قرآنی تعارض پر ایک سؤال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر

قرآنی تعارض پر ایک سوال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر:

اعتراض:

قرآن میں ہے:

"وما تشاؤون إلا أن يشاء الله..” (سورۃ انسان ، 30 )

یہ آیت بتارہی ہے کہ ہوتا وہی جسکو اللہ چاہتا ہے تو جب جو وہ چاہتا ہے وہی ہونا ہے تو ہمارا حساب کیوں ؟

پھر دوسری آیت میں ہے :

"وقل الحق من ربكم فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر..” ( سورۃ کھف ، 29 )

اس آیت میں اللہ مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف کررہا ہے اور پہلی آیت میں أپنی ذات کی طرف تو اس طرح قرآن کی دونوں آیات میں تعارض ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب أز ابن طفیل الازہری ( محمد علی):

محترم دوست!

مختصراً یہ بتاتا چلوں کہ انسان کے مختلف مجالات ہیں ایک من مجال خلقت ، ایک مجال تکلیف ( شریعت کا پابند ہونا) ، ایک مجال عدم ( موت)

أب قضاء و قدر کو ان تین مجالات کی روشنی میں سمجھیں:

پہلا مجال خلقت:

انسان مجال خلقت میں آزاد نہیں ، یعنی اپنی ولادت ، أپنی جنڈر اپنی لمبائی و ہائٹ وغیرہ لہذا اس میں انسان مجبور ہے وہ چاہے جتنے بھی آزادی کے نعرے لگا لے وہ اس میں بے بس ہے اور مجبور ہے اسکو کوئی اختیار حاصل نہیں ، لہذا حریت مطلقہ کا خیال طبعی طور پہ باطل ہے۔

دلیل:

” لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ "

( سورۃ شوری ، 49 )

ترجمہ: زمین و آسمان اللہ کی ملکیت ہیں ، جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہے بیٹی عطاء کردے جیسے چاہے بیٹا دے دے۔ ( اور یہی آیت دیگر مخلوق کے لیے بھی ہے )

دوسرا مجال عدم:

اسی طرح انسان مجال عدم یعنی موت میں بھی مجبور ہے اور اسے کوئی آزادی حاصل نہیں وہ اپنے اختیار سے اپنی موت اور اسکے مکان و وقت کا تعین نہیں کرسکتا لہذا وہ تقدیر الہٰی میں مجبور ہے وہ اسی کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔

دلیل:

” أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔۔”

( سورۃ نساء ، 78 )

ترجمہ:

تم جہاں بھی ہو موت تمہیں پالے گی اگر چہ تم كتنے ہی مضبوط قلعے ( محلات) میں ہوں۔

مجال خلقت و عدم پر خود بداہت دلیل جلی ہے۔

تیسرا مجال تکلیف:

مجال تکلیف یعنی مکلف ہونا مطلب یہ کہ اللہ کے أحکام کی اتباع کرنا ، اس مجال میں انسان آزاد ہے کیونکہ اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ ظلم کرے یا عدل، جھوٹ بولے یا سچ ، قتل کرے یا جان کی حفاظت اس میں اسے اختیار حاصل ہے

اس مجال میں وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہیں اور یہ منطقی طور پہ ثابت ہے کہ بعض اوقات انسان جھوٹ کو ترک کرکے سچ بولتا ہے ، قتل کو چھوڑ کر جان کی حفاظت کرتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ وہ آزاد ہے مجبور نہیں ۔

اس پر کافی دلائل ذکر کیے ہیں قرآن نے کیوں محاسبہ کا مدار اسی پر ہے کچھ دلائل درج ذیل ہیں :

” وهديناه النجدين "

(بلد ،10 )

ترجمہ:

ہم نے اس ( انسان) کو واضح دو ( خیر وبد) رستوں ( میں فرق کرنے کی) ہدایت دی.

"فألھمھا فجورھا وتقواھا”

(شمس ، 8 )

ترجمہ:

أس ( اللہ رب العزت) نے أس ( نفس انسانی) کو بدی وہ نیکی کا إلہام کردیا.

"وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن۔۔۔۔۔”

( اس آیت کا نمبر سؤال میں درج ہے)

ترجمہ:

آپ فرمادیں! حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔

” لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي …..”

( بقرۃ ، 256 )

ترجمہ:

دین میں ( داخل ہونے کے لیے )کوئی جبر نہیں ، تحقیق ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔

اب آپ کے سؤال کی طرف آتے ہیں کہ محاسبہ کیوں؟

آپ نے دیکھا کہ انسان مجال خلقت اور مجال عدم میں مجبور ہے

تو لہذا ان دونوں مجالات میں کوئی محاسبہ نہیں ،

اللہ آپ سے آپکے رنگ مکان ولادت قد و قامت کے متعلق سوال نہیں کرے گا اور نہ محاسبہ اور اسی طرح نہ ہی آپکی موت کے متعلق کہ اس وقت کیوں فوت ہوئے؟ اس جگہ کیوں فوت ہوئے؟

اس کا بھی سؤال نہیں ہوگا کیونکہ انسان مجبور ہے تو لہذا اس میں محاسبہ نہیں ہے ، اگر اس میں محاسبہ ہوتا تو پھر آپکا اعتراض بنتا تھا ،کیونکہ ان دو مجالات میں محاسبہ کرنا گویا کہ ظلم ہے ، اس لیے کوئی حساب کتاب نہیں۔

اب بچا تیسرا مجال وہ مجال تکلیف یعنی احکام شریعت کی پابندی تو اس میں انسان آزاد ہے جیسے ہم نے وضاحت کی تو جب وہ آزاد ہے تو شر و خیر کے متعلق بھی اسے بتادیا گیا تو اب اسکے خیر و شر کا حساب ہوگا ، اور یہ حساب اسکی آزادی کی وجہ سے ہے۔

اب اعتراض ہوگا کہ شر کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر حساب کیسا؟

جواب:

پہلی بات تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ شر ایک اضافی نسبت کا نام ہے،

اور اگر مان بھی لیں تو اس نے شر کو مستقل پیدا کیا ہے لیکن ہمیں اسی شرکو کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بتایا ہے کہ یہ شر ہے اور یہ خیر اور ہمیں آزادی دے دی کہ جو چاہو کرو کیونکہ شر و خیر مجال تکلیف میں آتے ہیں،

اور اس میں ہمیں آزادی ہے لیکن شر پر سزا ہے اور خیر پر جزاء تو لہذا جب ہم آزاد ہیں تو پھر حساب کرنا عدل کا تقاضا ہے ،

اور یہ حساب صرف مجال تکلیف میں ہے مجال خلقت و مجال عدم میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں ہم مجبور ہیں لہذا محاسبہ سے آزاد ہیں۔

دوسرا:

آپ نے دو آیات کے تعارض کی بات کی۔

تو اگر اب آپ پہلے سؤال کے جواب میں غور فرمائیں تو آپکو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں مجال خلقت و مجال عدم اور مجال تکلیف کو دیکھتے ہوئے۔

دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ :

مجال تکلیف میں جو ہمیں مشیئت کی آزادی ہے یہ بھی اللہ کی مشیئت کی وجہ سے عطاء ہوئی تو جس میں مشیئت کی نسبت اللہ کی طرف ہے وہ مجال خلقت و عدم و مجال تکلیف میں ذاتی اعتبار سے ہے ،

اور جس آیت میں مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف ہے تو وہ مجال تکلیف میں عطائی ہے

تو جب اس نے ہمیں مجال تکلیف میں آزادی دی ہے تو ضروری ہے کہ اسکا محاسبہ بھی وہ کرے اور یہی عدل کا تقاضا ہے

لہذا دونوں آیات تعارض سے پاک ہیں اور حکمت بلیغ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔

واللہ أعلم.

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر8 تا 20

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ(۸)

اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

(ف12)

اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں

(ف13)

شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا ” مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ” وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔

” مِنَ النَّاسِ ” فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔

بعض مفسِّرین نے فرمایا ” مِنَ النَّاسِ ” سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰)

ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا (ف۱۵)

(ف14)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا ” لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ”۔

(ف15)

بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

(ف16)

مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں (ف۱۷)تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں (ف۱۸)سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں (ف۱۹)

(ف17)

یہاں ” اَلنَّاسُ ” سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔

مسئلہ : ” اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ ” سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔

مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔

مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔

مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔

(ف18)

اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)

(ف19)

منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے ” اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ” یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(۱۴)

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں (ف۲۱)

(ف20)

یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)

(ف21)

یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔

مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۵)

اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

(ف22)

اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۱۶)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے (ف۲۴)

(ف23)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہے

شانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔

مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔

(ف24)

کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷)

ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا (ف۲۵)

(ف25)

یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ(۱۸)

بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹)

یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (ف۲۸)

(ف26)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔

شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)

(ف27)

جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔

(ف28)

لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)

بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اُچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۳۲)

(ف29)

جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔

(ف30)

جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا ” اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” ۔ (خازن صاوی وغیرہ)

(ف31)

یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔

مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔

(ف32)

شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔

مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔

فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 94

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنِ افۡتَرٰى عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰ لِكَ فَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوۡنَ

ترجمہ:

پھر اس کے بعد جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی لوگ ظالم ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اس کے بعد جو لوگ اللہ پر جھوٹ باندھیں تو وہی لوگ ظالم ہیں۔ (آل عمران : ٩٤)

اسلام میں احکام آسان ہیں : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جو لوگ ان باتوں کو اللہ کی کتاب کی طرف منسوب کریں جو اس میں نہیں ہیں ‘ اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی حرام کردہ چیزوں میں اپنی طرف سے اضافہ کریں ‘ اس کا تیسرا معنی یہ ہے کہ لوگوں نے اللہ کے حکم کے بغیر اپنی طرف سے کسی چیز کو حرام کرلیا تو ان کے اس حکم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سخت احکام نازل فرمائے :

(آیت) ” فبظلم من الذین ھادوا حرمنا علیہم طیبت احلت لھم وبصدھم عن سبیل اللہ کثیرا “۔ (النساء : ١٦٠)

ترجمہ : تو یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے ہم نے ان پر کئی حلال چیزیں حرام کردیں ‘ جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں اور اس وجہ سے کہ وہ (لوگوں کو) بہت زیادہ اللہ کے راستہ سے روکتے تھے۔

جب کہ ہماری شریعت اس کے خلاف ہے ‘ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے :

(آیت) ” وما جعل علیکم فی الدین من حرج “۔ (الحج : ٧٨)

ترجمہ : اللہ نے دین میں تم پر کسی قسم کی تنگی نہیں رکھی۔

(آیت) ” یرید اللہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر “۔ (البقرۃ : ١٨٥) 

ترجمہ : اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا ارادہ فرماتا ہے اور تم کو مشکل میں ڈالنے کا ارادہ نہیں فرماتا۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم آسان احکام بیان کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو اور لوگوں کو مشکل میں ڈالنے کے لیے نہیں بھیجے گئے۔ (صحیح بخاری ج ١٠ ص ٣٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ کی ان تعلیمات کے خلاف ہمارے بعض علماء ڈھونڈ ڈھونڈ کر ‘ مشکل اور ناقابل عمل احکام بیان کرتے ہیں : مثلا وہ کہتے ہیں کہ چلتی ٹرین میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ‘ سجدہ میں اگر انگلیاں اٹھ گئیں تو نماز فاسد ہوجائے گی ‘ قمیص کے کالر اور گھڑی کے چین کو ناجائز کہتے ہیں ‘ ایلوپیتھک دواؤں سے علاج کرانا جائز نہیں ہے ‘ انتقال خون جائز نہیں ہے ‘ ایک مشت ڈاڑھی رکھنا واجب ہے اگر کسی کی ڈاڑھی ایک مشت سے ایک سوت کے برابر بھی کم ہو تو وہ اور ڈاڑھی منڈانے والا برابر ہے ‘ وہ فاسق معلن ہے ‘ جس کی ڈاڑھی ایک مشت سے کم ہو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور واجب الاعادہ ہے ‘ جس عورت کا شوہر مفقود الخبر ہو (لاپتہ ہو) وہ اس شوہر کی ٩٠ برس عمر ہونے تک انتظار کرے ‘ اگر کسی عورت کا شوہر اس عورت کو اپنے گھر رکھے نہ خرچ دے نہ اس کو طلاق دے تو جب تک اس عورت کو خود اس کا شوہر طلاق نہ دے وہ دوسرا نکاح نہیں کرسکتی اور عدالت کو اس کا نکاح فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے ‘ اس قسم کے اور مسائل ہیں جن میں یہ انتہاء پسند علماء مشکل احکام بیان کرکے پڑھے لکھے مسلمانوں کو اسلام کے خلاف شکوک اور شبہات میں مبتلا کرتے ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 94

اسلام میں انفرادی حقوق

اسلام میں انفرادی حقوق 

 
تاج محمد سعیدی 
 
مذہبِ اسلام نے جس قدر انسانوں کی تحفظ وبقا کے لیے ان کی آزادی سماجی، سیاسی اور انفرادی زندگی کا حق دیا اور ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی ، انھیں عزت وشرف، احترامِ انسانیت کاد رس دیا، اس قدر کسی اور مذہب نے نہیں دیا۔ اسلام ہی وہ پاکیزہ مذہب ہے جس نے انسانوں کو غلامی کی زنجیروں سے نکال کر ’’لَقَدْ کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ‘‘ کا تاجِ کرامت بخشا، جاہ وحشمت، شان وشوکت والا مقام عطا کیا اور طرح طرح کی عظیم سہولتوں اور نمایاں حقوق سے نوازا۔ اسلام کی جانب سے دیے جانے والے چند حقوق یہ ہیں:
(۱)زندگی کے تحفظ کا حق
(۲) عزتِ نفس کا حق
(۳) آزادی کا حق۔

زندگی کے تحفظ کا حق: 

زندگی اللہ رب العزت کی طرف سے عطا کردہ عظیم نعمت ہے، جس پر تمام نعمتوں کی بنیاد ہے اور کسی بھی ملک یا سماج کی طرف سے دیے جانے والے حقوق اسی زندگی پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے زندگی کے تحفظ پر زیادہ زور دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مقدس میں فرمایا ہے:
مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا۔ (المائدۃ:۳۲)
جس نے کسی جان کو ناحق یا زمین میں فساد پھیلانے کی غرض سے قتل کیاتو گویا اس نے تمام لوگوں کا قتل کیا۔
عزتِ نفس کا حق: 
اسلام میں رنگ ونسل، امیری وغریبی اورمذہب و ملت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ہر شخص کو اس کے مرتبے کے مطابق عزت ومقام حاصل ہے جس سے کسی بھی حکومت یا فرد کو مجالِ ا نکار نہیں۔ حکومت وسماج کی پوری ذمہ داری ہے کہ اس کی عزتِ نفس کی حفاظت کریں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسیٰ اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرًا مِّنْھُمَّْ۔ ( الحجرات: ۱۱)
اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اڑائے ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔
سرکارِ دو عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے معاشرے میں زندگی گزارنے والوں کے درمیان ایک ایسا ماحول قائم کیا جس میں ایک دوسرے کی عزتِ نفس کی پامالی نہ ہو اور انھیں عزت وشرف کا پورا حق ملے۔ چناں چہ فرماتے ہیں:
اَنْزِلُوا النَّاسَ مَنَازِلَھُمْ۔ (سننِ ابی داؤد،باب تنزیل الناس منازلھم)
لوگوں سے ان کے مرتبے کے مطابق سلوک کیا کرو۔ حضرتِ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتےہیں: میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ لَطَمَ مَمْلُوْکَہٗ أَوْ ضَرَبَہٗ فَکَفَّارَتُہٗ أَن یَّعْتِقَہٗ۔ (مسلم، باب کفارۃ من لطم عبدہٗ)
جس نے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے کسی ناکردہ جرم کی سزا دی تو اس کاکفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کردے۔
 آزادی کا حق: 
اسلام کی آمد ہی انسانی آزادی کا سبب ہے۔ اس سے قبل عالمِ انسانیت غلامی کی زنجیر وں میں مقید تھی۔ اسلام نے ہی مساوات اور تکریمِ انسانیت کی تعلیم کے ذریعے آزادی کا تصور دیا اور آج پوری دنیا اسی آزادی کو اختیار کررہی ہے کہ ایک ملک میں ہر مذہب کے ماننے والے اپنی مذہبی اصول کے مطابق زندگی بسر کررہے ہیں۔اللہ رب العز کا ارشاد ہے:
لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ۔(البقرۃ:۲۵۶)
دین میں کوئی زبردستی نہیں۔
نیز اللہ کریم نے فرمایا :
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِيَ دِينِ۔ (الکٰفرون:۶)
تمھارے لیے تمھارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اسلام نے انسانی جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت وصیانت پر بھرپور زور دیا ہے جس کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔


آزمائش قرب کا ذریعہ ہے!

آزمائش قرب کا ذریعہ ہے!

اشتیاق احمد سعیدی 
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ والثَّمَراتِ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ (البقرۃ: ۱۵۵)
 اور ہم تمھیں ضرور ضرورآزمائیں گے تھوڑے سے ڈر، بھوک، مال، جان اور پھلوں کی کمی سے اور صبر کرنے والوں کو خوش خبری سنادیجیے۔  
اس آیتِ کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مخلوق پر ابتلا وآزمائش کا واقع ہونا فیصلۂ الٰہی ہے تاکہ وہ اپنے بندوں کو پرکھے اور ان کو گناہوں کی آلودگی سے دور کرے۔ نزولِ بلا تین اشخاص پر ہوتا ہے: 
پہلا وہ شخص جو خیر سے محروم ہوتا ہے۔ یہ ابتلا کا مقابلہ ناراضگی، اللہ تعالیٰ اور قضا وقدر کے ساتھ سوئے ظن سے کرتا ہے۔
 دوسرا وہ بامراد شخص ہے جو آزمائش کا مقابلہ صبر اور اللہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھ کر کرتا ہے۔
تیسرا وہ شخص جو صبر کی منزل طے کرکے رضا کے منصب پر فائز ہوتا ہے، وہ ابتلا کا مقابلہ رضا وشکر سے کرتا ہے۔ 
 رسولِ پاک ﷺ نے فرمایا: مومنین کے معاملے میں تعجب ہے کہ ان کا ہر معاملہ اچھا ہوتا ہے اور یہ خاصیت مومنین کے علاوہ کسی کوحاصل نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر انھیں خوشی حاصل ہوتی ہے تو شکر ادا کرتے ہے اور یہ ان کے لیے بھلائی ہے اور اگر مصیبت وسختی پہنچتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور یہ بھی ان کے لیے بھلائی ہے۔ (مسلم) 
 لوگوں میں کامل ایمان والا وہی ہے جو سخت آزمائش سے گزرا ہو۔ رسولِ پاک ﷺنے فرمایا: لوگوں میں سب سے زیادہ آزمائش انبیا کی ہوتی ہے، پھر صالحین کی۔ پھر ہر بندے کی آزمائش اس کے دین کے مطابق ہوتی ہے۔ یعنی کوئی بندہ اگر اپنے دین میں پختہ ہے تو اس کی آزمائش اتنی ہی سخت ہوتی ہے اور جو بندہ ضعیف الایمان ہوتا ہے اس کی آزمائش اسی قدر ہوتی ہے۔ (مسند امام احمد)
 اللہ رب العزت کی جانب سے بندوں کو آزمائے جانے میں بندوں کےکئی فائدے ہیں؛ کیوں کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ بندوں کو آزما تا ہے تو ان کے گناہوں پر پردہ ڈال دیتا ہے اوران کی برائیوں کو مٹاکر آخرت میں ان کے درجات بلند فرمادیتا ہے۔نیز اس آزمائش سے اللہ تبارک وتعالیٰ کی اطاعت میں غفلت برتنے کا احساس ہوتا ہے ، نفس کو جھنجھوڑ نے اور ملامت کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے، اللہ کے سامنے تواضع وانکساری اور توبہ کا باب کھل جاتا ہے، اللہ سے بندے کا رشتہ استوار ہوتا ہے اور قضا وقدر پر ایمان وایقان مضبوط ہوجاتا ہے، دنیا کی حقیت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ دنیا ایک کرایے کا مکان ہے اور اس میں کرایہ داروں کی طرح ہی زندگی گزارنی چاہیے، ہمارا اصل مکان جنت ہے،اس لیے اس کے لیے خوب تیاری کرنی چاہیے۔
 جب بندے پر آزمائش کا وقت آئے تو اسے چند باتیں یاد رکھنی چاہئیں:
 (۱) ہمیشہ یقین رکھے کہ یہ آزمائش اللہ کی جانب سےہے۔
 (۲) اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرے۔
 (۳) جو گناہ ہوئے ہیں سچے دل سے اللہ کی بارگاہ میں ان سے توبہ واستغفار کرتا رہے؛ کیوں کہ سرورِ کائنات ﷺنے یہ بتاکر ہماری تکلیفوں کو کتنا سہل فرمادیا ہے کہ ہماری تکلیفیں گناہوں کی بخشش اور مراتب کی بلندی کا ذریعہ ہیں۔ 
 شب و روز کی پریشانیاں اور مصائب جنھوں نے ہمیں بدحال کر رکھا ہے، جن کا شکوہ بیٹھتے اٹھتے ہروقت زبان پر جاری رہتا ہے،یہ سب اللہ عز وجل اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشادات سے ناواقفیت یا لاپرواہی برتنے کی بنا پر ہے۔ اگر ہم اپنی خامیاں دور کرلیں اور اپنے مسائل کا علاج قرآن وحدیث میں تلاش کرنے کی صلاحیت پیدا کرلیں یا کم از کم علماے دین سے رہبری اور رہنمائی حاصل کرنے کے عادی ہوجائیں تو ہماری پریشانیاں اور تکالیف آسانی کے ساتھ ختم ہوجائیں، لیکن کم نصیبی یہ ہے کہ ہم نہ تو علمِ دین حاصل کرتے ہیں اور نہ ہی علما وصلحا کی صحبت کو ضروری سمجھتے ہیں، جب کہ سکون واطمینان انھیں کے ذریعے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو اسی وقت یہ خیال کربیٹھتا ہے کہ اب میں دنیا وآخرت میں اللہ کی رحمتوں کا مستحق ہوگیا۔ یہ خیال کبھی اس کے دل میں نہیں آتا کہ جب میں نے اللہ کا بننے کا دعویٰ کیا ہے تو اب اللہ مجھے آزماکر دیکھے گا کہ میں کس حد تک اپنے دعوے میں پختہ اور سچا ہوں۔
ایمان لانے کے بعد بندےکی آزمائش صرف مصائب وآلام ہی کے ذریعے نہیں بلکہ ہر طرح سے ہوتی ہے، یہاں تک کہ دنیوی نعمت، جاہ وحشم، مال وزر سب آزمائش کا ذریعہ ہیں کہ بندہ ان کے حصول کے بعد بھی اپنے رب کی اطاعت وفرماں برداری میں لگا رہتا ہے، اس کی دی ہوئی نعمتیں اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے یا پھر اپنےہی آپ کو مالکِ حقیقی سمجھ کرروگردانی کرتا ہے؛ اس لیے یہ بات ہمیشہ دل ودماغ میں راسخ رہے کہ مصائب وآلام، راحت وآرام تمام چیزیں ہماری آزمائش ہیں۔ صرف اپنے علم وفن، فکرو تدبر، محنت ومشقت کو حصولِ نعمت کا ذریعہ سمجھناراہِ حق سے دوری ہے۔ اگر کسی دولت مند سے کسی مذہبی یا دینی کام کے لیے کچھ مانگا جائے تو یا تو کچھ دیتا ہی نہیں اور اگر دیتا بھی ہے تو سخت ناگواری کے ساتھ؛ کیوں کہ وہ اپنی اس دولت کو اللہ کا فضل نہیں بلکہ اپنی محنت کا نتیجہ سمجھتا ہے، یہی اس کی آزمائش ہے۔ لیکن جو بندہ اللہ کی آزمائش میں کامیاب وکامران ہوجائے اسے وہ عظیم نعمتوں سے نواز تا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
 وَاِذَا ابْتَلیٰ اِبْرَاھِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَاَتَمَّھُنَّ۔ قَالَ اِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا۔ (البقرۃ:۱۲۴) 
(جب حضرت ابراہیم کو ان کے رب نے کئی باتوں سے آزمایا تو انھوں نے وہ سب پوری کردیں۔ اللہ نے فرمایا: بے شک میں تم کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔)
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ ابتلا اورآزمائش انسانوں کو فرعون بنادیتی ہے اور کافر بھی۔ کامیاب وہی شخص ہے جس نے اس کو پہچان لیا اور نعمتوں کی حالت میں اللہ کا شکر ادا کیا اور مصیبتوں میں صبر کیا؛ کیوں کہ صابرین شاکرین پر ہی اللہ کی رحمت برستی ہے۔

 

مستشرقین اور اسلامی جہاد

مستشرقین اور اسلامی جہاد

محمد رضا عبدا لرشید، نوری مشن مالیگائوں

Orientalisمستشرقین کا مقصد اولین اسلام کی اشاعت کو روکنا اور مسلمانوں کے دلوں میں ان کے دین کے متعلق شکوک وشبہات پیدا کرنا ہے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ اسلام کو ہر قسم کی خوبیوں سے عاری ثابت کرنے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں ۔ان کے مقاصد درج ذیل ہیں ۔

(۱) سیرت رسول اپر اعتراضات ۔

(۲) قرآن اور وحی الٰہی کے نزول پر اعتراضات۔

(۳) احادیث کو غلط روایات کے ذریعہ پیش کرنا ۔

(۴) اسلامی جہاد پر الزام عائد کرنا کہ جہاد لوٹ مار کے لئے کیا جاتا

تھا وغیرہ۔

’’مستشرقین اور اسلامی جہاد‘‘ہم اسی عنوان پر کچھ عرض کرنے کی کوشش کریں گے ۔

اگر ہم مشرکین مکہ کی ان تمام زیادتیوں کا جائزہ لیں جو ابتدائے اسلام میں کی گئیں تو یقینا جہاد کا اصلی چہرہ ہمیں نظر آجائیگا ،اور اگر ہم ان زیادتیوں پر خاموش رہتے اور دین کے دشمنوں کو کھلی آزادی دے دیتے تو مستشرقین کو اسلام اور مسلمانوں پر کوئی اعتراض نہ ہوتا ۔ کیونکہ اس صورت میں اسلام کا وہی انجام ہوتا جو وہ دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ جب کفار مکہ کی سر مستیاں تما م حدوں سے تجاوز کرگئیں تو مکافات عمل کا قانون حرکت میں آیا اور پروردگار عالم نے مسلمانوں کو کافروں کے ساتھ دودوہاتھ کرنے اور ان کے غرور کو خاک میں ملانے کی اجازت دے دی ۔ارشاد خداوندی ہوا ۔

’’ پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیںاس بنا پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بے شک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے،وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے ۔صرف اتنی بات پر کہ انہوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے اور اللہ اگر آدمیوں میں ایک دوسرے سے دفع نہ فرماتا تو ضرور ڈھا دی جاتیں خانقاہیں اور گرجا اور کلیسا اور مسجدیں جن میں اللہ کا بکثرت نام لیا جا تا ہے اور بے شک اللہ مدد فرمائے گا اس کی جو اس کے دین کی مدد کرے گا بیشک اللہ قدرت والا غالب ہے‘‘ ۔

( سورۃ الحج ،۳۹،۴۰ترجمہ کنزالایمان شریف)

مستشرقین ( Orientalis) نے اپنے تخیل کے زور پر اسلامی جہاد کے دواسباب تراشے ہیں ۔

(۱) لوگوں کو زبر دستی مسلمان بنانا ۔(۲) جہاد کے نا م پر ڈاکے ڈال کر دولت اکٹھی کرنا ۔

ایک مشہور مستشرق جارج سیل ،حضورﷺ اور جہاد اسلامی پر اپنی کتاب ’’ The Koran‘‘ میں لکھتا ہے ’’ یو ں محسوس ہوتا ہے کہ اپنی دعوت کے پہلے بارہ سالوں میں آپ کا یہ غیر مزاحمانہ اور معتدل رویہ محض اس وجہ سے تھا کہ محض ( معاذاللہ ) آپ کمزور تھے اور آپ کے مخالفوں کی طاقت آپ کے مقابلے میں زیادہ تھی کیونکہ جو نہی آپ اہل مدینہ کے تعاون سے اس قابل ہوئے کہ آپ دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر با ت کر سکیں تو آپ نے فوراً اعلان کردیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کے پیرو کا روں کو کا فروں کے خلاف اپنے دفاع کی اجازت دے دی ہے‘‘ ۔

منٹگمری واٹ اپنی مختلف تحریروں میں زور و شور سے یہ ثابت کرتا ہے کہ ہجرت کے بعد مسلمانوں کا کوئی معقول ذریعۂ معاش نہ تھا اس لئے انہوں نے عربوں کے دستور کے مطابق تجارتی کاروانو ں کو لوٹنے اور مختلف قبائل پر ڈاکے ڈا لنے کا پیشہ اختیا رکیا وہ اپنی کتاب ’’ محمد ایٹ مدینہ ‘‘ میں لکھتا ہے ۔’’ بدر کی مہم سمیت یہ مہمیں ڈاکے تھے اور ان کا مقصد یہ تھا کہ غیر ضروری خطرات مول لئے بغیر مال غنیمت اکٹھا کیا جائے ۔

مستشر ق مذکور ایک مقام پر لکھتا ہے ۔

’’ڈاکے اور جہاد میں فرق صرف نام کی تبدیلی کا ہے۔ اس طرح وہ کام در اصل ڈاکہ ہی تھا اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی گئی‘‘۔

منٹگمری واٹ اسلامی جہاد کے اسباب بیان کرتے ہوئے لکھتا ہے ۔

’’ بلاشک و شبہ محمدﷺ کے ذہن میں ایک نقطہ بھی تھا ۔ انہوں نے مسلمانوں کو باہم لڑائی کرنے اور ایک دوسرے پر حملہ کرنے سے منع فرمایا اور مسلمانوں کی تعداد دیکھتے ہوئے سرحدی علاقوں کے قافلوں کو لوٹنے کاحکم دیا ‘‘۔ وغیرہ

’’ پیغمبرﷺ نے اپنی اور اپنے تمام صحابہ کی ضروریا ت زندگی پوری کرنے کے لئے جو طریقہ اپنا یا وہ ان تجارتی کا روانوں کو لوٹنے کا تھا جو شام جاتے ہوئے یا شام سے واپس آتے ہوئے مدینہ کے پاس سے گزرتے تھے‘‘۔

مندرجہ بالا مستشرقین کے اقتباسات سے یہ نتیجہ نکا لاجاسکتا ہے کہ ان کو اسلام اور پیغمبر اسلام ا پردو بڑے اعتراض ہیں ۔

(۱) حضورﷺ ایک مذہبی راہنما ہو کر تلوار کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے اپنے دین کی اشاعت کے لئے تلوار کو ا ستعمال کیا جب کہ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح امن کی دعوت دیتے۔

(۲) مسلمانوں نے تلوار کو صرف اپنی تبلیغ دین کے لئے ہی استعمال نہیں کیا بلکہ انہوں نے تلوار کو ذریعۂ معاش بھی بنایا اور انہوں نے ڈاکہ زنی کو بطورِ پیشہ اختیار کیا ۔

مستشرقین کی یہ متعصبانہ تحقیق ان کے قلوب و اذہان کے مریض ہونے کا پتہ دیتی ہے ۔اس لئے کہ کسی انسان کو بزور شمشیر مسلمان بناناممکن نہیں ۔کیونکہ اسلام کی بنیاد ایمان پر ہے اور ایمان کا تعلق دل سے ہے۔ تلوار کا وار جسم پر تواثر انداز ہوتا ہے لیکن دل پر نہیں۔ اسلام نے اپنے پیروکاروں کو واضح ہدایات دیں کہ وہ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور نہ کریں ۔ قرآن حکیم نے انتہائی واضح الفاظ میں مسلمانوں کو حکم دیا۔ ارشاد ہوتا ہے ’ ’ دین میں کچھ زبردستی نہیں ‘‘ ۔

(سورۃ البقرہ ۲۵۶ترجمہ کنزالایمان )

اگر حضورﷺ تلوار کے ذریعہ اسلام پھیلانا چاہتے تو مختلف جنگوں اور غزوات میں جو لوگ شکست کھا کر مسلمانوں کے قبضے میں آتے ان کی جان بخشی کی ایک ہی صورت ہوتی کہ وہ اسلام قبول کریں۔لیکن ایسا نہیں ہوا جو لوگ آپ اکے قبضے میں آئے ،آپ نے ان میں سے محدود ے چند کو ان کے سیاہ اعمال کی وجہ سے قتل کرنے کا حکم دیا اور باقی اسیروں کو یا تو اپنی رحمۃ للعالمینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آزاد کردیا ان سے فدیہ لے کر چھوڑ دیا ۔ جو آدمی آپ کو قتل کرنے کی نیت سے آیا آپ نے اس کے ارادے سے مطلع ہوکر بھی اپنی رحمت سے اس کو معاف کردیا ۔ مکہ میں بیس اکیس سال تک آپ پر مظالم ڈھائے گئے لیکن فتح مکہ کے بعد آپ نے سب کو معاف کردیا ۔

ہم مستشرقین کو علم و عقل کا واسطہ دیکر ان سے پوچھتے ہیں کہ اگر تلوار کے زور سے لوگوں کو مسلمان بنانا مقصود ہوتا تو کیا حضورﷺ فتح مکہ جیسے تاریخی موقعہ کو اس مقصد کے لئے استعمال نہ کرتے ؟

مستشرقین جو الزام اسلام پر لگانا چاہتے ہیں ،اس کا صحیح مصداق تو ان کا اپنا پیارا دین عیسائیت ہے ۔عیسائی پوپ اور پادری اپنے دین کو بزور شمشیر پھیلانا چاہتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ جن جن ممالک میں عیسائیوں کی حکومتیں قائم ہوئیں وہاں سے ان تمام مذاہب کا صفایا ہوگیا، جو عیسائیت کی حکومت قائم ہونے سے پہلے ان علاقوں میں موجود تھے مسلمانوں نے آٹھ سو سال اسپین پر حکومت کی لیکن اتنے طویل اسلامی غلبے کے باوجود ان علاقوں سے عیسائیت اور یہودیت کے مذاہب ختم نہیں ہوئے ۔بلکہ ان مذاہب کے پیروکار بڑی آزادی کے ساتھ اپنے اپنے مذاہب کی تعلیمات کے مطابق زندگیاں بسر کرتے رہے اور اسلامی حکومت میں اونچے اونچے عہدوں پر فائز رہے لیکن جب مسلمانوں کے اقتدار کا سورج غروب ہوا اور عیسائیت کے ہاتھوں میں اقتدار آیا تو اسپین میں موجود مسلمانوں کے سامنے دوہی راستے رہ گئے کہ یا تو اپنا دین چھوڑ کر عیسائیت قبول کرلیں، یا اپنے دین کی خاطر آگ کے لپکتے ہوئے شعلوں میں کود جائیں۔

اسلام اگر تلوار کے زور سے پھیلایا جاتا تو جن ممالک میں پہلی صدی ہجری سے لیکر آج تک مسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے ۔ان ممالک سے دیگر مذاہب کا خاتمہ ہوگیا ہوتا مگر آج بھی ہم دنیا کے نقش قدم پر،مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے نگاہ ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات کی کشش کے ذریعہ پھیلاہے ۔تلوار کے زور سے نہیں پھیلا ۔کیونکہ آج بھی مسلمانوں کی اکثر آبادی ان علاقوں میں ہے جہاں تک قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی تلوار نہیں پہنچی ۔انڈونیشیا،ہندوستان،چین ،براعظم افریقہ کے ساحلی علاقوں میں مسلمان آج کروروں کی تعداد میں موجود ہیں۔

اسلام کے اپنی تعلیمات کی کشش سے پھیلنے اور اشاعت اسلام میں تلوار کے عمل دخل نہ ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکہ ساری دنیا کا چودھری بناہوا ہے ۔دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کی داخلی پالیسیوں میں مداخلت کرنا امریکہ اپنا حق نہ سمجھتا ہو۔

آج دنیا میں کوئی مسلمان حکومت ایسی نہیں جو امریکہ کے شہریوں کو بزور شمشیر مسلمان بنانے کی طاقت رکھتی ہو ۔لیکن اس کے باوجود امریکہ میں اسلام بڑے زور سے پھیل رہا ہے ۔یورپ کا کوئی بھی ایسا ملک نہیں جہاں اذان نہ گونجتی ہو اور دنیا کی کوئی قوم ایسی نہیں جس کے کثیر افراد نے کلمۂ طیبہ پڑھ کر اسلام کے دامن میں پناہ نہ لی ہو ۔

(ضیاء النبی ﷺ صفحہ ۵۸۲؍علامہ پیر کرم شا ہ علیہ الرحمہ)

اسلام تلوار کے زورسے نہیں پھیلا ،یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور کئی مستشرقین خود اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں ۔تھامس کارلائل اسلام پر لگائے جانے والے اس الزام کی ،کہ یہ دین شمشیر کے سہارے پھیلا،تردید کرتے ہوئے۔اپنی کتاب’’آن ہیروز اینڈ ہیرورشپ‘‘میں لکھتا ہے

’’اس بات کو بہت ہوا دی گئی ہے کہ محمدﷺ نے اپنے دین کو تلوار کے زور سے پھیلایا ۔۔۔۔۔اگر دین تلوار کے زور سے پھیلاتھاتو یہ دیکھنا ہے کہ وہ تلوار آئی کہاںسے ۔ہر نئی رائے آغاز میں صرف اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے ۔ابتدامیں صرف ایک شخص اس رائے پر یقین رکھتا ہے ۔ایک آدمی ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت دوسری طرف۔ ان حالات میں وہاںاکیلا آدمی تلوار لے کر کھڑا ہوجائے اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے زور سے شروع کردے تو وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکے گا ۔اسلام نے تلوار کا استعمال نہیں کیا بلکہ شارلیمان نے سیکسن قبائل کو تلوار کے ذریعہ عیسائی بنایا نہ کہ تبلیغ سے‘‘۔

مائیکل اکبر جو بارہویں صدی کے نصف آخر میں زندہ تھا اور جس نے عیسائیوں پر رومی مظالم کو دیکھا ،اس کا یہ قول، تھامس آرنلڈ نے نقل کیا ہے۔

’’مجھے عربوں کی فتوحات میں اللہ کا ہاتھ نظر آتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے جب رومیوں کے مظالم کو دیکھا تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل کے عربوں کو بھیجا کہ وہ رومیوں کے مظالم سے عیسائیوں کو نجات دلائیں ‘‘۔

عیسائیوں نے کثرت سے اسلام کے دامن میں پناہ لی تھی۔یہ کام انہوں نے کسی مجبوری سے نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے اسلام کو اس لئے سینے سے لگایا تھا کہ اس زندگی بخش نظام حیات میں انہیں دنیا وآخرت کی کامیابی نظر آتی تھی۔

مستشرقین نے اسلامی غزوات وسرایا کو ڈاکہ کا نام دیا ہے اور اسلام کے خلاف اس الزام کو ثابت کرنے کے لئے دلیل یہ دی ہے کہ ڈاکے ڈالنا اور دوسرے کے اموال چھیننا عربوں کا عام معمول تھا ۔ مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کے سامنے چونکہ کوئی ذریعہ ٔمعاش نہ تھا اس لئے عربوں کے عام دستور کے مطابق انہوں نے بھی ڈاکہ زنی کو ہی اپنا پیشہ بنالیا۔مستشرقین کا یہ شوشہ متعدد وجوہات کی بنیاد پر بے بنیاد ہے۔

اولا یہ کہ اسلام نے مسلمانوں کو جہاد کی اجازت ڈاکے ڈالنے کے لئے نہیں دی تھی بلکہ یہ اجازت انہیں زمین سے فتنہ وفساد کو ختم کرانے اور دعوت دین کے راستے سے ہر قسم کی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لئے دی تھی۔اسلام نے مسلمانوں کو فتنہ وفساد ختم ہونے تک قتال کوجاری رکھنے کا حکم دیا تھا اس نے مسلمانوں کو یہ حکم نہیں دیا تھا کہ وہ خود زمین پر فتنہ وفساد برپا کریں کہ یہ ایک بہت بڑا جرم ہے ۔اسلام نے اس جرم کی جو سزا مقرر کی ہے وہ اتنی عبرتناک ہے کہ اسلام کے نقاد اس سزا کو انتہائی ظالمانہ سزا قرار دیتے ہیں۔

مستشرقین کا یہ کہنا کہ مسلمانوں کا ذریعۂ معاش کچھ نہ تھا لہٰذا وہ ڈاکے ڈالنے پر مجبور تھے ۔اس بنا پر غلط ہے کہ اس میں سے متعدد مہمیں مختلف قبائل کے ساتھ معاہدوں پر منتج ہوئیں اور جو لوگ ڈاکے ڈالنے کے لئے جاتے ہیں ۔وہ اپنے شکار سے معاہدہ کرکے اپنے گھر واپس نہیں لوٹ آتے ۔اس کے علاوہ جن غزوات وسرایا میں مسلمان کے ہاتھ کافروں کا مال لگا تھا ۔یہ واقعہ ہجرت کے سترہ ماہ بعد پیش آیا تھا اگر مستشرقین کی منطق کو تسلیم کرلیا جائے تو سوچنا پڑے گا کہ اگر ڈاکوں پر ہی مسلمانوں کی نان شبینہ کا انحصار تھاتو وہ سترہ ماہ تک کیسے زندہ رہے تھے۔

حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کو اپنی زندگی بسر کرنے کے لئے مالوں کی ضرورت نہیں تھی اورنہ ہی تجارتی قافلوں کے مال کی طرف ان کی نظریںتھیںبلکہ انہوں نے حالات کے مطابق تجارت اور محنت ومزدوری کرکے رزق حلال کمانے کی کوششیں شروع کردیں تھیں ۔ انصار نے اپنے مجاہد بھائیوں کی آباد کاری کے لئے بے نظیر ایثار کے مظاہرے کئے تھے۔مہاجرین کی زندگی عسرت میں لبریز ہورہی تھی لیکن وہ خوش تھے کہ ان کا پیارا دین روز افزوں ترقی کررہا ہے۔

غزوات وسرایا کے نام سے مستشرقین نے حضوررحمۃ للعالمین ﷺ پر جتنے الزامات لگائے ہیںوہ سب بے بنیاد ہیں ۔یہ غزوات وسرایات نہ تو دشمن کو مشتعل کرنے کے لئے تھے ،نہ یہ ڈاکے تھے ،اور نہ ان کا مقصد لوگوں کو بزور شمشیر مسلمان بنانا تھا بلکہ یہ غزوات وسرایا ایک ایسی قوم کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ تھے،جسے چاروں طرف دشمنوں نے گھیر رکھا تھا ۔ لیکن وہ قوم دشمنوں کے اس ہجوم کے درمیان عزت اور وقارکے ساتھ زندہ رہنا چاہتی تھی ۔صرف اپنے لئے نہیں بلکہ ساری انسانیت کی خاطر زندہ رہنا چاہتی تھی ۔رب کائنات نے جس الہامی ہدایت سے اس قوم کو سرفراز فرمایا تھا ،یہ قوم ہدایت کی اس روشنی کو دنیا کے چپے چپے میں پہنچا نا چاہتی تھی اوراس عظیم مقصد کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار تھی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ جو لوگ نہ مغربی استعماری کا وشوں کو ڈاکہ ڈالنے کا نام دیتے ہیں ،نہ مشرق وسطیٰ کے تیل پر قبضہ کرنے کے لئے لاکھوں انسانوں کا خون بہانے والوں کو ڈاکو کہتے ہیں اور نہ ہی مہذب درندوں کو ڈاکو کہتے ہیں اور نہ ہی موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ہٹلر زماں ’’جارج بش اور حامیٔ بش‘‘ کو ڈاکو کہتے ہیں جنہوں نے اپنے سیاسی اور اقتصادی مفادات کی خاطر کروروں انسانوں کی انسانی آزادیاں سلب کر رکھی ہیں۔وہ لوگ خدا کے رحمۃ للعالمین نبی ﷺ اور ان کے جانثاروں پر ڈاکہ زنی کا الزام لگاتے ہیں ۔انصاف کا اس سے بڑا قتل ممکن نہیں ہے۔مستشرقین اسلام جو اسلام کے نظریات وجہاد پر طرح طرح کے اعتراض کرتے ہیں وہی انصاف سے بتائیں کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی گزری ہے یا آج کی مہذب اور متمدن دنیا میں کوئی ایسی قوم موجود ہے جس کے جنگی قانون میں عدل وانصاف کا یوں لحاظ رکھا گیاہو جیسا کہ اسلامی قوانین میں مذکور ہیں ۔

مستشرقین نے رسول اکرم ﷺ پر جو الزام تراشیاں کی ہیں مندرجہ بالا حقائق سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ رسول طاہرﷺ کا دامن رحمت ان تمام الزامات سے پاک ،عاری ومنزہ ہے۔

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ – سورۃ 2 – البقرة – آیت 286

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَهَا ‌ؕ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَيۡهَا مَا اكۡتَسَبَتۡ‌ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ اِنۡ نَّسِيۡنَاۤ اَوۡ اَخۡطَاۡنَا ‌ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَيۡنَاۤ اِصۡرًا كَمَا حَمَلۡتَهٗ عَلَى الَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِنَا ‌‌ۚرَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ‌ ۚ وَاعۡفُ عَنَّا وَاغۡفِرۡ لَنَا وَارۡحَمۡنَا ۚ اَنۡتَ مَوۡلٰٮنَا فَانۡصُرۡنَا عَلَى الۡقَوۡمِ الۡكٰفِرِيۡنَ

ترجمہ:

اللہ کسی شخص کو اس کی اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جن کی ہمیں طاقت نہ ہو اور ہمیں معاف فرما ‘ اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘ تو ہمارا مالک ہے تو کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

امام ابن جریر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم اس کو ظاہر کرو یا چھپاؤ اللہ تم سے اس کا حساب لے گا ‘ تو صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم ہاتھ پاؤں اور زبان کے کاموں سے توبہ اور رجوع کرتے ہیں وسوسوں سے کیسے رجوع کریں تو جبریل اس آیت کو لے کر آئے : اللہ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں کرتا ‘ بیشک تم وسوسوں سے باز رہنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

امام بخاری ‘ امام مسلم، امام ابودادؤ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ اور امام ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے سینہ میں جو وسوسے آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ان سے درگزر فرمالیتا ہے ‘ جب تک کہ وہ ان پر عمل نہ کریں اور ان کی بات نہ کریں۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ٧٣٦‘ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اس (شخص) نے نیک کام کیے ہیں ان کا نفع (بھی) اس کے لیے ہے ‘ اور جو اس نے برے کام کیے ہیں ان کا نقصان (بھی) اس کے لیے ہے۔ (البقرہ : ٢٨٦)

کسب اور اکتساب کا معنی اور شر کا اکتساب کے ساتھ مخصوص کرنے کی توجیہ :

جس کام کو انسان قصد اور ارادہ سے کرے اس کو کسب اور اکتساب کہتے ہیں ‘ اور خواطر اور وساوس میں انسان کے قصد اور ارادہ کا دخل نہیں ہوتا اس لیے ان پر گرفت نہیں ہوگی ‘ اسی طرح جو کام انسان سے نسیانا اور خطاء ہوجائے یا جو کام اضطراری طور پر صادر ہو ‘ اس پر بھی گرفت نہیں ہوگی۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر غفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کے ان کاموں کو معاف کردیا جو خطاء ہوں ‘ نسیانا ہوں یا جن کاموں پر انہوں مجبور کیا گیا ہو۔ (سنن ابن ماجہ ص ‘ ١٤٧ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اہل لغت کے نزدیک کسب اور اکتساب کا معنی واحد ہے ‘ اور بعض نے کسب اور اکتساب میں فرق بیان کیا ہے ‘ کسب عام ہے خواہ انسان وہ کام صرف اپنے لیے کرے یا دوسرے کے لیے اور اکتساب اس کام کو کہتے ہیں جو صرف اپنے لیے کیا جائے زمخشری نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خیر کے لیے کسب اور شر کے لیے اکتساب کو استعمال کیا ہے ‘ کیونکہ باب افتعال کا خاصہ ہے ! کسی چیز کو زیادہ محنت اور کوشش سے حاصل کرنا ‘ اور جب انسان کسی برے کام کی خواہش کرتا ہے تو اس کی تحصیل میں زیادہ عمل کرتا ہے اس کے لیے اکتساب فرمایا : اور بعض نے کہا : نیکی کے کام انسان کی فطرت کے مطابق ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرنیکے لیے زیادہ کوشش نہیں کرنی پڑتی اور برائی کے کام چونکہ انسان کی فطرت کے خلاف ہوتے ہیں اس لیے ان کو کرتے وقت انسان کا نفس بوجھل ہوتا ہے اور انکے لیے زیادہ عمل کرنا پر تا ہے اس لیے ان کے لیے اکتساب فرمایا اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس کی سرشت میں خیر اور نیکی ہو وہ اگر برا کام کسی وجہ سے کرے گا تو اس کا ضمیر مزاحمت کرے گا اور اسے برائی کے لیے زیادہ دشواری ہوگی ‘ اور جس کی سرشت میں شر اور برائی ہو وہ برے کام کو زیادہ دلچپسی اور زیادہ کوشش سے کرے گا ‘ اس طرح ہر صورت میں برے کام میں زیادہ عمل ہوگا اس لیے برے کام کے لیے اکتساب کا لفظ فرمایا جس میں زیادہ عمل ہے کیونکہ زیادتی لفظ زیادتی معنی پر دلالت کرتی ہے۔

دوسروں کے عمل سے نفع یا ضرر پہنچنے کا بیان :

بہ ظاہر اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو صرف ان ہی کاموں کا نفع یا ضرر ہوگا جو اس نے خود کیے ہوں ‘ لیکن تحقیق یہ ہے کہ جن کاموں کے وجود میں آنے کے لیے کسی طور سے بھی کسی انسان کا دخل ہو تو اگر وہ اچھے کام ہیں تو اس کو ان کا نفع پہنچے گا اور اگر وہ برے کام ہوں تو اس کو ان کو ضرر پہنچے گا ‘ مثلا ایک آدمی نے مسجد بنوا دی یا لائبریری قائم کردی تو جب تک اس مسجد میں نمازیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اس کا اجر ملتا رہے گا اور جب تک اس لائبریری میں کتابیں پڑھی جاتی رہیں گی اس کو اجر ملتا رہے گا اس طرح اولاد کے دعا کرنے سے اور کسی استاذ کے پڑھائے ہوئے علم سے اجر ملتا رہے گا ‘ اور جس شخص نے کوئی جوا خانہ ‘ قحبہ خانہ یا شراب خانہ بنایا ہے تو جب تک وہاں برائی کے کام ہوتے رہیں گے اس کے نامہ اعمال میں گناہ لکھے جاتے رہیں گے۔ امام مسلم روایت کرتے ہیں :

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اون کے کپڑے پہنے ہوئے کچھ دیہاتی حاضر ہوئے ‘ آپ نے انکی بدحالی اور ضرورت کو دیکھا ‘ پھر آپ نے لوگوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی لوگوں نے کچھ توقف کیا جس سے آپ کے چہرہ انور پر کبیدگی کے آثار ظاہر ہوئے ‘ پھر ایک نصاری درہموں کی تھیلی لے کر آیا ‘ پھر دوسرا آیا اور پھر صدقہ لانے والوں کاتنانتا بندھ گیا ‘ حتی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے پر خوشی کے آثار ظاہر ہوئے تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے مسلمانوں میں کسی نیک طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے اجر میں کمی نہیں ہوگی اور جس شخص نے مسلمانوں میں کسی برے طریقہ کی ابتداء کی اور اس کے بعد اس طریقہ پر عمل کیا گیا تو اس طریقہ پر عمل کرنے والوں کا گناہ بھی اس شخص کے نامہ اعمال میں لکھا جائے گا اور عمل کرنے والوں کے گناہ میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٤١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

امام بخاری بیان کرتے ہیں :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بھی ظلما قتل کیا جائے گا اس کے گناہ میں ایک حصہ پہلے ابن آدم کا ہوگا (یعنی قابیل کا جس نے ہابیل کو ظلما قتل کیا تھا) کیونکہ وہ پہلا شخص ہے جس نے قتل کا طریقہ نکالا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٧١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم سے غلطی ہوجائے تو ہماری گرفت نہ کرنا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

خطاء ‘ نسیان اور جو کام جبرا کرائے جائیں ان پر مواخذاہ نہ کرنا :

امام ابن ماجہ ‘ امام ابن المنذر ‘ امام ابن حبان ‘ امام طبرانی ‘ امام دارقطنی ‘ امام حاکم اور امام بیہقی ‘ نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری امت کی خطاء ‘ نسیان اور جس کام پر اس کو مجبور کیا گیا ہو اس سے درگزر فرمالیا ہے۔

امام طبرانی نے اس حدیث کو حضرت ثوبان ‘ حضرت ابن عمر اور حضرت عقبہ بن عامررضی اللہ عنہم سے بھی روایت کیا ہے۔ اور ابن ماجہ نے اس حدیث کو حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اور امام ابن عدی نے ” کامل “ میں امام ابونعیم نے ” تاریخ “ میں اور امام سعید بن منصور نے اپنی ” سنن “ میں اس کو حسن سے روایت کیا ہے ‘ ہم اس سے پہلے امام مسلم کی روایت سے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرمائی امام ابن جریر نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بھاری بوجھ نہ ڈالنا جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا۔ (البقرہ : ٢٨٦)

سابقہ امتوں کے سخت احکام :

امام ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ ہم کو ایسے احکام کا مکلف نہ کرنا جن کو ہم ادا نہ کرسکیں ‘ جس طرح ہم سے پہلے یہود و نصاری پر سخت احکام کا بوجھ ڈالا گیا ‘ وہ ان احکام پر عمل نہ کرسکے ‘ پھر اس کی سزا میں ان کو بندر اور خنزیر بنادیا گیا۔

امام ابن ابی شیبہ ‘ امام داؤد ‘ امام نسائی اور امام ابن ماجہ نے عبدالرحمان بن حسنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بنو اسرائیل کے کپڑوں پر پیشاب لگ جاتا تو وہ اس کو قینچی سے کاٹ دیتے تھے۔

امام ابن ابی حاتم نے روایت کیا ہے کہ بنواسرائیل میں جب کوئی شخص گناہ کرتا تو اس سے کہا جاتا کہ تمہاری توبہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرو ‘ سو وہ قتل کرتا ‘ اس امت سے ایسے سخت احکام کا بوجھ اٹھا لیا گیا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٧ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

سابقہ امتوں پر بہت سخت اور دشوار احکام تھے ان پر پچاس نمازیں فرض تھیں ‘ زکوۃ میں چوتھائی مال کو ادا کرنا فرض تھا ‘ نجس کپڑا کاٹے بغیر پاک نہیں ہوتا تھا۔ مال غنیمت حلال نہیں تھا ‘ مسجد کے سوا کسی اور جگہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ‘ تیمم کی سہولت نہیں تھی ‘ قربانی کو کھانے کی اجازت نہیں تھی ‘ اونٹ کا گوشت حرام تھا ‘ چربی حرام تھی ‘ ہفتہ کے دن شکار کی اجازت نہ تھی ‘ کوئی گناہ کرتے تو فورا دنیا میں اس کی سزا مل جاتی تھی ‘ قصاص میں قتل کرنا لازم تھا ‘ شرک کی توبہ قتل کرنا تھی ‘ جس عضو سے گناہ ہوتا تھا اس کو کاٹ دیا جاتا تھا ‘ دیت کی سہولت نہیں تھی ‘ بعض گناہوں کی سزا میں ان کی صورتوں کو مسخ کرکے بندر اور خنزیر بنادیا جاتا تھا۔

سورئہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت :

امام عبد بن حمید نے عطاء سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت جبرائل (علیہ السلام) نے سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پڑھا تو آپ نے کہا : آمین۔

امام احمد ‘ امام دارمی ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ابو داؤد ‘ امام ترمذی ‘ امام نسائی ‘ امام ابن ماجہ اور امام بیہقی نے اپنی ” سنن “ میں حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس نے رات میں سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو پڑھا تو وہ اس کے لیے کافی ہیں۔

امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کی آخری دو آیتوں کو بار بار پڑھو ‘ کیونکہ اللہ نے ان کی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فضیلت دی ہے۔

امام احمد نے اور امام بیہقی نے ” شعب الایمان “ میں حضرت ابوذر (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے سورة بقرہ کی آخری آیتیں عرش کی نیچے سے دی گئی ہیں مجھے سے پہلے یہ کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔

امام طبرانی نے سند جید کے ساتھ حضرت شداد بن اوس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کرنے سے دوہزار سال پہلے ایک کتاب لکھی اس میں سے دو آیتیں نازل کیں اور سورة بقرہ کو ان پر ختم کیا ‘ جس گھر میں تین راتیں ان دو آیتوں کو پڑھا جائے گا اس گھر میں شیطان نہیں ٹھہرے گا۔ (الدرالمنثور ‘ ج ١ ص ‘ ٣٧٨ مطبوعہ مکتبہ آیۃ اللہ العظمی ایران)

کلمات تشکر :

١٠ رمضان المبارک ١٤١٤ ھ۔ بہ مطابق ٢١ فروری ١٩٩٤ ء کو میں نے ” تبیان القرآن “ لکھنے کا آغاذ کیا تھا اسی سال اللہ نے تعالیٰ نے مجھے فریضہ حج کی ادائیگی سے نوازا اور اپنے کرم سے حج اکبر عطا کیا حج سے پہلے اور بعد حج کی مصروفیات اور تھکاوٹ کی وجہ سے لکھنے میں تاخیر ہوتی رہی ‘ ٢٨ فروری ١٩٩٥ ء کو مقدمہ تفسیر ‘ سورة فاتحہ اور پہلے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی ‘ ١٠ جولائی ١٩٩٥ ء کو دوسرے پارہ کی تفسیر مکمل ہوئی اور ١٢ ربیع الاول ١٤١٦ ھ۔ ١٠ اگست ١٩٩٥ ء کو سورة بقرہ کی تفسیر مکمل ہوگئی ‘ فالحمد للہ رب العالمین۔

١٠ رمضان المبارک کو ” تبیان القرآن “ کی پہلی جلد کا افتتاح ہوا اور بارہ ربیع الاول جشن آمد رسول کے مبارک دن یہ جلد مکمل ہوگئی ‘ اس جلد کا افتتاح اور اختتام مبارک ایام میں ہوا ہے سو الہ العلمین اس کتاب کو مبارک بنادے ‘ ہمارے دلوں کو قرآن مجید کی ہدایات سے معمور کردے اور ہماری روحوں کو احادیث مبارکہ کے انوار سے منور کردے اور ہمارے بدن اور ہمارے تمام اعضاء کو قرآن اور سنت کے تابع کردے۔ رب العلمین ! جس طرح تو نے ” تبیان القرآن “ کی اس پہلی جلد کو مکمل کرنے کی توفیق دی ہے اسی طرح اپنے کرم سے اس کی باقی جلدوں کو بھی مکمل کرنے کی سعادت عطا فرما ‘ اس کتاب کو مقبولیت عامہ عطا فرما اور تاقیامت اس کے فیض کے چشموں کو جاری رکھ اور اس کے مندرجہ جات پر مجھ سمیت سب کو عمل کی توفیق عطا فرما ‘ اس کتاب کو مخالفین کے لیے ہدایت اور موافقین کے لیے استقامت کا موجب بنا ‘ اس کو میرے لیے صدقہ جاری کر دے۔ مجھے ‘ میرے والدین کو ‘ میرے اقرباء کو ‘ میرے اساتذہ اور تلامذہ کو ‘ میرے احباب اور معاونین کو ”’ تبیان القرآن “ کے ناشر کاتب اور مصحح کو اور جملہ مسلمانوں کو دنیا اور آخرت کے مصائب ‘ آفات اور بلاؤں سے محفوظ اور مامون رکھ اور دنیا اور آخرت کی ہر خیر ‘ ہر سعادت اور ہر کامرانی عطا فرما۔ آمین۔ واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدنا محمد خاتم النبیین قائد المرسلین شفیع المذنبین وعلی الہ الطیبین الطاھرین و اصحابہ الکاملین الراشدین وازواجہ امھات المومنین وعلی اولیاء امتہ و علماء ملتہ من المفسرین والمحدثین والمجتھدین الراسخین اجمعین الی یوم الدین :

غلام رسول سعیدی غفرلہ ‘

خادم الحدیث ‘ دارالعلوم نعیمیہ :

٣١ رجب ٧٢٤١ ھ۔ ٩ اگست ٢٠٠٦ ء

فون : ٩٠٣٦٥١٢، ٠٣٠٠۔ ٤٤٧١٢٠٢، ٠٣٢١

سورۃ 2 – البقرة – آیت 286