کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :337

روایت ہے عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں۳؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثم یغتسل” کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ قیام رہا،شہر تَسْتُر فتح ہونے پر اول آپ ہی وہاں داخل ہوئے،عہد فاروقی میں بصرہ میں لوگوں کو علم دین سکھانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا،وہیں ۵۹ھ ؁میں وفات ہوئی۔

۲؎ مستحمہ کے معنی ہیں گرم پانی استعمال کرنے کی جگہ۔ حمیم گرم پانی،اسی سے حمام بنا۔اگرغسل خانہ کی زمین پختہ ہواوراس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں،اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہوجائے گی،اورغسل یاوضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے اسی لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی۔

۳؎ یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔

نماز کی کنجی طہارت ہے

حدیث نمبر :300

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نماز کی کنجی طہارت ہے ۱؎ اور اس کا احرام تکبیر اور اس سے کھلنا سلام ہے۲؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اوردارمی نے روایت کیااور ابن ماجہ نے بھی انہی سے اور ابوسعید سے۔۔

شرح

۱؎ کہ جیسے بغیرکنجی قفل نہیں کھلتا،ایسے ہی وضو،غسل یا تیمم کے بغیر نماز شروع نہیں ہوسکتی۔یہ حدیث امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دلیل ہے کہ جو وضو اورتیمم نہ کرسکے وہ نماز نہ پڑھے۔

۲؎ یعنی حج کا احرام تلبیہ سے بندھتا ہے کہ تلبیہ کہتے ہی حاجی پر صدہا چیزیں حرام ہوجاتی ہیں،ایسے ہی نماز کا احرام تکبیر سے بندھتاہے کہ تکبیر کہتے ہی کلام،سلام،کھانا،پینا سب حرام۔نیز جیسے حج کے احرام سے کھلنا سر منڈانے سے ہوتا ہے،ایسے ہی نماز کا احرام سے کھلناسلام سے ہوتا ہے کہ سلام پھیرتے ہی مذکورہ بالاتمام چیزیں حلال۔خیال رہے کہ تکبیرتحریمہ سب کے نزدیک فرض ہے مگر سلام امام شافعی و مالک واحمدرحمۃ اﷲ علیہم کے نزدیک فرض،اور ہمارے امام صاحب کے یہاں واجب ہے۔ان بزرگوں کی دلیل یہی حدیث ہے۔امام اعظم رحمۃ اﷲ علیہ کی دلیل ان اعرابی کی دلیل ہے جنہیں حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی تعلیم دی اس میں سلام کا ذکر نہیں۔اگر فرض ہوتا تو ضرور ذکر فرمایا جاتا،اس حدیث کی بنا پر ہم سلام کی فرضیت کا انکار کرتے ہیں،اس حدیث کی بنا پرسلام کے وجوب کے قائل،ہمارا عمل دونوں حدیثوں پر ہے۔تکبیروسلام کے پورے مسائل کتب فقہ میں دیکھو۔

ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں

حدیث نمبر :283

روایت ہے شبیب ابن ابی روح سے ۱؎ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی صحابی سے راوی ۲؎ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی سورۂ روم کی قرأت کی تو آپ کو متشابہ لگ گیا جب نماز پڑھ چکے تو فرمایا لوگوں کا کیا حال ہے کہ ہمارے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں۔طہارت اچھی طرح نہیں کرتے۳؎ ہم پر یہ ہی لوگ قرآن مشتبہ کردیتے ہیں۴؎(نسائی)

شرح

۱؎ آپ تابعین سے ہیں،حمص کے رہنے والے،آپ کے والد کا نام نعیم،کنیت ابو روح ہے،نہ خود صحابی ہیں نہ والد۔

۲؎ چونکہ تمام صحابہ پرہیز گار اور عادل ہیں کوئی فاسق نہیں اسی لئے اس طرح روایت جائز ہے۔صحابہ کے علاوہ اورراوی کا نام لینا ضروری ہے ورنہ حدیث مجروح ہوگی،کیونکہ نامعلوم وہ شخص فاسق ہے یا عادل۔غالبًا یہ صحابی اَغَرّغِفَارِی ہیں۔(مرقاۃ)

۳؎ یعنی وضوء وغسل کی سنتیں و مستحبات پورے ادا نہیں کرتےکیونکہ وضوء میں واجب کوئی نہیں۔

۴؎ یعنی ان کی کوتاہی کا اثر ہم پر یہ پڑتاہے کہ تلاوت میں لقمہ لگ جاتا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا اس سےمعلوم ہوا کہ حضور جیسی ہستی کی نماز پر ناقص الوضو کی صحبت کا اثر ہوجاتا ہے۔تو افسوس ان لوگوں پر جو بدکاروں اور بے دینوں کی صحبت میں رہیں یقینًا انکا ایمان بھی برا اثر لے گا یہ بیماری اڑکرلگتی ہے۔

جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :282

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنت کی چابی نماز ہے اور نماز کی چابی پاکی ۱؎(احمد)

شرح

۱؎ یعنی جنت کے درجات کی چابی نماز ہے،لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ جنت کی چابی کلمۂ طیبہ ہے کہ وہاں نفس جنت کی چابی مراد ہے،اگرچہ نماز کی شرائط بہت ہیں وقت،قبلہ کو منہ ہونا وغیرہ،لیکن طہارت بہت اہم ہے اسی لئے اسے نماز کی چابی فرمایا گیا۔

بہترین عمل نماز ہے

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :280

روایت ہے حضرت ثوبان سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ سیدھے رہو مگر تم یہ کر نہ سکو گے۲؎ اور جان رکھو کہ تمہارا بہترین عمل نماز ہے۳؎ اور وضوءکی حفاظت مؤمن ہی کرتا ہے ۴؎ اسے مالک،احمد،ابن ماجہ،اور دارمی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ آپ کا نام ثوبان ابن بُجْدَدْ،کنیت ابو عبداﷲ ہے،حضور کے آزاد کردہ غلام ہیں،ہمیشہ سفر و حضر میں حضور کے ساتھ رہے،حضور کے بعد اولًا شام میں، پھر حمص میں قیام فرمایا،۵۴ ھ ؁میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی عقائد،عبادات اور معاملات میں ٹھیک رہو ادھر ادھر نہ بہکو،لیکن پوری درستی طاقت انسانی سے باہر ہے۔لہذا بقدر طاقت درست رہو اور کوتاہیوں کی معافی چاہتے رہو،یا یہ مطلب ہے کہ استقامت کا ثواب تم شمار نہ کرسکو گے۔اِحْصَاء بمعنے کنکریوں پر گننا،تھوڑی چیز پوروں پر اور زیادہ چیز کنکروں پر گنی جاتی ہے،جو کنکر پر بھی نہ گنی جائے وہ شمار سے باہر ہوتی ہے۔

۳؎ کیونکہ اسلام میں سب سے پہلے نماز ہی فرض ہوئی،سارے اعمال فرش پر آئے مگر نماز عرش پر بلا کردی گئی،جس نے نماز درست کرلی ان شاءاﷲ اس کے سارے اعمال درست ہوجائیں گے،نیز نماز بہت سی عبادات کا مجموعہ اور سارے گناہوں سے بچانے والی ہے کہ بحالت نمازجھوٹ،غیبت وغیرہ کچھ نہیں ہوسکتی۔

۴؎ یعنی ہمیشہ باوضو رہنایاہمیشہ صحیح وضو کرنا کامل مؤمن کی پہچان ہے۔