نماز میں دل لگانے کی تدبیر

نماز میں دل لگانے کی تدبیر:

نمازمیں غفلت دو وجہ سے ہوتی ہے،ایک سبب ظاہری جبکہ دوسرا باطنی ہے ۔

ظاہری سبب ایسی جگہ نمازپڑھنا ہے ،جہاں توجہ ادھر اُدھر متوجہ ہوجاتی ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے ،جہاں کوئی چیز سنائی اور دکھا ئی نہ دے ،بہتر ہے ،انسان دوران نماز اپنی آنکھیں بھی بند کر لے ،کیونکہ دل، آنکھ اور کان کے تابع ہے۔

باطنی سبب خیالات اور وساوس کا آنا ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے ،پہلے ضروری کام کاج کرلے ،پھر نماز پڑھے،دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے ،اس کے معانی میں غور و فکر کرے ،تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس چیزکے باکثرت خیال آتے ہیں ،اس سے جان چھڑانے کی صورت نکالے ،جیسے ایک مرتبہ دوران نماز حضور کا دہیان کپڑے کی کڑھائی کی طرف گیا ،تو آپ نے وہ قمیص دوبارہ نہیں پہنی، اسی وجہ سے حضرت طلحہ نے اپنا پوراباغ صدقہ کر دیا تھا۔

(ملخص ازکیمیائے سعادت ،امام غزالی )

چھوٹی چھوٹی باتیں

چھوٹی چھوٹی باتیں
مدثر رضا مصباحی

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا(مائدہ۶)

ترجمہ: اور اگر تم ناپاک ہو تو خوب خوب پاک ہو جاؤ۔

 ایک دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ (بقرہ۲۲۲)

ترجمہ: واقعی اللہ توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے اور خوب خوب پاکی حاصل کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 جو شخص غسل جنابت میں ایک بال کی جگہ بھی دھوئے بغیرچھوڑ دے گا تو اس کے ساتھ آگ سے ایسا ایسا کیا جائے ، یعنی عذاب دیا جائے گا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے میں نے اپنے سر کے ساتھ دشمنی کر لی،یعنی حلق کروالیا۔ ( ابو داؤد ،کتاب الطہارۃ)

مذکورہ بالا آیات کریمہ اور حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ جب کوئی شخص ناپاک ہو جائے تو اس پر غسل فرض ہے اور ان ہی آیتوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالی توبہ کرنے والے اور خوب خوب پاکی حاصل کرنے والوں سے محبت فرماتاہے ۔ چنانچہ یہ واضح رہے کہ کوئی بھی شخص اچھی طرح اس وقت تک پاک نہیں ہو سکتاہے جب تک کہ وہ غسل کے فرائض و سنن کی صحیح ادائیگی کاخیال نہ رکھے ،لہٰذا غسل کے فرائض و سنن کا علم حاصل کرنا ہرعاقل وبالغ شخص کے لیے ضروری ہے ۔

غسل کے فرائض

غسل کے فرائض تین ہیں:

۱۔ کلی کرنا یعنی منھ کے اندرونی ہر حصے پر پانی پہنچانا ۔

۲۔ ناک کی نرم ہڈی تک پانی پہنچانا۔

۳۔ پورے بدن پر پانی اس طرح بہانا کہ بدن کا کوئی حصہ بھیگنے سے باقی نہ رہ پائے۔

چنانچہ اگراِن تینوں فرائض کی صحیح صحیح ادائیگی جب تک نہ ہوگی اس وقت تک پاکی حاصل نہ ہوگی۔اس کے باوجود زیادہ ترلوگ غسل کے فرائض سے واقفیت حاصل نہیں کرتے ، جس کا نتیجہ یہ نکلتاہےکہ غسل کرنے کے بعد بھی ان کوپاکی حاصل نہیں ہوپاتی ،اور بہت سی عبادتیں جنھیں وہ باقاعدہ اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں وہ بھی ادانہیں ہوپاتیں۔

 اس طرح انھیں کئی طرح کے نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے:

۱۔ عبادتیں ضائع اوربیکار ہوجاتی ہیں۔

۲۔ گھروں میں رحمت کے فرشتے نہیں آتے۔

۳۔ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں حاصل ہونے کے بجائے محرومی حاصل ہوتی ہے۔

 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کا بیان ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 اس گھر میں فرشتےنہیں جاتے جس گھرمیں تصویر، کتا اور ناپاک انسان ہو۔ (سنن ابی داؤد،ج:۱ ،ص ۱: ۰۹)

اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ انسان اِسی ناپاکی کی حالت میں مر جائےجو اُس کے لیےسخت گھاٹے کا سواد ہے۔ مزید یہ کہ ناپاکی سے مختلف بیماریاں بھی پیداہوتی ہیں  اورقلبی اطمینان و سکون بھی حاصل نہیں ہوتا۔

غسل کامسنون طریقہ 

 حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نہانے کے لیے میں نے پانی رکھا اور کپڑے سے پردہ کردیا،توآپ نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ران کو دھویا ،پھر پانی ڈال کر ہاتھوں کو دھویا ،پھر داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا ،گندگی کو صاف کیا، پھر ہاتھ زمین پر مار کر اور رگڑکردھویا، پھر کلی کی، ناک میں پانی ڈالا اور منھ ہاتھ دھویا ، پھر سر پر پانی ڈالا اور تمام بدن پر پانی بہایا ، پھر اس جگہ سے الگ ہو کر پائے مبارک دھوئے،اس کے بعد میں نے ایک کپڑا دیا توآپ نے نہ لیا اور ہاتھوں کو جھاڑتے ہوئے تشریف لے گئے ۔ (صحیح بخاری، کتاب الغسل)

لہٰذا جب بھی ہم آپ میں سے کسی کو ناپاکی لاحق ہو تو فوراً پاکی حاصل کریں اور ہر گز ہرگزغسل کے فرائض و سنن کو ترک نہ کریں،ورنہ دین ودنیامیں بھی سخت خسارےاور نقصان کے مستحق ہوں گے ۔

 و ضو کے فرائض

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِذَا قُمْتُمْ اِلَی الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَی الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَی الْكَعْبَیْنِ(مائدہ ۶)

ترجمہ:اے مومنو! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کر و تو اپنے منھ ، کہنیوں سمیت دونوںہاتھوں کو دھوؤ ، سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں دھوؤ۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وضوکے فرائض چار ہیں:

۱۔ دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھونا۔

 ۲۔ ایک کان کی لو سے دوسرے کان کی لو تک اور پیشانی کے بال اُگنے کی جگہ سے لے کر ٹھوڑی کے نیچے تک اس طرح چہرہ دھونا کہ ایک بال بھی نہ چھوٹنے پائے ۔

۳۔ سرکا مسح کرنا۔

۴۔دونوںپاؤں ٹخنوں سمیت دھونا ۔

 وضو کی سنتیں 

وضوکی سنتیں درج ذیل ہیں:

۱۔نیت کر نا،

۲۔ بسم اللہ کرنا،

۳۔دونوں ہاتھ گٹوں تک دھونا،

۴۔مسواک کرنا،

۵۔ کلی کرنا،

۶۔ناک میں پانی چڑھانا ،

 ۷۔بالترتیب وضو کرنا،

۸۔ ہاتھ پاؤں میں پہلے داہنے کو دھونا،

ان کے علاوہ وضو کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کابھی خیال رکھناضروری ہے،مثلاً:

اگر انگلیوں میں انگوٹھی ہوتو اُس کے نیچے پانی ضرور پہنچائے ۔

اگرپاؤں اور ہاتھ کی انگلیوںمیں پھٹن ہو تو اس میں پانی پہنچائے۔

پیروں کی انگلیوں کے درمیان اچھی طرح پانی پہنچائے خصوصاً جاڑے کے موسم میں۔

اگرناخن میں آٹا، مٹی وغیرہ ہوتو اُن کو ہٹا کر پانی بہائے۔ث وضو کے درمیان فضول بات چیت نہ کریں۔

زیادہ پانی خرچ نہ کریں، یعنی ایسا نہ ہو کہ نل کھول دیا جائے اور کئی منٹوں تک وضو کیا جائے ۔

 مذکورہ بالا چیزوں کا بھر پور خیال رکھیں ،ورنہ وضو نہ ہونے کا اندیشہ ہے او راگر وضو نہ ہواتونماز بھی نہ ہوگی ۔

حقیقت وضو 

لیکن وضوکی حقیقت کیاہے،اس تعلق سے مشائخ کرام فرماتے ہیں:

۱۔ ہاتھ کا وضو یہ ہے کہ اس سے کسی کو کسی قسم کی تکلیف نہ دی جائے ۔

۲۔ پیرکا وضو یہ ہے کہ وہ کسی حرام، یامکروہ تحریمی عمل کی جانب نہ اُٹھے۔

 ۳۔سر کا مسح یہ ہے کہ وہ اللہ رب العزت کے سوا کسی کے سامنے عبادت کے لیے نہ جھکے۔

 ۴۔ کلی کی حقیقت یہ ہے کہ زبان پرجھوٹ، غیبت ،گالی گلوج اور دیگر بری باتیں نہ آئیں۔

ان باتوں کو معمولی سمجھ کرانسان اس کی طرف توجہ نہیں دیتا یا اُنھیں چھوڑدیتا ہے جب کہ یہی باتیں قیامت میں نجات کا سامان فراہم کریں گی ۔

اذان کا جواب دینا 

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 مؤذن سےجو کچھ کہتے سنوتم بھی وہی کہو۔ ( سنن ابن ماجہ ، ابو اب الاذان )

 حضرت جابر رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں کہ جو اذان سن کر اَللّٰہُمَّ رَبَّ ہٰذِہِ الدَّ عْوَۃِ الخ پڑھ لے،تو اُس کے لیے میری شفاعت واجب ہوگئی ۔ (صحیح بخاری ،کتاب التفسیر)

حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشادفرماتے ہیں:

 عورتوں کے لیے ہر کام کے مقابل دس لاکھ درجے بلند کیے جائیں گے ،حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے عرض  کیاکہ یہ عورتوں کے لیے ہےتو مردوں کے لیے کیا ہے ؟

 آپ نے فرمایا :مردوں کے لیے اس کادوگناہے۔

اذان سننے اوراس کا جواب دینے کے فوائد

 

 ۱۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر عمل ہوتا ہے۔

۲۔اذان کو غورسے سننے اور جواب دینے میں قلب کو اطمینان حاصل ہوتاہے ۔

۳۔قیامت کے دن نبی کریم صلی ا للہ علیہ و سلم کی شفاعت نصیب ہوگی ۔

۴۔بے حساب اجر و ثواب حاصل ہوتاہے۔

۵۔ نماز میں خشوع و خضوع پیدا کرنے اور نماز کو غیر اللہ کے خیالات سے پاک کرنے میں یہ اہم وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مشائخ مسجد میں بیٹھ کر اذان کا جواب دیا کرتے ہیں۔

 لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہماراعمل اس کے برعکس ہے ،کیوںکہ اذان ہوتی رہتی ہے اور ہم دکانوں،ہوٹلوں ، بازاروں اور چوراہوں پر آپسی گفتگواور غیر ضروری کاموں  میں مشغول رہتے ہیں،نتیجہ یہ نکلتاہے کہ ہم نہ اذان سنتے اور نہ اس کا جواب دیتے ہیں،جب کہ اذان کاجواب نہ دیناحضور کےحکم سے منھ موڑناہے ۔خبردار !اس کو ہلکے میں نہ لیاجائے ورنہ ہلاکت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا ۔(العیاذباللہ )

نمازمیں تکمیل ارکان نہ کرنا 

 مسجدوں میں عام طورپریہ دیکھا جاتاہے کہ بہت سے نمازی جلدی جلدی نمازاداکرنے کی وجہ سے صحیح طورسے نماز کے ارکان ادانہیں کرپاتے اورجانے انجانے میں ترکِ واجب کے مجرم بن جاتےہیں،مثلاًقیام،رکوع ،سجود کے درمیان توازن واعتدال نہیں رکھ پاتے جس کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نماز ادا کرنے کے باوجود نمازیں ناقص رہ جاتی ہیں،اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کامل نمازیں ادا کرلیں،چنانچہ دوران نماز اِن تمام باتوں پر دھیان دیناانتہائی ضروری ہے۔

اس تعلق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجودتھے کہ ایک شخص آیا اور نماز اداکی،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پیش کیا،تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا:

ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ۔

ترجمہ:جاؤ پھرسے نماز پڑھو،کیوں کہ تیری نماز نہیں ہوئی۔

یہ سن کروہ شخص واپس گیا اور نماز اداکی ،اس طرح تین مرتبہ ہواکہ وہ باربارواپس جاتا اورنماز اداکرتا،اخیر میں اس نےعرض کیاکہ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا،میں اس سے بہتر نہیں کرسکتا ،آپ مجھے اس کی تعلیم فرمائیں،اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

 إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلاَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ ارْكَعْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ثُمَّ ارْفَعْ حَتَّى تَعْتَدِلَ قَائِمًا ثُمَّ اسْجُدْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ثُمَّ اجْلِسْ حَتَّى تَطْمَئِنَّ جَالِسًا ثُمَّ افْعَلْ ذٰلِكَ فِى صَلاَتِكَ كُلِّهَا۔ (سنن ترمذی،باب ماجاء فی وصف الصلاۃ)

ترجمہ:جب نماز میں کھڑے ہوتو تکبیر (اللہ اکبر) کہو، پھر قرآن کریم کی کچھ آیتیں تلاوت کرو،پھر اطمینان سے رکوع کرو،اس کے بعد سیدھے کھڑے ہو،پھر اطمینان سے سجدہ کرو،اس کے بعد اطمینان سے بیٹھو،اور اسی طرح پوری نماز مکمل کرو۔

 معلوم ہواکہ صحیح صحیح قیام، قرأت، رکوع، سجود اور قعدہ ضروری ہے،تاکہ نماز کا ہررکن مکمل طورپر اداہو،ورنہ نمازنہیں ہوگی ، لہٰذا نما زمیں تعدیل ارکا ن کا خیال رکھنا لازمی ہے۔

تلاوت وقرأت میں جلد بازی

 اسی طرح کبھی بھی تلاوت وقرأت میں جلدبازی کرنا اچھی بات نہیں،کیوںکہ عین ممکن ہے کہ جلدی جلدی تلاوت اور قرأت کرنےکی وجہ سے اصل الفاظ میں تبدیلی آجائے اور اُن کے معانی کچھ سے کچھ ہوجائیں۔ خاص کر نماز میں اس کا خاص خیال رکھنا چاہیےکہ معانی میں تبدیلی کی وجہ سے نماز نہیں ہوتی ہے ۔

مذکورہ بالا تمام چیزیں دیکھنے میں چھوٹی لگتی ہے اور چھوٹی سمجھ کر بہت سے لوگ ترک بھی کر دیتے ہیں، حالاں کہ ان باتوں کا خیال نہ رکھناعبادت کے لیےسخت نقصان دہ ہے۔

نماز میں پینٹ شلوار کو موڑنا

سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں‘ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کوموڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف سے گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں‘ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: جب ہم نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں لہذا اس کی بارگاہ میں انتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ‘ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں تو پہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں‘ آستین چڑھی ہوئی ہوتی ہے تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں‘ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے‘ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث شریف

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ: مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں (منہ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے) اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ موڑوں (بخاری شریف جلد اول ص ۱۱۳‘ مسلم شریف جلد اول ص ۱۹۳‘ ترمذی شریف جلد اول ص ۶۶)

شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں لیکن اصطلاح شرعی میں کپڑے کا موڑنا اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے‘ یہ فعل کپڑں کا ٹخنوں کے نیچے بغیر تکبر کی نیت سے ہونے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت سے نیچی رہنے میں نماز مکروہ تنزیہی ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا) ہے (شارح بخاری ‘ عینی جلد ص ۹۰)

درمختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ ہے یعنی کپڑے کا اٹھانا اگرچہ کپڑا مٹی سے بچانے کے لئے ہو جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا‘ جب بھی مکروہ ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف سے اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں‘ خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ ہے (جلد اول ص ۵۹۸)

معلوم ہوا کہ کوشش کی جائے کہ شلوار‘ پینٹ یا ازار ٹخنوں سے تھوڑی سی اوپر سلائی جائے۔ اگر بالفرض پینٹ یا شلوار ٹخنوں سے بڑی ہے تو اس کو اوپر یا نیچے سے فولڈ یعنی موڑا نہ جائے‘ کیونکہ ایسا فعل مکروہ تحریمی ہے یعنی اگر کسی شخص نے ایسی حالت میں نماز پڑھی تو شلوار یا پینٹ درست کرکے نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہوگی۔

کپڑے ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم

حدیث شریف: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے نیچے کرے گا‘ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس فرمان کو سنتے ہی عرض کیا یارسول اﷲﷺ میرا تہبند تو نیچے لٹک جاتا ہے مگر اس وقت کہ جب میں اس کا خاص خیال رکھوں (اس کے شکم پر تہبند رکتا نہیں تھا سرک جاتا تھا) سرکار اعظمﷺ نے فرمایا تم ان میں سے نہیں جو تکبر کے طور پر ازار بند لٹکائے ہیں یعنی یہ وعید ان لوگوں کے لئے ہے جو قصدا (جان بوجھ کر) تکبر کی نیت سے تہبند و شلوار وغیرہ نیچی رکھتے ہیں ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد دوم ص ۸۶۰)

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیں ہیں۔

۱۔ بطور تکبر    ۲۔ بغیر تکبر

پہلی صورت حرام ہے اس میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے ازار یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا یہ فعل ازراہ تکبر نہ تھا کیونکہ ان کے شکم مبارک کی وجہ سے ازار نیچے سرک جاتا تھا اسی وجہ سے سرکار اعظمﷺ نے فرمایا یعنی اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً کپڑا نیچے کرنے والے نہیں ہو۔

الغرض کہ پائنچوں کا ٹخنے کے نیچے ہونا اگر تکبر کی نیت سے ہو تو حرام ہے اور وہ حصہ بدن جہنم کی آگ سے نہ بچ سکے گا اور اس میں نماز مکروہ تحریمی بھی ہوگی اور اگر تکبر کی نیت سے نہیں تو مستحق عذاب و عتاب نہیں اور نماز مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔

لہذا کوشش کی جائے کہ شلوار یا ازار لمبی سلوائی ہی نہ جائے کہ ٹخنے سے نیچے رہے کیونکہ یہ صرف نماز کی حالت میں خرابی نہیںبلکہ عام حالت میں بھی اتنی ہی خرابی ہے جتنی نماز کی حالت میں ہے۔ احادیث میں ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے والوں کو معیوب لگے‘ لوگ سمجھیں کہ چھوٹے بھائی کی شلوار پہن لی ہے۔

کیاتائب کے لیے قضائے عمری ضروری ہے؟

کیاتائب کے لیے قضائے عمری ضروری ہے؟

غلام مصطفی اظہری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جونماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے

(۲)عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں ہے ،سخت ترین فاسق و فاجر ہے ، اس کو کوڑا مارا جائے گا ، جیل کی سزا دی جائے گی اور اگر پھر بھی ترک پر اِصرار کرے تو قتل کردیا جائے گا، اور اگر اس نے توبہ کرلی تو اُس پر ضروری ہےکہ وہ تمام قضا نمازوں کا اعادہ کرے اور اللہ رب العزت کی رحمت و مغفرت سے بخشش کی اُمید رکھے۔یہ مذہب امام شافعی و امام مالک رحمہمااللہ کا ہے اور ایک روایت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے ،یہی مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کسی بھی صورت میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے ۔

 تارک صلاۃ کافر نہیں 

۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ(نسا۴۸)

 یعنی اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو بخش دےگا۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًا(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗ(۶۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (فرقان ۷۰)

ترجمہ:وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پوجتے اور ناحق کسی ایسی جان کو نہیں مارتے جس کی اللہ نے حرمت رکھی اور بدکاری نہیں کرتے اور جو بھی ایسا کام کرے اس پر قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب ہوگااور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور نیک عمل کرےتو ایسوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

۲۔قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (زمر۵۳)

ترجمہ:تم فرماؤ ،اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر گناہ کرکے زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو، بےشک اللہ تعالیٰ ہر طرح کے گناہ بخش دیتا ہے، وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

جہاں تک احادیث کریمہ میں تارک صلاۃ کو کفر کی طرف منسوب کرنے کا مسئلہ ہےتو فقہا و شارحین حدیث نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں ،جیسے ترک صلاۃ کفر سے قریب کرنے والا ہے ،یااس کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے ۔ یہ لفظ زجر و توبیخ کے طور پراستعمال کیا گیا ہے،یاپھر استخفافاً ترکِ صلاۃ کرنے والے کو کافر کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

توبہ کے بعد قضا نمازوں کا ادا کرناضروری ہے 

۱۔حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُّقْضٰی۔(بخاري ،کتاب الصیام ، باب من مات وعليه صوم۔ صحيح مسلم، کتاب الصیام ، باب قضاء الصيام عن الميت)

ترجمہ:اللہ کے حقوق ادا کرو ، کیوں کہ اللہ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔

۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:

 اگر کوئی شخص کوئى نماز پڑھنا بھول جائے تو یاد آتے ہی اُسے پڑھ لے،قضا سے ہٹ کر اُس کا اور کوئی کفارہ نہیں ہے۔(صحیح بخاری،باب من نسي صلاة فليصل اذا ذكر۔ صحیح مسلم،باب قضاء الصلاة الفائتة)

جب بھولنے والے پر نماز کی قضا واجب ہے حالاں کہ بھولنے پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہى کوئى مواخذه تو اَعلی سے ادنی پر تنبيہ كے قاعدے کى رعايت كرتے ہوئے جان بوجھ کر چھوڑنے والے پر قضا بدرجۂ اولیٰ واجب ہونى چاہيے۔

 (۳)متواتر عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں، سخت ترین فاسق ہے ، صرف سچی توبہ ہی اس کے نجات کا واحد راستہ ہے، توبہ کے بعد اس پرترک شدہ نمازوںکی قضا واجب نہیں ۔ بعض صوفیائے کرام اورمحققین کایہی مذہب ہے۔

اس مذہب اور اس سے پہلے مذکور مذہب کے درمیان صرف ایک بنیادی فرق ہے کہ اس مذہب کے قائلین یہ کہتے ہیں کہ متواتر عمداً نماز ترک کرنے والے پر توبہ کے بعد قضا نہیں ہے جب کہ اس سے پہلے مذہب کے قائلین کا ماننا ہے کہ اگر اُس نے ۶۰ ؍ سال کی عمر میں بھی توبہ کی تو اُس پر ضروری ہے کہ وہ مرنے سے پہلے پہلے ۴۵ ؍سال کی قضا نمازوں کو ادا کرے۔

کاہلی اور سستی عام ہوجانے کی وجہ سے ائمہ مجتہدین نے صحابۂ کرام کے متفقہ مذہب سے عدول کیا، یعنی عمداً تارک صلاۃ کو کافر کہنے سے گریز کیا تو اِس دور اخیرمیں جہاں دین بیزاری عام بات ہے ،ایمان ہی کے لالے پڑے ہیں ،عمل کو کون پوچھتاہے، جس قوم کے علما و مفکرین، مشائخ دین اور طالبان علوم قرآن و سنت ہی دین کے اہم رکن نماز کو عام طور پر ترک کردیتے ہوں،ان کے وقتوں پر ادا نہیں کرتے وہاں ۳۰، ۳۰ ؍سال بلکہ اس سے بھی زیادہ قضا نمازوںکی ادا ئیگی کی باتیں کرنا گنبد پر اخروٹ رکھنے اور گدھے کے سر میں سینگ تلاش کرنے کے مثل ہے، ذرااس مذہب کی دلیلوں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

 ۱۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (توبہ۱۰۴)

ترجمہ:کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔

۲۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ،كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهٗ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الزہد، باب ذكر التوبة)

ترجمہ:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔

۳۔ حدیث قدسی ہے:

أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهٗ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهٖ ذَكَرْتُهٗ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهٗ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهٗ هَرْوَلَةً۔ (بخاري ،کتاب التوحید، باب قول الله تعالى: {ويحذركم الله نفسه})

 ترجمہ:میں اپنے بندےکے ساتھ وہی کرتا ہوں جس کا بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے ، میں اس کے پاس ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے ، اگر وہ مجھے دل ہی دل میں یاد کرے تو میں بھی اسی طرح اس کا ذکر کرتا ہوں ،اگر وہ مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہےتو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے بھی زیادہ اس سے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

یہی اس مذہب کی بنیادی دلیل ہے کہ توبہ تمام گناہوں کا کفارہ ہے ، توبہ کے بعد کفر و شرک کرنے والوں سے فوت شدہ ارکان اسلام کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا،تو ایک مسلم سے جو اب تک کفر معنوی میں مبتلا تھا توبۂ نصوح کے بعد اتنی نمازوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جانا تکلیف ما لا یطاق نہیں؟

 ۴۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمْ:الصَّلَاةُ، يَقُولُ رَبُّنَاتَبَارَكَ وَتَعَالٰى لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ:اُنْظُرُوْا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهٗ تَامَّةٌ وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: اُنْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهٗ تَطَوُّعٌ قَالَ:أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهٗ مِنْ تَطَوُّعِهٖ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰى ذٰلِكُمْ۔(مسند احمد،ابوہریرہ، ح: ۹۴۹۰۔ سنن ابی داود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة)

ترجمہ:قیامت کے دن لوگوں سےان کے اعمال میں سب سے پہلےنماز کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائےگا:اے فرشتو !(حالاں کہ وہ سب کچھ جانتاہے) میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو، وہ پوری ہیں یا کم ؟اگر پوری ہوں گی پوری لکھ دی جائیں گی اور اگر کچھ کم ہوئیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل نمازیں بھی ہیں ؟ اگر ہوں گی تو اللہ فرمائے گا: فرض کی کمی کو نفل سے پورا کردو،پھر یہی حکم دوسرے فرائض کے متعلق بھی ہوگا۔

اس سے یہ معلوم ہوتاہےکہ جب نوافل بھی فرائض کے قائم مقام ہوں گے تو توبہ کے بعد اُن قضا نمازوں کی جگہ نفل کا کثرت سے ادا کرنا بھی کافی ہوگا۔

وضاحت

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فرض کے بغیر نفل قابل قبول نہیں ،یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن اس مذہب کے مطابق توبہ کے بعد قضاہوئےفرائض ساقط ہوگئے تواَب ایسی صورت میں نفل نمازیں کیوں قابل قبول نہ ہوں گی؟

دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث صحیح کے مقابل کوئی قول یا ضعیف حدیث قابل قبول نہیں،یاپھران احادیث و اقوال کو بطور زجر و توبیخ مانیں گے جو اِس صریح حدیث کے مقابل میں آئیں گے۔

۵۔عمداً قضاکی گئی نمازوں کی ادائیگی کاحکم نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ بعض فقہا نے نیند اور نسیان کی وجہ سے ترک شدہ نماز کی قضا والی احادیث پر قیاس کرکے عمداً ترک شدہ نمازپر بھی قضا کا حکم لگا دیا ہے۔ یہ قیاس مع الفارق ہے، کیوں کہ نیند اور نسیان سے قضا ہونے والی نماز کا وقت ختم نہیں ہوتا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا۔(سنن دار قطنی ، کتاب الصلاۃ،باب وقت الصلاة المنسية، یہ روایت ضعیف ہے)

ترجمہ:جو شخص نماز بھول جائے تو اُس کا وقت وہی ہے جب اُسے یاد آئے۔

 صحیحین میں بھی اسی طرح کی ایک روایت ہے:

 مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا۔

ترجمہ:جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے۔

اس حدیث میں لفظ إذا ظرف زمان ہے جو وقت کو بتاتا ہے، یعنی یاد آنے والا وقت ہی اس قضا نماز کا وقت ہے، جب کہ عمداً قضا کی ہوئی نماز کا تو وقت جاتا رہا ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(نسا۱۰۳)

ترجمہ:مومنین پر نماز وقت وقت پر فرض کی گئی ہے ۔

 نماز اپنے وقت میں ادا کرنے ہی سےادا ہوگی ،جب تک کہ شارع کی جانب سے اس پر کوئی واضح حکم نہ ہوکہ فلاں حالت میں نماز کا وقت فلاں ہے ۔

۶۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

مَنْ كَانَتْ لَهٗ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيْهِ مِنْ عِرْضِهٖ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهٗ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لا يَكُوْنَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهٖ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهٖ فَحُمِلَ عَلَيْهِ۔(صحیح بخاری ، كتاب المظالم والغصب)

ترجمہ:جو شخص اپنے بھائی پر کسی بھی طرح کا ظلم کرے، اُسے چاہیے کہ آج ہی اس سے معافی تلافی کرلے،اس دن سے پہلے جس دن نہ کوئی دینار اور نہ کوئی درہم ہوگا،اگراُس کے پاس کوئی نیکی ہوگی تو ظلم کے حساب سے اس سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اُس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوئی تو مظلوم کے گناہ اس ظالم شخص پر ڈال دیے جائیں گے۔

حق العباد جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا،فقہانے حق اللہ یعنی نماز و روزہ کو بھی اسی پر قیاس کرلیا ہے اور یہ کہا کہ

فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى۔

(اللہ کا حق وفا کا زیادہ حق دار ہے۔)

یہ قیاس بھی ناقابل فہم ہے،کیوں کہ حق دار کو اپنا حق معاف کرنے کا پورا اِختیار ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے معافی کا عام اعلان کردیا ہے کہ جو بھی توبہ کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا، میری رحمت وسیع ہے اور اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا،یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ جہاں تک حقوق العباد کا سوال رہا تو اللہ نے اس کا اختیار بندوں کو دے رکھا ہے، اسی لیے ان کے معاف کیے بغیر اللہ معاف نہیں فرمائےگا۔

۷۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، وَأَبْشِرُوْا۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: الدین یسر)

ترجمہ:بے شک دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا (یعنی اس کو اعتدال اور آسانی کی طرف لے آئےگا)پس آسان اور برحق دین اختیار کرو،یا کم سےکم اس کے قریب ہی رہواور لوگوں کو خوش خبری دو۔

 اوردرحقیقت آسانی اسی میں ہے کہ عمداً لگاتارترک کی ہوئی نمازوں کو ادا نہ کروایا جائے،کیوں کہ جو مذہب عورتوں سے ان کے مخصوص ایام کی نمازوں کی قضا کا تقاضا نہیں کرتا، کسی شخص پر پانچ وقت متواتر جنون طاری رہے اس سے بھی اسلام ان وقتوں کی قضا کا مطالبہ نہیں کرتا۔ آخر وہ دین ایسے شخص سے کیسے اتنی نمازوں کا مطالبہ کرے گا جو اسلام میں پورے طور پر ابھی کفر معنوی سے توبہ کرکے داخل ہوا ہے، جس نے اس ناپاک دنیا کی غلاظتوںسے ابھی ابھی طہارت معنوی حاصل کی ہے،اورایک لمبی مدت کے بعد خواہشات کے جنون سےباہر آنے کی کوشش کی ہے،بھلا ایسے شخص سے بھی اسلام اتنی طویل مدتی نماز کا مطالبہ کرے گا؟ ہرگز نہیں ۔

متقدمین فقہا و مجتہدین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھا ،ہمارے زمانے سے اُن کا زمانہ غنیمت تھا ، اس وقت سبھی لوگ نماز ضرور ادا کرتے تھے ، اگرچہ گنتی کے چند لوگ پابند نہیںہوتے ،کبھی کبھی چھوڑ دیتےتھے ، اس لیے ان کے اقوال اور اُن کے فتاوے اس عہد کے مناسب تھے کہ لوگوں کی نمازیں قضا کم ہوتیں تھیں ، ادا کرنا آسان تھا ، اب توحال یہ ہے کہ مساجدمیں عوام تو عوام اکثر علما و طلبا بھی نہیں پہنچ پاتے ہیں، بعض تو وہ بھی ہیں جن کی پیشانیاں سجدوں کے انتظارمیں عمریں گزار دیتیں ہیں، اللہ کی پناہ، ایسے ہی عہد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهٖ هَلَكَ،ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهٖ نَجَا۔ (سنن ترمذی ،کتاب الفتن، باب: ۷۹،ح:۲۲۷۴ )

 ترجمہ:تم ایسے زمانے میں ہوکہ تم میں سے جس نے ان اعمال کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دیا جن کا اُسے حکم دیا گیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا ،پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جو اُن اعمال میں سے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے گا جن کا اُسے حکم دیا گیا ہے تووہ نجات پاجائے گا۔

بھلا اس پُر فتن عہد میں اس سے زیادہ کی کیا اُمید کی جاسکتی ہے کہ توبہ پر استقامت ہوجائے، اب سے ہی فرائض و واجبات ادا کرتا رہے اور حرام سے بچتا رہے۔ اگر اس نے اسی پر ہمیشگی برت لی تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُسےضرور بخشش دے گا،کیوں کہ وہ غفار الذنوب، ستار العیوب ،اور ارحم الرحمین ہے۔

 ۸۔ فرض سے سبکدوشی اور ہے ، اورنماز کا حق ادا کرنا اور ، اس نا گفتہ بہ عہد میں جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں وہ بھی صرف ارکان نماز کی ادائیگی ہی کرتے پاتے ہیں،حالاں کہ نماز تو ذکر کے لیے قائم ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

 وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (طہ۱۴)

ترجمہ: نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔

 فَاذْکُرُونِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُونِ (بقرہ۱۵۲)

ترجمہ:تم مجھے یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری نافرمانی نہ کرو ۔

اور ذکر کا تقاضہ یہ ہے کہ دل حاضر رہے ، صرف زبان سے ذکر ، ذکر نہیں ہے ، اصل ذکر تو حضوری ٔقلب کے ساتھ ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَجْتَمِعُونَ فِي الْمَسَاجِدِ لَيْسَ فِيهِمْ مُؤْمِنٌ ۔(المستدرك على الصحيحين ،كتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ وہ مساجد میں جمع ہوں گے لیکن ان میں کوئی کامل ایمان والا نہیں ہوگا۔

حاکم نے اس حدیث کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے ، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔

 انہی سب دلائل کی بنیاد پراس مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے اشخاص جنھوں نے توبہ کرکےنماز ادا کرنا شروع کیا ہے،ان سے قضائے عمری ادا کرنے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے،بلکہ ان کو اس بات کی تلقین کرنا بہتر ہے کہ تم اب کبھی نماز نہیں چھوڑنا، زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرنا اور جہاں تک ہوسکے فقرا و مساکین پر صدقات کرنا۔اللہ تمہاری توبہ قبول کرے اور استقامت عطا فرمائے ۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان سچے تائبین اور مشائخ عظام کے طفیل حقیقت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)

عظمت نماز

عظمت نماز

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبیٔ کریم علیہ السلام نے فرمایا بتائو اگر تم میں سے کسی کے دروازے پر نہر ہو اور وہ اس میں ہر روز پانچ مرتبہ نہاتا ہو ،کیا اس کے بدن پر کچھ میل باقی رہ جائے گا ،صحابہ نے عرض کی اس کا کچھ میل باقی نہ رہے گا آپ نے فرمایا بس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے ۔اللہ ان کے ذریعہ گناہوں کو مٹادیتا ہے ۔ (بخاری ومسلم)

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ بندے اور کفر کے درمیان حد فاصل صرف نماز ہے ۔ (مسلم شریف)

حضرت بریدہ ر ضی اللہ تعالی عنہ راوی ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا :ہمارے اور کافروں کے درمیان نماز ہی کا عہد ہے ،پس جس نے اس کو چھوڑا اس نے کافروں جیسا کام کیا ۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سردی کے موسم میں جبکہ پتے جھڑ رہے تھے ،حضورا باہر تشریف لے گئے (میں آپ کے ساتھ تھا )پس آپ نے ایک درخت کی دوٹہنیاں پکڑیں(اور انہیں ہلایا )تو ان سے پتے جھڑنے لگے۔آپ نے فرمایا:اے ابو ذر!میں نے عرض کیا ،لبیک یا رسول اللہا! آپ نے فرمایا جب بندئہ مسلم خالص اللہ تعالیٰ کے لئے نماز پڑھتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جیسے یہ پتے اس درخت سے جھڑ رہے ہیں ۔ (مشکوٰۃشریف)

حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا:اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کے ہوجائیں اور جب وہ دس سال کے ہوجائیں تو انہیں نماز کے لئے مارو اور ان کے بستر الگ الگ کردو۔ (ابو دائود)

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما،حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن آپ نے نماز کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا جس نے نماز کی پابندی کی تو نماز اس کے لئے ذریعۂ نور ہے ،کمالِ ایمان کی دلیل اور سبب نجات ہوگی قیامت کے دن اور جو نماز کی پابندی نہ کرے گا اس کے لئے نہ نور ہوگا ،نہ دلیل ہوگی اور نہ نجات اور قیامت کے دن اس کا حشر قارون ،فرعون ،ہامان،اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا ۔ (مشکوٰۃ)

حضرت عبد اللہ بن شقیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اصحاب رسول ﷺ نماز کے سوا کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر خیال نہ کرتے تھے ۔ (ترمذی شریف)

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا : جس نے دورکعت نماز بغیر سہو کے ادا کی اللہ تعالیٰ نے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیئے۔ (ترمذی شریف)

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا جس نے نماز عشاء جماعت سے ادا کی ،گویا اس نے نصف شب عبادت کی اور جس نے نماز فجر بھی جماعت سے ادا کی ،گویا اس نے پوری رات عبادت میں گزاری۔ (مسلم شریف)

حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایاکہ میں نے حضور ﷺ سے سنا کہ جو نماز فجر کے لئے چلا وہ ایمان کا جھنڈا لیکر چلا اور جو بازار کی طرف (بلا ضرورت) چلا وہ شیطان کا جھنڈا لیکر چلا ۔ (ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا کہ اگر لوگ جان لیں کہ اذان اور صف اول میں کتنا ثواب ہے اور موقع نہ پائیں تو وہ اس کے لئے قرعہ اندازی کریں ،اور اگر وہ نماز ظہر کا اجر جان لیںتو اس کی طرف سبقت کریں ،اور اگر نماز فجر وعشاء کا ثواب جان لیں تو ان دونوں میں ضرور شریک ہوں ،چاہے سرین کے بل گھسٹ کر آنا پڑے۔ (بخاری ومسلم)

حضرت ابو اُمامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ محتشمﷺن نے فرمایا ہے کہ بندہ جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تواس کے لئے جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اس کے اوراللہ کے درمیان جو حجاب ہے وہ اٹھا دیا جاتا ہے اور حوریں اس کا استقبال کرتی ہیں جب تک کہ نمازی ناک نہ صاف کرے۔ (طبرانی)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرما یا: تم میں رات اور دن کو فرشتے باری باری آتے ہیں اور وہ فجر اور عصر کی نماز میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر چڑھتے ہیں وہ فرشتے جنہوں نے تم میں رات گزاری ہو تی ہے۔ ان سے ان کا رب پوچھتا ہے ( حالانکہ وہ ان کو خوب جانتا ہے )کس طرح چھوڑا ہے تم نے میرے بندوں کو ؟ وہ کہتے ہیں ہم نے ان کو اس حال میں چھوڑا ہے کہ وہ نماز پڑھ رہے تھے اور ہم ان کے پاس گئے تو وہ نماز پڑھ رہے تھے۔ (بخاری شریف)

حضور سید عالمﷺ نے فرمایا:جب بندہ اول وقت میں نماز پڑھتا ہے تو اس کی نماز آسمانوں تک جاتی ہے اور وہ نورانی شکل میں ہوتی ہے یہاں تک کہ عرش الٰہی تک جا پہنچتی ہے اور نمازی کے لئے قیامت تک دعا کرتی رہتی ہے کہ اللہ د تیری حفاظت فرمائے جیسے تونے میری حفاظت کی ہے اور جب آدمی بے وقت نمازپڑھتاہے تو اس کی نماز سیاہ شکل میں آسمان کی طرف چڑھتی ہے جب وہ آسمان تک پہنچتی ہے تو اسے بوسیدہ کپڑے کی طرح لپیٹ کر پڑھنے والے کے منہ پر مارا جاتا ہے۔ (بیہقی)

رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص وضو کر کے فجر کی ادائیگی کے لئے آیا اور دو رکعت سنت پڑھ کر نماز با جماعت کے انتظار میں محوِ ذکر رہا تو اس کی نماز ابرار کی سی نمازہو جائے گی۔ اور اس کا نام رحمانی قاصدوں میں لکھا جائے گا۔ (طبرانی )

حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ حضور اقدس ا ارشاد فرماتے ہیں جو اللہد کے لئے چالیس روز با جماعت نماز ادا کرے اور تکبیر اولیٰ پائے تو اس کیلئے دو آزادیاں ہیں ایک نار جہنم سے اور دوسری نفاق سے۔ (ترمذی )

نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایارات میں میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیااور ایک روایت میں ہے کہ اپنے رب کو نہایت ہی جمال کے ساتھ تجلی کرتے ہوئے دیکھا۔ اس نے فرمایا : اے محمد(ﷺ)! میں نے کہا ’’لَبَّیْکَ وَ سَعْدَیْکَ ‘‘ اس نے کہا تمہیں معلوم ہے کہ ملائکہ کس امر میں بحث کرتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا نہیں جانتا اس نے اپنا دست قدرت میرے شانوں کے درمیان رکھا یہاں تک کہ اس کی ٹھنڈک میں نے اپنے سینے میں پائی تو جو کچھ آسمانوں اور زمینوں میں ہے اور جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے میں نے جان لیاپھر فرمایا اے محمد (ﷺ )جانتے ہو ملائکہ کس چیز میں بحث کر رہے ہیں؟میں نے عرض کیا ہاںدرجات و کفارات اور جماعتوں کے چلنے اور سردی اور پورا وضو کرنے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں اور جس نے اس کی محافظت کی خیر کے ساتھ زندہ رہے گا اور خیر کے ساتھ مرے گا اور اپنے گناہوں سے ایسا پاک ہو گا جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواتھا۔(ترمذی شریف )٭٭٭٭

نماز میں وہم

حدیث نمبر :76

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ کہ ان سے کسی شخص نے پوچھا(عرض کیا)میں اپنی نماز میں وہم کیا کرتاہوں اور یہ واردات مجھ پر بہت ہوتی رہتی ہے فرمایا اپنی نماز پڑھگزرو کیونکہ یہ وہم تو جائے گا نہیں حتی کہ تم یہ کہتے ہوئے نماز ختم کرو گے کہ میری نماز مکمل نہ ہوئی ۲؎ (مالک)

شرح

۱؎ آپ حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،مدینہ منوّرہ کے سات قاریوں میں سے ایک ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی ہیں،زین العابدین آپ کے خالہ زاد بھائی اور امام محمد باقر کے آپ خُسر،امام جعفر صادق کے آپ نانا ہیں،چونکہ آپ یتیم رہ گئے تھے اس لیئے عائشہ صدیقہ نے آپ کی پرورش کی،آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ و امیرمعاویہ سے روایتیں کیں اور آپ سے ایک خلقِ خدا نے،۸۰ سال عمر پائی، ۳۲ھ؁ میں وفات ہوئی۔(اشعۃ و مرقاۃ)

۲؎ سبحان اﷲ! کیا عجیب تعلیم ہے یعنی ان خطرات کی وجہ سے ہر نماز چھوڑو نہ لوٹاؤ یہ آتے ہی رہیں گے جب نفس شیطان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو تم نماز کیوں چھوڑتے ہو،مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہیں چھوڑا جاتا،تم اﷲ کے بندے ہو،دل کے بندے نہیں،دل لگے یا نہ لگے نماز پڑھے جاؤ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازمکمل نہ ہونے کا وہم کافی نہیں،ان وہمیات کا خیال نہ کر ے،نماز پڑھے جائے۔