بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا (النساء : ٥٤) 

یہود کے حسد کی مذمت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے بخل کی مذمت کی تھی اور اس آیت میں ان کے حسد کی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے فضل سے جو نعمت عطا فرمائی تھی یہود اس پر حسد کرتے تھے ‘ وہ کس نعمت پر حسد کرتے تھے اس میں اختلاف ہے ‘ قتادہ نے کہا ان کو یہ امید تھی کہ آخری نبی بنواسرائیل سے مبعوث ہوں گے اور جب اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل سے آخری نبی مبعوث فرمایا تو وہ اس پر حسد کرنے لگے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہود نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر تواضع کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے نکاح میں اتنی ازواج ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٨٨) لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس آیت کے دوسرے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے انکو ملک عظیم عطا کیا تھا تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حسد کیوں کرتے ہیں یہ نعمت تو حضرت ابراہیم کی آل کو بھی ملی تھی اور ان کو بھی مل چکی ہے۔ 

اس آیت میں کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور وہ تورات ‘ انجیل اور زبور اور دیگر صحائف کو شامل ہے اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا وہ اسرار ہیں جو اللہ کی کتاب میں ودیعت کیے گئے ہیں ‘ حضرت ابراہیم کی آل میں نبی اور رسول مبعوث کیے گئے جن کو یہ کتابیں اور حکمتیں دی گئیں اور وہ سب ان یہودیوں کے آباء اور اسلاف تھے ‘ اور ان کے آباء اور اسلاف کو ملک عظیم بھی دیا گیا جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ‘ حضرت دادؤ (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک دیئے گئے ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بہت زیادہ بیویاں حلال کی گئی تھیں۔ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کیوں اعتراض کرتے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوداؤد نے سنن میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑکیوں کو کھا جاتی ہے۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں سدی سے روایت کیا ہے کہ ملک عظیم سے مراد عورتوں سے نکاح ہے۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازدواج کس طرح باعث اعتراض ہوگا ! 

اور حاکم نے مستدرک میں محمد بن کعب سے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو باندیاں تھیں۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٧٣‘ مطبوعہ ایران)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟

سؤال:

محدثین کرام نے أپنی کتب میں أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو کیوں بیان کیا؟ اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے.

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

منکرین أحادیث کے إس اعتراض کے کچھ أسباب ہیں پہلے یہ بیان کرتے ہیں پھر محدثین کے نقل کرنے کے أسباب بیان کریں گے ،

منکرین أحادیث کے اعتراض کے أسباب درج ذیل ہیں:

پہلا سبب :

عام فہم لوگوں کو سنت سے دور کرنا ، أور إس کے لیے وہ عام عوام کو کہتے ہیں کہ یہ دیکھیں یہ کتب أحادیث ضعیف أور موضوعات أحادیث سے بھری پڑی ہیں تو آپ إن پہ عمل کیسے کرسکتے ہیں.

دوسرا :

أئمۂ کرام جنہوں نے یہ دین ہم تک قرآن و أحادیث کی شکل میں بحفاظت منتقل کیا أنکی تنقیص کرنا مراد ہوتی ہے کہ انہوں نے جھوٹے لوگوں سے روایات لے کر دین کا مذاق بنایا .

تیسرا سبب :

منکرین أحادیث کو سب سے زیادہ فائدہ دینے والے خطباء و واعظین ، نقیبان محافل ، قوال ، أور حتی کہ حال و ماضی کے بعض بڑے بڑے علماء أور حتی کہ جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے وہ بھی ،کیونکہ أنہوں نے سیرت و تفاسیر ، تاریخ أور أحادیث کی کتب جیسے معاجم طبرانی و حلیلۃ الأولیاء إصفہانی وغیرہ میں جو أحادیث آئیں یہ بیان کرتے چلے گئے ،

أور أپنی کتب میں لکھتے گے کبھی ان لوگوں نے مناقب یا أپنا عقیدہ بیان کرتے ہوئے خطابات کے دوران کبھی نہیں کہا کہ یہ حدیث ضعیف ہے یہ ضعیف جدا ہے یا موضوع ہے تو جب ان جید علماء أور حال و ماضی کے مجددین کرام نے بغیر ضعف و موضوع کی طرف إشارہ کیے بیان کرتے گے تو لوگوں نے یہ سمجھنا شروع کردیا کہ کتب میں جو أحادیث آگی ہیں وہ صحیح ہیں،

إسکا فائدہ منکرین أحادیث کو ہوا أور نقصان مسلمانوں کو ہوا کہ أن میں سے ہر شخص أپنے عالم سے سنی ہوئی أحادیث کو اپنا عقیدہ سمجھنے لگا جس سے أمت میں انتشار بڑا۔

أور ضعیف و ضعیف جدا أور موضوع أحادیث سے ثابت ہونے والی چیزوں کو سنیت و غیر سنیت میں فرق کرنے کے لیے بنیاد بنا لیا گیا جس میں بلا شبہہ أمت کی ہلاکت ہے،

أگر آج بھی آپ أردو یا سیرت یا تفاسیر کی کتب أٹھا کر دیکھیں تو آپکو أن میں حدیث کا درجہ نہیں ملے گا کہ وہ کس درجے کی ہے إلا ماشاء الله یہی وجہ ہوئی کہ یہ علماء کسی آیت کی تفسیر کرتے ہوئے پھر انہیں احادیث کو بیان کرتے ہیں جو کتب تفسیر میں آئی ہوتی ہیں.

دوسری طرف محدثین کرام و جید علماء و مجددین نے درجہ احادیث کے بیان کے لیے مستقل کتب لکھیں جیسے کتب تخریجات ، کتب علل ، کتب تراجم ، کتب جرح و تعدیل ، کتب شروحات حدیث ، أور بعض متون میں بھی صحت کی شروط ہیں ، کتب فقہ، أور محقیقین نے تحقیق کے دوران حکم لگائے لہذا ہمیں أنکی کاوش سے فائدہ اُٹھانا چاہیے۔

چوتھا سبب:

ہمارے ہاں جہالت کی انتہاء ہے کہ کسی بھی حدیث کی صحت کا معیار یہ ہے کہ بس بیان کرنے والا کسی کتاب کا حوالہ دے دے چاہے وہ کتاب حدیث کی بھی نہ ہو یا حدیث کی ہو لیکن حدیث کا درجہ بیان نہ کیا گیا ہو حتی کہ أردو کی کتابوں کا حوالہ چلتا ہے ،

تو یہ بھی سبب بنا کہ لوگوں کا ذہن بن گیا کہ جو حدیث بھی کتابوں میں آجائے وہ صحیح ہوتی ہے تو جب أنکو منع کیا جاتا ہے تو پھر یہ سؤال أٹھایا جاتا ہے کہ کتب میں کیا ضعیف و شدید الضعف أور موضوع أحادیثیں ہیں کیوں ؟

یہ مرض عام لوگوں سے نہیں أور نہ ہی خطباء سے بلکہ چند إیک جید علمائے کرام أور جنکو مجدد کہا جاتا رہا یا کہا جاتا ہے أنکی وجہ سے عوام میں یہ کینسر پھیلا یہی وجہ ہے جب أن لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث ضعیف ہے یا موضوع تو کہتے ہیں وہ اتنے بڑے عالم تھے أنکو نہیں پتا تھا؟

یہ جہالت ہے جسکی لپیٹ میں ہمارا معاشرہ ہے سوائے چند إیک لوگوں کے مثال کے طور پہ واقعہ کربلا کو ہی لے لیں.

پانچواں سبب:

محدثین کرام نے فرمایا کہ أحادیث ضعیفہ فضائل میں قبول ہیں جب تک وہ موضوع نہ ہوں تو إس قاعدے کے تحت پھر جو حدیث ملی بعد میں آنے والے لوگوں کو چاہے وہ قرآن یا صحیح أحادیث کے خلاف ہی کیوں نہ ہو بیان کی جانے لگیں تو جب أنکو سمجھایا جاتا ہے تو یہ قاعدے پیش کردیتے ہیں ،

حالانکہ یہ قاعدہ متفق علیہا نہیں ہے أگرچہ إمام نووی نے اتفاق ذکر کیا ہے ، أور سب کو معلوم ہے کہ وہ لفظ اتفاق بولنے میں کتنا تساہل کرتے ہیں.

اگر متفق مان بھی لیں تو کیا محدثین کا یہ قاعدہ نہیں ہوتا کہ سند صحیح ہے متن موضوع ہے یا منکر المتن ہے تو اس قاعده پہ عمل کیا جائے گا۔

اور اس میں سب زیادہ أحسن وہی ہے جو علامہ ابن حجر عسقلانی نے نزہۃ النظر میں شروط بیان کی ہیں حدیث ضعیف قبول کرنے کی کہ وہ شدید الضعف حدیث نہ ہو وغیرہ

محدثین کرام نے بولا تھا ( تساھلنا ) أور ہم نے معنی لے لیا ( قبلنا/ قبول ہے) إس پہ پھر کبھی بحث ہوگی – بإذن اللہ-

یہ وہ بعض أسباب تھے جو إس سؤال کا سبب بنے أور محدثین کرام کی جہود پر سؤالات اُٹھنے لگے،

تو میں إیک ہی شعر کہنا چاہونگا:

تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لُٹا ؟

مجھے راہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

محدثین کرام کے قافلے کی أس جد و جہد کو مشکوک أپنے ہی علماء نے کیا جب وہ بغیر حدیث کا درجہ بیان کیے أپنے خطابات کو پرکشش کرتے رہے تو سؤال إن علماء کی رہبری پہ ہے أور سوشل میڈیا کے مفکرین کی رہبری پہ بھی؟؟؟

چھٹا سبب:

فیسبک کے بعض دانشور و مفکرین و عام عوام بھی إسکے کسی حدتک حصہ دار ہیں۔

أب درج ذیل میں وہ أسباب بیان کرتے ہیں جنکی وجہ سے محدثین کرام نے ضعیف و موضوعات روایات کو بیان کیا؟

محدثین کرام نے إسکے کئ أسباب بیان کیے ہیں جن میں سے چند إیک درج ذیل ہیں:

أحادیث ضعیفہ روایت کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

کسی عنوان میں یا مسئلہ میں جتنی أحادیث ملتی ہیں أنکو جمع کرلیں تاکہ وہ أنکے ضعیف کو جان سکیں أور پھر أس ضعف سے لوگوں کی أگاہی کے لیے کتب میں لکھ دی جائیں.

دوسرا سبب:

متابعات و شواہد کے لیے أنکی أحادیث لیں یعنی أس میں صحیح یا حسن حدیث وارد تھی تو ساتھ ضعیف سند والی حدیث بھی لکھ دی تاکہ بعد میں آنے والے لوگ جب ضعیف سند والی حدیث پڑھیں تو أنکو معلوم ہو کہ یہ دوسرے طریق سے صحیح یا حسن ہے ،

أگر وہ یہ بیان نہ کرتے تو ہو سکتا تھا کہ یہ حدیث کسی کو معلوم ہوتی تو وہ إسے ضعیف سمجھنے لگتا.

تیسرا سبب:

أگر ضعف خفیف ہے تو أسکو بھی لکھا جاتا تاکہ وہ بھی أپنے دیگر أپنے جیسے طریق سے یا کم ضعف والے سے ارتقاء پاکر حسن لغیرہ کے درجے کو پہنچ جائے بشرطیکہ کہ وہ شدید الضعف نہ ہو جیسے متہم بالکذب یا کثرت سے خطأ کرنے والا یا فاسق ہو وغیرہ کیونکہ وہ حدیث درجہ حسن کو نہیں پہنچتی لیکن علامہ ابن حجر عسقلانی نے شدید الضعف کے ارتقاء کے متعلق بھی قاعدہ بیان کیا ہے جو إمام سیوطی نے تدریب الراوی میں ” حکم حدیث روی من وجوہ ضعیفہ” کی بحث کے آخر میں لکھا ہے .

چوتھا سبب:

کبھی راوی کا ضعف مقید ہوتا ہے یعنی وہ مطلقاً ضعیف نہیں ہوتا تو لہذا أسکی صحیح و ضعیف و باطل روایات کو واضح کرنے کے لیے لکھتے ہیں تاکہ لوگ أسکی تعدیل مقید سے واقف رہیں.

پانچواں سبب:

حدیث ضعیف فضائل کے باب میں قبول ہے تو لہذا إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف قبول ہوتی ہے.

إمام نووی نے إن أسباب کو شرح صحیح مسلم کے مقدمے میں بیان کیا ہے.

( شرح صحیح مسلم ، فرع فی جملة المسائل والقواعد التي تتعلق بهذا الباب ، 1/125 )

چھٹا سبب:

بعض أحادیث کی أقسام صحت کے اعتبار سے متفق علیہ نہیں ہیں ہوسکتا ہے إیک حدیث محدثین کرام کے ہاں ضعیف ہو أور فقہاء کرام کے ہاں صحیح تو إس وجہ سے بھی حدیث ضعیف کو روایت کیا جاتا ہے.

جیسے إمام حاکم نے فرمایا:

” والصحيح من الحديث منقسم على عشرة أقسام خمسة متفق عليها وخمسة مختلف فيها "

ترجمہ: صحیح حدیث کی دس أقسام ہیں جن میں پانچ متفق علیہ ( صحت کے اعتبار سے) ہیں أور پانچ مختلف فیہ.

( المدخل إلی کتاب الإكليل للحاكم ابن البيع ، ص : 33 )

مزید مطالعہ کے لیے کتاب اصلاح ابن الصلاح إمام مغلطائی الحنفی کا مطالعہ فرمائیں جس میں أنہوں نے منہج محدثین و فقہاء میں فروق کو بیان کیا ہے.

إسی طرح علامہ ابن حجر عسقلانی نے أپنی کتاب ( نکت) میں مسئلہ ( أول من صنف الصحیح ، ص : 277 ) کے تحت إمام عراقی و إمام مغلطائی کے درمیان جو محاکمہ کیا ہے أسکو بھی پڑھیں ب۔

یہ فرق بہت کم لوگوں کو معلوم ہے،

اس لیے بعض لوگ لا علمی میں فقہائے کرام پر أحادیث ضعیفہ سے احتجاج کرنے کی تہمت لگاتے ہیں مذکورہ بالا مواقع کو پڑھنے سے تشفی ہوجائے گی باذن اللہ۔

أحادیث موضوع روایات کرنے کے أسباب :

پہلا سبب:

لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے سے بچانے کے لیے موضوع أحادیث کو روایت کیا.

دوسرا سبب:

راوی کے کذاب ہونے کو ثابت کرنے کے لیے موضوع روایات بیان کی گئیں.

أحادیث ضعیف و موضوع روایات لانے کے أسباب مشترکہ:

پہلا سبب:

متقدمین محدثین کا أسلوب تھا کہ سند سے حدیث بیان کردیں ،

بعد میں آنے والے سند کا دراسہ کرکے خود معلوم کرلیں گے یہ حدیث صحیح ہے یا ضعیف یا موضوع تو یہ سبب بھی بنا ضعیف أحادیث بیان کرنے کا ،

لیکن شومئی قسمت کے أصول حدیث سے أور منہج محدثین سے ناواقف لوگوں نے کتب حدیث میں آنے والی ہر حدیث کو صحیح سمجھنا شروع کردیا تو لہذا یہ غلطی ہماری طرف سے ہے نہ کہ محدثین کی طرف سے،

جب إسماعیل بن محمد بن الفضل التیمی نے جب إمام طبرانی پر اعتراض کیا کہ وہ شدید الضعف أور موضوع أحادیث لائے ہیں أور بعض احادیث میں تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین پر طعن بھی ہے تو علامہ ابن حجر عسقلانی نے إمام طبری پر ہونے والے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:

” وهذا أمر لا يختص به الطبراني فلا معنى لإفراده باللوم بل أكثر المحدثين في الأعصار الماضية من سنة مائتين وهلم جرا إذا ساقوا الحديث بإسناده اعتقدوا أنهم برئوا من عهدته ، والله أعلم”

ترجمہ: یہ ( حدیث ضعیف یا موضوع روایت کرنے والا) معاملہ صرف طبرانی کے ساتھ خاص نہیں لہذا أنکی ملامت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بہت سے محدثین زمانہ ماضی دوسری صدی ہجری سے لے کر أبھی تک وہ حدیث کو سند کے ساتھ روایت کردیتے ہیں ، أور أنکا نظریہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سند بیان کرکے أپنی ذمہ داری سے بری ہوگے ہیں ( أور أب جو بعد میں آئیں گے وہ سند کو دیکھ کر أسکے صحیح یا ضعیف یا موضوع ہونے کو معلوم کرلیں گے)

( لسان المیزان ، ترجمہ إمام طبرانی ، 4/125 )

لہذا کسی بھی کتاب میں حدیث کا آجانا أسکی صحت پر دلالت نہیں کرتا سوائے أن کتب کے جنہوں نے صحت کی شرط لگائی أور پھر أس شرط پر عمل بھی کیا جیسے صحیحین بخاری ومسلم وغیرہ.

دوسرا سبب:

لا علمی أور عدم معرفت کی وجہ سے ضعیف یا موضوع روایات کو بیان کیا.

إس کے لیے إمام عینی کی البنایہ شرح الہدایہ کا مطالعہ فرمالیں تو آپکو کئی مثالیں ملیں گی جس میں وہ شارحین ہدایہ پر اعتراض کرتے ہیں ،

أور کتب موضوعات خاص کر ملا علی قاری کی صغری و کبری وغیرہ .

إسی طرح یہ مجموعی دس أسباب ہوئے جنکی وجہ سے محدثین نے أحادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کیا.

أحادیث ضعیفہ و موضوعہ روایات لانے پر عقلی دلیل:

إس پر عقلی دلیل یہ ہے کہ ہر شئے أپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے جیسے کہا جاتا ہے ( تعرف الأشياء بأضدادها ) ،

أگر وہ راویوں کی ضعیف و موضوع أحادیث نہ لکھتے تو صحیح روایات کو کیسے پہچانتے ، کیونکہ صحت کو جاننے کے لیے أمراض کا مطالعہ کرنا ضروری ہوتا ہے،

کیا أگر کوئی ڈاکٹر أپنی کتب میں مرض کے بارے میں لکھے تو ہم کیا یہ کہیں گے کہ إس نے أمراض کو کیوں لکھا صرف صحت کے أسباب لکھتا ؟

کیونکہ جب تک مرض معلوم نہ ہو تو أس سے بچیں گے کیسے؟

تو احادیث ضعیف و موضوع روایات کو بیان کرکے مرض کی تشخیص کی گئی تاکہ لوگ إس مرض میں مبتلا نہ ہوں.

واللہ أعلم .

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی جو عربی میں اِعَانَةُ : اور اردو میں امداد کہلاتی ہے ۔

یہ وہ رقم ہے جو حکومت کسی ادارہ کو برائے ترقی یا بیرونی مقابلہ کے لئے دیتی ہے ۔

کم و بیش تمام اسلامی ممالک اپنے اپنے شہریوں کو حج کے موقع پر سہولیات فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کے انڈیا جیسی لبرل ریاست بھی سات سو کروڑ ہر سال حاجیوں کے لیے سبسڈی دیتی ہے۔

ایک دو اہم سوال ہیں جو بار بار انباکس میں رسیو کئیے ۔

سوال :۔ کیا بیت المال سے زکوۃ کے پیسے سے سبسڈی دی جا سکتی ہے؟

جواب :۔ جی نہیں

سوال:۔ تو کیا حکومت دیگر ٹیکسز سے سبسڈی دے سکتی ہے جب کہ وہ پیسہ غریبوں کا ہے؟

جواب:۔ ٹیکسز صرف غریبوں کا پیسہ نہیں اس سے ہر شہری کو سہولت دی جا سکتی ہے اور دی جانی چاہیے، چاہے وہ حج ہو یا کوئی اور سفر یا صحت کے معاملات ہوں یا خوراک کے۔

سوال:۔ سوال یہ ہے کیا ٹیکسز کے ذرائع تمام کے تمام حلال ہیں یا حلال وحرام مکس ہیں؟

جواب:۔ میں سمجھتا ہوں اس کا معقول جواب مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے دیا ہے ۔

حکومت پر حج پر سبسڈی دینا کوئی واجب نہیں اور اگر دینا چاہتی ہے تو شرعاًممنوع بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آمدن مخلوط ہوتی لیکن اس میں جائز ذرائع بھی شامل ہیں ، اس لئے حکومت حج کیلئے جوسبسڈی دے تو وہ یہ سمجھے کے یہ سبسڈی جائز ذرائع سے دے رہی ہے اورحاجی بھی یہ سمجھے کہ اس کویہ سبسڈی جائز ذرائع سے دی جارہی ہے ۔

اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کچھ بھی جائز نہیں بچے گا کیونکہ ہر جگہ پر ملاوٹ ہے کہیں پر سود کی کہیں پہ ناجائز مال کی حتیٰ کہ ہمارے حج، زکوۃ، مساجد کا چندہ بھی اس سے محفوظ نہیں.

پہلی بات تو یہ یاد رکھیے کہ ٹیکسز کا پیسہ صرف غریبوں کا ہی نہیں ہوتا،

پیسے کے ذرائع عمومی طور پر امیروں کے ہی ہوتے ہیں لیکن غریبوں کی ضروریات کے لئے اور ملک کی فلاح بہبود کے لئے ہی ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔

ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد، ریاست مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اس میں مزید اصطلاحات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیں۔

مثلاً :۔

ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر کرنا۔

سڑکوں کی تعمیر اور وقفے وقفے سے سرائے قائم کرنا.

مجاہدین اور انکی اولادوں کے وظائف مقرر کرنا۔

حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا۔

اسی طرح ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے.

اسلامی حکومتوں میں بھی آمدن کے ذرائع ایک سے زیادہ ہوتے ہیں جس طرح زکوۃ، عشر، خراج، مال غنیمت وغیرہ ۔

اسی طرح موجودہ جمہوری حکومتوں کے پاس بھی آمدن کے ایک سے زائد ذرائع ہیں زکوۃ اور عشر ہے اور ہر قدم ٹیکسز جیسے بجلی، پانی، گیس، پٹرول، حتیٰ کے کھانے پینے پر ٹیکسز ہیں روڈ پر چلنے کا ٹیکس ہے، گاڑی خریدنے اور چلانے پر ٹیکسز ہے ۔

تو ٹیکسز اسی لئے دیئے جاتے ہیں کہ اس کے بدلے میں حکومت شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے۔

اس میں دو باتیں ناجائز ہو سکتی ہیں ۔

ایک یہ کہ کوئی حاجی حج پر جانے کے لئے حکومت سے امداد طلب کرے، جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ہر سال درخواستیں زیادہ ہوتی ہیں اور حکومت کم لوگوں کو اجازت دیتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی طرف سے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے۔

اور دوسری ناجائز بات اقرباپروی ہے کہ کوئی وزیر، مشیر، یا حکومتی عہدیدار کسی خاص شخص کو سرکاری پیسے سے حج پر لے جائے۔

لیکن جب کسی حاجی کی طرف سے امداد کا مطالبہ بھی نہ ہو۔اور اقرباپروری بھی نہ ہو ۔

تو بطور پاکستانی شہری کے ان کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہ سبسڈی سے ہو یا کسی بھی ذریعہ سے۔

اور یہ کہنا کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں جیسے چاہے لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں حکومت جس طرح بھی لوٹنا چاہے صاحب استطاعت لُٹنے کے لئے تیار ہوجائے۔

سبسڈی سے زیادہ ضروری

1 ۔سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا جائے ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی جائے

3۔ وی آئی پی ہوٹلز کی بکنگ ختم کی جائے.۔

4:۔ عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی مگر مہنگی رہائشیں کرائے پر نہ لی جائیں ،

5:. مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات مگر سستی کرایہ پر حاصل کی جائیں۔

6:۔ ٹرانسپورٹ کرایہ پر لیں اور حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کریں۔

یہ وہ اقدامات ہے کہ اگر ان کو اختیار کیا جائے اور صحیح طریقے سے عمل درآمد کروایا جائے تو شاید سبسڈی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

ترجمہ:

اور (تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں تو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک بن جاؤ‘ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں ‘ کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو ‘ درآں حالیکہ تم ان کو قلعہ نکاح کی حفاظت میں لانے والے ہو نہ کہ محض عیاشی کرنے والے ہو ‘ پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی ہے، تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو ‘ (یہ اللہ کا کیا ہوا) فرض ہے ‘ اور مہر مقرر کرنے کے بعد جس (کمی بیشی) پر تم باہم راضی ہوگئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اور تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک ہوجاؤ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے۔ (النساء : ٢٤ )

جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کی تحقیق :

میدان جنگ میں جو کافر قید ہوجائیں ان کو غلام بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور جو کافر عورتیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوں اور قید ہوجائیں انکو باندیاں بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور ان باندیوں کے ساتھ ان کے مالک بغیر نکاح کے مباشرت کرسکتے ہیں۔ مخالفین اسلام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں انسانوں کو غلام اور باندیاں بنایا جاتا ہے اور یہ شرف انسان کے خلاف ہے بلکہ تذلیل انسانیت ہے۔ اس اعتراض کی وجہ اس مسئلہ سے ناواقفیت ہے۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ روس ‘ جرمنی اور یورپی ممالک میں جو وحشیانہ مظالم کئے جاتے رہے اور ان سے جو جبری مشقتیں لی جاتی رہیں۔ اس کے مقابلہ میں اسلام نے غلاموں اور باندیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کی ہدایت دی ہے اور ان کو آزاد کرنے پر جو اجر وثواب کی بشارتیں دی ہیں یہ ان ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا چلن ختم ہوگیا ‘ نیز یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اسلام نے یہ لازمی طور پر نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا جائے بلکہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلافدیہ آزاد کردیا جائے یا جسمانی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردیا جائے یا ان کو لونڈی اور غلام بنالیا جائے چونکہ اس زمانہ میں جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کا رواج تھا ‘ اس لئے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنائیں تو تم بھی مکافات عمل کے طور پر ان کے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنا سکتے ہو۔ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلے میں آزاد کریں تو تم بھی ان کے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردو ‘ اور اگر وہ تمہارے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کریں تو تم بھی ان کے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کرلو اور اگر وہ تبرع اور احسان کرکے تمہارے جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ چھوڑ دیں مسلمان مکارم اخلاق اور تبرع اور احسان کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ اور اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا “۔ (محمد : ٤) 

ترجمہ : جب تم کافروں سے نبرد آزما ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو ‘ یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ گرفتار ہوں ان کو مضبوطی سے قید کرلو پھر یا تو ان پر محض احسان کرکے ان کو آزاد کردو یا ان سے (مالی یا بدنی) فدیہ لے کر ان کو آزاد کردو۔ 

اور اگر کافر مسلمانوں کے جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنائیں تو مکافات عمل کے طور پر انکے جنگی قیدیوں کو بھی لونڈی اور غلام بنانا جائز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا “۔ (الشوری : ٤٠ )

ترجمہ : برائی کا بدلہ تو اس کی مثل برائی ہے۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے لازمی طور پر جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنانے کی ہدایت نہیں دی ہے۔ 

ہم نے قرآن مجید کی آیت سے یہ بیان کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ یا مالی یا جانی فدیہ لے کر آزاد کرنا اسلام میں جائز ہے اب ہم اس پر احادیث سے دلائل پیش کر رہے ہیں مکہ جنگ سے فتح ہوا تھا اور تمام اہل مکہ جنگی قیدی تھے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امتنانا ان کو آزاد کردیا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا اس کو امان ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٨٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٢‘ ٥٣٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٤ ص ٤٧٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ١١٨‘ مطولا ومختصرا) 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ روایت کرتے ہیں ؛ 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا لا الا اللہ وحدہ لاشریک لہ “۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کیا۔ اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور صرف اسی نے تمام لشکروں کو شکست دی ‘ سنو زمانہ جاہلیت کی ہر زیادتی ‘ ہر خون اور ہر مال آج میرے قدموں کے نیچے ہے یہاں کعبہ کی چوکھٹ اور حجاج کی سبیل پر ‘ اے قریش کی جماعت ! اللہ نے تم سے زمانہ جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کو دور کردیا ہے ‘ تمام انسان آدم سے پیدا کئے گئے ہیں اور آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ تم سب آزاد ہو۔ (مختصرا) (السیرۃ النبویہ لابن ہشام علی ہامش الروض الانف ج ٢ ص ٢٧٤‘ مطبوعہ مطبعہ فاروقیہ ملتان ١٣٩٧ ھ ‘ سبل الہدی والرشاد ج ٥ ص ٢٤٢) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ نے اس خطبہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٩ ص ١١٨‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان) 

مالی فدیہ کے بدلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا فرمایا تھا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان بدبوداروں (قیدیوں) کے متعلق سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو آزاد کردیتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨٩‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٥٥٨‘ مسند ابویعلی ‘ رقم الحدیث : ٧٤١٦‘ شرح السنہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٦٧‘ مسند احمد ج ٤ ص ٨٠‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١٥٠٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فدیہ لے کر (قیدیوں کو) آزاد کردیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٠) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن اہل جاہلیت کے لئے چار سو (درہم) فدیہ مقرر فرمایا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩١) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے لئے فدیہ کی رقم بھیجی تو حضرت زینب (رض) نے ابو العاص کے فدیہ کے لئے جو مال بھیجا اس میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ (رض) نے انکی ابو العاص سے شادی کے موقع پر ان کو دیا تھا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو (بلامعاوضہ) آزاد کردو اور ان کا ہار ان کو واپس کردو۔ صحابہ نے کہا ٹھیک ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو العاص سے وعدہ لے لیا یا اس نے از خود وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت زینب (رض) کو آپ کو آپ کے پاس بھیج دے گا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ اور ایک انصاری (رض) کو بھیجا اور فرمایا تم بطن یا جج میں ٹھہرنا حتی کہ تمہارے پاس سے (حضرت) زینب گزریں وہ دونوں حضرت زینب کو حضور کے پاس لے کر آئے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٢‘ المستدرک ج ٣ ص ٢٣‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٧٦) 

علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی ٩٤٢ ھ لکھتے ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کا چار سو درہم فدیہ مقرر کیا تھا ‘ عباس نے کہا ان کے پاس کوئی مال نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو وہ مال کہاں ہے جس کو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفن کیا تھا اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو یہ مال میرے بیٹوں فضل ‘ عبداللہ اور قثم کے لئے ہوگا۔ عباس نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا میرے اور ام الفضل کے سوا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ 

امام بخاری اور بیہقی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بعض انصار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھتیجے عباس سے فدیہ نہ لیں ‘ آپ نے فرمایا۔ نہیں بخدا تم ان میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ آپ نے بعض سے چار ہزار فدیہ لیا بعض سے دو ہزار ‘ بعض سے ایک ہزار اور بعض پر احسان کر کے ان کو بلافدیہ آزاد کردیا۔ 

اہل مکہ کو لکھنا آتا تھا اور اہل مدینہ کو لکھنا نہیں آتا تھا ‘ جس اہل مکہ کے پاس مال نہیں تھا آپ نے ان کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھائیں اور جب وہ لڑکے لکھنے میں ماہر ہوگئے تو وہ آزاد کردیئے گئے ‘ حضرت زید بن ثابت نے بھی ان ہی سے لکھنا سیکھا تھا۔ (سبل الہدی والرشاد ج ٤ ص ٦٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤) 

مسلمانوں قیدیوں سے تبادلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبادلہ میں بھی قیدیوں کو آزاد کیا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف بنو عقیل کا حلیف تھا۔ ثقیف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو شخصوں کو قید کرلیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے بنو عقیل کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی پکڑ لیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے پاس گئے درآں حالیکہ وہ بندھا ہوا تھا اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا حجاج کی اونٹنیوں پر سبقت کرنے والی اونٹنی کیوں پکڑی گئی ؟ یعنی عضباء ‘ اور آپ نے مجھے کس جرم میں پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے تم کو تمہارے حلیف ثقیف کے بدلہ میں پکڑا ہے پھر آپ چلے گئے اس نے کہا یا محمد ‘ یامحمد ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہربان اور رقیق القلب تھے ‘ آپ لوٹ آئے اور پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں نے مسلمان ہوں ! آپ نے فرمایا اگر تو گرفتار ہونے سے پہلے یہ کہتا تو مکمل طور پر کامیاب ہوتا آپ چلے گئے اس نے پھر آواز دی اور کہا یا محمد یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں بھوکا اور پیاسا ہوں مجھے کھانا اور پانی دیجئے آپ نے اس کی حاجت پوری کی ‘ پھر اس کو ان دو مسلمانوں کے بدلہ میں آزاد کردیا گیا جن کو ثقیف نے پکڑا تھا۔ (صحیح مسلم “ رقم الحدیث : ١٦٤١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣١٦‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٥٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ٥٣٩٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٤٠‘ ٤٣٣‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٧٢‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٤ ص ١٨٨‘ المعجم الکبیر للطبرانی ج ١٨ ص ٤٥٣) 

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں ہیں کہ ہم نے قبیلہ فزارہ کے خلاف جہاد کیا۔ اس جہاد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو ہمارا امیر بنایا تھا جب ہمارے اور پانی کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم رات کے آخری حصہ میں اتریں ‘ پھر ہر طرف سے حملہ کا حکم دیا گیا ‘ اور ہم ان کے پانی پر پہنچے اور جس جگہ کو قتل کرنا تھا اس کو قتل کیا اور قید کیا ‘ میں کفار کے ایک گروہ کو دیکھ رہا تھا جس میں کفار کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیار مارا جب انہوں نے تیر کو دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کرلے آیا ‘ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کی کھال کو منڈھ رکھا تھا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین دوشیزہ تھی ‘ میں ان سب کو پکڑ کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا حضرت ابوبکر (رض) نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی ‘ ہم مدینہ پہنچے ابھی میں نے اس لڑکی کے کپڑے بھی نہ اتارے تھے کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بازار میں ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے ہبہ کردو ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ خدا کی قسم یہ لڑکی مجھے بہت پسند ہے اور میں نے ابھی تک اس کا لباس بھی نہیں اتارا اگلے دن میری پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو تمہارا باپ بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہے میں نے اس لڑکی کا لباس تک نہیں اتارا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ لڑکی اہل مکہ کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٥‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٤٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٠‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٦‘ ٥١ سنن بیہقی ج ٩ ص ١٢٩) 

جنگی قیدیوں کو احسانا بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلامعاوضہ بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا ہے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو طلقاء (آزاد) قرار دینے اور جنگ بدر کے بعض جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد کرنے کی ہم اس سے پہلے احادیث سے مثالیں ذکر کرچکے ہیں بعض مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف حملہ کرنے کے لئے گھوڑے سواروں کی ایک جماعت بھیجی ‘ صحابہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے جس کا ثمامہ بن اثال تھا اور اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ نے فرمایا ثمامہ کو کھول دو ‘ ثمامہ مسجد کے قریب ایک درختت کے پاس گیا اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ “۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ایضا “۔ : ٤٦٩‘ ٢٤٢٢‘ ٢٤٢٣‘ ٤٣٧٢) 

امام مسلم نے اس حدیث کو بہت تفصیل سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٦٤) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوازن کے مسلمانوں کا وفد آیا اور انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ انہیں (مال غنیمت میں ان سے لئے ہوئے) اموال اور ان کے جنگی قیدی واپس کردیں آپ نے فرمایا میرے نزدیک سب سے اچھی بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو تم دو میں سے ایک چیز کو اختیار کرلو جنگی قیدی یا مال ‘ اور میں تم کو غور کے لئے مہلت دیتا ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپس آنے کے بعد دس سے زیادہ راتوں تک ان کا انتظار کیا جب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دو میں سے صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے جنگی قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد وثناء کی پھر فرمایا تمہارے یہ مسلمان بھائی تمہارے پاس رجوع کرتے ہوئے آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں تم میں سے جو شخص طیب خاطر سے ایسا کرسکتا ہے وہ کر دے ‘ اور جو یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ اسکے پاس رہے تو جب اس کے بعد سب سے پہلے مال غنیمت حاصل ہوگا ہم اس کو اس کا حصہ واپس کردیں گے۔ مسلمانوں نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر خوشی سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیں پتا نہیں چلا کہ تم میں سے کس شخص نے خوشی سے اجازت دی اور کسی نے خوشی سے اجازت نہیں دی تم واپس جاؤ اور اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کرو۔ انہوں نے اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کیا اور پھر آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٢۔ ٣١٣١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٣) 

جنگی قیدیوں کو مال کے بدلہ آزاد کرنے ‘ جنگی قیدیوں کے بدلہ آزاد کرنے ‘ اور بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق ہم احادیث بیان کی ہیں، اب ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے متعلق فقہاء کی آراء بھی بیان کردیں :

جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء : 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ھمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت یہ ہے کہ جنگی قیدیوں سے فدیہ نہ لیا جائے قدوری اور صاحب ہدایہ کا یہی مختار ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ سے دوسری روایت یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے۔ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے، مگر عورتوں کا فدیہ لینے میں ان کا اختلاف ہے اور امام احمد نے بچوں کا بھی فدیہ لینے سے منع کیا ہے ‘ اور سیر کبیر میں مذکور ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا فدیہ لیا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کی ظاہر روایت یہی ہے ‘ امام ابویوسف نے کہا کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے ان کا فدیہ لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ کے پہلے قول کی دلیل یہ ہے کہ اگر جنگی قیدی کافروں کو لوٹا دیئے گئے تو وہ ان کی قوت اور مسلمانوں کے لئے ضرر کا باعث ہوں گے اور دوسرے قول اور تمام ائمہ کے قول کی دلیل یہ ہے کہ جنگی قیدی کو قتل کرنے یا اس کو غلام بنانے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کے بدلہ میں مسلمان قیدی کو کافروں سے چھڑا لیا جائے کیونکہ مسلمانوں کی حرمت بہت عظیم ہے ‘ اور جنگی قیدی کو ان کے حوالے کرنے سے مسلمانوں کو ضرر پہنچنے کی جو دلیل دی گئی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب اس کے بدلہ میں ہمارا مسلمان قیدی ہمارے پاس آجائے گا تو اس ضرر کا توڑ ہوجائے گا اور یہ معاملہ برابر برابر ہوجائے گا اس کے علاوہ ایک مسلمان کو کافروں کی قید سے چھڑانے کی فضیلت اور اس کو اللہ کی عبادات کرنے کا موقع فراہم کرنا اس پر مستزاد ہے اور جب کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ٤٦١‘ درالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

کافر جنگی قیدی کو مسلمان قیدی کے بدلہ میں آزاد کیا جائے یا مال کے بدلہ میں ‘ قول مشہور کے مطابق پہلی صورت جائز نہیں ہے لیکن ضرورت کے وقت اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ سیر کبیر میں ہے۔ امام محمد نے فرمایا جب ان قیدیوں سے نسل متوقع نہ ہو جیسے شیخ فانی پھر بھی ان کے تبادلہ میں کوئی حرج نہیں ہے (الاختیار) قیدیوں کے تبادلہ میں اختلاف ہے لیکن محیط میں مذکور ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق یہ جائز ہے اس کی پوری بحث قہستانی میں ہے ‘ اور زیلعی نے سیر کبیر سے نقل کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا ظاہر قول جواز ہے۔ فتح القدیر میں ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے اور ائمہ ثلاثہ سے بھی یہی منقول ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی ثابت ہے صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مسلمانوں قیدیوں کا دو مشرک قیدیوں سے تبادلہ کیا اور ایک عورت کے بدلہ میں مکہ میں قید بہت سے مسلمانوں کو آزاد کرایا (ہدایہ ‘ قدوری) اور دیگر متون میں جو مذکور ہے قیدیوں سے فدیہ لینا جائز نہیں ہے اس سے مراد مالی فدیہ ہے جب ضرورت نہ ہو اور ضرورت کے وقت مالی فدیہ لینا بھی جائز ہے اور مسلمان قیدیوں سے تبادلہ بھی جائز ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٢٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

کیا بغیر نکاح کے لونڈیوں سے مباشرت کرنا قابل اعتراض ہے : 

عام طور سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بغیر نکاح لونڈیوں سے مباشرت کرنا ایک غیر اخلاقی فعل ہے حالانکہ اسلام اس کو روارکھا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کے بعد بیویوں سے مباشرت کرنا اور ان کے جسم پر خواہی نخواہی مالکانہ تصرف کرنا کیونکر اخلاقی فعل ہوگیا ؟ نکاح کی حقیقت صرف یہ ہے کہ دو مسلمان گواہوں کے سامنے ایک عورت خود یا اس کا وکیل کہے کہ میں اس شخص کے ساتھ اتنے مہر کے عوض خود کو یا اپنی موکلہ کو نکاح میں دیتا ہوں اور مرد کہے میں نے قبول کیا ‘ اور امام مالک کے نزدیک گواہوں کا ہونا بھی شرط نہیں ہے کسی مجمع عام میں ایجاب و قبول کرلیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے آخر ایجاب و قبول کے ان کلمات میں کیا تاثیر ہے کہ ایک عورت بالکلیہ مرد پر حلال ہوجاتی ہے ؟ 

اصل واقعہ یہ ہے کہ محض ایجاب و قبول سے عورت مرد پر حلال نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حلال ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے نکاح کی اس خاص صورت میں عورتوں کو مردوں پر حلال کردیا ہے ورنہ تنہائی میں اگر عورت اور مرد ایجاب و قبول کے یہی کلمات کہہ لیں تو وہ ایک دوسرے پر حلال نہیں ہیں، بلکہ نکاح کے بعد بھی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنا مطلقا حلال نہیں ہے۔ حیض اور نفاس کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیوی سے مباشرت کی اجازت نہیں دی ہے اس لئے ان ایام میں بیوی سے مباشرت کرنا مرد کے لئے جائز نہیں ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ عورت کے مرد پر حلال ہونے کا سبب نکاح نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ نکاح کی صورت میں اجازت دے تو بیویاں شوہروں پر حلال ہوجاتی ہیں اور اگر اللہ ملک یمین کی صورت میں اجازت دے تو باندیاں مالکوں پر حلال ہوجاتی ہیں ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد وہ قابل اعتراض نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد یہ بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ 

اب ہم آپ کے سامنے وہ آیات پیش کرتے ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے باندیوں کو مالکوں پر حلال کردیا ہے بشرطیکہ اس کا باندی ہونا شرعا صحیح ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ اوماملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣) 

ترجمہ : اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی پر قناعت کرو یا اپنی باندیوں پر اکتفاء کرو۔ 

(آیت) ” والمحصنات من النسآء الا ما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٢٤) 

ترجمہ : دوسروں کی بیویاں تم پر حرام ہیں البتہ تمہاری باندیاں تم پر حرام نہیں۔ 

(آیت) ” والذین ھم لفروجھم حافظون، الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیرملومین، (المؤمنون : ٥۔ ٦‘ المعارج : ٣٠۔ ٢٩) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں البتہ اپنی بیویوں اور باندیوں سے مباشرت کرنے میں ان پر ملامت نہیں ہے۔ 

ان کے علاوہ قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں باندیوں کے ساتھ مباشرت کی اجازت دی گئی ہے۔ اب صرف ایک بات رہ جاتی ہے کہ عقد نکاح میں عورت اپنے اختیار سے یہ عقد کرتی ہے جب کہ جب باندی کو ہبہ کیا جاتا ہے یا اس کو فروخت کیا جاتا ہے تو اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی پاداش میں بطور سزا اس کا یہ اختیار سلب کرلیا گیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب سے دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کا رواج ہوا لونڈیوں کے ساتھ یہی معاملہ روا رکھا گیا ہے اس لئے اگر کافر مسلمانوں کے ساتھ یہ معاملہ کریں تو ان کے ساتھ بھی عمل مکافات کے طور پر یہی معاملہ روا رکھا گیا ‘ لیکن جو شخص کسی باندی کے ساتھ مباشرت کرتا ہے اور اس سے اولاد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی حقیقی اولاد اور اس کی وارث ہوتی ہے اور وہ باندی ام ولد ہوجاتی ہے اور اس شخص کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے ‘ اسلام نے غلامی کے رواج کو ختم کرنے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے بہت بشارتیں دیں ہیں ‘ ہم انشاء اللہ النساء : ٣٦ میں اس کو تفصیل سے بیان کریں گے اور اس کے نتیجہ میں اب دنیا سے غلامی کا چلن ختم ہوگیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو۔ (النساء : ٢٤ )

مہر کے مال ہونے پر دلیل : 

اس آیت میں امام اعظم ابوحنیفہ کی یہ دلیل ہے کہ مہر مال ہوتا ہے۔ بعض شوافع اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ عرف عام میں مال کو مہر قرار دیا جاتا ہے اس لئے یہاں مال کا ذکر کیا گیا ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد (رض) سے یہ حدیث مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہبہ کردیا ایک شخص نے جب دیکھا کہ آپ کو اس حاجت نہیں تو اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا آپ اس سے میرا نکاح کر دیجئے۔ جب اس شخص کو مہر کے لئے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اس سے پوچھا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے اس نے کہا مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے آپ نے فرمایا تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے تمہارا اس سے نکاح کردیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن بھی مہر ہوسکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم قرآن مہر کا بدل نہیں ہے آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے میں نے قرآن مجید کی تعظیم کی وجہ سے تمہارا اس سے نکاح کردیا اور اس شخص پر مہر مثل واجب تھا اس پر تفصیلی بحث ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض تمتع کیا ہے (لذت حاصل کی ہے) تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو۔ (النساء : ٢٤ )

جواز متعہ پر علماء شیعہ کے دلائل : 

مشہور شیعہ مفسر ابو علی فضل بن الحسن الطبرسی من القرن السادس لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مراد نکاح المتعہ ہے اور یہ وہ نکاح ہے جو مہر معین سے مدت معین کے لئے کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ سدی ‘ ابن سعید اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی مروی ہے ‘ اور ہمارے اصحاب امامیہ کا یہی مذہب ہے اور یہی واضح ہے کیونکہ لفظ استمتاع اور تمتع کا لفظی معنی نفع اور لذت حاصل کرنا ہے لیکن عرف شرع میں وہ اس عقد معین کے ساتھ مخصوص ہے۔ خصوصا جب اس لفظ کی عورتوں کی طرف اضافت ہو اس بناء پر اس آیت کا یہ معنی ہوگا جب تم ان سے متع کرلو تو ان کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماع کے بعد مہر کو واجب نہیں کیا بلکہ متعہ کے بعد مہر کو واجب کیا ہے اور حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس آیت کی اس طرح قرات کی ہے : 

(آیت) ” فما استمتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن “۔ 

ترجمہ : جب تم نے مدت معین تک ان سے استمتاع (متعہ) کیا تو ان کو ان کی اجرت (مہر) دے دو ۔ 

اور اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اس آیت میں آیت میں استمتاع سے مراد عقد متعہ ہے۔ 

حکم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہیں کرتے تو کسی بدبخت کے سوا کوئی زنا نہیں کرتا ‘ اور عطا نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر کے عہد میں متعہ کیا ہے۔ نیز اس آیت میں لفظ استمتاع سے مراد متعہ ہے نہ کہ جماع اور انتفاع ‘ اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو ان کو ان کا مہر ادا کردو تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے۔ اس پر مزید تائید یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دو متعہ (متعہ نکاھ اور تمتع بالحج) حلال تھے اور میں ان سے منع کرتا ہوں اور تمتع بالحج بالاتفاق منسوخ نہیں ہے تو پھر تمتع بالنکاح بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ (مجمع البیان ج ٣ ص ‘ ٥٣۔ ٥٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ‘ ایران ‘ ١٤١١ ھ) 

علماء شیعہ کے نزدیک متعہ کے فقہی احکام : 

شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ٣٢٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو عمیر کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن سالم سے متعہ کا طریقہ پوچھا انہوں نے کہا تم یوں کہو اے اللہ کی بندی میں اتنے پیسوں کے عوض اتنے دنوں کے لئے تم سے متعہ کرتا ہوں ‘ جب وہ ایام گزر جائیں گے تو اس کو طلاق ہوجائے گی اور اس کی کوئی عدت نہیں ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٥ ص ٤٥٦‘ ٤٥٥‘ مطبوعہ درالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٢٦ ھ) 

شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٤٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

منصور صیقل بیان کرتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا مجوسی (آتش پرست) عورت سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے (الاستبصار ج ٣ ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالاسلامیہ طہران ‘ ١٣٦٥ ھ) 

زرارہ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ کیا متعہ صرف چار عورتوں سے کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا متعہ اجرت کے عوض ہوتا ہے خواہ ہزار عورتوں سے کرلو۔ (الاستبصارج ٣ ص ١٤٧) 

عمر بن حنظہ بیان کرتے ہیں کہ متعہ میں فریقین کے درمیان میراث نہیں ہوتی (الاستبصارج ٣ ص ١٥٣) 

شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین قمی متوفی ٣٨١ ھ لکھتے ہیں : 

محمد بن نعمان نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا کم از کم کتنی چیز کے عوض متعہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا دو مٹھی گندم سے۔ تم اس سے کہو کہ میں تم سے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق متعہ کرتا ہوں تو نکاح ہے زنا نہیں ہے اس شرط پر کہ نہ میں تمہارا وارث ہوں اور نہ تم میری وارث ہو ‘ نہ میں تم سے اولاد کا مطالبہ کروں گا ‘ یہ نکاح ایک مدت متعین تک ہے پھر اگر میں نے چاہا تو میں اس مدت میں اضافہ کر دوں گا اور تم بھی اضافہ کردینا۔ (من لایحضرہ الفقیہہ ج ٣ ص ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٦١ ھ) 

شیخ روح اللہ خمینی متعہ کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

(٢٤٢١) متعہ والی عورت اگرچہ حاملہ ہوجائے خرچ کا حق نہیں رکھتی۔ 

(٢٤٢٢) متعہ والی عورت (چار راتوں میں سے ایک رات) ایک بستر پر سونے اور شوہر سے ارث پانے اور شوہر بھی اس کا وارث بننے کا حق نہیں رکھتا۔ 

(٢٤٢٣) متعہ والی عورت کو اگرچہ علم نہ ہو کہ وہ اخراجات اور اکٹھا سونے کا حق نہیں رکھتی تب بھی اس کا عقد صحیح ہے اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی شوہر پر کوئی حق نہیں رکھتی۔ (توضیح المسائل اردو ‘ ٣٦٩‘ ٣٦٨‘ مطبوعہ سازمان تبلیغات) 

علماء شیعہ کے جواز متعہ پر دلائل کے جوابات :

علماء شیعہ نے ” الی اجل مسمی “ کی قرات سے متعہ کے جواز پر جو استدلال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ قرات شاذہ ہے قرآن مجید کی جو قرات متواتر ہے حتی کہ شیعہ کے قرآن میں بھی جو قرات مذکورہ ہے اس میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں اس لئے قرات متواترہ کے مقابلہ میں اس قرات سے استدلال درست نہیں ہے۔ 

اس پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر جنگ خیبر کے موقعہ پر متعہ کو حرام کردیا گیا ‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ حلال کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کو دائما حرام کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس (رض) متعہ کے جواز کے قائل تھے لیکن اخیر عمر میں انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اور جب حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ آپ نے متعہ کے جواز کا فتوی دیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا میں نے یہ فتوی نہیں دیا میرے نزدیک متعہ خون ‘ مردار اور خنزیر کی طرح حرام ہے اور یہ صرف اضطرار کے وقت حلال ہے ‘ یعنی جب نکاح کرنا ممکن نہ ہو اور انسان کو غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا کا خطرہ ہو ‘ لیکن اخیر عمر میں حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے بھی رجوع کرلیا اور یہ جو بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے عہد میں متعہ کیا جاتا تھا حتی کہ حضرت عمر (رض) نے اس سے منع کردیا اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں تک متعہ کی حرمت نہیں پہنچی تھی وہ متعہ کرتے تھے حضرت عمر نے ان کو تبلیغ کردی تو وہ متعہ سے باز آگئے۔ حضرت عمر (رض) نے متعہ کو حرام نہیں کیا نہ یہ ان کا منصب ہے انہوں نے صرف متعہ کی حرمت بیان کی ہے جیسے اور دیگر احکام شرعیہ بیان کئے ہیں اور حضرت علی (رض) نے جو فرمایا کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہ کرتے تو کوئی بدبخت ہی زنا کرتا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ کی حرمت کو قرآن اور حدیث سے واضح نہ کرتے اور متعہ کی ممانعت پر سختی سے عمل نہ کراتے تو زنا بالکل ختم ہوجاتا۔ 

صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت جابر ‘ حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت بہرہ بن معبد جہنی (رض) سے اباحت متعہ کے متعلق احادیث ہیں۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وطن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہو ‘ ان تمام احادیث میں یہ مذکور ہے کہ سفر میں متعہ کی اجازت دی گئی تھی۔ جہاں ان صحابہ کی بیویاں نہیں تھیں جب کہ وہ گرم علاقے تھے اور عورتوں کے بغیر ان کا رہنا مشکل تھا۔ اس وجہ سے جہاد کے موقعہ پر ضرورتا متعہ کی اجازت دی گئی حضرت ابن ابی عمر (رض) کی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ابتداء اسلام میں ضرورت کی بناء پر متعہ کی اجازت تھی جیسے ضرورت کے وقت مردار کا کھانا مباح ہوتا ہے فتح مکہ کے موقع پر متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس تحریم کو دہرایا گیا ہم ان تمام امور پر باحوالہ احادیث پیش کریں گے۔ 

شیخ طبرسی نے لکھا ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو انکا مہر ادا کردو ‘ تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو، حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے ‘ یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں حصر کا کوئی لفظ نہیں ہے کہ تم صرف اسی عورت کا مہرادا کرو جس سے تم نے جماع کیا ہو۔ 

حرمت متعہ پر قرآن مجید سے دلائل : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ وما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣)

ترجمہ ؛ جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو ‘ دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے اور اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکوگے تو صرف ایک نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پر اکتفاء کرو۔ 

یہ آیت سورة نساء سے لی گئی ہے جو مدنی سورت ہے اور ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قضاء شہوت کی صرف دو جائز صورتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ ایک سے چار تک نکاح کرسکتے ہیں ‘ اور اگر ان میں عدل قائم نہ رکھ سکیں تو پھر اپنی باندیوں سے نفسانی خواہش پوری کرسکتے ہیں اور بس ! اگر متعہ بھی قضاء شہوت کی جائز شکل ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ان دو صورتوں کے ساتھ ذکر فرما دیتا اور اس جگہ متعہ کا بیان نہ کرنا ہی اس بات کا بیان ہے کہ وہ جائز نہیں ہے۔ اوائل اسلام سے لے کر فتح مکہ تک متعہ کی جو شکل معمولی اور مباح تھی اس آیت کے ذریعہ اس کو منسوخ کردیا گیا۔ 

شیعہ حضرات کو اگر شبہ ہو کہ اس آیت میں لفظ نکاح متعہ کو بھی شامل ہے لہذا نکاح کے ساتھ متعہ کا جواز بھی ثابت ہوگیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کی حد صرف چار عورتوں تک ہے اور متعہ میں عورتوں کی تعداد کے لئے کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ نکاح اور متعہ دو الگ الگ حقیقتیں ہیں نکاح میں عقد دائمی ہوتا ہے اور متعہ میں عقد عارضی ہوتا ہے نکاح میں منکوحات کی تعداد محدود ہے اور متعہ میں ممنوعات کی کوئی حد نہیں۔ نکاح میں نفقہ ‘ سکنی ‘ نسب اور میراث لازم ہوتے ہیں اور ایلاء ظہار ‘ لعان اور طلاق عارض ہوتے ہیں اور متعہ میں ان میں سے کوئی امر لازم نہیں ہے نہ عارض۔ لہذا نکاح اور متعہ دو متضاد حقیقتیں ہیں اور نکاح سے متعہ کا ارادہ غیر معقول ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا

ترجمہ:

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو ‘ تو اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو ‘ اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس مال میں سے تم کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے ؟۔ (النساء : ٢٠ )

زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر تم کو کوئی عورت ناپسند ہو اور اس کے علاوہ دوسری عورت پسند ہو اور تم یہ ارادہ کرو کہ تم اپنی عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرلو تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مطلقہ عورت کو جو مہر دیا تھا اس کو واپس لے لو ‘ خواہ وہ ڈھیروں مال کیوں نہ ہو ‘ کیا تم اس عورت پر کوئی تہمت یا بہتان باندھ کر اس مال کو واپس لو گے ؟ اور تمہارے لئے اس عورت سے مال لینا کس طرح جائز ہوگا حالانکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ عمل ازدواج کرکے جسمانی قرب حاصل کرچکے ہو ‘ اور تم اس عورت سے مہر پر عقد نکاح کرچکے ہو جس پر مسلمان گواہ ہوچکے ہیں اور اللہ بھی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٢٨۔ ٢٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

قنطار کا معنی : 

اس آیت میں عورت کو دی ہوئی رقم کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی مقدار میں حسب ذیل آثار ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا قنطار بارہ ہزار ہیں ‘ ابو نضرہ العبدی نے کہا بیل کی کھال میں جتنا سونا بھرا جاسکے ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد بارہ ہزار ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد ستر ہزار دینار ہیں ‘ حضرت معاذ (رض) نے کہا اس مراد بارہ سو اوقیہ ہیں (ایک اوقیہ ‘ چالیس درہم کے برابر ہے) مجاہد سے ایک اور روایت ہے کہ اس سے مراد ستر ہزار مثقال ہیں۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٧٠۔ ٣٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) 

تاہم اس آیت میں قنطار سے مراد ڈھیروں روپیہ ہے امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا اس سے مراد مال کثیر ہے (جامع البیان : ج ٤ ص ٢١٤) اسی طرح علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی لکھا ہے اس سے مراد مال کثیر ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٣) 

حضرت عمر کا زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمانا :

امام سعید بن منصور متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا سنو ! عورتوں کے مہر بہت زیادہ نہ رکھا کرو۔ اگر مجھے کسی کے متعلق معلوم ہوا کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باندھے ہوئے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں آپ کے مقرر کردہ مہر سے زائد رقم کو بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس وقت قریش کی ایک عورت نے کہا اے امیر المومنین آیا اللہ کی کتاب پر عمل کرنا زیادہ حقدار ہے یا آپ کے حکم پر عمل کرنا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا بلکہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ‘ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : اگر تم نے کسی عورت کو قنطار (ڈھیروں مال) بھی دیا ہو تو اس سے واپس نہ لو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہہ ہے آپ دو یا تین بار یہ فرما کر منبر سے نیچے اتر آئے اور فرمایا میں نے تم کو زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا سنو اب جو شخص جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٥٩٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٤٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٣٣‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

کہ امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ رکھے اور جب اس عورت نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی تو آپ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما ہر شخص کو عمر سے زیادہ قرآن کی سمجھ ہے ‘ اور زبیر بن بکار نے عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے کہ اس عورت کے اعتراض کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا مرد نے خطا کی اور عورت نے درست کیا۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٣٣) 

دوسری روایت کو حافظ ابن عبدالبرمتوفی ٤٦٣ ھ نے بھی عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے (جامع بیان العلم ج ١ ص ١٣١) 

حضرت عمر (رض) کے علم پر شیعہ کا اعتراض اور اس کا جواب : 

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابویعلی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلہ کا بھی علم نہیں تھا تو وہ خلافت کے اہل کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے مثلا کوئی کہے کہ اگر فلاں شخص تمہارے بیٹے کو قتل کردے پھر بھی تم اس کو معاف کردینا اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ اگر تم عورت کو قنطار دو پھر بھی اس سے واپس نہ لینا۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ قنطار مہرباندھنا جائز ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں قنطار دینے کا ذکر ہے نہ یہ کہ قنطار بہ طور مہر دیا جائے اس لئے اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور خاوند کا عورت کو ہبہ کرکے واپس لینا صحیح نہیں ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا سب سے آسان مہر ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ عورت کی سعادت یہ ہے کہ اس کا مہر سہل ہو۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٥) 

ہمارے نزدیک علامہ آلوسی کے یہ دونوں جواب صحیح نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر (رض) نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور اس عورت کی رائے کو صحیح اور اپنی رائے کو خطا قرار دے کر اس سے رجوع فرمالیا تھا اور یہ حضرت عمر (رض) کی للہیت اور بلند ہمتی کی دلیل ہے کہ بھرئے مجمع میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا۔ رہا شیعہ کا اعتراض تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے لئے عالم کل ہونا لازم نہیں ہے ‘ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے زندیقوں کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور میں ان زندیقوں کو قتل کردیتا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) 

امام حسین بن محمد بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا۔ اور تمام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح السنۃ ج ٥ ص ٤٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کوئی مسئلہ دریافت کیا آپ نے اس کا جواب دیا اس شخص نے کہا یہ مسئلہ اس طرح نہیں اس طرح ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے درست کہا اور میں نے خطا کی ” وفوق کل ذی علم علیم “ اور ہر علم والے سے زیادہ علم والا ہے۔ (جامع البیان ج ١٣ ص ١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ ابن عبد البر نے بھی اس اثر کو محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے (جامع العلم ج ١ ص ١٣١) 

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی ایک مسئلہ کا علم نہ ہونا خلافت کے منافی نہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی عظمت ہے کہ انہوں نے حدیث کے سامنے ہونے کے بعد اپنے موقف سے رجوع فرما لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20