایک علمبردار اٹھا اور اس نے ملبوس شماتت کے پرخچے اڑادیئے۔ خطیبوں نے گستاخ کے خلاف لب کھولے‘ ارباب ادب نے قلم کو بگٹٹ کیا‘ شعراء نے اپنے جذبات کو مربوط و منظوم صورت میں پیش کیا‘ شعروسخن کی زبان دی۔

اس موضوع پر اردو کے چند شعراء کرام کی منظومات میں سے نمونے کے طور پر چند اشعار نذر قارئین کرام ہیں

ہم اپنے دین پر جان اپنی وار سکتے ہیں

ہمارے دین کا مطلب ہے آبروئے رسولﷺ

صابر گیلانی

نماز اچھی‘ حج اچھا‘ روزہ اچھا اور زکواۃ اچھی

مگر میں باوجود اس کے‘ مسلماں ہو نہیں سکتا

نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ طیبہ کی حرمت پر

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا

ظفر علی خان

جو ہو تحفظ ناموس مصطفیﷺ پہ فدا

بفضل حق وہ سعادت نصیب ہو جائے

قبول خالق کون و مکان ہو اس کا عمل

اسے مقام شہادت نصیب ہوجائے

قمر یزدانی

ہے شرط اول ایماں محبت سرور دیںﷺ کی

تحفظ فرض ہے ناموس پیغمبرﷺ کا امت پر

ضیاء محمد ضیاء

ہماری جان ھبی قربان ہے ناموس رسالت پر

لٹادیں دولت کونین ہم اس کی ایک دولت پر

محمد حنیف نازش قادری

جو غلام احمد مرسلﷺ ہے اس پر لا جرم

فرض ہر شام و سحر ہے حفظ ناموس رسولﷺ

عزیز لدھیانوی

دنیا میں جو ناموس نبوت کا امیں ہے

گہوارہ رحمت میں ہے وہ‘ خواہ کہیں ہے

سید ہلال جعفری

نبیﷺ کے نام پہ جان دینے والے زندہ ہیں

بقائے زیست کا ساماں ہے احترام رسولﷺ

محمد افضل کوٹلوی

عشق نبیﷺ والوں سے پوچھو‘ تخت سے بہتر تختہ ہے

کوئی بڑا اعزاز نہیں اس اعزاز شہادت سے

محمد حسین آسی

عشق میدان وفا میں ہوچکا تھا سرخرو

عقل ابھی بیٹھی ہوئی پڑھتی تھی قرآن مجید

علیم ناصری

ارباب وفا کا دل دکھانے والے

اخلاق کی دھجیاں اڑانے والے

پھٹ جائے فلک تجھ پہ گرے تجھ پر رعد

حرمت پہ نبیﷺ کی حرف لانے والے

حزیں کاشمیری

خدا کے قہر سے وہ شخص بچ سکتا نہیں ہرگز

وہ جو گستاخ دربار گہر بار نبوت ہے

محمد اکرم رضا

ناموس مصطفیﷺ پہ دل و جان وار دو

گستاخ کو جو دیکھو‘ بلا خوف مار دو

فیض رسول فیضان

کردیا جان دے کے ثابت غازی علم الدین رحمتہ اﷲ علیہ نے

قیمتی ہے غازیوں کی جان سے ناموس رسالتﷺ

اصغر نثار قریشی

تجھے معراج عشق شاہﷺ سولی پر مبارک ہو

تجھے اوج سعادت کا یہ تاج سر مبارک ہو

عیش فیروز پوری

گرم رکھتی ہے یاد اس کی اپنا لہو

جب شہادت نے کی تھی تری آرو

تو رسالت کے دربار میں سرخرو

تو پیمبرﷺ کے اسلام کی آبرو

مجید تمنا

ذرہ ذرہ تیری تربت کا چراغ طور ہے

مشرقستان مہ و خورشید ہے یہ سرزمیں

صابر خلیلی میں اپنے رب کریم جل و علا کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اس نے شعر گو کی حیثیت سے بھی مجھے اس موضوع پر سب سے زیادہ لکھنے کی توفیق عطا فرمائی۔ نامور محقق ڈاکٹر سید محمد سلطان شاہ‘ صدر شعبہ علوم اسلامیہ جی سی یونیورسٹی لاہور نے لکھا

’’تحفظ ناموس رسالتﷺ شاعر نعت راجا رشید محمود کا خاص موضوع ہے۔ آج تک کسی نعت گو نے اس مضمون پر اتنا زور نہیں دیا۔ بلکہ اس کے عشر عشیر بھی کسی نے نہیں کہا‘‘

(شاعر نعت راجا رشید محمود ص ۱۰۶)

الحمدﷲمیری ہر دوسری چوتھی نعت میں اس موضوع پر کوئی شعر ضرور ہوتا ہے۔ کئی نعتیں خاص اسی موضوع پر ہیں۔ نیز حرمت سرکارﷺ کے حوالے سے اب تک ماہنامہ ’’نعت‘‘ کے ایک ہزار سے زائد صفحات پر مشتمل مضامین نظم و نثر شائع کرچکا ہوں۔

ایک مجموعہ کلام ’’منظومات‘‘ میں صفحہ 91 تا 102 پر ’’مناقب شہیداں ناموس سرکارﷺ‘‘ ہیں۔ میرے 42‘ اردو مجموعہ ہائے نعت میں سے ایک ’’قطعات نعت‘‘ میں اس عنوان سے گیارہ قطعات ہیں۔ وہ قطعے یہ ہیں۔

بارگاہ مصطفیﷺ میں جو بھی گستاخی کرے

وہ ہے مرتد‘ قتل اس بدبخت کا واجب ہوا

ابن منذر‘ فاسی و حنبل ہوں یا قاضی عیاض رحمہم اﷲ

ذکر سب کرتے ہیں اس بارے میں اک اجماع کا

شان آقاﷺ میں ہوا تنقیص کا جو مرتکب

دین قیم میں نہیں ہے اس کی توبہ بھی قبول

اس کی تفصیلات ہیں ’’اصارم المسلول‘‘ میں

ابن تیمیہ نے یوں کی ہے بیاں شان رسولﷺ

’’الصارم المسلول علی شاتم الرسولﷺ‘‘ ابن تیمیہ کی ایک اہم تصنیف ہے۔ چھ سو صفحات پر مشتمل اس کتاب میں موضوع پر سیر حاصل بحث ہےﷺ لیکن بدقسمتی دیکھئے کہ اپنی عمر کے آخری حصے میں خود ابن تیمیہ سے شان رسالت میں گستاخیاں ہوئیں۔ چنانچہ عبان 726ھ میں اس بناء پر اسے پابند سلاسل کردیا گیا کہ اس نے روضہ سرکارﷺ کی زیارت کے لئے جانے والے سفر کو شرک کہا۔ وہ ذیقعدہ میں قید ہی میں مرا۔ پروفیسر این میری شمل اپنی کتاب ’’اینڈ محمدﷺ از ہز میسنجر‘‘ میں لکھتی ہیں کہ ابن تیمیہ کو دمشق میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کے نعلین مبارک کے نقش کی توہین کرنے کی وجہ سے غیر معمولی سزا سنائی گئی۔

برصغیر میں جن محافظان ناموس حضورﷺ نے اپنے خون سے داستان محبت رقم کی‘ ان میں سے چند اہم نام یہ ہیں:

غازی علم الدین شہید رحمتہ اﷲ علیہ

راجپال کی گستاخانہ کتاب نے اسے 6 اپرل 1929ء کو غازی کے ہاتھوں واصل جہنم کرایا۔ 30 اکتوبر کو میانوالی جیل میں غازی اپنے آقاﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوگیا۔

باوجود معصیت لاہور جو مامون ہے

چتر داتاؒ کا ہے اس پر سایہ علم الدین کا

غازی عبدالقیوم شہید رحمتہ اﷲ علیہ

نتھو رام کی گندی زبان کو ایڈیشنل جوڈیشنل کمشنر کراچی کی عدالت میں 20 ستمبر 1934ء کو غازی نے خاموش کردیا اور 19 مارچ 1935ء کو تختہ دار کو چوم کر ہمیشہ کے لئے امر ہوگئےﷺ

نور نظر تھا عبداﷲ کا‘ آقاﷺ کا شیدائی تھا

مرگ و زیست کا اک اک نکتہ اس پرحق نے کھول دیا

شاعر مشرق حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے لاہور و کراچی‘‘ کے عنوان سے غازی علم الدین اور غازی عبدالقیوم کو یوں خراج عقیدت پیش کیا (ضرب کلیم)

نظر اﷲ پر رکھتا ہے مسلمان غیور

موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر

ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ

قدروقیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر

آہ‘ اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں

حرف ’’لاتدع مع اﷲ الھا اخر‘‘

غازی عبدالرشید قاضی شہید رحمتہ اﷲ علیہ

مسلمانوں کو ہندو بنانے والی تحریکوں شدھی اور سنگھٹن کا داعی شردھانند تھا۔ وہ اسلام اور سرکاردوعالمﷺ کے بارے میں بھی نازیبا باتیں کرتا تھا۔ غازی سید عبدالرشید نے جو ایک خوشنویس تھے‘ دسمبر 1926ء میں قلم ہاتھ سے رکھا اور موذی کا سر قلم کردیا… اور خود جام شہادت نوش کیا۔ افسوس کہ اس پر تحریک خلافت کے لیڈروں نے ہندوؤں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

سرکارﷺ تجھ سے خوش ہیں اﷲ تجھ سے راضی… عبدالرشید قاضی

فردا ترا ہے روشن‘ ضوبار تیرا ماضی… عبدالرشید قاضی

غازی محمد صدیق شہید رحمتہ اﷲ علیہ

فیروزپور کے اس غازی نے پالامل سنار کو  17 ستمبر 1934ء کو بابا بلھے شاہ کے مزار کے پاس قصور میں جہنم رسید کیا۔ 6 مارچ 1935ء کو خود جنت کی راہ لی۔

آگیا فیروز پور سے پالا مل کو مارنے

قتل کر ڈالا اسے اس مرد باکردار نے

آخر آخر منہ کی کھائی کفر کی یلغار نے

خواب میں یہ کام سونپا اس کو خود سرکارﷺ نے

حکم کی تعمیم نے اس کا بڑھایا مرتبہ

غازی میاں محمد شہید رحمتہ اﷲ علیہ

تلہ گنگ (میرے ضلع چکوال) کے اس باغیرت فوجی جوان نے ایک ہندو ڈوگرے چرن داس کو گستاخی کے جرم پر سزا دی اور 12 اپریل 1938ء کو مدراس ہی میں شہید اور دفن ہوا۔

یہ قصر کفر وضلالت آخر کو اب تزلزل میں آگیا جو

میاں محمدؒ نے قتل شاید کیا چرن داس ڈوگرے کو

غازی مرید حسین شہید رحمتہ اﷲ علیہ

میرے ضلع چکوال کے گائوں بھلہ کریالہ کے اس نوجوان نے 8 اگست 1937ء کو ضلع حصار کے قصبہ نازنوند میں پہنچ کر خر شماتت وٹنری ڈاکٹر رام گوپال کو اس کے انجام تک پہنچادیا اور خود 24 ستمبر کو آقا حضورﷺ کے دربار گہر بار میں حاضر ہوگیا۔

مار ڈالا نبیﷺ کے شاتم کو

زندہ باد اے میاں مرید حسین رحمتہ اﷲ علیہ

غازی محمد عبداﷲ شہید رحمتہ اﷲ علیہ

مردود و مرتد چلچل سنگھ کو مارنے پر شہادت کے رتبے کو پانے والا خانقاہ ڈوگراںکا نوجوان زندہ باد

ایک بے غیرت کہ بدقسمت بھی تھا‘ بے راہ بھی

پہلے تھا نور محمد‘ پھر وہ چلچل سنگھ بنا

اور ڈھایا اک ستم‘ سرکارﷺ کی توہین کی

کیوں نہ غازی قتل کرتا اس کو‘ سو اس نے کیا

غازی عامر عبدالرحمن چیمہ شہید رحمتہ اﷲ علیہ

ڈنمارک کے اخبار نے توہین رسالت پر مبنی کارٹون چھاپے‘ غازی عامر چیمہ جرمنی میں بغرض حصول تعلیم مقیم تھے۔ وہاں کے اخبار نے بھی یہ کارٹون شائع کردیئے تو غازی نے اخبار کے مالک کو زخمی کردیا جو بعد میں مرگیا۔ غازی کو 3 مئی 2006ء کو تشدد کے ذریعہ جیل میں شہید کردیا گیا۔

نعرہ توحید سے قصر شماتت ڈا دیا

عطر غیرت خون ہمت سے کیا کس نے کشید

جرات عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

حفظ ناموس نبیﷺ تھا مطمح قلب و نظر

مصطفیﷺ پر جان قربان کرکے لی جنت خرید

قسمت عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

کیسے توہین نبیﷺ برداشت کرسکتا تھا وہ

خیل فاروق معظمﷺ کا تھا اک فرد فرید

حضرت عامر شہید رحمتہ اﷲ علیہ

راجا سید اکبر ایڈووکیٹ نے بتایا کہ ایک انگریز جج کے خانساماں نے حضورﷺ کی شان میں گستاخی پر ایک میجر کو چھری مار کر ہلاک کردیا۔ سر محمد شفیع رکن پارلیمنٹ خانساماں کا کیس لڑرہے تھے۔ دوران سماعت حضورﷺ کے ذکر پر سر شفیع جذباتی اورآبدیدہ ہوگئے۔ دو انگریز جج سماعت کررہے تھے۔

انہوں نے کہا: سر شفیع!آپ کے پائے کا قانون دان بھی اتنا جذباتی ہوگیا؟

جواب میں سر شفیع بولے’’ سر! اگر شفیع بھی اس خانساماں کی جگہ ہوتاتو یہی کچھ کرتا‘‘

امرتسر کے گرجا گھر کے سامنے ایک پادری حضرت عیسٰی علیہ السلام کے فضائل بیان کررہا تھا۔ وہ حضور اکرمﷺ کا اسم گرام احترام سے نہیں لیتا تھا۔ ایک بھنگڑ کھڑا ہوگیا۔ کہنے لگا ’’پادری ! ہم حضرت عیسٰی علیہ السلام کو برحق نبی مانتے ہیں اور ان کا نام ادب سے لیتے ہیں تو بھی ہمارے سچے سرکارﷺ کا نام ادب سے لے۔ وہ نہیں مانا‘ جب تیسری بار ایسا ہی ہوا تو بھگنڑ نے بھنگ گھوٹنے والا ڈنڈا مار کر  پادری کو جہنم پہنچا دیا۔ یہ عاشق صادق پکڑا گیا‘ موت کی سزا ہوئی۔ اپیل میں انگریز جج نے یہ لکھ کر بری کردیا کہ پادری کا قاتل تکیہ نشین بھنگڑ ہےﷺ کوئی مولوی نہیں۔ واضح رہے کہ یہ قتل کسی رنجش کی بناء پر نہیں ہوا۔ پادری نے اس کے جذبات مجروح کئے تو ایسا ہوا۔ لہذا میں اسے بری کرتا ہوں

(یہ واقعہ محقق عصر حکیم محمد موسیٰ امرتسری رحمتہ اﷲ تعالیٰ نے امر ملت پیر جماعت علی شاہ علی پوری کے حوالے سے بیان کیا)

شہیدان ناموس رسالت میں بہت سے خصوصیات مشترک نظر آتی ہیں۔ یہ سب نوجوان یا جوان تھے۔ انہوں نے اپنے کارنامے کسی فوری اشتعال کے تحت نہیں‘ غوروکر کے زیر اثر انجام دیئے۔ زیادہ غازیوں کو خواب میں سرکار ابد قرارﷺ نے زیارت سے مشرف فرمایا اور گستاخ کی شکل دکھا کر ڈیوٹی پر مامور کیا۔ اسی لئے ان میں سے ہر ایک اپنی کارکردگی پر تفاخر کا اظہار کرتا رہا۔ تاسف کی کوئی صور تنہیں بنی۔ سب نے موذیوں کو للکار کر مارا‘ سب نے قتل کا اقرار اور اس پر اصرار کیا۔ ان میں سے کوئی موقع سے فرار نہیں ہوا۔ خود گرفتاری دی۔ موت کی سزا سننے کے بعد سوائے  ان بہی بختوں کے ہر قاتل کا وزن کم ہوجاتا ہے‘ لیکن ان سب خوش قسمت ہستیون کا وزن پھانسی کوٹھڑیوں میں بڑھتا رہا۔

ان عظیم المرتبت انسانوں کے کارناموں پر پوری ملت اسلامیہ کا سر فخر سے بلند ہوا۔ کیونکہ انہوں نے سب مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کیا۔ لیکن ایک طبقے کا کردار اس معاملے میں قابل مذمت بھی رہا۔ مثلا غازی سید عبدالرشید قاضی شہید رحمتہ اﷲ علیہ نے ہزاروں مسلمانوں کو ہندو بنالینے والے گستاخ رسولﷺ شردھانند کو واصل جہنم کیا تو مفتی کفایت اﷲ دہلوی نے غازی عبدالرشید شہید کے بارے میں فتویٰ دیا کہ وہ جنت سے محروم ہے کہا کہ

’’کافر معاہد کا قاتل جنت کی بو بھی نہیں سونگھے گا‘‘

(روزنامہ ہمدم لکھنو‘ جنوری 1927)

شردھانند کے قتل کے دو ماہ بعد خلافت کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سیٹھ حاجی عبداﷲ ہارون نے ہندوئوں اور ان کے لیڈر شردھانند کے ساتھ اپنی محبت کا اور شاتم رسولﷺ کے قاتل غازی عبدالرشید کے اقدام قتل پر تاسف کا اظہاریوں کیا

’’سوامی شردھانند کے قتل کے واقعہ نے ہندو مسلمانوں کے درمیان نفرت اور ناانصافی کی خلیج کو اور بھی وسیع کردیا ہے۔ جس طرح اس کا قتل ہونا بیان کیا گیا ہے‘ وہ بہت ہی افسوس ناک ہے اور ہم مسلم پریس اور مسلم لیڈر اس واقعہ پر افسوس کرچکے ہیں۔ مجھے بھی ہندو بھائیوں کے ساتھ ان کے اس صدمہ میں دلی ہمدردی ہے‘‘

(خطبہ صدارت جناب سیٹھ حاجی عبداﷲ ہارون 27-28 فروری1927ء بمقام لکھنو‘ قاضی محمد مجتبیٰ کوتانوی نے نیپئر روڈ کراچی سے شائع کیا)

کتاب ’’رنگیلا رسول‘‘ کے ناشر راجپال کو غازی علم الدین شہید رحمتہ اﷲ علیہ نے کتے کی موت مار دیا تو ابو الکلام آزاد نے ایک عزیز طالب حق ہندو کے خط کے جواب میں لکھا

’’میں ایک لمحے کے لئے بھی یہ طریق عمل پسند نہیں کرسکتا کہ مسلمان اپنی طبیعت اس انداز کی بنالیں کہ جہاں کسی ٹٹ پونجئے نے ایک چار ورقی رسالہ چھاپ کر شائع کردیا‘ ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک تمام مسلمان شورواویلا مچانا شروع کردیں کہ اسلام کی کشتی غرق ہوگئی اور تحفظ ناموس رسولﷺ کی حفاظت کا سوال پیدا ہوگیا۔

نعوذ باﷲ! اگر چند جاہل اور کور چشم انسانوں کے بکواس کردینے سے ناموس رسالتﷺ کی حفاظت کا سوال پیش آسکے یا اسلام اور مسلمانوں کے لئے یہ کوئی مصیبت ہو‘ ایسا سمجھنا اسلام کی عزت و شرف اور مسلمانوں کے مذہبی خود داری کے اس درجہ خلاف ہے کہ میں نہیںسمجھ سکتا کہ ایک مسلمان اس کا تصور بھی کرسکتا ہے۔ اس قسم کا ایک رسالہ کیا معنی‘ اگر ایک ہزار یا ایک لاکھ رسالے بھی چھاپ دیئے جائیں جب بھی نعوذ باﷲ‘ اسلام اور داعی اسلام کے ناموس کے تحفظ کا کوئی سوال پید انہیں ہوسکتا‘‘

(ابوالکلام آزاد‘ تصریحات آزاد‘ مکتبہ اشاعت ادب‘ لاہور‘ بار اول دسمبر 1960ء صفحہ 164-165)

ناموس رسالت سے دلی تعلق رکھنے والے قارئین محترم کو میں ایک تکلیف دہ واقعہ یاد دلانا چاہتا ہوں۔ اگست 1980ء میں اس وقت کے صدر ضیاء الحق نے ایک دو روزہ علماء کنونشن بلایا۔ اس میں سید محمود احمد رضوی نے یہ قرارداد پیش کی جس کی تائید عرفان حیدر عابدی نے کی اور کنونشن کے شرکاء نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا کہ:

’’حکومت اﷲ تعالیٰ‘ حضور رسول اکرمﷺ‘ خلفائے راشدین اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دے‘‘ (نوائے وقت لاہور‘ 25 اگست 1980)

ضیاء الحق نے اس تجویز سے کلی اتفاق کرتے ہوئے جلدازجلد قانون بنانے کا وعدہ کیا۔ لیکن قانون بناتے وقت اﷲ تعالیٰ اور حضور اکرمﷺ کا نام نکال دیا گیا۔ (نوائے وقت 18 ستمبر 1980)

’’امہات المومنین اہل بیت کرام‘ خلفائے راشدین اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی شان میں گستاخی جرم قرار دے دی گئی۔ صدر نے تعزیرات پاکستان میں نئی دفعہ شامل کردی‘‘

دیکھئے قرارداد کیا تھی‘ قانون کیا بنا‘ لیکن زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ یہ حرکت نہ تو صدر کو نظر آئی‘ نہ سید محمود احمد رضوی اور عرفان حیدر عابدی کو اس پر تعجب ہوا‘ نہ علماء کنونشن میں شامل ’’علماء و مشائخ‘‘ میں سے کسی ایک نے بھی اس پر احتجاج کیا۔ معلوم ہوا کہ کنونشن میں ھکانے پینے کے ساتھ ٹی اے ڈی اے لیتے ہی ان کا تعلق ہر چیز سے ختم ہوچکا تھا۔

ایسی میں صرف ایک نحیف سی آواز میری تھی جو صفحہ قرطاس پر کندہ ہوئی۔ میں ان دنوں ماہنامہ ’’نوارالحبیب‘ بصیرپور میں ’’ستارہ یمانی‘‘ کے نام سے کالم ’’طلوع‘‘ لکھا کرتا تھا۔ ذوالحجہ 1400ھ (1980) کے شماری میں‘ میں نے نوائے وقت کی اس موضوع پر ساری خبروں کی سرخیوں کی عکسی نقل کے ساتھ صورتحال لکھ دی تھی لیکن…

پانچ سال بعد جب اہانت رسولﷺ کا کیس وفاقی شرعی عدالت میں چلا تو ’’نورالحبیب‘‘ نے ستارہ یمانی کا یہی کالم اپنے جمادی الاول 1406ء کے شمارے میں دوبارہ شائع کیا۔

پاکستان کے ’’اسلام پسند‘‘ صدر کو پاکستان کے کسی مولوی کو‘ پاکستان کے کسی حامی کو‘ نہ حکومت کی اس حرکت پر غصہ آیا‘ نہ میرے کالم کو پڑھ کر ندامت یا غیرت کا احساس ہوا‘ لیکن مجھے اطمینان ہے کہ اﷲ تعالیٰ اور اس کے حبیب کریمﷺ کی بارگاہ میں میرے احساسنات و جذبات پذیراہوگئے۔ الحمدﷲ

میں نے ماہنامہ ’’نعت‘‘ کے پانچ شماروں بعنوان ’’شہیدان ناموس رسالت‘‘ کے اداریوں میں بھی اپنے جذبات و احساسات کو زبان دی تھی‘ فروری 1991ء کا اداریہ دیکھئے۔

’’قصر تاریخ کے شکستہ حصوں میں راجپال‘ شردھانند‘ پالامل‘ سلمان رشدی اور ان جیسے دوسرے بھوت پریت ہونکتے بھونکتے دکھائی دیتے ہیں‘‘

اس مخلوق کا سلسلہ نسب ’’حماللتہ الخطب‘ اور ’’بعد ذالک زنیم‘‘ کے کھنڈرات میں ملتا ہے۔

اس نسل کے پھیلے ہوئے ہونٹوں اور لٹکتی ہوئی زبانوں کا انقطاع تاریخ کے ہر دور کی اہم ضرورت رہی ہےﷺ

تاریخ کے ہر عہد اور قصر تاریخ کے ہر حصے کی یہ اہم ضرورت‘ وقت پر متصرف کسی شخص نے پوری کردکھائی۔

جب بھی ایسا موقع آیا‘ گویا جوانمردی اور جان سپاری کا سورج بام قصر پر چمکا۔ جھرکوں سے جھانکنے والے چہروں پر حیرت و استعجاب کے نقوش گہرے ہوگئے۔ آس پڑوس کے باسیوں نے نعرہ ہائے تحسین بلند کئے۔ تھڑ دلوںکی زبانیں گنگ ہوگئیں‘ حوصلہ مندوں نے سینے تان لئے۔

ناموس رسالت کے محافظ‘ وقت پر حمکران تھے‘ دلیری ان کے قدم چومتی رہی‘ دنیا حیران ہوئی کہ ان سے پہلے جان لینے اور جان دینے کا عمل اتنا معمولی کب تھا؟

قصر تاریخ کے کھنڈرات کو شاتمیت کے بھوتوں کا مدفن بنا کر خوشی سے دار پر جھول جانے والے… انسانیت کا ناز ہیں‘ ملت کا سرمایہ ہیں‘ اﷲ کے محبوب ہیں‘ ان کے ذکر میں جھک جانے والے سر کہیں نہیں جھکتے‘‘

جہنم کا مگرمچھ منہ کھولے ابھی تک سلمان رشدی شیطان کے انتظار میں ہے۔ میری ایک آزاد نظم ’’سلمان رشدی کا قتل‘‘ بھی حاضر ہے۔

وہ ایک لمحہ

وہ وقت پہ حکمران لمحہ

کہ جب عزیمت کی جرات افزا منڈیر پر جھلملاتے دیپک

اگائیں گے روشنی کی فصلیں

دھنک جمے گی فضا میں ہر سو‘ محافﷲ رنگ و نور ہوں گی

زمانے بھر میں اجالا ہوگا

اجالا ہوگا سعادتوں کا

سعادتوں کا اجالا ہوگا جسارتوں سے

جسارتیں

جو محبتوں کی نقیب ہوں گی

جو میرے آقاﷺ کی عزتوں اور حرمتوں کا نشاں رہیں گی

جسارتیں جو علم اٹھائیں گی حفظ ناموس مصطفیﷺ کا

اور

بے اصل رشدی ایسا خبیث اس لمحے مارا جائے گا

جراتوں کے‘ جسارتوں‘ کے عزیمتوں کے شناسا ہاتھوں سے

میری ہاتھوں سے…

اظہار تشکر از علامہ حنیف قریشی صاحب قبلہ

شکریہ وزیر اعظم عمران خان شکریہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی شکریہ وزیر مذہبی امور پیر نورالحق القادری
مناظر اھلسنت والجماعت حنیف قریشی صاحب کا تنگ نظر اور سیاسی نابالغ علماء اور عوام کے نام زبردست پیغام

دیوبندی کی ناموسِ رسالت پر پہرہ دینے کے حوالے سے ایک چشم کشاتحریر

دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر صاحب کی ناموسِ رسالت پر پہرہ دینے کے حوالے سے ایک چشم کشاتحریر۔۔۔۔

مطالعہ فرمائیں، اللہ کا شکر ادا کریں اور دیگر لوگوں تک بھی پہنچائیں ۔۔۔۔۔

کریڈٹ کس کو دیا جائے؟؟؟

گورنمنٹ آف پاکستان پہلے بھی سنجیدگی سے گستاخانہ خاکوں کو رکوانے پر کام کررہی تھی

مگر عالمی سطح پر تنہا ہونے کے خوف سے سخت مؤقف اپنانے سے قاصر تھی اور منت سماجت کا لہجہ اپنائے ہوئے تھی

مگر گذشتہ کل مسلسل تحریکِ لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لانگ مارچ کے آگے رکاوٹیں کھڑی کرنے کے باوجود جب اس کو روکا نہ جا سکا تو سفیر کو حالات سے اس طرح باور کروایاگیا کہ

اس تحریک سے مقابلہ کرنا ہمارے بس کی بات نہیں اور ثبوت کے طور پر فیض آباد دھرنا یاد کروایا گیا اور ویسے بھی یہ ہمارے ایمان کا مسئلہ ہے فلہٰذا آپ اپنے ملک میں بات کریں اور ان کو کہیں کہ اگر تحریک والے ایمبیسی کے سامنے پہنچ گئے تو ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا کہ ہمیں آپکو یہاں سے نکالنا پڑے گا اس لئے گستاخانہ خاکوں کے سلسلے کو روکنے میں ہی عافیت ہے

مگر یہ بات ہالینڈکے گماشتوں کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی

دوسری طرف شاہ محمود قریشی صاحب بھی بارباراپنے ہم منصب سے رابطے میں تھے

اور دیگر اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو بھی اس کی حساسیت سے آگاہ کرکے ہالینڈ پر دباؤ ڈالنے کا کہہ رہے تھے

اور ادھرتحریکِ لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مارچ بھی دارالخلافہ کہ حدود میں داخل ہوچکاتھا

ادھروزیرِاعظم عمران خان نے ویڈیو بیان جاری کیا تاکہ تحریکِ لبیک کے لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جاسکے

امیدکی آخری کرن کے طور پر مذاکرات کے لئے حکومتی عہدیداروں اور تحریکِ لبیک کے ذمہ داروں کے درمیان بیٹھک شروع ہوئی

حکومت کے لئے دونوں طرف مایوسی کی سی کیفیت تھی

نہ ہالینڈ کی طرف سے مناسب جواب مل رہا تھا اور نہ ہی تحریکِ لبیک کی طرف سے نرمی کا اظہار کیا جارہا تھا

کہ ایسے میں ہالینڈ کے سربراہانِ مملکت اور گیرٹ ولڈرز کو احساس ہوا کہ وہ واقعی ایک بہت بڑی غلطی کررہے ہیں اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ ہمارے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوجائے

دودن قبل بھی ہالینڈ کے اخبارات نے مسلم ممالک میں اپنی مصنوعات کے بائیکاٹ کی وجہ سے کام لکھے کہ ناقابلِ تلافی نقصان ہورہا ہے

معیشت کو اپنا خدا کہنے والے اور اللہ کے قرآن کے مطابق موت سے بھاگنے والے یہودی اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پہ مجبور ہو گئے

الحمد للہ امتِ مسلمہ سرخ رو ہوئی

مگر مسئلہء ختمِ نبوت کی طرح ایک بار پھر وہی سنی بریلوی بازی لے گئے جن کو ہمارے علماء مشرک ،بدعتی اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں۔

اب صبح سے میں حقائق جاننے کی جستجو میں تھا ساتھ سوشل میڈیا پر کریڈٹ کی کھینچاتانی بھی جاری دیکھتارہا

اب جو بھی کریڈٹ لے پھر بھی

لامحالہ ماننا پڑے گا کہ ناموسِ رسالت پرپہرہ دینے میں یہ معذور شخص سب علماء،پیروں،گدی نشینوں، مفتیوں، سیاستدانوں اور حکمرانوں سے بہت آگے ہے

اور ہاں حکمرانوں کا طرزِ عمل بھی پہلے کے حکمرانوں سے بہت مختلف دیکھا گیا جو کہ قابلِ تحسین ہے مگر سچ یہ ہے کہ اگر یہ لانگ مارچ نہ ہوتا توحکومت کبھی بھی اس معاملہ کو اس قدر سنجیدہ نہ لیتی اورہالینڈ کے گستاخ کبھی بھی اس خباثت سے دستبردار نہ ہوتے

اختتام پر میں سب ان متوالوں اور شمعِ رسالت کے پروانوں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے اس مقدس مشن میں کردار ادا کیا

ًنوٹ۔یاد رہے کہ میراتعلق دیوبند مکتبہ فکر سے ہے مگر متشدد رویہ سے عاری ہوں اور ہراچھا کام کرنے والے کی تحسین کا ذہن رکھتا ہوں

ڈاکٹر مشتاق احمد لیکچرار انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد

مبارک ہو !!

میں یہ سمجھتا ہوں کہ عصرِ حاضر میں علامہ خادم حسین رضوی صاحب کو ناموسِ رسالت سے متعلق مکمل شرحِ صدر عطا ہو چکا ہے۔ ورنہ مغربی ایوانوں میں یہ زلزلہ برپا نہ ہوتا۔ جو کام ہیلری کلنٹن کے شاہ محمود قریشی کے تھوکوں سے تر بتر گفتگو سے نہ ہوا وہ حضرت کی للکار سے ممکن ہوا۔ اس وقت عالمی میڈیا میں جہاں بھی یہ معاملہ رپورٹ ہو رہا ہے وہاں پاکستان احتجاجی مظاہرین کا ذکر ہو رہا ہے، کہیں پر حکومت پاکستان کے اقدامات کا ذکر نہیں۔ اور احتجاج کرنے والے تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان ہی ہیں، ان میں نہ ہی ڈیزل پارٹی شامل ہے اور نہ ہی بہنوں کے ساتھ ڈی چوک پر ناچنے والی پارٹی کے کارکنان۔ عشقِ رسول ﷺ انسان کو بے خوف کر دیتا ہے اور ہر قسم سے خطرات سے بے خوف ہر کر باہر نکلنے والے بہادر ماؤں کے بچوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈی چوک میں ناچنا اور ہے اور عشق و محبت مصطفٰی ﷺ میں مست ہو کر کلمہ حق بلند کرتے ہوئے سر میدان ڈٹ جانا اور ہے۔

سلامت رہو سنی شیر جوانو، تم اس امت کو فخر ہو۔ کل قیامت کے دن حسنین کریمین رضوان اللہ علیہم اجمعین تمہیں سلام کریں گے۔

از علامہ افتخار الحسن رضوی قبلہ

#TLP

#PAKISTAN

#HOLLAND

ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ

ﮔﺴﺘﺎﺧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺠﺎﻡ….

ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﮯ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ….

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﺑﯽ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "

ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳

ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ رسول ﷺ

” ﺑﺸﺮ ﻣﻨﺎﻓﻖ "

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

ﺍﺭﻭﮦ ( ﺍﺑﻮ ﻟﮩﺐ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ )

ﮐﺎ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﻧﮯ ﮔﻼ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﺩﯾﺎ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ” ﺩﻭ ﻧﻨﮭﮯ ﻣﺠﺎﮨﺪﻭﮞ

ﻣﻌﺎذ ﻭ ﻣﻌﻮﺫ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

رضی اللہ عنہ

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﻣﯿﮧ ﺑﻦ ﺧﻠﻒ "

ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻧﺼﺮ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ "

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻋﺼﻤﺎ ( ﯾﮩﻮﺩﯼ ﻋﻮﺭﺕ )”

1 ﻧﺎﺑﯿﻨﺎ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﯿﺮ ﺑﻦ ﻋﺪﯼ

رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﺑﻮ ﻋﻔﮏ ” ﺣﻀﺮﺕ ﺳﺎﻟﻢ ﺑﻦ ﻋﻤﺮ

رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﮐﻌﺐ ﺑﻦ ﺍﺷﺮﻑ ” ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﻧﺎﺋﻠﮧ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ

” ﺍﺑﻮ ﺭﺍﻓﻊ ” ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ

رضی اللہ عنہ

ﮐﮯﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﺑﻮﻋﺰﮦ ﺟﻤﻊ ” ﺣﻀﺮﺕ ﻋﺎﺻﻢ ﺑﻦ ﺛﺎﺑﺖ

رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۳ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺣﺎﺭﺙ ﺑﻦ ﻃﻼﻝ "

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻋﻘﺒﮧ ﺑﻦ ﺍﺑﯽ ﻣﻌﯿﻂ "

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ۲ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺍﺑﻦ ﺧﻄﻞ "

ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻮ ﺑﺮﺯﮦ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺣﻮﯾﺮﺙ ﻧﻘﯿﺪ "

ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ رضی اللہ عنہ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۸ ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻗﺮﯾﺒﮧ ( ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺑﺎﻧﺪﯼ )”

ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔

1 ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺷﺨﺺ ( ﻧﺎﻡ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﻧﮩﯿﮟ ) ﺧﻠﯿﻔﮧﮨﺎﺩﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻭﺍ ﺩﯾﺎ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺭﯾﺠﯽ ﻓﺎﻟﮉ ( ﻋﯿﺴﺎﺋﯽ ﮔﻮﺭﻧﺮ )”

ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺻﻼﺡ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺍﯾﻮﺑﯽ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

گستاخ رسول ﷺ

” ﯾﻮﻟﻮ ﺟﯿﺌﺲ ﭘﺎﺩﺭﯼ "

ﻓﺮﺯﻧﺪ ﺍﺑﻮ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﻧﺪﻟﺲ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺭﺍﺟﭙﺎﻝ "

ﻏﺎﺯﯼ ﻋﻠﻢ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻧﺘﮭﻮﺭﺍﻡ "

ﻏﺎﺯﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﻘﯿﻮﻡ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﺍﻡ ﮔﻮﭘﺎﻝ "

ﻏﺎﺯﯼ ﻣﺮﯾﺪ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﭼﺮﻥ ﺩﺍﺱ "

ﻣﯿﺎﮞ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝؐ

” ﺷﺮﺩﮬﺎ ﻧﻨﺪ "

ﻏﺎﺯﯼ ﻗﺎﺿﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﺮﺷﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۲۶ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﭼﻨﭽﻞ ﺳﻨﮕﮫ "

ﺻﻮﻓﯽ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۸ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻣﯿﺠﺮ ﮨﺮﺩﯾﺎﻝ ﺳﻨﮕﮫ "

ﺑﺎﺑﻮ ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺩﯾﻦ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۲ ﻣﯿﮟﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻗﺎﺩﯾﺎﻧﯽ "

ﺣﺎﺟﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﻣﺎﻧﮏ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۶۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ –

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﺑﮭﻮﺷﻦ ﻋﺮﻑ ﺑﮭﻮﺷﻮ "

ﺑﺎﺑﺎ ﻋﺒﺪﺍﻟﻤﻨﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۷ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﮐﮭﯿﻢ ﭼﻨﺪ "

ﻣﻨﻈﻮﺭ ﺣﺴﯿﻦ ﺷﮩﯿﺪ

ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۱ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻧﯿﻨﻮ ﻣﮩﺎﺭﺍﺝ "

ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺨﺎﻟﻖ ﻗﺮﯾﺸﯽ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۴۶ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ۔

ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻟﯿﮑﮭﺮﺍﻡ ﺁﺭﯾﮧ ﺳﻤﺎﺟﯽ "

ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

ﮔﺴﺘﺎﺥِ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

” ﻭﯾﺮ ﺑﮭﺎﻥ ” ﺑﮭﯽ ﮐﺴﯽ ﻧﺎﻣﻌﻠﻮﻡ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ۱۹۳۵ ﻣﯿﮟ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺍ

ﮔﺴﺘﺎﺥ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

ﺳﻠﻤﺎﻥ ﺗﺎﺛﯿﺮ ﻣﻠﻌﻮﻥ ﮐﻮ ﻏﺎﺯﯼ ﺍﺳﻼﻡ

ﻋﺎﺷﻖ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ

ﻣﻠﮏ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﺣﺴﯿﻦ ﻗﺎﺩﺭﯼ ﻧﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ

ﻭﺍﺻﻞ ﺟﮭﻨﻢ ﮐﯿﺎ

گستاخ رسول ﷺ

ایک قادیانی نے نبوت کا دعوی کیا

جسے حال ہی میں

غازی تنویر قادری نے قتل کیا

ﯾﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﭼﻮﺩﮦ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺩﻭﺭﺍﺋﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮬﮯ ﮔﯽ.

بتلا دو گستاخ ِ نبی ﷺ کو

غیرتِ مسلم زندہ ہے…..

دین پہ مر مٹنے کا جزبہ

کل بھی تھا اور آج بھی ہے…..

ہم فیس بک انتظامیہ کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی

ایسی فیس بک کو کبھی قبول نہیں کرسکتے جس پر

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی ہو

گستاخانہ مواد ڈلیٹ نہ کیا گیا تو ہم فیس بک کو بند

کرنے پر خوش ہونگے ــــــــــ !

اس پوسٹ کو شیئر کرکے غیرت کا مظاہرہ کریں

امید ہے شائد ہی کوئی بدقسمت ہوگا ایسا جو اس پوسٹ

کو شیئر نہیں کریگا

( پاکستان )