فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 74

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ:

پس اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو لڑنا چاہیے جو آخرت (کے ثواب) کے عوض دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ قتل کردیا جائے یا غالب آجائے تو ہم عنقریب اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 74

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود