نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید

نحوست گناہ اور توبہ نہ کرنے کی وعید:

سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

"مومن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے پھر اگر وہ توبہ کرے اور بخشش چاہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو وہ نکتہ پھیلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے پورے دل کو گھیر لیتا ہے۔”

[الزواجر عن اقتراف الکبائر للھیتمی (مترجم) ج 1 ص 60]

اس حدیث کو امام ابن ماجہ علیہ الرحمہ نے اپنی سنن [ج2 ص1418 رقم الحدیث 4244] میں روایت کیا ہے۔ اور امام احمد علیہ الرحمہ نے اپنی مسند [مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939] [مسند احمد (ط الرسالۃ) ج13 ص 333 رقم الحدیث 7952] میں روایت کیا ہے۔

امام حاکم نے اس حدیث کو امام مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے اس کی موافقت اختیار کی ہے۔ [المستدرك للحاکم ج 2 ص 562 رقم الحدیث 3908]

احمد شاکر صاحب نے اس حدیث کی سند کو صحیح قرار دے دیا ہے۔ [حاشیہ مسند احمد (ت شاکر) ج 8 ص 71 رقم الحدیث 7939]

شعیب الارنوؤط صاحب نے اس حدیث کی سند کو قوی قرار دے دیا ہے۔ [ حاشیہ مسند احمد (ط الرسالۃ ) ج 13 ص 334 رقم الحدیث 7952] [حاشیہ سنن ابن ماجہ (ت الارنوؤط) ج 5 ص 317 رقم الحدیث 4244]

اور البانی صاحب نے اس حدیث کی سند کو حسن قرار دے دیا ہے۔[حاشیہ سنن ابن ماجہ ج 2 ص 1418 رقم الحدیث 4244]

میری تحقیق کے مطابق اس حدیث کی سند حسن ہے کیونکہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی محمد بن عجلان ہے اس پر کچھ ائمہ کا کلام ہے اس لیے امام ذہبی نے اسے حسن الحدیث قرار دے دیا ہے۔[سیر اعلام النبلاء الجزء السادس (الطبقۃ الخامسۃ) ص 321] اور باقی رجال ثقہ ہیں۔

واللہ اعلم

✍رضاءالعسقلانی غفراللہ لہ

22 فروری 2019ء

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی حقیقت

سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کی حقیقت

جاوید چوہدری

یہ ویلفیئر ٹرسٹ ایک حیران کن منصوبہ ہے . یہ ٹرسٹ کراچی کےایک مولانا بشیر فاروقی نے 1999ء میں قائم کیا‘ مولانا میمن کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں‘ مسلک کے لحاظ سے حنفی ہیں‘ کراچی میں باردانے کی خرید و فروخت کا کام کرتے تھے‘ جوانی میں طبیعت مذہب کی طرف مائل ہوئی‘ دارالعلوم میں داخل ہوئے‘ مذہبی اور روحانی تعلیم حاصل کی‘ استخارے میں مہارت حاصل کی‘ لوگ ان کے دیوانہ وار مرید ہوئے‘ مذہبی چینل پر لائیو استخارہ شروع کیا‘ زائرین کی تعداد میں اضافہ ہو گیا‘ کراچی کی بزنس مین کمیونٹی میں روحانی رسوخ بنا‘ یہ عملی شخصیت ہیں چنانچہ انھوں نے میمن کمیونٹی کے ساتھ مل کر پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم کی بنیاد رکھ دی‘ سیلانی ٹرسٹ کا نام انھیں خانقاہ ڈوگراں میں مدفن خواجہ محکوم الدین سیلانی سے ملا‘یہ بزرگ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں گھومتے رہتے تھے‘ یہ اس معمول کی وجہ سے سیلانی کہلاتے تھے‘ یہ سیلانی تھے لیکن سمہ سٹہ ان کا مرکز تھا‘ یہ گھوم پھر کر واپس سمہ سٹہ اور خانقاہ ڈوگراں آجاتے تھے‘ دنیا کے تمام جینوئن بزرگ لنگر ضرور شروع کرتے ہیں‘ اللہ تعالیٰ رازق ہے‘ یہ آگ اور پتھر کے کیڑوں کو بھی رزق پہنچاتا ہے چنانچہ یہ ہر اس شخص کو پسند کرتا ہے جو دوسروں کے رزق کا ذریعہ بنتا ہے۔

آپ کو یقین نہ آئے تو آپ دنیا بھر کی سستی فوڈ چینز کی اسٹڈی کر لیں‘ دنیا کے کسی بھی کونے میں بننے والی سستی فوڈ چین دوسری مصنوعات کے مقابلے میں دس گنا تیزی سے ترقی کرتی ہے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ چین لوگوں کو سستا رزق فراہم کرتی ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ ان کی آمدنی میں برکت ڈال دیتا ہے‘ صوفیاء کرام کیونکہ اللہ کے اس نظام کو سمجھتے ہیں لہٰذا یہ اپنی درگاہ پر لنگر کا اہتمام ضرور کرتے ہیں‘ یہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور یوں ان کا آستانہ‘ ان کی درگاہ بادشاہوں کے دربار سے زیادہ اہمیت اختیارکر لیتی ہے‘ دہلی کے تمام مسلمان حکمران دنیا سے رخصت ہو گئے‘ ان کے دربار اور محلات اجڑ گئے لیکن دہلی کے صوفیاء کرام کے دربار آج بھی قائم ہیں‘ ان درباروں کی رونق کی بے شمار وجوہات میں سے ایک وجہ ان کا لنگر بھی ہے‘ ان کا دستر خوان قائم ہے چنانچہ ان کی درگاہ بھی سلامت ہے‘ خانقاہ ڈوگراں کے سیلانی بابا بھی بھوکوں کو کھانا کھلاتے تھے‘ آپ کے اس روحانی ذوق کی وجہ سے آپ کے دربار میں بہت رونق تھی‘ یہ رونق آج بھی قائم ہے‘ سیلانی بابا آخری عمر میں سفر کے لیے نکلے‘ بھارت کے علاقے دھراجی میں قیام کیا اور وہاں ان کا وصال ہو گیا‘ دھراجی کے لوگوں نے آپ کو اپنے علاقے میں دفن کردیا‘ سمہ سٹہ کے لوگوں کو علم ہوا تو یہ دھراجی پہنچ گئے اور آپ کی میت کا مطالبہ کردیا۔

دھراجی کے لوگوں نے انکار کر دیا‘ نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ گئی‘ اس دوران خواجہ محکوم الدین سیلانی دھراجی کے راجہ کے خواب میں آئے اور اس کو حکم دیا‘ آپ ان لوگوں کو میری لاش لے جانے دو‘ میں وہاں بھی رہوں گا اور آپ کے پاس بھی‘ راجہ نے اس حکم پر لبیک کہا‘ آپ کے مریدین آپ کا وجود اطہر لے کر سمہ سٹہ آ گئے اور خانقاہ شریف میں آپ کو دفن کر دیا‘ دھراجی کے راجہ نے تجسس سے مغلوب ہو کر ایک دن آپ کی خالی قبر کھول کر دیکھی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ حضرت صاحب قبر میں قرآن مجید کی تلاوت فرما رہے تھے‘ راجہ نے قبر بند کی اور اس پربھی مزار بنوا دیا‘ یوں دنیا میں خواجہ محکوم الدین سیلانی بابا کے دو مزار ہیں‘ بھارت کے علاقے دھراجی اور پاکستان کے شہر سمہ سٹہ کے مضافات میں ‘ مولانا بشیر فاروقی اور ان کے ساتھیوں نے جب 1999ء میں ویلفیئر ٹرسٹ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تو یہ لوگ نام تلاش کرنے لگے‘ آپ حسن اتفاق دیکھئے‘ یہ لوگ ٹرسٹ قائم کرنے کے لیے کراچی کی جس عمارت میں اکھٹے ہوئے وہ عمارت سیلانی چوک میں واقع تھی اور وہ علاقہ دھراجی کہلاتا تھا‘ ان لوگوں نے اسے قدرت کا اشارہ سمجھا اور اپنے ادارے کا نام سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ رکھ دیا۔

یہ ٹرسٹ پندرہ سال قبل بنا لیکن اس نے کراچی‘ حیدر آباد اور فیصل آباد میں کمال کر دیا‘ کراچی شہر میں اس کے 52 دستر خوان ہیں‘ ان دستر خوانوں پر روزانہ ایک لاکھ لوگ مفت کھانا کھاتے ہیں‘ سیلانی ٹرسٹ روزانہ 500 بکرے ذبح کرتا ہے‘ یہ ان کا سالن پکا کر غریبوں کو کھانا کھلاتے ہیں اور جو گوشت بچ جاتا ہے‘ یہ لوگ اسے غریبوں کی بستیوں میں بانٹ دیتے ہیں‘ یہ کراچی کے پانچ ہزار گھرانوں کی کفالت بھی کر رہے ہیں‘ یہ انھیں مہینے بھر کا راشن دیتے ہیں‘ ان کے گھروں کا کرایہ ادا کرتے ہیں‘ ان کے یوٹیلٹی بل ادا کرتے ہیں‘ ان کے بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرتے ہیں اور انھیں ادویات بھی فراہم کرتے ہیں‘ یہ پانچ ہزار خاندان وہ ہیں جن کے سربراہ ٹارگٹ کلنگ‘ ایکسیڈنٹ یا فساد میں مارے گئے اور ان کے خاندان کا کوئی کفیل نہیں‘ یہ لوگ اس مد میں ہر مہینے اڑھائی کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں‘ یہ انتہائی غریب لوگوں کو گھر اور فلیٹ بھی بنا کر دے رہے ہیں‘ یہ بیروزگاروں کو رکشے بھی خرید کر دیتے ہیں۔

کراچی شہر میں انھوں نے ساڑھے سات سو رکشے دیے‘ ‘ یہ پاپ کارن اور چائے کی چھوٹی مشینیں بھی دیتے ہیں‘ کراچی میں انھوں نے ایک ڈسکاؤنٹ اسٹور بھی قائم کیا‘ اس اسٹور سے کوئی بھی شخص خریداری کر سکتا ہے‘ خریداروں کو اسٹور میں 30 فیصد رعایت ملتی ہے‘ یہ ہر مہینے ساڑھے چار سو بچیوں کو جہیز بھی دیتے ہیں‘ یہ دس ہزار طالب علموں کو وظائف بھی دے رہے ہیں‘ سیلانی ٹرسٹ نے ایک انتہائی دلچسپ چیز بھی ایجاد کی‘ انھوں نے فائر موٹر سائیکل بنوائے‘ یہ موٹر سائیکل آگ بجھاتے ہیں‘ موٹر سائیکلوں پر پانی کے چھوٹے ٹینک اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کے سلینڈر لگے ہیں‘ یہ موٹر سائیکل چند منٹوں میں ان گلیوں میں گھس جاتے ہیں جہاں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں نہیں پہنچ پاتیں‘ یہ وہاں پہنچ کر فوراً آگ بجھا دیتے ہیں‘ میری چاروں صوبوں کے وزراء اعلیٰ سے درخواست ہے‘ یہ سیلانی ٹرسٹ کی اس ایجاد سے فائدہ اٹھائیں‘ موٹر سائیکلوں کو بھی فائر بریگیڈ کا حصہ بنائیں‘ اس سے ہزاروں لوگوں کو فائدہ ہو گا‘ یہ لوگ کراچی کے لیے لمبی لمبی سیڑھیاں بھی درآمد کر رہے ہیں‘ یہ ایسے غبارے بھی لا رہے ہیں جو آگ لگنے کی صورت میں عمارتوں کے نیچے بچھا دیے جائیں گے اور لوگ ان پر کود کر جان بچا سکیں گے۔

سیلانی ٹرسٹ نے ڈسپنسریاں بھی بنا رکھی ہیں‘ یہ بنیادی صحت پر بھی کام کر رہے ہیں‘ یہ موبائل کلینک بھی بنا رہے ہیں‘ ان کے چھوٹے اسپتال بھی ہیں‘ یہ کمپیوٹر ٹریننگ کا پروگرام بھی چلا رہے ہیں‘ ان کی کمپیوٹر لیب میں پانچ سو طالب علم مفت ٹریننگ لیتے ہیں اور یہ ٹریننگ کے بعد مہینے میں تیس چالیس ہزار روپے کما لیتے ہیں اور یہ لوگوں کو پاؤں پر کھڑا کرنے کے لیے انھیں مختلف قسم کے ہنر بھی سکھاتے ہیں‘ سیلانی ٹرسٹ 63 شعبوں میں کام کر رہاہے‘ یہ ویلفیئر پر سالانہ دو سو 15 کروڑ روپے (سودو ارب) خرچ کرتے ہیں‘ ان کے ڈونرز کراچی کے بڑے بزنس مین ہیں‘ یہ بزنس مین اس ادارے کے ٹرسٹی ہیں‘ یہ ادارے کو وقت بھی دیتے ہیں‘ توانائی بھی اور سرمایہ بھی چنانچہ یہ ادارہ صرف پندرہ برس میں پاکستان کا سب سے بڑا ٹرسٹ بن گیا‘ اس میں اس وقت رضا کاروں کے علاوہ تیرہ سو لوگ کام کرتے ہیں‘ ادارہ ان ملازمین کو دانت صاف کرنے‘ ناخن کانٹے‘ جوتے پالش کرنے‘ بچوں کو اسکول میں داخل کرانے اور صاف لباس پہننے کا الاؤنس دیتا ہے‘ یہ ملازمین کو کتابیں بھی فراہم کرتا ہے۔

میں سیلانی فاؤنڈیشن کا کام دیکھنے کے لیے ہفتہ اور اتوار دو دن کراچی گیا‘ مجھے ان دو دنوں میں مولانا بشیر فاروقی (جنھیں یہ لوگ حضرت صاحب کہتے ہیں) سے تین ملاقاتوں کا موقع ملا‘ حضرت صاحب نے اپنی زندگی اور وقت سیلانی ٹرسٹ کے لیے وقف کر دی ہے‘ یہ صبح سے رات تک سیلانی ٹرسٹ کے ہیڈ کوارٹر میں رہتے ہیں‘ یہ ادارے کا کام بھی دیکھتے ہیں اور سیکڑوں لوگوں کے لیے استخارہ بھی کرتے ہیں‘ کراچی کے چند بڑے بزنس مینوں نے بھی خود کو سیلانی ٹرسٹ کے لیے وقف کر دیا ہے‘ یہ لوگ کاروبار اپنے بچوں کو سونپ کر سیلانی ٹرسٹ کے ہو کر رہ گئے ہیں‘ یہ اپنے ہاتھ سے لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں‘ انھیں راشن دیتے ہیں اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں‘ یہ لوگ ہڑتالوں اور فسادات کے دنوں میں کراچی کے محصورعلاقوں میں خوراک تقسیم کرتے ہیں‘ اتوار کے دن سیلانی ٹرسٹ نے پی اے ایف میوزیم میں دو ہزار دو سو طالب علموں کا ٹیسٹ لیا‘ یہ نوجوان کمپیوٹر کورس کرنا چاہتے ہیں۔

سیلانی ٹرسٹ نے ان بائیس سو طالب علموں میں سے ساڑھے چار سو طالب علم منتخب کیے‘ ٹرسٹ ان نوجوانوں کو مفت کمپیوٹر کورس کروائے گا‘ یہ کورس انتہائی جدید اور مفید ہے‘ یہ نوجوان اس کورس کے بعد اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے‘ میں نے زندگی میں پہلی بار ایک وسیع ٹینٹ کے نیچے دو ہزار دو سو نوجوانوں کو ٹیسٹ دیتے دیکھا‘ ان نوجوانوں کے لیے کرسی اور میز دونوں کا بندوبست تھا‘ یہ انتظام بذات خود حیران کن تھا‘ میں ان لوگوں کے اخلاص‘ مستقل مزاجی‘ عاجزی اور خدمت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا‘ یہ پانچ وقت نماز بھی پڑھتے ہیں‘ ان کا حلیہ بھی اسلامی ہے‘ یہ مولوی ہیں لیکن ان لوگوں نے یورپ اور امریکا کے ٹرسٹوں سے کہیں بہتر ادارہ بنایا‘ میں نے انھیں دیکھا‘ میں انھیں ملا تو بے اختیار یہ کہنے پر مجبور ہو گیا‘ یہ ہیں اصل مسلمان اور یہ ہے اسلام کی اصلی اور سچی تصویر۔کاش ہم پر اعتراض کرنے والی قومیں ہماری یہ تصویر بھی دیکھ لیں‘ انھیں یقین آ جائے گا اسلام امن اور مسلمان امان ہیں‘ طالبان نہیں ہیں۔

فقراء ومساکین کا رُتبہ

حکایت نمبر157: فقراء ومساکین کارُتبہ

حضرت سیدنا ابراہیم بن بشارخراسانی قدّس سرہ الربانی سے مروی ہے، ایک مرتبہ مَیں ، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم ، ابو یوسف غسولی اور ابوعبداللہ سنجاری رحمہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب ہم اردن کی نہر کے قریب پہنچے توآرام کی خاطر بیٹھ گئے ۔حضرت سیدنا ابو یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس خشک روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے انہوں نے وہ ہمارے سامنے رکھ دیئے، ہم نے وہ کھائے اور اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا ، پھرمیں جلدی سے نہر کی جانب بڑھا تاکہ پینے کے لئے پانی لاؤں مگر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم مجھ سے پہلے نہرمیں داخل ہوگئے۔ پانی ان کے گھٹنوں تک پہنچ گیا انہوں نے بسم اللہ پڑھ کراپنی ہتھیلیوں سے پانی پیا ۔ پانی پینے کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کرنہر سے باہر تشریف لائے پھر پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اورفرمایا: ”اے ابو یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ! اگر بادشاہ اور ان کے شہزادے ہماری نعمتوں اور سکون کو جان لیں تو وہ ہمیں تلواروں کے ساتھ مارنے لگیں۔میں نے عرض کی:” حضور! لوگ نعمتوں اورراحت وسکون کے توطالب ہیں مگر انہوں نے سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے ۔” میری اس بات پرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مسکرا دیئے۔
حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار مزید فرماتے ہیں:” ایک شام ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظمکے ساتھ گزاری ۔ ہم روزے سے تھے لیکن افطاری کے لئے ہمارے پاس کوئی چیز نہ تھی ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جب مجھے غم وحزن کے عالم میں دیکھاتو فرمایا :” اے ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار ! دیکھو!اللہ عزوجل نے فقراء ومساکین پر نعمتوں اور راحتوں کی کیسی چھماچھم برسات فرمائی ہے کہ کل بروزِقیامت ان سے زکوٰۃ اور حج و صدقہ کے متعلق سوال نہیں فرمائے گا ۔ بلکہ فقرا ء و مساکین کے بارے میں ان لوگوں سے سوال کیا جائے گا جودنیا میں امیر ہیں لیکن آخرت میں فقیر ہوں گے،او ر جودنیا میں معزز ہیں مگر آخرت میں ذلیل و رسوا ہو ں گے ۔ لہٰذا تم غم نہ کر و، جس رزق کااللہ عزوجل نے ذمہ لیا ہے وہ عنقریب تجھے مل کر رہے گا۔ اللہ عزوجل کی قسم! بادشاہ اور غنی تو ہم ہیں۔ ہم ہی تو ہیں جنہیں دنیا میں ہی بہت جلد راحت وسرور میسر ہے ،جب ہم اللہ عزوجل کی اطاعت میں ہوں تو ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم کس حال میں صبح وشام کر رہے ہیں۔ ہم ہر حال میں اللہ عزوجل کے شکر گزار ہیں۔”
پھر آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ میں بھی اپنی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا ۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک آدمی آٹھ روٹیاں اور بہت ساری کھجوریں لے کر ہمارے پاس آ یا۔ اس نے سلام کیا او رکہا ـ:”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، یہ کچھ کھانا حاضرِ خدمت ہے، تناول فرمائیے ۔” حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے مجھ سے فرمایا:” اے مغموم! کھا نا کھاؤ۔”
ابھی ہم کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ ایک سائل آگیا اس نے کہا:”مجھے کچھ کھانا کھلاؤ ۔”آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نے تین روٹیاں اورکچھ کھجوریں سائل کودے دیں تین روٹیاں مجھے عطافرمائیں اوردوروٹیاں خودتناول فرمائیں۔ پھرارشادفرمایا: ”مؤاسات (یعنی غمخواری ) مؤمنین کے اخلاق میں سے ہے ۔”
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ میں ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے ساتھ طرابلس روانہ ہوا۔ میرے پاس دو روٹیوں کے علاوہ او رکوئی شے نہ تھی ۔راستے میں ایک سائل نے سوال کیا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا: ”جو کچھ تیرے پاس ہے وہ اس سائل کودے دے” اس معاملہ میں مَیں نے تھوڑی سی سستی کی، توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا :” کیا بات ہے ،سائل کو روٹی دینے میں تم سستی کیوں کر رہے ہو؟”یہ سن کر میں نے دونوں روٹیاں توسائل کو دے دیں لیکن میں پریشان تھا ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”کل تو اس ذات سے ملاقات کریگا جس کے ساتھ اس سے پہلے تو شرف ِملاقات حاصل نہیں کرسکا ۔ اور توان تمام چیزوں کااجر بھی پائے گا جنہیں تو آگے بھیجتا رہا ۔اور جو چیزیں تو دنیا میں چھوڑ جائے گاوہ تجھے کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ لہٰذا اپنے لئے آگے کچھ مہیا کر ، تو نہیں جانتا کہ کب اچانک تجھے اپنے رب عزوجل کی طر ف سے بلاوا آجائے ۔ ”
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی اس گفتگونے مجھے رُلا دیا ۔ اور میری نظر وں میں دنیا کی قدرو قیمت بہت کم کردی ۔ جب انہوں نے مجھے روتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا:” ہاں اسی طر ح زندگی بسر کرو۔”
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ” ایک مرتبہ میں ، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم ، ابویوسف غسولی اور ابو عبداللہ سنجاری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے ساتھ سفر پرتھا، ہم ایک قبر ستان کے پاس سے گزرے تو حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم ایک قبر کے پاس آئے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور فرمایا :” اے فلاں ! اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے ۔” پھر دو سری قبر کے پاس آئے اور اسی طرح کہا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سات قبروں کے پاس جا کر اسی طر ح کہا۔ پھران قبروں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند اس طرح ندا کی:” اے فلاں بن فلاں! اے اہل قبور!تم فو ت ہو گئے اور ہمیں پیچھے چھوڑ آئے ۔ ہم بھی جلد ہی تم سے ملنے والے ہیں ۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہرونے لگے اور کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے کچھ دیر اسی طرح بیٹھے رہے پھر آنسوؤں سے تربتر چہرے کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :” اے میرے بھائیو!آخرت کی تیاری کے لئے تم پر جدّو جہد اور جلدی لازم ہے،جلد ی کرو اور آخرت کی تیاری میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرو،بے شک تیز رفتاری میں اپنے مدِّ مقابل پر وہی سبقت لے جاتا ہے جو تیز چلتا ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

بیٹھ کر پیشاب کیا

حدیث نمبر :355

روایت ہے حضرت عبدالرحمان بن حسنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہمارے پاس رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ آپ کے ہاتھ شریف میں ڈھال تھی آپ نے ڈھال زمین پر رکھی پھر بیٹھ کراس کے پیچھے پیشاب کیا ۲؎ تو بعض کفار بولے انہیں دیکھو تو عورتوں کیطرح پیشاب کرتے ہیں۳؎ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سن لی تو فرمایا افسوس تم پر کیا تمہیں خبر نہیں کہ بنی اسرائیل والے کو کیا آفت پہنچی تھی کہ جب انہیں پیشاب لگ جاتا تو قینچیوں سے جگہ کاٹ ڈالتے تھے اس نے انہیں منع کیا تو اپنی قبر میں عذاب دیا گیا۴؎ اسے ابوداؤد ابن ماجہ نے روایت کیا اور نسائی نے ان سے انہوں نے ابوموسی سے۔

شرح

۱؎ حسنہ ان کی والد ہ کا نام ہے،والد کا نام عبداللہ ابن مطاع ہے،آپ صحابی ہیں۔

۲؎ ورقہ چمڑے کی وہ ڈھال ہے جس میں لکڑی اور پٹھا استعمال نہ کیا جائے۔ہلکی ہوتی ہے،جنگ میں تلوار کا وار آسانی سے روک لیتی ہے۔ڈھال کی آڑمیں پیشاب کرنے سےمعلوم ہوا کہ پیشاب کے وقت پورے جسم کا چھپانا ضروری نہیں،صرف شرمگاہ کا چھپ جانا کافی ہے،کیونکہ ڈھال چھوٹی ہوتی ہے۔

۳؎ اسلام سے پہلے عربی مردبے دھڑک سب کے سامنے ننگے پیشاب پاخانہ کرلیا کرتے تھے۔ستر اور شرمِ حجاب اسلام نے سکھایا وہ لوگ اس تہذیب کا مذاق اڑاتے تھے،جیسے آج بعض بے دین جاہل بعض اسلامی احکام داڑھی،نماز وغیرہ کا مذاق اڑاتے ہیں۔یہ ایسے ہی ہے جیسے نکٹے ناک والوں کا نکو کہہ کر مذاق اڑائیں۔

۴؎ خلاصۂ جواب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیشاب کے احکام بہت سخت تھے کہ اگر کپڑے میں لگ جائے جلا ڈالو،اوراگر بدن پر لگ جائے تو اتنی کھال چھیل ڈالو۔ان میں ایک شخص نے بنی اسرائیل کو مشورہ دیا کہ ایسا نہ کرو۔اس مشورے پر وہ عذاب قبر میں گرفتار ہوا،حالانکہ اس نے ایسی چیزسے روکا تھا جو نفس پر سخت گراں تھی اور تو مجھے اس حجاب اور حیاسےمنع کررہا ہے جو نہ تکلیف دہ ہے نہ نفس پر بھاری،بتا تیرا کیا حال ہوگا؟اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص کوئی بنی اسرائیل ہوگا اور یہ واقعات اس زمانہ میں مشہور ہوں گے۔حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ تو دیکھو کہ اس کے مذاق کا کوئی جواب نہ دیا،نرمی سے مسئلہ سمجھادیا۔

تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں

حدیث نمبر :354

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں بعض مشرکوں نے مذاقًا کہا کہ ہم تمہارے صاحب کو دیکھتے ہیں کہ تم کو پاخانہ کرنا تک سکھاتے ہیں ۱؎ میں نے کہاہاں ہمیں حکم دیا ہے کہ قبلہ کو منہ نہ کریں اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کریں اور تین پتھروں سے کم پر کفایت نہ کریں ان میں نہ گوبر ہو نہ ہڈی ۲؎(مسلم)احمد نے روایت کیا یہ اس کے لفظ ہیں۔

شرح

۱؎ ایسی معمولی باتیں سکھانا ان کی شان کے خلاف ہے بڑے لوگ بڑی باتیں سکھائیں۔

۲؎ سبحان اﷲ!کیسا حکیمانہ جواب ہے یعنی یہ تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کمال ہے کہ ہمیں کسی کا محتاج نہ رکھا سب کچھ سکھا دیا۔دیکھو ہمیں استنجاء کے بارے میں کیسے نفیس احکام عطا فرمائے،تم بھی یہ باتیں سیکھ لو۔

نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل اور پانی سے استنجاء

حدیث نمبر :353

روایت ہے حضرت ابوایوب و جابر و انس سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اﷲ ستھروں کو پسند فرماتاہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ اﷲ نے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے تمہاری کیسی پاکی ہے۲؎ وہ بولے کہ ہم نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء ۳؎ تو فرمایا کہ وہ یہ ہی پاکی ہے اسے لازم کرلو ۴؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ اس آیت میں مسجد قباء کی تعریف فرمائی گئی ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے،یعنی چونکہ مسجد کے آس پاس انصار رہتے ہیں،اور اس میں وہی نماز پڑھتے ہیں،یہ بڑے پاک لوگ ہیں،آپ بھی وہاں نماز پڑھاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس مسجد کو بزرگوں نے بنایا ہو،یا بزرگوں نے وہاں نمازیں پڑھی ہوں،یا اس کے قریب بزرگ رہتے ہوں،یا دفن ہوں وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے اور ارادۃً وہاں جا کر نماز پڑھنا رب کو پسند ہے۔اس سے شریعت اورتصوف کے بہت سے مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری تفسیر”نورالعرفان”میں دیکھو۔

۲؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لیے ہے،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کے عمل سے واقف ہیں،فرماتے ہیں”لَایُخْفٰی عَلیَّ صَلوٰتُکُمْ”الخ۔

۳؎ ڈھیلوں کے بعد پانی سےبھی استنجاء کرلیتے ہیں،یاصرف پانی سے ہی استنجاءکرتے ہیں نہ کہ ڈھیلوں سے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔دوسرے لوگ صرف ڈھیلوں پر کفایت کرتے ہیں مگر یہ کفایت خشک پاخانے میں ہوسکتی ہے،دست کی صورت میں دھونا فرض ہے جب کہ روپے سے زیادہ جگہ لتھڑ جائے۔

۴؎ یعنی پانی سے استنجاء لازم کرلو۔نماز کے لیئے وضوءاور جنابت سے غسل تو سب حضرات ہی کرتے تھے۔

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَا لَـكُمۡ فِىۡ الۡمُنٰفِقِيۡنَ فِئَـتَيۡنِ وَاللّٰهُ اَرۡكَسَهُمۡ بِمَا كَسَبُوۡا‌ؕ اَ تُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ تَهۡدُوۡا مَنۡ اَضَلَّ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يُّضۡلِلِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے، کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تمہیں کیا ہوگیا کہ منافقوں کے متعلق تمہاری دو رائیں ہوگئیں حالانکہ اللہ نے ان (منافقوں) کو ان کے کرتوتوں کی وجہ سے اوندھا کردیا ہے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کے شان نزول میں دو قول ہیں ‘ پہلے قول کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت زید بن ثابت (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احد کی طرف نکلے تو آپ کے لشکر میں سے کچھ لوگ واپس ہوگئے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک فریق نے کہا ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسرے فریق نے کہا ہم ان کو قتل نہیں کریں گے۔ 

اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” فمالکم فی المنافقین فئتین “۔ (النساء : ٨٨) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مدینہ لوگوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جسے لوہے سے زنگ نکال دیتی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٤‘ مسند احمد ج ٨‘ رقم الحدیث : ٢١٦٥٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

دوسرا قول یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کچھ لوگ مکہ سے مدینہ آگئے تھے ‘ انہوں نے مسلمانوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مسلمان ہیں پھر وہ مکہ واپس چلے گئے اور مکہ والوں پر یہ ظاہر کیا کہ وہ مشرک ہیں : امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

مجاہد اس آیت کے شان نزول میں بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ مکہ سے نکل کر مدینہ پہنچ گئے اور انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ وہ مہاجر ہیں ‘ پھر اس کے بعد وہ مرتد ہوگئے ‘ انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی کہ وہ مکہ سے اپنا مال لا کر تجارت کریں گے تو انکے متعلق مسلمانوں میں اختلاف ہوگیا ‘ بعض مسلمانوں نے کہا وہ منافق ہیں اور بعض نے کہا وہ مومن ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے نفاق کو بیان کردیا اور ان سے قتال کا حکم دیا وہ اپنا مال لے کر مدینہ جانے کا ارادہ کر رہے تھے تو ان سے ہلال بن عویمر اسلمی نے ملاقات کی ‘ اس کا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے معاہدہ تھا اور یہی وہ شخص تھا جس کا مسلمانوں سے لڑتے لڑتے دل تنگ ہوچکا تھا یا وہ اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے عاجز ہوچکا تھا ‘ اس نے ان لوگوں کی مدافعت کی اور کہا یہ مومن ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ٢٦٣۔ ٢٦٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٥ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا تم چاہتے ہو کہ اس کو ہدایت پر چلاؤ جس میں اللہ نے گمراہی پیدا کردی ہے اور جس میں اللہ نے گمراہی کو پیدا کردیا، تم اس کے لیے (ہدایت پر چلانے کا) کوئی طریقہ نہیں پا سکو گے۔ (النساء : ٨٨) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان منافقوں کو ان کی سرکشی اور ان کے کفر کی وجہ سے دین سے گمراہ کردیا ہے ‘ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح یہ منافق سچے اور مخلص مسلمان بن جائیں ‘ اس آیت کا دوسرا محمل یہ ہے کہ کیا تم ان لوگوں کو جنت کا راستہ دکھانا چاہتے ہو جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے جنت کے راستہ سے گمراہ کردیا ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کفار کو جنت کے راستہ کی ہدایت نہیں دے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 88