علم کی اہمیت وفضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں

٭ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ’’العلم حیٰوۃ الاسلام و عماد الدین‘‘ علم اسلام کی زندگی ہے اور دین کا ستون ہے۔ (کنزا لعمال)

٭ حضرتِ عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ علم عبادت سے بہتر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بہترین عبادت علم کا حاصل کرنا ہے۔ (کنزالعمال)

٭ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائہا‘‘ ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات جاگنے سے بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ)

٭ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کائنات ﷺ نے فرمایا جو شخص علم کی تلاش میں راستہ چلتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے اور جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں(یعنی مسجد، مدرسہ، خانقاہ میں) جمع ہوتی ہے اور قرآنِ مجید کو پڑھتی اور پڑھاتی ہے تو ان پر خدا سکینہ نازل فرماتا ہے، خدا کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں۔ (مسلم شریف)

٭ سید عالم ﷺ فرماتے ہیں ’’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراً یُّفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْنِ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ’’لِکُلِّ شَیْئیٍ طَرِیْقٌ وَّ طَرِیْقُ الجَنَّۃِ العِلْمُ‘‘ ہر چیز کا ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔ ( کنز العمال ص۸۹)

٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں ہوگا جنت اس کی تلاش میں ہوگی۔ اور جو شخص گناہ کی کھوج میں ہوگا جہنم اس کی کھوج میں ہوگی۔(کنز العمال ج۱ ص۹۲)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ، ص۳۴)

٭ حضرت سنجرہ ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے علم حاصل کیا تو یہ حاصل کرنا اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ (ترمذی، الدارمی)

٭ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے سیر نہیں ہوتے ہیں، ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرا دنیا کا بھوکا دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ (بیہقی، مشکوٰۃ، ص۳۷)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب طالبِ علم کو موت آجائے اور وہ طلب علم کی حالت پر مرے تو وہ شہید ہے۔ (کنز العمال، جلد اول ص۷۹)

٭ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ‘‘ یعنی جس نے علم دین حاصل کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی کو اپنے ذمۂ کرم پر لے لیا۔ (کنز العمال)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے لوگوں کو دیکھنا پسند کرے تو وہ طالب علموں کو دیکھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کوئی طالب علم جب کسی عالم کے دروازے پر آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے جنت میں ایک شہر تیار کرتا ہے۔ اور وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ زمین اس کے لئے مغفرت طلب کرتی ہے۔ اور صبح و شام اس حال میں کرتا ہے کہ بخشا ہوا ہوتا ہے اور ملائکہ طالب علموں کے لئے گواہی دیتے ہیں کہ وہ جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں۔ (تفسیر کبیر)

٭ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے قدم علم کی طلب میں گرد آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جہنم پر حرام فرمائے گا اور خدائے تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔ اور اگر علم کی طلب میں مر گیا تو شہید ہوا اور اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی اور اس کی قبر تا حد نگاہ کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے پڑوسیوں پر روشن کر دی جائے گی۔ چالیس قبریں اس کے داہنے، چالیس اس کے بائیں، چالیس اس کے پیچھے اور چالیس قبریں اس کے آگے۔ (تفسیر کبیر، جلد اول، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا، مسجد میں بیٹھنا، کعبہ دیکھنا، مصحف کو دیکھنا، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔(فتاویٰ رضویہ)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں مصحف کو دیکھنا، کعبہ کو دیکھنا، ماں باپ کو دیکھنا، زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اترتے ہیں، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۴؍۶۱۶)

٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دین کی سمجھ رکھنے والا ایک شخص(عالم) شیطان پر ایک ہزار عابدوں کے مقابلہ میں زیادہ بھاری ہے۔

(جامع الاحادیث ص۱۷۳)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل کٹ جاتا ہے۔ مگر تین چیزوں کا ثواب برابر جاری رہتا ہے صدقۂ جاریہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا دوچیزوں کے سوا کسی میں حسد جائز نہیں۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے دین کا علم عطا فرمایا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری )

٭ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے عالم کی توہین کی تحقیق اس نے علم دین کی توہین کی اور جس نے علمِ دین کی توہین کی تحقیق اس نے نبی ا کی توہین کی اور جس نے نبیٔ کریم ا کی توہین کی یقینا اس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی، اور جس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی تحقیق اس نے اللہ کی توہین کی، اور جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی توہین کی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکو ذلیل و رسوا کریگا۔

(تفسیر کبیر، جلد۱، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عالم زمین میں اللہ تعالیٰ کی دلیل و حجت ہے تو جس نے عالم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہو گیا۔ (کنز ا لعمال )

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ’’مُجَالَسَۃُ الْعُلَمَائِ عِبَادَۃٌ‘‘ یعنی عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔ (کنز العمال)

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو چر لیا کرو۔ عرض کیا گیا جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا عالموں کی مجلس۔ (کنز ا لعمال)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شریعت کی ایک بات کا سننا سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور علم دین کی گفتگو کرنے والوں کے پاس ایک گھڑی بیٹھنا غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ (کنز العمال)

درس 014: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)

*درس 014: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَأَمَّا شَرَائِطُ أَرْكَانِ الْوُضُوءِ (فَمِنْهَا) أَنْ يَكُونَ الْوُضُوءُ بِالْمَاءِ

ارکانِ وضو کی شرائط: ان میں سے پہلی شرط یہ ہے کہ وضو *پانی* سے ہو۔

حَتَّى لَا يَجُوزَ التَّوَضُّؤُ بِمَا سِوَى الْمَاءِ مِنْ الْمَائِعَاتِ كَالْخَلِّ، وَالْعَصِيرِ، وَاللَّبَنِ، وَنَحْوِ ذَلِكَ

لہذا پانی کے علاوہ کسی بھی مائع (Liquid) سے وضو جائز نہیں ہے، جیسے سرکہ، کسی چیز کا نچوڑا ہوا رس(Juice) اور دودھ وغیرہ۔

لِقَوْلِهِ تَعَالَى {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ} [المائدة: 6] ، وَالْمُرَادُ مِنْهُ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ

اسکی دلیل اللہ تعالی کا فرمان ہے: اے ایمان والو! جب تم نماز کی طرف کھڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھ کہنیوں تک دھو لو اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤ ں دھولو۔ اس آیت میں جو غَسل (دھونے) کا لفظ ہے اس سے مراد ہے *پانی* سے دھونا۔

لِأَنَّهُ تَعَالَى قَالَ فِي آخِرِ الْآيَةِ {وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا} [المائدة: 6] نَقَلَ الْحُكْمَ إلَى التُّرَابِ عِنْدَ عَدَمِ الْمَاءِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْقُولَ مِنْهُ هُوَ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ

*پانی* سے دھونا جو کہا وہ اسلئے کہ اللہ تعالی نے اسی آیت کے دوسرے حصے میں فرمایا: اور اگر تم بے غسل ہو تو خوب پاک ہوجاؤ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے آیا ہویا تم نے عورتوں سے صحبت کی ہواور ان صورتوں میں *پانی نہ پاؤ* توپاک مٹی سے تیمم کرلو۔۔۔

اللہ تعالی نے مٹی سے طہارت حاصل کرنے کا حکم دیا اس وقت جب *پانی* موجود نہ ہو۔یہ حکم اس بات پر دلالت کرتا ہے پچھلی آیت میں غَسل سے مراد *پانی* سےدھونا ہے۔

وَكَذَا الْغَسْلُ الْمُطْلَقُ يَنْصَرِفُ إلَى الْغَسْلِ الْمُعْتَادِ، وَهُوَ الْغَسْلُ بِالْمَاءِ.

اسی طرح جب بھی مطلق غَسل (دھونے) کی بات ہوگی تو اس سے معمول کے مطابق دھونا مراد ہوگا، اور وہ *پانی* ہی سے دھونا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے یہاں سے بڑی نفیس بحث کا آغازکیا ہے۔

آپ نے اس پوری فصل میں ارکانِ وضو کی چار شرائط ذکر کی ہیں:

(١) أَنْ يَكُونَ الْوُضُوءُ بِالْمَاءِ: جس سے وضو کیا جائے وہ پانی ہو۔

(٢) أَنْ يَكُونَ بِالْمَاءِ الْمُطْلَقِ: ماءِ مطلق ہو یعنی اسے پانی ہی کہا اور سمجھا جاتا ہو۔

(٣) أَنْ يَكُونَ الْمَاءُ طَاهِرًا: پانی پاک ہو۔

(٤) أَنْ يَكُونَ طَهُورًا: پانی پاک کرنے والا ہو۔

*پانی کیا ہے ؟*

*پانی* ایک ایسا مائع (Liquid) ہے جو تیزی سے دوسری شے کااثر قبول کرتا ہے۔

اس کا نہ ہی کوئی رنگ ہے نہ ہی ذائقہ اور نہ ہی بو ہے۔ اور یہی عام طور پر مشہور ہے۔

مگر بعض فقہاء کرام پانی کے رنگ دار ہونے کے قائل ہیں، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا موقف یہ ہے کہ پانی کا رنگ ہے، نہ ہی مکمل سیا ہ ہے اور نہ ہی بالکل سفید بلکہ خفیف سیاہی مائل رنگ ہے، جسے ہم سرمئی کہتے ہیں۔ اور یہ رنگ اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب کوئی واضح سفید چیز کا اس سے ملاپ ہوجائے۔ جیسے سفید کپڑے پر پانی ڈالا جائے یا دودھ میں پانی ملایا جائے تو رنگت میں سرمئی پن ظاہر ہوجاتا ہے۔

(تفصیل فتاوی رضویہ، جلد 03)

الغرض پانی ایک مائع ہے اور وضو و غسل میں اسی سے طہارت حاصل کی جاتی ہے۔

اگر کوئی سوال کرے کہ قرآن میں کہا لکھا ہے کہ پانی سے طہارت حاصل کی جائے تو دلیل میں مذکورہ آیت پیش کی جاسکتی ہے۔

نیز *پانی* کی قید سے معلوم ہوا کہ جس کو *پانی* نہ کہا جاسکے لیکن ہو وہ مائع (Liquid) تب بھی اس سے وضو و غسل جائز نہیں ہے۔

ناریل کا پانی حقیقت میں پانی نہیں ہے بلکہ ناریل سے نکلنے والا رس ہے لہذا اس سے وضو جائز نہیں۔

*ابو محمد عارفین القادری*

اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے

حدیث نمبر :269

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اس علم کی مثال جس سے نفع نہ اٹھایا جائے اس خزانہ کی سی ہے جس سے اﷲ کی راہ میں خرچ نہ کیا جائے ۱؎ (احمدودارمی)

شرح

۱؎ سبحان اﷲ! کیا پاکیزہ مثال ہے،یعنی جس علم سے نہ عالم نفع اٹھائے نہ دوسرے وہ اسی مال کی طرح ہے جس سے نہ مالک فائدہ اٹھائے نہ اور لوگ،جیسے وہ مال بیکار بلکہ مضر ایسے ہی یہ علم وبال۔

علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ

حدیث نمبر :268

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ ۱؎ میں وفات پانے والا ہوں علم عنقریب اٹھ جائے گا فتنے ظاہر ہوں گے حتی کہ دو شخص ایک فریضہ میں جھگڑیں گے ایسا کوئی نہ پائیں گے جو ان میں فیصلہ کردے ۲؎ اسے دارمی اور دارقطنی نے روایت کیا۔

شرح

۱؎ فرائض سےمراد اسلامی فرائض،روزے،نماز وغیرہ کے مسائل ہیں،یا علم میراث۔دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں جیسا کہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے اگرچہ علم اور قرآن میں یہ بھی آگیا تھا مگر زیادتی اہتمام کے لیئے خصوصیت سے اس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔

۲؎ یعنی ابھی تو تم کو آسانی ہے کہ ہرمسئلہ مجھ سے پوچھ لو،میرے بعدایک وقت دشواری پیش آئے گی کہ علماء اٹھ جائیں گے یہاں تک کہ اگر میت کی میراث بانٹنی ہوگی تو مفتی نہ ملے گا۔ظاہر یہ ہے کہ یہاں دو سے مرادمیت کے دو وارث ہیں اورفریضہ سے مراد مسئلہ میراث اورہوسکتا ہے کہ فریضہ سے کوئی اور مسئلہ شرعی مراد ہو۔

یہ علم جاتے رہنے کے وقت ہوگا

حدیث نمبر :267

روایت ہے زیاد ابن لبید سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی چیز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا کہ یہ علم جاتے رہنے کے وقت ہوگا ۲؎ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ علم کیسے جاسکتا ہے؟ ہم قرآن پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو پڑھاتے رہیں گے اور تاقیامت ہماری اولاد اپنی اولاد کو۳؎ تو فرمایا اے زیاد تمہیں تمہاری ماں روئے ہم تو تمہیں مدینہ کے بڑے سمجھ داروں میں سے جانتے تھے۴؎ کیا یہ یہود اور نصاریٰ توریت و انجیل نہیں پڑھتے لیکن ان میں جو ہے اس پر بالکل عمل نہیں کرتے۵؎ روایت کیا احمد ابن ماجہ نے اور ترمذی نے انہیں سے اس طرح روایت کیا۔ایسے ہی دارمی نے ابو امامہ سے۔

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابو عبداﷲ ہے،انصاری ہیں،زُرَقِی ہیں۔حضور کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے،ہجرت سے پہلے حضور کے پاس مکہ معظمہ پہنچ گئے تھے۔پھر مدینہ منورہ ہجرت کرکے آئے اس لیئے آپ کو تمام صحابہ مہاجر انصار کہا کرتے تھے،حضور نے آپ کو حضرموت کا حاکم مقرر فرمایا،امیر معاویہ کے شروع زمانۂ امارت میں وفات پائی۔

۲؎ یعنی یہ نہایت ہولناک واقعات جب ہوں گے جب دنیا سے علم دین اٹھ گیا ہوگا۔

۳؎ یہاں قرآن پڑھنے پڑھانے سے مراد پورا علم سیکھنا سکھانا ہے یعنی جب تعلیم و تعلم کا مشغلہ قائم رہے گا تو علم کیونکر اٹھ جائے گا۔مصدر کے ہوتے حاصل مصدر کہاں جاسکتا ہے۔

۴؎ اس سےمعلوم ہوا کہ استاد اپنے شاگرد کو غیر مناسب سوال کرنے پر عتاب کرسکتا ہے یہ الفاظ کہ ہم تمہیں ایسا جانتے تھے اظہار عتاب کے لیئے ہوتے ہیں نہ کہ اپنی بے علمی کے اظہار کے لیئے جیسا کہ بعض ناسمجھ لوگوں نے اس حدیث سے حضور کے علم کا انکار کیا۔

۵؎ یعنی علم سے ہماری مراد نتیجہ علم ہے۔یعنی علم ہوگا عمل نہ ہوگا۔خیال رہے کہ عیسائیوں کے پادری اور جوگی رشوتیں لیکر عوام و اعمال سے معافی دے دیتے ہیں اور ان کے گناہ بخشتے رہتے ہیں توخودکیا نیکی کرتے ہوں گے،ہفتہ میں ایک دن گرجے میں گا بجا لینا ان کے عمل ہیں۔

تعلیم کا مفہوم

تعلیم کا مفہوم

تنویر ارشد

اللہ عزوجل کی اس دنیا میں مختلف قسم کی مخلوقات پائی جاتی ہیں اُن میں بعض مخلوقات کے پاس کچھ قدرتی صلاحتیں ہوتی ہیں جو اُنھیں ان کے ماحول کے ساتھ ہم آہنگی میں مدد فراہم کرتی ہیں اور انھیں اس مقصد کے حصول کے لیے کسی منظم تعلیم و تربیت کی ضرورت نہیں پڑتی، مگر انسان کی حالت قدرے مختلف ہے، کیونکہ انسان تمام مخلوقات میں سب سے زیادہ دوسرے پر منحصر رہتا ہے۔یہی سبب ہے کہ اہل خاندان اور سماج انسان کو روایتی اور غیر روایتی، رسمی اور غیر رسمی طور پر تعلیم سے آراستہ کرنے کی جتن کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے قدموں پر کھڑے ہوں،اور اپنی کفالت خود کر سکیں۔جس فکر اورعقل سلیم کی وجہ سے انسان دیگر مخلوقات پر امتیازی شان رکھتا ہے وہ اُسے اس بات پر ابھارتی ہے کہ وہ تعلیم حاصل کرے اور یہی تعلیم اسے اپنے ماحول سے ہم آہنگی پیدا کرنے میں تاحیات مدد کرتی ہے۔

انسان کے وجودمیں آتے ہی تعلیم کا عمل شروع ہو جاتا ہے،جس کے لیے ماں کی گودبنیادی کرداراداکرتی ہے اور جو انسان کے لیے پہلا مکتب بھی ہے،اسی لیے ماں کی گود سے ہی حصول تعلیم پر زوردیاگیاہے،حدیث شریف میں اسی پہلو کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے:

 ’’اُطْلِبُوا لْعِلْمَ مِنَ الْمَھْدِ اِلیٰ اللَّحْدِ۔‘‘

یعنی ماں کی گود سے لے کر مرنے (قبر) تک علم حاصل کرو۔

 کوشش اور خطا (Trail & Error) کی تکنیک کے استعمال سے وہ اس بات کوسیکھنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر کس طرح ماں کے سینے سے دودھ حاصل کیا جائے،چنانچہ جیسے جیسے اس کی معلومات کا دائرہ بڑھتاہے ویسے ہی اس کے روایتی وغیر روایتی اور رسمی و غیر رسمی اساتذہ کی تعداد بھی بڑھتی رہتی ہے اور یہ عمل اس کی آخری سانس تک جاری رہتا ہے۔

اس طرح انسان کی پوری زندگی دانائی اور ذہانت کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے جو اُسے دیگر مخلوقات کے مقابلے میں اشرف المخلوقات کا تاج پہناتی ہے اور صالح فکر کی وجہ سے معاشرتی تعلقات کا تانا بانا وجود میں آتا ہے جو دیگر حیوانات میں نہیں پایاجاتا ہے۔

آج کل، سماج اور سماجی ضروریات بہت زیادہ پیچیدہ ہوگئی ہیں۔ سماجی رشتے بھی دن بہ دن الجھتے جا رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہر تازہ سانس کے ساتھ ایک نیا چیلنج سامنے آجاتا ہے اورنت نئی ایجادات اور دریافت انسان کو یہ سوچنے پر مجبورکررہی ہے کہ فطرت پر زیادہ سے زیادہ کنٹرول حاصل کیا جائے۔ ان سب باتوں کے علاوہ زندگی کو آسان اور آرام طلب بنانے میں اچھے سے اچھے کی تلاش نے بھی انسانی زندگی کے شب و روز کو انقلابی بنا کر رکھ دیا ہے،جس کا نتیجہ اس طورپرسامنے آرہا ہے کہ اسکولوں، مدارس، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں رسمی تعلیم کے آغاز کی وکالت ہونے لگی ہے۔

 یہاں یہ بات واضح رہے کہ تعلیم کے عمل کو منظم اور صحت مند بنانے کے لیے فلسفیانہ خیالات، مذہبی اصول، نفسیاتی تجربات و اطلاعات اور سماجی بیداری و ضروریات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔

تعلیم کا حقیقی تصور کیا ہے اس کو سمجھنے کے لیے اس کے مفاہیم مندرجہ ذیل سطور میں پیش کیے جا رہے ہیں:

 تعلیم کا عام مفہوم 

عام لوگوں کے نزدیک مدرسہ یا اسکول میں دی جارہی معلومات اور ہدایات ہی تعلیم ہیں۔ اس عمل میں اساتذہ کچھ مخصوص مقاصد کے تحت طلبا کو معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس میں اساتذہ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے ،جبکہ طلبا کی حیثیت محض ایک سامع جیسی ہوتی ہے۔ وہ صرف ان معلومات کو حاصل کرتے ہیں جو اُنھیں اساتذہ کے ذریعے دی جاتی ہیں اور اس عمل کے خاتمے پر سال کے آخر میں انھیں پاس اور فیل کی سند تھما دی جاتی ہے۔

تعلیم کا یہ تصور بہت ہی تنگ اور فرسودہ ہے، کیونکہ اس میں اساتذہ کے ذریعے صرف اطلاعات کی ترسیل ہوتی ہے اور طلبا کے ذریعے صرف ان کا حصول ہوتا ہے۔ اس عمل کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ اس میں طلبا کی شخصیت اوراس کی ہمہ جہت نشو و نما پر کوئی زور نہیں دیا جاتا ۔ نتیجے کے طور پر اس طرح کی تعلیم طلباکو اس قابل بنانے میں ناکام ثابت ہوتی ہے کہ وہ مستقبل کی مشکلات اور چیلنج کا سامنا کر سکیں۔

 تعلیم کاتکنیکی مفہوم

یہ تعلیم مدرسہ، اسکول اورباہر ہونے والے اُن تمام تجربات و مشاہدات کو شامل ہے جو ایک فرد کو اس کی پوری زندگی میں کسی بھی طرح سے متأثر کرتے ہیں۔ ابتدائی طور پر یہ طلبا کی شخصیت کی نشو و نما اور اُن کے کردار کی تعمیر کے عمل کا نام ہے۔

اس طرح تعلیم شعوری اور غیر شعوری طورپر ایک مسلسل  عمل ہے جو فرد، مقام اور وقت کی پابندیوں سے آزاد ہے۔ بیداری کی حالت میں ہر وقت ہم کچھ نہ کچھ ضرورحاصل کرتے رہتے ہیں چاہے وہ تعلیم کی شکل میں ،تجربات کی شکل میں ہو یا پھر معلومات کی شکل میں۔

وہ جگہ جہاں تجربات کے تبادلے ہوتے رہتے ہیں، تکنیکی طور پر مدرسہ یا اسکول کہے جاتے ہیں اور ہر وہ فرد جو اِس عمل میں زیادہ سرگرم کردار ادا کرتا ہے وہ استاد کہلاتاہے۔

تعلیم کا عملی مفہوم

عملی طور پر نئے تجربات اور شخصیت کی ہمہ جہت نشو و نما کے لیے، فرد کی جبلی صلاحیتوں کا مکمل استعمال ہی تعلیم ہے، جس سے اس کی ذہنی، جسمانی اور روحانی صلاحیتوں کو فروغ حاصل ہو،اور اس تعلیم کے استعمال سے اُسے اس قابل بنایا جائے کہ وہ اپنی معلومات ،تجربات اور مشاہدات کا حقیقی زندگی پر اطلاق کر ے تاکہ اپنی ذات، سماج اور ملک و قوم کی فلاح و بہبود کا کام عمدہ طریقے سے انجام دے سکے۔

اس طرح تعلیم اپنے حدود کے اندر رہ کر بھی ایک فرد کو مکمل اور مثالی بنا سکتی ہے، اگرچہ کمال کا سب سے اونچا درجہ کبھی بھی قابل تسخیر نہیں رہا ہے،کیونکہ صرف اللہ تعالیٰ کی ذات والا صفات ہی کامل او رمکمل ہے۔

خدا کو بہت ناپسند وہ قاری ہیں جو امیروں کی ملاقاتیں کرتے ہیں

حدیث نمبر :265

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ غم کے کنوئیں سے اﷲ کی پناہ مانگو لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ غم کا کنوآں کیا ہے فرمایا دوزخ میں ایک جنگل ہے جس سے خود دوزخ روزانہ چار سو بار پناہ مانگتی ہے ۱؎ (۴۰۰)عرض کیا گیا یارسول اﷲ اس میں کون جائے گا؟فرمایا اپنے اعمال میں دکھلاوا کرنے والے قاری۲؎ اسے ترمذی نے روایت کیا یوں ہی ابن ماجہ نے اس میں یہ زیادہ ہے کہ خدا کو بہت ناپسند وہ قاری ہیں جو امیروں کی ملاقاتیں کرتے ہیں محاربی ظالم امیروں کی ۳؎

شرح

۱؎ یہ حدیث بالکل اپنے ظاہر پرہے چونکہ وہ جنگل بہت گہرا ہے اور وہاں سوائے غم کے اور کچھ نہیں اس لیئے اسےغم کاکنوآں فرمایا گیا۔دوزخ کی چارحدودہیں،ہرحد روزانہ سوبار اس وادی سے پناہ مانگتی ہے یاتو وہاں پر مقررکردہ فرشتہ زبانیہ اس سے پناہ مانگتے ہیں یا خود دوزخ کی آگ،ہر چیز میں شعور ہے جس سے وہ جانتی و پہچانتی ہے۔خیال رہے کہ جیسے دنیا کی آگوں کی گرمی مختلف ہے،گھاس پھوس کی آگ کم گرم،ببول کی آگ بہت تیز،پٹرول سپرٹ کی آگ اور زیادہ تیز،بعض آگ لوہا و فولاد گلا دیتی ہے ایسے ہی دوزخ کی آگ بھی مختلف ہے۔

۲؎ یعنی وہ بے دینی علماء جو اچھے اعمال کے لباس میں لوگوں کے سامنے آئیں اور لوگوں کو گمراہ اور بے دین بنائیں۔

۳؎ تاکہ ان سے دولت لےکر ان کی بدکاریوں کو جائز ثابت کریں اورظلم میں ان کے مددگار ہوں بلکہ چاپلوس عالم بھی خطرناک ہیں جو ہرجگہ پہنچ کر وہاں جیسا بن جائے۔ہمارا اﷲ،نبی،قرآن وکعبہ ایک،دین بھی ایک ہونا چاہئیے۔