غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

غیر مقلدیت کا انجام غیر مقلدوں کے متضاد فتوے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بے نماز کاحکم : بے نماز کے بارے میں احادیث میں سخت وعید آئی ہے ۔ حتٰی کہ یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ جان بوجھ کر جو نماز چھوڑے وہ کافر ہو گیا ۔ اکثر علماء تو اس حکم کو تہدید اور تشدید پر محمول کرتے ہیں ۔ جبکہ غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو قسم کے نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ بے نماز کافر تو ہو جاتا ہے ۔ مگر ملت اسلام سے خارج نہیں ہوتا اس لئے اس کا جنازہ پڑھنا چاہیے ۔ چناچہ غیر مقلد شیخ الکل فی الکل مولانا نزیر حسین صاحب دہلوی ۔لکھتے ہیں ۔

جن احادیث سے تارک الصلوۃ کا کفر ثابت ہوتا ہے ۔ ان احادیث سے وہ بلا شبہ کافر ہیں اور ان کو کافر کہنا روا ہے ۔ مگر ہاں تارک الصلٰوۃ کا کفر ایسا کفر نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے وہ ملت اسلام سے خارج ہو جائے اور مغفرت و شفاعت و دخول جنت کا مستحق نہ رہے ۔ { فتاوٰی نزیریہ ج1 ص463 }

اور مبارکپوری صاحب نے بھی یہ مسئلہ بیان کرتے ہوئے اسی عبارت کو پیش کیا ہے ۔ {ملاحظہ ہو فتاوٰی ثنائیہ ج1 ص 467 و فتاوٰی علمائے حدیث ج4ص263 }

اور دوسرے مقام پر لکھتے ہیں ۔

ہاں فی زمانتا حسب مصلحت وقت تہدیدا تارک الصلٰوۃ کو مطلق کافر کہنا جائز ہے ۔ نہ یہ کہ مانند کفار غسل و تجہیز و تکفین و نماز جنازہ سے محروم کیا جائے ۔

{ فتاوٰی نزیریہ ج 4 ص 270 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ بے نماز کے بارہ میں غیر مقلدین حضرات کا یہ ہے کہ وہ کافر ہے اور ملت اسلام سے خارج ہے ۔چناچہ غیر مقلد عالم مولانا عبداللہ امرتسری صاحب ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں ۔

ہاں نماز ایسا رکن ہے کہ اس کے نہ پڑھنے سے ایمان ہی نہیں رہتا ۔

{ فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص 116 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ ۔ بے نماز کا جنازہ نہ پڑھنا چاہئے ۔ {فتاوٰی اہلحدیث ج2ص46 }

اور دوسرے مقام پر فرماتے ہیں ۔ جو کبھی نماز پڑھے اور کبھی نہ پڑھے یا بالکل نماز کا تارک ہو اس کے ساتھ دوستانہ تعلق اور اس کے ساتھ محبت کے طور پر سلوک کرنا یا تحفہ وغیرہ بھیجنا اور ضیافت کرنا بالکل جائز نہیں ۔ ہاں عام لین دین جیسے ہندؤں وغیرہ سے کرتے ہیں ان کی دوکانوں سے سودا وغیرہ لیتے ہیں اور ان کی دوکانوں پر اشیاء وغیرہ فروخت کرتے ہیں اس کا کوئی حرج نہیں ۔ اور اسی صفحہ پر ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج 2 ص 37 }

اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ بے نماز کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 38}،چشتی)

ایک مقام میں لکھتے ہیں ۔ بے نماز کی بابت صحیح یہی ہے کہ بالکل کافر ہے ۔ پس اس کے ساتھ کافروں سا سلوک چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 48 }

اور ایک مقام پر لکھتے ہیں ۔

بے نماز بے شک کافر ہے خواہ ایک نماز کا تارک ہو یا سب نمازوں کا ۔ پھر آگے لکھتے ہیں ۔ اور بے نماز جب کافر ہوا تو اس کا کھانا مثل عیسائی کے کھانے کے سمجھ لینا چاہئے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج3 ص364 }

بے نماز کی اولاد : غیر مقلدین بے نماز کو کافر کہتے ہیں اور کافر کا تو نکاح ہی معتبر نہیں ۔ جب اس کا نکاح نہیں تو اولاد کو ولدالحرام ہی کہنا چاہیے مگر یہاں آ کر غیر مقلدین کو احتیاط یاد آ گئی اور یوں کہنے لگے ۔

مگر چونکہ بے نماز کا کفر ظنی ہے اس لئے اس کی اولاد کو ولدالحرام کہنے میں زرا احتیاط چاہیے ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج2 ص 47 }

محترم قارئین : یہ ہیں غیر مقلدین جو مسلمانان احناف مقلدین کے بارہ میں تو خوب شور مچاتے ہیں کہ ان میں یہ اختلاف ہے وہ اختلاف ہے ۔ مگر اپنے گھر کے اختلافات پہ بالکل خاموش نظر آتے ہیں ۔

قرآن کریم کو بے وضو ہاتھ لگانا

غیر مقلدین حضرات کے نزدیک بے وضو قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتا ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم نواب نورالحسن بھوپالی لکھتے ہیں : محدث را مس مصحف جائز باشد ۔ {عرف الجادی ص15 }

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز ہے ۔

اور غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں : ولا یمنع الحدث المس ۔

{ کنزالحقائق ص 15}،چشتی)

یعنی بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا منع نہیں ہے ۔

اسی طرح انہوں نے اپنی کتاب نزل الابرار ص 26 ج 1 میں لکھا ہے کہ ۔ ہمارے اکثر اصحاب نے بے وضو آدمی کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانا جائز قرار دیا ہے۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود کر لیں کہ میرے اللہ کا حکم ہے کہ پاکی کے بغیر ہاتھ مت لگاؤ اور غیر مقلدین فرما رہے ہیں کہ کوئی بات نہیں آپ لگا سکتے ہیں ۔

حیض والی عورت کے لئے قرآن کریم کی تلاوت

حیض والی عورت قرآن کریم کو ہاتھ لگا سکتی ہے یا نہیں ؟ اس بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ایک دو حرف کی تلاوت کر سکتی ہےمگر پوری آیت نہیں ۔

چناچہ محدث مبارک پوری صاحب لکھتے ہیں : واما قراء الآ یۃ بتمامھا فلا یجوز لھما البتۃ ۔ جنبی اور حیض والی عورت دونوں کے لئے قرآن کریم کی مکمل آیت کی تلاوت بالکل جائز نہیں ہے ۔ { تحفۃ الجوذی ج 1 ص 124 }

اسی طرح غیر مقلد عالم نواب نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ و جنب و حائض را در آمدن مسجد و خواندن قرآن حران ست نہ حلال ۔ جنبی آدمی اور حیض والی عورت کے لئے مسجد میں آ نا اور قرآن کریم پڑھنا حرام ہے ۔ { عرف الجادی ص15 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اگر حیض والی عورت متعلمہ ہے تو وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر سکتی ہے اور ہاتھ بھی لگا سکتی ہے ۔ چناچہ غیر مقلد عالم علامہ وحیدالزمان صاحب لکھتے ہیں ۔ ورخصواللحائضۃ المتعلمۃ فی مس المصحف والتلاوۃ ۔{ نزل الابرار ج1 ص 26}،چشتی)

یعنی غیر مقلدین حضرات نے طالبہ کے لئے جب کہ وہ حٰض کی حالت میں ہو تو اس کو قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کی اجازت دی ہے ۔

اسی طرح وہ اپنی کتاب کنزالحقائق ص 15 میں بھی حیض میں مبتلا طالبہ کے لئے قرآن کریم کو ہاتھ لگانے اور تلاوت کرنے کی اجازت دیتے ہیں ۔

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں کہ ہاتھی کہ دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور کی مانند غیر مقلدین کا اپنا کیا حال ہے ۔

تعظیم قبلہ : مسلمان قبلہ کی تعظیم کرتے ہیں اور ایسے کام سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں جو قبلہ کی توہین کا باعث ہو اور جمہور مسلمان قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر کے پیشاب وغیرہ کرنے کو اور اسی طرح بلا عزر قبلہ کی جانب پاؤں پھیلانے کو بھی تعظیم کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ مگر غیر مقلدین کے اس بارہ میں دو نظریات ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ تعمیر شدہ بیت الخلاء میں اگر کوئی بیٹھ کر پیشاب وغیرہ کرے تو پھر کعبہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔

چناچہ ایک سوال میں لکھا گیا کہ : قضائے حاجت کا کیا طریقہ ہے ؟

تو جواب دیا گیا کہ بیٹھنے کے وقت زمین کے قریب ہو کر کپڑا اٹھانا چاہیے قبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنے سے پرہیز رکھے ہاں اگر آگے پیچھے پردہ ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ { فتاوٰی اہلحدیث ج1 ص251}

اسی طرح قضائے حاجت کے مسائل بیان کرتے ہوئے لکھا گیا ۔ پیشاب یا پخانہ کرتے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ بیت الخلاء میں بوقت ضرورت جائز ہے ۔ { فتاوٰی علمائے حدیث ج1ص33}،چشتی)

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ یہ ہے کہ پیچاب اور پخانہ کی حالت میںقبلہ کی طرف منہ اور پیٹھ کرنا منع ہے خواہ کھلی جگہ ہو یا تعمیر شدہ بیت الخلاء ہو ۔ چناچہ نواب مولانا نورالحسن خان بھوپالی لکھتے ہیں ۔ واستقبال واستدبارقبلہ نزدریدن و شاشدن ۔ {عرف الجادی ص11}

اسی طرح غیر مقلد عالم محدث مبارکپوری صاحب اس مسئلے پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں : فالحاصل ان اولی الاقوال واقواھا عندی واللہ اعلم ھو قول من قال انہ لایجوزالاستقبال والاستدبار مطلقا ۔ { تحفۃ الاحوذی ج1ص20}

تو اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ : ان اقوال میں سے سب سے بہتر اور قوی قول میرے نزدیک ان لوگوں کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ متلقا { خواہ کھلی جگہ ہو یا بیت الخلاء میں } قبلہ کی طرف منہ کرنا یا پیٹھ کرنا منع ہے ۔ واللہ اعلم

محترم قارئین : غیر مقلد علماء کے نظریات ملاحظہ فرمالیں ایک صاحب فرما رہے ہیں کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کر سکتے ہیں اور دوسرا صاحب فرما رہے ہیں کہ قطعا نہیں کر سکتے ۔

جرابوں پر مسح کرنا : جرابوں پر مسح کرنے کے بارہ میں غیر مقلدین کے دو نظریئے ہیں ۔

پہلا نظریہ : پہلا نظریہ یہ ہے کہ ہر قسم کی جرابوب پر مسح جائز ہے ۔ چناچہ اس بارہ میں سوال ہوا تو جواب دیا گیا کہ : پائتا {جراب} پر مسح کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے ؛ فتاوٰی ثنائیہ ج1ص441}،چشتی)

مولانا محمد صادق سیالکوٹی صاحب جرابوں پر مسح کی بحث کر کے آخر میں لکھتے ہیں ۔ پس ثابت ہوا کہ جورب پاؤں کے لفافے یا لباس کو کہتے ہیں وہ لباس خواہ چرمی ہو ، خواہ سوتی یا اونی وغیرہ ہم اس پر مسح کر سکتے ہیں ۔ { صلوۃ رسول ص111 }

دوسرا نظریہ : دوسرا نظریہ ہے کہ پتلی جرابوں پر مسح کرنا درست نہیں ہے چناچہ ایک سوال کے جواب میں مولانا ابوالبرکات صاحب لکھتے ہیں جسکی تصدیق محدث گوندلوی مرحوم نے کی ہے ۔ جرابوں پر مسح والی حدیث ضعیف ہے جس سے قرآن کی تخصیص درست نہیں لہٰزا ہم شرط لگاتے ہیں کہ جرابیں موٹی ہونے کی صورت میں مسح جائز ہے ۔ اگر موٹی نہیں تو پھر جائز نہیں ۔ { فتاوی برکاتیہ ص224 }

ایک سوال کے جواب میں مبارکپوری صاحب لکھتے ہیں ۔ المسح علی الجوربۃ لیس بجائز لانہ لم یقم علا جوازہ دلیل صحیح ۔ { فتاوی ثنائیہ ج1 ص243}

کہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے اسلئے کہ اس کے جواز پر کوئی صحیح دلیل نہیں ہے

ایک سوال ہو کہ اونی جرابوں پر مسح جائز ہے یا نہیں ؟ تو جواب دیا گیا مزکورہ جرابوں پر مسح جائز نہیں ہے ۔ { فتاوی نزیریہ ج1 ص337 }

محترم قارئین : فیصلہ آپ خود فرما لیں ایک صاحب فرما رہیے ہیں کہ جرابوں پر مسح جائز ہے اوردوسرے حضرت فرما رہے ہیں کہ جائز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ فتنہ غیر مقلدیت سے اہلِ ایمان کو بچائے آمین ۔ (طالبِ دعا و دا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

No automatic alt text available.

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان اور میلاد مصطفیﷺ

Resultado de imagen de ‫بوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا‬‎

اہلحدیث فرقے کے پیشوا نواب سید محمد صدیق حسن خان کی کتاب میں ذکر میلاد مصطفیﷺ کرنے کی تاکید

ماہ ربیع الاول میں ذکر

ولادت رسول ضرور کریں

الشمابوقت ولادت حضرت آمنہ کے شکم سے ایک نور لکھا

الشمامتہ العنبریہ

معمولات اہلسنت کے خلاف نظریہ رکھنے والوں سے 50 سوالات

معمولات اہلسنت کے خلاف نظریہ رکھنے والوں سے 50 سوالات

 مولانا محمد ذوالقرنین امجدی

ہماری طرف سے یہ 50 سوالات قوم کی عدالت میں ایک استغاثہ ہے اور ان لوگوں کو دعوت فکر دینی ہے جو دیوبندی وہابی نظریات سے متاثر ہوکر چند مستحب اعمال (مثلاً میلاد شریف، عرس، گیارہویں شریف، میلاد کے جلسے جلوس، جھنڈے وغیرہا) پر عمل کرنے کو شرک و بدعت اور نہ جانے کیا کیا کہتے ہیں اور سیدھے سادھے مسلمانوں کو یہ کہہ کر یہ چیزیں دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفاء و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھیں لہذا بدعت و شرک ہیں۔

اب استغاثہ پیش کرنے کا موجب امر یہ ہے کہ دیوبند کا یہ مسلک اگر قرآن و حدیث پر مبنی ہے تو انہیں ہر حال میں اس پر قائم رہنا چاہئے تھا یعنی جن چیزوں کا وجود دور رسالت مآبﷺ اور دور خلفائے و صحابہ علیہم الرضوان میں نہ تھا تو ان چیزوں سے ان کو اور ان کی جماعت کو بھی بچنا چاہئے تھا۔ لیکن حقیقت اس کے برخلاف ہے اور یہ کیسا اندھیر ہے کہ یہی چیز اگر غریب سنی مسلمان کرے تو شرک و بدعت لیکن خود کریں تو عین اسلام ملاحظہ کیجئے…!

سوال نمبر 1:

سوائے ’’عیدین اور حج کے اجتماع‘‘ کے نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے (ظاہری) زمانے میں کوئی سالانہ اجتماع ہوتا تھا؟ یقینا نہیں! تو پھر دیوبندی وہابیوں کے سالانہ اجتماعات جائز ہوئے یا ناجائز؟

 

سوال نمبر2:

رائے ونڈ کے سالانہ اجتماع کے لئے جلوس کی شکل میں ٹرینوں، بسوں، ویگنوں، کاروں وغیرہا میں جانا سنت ہے یا فرض یا مستحب یا واجب یا بدعت؟

سوال نمبر3 :

23 سالہ ظاہری دور نبوت میں (جس میں سرکار دوجہاںﷺ ظاہری طور پر موجود تھے) کافروں منافقوں نے بارہا گستاخیاں کیں، کیا ان کی مخالفت میں کوئی ریلی یا جلوس نکالا گیا تو حوالہ دیجئے اور ساری دنیا جانتی ہے کہ جب ڈنمارک کے اخبارات میں گستاخی کی گئی تو جہاں تمام اہلسنت حنفی بریلویوں نے جلسے جلوس منعقد کئے وہاں وہابی دیوبندیوں نے بھی ریلیاں اور جلوس نکالے۔ اب بتایا جائے کہ دیوبندیوں اور وہابیوں کا یہ عمل شرک ہوا یا بدعت؟

سوال نمبر4 :

(الف) 30 سالہ خلافت راشدہ میں اگر ایسی ریلی نکالی گئی ہو تو حوالہ دیجئے؟

(ج) ائمہ اربعہ میں سے کسی نے ریلی نکالی ہو یا شرکت کی ہو؟ مستند حوالہ دیجئے؟

(ھ) ایسی ریلی سب سے پہلے کب اور کہاں نکالی گئی، جلوس کس وقت نکلا؟

(د) صدارت کس نے کی؟ جلوس کس جگہ سے نکل کر کہاں اختتام پذیر ہوا؟

سوال نمبر5 :

حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی جو تمام بڑے بڑے دیوبندیوں کے پیرومرشد بھی ہیں، اپنی کتاب کلیات امدادیہ میں تحریر فرماتے ہیں کہ

’’مشرب فقیر کا یہ ہے کہ محفل مولود میں شریک ہوتا ہوں بلکہ ذریعہ برکات سمجھ کر منعقد کرتا ہوں اور قیام میں لطف و لذت پاتا ہوں‘‘

(فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 80 سطر 4 مکتبہ دارالاشاعت کراچی)

اس کے تحت سوال یہ ہے کہ

(الف) اگر محفل میلاد منانا اور صلوٰۃ و سلام کیلئے قیام کرنا بدعت ہے تو حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق آپ کا کیا فتویٰ ہے؟

(ب) جو مرید پیر کے جائز اور مستحب اعمال کی مخالفت کرے، ایسے مرید پر کیا فتویٰ لگے گا؟

(ج) تمہارے بزرگوں سے بھی میلاد منانا ثابت ہے تو تم کیوں نہیں مناتے؟

سوال نمبر 6:

کیا صحابہ کرام علیہم الرضوان سے لے کر ائمہ اربعہ تک اور اس کے بعد آج تک کسی مسلمان نے نبی پاکﷺ کی ظاہری وفات شریف کا سالانہ سوگ منایا؟ نیز کیا کسی صحابی نے میلاد منانے سے منع فرمایا؟ نہیں اور ہرگز نہیں! تو تم کو نبی کی ولادت کی خوشی منانے میں کیوں تکلیف ہوتی ہے؟

سوال نمبر7 :

تاریخ سے ثابت ہے کہ ’’نبی پاکﷺ کی ولادت کے وقت شیطان ’’جبل ابی قبیس‘‘ پر چڑھ کر چلایا‘‘ اس کو تکلیف ہوئی جبکہ ساری کائنات خوش تھی یعنی صرف ابلیس اور ابلیسیوں کو خوشی نہ ہوئی، اب اگر ایک صف میلاد پر خوشی منانے والوں کی ہو اور دوسری طرف خوش نہ ہونے والوں کی، تو آپ کس صف میں کھڑا ہونا پسند کریں گے؟

سوال نمبر8 :

بقول تمہارے ’’نبی پاکﷺ کی ولادت ۸ ربیع الاول کو ہوئی تھی تو تم ۸ ربیع الاول کو کیوں میلاد نہیں مناتے؟‘‘

سوال نمبر 9:

کیا میلاد کی محفل میں جانا اور تقریر کرنا بدعت ہے؟

(الف) اگر دیوبندیوں کا جواب ہاں میں ہے تو پاکستان اسلامک فورم کی محفل میلاد میں احترام الحق تھانوی خطاب کرنے کیوں گئے؟ خطاب بھی کیا اور شرکت بھی کی۔ کیا فتویٰ لگنا چاہئے

(ملاحظہ کیجئے روزنامہ جنگ 28 مئی 2002ء)

(ب) عید میلاد النبیﷺ ہم بھی مناتے ہیں۔ پروفیسر غفور احمد (جماعت اسلامی) ملاحظہ کیجئے (روزنامہ قومی اخبار 23 اکتوبر 1989ء)

نوٹ: پروفیسر کا تعلق جماعت اسلامی سے ہے جن کا عقیدہ ہے کہ میلاد النبیﷺ منانا شرک و بدعت ہے۔

سوال نمبر 10

حدیث شریف سے ثابت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ ہر پیر کا روزہ رکھتے تھے۔ جب آپﷺ سے اس کی وجہ دریافت کی گئی تو فرمایا اس دن میری ولادت ہوئی

(مشکوٰۃ ص 179، قدیمی کتب خانہ کراچی)

کیا کبھی دیوبندی اور وہابی نے سرکار دوعالمﷺ کی اس سنت پر عمل کیا اور کروایا کہ پیر کے دن روزہ رکھ کر میلاد کی خوشی میں اﷲ تعالیٰ کی عبادت کے لئے روزہ رکھا جائے۔ اگر میلاد شریف کے منکروں نے اس بارے میں کوئی فتویٰ دیا ہو تو حوالہ دیجئے۔

سوال نمبر 11:

مسلمان ہر سال پابندی سے میلاد مناتے ہیں جس پر پوچھا جاتا ہے کہ میلاد منانا فرض نہیں تو اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے۔ اسی نقطہ نظر سے یہ سوال ہے کہ وضو میں گردن کا مسح کرنا فرض ہے یا واجب یا سنت یا مستحب؟ اگر مستحب ہے اور یقینا مستحب ہے تو اس کا اتنا التزام کیوں کیا جاتا ہے کہ ہر دیوبندی ہر وضو میں ہر دفعہ گردن کا مسح پابندی سے کرتا ہے اور وہ بھی روزانہ… ایسا کیوں؟

سوال نمبر 12:

بارہویں کی نسبت سے بارہواں سوال یہ ہے کہ قرآن و حدیث یا ائمہ اربعہ میں کسی ایک سے کوئی ایک حوالہ دیجئے جس میں لکھا ہو کہ ’’میلاد منانا بدعت و حرام ہے‘

سوال نمبر 13:

یوم آزادی پاکستان اور یوم دفاع پاکستان منانا بدعت ہے یا مباح یا حرام؟

سوال نمبر 14:

قومی اسمبلی میں جب قومی ترانہ پڑھا جاتا ہے تو اس کی تعظیم میں سارے وزراء بشمول فضل الرحمن سب کھڑے ہوجاتے ہیں۔ آیا یہ شرک ہوا یا بدعت؟ ذرا دو لائنوں کا فتویٰ دو اور اس کو اسمبلی میں پیش کرو۔

سوال نمبر 15:

یہ بتایئے مسجد کی تعمیر کے لئے غیر اﷲ سے مدد مانگنا جائز ہے یا نہیں۔ اگر جائز ہے توغیر اﷲ سے مدد مانگنا تو بقول تمہارے ناجائز ہے۔ کیا جواب ہے اور اگر جائز نہیں تو یہ ساری مساجد جو سیٹھوں سے مدد مانگ مانگ کر بنائی گئی ہیں۔ ان میں نماز پڑھنا جائز ہے یا ناجائز؟

سوال نمبر 16:

’’نماز کی نیت زبان سے کرنا‘‘ کسی بھی صحابی سے ثابت ہو تو حوالہ دیجئے۔ اگر ایسا حوالہ نہیں تو زبان سے نیت کرنا بدعت ہے یا شرک؟

سوال نمبر 17:

دنیا کے اندر بہت ساری نئی چیزیں ایجاد ہوگئی ہیں ان کا استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں حالانکہ صحابہ کرام کے دور میں ان کا نام و نشان نہ تھا؟ اگر استعمال کرنا جائز ہے تو کس قاعدے کے تحت؟ جیسے ریل، موٹر کار، ہوائی جہاز، ٹیلی فون، موبائل، ریڈیو، لائوڈ اسپیکر وغیرہا۔ کیا کوئی دیوبندی وہابی بغیر ان بدعات کے آسانی سے دنیاوی زندگی گزار سکتا ہے؟

سوال نمبر 18:

امامت اور موذنی کے پیسے لینا جائز ہے یا ناجائز؟ کیا نبی پاکﷺ نے امامت کی تنخواہ لی ہے۔ کیا حضرت بلال رضی اﷲ عنہ نے موذنی کی تنخواہ لی ہے؟ معتبر حوالہ دیں۔

سوال نمبر 19:

نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان کے ظاہری زمانے میں زکوٰۃ وغیرہا سونا، چاندی، درہم و دینار میں ادا کی جاتی تھی حالانکہ دیوبندی ریال، ڈالر اور روپے وغیرہا کی صورت میں بھی زکوٰۃ لیتے ہیں اور دیتے بھی ہوں گے تو کیا یہ چیز نبی پاکﷺ اور صحابہ کرام کی مخالفت نہیں کہلائے گی؟ اگر نہیں تو کیوں؟

سوال نمبر 20:

تبلیغی جماعت، جماعت اسلامی، مجلس احرار، مجلس ختم نبوت، حزب التحریر الدعوۃ والارشاد، جماعت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اشاعت التوحید والارشاد، لشکر جھنگوی، لشکر طیبہ۔ کیا اس طرح کی جماعتوں کا صحابہ کے دور میں وجود تھا؟ اگر نہیں تو ان کو کون سی بدعت کہیں گے؟

سوال نمبر 21:

سیرت النبیﷺ کانفرنس، محمد رسول اﷲﷺ کانفرنس، سید البشرﷺ کانفرنس، ختم بخاری، دورہ حدیث کیا صحابہ کرام نے ایسی کانفرنس اور اس نام سے منعقد کی ہیں؟ اگر نہیں تو یہ سارے کام دیوبندیوں کے نزدیک کیا ہیں؟ شرک یا بدعت نیز دیوبندی وہابی خود کیاٹہرے؟ مشرک یا بدعتی؟

سوال نمبر 22:

رائے ونڈ سے تین روزہ، دس روزہ، چالیس روزہ چلہ، بستر باندھ کر چائے دانی، چولہا اور نسوار کی ڈبیہ لے کر اہل خانہ کے حقوق پس پشت ڈال کر گھر سے نکلنا سنت ہے یا بدعت؟ نیز ایسا کرنے والوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 23:

اسکول اور مدرسوں میں بچوں کو چھ چھ کلمے ان کے نام اور ان کی ترتیب حضور اقدسﷺ اور صحابہ کرام علیہم الرضوان سے ثابت نہیں لیکن اس کے باوجود سارے دیوبندی یہ کام کرتے ہیں تو آیا یہ کام سنت ہیں

یا بدعت؟

سوال نمبر 24:

نکاح کے وقت ایمان مفصل و مجمل پڑھانا کس صحابی کی سنت ہے؟ اگر کسی صحابی سے اس طرح ثابت نہیں تو دیوبندی اس عمل کو کیا سمجھ کر کرتے ہیں؟ سنت یا شرک یا بدعت؟

سوال نمبر 25:

قرآن کریم کو کتابی شکل میں جمع کرنا صحابہ سے ثابت ہے۔ لیکن حدیث پاک کو کتابی شکل میں جمع کرنا کس کا طریقہ ہے؟ آیا یہ کام جائز ہوا یا بدعت؟ ائمہ محدثین کے بارے میں کیا خیال ہے؟ نیز دیوبندی مکتبوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 26:

اپنے اجتماع میں نعرہ لگوانے کے لئے لفظ ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا تو ایسا کہنا یعنی ’’نعرہ تکبیر‘‘ کہنا یہ لفظ نہ قرآن میں اور نہ حدیث میں کہیں آیا ہے۔ تو اس جدید لفظ سے نعرہ کہلوانا جائز ہوگا یا بدعت؟ اور سارے دیوبندی وہابی نعرہ تکبیر اپنے جلسوں میں لگا کر بدعتی ہوئے یا نہیں؟ ہوئے اور یقینا ہوئے۔ اب کل بدعۃ ضلالۃ والے قاعدہ کا کیا ہوا؟

سوال نمبر 27:

مسجدوں پر مروجہ مینار بنانا قرآن و حدیث کے ظاہری الفاظ سے ثابت نہیں مگر سارے وہابی دیوبندی مینار بنواتے ہیں اور جو عمل قرآن و سنت سے ثابت نہ ہو اور کوئی کرے تو وہ کیا کہلائے گا؟

سوال نمبر 28:

حدیث شریف میں اونٹ، گائے، بکری، دنبہ جانوروں کی قربانی کا ذکر ہے اور ان کے دودھ کے پینے کا جواز ہے مگر بھینس کا وجود نہیں تو اس کے دودھ کا کیا حکم ہے اور جو روزانہ اس کے دودھ کی چائے اپنے مدرسہ میں پلائے تو کیا حکم لگنا چاہئے؟ نیز حلال کیسے کہلائے گا؟

سوال نمبر 29:

دیوبندیوں کے درس کی مشہور کتاب ’’تبلیغی نصاب‘‘ جس کا نام بدل کر فضائل اعمال رکھا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ

’’اگر ہر جگہ درود و سلام دونوں کوجمع کیا جائے تو زیادہ بہتر ہے یعنی بجائے السلام علیک یا رسول اﷲ کے الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اﷲ یعنی صلوٰۃ کالفظ بھی بڑھا دیا جائے تو بہتر ہے‘‘

(ملاحظہ کیجئے اعمال باب فضائل درود ص 23، مکتبہ محمد عبدالرحیم تاجر کتب لاہور)

کیا اس پر عمل کرنا چاہئے؟ اگر نہیں تو یہ منافقت کیوں؟

سوال نمبر 30:

یہ دو اشعار بدعت ہیں یا شرک؟

میری کشتی پار لگادو یا رسول اﷲ (حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی)

(کلیات امدادیہ ص 205، دارالاشاعت کراچی)

یارسول اﷲ بابک لی (اشرف علی تھانوی)

اے خدا کے رسول تیر دربار میرے لئے ہے

(نشر الطیب ص 164، دارالاشاعت کراچی)

سارے دیوبندی مل کر جواب دیں کہ حاجی صاحب اور تھانوی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے بدعتی ہونے کا یا پھر مشرک ہونے کا؟

سوال نمبر 31:

قرآن و حدیث نیز اشرف علی تھانوی سے (نشر الطیب میں) نبی پاکﷺ کی نورانیت ثابت ہے۔ قرآن و حدیث کو ماننے والے نبی پاکﷺ کی نورانیت کے قائل ہیں لیکن اشرف علی تھانوی کے ماننے والے منکر ہیں۔ اب جو تھانوی کی بات کو نہ مانے تو کیا فتویٰ ہے؟ نیز تھانوی صاحب کے بارے میں کیا ارشاد ہے؟

سوال نمبر 32:

فتاویٰ رشیدیہ کے مصنف یعنی رشید احمد گنگوہی جو خدا نہیں، غیر اﷲ ہے اس کے لئے یہ اشعار کہنا کیسا ہے، کفر یا شرک؟

مردوں کو زندہ کیا اور زندوں کو مرنے نہ دیا

اس مسیحائی کو دیکھیں ذرا ابن مریم

سوال نمبر 33:

جو شخص خود کو دیوبندی کہے اور آپ کی جماعت بھی خود کو دیوبندی جماعت کہلواتی ہے ۔ کیا کسی صحابی نے خود کو دیوبندی کہا تھا؟

سوال نمبر 34:

جشن دیوبند کے تحت چند سوالات، صد سالہ جشن، دیوبند منایاگیا۔ اس میں ہندو عورت کو صدارت کے لئے بلایا گیا تو سوال یہ ہے کہ:

(الف) جشن دیوبند منانا جائز تھا یا حرام؟

(ب) ہندو عورت کو اجتماع میں بلاکر اور پھر اسے اپنے آگے بڑھا کر دعا مانگنا جائز ہے یا ناجائز؟

(ج) کیا ہندو عورت کو عزت مآب کہہ کر جشن دیوبند میں مخاطب کرنا جائز تھا یا حرام؟

(د) جشن دیوبند پر 75 لاکھ سے زائد رقم خرچ کرنا جائز تھا یا اسراف؟

(ہ) ننگے سر، ننگے منہ، برہنہ بازو عورت کے ساتھ دیوبندی مولویوں کا بیٹھنا جائز تھا یا حرام؟

(د) اجتماع میں ہندو عورت کو بلانا مسلمانوں کا طریقہ ہے یا کافروں کا؟

ملاحظہ کیجئے:

٭ روزنامہ مشرق، نوائے وقت لاہور 22-23 مارچ 1980ء ٭ روزنامہ جنگ کراچی 3 اپریل 1980ء ٭ روزنامہ جنگ راولپنڈی 2 اپریل 1980ء

٭ نوٹ: مزار کی نفی کرنے والو! اپنے کرتوتوں کو دیکھو! میلاد شریف اور اولیاء کے بغض کی وجہ سے تمہارا کیا انجام ہوا؟

سوال نمبر 35: معاذ اﷲ ثم معاذ اﷲ نبی پاکﷺ کے علم مبارک کو معاذ اﷲ چوپایوں کے ساتھ ملانا (ملاحظہ ہو حفظ الایمان، تھانوی کی گستاخانہ عبارات ص 13، قدیمی کتب خانہ، کراچی)

اور معاذ اﷲ نماز میں آپﷺ کے خیال مبارک کو بیل و گدھے کے خیال سے زیادہ برا قرار دینا (صراط مستقیم صفحہ 86، فصل سوم در ذکر مخلات عبادت مطبع مجتبائی دہلی) گستاخی ہے یا نہیں؟ اگر ہے اور یقینا ہے پھر اشرف علی تھانوی اور اسماعیل دہلوی قتیل بالا کوٹ کیا کہلائیں گے جنہوں نے ایسا گستاخانہ فتویٰ دیا۔ اب اﷲ تعالیٰ کا ارشاد سنو۔

لا تعذروا قد کفرتم بعد ایمانکم

چند علمی سوالات

سوال نمبر 36:

ان الاصل فی الاشیاء الاباحۃ قاعدہ کلیہ کا کیا معنی ہے؟

سوال نمبر37:

اگر کوئی ہندو اپنے بت کے نام پر جانور پالے اور کوئی مسلمان اس جانور (بکری وغیرہا) کو معاذ اﷲ چوری کرے اور بوقت ذبح اﷲ کا نام لے اور ذبح کر ڈالے اس کا گوشت حلال ہوگا یا حرام؟

سوال نمبر 38:

ان چار چیزوں کی جامع مانع تعریف کیا ہے، جس پر کوئی اعتراض نہ ہو۔

شرک بدعت دین عبادت

سوال نمبر 39:

کیا صحابہ کے دور میں اصول حدیث یا اصول فقہ وغیرہما کے قوانین کا وجود تھا۔

سوال نمبر 40:

جو کام نبی پاکﷺ یا صحابہ کرام علیہم الرضوان نے نہ کیا ہو، وہ آپ کے نزدیک بدعت ہے۔ آیا بدعت کی یہ تعریف قرآن میں ہے تو کون سی سورت میں اور اگر حدیث میں ہے تو کون سی حدیث ہے؟

سوال نمبر 41:

جو شخص میلاد شریف، عرس، گیارہویں وغیرہا کو فرض و واجب نہ سمجھتا ہو، اس سے یہ کہنا کہ قرآن و حدیث سے اس کے ضروری ہونے کا حوالہ دو تو ایسے جاہل کو آپ کیا کہیں گے جو مستحب عمل پر نص قطعی سے ثبوت مانگے؟

سوال نمبر 42:

جمعہ کے خطبہ میں خلفائے اربعہ سیدنا صدیق اکبر، سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان ذوالنورین اور سیدنا علی المرتضیٰ اور عشرہ مبشرہ علیہم الرضوان کا نام لینا قرون ثلاثہ میں لیا جاتا تھا یا نہیں؟ معتبر حوالہ دیں۔

سوال نمبر 43:

حاجی امداد اﷲ مہاجر مکی لکھتے ہیں:

فقیر کا مشرب اس امر میں یہ ہے کہ ہر سال اپنے پیرومرشد کی روح مبارک پر ایصال ثواب کرتا ہوں اور اول قرآن خوانی ہوتی ہے اور گاہ گاہ اگر وقت میں وسعت ہو تو مولود پڑھا جاتا ہے پھر ماحضر کھانا کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب بخش دیا جاتا ہے

(ملاحظہ کیجئے: فیصلہ ہفت مسئلہ کلیات امدادیہ ص 83)

(الف) آیا ایسا کرنا شرک ہے یا بدعت یا مستحب؟ حاجی صاحب کے بارے میں کیا حکم ہے؟

(ب) بالکل اسی طرح سنی مسلمان ایصال ثواب کی محفل گیارہویں وغیرہ کرتے ہیں لیکن تم لوگ گیارہویں شریف (یعنی ایصال ثواب کی محفل) کیوں نہیں کرتے حالانکہ تمہارے سارے بڑے بڑون اشرف علی تھانوی، رشید احمد گنگوہی، قاسم نانوتوی وغیرہم کے پیرومرشد ایصال ثواب کی محفل منعقد کرتے تھے۔

(ج) آپ کا یہ عمل پیر کی مخالفت یا موافقت… کیا کہلائے گا؟

سوال نمبر 44:

ہر سال دیوبندی وہابی مدارس کے لئے چرم قربانی کی باقاعدہ بڑے بڑے پوسٹر کے ذریعے اپیل کی جاتی ہے۔ کیا مروجہ اپیل کی طرح دور صحابہ میں کوئی مثال موجود ہے؟ یا نہیں۔ اگر نہیں تو پھر دیوبندی وہابی بدعتی ہوئے یا نہیں؟

سوال نمبر 45:

حال ہی میں دارالعلوم دیوبند کے سالانہ جلسہ دستار میں ہندو پنڈت نے نہ صرف شرکت کی بلکہ دیوبندی علماء و طلباء کو اپنے وعظ سے بھی محظوظ کیا جس پر لطف یہ ہے کہ ہندو پنڈت اپنے مخصوص لباس میں تھا۔ اس کے باوجود دیوبند کے اسٹیج پر اس کو بڑی عزت دی گئی۔ آیا کافر کی تعظیم کرنے سے ایمان سلامت رہتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر 46:

چند ماہ قبل ایک انگریز کافرہ عورت کو بنوری ٹائون والوں نے انتہائی عزت دی حتی کہ وہاں کے مفتی نعیم نے اس کو اپنے ادارے کا وزٹ کروایا اور اس دوران وہ بھی اپنے مخصوص لباس میں تھی، کیا یہ سب کام وہاں جائز ہیں! اگر نہیں تو پھر نعیم کے بارے میں کیا حکم ہے؟ نیز اگر محفل میلاد پاک میں خواتین اپنے اپنے گھروں میں پردے کا اہتمام کرکے ذکر سولﷺ کرتی ہیں تو دیوبندی اس کو شرک و بدعت سے تعبیر کرتے ہیں اور اپنے ادارے میں انگریز عورت کو نیم عریاں وزٹ کروانے سے وہی فتویٰ کہاں گیا؟

سوال نمبر 47:

دیوبندیوں کا حکیم لکھتا ہے کہ

طاعون کا ایک متبرک علاج منجملہ اور علاجوں کے ذکر نبی کریمﷺ بھی ہے اور یہ علاج تجربہ میں آیا ہے۔ یعنی میں نے ایک کتاب نشر الطیب لکھی ہے۔ حضورﷺ کے حالات میں اس کے لکھنے کے زمانہ میں خود اس قصبہ میں تھا جس میں طاعون تھا تو میں نے یہ تجربہ کیا۔ جس روز اس کا کوئی حصہ لکھا جاتا تھا، اس روز کوئی حادثہ نہیں سنا جاتا تھا اور جس روز وہ ناغہ ہوجاتی تھی۔ اس روز دو چار اموات سننے میں آتی تھیں تو مجھے یہ خیال ہوا کہ یہ حضورﷺ کے ذکر مبارک کی برکت ہے۔ آخر میں یہ التزام کیا کہ روزانہ کچھ حصہ اس کا ضرور لکھ لیتا تھا۔ آج کل بھی لوگوں نے مجھے طاعون ہونے کے متعلق اطراف و جوانب سے لکھا ہے تو میں نے ان کو بھی جواب میں یہی لکھا ہے کہ نشر الطیب پڑھا کرو!!

ملاحظہ ہو(میلاد النبیﷺ از تھانوی ناشر بک کارنر شوروم جہلم)

اس پر سوال یہ ہے کہ طاعون (بیماری) سے نجات کے لئے نشر الطیب کتاب کا ختم پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز ہے تو مشکلات کے لئے قصیدہ بردہ شریف یا ختم قادریہ وغیرہا کرنا کیوں ناجائز ٹھہرے؟

سوال نمبر 48:

یوم صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ! امیر المومنین حضرت فاروق اعظم، امیر المومنین حضرت عثمان غنی، امیر المومنین حضرت علی مرتضیٰ رضی اﷲ عنہم کے دور خلافت میں بار بار آیا۔ کیا ان میں سے یا ان کے بعد تابعین یا تبع تابعین نے یوم صدیق اکبر منایا؟ اگر نہیں تو یوم صدیق اکبر منانا نیز یوم صدیق اکبر، یوم فاروق اعظم، یوم عثمان غنی اور یوم مولا علی رضی اﷲ عنہم اجمعین پر عام تعطیل کی اپیل کرنا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟

سوال نمبر 49:

سپاہ صحابہ کی ریلی ہو یا کوئی اور ریلی رنگ برنگے جھنڈے لہرانا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو میلاد النبیﷺ کی ریلی میں سبز نعلین والے جھنڈے لہرانا ناجائز کیسے ٹھہرے گا نیز تمہارا یہ رنگ برنگے جھنڈے لہرانا فرض ہے یا سنت یا بدعت؟

سوال نمبر 50:

آخری سوال آپ سے یہ ہے کہ رشید احمد گنگوہی کے اس فتوے کا کیا جواب ہوگا؟

سوال: جس جگہ زاغ معروفہ (یعنی مشہور و معروف عام کوا جسے کالا کوا کہتے ہیں) کو اکثر حرام جانتے ہیں تو ایسی جگہ اس کوا کھانے والے کو کچھ ثواب ہوگا یا نہ ثواب ہوگا نہ عذاب؟

الجواب: ثواب ہوگا

(فتاویٰ رشیدیہ، ص 597، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

اہل حدیث وہابی (غیر مقلّدین ) مذہب کے باطل عقائد

غیر مقلّدین وہابی گروپ جس کو آج کل اہل حدیث کہا جاتا ہے اسی نام سے وہ کام کررہے ہیں غیر مقلّدین اس لئے کہا جاتا ہے کہ اہل حدیث وہابی ائمہ مجتہدین امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام احمد ،امام مالک علیہم الرضوان کی تقلید یعنی پیرو ی کو حرام کہتے ہیں۔

وہابی گروپ اسلئے کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ محمدین عبدالوہاب نجدی کو اپنا پیشوا اور بانی کہتے ہیں اپنے وقت کا مردود جس کی کفریہ عبارات آگے بیان کی جائیں گی اس کا نام ابنِ تیمیہ ہے غیر مقلّدین اس کو اپنا امام مانتے ہیں ۔

اہلحدیث غیر مقلّدین وہابی گروپ کاتاریخی پس منظر اور ان کے پوشیدہ راز انہی کی مستند کتابوں کے ثبوت سے بیان کی جائیں گے۔

غیر مقلّدین تاریخ کے آئینے میں 

کسی بھی شخصیت یا تحریک کی کردار کشی مؤر خانہ دیانت کے خلاف ہے ۔ہر انسان اللہ کا بندہ ،

حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد اور حضور انور ﷺکی اُمت میں ہے ،ان تین رشتوں کا خیال رکھنا چاہیئے اس لئے راقم کی یہ کوشش رہتی ہے کہ جس زمانے کی اللہ نے قسم یاد فرمائی اس کی تاریخ دیانت دار انہ ،

غیر جانبدار انہ ،عادلانہ اور مومنانہ انداز میں قلم بندکی جانی چاہئے تاکہ پڑھنے والا تاریخ کے صحیح پس منظر کی روشنی میں صحیح فیصلہ کرسکے اورکھرا کھوٹا الگ کرسکے ……

اس وقت ہم اہل حدیث (غیر مقلدین )کے بارے میں تاریخ کی روشنی میں کچھ عرض کریں گے ……

قرون اولیٰ میں ’’اہل حدیث ‘‘یا ’’صاحب الحدیث ‘‘ان تابعین کو کہتے تھے جن کو احادیث زبانی یاد ہوتیں اور احادیث سے مسائل نکالنے کی قدرت رکھتے تھے …پوری اسلامی تاریخ میں اہل حدیث کے نام سے کسی فرقہ کا وجو د نہیں ملتا …اگر مسلک کے اعتبار سے اہل حدیث لقب اختیار کرنے کی گنجائش ہوتی تو حضور ﷺ’’علیکم بسنّتی ‘‘نہ فرما تے بلکہ ’’علیکم بحدیثی ‘‘فرماتے ……

حضور ﷺکی حدیث پاک سے اہل سنت ،لقب اختیار کرنے کی تو تائید ہوتی ہے ’’اہل حدیث ‘‘ کی تائید نہیںہوتی …جیسا کہ عرض کیا گیا ہے پہلے علم حدیث کے ماہرین کو اہل حدیث کہتے تھے مگر ہر کس و ناکس کو کہنے لگے ،صاحب طر زاد یبوں ،مصنفوں کو اہل قلم کہتے ہیں …کیسی عجیب اور نامعقول بات ہوگی اگر ہر جاہل و غبی خود کو اہل قلم کہلوانے لگے ؟

پاک ہند میں لفظ ’’اہل حدیث ‘‘کی ایک سیاسی تاریخ ہے ۔جو نہایت ہی تعجب خیز اورحیران کن ہے ۔برصغیر میں اس فرقے کو پہلے وہابی کہتے تھے جو اصل میں غیر مقلد ہیں چونکہ انہوں نے انقلاب ۱۸۵۷؁ء سے پہلے انگریزوں کا ساتھ دیا اور برصغیر میں برطانوی اقتدار قائم کرنے اور تسلط جمانے میں انگریزوں کی مدد کی …انگریزوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد تو اہل سنت پر ظلم و ستم ڈھائے لیکن ان حضرات کو امن و امان کی ضمانت دی …

سرسید احمد خان (م ۔۱۳۱۵ھ/۱۸۶۸)کے بیان سے جس کی تائید ہوتی ہے :…

انگلش گورنمنٹ ہندوستان میں اس فرقے کے لئے جو وہابی

کہلایا ایک رحمت ہے جو سلطنتیں اسلامی کہلاتی ہیں ان میں

بھی وہا بیوں کو ایسی آزادی مذہب ملنا دشوار ہے بلکہ ناممکن

ہے سلطان کی عملداری میں وہابیوں کا رہنا مشکل ہے اور مکہ

معظمہ میں تو اگر کوئی جھوٹ موٹ بھی وہاں کہہ دے تو اسی

وقت جیل خانے یا حوالات میں بھیجا جاتا ہے …پس وہابی

جس آزادی مذہب سے انگلش گورنمنٹ کے سایہ عاطفت

میں رہتے ہیں دوسری جگہ ان کو میسر نہیں ۔ہندوستان ان

کے لئے دارالا من ہے …۲۰۲

یہ اس شخص کے تاثرات ہیں جو ہندوستانی سیاست بلکہ عالمی سیاست پر گہری نظر رکھتا تھا …ہندوستان میں ان حضرات کو امن ملتا اور سلطنت عثمانیہ میں نہیں (جو مسلمانوں کی عظیم سلطنت تھی ایشیاء ،یورپ ،افریقہ تک پھیلی ہوئی )امن اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ ان حضرات کا تعلق انگریزوں سے رہا تھا …آل سعود کی تاریخ پر جن کی گہری نظر ہے ان کو معلوم ہے کہ انہیں حضرات نے سلطنت اسلامیہ کے سقوط اور آل سعود کے اقتدار میں اہم کردار ادا کیا …یہ کوئی الزام نہیں تاریخی حقیقت ہے جو ہمارے معصوم جوانوں کا شکار رہی ہے …

خود اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی (جنہوں نے انگریز ی اقتدار کے بعد برصغیر کے غیر مقلدوں کی وکالت کی )کی اس تحریر سے سرسید احمد خان کے بیان کی تصدیق ہوتی ہے ،وہ کہتاہے :…

اس گروہ اہل حدیث کے خیر خواہ وفاداری رعایا برٹش گورنمنٹ

ہونے پر ایک بڑی اور روشن دلیل یہ ہے کہ یہ لوگ برٹش

گورنمنٹ کے زیر حمایت رہنے کو اسلامی سلطنتوں کے ماتحت

رہنے سے بہتر سمجھتے ہیں …۲۰۳

آخر کیا بات ہے کہ اسلام کے دعویدار ایک فرقے کو خود مسلمانوں کی سلطنت میں وہ امن نہیں مل رہا ہے جو اسلام کے دشمنوں کی سلطنت میں مل رہا ہے ۔ہر ذی عقل اس کی حقیقت تک پہنچ سکتا ہے اسکے لئے تفصیل کی ضرورت نہیں ……

ملکہ وکٹوریہ کے جشن جوبلی پر مولوی محمد حسین بٹالوی نے جو سپاس نامہ پیش کیا اس میں بھی یہ اعتراف موجود ہے …آپ نے فرمایا :……

اس گروہ کو اس سلطنت کے قیام و استحکام سے زیادہ

مسرت ہے اور ان کے دل سے مبارک باد کی صدائیں

زیادہ زور کے ساتھ نعرہ زن ہین …۲۰۴

یہی آدمی ایک اور جگہ تحریرکرتاہے :…

جو ’’اہل حدیث ‘‘کہلاتے ہیں وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز

کے نمک حلال اور خیر خواہ رہے ہیں اور یہ بات باربار

ثابت ہوچکی ہے اور سرکار ی خط و کتابت میں تسلیم کی جا

چکی ہے … ۲۰۵

یہو د ونصاری کو مسلمانوں کے جذبئہ جہاد سے ہمیشہ ڈر لگتا رہتا ہے …۱۸۵۷؁ء کے فوراًبعد انگریزوں کے مفاد میں اس جذبے کو سرد کرنے کی ضرورت تھی چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی نے جہاد کے خلاف ۱۲۹۲؁ھ /۱۸۷۶؁ء میں ایک رسالہ ’’الا قتصادفی مسائل الجہاد ‘‘تحریر فرما یا جس پر بقول مسعود عالم ندوی حکومت برطانیہ نے مصنف کو انعام سے نوازا …۲۰۶

آپ نے باربار لفظ ’’اہل حدیث ‘‘سنا جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ اس فرقے کو پہلے ’’وہابی ‘‘ کہتے تھے انگریزوں کی اعانت اور عقائد میں سلف صالحین سے اختلاف کی بنا ء پر برصغیر کے لوگ جنگ آزادی ۱۸۵۷؁ء کے بعد ان سے نفرت کرنے لگے اسلئے وہابی نام بدلو ا کر ’’اہل حدیث ‘‘

نام رکھنے کی درخواست کی گئی …یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :…

بنا بریں اس فرقے کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ (وہابی )کے

استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں اور کمال ادب وانکساری کے ساتھ

گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہابی کو

منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نا فذ کرے اور

ان کو ’’اہل حدیث ‘‘کے نا م سے مخاطب کیا جائے …۲۰۷

حکومت برطانیہ کے نام مولوی محمد حسین بٹالوی کی انگریزی

درخواست کا اردو ترجمہ جس میں حکومت برطانیہ سے’’وہابی ‘‘

کی جگہ ’’اہل حدیث ‘‘نام منظور کرنے کی درخواست کی گئی ہے ۔

ترجمہ درخواست برائے الاٹمنٹ نا م اہل حدیث و منسوحی لفظ وھابی:

اشاعۃ السّنہ آفس لاہور

ازجانب ابو سعید محمد حسین لاہوری ،ایڈیٹر اشاعۃ السّنہ و وکیل اہل حدیث ہند

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ !

میں آپ کی خدمت میں سطورِ ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کادر خواست گار ہوں ، ۱۸۸۶ء میں میں نے ایک مضمون اپنے ماہواری رسالہ اشاعۃ السنہ میں شائع کیا تھا جسمیں اس بات کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی ،جس کو عمو ماً باغی ونمک حرام کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے ،لہذا اس لفظ کا استعمال ، مسلمانانِ ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال و خیر خواہ رہے ہیں ،اور یہ بات سرکار کی وفاداری و نمک حلالی )بارہا ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے ،مناسب نہیں (خط کشیدہ جملے خاص طور پر قابلِ غور ہیں۔)

بناء بریں اس فرقہ کے لوگ اپنے حق میں اس لفظ کے استعمال پر سخت اعتراض کرتے ہیں ۔

اور کمال ادب و انکساری کے ساتھ ،گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ (ہماری وفاداری ،جاں نثاری اورنمک حلالی کے پیش نظر )سرکاری طورپر اس لفظ وہابی کو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے ،اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاوے اس مضمون کی ایک کاپی بذریعہ عرضدا شت میں (محمد حسین بٹالوی )نے پنجاب گورنمنٹ اس مضمون کی طرف توجہ فرما دے ،اور گورنمنٹ ہند کو بھی اس پر متوجہ فرمادے اور فرقہ کے حق میں استعمال لفظ وہابی سرکاری خط و کتابت میں موقوف کیا جا وے اور اہل حدیث کے نام سے مخاطب کی جاوے ۔اس درخواست کی تائید کیلئے اور اس امر کی تصدیق کیلئے کہ یہ درخواست کل ممبران اہل حدیث پنجاب وہندوستان کی طرف سے ہے (پنجاب وہندوستان کے تمام غیر مقلد علماء یہ درخواست پیش کرنے میں برابر کے شریک ہیں )اور ایڈیٹر اشاعت السنہ ان سب کی طرف سے وکیل ہے ۔میں (محمد حسین بٹالوی )نے چند قطعات محضر نامہ گورنمنٹ پنجاب میں پیش کئے ،جن پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے وستخط ثبت ہیں ۔اور ان میں اس درخواست کی بڑے زور سے تائید پائی جاتی ہے ۔

چنانچہ آنر یبل سرچار لس ایچی سن صاحب بہادر ،جو اس وقت پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر تھے ،گورنمنٹ ہند کو اس درخواست کی طرف توجہ دلاکر اس درخواست کو باجازت گورنمنٹ ہند منظور فرمایا ، اور اس استعمال لفظ وہابی کی مخالفت اور اجراء نام اہل حدیث کا حکم پنجاب میں نافذ فرمایا جائے ۔

میں ہوں آپ کا نہایت ہی فرمانبردار خادم

ابو سعید محمد حسین

ایڈیٹر’’اشاعت السنہ ‘‘

(اشاعۃ السنہ ص۲۴تا۲۶شمارہ ۲،جلد نمبر ۱۱)

یہ درخواست گورنر پنجاب سر چارلس ایچی سن کو دی گئی اور انہو ں نے تائیدی نوٹ کے ساتھ گورنمنٹ آف انڈیا کو بھیجی اوروہاں سے منظور ی آگئی اور ۱۸۸۸؁ء میں حکومت مدراس ،حکومت بنگا ل ،

حکومت یوپی ،حکومت سی پی ،حکومت بمبئی وغیرہ نے مولوی محمد حسین کواسکی اطلاع دی ……

سرسید احمد خان نے بھی اسکا ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں :…

جناب مولوی محمد حسین نے گورنمنٹ سے درخواست کی

تھی کہ اس فرقے کو درحقیقت اہل حدیث ہے …

گورنمنٹ اس کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے مخاطب نہ کرے

…مولوی محمد حسین کی کوشش سے گورنمنٹ نے

منظور کرلیا ہے کہ آئندہ گورنمنٹ کی تحریرات میں

اس فرقے کو ’’وہابی ‘‘کے نام سے تعبیر نہ کیا جاوے

بلکہ ’’اہل حدیث ‘‘کے نام سے موسوم کیا جاوے …۲۰۸

اب آپ کو تاریخ کی روشنی میں فرقہ اہلِ حدیث (جو اصل میں غیر مقلد ہے )کی حقیقت معلوم ہوگئی … یہ فرقہ اہل سنت کا سخت مخالف ہے اور اجتہاد کا دعویٰ کرتا ہے …فلسطین کے مشہور عالم اور جامعہ ازہر مصر کے استاد علامہ یوسف بن اسماعیل نبھانی (م ۔۱۳۵۰؁ھ /۱۹۳۲؁ء) جو نابلس کے قاضی اورمحکمہ انصاف کے وزیر بھی رہ چکے ہیں )فرماتے ہیں :…

وہ مدعی اجتہاد ہیں مگر زمین میں درپے فساد ہیں ،اہل سنت

کے مذاہب میں کسی مذہب پر بھی گامزن نہیں ہوتے ۔

شیطان ان میں سے نئی نئی جماعتیں تیار کرتارہتا ہے

جو اہل اسلام کے ساتھ بر سر پیکار ہیں …۲۰۹

اس قتباس میں محکمہ انصاف کے اس وزیر اور جج نے تین باتیں فرمائی ہیں :…

غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے پوشیدہ راز :

عقیدہ :غیر مقلّدین اہل حدیث وہابیوں کے نزدیک کا فر کا ذبح کیا ہو اجانور حلا ل ہے ۔اسکا کھانا جائز ہے ۔ (بحوالہ :دلیل الطالب ص 413،مصنف :نواب صدیق حسن خاں اہل حدیث )

(بحوالہ :عرف الجادی ص 247مصنف :نورالحسن خاں اہل حدیث )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک رسول اللہ ﷺکے مزار مبارک کی زیارت کے لئے سفر کرنا جائز نہیں ۔(بحوالہ :کتاب :عرف الجاری صفحہ نمبر 257)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک لفظ اللہ کے ساتھ ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ :کتاب : البنیاں المر صوص ص173)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک بدن سے کتنا ہی خون نکلے اس سے وضونہیں ٹوٹتا ۔

(بحوالہ :کتاب :دستور المتقی )

عقیدہ :اہل حدیث وہابیوں کا امام ابن تیمیہ لکھتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تین سو سے زیادہ مسئلوں میں غلطی کی ہے ۔(بحوالہ :کتاب :فتاوٰی حدیثیہ ص 87)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک خطبہ میں خلفائے راشدین کا ذکر کرنا بد عت ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :ہدیۃ المہدی ص110)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک متعہ جائز ہے ۔(بحوالہ :کتاب :ہدیۃ المہدی ص 118)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک صحابہ کرام علیہم الرضوان کے اقوال حجت نہیں ہیں ۔

(بحوالہ :کتاب ہدیۃ المہدی ص 211)

عقیدہ :اما م الوہابیہ محمد بن عبدالوہاب نجدی اپنی کتاب اوضح البر اہین صفحہ نمبر 10پر لکھتا ہے کہ حضور ﷺکا مزار گرا دینے کے لائق ہے اگر میں اسکے گرادینے پر قادر ہوگیا تو گرا دونگا ۔(معاذ اللہ )

عقیدہ :بانی وہابی مذہب محمد بن عبدالوہاب نجدی کا یہ عقیدہ تھا کہ جملہ اہلِ عالم و تما م مسلمانان دیار مشرک و کافر ہیں اور ان سے قتل قضال کرنا ان کے اموال کو ان سے چھین لینا حلال اور جائز بلکہ واجب ہے ۔(ماخوذ حسین احمد مدنی ،الشہاب الثاقب ص 43)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فجر کی نماز کے واسطے علاوہ تکبیر کے دو اذانیں دینی چاہئے ۔

(بحوالہ :اسرار اللنعت پارہ دہم ص 119)

عقیدہ :اہل حدیث امام ابو حنیفہ ،امام شافعی ،امام مالک ،امام احمد رضوان اللہ علیہم اجمعین کو کھلے عام گلیاں دیتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث اپنے سوا تمام مسلمانوں کو گمراہ اور بے دین سمجھتے ہیں۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک جمعہ کی دو اذانیں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی جاری کردہ

بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک چوتھے دن کی قربانی جائز ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تراویح 12رکعت ہیں 20رکعت پڑھنے والے گمراہ ہیں ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک فقہ بد عت ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک حالتِ حیض میں عورت پر طلاق نہیں پڑتی ہے ۔

(بحوالہ :روضۂ ندیہ ص 211)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک تین طلاقیں تین نہیں بلکہ ایک طلاق ہے ۔

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک ایک ہی بکری کی قربانی بہت سے گھر والوں کی طرف سے کفایت کرتی ہے اگرچہ سو آدمی ہی ایک مکان میں کیوں نہ ہو۔(بحوالہ :بد ور الاہلہ ص 341)

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں منی پاک ہے ۔(بحوالہ :بدور الا ہلہ ص15دیگر کتب بالا )

عقیدہ :اہل حدیث مذہب میں مرد ایک وقت میں جتنی عورتوں سے چاہے نکاح کرسکتا ہے اسکی حد نہیں کہ چار ہی ہو ۔(بحوالہ :ظفر اللہ رضی ص141،ص142نواب صاحب )

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک زوال ہونے سے پہلے جمعہ کی نماز پڑھنا جائز ہے ۔

(بحوالہ : کتاب :بدور الا ہلہ ص71)

عقیدہ :اہل حدیث کے نزدیک اگر کوئی قصداً (جان بوجھ کر )نماز چھوڑدے اور پھر اسکی قضا کرے تو قضا سے کچھ فائدہ نہیں وہ نماز اسکی مقبول نہیں اور نہ اس نماز کی قضا کرنا اس کے ذمہ واجب ہے وہ ہمیشہ گنہگار رہیگا ۔(بحوالہ :دلیل الطالب ص250)

ان نام نہاد اہل حدیث وہابی مذہب کے عقائد و نظریات ہیں یہ قوم کو حدیث حدیث کی پٹی پڑھا کر ور گلاتے ہیں ان کے چنداہم اصول ہیں وہ اصول ملاحظہ فرمائیں ۔

وہابی اہل حدیث مذہب کے چند اہم اصول }

اصول نمبر1 :ان کا سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اگلے زمانے کے بزرگوں کی کوئی بات ہرگز سنی جائے چاہے وہ ساری دنیا کے مانے ہوئے بزرگ کیوں نہ ہوں ۔

اصول نمبر2 :غیر مقلدین اہل حدیث مذہب کا دوسرا اہم اصول یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی تفسیر لکھنے والے بڑے بڑے مفسرین اور قرآن و حدیث سے مسائل نکالنے والے بڑے بڑے مجتہد ین میں سے کسی کی کوئی تفسیر اور کسی مجتہد کی کوئی بات ہر گز نہ مانی جائے ۔

اصول نمبر3 :تیسرا اہم اصول یہ ہے کہ ہر مسئلے میں آسان صورت اختیار کی جائے (چاہے وہ دین کے منافی ہو )اور اگر اسکے خلاف کوئی حدیث پیش کرے تو اسے ضعیف کا اسٹیمپ لگا کر ماننے سے انکار کردیا جائے جو حدیثیں اپنے مطلب کی ہیں کہ ان کو اپنا لیا جائے اسلئے کہ انسان کی خاصیت ہے کہ وہ آسانی کو پسند کرتا ہے ۔تو حنفی ،شافعی ،مالکی ،حنبلی سب ہمارے (نام نہاد اہل حدیث وہابی )

مذہب کی آسانی دیکھ اپنا پرانا مذہب چھوڑ دیں گے اور غیر مقلّد ہوکر ہمارانیا مذہب قبول کرلیں گے ۔

اس کے چند نمونے یہ ہیں ۔

۱)تراویح لوگ زیادہ نہیں پڑھ سکتے تھک جاتے ہیں لہٰذا آٹھ پڑھا کر فارغ کردیا جائے ۔

۲)قربانی تین دن کی قصائی اور کام کاج کی مارا ماری کی وجہ سے چوتھے دن کی جائے یہ آسان ہے ۔

۳)طلاق دے کر آدمی بے چارہ بہ حواس پڑھتا ہے لہٰذا ایسی مشین تیار کی جائے کہ طلاقیں تین ڈالو باہر ایک نکالو تو ایک طلا ق نکلے ۔

۴)بزرگوں کے معاملات قرآن کی تفسیر یں ترقی یافتہ دور میں کون پڑھے بس اپنی من مانی کیئے جاؤ قرآن تمہارے سامنے ہے ۔

غیر مقلّدین اہل حدیث کا امام ابنِ تیمیہ کون تھا ؟

ابنِ تیمیہ کون تھا ؟}

ابنِ تیمیہ 661؁ھ میں پیدا ہوا اور 728؁ ھ میں مرا ابنِ تیمیہ وہ شخص تھا جس کو غیر مقلد ین اہل حدیث وہابی حضرات اپنا امام تسلیم کرتے ہیں مگر وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے اس نے بہت سے مسائل میں علماء حق کی مخالفت کی ہے یہاں تک کہ اس نے حضور ﷺکی زیارت کے لئے مدینہ طیبہ کے سفر کو گناہ قرار دیا ہے اسکا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ۔ اور یہ بھی اسکا عقیدہ ہے کہ خدا ئے تعالیٰ کی ذات میں تغیّر و تبدل ہوتا ہے ۔

۱)…اس امت کے امام شیخ احمد صاوی مالکی علیہ الرحمہ اپنی تفسیر صاوی جلد اول کے صفحہ نمبر 96پر تحریر فرماتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ حنبلی کہلاتا تھا حالانکہ اس مذہب کے اماموں نے بھی اس کا رد کیا ہے یہاں تک علماء نے فرمایا کہ وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے ۔

۲)… علامہ شہاب الدین بن حجر مکّی شافعی علیہ الرحمہ اپنی فتاوٰی حدیثیہ کے صفحہ نمبر 116پر ابنِ تیمیہ کے متعلق لکھتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ کہتا ہے کہ جہنم فنا ہوجائے گی اور یہ بھی کہتا ہے کہ انبیاء کرام علیہم اسلام معصوم نہیں ہیں اور رسول اللہ ﷺکا کوئی مرتبہ نہیں ہے ان کو وسیلہ نہ بنایا جائے اور حضور ﷺکی زیارت کی نیت سے سفر کرنا گناہ ہے ایسے کفر میں نماز کی قصر جائز نہیں جو شخص ایسا کریگا وہ حضور ﷺکی شفاعت سے محروم رہیگا ۔

۳)…آٹھویں صدی ہجری کے عظیم اند لسی مورخ ابو عبداللہ بن بطوطہ اپنے سفر نامہ میں ابنِ تیمیہ کا ذکر اس طرح کرتے ہیں ۔

گو ابنِ تیمیہ کو بہت سے فنون میں قدرت تکلم تھی لیکن دماغ میں کسی قدر فتور آگیا تھا ۔

(رحلّہ ابنِ بطوطہ مطبع دار بیروت ص 95و مطبع خیریہ ص 68)(ترجمہ :رئیس احمد جعفری ندوی ص 126مطبوعہ ادارہ درس اسلام )

دماغ میں خرابی اورفتور کی وجہ سے جب اپنی تیمیہ نے بہت سے مسائل میں اجماعِ امّت کی مخالفت کی یہاں تک کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اور حضرت علی اللہ عنہ کو بھی اعتراض کا نشانہ بنایا تو اہلسنّت و جماعت حنفی ، شافعی مالکی اور حنبلی ہر مذہب کے علماء نے ابنِ تیمیہ کا رد کیا اور اسے گمراہ گر قرار دیا ۔لیکن غیر مقلّدین نام نہاد وہابی اہل حدیث کہ جن کہ دلوں میں کھوٹ اور کجی پائی جاتی ہے انھوں نے دماغی خلل رکھنے والے ابنِ تیمیہ کی پیروی کرلی اور اسے اپنا امام پیشوا بنا لیا ۔

اہل حدیث مذہب والوں نے نیک اور قد آور شخصیات ائمہ اربعہ کو امام نہ مانا اور ان کی تقلید یعنی پیروی کو حرام لکھا تو ان کو سزا ملی کہ ابنِ تیمیہ جیسا زلیل ان لوگوں کا امام بنا اور انہوں نے اسے تسلیم بھی کیا ۔

غیر مقلّدین کو وہابی کیوں کہا جاتا ہے ؟}

بعض لوگ سوال کرتے ہیں کہ وہابی تو اللہ تعالیٰ کا نام ہے حالانکہ یا د رہے اللہ تعالیٰ کا نام وہابی نہیں ہے بلکہ وہاب ہے ۔غیر مقلّدین اہل حدیث کو محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیر وی ہی کے سبب وہابی کہا جا تا ہے لیکن اس نا م کو پسند کرتے ہوئے مشہور غیر مقلّدین مولوی محمد حسین بٹالوی نے انگریز گورنمنٹ سے بڑی کوششو ں کے بعد نام جگہ اہل حدیث منظور کرایا ۔

سعودیہ عرب والے قا بض نجدیوں کا کیا عقیدہ ہے }

سعودیہ عرب کے قابض نجدیوں کا انہی وہابی عقائد رکھنے والوں سے گہرا تعلق ہے سعودی بھی محمد بن عبدالوہاب نجدی کی پیدا وار ہیں اور اسے اپنا پیشوا مانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں غیر مقلّدین اہل حدیث پر وہ مکمل مہربان ہیں کروڑوں ،اربوں ریال ان کو امداد ملتی ہے جگہ جگہ مسجدیں ان کی کہا ں سے آئیں سارا سعودیہ کا چند ہ ہے اب غیر مقلّدین اہل حدیث بڑے فخر کیساتھ اپنا تعلق وہا بیت اور محمد بن عبدالوہاب نجدی سے جوڑتے ہیں اور ریالوں کی جھنکار سے فائد ہ اٹھا تے ہیں ۔

الد عوہ والا رشاد ،لشکرِ طیبہ ،جمعیت اہل حدیث ،تحریک اہل حدیث ،اہل حدیث یوتھ فورس ،سلفی تحریک (جتنے بھی سلفی لگاتے ہیں یہ تلفی ہیں سلفی نہیں ہیں سلفی کا مطلب سلف و صالحین کے پیروکار مراد ہے مگر یہ کسی کے پیر و کار نہیں )غرباء اہل حدیث یہ ساری تنظمیں اہل حدیث وہابی گروپ سے تعلق رکھتی ہے ۔

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فتوٰی نویسی میں احتیاط کی ایک مثال

امام احمد رضا علیہ الرحمہ کی فتوٰی نویسی میں احتیاط کی ایک مثال

از: افتخار الحسن رضوی

امام اہل سنت سیدنا الشاہ احمد رضا خان علیہ الرحمہ والرضوان سے متعلق ایک عمومی رائے جو کہ مخالفین اہل سنت نے قائم کر رکھی ہے، وہ یہ کہ امام احمد رضا علیہ الرحمہ متشدد، سخت گیر رویہ کے مالک اور تکفیری سوچ کے مالک تھے۔ اس رائے کے قائم ہو جانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے امام احمد رضا علیہ ا لرحمہ کی کتب کا خود مطالعہ نہیں کیا بلکہ سنی سنائی بات پر عمل کرتے ہیں۔ صحیحین میں یہ روایات موجود ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے کہ کسی بھی انسان کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے پھیلا دے (بغیر تفتیش و تصدیق)۔ یہی معاملہ یہاں کارفرما ہے۔ لوگوں نے امام اہل سنت سے متعلق ان لوگوں کی گفتگو پر یقین کر لیا جو لوگ امام کے نظریات سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ امام اہل سنت سے ایک بار سوال کیا گیا کہ غیر مقلدین اہل سنت میں داخل ہیں یا مبتدع (بدعت کرنے والے) میں؟ اس پر امام اہل سنت کا ایک جواب ملاحظہ فرمائیں؛

"غیر مقلّدین مبتدع، گمراہ ہیں ۔ علمائے عرب و عجم کا اس پر اتفاق ہے ۔ دیکھو عرب شریف کافتوٰی، ”فتاوی الحرمین ” جس پر علمائے مکہ و مدینہ کی مُہریں ہیں اور کتاب ”فتح المبین” اور ”جامع الشواھد” جن پر عرب و ہند کے بہت سے علماء کی مہریں ہیں اور” طحطاوی حاشیہ درمختار” میں ان کے بدعتی ہونے کی تصریح ہے "۔ ( اظہار الحق الجلی)

مذکورہ بالا عبارت میں امام اہل سنت کی احتیاط کا انداز دیکھیں کہ ایک واضح سوال کے جواب میں آپ نے غیر مقلدین کومطلقاً نہ کافر لکھا اور نہ ہی گستاخ وغیرہ بلکہ ایک انتہائی مضبوط و مناسب اصطلاح استعمال فرمائی۔ جن علماء حضرات کے خلاف امام اہل سنت نے فتوٰی کفر صادر فرمایا ان میں رشیداحمد گنگوہی ، قاسم نانوتوی،خلیل احمد انبیٹھوی اور اشرف علی تھانوی شامل ہیں۔ اہل علم جانتے ہیں کہ امام احمد رضا نے ان لوگوں کے خلاف فتوٰی کفر دینے سے قبل طویل عرصے تک انہیں توبہ کی دعوت دی، انہیں تحریری و تقریری انداز میں یہ احساس دلانے کی بھرپور کوشش فرمائی کہ ان حضرات سے کفر و توہین کا ارتکاب ہوا ہے۔ "تحذیر الناس ” کی اشاعت کے تیس سال بعد اور "براہینِ قاطعہ” کی اشاعت کے سولہ سال بعد امام اہل سنت نے اپنے منصب کے تقاضے کو سامنے رکھتے ہوئے، امت مسلمہ کی خیر خواہی اور مذکورہ کتب کے مصنفین کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 1320 ہجری میں فتوٰی کفر صادر فرمایا۔

آپ علیہ الرحمہ کی صداقت و امانت کا ثبوت دیوبندی علماء نے بھی دیا اور یہاں تک کہا کہ اگر مولانا احمد رضا ہمارے متعلق فتوٰی کفر نہ دیتے تو وہ خود کافر ہو جاتے (کیونکہ ان کے نزدیک مذکورہ شخصیات کفر کی مرتکب تھیں)۔

لہٰذا یہ بات واضح اور روشن ہے کہ امام اہل سنت نے کبھی بھی ذاتی رنجش، عجلت اور غیض و غضب میں آکر فتوٰی جاری نہیں کیا بلکہ آپ نے ان کی خیر خواہی کی، انتظار کیا ، حجت تمام کی اور کئی برس گزر جانے کے بعد فتوٰی جاری فرمایا۔

عصرِ حاضر کے علماء کرام بلکہ بریلوی رضوی نسبت رکھنے والوں کی خدمت میں بصد احترام عرض ہے کہ امام اہل سنت کے اس طریقے پر عمل پیرا رہیں، جلدی سے کسی کے گستاخ، کافر ، صلح کلی یا بد مذہب ہو جانے کا فتوٰی مت صادر کر دیا کریں۔ جو غلطی پر ہو اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کریں، اور "فتوٰی” آخری آپشن کے طور پر استعمال کریں۔

احناف وغیر مقلدین کا تقابلی مطالعہ

احناف وغیر مقلدین کا تقابلی مطالعہ

علامہ عنایت الرحمن ہزاروی

محترم قارئین وبرادران اسلام! برصغیر پاک و ہند میں تقریبا بارہ صدیوں سے اسلام آیا۔ یہاں اسلام لانے والے‘ اسلام پھیلانے والے اور اسلام قبول کرنے والے سب کے سب اہل السنتہ والجماعتہ حنفی المسلک تھے یہاں تمام محدثین و مفسرین‘ فقہاء و اولیاء کرام و سلاطین عظام حنفی المسلک تھے۔ الحمدﷲ علی ذالک

لیکن جب سے انگریز کے شاطروغاصب قدم یہاں آئے تو وہ یورپ سے ذہنی آوارگی‘ مادر پدر آزادی اور دینی بے راہ روی کی سوغات ساتھ لائے اور مذہبی آزادی اور مذہبی تحقیق کے خوشنما اور دلفریب عنوانوں سے اس ملک میں ایک خود سرفرقے کو جنم دیا۔

اس فرقے کا پہلا قدم سلف صالحین سے بدگمانی اور اس کی انتہا سلف کے خلاف بدزبانی ہے یعنی اس فرقے کا ہر شخص اعجاب کل ذی رای برایہ پر نازاں و فرحاں ہونے کے ساتھ ساتھلعن آخر ہذہ الامتہ اولھا کا مصداق ہے۔ اس فرقے کا ہر فرد اپنے آپ کو آئمہ اربعہ بلکہ صحابہ کرام علیہم الرضوان سے اعلیٰ و برتر سمجھتا ہے۔

محترم قارئین!

میں اس کے مکمل حقائق پر نہیں بلکہ جملہ حقائق میں ایک حقیقت کی جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں جو ہمارا موضوع بحث ہے اور وہ اس فرقہ زائفہ کی تاریخ پیدائش ہے۔ جس کے جاننے کے بعد آپ پر جھوٹے لبادے اہلحدیث کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔

محترم قارئین!

اس ایک فرق کو ضرور سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ یہ فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے ۱۴ سو سال بعد پیدا ہوا ہے جو فرقہ رسول اﷲﷺ کے زمانے سے اتنا بعد میں پیدا ہوا ہو وہ کیونکر علم و عمل اخلاص وللہیت اجتہاد و استنباط میں خیر القرون میں پائے جانے والے خواص تو کجا عوام کے مقابلے میں افضل ہوسکتا ہے چنانچہ

ان کی کہانی خود انہی کی زبانی

اس محاورے کے استشاد اور مطابقت کے لئے ملاحظہ ہو۔ مولانا عبدالخالق اور نذیر حسین دہلوی صاحبان فرماتے ہیں

سو بانی مبانی اس فرقہ نواحداث کا عبدالحق ہے جو چند دنوں سے بنارس میں رہتا ہے اور حضرت امیرالمومنین (سید احمدشہید) نے ایسی حرکات نائشہ کے باعث اسے اپنی جماعت سے نکال دیا اور علمائے حرمین معظمین نے اس کے قتل کا فتویٰ لکھا مگر کسی طرح وہ بھاگ کر وہاں سے بچ نکلا

(نتائج التقلید ص ۳ الحیات بعد الممات ص ۲۲۸)

حوالہ ثانی

ام المومنین کا گستاخ مولوی عبدالحق بنارسی نے برملا کہا عائشہ علی سے لڑی اگر توبہ نہ کی تو مرتد مری اور یہ بھی دوسری مجلس میں کہا کہ صحابہ کا علم ہم سے کم تھا ان میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ حدیثیں یاد تھیں اور ہم کو ان سب کی حدیثیں یاد ہیں۔ (کشف الحجاب ص ۴۲)

حوالہ ثالث

غیر مقلدین کے عالم و مجتہد مسلم نواب صدیق حسن خان فرماتے ہیں اس زمانے میں ایک ریاکار اور شہرت پسند فرتے نے جنم لیا ہے جو ہر قسم کی خامیوں اور نقائص کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں حالانکہ علم اورعرفان سے اس فرقے کو دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ لوگ علوم آلیہ و عالیہ دونوں سے جاہل ہیں ۔(الحطہ ص ۱۵۳)

محترم قارئین!

اس قسم کے بیسیوں واقعات ان کی کتب سے نقل کئے جاسکتے ہیں مگر ھکذالقدر کفیٰ باالمرء عظۃکے طور پر کافی ہیں۔

مندرجہ بالااقتباسات میں کسی قسم کا کوئی اختلاف یا ابہام نہیں ہے کہ اس کی وضاحت کی جائے۔ یہ عبارات اپنے معانی میں خود اظہر من الشمس ہیں۔ بالخصوص نواب صاحب نے تو انتہا کردی۔ خصوصی طور پر نواب صاحب کے یہ الفاظ قابل غور ہیں

(ہر قسم کی خامیوں کے باوجود اپنے لئے قرآن و حدیث کے علم اور ان پر عامل ہونے کے دعویدار ہیں)

محترم قارئین!

آپ کو بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس فرقے کی تاریخ پیدائش کیا ہے۔ پھر غیر مقلدین کہتے ہیں کہ غیر مقلد نام تم نے ہمارا رکھا ہے۔ ورنہ ہم اہلحدیث ہیں اور یہ اصطلاح حدیث کی تدوین کے وقت سے چلی آرہی ہے لہذا ہم محدثین کے مسلک پر ہیں۔ تم ہمیں کیسے کہتے ہو کہ ہم بعد میں پیدا ہوئے ہیں۔

محترم قارئین!

مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر یہ بیان کیا جائے کہ اہل حدیث کی اصطلاح کتب متقدمین و متاخرین میں جو استعمال ہوئی ہے اس کا مصداق کون ہیں۔ اس سلسلے میں عرض ہے کہ جو حضرات حدیث کی خدمت میں روایتہ و درایتہ معروف ہوئے ہوں ایسے صاحبان علم و عمل کے لئے علماء امت اصحاب الحدیث اہل الحدیث اہل الاثر محدثین کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ درحقیقت ان اصطلاحات کے الفاظ میں تو اختلاف ہے معنی میں اتحاد ہے بالفاظ دیگر یہ سب باہم مترادف المعنی ہیں۔

اس دعوے کی دلیل کے لئے بجائے اصول حدیث کی کتب کے حوالے نقل کئے جائیں‘ قطع مسافت کے طور پر ایک غیر مقلد عالم مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی کی کتاب تاریخ اہل حدیث سے حوالہ نقل کردیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

(بعض جگہ تو ان کا ذکر لفظ اہل حدیث سے ہوا ہے اور بعض جگہ اصحاب حدیث سے بعض جگہ اہل اثر کے نام سے اور بعض جگہ محدثین کے نام سے مرجع ہر لقب یہی ہے) (تاریخ اہل حدیث ص ۱۲۸)

محترم قارئین!

سیالکوٹی صاحب کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اصطلاحات ان کے نزدیک بھی متراف المعنی ہیں۔ بزعم خویش اہل حدیث یعنی غیر مقلدین اور انفاس قدسیہ اہل حدیث میں بچند وجوہ فرق ہے۔

جماعت یا فرقہ اسے کہتے ہیں جو اصول و فروع میں ایک نظریہ پر متفق ہیں جیسے متقدمین و متاخرین علماء کی کتب میں متعدد فرق کا ذکر ہے مثلا مرجئہ قدریہ جبریہ معتزلہ خوارج روافض وغیرہ ان فرقوں کا بطور فرقہ ذکر ہیٍ مثلا مرجئہ بالکل اعمال کی ضرورت کو محسوس ہی نہیں کرتے‘ دخول جنت کے لئے نفس ایمان کو کافی سمجھتے ہیں تو اس کی ایک خاص نظریہ رکھنے والے گروہ کو مرجئہ سے موسوم کیا گیا۔ جبکہ قابل غور بات یہ ہے کہ اہل حدیث اگر کوئی فرقہ ہوتا اگرچہ حقانی ہوتا تو اس طریق پر ان کا ذکر ضرور ہوتا یعنی یہ کہا جاتا کہ یہ خوارج کا مسلک ہے اور اس کے مقابلے میں اہل حدیث کا مسلک یہ ہے جبکہ ایسا نہیں تو اس طرح ذکر نہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ اہل حدیث کہتے ہی ایسے اشخاص و افراد کو ہیں جو خدمت حدیث میں روایتہ و درایتہ معروف ہو‘ قطع نظراس سے کہ اس کا اپنا فقہی مسلک کیا ہے۔

چنانچہ جب ہم محدثین کا تذکرہ دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ احناف شوافع مالکیہ حنابلہ سب ہی اہل حدیث گزرے ہیں چنانچہ ذیل میں ایسے چند افراد کا ذکر مشتے نمونہ از حروارے کے طور پر کئے دیتا ہوں۔ ملاحظہ ہو

اہل الحدیث احناف

(۱) امام اعظم‘ عبدالکریم شہرستانی نے چند افراد کے نام گنوائے ان میں سے ایک امام اعظم بھی ہیں اور آخر میں فرمایا “وھوء لاء کلہم آئمتہ الحدیث”

اور اسی طرح علامہ ذہبی نے امام صاحب کو ان القابات سے یاد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا

الامام الاعظم فقیہ العراق متورع عالم عامل متقی اور کبیر الشان ان القابات کے ذریعہ تذکرہ کرتے ہوئے آپ کو حفاظ حدیث میں شمار کیا ہے۔ (تذکرہ الحفاظ ج ۱ ص ۱۵۸)

محترم قارئین!

آپ کی جلالت پر سینکڑوں کتابیں لکھی جاچکی ہیں۔ ہمارا اس وقت ان فضائل و اشعیاب مقصود نہیں ہے۔

(۲) زمربن ہزیل (۳) امام ابو یوسف (۴) قاسم بن معن (۵) علی بن مسر (۶) امام طماوی (۷) عافیہ بن یزید (۸) عبداﷲ بن مبارک ۔

عبداﷲ بن مبارک فرماتے ہیں۔

تعلمت الفقہ الذی عندی من ابی حنیفہ (بغدادی ج ۱۳ ص۳۸۸)

(۹) یحیی بن سعید القطان (۱۰) یحیی بن معین

یحیی بن معین فرماتے ہیں۔

القرأہ عندی قرأہ حزہ والفقہ فقہ ابی حنیفہ علی ھذا ادرکت الناس (بغدادی ج ۱۳ ص ۳۴۷)

کہ میرے نزدیک قراۃ حمزہ کوفی کی اور فقہ حضرت امام اعظم کا راحج ہے۔

تلک عشرہ کاملتہ

اہل الحدیث شوافع

(۱) صاحب مذہب امام ادریس شافعی رحمتہ اﷲ علیہ (۲) امام ترمذی رحمتہ اﷲ علیہ (۳) امام مسلم رحمتہ اﷲ علیہ (۴) امام نسائی رحمتہ اﷲ علیہ (۵) ابو خضر رحمتہ اﷲ علیہ (۶) ابن حبان رحمتہ اﷲ علیہ (۷) ابو السید رحمتہ اﷲ علیہ  (۸) ابن ماجہ رحمتہ اﷲ علیہ

اہل الحدیث مالکیہ

(۱) امام ابو نطیب (۲) قاضی ابو طاہر زملی (۳) امام ابن الباجی (۴) امام اسماعیل القاضی

اہل الحدیث حنابلہ

(۱) امام المقدسی (۲) الاشرم (۳) ابن الجوزی (۴) ابن شیخ عبدالقادر جیلانی یعنی ابوبکر عبدالرزاق

محترم قارئین!

یہ چند اسماء بطور نمونہ ذکرکئے ہیں اس میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ مسالک اربعہ کے محدثین ہیں۔ ان سب کے محدثین اور اہل الحدیث ہونے پر اتفاق ہے مگر آپ غور تو فرمائیں۔ ان میں حنفی شافعی مالکی حنبلی کیوں ہیں جبکہ ہمارے زمانے کے نام نہاد اہل الحدیث تو نہ حنفی ہیں نہ شافعی ‘ مالکی حنبلی ہیں۔ اس فرق کو آپ ایک مثال سے سمجھیں۔ اگر میں آپ سے کہوں کہ زید کا مسلک کیا ہے؟ تو جواب دینے والا اگر یہ کہے کہ وہ تو اہل الحدیث ہے تو آپ انصاف سے بتائیں کہ آپ کے ذہن میں کیا آئے گا۔ لامحالہ طور پر ایک فرقے کا تصور جسے ہمارے دیار میں وہابی کا لقب ملا۔ اب بزعم خویش وہ اہل الحدیث کہلاتے ہیں۔ پس منظر اس کا یہ ہے کہ اس فرقہ نوپید کا نام شروع میں محمد بن عبدالوہاب نجدی کے ہم مذہب ہونے کی وجہ سے وہابی کہا جانے لگا۔ بعد میں ان کے فطری حلیف انگریز سرکار نے اہل حدیث سے مسمیٰ کیا۔ چنانچہ مولانا حسین بٹالوی صاحب رقم طراز ہیں

بخدمت جناب سیکریٹری گورنمنٹ!  میں آپ کی خدمت میں سطور ذیل پیش کرنے کی اجازت اور معافی کا خواست گار ہوں۔  ۱۸۸۶ء میں میں نے اپنے ماہواری رسالہ اشاعتہ السنہ شائع کیا تھا جس میں اس کا اظہار تھا کہ لفظ وہابی جس کو عموما باغی اور نمک حرام کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے لہذا اس لفظ کا استعمال مسلمانان ہندوستان کے اس گروہ کے حق میں جو اہل حدیث کہلائے جاتے ہیں اور وہ ہمیشہ سے سرکار انگریز کے نمک حلال اور خیرخواہ رہے ہیں اور یہ بات بار بار ثابت ہوچکی ہے اور سرکاری خط و کتابت میں تسلیم کی جاچکی ہے۔ ہم کمال ادب و انکساری کے ساتھ گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیںکہ وہ سرکاری طور پر اس لفظ وہاب یکو منسوخ کرکے اس لفظ کے استعمال سے ممانعت کا حکم نافذ کرے اور ان کو اہل حدیث کے نام سے مخاطب کیا جاویٍ اس درخواست پر فرقہ اہل حدیث تمام صوبہ جات ہندوستان کے دستخط ثبت ہیں۔

(اشاعتہ السنہ ص ۲۴ جلد ۱۱ شمارہ ۲)

محترم قارئین!

بٹالوی صاحب کی اس واضح المعنیٰ عبارت پر تبصرہ کی ضرورت نہیں ہیٍ آپ سمجھ ہی گئے ہوں گے کہ اس اصطلاح الحدیث کی الاٹمنٹ ان کے دیرینہ یار انگریز نے بطور ہدیہ عنایت کی ہے۔ بے شک کلمتہ حق ارید بہا الباطل اس موقع کے لئے کہا گیا ہیٍ۔ اس حقیقت سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو محدثین گزشتہ صدیوں میں گزرے ہیں وہ فرق میں کسی نہ کسی امام کے عیال تھے اور اگر کوئی ایسا نہ تھا تو وہ از خود فقیہ و مجتہد ہوتا تھا۔

محترم قارئین!

مسابق میں جو بیان ہوا یہ تو تھا تصویر کا ایک رخ۔ اس فرقے کے مقابلہ میں احناف کب سے ہیں‘ ان کا تاریخی پس منظر کیا ہے۔ اس کو ملاحظہ فرمائیں۔

(۱) غیر مقلدین کا فرقہ چودھویں صدی میں عبدالحق بنارسی نے بنایا ہے جبکہ احناف خیر القرون قرنی ثم  الذین یلونہم کا مظہر ہیں اور دوسری صدی احناف کا محور اجتہاد رہا اور ابتداء ہوئی۔

(۲) امام اعظم ابو حنیفہ رحمتہ اﷲ علیہ کبار تابعین میں سے ہیں جبکہ بانی غیر مقلدین عبدالحق بنارسی تابعی تو کیا تبع تابعی تو کیابلکہ گیارہویں صدی کے کبار علماء تک کا دیدار نہ کرسکا۔

(۳) حضرت امام صاحب رحمتہ اﷲ علیہ کے متعلق احادیث میں بشارت ہے کہ اگر علم ثریا ستارے پر بھی ہو تو تب بھی ایک فارسی شخص اسے حاصل کرلے گا۔ جبکہ عبدالحق بنارسی کے لئے کوئی ایک موضوع مخترع روایت بھی موجود نہیں ہے۔

ہاں اب گڑھ لیں تو اور بات ہے۔

محترم قارئین کرام!

اس ہیچمداں نے اپنی بے بغاعتی اور کم علمی کے باوجود حقیقت کی نقاب کشائی و تصویر کشی کی ہے۔ فیصلہ آپ کریں کہ ۱۴ سو سال قبل کے سواداعظم کے طریق پر رہنا بہتر اور حقانی ہے یا شتر بے مہار غیر مقلد بننا۔

راہ و منزل کا انتخاب آپ پر ہے۔

غیر مقلدین اور ماتم

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

الصلوٰۃ و السلام علیک یارسول اﷲ

رافضیوں کے علاوہ تقریبا تمام مکاتب فکر ماتم کے سخت مخالف ہیں، غیر مقلدین بھی اس کو بدعت اور ناجائز کہنے میں پیش پیش نظر آتے ہیں چنانچہ غیر مقلدین کے شیخ الکل نذیر حسین دہلوی نے فتاویٰ نذیریہ کے صفحہ 256,224 اور 266 پر اور وہابی شیخ وحید الزماں صدیقی نے اپنی کتاب نزل الابرار کے صفحہ 178 پر ماتم کو ناجائز قرار دیا، لیکن سخت تعجب کی بات یہ ہے کہ ماتم کی یہ حرمت ان کے نزدیک صرف یہیں تک محدود نظر آتی ہے، باقی رہا اپنے مولویوں اور مناظرہ کرنے والوں کا معاملہ تو وہ ان کے نزدیک اس سے مستثنیٰ معلوم ہوتے ہیں، چنانچہ جب اہلحدیث فرقہ کے مایہ ناز سیرت نگار قاضی محمد سلیمان کا انتقال ہوا تو فرقہ اہلحدیث کے عظیم مرکز مدرسہ دارالحدیث رحمانیہ دہلی، میں ایک زبردست ماتمی جلسہ منعقد کیا گیا، غیر مقلد تذکرہ نگار محمد اسحاق بھٹی اس ماتمی جلسہ کے احوال اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’قاضی صاحب کی وفات حسرت آیات پر اظہار غم کے لئے 4 جون 1930ء کو دہلی کا دارالحدیث رحمانیہ کے طلباء و مدرسین کا ایک جلسہ تعزیت زیر صدارت مولانا احمد اﷲ صاحب پرتاب گڑھی دہلوی دس بجے منعقد ہوا، جس میں اظہار ملال کیا گیا، مرحوم کے سوانح حیات اور قومی خدمات پر دارالحدیث کے اساتذہ اور طلباء نے تقریریں کیں، تعزیتی نظمیں بھی پڑھی گئیں اور حسب ذیل تجاویز باتفاق رائے پاس ہوئیں:

1۔ جمیع طلبائے رحمانیہ کا یہ ماتمی جلسہ مولانا قاضی محمد سلیمان صاحب پٹیالوی کی وفات پر کامل درد وغم کا اظہار کرتا ہوا ان کے پسماندگان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہے

(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 401 مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور)

قاضی سلیمان کے انتقال پر باقاعدہ ماتم بھی ہوا چنانچہ ایک اور جگہ اسحاق بھٹی صاحب لکھتے ہیں: قاضی صاحب کے سانحہ ارتحال پر سید سلیمان ندوی مرحوم نے انہیں بڑی محبت اور خلوص سے خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جولائی 1930ء (صفر 1329ھ) کے ’’معارف‘‘ اعظم گڑھ میں حسب ذیل تعزیتی مضمون لکھا تھا ’’وہ مشرقی فاضل جس کی وفات پر آج ہم کو ماتم کرنا ہے، وہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری سابق جج پٹیالہ اور سیرت کی مشہور کتاب ’’رحمتہ للعالمین‘‘ کے مصنف ہیں‘‘

(تذکرہ قاضی محمد سلیمان منصور پوری ص 407 مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ شیش محل لاہور)

غیر مقلدین کے مشہور و معروف مناظر، شیخ ثناء اﷲ امرتسری کا جب انتقال ہوا تو غیر مقلدین ان کی وفات پر بھی ماتم کئے بغیر نہ رہ سکے چنانچہ ان کے مولوی ابوالبشیر محمد حبیب نے لکھا

تھا یہی وہ مرد میداں جس کا ماتم آج ہے

جس کی رحلت سے اسیر غم یہ عالم آج ہے

(سیرت ثنائی ص 492 مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

نیز خود ثناء اﷲ امرتسری بھی ماتم پرسی کے مرتکب ہوئے چنانچہ وہابی عالم عبدالمجید سوہدروی لکھتے ہیں : احناف و مقلدین سے اگرچہ آپ کی نوک جھونک ہوا کرتی تھی، لیکن جب ان میں سے کسی کی وفات ہوجاتی تو آپ جنازہ پر تشریف لے جاتے، ماتم پرسی کرتے خود نہ جاسکتے تو اپنے صاحبزادہ یا پوتے کو بھیج دیتے

(سیرت ثنائی ص 174، مطبوعہ نعمانی کتب خانہ لاہور)

وحید الزماں صدیقی، ہندوستان میں غیر مقلدین کی ایک قد آور شخصیت ہیں، انہوں نے اگرچہ ماتم کو ایک جگہ ناجائز قرار دیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے محرم الحرام کے مہینہ کو مستقل طور پر ماتمی مہینہ ثابت کرنے کی کوشش کی، چنانچہ وہ اپنی کتاب وحید اللغات میں لکھتے ہیں ’’اکثر لوگوں نے سال ہجری کا ’’شروع‘‘ محرم سے رکھا ہے مگر جب سے امام حسین علیہ السلام کی شہادت محرم میں ہوئی یہ مہینہ خوشی کا نہیں رہا، مترجم (وحید الزمان) کہتا ہے اگر سب مسلمان مل کر، سال کا آغاز ماہ شوال سے کرلیں تو بہت مناسب ہوگا اور غزۂ شوال، سال کا پہلا دن ہو، اس دن خوشی کریں کھائیں پئیں، محرم کا مہینہ شہادت کی وجہ سے غم کا مہینہ ہوگیا ہے۔ دوسری قومیں سال کے پہلے دن میں خوشی اور خرمی کرتی ہیں اور مسلمان روتے پیٹتے اور غم کرتے ہیں‘‘

(حیات وحید الزماں ص112 مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب آرام باغ کراچی، وحید اللغات مادہ عود)

قارئین غور فرمائیں کہ اہلحدیث، غیر مقلد فرقہ، شرک اور بدعت کے خلاف اپنے آپ کو کس قدر محرک دکھانے کی کوشش کرتا ہے لیکن مذکورہ بالا حوالہ جات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ یہ فرقہ خود بدعتوں اور منکرات کا مجموعہ ہے اس حوالہ سے کسی نے کیا خوب کہا ہے:

اتنی نہ بڑھا پاکئ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

***