نماز میں وہم

حدیث نمبر :76

روایت ہے حضرت قاسم ابن محمد سے ۱؎ کہ ان سے کسی شخص نے پوچھا(عرض کیا)میں اپنی نماز میں وہم کیا کرتاہوں اور یہ واردات مجھ پر بہت ہوتی رہتی ہے فرمایا اپنی نماز پڑھگزرو کیونکہ یہ وہم تو جائے گا نہیں حتی کہ تم یہ کہتے ہوئے نماز ختم کرو گے کہ میری نماز مکمل نہ ہوئی ۲؎ (مالک)

شرح

۱؎ آپ حضرت ابوبکر صدیق کے پوتے ہیں،جلیل القدر تابعی ہیں،مدینہ منوّرہ کے سات قاریوں میں سے ایک ہیں،حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا آپ کی پھوپھی ہیں،زین العابدین آپ کے خالہ زاد بھائی اور امام محمد باقر کے آپ خُسر،امام جعفر صادق کے آپ نانا ہیں،چونکہ آپ یتیم رہ گئے تھے اس لیئے عائشہ صدیقہ نے آپ کی پرورش کی،آپ نے حضرت عائشہ صدیقہ و امیرمعاویہ سے روایتیں کیں اور آپ سے ایک خلقِ خدا نے،۸۰ سال عمر پائی، ۳۲ھ؁ میں وفات ہوئی۔(اشعۃ و مرقاۃ)

۲؎ سبحان اﷲ! کیا عجیب تعلیم ہے یعنی ان خطرات کی وجہ سے ہر نماز چھوڑو نہ لوٹاؤ یہ آتے ہی رہیں گے جب نفس شیطان اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتے تو تم نماز کیوں چھوڑتے ہو،مکھیوں کی وجہ سے کھانا نہیں چھوڑا جاتا،تم اﷲ کے بندے ہو،دل کے بندے نہیں،دل لگے یا نہ لگے نماز پڑھے جاؤ۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نمازمکمل نہ ہونے کا وہم کافی نہیں،ان وہمیات کا خیال نہ کر ے،نماز پڑھے جائے۔

خنزب

حدیث نمبر :75

روایت ہے حضرت عثمان ابن ابی العاص ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اﷲ شیطان مجھ میں اور میری نماز اور تلاوت میں حائل ہوگیا نماز مشتبہ کردی ۲؎ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس شیطان کو خنزب کہا جاتا ہے ۳؎ جب کبھی تم اسے محسوس کرو تو اس سے اﷲ کی پناہ مانگو اور بائیں طرف تین بار دھتکار دو۴؎ میں نے یہ ہی کیا تو اﷲ نے اسے دفع فرمادیا ۵؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ بنی ثقیف کے ہیں،آپ کی والدہ حضور کی پیدائش کے وقت آمنہ خاتون کے پاس تھیں،حضور نے آپ کو طائف کا حاکم بنایا۔چنانچہ آپ عہد فاروقی تک وہیں کے حاکم رہے،پھرحضرت فاروق اعظم نے اپنی خلافت کے تیسرے سال وہاں کی حکومت معزول کرکے عمّان اور بحرین کا حاکم بنایا، ۱۰ ھ؁ہجری میں جب وفد بنی ثقیف حضور کی خدمت میں ایمان لانے کے لیئے حاضرہوا تو اس میں آپ بھی تھے اس وقت آپ کی عمر ۲۹ سال تھی،آخری عمر میں بصرہ قیام گاہ رہا، ۵۱ھ؁ میں وہیں وفات پائی۔۷۰سال عمرشریف ہوئی،حضور کی وفات کے بعد جب بنی ثقیف مرتد ہونے لگے تو آپ نے فرمایا:اےقوم!تم آخری مؤمنین ہو،اب اولین مرتدین کیوں بنتے ہو؟

۲؎ اس طرح کہ نہ مجھے پڑھی ہوئی رکعتیں یاد رہیں اور نہ یہ کہ رکعت اوّل میں کیا پڑھا تھا۔معلوم ہوا کہ نماز میں وسوسے بزرگوں کو بھی ہوجاتے ہیں۔

۳؎ خنزب خ کے کسرہ یا فتح سے اور ز کے فتح سے بمعنے سڑا ہوا گوشت یا دائمی جرم۔(قاموس) یہ شیطان کی اُس ذریت کا نام ہے جو نمازیوں پر نماز مشتبہ کرتی ہے۔

۴؎ نماز شروع کرتے وقت تکبیر تحریمہ سے قبل تجربہ ہے کہ جو تحریمہ سے پہلے اس طرح تھتکار کر لاحول شریف پڑھ لے پھر تحریمہ کرے دورانِ نماز میں نگاہ کی حفاظت کرے کہ قیام میں سجدہ گاہ،رکوع میں پشتِ قدم،سجدہ میں ناک کے بانسے،جلسہ اورقعدہ میں گود میں رکھے تو ان شاءاﷲ نماز میں حضور نصیب ہوگا۔

۵؎ یعنی یہ حدیث میری مجرب بھی ہے،محدثین کے نزدیک تجربہ کی تائید سے حدیث قوی ہوجاتی ہے۔دیکھو ہماری کتاب "جاء الحق”حصہ دوم۔

لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے

حدیث نمبر 73

روایت ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں فرمایا لوگ پوچھ گچھ کرتے رہیں گے حتی کہ یہ کہا جاوے گا کہ مخلوق کو خدا نے پیدا کیا تو خدا کو کس نے پیدا کیا ۱؎ جب یہ کہیں تو تم کہہ دینا اﷲ ایک ہے،بے نیاز ہے،نہ جنا،نہ جنا گیا، اور نہ کوئی اس کے برابر کا ۲؎ ہےپھر اپنے بائیں طرف تین بار تھتکار دے۔اور مردود شیطان سے اﷲ کی پناہ مانگے ۳؎ یہ ابوداؤدنے روایت کی ہم عمرو ابن احوص کی حدیث ان شاءاﷲ تعالٰی بقرعید کے خطبہ کے باب میں ذکرکریں گے۔

شرح

۱؎ یعنی ہر موجود کا کوئی موجد چاہیئے اور اﷲ بھی موجود ہے لہذا اس کا موجدبھی ہونا چاہیئے۔یہ شیطانی وسوسہ ہے۔خیال رہے کہ شیطان عالموں کے دل میں عالمانہ وسوسے،اور صوفیوں کے دل میں عاشقانہ وسوسے،عوام کے دل میں عامیانہ وسوسے ڈالتا ہے۔”جیسا شکار ویسا جال”بہت دفعہ انسان گناہ کو عبادت سمجھ لیتا ہے۔

۲؎ سبحان اﷲ! کتنے نفیس منطقی دلائل ہیں اولاد کے لیئے۳شرطیں:ہیں ایک یہ کہ صاحبِ اولاد میں دوئی ہوسکے۔کیونکہ اولاد باپ کے ساتھ جنسًا ایک،اور شخصًا دوسری ہوتی ہے۔رب تعالٰی جنسیت اور شخصیت وغیرہ سے پاک ہے اَحد میں ادھر اشارہ ہے۔دوسرے صاحبِ اولاد اولاد کا حاجت مند ہوتا ہے،اپنی وراثت یا زور بازو کے لیئے اولاد چاہتا ہے۔پروردگار بے نیاز،سے صَمَد ہیں یہ فرمایا گیا۔تیسرے یہ کہ ہرممکن موجود موجد کا حاجت مند ہے پروردگار واجب ہے،نیز بیٹا باپ کی مثل ہونا چاہیئے ربّ کی مثل کوئی نہیں۔”لَم یلد”الخ میں اس طرف اشارہ ہے۔

۳؎ یہ تھوک شیطان کے منہ پر پڑے گا جس سے وہ ذلیل ہو کر بھا گے گا کیونکہ شیطان اکثر بائیں طرف سے آتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ کبھی تُھوک سے بھی شیطان بھاگتا ہے۔بعض صوفیاء دم کر کے تھتکاربھی دیتے ہیں،اُنکی دلیل یہ حدیث ہے۔

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :74

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ پوچھتے ہی رہیں گے یہاں تک کہ یہ کہہ بیٹھیں گے کہ اﷲ نے ہرچیز پیدا کی تو اﷲکو کس نے پیدا کیا یہ بخاری کی روایت ہے اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرماتے ہیں اﷲعزوجل نے فرمای کہ یقینًاتمہاری امت ۱؎ کہتی رہے گی یہ کیسا یہ کیسا ۲؎ یہاں تک کہ یہ کہہ دیں گے کہ اﷲ نے مخلوق پیدا کی اﷲ کو کس نے پیدا کیا

شرح

۱؎ یعنی امتِ دعوت دہریے کفّار وغیرہ نہ کہ امت اجابت مؤمن ین۔یا کہنے سے مراد دلی وسوسہ ہے،تو امت اجابت بھی داخل ہے۔

۲؎ یعنی ہر حکم کی وجہ،ہر چیز کی کُنہہ پوچھیں گے۔قیل قال زیادہ حال سے خالی۔خیال رہے کہ ہمارے پاس ” کیوں”ہے ان کے پاس کیا تھا۔

انسان میں شیطان کا بھی اثر ہے اور فرشتہ کابھی شیطان کا اثر

حدیث نمبر :72

روایت ہےحضرت ابن مسعودسے فرماتےہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ انسان میں شیطان کا بھی اثر ہے ۱؎ اور فرشتہ کابھی شیطان کا اثر تو مصیبت سے ڈرانا اور حق کاجھٹلاناہے ۲؎ لیکن فرشتہ کا اثر خیر کا وعدہ کرنا اورحق کی تصدیق کرناہے۳؎ جو یہ آخری بات محسوس کرے وہ جان لے کہ یہ رب کی طرف سےہے خدا کا شکرکرے۴؎ اورجووہ دوسری چیز محسوس کرے وہ مردودشیطان سے اﷲ کی پناہ مانگے۵؎ پھر یہ تلاوت کی کہ شیطان تمہیں فقیری سے ڈراتا اور بے حیائی کا مشورہ دیتا ہے۔ترمذی نے روایت کی اور فرمایا یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ یہاں شیطان سے مراد یا تو ابلیس ہے یا انسان کا قرین جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتا ہے جس کا ذکر پہلے گزر چکا۔دوسرا احتمال زیادہ قوی ہے اس کا اثر قریبًا سارے انسانوں پرہوتاہےکسی پرکم کسی پرزیادہ۔

۲؎ اس طرح کہ وہ خبیث برائیوں کوخوبیاں اور نیکیوں کو مصیبت بنا کر دکھاتا ہے۔خیرات کے ارادہ پر فقر سے ڈراتا ہے،ناجائزخرچوں کے موقعہ پر ناموری کا لالچ دیتا ہے۔بہت دفعہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر مسلمان حج و خیرات سے گبھراتے ہیں،لیکن شادی بیاہ کے حرام رسوم پر خوب دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔یہ اسی کا اثر ہے۔رب فرماتا ہے:”اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِ”اس کا یہی مطلب ہے۔

۳؎ اس طرح کہ اگر صدقہ اور خیرات سے نفس گھبرائے اور شیطان فقر سے ڈرائے تو یہ فرشتہ دل میں آواز دیتا ہے کہ مت ڈر صدقہ سے مال بڑھتا ہے،گھٹتا نہیں اور فورًا یہ آیت سامنے آتی ہے۔” یَمْحَقُ اللہُ الرِّبٰوا وَیُرْبِی الصَّدَقٰتِ”یہ اس فرشتہ کا ہی کام ہے جوشخص جس آواز پر کان دھرتا رہے گا وہی آوازقوی ہوتی رہے گی اور دوسری آواز مدہم۔بعض اولیاءسےشیطان مایوس ہوکر انہیں بہکانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔

۴؎ کیونکہ نیک ارادہ اور اچھے خیالات بھی اللہ کی نعمت ہیں،شکر سے نعمت بڑھتی ہے،نیز نیک ارادہ کو جلد پورا کرے کہ پتہ نہیں پھر موقعہ ملے یا نہ۔

۵؎ کیونکہ اعوذ اور لاحول سے شیطان بھاگتا ہے۔صوفیائے کرام فرماتے ہیں کہ جوکوئی صبح شام ۲۱ بار لاحول شریف پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو ان شاء اﷲ وسوسۂ شیطانی سے بہت حد تک امن میں رہے گا۔

خدا کا شکر ہے جس نے ان خیالات کو وسوسہ بنادیا

حدیث نمبر :71

روایت ہے ابن عباس سے کہ حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص آیا اور بولا کہ میں اپنے دل میں ایسے خیالات محسوس کرتا ہوں کہ وہ بولنے سے جل کر کوئلہ ہوجانا زیادہ پسند ہے ۱؎ فرمایا خدا کا شکر ہے جس نے ان خیالات کو وسوسہ بنادیا ۲؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی عقائد اسلامیہ،ذات و صفات الہی،یا محامد مصطفوی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایسے برے خیالات آتے ہیں کہ مجھے ان کا قبول کرنا تو کیا اتنا برا معلوم ہوتا ہے کہ جل کر کوئلہ ہونا منظور ہے۔مگر ان کا بولنا منظور نہیں۔سبحان اﷲ! یہ ہے وہ خوفِ الٰہی جو حضور کی صحبت کی برکت سے صحابہ کو نصیب ہوا یہ خوف ایمانی کی دلیل ہے۔

۲؎ یعنی رب نے ایسے خیالات کو وسوسہ میں داخل فرمایا جن پر کوئی پکڑ نہ رکھی وہ کریم بندے کی مجبوری و معذوری جانتا تھا۔

شیطان اور اس کی جماعت

حدیث نمبر 69

روایت ہے حضرت جابرسےفرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شیطان پانی پر اپنا تخت بچھاتا ہے ۱؎ پھر اپنے مختلف لشکر کو لوگوں میں فتنہ میں ڈالنے کے لیئے بھیجتا ہے ۲؎ ان میں قریب تر درجہ والا وہ ہوتا ہے جو بڑا فتنہ گرہو۳؎ ان میں سے آکر ایک کہتا ہے کہ میں نے فلاں فلاں فتنہ پھیلایاابلیس کہتا ہے کچھ نہیں پھر اور دوسرا آکر کہتاہے کہ میں نے فلاں کو اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک کہ اس میں اور اس کی بیوی میں جدائی نہ ڈال دی۴؎ فرمایا ابلیس اسے پاس بٹھاتا ہے اور کہتا ہے تو بہت ہی اچھا ہے اعمش فرماتے ہیں مجھے خیال ہے کہ فرمایا اسے چمٹا لیتا ہے ۵؎ (مسلم)

شرح

۱؎ روزانہ صبح کے وقت سمندر پر جب اپنا کاروبارشروع کرتا ہے مگر اس کا تخت سمندر میں ڈوبتا نہیں کہ وہ خود بھی آتشی ہے اس کا تخت بھی آتشی۔آج کشتیاں اور جہاز ڈوبنےسےمحفوظ ہیں۔

۲؎ سرایا سریہ کی جمع ہے بمعنی چھوٹی فوج جن کی تعداد پانچ افراد سے چارسو تک ہو۔ذریّتِ شیطان کی مختلف جماعتیں ہیں ان کے نام اور کام الگ الگ ہیں۔چنانچہ وضوء میں بہکانے والی جماعت کا نام ولہان ہے،اور نماز میں ورغلانے والی جماعت کا نام خنزب ہے۔ایسے ہی مسجدوں میں،بازاروں میں،شراب خانوں میں،اس کی الگ الگ فوجیں رہتی ہیں۔

۳؎ یعنی ابلیس اپنی ذریّت میں سے اُسے اپنا قربِ خصوصی بخشتا ہے جو لوگوں میں بڑی گمراہی یا فتنہ پھیلا کر آئے۔

۴؎ اس طرح کہ طلاق واقع کرادی۔طلاق اگرچہ مباح چیز ہے مگر اکثر بہت فسادات کی جڑ بن جاتی ہے۔اس لیئے ابلیس اس پر خوش ہوتا ہے،اسی لیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اَبْغضُ الحلالِ الطلاقُ ” حتّی الامکان اس سے بچنا بہتر ہے۔یا مطلب یہ ہے کہ میں نے خاوند بیوی میں جدائی کرادی کہ خاوند کی عورت کو معلقہ کردیا نہ چھوڑے نہ بسائے یہ سخت جرم ہے۔رب نے فرمایا:” فَتَذَرُوۡہَا کَالْمُعَلَّقَۃِ ” اس صورت میں حدیث بالکل واضح ہے۔

۵؎ اس حدیث سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ جو شخص ناحق زوجین میں جدائی کی کوشش کرے وہ ابلیس کی طرح مجرم ہے،اس سے وہ عامل لوگ عبرت حاصل کریں جو تفریق زوجین کے لیئے تعویذوعملیات کرتے ہیں۔دوسرے یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ سے ابلیس وغیرہ کوئی چیز چھپی نہیں۔کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ حضور مشاہدہ و ملاحظہ فرما کر یہ سب کچھ فرمارہے ہیں۔

شیطان انسان کے خون کے ٹھکانوں میں گردش کرتا ہے

حدیث نمبر :66

روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ شیطان انسان کے خون کے ٹھکانوں میں گردش کرتا ہے ۱؎ (بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ یا تو خود ابلیس اور قرین شیطان چونکہ وہ آتشی ہے۔اس لیے بلا تکلف انسان کے رگ و پے میں سرایت کرجاتا ہے اور تصرّف کرتا ہے یا اس کے وسوسے اور خیالات۔معلوم ہوا کہ کوئی شخص بغیر فضل الٰہی شیطان سے نہیں بچ سکتا۔