الھُدٰ ی انٹرنیشنل فرحت ہاشمی کے باطل عقائد

الھُدٰی انٹرنیشنل فرحت ہاشمی کے باطل عقائد

الہُدٰی انٹرنیشنل کا نام اب ہمارے ملک میں غیر معروف نہیں رہا۔یہ ادارہ درس قرآن کے حلقوں کے ذریعے بڑے بڑے ہوٹلز شیرٹن اور میریٹ میں جلسے منعقد کرتاہے، اس ادارے کی بانی ڈاکٹر فرحت ہاشمی ہے ۔فرحت ہاشمی کے تعارف کے بارے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ انگلینڈ سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کرکے آئی ہے۔

فرحت ہاشمی اسلام آباد کے اعلیٰ حلقوں میں کام کرنے کے بعد اب کراچی میں بھی فرحت ہاشمی نے پوش علاقوں میں کام شروع کیاہے وہ مالدار عورتوں کو گھیر کر بڑے بڑے ہوٹلوں میں درس قرآن کے ذریعے عورتوں کے ذہنوں کو بدلتی ہے ۔عورتوں کے ذہنوں میں اپنے باطل عقائد ڈالتی ہے ۔

فرحت ہاشمی کے باطل عقائد و نظر یات }

الہدیٰ انٹرنیشنل کی نگراں محترمہ ڈاکڑ فرحت ہاشمی کے نظر یات کا نچوڑ پیش خدمت ہے۔

1)…اجماع اُمّت سے ہٹ کر ایک نئی راہ اختیار کرنا ۔

2)…غیر مسلم اور اسلام بیزار طاقتوں کے نظر یات کی ہمنوائی ۔

3)…تلبیس حق و باطل ۔

4)…فقہی اختلافات کے ذریعے دین میںشکوک و شبہات پیدا کرنا ۔

5)…آسان دین ۔

6)…آداب و مستحبات کو نظر انداز کرنا ۔

اب ان بنیادی نقاط کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے ۔

1)…اجماع اُمّت سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرنا }

۱)قضائے عمری سنّت سے ثابت نہیں ۔صرف توبہ کرلی جائے قضا ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

۲)تین طلاقوں کو ایک طلاق شمار کرنا ۔

2)…غیر مسلم ،اسلام بیزار طاقتوں کے خیالات کی ہمنوائی }

۱) مولوی (علماء )مدارس اور عربی زبان سے دور ہیں ۔

۲) علماء دین کو مشکل بناتے ہیں۔آپس میں لڑاتے ہیں ۔عوام کو فقہی بحثوں میں الجھاتے ہیں بلکہ ایک موقع پر تو کہا کہ اگر کسی مسئلے میں صحیح حدیث نہ ملے تو ضعیف حدیث لے لیں لیکن علماء کی بات نہ مانیں ۔

۳) مدارس میں گرائمر ،زبان سکھانے ،فقہی نظریات پڑھانے میں بہت وقت ضائع کیا جاتا ہے ۔ قوم کو عربی زبان سیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ لوگوں کو قرآن صرف ترجمے سے پڑھا دیا جائے ۔

3) …تلبیس حق و باطل }

۱) تقلید کو شرک کہتی ہے ۔

4)… فقہی اختلافات کے ذریعہ دین میں شکوک و شبہات پیدا کرنا }

۱) اپنا پیغام ،مقصد اور متفّق علیہ باتوں سے زیادہ زور اور دوسرے مدارس اورعلماء پر طعن و تشنیع ۔

۲) ایمان ،روزہ،نماز،زکوٰۃ ،حج کے بنیادی فرائض ،سنتیں ،مستحبات ،مکروہات سکھانے سے زیادہ اختلافی مسائل میں الجھا دیا گیا ۔(پروپیگنڈہ ہے کہ ہم کسی تعصب کا شکار نہیں اور صحیح حدیث کو پھیلا رہے ہیں )

۳) نماز کے اختلافی مسائل رفع یدین ،فاتحہ خلف الامام ،ایک وتر ،عورتوں کو مسجد جانے کی ترغیب ،

عورتوں کی جماعت ان سب پر زور دیاجاتاہے ۔

۴) زکوٰۃ میں غلط مسائل بتائے جاتے ہیں خواتین کو تملیک کا کچھ علم نہیں ۔

5)…آسان دین }

۱) روزانہ یٰس شریف پڑھنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ۔نوافل میں اصل صرف چاشت اورتہجد ہے ۔اشراق اور اوّابین کی کوئی حیثیت نہیں ۔

۲) دین آسان ہے ۔بال کٹوانے کی کوئی ممانعت نہیں ۔امہات المومنین میں سے ایک کے بال کٹے ہوئے تھے ۔

۳) حدیث میں آتا ہے کہ آسانی پیدا کرو تنگی نہ کرو ۔لہٰذا جس امام کی رائے آسان معلوم ہووہ لے لیں ۔

۴) دین کی تعلیم کیساتھ ساتھ پکنک پارٹی ،اچھا لباس ،زیورات کا شوق اور محبت ۔

۵) خواتین دین کو پھیلانے کے لئے گھر سے ضرور نکلیں ۔

6)…آداب و مستحبات کی رعایت نہیں}

۱)خواتین ناپاکی کی حالت میں بھی قرآن چھو سکتی ہیں اور آیات بھی پڑھ سکتی ہیں ،قرآن نیچے ہو ہم اُوپر کی طرف ہوں اس میں کوئی حرج نہیں ۔

متفرقات

1) قرآن کا ترجمہ پڑھا کر ہر معاملے میں خود اجتہاد کی ترغیب دینا ۔

2) قرآن و حدیث کے فہم کے لئے جو اکابر علماء کرام نے علوم سیکھنے کی شرائط رکھی ہیں وہ بے کار ،

جاہلانہ باتیں ہیں ۔

ڈاکڑ فرحت ہاشمی کے سارے نظریات باطل ہیں وہ ان عقائد کے ذریعہ عورتوں کو بہکا رہی ہیں عورت چھپی ہوئی چیز کا نام ہے اسطرح عورت کی آواز بھی عورت ہے جبکہ ڈاکڑ فرحت ہاشمی ٹی وی چینلوں پر سرے عام اپنی آواز پوری دنیا کے غیر محرم لوگوں کو سنا تی ہے ۔

ایک مرتبہ اس عورت نے حضور ﷺکو (معاذاللہ )ان پڑھ کہا اورنذر ونیاز کو حرام قرا ر دیا FM100پریہ باتیں ریکارڈ ہیں فرحت ہاشمی درس قرآن کے ذریعہ لوگوں میں فتنہ و فساد پیداکرتی ہے تاکہ لوگ قرآن کو دیکھ کر اسکے قریب آئیں اور پھر اس کے جال میں پھنس جائیں ۔

مسلمان عورتوں کو چاہئے کہ وہ اس فتنے سے بچیں اس کے عقائد باطل ہیں نہ تین میں ہیں نہ تیرہ میں ہیں ۔اس عورت کے پیچھے کن لوگوں کا ہاتھ ہے جو اس عورت پر کروڑوں روپیہ خرچ کررہے ہیں اس کو ڈالر اور ریال پال رہے ہیں ۔

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا اور غیرمقلد زبیر علی زئی کے اعتراضات کا تحقیق جائزہ اور اس کا رد

وسیلہ کے منکر غیرمقلد زبیر علی زئی حدیث وفات حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا کو اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ میں درج کرتا ہے اور اس پر جرح کر کے اس کو ضعیف ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔

لہذا ہم یہاں غیرمقلد زبیرعلی زئی کے ایک ایک اعتراض کو نقل کرتے جائیں گے اور ساتھ میں ان کا رد کرتے جائیں۔

زبیر علی زئی اپنی کتاب فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام) ج2 ص 542 پر لکھتا ہے:

روح بن صالح کی بیان کردہ ایک روایت میں آیا ہے:

’’حدثنا سفیان الثوری عن عاصم الاحول عن انس بن مالک قال:

لما ماتت فاطمة بنت اسد بن هاشم ام علی، دخل علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم فجلس عند راسها فقال: رحمک الله یا امی، کنت امی بعد امی، تجوعین و تشبعینی و تعرین و تکوسننی و تمنعین نفسک طیب الطعام و تطمعینی، تریدین بذلک وجه الله والدار الآخرة، ثم امر ان تغسل ثلاثا و ثلاثا، فلما بلغ الماء الذی فیه الکافور سکبه علیها رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده، ثم خلع رسول الله صلی الله علیه وسلم قمیصه فالبسه ایاه و کفنت فوقه، ثم دعا رسول الله صلی الله علیه وسلم اسامة بن زید و ابا ایوب الانصاری و عمر بن الخطاب و غلاما اسود لیحفروا فحفروا قبرها فلما یلغوا اللحمد حفره رسول الله صلی الله علیه وسلم بیده و اخرج ترابه بیده، فلما فرغ دخل رسول الله صلی الله علیه وسلم فاضجع فیه وقال:

الله الذی یحیی و یمیت و هو حی لایموت، اغفرلامی فاطمة بنت اسد و لقنها حجتها و وسع علیها مدخلها بحق نبیک والانبیاء الذین من قبلی، فانک ارحم الراحمین، ثم کبر علیها اربعا، ثم ادخلوها القبر هو والعباس وابوبکر الصدیق رضی الله عنهم۔‘‘

ہمیں سفیان ثوری نے حدیث بیان کی، انھوں نے (عن کے ساتھ) عاصم الاحول سے، انھوں نے انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے، انھوں نے فرمایا:

جب علی رضی اللہ عنہ کی والدہ: فاطمہ بنت اسد بن ہاشم (رضی اللہ عنہما) فوت ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے پھر آپ ان کے سر کی طرف بیٹھ گئے تو فرمایا: اے میری ماں! اللہ تجھ پر رحم کرے، میری (حقیقی) ماں کے بعد تو میری ماں تھی، تو خود بھوکی رہتی اور مجھے خوب کھلاتی، تو کپڑے (چادر) کے بغیر سوتی اور مجھے کپڑا پہناتی، تو خود بہترین کھانا نہ کھاتی اور مجھے کھلاتی تھی، تمھارا مقصد اس (عمل) سے اللہ کی رضامندی اور آخرت کاگھر تھا۔

پر آپ نے حکم دیا کہ انھیں تین، تین دفعہ غسل دیا جائے، پھر جب اس پانی کا وقت آیا جس میں کافور (ملائی جاتی) ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے ان پر پانی بہایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر انھیں پہنا دی اور اسی پر انھیں کفن دیا گیا۔

پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ بن زید، ابو ایوب الانصاری، عمر بن الخطاب اور ایک کالے غلام کو بلایا تاکہ قبر تیار کریں پھر انھوں نے قبر کھودی، جب لحد تک پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے ہاتھ سے کھودا اور اپنے ہاتھ سے مٹی باہر نکالی پھر جب فارغ ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قبر میں داخل ہوکر لیٹ گئے اور فرمایا:

اللہ ہی زندہ کرتا اور مارتا ہے اور وہ زندہ جاوید ہے کبھی نہیں مرے گا۔

(اے اللہ!) میری ماں فاطمہ بنت اسد کو بخش دے اور اس کی دلیل انھیں سمجھا دے، اپنے نبی اور مجھ سے پہلے نبیوں کے (وسیلے) سے ان کی قبر کو وسیع کردے، بے شک تو ارحم الراحمین ہے۔

پھر آپ نے ان پرچار تکبیریں کہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)، عباس اور ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہما (تینوں) نے اسے قبر میں اتار دیا۔

(المعجم الاوسط للطبرانی ۱۵۲/۱۔ ۱۵۳ ح۱۹۱، وقال: ’’تفروبہ روح بن صلاح‘‘ و عنہ ابو نعیم الاصبہانی فی حلیۃ الاولیء ۱۲۱/۳، و عندہ: یرحمک اللہ… الحمدللہ الذی یحیی…، وعنہ ابن الجوزی فی العلل المتناہیہ ۲۶۸/۱، ۲۶۹ ح۴۳۳)

زبیرعلی زئی کے اعتراضات کے جواب:

اعتراض1: زبیرعلی زئی لکھتا ہے

یہ روایت دو وجہ سے ضعیف ہے و مردود ہے:

اول: اس کا راوی روح بن صلاح جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف و مجروح ہے۔

ابن عدی نے کہا: ’’وفی بعض حدیثہ نکرۃ‘‘

اور اس کی بعض حدیثوں میں منکر روایات ہیں۔

(الکامل ۱۰۰۶/۳، دوسرا نسخہ ۶۳/۴)

الجواب: یہ اعتراض زبیر علی زئی کا علامہ ابن عدی کے منہج سے جاہل ہونے کا نتیجہ ہے حقیقت میں یہ جرح ہی نہیں ہے۔

اس کا جواب ہم محدثین کے حوالہ جات سے پیش کرتے ہیں:

امام ابن حجر عسقلانی (المتوفی: 752ھ) علامہ ابن عدی کے منہج کے بارے میں لکھتے ہیں:

و من عادتہ فیہ ان یخرج الاحادیث التی انکرت علی الثقۃ او علی غیرالثقۃ

اس کتاب (الکامل لابن عدی) میں علامہ ابن عدی کی یہ عادت ہے کہ وہ ثقہ اور غیر ثقہ کی منکر احادیث کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(مقدمہ فتح الباری ص 429)

امام تاج الدین سبکی (المتوفی: 771ھ) فرماتے ہیں:

و ذکر فی کل ترجمۃ حدیثا فاکثر من غرائب ذاک الرجل و مناکیرہ

اور علامہ ابن عدی ہر راوی کے ترجمہ میں اس کی غریب اور منکر احادیث میں سے ایک یا اس سے زیادہ کا تذکرہ کرتے ہیں۔

(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ ج 3 ص 316)

امام ذہبی (المتوفی: 748 ھ) لکھتے ہیں:

و یروی فی ترجمۃ حدیثا او احادیث مما استنکر للرجل

اور علامہ ابن عدی راوی کے ترجمہ میں اس کی منکر احادیث میں سے ایک یا کئی احادیث ذکر کرتے ہیں۔

(سیراعلام النبلاء ج 16 ص 155- 156)

اس کے علاوہ خود علامہ ابن عدی بھی اپنی کتاب میں اپنے منہاج کی تصریح کی ہے چنانچہ مہلب بن ابی حبیبۃ کے ترجمہ میں لکھتے ہیں:

لم ارلہ حدیثا منکرا فاذکرہ

میں نے ان کی کوئی منکر حدیث نہیں دیکھی کہ اس کا تذکرہ کروں۔

(الکامل فی ضعفاء الرجال ج 8 ص 228)

اس سے ثابت ہوتا ہے علامہ ابن عدی کی عادت ہے کہ وہ اپنی کتاب الکامل فی ضعفاءالرجال میں ثقہ اور غیر ثقہ کی مناکیر روایات کا ذکر کرتے ہیں اور یہاں روح بن الصلاح کی مناکیر روایت کا ذکر کرنا جرح ہونا ثابت نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ اس روایت کو امام ابن عدی نے منکرات میں شمار نہیں کیا۔لہذا یہ اعتراض باطل ہے

روح بن الصلاح کی مناکیر روایات کا تحقیقی جائزہ

علامہ ابن عدی نے جو منکر روایات روح بن الصلاح کے ترجمہ میں ذکر کی ہیں حقیقت میں علامہ ابن عدی کو وہ روایات مجہول اور کذاب رواۃ کے طرق سے پہنچی ہیں جس میں روح بن الصلاح کا کوئی ہاتھ نہیں ہے۔

اب آتے ہیں علامہ ابن عدی کی درج شدہ روایات پر پھر اس پر تحقیقی تبصرہ کر کے روح بن الصلاح کو بری ذمہ ثابت کرتے ہیں

علامہ ابن عدی کی پہلی روایت:

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ علي بْن بيان الغافقي بمصر في رجب سنة تسع وتسعين ومِئَتَين.

حَدَّثني رُوحُ بْنُ سِيَابةَ أَبُو الْحَارِثِ الَحَارِثِيُّ، حَدَّثني سَعِيد بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَن مُحَمد بْنِ عَبد الرَّحْمَنِ عَنْ عَبد اللَّهِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعَمٍ أَنّ رَسُولَ اللَّه صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيه وسَلَّم قَال: لَيْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا إِلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ وَلَيْسَ مِنَّا مَنْ مَاتَ عَلَى عَصَبِيَّةٍ.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں علامہ ابن عدی نے خود تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ علامہ ابن عدی کے شیخ جعفر بن احمد بن علی بن بیان الغافقی خود ان کے نزدیک کذاب ہیں۔

علامہ ابن عدی خود اپنے شیخ کے بارے میں لکھتے ہیں:

أَبُو الفضل الغافقي مصري يعرف بابن أَبِي العلاء كتبت عنه بمصر في الدخلة الأولى فِي سنة تسع وتسعين ومِئَتَين وكتبت في الدخلة الثانية في سنة أربع وثلاثمِئَة وأظن فيها مات (ح) وحدثنا هُوَ، عَن أَبِي صَالِح كاتب الليث وسعيد بْن عفير، وَعَبد اللَّه بْن يُوسُف التنيسي وعثمان بن صالح كاتب بن وهب وروح بْن صلاح، وَهو بن سيابة ونعيم بْن حَمَّاد وغيرهم بأحاديث موضوعة وكنا نتهمه بوضعها بل نتيقن فِي ذلك وَكَانَ مع ذلك رافضيا.

(الکامل لابن عدی ج 2 ص 400 رقم 348)

لہذا اس منکر روایت سے روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی دوسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ بْنُ بِجْمَاكَ البُخارِيّ بِدِمَشْقَ، قَال: حَدَّثني عِيسَى بْنُ صَالِحٍ الْمُؤَذِّنُ بِمِصْرَ، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ نَافِعٍٍ، عنِ ابْنِ عُمَر قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی علامہ ابن عدی نے تحقیق سے کام نہیں لیا کیونکہ اس میں بھی خود علامہ ابن عدی کے شیخ عصمہ بن بجماک مجہول ہیں ۔خود اس کا تذکرہ علامہ ابن عدی نے بھی نہیں کیا اپنی کسی بھی کتاب میں اس کے علاوہ عیسیٰ بن صالح الموذن خود علامہ ابن عدی کے نزدیک بھی مجہول ہے۔

علامہ ابن عدی روح بن صلاح کے ترجمہ میں عیسیٰ بن صالح المؤذن کے بارے میں لکھتے ہیں:

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔

علامہ ابن عدی کی تیسری روایت:

حَدَّثني عِصْمَةُ، حَدَّثني عَنْسِيُّ بْنُ صَالِحٍ المؤذن بمصر، حَدَّثَنا روح بن صلاح، حَدَّثَنا ابْنُ لَهِيعَة عَنِ الأَعْرَجِ وَأَبِي يُونُس، عَن أَبِي هُرَيْرَةَ قَال رَسُول اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيهِ وَسلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ زُرْ غُبًّا تَزْدَدَ حُبًّا.

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس روایت میں بھی وہی عصمہ بن بجماک اور عیسیٰ بن صالح المؤذن راوی ہیں جو کہ مجہول ہیں ۔لہذا اس منکر روایت سے بھی روح بن صلاح بری ذمہ ہیں۔اس لیے آخر میں علامہ ابن عدی کو بھی حقیقت تسلیم کرنی پڑی یہ لکھ کر

وهذان الحديثان بإسناديهما ليسا بمحفوظين ولعل البلاء فيه من عيسى هذا فإنه ليس بمعروف

یہ دو احادیث اپنی سند کے ساتھ غیر محفوظ ہیں ۔شاید اس میں بلا (مصیبت) اس عیسٰی کی وجہ سے آئی ہے کیونکہ وہ مشہور نہیں ہے ۔

(الکامل لابن عدی ج 4 ص 63 رقم 667)

اس سے ثابت ہوا کہ علامہ ابن عدی کو کوئی بھی منکر روایت کی صحیح سند روح بن صلاح تک نہ مل سکی لہذا بنا کوئی دلیل کے علامہ ابن عدی کا روح بن صلاح کو ضعیف قرار دینا صحیح نہیں ہےاور اس سے علامہ ابن عدی کی جرح کمزور اور غیرمفسر ثابت ہو رہی ہے جو کہ اصول حدیث میں قبول نہیں۔

اعتراض نمبر2: ابن یونس المصری نے کہا: ’’روت عنہ مناکیر‘‘ اس سے منکر روایتیں مروی ہیں۔ (تاریخ الغرباء بحوالہ لسان المیزان ۴۶۶/۲، دوسرا نسخہ ۱۱۰/۳)

الجواب: یہ اعتراض بھی فضول ہے کیونکہ تاریخ ابن یونس میں روح بن صلاح کے بارے میں روت عنہ منکر نہیں کہا ۔ علامہ ابن یونس کی اصل عبارت یہ ہے۔

وقد قيل: إن «روح بن صلاح» من الموصل ناقلة إلى مصر. وأما دارهم، فبمصر فى مراد الحارثين. والله أعلم

(تاریخ ابن یونس ج 1 ص 302 رقم 816)

علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ سے یہاں تسامح ہو گیا ہے تاریخ ابن یونس سے عبارت نقل کرتے وقت (واللہ اعلم)

لہذا امام ابن یونس کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض 3: امام دارقطنی نے کہا: ’’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘

وہ حدیث میں ضعیف تھا، مصر می رہتا تھا۔ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳)

الجواب: اس بات کا تعلق امام دارقطنی کی دوسری کتاب کے ساتھ ہے لہذا اس کی وضاحت نیچے آ رہی ہے۔

اعتراض 4: ابن ماکولا نے کہا: ’’ضعفوہ فی الحدیث‘‘ انھوں نے اسے حدیث میں ضعیف قرار دیا ہے۔ (الاکمال ۱۵/۵، باب شبابہ و شبانہ و سیابہ)

الجواب: اس میں امام ابن ماکولا نے کوئی جرح نہیں کی بلکہ ا نہوں نے کسی اور کی طرف اشارہ کیا "ضعفوہ” میں واؤ ضمیر کا مرجع کون ہے؟؟؟

کیونکہ اس میں کسی نام کی تصریح نہیں کہ کس نے ضعیف قرار دیا ہے لہذا یہ جرح بھی مبہم اور غیرمفسر ہے۔

لہذا امام ابن ماکولا کو جارح شمار کرنا مردود ہے۔

اعتراض5 :حافظ ذہبی نے کہا: ’’لہ مناکیر‘‘ اس کی منکر روایتیں ہیں۔ (تاریخ الاسلام ۱۶۰/۱۷)

الجواب: منکر روایات ہونا کوئی جرح نہیں یہ بھی زبیر زئی کی جہالت ہے کیونکہ بہت سے ثقہ محدثین نے مناکیر روایات روایت کی ہیں کیا وہ سب ضعیف ہو جائیں گے اس سے؟؟؟

اس کے باوجود امام ذہبی نے اس روایت کو منکر روایت میں شمار نہیں کیا جس سے ثابت ہوتا ہے یہ روایت روح بن صلاح کی منکرات میں سے نہیں ہے

اعتراض 6: ابن الجوزی نے روح بن صلاح کو اپنی کتاب المجروحین (۲۸۷/۱) میں ذکر کیا اور اس کی بیان کردہ حدیث مذکور کو ’’الاحادیث الواھیۃ‘‘ یعنی ضعیف احادیث میں ذکر کیا۔ (دیکھئے العلل المتاہیہ: ۴۳۳)

الجواب: ابن جوزی نے یہاں ابن عدی کی تقلید کی اور اس کی مبہم اور غیرمفسر جرح سے روح بن صلاح کو ضعیف کہا جس سے ثابت ہوا کہ ابن جوزی صرف جرح کرنے والے ناقل ہیں خود انہوں نے جرح نقل نہیں کی لہذا اس کو جارح شمار کرنا باطل اور مردود ہے۔ امام ابن جوزی لکھتے ہیں

روح بن صَلَاح وَيُقَال روح بن شَبابَة يكنى أَبَا الْحَارِث

يروي عَن ابْن لَهِيعَة

قَالَ ابْن عدي هُوَ ضَعِيف

الضعفاء والمتروکین لابن جوزی ج 1 ص 287 رقم 1243

اعتراض6: احمد بن محمد بن زکریا ب ابی عتاب ابوبکر الحافظ البغدادی، اخومیمون (متوفی ۲۹۶ھ) نے کہا: ہمارا اس پر اتفاق ہوا کہ مصر میں علی بن الحسن السامی، روح بن صلاح اور عبدالمنعم بن بشیر تینوں کی حدیثیں نہ لکھیں۔ (لسان المیزان ۲۱۳/۴۔ ۲۱۴، سوالات البرقانی الصغیر: ۲۰، بحوالہ المکتبۃ الشاملۃ و سندہ صحیح)

الجواب : یہ جرح امام دارقطنی کی بات سے تعلق رکھتی ہے

جس کی پوری وضاحت یہ ہے۔

قال لی ابوالحسن : سمعت اباطالب یقول : قال لی اخو میمون ، اسمہ احمد بن محمد بن زکریا ابوبکر بغدادی اقام بمصر

‘اتفقنا علی ان لایکتب بمصر حدیث ثلاثۃ : علی بن الحسن السامی، و روح بن صلاح و عبدالمنعم بن بشیر۔(اس کا ترجمہ اوپر زبیر زئی نے کیا ہوا ہے آگے والی عبارت کو زبیر علی زئی نے چھپا لیا ہے کیونکہ اس سے امام دارقطنی کی جرح مبہم ثابت ہوتی تھی آگے والی ہم پیش کر کے زبیر زئی کا رد پیش کرتے ہیں)

اس عبارت کے آگے امام دارقطنی فرماتے ہیں:

ثم قال لی ابوالحسن : و روح بن صلاح یقال لہ ایضا : روح بن سیابۃ مصری ، و کذا عبدالمنعم مصری ، و علی بن الحسن السامی مصری۔

پھر مجھے امام دارقطنی نے کہا روح بن صلاح کے بارے میں اسی طرح کہا گیا ، روح بن سیابہ مصری اور اسی طرح عبدالمنعم مصری اور علی بن الحسن السامی مصری۔

(سوالات ابی بکر البرقانی للدارقطنی ، ص 56 رقم 18)

امام دارقطنی کی جرح ’کان ضعیفا فی الحدیث، سکن مصر‘‘ (الموتلف و المختلف ۱۳۷۷/۳) کی یہاں وضاحت ہوگی ہے اس سے مراد اس کی احادیث نہ لکھی جائیں۔

پہلے تو یہ اتفاق باطل ہے کیونکہ روح بن صلاح کی روایات بہت سے محدثین نے لکھیں ہیں خود امام دارقطنی نے بھی سنن دارقطنی رقم ٤٥١٤ میں لکھ کر خاموشی اختیار کی ہے.

لہذا اب یہاں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا "لایکتب حدیثہ” جرح مفسر ہوتی ہے؟؟

اس کا جواب غیر مقلدین کے ذہبی عصر عبدالرحمن معلمی غیرمقلد اپنی کتاب التنکیل ج1 ص 109 پر دیتا ہے۔

"ان کلمۃ لا تکتب حدیثہ لیس بتصریح فی الجرح”

یعنی لا تکتب حدیثہ کا کلمہ جرح میں صریح نہیں ہے۔

اس کے علاوہ زبیر علی زئی کے ممدوح ارشاد الحق اثری لکھتے ہیں "

"کسی محدث کا کسی راوی سے حدیث نہ لینا اس کے ضعف کا موجب نہیں (توضیح الکلام ج1/548)

لہذا امام دارقطنی اورابوبکر بغدادی کی یہ جرح مبہم ہے اور زبیر علی زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے۔

اعتراض 7: ابن عدی، ابن یونس، دارقطنی، ابن ماکولا، ذہبی، ابن جوزی اور احمد بن محمد بن زکریا البغدادی (سات محدثین) کے مقابلے میں حافظ ابن حبان نے روح بن صلاح کو کتاب الثقات میں ذکر کیا۔ (۲۴۴/۸)

حاکم نے کہا: ’’ثقہ مامون، من اھل الشام‘‘ (سوالات مسعود بن علی السجزی: ۶۸، ص۹۸)

اور یعقوب بن سفیان الفارسی نے اس سے روایت لی۔ (موضح اوہام الجمع و التفریق للخطیب ۹۶/۲، و فیہ علی بن احمد بن ابراہیم البصری شیخ الخطیب)

مختصر یہ کہ جمہور علماء کی جرح کے مقابلے میں تین کی توثیق مردود ہے۔

الجواب: ابن عدی کی جرح ضعیف و مبہم ہے امام دارقطنی اور اابوبکر بغدادی کی جرح کی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے وہ بھی مبہم ہے جس کو ہم اوپر ثابت کر آئے ہیں۔

امام ابن یونس نے کوئی جرح نقل نہیں کی امام ابن ماکولا اور امام ابن جوزی ناقل ہیں خود جارح نہیں اس جرح میں۔امام ذہبی نے کوئی جرح نہیں کی۔اس سے ثابت ہوتا ہے زبیر علی زئی کی ریاضی کمزور ہے ناقلین کو بھی جارحین میں شمار کیا ہوا ہے۔

تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے جرح مبہم ہے اور مبہم جرح کو جمہور کہنا زبیر علی زئی کی جہالت ہے اور اس میں روح بن صلاح کی توثیق ہی راجح ہے۔ (واللہ اعلم)

اعتراض 8 دوم: روح بن صلاح (ضعیف) ااگر بفرض محال ثقہ بھی ہوتا تو یہ سند سفیان ثوری (مدلس) کی تدلیس (عن) کی وجہ سے ضعیف ہے۔

سفیان ثوری کے بارے میں محمد عباس رضوی بریلوی نے کہا:

’’یعنی سفیان مدلس ہے اور روایت انہوں نے عاصم بن کلیب سے عن کے ساتھ کی ہے اور اصول محدثی کے تحت مدلس کا عنعنہ غیرمقبول ہے جیسا کہ آگے انشاء اللہ بیان ہوگا۔‘‘ (مناظرے ہی مناظرے ص۲۴۹)

سفیان ثوری کی تدلیس کے بارے میں مزید تفصیل کے لئے دیکھئے ماہنامہ الحدیث حضرو: ۶۷ ص۱۱۔۳۲

خلاصۃ التحقیق یہ ہے کہ سوال میں روایت مذکورہ غیر ثابت ہونے کی وجہ سے ضعیف و مردود ہے۔

نیز دیکھئے سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ للالبانی (۳۲/۱۔ ۳۴ ح۲۳ وقال: ضعیف)

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)

ج2ص542

الجواب : امام سفیان ثوری دوسرے طبقہ کے مدلس ہیں ان کی عن والی روایت جمہور کے نزدیک قبول ہے۔

خود غیر مقلد کفایت اللہ سنابلی اپنی جماعت کے غیر مقلد زبیر علی زئی کا رد کرتے ہوئے لکھتا ہے۔

"اور سفیان ثوری رحمہ اللہ قلیل التدلیس ہی ہیں ، لہذا ان کا عنعنہ بھی مقبول ہے، بلکہ ان کے عنعنہ کے مقبول ہونے پر اجماع ہے۔(انوارالبدر طبع جدید ص 354)

خود زبیر علی زئی کے استاد محمد یحیی گوندلوی لکھتا ہے

"بلاشبہ بعض محدثین نے امام ثوری کو مدلس کہا ہے مگر یہ مدلس کے اس طبقہ میں ہیں جہاں تدلیس مضر اور روایت کی صحت کے مانع نہیں ہے۔حافظ ابن حجر کی اصولی تحریر سے واضح ہو گیا ہے کہ اگرچہ امام ثوری مدلس تھے مگر ان کی تدلیس مضر نہیں جو حدیث کی صحت پر اثر انداز ہو اور حدیث کو تدلیس کی وجہ سے رد کر دیا جائے،

(خیرالبراہین فی الجہربالتامین ص 25-26)

اس کے علاوہ اس مسئلہ پر خود زبیر علی کے استاد محب راشدی اور بدیع الدین راشدی نے اپنے شاگرد کا رد کیا۔مزید تحقیق کے لیے مقالات راشدیہ جلد اول اور مقالات اثریہ کا مطالعہ کریں۔

علامہ محمد عباس رضوی صاحب نے یہ بات غیر مقلد محمدسلیمان سے تحریری مناظرے میں الزامی جواب کے طور پر ہاتھ باندھنے کے موضوع پر لکھی ہے۔ کیونکہ غیرمقلدین حضرات رفع یدین کے مسئلہ پر امام سفیان ثوری کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف لکھتے ہیں۔

جب کہ خود علامہ محمد عباس رضوی نے اسی کتاب مناظرے ہی مناظرے ص 356 پر لکھتے ہیں امام سفیان ثوری پر جرح اور اس کا جواب۔اس سرخی میں غیرمقلدین کے اعتراضات کے جواب دیئے لہذا زبیر زئی کا اس سے استدلال کرنا باطل و مردود ہے

اس تحقیق کا خلاصہ یہ ہے کہ روح بن صلاح حسن درجے کا راوی ہے اور زبیر علی زئی کے تمام اعتراض ضعیف اور مبہم جرح پر مبنی ہیں ایک جرح بھی مفسر نہیں اس کے علاوہ امام یعقوب بن سفیان جیسے متشدد محدث نے ان سے روایت لی اور یہ ان سے روایت لیتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہوتے ہیں ۔امام حاکم کا تساہل صرف مستدرک تک محدود ہے اس کا اظہار خود غیرمقلد کفایت سنابلی نے بھی کیا ہے محدث فورم پر۔لہذا اس راوی پر امام حاکم کا تساہل ثابت نہیں ہوتا، اس کے علاوہ امام ابن حبان بھی اس توثیق میں منفرد نہیں ہیں لہذا یہاں ان سے تساہل ثابت نہیں ہوتا۔

اگر مبہم جرح کو تسلیم بھی کیا جائے تو پھر بھی راوی ضعیف ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس کی توثیق بھی ثابت ہے لہذا مبہم جرح اور توثیق کی تطبیق سے ثقہ کے درجہ سے گر کر یہ راوی حسن الحدیث پر ہی فائز ہوتا ہے اور زبیر علی زئی کا بھی یہ منہج ہے اپنی کتب میں۔ (واللہ اعلم)

خادم حدیث شریف:

رضاءالعسقلانی

غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بے نماز کاحکم : بے نماز کے بارے میں احادیث میں سخت وعید آئی ہے ۔ حتٰی کہ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جان بوجھ کر جو نماز چھوڑے وہ کافر ہو گیا ۔ اکثر علماء تو اس حکم کو تہدید اور تشدید پر محمول کرتے ہیں ۔ جبکہ غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو قسم کے نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ بے نماز کافر تو ہو جاتا ہے ۔ مگر ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا اس لئے اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے ۔ چناچہ غیر مقلد شیخ الکل فی الکل مولانا نزیر حسین صاحب دہلوی ۔لکھتے ہیں ۔

جن احادیث سے تارک الصلوۃ کا کفر ثابت ہوتا ہے ۔ ان احادیث سے وہ بلا شبہ کافر ہیں اور ان کو کافر کہنا روا ہے ۔ مگر ہاں تارک الصلٰوۃ کا کفر ایسا کفر نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ملت اسلام سے خارج ہو جائے اور مغفرت و شفاعت و دخول جنت کا مستحق نہ رہے ۔ { فتاوٰی نزیریہ ج1 ص463 }

اور مبارکپوری صاحب نے بھی یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے اسی عبارت کو پیش کیا ہے ۔ {ملاحظہ ہو فتاوٰی ثنائیہ ج1 ص 467 و فتاوٰی علمائے حدیث ج4ص263 }

اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں ۔

ہاں فی زمانتا حسب مصلحت وقت تہدیدا تارک الصلٰوۃ کو مطلق کافر کہنا جائز ہے ۔ نہ یہ کہ مانند کفار غسل و تجہیز و تکفین و نماز جنازہ سے محروم کیا جائے ۔

{ فتاوٰی نزیریہ ج 4 ص 270 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ بے نماز کے بارہ میں غیر مقلدین حضرات کا یہ ہے کہ وہ کافر ہے اور ملت اسلام سے خارج ہے ۔چناچہ غیر مقلد عالم مولانا عبداللہ امرتسری صاحب ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ۔

ہاں نماز ایسا رکن ہے کہ اس کے نہ پڑھنے سے ایمان ہی نہیں رہتا ۔

{ فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص 116 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ ۔ بے نماز کا جنازہ نہ پڑھنا چاہئے ۔ {فتاوٰی اہلحدیث ج2ص46 }

اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں ۔ جو کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے یا بالکل نماز کا تارک ہو اس کے ساتھ دوستانہ تعلق اور اس کے ساتھ محبت کے طور پر سلوک کرنا یا تحفہ وغیرہ بھیجنا اور ضیافت کرنا بالکل جائز نہیں ۔ ہاں عام لین دین جیسے ہندؤں وغیرہ سے کرتے ہیں ان کی دوکانوں سے سودا وغیرہ لیتے ہیں اور ان کی دوکانوں پر اشیاء وغیرہ فروخت کرتے ہیں اس کا کوئی حرج نہیں ۔ اور اسی صفحہ پر ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج 2 ص 37 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ بے نماز کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 38}،چشتی)

ایک مقام میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز کی بابت صحیح یہی ہے کہ بالکل کافر ہے ۔ پس اس کے ساتھ کافروں سا سلوک چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 48 }

اور ایک مقام پر لکھتے ہیں ۔

بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ پھر آگے لکھتے ہیں ۔ اور بے نماز جب کافر ہوا تو اس کا کھانا مثل عیسائی کے کھانے کے سمجھ لینا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج3 ص364 }

بے نماز کی اولاد : غیر مقلدین بے نماز کو کافر کہتے ہیں اور کافر کا تو نکاح ہی معتبر نہیں ۔ جب اس کا نکاح نہیں تو اولاد کو ولدالحرام ہی کہنا چاہیے مگر یہاں آ کر غیر مقلدین کو احتیاط یاد آ گئی اور یوں کہنے لگے ۔

مگر چونکہ بے نماز کا کفر ظنی ہے اس لئے اس کی اولاد کو ولدالحرام کہنے میں زرا احتیاط چاہیے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 47 }

محترم قارئین : یہ ہیں غیر مقلدین جو مسلمانان احناف مقلدین کے بارہ میں تو خوب شور مچاتے ہیں کہ ان میں یہ اختلاف ہے وہ اختلاف ہے ۔ مگر اپنے گھر کے اختلافات پہ بالکل خاموش نظر آتے ہیں ۔

قرآن کریم کو بے وضو ہاتھ لگانا

غیر مقلدین حضرات کے نزدیک بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتا ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم نواب نورالحسن بھوپالی لکھتے ہیں : محدث را مس مصحف جائز باشد ۔ {عرف الجادی ص15 }

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز ہے ۔

اور غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں : ولا یمنع الحدث المس ۔

{ کنزالحقائق ص 15}،چشتی)

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا منع نہیں ہے ۔

اسی طرح انہوں نے اپنی کتاب نزل الابرار ص 26 ج 1 میں لکھا ہے کہ ۔ ہمارے اکثر اصحاب نے بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیا ہے۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود کر لیں کہ میرے اللہ کا حکم ہے کہ پاکی کے بغیر ہاتھ مت لگاؤ اور غیر مقلدین فرما رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں آپ لگا سکتے ہیں ۔

حیض والی عورت کے لئے قرآن کریم کی تلاوت

حیض والی عورت قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ایک دو حرف کی تلاوت کر سکتی ہےمگر پوری آیت نہیں ۔

چناچہ محدث مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں : واما قراء الآ یۃ بتمامھا فلا یجوز لھما البتۃ ۔ جنبی اور حیض والی عورت دونوں کے لئے قرآن کریم کی مکمل آیت کی تلاوت بالکل جائز نہیں ہے ۔ { تحفۃ الجوذی ج 1 ص 124 }

اسی طرح غیر مقلد عالم نواب نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ و جنب و حائض را در آمدن مسجد و خواندن قرآن حران ست نہ حلال ۔ جنبی آدمی اور حیض والی عورت کے لئے مسجد میں آ نا اور قرآن کریم پڑھنا حرام ہے ۔ { عرف الجادی ص15 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اگر حیض والی عورت متعلمہ ہے تو وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر سکتی ہے اور ہاتھ بھی لگا سکتی ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں ۔ ورخصواللحائضۃ المتعلمۃ فی مس المصحف والتلاوۃ ۔{ نزل الابرار ج1 ص 26}،چشتی)

یعنی غیر مقلدین حضرات نے طالبہ کے لئے جب کہ وہ حٰض کی حالت میں ہو تو اس کو قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کی اجازت دی ہے ۔

اسی طرح وہ اپنی کتاب کنزالحقائق ص 15 میں بھی حیض میں مبتلا طالبہ کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں کہ ہاتھی کہ دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کی مانند غیر مقلدین کا اپنا کیا حال ہے ۔

تعظیم قبلہ : مسلمان قبلہ کی تعظیم کرتے ہیں اور ایسے کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو قبلہ کی توہین کا باعث ہو اور جمہور مسلمان قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پیشاب وغیرہ کرنے کو اور اسی طرح بلا عزر قبلہ کی جانب پاؤں پھیلانے کو بھی تعظیم کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ مگر غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ تعمیر شدہ بیت الخلاء میں اگر کوئی بیٹھ کر پیشاب وغیرہ کرے تو پھر کعبہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

چناچہ ایک سوال میں لکھا گیا کہ : قضائے حاجت کا کیا طریقہ ہے ؟

تو جواب دیا گیا کہ بیٹھنے کے وقت زمین کے قریب ہو کر کپڑا اٹھانا چاہیے قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنے سے پرہیز رکھے ہاں اگر آگے پیچھے پردہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص251}

اسی طرح قضائے حاجت کے مسائل بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ۔ پیشاب یا پخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ بیت الخلاء میں بوقت ضرورت جائز ہے ۔ { فتاوٰی علمائے حدیث ج1ص33}،چشتی)

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ پیچاب اور پخانہ کی حالت میںقبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنا منع ہے خواہ کھلی جگہ ہو یا تعمیر شدہ بیت الخلاء ہو ۔ چناچہ نواب مولانا نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ واستقبال واستدبارقبلہ نزدریدن و شاشدن ۔ {عرف الجادی ص11}

اسی طرح غیر مقلد عالم محدث مبارکپوری صاحب اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : فالحاصل ان اولی الاقوال واقواھا عندی واللہ اعلم ھو قول من قال انہ لایجوزالاستقبال والاستدبار مطلقا ۔ { تحفۃ الاحوذی ج1ص20}

تو اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ : ان اقوال میں سے سب سے بہتر اور قوی قول میرے نزدیک ان لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ متلقا { خواہ کھلی جگہ ہو یا بیت الخلاء میں } قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ واللہ اعلم

محترم قارئین : غیر مقلد علماء کے نظریات ملاحظہ فرمالیں ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر سکتے ہیں اور دوسرا صاحب فرما رہے ہیں کہ قطعا نہیں کر سکتے ۔

جرابوں پر مسح کرنا : جرابوں پر مسح کرنے کے بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریئے ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ہر قسم کی جرابوب پر مسح جائز ہے ۔ چناچہ اس بارہ میں سوال ہوا تو جواب دیا گیا کہ : پائتا {جراب} پر مسح کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؛ فتاوٰی ثنائیہ ج1ص441}،چشتی)

مولانا محمد صادق سیالکوٹی صاحب جرابوں پر مسح کی بحث کر کے آخر میں لکھتے ہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ جورب پاؤں کے لفافے یا لباس کو کہتے ہیں وہ لباس خواہ چرمی ہو ، خواہ سوتی یا اونی وغیرہ ہم اس پر مسح کر سکتے ہیں ۔ { صلوۃ رسول ص111 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ ہے کہ پتلی جرابوں پر مسح کرنا درست نہیں ہے چناچہ ایک سوال کے جواب میں مولانا ابوالبرکات صاحب لکھتے ہیں جسکی تصدیق محدث گوندلوی مرحوم نے کی ہے ۔ جرابوں پر مسح والی حدیث ضعیف ہے جس سے قرآن کی تخصیص درست نہیں لہٰزا ہم شرط لگاتے ہیں کہ جرابیں موٹی ہونے کی صورت میں مسح جائز ہے ۔ اگر موٹی نہیں تو پھر جائز نہیں ۔ { فتاوی برکاتیہ ص224 }

ایک سوال کے جواب میں مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں ۔ المسح علی الجوربۃ لیس بجائز لانہ لم یقم علا جوازہ دلیل صحیح ۔ { فتاوی ثنائیہ ج1 ص243}

کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے اسلئے کہ اس کے جواز پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے

ایک سوال ہو کہ اونی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں ؟ تو جواب دیا گیا مزکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے ۔ { فتاوی نزیریہ ج1 ص337 }

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں ایک صاحب فرما رہیے ہیں کہ جرابوں پر مسح جائز ہے اوردوسرے حضرت فرما رہے ہیں کہ جائز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فتنہ غیر مقلدیت سے اہلِ ایمان کو بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No automatic alt text available.

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان اور میلاد مصطفیﷺ

Resultado de imagen de ‫بوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا‬‎

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان کی کتاب میں ذکر میلاد مصطفیﷺ کرنے کی تاکید

ماہ ربیع الاول میں ذکر

ولادت رسول ضرور کریں

الشمابوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا

الشمامتہ العنبریہ

معمولات اہلسنت کے خلاف نظریہ رکھنے والوں سے 50 سوالات

معمولات اہلسنت کے خلاف نظریہ رکھنے والوں سے 50 سوالات

 مولانا محمد ذوالقرنین امجدی

ہماری طرف سے یہ 50 سوالات قوم کی عدالت میں ایک استغاثہ ہے اور ان لوگوں کو دعوت فکر دینی ہے جو دیوبندی وہابی نظریات سے متاثر ہوکر چند مستحب اعمال (مثلاً میلاد شریف، عرس، گیارہویں شریف، میلاد کے جلسے جلوس، جھنڈے وغیرہا) پر عمل کرنے کو شرک و بدعت اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو یہ کہہ کر یہ چیزیں دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفاء و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھیں لہذا بدعت و شرک ہیں۔

اب استغاثہ پیش کرنے کا موجب امر یہ ہے کہ دیوبند کا یہ مسلک اگر قرآن و حدیث پر مبنی ہے تو انہیں ہر حال میں اس پر قائم رہنا چاہئے تھا یعنی جن چیزوں کا وجود دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفائے و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھا تو ان چیزوں سے ان کو اور ان کی جماعت کو بھی بچنا چاہئے تھا۔ لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے اور یہ کیسا اندھیر ہے کہ یہی چیز اگر غریب سنی مسلمان کرے تو شرک و بدعت لیکن خود کریں تو عین اسلام ملاحظہ کیجئے…!

سوال نمبر 1:

سوائے ’’عیدین اور حج کے اجتماع‘‘ کے نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے (ظاہری) زمانے میں کوئی سالانہ اجتماع ہوتا تھا؟ یقینا نہیں! تو پھر دیوبندی وہابیوں کے سالانہ اجتماعات جائز ہوئے یا ناجائز؟

 

سوال نمبر2:

رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے لئے جلوس کی شکل میں ٹرینوں، بسوں، ویگنوں، کاروں وغیرہا میں جانا سنت ہے یا فرض یا مستحب یا واجب یا بدعت؟

سوال نمبر3 :

23 سالہ ظاہری دور نبوت میں (جس میں سرکار دوجہاںﷺ ظاہری طور پر موجود تھے) کافروں منافقوں نے بارہا گستاخیاں کیں، کیا ان کی مخالفت میں کوئی ریلی یا جلوس نکالا گیا تو حوالہ دیجئے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ جب ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخی کی گئی تو جہاں تمام اہلسنت حنفی بریلویوں نے جلسے جلوس منعقد کئے وہاں وہابی دیوبندیوں نے بھی ریلیاں اور جلوس نکالے۔ اب بتایا جائے کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا یہ عمل شرک ہوا یا بدعت؟

سوال نمبر4 :

(الف) 30 سالہ خلافت راشدہ میں اگر ایسی ریلی نکالی گئی ہو تو حوالہ دیجئے؟

(ج) ائمہ اربعہ میں سے کسی نے ریلی نکالی ہو یا شرکت کی ہو؟ مستند حوالہ دیجئے؟

(ھ) ایسی ریلی سب سے پہلے کب اور کہاں نکالی گئی، جلوس کس وقت نکلا؟

(د) صدارت کس نے کی؟ جلوس کس جگہ سے نکل کر کہاں اختتام پذیر ہوا؟

سوال نمبر5 :

حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی جو تمام بڑے بڑے دیوبندیوں کے پیرومرشد بھی ہیں، اپنی کتاب کلیات امدادیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ

’’مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں‘‘

(فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 80 سطر 4 مکتبہ دارالاشاعت کراچی)

اس کے تحت سوال یہ ہے کہ

(الف) اگر محفل میلاد منانا اور صلوٰۃ و سلام کیلئے قیام کرنا بدعت ہے تو حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟

(ب) جو مرید پیر کے جائز اور مستحب اعمال کی مخالفت کرے، ایسے مرید پر کیا فتویٰ لگے گا؟

(ج) تمہارے بزرگوں سے بھی میلاد منانا ثابت ہے تو تم کیوں نہیں مناتے؟

سوال نمبر 6:

کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر ائمہ اربعہ تک اور اس کے بعد آج تک کسی مسلمان نے نبی پاکﷺ کی ظاہری وفات شریف کا سالانہ سوگ منایا؟ نیز کیا کسی صحابی نے میلاد منانے سے منع فرمایا؟ نہیں اور ہرگز نہیں! تو تم کو نبی کی ولادت کی خوشی منانے میں کیوں تکلیف ہوتی ہے؟

سوال نمبر7 :

تاریخ سے ثابت ہے کہ ’’نبی پاکﷺ کی ولادت کے وقت شیطان ’’جبل ابی قبیس‘‘ پر چڑھ کر چلایا‘‘ اس کو تکلیف ہوئی جبکہ ساری کائنات خوش تھی یعنی صرف ابلیس اور ابلیسیوں کو خوشی نہ ہوئی، اب اگر ایک صف میلاد پر خوشی منانے والوں کی ہو اور دوسری طرف خوش نہ ہونے والوں کی، تو آپ کس صف میں کھڑا ہونا پسند کریں گے؟

سوال نمبر8 :

بقول تمہارے ’’نبی پاکﷺ کی ولادت ۸ ربیع الاول کو ہوئی تھی تو تم ۸ ربیع الاول کو کیوں میلاد نہیں مناتے؟‘‘

سوال نمبر 9:

کیا میلاد کی محفل میں جانا اور تقریر کرنا بدعت ہے؟

(الف) اگر دیوبندیوں کا جواب ہاں میں ہے تو پاکستان اسلامک فورم کی محفل میلاد میں احترام الحق تھانوی خطاب کرنے کیوں گئے؟ خطاب بھی کیا اور شرکت بھی کی۔ کیا فتویٰ لگنا چاہئے

(ملاحظہ کیجئے روزنامہ جنگ 28 مئی 2002ء)

(ب) عید میلاد النبیﷺ ہم بھی مناتے ہیں۔ پروفیسر غفور احمد (جماعت اسلامی) ملاحظہ کیجئے (روزنامہ قومی اخبار 23 اکتوبر 1989ء)

نوٹ: پروفیسر کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جن کا عقیدہ ہے کہ میلاد النبیﷺ منانا شرک و بدعت ہے۔

سوال نمبر 10

حدیث شریف سے ثابت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ ہر پیر کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپﷺ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی

(مشکوٰۃ ص 179، قدیمی کتب خانہ کراچی)

کیا کبھی دیوبندی اور وہابی نے سرکار دوعالمﷺ کی اس سنت پر عمل کیا اور کروایا کہ پیر کے دن روزہ رکھ کر میلاد کی خوشی میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لئے روزہ رکھا جائے۔ اگر میلاد شریف کے منکروں نے اس بارے میں کوئی فتویٰ دیا ہو تو حوالہ دیجئے۔

سوال نمبر 11:

مسلمان ہر سال پابندی سے میلاد مناتے ہیں جس پر پوچھا جاتا ہے کہ میلاد منانا فرض نہیں تو اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یہ سوال ہے کہ وضو میں گردن کا مسح کرنا فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب؟ اگر مستحب ہے اور یقینا مستحب ہے تو اس کا اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے کہ ہر دیوبندی ہر وضو میں ہر دفعہ گردن کا مسح پابندی سے کرتا ہے اور وہ بھی روزانہ… ایسا کیوں؟

سوال نمبر 12:

بارہویں کی نسبت سے بارہواں سوال یہ ہے کہ قرآن و حدیث یا ائمہ اربعہ میں کسی ایک سے کوئی ایک حوالہ دیجئے جس میں لکھا ہو کہ ’’میلاد منانا بدعت و حرام ہے‘

سوال نمبر 13:

یوم آزادی پاکستان اور یوم دفاع پاکستان منانا بدعت ہے یا مباح یا حرام؟

سوال نمبر 14:

قومی اسمبلی میں جب قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے تو اس کی تعظیم میں سارے وزراء بشمول فضل الرحمن سب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آیا یہ شرک ہوا یا بدعت؟ ذرا دو لائنوں کا فتویٰ دو اور اس کو اسمبلی میں پیش کرو۔

سوال نمبر 15:

یہ بتایئے مسجد کی تعمیر کے لئے غیر اﷲ سے مدد مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے توغیر اﷲ سے مدد مانگنا تو بقول تمہارے ناجائز ہے۔ کیا جواب ہے اور اگر جائز نہیں تو یہ ساری مساجد جو سیٹھوں سے مدد مانگ مانگ کر بنائی گئی ہیں۔ ان میں نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟

سوال نمبر 16:

’’نماز کی نیت زبان سے کرنا‘‘ کسی بھی صحابی سے ثابت ہو تو حوالہ دیجئے۔ اگر ایسا حوالہ نہیں تو زبان سے نیت کرنا بدعت ہے یا شرک؟

سوال نمبر 17:

دنیا کے اندر بہت ساری نئی چیزیں ایجاد ہوگئی ہیں ان کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں حالانکہ صحابہ کرام کے دور میں ان کا نام و نشان نہ تھا؟ اگر استعمال کرنا جائز ہے تو کس قاعدے کے تحت؟ جیسے ریل، موٹر کار، ہوائی جہاز، ٹیلی فون، موبائل، ریڈیو، لائوڈ اسپیکر وغیرہا۔ کیا کوئی دیوبندی وہابی بغیر ان بدعات کے آسانی سے دنیاوی زندگی گزار سکتا ہے؟

سوال نمبر 18:

امامت اور موذنی کے پیسے لینا جائز ہے یا ناجائز؟ کیا نبی پاکﷺ نے امامت کی تنخواہ لی ہے۔ کیا حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے موذنی کی تنخواہ لی ہے؟ معتبر حوالہ دیں۔

سوال نمبر 19:

نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ظاہری زمانے میں زکوٰۃ وغیرہا سونا، چاندی، درہم و دینار میں ادا کی جاتی تھی حالانکہ دیوبندی ریال، ڈالر اور روپے وغیرہا کی صورت میں بھی زکوٰۃ لیتے ہیں اور دیتے بھی ہوں گے تو کیا یہ چیز نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام کی مخالفت نہیں کہلائے گی؟ اگر نہیں تو کیوں؟

سوال نمبر 20:

تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، مجلس احرار، مجلس ختم نبوت، حزب التحریر الدعوۃ والارشاد، جماعت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اشاعت التوحید والارشاد، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ۔ کیا اس طرح کی جماعتوں کا صحابہ کے دور میں وجود تھا؟ اگر نہیں تو ان کو کون سی بدعت کہیں گے؟

سوال نمبر 21:

سیرت النبیﷺ کانفرنس، محمد رسول اﷲﷺ کانفرنس، سید البشرﷺ کانفرنس، ختم بخاری، دورہ حدیث کیا صحابہ کرام نے ایسی کانفرنس اور اس نام سے منعقد کی ہیں؟ اگر نہیں تو یہ سارے کام دیوبندیوں کے نزدیک کیا ہیں؟ شرک یا بدعت نیز دیوبندی وہابی خود کیاٹہرے؟ مشرک یا بدعتی؟

سوال نمبر 22:

رائے ونڈ سے تین روزہ، دس روزہ، چالیس روزہ چلہ، بستر باندھ کر چائے دانی، چولہا اور نسوار کی ڈبیہ لے کر اہل خانہ کے حقوق پس پشت ڈال کر گھر سے نکلنا سنت ہے یا بدعت؟ نیز ایسا کرنے والوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 23:

اسکول اور مدرسوں میں بچوں کو چھ چھ کلمے ان کے نام اور ان کی ترتیب حضور اقدسﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت نہیں لیکن اس کے باوجود سارے دیوبندی یہ کام کرتے ہیں تو آیا یہ کام سنت ہیں

یا بدعت؟

سوال نمبر 24:

نکاح کے وقت ایمان مفصل و مجمل پڑھانا کس صحابی کی سنت ہے؟ اگر کسی صحابی سے اس طرح ثابت نہیں تو دیوبندی اس عمل کو کیا سمجھ کر کرتے ہیں؟ سنت یا شرک یا بدعت؟

سوال نمبر 25:

قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا صحابہ سے ثابت ہے۔ لیکن حدیث پاک کو کتابی شکل میں جمع کرنا کس کا طریقہ ہے؟ آیا یہ کام جائز ہوا یا بدعت؟ ائمہ محدثین کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیز دیوبندی مکتبوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 26:

اپنے اجتماع میں نعرہ لگوانے کے لئے لفظ ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا تو ایسا کہنا یعنی ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا یہ لفظ نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں کہیں آیا ہے۔ تو اس جدید لفظ سے نعرہ کہلوانا جائز ہوگا یا بدعت؟ اور سارے دیوبندی وہابی نعرہ تکبیر اپنے جلسوں میں لگا کر بدعتی ہوئے یا نہیں؟ ہوئے اور یقینا ہوئے۔ اب کل بدعۃ ضلالۃ والے قاعدہ کا کیا ہوا؟

سوال نمبر 27:

مسجدوں پر مروجہ مینار بنانا قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ سے ثابت نہیں مگر سارے وہابی دیوبندی مینار بنواتے ہیں اور جو عمل قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو اور کوئی کرے تو وہ کیا کہلائے گا؟

سوال نمبر 28:

حدیث شریف میں اونٹ، گائے، بکری، دنبہ جانوروں کی قربانی کا ذکر ہے اور ان کے دودھ کے پینے کا جواز ہے مگر بھینس کا وجود نہیں تو اس کے دودھ کا کیا حکم ہے اور جو روزانہ اس کے دودھ کی چائے اپنے مدرسہ میں پلائے تو کیا حکم لگنا چاہئے؟ نیز حلال کیسے کہلائے گا؟

سوال نمبر 29:

دیوبندیوں کے درس کی مشہور کتاب ’’تبلیغی نصاب‘‘ جس کا نام بدل کر فضائل اعمال رکھا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ

’’اگر ہر جگہ درود و سلام دونوں کوجمع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے یعنی بجائے السلام علیک یا رسول اﷲ کے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ یعنی صلوٰۃ کالفظ بھی بڑھا دیا جائے تو بہتر ہے‘‘

(ملاحظہ کیجئے اعمال باب فضائل درود ص 23، مکتبہ محمد عبدالرحیم تاجر کتب لاہور)

کیا اس پر عمل کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو یہ منافقت کیوں؟

سوال نمبر 30:

یہ دو اشعار بدعت ہیں یا شرک؟

میری کشتی پار لگادو یا رسول اﷲ (حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی)

(کلیات امدادیہ ص 205، دارالاشاعت کراچی)

یارسول اﷲ بابک لی (اشرف علی تھانوی)

اے خدا کے رسول تیر دربار میرے لئے ہے

(نشر الطیب ص 164، دارالاشاعت کراچی)

سارے دیوبندی مل کر جواب دیں کہ حاجی صاحب اور تھانوی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے بدعتی ہونے کا یا پھر مشرک ہونے کا؟

سوال نمبر 31:

قرآن و حدیث نیز اشرف علی تھانوی سے (نشر الطیب میں) نبی پاکﷺ کی نورانیت ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کو ماننے والے نبی پاکﷺ کی نورانیت کے قائل ہیں لیکن اشرف علی تھانوی کے ماننے والے منکر ہیں۔ اب جو تھانوی کی بات کو نہ مانے تو کیا فتویٰ ہے؟ نیز تھانوی صاحب کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟

سوال نمبر 32:

فتاویٰ رشیدیہ کے مصنف یعنی رشید احمد گنگوہی جو خدا نہیں، غیر اﷲ ہے اس کے لئے یہ اشعار کہنا کیسا ہے، کفر یا شرک؟

مردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے نہ دیا

اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم

سوال نمبر 33:

جو شخص خود کو دیوبندی کہے اور آپ کی جماعت بھی خود کو دیوبندی جماعت کہلواتی ہے ۔ کیا کسی صحابی نے خود کو دیوبندی کہا تھا؟

سوال نمبر 34:

جشن دیوبند کے تحت چند سوالات، صد سالہ جشن، دیوبند منایاگیا۔ اس میں ہندو عورت کو صدارت کے لئے بلایا گیا تو سوال یہ ہے کہ:

(الف) جشن دیوبند منانا جائز تھا یا حرام؟

(ب) ہندو عورت کو اجتماع میں بلاکر اور پھر اسے اپنے آگے بڑھا کر دعا مانگنا جائز ہے یا ناجائز؟

(ج) کیا ہندو عورت کو عزت مآب کہہ کر جشن دیوبند میں مخاطب کرنا جائز تھا یا حرام؟

(د) جشن دیوبند پر 75 لاکھ سے زائد رقم خرچ کرنا جائز تھا یا اسراف؟

(ہ) ننگے سر، ننگے منہ، برہنہ بازو عورت کے ساتھ دیوبندی مولویوں کا بیٹھنا جائز تھا یا حرام؟

(د) اجتماع میں ہندو عورت کو بلانا مسلمانوں کا طریقہ ہے یا کافروں کا؟

ملاحظہ کیجئے:

٭ روزنامہ مشرق، نوائے وقت لاہور 22-23 مارچ 1980ء ٭ روزنامہ جنگ کراچی 3 اپریل 1980ء ٭ روزنامہ جنگ راولپنڈی 2 اپریل 1980ء

٭ نوٹ: مزار کی نفی کرنے والو! اپنے کرتوتوں کو دیکھو! میلاد شریف اور اولیاء کے بغض کی وجہ سے تمہارا کیا انجام ہوا؟

سوال نمبر 35: معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ نبی پاکﷺ کے علم مبارک کو معاذ اﷲ چوپایوں کے ساتھ ملانا (ملاحظہ ہو حفظ الایمان، تھانوی کی گستاخانہ عبارات ص 13، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

اور معاذ اﷲ نماز میں آپﷺ کے خیال مبارک کو بیل و گدھے کے خیال سے زیادہ برا قرار دینا (صراط مستقیم صفحہ 86، فصل سوم در ذکر مخلات عبادت مطبع مجتبائی دہلی) گستاخی ہے یا نہیں؟ اگر ہے اور یقینا ہے پھر اشرف علی تھانوی اور اسماعیل دہلوی قتیل بالا کوٹ کیا کہلائیں گے جنہوں نے ایسا گستاخانہ فتویٰ دیا۔ اب اﷲ تعالیٰ کا ارشاد سنو۔

لا تعذروا قد کفرتم بعد ایمانکم

چند علمی سوالات

سوال نمبر 36:

ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ قاعدہ کلیہ کا کیا معنی ہے؟

سوال نمبر37:

اگر کوئی ہندو اپنے بت کے نام پر جانور پالے اور کوئی مسلمان اس جانور (بکری وغیرہا) کو معاذ اﷲ چوری کرے اور بوقت ذبح اﷲ کا نام لے اور ذبح کر ڈالے اس کا گوشت حلال ہوگا یا حرام؟

سوال نمبر 38:

ان چار چیزوں کی جامع مانع تعریف کیا ہے، جس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

شرک بدعت دین عبادت

سوال نمبر 39:

کیا صحابہ کے دور میں اصول حدیث یا اصول فقہ وغیرہما کے قوانین کا وجود تھا۔

سوال نمبر 40:

جو کام نبی پاکﷺ یا صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نہ کیا ہو، وہ آپ کے نزدیک بدعت ہے۔ آیا بدعت کی یہ تعریف قرآن میں ہے تو کون سی سورت میں اور اگر حدیث میں ہے تو کون سی حدیث ہے؟

سوال نمبر 41:

جو شخص میلاد شریف، عرس، گیارہویں وغیرہا کو فرض و واجب نہ سمجھتا ہو، اس سے یہ کہنا کہ قرآن و حدیث سے اس کے ضروری ہونے کا حوالہ دو تو ایسے جاہل کو آپ کیا کہیں گے جو مستحب عمل پر نص قطعی سے ثبوت مانگے؟

سوال نمبر 42:

جمعہ کے خطبہ میں خلفائے اربعہ سیدنا صدیق اکبر، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان ذوالنورین اور سیدنا علی المرتضیٰ اور عشرہ مبشرہ علیہم الرضوان کا نام لینا قرون ثلاثہ میں لیا جاتا تھا یا نہیں؟ معتبر حوالہ دیں۔

سوال نمبر 43:

حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی لکھتے ہیں:

فقیر کا مشرب اس امر میں یہ ہے کہ ہر سال اپنے پیرومرشد کی روح مبارک پر ایصال ثواب کرتا ہوں اور اول قرآن خوانی ہوتی ہے اور گاہ گاہ اگر وقت میں وسعت ہو تو مولود پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے

(ملاحظہ کیجئے: فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 83)

(الف) آیا ایسا کرنا شرک ہے یا بدعت یا مستحب؟ حاجی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے؟

(ب) بالکل اسی طرح سنی مسلمان ایصال ثواب کی محفل گیارہویں وغیرہ کرتے ہیں لیکن تم لوگ گیارہویں شریف (یعنی ایصال ثواب کی محفل) کیوں نہیں کرتے حالانکہ تمہارے سارے بڑے بڑون اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی، قاسم نانوتوی وغیرہم کے پیرومرشد ایصال ثواب کی محفل منعقد کرتے تھے۔

(ج) آپ کا یہ عمل پیر کی مخالفت یا موافقت… کیا کہلائے گا؟

سوال نمبر 44:

ہر سال دیوبندی وہابی مدارس کے لئے چرم قربانی کی باقاعدہ بڑے بڑے پوسٹر کے ذریعے اپیل کی جاتی ہے۔ کیا مروجہ اپیل کی طرح دور صحابہ میں کوئی مثال موجود ہے؟ یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر دیوبندی وہابی بدعتی ہوئے یا نہیں؟

سوال نمبر 45:

حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے سالانہ جلسہ دستار میں ہندو پنڈت نے نہ صرف شرکت کی بلکہ دیوبندی علماء و طلباء کو اپنے وعظ سے بھی محظوظ کیا جس پر لطف یہ ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مخصوص لباس میں تھا۔ اس کے باوجود دیوبند کے اسٹیج پر اس کو بڑی عزت دی گئی۔ آیا کافر کی تعظیم کرنے سے ایمان سلامت رہتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 46:

چند ماہ قبل ایک انگریز کافرہ عورت کو بنوری ٹائون والوں نے انتہائی عزت دی حتی کہ وہاں کے مفتی نعیم نے اس کو اپنے ادارے کا وزٹ کروایا اور اس دوران وہ بھی اپنے مخصوص لباس میں تھی، کیا یہ سب کام وہاں جائز ہیں! اگر نہیں تو پھر نعیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز اگر محفل میلاد پاک میں خواتین اپنے اپنے گھروں میں پردے کا اہتمام کرکے ذکر سولﷺ کرتی ہیں تو دیوبندی اس کو شرک و بدعت سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنے ادارے میں انگریز عورت کو نیم عریاں وزٹ کروانے سے وہی فتویٰ کہاں گیا؟

سوال نمبر 47:

دیوبندیوں کا حکیم لکھتا ہے کہ

طاعون کا ایک متبرک علاج منجملہ اور علاجوں کے ذکر نبی کریمﷺ بھی ہے اور یہ علاج تجربہ میں آیا ہے۔ یعنی میں نے ایک کتاب نشر الطیب لکھی ہے۔ حضورﷺ کے حالات میں اس کے لکھنے کے زمانہ میں خود اس قصبہ میں تھا جس میں طاعون تھا تو میں نے یہ تجربہ کیا۔ جس روز اس کا کوئی حصہ لکھا جاتا تھا، اس روز کوئی حادثہ نہیں سنا جاتا تھا اور جس روز وہ ناغہ ہوجاتی تھی۔ اس روز دو چار اموات سننے میں آتی تھیں تو مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ حضورﷺ کے ذکر مبارک کی برکت ہے۔ آخر میں یہ التزام کیا کہ روزانہ کچھ حصہ اس کا ضرور لکھ لیتا تھا۔ آج کل بھی لوگوں نے مجھے طاعون ہونے کے متعلق اطراف و جوانب سے لکھا ہے تو میں نے ان کو بھی جواب میں یہی لکھا ہے کہ نشر الطیب پڑھا کرو!!

ملاحظہ ہو(میلاد النبیﷺ از تھانوی ناشر بک کارنر شوروم جہلم)

اس پر سوال یہ ہے کہ طاعون (بیماری) سے نجات کے لئے نشر الطیب کتاب کا ختم پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو مشکلات کے لئے قصیدہ بردہ شریف یا ختم قادریہ وغیرہا کرنا کیوں ناجائز ٹھہرے؟

سوال نمبر 48:

یوم صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ! امیر المومنین حضرت فاروق اعظم، امیر المومنین حضرت عثمان غنی، امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہم کے دور خلافت میں بار بار آیا۔ کیا ان میں سے یا ان کے بعد تابعین یا تبع تابعین نے یوم صدیق اکبر منایا؟ اگر نہیں تو یوم صدیق اکبر منانا نیز یوم صدیق اکبر، یوم فاروق اعظم، یوم عثمان غنی اور یوم مولا علی رضی اﷲ عنہم اجمعین پر عام تعطیل کی اپیل کرنا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟

سوال نمبر 49:

سپاہ صحابہ کی ریلی ہو یا کوئی اور ریلی رنگ برنگے جھنڈے لہرانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو میلاد النبیﷺ کی ریلی میں سبز نعلین والے جھنڈے لہرانا ناجائز کیسے ٹھہرے گا نیز تمہارا یہ رنگ برنگے جھنڈے لہرانا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟

سوال نمبر 50:

آخری سوال آپ سے یہ ہے کہ رشید احمد گنگوہی کے اس فتوے کا کیا جواب ہوگا؟

سوال: جس جگہ زاغ معروفہ (یعنی مشہور و معروف عام کوا جسے کالا کوا کہتے ہیں) کو اکثر حرام جانتے ہیں تو ایسی جگہ اس کوا کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا یا نہ ثواب ہوگا نہ عذاب؟

الجواب: ثواب ہوگا

(فتاویٰ رشیدیہ، ص 597، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

اہل حدیث وہابی (غیر مقلّدین ) مذہب کے باطل عقائد

غیر مقلّدین وہابی گروپ جس کو آج کل اہل حدیث کہا جاتا ہے اسی نام سے وہ کام کررہے ہیں غیر مقلّدین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اہل حدیث وہابی ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام احمد ،امام مالک علیہم الرضوان کی تقلید یعنی پیرو ی کو حرام کہتے ہیں۔

وہابی گروپ اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ محمدین عبدالوہاب نجدی کو اپنا پیشوا اور بانی کہتے ہیں اپنے وقت کا مردود جس کی کفریہ عبارات آگے بیان کی جائیں گی اس کا نام ابنِ تیمیہ ہے غیر مقلّدین اس کو اپنا امام مانتے ہیں ۔

اہلحدیث غیر مقلّدین وہابی گروپ کاتاریخی پس منظر اور ان کے پوشیدہ راز انہی کی مستند کتابوں کے ثبوت سے بیان کی جائیں گے۔

غیر مقلّدین تاریخ کے آئینے میں 

کسی بھی شخصیت یا تحریک کی کردار کشی مؤر خانہ دیانت کے خلاف ہے ۔ہر انسان اللہ کا بندہ ،

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور حضور انور ﷺکی اُمت میں ہے ،ان تین رشتوں کا خیال رکھنا چاہیئے اس لئے راقم کی یہ کوشش رہتی ہے کہ جس زمانے کی اللہ نے قسم یاد فرمائی اس کی تاریخ دیانت دار انہ ،

غیر جانبدار انہ ،عادلانہ اور مومنانہ انداز میں قلم بندکی جانی چاہئے تاکہ پڑھنے والا تاریخ کے صحیح پس منظر کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرسکے اورکھرا کھوٹا الگ کرسکے ……

اس وقت ہم اہل حدیث (غیر مقلدین )کے بارے میں تاریخ کی روشنی میں کچھ عرض کریں گے ……

قرون اولیٰ میں ’’اہل حدیث ‘‘یا ’’صاحب الحدیث ‘‘ان تابعین کو کہتے تھے جن کو احادیث زبانی یاد ہوتیں اور احادیث سے مسائل نکالنے کی قدرت رکھتے تھے …پوری اسلامی تاریخ میں اہل حدیث کے نام سے کسی فرقہ کا وجو د نہیں ملتا …اگر مسلک کے اعتبار سے اہل حدیث لقب اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی تو حضور ﷺ’’علیکم بسنّتی ‘‘نہ فرما تے بلکہ ’’علیکم بحدیثی ‘‘فرماتے ……

حضور ﷺکی حدیث پاک سے اہل سنت ،لقب اختیار کرنے کی تو تائید ہوتی ہے ’’اہل حدیث ‘‘ کی تائید نہیںہوتی …جیسا کہ عرض کیا گیا ہے پہلے علم حدیث کے ماہرین کو اہل حدیث کہتے تھے مگر ہر کس و ناکس کو کہنے لگے ،صاحب طر زاد یبوں ،مصنفوں کو اہل قلم کہتے ہیں …کیسی عجیب اور نامعقول بات ہوگی اگر ہر جاہل و غبی خود کو اہل قلم کہلوانے لگے ؟

پاک ہند میں لفظ ’’اہل حدیث ‘‘کی ایک سیاسی تاریخ ہے ۔جو نہایت ہی تعجب خیز اورحیران کن ہے ۔برصغیر میں اس فرقے کو پہلے وہابی کہتے تھے جو اصل میں غیر مقلد ہیں چونکہ انہوں نے انقلاب ۱۸۵۷؁ء سے پہلے انگریزوں کا ساتھ دیا اور برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنے اور تسلط جمانے میں انگریزوں کی مدد کی …انگریزوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد تو اہل سنت پر ظلم و ستم ڈھائے لیکن ان حضرات کو امن و امان کی ضمانت دی …

سرسید احمد خان (م ۔۱۳۱۵ھ/۱۸۶۸)کے بیان سے جس کی تائید ہوتی ہے :…

انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں اس فرقے کے لئے جو وہابی

کہلایا ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں

بھی وہا بیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار ہے بلکہ ناممکن

ہے سلطان کی عملداری میں وہابیوں کا رہنا مشکل ہے اور مکہ

معظمہ میں تو اگر کوئی جھوٹ موٹ بھی وہاں کہہ دے تو اسی

وقت جیل خانے یا حوالات میں بھیجا جاتا ہے …پس وہابی

جس آزادی مذہب سے انگلش گورنمنٹ کے سایہ عاطفت

میں رہتے ہیں دوسری جگہ ان کو میسر نہیں ۔ہندوستان ان

کے لئے دارالا من ہے …۲۰۲

یہ اس شخص کے تاثرات ہیں جو ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتا تھا …ہندوستان میں ان حضرات کو امن ملتا اور سلطنت عثمانیہ میں نہیں (جو مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی ایشیاء ،یورپ ،افریقہ تک پھیلی ہوئی )امن اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ان حضرات کا تعلق انگریزوں سے رہا تھا …آل سعود کی تاریخ پر جن کی گہری نظر ہے ان کو معلوم ہے کہ انہیں حضرات نے سلطنت اسلامیہ کے سقوط اور آل سعود کے اقتدار میں اہم کردار ادا کیا …یہ کوئی الزام نہیں تاریخی حقیقت ہے جو ہمارے معصوم جوانوں کا شکار رہی ہے …

خود اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی (جنہوں نے انگریز ی اقتدار کے بعد برصغیر کے غیر مقلدوں کی وکالت کی )کی اس تحریر سے سرسید احمد خان کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے ،وہ کہتاہے :…

اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ وفاداری رعایا برٹش گورنمنٹ

ہونے پر ایک بڑی اور روشن دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش

گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے کو اسلامی سلطنتوں کے ماتحت

رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں …۲۰۳

آخر کیا بات ہے کہ اسلام کے دعویدار ایک فرقے کو خود مسلمانوں کی سلطنت میں وہ امن نہیں مل رہا ہے جو اسلام کے دشمنوں کی سلطنت میں مل رہا ہے ۔ہر ذی عقل اس کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے اسکے لئے تفصیل کی ضرورت نہیں ……

ملکہ وکٹوریہ کے جشن جوبلی پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو سپاس نامہ پیش کیا اس میں بھی یہ اعتراف موجود ہے …آپ نے فرمایا :……

اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ

مسرت ہے اور ان کے دل سے مبارک باد کی صدائیں

زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہین …۲۰۴

یہی آدمی ایک اور جگہ تحریرکرتاہے :…

جو ’’اہل حدیث ‘‘کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز

کے نمک حلال اور خیر خواہ رہے ہیں اور یہ بات باربار

ثابت ہوچکی ہے اور سرکار ی خط و کتابت میں تسلیم کی جا

چکی ہے … ۲۰۵

یہو د ونصاری کو مسلمانوں کے جذبئہ جہاد سے ہمیشہ ڈر لگتا رہتا ہے …۱۸۵۷؁ء کے فوراًبعد انگریزوں کے مفاد میں اس جذبے کو سرد کرنے کی ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کے خلاف ۱۲۹۲؁ھ /۱۸۷۶؁ء میں ایک رسالہ ’’الا قتصادفی مسائل الجہاد ‘‘تحریر فرما یا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا …۲۰۶

آپ نے باربار لفظ ’’اہل حدیث ‘‘سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی ‘‘ کہتے تھے انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بنا ء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے اسلئے وہابی نام بدلو ا کر ’’اہل حدیث ‘‘

نام رکھنے کی درخواست کی گئی …یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :…

بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی )کے

استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب وانکساری کے ساتھ

گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو

منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نا فذ کرے اور

ان کو ’’اہل حدیث ‘‘کے نا م سے مخاطب کیا جائے …۲۰۷

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی

درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے’’وہابی ‘‘

کی جگہ ’’اہل حدیث ‘‘نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔

ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نا م اہل حدیث و منسوحی لفظ وھابی:

اشاعۃ السّنہ آفس لاہور

ازجانب ابو سعید محمد حسین لاہوری ،ایڈیٹر اشاعۃ السّنہ و وکیل اہل حدیث ہند

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ !

میں آپ کی خدمت میں سطورِ ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کادر خواست گار ہوں ، ۱۸۸۶ء میں میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جسمیں اس بات کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی ،جس کو عمو ماً باغی ونمک حرام کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا اس لفظ کا استعمال ، مسلمانانِ ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں ،اور یہ بات سرکار کی وفاداری و نمک حلالی )بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے ،مناسب نہیں (خط کشیدہ جملے خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔)

بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں ۔

اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ ،گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری ،جاں نثاری اورنمک حلالی کے پیش نظر )سرکاری طورپر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے ،اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرضدا شت میں (محمد حسین بٹالوی )نے پنجاب گورنمنٹ اس مضمون کی طرف توجہ فرما دے ،اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقوف کیا جا وے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کی جاوے ۔اس درخواست کی تائید کیلئے اور اس امر کی تصدیق کیلئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب وہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب وہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں )اور ایڈیٹر اشاعت السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے ۔میں (محمد حسین بٹالوی )نے چند قطعات محضر نامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے ،جن پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے وستخط ثبت ہیں ۔اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے ۔

چنانچہ آنر یبل سرچار لس ایچی سن صاحب بہادر ،جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے ،گورنمنٹ ہند کو اس درخواست کی طرف توجہ دلاکر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا ، اور اس استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہل حدیث کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے ۔

میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم

ابو سعید محمد حسین

ایڈیٹر’’اشاعت السنہ ‘‘

(اشاعۃ السنہ ص۲۴تا۲۶شمارہ ۲،جلد نمبر ۱۱)

یہ درخواست گورنر پنجاب سر چارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہو ں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اوروہاں سے منظور ی آگئی اور ۱۸۸۸؁ء میں حکومت مدراس ،حکومت بنگا ل ،

حکومت یوپی ،حکومت سی پی ،حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کواسکی اطلاع دی ……

سرسید احمد خان نے بھی اسکا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :…

جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی

تھی کہ اس فرقے کو درحقیقت اہل حدیث ہے …

گورنمنٹ اس کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے مخاطب نہ کرے

…مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے

منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں

اس فرقے کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے

بلکہ ’’اہل حدیث ‘‘کے نام سے موسوم کیا جاوے …۲۰۸

اب آپ کو تاریخ کی روشنی میں فرقہ اہلِ حدیث (جو اصل میں غیر مقلد ہے )کی حقیقت معلوم ہوگئی … یہ فرقہ اہل سنت کا سخت مخالف ہے اور اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہے …فلسطین کے مشہور عالم اور جامعہ ازہر مصر کے استاد علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی (م ۔۱۳۵۰؁ھ /۱۹۳۲؁ء) جو نابلس کے قاضی اورمحکمہ انصاف کے وزیر بھی رہ چکے ہیں )فرماتے ہیں :…

وہ مدعی اجتہاد ہیں مگر زمین میں درپے فساد ہیں ،اہل سنت

کے مذاہب میں کسی مذہب پر بھی گامزن نہیں ہوتے ۔

شیطان ان میں سے نئی نئی جماعتیں تیار کرتارہتا ہے

جو اہل اسلام کے ساتھ بر سر پیکار ہیں …۲۰۹

اس قتباس میں محکمہ انصاف کے اس وزیر اور جج نے تین باتیں فرمائی ہیں :…

غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے پوشیدہ راز :

عقیدہ :غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے نزدیک کا فر کا ذبح کیا ہو اجانور حلا ل ہے ۔اسکا کھانا جائز ہے ۔ (بحوالہ :دلیل الطالب ص 413،مصنف :نواب صدیق حسن خاں اہل حدیث )

(بحوالہ :عرف الجادی ص 247مصنف :نورالحسن خاں اہل حدیث )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک رسول اللہ ﷺکے مزار مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ۔(بحوالہ :کتاب :عرف الجاری صفحہ نمبر 257)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک لفظ اللہ کے ساتھ ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ :کتاب : البنیاں المر صوص ص173)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک بدن سے کتنا ہی خون نکلے اس سے وضونہیں ٹوٹتا ۔

(بحوالہ :کتاب :دستور المتقی )

عقیدہ :اہل حدیث وہابیوں کا امام ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین سو سے زیادہ مسئلوں میں غلطی کی ہے ۔(بحوالہ :کتاب :فتاوٰی حدیثیہ ص 87)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک خطبہ میں خلفائے راشدین کا ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :ہدیۃ المہدی ص110)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک متعہ جائز ہے ۔(بحوالہ :کتاب :ہدیۃ المہدی ص 118)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال حجت نہیں ہیں ۔

(بحوالہ :کتاب ہدیۃ المہدی ص 211)

عقیدہ :اما م الوہابیہ محمد بن عبدالوہاب نجدی اپنی کتاب اوضح البر اہین صفحہ نمبر 10پر لکھتا ہے کہ حضور ﷺکا مزار گرا دینے کے لائق ہے اگر میں اسکے گرادینے پر قادر ہوگیا تو گرا دونگا ۔(معاذ اللہ )

عقیدہ :بانی وہابی مذہب محمد بن عبدالوہاب نجدی کا یہ عقیدہ تھا کہ جملہ اہلِ عالم و تما م مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل قضال کرنا ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ۔(ماخوذ حسین احمد مدنی ،الشہاب الثاقب ص 43)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فجر کی نماز کے واسطے علاوہ تکبیر کے دو اذانیں دینی چاہئے ۔

(بحوالہ :اسرار اللنعت پارہ دہم ص 119)

عقیدہ :اہل حدیث امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام مالک ،امام احمد رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام گلیاں دیتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث اپنے سوا تمام مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین سمجھتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک جمعہ کی دو اذانیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جاری کردہ

بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک چوتھے دن کی قربانی جائز ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تراویح 12رکعت ہیں 20رکعت پڑھنے والے گمراہ ہیں ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فقہ بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک حالتِ حیض میں عورت پر طلاق نہیں پڑتی ہے ۔

(بحوالہ :روضۂ ندیہ ص 211)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تین طلاقیں تین نہیں بلکہ ایک طلاق ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک ایک ہی بکری کی قربانی بہت سے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے اگرچہ سو آدمی ہی ایک مکان میں کیوں نہ ہو۔(بحوالہ :بد ور الاہلہ ص 341)

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں منی پاک ہے ۔(بحوالہ :بدور الا ہلہ ص15دیگر کتب بالا )

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں مرد ایک وقت میں جتنی عورتوں سے چاہے نکاح کرسکتا ہے اسکی حد نہیں کہ چار ہی ہو ۔(بحوالہ :ظفر اللہ رضی ص141،ص142نواب صاحب )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک زوال ہونے سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :بدور الا ہلہ ص71)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک اگر کوئی قصداً (جان بوجھ کر )نماز چھوڑدے اور پھر اسکی قضا کرے تو قضا سے کچھ فائدہ نہیں وہ نماز اسکی مقبول نہیں اور نہ اس نماز کی قضا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے وہ ہمیشہ گنہگار رہیگا ۔(بحوالہ :دلیل الطالب ص250)

ان نام نہاد اہل حدیث وہابی مذہب کے عقائد و نظریات ہیں یہ قوم کو حدیث حدیث کی پٹی پڑھا کر ور گلاتے ہیں ان کے چنداہم اصول ہیں وہ اصول ملاحظہ فرمائیں ۔

وہابی اہل حدیث مذہب کے چند اہم اصول }

اصول نمبر1 :ان کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اگلے زمانے کے بزرگوں کی کوئی بات ہرگز سنی جائے چاہے وہ ساری دنیا کے مانے ہوئے بزرگ کیوں نہ ہوں ۔

اصول نمبر2 :غیر مقلدین اہل حدیث مذہب کا دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر لکھنے والے بڑے بڑے مفسرین اور قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے والے بڑے بڑے مجتہد ین میں سے کسی کی کوئی تفسیر اور کسی مجتہد کی کوئی بات ہر گز نہ مانی جائے ۔

اصول نمبر3 :تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ ہر مسئلے میں آسان صورت اختیار کی جائے (چاہے وہ دین کے منافی ہو )اور اگر اسکے خلاف کوئی حدیث پیش کرے تو اسے ضعیف کا اسٹیمپ لگا کر ماننے سے انکار کردیا جائے جو حدیثیں اپنے مطلب کی ہیں کہ ان کو اپنا لیا جائے اسلئے کہ انسان کی خاصیت ہے کہ وہ آسانی کو پسند کرتا ہے ۔تو حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی سب ہمارے (نام نہاد اہل حدیث وہابی )

مذہب کی آسانی دیکھ اپنا پرانا مذہب چھوڑ دیں گے اور غیر مقلّد ہوکر ہمارانیا مذہب قبول کرلیں گے ۔

اس کے چند نمونے یہ ہیں ۔

۱)تراویح لوگ زیادہ نہیں پڑھ سکتے تھک جاتے ہیں لہٰذا آٹھ پڑھا کر فارغ کردیا جائے ۔

۲)قربانی تین دن کی قصائی اور کام کاج کی مارا ماری کی وجہ سے چوتھے دن کی جائے یہ آسان ہے ۔

۳)طلاق دے کر آدمی بے چارہ بہ حواس پڑھتا ہے لہٰذا ایسی مشین تیار کی جائے کہ طلاقیں تین ڈالو باہر ایک نکالو تو ایک طلا ق نکلے ۔

۴)بزرگوں کے معاملات قرآن کی تفسیر یں ترقی یافتہ دور میں کون پڑھے بس اپنی من مانی کیئے جاؤ قرآن تمہارے سامنے ہے ۔

غیر مقلّدین اہل حدیث کا امام ابنِ تیمیہ کون تھا ؟

ابنِ تیمیہ کون تھا ؟}

ابنِ تیمیہ 661؁ھ میں پیدا ہوا اور 728؁ ھ میں مرا ابنِ تیمیہ وہ شخص تھا جس کو غیر مقلد ین اہل حدیث وہابی حضرات اپنا امام تسلیم کرتے ہیں مگر وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے اس نے بہت سے مسائل میں علماء حق کی مخالفت کی ہے یہاں تک کہ اس نے حضور ﷺکی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا ہے اسکا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ۔ اور یہ بھی اسکا عقیدہ ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی ذات میں تغیّر و تبدل ہوتا ہے ۔

۱)…اس امت کے امام شیخ احمد صاوی مالکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر صاوی جلد اول کے صفحہ نمبر 96پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ حنبلی کہلاتا تھا حالانکہ اس مذہب کے اماموں نے بھی اس کا رد کیا ہے یہاں تک علماء نے فرمایا کہ وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ۔

۲)… علامہ شہاب الدین بن حجر مکّی شافعی علیہ الرحمہ اپنی فتاوٰی حدیثیہ کے صفحہ نمبر 116پر ابنِ تیمیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ جہنم فنا ہوجائے گی اور یہ بھی کہتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم اسلام معصوم نہیں ہیں اور رسول اللہ ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ہے ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور ﷺکی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے ایسے کفر میں نماز کی قصر جائز نہیں جو شخص ایسا کریگا وہ حضور ﷺکی شفاعت سے محروم رہیگا ۔

۳)…آٹھویں صدی ہجری کے عظیم اند لسی مورخ ابو عبداللہ بن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں ابنِ تیمیہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں ۔

گو ابنِ تیمیہ کو بہت سے فنون میں قدرت تکلم تھی لیکن دماغ میں کسی قدر فتور آگیا تھا ۔

(رحلّہ ابنِ بطوطہ مطبع دار بیروت ص 95و مطبع خیریہ ص 68)(ترجمہ :رئیس احمد جعفری ندوی ص 126مطبوعہ ادارہ درس اسلام )

دماغ میں خرابی اورفتور کی وجہ سے جب اپنی تیمیہ نے بہت سے مسائل میں اجماعِ امّت کی مخالفت کی یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اللہ عنہ کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا تو اہلسنّت و جماعت حنفی ، شافعی مالکی اور حنبلی ہر مذہب کے علماء نے ابنِ تیمیہ کا رد کیا اور اسے گمراہ گر قرار دیا ۔لیکن غیر مقلّدین نام نہاد وہابی اہل حدیث کہ جن کہ دلوں میں کھوٹ اور کجی پائی جاتی ہے انھوں نے دماغی خلل رکھنے والے ابنِ تیمیہ کی پیروی کرلی اور اسے اپنا امام پیشوا بنا لیا ۔

اہل حدیث مذہب والوں نے نیک اور قد آور شخصیات ائمہ اربعہ کو امام نہ مانا اور ان کی تقلید یعنی پیروی کو حرام لکھا تو ان کو سزا ملی کہ ابنِ تیمیہ جیسا زلیل ان لوگوں کا امام بنا اور انہوں نے اسے تسلیم بھی کیا ۔

غیر مقلّدین کو وہابی کیوں کہا جاتا ہے ؟}

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہابی تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے حالانکہ یا د رہے اللہ تعالیٰ کا نام وہابی نہیں ہے بلکہ وہاب ہے ۔غیر مقلّدین اہل حدیث کو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیر وی ہی کے سبب وہابی کہا جا تا ہے لیکن اس نا م کو پسند کرتے ہوئے مشہور غیر مقلّدین مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز گورنمنٹ سے بڑی کوششو ں کے بعد نام جگہ اہل حدیث منظور کرایا ۔

سعودیہ عرب والے قا بض نجدیوں کا کیا عقیدہ ہے }

سعودیہ عرب کے قابض نجدیوں کا انہی وہابی عقائد رکھنے والوں سے گہرا تعلق ہے سعودی بھی محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیدا وار ہیں اور اسے اپنا پیشوا مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غیر مقلّدین اہل حدیث پر وہ مکمل مہربان ہیں کروڑوں ،اربوں ریال ان کو امداد ملتی ہے جگہ جگہ مسجدیں ان کی کہا ں سے آئیں سارا سعودیہ کا چند ہ ہے اب غیر مقلّدین اہل حدیث بڑے فخر کیساتھ اپنا تعلق وہا بیت اور محمد بن عبدالوہاب نجدی سے جوڑتے ہیں اور ریالوں کی جھنکار سے فائد ہ اٹھا تے ہیں ۔

الد عوہ والا رشاد ،لشکرِ طیبہ ،جمعیت اہل حدیث ،تحریک اہل حدیث ،اہل حدیث یوتھ فورس ،سلفی تحریک (جتنے بھی سلفی لگاتے ہیں یہ تلفی ہیں سلفی نہیں ہیں سلفی کا مطلب سلف و صالحین کے پیروکار مراد ہے مگر یہ کسی کے پیر و کار نہیں )غرباء اہل حدیث یہ ساری تنظمیں اہل حدیث وہابی گروپ سے تعلق رکھتی ہے ۔

دیوبندی مذہب کے باطل عقائد

دیوبندی مذہب کے باطل عقائد

عقیدہ :

دیوبندی اکابر اشرف علی تھانوی اپنی کتاب حفظ الایمان میں لکھتا ہے کہ پھر یہ کہ آپ ﷺکی ذاتِ مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا اگر بقول زیر صحیح ہوتو دریافت طلب یہ اھم ہے کہ غیب سے مراد بعض غیب ہے یا کل غیب ۔اگر بعض علوم غیبیہ مراد ہیں تو اس میں حضور ﷺ ہی کی کیا تخصیص ہے ۔ایسا علم غیب تو زید وعمر و بلکہ ہر صبی (بچہ )مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کے لئے بھی حاصل ہے ۔

مطلب یہ کہ سرکار ﷺکے علم غیب کو پاگل ،جانوروں اور بچوں سے ملایا ۔

(بحوالہ :کتاب حفظ الایمان ص8کتب خانہ اشرفیہ راشد کمپنی دیوبند مصنف :اشرف علی تھانوی )

عقیدہ :

دیوبندی اکابر قاسم نانوتوی اپنی کتاب تحذیر الناس میں لکھتا ہے کہ اگر بالغرض زمانہ نبوی ﷺکے بعد بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمد ی ﷺمیں کچھ فرق نہیں آئیگا ۔

مطلب یہ کہ قاسم نانوتوی نے حضور ﷺ کو خاتم النبین ماننے سے انکار کیا ۔

(بحوالہ :کتاب تحذیر النّاس ،صفحہ نمبر 34دارالاشاعت مقابل مولوی مسافر خانہ کراچی ، مصنف :قاسم نانوتوی )

عقیدہ :

دیوبندی اکابر مولوی خلیل احمد انبیٹھوی اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ شیطان وملک الموت کا حال دیکھ کر علم محیط زمین کا فخر عالم ﷺکو خلاف نصوص قطعیہ کے بلادلیل محض قیاسِ فاسدہ سے ثابت کرنا شرک نہیں تو کونسا ایمان کاحصّہ ہے شیطان وملک الموت کو یہ وسعت نص سے ثابت ہوئی ۔

فخر عالم ﷺکی وسعت علم کی کونسی نص قطعی ہے کہ جس سے تمام نصوص کو رد کرکے ایک شرک ثابت کرتا ہے ۔

مطلب یہ کہ سرکار اعظم ﷺکے علم پاک سے شیطان وملک الموت کے علم کو زیادہ بتایا گیا مولوی خلیل احمد کی اس کتاب کی دیوبندی مولوی رشید احمد گنگوہی نے تصدیق بھی کی ۔(بحوالہ :کتاب :براہین قاطعہ صفحہ نمبر 51مطبوعہ بلال ڈھور ،مصنف :مولوی خلیل احمد ابنیٹھوی مصدّقہ ،مولوی رشیداحمد گنگوہی )

عقیدہ :

زناکے وسوسے سے اپنی بیوی کی مجامعت کا خیال بہتر ہے اور شیخ یاانہی جیسے اور بزرگوں کی طرف خواہ جناب رسالت ماب ﷺہی ہوں اپنی ہمت کو لگا دینا اپنے بیل اور گدھے کی صورت میں مستغر ق ہونے سے زیادہ برا ہے ۔

مطلب یہ کہ دیوبندی اکابر اسمعیل دہلوی نے نماز میں سرکار اعظم ﷺکے خیال مبارک کے آنے کو جانور وں کے خیالات میں ڈوبنے سے بدتر کہا ۔

(بحوالہ :کتاب صراطِ مستقیم صفحہ 169،اسلامی اکادمی اردو بازار لاھو رمصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )

عقیدہ :

دیوبندی اکابر اشرف علی تھانوی کے ایک مرید نے اپنے پیراشرف علی تھانوی کواپنے خواب اور بیداری کا واقعہ لکھا کہ وہ خوا ب میں کلمہ شریف میں حضور ﷺکے نام ِ نامی اسمِ گرامی کی جگہ اپنے پیر اشرف علی تھانوی کا نام لیتا ہے یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ (ﷺ)کی جگہ لا الہ الا اللہ اشرف علی رسول اللہ (معاذ اللہ )پڑھتا ہے اور اپنی غلطی کا احساس ہوتے ہی اپنے پیر سے معلوم کرتاہے تو جواب میں اشرف علی تھانوی تو بہ و استغفار کا حکم دینے کے بجائے کہتا ہے ۔’’اس واقعہ میں تسّلی تھی کہ جسکی طرف تم رجوع کرتے ہو وہ یعونہ تعالیٰ متبع سنّت ہے ۔

مطلب یہ کہ کلمہ کفر کو اشرف علی تھانوی صاحب نے عین اتباع سنت کہا ۔

(بحوالہ :کتاب :الا مداد صفحہ 35مطبع امداد المطا بع تھا نہ بھون انڈیا ،مصنف :اشرف علی تھانوی )

عقیدہ :

دیوبندی مولوی حسین علی دیوبندی نے اپنی کتاب بلغۃ الحیران میںلکھا ہے کہ حضور ﷺپل صراط سے گررہے تھے میں نے انہیں بچایا ۔(معاذاللہ )

عقیدہ :

دیوبندی اکابر مولوی خلیل احمد انبیٹھوی لکھتا ہے کہ رسول کو دیوار کے پیچھے کا علم نہیں ۔

(بحوالہ :کتاب:براہین قاطعہ ص55،مصنف :خلیل احمد انبیٹھوی )

عقیدہ :

دیوبندی مولوی اسمعیل دہلوی لکھتا ہے کہ جس کا نام محمد ﷺیا علی رضی اللہ عنہ ہے وہ کسی چیز کا مالک ومختار نہیں ۔(بحوالہ :کتاب :تقویۃ الایمان مع تذکیر الاخوان صفحہ43مطبوعہ :میر محمد کتب خانہ مرکز علم و ادب آرام باغ کراچی مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )

عقیدہ :حضور ﷺکی تعظیم بڑے بھائی کے برابر کرنا چاہئے ۔(معاذ اللہ )

(بحوالہ :کتاب تقویۃ الایمان ص88:مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )

عقیدہ :

ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہیں۔(معاذاللہ )

(بحوالہ :کتاب تقویۃالایمان ص 13مصنف :مولوی اسمعیل دہلوی )

عقیدہ :

مولوی اسمعیل دہلوی نے حضور ﷺپر افتراء باندھا کہ گویا آپ ﷺنے فرمایا میں بھی ایک دن مرکر مٹی میں ملنے والا ہوں ۔(بحوالہ :کتاب :تقویۃ الایمان ص 53)

عقیدہ :

مولوی خلیل دیوبندی نے اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 52پر لکھا ہے کہ حضور ﷺکا یومِ ولادت مناناکنھّا کے جنم دن منانے کی طرح ہے ۔(معاذ اللہ )

عقیدہ :

مولوی خلیل دیوبندی اپنی کتاب براہین قاطعہ کے صفحہ نمبر 30پر لکھتا ہے کہ حضور ﷺنے اردو زبان علماء دیوبند سے سیکھی ۔(معاذاللہ )

عقیدہ :

مولوی اشرف علی تھانوی اور مولوی فضل الرحمٰن کی زبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے خواب میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا کہ انہوں نے ہم کو اپنے سینے سے چمٹایا ۔(معاذاللہ )

(بحوالہ :کتاب :الاضافات الیومیہ صفحہ 62/37مصنف :مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی )

عقیدہ :

انبیاء کرام اپنی امت میں ممتاز ہوتے ہیں تو علوم ہی میں ممتاز ہوتے ہیں باقی رہا عمل اس میں بسا اوقات بظاہر امتّی مساوی ہوجاتے بلکہ بڑھ جاتے ہیں ۔

مطلب یہ کہ عمل اگر اُمتّی زیادہ کرلے تو نبی سے بڑھ جاتا ہے ۔(معاذاللہ )

(بحوالہ :کتاب :تحذیرالنّاس ص5،مصنف :مولوی قاسم نانوتوی دیوبندی )

عقیدہ :لفظ رحمۃ للعالمین صفت خامہ رسول اللہ ﷺکی نہیں ہے اگر (کسی )دوسرے پر اس لفظ کو تباویل بول دیوے تو جائز ہے ۔ (بحوالہ :فتاوٰی رشید یہ جلد دوم ص 9،مولوی رشید گنگوہی دیوبندی )

عقیدہ :

محرم میں ذکر شہادت حسین کرنا اگر چہ بروایات صحیح ہو یا سبیل لگانا ،شربت پلانا چندہ سبیل اور شربت میں دینا یا دودھ پلانا سب ناجائز اور حرام ہے ۔

(فتاوٰی رشیدیہ ص 435مصنف :رشید احمد گنگوہی دیوبندی )

عقیدہ :

قبلہ و کعبہ کسی کو لکھنا جائز نہیں ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص265)

عقیدہ :

عیدین میں (عیدالفطر و عید الاضحی ) کو معائقہ کرنا (گلے ملنا )بد عت ہے ۔

(فتاوٰی رشیدیہ ص243)

عقیدہ :

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی اپنی فتاوٰی کی کتاب امداد الافتاوٰی جلد دوم صفحہ 29/28میں لکھتا ہے کہ شیعہ سنّی کا نکاح ہوسکتا ہے لہٰذا سب اولاد ثابت النسب ہے اور محبت حلال ہے ۔

عقیدہ :

مولوی اشرف علی تھانوی اپنی فتاوٰی کی کتاب امدا د الفتاوٰی کا اختلاف ہے راجح اور صحیح یہ ہے کہ حلال ہے ۔

عقیدہ :

مولوی اشرف علی تھانوی دیوبندی کتاب الاضافات الیومیہ جلد 4ص139پر لکھتا ہے کہ شیعوں اور ہندوؤں کی لڑائی اسلام اور کفر کی لڑائی ہے شیعہ صاحبان کی شکست اسلام اور مسلمانوں کی شکست ہے اسلئے اہلِ تعزیہ کی نصرت (مدد)کرنی چاہئے ۔آپ نے مولوی اسمعیل دہلوی کی گستاخانہ کتاب تقویۃ الایمان کی عبارتیں ملاحظہ کیں اس کتاب کے متعلق دیوبندی اکابر ین کیا لکھتے ہیں ملاحظہ کریں ۔

مولوی رشید احمد گنگوہی دیوبندی اکابر اپنی فتاوٰی کی کتاب فتاوٰی رشید یہ میں تقویۃ الایمان کے بارے میں لکھتا ہے ۔

1)…کتاب تقویۃ الایمان نہایت ہی عمدہ کتاب ہے اسکارکھنا اور پڑھنا اور عمل کرنا عین اسلام ہے ۔

(فتاویٰ رشیدیہ ص351)

2)…جو تقویۃالایمان کو کفر اور مولوی اسمعیل کو کافر کہے وہ خود کافر اور شیطان ملعون ہے ۔

(فتاوٰی رشید یہ ص252،356)

3)…مولوی اسمعیل دہلوی قطعی جنتّی ہیں ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص252)

عقیدہ :

نذر و نیاز حرام ہے ۔

عقیدہ :

پیر یا استاد کی برسی کرنا خلافِ سنّت و بدعت ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص461)

عقیدہ :

بروز ختم قرآن شریف مسجد میں روشنی کرنا بد عت ونا جائز ہے ۔(فتاوٰی رشیدیہ ص 460)

عقیدہ :

اللہ کے مکر سے ڈرنا چاہئیے ۔(تقویۃ الایمان ص55)

عقیدہ :

اللہ تعالیٰ جھوٹ بول سکتا ہے اور ہر انسان نقص و عیب اس کے لئے ممکن ہے ۔

عقیدہ :

حضور ﷺکے والدین کہ یمین اورحضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد دیوبندیوں کے نزدیک مشرک ہیں۔

عقیدہ :

دیوبندیوں کے نزدیک یزید (امیر المومنین جنّتی اور بے قصور )ہے ۔

اصل اختلاف :

اہلسنّت وجماعت سنّی حنفی بریلوی مسلک اور دیوبندیوں کا اصل اختلاف یہ نہیں ہے کہ اہلسنّت کھڑے ہوکر درود و سلام پڑھتے ،نذر و نیاز کرتے ہیں ،وسیلے کے قائل ہیں ،مزارات پر حاضری دیتے ہیں اور دیوبندی اس تما م کارِخیر سے محروم ہیں بلکہ اصل اختلاف جس نے اُمت مسلمہ کو دو دھڑوں میں بانٹ دیا وہ اکابر دیوبند یعنی دیو بندیوں کا پیشواؤں کی وہ کفر یہ عبارات ہیں جو ہم نے پیچھے تحریر کیں جن میں کھلم کھلا سرکارِ اعظم ﷺکی شانِ اقدس میں گستاخی کا ارتکاب کرکے اسلام کی دجیاں بکھیری گئی ہیں ۔دیوبندی ادارے آج بھی ان کفر یہ عبارات کو کتابوں میں شائع کرتے ہیں اس کی تردید بھی نہیں کرتے ،اس کے خلاف بھی کچھ نہیں کہتے ۔

ان میں دارالعلوم دیوبند ،تبلیغی جماعت ،جمعیت علماء اسلام ،جماعتِ اسلامی ،سپاہ صحابہ ،جمعیت علماء ہند ،تنظیم اسلامی ،جیشِ محمد ،حزب المجاہدین وغیرہ تمام دیوبندی تنظیمیں ان باطل عقائد پر مشتمل ہیں جو اپنے آپ کو آج کل اہلسنّت و جماعت سنّی حنفی دیوبند ی مکتبہ فکر کا لیبل لگا کر پیش کرتے ہیں یہ ان کے علماء کفریہ عبارات سے توبہ کرتے ہیں نہ یہ کہتے ہیں کہ ان عبارات کو لکھنے والے ہمارے اکابر ین نہیں ہیں بلکہ ان سب کو اپنا امام مجدّد اور حکیم الامت کہتے ہیں اور مانتے بھی ہیں ۔

اختلاف کا حل :

اگرآج بھی دیوبندی اپنے ان بڑوں کی کفر یہ عبارات سے توبہ کرکے ان تمام کفر آمیز کتب سے بیزاری کا اظہار کرکے انہیں دریا برد کردیں تو اہلسنّت کا اعلان ہے کہ وہ ہمارے بھائی ہیں ۔

دیوبندی شاطروں کی چال }

علماء دیوبند یا عوامِ دیوبند کبھی بھی اپنے ان عقائد کو آپ پر ظاہر نہیں کریں گے بلکہ ان عبارات کا زبان سے انکار بھی کریں گے تاکہ بھولی بھالی عوام کو دھوکہ دے سکیں یاد رکھئے زہر کھلانے والا کبھی بھی سامنے زہر نہیں دیگا ورنہ کوئی اسے نہیں کھائے گا اس کی چال یہ ہوتی ہے کہ مٹھائی کے اندر ڈال کر دیگا اور کہے گا کہ کھاؤ یہ مٹھائی ہے اس مٹھائی کو دیکھ کر قوم اسے کھائے گی ۔

آج دیوبندی یہ چال چل کر لاکھوں لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں نماز نماز کہہ کر لوگوں کو لے کر جاتے ہیں اس طرح انہوں نے لاکھوں لوگوں کو بد مذہب کردیا ،لاکھوں نوجوانوں کو مفتی بنادیا کہ وہ مسلمان پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگائیں یہی وجہ ہے کہ آج گھر میں یہ ماڑ دھاڑ ہے اولاد والدین پر بدعتی اور مشرک کے فتوے لگاتی ہے خدارا !اپنی نوجوان نسل کا خیال رکھو ان کی تربیت کر و،انہیں عشقِ رسول ﷺکی طرف مائل کرو یہی فلاح و کامرانی کا راستہ ہے ۔

قرآن مجید کے ترجموں میں کفریہ عبارات

(خود بدلتے نہیں قرآن بدل دیتے ہیں)

(1) القرآن :ولما یعلم اللّٰہ الذین جاھد وا منکم۔ (سورہ اٰل عمران آیت نمبر142،پارہ 4)

ترجمہ :حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔

(فتح محمد جالندھری دیوبندی )

ترجمہ : حالانکہ ہنوز اللہ تعالیٰ نے اُن لوگوں کو تو دیکھا ہی نہیں جنہوں نے تم سے جہاد کیاہو۔

(اشرفعلی تھانوی دیوبندی)

ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ کو (معاذ اللہ )بے خبر لکھا ہے جو کہ کفر ہے ۔

امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی اس کا ترجمہ اپنے ترجمہ قرآن کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔

ترجمہ :اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا ۔(امام اہلسنّت )

(2) القرآن :ویمکرون ویمکر اللّٰہ واللّٰہ خیر المٰکرین ۔(سورہ انفال ،پارہ نمبر 9)

ترجمہ :وہ بھی داؤ کرتے تھے اور اللہ بھی داؤ کرتا تھا اور اللہ کا داؤ سب سے بہتر ہے ۔(محمود الحسن دیوبندی )

ترجمہ :اور وہ بھی فریب کرتے تھے اور اللہ بھی فریب کرتا تھا اوراللہ کا فریب سب سے بہتر ہے ۔

(شاہ عبدالقادر )

ان دونوں دیوبندی مولویوں نے اللہ تعالیٰ کو مکرو فریب کرنے والا لکھاہے کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ایسے الفاظ کا استعمال کفرنہیں ہے ؟

امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔

ترجمہ :اور وہ اپنا سا مکر کرتے تھے اور اللہ اپنی خفیہ تدبیر فرما تا تھا اور اللہ کی خفیہ تدبیر سب سے بہتر ۔

(امام ِ اہلسنّت)

(3) القرآن :ووجدک ضالا فھدی ۔(سورہ والضحیٰ آیت نمبر 7)

ترجمہ :اور آپ کو بے خبر پایا سو رستہ بتایا ۔(عبدالماجد دریا بادی دیوبندی )

ترجمہ :اور اللہ تعالیٰ نے آپکو شریعت سے بے خبر پایا سو آپ کو شریعت کا رستہ بتلا دیا ۔

(اشرف علی تھانوی دیوبندی )

ان دونوں دیوبندی مولویوں نے حضور ﷺکو بے خبر اور بھٹکا ہوالکھا ہے اگر نبی بھولا بھٹکا اور بے خبر ہوگا تو پھر وہ اُمت کو کیا راستہ دکھائے گا نبی تو پیدائشی نبی اور ہدایت یا فتہ ہوتا ہے ۔

امامِ اہلسنّت مولانا شاہ احمد رضا نصاحب محدث بریلی علیہ الرحمہ اس کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔

ترجمہ :اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تواپنی طرف راہ دی ۔

(4) القرآن :ان المنا فقین یخادعون اللّٰہ وھو خاد عھم ۔(سور ہ نساء آیت 142،پارہ 5)

ترجمہ :منافقین دغابازی کرتے ہیں اللہ سے اور اللہ بھی ان کو دغا دیگا ۔

(محمود الحسن دیوبندی ، شاہ عبدالقادر )

ان دونوں دیوبندیوں نے اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے والا لکھا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات عیب سے پاک اس طرح کی چیز وں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے ۔

امام اہلسنّت امام احمد رضا خانصاحب محّدث بریلی علیہ الرحمہ اس آیت کا ترجمہ کنزالایمان میں یوں کرتے ہیں ۔

ترجمہ:بیشک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی ان کو غافل کرکے ماریگا ۔

آپ حضرات نے دیوبندیوں مولویوں کے تراجم کی جھلک ملاحظہ فرمائی آپ حضرات فیصلہ کریں کہ ان لوگوں نے قرآن مجید کے تراجم میں خیانت نہیں کی کیا ایسے لوگ اسلام کے چہرے کو منع نہیں کررہے ؟کیا ان لوگوں کے پیچھے نماز جائز ہوسکتی ہے ؟کیا ان لوگوں کے تراجم ہمیں پڑھنے چاہئیے ؟کیا ہم ان لوگوں سے کوئی اصلاحی کوششوں کی امید رکھیں ؟

نہیں ہرگز نہیں ان باطل عقائد رکھنے والوں کا اسلام سے دور تک کابھی کوئی واسطہ نہیں ۔

٭٭٭٭٭

چوبیس زہریلے سانپ اور مسلکِ حق اہلسنّت

حضرت علامہ مولانا مفتی محمد طفیل رضوی