درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

تصویر کائنات

تصویر کائنات 

ابو زوبیہ

 

اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کو پیدا فرمایا اور جنت میں رہنے کا حکم دیا ۔کچھ دنوں کے بعد انھیں بے چینی سی ہوئی اوراجنبیت کا احساس ستانے لگاتوانھوں نے اللہ تعالی سے دعامانگی کہ اے اللہ!مجھے ایک مونس وغمخوار دے تاکہ میری طبیعت کو سکون نصیب ہو ۔چنانچہ خالق کائنات جل شانہ نے حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام کی بائیں پسلی سے حضرت حوا علیہا السلام کوپیدافرمایا اور جنت میں ان کا ساتھی بنایا۔پھر وہ دونوں دنیا میں بھیجے گئے اور یوں ان کی اولاددنیا میں پھیلتی چلی گئی۔

دنیا میں آنے کے بعد نسل انسانی کا فروغ شروع ہوا۔ انسانی آبادی بڑھنے لگی۔زندگی گذارنے کے بہترسے بہتر وسائل پیدا ہونے لگے۔ایک سے بڑھ کر ایک طرز زندگی اپنائے جانے لگے،لیکن جیسے جیسے زندگی ترقی سے ہمکنارہوتی گئی ویسے ویسے کچھ ایسے مسائل اور مشکلات بھی سامنے آتے گئے جن سے ہر کسی کا سامنا ہوتاہے۔ان تمام چیزوں سے قطع نظر عورتوں کے سامنے جو مسائل آئے وہ انسانی معاشرے کے لیے کسی ناسورسے کم نہیں۔خواہ ان کے ذاتی مسائل ہوں، عائلی مسائل ہوں،ازدواجی مسائل ہوں ، معاشی مسائل ہوں یا پھر دیگر کوئی مسائل ۔

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ عورتوں کے یہ مسائل کیسے دورہوں گے؟انھیں دورکون کرے گا اور کس نہج سے ان مسائل کو دورکیاجاسکتا ہے؟

اس سلسلے میں میرا ماننا ہے کہ چندایک مسئلوں کو چھوڑ کر بہت سے ایسے مسائل ہیں جنھیں عورتیں اگرچاہ لیں تو وہ خود دورکرسکتی ہیں اور اس کے لیے انھیں کہیں دورجانے کی ضرورت نہیں ہے ،بس ذرافکر وسوچ میں تبدیلی لانی ہوگی اور فکر اسلامی سے غذا لیناہوگا۔عام طورپر عورتوں کی زندگی دو طرح سے گذرتی ہے:

شادی سے پہلے کی زندگی

ماں باپ کے گھر کی زندگی ،جہاں اس کا بچپن گذرتاہے،وہ تعلیم وتربیت پاتی ہے اور بڑی ہوتی ہے۔یہاں اسے رشتے کی شکل میں مختلف لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔کوئی بھائی ہے توکوئی بہن ہے۔ کوئی ماں ہے توکوئی باپ ہے ،غرضیکہ مختلف رشتوں کے بیچ اسے رہناپڑتا ہے اور ہرایک کے ساتھ وہ بڑی آسانی سے اپنی زندگی گذارتی ہے ۔کسی سے کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جو الجھن کا باعث ہو ۔اس کے دو اسباب ہیں :۱۔انھیں ہر کسی سے پوراپورا تعاون ملتا ہے اور وہ بھی سب سے گھلی ملی رہتی ہے۔

۲۔خدانخواستہ کوئی بڑی غلطی بھی ہوجاتی ہے ،تو اسے نظر انداز کردیا جاتا ہے یا پھر اگر والدین کی طرف سے کوئی سختی ہوتی ہے تو لڑکی یہ گمان کرکے برداشت کرلیتی ہے کہ چلو! کوئی نہیں گھر کے بڑے بزرگ ہی تو ہیں ۔اتنا حق تو انھیں ملنا ہی چاہئے۔

دنیاوی اعتبارسے دیکھاجائے توشادی سے پہلے کی زندگی ایک عورت کے لیے بڑی جانگسل ہوتی ہے۔خاص کر آج کی ہوس پرست دنیا میں توعورتوں کی زندگی اور بھی مشکل ہوگئی ہے۔ ان مشکلات سے نکلنا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں، بشرطیکہ دنیا کی برائیوں سے خود کو پاک رکھنے کے لیے ان مقدس عورتوں کی زندگی سے روشنی حاصل کی جائے جنھوں نے عورت ہونے کے باوجودنفس کی پاکیزگی کا مظاہرہ کیاہے اور معرفت الہی کا نمونہ بن کردکھایاہے،جن کی گودمیں انبیاومرسلین علیہم الصلوۃ والسلام اور اولیائے کرام علیہم الرحمہ نے تربیت پائی ہے،جن کی راتیں یادالٰہی میں اور دن خدمت خلق میں گذرا ہے۔حضرت آسیہ رضی اللہ عنہاکی زندگی سے نورلیناہوگاجو ظلمت اورتاریکی میں رہنے کے بعد بھی اپنے ایمانی نورکوپرا گندہ نہ ہونے دیا اورحضرت رابعہ بصریہ رضی اللہ عنہاجیسی عظیم ہستی سے ،شرم وحیا اور عفت وپاکدامنی کی بھیک مانگنی ہوگی۔جن کی نظر کسی اجنبی شخص پر پڑجاتی تو بے ہوش ہو جاتی تھیں۔

شا دی کے بعد کی زندگی

یہ عورت کی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرح دیکھاجائے تو شادی کے بعدکی زندگی ’’پل صراط‘‘کی مانندہے ۔اسے پار کرنے میں کافی سمجھ بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ذراسا بھی بیلنس بگڑا مانوگئے کام سے۔ حالانکہ انسان تو ویسے ہی ہوتے ہیں جیسے انھوں نے اپنی پہلی زندگی میں دیکھے تھے ،بس تھوڑا سا فرق ہوتا ہے کہ وہ میکے والے کہلاتے ہیں اور یہ سسرال والے۔

یہاں بھی اگر عورت تھوڑی سی عقلمندی کا ثبوت دے اور سسر کو اپنے پاب کی جگہ ،ساس کو اپنی ماں کی جگہ رکھے، دیورکو اپنا بھائی،نندکو اپنی بہن اور شوہر کو شوہر ہی سمجھے تو بہت ساری الجھنوں سے بچا جا سکتا ہے۔

اسی طرح سسرال والے بھی ایک عورت کو اگر وہی محبت اور ہمدردی دیں جو اسے اپنے میکے میں میسرتھی تو پھر کوئی پریشانی کی بات ہی نہیں ہوگی اورزندگی گذارنا بڑا آسان ہوجائے گا۔ ایک بات اور جو عام طور پر عورتوںمیں دیکھی جاتی ہے کہ وہ سسرال کی ہر چیز اورہرمعاملے کو اپنے میکے سے موازنہ کرتی ہیں جو نہایت غلط ہے۔یہ بہت سی برائیوں کو جنم دیتی ہے ۔اگر وہ کچھ بھی نہ کرے محض اپنے شوہر کی خوشی کا ہی خیال رکھے تو سسرال میں وہ ایک اچھی اور مثالی زندگی بسر کرسکتی ہے۔

علاوہ ازیں وہ ان برگزیدہ عورتوں کی ازدواجی زندگی کے نور سے اپنی ازدواجی زندگی کوروشن کرے جن کی پہچان ایک مکمل بیوی کے روپ میں ہوتی ہے۔جنھوں نے شوہر کی محبت کو اپنا ایمان اور ان کی دلجوئی کو عبادت سمجھ کر اداکیا ہے۔کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں ہے ،پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی سامنے ہے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاکا شمارمکہ کے گنے چنے دولتمندوںمیں ہوتا تھا،لیکن شوہر سے محبت وہمدردی اور دلجوئی کا جو سلوک انھوں نے کیا اس کی مثال کہیں نہیں مل سکتی ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے شوہر کی جو خدمت کی ہے اور تنگ دستی میں جو صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا ہے وہ بھی مثالی ہے۔

کیا کوئی اس کا بدل پیش کرسکتا ہے؟اس لیے عورتوں کو چاہئے کہ اپنی عائلی ،خانگی اور معاشرتی زندگی کوبہترسے بہتر بنانے کے لیے ،عظیم اسلامی عورتوںکی زندگی کو اپنا نمونہ بنائیں اور دنیاوآخرت میں کامیابی کے لیے ان کے اخلاق وکردار کی ضیاؤں سے اپنے بے رنگ زندگی میں چارچاند لگائیں،تبھی جاکر علامہ اقبال کا یہ کہنا درست ہوگا کہ:

وجود زن سے ہے تصویرکائنات میں رنگ

 

تعدد ازدواج ایک شخصی ضرورت

تعدد ازدواج ایک شخصی ضرورت

معاشرتی ضرورت کے علاوہ انسان کی ذاتی ضرورت بھی تعدّدِ ازدواج کی داعی اور محرک بن سکتی ہے۔غور کرنے پر اس کی مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں جو درج کی جاتی ہیں :

(۱) عورت بانجھ ہے مرد کی خواہش ہے کہ اولاد پیدا ہو اور خاندانی سلسلہ باقی رہے ، اب اگر تعدد ازدواج کی اجازت نہ دی جائے تو مجبور ہو جا کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے ، اور دوسری شادی کر لے ۔ یہ صورت انسانی شرافت اور اخلاق سے بھی بعید ہے اور پہلی بیوی کے لئے ہر طرح سے نقصان رساں ہے ۔ دونوں برائیوں سے بچنے کی صورت یہی ہے کہ بانجھ عورتیں اپنے شوہروں کے لئے دوسری رفیقہ حیات تلاش کرتی ہیں ۔

(۲) پہلی بیوی کو کوئی ایسی بیماری لگ گئی جس کی موجودگی میں ان و شوہر کے تعلقات قائم کرنا دشوار ہیں ۔ ایسی صورت میں مرد کیا کرے؟ پہلی بیوی کو طلاق دے دے ؟ یا اپنی فطری خواہشات کی تکمیل کے لئے ناجائز ذرائع تلاش کرے ؟ یا پہلی بیوی کو رکھتے ہوئے دوسری شادی کر لے ؟ کوئی بھی ہوش مند تیسری ہی صورت پسند کرے گا ۔

(۳) بسا اوقات ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ میاں بیوی کے تعلقات ناخوشگوار ہو جاتے ہیں ۔ ثالثی اور مصالحت کی کوئی کوشش کار گر نہیں ہوتی ، شوہر کے سامنے دوراستے ہوتے ہیں ، پہلی بیوی کو طلاق دے دے اور دوسری شادی کر لے یا پہلی کو اپنی زوجیت میں باقی رکھتے ہوئے دوسری عورت سے شادی کر لے ۔ خود عورت کے مفاد کے نقطۂ نظر سے پہلی کے مقابلہ میں دوسری صورت بہتر قرار پائے گی ۔

(۴) کسی خاص وفہ یا اتفاقی سبب سے ایسا ہو جاتا ہے کہ شادی شدہ مرد کا کسی غیر منکوحہ عورت سے تعلق خاطر ہوجاتا ہے ، دوسری جانب سے بھی اس کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے ۔ ایسی صورت میں اگر تعدد ازدواج کی گنجائش نہ نکالی گئی تو مرد اِن برائیوں میں سے کسی سیک برائی میں گرفتار ہوگا یا تو ناجائز اور حرام بریقہ سے اپنی خواہش پوری کرے یا پہلی بیوی کو ہٹا کر دوسری شادی کر لے ۔ مذکورہ بالا دونوں برائیوں کے مقابلے میں تعدد ازدواج کی برائی نسبتا ہلکی مانی جائے گی ۔

(۵) تندرستی اور خوش حالی کے سبب بعض مردوں میں جنسی خواہشات زیادہ ہوتی ہے اس کے مقابلے میں عورت حمل ، ولادت ، حیض ، نفاس ، غرض مختلف اسباب و امراض میں مبتلا رہتی ہے ۔ ایسی حالت مین مرد اپنی جنسی خواہشات کیسے پوری کرے ؟ جہاں جائز اور ناجائز کا تصور ہی ختم ہو گیا ہو ۔ وہاں مسئلہ آسان ہے لیکن اسلامی معاشرہ میں جہاں حدود اللہ کی بندش رہتی ہے تعدد ازدواج کے سوا کوئی دوسری صورت نہیں ہو سکتی ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ معاشرتی اور ذاری وجوہ کی بنا پر تعدد ازدواج ایک ناگزیر ضرورت ہے ۔ اس لئے کہ مسئلہ ایک بیوی یا ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان اعتدال و برابری ، یا انتخاب کا نہیں ہے ، بلکہ انتخاب اس امر کا کرنا ہے کہ چند زوجگی کی وہ صورت اختیار کی جائے ، جو قانونی اخلاقی اور شریفانہ ہے ، یا وہ صورت اختیار کی جائے جو اس وقت مغربی معاشرہ میں رائج ہے ، جو نہ قانونی ہے نہ اخلاقی ، اور نہ ہی اسے شرافت انسانی سے کوئی تعلق ہے ۔

تعدد ازدواج کے بارے میں اسلامی نقطۂ نظر :

اسلام نے ایک سے زائد بیوی رکھنے کی اجازت بطور آرٹیکل نہیں دی بلکہ ایک عملی ضرورت سمجھ کر دی ہے ، چنانچہ تعدد ازدواج کے سلسلہ کی ایک آیت ہے : ’’وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتٰمیٰ فانخحوا ما طاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع ، فان خفتم ان لا تعدلوا فواحدۃ او ما ملکت ایمانکم ذلک ادنیٰ ان لا تعولواo‘‘

اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند آئیں انہین نکاح میں لائو دودو، تین تین ، چار چار ، پھر اگر ڈرو کہ دو بیویوں کو برابر نہ رکھ سکو گے تو ایک ہی کرو یا کنیزیں جن کے تم مالک ہو یہ اس سے زیادہ قریب ہے تم سے ظلم نہ ہو ۔

یہ آیت غزوئہ احد کے بعد اتری ۔اس کا شان نزول یہ ہے کہ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوگئے ،اس کی وجہ سے اچانک سترگھرمدینہ میں مردوں سے خالی ہوگئے ۔اس کے نتیجے میں یہ صورت حال پیش آئی کہ وہاں بہت سے سچے یتیم اور بہت سی عورتیں بیوہ ہوگئیں ۔اب سوال پیدا ہوا کہ س معاشی مسئلہ کو کس طرح حل کیا جائے اس وقت قرآن کی مذکورہ آیت اتری اور کہا گیا کہ جولوگ استطاعت رکھتے ہوں وہ بیوہ عورتوں سے نکاح کرکے یتیم کو اپنی سرپرستی میں لے لیں ۔

یہان یہ بات بھی ذہن نشین رکھنے کی ہے کہ عربوں میں ایک سے زیادہ بیوی رکھنے کا رواج تھا ۔اس آیت کاپیش منظر یہ ہوگا کہ ایک سے زیادہ شادیاں بے قید نہ ہوں بلکہ ان کی تعداد چار تک محدود ہونی چاہئیے اس سے زیدہ کچھ نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ فقہائے اسلام نے اس آیت کو اجازت تعداد ازدواج کے ساتھ ہی ساتھ تحدید ازدواج کے مفہوم میں بھی لیا ہے چنانچہ ابن رشد مالکی اپنی کتاب ’’ہدایۃالمجتہد‘‘میں لکھتے ہیں ۔

واتفق المسلمون علی جواز نکاح اربعۃمن النساء معا واما فوق الاربع فان الجمہور علی انہ لا تجوز الخامسۃ بقولہ تعالی :فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ وثلاث ورباع ۔ولما روی عنہ علیہ السلام :انہ قال لغیلان لما اسلم وتحتہ عشر نسوۃ امسک علیک اربعاًوفارق سائرہن ۔

(ہدایۃالمجتہد ج ؍۱۲ص؍ ۷۰)

ایک ساتھ چار عورتوں سے نکاح باجماع مسلمین جائز ہے ،البتہ چار سے زیادہ عورتوں سے نکاح جمہور کے نزدیک ناجائز ہے ۔کیونکہ قرآن کریم ہے :فَانْکِحُوْا مَاطَابَ لَکُمْ مِنَ النِّسَائِ مَثْنیٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ،اور حدیث پاک میں ہے غیلان جب مشرف بہ اسلام ہوئے اس وقت انکی زوجیت میں دس عورتیں تھیں تو سرکار انے ان کو مخاطب کرکے فرمایا ’’کوئی بھی چار عورتیں اپنی زوجیت میں رکھ لو ،بقیہ سے جدائی کر لو،

الغرض اس آیت سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ بیک وقت چار بیویاں رکھ سکتے ہیں وہیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ چار سے زائد کی اجازت نہیں ۔

ایک شبہ اور اس کا ازالہ:

بعض افراد جن کی آنکھیں تپذیب فرنگ کی ظاہری چمک دمک سے خیرہ اور جن کا ذہن دانشوران فرنگ می باتوں سے مرعوب ہے اور جو اپنی دانست میں اسلام کے عائلی قوانین میں اصلاح کے خواہش مند ہیں ان کا خیال ہے کہ فَاِنْ خِفْتُمْ اَنْ لَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَۃًکے ذریعہ تعداد ازدواج پر پابندی لگائی گئی ہے کیونکہ سورئہ نسا ء کی آیت نمبر۱۳۹میں ارشاد ہے :وَلَنْ تَسْتَطِیْعُوْااَنْ تَعْدِلُوْابَیْنَ النِّسَائِ وَلَوْ حَرِصْتُمْ پہلی آیت میں ہے کی اگر عدل نہ کرسکو تو ایک ہی بیوی پر اکتفا کرو،جب کہ دوسری آیت میں کہا گیا ہے کہ تم خواہش کے باوجود عدل کی استطاعت نہیں رکھتے ،لہٰذا پہلی آیت میں جو شرط اجازت تھی وہ اس آیت میں واپس لے لی گئی ہے۔

جو لوگ ایسی باتیں کہتے ہیں ان کی مجبوری یہ ہے کہ دانشوران فرنگ کی باتیں تو انہیں یاد ہیں لیکن اسلامی تعلیمات سے وہ بقدر ضرورت بھی واقف نہیں ہیں ۔یا پھر انہیں دانشوری یا روشن خیالی کا خبط سوار ہے ۔ورنہ وہ اس نتیجے سے قطعاً مختلف ہے جو پندرہ سوسال قبل سے لے کر اب تک عل؛ماء اور دانشوروں نے اخذ کیا ہے۔ دورصحابہ سے لے کر ابتک کے مفسرین نے سورئہ نساء کی آیت نمبر۳ میں مذکورہ عدل کا مصداق نان ونفقہ ودیگرحقوق زوجیت کو قرار دیا ہے ۔چنانچہ تفسیر قرطبی میں مشہور تابعی حضرت ضحاک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس آیت کی تفسیر یوں نقل کی گئی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ :

’’اگر تم کو چند بیویوں کے درمیان عدل نہ پانے کا اندیشہ ہو تو ایک بیوی پر اکتفا ء کرو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کی اتنی تعداد رکھنے سے منع کیا ہے جن کے درمیان رات گذارنے ،اور دوسرے حقوق ادا کرنے کے سلسلے میں مساوات نہ برتی جاسکے ۔‘‘

اس حکم سے اس مساوات کا ضروری ہونے بھی معلوم ہوتا ہے ۔

قاضی ابو بکر بن العربی مالکی اپنی مشہور کتاب ’’احکام القرآن ‘‘ جلد اول صفحہ۱۳۰ میں لکھتے ہیں :

’’ہمارے علما نے کہا ہے کہ اس آ یت کا مطلب یہ ہے کہاگر تمہیں چند بیویوں کے حقوق ادا نہ کرنے اور سب کے ساتھ مساویا نہ برتائونہ کر سکنے کااندیشہ ہو توایک ہی بیوی پر اکتفا کرو ـــــ۔ کیو ں کہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرناا فرض ہے ۔اور شرعی احکام ظاہری حالات کے اعتبار سے متعلق ہو تے ہیں کیوں کہ اسی کو معیار بنانا ارباب عقل کیلئے آسان ہے ۔لہٰذا جو شخص بظاہرجسمانی قوت اور مالی وسعت اتنی نہ رکھتا ہو کہ اس سے چار بیویوں کے حقوق پورے طور پر ادا ہو سکے تو اس کو اجازت ہے کے ایسا کر سکے ۔اور جو جسمانی قوت اورمالی اعتبار سے اس کامحتمل نہیں ہو سکتا تو اسے صرف اس تعداد پر اکتفا کرنا چاہیے جس کا وہ آسانی سے تحمل کر سکے ۔‘‘

اس کے بر عکس سورہ نساء آ یت نمبر ۱۳۹میں جو بات کہی گئی ہے وہاںعدل کا مصداق میلان طبع اور قلبی لگائو ہے ۔دل پر کسی کا زور نہیں چلتا، اس لئے حقوق زوجیت میں کامل مساوات کے با وجو د اگر کسی ایک کی طرف قلبی جھکائو زیادہ ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے کسی کی حق تلفی نہیں کر رہا ہے تو شریعت نے اس پر کوئی پا بندی نہیں لگائی ہے اور نہ اس پر کوئی مواخذ ہ ہو گا ۔چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اللہ ا دعا مانگا کرتے تھے۔

’’اللہم ہذا قسمتی فیما املک فلا تلمنی فیما تملک ولا املک‘‘

ترجمہ: اے اللہ ! جتنا میرے بس میں تھا میں نے مساوات برتی مگر جو بات میرے بس سے باہر ہے اور جو سراسر تیرے اختیار میں ہے یعنی قلبی میلان اس پر ملامت نہ فرمانا۔

جو حضرات ’’ ولن تستطیعوا ان تعد لوابین النساء ولو حرصتم‘‘ کا مفہوم یہ لیتے ہیں کہ اس کے ذریعہ تعداد ازدواج کی دی ہوئی اجازت واپس لی گئی ہے ،وہ لوگ اس آیت کے اگلے حصے کو نظر انداز کر دیتے ہیں کیوں کہ اس کے معاََ بعد ہے :

’’ فلا تمیلواکل المیل فتذ روھا کالمعلقۃ‘‘

ترجمہ:یعنی دونوں سے تم یکساں تعلق خاطر نہ رکھ سکو تو کم از کم اتنا ہو کہ ایک بیوی سے بالکل منھ نہ پھیر لینا کہ وہ لٹکی رہ جائے ۔

اگر آیت کے پہلے حصے سے تعددازدواج کی اجا زت کا سلب مقصودہوتا تو بعد والی ہدایت نہ دی جاتی ۔کیوں کہ اس صورت میںآیت کے دونو ں حصوں کے درمیان کھلا ہوا تضاد پا یا جائے گا ۔اس لئے کہ ایک کی طرف مکمل جھکائو رہے اور دوسری کی جانب

سے مکمل بے التفاتی یہاں تک کہ وہ معلق ہو کر رہ جائے ،اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کہ ایک سے زائد شادی کی ہو ۔خود حضور ا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا عمل بھی یہی تھا کہ ان میں سے ایک بڑی تعداد کے پاس ایک سے زیادہ بیویاں تھیں،لیکن حضور ا نے نکیر نہیں فرمائی ۔صحابہ کرام کے بعد بھی امت کے اندر ہر زمانے میں قول وعمل دونوں طرح سے علمائے کرام تعددازدواج کے قائل رہے ہیں ۔

تعددازدواج کی خرابیاں:تعددازدواج جہاں ایک معاشرتی ضرورت ، بیوائوں اور عورتوں کی فاضل تعداد کے لئے ایک انسانی ،اخلاقی شریفانہ حل ہے ،وہیں اس میں چند خرابیاں بھی ہیں :

(۱) ایک شخص کی جب چند بیویاں رہتی ہیں تو عام طور سے ان کے درمیان ناچاقی رہتی ہے ،بغض و حسد کا جذ بہ فروغ پاتا ہے جس کے نتیجہ میں شوہر کی خانگی زندگی تلخ ہو جاتی ہے۔ معمولی باتوں کی وجہ سے بیویوں کے درمیان جو جھگڑے ہوتے ہیں ان کو سلجھانے ہی میں مرد پڑا رہتا ہے ۔ اس طرح ان مین سے ہر ایک کی زندگی وبال بن جاری ہے ۔ سکون و راحت کی خاطر شوہر باہر رہنے کو ترجیح دیتا ہے ۔

(۲) یہ جھگڑے ماں باپ اور بڑوں تک محدود نہین رہتے بلکہ بچے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں ۔ چنانچہ عام طور پر دیکھا گیا کہ سوتیلے بھائیوں میں محبت کے بجائے عداوت و دشمنی پائی جاتی ہے ۔ جس کے نتیجہ میں آئے دن لڑائیاں ہوتی رہتی ہیں ، اور کوئی گھر کے اندر خوشی سے نہیں رہ پاتا ہے ۔

(۳) شوہر کا قلبی لگائو ہر ایک سے یکساں ہوتا ہے ۔ عام طور سے نئی بیوی کی طرف اس کا جھکائو زیادہ ہوتا ہے ۔ اس کو دیکھ کر پہلی بیوی کو اذیت ہوتی ہے ، اس کے نسواں وقار کو ٹھیس لگتی ہے ، محبت بہت غیور واقع ہوئی ہے ، اس کو شرکت اور مزاحمت برداشت نہیں ہے ۔ کل تک وہ تنہا شوہر کی محبت سے لطف اندوز رہتی تھی ، آج نہ صرف یہ کہ ایک ساجھی دار پیدا ہو گئی ہے بلکہ شوہر کے دل کی مالک اور اس کی محبت پر قابض ہو گئی ہے ۔ اس سے انتقام کا جذبہ پیدا ہو تا ہے ، پھر وہ سب کچھ ہوتا ہے جو گھر اور خاندان کے امن و سکون کو غارت کرنے کے لئے کافی ہے ۔

(۴) گھریلو ناچاقی اور خلفشار کے نتیجہ میں بچے صحیح تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں ، اور آوارہ گردی کی راہ اختیار کر لیتے ہیں ۔

جواب: مذکورہ بالا خرابیوں کے تعلق سے عرض ہے کہ یہ خرابیاں عموما اسلامی تعلیمات کو پس پشت ڈالنے اور ان پر عمل پیرا نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوری ہیں ، اور جس گھرانے میں شوہر اپنی تمام بیویوں اور ان کی اولاد کا پورا خیال رکھتا ہے اور اہل و عیال کے اسلامی و اخلاقی حقوق کی رعایت کرتا ہے وہاں یہ خرابیاں دور دور تک نظر نہیں آتیں ۔ اس معاملہ کی تہ میں جانے والا ہر شخص اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ ان خرابیوں کا سر چشمہ تعدد ازدواج نہیں بلکہ اہل و عیال کے حقوق کی خلاف ورزی اور ان کی پامالی ہے ۔ یہی تو وجہ ہے کہ صرف ایک بیوی کے شوہر کے حبالۂ عقد میں ہونے کی صورت میں بھی حقوق کی پامالی کی صورت میں آئے دن جھگڑے ہوتے ہیں ، شوہر کا ذہنی سکون غارت ہو جاتا ہے ۔ وہ باہر رہنے کو ترجیح دینے لگتا ہے ، اور کبھی کبھی تو بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کا نظام بھی تہ و بالا ہو کر رہ جاتا ہے ۔ تو کیا ان خرابیوں کی بنا پر سرے سے نکاح ہی کو نادرست قرار دے دیا جائے اور اس طرح توالد و تناسل کے جائز طریقے کو بند کر کے ناجائز اولادوں سے پوری دنیا کو بھرنے کا راستہ صاف کر دیا جائے ۔

خلاصۂ بحث :

تعدد ازدواج کے سلسلہ مین اب تک کی بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ :

(۱) اسلام نے چند زوجگی کو پہلی مرتبہ رواج نہیں دیا ہے ، گزشتہ تمام اقوام اور جملہ مذاہب میں اس کی اجازت اور عملا اس کا رواج رہا ہے ۔

(۲) گزشتہ ملتوں میں چند زوجگی کا رواج بے قید اور لا محدود تھا ، اسلام نے اس کو چار کی تعداد میں محدود کر دیا ہے ، اس نے اس سے زیادہ کی مطلقا اجازت نہیں دی ہے ۔

(۳)تعدد ازدواج اگر مطلوبہ شرائط کے ساتھ ہو تو وہ معاشرتی برائی نہیں ہے بلکہ ایک ناگزیر سماجی ضرورت ہے ۔

(۴) شرح پیدائش میں تفاوت ، حوادث جنگ اور دیگر اسباب کی نبا پر مردوں اور عورتوں کی تعداد میں برابری نہیں رہتی ۔ اس وقت بھی اور آئندہ بھی اس عدم توازن کا شریفانہ حل وہی ہے جو اسلام نے تعدد ازدواج کی سورت میں پیش کیا ہے ۔ اس کے مقابلے میں مغربی تہذیب اور ہندومت نے جو حل پیش کیا ہے وہ غیر اخلاقی ، غیر انسانی اور غیر شریفانہ ہے ۔ کیوں کہ دونوں میں عورت کا نسوانی وقار مجروح ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک غیر مسلم صحافی نے ان کی حالت زار دیکھ کر انہیں ’’انسانیت کا برباد شدہ ملبہ ‘‘ قرار دینے پر اپنے کو مجبور پایا ہے ۔

(۵) اسلام نے تعدد ازدواج کی اجازت بے قید نہیں دی ہے ، اس نے پہلی قید تو یہ لگا دی ہے کہ بیویوں کی تعداد چار سے زائد نہ ہو دوسری قید لگا ئی ہے کہ اس رخصت سے وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو روٹی ، کپڑا ، مکان ، شب باشی اور دیگر حقوق زیجیت کی ادائیگی میں عدل کرنے اور مساوات برتنے پر قادر ہو ۔

(۶) اسلامی شریعت کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کو نظر انداز کر کے جو شخص تعدد ازدواج کی اجازت سے فائدہ اٹھائے ۔ دنیا و آخرت دونوں جگہ اس کا مواخذہ ہو گا ۔ اخروی مواخذہ گناہ اور پھر سزائے گناہ کی شکل میں ہوگا ۔ اور دنیاوی مواخذہ یہ ہو گا کہ اگر تنبیہ کے بعد بھی اس نے اپنی اصلاح نہیں کی تو اس میں تفریق کرا دی جائے گی ۔

(۷) اس سے انکار نہیں کہ تعدد ازدواج کی وجہ سے بعض دفعہ سنگین معاشرتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں ۔ لیکن یہ مسائل چند زوجگی کے سبب نہیں ہوتے بلکہ اسلامی ہدایات اور تعلیمات کو نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا ان کی شدت اور سنگینی کو اسلامی ہدایات پر عمل کر کے ختم کیا جاسکتا ہے ۔

(۸) اسلامی معاشرت نے تعدد ازدواج کے سلسلہ میں جو شرطیں اور پابندیاں عائد کی ہیں وہ کافی ہیں ، اس میں انسانی اصلاح کی پیوند کاری کی قبعا کوئی اجازت نہیں ۔

(۹) اسلامی ممالک میں انسانی اصلاح کی کوشش کی گئی ہے۔تجربہ بتاتا ہے کہ حالات مزید خراب ہوئے ہیں ۔ بہتری پیدا نہیں ہوئی ہے ۔ وہاں حقوق نسوانی کی نگہ داشت تو نہیں ہوئی البتہ وہ برائیاں ضرور فروغ پا گئی ہیں جو مغربی تہذیب کا خاصہ تھیں ۔

٭٭٭