کامیابی ، معیار اور حصول ؟

📜کامیابی ، معیار اور حصول ؟

🔦 نت نئی ایجادات اور مختلف مصنوعات کا دور دورہ ہے ۔ ہر چیز کے ساتھ بنانے والی کمپنی کی طرف سے ایک تحریر ملتی ہے جس پر اس چیز کے سارے فنکشن ، استعمال کا طریق کار ، حفاظتی تدابیر اور دیگر ضروری معلومات درج ہوتی ہیں جو ان بنانے والوں کو ہی بہتر طور پر معلوم ہوتی ہیں اور اس چیز کی بقا، کامیابی اور سارے فوائد کا دارومدار انہی ہدایات پر عمل کرنے میں مضمر ہوتا ہے ۔

🎇 یہ ساری کائنات اللہ عزوجل کی بنائی ہوئی ہے اس کی ساخت اور ترکیب کے اجزاء اور ان کے بارے میں معلومات اس سے بڑھ کر کسی اور کو پھر کیسے ہو سکتی ہیں ؟

انسان تو اس کی شاہکار تخلیق ہے

اور وہ خود فرماتا ہے کہ

🕋 میں نے اس انسان کو عبث اور فضول پیدا نہیں کیا ۔

تو اب یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اس عز و جل نے اس کی فوز و فلاح اور کامیابی و کامرانی کے حصول کے طریقے نہ بنائے اور بتائے ہوں ۔

اور وہ طریقے اس سے بہتر نہ کوئی جان سکتا اور بتا سکتا ہے ۔

🍁بحیثیت اس کی انسانی مخلوق ہونے کے اپنی کامیابی کے لیئے ہمیں اس کی ہدایات پر ہی عمل کرنا چاہیے تھا

لیکن اس کا ہم پر تو مزید کرم یہ ہے کہ اس نے ہمیں اپنے اوپر ایمان رکھنے کی لازوال بے مثال سعادت عطا فرما رکھی ہے ۔ ہمارا معبود و مسجود بھی وہی ہے اور خالق ومالک اور رب بھی وہی چنانچہ ہم پر تو اس نسبت کی بنا پر اور زیادہ لازم ہو جاتا ہے کہ ہم اپنی کامیابی و کامرانی اسے ہی سمجھیں جو وہ فرمائے اوراس کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہونے کے لئے اس گفتار و کردار کو اپنائیں جو وہ بتاتا ہے

🕌 اس کی ہی تعلیمات کی روشنی میں مساجد کے موذنین دن میں 5 مرتبہ

📢حَیَّ عَلَی الْفَلَاحْ

( آؤ کامیابی کی طرف ) کی صدا لگا کر ہمارے اذہان میں تازہ کرتے ہیں کہ کامیابی کیا ہے اور کہاں ہے ؟ ۔

اگر یہ فرمان صرف ایک بار بھی ہوتا تو ہمارا یقین وعمل یہ ہونا چاہیے تھا کہ ہم اپنی کامیابی کو اسی میں ہی مضمر سمجھتے لیکن یہ دل نواز صدائیں تو ہمیں دن میں پانچ مرتبہ سنائی دیتی ہیں جس سے بخوبی پتہ چل جاتا ہے کہ ہماری کامیابی میں اس اذان اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کا کتنا بڑا حصہ ہے ۔ اسی لیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع فرما دیتے

🌹اللہ تبارک وتعالی نے اپنے مقدس کلام میں کامیابی کا معیار بڑا واضح طور پر بیان فرما دیا ہے

🌹 فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ الْنَارِ وَاُدْخِلُ الْجَنَّۃَفَقَدْ فَازَ

(سورۃ آل عمران آیت 185)

"پس جو شخص آگ سے دور کر دیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا، بے شک وہی کامیاب ہو گیا "

اس ارشاد سے واضح ہوتا ہے کہ کامیابی ان امور اور اطوار کو اختیار کرنے میں ہے جو جہنم سے دور اور جنت سے قریب کرتے ہیں ۔

اللہ تعالی نے تو فرما دیا ہے

🔖وَھَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنَ

(سورۃالبلدآیت10)

ہم نے انسان کے سامنے کامیابی اور نا کامی دونوں راستے کھول کر رکھ دیے ہیں

🔖 فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ

(سورۃالکھف آیت 29)

اب انسان کے اپنے اختیار میں ہے جو چاہے انہیں مان کر کامیاب ہوجائے اور جو چاہے نہ مان کر ناکام و نامراد اور جہنم کا ایندھن بن جائے ۔

🔆اللہ تبارک تعالی ہمیں ، ہمارے والدین، اساتذہ، مشائخ ، اہل خانہ و اعزہ و احباب و کل امت مسلمہ کو جہنم کی آگ سے محفوظ رہنے اور جنت میں داخل ہونے کی توفیقات عطاء فرمائے ۔🤲

آمین آمین آمین

اللہ تبارک و تعالی سے اس کا فضل مانگتے رہنا چاہئے کہ دیگر نعمتوں کی طرح کامیابی اور کامرانی اس کے فضل کی ہی مرہون منت ہے

🌲 کامیابی و کامرانی کے لیئے جس طرح ایک مخلص اور مکمل ہادی اور رہنما کا ہونا ضروری ہے اسی طرح کامیابی کی خواہش رکھنے والے کے لئے چند اور صلاحیتوں کا ہونا بھی لازم ہے اور اللہ تعالی نے قرآن مجید میں وہ بھی بتائی ہیں

مثلا دانائی , بینائی, سماعت ، زندہ اور سلیم دل ، وغیرہا ۔

اس پوری کائنات کا خالق اور رب فرماتا ہے کہ جو لوگ اس کے فرمائے ہوئے ، عطا کئے ہوئے اصول و ضوابط کی روشنی میں زندگی بسر نہیں کرتے کامیاب و بامراد ہونا تو دور کی بات وہ بہرے ہیں, گونگے ہیں, اندھے ہیں ,بلکہ دلوں کے اندھے ہیں عقل سے بھی بے بہرہ ہیں بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ اور بد تر ہیں ۔

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ ( سورة البقرة 18 )

🔖صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ( سورة البقرة 171)

🔖لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا وَلَهُمْ أَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُونَ بِهَا وَلَهُمْ آذَانٌ لَّا يَسْمَعُونَ بِهَا ۚ أُولَٰئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ

( سورة الاعراف 179)

🔖أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلاً

( سورة الفرقان:44 )

🔖فَإِنَّهَا لَا تَعْمَى الْأَبْصَارُ وَلَٰكِن تَعْمَى الْقُلُوبُ الَّتِي فِي الصُّدُورِ

( سورة الحج 46 )

 بینا ، دانا ، زندہ دل انسان کامیابی کے لئے وقت کی قدروقیمت کو بخوبی جانتا ہے لیکن اللہ کا فضل عمیم کہ کتاب ہدایت قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

فَإِذَا فَرَغْتَ فَانصَبْ (7)وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَارْغَب (8 سورة الانشراح )

حضرات مفسرین کی تفسیر کا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ ایک کام سے فارغ ہوئے ہیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں بلکہ اور زیادہ لگن مزید جوش اور جذبے سے کسی اور کام میں لگ جائیں

یہاں یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے حکم میں "نصب "کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے "کام کی جسم کو چور چور کردینے والی تھکاوٹ” .

کام دین کا ہو یا دنیا کا اس میں کچھ دیر مصروف رہنے سے ایک سستی سی پیدا ہو جاتی ہے ۔

سبحان اللہ

انسانی نفسیات سے ہم آہنگ کتنی خوبصورت تعلیم دی بے۔۔

بے دلی ، پریشان فکری سے کام کرنے میں ثمرات بہت کم ہو جاتے ہیں ۔ تو انسان اس سے کسی قدر فارغ ہو کر کسی اور کام میں لگ جائے تو نئی دلچسپی نئی توجہ نئی اٹھان کی وجہ سے اب کیا جانے والا کام زیادہ ثمرات دے گا

اور إلى ربك فارغب

فرما کر یہ بتا دیا کہ جس بھی کام میں لگو اس میں تمہاری ساری رغبت اور دلچسپی تمہارے رب کی طرف ہونی چاہیے اور یہ تو ظاہر ہے کہ رب کی رغبت والے کام کس طرح کے با برکت اور نتیجہ خیز ہوں گے ۔

 اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اللہ تبارک تعالی کے دو انعامات ایسے ہیں کہ لوگوں کی اکثریت ان کے اندر سخت گھاٹے میں مبتلا ہیں

1 صحت

2 فارغ وقت

حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کا ارشاد ہے کہ مجھے یہ دیکھنا سخت ناگوار گزرتا ہے کہ میں تم میں سے کسی کو خالی اور بیکار دیکھوں نہ تو دنیا کے کسی کام میں مصروف ہے اور نہ ہی دین کے

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما دو کشتی کرتے ہوئے مردوں کے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا ہمیں اپنے فارغ وقت میں اس کا حکم نہیں دیا گیا

🌻 فراغت اور ٹال مٹول کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دونوں ہی کامیابی کے دشمن ہیں ۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی جناب ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایک نصیحت ہے ” اپنے آپ کو بہت بچاؤ اس رویہ سے کہ اچھا تھوڑی دیر بعد میں کرلیتا ہوں ۔ اس لیئے کہ تم ! آج اس وقت تم ہو اس کے بعد ( تو سمجھ لے کے تم نہیں ہو گے) اور اگر اللہ کے فضل سے کل کی مہلت مل گئی تو اس میں بھی یہی سوچ رکھنا ۔ کل کر لونگا اگر تم نے اپنے آج سے نکال دیا تو تجھے کسی کمی کوتاہی رہ جانے کی ندامت نہیں ہوگی ۔

🌟 زندگی میں ناکامی اور آس امید کے ٹوٹنے اور بہت کچھ کھو جانے والے واقعات بھی ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ان کو دل پر لے کر پڑ جائے تو کبھی بھی کامیاب انسان نہیں بن سکتا بلکہ سبق سیکھ کر نئے جذبے اور نئے ولولے سے دوبارہ میدان عمل میں کودنا ضروری ہوتا ہے

غزوہ احد میں شروع کی شاندار فتح کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے پسپائی ، ناکامی اور بہت زیادہ جانی نقصان مسلمانوں کو برداشت کرنا پڑا۔

اس موقع پر بھی اللہ نے فرمایا

🌹 وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ ( سورة ال عمران 139 )

اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غم کرو تم ہی بلند و بالا ہو جب تک کہ تم مومن ہو

وھن بدن کی کمزوری کو بولتے ہیں اور حزن دل میں پیدا ہونے والی ناامیدی ، افسوس اور غم کو اور یہ دونوں کیفیتیں انسان کو بزدل ، درماندہ اور ناکارہ سا بنا دیتی ہیں چنانچہ اللہ تبارک وتعالی نے فورا یہ اصلاح فرمائی کہ یہ وقتی نقصان ہے اپنی کمزوریوں پر قابو پاؤ ۔ دل میں یقین پیدا کرو ۔ میرے اس فرمان ” تم ہی سب سے اعلی ہو ” کو اپنا طغری اور تمغہ سمجھ کر نئے جذبے ، نئی حکمت عملی اور نئی تیاری سے کمربستہ ہو جاؤ ۔

یقین محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم

جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں….

کیا آپ بینا و دانا ہیں ؟

کسوٹی حاضر خدمت ہے ۔

۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ ( سورة الرعد 19)

تو کیا جو جانتا ہے کہ جوکچھ آپ پر آپ کے رب کی جناب سے نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے ، وہ اس جیسا ہے جو ( اس نازل شدہ پر ایمان و عمل نہ کر کے ) اندھا ہو ۔ بات تو یہی ہے کہ نصیحت اہل عقل ہی پکڑتے ہیں ۔

یہاں اللہ تعالی نے سبھی لوگوں کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے

(1) جو اللہ کے رسول پر نازل فرمودہ کو حق جانتے ہیں اور حق جاننے کا مطلب اس پر عمل اور اس کے مطابق اپنی کردار سازی ہے ۔

(2) جو ایسے نہیں اور اللہ نے انہیں اندھا قرار دیا ہے ۔

اس نصیحت کو فرمانے کے بعد ، بتایا کہ جو اس نصیحت کو قبول کرے وہ عقل والا ہے

یعنی جو اس پر کان نہ دھرے وہ لاکھ عقلمند بنا پھرے ، خالق کائنات کی جناب میں بے عقل بھی ہے ، اندھا تو پہلے ہی بیان ہو چکا ۔

فقیر خالد محمود عرض گذار ہے کہ اپنے رب کے ارشاد پر ضرور غور فرمائیں ۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ اندھا تو ہے لیکن ہے عقل والا تو نابینائی کی وجہ سے جو کمی پیدا ہوئی وہ کسی حد تک عقل کی وجہ سے پوری ہو گئی جیسا کہ مشاہدہ بھی ہے لیکن اگر دونوں ہی نہ ہوں تو !!!

اب لگے ہاتھوں یہ غور بھی فرما لیں کہ اللہ تبارک و تعالی نے کیا نازل فرمایا ہے ، وہ کہاں ہے اور کن کے پاس اور ان کے بارے میں آپ کا رویہ کیا ہے ؟ آپ اس میں کہاں ہیں ؟

اور

اللہ تبارک و تعالی نے اگلی آیات میں ان اہل عقل کی درج ذیل نشانیاں بیان فرمائی ہیں ۔

اللہ تعالی کے ساتھ اپنے ( روز الست کے ) عھد کو پورا کرتے ہیں

اپنے پختہ قول و قرار کو توڑتے نہیں ( آیت نمبر 20)

اللہ نے جسے ملانے کا حکم دیا ہے اسے ملا کر ہی رکھتے ہیں

اپنے رب کی خشیت رکھتے ہیں

اور بڑے حساب خوفزدہ رہتے ہیں ( آیت نمبر 21)

جو اپنے رب کی رضا کی طلب میں صبر رکھتے ہیں

نماز قائم رکھتے ہیں

ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے پوشیدہ اور علانیہ خرچ کرتے ہیں

برائی کا بدلہ اچھائی سے دیتے ہیں ۔ ( آیت نمبر 22)

اللہ تبارک و تعالی سے دعاء ہے کہ وہ یہ صفات اعلی ترین پیمانے پر ہمارے اندر پیدا فرما دے ۔

آمین آمین یا رب العالمین…

(مفتی خالد محمود صاحب)

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور آپ سے کہتے ہیں سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے (النساء : ٤٦) 

یہود کی تحریف کا بیان : 

کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ‘ آپ کی بعثت کے زمانے اور آپ کی نبوت کے متعلق یہود کی کتاب میں جو پیش گوئیاں تھیں وہ ان کو بدل دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور اس کی نافرمانی کی ‘ اور اپنی زبان مروڑ کر آپ سے راعنا کہتے تھے اور یہ ان کی لغت میں گالی تھی۔ قبتی نے کہا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حدیث فرماتے یا کوئی حکم دیتے تو وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا اور دل میں کہتے تھے کہ ہم نے نافرمانی کرلی ‘ اور جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے اے ابوالقاسم سنیے اور اپنے دل میں کہتے تھے کہ آپ نہ سنیں ‘ اور وہ آپ سے راعنا کہتے تھے اور اس لفظ سے یہ معنی ظاہر کرتے تھے کہ آپ ان پر نظر رحمت فرمائیں اور زبان مروڑ کر اس سے اپنے دل میں رعونت کا معنی لیتے تھے اور اگر وہ سمعنا وعصینا کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے اور ” واسمع غیر مسمع “ اور ” راعنا ‘ کی جگہ انظرنا کہتے ہیں تو یہ بہت بہتر او بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کردی ہے ‘ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس توہین کی سزا میں ان کو دنیا میں رسوا کردیا اور آخرت میں ان کو اپنی رحمت سے بالکلیہ دور کردیا ‘ سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب ہیں ‘۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں ایسا لفظ کہنا جس کا ظاہری معنی توہین کا موہم ہو کفر ہے ‘ اس کی پوری تفسیر ہم نے تبیان القرآن جلد اول البقرہ : ١٠٤ میں بیان کردی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی ہے اس لیے ہم یہاں کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

لعنت کی اقسام اور کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

لعنت کا معنی ہے کسی شخص کو کرنا اور از روئے غضب کسی شخص کو دھتکارنا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس کو سزا اور عذاب دینا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس پر رحمت نہ فرمانا ‘ اور اس کو نیکی کی توفیق نہ دینا ‘ اور جب انسان کسی پر لعنت کرے تو اس کا معنی ہے اس کو بددعا دینا۔ (المفردات ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

(١) فسق اور ظلم پر علی الاطلاق لعنت کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ : (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الکاذبین “۔ (آل عمران : ٦١) (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔ (الاعراف : ٤٤) 

(٢) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جس کا معنی یہ ہو کہ وہ اللہ کی رحمت سے مطلقا مردود ہے یہ اس شخص کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ہے جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی ہو جیسے ابو لہب اور ابوجہل اور دیگر مقتولین بدرواحد ‘ اور جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی نہ ہو اس پر یہ لعنت نہیں کی جائے گی خواہ وہ مشہور فاسق ہو جیسے یزید۔ 

(٣) علامہ قہستانی نے لکھا ہے کہ جب کفار پر لعنت کی جائے تو شرعا اس کو معنی ہے اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا ‘ اور جب مومنین پر لعنت کی جائے تو اس کا معنی ہے ان کو ابرار اور مقربین کے درجہ سے دور کرنا ‘ البرالرائق کی بحث لعان میں کیا معین کاذب پر لعنت کرنا جائز ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ غایت البیان کے باب العدۃ میں مذکور ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کا معنی کرلوں اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کرنا ‘ اور جب ان کا کسی چیز میں اختلاف ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ‘ اور فقہاء نے کہا یہ لعنت ہمارے زمانہ میں بھی مشروع ہے ‘ قرآن مجید میں مومن پر لعن معین کا ثبوت ہے جب لعان میں پانچوں دفعہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والا مرد کہتا ہے : 

(آیت) ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکاذبین “۔ (النور : ٧) 

ترجمہ : اور پانچویں گواہی یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ مومن پر لعنت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو مقربین اور ابرابر کے درجہ سے دور کیا جائے نہ کہ اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کیا جائے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا

ترجمہ:

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے ‘ اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے۔ (النساء : ٣١)

صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی تحقیق : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

بعض عرفاء نے کہا ہے کہ یہ مت سوچو کہ گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ ‘ یہ غور کرو کہ تم کس ذات کی نافرمانی کر رہے ہو اور اس اعتبار سے تمام گناہ گناہ کبیرہ ہیں۔ قاضی ابوبکر بن طیب ‘ استاد ابواسحق اسفرائنی ‘ ابوالمالی ‘ ابو نصر عبدالرحیم قشیری وغیرھم کا یہی قول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گناہوں کو اضافی طور پر صغیرہ یا کبیرہ کہا جاتا ہے۔ مثلا زنا کفر کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور بوس وکنار زنا کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور کسی گناہ سے اجتناب کی وجہ سے دوسرے گناہ کی مغفرت نہیں ہوتی بلکہ تمام گناہوں کی مغفرت اللہ کی مشیت کے تحت داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اور یہ جو قرآن مجید میں ہے 

(آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (النساء : ٣١) 

اس آیت میں کبائر سے مراد انواع کفر ہیں ‘ یعنی اگر تمام انواع کفر سے بچو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا ‘ نیز صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر دوزخ واجب کر دے گا اور اس پر جنت حرام کر دے گا ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! ہرچند کہ (اس شخص کا حق) تھوڑی سی چیز ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہرچند کہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو ! پس معمولی معصیت پر بھی ایسی شدید وعید ہے جیسی بڑی معصیت پر وعید ہے۔ 

علامہ قرطبی مزید لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ جن چیزوں سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو جہنم یا غضب یا لعنت یا عذاب کے ذکر پر ختم کیا ہے اور گناہ کبیرہ ہے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا سورة نساء کی تیتیس (٣٣) آیتوں میں جن چیزوں سے منع کیا ہے اور پھر فرمایا ہے (آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “۔ وہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کبائر سات (٧) ہیں فرمایا یہ ستر کے قریب ہیں اور سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا کبائر سات ہیں فرمایا یہ سات سو کے قریب ہیں البتہ استغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار سے کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے) 

گناہ کبیرہ کی تعداد اور ان کے حصر میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ ان میں آثار مختلف ہیں ‘ میں یہ کہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ کے متعلق صحیح اور حسن بکثرت احادیث ہیں اور ان سے حصر مقصود نہیں ہے البتہ بعض گناہ بعض دوسرے گناہ سے زیادہ بڑے ہیں اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ورحمتی وسعت کل شیء “ میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ میری رحمت سے کافروں کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تیسرا درجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسروان “۔ (الاعراف : ٩٩) کیا یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہیں ؟ تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے ہی بےخوف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چوتھے درجہ پر قتل سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کے بعد لواطت ہے ‘ پھر زنا ہے ‘ پھر شراب نوشی ہے پھر نماز اور اذان کا ترک کرنا ہے پھر جھوٹی گواہی دینا ہے اور ہر وہ گناہ جس پر عذاب شدید کی وعید ہے یا اس کا ضرر عظیم ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٦١۔ ١٥٩ ملخصا مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

میں نے گناہ کبیرہ کے متعلق ان تمام اقوال اور تعریفات پر غور کیا میرے نزدیک جامع مانع اور منضبط تعریف یہ ہے : جس گناہ کی دنیا میں کوئی سزا ہو یا اس پر آخرت میں وعید شدید ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب ہو وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے اور اس سے بھی زیادہ آسان اور واضح تعریف یہ ہے کہ فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے۔ اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے نیز کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر بےخوفی سے کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے علامہ نووی شافعی اور علامہ بھوتی حنبلی نے جو گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی مثالیں دی ہیں ان پر یہ تعریفیں صادق آتی ہیں اس لئے گناہ صغیرہ اور کبیرہ کو سمجھنے کے لئے ان تعریفات کی روشنی میں ان مثالوں کو ایک بار پھر پڑھ لیاجائے۔ اس بحث میں یہ نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ فرض کے ترک کا عذاب واجب کے ترک کے عذاب سے اور حرام کے ارتکاب کا عذاب مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے عذاب سے شدید ہوتا ہے اور اصولیین کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فرض اور واجب کے ترک کا عذاب ایک جیسا ہوتا ہے اور ان میں صرف ثبوت کے لحاظ سے فرق ہے۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ صغیرہ اور کبیرہ دو قسم کے ہیں۔ استاذ ابو اسحاق نے کہا ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہوتا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ گناہ کبیرہ کی چار تعریفیں ہیں۔ (١) جس معصیت پر حد واجب ہوتی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٢) جس معصیت پر کتاب اور سنت میں وعید شدید ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٣) امام نے ’ ارشاد “ میں لکھا ہے کہ جس گناہ کو لاپرواہی کے ساتھ کیا گیا ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٤) جس کام کو قرآن مجید نے حرام قرار دیا ہو یا جس کام کی جنس میں قتل وغیرہ کی سزا ہو یا جو کام علی الفور فرض ہو اس کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ 

علامہ نووی نے دوسری تعریف کو ترجیح دی ہے پھر علامہ نووی لکھتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ کی منضبط تعریفات ہیں۔ بعض علماء نے گناہ کبیرہ کو تفصیلا ‘ شمار بھی کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے : قتل ‘ زنا ‘ لواطت ‘ شراب پینا ‘ چوری ‘ قذف ‘ (تہمت لگانا) جھوٹی گواہی دینا ‘ مال غصب کرنا ‘ میدان جہاد سے بھاگنا ‘ سود کھانا ‘ مال یتیم کھانا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا ‘ جھوٹ باندھنا ‘ بلاعذر شہادت کو چھپانا ‘ رمضان میں بلاعذر روزہ نہ رکھنا ‘ جھوٹی قسم کھانا ‘ قطع رحم کرنا ‘ ناپ اور تول میں خیانت کرنا ‘ نماز کو وقت سے پہلے پڑھنا ‘ بلاعذر نماز قضاء کرنا ‘ مسلمان کو ناحق مارنا ‘ صحابہ کرام کو سب وشتم کرنا ‘ رشوت لینا ‘ دیوثی (فاحشہ عورتوں کے لئے گاہک لانا) حاکم کے پاس چغلی کھانا ‘ زکوۃ نہ دینا ‘ نیکی کا حکم نہ دینا ‘ باوجود قدرت کے برائی سے نہ روکنا ‘ قرآن مجید بھلانا ‘ حیوان کو جلانا ‘ عورت کا بلاسبب خاوند کے پاس نہ جانا ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ‘ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا ‘ علماء کی توہین کرنا ‘ ظہار ‘ بلاعذر خنزیر یا مردار کا گوشت کھانا ‘ جادو کرنا ‘ حالت حیض میں وطی کرنا اور چغلی کھانا۔ یہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ 

علامہ نووی نے گناہ صغیرہ کی تفصیل میں ان گناہوں کو لکھا ہے : 

اجنبی عورت کو دیکھنا ‘ غیبت کرنا ‘ ایسا جھوٹ جس میں حد ہے نہ ضرر ‘ لوگوں کے گھروں میں جھانکنا ‘ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع تعلق کرنا ‘ زیادہ لڑنا جھگڑنا اگرچہ حق پر ہو ‘ غیبت پر سکوت کرنا ‘ مردہ پر بین کرنا ‘ مصیبت میں گریبان چاک کرنا اور چلانا ‘ اترا اترا کرچلنا ‘ فاسقوں سے دوستی رکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا ‘ اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنا ‘ مسجد میں خریدو فروخت کرنا ‘ بچوں پاگلوں کو مسجد میں لانا ‘ جس شخص کو لوگ کسی عیب کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں اس کا امام بننا، نماز میں عبث کام کرنا ‘ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ‘ قبلہ رخ بول وبراز کرنا “ عام راستہ پر بول وبراز کرنا ‘ جس شخص کو غلبہ شہوت کا خطرہ ہو اس کا روزہ میں بوسہ لینا ‘ صوم وصال رکھنا ‘ استمناء ‘ بغیر جماع کے اجنبیہ سے مباشرت کرنا (یعنی بوس وکنار اور بغل گیر ہونا) بغیر کفارے کے مظاہر کا اپنی عورت سے جماع کرنا ‘ اجنبی عورت سے خلوت کرنا ‘ عورت کا بغیر محرم اور خاوند کے سفر کرنا یا بغیر ثقہ عورتوں کے سفر کرنا۔ (یہ مذہب شافعی کے ساتھ خاص ہے) بخش ‘ احتکار ‘ مسلمان کی بیع پر بیع کرنا ‘ اسی طرح مسلمان کی قیمت پر قیمت لگانا اور منگنی پر منگنی کرنا ‘ شہری کا دیہاتی سے بیع کرنا ‘ دیہاتی قافلہ سے بیع کے لئے ملاقات کرنا ‘ تصریہ (بیع کے لئے تھنوں میں دودھ روک لینا) بغیر عیب بیان کئے ہوئے عیب دار چیز کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت کتا رکھنا ‘ مسلمان کا کافر کو قرآن مجید اور دینی کتابوں کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت نجاست کو بدن پر لگانا اور بلاضرورت خلوت میں اپنی شرمگاہ کھولنا۔ 

عدالت (نیک چلنی) میں صغائر سے بالکل اجتناب کرنا شرط نہیں ہے لیکن صغیرہ پر اصرار یعنی بلاتوبہ بار بار صغیرہ کا ارتکاب کرنا صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (روضۃ الطالبین وعمدۃ المقتین ج ١٢ ص ٢٢٥۔ ٢٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٥ ھ) 

علامہ شمس الدین مقدسی محمد بن مفلح حنبلی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر حد ہو یا اس پر وعید ہو یا اس پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی کی گئی ہو جس طرح حدیث میں ہے : من غش فلیس منا “۔ ” جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ یعنی یہ وہ کام ہے جو ہمارے احکام میں سے نہیں ہے یا ہمارے اخلاق میں سے نہیں ہے یا ہماری سنت میں سے نہیں ہے ‘ اور فصول ‘ غتیہ اور مستوعب میں ہے کہ غیبت اور چغلی صغائر میں سے ہے اور قاضی نے معتمد میں کہا ہے کہ کبیرہ وہ ہے جس کا عقاب زیادہ ہو اور صغیرہ وہ ہے جس کا عقاب کم ہو۔ ابن حامد نے کہا ہے کہ صغائر خواہ کسی نوع کے ہوں وہ تکرار سے کبیرہ ہوجاتے ہیں اور ہمارے فقہاء نے کہا ہے کہ تکرار سے صغیرہ کبیرہ نہیں ہوتا جیسا کہ جو امور غیر کفر ہوں وہ تکرار سے کفر نہیں ہوتے۔ (کتاب الفروع ج ٦ ص ٥٦٥۔ ٥٦٤ مطبوعہ عالم الکتب بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ) 

علامہ منصور بن یونس بن ادریس بھوتی حنبلی متوفی ١٠٤٦ ھ بیان کرتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ ہے جس پر دنیا میں حد ہو اور آخرت میں وعید ہو جیسا کہ سود کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور شیخ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جس فعل پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی ہو۔ 

جھوٹ بولنا گناہ صغیرہ ہے بشرطیکہ اس پر دوام اور استمرار نہ ہو البتہ جھوٹی گواہی دینا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنا یا کسی پر جھوٹی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے اور صلح کرانے کے لئے بیوی کو راضی کرنے کے لئے اور جنگی چال کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ علامہ ابن جوزی نے کہا ہے ہر وہ نیک مقصد جو جھوٹ کے بغیر حاصل نہ کیا جاسکتا ہو اس کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ غیبت میں اختلاف ہے علامہ قرطبی نے اس کو کبائر میں شمار کیا ہے اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ یہ صغیرہ ہے۔ صاحب الفصول ‘ صاحب الغنیہ اور صاحب المستوعب کی یہی تحقیق ہے۔ امام داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بلاعلم کچھ کہنا گناہ کبیرہ ہے ‘ ضرورت کے وقت علم چھپانا گناہ کبیرہ ہے ‘ فخر اور غرور کے لئے علم حاصل کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ جاندار کی تصویر بنانا گناہ کبیرہ ہے ‘ کاہن اور نجومی کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ‘ بدعت کی دعوت دینا ‘ خیانت کرنا ‘ بدفالی کرنا ‘ بدفالی نکالنا ‘ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا ‘ وصیت میں زیادتی کرنا ‘ خمر بیچنا ‘ سودی معاملہ لکھنا اور سود پر گواہی دینا کبیرہ ہے ‘ دو چہروں والا ہونا یعنی بظاہر دوستی رکھنا اور بباطن دشمنی رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ خود کو کسی اور نسب کی طرف منسوب کرنا ‘ جانور سے بدفعلی کرنا ‘ بلاعذر جمعہ ترک کرنا ‘ نشہ آور اشیاء استعمال کرنا ‘ نیکی کرکے احسان جتلانا ‘ لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کی باتیں کان لگا کر سننا ‘ کسی پر بلا استحقاق لعنت کرنا ‘ غیر اللہ کی قسم کھانا یہ تمام امور گناہ کبیرہ ہیں ‘ اور جو مسائل اجتہادیہ ہیں ان کو کسی مجتہد کی اتباع میں کرنا ‘ معصیت نہیں ہے ‘ مثلا امام ابوحنیفہ کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کرنا جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے اور امام مالک کے نزدیک بغیر گواہوں کے نکاح جائز ہے اور باقی ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ علامہ بھوتی حنبلی کے ذکر کردہ کبیرہ گناہوں میں سے ہم نے ان گناہوں کو حذف کردیا جن کو اس سے پہلے ہم علامہ نووی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں۔ (کشاف القناع ج ٦ ص ٤٢٢۔ ٤١٩‘ ملخصا مطبوعہ عالم الکتب بیروت) 

اصرار سے گناہ صغیرہ کے کبیرہ ہونے کی وجہ : 

علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے لکھا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے ایک علمی مجلس میں مجھ سے ایک فاضل دوست نے سوال کیا کہ صغیرہ پر اصرار کرنا دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہے اس لئے یہ اسی درجہ کی معصیت ہونی چاہیے اور جب یہ پہلے صغیرہ تھا تو دوبارہ اس کو کرنے سے یہ گناہ کبیرہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے اس کے جواب میں کہا : اگر گناہ صغیرہ کرنے کے بعد انسان نادم ہو اور اس پر استغفار کرے اور پھر دوبارہ شامت نفس سے وہ صغیرہ گناہ کرلے تو یہ اصرار نہیں ہے تکرار ہے اور گناہ صغیرہ کرنے کے بعد نادم اور تائب نہ ہو اور بلاجھجک اس گناہ کا اعادہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے اور یہ کبیرہ اس وجہ سے ہوگیا کہ اس نے اس گنہا کو معمولی سمجھا اور اس میں احکام شرعیہ کی تخفیف اور بےوقعتی ہے اور شریعت کی تخفیف اور بےوقعتی گناہ کبیرہ ہے ‘ جبکہ شریعت کی توہین کفر ہے۔ فرض اور واجب تو دور کی بات ہے جو فعل مسنون ہو اس کی تخفیف اور بےوقعتی بھی گناہ کبیرہ ہے ‘ اور اس کی توہین کرنا کفر ہے۔ العیاذ باللہ ! 

اس کے بعد اس بحث کو لکھتے وقت جب میں نے اس سوال پر غور کیا تو مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن اور حدیث میں معصیت پر اصرار کرنے کو کبیرہ قرار دیا ہے خواہ وہ کسی درجہ کی معصیت ہو معصیت پر نفس اصرار گناہ کبیرہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفروا الذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون، اولئک جزآؤھم مغفرۃ من ربھم وجنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ونعم اجر العاملین “۔ (ال عمران : ١٣٦۔ ١٣٥) 

ترجمہ : اور جب وہ لوگ بےحیائی کا کام یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ لوگ جان بوجھ کر اپنے کئے (یعنی گناہوں) پر اصرار نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ جنات ہیں جن کی نیچے دریا جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور (نیک) کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اخروی انعامات کو عدم اصرار معصیت پر مرتب فرمایا ہے اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ معصیت پر اصرار کرنا اخروی عذاب کو مستلزم ہے اور اس سے بھی زیادہ صریح یہ آیت ہے۔ : 

(آیت) ” عفا اللہ عما سلف ومن عاد فینتقم اللہ منہ ‘ واللہ عزیز ذوانتقام “۔ (المائدہ : ٩٥) 

ترجمہ : جو ہوچکا اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور جس نے دوبارہ یہ کام کیا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ بڑا غالب ہے بدلہ لینے والا۔ 

ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصرار پر وعید فرمائی ہے اور وعید گناہ کبیرہ پر ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں کے لئے عذاب ہو جو اپنے کئے ہوئے (گناہ) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے (گناہ پر) استغفار کرلیا تو یہ اس کا اصرار نہیں ہے خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ گناہ کرے۔ (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ١٥١٤) 

اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ گناہ کے بعد استغفار کرلیا جائے تو یہ تکرار ہے اور گناہ کے بعد پھر گناہ کرے اور توبہ نہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : 

استغفار کے ساتھ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ گناہ صغیرہ نہیں رہتا (یعنی کبیرہ ہوجاتا ہے) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٥٩‘ مطبوعہ ایران) 

اصرار کے ساتھ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اس پر یہ حدیث صراحتا دلالت کرتی ہے علامہ آلوسی امام بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے موقوفا روایت ہے کہ جس گناہ پر بندہ اصرار کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرے) وہ گناہ کبیرہ ہے اور جب بندہ کسی گناہ پر توبہ کرلے تو وہ گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث اور آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ گناہ پر اصرار کرنا (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا) اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے خواہ وہ گناہ کسی درجہ کا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد توبہ نہ کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص اس گناہ کو معمولی اور بےوقعت سمجھتا ہے اور اس کا یہ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منع کرنے کو اہمیت نہیں دیتا اور ان کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا اور شریعت کو معمولی اور بےوقعت سمجھنا اور اس سے لاپرواہی برتنا یہی گناہ کبیرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

صرف اسلام ہی دین ہے

سارے جہاں کے خالق و مالک، معبودِ حقیقی اللہ عز و جل کے یہاں صرف اسلام ہی دین ہے، اسلام کے سوا جتنے بھی ادیان و مذاہب رائج ہیں سب خود ساختہ ہیں، انسانوں ہی کے ایجاد کردہ ہیں، جن کی کوئی حقیقت ہے نہ حیثیت اور جو ہرگز ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ اللہ جل مجدہٗ نے صاف ارشاد فرمایا:…

’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ترجمہ: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان،آل عمران، ۱۹)

’’و من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ‘‘ (آل عمران) ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ (کنز الایمان)

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف چودہ سو برس پرانا دین ہے وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اسلام کا زمینی سفر اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب دنیا کے سب سے پہلے انسان اور تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے اس دھرتی پر قدم رنجہ فرمایا تھا حالانکہ اسلام کا سفرِ اصلی نورِ محمدی کی تخلیق سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام تک سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا، وہ مسلمان تھے، انہوں نے اسلام ہی کی تبلیغ کی اور ان پر جو ایمان لائے وہ مسلمان ہی کہلائے۔ البتہ جب نبیوں اور رسولوں کے سردار و خاتم، پیغمبرِ اسلام، نبی ٔ امی، حضرت سیدنا محمد عربیتشریف لائے تو رب عظیم نے آپ کو سارے انسانوں کا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر اسلام کو کامل فرمایا۔

قرآن مقدس ان تمام حقائق کا اس طرح اظہار فرماتا ہے:…

’’کان الناس امۃ واحدۃ‘‘ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے۔

(کنزالایمان، البقرہ، ۲۱۳)

’’و ما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا‘‘ ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے۔ (کنز الایمان،یونس،۱۹)

’’قل یٰایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘

ترجمہ: تم فرمادو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

(کنزالایمان ،اعراف، ۱۵۸)

چوں کہ آقا حضور ﷺ کل انسانوں کے رسول ہیں، رسول انسانیت ہیں، رب کائنات نے انہیں سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ ارشاد ربانی ہے:…’’و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعلمین‘‘ ترجمہ: اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ (کنزالایمان،الانبیاء:۱۰۷)

’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘ ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام دین پسند کیا۔ (کنزالایمان،مائدہ:۳)

خود حضور رسالت مآب ﷺ نے بھی اعلان فرمایا:…

’’اے اللہ کے نبیو! ہمارا دین ایک ہے‘‘ (بخاری شریف)

یعنی ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا۔

چوں کہ سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا اور دنیا کے سارے انسان، خطہ و علاقہ اور عہد کے مطابق انہیں ہادیانِ کرام کی امت میں تھے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے آقا حضور سیدنا محمد رسول اللہا تمام انسانوں کے رسول ہیں اور وہی کل جہاں کے لئے رحمت ہیں۔ لہٰذا اس سے بھی ثابت ہوا کہ اسلام ہی کل انسانوں کا دین ہے۔

چوں کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے اس لئے اللہ رب العزت نے سب کے لئے ایک مرکز قائم فرمایا، ارشاد فرماتا ہے: …’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا و ہدیً للعالمین فیہ آیٰت بینٰت مقام ابراہیم و من دخلہ کان آمنا و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین‘‘ ترجمہ:بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہاں کا راہنما، اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہاں سے بے پرواہ ہے۔

(البقرہ:۹۶،۹۷…کنزالایمان)

قرآنی آیات اور سرکار ابد قرارﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام ہی دینِ الٰہی ہے، یہی سارے نبیوں اور رسولوں کا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ا پر کامل فرمایا۔ رہتی دنیا تک چوں کہ حضور ا کی نبوت و رسالت قائم رہے گی اور اسلام ہی کی حکمرانی رہے گی۔

اسلام در اصل دینِ فطرت ہے یہی سب کا دین ہے، ہر انسان کا دین ہے، رنگ و نسل، خطہ و علاقہ، عہد و عصر اور جنس و عمر کی تخصیص کے بغیر اور اسی لئے اس کا ہر اصول اور قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس نے انسان کو زندگی کا سلیقہ اور بندگی کا طریقہ بخشا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کی فطرت پر خالقِ کائنات اللہ رب تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:…’’اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے‘‘ (کنزالایمان… روم:۳۰)

حدیثِ پاک ہے:…’’بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں، عیسائی بنا لیتے ہیں، مجوسی بنا لیتے ہیں‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی)

اسلام ہی دینِ فطرت بھی اور دینِ انسانیت بھی

’’اسلام دینِ انسانیت ہے‘‘ سے دو معانی مراد لئے جا سکتے ہیں۔

(۱)اسلام انسانیت یعنی آدمیت، بشریت کا دین ہے، یعنی سارے انسانوں کا دین ہے۔

(۲)انسانیت سے مراد ہے انسانی اقدار یعنی شرافت، انس، محبت، رحمدلی، اخلاق، تہذیب وغیرہ وغیرہ۔

پس اسلام سلامتی کا دین ہے، امن و آشتی کا دین ہے، اخلاق و تہذیب اور شرافت کا دین ہے، رأفت و رحمت اور محبت و رواداری کا دین ہے۔ اس کی دعوت، اسکی تعلیم، اس کی صداقت، اس کی محبت ہر انسان کو عام ہے۔

اسلام کی تعریف ایک مستشرق نے اس طرح کی ہے وہ اسلام کو انگریزی میں لکھتا ہے۔ ISLAM

اس کے پہلے حرف (I) سے مراد لیتا ہے (I) یعنی میں۔

دوسرے حرف (S) سے مراد لیتا ہے Shallیعنی (گا)

تیسرے حرف (L) سے مراد لیتا ہے Love یعنی محبت۔

چوتھے حرف (A) سے مراد لیتا ہے All یعنی سب۔

پانچویں حرف (M) سے مراد لیتا ہے Man Kind بنی نوعِ انسانی۔

مطلب ہوا:… "I shall love all Man kind”

یعنی میں سبھی انسانوں سے پیار کروں گا۔ اور لا ریب یہی اسلام ہے۔

اسلام کسی بھی انسان کے ساتھ ظلم، نا انصافی، کسی کی دل آزاری اور تعصب و فرقہ واریت کے سخت خلاف ہے۔ اسلام امن و آشتی کا علم بردار ہے۔ اصل ستیہ اور اہنسا (سچائی اور عدمِ تشدد۔ Truth and Non-Vorlence) کا علم بردار صرف اور صرف اسلام ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:…’’جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلایا اس نے گویا سب لوگوں کو جلایا‘‘ (مائدہ:۳۲)

جانِ رحمت سیدنا محمد عربی ا کا ارشاد گرامی ہے:…’’مخلوق اللہ کا گھرانہ ہے۔ پس اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہی ہے جو اس کے گھرانے کے لئے فائدہ مند ہو‘‘ ۔

(طبرانی کبیر، طبرانی اوسط، حلیۃ الاولیا، شعب الایمان و غیرہا)

اسلام جو دینِ فطرت ہے، دینِ انسانیت ہے، رحمت و محبت ہے، جس نے انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک اور اس کے معبود حقیقی کی معرفت عطا کی، جس نے انسان کو تہذیب و اخلاق اور شرافت و انسانیت کا درس دیا، جہاں گیری و جہاں بانی کے آداب سکھائے۔ افسوس اور حیرت بلکہ ظلم در ظلم!! کہ اعدائِ اسلام اور ظالمانِ زمانہ بالخصوص امریکہ و یورپ اور ایشیامیں ان کے ایجنٹ اسرائیل اور ہمارے ملک بھارت کی فرقہ پرست تنظیموں کے لیڈران اور ارکان، اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اسلام پر دہشت گردی اور مسلمانوں پر دہشت گرد کا لیبل لگانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ در اصل ان ظالمانِ زمانہ کو اسلام کی حقانیت سے سخت خطرہ ہے جو ان کے شیطانی مشن کے فروغ کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

٭ صرف اسلام ہی انسانیت کا محافظ اور عالمی امن کا ضامن ہے۔

٭ اسلام نے رواداری کا جو تصور پیش کیا ہے تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، یہاں تک کہ اس دور جدید میں بھی یہ تصور نہیں ملتا۔

٭ اسلام نے ذمی کافر کو مسلمانوں ہی کے سے حقوق دئے ہیں۔

٭ اسلام نے غلاموں کو آزادی سے ہمکنار کیا، جبری مزدوری، استحصال، ذخیرہ اندوزی، کالابازاری، سود خوری، بے پردگی، عیاشی، فحاشی اور تمام خرافات و خرابات کا سدِ باب فرما دیا۔

٭ انسان تو انسان اسلام نے تو حیوانات و نباتات کے تحفظ اور ان کی بے حرمتی پر روک لگا دی۔

٭ رحمتِ عالم ﷺ نے (۱)زندہ جانوروں کا گوشت کاٹنے سے منع فرمایا۔ (۲)کسی بھی جانور کو آگ میں جلانے سے منع فرمایا۔ (۳)جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (۴)کسی بھی جانور کو بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرنے سے منع فرمایا۔

اسلام کی سچائیوں اور اچھائیوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک دفتر ہی نہیں پوری عمر چاہئے۔ یہ ہر انسان کا دین ہے، اسلام ہی ہر انسان کا گھر ہے، یہیں امن ہے، ہر انسان کو اسلام کے گھر میں یعنی اپنے گھر میں لوٹ آنا چاہئے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوا اصۡبِرُوۡا وَصَابِرُوۡا وَرَابِطُوۡا وَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادیتوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! فی نفسہ صبر کرو اور لوگوں کی زیادتیوں پر صبر کرو اور اپنے نفسوں اور اپنی سرحدوں کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم کامیاب ہو۔ (آل عمران : ٢٠٠) 

رب آیات : 

یہ اس سورت کی آخری آیت ہے ‘ اور سورة آل عمران میں جو تمام مضامین تفصیلی طور پر ذکر کیے گئے ہیں وہ تمام مضامین اجمالی طور پر اس آیت میں ذکر کردیئے گئے ہیں ‘ اس آیت میں عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” اصبروا “ میں اشارہ ہے ‘ اور مخالفین کی ایذا رسانیوں پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” صابروا “ میں اشارہ ہے اور کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے اس کی طرف ” رابطوا “ میں اشارہ ہے اور اصول اور فروع یعنی عقائد اور اعمال سے متعلق احکام شرعیہ پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی طرف ” واتقوا اللہ “ میں اشارہ ہے۔ 

صبر کا لغوی اور شرعی معنی : 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

صبر کے معنی ہیں تنگی میں کسی چیز کو روکنا ‘ صبرت الدابۃ کا معنی ہے میں نے بغیر دانے اور چارہ کے سواری کو روک لیا ‘ اور صبر کا اصطلاحی معنی ہے عقل اور شرع کے تقاضوں کے مطابق نفس کو روکنا اور پابند کرنا ‘ صبر ایک جنس ہے اور اس کی کئی انواع ہیں ‘ مصیبت پہنچنے پر نفس کو جزع وفزع ہے اور جنگ کے وقت نفس کو بزدلی سے روکنا صبر ہے اس کو شجاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں بزدلی ہے ‘ عبادات میں مشقتوں کو برداشت کرنا اور غضب ‘ شہوت اور حرص وطمع کی تحریک کے وقت اپنے نفس کو اللہ کی نافرمانی سے روکنا بھی صبر ہے اس کو اطاعت کہتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں فسق وفجور ہے (مفردات الفاظ القرآن ص ٢٧٣‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

صبر کے متعلق احادیث :

مصیبت کے وقت نفس کو جزع اور فزع سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک عورت کے قریب سے گزرے جو قبر کے پاس رو رہی تھی ‘ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر کرو اس نے کہا ایک طرف ہٹو تم کو میری طرح مصیبت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ اس کو بتایا گیا کہ یہ تو نبی کریم ہیں ‘ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دروازہ پر آئی وہاں اس نے کوئی دربان نہیں پایا ‘ اس نے کہا میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصبیت نہیں پہنچی ‘ اس نے آپ کو پہنچانا نہیں تھا ‘ آپ نے فرمایا جب پہلی بار صدمہ (یامصیبت) پہنچے اسی وقت (نفس کو روکنا) صبر ہوتا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ١٢٨٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٢٦) 

اور کفار سے جنگ کے وقت اپنے نفس کو بزدلی سے روکنے کے متعلق یہ حدیث ہے 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دشمنوں سے جنگ کرتے ہوئے ایک دن انتظار کیا حتی کہ سورج ڈھل گیا ‘ پھر آپ نے لوگوں میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! دشمن سے مقابلہ کی توقع نہ کرو ‘ اور اللہ سے عافیت کا سوال کرو ‘ اور جب تمہارا دشمن سے مقابلہ ہو تو صبر کرو (یعنی بزدلی نہ کرو) اور یقین رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦‘ ٢٩٦٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧) 

عبادات کی مشقتوں کو برداشت کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتی ہیں کہ جس دن سورج گرہن ہوا اس دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھبرائے آپ نے اپنی قمیص پہنی ‘ اور چادر اوڑھی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی اور اس میں بہت لمبا قیام کیا پھر آپ نے رکوع کیا ‘ میں نے دیکھا کہ ایک عورت مجھ سے عمر میں بڑی تھی اور کھڑی ہوئی تھی اور ایک عورت میری بہ نسبت بیماری تھی وہ بھی قیام میں تھی تو میں نے دل میں کہا میں تمہاری بنسبت زیادہ حقدار ہوں کہ طول قیام کی مشقت پر صبر کروں (مسند احمد ج ٦ ص ٣٤٩‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

حرص ‘ غضب اور شہوت کے تقاضوں پر صبر کرنے کے متعلق یہ حدیث ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت سلمہ بن صخر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رمضان میں اپنی بیوی سے ظہار کیا پھر ایک رات کو اس سے جماع کرلیا ‘ صبح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ واقعہ عرض کیا : آپ نے فرمایا اے سلمہ ! تم نے یہ کام کیا ؟ میں نے دو مرتبہ عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے تقصیر ہوگئی اور میں اللہ کے حکم پر صابر ہوں ‘ آپ کو جو اللہ فرمائے آپ مجھے اس کا حکم دیجئے۔ الحدیث : (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢١٣) 

صابروا کا لغوی معنی اور صبر اور مصابرہ میں فرق : 

علامہ سید محمد مرتضیٰ حسینی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (اصبروا وصابروا ورابطوا “ اس آیت میں ادنی سے اعلی کی طرف انتقال ہے ‘ صبر ‘ مصابرہ سے کم ہے اور مصابرہ ‘ مرابطہ سے کم ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اپنے نفوس کے ساتھ صبر کرو اور صابروا کا معنی ہے مصیبتوں پر اپنے دلوں میں اللہ پر صبر کرو ‘ اور رابطوا کا معنی ہے اپنے اسرار کا اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو اور ایک قول یہ ہے کہ اصبروا کا معنی ہے اللہ میں صبر کرو ‘ اور صابروا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ صبر کرو اور رابطوا کا معنی ہے اللہ کے ساتھ رابطہ رکھو۔ (تاج العروس ج ٣ ص ‘ ٣٢٤ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت اسامہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب مشرکین کو معاف کردیتے تھے اور ان کی ایذا ارسانیوں پر صبر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ج ٦٢٠٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص اپنے امیر کی کوئی ناگوار چیز دیکھے وہ اس پر صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی علیحدہ ہوا ‘ اور مرگیا وہ جاہلیت کی موت مرا (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٤٩) 

امام عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی متوفی ٢٥٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مجلس میں تشریف فرما تھے ‘ آپ ہنسے ‘ پھر آپ نے فرمایا کیا تم مجھ سے نہیں دریافت کرتے کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں ؟ صحابہ نے عرض کیا آپ کس وجہ سے ہنسے ہیں ؟ آپ نے فرمایا مجھے مومن کے حال پر تعجب ہوتا ہے ‘ اس کا ہرحال خیر ہے اگر اس کو کوئی پسندیدہ چیز ملے اور وہ اس پر اللہ کی حمد کرے تو یہ اس کے لیے خیر ہے اور اگر اس کو کوئی ناگوار چیز ملے اور وہ اس پر صبر کرے تو یہ بھی اس کے لیے خیر ہے اور مومن کے سوا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جس کا ہرحال خیر ہو۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٩٩٩‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٣٣‘ ٣٣٢‘ ج ٦ ص ١٥١٦) 

مرابطہ کے معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی لکھتے ہیں : 

مرابطہ کی دو قسمیں ہیں ‘ مسلمانوں کی سرحدوں کی نگہبانی اور حفاظت کرنا ‘ کہیں اس پر دشمن اسلام حملہ آور نہ ہوں اور دوسری قسم ہے نفس کا بدن کی نگہبانی اور حفاظت کرنا کہیں شیطان اس سے گناہ نہ کرائے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا بھی رباط ہے ‘ یہ دوسری قسم ہے اور پہلی قسم کے متعلق یہ آیت ہے : 

(آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل “۔ (الانفال : ٦٠) 

ترجمہ : ان کے لیے بہ قدر استطاعت ہتھیاروں کی قوت اور گھوڑے باندھنے کو فراہم کرو۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ١٨٦ ‘۔ ١٨٥‘ مطبوعہ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران ‘ ١٣٦٢ ھ) 

آیت مذکورہ میں رابطور کے محامل : 

ہر چند کہ انسان ضبط نفس کرکے فی نفسہ صبر کرتا ہے اور لوگوں کی ایذاء رسانی پر بھی صبر کرتا ہے لیکن پھر بھی اس میں شہوت ‘ غضب اور حرص پر مبنی برے اخلاق ہوتے ہیں اور اپنے نفس کو برے اخلاق سے پاک کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ انسان اپنے نفس سے جہاد کرے اور اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور جب کبھی شہوت یا حرص کے غلبہ سے کسی گناہ کی تحریک ہو تو اپنے نفس کو اس گناہ سے آلودہ نہ ہونے دے ‘ اور یہ محاسبہ اور نگہبانی اسی وقت ہوسکتی ہے جب انسان کے دل میں اللہ کا ڈر اور خوف ہو ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے کا حکم دینے کے بعد فرمایا : (آیت) ’ ورابطوا واتقوا اللہ “۔ یعنی اپنے نفس کی نگہبانی کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تمہیں کامیابی کی امید ہو۔ 

چونکہ سورة آل عمران کی زیادہ کی زیادہ تر آیتیں جنگ احد سے متعلق ہیں اور بعض مسلمانوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک حکم کی خلاف ورزی کی تھی جس کے نتیجہ میں وہ شکست سے دوچار ہوئے اور اس شکست پر آزردہ خاطر ہوئے ‘ اس لیے اس آیت کا ایک ظاہری محمل یہ ہے کہ کفار سے جنگ کے دوران ثابت قدم رہو اور جنگ میں ان کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں پر صبر کرو ‘ اور اپنی سرحدوں کی حفاظت کرو ‘ اور اس سلسلہ میں اللہ اور رسول کے احکام پر عمل کرنے میں اللہ سے ڈرتے رہو اور کسی قسم کی حکم عدولی نہ کرو تاکہ تمہیں کامیابی اور سرفرازی کی امید ہو۔ 

اس آیت کا ایک محمل یہ بھی ہے کہ نفسہ صبر کرو اور مخالفوں کی ایذاء رسانیوں پر صبر کرو اور ہرحال میں اللہ سے رابطہ استوار رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ 

اسلامی ملک کی سرحد کی حفاظت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت سلمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ایک دن اور ایک رات سرحد کی حفاظت کرنا ‘ ایک ماہ کے روزوں اور قیام سے افضل ہے ‘ اور اگر وہ مرگیا تو اس کا یہ اجر جاری رہے گا اور وہ فتنہ میں ڈالنے والے سے محفوظ رہے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٩١٣‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦٨‘ ٣٦٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٧‘ مسنداحمد ‘ ج ٢ ص ١٧٧‘ ج ٥ ص ٤٤١‘ ٤٤٠‘ تحفۃ الاشراف : رقم الحدیث : ٩١ ٤٤) 

فتنہ میں ڈالنے سے مراد یا تو منکر نکیر ہیں اور یا اس سے مراد شیطان ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کے ثواب کو جاری رکھے گا اور جس حدیث میں ہے ابن آدم میں سے ہر ایک کا عمل منقطع ہوجاتا ہے ماسوا تین کے اس کا مطلب ہے ان تین کا عمل منقطع نہیں ہوتا اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس کا عمل منقطع ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اس کا ثواب جاری رکھے گا۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عثمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منی میں فرمایا اللہ کی راہ میں ایک دن سرحد کی حفاظت کرنا اس کے علاوہ ہزار ایام سے افضل ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ٥٧‘ ٦٦‘ ٦٤‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٣١) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میں تم کو وہ چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو مٹا دے اور درجات کو بلند کر دے ‘ صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں ! یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا مشقت کے وقت مکمل وضو کرنا ‘ زیادہ قدم چل کر مسجد میں جانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ‘ سو یہی رباط ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٥١‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٥١، سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٤٣‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٧٧‘ ٢٠٢) 

گناہوں کو مٹانے سے مراد یہ ہے کہ ان کے نامہ اعمال سے گناہ مٹادیئے جائیں ‘ یا گناہ کے مقابلہ میں دل کے اندر جو ایک سیاہ نقطہ بن جاتا ہے اس کو مٹا دیا جائے ‘ مشقت کے وقت مکمل وضو کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب انسان کو پانی ٹھنڈا لگے یا پانی کے استعمال سے جسم میں تکلیف ہو اس وقت مکمل وضو کرے ‘ دور سے چل کر مسجد میں آنا یہ واضح ہے ‘ ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا اس سے یا تو مسجد میں بیٹھ کر انتظار کرنا مراد ہے تو یہ اعتکاف کے ایام میں پانچوں نمازوں سے حاصل ہوتا ہے اور عام دنوں میں آسانی سے عصر کے بعد مغرب کی نماز اور مغرب کے بعد مسجد میں عشاء کی نماز کے انتظار میں حاصل ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ انسان ایک نماز پڑھ کر اپنے گھر یا دکان یا دفتر میں آجائے لیکن اس کا دل و دماغ دوسری نماز کے انتظار میں لگا ہوا ہو ‘ تو یہ انتظار پانچویں نمازوں میں آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے ‘ اس کو آپ نے رباط فرمایا ہے کیونکہ رباط سے مراد نفس کو پابند کرنا ہے۔ خواہ سرحد کی حفاظت پر خواہ ان عبادات میں یا اس لیے کہ رباط کا معنی ہے نفس اور جسم کا عبادات کے ساتھ ارتباط رکھنا ‘ یا رباط کا معنی ہے نگہبانی کرنا خواہ سرحد کی دشمنان اسلام سے نگہبانی کی جائے خواہ وضو سے نماز کی حفاطت کی جائے اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرکے اس کی نگہبانی کی جائے اور اس کو ضائع ہونے بچایا جائے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو فرمایا ہے سو یہی رباط ہے اس کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ سورة آل عمران میں جو رابطو ‘ کا لفظ ہے اس سے مراد ان عبادات کی نگہبانی کرنا ہے۔ 

آج ٢٢ صفر المظفر ١٤١٧ ھ۔ جولائی ١٩٩٦ ء بروز پیر سورة آل عمران کی تفسیر مکمل ہوگئی الہ العلمین جس طرح آپ نے آل عمران کی تفسیر مجھ سے مکمل کرائی ہے بقیہ قرآن مجید کی تفسیر بھی مکمل کرا دیں اور اس تفسیر میں مجھ کو غلطیوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھیں اور اس تفسیر تبیان القرآن کو تا روز قیامت مقبول اور اثر آفرین رکھیں اور مجھے ‘ میرے والدین ‘ میرے اساتذہ اور میرے قارئین اور محبین کو دنیا اور آخرت کے عذاب سے بچائیں اور ان کے لیے دارین کی نعمتوں کا دروازہ کھول دیں ” واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی رسولہ خیر خلقہ سیدنا محمد و علی الہ و اصحابہ وازواجہ وعلمآء ملتہ واولیآء امتہ وامتہ اجمعین “۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 200

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَمَنۡ يُّؤۡمِنُ بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكُمۡ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡهِمۡ خٰشِعِيۡنَ لِلّٰهِ ۙ لَا يَشۡتَرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِيۡلًا ‌ؕ اُولٰٓٮِٕكَ لَهُمۡ اَجۡرُهُمۡ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِيۡعُ الۡحِسَابِ

ترجمہ:

اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اور اس پر جو ان کی طرف نازل کیا گیا درآنحالیکہ ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلہ میں تھوڑی قیمت نہیں لیتے یہ وہ لوگ ہیں جن کا اجر ان کے رب کے پاس ہے، بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک بعض اہل کتاب اللہ پر ایمان لاتے ہیں ‘ اور اس پر جو تمہاری طرف نازل ہوا اور اس پر جو ان کی طرف نازل ہوا اور ان کے دل اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں ‘ بیشک اللہ جلد حساب لینے والا ہے (آل عمران : ١٩٩) 

شان نزول : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت نجاشی اور اس کے اصحاب کے متعلق نازل ہوئی ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے اور نجاشی کا نام اصحمہ تھا۔ 

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ پڑھی تو منافقین نے اس پر طعن کیا تو یہ آیت نازل ہوئی نیز ابن جریج سے یہ بھی روایت ہے کہ یہ آیت حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ اہل کتاب خواہ یہود ہوں یانصاری ان میں سے جو لوگ مسلمان ہوگئے تھے یہ آیت ان کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ مجاہد کی روایت زیادہ اولی ہے (جامع البیان ج ٤ ص ١٤٧۔ ١٤٦‘ مطبوعہ دار المعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

غائب میت کی نماز جنازہ پڑھنے میں مذاہب ائمہ : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس دن نجاشی فوت ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی موت کی خبر دی ‘ آپ عیدگاہ کی طرف گئے مسلمانوں نے صفیں باندھیں اور آپ نے چار تکبیریں پڑھیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٨٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٥١) 

امام ابو محمد حسین بن مسعود شافعی متوفی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں :

نجاشی کافر قوم کے درمیان تھا وہ مسلمان تھا اور کافروں سے اپنا ایمان چھپاتا تھا ‘ اور جس جگہ وہ تھا وہاں اس کی نماز جنازہ پڑھ کر اس کا حق ادا کرنے والا کوئی نہ تھا اس لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی نماز جنازہ پڑھنے کا اہتمام کیا اسی طرح جس شخص کو معلوم ہو کہ ایک مسلمان ایسی جگہ فوت ہوگیا جہاں اس کی نماز پڑھنے والا کوئی نہیں ہے تو اس پر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھنا لازم ہے ‘ اس حدیث کے فوائد سے یہ ہے کہ غائب میت کی نماز جنازہ جائز ہے ‘ وہ لوگ قبلہ کی طرف منہ کریں اس شخص کے شہر کی طرف منہ نہ کریں اکثر اہل علم کا یہی قول ہے اور بعض ائمہ کا قول یہ ہے کہ غائب کی نماز جنازہ جائز نہیں ہے یہ اصحاب رائے (ائمہ احناف اور مالکیہ) کا قول ہے ان کا قول یہ ہے کہ یہ نماز نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مخصوص ہے اور یہ قول ضعیف ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال کی اقتداء واجب ہے جب تک کہ تخصیص کی دلیل نہ پائی جائے اور تخصیص کا دعوی صحیح نہیں ہے کیونکہ صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز نہیں پڑھی تھی بلکہ مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ اس کی نماز پڑھی تھی۔ (شرح السنہ ج ٣ ص ٢٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ )

علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحید المعروف بابن الھمام المتوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجاشی کی نماز جنازہ اس لیے پڑھی تھی کہ آپ کے سامنے اس کا تخت لایا گیا تھا ‘ حتی کہ آپ نے اس کو دیکھ لیا تھا ‘ سو یہ اس میت پر نماز تھی جس کو امام دیکھ رہا تھا ‘ اور اس کا جنازہ امام کے سامنے تھا اور مقتدیوں کے سامنے نہیں تھا اور یہ اقتداء سے مانع نہیں ہے ‘ ہرچند کہ یہ ایک احتمال ہے لیکن اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا بھائی نجاشی فوت ہوگیا اٹھو اس پر نماز پڑھو ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوئے اور صحابہ نے آپ کے پیچھے صفیں باندھیں ‘ آپ نے چار تکبیریں پڑھیں اور وہ یہ گمان نہیں کرتے تھے کہ اس کا جنازہ آپ کے سامنے تھا ‘ (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣١٠٢) اس حدیث میں اشارہ ہے کہ واقع میں ان کے گمان کے خلاف تھا ‘ یا تو حضرت عمران نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سن لیا تھا اور یا ان کے لیے جنازہ منکشف کردیا گیا تھا ‘ یا یہ صرف نجاشی کی خصوصیت تھی اور دوسرا کوئی اس کے ساتھ لاحق نہیں ہے جیسے حضرت خزیمہ بن ثابت (رض) کی یہ خصوصیت ہے کہ ان کی شہادت دو شہادتوں کے برابر ہے ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرے صحابہ کی بھی غائبانہ نماز جنازہ پڑھی ہے ‘ جیسے حضرت معاویہ بن معاویہ مزنی (رض) ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) تبوک میں نازل ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! معاویہ بن معاویہ مزنی مدینہ میں فوت ہوگئے کیا آپ یہ پسند کرتے ہیں کہ آپ کے لیے زمین سمیٹ دی جائے اور آپ اس کی نماز جنازہ پڑھ لیں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! انہوں نے اپنے دونوں پر زمین پر زمین پر مارے تو ان کا تخت اٹھا کر آپ کے سامنے رکھ دیا گیا ‘ آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور آپ کے پیچھے فرشتوں کی دو صفیں تھیں ‘ اور ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ‘ پھر وہ تخت واپس ہوگیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے پوچھا کہ معاویہ نے یہ فضیلت کس وجہ سے حاصل کی۔ انہوں نے کہا وہ سورة ” قل ھو اللہ احد “۔ سے محبت رکھتے تھے اور آتے جاتے ‘ اٹھتے بیٹھتے ہرحال میں اس کو پڑھتے تھے۔ (اس حدیث کو امام طبرانی نے حضرت ابو امامہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ مسند الشامبین ‘ رقم الحدیث : ٨٣١‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥٣٧‘ اور امام ابن السنی نے بھی روایت کیا ہے عمل الیوم واللیلۃ رقم الحدیث : ١٨٠) اور امام ابن سعد نے اس کو طبقات میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام واقدی نے مغازی میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر بیٹھے ہوئے تھے ‘ آپ نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھندا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے فرمایا زید بن حارثہ نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے رہے حتی کہ وہ شہید ہوگئے پھر آپ نے ان پر نماز جنازہ پڑھی اور اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور وہاں دوڑ رہے ہیں ‘ پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا لیا اور وہ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعا کی ‘ آپ نے فرمایا ان کے لیے استغفار کرو ‘ وہ جنت میں داخل ہوگئے اور اپنے دو پروں کے ساتھ جہاں چاہے جنت میں دوڑ رہے ہیں۔ (کتاب المغازی ج ٢ ص ٧٦٢۔ ٧٦١‘ مطبوعہ عالم الکتب بیروت)

اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نے خصوصیت کا دعوی اس وقت کیا ہے جب ان کا تخت لایا گیا ہو نہ وہ دکھائی دیئے گئے ہوں ‘ علاوہ ازیں مغازی میں اس کی دونوں سندیں ضعیف ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے اور طبقات کی سند میں علاء بن یزید ضعیف ہے اور امام طبرانی کی سند میں بقیہ بن ولید معنعن ہے ‘ پھر خصوصیت کی دلیل یہ ہے کہ آپ نے ان لوگوں اور نجاشی کے سوا اور کسی کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ‘ اور ان کے متعلق یہ تصریح ہے کہ ان کا جنازہ آپ کے سامنے لایا گیا تھا اور آپ ان کو دیکھ رہے تھے ‘ جب کہ بہت سے صحابہ متعدد سفروں میں غائبانہ فوت ہوجاتے تھے مثلا حبشہ اور متعدد غزوات میں ‘ اور سب سے زیادہ عزیز آپ کو ستر قاری تھے جن کو تبلیغ کے لیے کافر لے گئے اور ان کو قتل کردیا لیکن یہ کہیں منقول نہیں ہے کہ آپ نے ان میں سے کسی کی نماز جنازہ پڑھی ہو حالانکہ صحابہ میں سے جو فوت ہوجاتے آپ اس کی نماز جنازہ پر ھنے پر بہت حریص تھے حتی کہ آپ نے فرمایا تم میں سے جو شخص بھی مرجائے تم مجھے اس کی خبر دو کیونکہ اس کے اوپر میری نماز (جنازہ) اس کے لیے رحمت ہے۔ (مسند احمد ج ٤ ص ٣٨٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٣ ص ٢٧٦۔ ٢٧٥‘ سنن نسائی ج ٤ ص ٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٢٨‘ المستدرک ج ٣ ص ٥٩١‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث ٣٠٩٢۔ ٣٠٨٧‘ سنن کبری للبیہقی ج ٤ ص ٣٥) (فتح القدیر ج ٢ ص ١٢٢‘ ١٢١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 199

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لٰكِنِ الَّذِيۡنَ اتَّقَوۡا رَبَّهُمۡ لَهُمۡ جَنّٰتٌ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا نُزُلًا مِّنۡ عِنۡدِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا عِنۡدَ اللّٰهِ خَيۡرٌ لِّلۡاَبۡرَارِ

ترجمہ:

لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ‘ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لیکن جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے رہے ان کے لیے جنتیں ہیں جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی طرف سے مہمانی ہے اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے (آل عمران : ١٩٨) 

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور اس کے قرب کا جنت سے افضل ہونا :

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق وعید کا ذکر کیا تھا ‘ اور اب اس آیت میں مسلمانوں کے متعلق وعد اور بشارت کا ذکر فرمایا ہے ‘ یہ بشارت متقین کے لیے ہے جو اللہ سے ڈرتے رہتے ہیں اور اللہ سے ڈرنے والا ‘ اللہ تعالیٰ کے تمام احکام پر عمل کرے گا اور جن کاموں سے اس نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہے گا۔ 

اللہ تعالیٰ نے جنت کے متعلق فرمایا ہے یہ اس کی مہمانی ہے اس کی وضاحت اس حدیث میں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب عبداللہ بن سلام کو یہ خبر ملی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں آگئے ہیں تو وہ آپ کے پاس آئے اور کہا میں آپ سے تین سوال کروں گا جن کے جواب کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا (الی قولہ) اہل جنت ‘ جنت میں سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا اہل جنت جس چیز کو سب سے پہلے کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا ٹکڑا ہوگا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث ٤٤٨٠) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوسعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن یہ زمین روٹی کی طرح ہوجائے گی ‘ اللہ اہل جنت کی مہمانی کے لیے اپنے ہاتھ سے اس زمین کو الٹ پلٹ دے گا ‘ جس طرح تم میں سے کوئی شخص سفر میں روٹی کو الٹ پلٹ کرتا ہے ‘ پھر ایک یہودی آیا اور کہنے لگا رحمان آپ پر برکتیں نازل فرمائے کیا میں آپ کو یہ بتاؤں کہ قیامت کے دن اہل جنت کی کس چیز سے مہمانی ہوگی ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا زمین تو ایک روٹی کی طرح ہوجائے گی جس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے ‘ اس نے کہا کیا میں آپ کو اس کے سالن کی خبر نہ دوں آپ نے فرمایا کیوں نہیں ! اس نے کہا بالام اور نون ‘ صحابہ نے پوچھا وہ کیا ہیں ؟ اس نے کہا بیل اور مچھلی جن کی کلیجی کے ایک ٹکڑے سے ستر ہزار آدمی کھا سکیں گے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢) 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ” اور جو اللہ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے “ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا ہے کہ دنیا میں نیک لوگوں کے پاس جو نعمتیں تھیں یاد نیا میں کافروں کے پاس جو نعمتیں تھیں ‘ اس کے مقابلہ میں اللہ کے پاس جو اجر وثواب ہے وہ نیک لوگوں کے لیے سب سے بہتر ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے ایسی نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جو کسی آنکھ نے دیکھی ہیں نہ کسی کان نے سنی ہیں اور نہ کسی بشر کے دل میں ان خیال آیا ہے اور اگر تم چاہو تو یہ آیت پڑھو۔ 

(آیت) ” فلا تعلم نفس ما خفی لھم من قرۃ اعین “۔ (الم السجدۃ : ١٧) 

ترجمہ : سو کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے کیا نعمتیں پوشیدہ رکھی گئی ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧٤٩٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٢٤) 

نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں : 

حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک کوڑے جتنی جگہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٢٥٠‘ جامع ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٤٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٣٣٠‘ سنن دارمی : رقم الحدیث : ٢٨٢٣‘ مسند احمد ج ٢‘ ص ٤٨٣‘ ٤٨٢‘ ٤٣٨‘ ٣١٥‘ ج ٣ ص ٤٣٤‘ ٤٣٣‘ ١٤١‘ ج ٥ ص ٣٣٩‘ ٣٣٨‘ ٣٣٠) 

اس آیت کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے متقین کے لیے جنت اور اس میں ان کی مہمانی تیار کر رکھی ہے اور جو اللہ کے پاس اجر ہے وہ جنت اور اس کی مہمانی سے بہتر ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا قرب اور اس کا دیدار اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے ‘ لیکن یہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ جو مسلمان دنیا میں ہر کام اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں اور ان میں سے ایک کام دوزخ سے پناہ مانگنا اور جنت کو طلب کرنا بھی ہے ان ہی کو اللہ کی رضا اور اس کا دیدار نصیب ہوگا اور جو لوگ جنت کو معمولی اور اپنے مقام سے کمتر خیال کرتے ہیں وہ اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کرتے ہیں کیونکہ وہ اس چیز کو معمولی اور گھٹیا کہہ رہے ہیں جس کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت زیادہ تعریف فرمائی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 198