استمداد اور استعانت

استمداد اور استعانت کا معنی ’’طلب معونت‘‘یعنی مدد طلب کرنا ہے ۔’’ استغاثہ ‘‘ فریاد خواہی کو کہتے ہیں(عامۂ لغات ،نیز دیکھیں الجواہر المنظم؍ ص ۱۲۴،المجمع الثقافی ،ابو ظبی) اور توسل، وسیلہ،تشفع یہ استمداد اور استعانت کے قریب المعنی الفاظ ہیں جن کا معنی تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ(حاشیہ الصاوی علی الجلا لین ، ج۱؍ ص ۲۸۲) یہ بھی استعانت کی ایک نوع ہے ۔اور ’توحید‘’شرک‘ کی ضد ہے ،توحید کا حقیقی مفہوم الوہیت اور لوازم ِالوہیت کو صرف اللہ عز و جل کے لئے مخصوص ماننا اور اسی کی ذات میں منحصر سمجھنا ہے ۔بلفظ دیگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا و منفرد اعتقاد کرنا اور شریک سے پاک ماننا ہے۔ (حاشیہ صحیح البخاری ،ج۲؍ ص ۱۰۹۶، تعریف علامہ بدرالدین عینی حنفی)

زیر نظر عنوان میں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اہل سنت و جماعت میں رائج و معمول انبیاء ،اولیاء،اور صالحین سے استمداد ’’استعانت اور استغاثہ و توسل‘‘آیا تصور توحید کے منافی ہے یا یہ کہ یہ اسلامی معتقدات اور معمولات ہی کا ایک حصہ ہے؟۔۔۔۔

اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیاء و صالحین سے طلبِ معونت، فریاد خواہی اور قضائے حاجت کے لئے انہیں وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پرقولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین ،کتاب و سنت کے حاملین خود ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین و فقہاء و محدثین کا یہی موقف رہا،اور بے کسی اختلاف و نزاع کے رسول اللہکے صحیح و حقیقی جانشین آج بھی اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے’’ استمداد و توسل ‘‘کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔چنانچہ اسلامی معتقدات ومعمولات کے شارح حجۃ الاسلام امام غزالی(متوفی ۵۰۵؁ھ) قُدِّ سَ سِرُّہُ فرماتے ہیں:’’مَنْ یُّسْتَمَدُّ فِیْ حَیَا تِہٖ یُسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَا تِہٖ‘‘(احیاء العلوم للغزالی)جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے بعد وفات بھی اس سے مدد مانگی جائے گی ۔امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی مکی (۹۷۴؁ھ)’’الجوہر المنظم‘‘ میں چند حدیثیں نقل فرماتے ہیں جو استمداد اور توسل کے جواز و استحباب کی دلیل ہیں۔

پھر فرماتے ہیں : ’’ہر طرح کے ذکر خیر میں حضور اقدسکا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاتی ہے۔آپ کے اس دنیا ئے فانی میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی ،آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی،یوں ہی میدان قیامت میں بھی ،چنانچہ آپاپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس تعلق سے اخبار تواتر کی حد تک ہیں۔(الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۸ ابو ظبی۔)

میں نے صرف دو اقوال نقل کئے، اگر علمائے راسخین کے اس قسم کے اقوال نقل کئے جائیں تو ایک کامل کتاب تیار ہوسکتی ہے ۔پوری جماعت اہل سنت کی جانب سے مسئلہ’’ استمداد اور توسل ‘‘کی وکالت کے لئے یہ دو اقتباسات کافی ہیں ۔’’استمداد وتوسل ‘‘کا یہ نظریہ ہر دور اور ہر قرن میں موجود رہا ۔اس میں پہلا رخنہ ڈالنے والا اور اس نظریۂ فکر کا پہلا منکر (نیز غیر اللہ سے استمداد وتوسل کو شرک وبت پرستی سے تعبیر کرنے والا) ساتویں صدی ہجری کے وسط کی پیدا وار ابن تیمیہ ہے(جس کی ولادت ۶۶۱ھ؁ میں ہوئی)اس دور کے علماء نے ابن تیمیہ کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا ۔ جس کے نتیجہ میں کوئی چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اس فتنہ کو ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں شیخ نجدی کے ایک ریزہ خوار مولوی اسماعیل دہلوی نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوادی،اور ان کے سُر سے سر ملاکر آج کل کے غیر مقلدین اس فاسد نظریہ کے داعی بن گئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے سطور میں ہم اہل سنت کے نظریۂ استمداد پر ٹھوس دلائل وثبوت فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ استمدادو استعانت (غیر اللہ سے مدد طلب کرنا)کے وسیع مفہوم میں’’استغاثہ‘‘(فریاد خواہی)’’توسل‘‘تشفع‘‘مدد کے لئے ندا سبھی شامل ہیں،یوں ہی انبیاء وصلحاء سے ’’استمداد وتوسل‘‘خواہ ان کی ظاہری زندگی میں ہو یا بعد وصال اعمال صالحہ سے استعانت ووسیلہ کی طرح یہ بھی جائز ومستحسن ہے۔علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں :

’’ولا فرق بین ذکر التوسل والاستغاثۃ والتشفع والتوجہ بہ ا او بغیرہ من الانبیاء وکذاالاولیاء‘‘ (الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۵ ابو ظبی۔)

’’لفظ توسل واستعانت ذکر کیا جائے،یا تشفع وتوجہ ان میں کوئی فرق نہیں اور یہ سب رسول اللہ ا سے جائز ودرست ہیں یونہی دیگر انبیاء کرام اور اولیاء سے‘‘۔

میں اوپر بیان کرچکا ہوں کہ آغاز اسلام سے لیکر اب تک ہر دور میں انبیاء،صلحاء،اولیاء سے استمداد وتوسل کا عام دستور رہا ’علمائے راسخین اورکتاب وسنت کے حاملین سے ہر قرن وصدی معمور رہی ،مگر کسی نے اس پر نکیر نہیں فرمائی سبھی بالاتفاق جائز ومستحسن اور قضائے حاجات کا ذریعہ سمجھتے رہے پچھلی امت میں بھی ذوات واشخاص اور اعمال سے استمداد واستعانت وتوسل کا دستور رہا ۔

ولادت مبارکہ سے قبل استمداد وتوسل

حضورکی ولادت مبارکہ سے قبل بھی آپ کی ذات پاک کا وسیلہ لیا گیا ۔خود حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے لیا چنانچہ حاکم نے مستدرک میں ایک روایت نقل کی اور اسے صحیح قرار دیا کہ حضورﷺ نے فرمایا:لما اقترفت آدم الخطیئۃ قال یا رب!اسئلک بحق محمد اان غفرت لی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍ ۶۱۵)

’’حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے بارگاہ خدا میں عرض کیا ،اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدا کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوںکہ میری مغفرت فرما‘‘

اگر یہ وسیلہ واستعانت حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم علیہ السلام کیوںکر وسیلہ لیتے؟ پھر حدیث کے آخری ٹکڑے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الیّ اذا سالتنی بحقہ فقد غفرتک‘‘اے آدم ! تونے سچ کہا وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تونے میرے حبیب کے وسیلے سے دعا مانگی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت فرمادی‘‘۔

کیا اب بھی کسی کے لئے یہ گنجائش باقی ہے کہ استمداد و توسل کو تصور توحید کے منافی سمجھے؟۔یہاں نہ تو وسیلہ لینے والا کوئی عامی ہے نہ وہ جس کا وسیلہ لیا جاتا ہے ۔وسیلہ لینے والا بھی نبی ہے جس کا وسیلہ لیا جارہا ہے وہ بھی نبی ہے ۔

اور پھر اللہ عزوجل کا اس وسیلے کو قبول فرماکر مغفرت فرمانا اس کے صحت واستحسان کی مستحکم دلیل ہے ۔یہ روایت حاکم کے نزدیک صحیح ہے ۔ اس روایت کو امام مالک علیہ الرحمہ نے بھی قبول فرمایا ہے ۔چنانچہ امام شہاب الدین خفاجی (متوفی ۸۱۲ھ؁) نے شرح شفاء میں نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ منصور نے حج کیا اور حضور اقدسکی قبر شریف کی زیارت کی مسجد نبوی شریف میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ عرض کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں قبلہ کی طرف رخ کرتا ہوا دعا مانگوں یا حضورکی طرف چہرہ کروں؟۔ حضرت امام مالک نے فرمایا:

’’ولمَ تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم الی اللہ تعالیٰ بل استقبلہ واستشفع بہ فشفعہ اللہ فیک‘‘ ( شرح الشفاء لامام خفاجی ۳؍ ۳۹۸۔ شفاء السقام ؍ ۱۵۴ ۔۔ وفاء الوفاء ص ۱۳۷۶)

’’تم کیوں حضور کی طرف سے اپنا چہرہ پھیروگے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب تمہارا بھی وسیلہ ہیں،تمہارے باپ حضرت آدم کا بھی وسیلہ ہیں؟حضور ہی کی طرف چہرہ کرو اور حضور کی شفاعت کی درخواست کرو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔‘‘

پچھلی امتوں میں نبیٔ کریمسے توسل و استعانت کا رواج تھا چنانچہ یہود کے بارے میں قرآن کریم میں ہے۔’’اہل کتاب یہود نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ؍ ۸۹

)

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی فتح ونصرت کا سوال کرتے اور یوں دعا مانگتے اے اللہ ! نبی ِامی کے صدقے ہمیں فتح ونصرت عطا فرما‘‘ (التفسیر الکبیر ج ۳؍ ص ۲۰)

تفسیر در منثور میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی جو روایت تخریج کی گئی ہے اس میں بنی قریظہ ونضیر کے یہودیوں کی دعا کے الفاظ اس طرح تھے :

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے آخری پیغمبراکے طفیل کافروں پرفتحیا بی چاہتے ہیں،توہماری مدد فرماتوان کی مدد ہوئی‘‘ (دُرِّ منثور ، ج ۱؍ ص ۱۲۵)

تابوت سکینہ سے استمدادو توسل

ذوات واشخاص ہی کے ساتھ استمداد وتوسل خاص نہ تھا بلکہ انبیاء وصلحاء کی طرف منسوب اشیاء سے بھی لوگ توسل کرتے اور مدد چاہتے تھے ۔چنانچہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور جسے کتاب اللہ نے عظیم الشان نشانی قرار دیا ہے ۔ (سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸)علامہ قاضی بیضاوی اور دیگر مفسرین کی صراحت کے مطابق ’’تابوت سکینہ‘‘میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا مبارک اور آپ کے کپڑے،آپ کے نعلین،حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ مبارکہ اور توریت کے ٹکڑے تھے۔(تفسیر بیضاوی بقرہ ص۱۶۱)اس تابوت کے تعلق سے کتب تفاسیر میں یہ ذکر ہے کہ جب بنی اسرائیل کو کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو وہ اس تابوت کے وسیلہ سے دعائیں کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے’’وکانوا یستفتحونہٗ علی عدوھم ویقدمون فی القتال ویسکنون الیہ (تفسیر جلالین بقرہ ص ۳۸)’’بنی اسرائیل اس تابوت کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح یابی طلب کرتے اور اسے معرکۂ جنگ میں آگے رکھتے اور اس سے سکون حاصل کیا کرتے تھے ‘‘ظاہر ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘اللہ نہیں ہے ،غیر اللہ ہے تو اس کے توسل سے فتح یابی چاہنا غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔اور قرآن کریم نے نکیر نہ فرمائی بلکہ موقع مدح میں ذکر فرمایا۔اس لئے قرآن وتفاسیر کا مطالعہ کرنے والااور اس پر ایمان لانے والا کوئی بھی شخص استعانت بغیراللہ کا انکار کرہی نہیں سکتا ۔ان چیزوں سے استعانت اس لئے تھی کہ یہ چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب منسوب تھیں ۔حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسط سے رسول اللہکا زیب تن کیا ہوا جُبّہ ملا تو وہ اسے مریضوں کے لئے نکالا کرتی اور دھو کر اس کا غسالہ مریضوں کو پلایا کرتی تھیں اور اس سے شفا چاہتی تھیں۔

(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص؍۳۷۴)

قرآن کریم سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘۔ظاہر ہے کہ نہ صبر خدا ہے ،نہ نماز بلکہ دونوں غیر اللہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سے ثابت ہو ا کہ اعمال صالحہ سے استمداد واستعانت جائز ومستحسن ہے ۔

رب عزوجل اشخاص وذوات سے بھی استمداد کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد ہے’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘(سورۂ مائدہ آیت ۲)’’نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘اس آیت میں اشخاص سے استمدادواستعانت کا حکم فرمایا گیا ہے۔ائمہ مجتہدین شخصیت اور عمل دونوں کے وسیلے سے متعلق استدلال میں درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ‘‘(سورئہ مائدہ آیت ۳۵)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وسیلہ لیا ۔اور ان کے وسیلہ سے بارش ہوئی ۔تو حضرت عمر نے فرمایا ’’ھذا واللہ الوسیلۃ الی عزوجل والمکان منہ‘‘خدا کی قسم حضرت عباس اللہ کی بارگاہ کے وسیلہ اور رتبہ والے ہیں۔(الاستیعاب لابن عبد البر) اس روایت نے واضح کردیا کہ مذکورہ آیت کریمہ میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ مطلوب نہیں ۔ بلکہ صلحاء کی ذات کا بھی وسیلہ مطلوب ہے۔یعنی خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بناناجو غیر اللہ سے استمداد کی ایک اہم صورت ہے کیا کوئی دعویٰ اسلام کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ غیر اللہ سے استمدادو استعانت کاحکم دے کر اللہ عزوجل نے ناجائز وحرام بلکہ شرک کا حکم دیا ۔لہٰذا ماننا پڑے گا کہ استمدادو استعانت اور توسل ذوات واشخاص کا بھی درست ہے پھر یہ اپنے عموم میں زندہ ووصال یافتہ دونوں کو شامل ہے ۔

احادیث سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

استمدادو استعانت خواہ اعمال سے ہو یا ذوات واشخاص سے قبل وصال ہو یا بعد وصال اس کا ثبوت کثیر وافر احادیث سے ہے ۔علماء راسخین نے غیراللہ سے استمداد ووسلیہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (۱)عمل صالح سے استمدادوتوسل(۲)نیک اشخاص سے استمداد وتوسل۔

عمل صالح سے استمداد و توسل

اعمال صالحہ سے استمداد وتوسل کے تعلق سے مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال بہت معروف ہے جسے امام بخاری نے کتاب الاجارہ میں ،امام مسلم نے کتاب الذکر والدعا والتوبہ والاستغفار ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلثۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا :

’’تین آدمی جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی ان لوگوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی ،غار کے منھ پر ایک چٹان آگئی جس سے غار کا منھ بند ہوگیا ،ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ،اللہ کے لئے جو نیک کام تم نے کیا اس پرغور کرو اور ان اعمال صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو،شاید اللہ عزوجل یہ مصیبت تم سے دور فرمادے ، تو ان تین میں سے ایک نے یہ دعا کی ۔ اے اللہ ! میرے ماں ،باپ بوڑھے تھے ، میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ،میں ان کے لئے بکریاں چراتا جب میں واپس لوٹتا تو دودھ دُوہتا ،اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا ،ایک دن درختوں نے مجھے دور پہونچا دیا تو رات سے پہلے میں لوٹ نہ سکا ،میرے والدین میرے لوٹنے تک سوچکے تھے ،میں نے حسب معمول دودھ دُوہااور ایک برتن میں دودھ لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا ،ان کو نیند سے بیدار کرنا میں ناپسند کرتا تھا اور ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی مجھے نا پسند تھا ،باوجودیکہ میرے بچے میرے قدموں کے پاس چیخ رہے تھے ،فجر طلوع ہونے تک میرا اور میرے ماں ،باپ کا یہی حال رہا ،اے اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا ،تو ہمارے اس غار میں کشادگی کردے کہ ہم اس غار سے آسمان کو دیکھ لیں ،تو اللہ عزوجل نے کچھ کشادگی کردی اور ان تینوں نے اس غار سے آسمان کو دیکھ لیا ۔ پھر دوسرے شخص نے دعا کی اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی جیسا کہ مرد عورت سے محبت کرتا ہے ،میں نے اس سے ملاقات کی درخواست کی ،اس نے انکار کیا اور سودینار کی طلبگار ہوئی ،میں نے بڑی مشقّت سے سو دیناراکٹھا کئے اور اسے لے کر اپنی محبوبہ کے پاس گیا ،جب میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے بیٹھا تو اس نے کہا ،اے اللہ کے بندے!اللہ سے ڈر اور حرام طریقے سے مہر نہ توڑ،تو میں اسی وقت اس سے علیحدہ ہوگیا ۔ اے اللہ! تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے تیری رضا مندی کے لئے ایسا کیا تھا ،تو ہمارے لئے اس غار کو کچھ کھول دے ،تو اللہ تعالیٰ نے غار کو کچھ کھول دیا ۔اور تیسرے شخص نے کہا ،اے اللہ ! میں ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر اجیر رکھا تھا ،جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میری اجرت دے دو، میں نے اس کو مقررہ اجرت دے دی مگر اس نے اس سے اعراض کیا ،پھر میں ان چاولوں سے کاشت کرتا رہا تاآنکہ اس کی آمدنی سے میں نے گائے اور چرواہے جمع کرلئے ،ایک دن وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اللہ سے ڈرو اور میرا حق نہ مارو،میں نے کہا جائو اوران گایوں اور چرواہوںکو لے لو ،اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا یہ گائے اور چرواہے لے لو ،وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اے اللہ !تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا ،تو غار کے منھ کا جو حصہ کھلنے سے رہ گیا ہے اسے کھول دے تو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غار سے نکل کر روانہ ہوگئے ۔ (صحیح المسلم جلد دوم ص ۳۵۳)

ان تینوں آدمی نے اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی اور وہ دعا بارگاہ ِالٰہی میں قبول ہوئی اور یہ حدیث موقع مدح میں ہے تو اس سے وسیلے کا جواز واستحسان ثابت ہوا ۔

بخاری ونسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،وہ نبیٔ کریمسے روایت کرتے ہیں۔’’استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشئی من الدجلۃ‘‘صبح کی عبادت سے استعانت کرو ،شام کی عبادت سے استعانت کرو ،کچھ رات کا حصہ باقی ہوتو اس کی عبادت سے استعانت کرو ۔

ابن ماجہ اور حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبیٔ کریمﷺ سے کہ فرمایا’’استعینوا بطعام السحر علے صیام النھاروبالقیلولۃ علے قیام اللیل‘‘سحر کے کھانے سے دن کے روزے پر استعانت کرواور دوپہر کے سونے سے قیام لیل پر استعانت کرو۔

ظاہر ہے کہ نہ تو صبح کی عبادت خدا ہے ،نہ شام کی ،نہ سحر کی ،نہ دوپہر کا سونا ۔تو ان سے استمدادو استعانت کا حکم دیا گیا۔ جس سے ثابت ہو کہ غیر اللہ سے استمدادواستعانت جائز وروا، مستحسن ومستحب ہے۔

ذوات واشخاص سے استمداد و توسل

ائمہ دین نے مندرجہ ذیل احادیث کریمہ سے مسئلۂ استمداد واستعانت وتوسل میں استدلال فرمایا ہے ۔حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے،حضورﷺ نے انہیں خود ایک دعا تعلیم فرمائی ۔جس کے الفاظ یہ ہیں’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبیک محمد نبی الرحمہ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہٖ لتقضی لی حاجتی ۔اللھم فشفعہ۔ (ترمذی شریف جلد دوم ص ۱۹۷)

’’اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ا جو نبیِ رحمت ہیں۔کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، یارسول اللہ !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوںتاکہ میری حاجت پوری ہو ،الٰہی !حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘یہ حدیث صرف امام ترمذی نے اخذ نہیں کی ہے بلکہ امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ،ابن ماجہ نے سنن صلوۃ الحاجۃ میں ،نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں ،ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس کی تخریج فرمائی اور متعدد محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی فرمائی اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ نبیٔ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو وسیلہ ورابطہ بنا کر قضائے حاجات کے لئے ان سے استمداد واستعانت منصوص ہے ۔ حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں مذکورہے کہ ایک شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اہم کام تھا جو پورا نہیں ہورہا تھا ۔وہ حضرت عثمان بن حنیف کے پاس آیا آپ نے نماز حاجت کے سوا مذکورہ دعا ’’اللھم انی اسئلک الخ‘‘کی تعلیم فرمائی ۔ اس طرح اس کی حاجت پوری ہوگئی ،پھر جب اس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف سے ہوئی تو اس نے کہا ’’ جزاک اللہ خیرا ماکان ینظر ولا یلتفت اِلَیَّ حتّٰی کلمتُہ فی‘‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے وہ میری طرف التفات کرتے ہی نہ تھے پھر میں نے اپنی ضرورت کے تعلق سے گفتگو کی اور وہ پوری ہوئی ۔ (الترغیب والترہیب جلد اول۔ والخصائص الکبریٰ جلد دوم ؍ص۱ ۲۰)

روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے اس شخص سے کہا کہ ،خلیفۃ المسلمین سے آپ کے بارے میں میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر تھے ۔ایک نابینا صحابی بھی حاضر بارگاہ ہوئے ،اور اپنی بینائی کے لئے دعاکی درخواست کی ۔حضور ا نے اسے صبر کی تلقین کی ۔مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔تو حضورنے انہیں وضو،نماز اور اسی دعا کی تلقین فرمائی ۔ وہ نابینا صحابی دعا کرنے کے لئے گئے ،اور ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں دیر تک رہے۔ تو ہم نے دیکھا کہ وہ نابینا صحابی حضور کی بارگاہ میں اس حال میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھیں بالکل صحیح تھیں۔(وفاء الوفاء جلد چہارم ص۱۳۷۳ للعلامہ السمھودی)

غور فرمائیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیٔ رسول ہیں ان حضرات سے بڑھ کر احادیث رسول کو سمجھنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے دعائے حاجت والی حدیث سے یہی سمجھا کہ یہ دعا نبیٔ کریمکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔حضور سے استمدادو استعانت ،نداء اور پکار ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی خود صحابہ کا معمول ہے ۔پھر حضرت عثمان ابن حنیف کے کہنے پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے والے حاجت مند یا تو صحابی تھے یا کم از کم کبار تابعین میں سے تھے ۔ انہوں نے بلا چون و چرا اس عملِ توسل واستعانت پر عمل کیا جس سے واضح ہے کہ بعد رحلت بھی استمدادووسیلہ ونداء جائز ومستحسن ہیں ……… ربیعہ ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال أوغیر ذلک قلت ھو ذاک ،قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود (رواہ مسلم) (مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃص ۸۴)

’’میں سرکار دوعالمکے ساتھ وہاں رات میں رہتا ۔ ایک دفعہ رات میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ نے فرمایا کہ ربیعہ !مانگ کیا مانگتا ہے ؟۔عرض کی میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت ہو ،فرمایا کچھ اور مانگنا ہے ۔ عرض کی میری مراد تو بس یہی ہے ،فرمایا تو تم اپنے نفس پرمیری مدد زیادہ سجدہ کرکے کرو‘‘۔ مذکورہ حدیث پاک میں وارد دو،تین الفاظ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱)ایک تولفظ’’ سَلْ‘‘ ہے(۲)دوسرا’’اسئلک مرافقتک‘‘ یعنی جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال(۱)سَلْ امر کا صیغہ ہے جس میں حضورا نے ربیعہ بن کعب سے مانگنے کو کہا ،اس کا مفعول مذکور نہیں کیونکہ کوئی خاص مفعول یہاں مطلوب نہیں ،تو جس چیز کا بھی مطالبہ ہو وہ صحیح ہوگا۔کہ اس میں نا کسی چیز کی تقید ہے ،نا کسی امر کی تحصیص تو اس سے صاف واضح ہوا کہ حضورا ہر قسم کی حاجت وضرورت پوری فرما سکتے ہیں ،ہر طرح کی مدد کرسکتے ہیں۔(۲)جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال خود حضور سے ہی کیا گیا ، جنت میں رفاقت عظیم ترین نعمت ہے۔مگر اس نعمت کے سوال پر حضور نے منع نہ فرمایااور نہ یہ فرمایا کہ ربیعہ یہ شرک ہے ۔بلکہ مزید مانگنے کا مطالبہ فرمایا۔یہ غیر خدا سے مدد مانگنا ہوا ۔(۳)لفظ أعِنِّیْ کا معنی ہی ہے ’’میری مدد واعانت کر ‘‘اسی کو استعانت کہتے ہیں۔تو غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔ اگر یہ تصور توحید کے منافی ہوتا تو حضور ہر گز ارشاد نہ فرماتے۔شیخ محقق اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں’’سل‘‘فرماکر سوال کو مطلق رکھا ،کسی خاص چیز سے مقید نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ تمام معاملات حضور کے دست کرم میں ہیں،جوچاہیں ،جس کو چاہیںاپنے رب کے حکم سے عطا کردیں۔ (اشعۃ اللمعات للشیخ عبد الحق ،باب السجود وفضلہ)

شیخ محقق کی یہ تشریح استمداد کو تصور توحید کے منافی قرار دینے والوں کے لئے تا زیانۂ عبرت ہے ۔

قحط میں حضورکے وسیلے سے دعاکرنا

جب اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔تو خوب جم کر بارش ہوئی ۔مدینہ منورہ کے آس پاس کے لوگوں نے حاضر ہوکر عرض کی ہم ڈوب جائیں گے ۔پھر آپ نے دعا کی اور بارش صرف ارد گرد میں ہوئی ۔حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ولو ادرک ابو طالب ھذا الیوم لسرہ فقال لہ بعض اصحابہ یا رسول اللہ!اردت بقول ؎ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامیٰ عصمۃللارامل

’’ قال نعم‘‘یعنی اگر ابو طالب اس دن کو پاتے تو خوش ہوتے ایک صحابی نے عرض کیا ۔ حضور آپ کااشارہ ان کے اس شعر کی جانب ہے ۔ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے ۔ یتیموںاور ناداروں کے ماویٰ وملجاء ،فرمایا ہاں۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام ج ۱؍ص ۱۷۹ ۔صحیح البخاری باب الاستقاء اول ص ۱۳۷)

بعد رحلت حضور سے توسل واستعانت

وسیلہ بالانسان کے متعلق بخاری باب الاستقاء میں روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یہ تھا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے آپ اللہ سے بارش کا سوال کرتے ۔دعا کے الفاظ یہ ہوتے۔’’اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ (صحیح البخاری جلد اول ص ۱۳۷)

اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوتے تھے توتو ہمیں سیراب کرتا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لیکر آئے ہیں،ہم پر بارش برسا ۔راوی کہتے ہیں تو مینہ برستا‘‘۔

یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور بزرگان دین کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا اور ان کے سہارے مدد طلب کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل تمام صحابۂ کرام کے مجمع میں ہوا اور بلا نکیر سب نے اس پر عمل کیا تو توسل واستعانت کے مستحب ہونے پر صحابہ کا اجماع ہوگیا ۔توسل سے یہاں دعاکی درخواست مراد نہیں ،جیسا کہ ابن تیمیہ کے ریزہ خوار کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں صاف تصریح ہے کہ اے اللہ !ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ لاتے ہیں۔ہم پر بارش نازل فرما۔اس کو دعا کی درخواست پر محمول کرنا حدیث کی تحریفِ معنوی ہے۔ابن تیمیہ کے پیرو کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر بعد رحلت بھی حضور اکرم ا سے تو سل جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس سے کیوں وسیلہ لیتے۔دھوکا اور فریب وجہالت ہے کیونکہ کسی چیز کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو اپنانا دوسرے کی نفی کی دلیل نہیںبلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بر تر کے ہوتے ہوئے اس سے کم رتبے والے سے بھی وسیلہ لیا جاسکتا ہے ۔پھر یہ کہ حضرت عباس سے توسل میں ایک اہم افادہ مقصود تھا حضور اقدس ا سے توسل واستعانت کا مستحب مستحسن ہونا سب کو معلوم تھا ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ غیر نبی سے تو سل جائز نہیں تو حضرت عمر نے حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر واضح کردیا کہ غیر نبی سے توسل بھی مستحب ہے،بالخصوص رشتۂ نبی ا کا وسیلہ لینا ، حدیث کے الفاظ ’’کنا نتوسل‘‘سے ظاہر ہے کہ یہ تو سل واستعانت صرف عہد رسالت ا کے ساتھ خاص نہ تھا بعد میں بھی صحابہ کا یہ معمول رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وصال کے بعد استمداد ووسیلہ لینا جائز نہیں،وہ در اصل صحیح روایتوں کے منکر ہیں۔چنانچہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اور علامہ قسطلانی نے ’’المواھب اللدنیہ‘‘میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی۔ اس کے راوی حضرت عمر کے خازن مالک الدار ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اصاب الناس قحط فی زمان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ!استق اللہ لامتک فانھم قد ھلکو افاتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فقال ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انھم یسقون۔ (فتح الباری دوم ،ص ۱۳۷)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلاء ہوئے تو ایک شخص نبیٔ کریم ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوا ،اور کہا یا رسول اللہا !اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں ،لوگ ہلاک ہورہے ہیں ۔نبی کریم ا خواب میں ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر سے جاکر عرض کرو کہ عنقریب بارش آئے گی۔بعض لوگوں نے اس شخص کا نام بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر اور علامہ قسطلانی نے صحیح قرار دیا ہے۔بیہقی نے’’ دلائل النبویہ‘‘ میں یہ حدیث ذکر کیا ہے ۔تو اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ وقتا فوقتا صحابۂ کرام حضور ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر حضورا سے استعانت واستمداد کرتے تھے ۔

منکرین استمداد کے لئے یہ آیت کریمہ کافی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے :

’’ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروااللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔(سورۃ النساء آیت ۶۴)

اور جب وہ اپنی جانو ںپر ظلم (یعنی گناہ)کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور معافی مانگیںان کے لئے رسول تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

رسول پاک کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان سے معافی مانگنے اور توبہ واستغفار کرنے کا یہ حکم حضور کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص نہیں۔بلکہ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ حکم جو ں کا تو ںباقی ہے ۔ صحابۂ کرام اور ائمۂ اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے ۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی ابن احمد سمہودی اپنی کتاب’’وفاء الوفاء ‘‘ میںفرماتے ہیں :

’’علماء اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ حکم حضور اکی ظاہری حیات اور بعد وصال دونوں کو عام ہے اور آپ کی قبر انور پر حاضر ہونے والوں کے لئے اس آیت کریمہ کی تلاوت اور توبہ کرنے اور مغفرت چاہنے کو مستحب قرار دیا ہے‘‘ چنانچہ ذیل میں عہد صحابہ کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے علامہ سمہودی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے راسخین کی رائے اور مسلک اہلسنت وجماعت کی تائید ہوتی ہے ۔

(۱)محمد عتبی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی دیہاتی آیا اور وہ السلام علیک یا رسول اللہ کے بعد کہنے لگا ،اے رسولوں میں سب سے بہتر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے ،اور اس میں ارشاد فرمایا ہے جب لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور آپ بھی ان کے لئے سفارش کریں تو اللہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا ۔میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے آیا ہو ں یارسول اللہ! میں آپ کو اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں شفیع بناتاہوں،پھر روتے ہوئے اس نے یہ اشعار پڑھے۔

یا خیرمن دفنت بالقاع أعظمہ

فطاب من طیبھن لاقاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم

’’اے ان تمام لوگوں میں سب سے افضل جو زمین میں دفن کردیئے گئے تو ان کی خوشبو سے چٹیل میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ۔میری جان اس قبر پر فدا جس میں آپ آرام فرماہیںجو پاک دامنی اور جود وکرم کا خزانہ ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں کہ وہ اعرابی دوبارہ مغفرت طلب کرکے لوٹااتنے میں میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں نبیٔ کریم ا کی زیارت سے مشرف ہوا۔سرکار نے فرمایا:’’یا عتبی الحق الاعرابی فبشرہ بان اللہ تعالیٰ قد غفرلہ۔‘‘ ’’جائو اس اعرابی سے مل کر بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے میری سفارش سے اس کی مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(رواہ ابن عساکر فی تاریخہ ،الجواہر المنظم لابن حجر الھیتمی ص ۱۵۳)

(۲)دوسری روایت ابو سعید السمعانی کی ہے ۔وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے تین دن بعد ایک اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور انہوں نے خود کو قبر شریف پر گرا دیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگے اور کہتے جاتے تھے ۔ یارسول اللہ ! جو کچھ آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور ہم نے آپ کے بتائے ہوئے کو محفوظ کرلیا یا رسول اللہ! آپ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ’’ولو انھم اذ ظلمواالخ‘‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں آپ کی بار گاہ میں حاضر آیا ہوںکہ آپ اپنے رب سے میرے لئے استغفار کریں ۔تو قبر انور سے آواز آئی کہ تیری مغفرت ہوگئی‘‘۔( وفاء الوفاء ،ج ۴، ص ۱۳۶۱، الجواہر المنظم ص ۱۵۵)

ان دونوں روایتوں میں صاف وضاحت ہے کہ آپﷺ کی رحلت کے بعد قبر انور پر حاضر ہوکر استغفار واستمداد واستعانت واستشفاء جائزومستحب ہے اور یہ صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔عہد صحابہ کے بعد کے ائمہ ،علماء واولیاء نے بھی استمداد واستعانت وتوسل کو جائز ومستحسن سمجھا ۔ اس تعلق سے مستند کتابوں میں اتنا کچھ ہے کہ اس کے لئے دفتر در کار ہے ۔ یہاں سید الاولیاء حضرت غوث الثقلین کا ایک ارشاد نقل کیا جارہا ہے ۔ حضور سیدنا غوث اعظم کا یہ ارشاد’’ بہجۃ الاسرار شریف ‘‘میں مذکور ہے ۔’’جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہواور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور دورکعت نماز پڑھے ،ہر رکعت میںبعد فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی اپر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے‘‘۔اس طرح بہت سے اقوال حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں ۔ان کے علاوہ بہت سے بزرگان دین سے اس طرح کے اقوال مروی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء وصلحاء سے استمداد جائز ودرست ہے۔

حضرت شیخ حسن عدوی حمزاوی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں شیخ الاسلام شہاب الدین رملی کا یہ عقیدہ بیان فرمایا۔’’شیخ الاسلام رملی سے پوچھا گیا کہ عوام مصیبت وپریشانی کے وقت یا شیخ فلاں اور اس قسم کے الفاظ کہتے ہیں تو کیا مشائخ کرام وصال کے بعد امداد فرماتے ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا کہ انبیاء،اولیاء، صالحین اور علماء سے استغاثہ(فریاد خواہی)جائز ہے۔کیونکہ یہ حضرات وصال کے بعد ایسی ہی امداد فرماتے ہیں ۔جیسی وہ اپنی حیات ظاہری میں امداد فرمایا کرتے تھے کیونکہ انبیاء کے معجزے ، اولیاکی کی کرامتیں ہیں۔ مشارق الانوار ،للشیخ الحسن العدوی الحمزاوی

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی کی رد المختار کے حاشیہ میں ہے’’زیادی نے یہ بات بہ تحقیق بیان کی ہے، جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز واپس فرمادے تو اسے چاہییٔ کہ کسی بلند جگہ قبلہ رو کھڑا ہو جائے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبیٔ کریم ا کو پہونچائے پھر سیدی احمد بن علوان کو ایصال ثواب کرے۔’’یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی والانزعتک من دیوان الاولیاء‘‘یعنی اس طرح کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان !اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کا نام دفتر اولیاء سے کاٹ دوں گاتو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے کہنے والے کو واپس فرمادے گا۔‘‘رد المختار کتاب اللقطہ ج ۶؍ص ۴۴۷

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح العزیز‘‘میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غیراللہ سے استمدادو استعانت اگر بایں طور ہے کہ اس غیراللہ پر کلی اعتماد کرتا ہے اور اسے عون الٰہی کا مظہر نہیں جانتا تو وہ حرام ہے اور اگر التفات تو حق تعالیٰ کی طرف ہے اور غیر اللہ سے استمداد بایں طور ہے کہ اسے مدد الٰہی کا مظہر جانتا ہے جس کو استعانت ظاہری کہتے ہیں یہ شرعا جائز ودرست ہے۔انبیاء ،اولیاء سے اس قسم کی استعانت کی جاتی ہے‘‘۔ فتح العزیز تفسیر سورۂ فاتحہ

الغرض ذوات واشخاص سے استعانت واستمداد بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔کوئی بھی مسلمان انبیاء ،اولیاء ،صلحاء سے استمدادا نہیں مستقل بالذات سمجھ کر نہیں کرتا ہے۔نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور وصول فیض کا واسطہ جانتا ہے اور یہ معنیٰ تو غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے ۔اس استمدادواستعانت کو تصور توحید کے منافی قرار دینا اور مشرک گرداننا توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل وناواقف رہنے کی بین دلیل ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے ریزہ خوار محمد ابن عبد الوھاب واسماعیل دہلوی نے اسے شرک قرار دیا ہے ۔ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ پورے عالم کا مسئلہ استمدادپر اجماع واتفاق رہا کہ عہد رسالت سے تقریبا سات سو سال تک کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا کہ انبیاء واولیاء سے استمداد توحید کے منافی عمل ہے۔رہا ابن تیمیہ کا اسے حرام وشرک بتانا تو یہ جمہور اسلام کی مخالفت ہے جسے اس کے دور کے علماء نے اسے مسترد کردیا ہے ۔در اصل ابن تیمیہ اور اس کے متبعین شرک وتوحید کا معنیٰ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ لوگ اس بنیادی نکتہ پر غور نہ کر سکے کہ عہد رسالت کے مشرکین کا اصل شرک کیا تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے خود ساختہ تصور توحید کو اسلامی تصور توحید قراردے دیاحالانکہ اسلامیات کے ماہرین نے اس بات کی خوب صراحت کردی ہے ، کہ عہد رسالت کے مشرکین کا شرک ان کا چند معبود جاننے کا نظریہ تھا اور اللہ سبحانہ کے لئے اولاد ماننے کا عقیدہ تھا اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو نظام کائنات کی تدبیر میں خدا کا شریک سمجھناتھا ۔شرک توحید کی ضد ہے۔علامہ عینی نے توحید کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے۔ ’’توحید اصل میں وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے اور وَحّدْتُ اللہ َ کے معنیٰ ہیں میں نے اللہ کو اس کی ذات وصفات میں منفرداعتقاد کیا ۔ جس کی نہ تو کوئی نظیر ہے ،نہ ہی اس کی کوئی شبیہ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ توحید نام ہے اللہ کی ذات کے لئے یہ ثابت کرنا کہ وہ دوسری ذات کے مشابہ نہیں ہے اور نہ صفات سے عاری ہے‘‘۔ حاشیہ بخاری جلد دوم ،ص ۱۰۹۶

اسی کے ساتھ ساتھ شرک کا مفہوم بھی ذھن میں بسالیں علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں ۔شرک کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔الوہیت بمعنٰی وجوب وجود میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ مجوسیوں کا شرک ہے ۔یا الوہیت بمعنیٰ استحقاق عبادت میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ اصنام پرستوں کا شرک ہے۔ شرح العقائد للنسفی ۶۱ ، مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ

شرک کی اس تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوت امداد مان کر انبیاء اولیا ء سے مدد طلب کرنا ہرگز ہرگز شرک کے خانے میں نہیں آتا …نہ ہوگا کہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا ۔والعیاذ باللہ ! تو حق وہی ہے جس پر عہد رسالت سے لیکر آج تک مسلمانان عالم کا اجماع ہے ۔بلکہ پچھلی اُمتوں کا بھی کہ قضائے حاجات کے لئے صالحین سے استمدادتصوّرِ توحید کے منافی نہیں ۔

وسیلے کی بحث میں ایک علمی خیانت

وسیلے کی بحث میں ایک علمی خیانت

 مولانا فیضان المصطفی قادری

حضور اقدسﷺ کی تشریف آوری سے قبل آسمانی کتابوں میں آپ کی آمد کی بشارت دی گئی تھی بلکہ آپ کی صفات بھی بیان کی گئی تھیں۔ جس کا علم پہلی قوموں خصوصا یہود کو تھا‘ بلکہ انہیں آپ کے مقام ہجرت کا بھی علم تھا۔ چنانچہ وہ مختلف علاقوں سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ اور سا کے قرب وجوار میں آبسے تھے۔ یہاں کے لوگوں کو انہوں نے ہی آنے والے نبی کے بارے میں بتایا تھا۔ بلکہ وہ ان کی صفات اور خوبیوں کا بھی تذکرہ کرتے رہتے تھے۔ آنے والے نبی کا اس شدت سے انتظار کرتے تھے کہ جب بھی کسی قبیلے سے کوئی ان بن ہوتی تو کہتے کہ وہ نبی آئے گا تو ہم اس کے ساتھ تم سے اچھی طرح نمٹ لیں گے۔ اوس و خزرج یا عرب کے دیگر مشرک قبائل سے ان کی جنگیں ہوتیں تو وہ اسی نبی کے وسیلے سے فتح کی دعا کیا کرتے تھے۔ بلکہ جنگ شدت اختیار کرتی تو توریت کے اس مقام پر جہاں پیغمبر آخر الزماں کا تذکرہ اور ان کے آنے کی خوشخبری تھی‘ ہاتھ رکھتے اور ان کا واسطہ دے کر بارگاہ الٰہی میں فتح ونصرت کی دعا کرتے تو انہیں فتح و کامرانی نصیب ہوتی لیکن جب وہ نبی آخر الزماں مبعوث ہوئے تو جانتے پہچانتے ہوئے بھی اس بناء پر منکر ہوگئے کہ وہ ان کی قوم کی بجائے عرب قوم میں مبعوث ہوئے۔

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۸۹ میں اسی واقعہ کا ذکر ہے اور اجمال یا تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ تقریبا تمام کتب تفیسر میں مذکور ہے۔ تمام علمائے اہلسنت نے اس آیت کریمہ کے ترجمہ اور تفسیر میں اسی مفہوم کو بیان کیا۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اس آیت کا ترجمہ فرماتے ہیں

ترجمہ: اور جب ان کے پاس اﷲ کی وہ کتاب (قرآن) آئی جو ان کے ساتھ والی کتاب (توریت) کے تصدیق فرماتی ہے اور اس سے پہلے وہ اس نبی کے وسیلہ سے کافروں پر فتح مانگتے تھے تو جب تشریف لایا ان کے پاس وہ جانا پہچانا‘ ان سے منکر ہو بیٹھے تو اﷲ کی لعنت منکروں پر (کنز الایمان)

یہی ترجمہ مفتی احمد یار خاں نے تفسیر نعیمی میں اختیار کیا ہے اور اسی مفہوم کا ترجمہ و تفسیر حضرت پیر کرم شاہ ازہری نے تفسیر ضیاء القرآن میں فرمائی ہے۔

لیکن آئندہ سطور سے قارئین کو حیرت ہوگی کہ صحابہ و تابعین اور ہر دور کے مفسرین کے مابین اس آیت کے جس مفہوم و معنی کا غلغلہ رہا ہے وہ دیوبند پہنچنے کے بعد نہ جانے کہاں کھوگیا۔ چنانچہ مولوی اشرف علی صاحب تھانوی نے یوں ترجمہ کیا ہے:

’’اور جب ان کو ایک ایسی کتاب پہنچی (یعنی قرآن) جو منجانب اﷲ ہے (اور) اس کی (بھی) تصدیق کرنے والی ہے جو (پہلے سے) ان کے پاس ہے (یعنی توریت) حالانکہ اس کے قبل وہ (خود) بیان کیا کرتے تھے کفار سے پھر جب وہ چیز آپہنچی جس کو وہ (خوب جانتے) پہچانتے ہیں تو اس کا (صاف) انکار کر بیٹھے سو(بس) خدا کی مارہو ایسے منکرو پر‘‘

مفتی شفیع صاحب نے معارف القرآن میں اور مودودی صاحب نے تفہیم القرآن میں فتح و نصرت مانگنے کا تو ترجمہ کیا لیکن ترجمہ و تفسیر میں اس کا کچھ ذکر نہیں کہ اس دعا میں وہ نبیﷺ کا کس طرح تذکرہ کرتے تھے‘ بلکہ مفتی شفیع صاحب نے خلاصہ تفسیر کے ذیل میں یستفتحون کا معنی ’’خود بیان کرنا‘‘ ہی اختیار کیا اور ان کے بقول یہی ترجمہ مفتی محمود الحسن دیوبندی کا ہے کہ انہوں نے معارف القرآن کے مقدمہ میں ذکر کیا کہ خلاصہ تفسیر کے طور پر مفتی محمود الحسن صاحب کے ترجمہ کو ہی تذیبیل کے ساتھ نقل کردیا ہے۔

مودودی صاحب نے یوں ترجمہ کیا ہے:

’’اور اب جو ایک کتاب اﷲ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے‘ ان کے ساتھ ان کا کیا برتائو ہے؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی‘ باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلہ میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا‘ خدا کی لعنت ان منکرین پر‘‘

مودودی صاحب کے ترجمہ یا تفسیر میں کہیں اس کا نام و نشان نہیں کہ وہ لوگ پیغمبر آخرالزماں کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے۔ حالانکہ اس فتح ونصرت کی دعا میں پیغمبر آخرالزماں کا کوئی ذکر ملحوظ نہ ہو تو اس آیت میں فتح و نصرت کی دعا کا ذکر بے فائدہ سا لگتا ہے۔ واقعہ کا سارا پس منظر ذہن میں رکھتے ہوئے ذرا پوری آیت ملاحظہ کریں تو اندازہ ہوگا کہ نبی آخر الزماں کے وسیلے کو ’’المحذوف کالمذکور‘‘ کے مرحلے میں ملحوظ نہ رکھا جائے تو آخر اس جملے ’’وکانو من قبل یستفتحون علی الذین کفروا‘‘ کا کیا مفاد ہوسکتا ہے؟

ہاں! اس مفہوم میں یہ ملحوظ ہوکہ اس نبی کے وسیلے سے فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے تو سارا مفہوم بالکل واضح اور صاف ہوجاتا ہے اور وہ یہ کہ یہود حضورﷺ کی آمد سے پہلے انہیں کے وسیلے سے کافروں پر فتح و نصرت کی دعا کرتے تھے اور اب جب وہ آگئے تو پہچان کر بھی منکر ہوگئے شاید ’’یستفتحون‘‘ کا ترجمہ (بے ذکر نبی کے) فتح و نصرت کی دعا کرنے میں اسی انتشار معنی کا مسئلہ ہوگا جس کی بناء پر مولوی اشرف علی تھانوی صاحب نے یہاں دعا کا معن یہی ختم کردیا بلکہ ایسا ترجمہ اختیار کیا جس سے ان مسائل کی جڑ ہی کٹ جائے۔ چنانچہ وہ’’یستفتحون‘‘ کا ترجمہ کرتے ہیں۔ عربی قواعدولغت کے اعتبار سے یہ معنی کس قدر درست ہے اور کتب تفسیر میں اس کی کیا سند موجود ہے۔ یہ ایک بڑا سوال ہے قطع نظر اس سوال کے مقام حیرت یہ ہے کہ اس علمی دنیا میں رہتے ہوئے آخر اس معنی و مفہوم سے کیوں نظریں ہٹالی گئیں جسے کسی مفسر نے نظر انداز نہ کیا۔

اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی قدس سرہ کے ترجمہ پر یہ تشویش تھی کہ ’’اسی نبی کے وسیلے سے‘‘   کا حصہ زائدہے جوآیت مذکورہ کے کسی حصہ کا ترجمہ نہیں ہے۔ نہ اس کے مفہوم کاکوئی کلمہ ہی اس آیت میں مذکور ہے۔ پھر ترجمے میں اس حصے کے اضافے کی ضرورت کیا پڑی؟ لیکن تفسیروں کے مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ اس آیت کا یہی مفہوم سلفا عن خلف منقول ہے اور راقم کے مطالعہ میں نہیں کہ کسی مفسر نے اس مفہوم کو نظر انداز کیا ہو۔ چنانچہ اس کی وضاحت کے لئے چند مشہور تفسیروں کی عبارتوں کا حوالہ نذر قارئین ہے۔

(۱) جلالین شریف میں ہے۔ قبل مجیئہ‘ یستنصرون‘ یقولون اللھم انصرنا علیھم بالنبی المبعوث آخر الزمان

(۲) تفسیر ابن کثیر میں ہے: ترجمہ:یعنی اس رسول کے اس کتاب لانے سے پہلے مشرکین دشمنوں سے جب ان کی مڈ بھیڑ ہوتی تو ان کی تشریف آوری سے مدد مانگتے‘ کہتے عنقریب ایک نبی مبعوث کیا جائیگا جس کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کرڈالیں گے۔

اسی میں حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما کے حوالے سے ہے۔

یعنی بعثت سے قبل یہود اوس و خزرج پر رسول اﷲ ﷺکے وسیلے سے فتح مانگتے تھے۔ جب اﷲ نے انہیں عرب سے مبعوث فرمایا تو منکر ہوگئے اور ان کے بارے میں اپنے بیانات سے بھی مکرگئے۔ تو حضرت معاذ بن جبل‘ بشربن براء اور دائود بن سلمہ رضی اﷲ عنہم نے ان سے کہا ’’اے یہودیو! اﷲ سے ڈرو اور مسلمان ہوجائو کہ جب بھی شرک کے ماحول میں تھے تو تم محمدﷺ کے وسیلے سے ہم پر فتح کی دعا کرتے تھے اور تم ہمیں ان کے آنے کی خبر دیتے اور ان کے اوصاف بتاتے تھے تو بنو نضیر کے سلام بن مشکم نے کہا کوئی ایسی چیز نہ لائے جسے ہم جانتے ہوں اور جس کا ہم تم سے ذکر کررہے تھے وہ نہیں ہیں۔ نیز حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے ہی مروی ہے کہ مشرکین عرب پر حضورﷺ کی تشریف آوری سے مدد مانگتے تھے۔ ابوالعالیہ فرماتے ہیں کہ یہود مشرکین عرب پر محمدﷺ کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے۔ کہتے تھے اے اﷲ! اس نبی کو بھیج دے جس کا ذکر ہم اپنے پاس لکھا پاتے ہیں تاکہ ہم مشرکین کو قتل کردیں تو جب اﷲ تعالیٰ نے محمدﷺ کو بھیجا اور انہوں نے دیکھا کہ یہ تو دوسری قوم سے ہیں تو عرب سے حسد کی بناء پر منکر ہوگئے حالانکہ وہ خوب جانتے تھے کہ آپ اﷲ کے رسول ہیں۔

(۳) تفسیر کبیر میں ہے: ترجمہ: یعنی اس آیت کی شان نزول میں چند وجوہ ہیں۔ اول یہ کہ یہود حضور اقدسﷺ کی بعثت اور نزول قرآن سے قبل فتح و نصرت کی دعا کرتے اور کہتے تھے اے اﷲ! نبی امی کے وسیلے سے ہمیں فتح و نصرت عطا فرمائے۔

(۴) روح المعانی میں ہے:یعنی بنو قریظہ اور بنو نضیر کے حق میں نازل ہوئی‘ یہ بعثت سے قبل حضور اقدسﷺ کے وسیلے سے اوس و خزروج پر فتح مانگتے تھے۔ یہ حضرت ابن عباس اور حضرت قتادۃ رضی اﷲ عنہما کا قول ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ سے ان کے وسیلے سے مشرکین پر مدد مانگتے۔ جیسا کہ سدی سے مروی ہے کہ جب ان کے اور مشرکین کے مابین جنگ شباب پر ہوتی تو توریت نکالتے اور جہاں حضورﷺ کا ذکر جمیل ہے اس مقام پر اپنا ہاتھ رکھتے اور کہتے اے اﷲ! ہم تجھ سے اس نبی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جس کو بھیجنے کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے کہ آج دشمنوں پر ہماری مدد فرما‘ تو ان کو مدد ملتی تھی۔

(۵) قرطبی میں ہے: علامہ قرطبی نے حدیث کے حوالے سے استفتاح کا معنی ’’مدد طلب کرنا‘‘ ثابت کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ

وفی الحدیث: کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یستفتح بصعالیک المھاجرین‘‘

یعنی حدیث شریف میں یستفتح کا صیغہ مدد طلب کرنے کے معنی میں وارد ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے کہ حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم فقیر مہاجرین کے وسیلے سے مدد طلب کرتے تھے۔ اسی میں آگے ہے:

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ خیبر کے یہود کی غطفان سے جنگ ہوتی تھی تو جب مقابلہ ہوتا تو یہود ہزیمت کھاتے تو یہی دعا کرتے اور کہتے ’’اے اﷲ ہم تجھ سے اس نبی امی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جن کو آخری زمانے میں ہمارے لئے مبعوث فرمانے کا تونے وعدہ فرمایا ہے کہ ان دشمنوں پر ہماری مدد فرما‘ تو مقابلے کے وقت جب یہ دعا کرتے تو غطفان کو شکست دے دیتے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے اس نبی کو مبعوث فرمادیا تو انہوں نے ان کا انکار کردیا تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی‘ اور کافروں پر فتح کی دعا مانگتے تھے۔ یعنی آپ کے وسیلے سے اے محمدﷺ!

(۶) روح البیان میں ہے:ترجمہ: محمد مصطفیٰﷺ کی آمد سے پہلے مشرکین عرب اور کفار مکہ پر مدد طلب کرتے تھے اور کہتے ’’اے اﷲ! اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری زمانے میں مبعوث ہوگا جس کا ذکر خیر ہم توریت میں پاتے ہیں اور اپنے دشمنوں سے کہتے کہ اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہمارے قول کی تصدیق لائے گا تو ان کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کرڈالیں گے۔

(۷) مدارک التنزیل میں ہے: ترجمہ: جب مشرکین سے مقابلہ ہوتا تو ان پر مدد مانگتے‘ کہتے اے اﷲ! اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری دور میں مبعوث ہوگا جن کی صفت ہم توریت میں پاتے ہیں اور اپنے مشرکین دشمنوں سے کہتے: اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہماری تصدیق لائے گا تو اس کے ساتھ ہم تمہیں عاد وارم کی مانند قتل کردیں گے۔

(۸) تفسیر السعدی میں ہے: ترجمہ: یہ لوگ دور جاہلیت میں جب ان کے اور مشرکین کے مابین جنگیں ہوتیں تو اسی نبی کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے۔

(۹) کشاف میں ہے: ترجمہ: مشرکین پر مدد مانگتے‘ جب ان سے جنگ ہوتی تو کہتے‘ اے اﷲ اس نبی کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو آخری دور میں آنے والا ہے جس کی صفات ہم توریت میں پاتے ہیں۔

(۱۰) فتح القدیر للشوکانی میں ہے : یعنی پہلے وہ لوگ اﷲ تعالیٰ سے اپنے دشمنوں پر اسی نبی کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے جو آخری زمانے میں آنے والا ہے جس کی صفات اپنے پاس توریت میں پاتے تھے۔

(۱۱) تفسیر طبری میں ہے‘ترجمہ: ان یہود کے پاس جب اﷲ کی طرف سے کتاب آئی جو ان کے ساتھ کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھی‘ جنہیں اﷲ تعالیٰ نے قرآن سے قبل نازل فرمایا تھا تو ان لوگوں سے انکار کردیا۔ یہ لوگ محمدﷺ کے وسیلے سے مدد مانگتے تھے اور استفتاح کا معنی مدد طلب کرنا ہےیعنی ان کے بعثت سے پہلے انہیں کے وسیلے سے مشرکین عرب پر اﷲ سے مدد مانگتے۔

اسی تفسیر میں حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ کی روایت سے ہے کہ یہ آیت انصار اور یہود کے بارے میں نازل ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ہم انصار دور جاہلیت میں ان پر غالب رہے‘ ہم اہل شرک تھے اور وہ اہل کتاب تھے۔ تو وہ کہتے کہ ایک نبی کی بعثت کا وقت آگیا ہے جو تمہیں عاد وارم کی طرح قتل کریں گے۔ جب اﷲ تعالیٰ نے اپنے رسول کو قریش میں سے بھیجا تو ہم نے تو ان کی اتباع کی اور ان لوگوں نے انکار کردیا اور حضرت ابن عباس کی روایت سے ہے کہ یہود اوس وخزرج پر رسول اﷲﷺ کی بعثت سے پہلے انہیں کے وسیلے سے فتح کی دعا مانگتے تھے (کانو یستفتحون علی الاوس والخزرج برسول اﷲﷺ)  تو جب اﷲ تعالیٰ نے انہیں عرب سے مبعوث فرمایا تو انہوں نے انکار کردیا۔ تو حضرت معاذ بن جبل اور بشر بن براء رضی اﷲ عنہما نے ان سے کہا: اے یہودیو! اﷲ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو‘ تم تو ہم پر محمدﷺ کے وسیلے سے فتح کی دعا مانگتے تھے (فقد کنتم تسفتحون علینا بمحمد صلی اﷲ علیہ وسلم)حالانکہ ہم مشرک تھے اور تم ہمیں بتاتے تھے کہ وہ مبعوث ہونے والے ہیں اور ان کی صفات بھی بتاتے تھے تو سلام بن مشکم نے کہا ’’ہماریپاس ایسی چیز نہ لائے جو ہم جانتے ہوں اور یہ وہ نہیں جن کا ہم تم سے ذکر کرتے تھے۔ تو اﷲ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یوہیں علامہ طبری نے اپنی تفسیر میں دس مختلف صحابہ کرام سے دس حدیثیں نقل کی ہیں جو اسی مفہوم پر صریح ہیں کہ یہود شرکوں پر حضورﷺ کے وسیلے اور ان کی تشریف آوری سے فتح کی دعا مانگتے تھے‘ وغیرہ (ملاحظہ کریں تفسیر طبری آیت مذکورہ)

(۱۲) تفسیر المیسر میں ہے:ترجمہ: اور بعثت سے قبل یہ لوگ مشرکین عرب پر انہیں کے وسیلے سے مدد طلب کرتے تھے اور کہتے: نبی آخر الزماں کی تشریف آوری قریب ہے‘ ہم ان کی پیروی میں تم سے جنگ کریں گے‘ لیکن جب وہ رسول ان کے پاس آگئے جن کی سچائی اور صفات کو پہچان گئے تو ان کا انکار کر بیٹھے۔

(۱۳) تفسیر بغوی میں ہے:ترجمہ:یہود محمدﷺ کی بعثت سے قبل مشرکین عرب پر مدد مانگتے تھے‘ وہ یوں کہ جب انہیں کوئی مصیبت پیش آتی یا کبھی دشمن دھمکی دیتا تو کہتے: اے اﷲ! نبی آخر الزماں کے وسیلے سے ہماری مدد فرماجن کی صفات ہم توریت میں پاتے ہیں تو انہیں مدد ملتی۔ مشرکین سے یہ بھی کہتے کہ اس نبی کا زمانہ قریب آگیا ہے جو ہمارے قول کی تصدیق لائے گا ان کے ساتھ مل کر ہم تمہیں عاد وثمودوارم کی مانند قتل کردیں گے تو جب ان کا جانا پہچانا یعنی حضورﷺ غیر نبی اسرائیل میں تشریف لائے اور وہ ان کی خوبیاں اور صفات پہچان بھی گئے تو حسد کے باعث ان کے منکر ہوگئے‘ کافروں پر اﷲ کی لعنت ہو۔

(۱۴) تفسیر بیضاوی میں ہے

ای یستنصرون علی المشرکین و یقولون اللھم انصرنا بنبی آخر الزماں المنعوت فی التوارۃ

یعنی مشرکین پر مدد طلب کرتے اور کہتے: اے اﷲ! نبی آخرالزماں کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جن کا ذکر توریت میں ہے

(۱۵) حاشیہ شیخ زادہ علی البیھاوی میں ہے:ترجمہ: رسول اﷲ علیہ السلام کی بعثت سے قبل جب کسی دشمن کا انہیں سامنا ہوتا یا کوئی بڑی مصیبت درپیش ہوتی تو اپنے دشمن پر اﷲ تعالیٰ سے مدد مانگتے اور اپنی مصیبت کے دور ہونے کی دعا کرتے۔ اس دعا میں بارگاہ الٰہی میں حضورﷺ کے مقام و مرتبہ کا وسیلہ لاتے اور کہتے۔ اے اﷲ! ہم تجھ سے اس نبی امی کے حق کے وسیلے سے سوال کرتے ہیں جن کو آخری زمانے میں مبعوث فرمانے کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے‘ کہ تو ہماری مدد فرما۔ تو جب یہ دعا کرتے تو اپنے دشمن پر غالب آجاتے۔

(۱۶) تنویر المقباس فی تفسیر ابن عباس :ترجمہ: محمدﷺ اور قرآن کے وسیلے سے اپنے دشمن اسد‘ غطفان‘ مزینہ اور جہینہ پر مدد طلب کرتے تھے۔

(۱۷) تفسیر سمرقندی میں ہے:فقیہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی المتوفی ۳۷۵ھ فرماتے ہیں

ترجمہ: یعنی حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل مشرکین پر مدد طلب کرتے تھے کیونکہ بنو قریظہ ونضیر نے اپنی کتابوں میں آپ کا ذکر پایا تو شام سے مدینہ آئے اور اس کے قریب نزول کیا اور آپ کی آمد کا انتظار کرتے رہے‘ جب کبھی اپنے قرب و جوار کے مشرکین عرب سے مقابلہ ہوتا تو ان پر مدد طلب کرتے اور کہتے ’’اے ہمارے پروردگار! اپنے نبی کے نام اور اپنی اس کتاب کے وسیلے سے ہماری مدد فرما جو ان پر نازل ہوگی جس کا تونے ہم سے وعدہ فرمایا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ نبی انہیں میں ہوں گے تو دشمنوں پر ان کو مدد ملتی۔‘‘ الخ

یہاں چند امور قابل ذکر ہیں

(۱) یہود نبی کے وسیلے سے دعا مانگتے تھے تو اس کا مطلب آیا یہ ہے کہ وہ یہ دعا کرتے تھے ’’اے اﷲ ہمیں اس نبی کے ذریعہ فتح عطا فرما! یعنی انہیں بھیج کر ہماری مدد فرما‘ یا یہ مقصود ہے کہ اس نبی کے نام اور ذکر کے وسیلے اور برکت سے فتح عطا فرما۔ مذکرہ تفاسیر سے دونوں مفہوم واضح ہیں مثلا ابن کثیر‘ روح البیان‘ مدارک‘ بغوی وغیرہ سے یہ واضح ہے کہ وہ یہ دعا کرتے کہ اس نبی کو بھیج کر ہماری مدد فرما اور جلالین‘ ابن کثیر‘ رازی‘ روح المعانی وغیرہ تفاسیر سے واضح ہے کہ اس نبی کے وسیلے اور اس کے نام اور مقدس ذکر کی برکت سے فتح کی دعا کرتے۔ اس دوسرے مفہوم کے راجح ہونے پر چند قرائن یہ ہیں۔

(الف) وہ حالت جنگ میں دعا کرتے تھے۔ ظاہر ہے اس وقت یہ دعا اس طور پر نہیں ہوسکتی کہ انہیں بھیج کر مدد فرما کہ ان کو فورا مدد چاہئے ہوتی تھی۔ اور ایسی کوئی مثال نہیں کہ کسی نبی کو اچانک مدد کے طور پر ظاہر فرمادیا گیا ہو۔ ان حالات میں ان کی دعا کا یہی مفہوم ہوسکتا ہے کہ وہ اس آنے والے نبی کی ذات اور نام کے وسیلے سے دعا مانگا کرتے تھے۔

(ب) تفسیر روح المعانی‘ تفسیر بغوی اور حاشیہ شیخ زادہ کے حوالے سے گزرا کہ ان کی دعا قبول ہوتی تھی اور انہیں فتح یابی ہوتی تھی۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ جبکہ نام و ذکر کا ہی وسیلہ ہو‘ کیونکہ اگر وہ یہ دعا کرتے کہ اس نبی کو بھیج کر ہماری مدد فرما تو دوران جنگ تو نبی کو مبعوث نہ فرمایا گیا‘ پھر نبی کو بھیجے بغیر ان کو فتح مل جانا یہ دعا کی قبولیت نہ قرار پائے گی۔ بلکہ یہ تو معاندین کے لئے سامان استہزا بھی ہوسکتا ہے کہ ان لوگوں نے نبی کو بھیج کر مدد مانگی تھی اور اس نبی کے بھیجے بغیر ہی انہیں فتح مل گئی تو ان کی اس فتح میں نہ نبی کی ضرورت تھی اور نہ اس دعا کی۔

اشکال: یہاں پر ایک اشکال یہ ہے کہ اس نبی کے وسیلے سے دعا مانگنے کا ذکر تو قرآن میں نہیں ہے لیکن اس ذکر کے محذوف ہونے پر اگر ’’ماعرفوا کفروابہ‘‘ کو قرینہ قرار دیا جائے تو اس سے حضورﷺ کی ذات کیوں کر مراد ہوسکے گی جبکہ کلمہ ’’ما‘‘ غیر ذوی العقول کے لئے ہے اور حضورﷺ کی ذات مقصود ہوتی تو ’’ما‘‘ کے بجائے ’’من‘‘ ہوتا۔

اس کا جواب علامہ آلوسی نے روح المعانی میں یہ دیا ہے کہ ’’ما‘‘ سے مراد حق ہے اور حق کا اطلاق ذات مصطفیٰﷺ پر ہوسکتا ہے۔

نیز اس ’’ما‘‘ سے قرآن مراد لینا دشوار ہے کیونکہ یہاں یہ فرمایا جارہا ہے ’’جسے وہ پہچانتے تھے‘‘ ظاہر ہے کہ تورات میں آنے والے نبی کا ذکر اوران کے اوصاف بیان کئے گئے تھے نہ کہ آنے والی کتاب کا ذکر اوصاف کا بیان تھا‘ تو تورات کے ذکر و بیان سے تو وہ آنے والے نبی کو پہچانتے تھے‘ نہ یہ کہ ان کو قرآن کی کچھ صفات و خوبیاں بتائی گئی تھیں‘ جنہیں سنتے ہی انہوں نے پہچان لیا ہو اور انکار کیا ہو۔ اسی لئے کئی مفسرین جنہوں نے ’’ماعرفوا‘‘ سے قرآن مراد لیا‘ انہوں نے قرآن کی معروفت کو نبی کی معرفت پر محمول کیا ہے۔ علامہ نسفی نےمدارک التنزیل میں لکھا کہ ’’ماعرفوا‘‘ سے کتاب مراد ہے اور قرآن کی معرفت دراصل حضور اقدسﷺ کی معرفت ہے۔ لان معرفتہ من انزل ھوعلیہ معرفتہ لہ (نفسی) کنی بہ عن الکتاب لان معرفتہ من انزل علیہ معرفتہ لہ (روح المعانی)

بہرحال یہ بات طے ہے کہ وہ نبی کے وسیلے سے دعا کرتے تھے اور ان کی دعا قبول ہوتی تھی۔

مفتی احمد یار خاں نعیمی رحمتہ اﷲ علیہ نے اس مقام پر فرمایا کہ ’’یستفتحون‘‘ کا معنی خود بیان کرنا‘ کسی مفسر نے ذکر نہ کیا۔ (تفسیر نعیمی اول)

اس سے ان کی مراد ترجیحی طور پر ذکر کرنا ہے۔ کیونکہ بیضاوی‘ رازی اور روح المعانی کی عبارتوں سے یہ معنی مستفاد ہوسکتا ہے لیکن ان مفسرین نے اس کو ثانوی طور پر ذکر کیا اور اس کے بیان سے پہلے ’’قیل‘‘ کہہ کر اس کی تضعیف کردی ہے۔ سوال یہ نہیں‘ سوال یہ ہے کہ جس معنی کو تمام مفسرین نے اولیت دی بلکہ کئی مفسرین نے صرف وہی واحد معنی ذکر کیا‘ بلکہ طبری اور ابن کثیر نے تو اس کی سند میں احادیث ذکر کیں اور کسی مفسر نے اس مفہوم کو دبانے کی کوشش نہ کی‘ اب اس کو کیوں دبایا جارہاہے اور اسے ذکر کرنے میں آخر کیا اندیشہ ہے…!!!