سال 2019 یعنی آج:* سال *2119* یعنی کل.

*تجزیہ؛

سال 2019 یعنی آج:*

سال *2119* یعنی کل.

اب سے صرف سو سال بعد اس تحریر کو پڑھنے والا ہر شخص زیر زمین مدفون ہوگا.

الا ما شاء اللہ.

ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوکر رزق خاک ہوچکی ہوں گی. تب تک ہماری جنت یا جہنم کا فیصلہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا.

جبکہ اس دوران سطح زمین کے اوپر ہمارے چھوڑے ہوئے گھر کسی اور کے ہوچکے ہوں گے. ہمارے کپڑے کوئی اور پہن رہا ہوگا اور ہماری محنت اور محبت سے حاصل شدہ گاڑیاں کوئی اور چلارہا ہوگا.

اس وقت ہم کسی کے حاشیہ خیال میں بھی نہ ہوں گے.

… *بھلا آپ اپنے پڑ دادا یا پڑ دادی کے بارے میں کبھی سوچتے ہیں کیا* ….؟ تو کوئی ہمارے بارے میں کیوں سوچنے لگا ؟؟؟

آج زمین کے اوپر ہمارا وجود, جس کی بنیاد پر یہاں ہمارا ہر وقت کا شوروشغب, ہٹو بچو کی صدائیں اور ان گھروں کو آباد کرنے کے لیے ہماری محنت ومشقت, یہ سب کچھ ہم سے پہلے کسی اور کا تھا اور ہمارے بعد یقینی طور پر کسی اور کا ہونے والا ہے.

*کوئی ایسا ہونے سے روک سکتا ہے تو روک لے.*

اس دنیا سے گزرنے والی ہر نسل بمشکل اس پر ایک طائرانہ سی محض الوداعی نظر ہی ڈال پاتی ہے. خواہشات کی تکمیل کا موقع بھلا کسی کو اس دار الفناء میں کہاں مل سکتا ہے؟

*ہماری زندگی درحقیقت ہمارے تصورات وخواہشات کے مقابلے میں بہت ہی مختصر ہے.*

سال 2119 میں ہم سب پر اپنی اپنی قبر میں اس دنیا اور اپنی خواہشات کی حقیقت آشکار ہوچکی ہوگی.

**ہائے افسوس!!!

اس دھوکے کے گھر میں کیسی احمقانہ خواہشات اور کیسے جاہلانہ منصوبے ہم نے بنا رکھے تھے؟؟**

تب ہم پر یہ حقیقت بھی عیاں ہوجائے گی کہ

*اے کاش!*

ہم نے اپنی ترجیحات میں اللہ اور اس کے رسول کی وفاداری کو سب سے مقدم وراجح رکھا ہوتا تو آج سب کچھ دنیا میں چھوڑ کر آنے کے بجائے قبر کا زاد راہ اور اعمال صالحہ کی شکل میں صدقہ جاریہ بھی ساتھ لاسکتے.

*تب ہمیں یہ بھی معلوم ہوچکا ہوگا کہ دنیا اس لائق ہرگز نہ تھی کہ اس کے لیے اتنا سب کچھ جان, مال, وقت اور تمام صلاحیتیں داؤ پہ لگادی جاتیں.*

آج 2019 میں یہ مضمون پڑھنے والے بہت سے لوگ 2119 میں یہ تمنا کررہے ہوں گے :

"رَبِّ ارْجِعُونِ 0 لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْتُ ۚ "

اے میرے پروردگار!

مجھے واپس دنیا میں بھیج دے تاکہ میں جو کچھ وہاں چھوڑ آیا ہوں اس میں واپس جاکر نیک اعمال کرسکوں. "

لیکن اس درخواست کا جواب بہت سخت ملے گا:

"كَلَّا ۚ إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا ۖ وَمِن وَرَائِهِم بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ0”

(المؤمنون:99-100)

"ہرگز نہیں! یہ صرف ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے (قابل عمل سنجیدہ بات نہیں ہے). اب تو قیامت تک ان کے پیچھے باڑ لگادی گئی ہے. "

2119 میں قبر میں وہ یہ تمنا بھی کرے گا:

"يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي” (الفجر:24)

ہائے میری ہلاکت وبربادی! میں اپنی زندگی کے لئے کچھ آگے بھیج دیتا. "

*موت کا فرشتہ میرے اور آپ کے نیک ہونے کے انتظار میں نہیں ہے.* آئیے!

موت کے فرشتہ کے انتظار کے بجائے موت کی تیاری کریں اور اعمال صالحہ والی زنگی اختیار کرلیں.

آمین ۔۔۔

یہ جو مذہب بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں گناہ کرنے سے رزق کم ہوجاتا ہے عملی زندگی میں تو اس کے بالکل الٹ ہے

میں نے پوچھا

باباجی یہ جو مذہب بتاتے رہتے ہیں کہ فلاں گناہ کرنے سے رزق کم ہوجاتا ہے عملی زندگی میں تو اس کے بالکل الٹ ہے اکثر بڑی برائیاں کرنے والے زیادہ دولتمند اور صاحب حیثیت پائے جاتے ہیں

بابا جی مسکرا پڑے

کہنے لگے یعنی تم دولت کو رزق سمجھتے ہو ؟

میں نے کہا اور نہیں تو کیا ؟

بابا جی کہنے لگے بیٹے رزق صرف دولت نہیں ہے رزق عزت بھی ہے رزق شہرت بھی ہے رزق دوسروں کے دل میں بے لوث احترام بھی ہے

ایک امیر کبیر سیٹھ اور ایک طمطراق والے آفیسر سے زیادہ عزت تو ہمارے دل میں ہمارے استاد کی ہوتی ہے ۔ تم نے کبھی غور کیا کہ ہمارے دل میں کسی کی عزت کون ڈال دیتا ہے ؟

میں نے کہا لیکن باباجی پھر بھی امیر کبیر شخص کے دل میں کوئی حسرت نہیں ہوتی وہ جو چاہے گناہ کرتا رہا لیکن اس کی ہر خواہش پوری ہوتی رہتی ہے پھر مذہب کا یہ کہنا کہ اس کا رزق کم ہوجاتا ہے اس کی سمجھ نہیں آئی

بابا جی کہنے لگے

بیٹا تصویر کا ایک رخ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے کبھی غور سے جائزہ لینا برائیاں کرنے والے یا گناہ کرنے والے دولتمندوں میں سے اکثر کی حالت یہ ہوتی ہے کہ ان کے سامنے ہر قسم کے مرغن کھانے پڑے ہوتے ہیں لیکن انہیں کولیسٹرول اور ہائی بلڈ پریشر جیسی امراض نے قابو کر لیا ہوتا ہے وہ اپنی آنکھوں کے سامنے پڑے پکوانوں کو چھونے میں بھی خوفزدہ ہوتے ہیں رنگ برنگے کھانوں کی موجودگی میں بھی وہ سبزی اور دال ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں

بڑے خوشبودار اور خوشذائقہ کیک اور مٹھائیاں ان کے سامنے پڑی ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر نے انہیں میٹھا کھانے سے منع کر دیا ہوتا ہے اور رزق کم ہونا کسے کہتے ہیں

۔ ان کے پاس مہنگی گاڑیاں ہوتی ہیں لیکن ڈاکٹر انہیں پیدل چلنے کا مشورہ دے دیتا ہے

اور رزق بند ہونا کسے کہتے ہیں

ان کے اعلی ترین قیمتی گھر ہوتے ہیں اور وہ ان کے چوکیدار وں نے سنبھالے ہوتے ہیں وہ اپنا بنک بیلنس شو نہیں کر سکتے کہ محکمہ ٹیکس والے ان کے پیچھے نہ پڑ جائیں ان کے قریبی رشتہ دار ان کے زندگی سے زیادہ ان کی موت کے منتظر ہوتے ہیں تاکہ جلد ان کے اثاثوں پر قابض ہو سکیں

کہنے لگے بتاؤ اور رزق کم ہونا کسے کہتے ہو ؟

بابا جی کہنے لگے ہمیشہ رزق کی کثرت کی نہیں بلکہ رزق میں برکت کی دعا کرو

محمود اصغر چودھری

جمعہ مبارک

میت کو دھوکا

میت کو دھوکا !!

ﺟﻤﺎﻋﺖ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺩﺭﺱ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﺗﮭﮯ۔

ﺳﺎﺭﮮ ﻧﻤﺎﺯﯼ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﭘﻨﮯ ﮐﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻟﮕﺎ ﭼﮑﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﻨﺪﮦ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﺍﺩﮬﺮ ﺍﺩﮬﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺑﭽﮯ، ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﻃﺒﻘﮧ، ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ دیکھ رہے ﺗﮭﮯ۔ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮐﯽ ﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ کر امام صاحب سمجھ ﮔﺌﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﻋﻮﺍﻡ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺗﻮﻗﻊ ﮐﮯ ﻋﯿﻦ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺗﯿﺎﺭ ﮬﻮ ﭼﮑﯽ ﮬﮯ۔

تو امام صاحب فرمانے لگے کہ "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﺐ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ؟”

ﺳﺐ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﮧ ﭼﻮﻧﮏ ﭘﮍﮮ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻃﺮﻑ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﻈﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﻟﮕﮯ.

ﺳﺐ ﮐﻮ ﭼﭗ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺳﮑﺎ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺳﻠﺐ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﭼﻼ ﺟﺎﺋﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﺘﺎ ﺭﮬﺘﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺑﺨﺸﺶ ﻧﮧ ﮬﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺏ ﮐﺮﯾﻢ ﺳﮯ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ ﭼﯿﻠﻨﺞ ﻣﯿﮟ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﭘﺮ ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻓﻮﺕ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺍﺱ ﺳﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺍﺏ ﺍﺱ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﺎ۔

ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﭘﺘﮧ ﮬﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮐﻮﻥ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻏﺎ ﮐﺮﺗﺎ ﮬﮯ؟”

ﺍﻧﮑﺎ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﺑﮭﯽ ﮬﻤﺎﺭﮮ ﻟﺌﮯ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ، ﻟﮩﺬﺍ ﺳﺐ ﮬﯽ ﺍﻧﮑﮯ ﻣﻨﮧ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﮬﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ..

ﻭﮦ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ، "ﺷﯿﻄﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺳﮯ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔” ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ،

ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﻤﮑﻦ ﮬﮯ؟

ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﮐﯿﺴﮯ ﮬﻮ ﺳﮑﺘﮯ ﮬﯿﮟ؟

ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺳﻮﺍﻝ ﻭﺍﺿﺢ ﻃﻮﺭ ﭘﮧ ﭘﮍﮬﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﺗﮭﺎ. ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﺳﻮﺍﻟﯿﮧ ﻧﺸﺎﻥ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﮯ ﮐﮩﻨﮯ ﻟﮕﮯ،

"ﺟﺐ ﺑﻨﺪﮦ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺗﻮ ﺍﺳﮑﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮬﯽ ﺍﺳﮑﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﻟﻮﮒ ﻭﮦ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ، ﭘﺮ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮﺗﮯ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﺏ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﮭﻼ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﺍ ﻧﮧ ﮬﻮﮞ؟

ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺳﮕﮯ ﻣﺎﻣﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟

ﮐﺰﻥ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ؟

ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻃﻨﺰ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮱ ﮬﻢ ﻟﻮﮒ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﺁﮐﮯ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﮨﭧ ﺟﺎﺗﺎ ﮬﮯ ﺍﺱ ﺳﭩﯿﺞ ﭘﮧ ﮬﻢ ﺁ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ، ﮐﮧ ﮬﻢ ﮬﯿﮟ ﻧﺎﮞ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﻣﺸﻦ ﭘﻮﺭﺍ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ۔

ﮨﻢ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮬﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﻀﻤﻮﻥ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﻓﻠﻤﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﺎﻧﮯ ﭘﻞ ﺑﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮔﻨﮕﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮬﯿﮟ، ﺩﻭﮬﮍﮮ ﻣﺎﮨﯿﮯ، ﺷﺎﻋﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻟﻤﺒﯽ ﻏﺰﻟﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮬﯿﮟ ﺟﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ ﺗﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﮐﯽ ﭼﻨﺪ ﺁﯾﺎﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﮐﺮ ﭘﺎﺗﮯ۔

ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺗﮑﺒﯿﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺗﺤﻔﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺮﮮ ﮬﻮﺋﮯ ﭘﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﻨﺎ ﮬﻮﺗﺎ ﮬﮯ ﮬﻢ ﻭﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﭘﺎﺗﮯ، ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺷﺮﻣﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﮬﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮬﯿﮟ۔”

ﺍﻣﺎﻡ ﻣﺴﺠﺪ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮬﻢ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﺷﺮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﮭﮑﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ۔

ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﺘﺠﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﮬﻮﺋﮯ ﺑﻮﻟﮯ، "ﺧﺪﺍﺭﺍ۔۔ ﺁﺝ ﺳﮯ ﮬﯽ ﻭﮦ ﻟﻮﮒ ﻋﮩﺪ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﺳﯿﮑﮭﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﻣﯿﺖ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﺎ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺩﻋﺎﺅﮞ ﮐﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﮟ ﺳﮑﯿﮟ.. ﻭﺭﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕِ ﻋﻤﻞ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮒ ﭼُﭗ ﭼﺎﭖ ﮨﺎﺗﮫ ﺑﺎﻧﺪﮬﮯ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺟﺘﻤﺎﻋﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﻓﻘﻂ ﺁﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﯾﮟ۔۔

” ﺩﺭﺱ ﺧﺘﻢ ﮬﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ، ﺳﺐ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮓ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﻧﮑﻞ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﺳﺐ ﮐﮯ ﭼﮩﺮﮮ ﯾﮧ ﮔﻮﺍﮬﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﺟﺎ ﺭﮬﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﮬﻢ ﻧﻤﺎﺯِ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺿﺮﻭﺭ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ۔۔ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ!

ﮬﺎﮞ ﮬﻢ ﺷﯿﻄﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﯿﮟ ﮔﮯ ……💞

بریلوی اور بریلویت

*💚بریلوی اور بریلویت💚*

🔺جنوبی ایشیا میں عقیدے کے لحاظ سے ابتدائی اہل سنت وجماعت سنی مسلمانوں کو جدید دور میں بریلوی کہا جاتا ہے۔

🔻انگریزی وکیپیڈیا کے مطابق ان کی تعداد 200 ملین سے زائد ہے۔

🔺انگریزی وکیپیڈیا کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق انڈیا ٹائم کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ بھارت میں مسلمانوں کی اکثریت بریلوی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے

📌اسی طرح ہیریٹیج فاؤنڈیشن ، ٹائم اور واشنگٹن پوسٹ کے اندازے کے مطابق اسی طرح کی اکثریت پاکستان میں ہے۔

📌سیاسیات کے ماہر روہن بیدی کے تخمینہ کے مطابق پاکستان کے مسلمانوں میں سے 60 فیصد بریلوی ہیں۔

🔺برطانیہ میں پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن (مسلمانوں) کی اکثریت بریلوی ہے، جو دیہات سے آئے ہیں۔

🔺لفظ بریلوی اہل سنت و جماعت کے راسخ العقیدہ مسلمانوں کے لیے ایک اصطلاح (پہچان) ہے۔

🔺 اس کی وجہ 1856ء مطابق 1272 ہجری میں پیدا ہونے والے ایک عالم دین کا علمی کام ہے

❣ ان کا نام مولانا احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہ تھا

📌وہ بھارت (برطانوی ہند) کے شمالی علاقہ جات میں واقع ایک شہر بریلی کے رہنے والے تھے1921ء مطابق 1340 ہجری میں ان کا انتقال ہوا.

بریلی ان کا آبائی شہر تھا۔ انہیں امامِ اہل سنت اور اعلیٰ حضرت کے القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

🔺دنیا بھر کے اکثریتی مسلم علماء کی نظر میں وہ چودھویں صدی کے ابتدائی دور کے مجدد تھے انہیں مجدد دین و ملت کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

🔺 آج کے دور میں میڈیا اور تعلیمی ادارے مسلمانوں کی بین الاقوامی اکثریت اہل سنت وجماعت کو بریلوی کے عنوان سے جانتے ہیں۔

🔺 یہ وہی جماعت ہے جو پرانے اسلامی عقائد پر سختی سے قائم ہے اور مغربی مستشرقین کے بنائے ہوئے جدید شرپسند اور فتنہ پرور فرقوں کے خلاف پرسرِ پیکار رہتی ہے۔

🔺اہل سنت بریلوی جماعت پرانے دور کے بزرگ صوفیاء اور اولیاء کے طور طریقے اپنائے ہوئے ہے اور جنوبی ایشیا میں صدیوں پہلے سے موجود سنی اکثریت کی نمائندہ ہے

📌 البتہ پچھلے چند برسوں سے چند جدید فرقوں کے پروپیگنڈے سے اہل سنت و جماعت کو بریلوی جماعت یا بریلوی مسلک کہا جاتا ہے حالانکہ اپنے عقائد اور طرز عمل میں یہ قدیم اہل سنت و جماعت کی نمائندہ ہے۔

🔺ان کے عقائد قرآن مجید اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے واضح (ثابت) ہیں۔ ان کے عقائد کی بنیاد

🔸توحید باری تعالیٰ اور

🔸حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی نبوت پر کامل ایمان،

🔸تمام نبیوں اور رسولوں پر یقین،

🔸 فرشتوں پر،

🔸عالَم برزخ پر،

🔸آخرت پر،

🔸 جنت اور دوزخ پر،

🔸حیات بعد از موت پر،

🔸 تقدیر من جانب اللہ پراور

🔸عالَم امر اور عالَم خلق پر ہے۔

📌 وہ ان تمام ضروریات دین اور بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں جن پر شروع سے اہل اسلام، اہل سنت و جماعت کا اجماع چلا آرہا ہے۔

🔺 فقہی لحاظ سے وہ چاروں اماموں کے ماننے والوں کو اہل سنت وجماعت ہی سمجھتے ہیں۔

🔸وہ ائمہ اربعہ امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃ اللہ علیہ،

🔸امام مالک رحمۃ اللہ علیہ،

🔸امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ

🔸اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ

کے باہمی علمی تحقیقی اجتہادی اختلاف کو باعث برکت اور رحمت سمجھتے ہیں

اور چاروں مذاہب

🔸حنفی،

🔸شافعی،

🔸 مالکی،

🔸 حنبلی کے ماننے والے راسخ العقیدہ لوگوں کو اہل سنت وجماعت سمجھتے ہیں چاہے ان میں سے کوئی اشعری ہو یا ماتریدی مسلک کا قائل ہو۔

🔻اس کے ساتھ ساتھ وہ تصوف کے چاروں سلسلوں کے تمام بزرگوں کا احترام کرتے ہیں اور ان کے معتقد ہیں۔

🔻صدیوں سے اہل سنت وجماعت لوگ

🔸قادری ،

🔸چشتی ،

🔸سہروردی

🔸نقشبندی

سلسلوں سے وابستہ رہے ہیں اور ان سلسلوں میں اپنے پیروں کے ہاتھ پر بیعت کرتے رہے ہیں

🕋 اس جماعت کے حق پر ھونے کی اک یہ بھی دلیل ہے کہ تمام اولیاء کرام اسی جماعت اہلسنت سے وابستہ تھے یعنی یہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ،اولیاءاللہ کے طور طریقے پر عمل پیرا ہیں

📌اب بیسویں صدی کے اختتام سے منہ زور میڈیا کے بل بوتے پر ان سب سلاسل کو بریلوی مکتبہ فکر کی شاخیں بتایا جا رہا ہے۔

📌شاید مغربی میڈیا اور اس کے پروردہ لوگ پاک و ہند سے باہر دنیائے اسلام کو کوئی غلط تاثر دینا چاہتے ہیں اور اہلسنت والجماعت کے نام پر چھوٹی چھوٹی فرقہ ورانہ دہشت گرد جماعتیں بنا کر فتنہ پھیلانا چاہتے ہیں

🔻افریقہ کے مسلم ممالک بھی اس قسم کی سازشوں کی زد میں ہیں جیسا کہ صومالیہ وغیرہ۔

🔺مسلمان ہمیشہ سے اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم سے بے پناہ محبت کرتے آئے ہیں اور آج اکیسویں صدی کی دوسری دہائی تک یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے،

🔻سن 2012 ء میں جب عالم مغرب خصوصاً امریکی انتظامیہ کی درپردہ حمایت میں ایک گستاخانہ فلم منظر عام پر آئی تو ملک مصر سے شروع ہونے والا احتجاج پوری دنیا میں پھیل گیا خصوصاً مسلم ممالک نے اس کا شدت سے رد کیا۔

🔺 پاکستان چالیس سے زائد اہل سنت وجماعت بریلوی تحریکوں کے ایک اتحاد نے ایک ہی وقت میں فلم کے خلاف احتجاج کیا اور اس فلم کی شدید مذمت کی۔

📌اسی جذبہ حب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحت اہل سنت بریلوی کثرت سے درود پاک پڑھتے ہیں،

🔸ان کی ایک پہچان

❣❣❣❣❣❣❣❣❣❣

الصلوٰۃ والسلام علیک یارسول اللہ وعلیٰ آلک واصحابک یا حبیب اللہ

❣❣❣❣❣❣❣❣❣

پڑھنا ہے.

اپنے محبوب نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں وہ کسی قسم کے نازیبا الفاظ سننے یا کہنے کے قائل نہیں ہیں اس معاملے میں وہ انتہائی حساس پائے گئے ہیں.

🔸 ان کے عقیدہ کے مطابق اللہ عزوجل نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سب سے پہلے اپنے نور سے پیدا فرمایا اس کے لیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی ایک مستند حدیث کا علمی حوالہ بھی دیتے ہیں۔

🔻 وہ اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر لحاظ سے آخری نبی اور آخری رسول مانتے ہیں

🔻وہ عیسیٰ علیہ السلام کے ایک امتی کے طور پر لوٹ آنے پر ایمان رکھتے ہیں۔

🔺 ان کے نزدیک انبیاء کرام علیھم السلام کی ارواح ظاہری موت کے بعد پہلے سے برتر مقام پر ہیں اور وہ ان کوعام لوگوں سے افضل مانتے ہوئے زندہ سمجھتے ہیں

🔸ان کے نزدیک ان مقدس ہستیوں کو اللہ تعالیٰ نے غیب کا علم عطا فرمایا ہوا ہے اور وہ نزدیک و دور سے دیکھنے کی طاقت رکھتے ہیں

📌اہل سنت وجماعت بریلوی کے نزدیک اللہ عزوجل نے انبیاء کرام علیھم السلام کو بہت سے اختیارات دے رکھے ہیں جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا مردوں کو زندہ کر دینا وغیرہ۔

📌 اہل سنت وجماعت بریلوی اپنے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی سالگرہ بارہ ربیع الاول کے دن کو عید میلاد النبی کے عوامی جشن کے طور پر مناتے ہیں۔

🔺وہ اللہ کے نیک بندوں کی تعظیم کرتے ہیں اولیاء اللہ کے مزارات پر حاضری دیتے ہیں ان کے لیے ایصال ثواب کرنے کو

🔻 ان کے نزدیک اللہ عزو جل جسے اپنا محبوب بنالے اسے دین اسلام کا خادم بنا دیتا ہے۔ وہ لوگ اللہ کی عبادت کرتے ہیں اللہ کے لیے قربانی کرتے ہیں اللہ کے لیے جیتے ہیں اور اللہ کے لیے ہی مرتے ہیں ایسے لوگ جب یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے تو پھر اس پر قائم بھی رہتے ہیں ان پر اللہ کی طرف سے فرشتے اترتے ہیں ان کے لیے نہ دنیا میں کوئی ڈر ہے اور نہ آخرت میں وہ غمگین ہوں گے۔ اور ان کے لیے اللہ کے ہاں ایک بہترین مقام جنت ہے جس کا ان کے لیے وعدہ ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں اللہ عز وجل ان کا دوست ہے۔ اور ان کے لیے آخرت میں جو مانگیں اس کا ان کے رب کی طرف سے وعدہ ہے۔ چونکہ وہ اللہ کے دوست اور اللہ ان کا دوست ہے لہذا ان کے نیک کاموں کا صلہ انہیں ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ملتا ہے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے ساتھ اپنی دوستی کا وعدہ دونوں جہانوں میں فرمایا ہے۔ انہیں انبیاء کرام علیھم السلام، صدیقین، شہیدوں اور صالحین کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ نے فضل کیا اور یہ اللہ کا فضل ہی تو ہے کہ نیک لوگ دنیا و آخرت دونوں میں کامیاب اور کامران ہیں۔ جب ایسے لوگوں کے لیے اللہ کے انعامات اس قدر ہیں تو وہ بخشش و مغفرت کے بھی ضرور حق دار ہیں۔

🔻اہل سنت وجماعت ان بزرگوں سے دعا کرانے کے قائل ہیں اور ظاہری زندگی ختم ہو جانے کے بعد ان کی عظمت کے قائل ہیں اور ان کے توسل سے اللہ تعالیٰ سے مانگنے کو جائز سمجھتے ہیں بلکہ ان کے نزدیک اگر اللہ چاہے تو یہ مقدس ہستیاں مدد بھی فرما سکتی ہیں

🔻 ان کے نزدیک اپنے آقا کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اصحاب، اہل بیت کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین اور نیک مسلمانوں کےمزارات پر حاضری دینا کتاب و سنت کی تعلیمات کےعین مطابق ہے۔ لیکن وہ ان میں سے کسی بھی مزار، دربار یا قبر کی عبادت کفرسمجھتے ہیں اور ان کو تعظیمی سجدہ کرنا حرام جانتے ہیں۔

🔻اہل سنت بریلوی جماعت کے نزدیک مرد حضرات کا ایک مٹھی تک داڑھی رکھنا ضروری ہے اس کا تارک گنہگار ہے۔

❣ امام اہل سنت مولانا احمد رضا خان قادری محدث بریلوی علیہ الرحمۃ الرحمان نے 1904 میں جامعہ منظر اسلام بریلی شریف قائم کیاان کے علمی کام کا پاکستان میں بہت چرچا ہے۔

🔻ان کی تحریک پاکستان کے قیام عمل میں آنے سے قبل کام کررہی تھی بنیادی طور پر یہ تحریک جنوبی ایشیا میں مسلمانوں کے بنیادی عقائد کے دفاع کے لئے قائم کی گئی تھی عقائد کے دفاع کے لئےاہل سنت بریلوی جماعت نے مختلف باطل مکاتب فکر اور تحریکوں کا تعاقب کیا اور ان کے ڈھول کا پول کھول دیا۔

🔻دیگر تحریکوں کے برعکس خطے میں سب سے زیادہ اہل سنت بریلوی جماعت نے موہن داس کرم چند گاندھی کا ساتھ نہ دیا اور اس ہندو لیڈر کی سربراہی میں

🔸 تحریک خلافت،

🔸تحریک ترک موالات اور 🔸تحریک ہجرت

کا مقاطعہ (بائیکاٹ) کیا وہ تمام ہر قسم کے کافر و مشرک کو مسلمانوں کا دشمن سمجھتے رہے۔

🔸اہل سنت بریلوی جماعت تحریک پاکستان کے بنیادی حامی تھے اس کے قیام کے لیے انہوں نے بہت جدوجہد کی۔

(Forwarded as Recieved)

Regards.

Spread as Much as Possible,

as this Scripture defines our Basic Identity in excellent shape.

اذان دھیان کے ساتھ سننے اور جواب دینے کی فضیلت

🌴 ♥ اذان دھیان کے ساتھ سننے اور جواب دینے کی فضیلت ♥

حضرت سیدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه

🌹 رسول الله صلى الله عليه وسلم سے راوی ہیں کہ :

*🌴🍁جب مؤذن کہے :

* اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ،

اور تم میں سے کوئی جواب دیتے ہوئے کہے :

* اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ،

جب مؤذن کہے : *أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا اللهُ،

یہ بھی جواب مین کہے

*: أشهدُ أن لا إلهَ إلَّا اللهُ،

جب وہ کہے : *أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللهِ،

یہ بھی جواب مین کہے :

*أشهدُ أنَّ محمَّدًا رسولُ اللهِ،

مؤذن کہے :

*حيَّ على الصَّلاةِ،

تو کہے :

* لا حولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللهِ،

پھر مؤذن کہے : *حيَّ على الفلاحِ،

یہ کہے :

* لا حولَ ولا قوَّةَ إلَّا باللهِ،

مؤذن کہے :

* اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ،

یہ جواب دے :

* اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ،

مؤذن کہے :

* لا إلهَ إلَّا اللهُ،

یہ بھی جواب مین کہے :

* لا إلهَ إلَّا اللهُ،

🔎سارے کلمات دل سے کہے جائیں

👈 وہ جنت میں داخل ہو گا 🍁🌴*

📗مسلم ،

أبو داود ، ترمذی وغيرهم

جنیدیہ علم توقیت کورس کے واٹس ایپ گروپس

جنیدیہ علم توقیت کورس کے واٹس ایپ گروپس

سب سے پہلے اس نمبر کو اپنے موبائل میں سیو کر لیں

03323531226

پھراس کے بعد اپنے متعلقہ کوئی سا ایک گروپ جوائن کیجیے

01 فاٹا ،kpk، کشمیر اور گلگت بلتستان والوں کے لیے

https://chat.whatsapp.com/1hzOLFqrRj6AdmtmIZKQAG

02 پنجاب والوں کے لیے

https://chat.whatsapp.com/7OTKxjPfL8sEkhW3AbDeCj

03 سندھ والوں کے لیے

https://chat.whatsapp.com/9P6YE6yIWutIIyVvzQHOhu

04 بلوچستان والوں کے لیے

https://chat.whatsapp.com/19C0LZKkijMCHZZIpVnCdy

05 انڈیا، نیپال اور بنگلہ دیش والوں کے لیے

https://chat.whatsapp.com/81jnib8hDhiBoS1EDRajK3

06 باقی تمام ممالک کے لیے

https://chat.whatsapp.com/5KqDSqCiPXb6ngaaaxdFnx

جامعہ جنیدیہ غفوریہ پشاور

کارخانو مارکیٹ میں

15 روزہ علم توقیت کورس

22ستمبر 2018ء بروز ہفتہ سے

10 اکتوبر 2018ء بروز بدھ تک

(جمعرات ، جمعہ چھٹی ہو گی)

رات 8:00 بجے سے 09:30 تک

شروع ہو رہا ہے۔

fb.com/ilmetauqeet

https://www.youtube.com/channel/UCBgrdQafX8QclUmCwu6MSAg

محرم کے روزوں کی فضیلت

🏵محرم کے روزوں کی فضیلت🏵

ماہ رمضان المبارک کے بعد محرم کے روزوں کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے جیسا کہ درج ذیل صحیح احادیث سے ثابت ہے :

1- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

"أفضل الصيام بعد رمضان: شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة:صلاة الليل”

📗 (مسلم: کتاب الصيام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)

☘”رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔”

☘- صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ

"أي الصلاة افضل بعد المکتوبة وأي الصيام أفضل بعد شهر رمضان؟”

"فرض نمازوں کے بعد کون سی نما زسب سے افضل ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے سب سے افضل ہیں؟ تو آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث (مسلم؛ ۱۱۶۳) میں مذکور ہے۔”

☘حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے عرض کیا:

” اے اللہ کے رسول! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں، میں روزے رکھنا چاہوں تو آپ کس مہینے کے روزے میرے لئے تجویز فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہینے میں روزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) قبول فرمائیں گے۔”

📗 (ترمذی: کتاب الصوم، باب ماجاء فی صوم المحرم ؛ ۷۴۱

🏵 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

"جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیرئہ قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔”

📗 (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)

🏵 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ

"میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔”

📗(بخاری، ؛۲۰۰۶/ مسلم ؛۱۱۳۲)

🏵 حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ "عاشورا کے روز یہودی عید مناتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھا کرو۔”

📗 (بخاری ؛۲۰۰۵/ مسلم ؛۱۱۳۱)

🏵ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ "اہل خیبر عاشوراء کے روز، روزہ رکھتے اور ا س دن عید مناتے اور اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھو۔”

📗(مسلم؛۲۶۶۱)

🏵 حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنواسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکر یہ اعلان کرے کہ

"جس نے کچھ پی لیا ہے، وہ اب باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے کچھ نہیں کھایا، وہ روزہ رکھے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔”

📗 (بخاری؛۲۰۰۷/ مسلم؛۱۱۳۵)-

🏵حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ

"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "فاذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع” آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو روزہ رکھیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسول انتقال فرما گئے۔”

📗 (مسلم؛۱۱۳۴)

🏵 مسلم کی ایک روایت کے لفظ یہ ہیں کہ "لئن بقيت إلی قابل لأصومن التاسع”

"اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور نو کا روزہ رکھوں گا۔”

📗 (مسلم: ایضاً)

نو اور دس دونوں تاریخوں کے روزے ا فضیلت کے لئے ضروری ہیں