پانی چھڑک لیا کریں

حدیث نمبر :351

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے عرض کیا اے محمد ۱؎ (صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ وضو کریں تو پانی چھڑک لیا کریں۔ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد یعنی امام بخاری کو کہتے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی راوی منکرالحدیث ہے۲؎

شرح

۱؎ شاید یہ حدیث اس آیت کے نزول سے پہلے کی ہے”لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ”الایہ۔اس آیت کے نزول کے بعد فقط نام شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا حرام ہے،جب ہمارا رب ہی اپنے محبوب کو نبی،رسول،مزمل،مدثرکے القاب سے پکارے تو مخلوق صرف نام سے کیسے پکار سکتی ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہوں انہوں نے ادب سے پکارا ہو گا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انکسارًا اس طرح نقل فرمایا،جیسے کہا جاتا ہے کہ مجھ سے فلاں نے کہا تو اس وقت آنا،حالانکہ انہوں نے کہا ہوتا ہے(آپ تشریف لائیے گا)۔

۲؎ یعنی اس اسناد میں کوئی راوی حسن ابن علی بھی ہے جو خود ثقہ نہیں ہے اور اس روایت میں وہ اکیلا ہے مگرمضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہے۔خیال رہے کہ یہ حسن ابن علی کوئی غیر معتبرشخص ہے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مراد نہیں جیسا بعض لوگوں نےسمجھا۔

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

استمداد اور استعانت

استمداد اور استعانت کا معنی ’’طلب معونت‘‘یعنی مدد طلب کرنا ہے ۔’’ استغاثہ ‘‘ فریاد خواہی کو کہتے ہیں(عامۂ لغات ،نیز دیکھیں الجواہر المنظم؍ ص ۱۲۴،المجمع الثقافی ،ابو ظبی) اور توسل، وسیلہ،تشفع یہ استمداد اور استعانت کے قریب المعنی الفاظ ہیں جن کا معنی تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ(حاشیہ الصاوی علی الجلا لین ، ج۱؍ ص ۲۸۲) یہ بھی استعانت کی ایک نوع ہے ۔اور ’توحید‘’شرک‘ کی ضد ہے ،توحید کا حقیقی مفہوم الوہیت اور لوازم ِالوہیت کو صرف اللہ عز و جل کے لئے مخصوص ماننا اور اسی کی ذات میں منحصر سمجھنا ہے ۔بلفظ دیگر اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا و منفرد اعتقاد کرنا اور شریک سے پاک ماننا ہے۔ (حاشیہ صحیح البخاری ،ج۲؍ ص ۱۰۹۶، تعریف علامہ بدرالدین عینی حنفی)

زیر نظر عنوان میں اس بات کی وضاحت مقصود ہے کہ اہل سنت و جماعت میں رائج و معمول انبیاء ،اولیاء،اور صالحین سے استمداد ’’استعانت اور استغاثہ و توسل‘‘آیا تصور توحید کے منافی ہے یا یہ کہ یہ اسلامی معتقدات اور معمولات ہی کا ایک حصہ ہے؟۔۔۔۔

اسلام کی ابتدائی تین صدیوں سے لے کر ساتویں صدی ہجری تک تمام اہل اسلام میں انبیاء و صالحین سے طلبِ معونت، فریاد خواہی اور قضائے حاجت کے لئے انہیں وسیلہ بنانا ایک حقیقتِ ثابتہ رہی اور بلا تفریق جمہور مسلمین اس کے جواز و استحسان پرقولاً و عملاً متحد و متفق رہے۔خیر القرون میں صحابہ و تابعین و تبع تابعین ،کتاب و سنت کے حاملین خود ساتویں صدی ہجری کے علمائے راسخین و فقہاء و محدثین کا یہی موقف رہا،اور بے کسی اختلاف و نزاع کے رسول اللہکے صحیح و حقیقی جانشین آج بھی اسی پاکیزہ موقف پر گامزن ہیں۔ان میں سے کسی نے بھی انبیاء و صلحاء سے’’ استمداد و توسل ‘‘کو اسلامی تصورِ توحید کے منافی نہیں جانا۔چنانچہ اسلامی معتقدات ومعمولات کے شارح حجۃ الاسلام امام غزالی(متوفی ۵۰۵؁ھ) قُدِّ سَ سِرُّہُ فرماتے ہیں:’’مَنْ یُّسْتَمَدُّ فِیْ حَیَا تِہٖ یُسْتَمَدُّ بَعْدَ وَفَا تِہٖ‘‘(احیاء العلوم للغزالی)جس سے زندگی میں مدد مانگی جاتی ہے بعد وفات بھی اس سے مدد مانگی جائے گی ۔امام احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیتمی شافعی مکی (۹۷۴؁ھ)’’الجوہر المنظم‘‘ میں چند حدیثیں نقل فرماتے ہیں جو استمداد اور توسل کے جواز و استحباب کی دلیل ہیں۔

پھر فرماتے ہیں : ’’ہر طرح کے ذکر خیر میں حضور اقدسکا وسیلہ اور ان سے استعانت کی جاتی ہے۔آپ کے اس دنیا ئے فانی میں ظہور سے قبل بھی اور بعد ظہور بھی ،آپ کی حیات ظا ہری میں بھی اور بعد وصال بھی،یوں ہی میدان قیامت میں بھی ،چنانچہ آپاپنے رب کے حضور سفارش فرمائیں گے اور یہ ان امور میں سے ہے جن پر اجماع قائم ہے اور اس تعلق سے اخبار تواتر کی حد تک ہیں۔(الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۸ ابو ظبی۔)

میں نے صرف دو اقوال نقل کئے، اگر علمائے راسخین کے اس قسم کے اقوال نقل کئے جائیں تو ایک کامل کتاب تیار ہوسکتی ہے ۔پوری جماعت اہل سنت کی جانب سے مسئلہ’’ استمداد اور توسل ‘‘کی وکالت کے لئے یہ دو اقتباسات کافی ہیں ۔’’استمداد وتوسل ‘‘کا یہ نظریہ ہر دور اور ہر قرن میں موجود رہا ۔اس میں پہلا رخنہ ڈالنے والا اور اس نظریۂ فکر کا پہلا منکر (نیز غیر اللہ سے استمداد وتوسل کو شرک وبت پرستی سے تعبیر کرنے والا) ساتویں صدی ہجری کے وسط کی پیدا وار ابن تیمیہ ہے(جس کی ولادت ۶۶۱ھ؁ میں ہوئی)اس دور کے علماء نے ابن تیمیہ کے دیگر تفردات کی طرح اس مسئلہ میں بھی اس کا شدید ردو ابطال فرمایا ۔ جس کے نتیجہ میں کوئی چار سو سال تک یہ فتنہ زیرِ زمین دفن رہا۔ بارہویں صدی کے آغاز میں محمد ابن عبد الوہاب نجدی نے اس فتنہ کو ابھارا اور اسی صدی کے اخیر میں شیخ نجدی کے ایک ریزہ خوار مولوی اسماعیل دہلوی نے ہندوستان میں اس فتنہ کو ہوادی،اور ان کے سُر سے سر ملاکر آج کل کے غیر مقلدین اس فاسد نظریہ کے داعی بن گئے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ آنے والے سطور میں ہم اہل سنت کے نظریۂ استمداد پر ٹھوس دلائل وثبوت فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ استمدادو استعانت (غیر اللہ سے مدد طلب کرنا)کے وسیع مفہوم میں’’استغاثہ‘‘(فریاد خواہی)’’توسل‘‘تشفع‘‘مدد کے لئے ندا سبھی شامل ہیں،یوں ہی انبیاء وصلحاء سے ’’استمداد وتوسل‘‘خواہ ان کی ظاہری زندگی میں ہو یا بعد وصال اعمال صالحہ سے استعانت ووسیلہ کی طرح یہ بھی جائز ومستحسن ہے۔علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں :

’’ولا فرق بین ذکر التوسل والاستغاثۃ والتشفع والتوجہ بہ ا او بغیرہ من الانبیاء وکذاالاولیاء‘‘ (الجواہر المنظم فی زیارۃ القبر الشریف النبی المکرم ؍ص۱۷۵ ابو ظبی۔)

’’لفظ توسل واستعانت ذکر کیا جائے،یا تشفع وتوجہ ان میں کوئی فرق نہیں اور یہ سب رسول اللہ ا سے جائز ودرست ہیں یونہی دیگر انبیاء کرام اور اولیاء سے‘‘۔

میں اوپر بیان کرچکا ہوں کہ آغاز اسلام سے لیکر اب تک ہر دور میں انبیاء،صلحاء،اولیاء سے استمداد وتوسل کا عام دستور رہا ’علمائے راسخین اورکتاب وسنت کے حاملین سے ہر قرن وصدی معمور رہی ،مگر کسی نے اس پر نکیر نہیں فرمائی سبھی بالاتفاق جائز ومستحسن اور قضائے حاجات کا ذریعہ سمجھتے رہے پچھلی امت میں بھی ذوات واشخاص اور اعمال سے استمداد واستعانت وتوسل کا دستور رہا ۔

ولادت مبارکہ سے قبل استمداد وتوسل

حضورکی ولادت مبارکہ سے قبل بھی آپ کی ذات پاک کا وسیلہ لیا گیا ۔خود حضرت آدم علی نبینا علیہ الصلاۃ والسلام نے لیا چنانچہ حاکم نے مستدرک میں ایک روایت نقل کی اور اسے صحیح قرار دیا کہ حضورﷺ نے فرمایا:لما اقترفت آدم الخطیئۃ قال یا رب!اسئلک بحق محمد اان غفرت لی۔ (المستدرک للحاکم ۲؍ ۶۱۵)

’’حضرت آدم علی نبینا علیہ السلام سے لغزش سرزد ہوئی تو انہوں نے بارگاہ خدا میں عرض کیا ،اے میرے پروردگار! میں تجھ سے محمدا کے وسیلے سے دعا مانگتا ہوںکہ میری مغفرت فرما‘‘

اگر یہ وسیلہ واستعانت حرام یا شرک ہوتا تو حضرت آدم علیہ السلام کیوںکر وسیلہ لیتے؟ پھر حدیث کے آخری ٹکڑے میں یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’صدقت یا آدم انہ لاحب الخلق الیّ اذا سالتنی بحقہ فقد غفرتک‘‘اے آدم ! تونے سچ کہا وہ مجھے تمام مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب ہیں اور جب تونے میرے حبیب کے وسیلے سے دعا مانگی ہے تو میں نے تمہاری مغفرت فرمادی‘‘۔

کیا اب بھی کسی کے لئے یہ گنجائش باقی ہے کہ استمداد و توسل کو تصور توحید کے منافی سمجھے؟۔یہاں نہ تو وسیلہ لینے والا کوئی عامی ہے نہ وہ جس کا وسیلہ لیا جاتا ہے ۔وسیلہ لینے والا بھی نبی ہے جس کا وسیلہ لیا جارہا ہے وہ بھی نبی ہے ۔

اور پھر اللہ عزوجل کا اس وسیلے کو قبول فرماکر مغفرت فرمانا اس کے صحت واستحسان کی مستحکم دلیل ہے ۔یہ روایت حاکم کے نزدیک صحیح ہے ۔ اس روایت کو امام مالک علیہ الرحمہ نے بھی قبول فرمایا ہے ۔چنانچہ امام شہاب الدین خفاجی (متوفی ۸۱۲ھ؁) نے شرح شفاء میں نقل کیا ہے کہ جب خلیفہ منصور نے حج کیا اور حضور اقدسکی قبر شریف کی زیارت کی مسجد نبوی شریف میں حضرت امام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ عرض کیا کہ اے ابو عبد اللہ ! میں قبلہ کی طرف رخ کرتا ہوا دعا مانگوں یا حضورکی طرف چہرہ کروں؟۔ حضرت امام مالک نے فرمایا:

’’ولمَ تصرف وجھک عنہ وھو وسیلتک ووسیلۃ ابیک آدم الی اللہ تعالیٰ بل استقبلہ واستشفع بہ فشفعہ اللہ فیک‘‘ ( شرح الشفاء لامام خفاجی ۳؍ ۳۹۸۔ شفاء السقام ؍ ۱۵۴ ۔۔ وفاء الوفاء ص ۱۳۷۶)

’’تم کیوں حضور کی طرف سے اپنا چہرہ پھیروگے جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب تمہارا بھی وسیلہ ہیں،تمہارے باپ حضرت آدم کا بھی وسیلہ ہیں؟حضور ہی کی طرف چہرہ کرو اور حضور کی شفاعت کی درخواست کرو اللہ تعالیٰ تمہارے معاملے میں آپ کی شفاعت کو قبول فرمائے گا۔‘‘

پچھلی امتوں میں نبیٔ کریمسے توسل و استعانت کا رواج تھا چنانچہ یہود کے بارے میں قرآن کریم میں ہے۔’’اہل کتاب یہود نبی کے وسیلے سے کافروں کے مقابلے میں فتح مانگا کرتے تھے‘‘۔ (سورۃ البقرہ ؍ ۸۹

)

اسی آیت کی تفسیر میں امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں ’’یعنی فتح ونصرت کا سوال کرتے اور یوں دعا مانگتے اے اللہ ! نبی ِامی کے صدقے ہمیں فتح ونصرت عطا فرما‘‘ (التفسیر الکبیر ج ۳؍ ص ۲۰)

تفسیر در منثور میں ابو نعیم کے حوالے سے حضرت عبد اللہ ابن عباس کی جو روایت تخریج کی گئی ہے اس میں بنی قریظہ ونضیر کے یہودیوں کی دعا کے الفاظ اس طرح تھے :

’’اے اللہ! ہم تجھ سے تیرے آخری پیغمبراکے طفیل کافروں پرفتحیا بی چاہتے ہیں،توہماری مدد فرماتوان کی مدد ہوئی‘‘ (دُرِّ منثور ، ج ۱؍ ص ۱۲۵)

تابوت سکینہ سے استمدادو توسل

ذوات واشخاص ہی کے ساتھ استمداد وتوسل خاص نہ تھا بلکہ انبیاء وصلحاء کی طرف منسوب اشیاء سے بھی لوگ توسل کرتے اور مدد چاہتے تھے ۔چنانچہ ’’تابوت سکینہ‘‘ کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے اور جسے کتاب اللہ نے عظیم الشان نشانی قرار دیا ہے ۔ (سورۃ البقرہ آیت ۲۴۸)علامہ قاضی بیضاوی اور دیگر مفسرین کی صراحت کے مطابق ’’تابوت سکینہ‘‘میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا مبارک اور آپ کے کپڑے،آپ کے نعلین،حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ مبارکہ اور توریت کے ٹکڑے تھے۔(تفسیر بیضاوی بقرہ ص۱۶۱)اس تابوت کے تعلق سے کتب تفاسیر میں یہ ذکر ہے کہ جب بنی اسرائیل کو کوئی مصیبت در پیش ہوتی تو وہ اس تابوت کے وسیلہ سے دعائیں کرتے اور دشمنوں کے مقابلے میں فتح پاتے’’وکانوا یستفتحونہٗ علی عدوھم ویقدمون فی القتال ویسکنون الیہ (تفسیر جلالین بقرہ ص ۳۸)’’بنی اسرائیل اس تابوت کے توسل سے اپنے دشمنوں پر فتح یابی طلب کرتے اور اسے معرکۂ جنگ میں آگے رکھتے اور اس سے سکون حاصل کیا کرتے تھے ‘‘ظاہر ہے کہ ’’تابوت سکینہ‘‘اللہ نہیں ہے ،غیر اللہ ہے تو اس کے توسل سے فتح یابی چاہنا غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔اور قرآن کریم نے نکیر نہ فرمائی بلکہ موقع مدح میں ذکر فرمایا۔اس لئے قرآن وتفاسیر کا مطالعہ کرنے والااور اس پر ایمان لانے والا کوئی بھی شخص استعانت بغیراللہ کا انکار کرہی نہیں سکتا ۔ان چیزوں سے استعانت اس لئے تھی کہ یہ چیزیں انبیاء کرام علیہم السلام کی جانب منسوب تھیں ۔حضرت اسماء بنت ابی بکررضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت ہے کہ انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے توسط سے رسول اللہکا زیب تن کیا ہوا جُبّہ ملا تو وہ اسے مریضوں کے لئے نکالا کرتی اور دھو کر اس کا غسالہ مریضوں کو پلایا کرتی تھیں اور اس سے شفا چاہتی تھیں۔

(مسلم بحوالہ مشکوٰۃ ص؍۳۷۴)

قرآن کریم سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

رب کریم ارشاد فرماتا ہے ’’واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ‘‘(سورۃ البقرہ آیت ۱۵۳) ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘۔ظاہر ہے کہ نہ صبر خدا ہے ،نہ نماز بلکہ دونوں غیر اللہ ہیں،اللہ تعالیٰ نے غیر اللہ سے مدد طلب کرنے کا حکم دیا ہے ۔اس سے ثابت ہو ا کہ اعمال صالحہ سے استمداد واستعانت جائز ومستحسن ہے ۔

رب عزوجل اشخاص وذوات سے بھی استمداد کا حکم فرماتا ہے۔ ارشاد ہے’’تعاونوا علی البر والتقویٰ‘‘(سورۂ مائدہ آیت ۲)’’نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو‘‘اس آیت میں اشخاص سے استمدادواستعانت کا حکم فرمایا گیا ہے۔ائمہ مجتہدین شخصیت اور عمل دونوں کے وسیلے سے متعلق استدلال میں درج ذیل آیت کریمہ پیش کرتے ہیں:

’’یاایھا الذین امنوا اتقوا اللہ وابتغوا الیہ الوسیلۃ‘‘(سورئہ مائدہ آیت ۳۵)’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو‘‘حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا وسیلہ لیا ۔اور ان کے وسیلہ سے بارش ہوئی ۔تو حضرت عمر نے فرمایا ’’ھذا واللہ الوسیلۃ الی عزوجل والمکان منہ‘‘خدا کی قسم حضرت عباس اللہ کی بارگاہ کے وسیلہ اور رتبہ والے ہیں۔(الاستیعاب لابن عبد البر) اس روایت نے واضح کردیا کہ مذکورہ آیت کریمہ میں صرف اعمال صالحہ کا وسیلہ مطلوب نہیں ۔ بلکہ صلحاء کی ذات کا بھی وسیلہ مطلوب ہے۔یعنی خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بناناجو غیر اللہ سے استمداد کی ایک اہم صورت ہے کیا کوئی دعویٰ اسلام کے بعد یہ کہنے کی جرأت کرسکتا ہے کہ معاذ اللہ غیر اللہ سے استمدادو استعانت کاحکم دے کر اللہ عزوجل نے ناجائز وحرام بلکہ شرک کا حکم دیا ۔لہٰذا ماننا پڑے گا کہ استمدادو استعانت اور توسل ذوات واشخاص کا بھی درست ہے پھر یہ اپنے عموم میں زندہ ووصال یافتہ دونوں کو شامل ہے ۔

احادیث سے استمداد بغیر اللہ کا ثبوت

استمدادو استعانت خواہ اعمال سے ہو یا ذوات واشخاص سے قبل وصال ہو یا بعد وصال اس کا ثبوت کثیر وافر احادیث سے ہے ۔علماء راسخین نے غیراللہ سے استمداد ووسلیہ کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ (۱)عمل صالح سے استمدادوتوسل(۲)نیک اشخاص سے استمداد وتوسل۔

عمل صالح سے استمداد و توسل

اعمال صالحہ سے استمداد وتوسل کے تعلق سے مندرجہ ذیل حدیث پاک سے استدلال بہت معروف ہے جسے امام بخاری نے کتاب الاجارہ میں ،امام مسلم نے کتاب الذکر والدعا والتوبہ والاستغفار ،باب قصۃ اصحاب الغار الثلثۃ میں ذکر فرمایا ہے کہ رسول اللہنے ارشاد فرمایا :

’’تین آدمی جارہے تھے کہ بارش ہونے لگی ان لوگوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی ،غار کے منھ پر ایک چٹان آگئی جس سے غار کا منھ بند ہوگیا ،ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ،اللہ کے لئے جو نیک کام تم نے کیا اس پرغور کرو اور ان اعمال صالحہ کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ سے دُعا مانگو،شاید اللہ عزوجل یہ مصیبت تم سے دور فرمادے ، تو ان تین میں سے ایک نے یہ دعا کی ۔ اے اللہ ! میرے ماں ،باپ بوڑھے تھے ، میری بیوی تھی اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے تھے ،میں ان کے لئے بکریاں چراتا جب میں واپس لوٹتا تو دودھ دُوہتا ،اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے ماں باپ کو دودھ پلاتا ،ایک دن درختوں نے مجھے دور پہونچا دیا تو رات سے پہلے میں لوٹ نہ سکا ،میرے والدین میرے لوٹنے تک سوچکے تھے ،میں نے حسب معمول دودھ دُوہااور ایک برتن میں دودھ لیکر والدین کے سرہانے کھڑا ہوگیا ،ان کو نیند سے بیدار کرنا میں ناپسند کرتا تھا اور ان سے پہلے بچوں کو دودھ پلانا بھی مجھے نا پسند تھا ،باوجودیکہ میرے بچے میرے قدموں کے پاس چیخ رہے تھے ،فجر طلوع ہونے تک میرا اور میرے ماں ،باپ کا یہی حال رہا ،اے اللہ تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا جوئی کے لئے کیا تھا ،تو ہمارے اس غار میں کشادگی کردے کہ ہم اس غار سے آسمان کو دیکھ لیں ،تو اللہ عزوجل نے کچھ کشادگی کردی اور ان تینوں نے اس غار سے آسمان کو دیکھ لیا ۔ پھر دوسرے شخص نے دعا کی اے اللہ ! میری ایک چچا زاد بہن تھی جس سے مجھے بے پناہ محبت تھی جیسا کہ مرد عورت سے محبت کرتا ہے ،میں نے اس سے ملاقات کی درخواست کی ،اس نے انکار کیا اور سودینار کی طلبگار ہوئی ،میں نے بڑی مشقّت سے سو دیناراکٹھا کئے اور اسے لے کر اپنی محبوبہ کے پاس گیا ،جب میں اس کے ساتھ جنسی عمل کرنے بیٹھا تو اس نے کہا ،اے اللہ کے بندے!اللہ سے ڈر اور حرام طریقے سے مہر نہ توڑ،تو میں اسی وقت اس سے علیحدہ ہوگیا ۔ اے اللہ! تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے تیری رضا مندی کے لئے ایسا کیا تھا ،تو ہمارے لئے اس غار کو کچھ کھول دے ،تو اللہ تعالیٰ نے غار کو کچھ کھول دیا ۔اور تیسرے شخص نے کہا ،اے اللہ ! میں ایک شخص کو ایک فرق چاول کی اجرت پر اجیر رکھا تھا ،جب اس نے اپنا کام پورا کرلیا تو کہا میری اجرت دے دو، میں نے اس کو مقررہ اجرت دے دی مگر اس نے اس سے اعراض کیا ،پھر میں ان چاولوں سے کاشت کرتا رہا تاآنکہ اس کی آمدنی سے میں نے گائے اور چرواہے جمع کرلئے ،ایک دن وہ شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا ۔اللہ سے ڈرو اور میرا حق نہ مارو،میں نے کہا جائو اوران گایوں اور چرواہوںکو لے لو ،اس نے کہا اللہ سے ڈرو اور میرے ساتھ مذاق نہ کرو۔میں نے کہا میں تم سے مذاق نہیں کرتا یہ گائے اور چرواہے لے لو ،وہ انہیں لے کر چلا گیا۔ اے اللہ !تجھے یقینا علم ہے کہ میں نے یہ کام تیری رضاجوئی کے لئے کیا تھا ،تو غار کے منھ کا جو حصہ کھلنے سے رہ گیا ہے اسے کھول دے تو اللہ تعالیٰ نے کھول دیا بعض روایتوں میں ہے کہ وہ غار سے نکل کر روانہ ہوگئے ۔ (صحیح المسلم جلد دوم ص ۳۵۳)

ان تینوں آدمی نے اپنے نیک اعمال کے وسیلے سے دعا کی اور وہ دعا بارگاہ ِالٰہی میں قبول ہوئی اور یہ حدیث موقع مدح میں ہے تو اس سے وسیلے کا جواز واستحسان ثابت ہوا ۔

بخاری ونسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی،وہ نبیٔ کریمسے روایت کرتے ہیں۔’’استعینوا بالغدوۃ والروحۃ وشئی من الدجلۃ‘‘صبح کی عبادت سے استعانت کرو ،شام کی عبادت سے استعانت کرو ،کچھ رات کا حصہ باقی ہوتو اس کی عبادت سے استعانت کرو ۔

ابن ماجہ اور حاتم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ نبیٔ کریمﷺ سے کہ فرمایا’’استعینوا بطعام السحر علے صیام النھاروبالقیلولۃ علے قیام اللیل‘‘سحر کے کھانے سے دن کے روزے پر استعانت کرواور دوپہر کے سونے سے قیام لیل پر استعانت کرو۔

ظاہر ہے کہ نہ تو صبح کی عبادت خدا ہے ،نہ شام کی ،نہ سحر کی ،نہ دوپہر کا سونا ۔تو ان سے استمدادو استعانت کا حکم دیا گیا۔ جس سے ثابت ہو کہ غیر اللہ سے استمدادواستعانت جائز وروا، مستحسن ومستحب ہے۔

ذوات واشخاص سے استمداد و توسل

ائمہ دین نے مندرجہ ذیل احادیث کریمہ سے مسئلۂ استمداد واستعانت وتوسل میں استدلال فرمایا ہے ۔حضرت عثمان ابن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت کردہ حدیث ہے،حضورﷺ نے انہیں خود ایک دعا تعلیم فرمائی ۔جس کے الفاظ یہ ہیں’’اللھم انی اسئلک واتوجہ الیک نبیک محمد نبی الرحمہ یامحمد انی اتوجہ بک الی ربی فی حاجتی ھذہٖ لتقضی لی حاجتی ۔اللھم فشفعہ۔ (ترمذی شریف جلد دوم ص ۱۹۷)

’’اے اللہ ! میں تیرے نبی محمد ا جو نبیِ رحمت ہیں۔کے وسیلے سے تجھ سے مانگتا اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، یارسول اللہ !میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اس حاجت میں توجہ کرتا ہوںتاکہ میری حاجت پوری ہو ،الٰہی !حضور کی شفاعت میرے حق میں قبول فرما۔‘‘یہ حدیث صرف امام ترمذی نے اخذ نہیں کی ہے بلکہ امام بخاری نے تاریخ کبیر میں ،ابن ماجہ نے سنن صلوۃ الحاجۃ میں ،نسائی نے عمل الیوم واللیلۃ میں ،ان کے علاوہ دیگر محدثین نے بھی اس کی تخریج فرمائی اور متعدد محدثین نے اس کے صحیح ہونے کی صراحت بھی فرمائی اس حدیث پاک سے صاف ظاہر ہے کہ نبیٔ کریم علیہ الصلاۃ والسلام کو وسیلہ ورابطہ بنا کر قضائے حاجات کے لئے ان سے استمداد واستعانت منصوص ہے ۔ حضرت عثمان بن حنیف کی حدیث میں مذکورہے کہ ایک شخص کو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اہم کام تھا جو پورا نہیں ہورہا تھا ۔وہ حضرت عثمان بن حنیف کے پاس آیا آپ نے نماز حاجت کے سوا مذکورہ دعا ’’اللھم انی اسئلک الخ‘‘کی تعلیم فرمائی ۔ اس طرح اس کی حاجت پوری ہوگئی ،پھر جب اس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف سے ہوئی تو اس نے کہا ’’ جزاک اللہ خیرا ماکان ینظر ولا یلتفت اِلَیَّ حتّٰی کلمتُہ فی‘‘اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے وہ میری طرف التفات کرتے ہی نہ تھے پھر میں نے اپنی ضرورت کے تعلق سے گفتگو کی اور وہ پوری ہوئی ۔ (الترغیب والترہیب جلد اول۔ والخصائص الکبریٰ جلد دوم ؍ص۱ ۲۰)

روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت عثمان بن حنیف نے اس شخص سے کہا کہ ،خلیفۃ المسلمین سے آپ کے بارے میں میری کوئی گفتگو نہیں ہوئی ہے۔بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت مبارکہ میں حاضر تھے ۔ایک نابینا صحابی بھی حاضر بارگاہ ہوئے ،اور اپنی بینائی کے لئے دعاکی درخواست کی ۔حضور ا نے اسے صبر کی تلقین کی ۔مگر وہ اپنی بات پر مصر رہے ۔تو حضورنے انہیں وضو،نماز اور اسی دعا کی تلقین فرمائی ۔ وہ نابینا صحابی دعا کرنے کے لئے گئے ،اور ہم لوگ حضورﷺ کی خدمت میں دیر تک رہے۔ تو ہم نے دیکھا کہ وہ نابینا صحابی حضور کی بارگاہ میں اس حال میں آئے کہ ان کی دونوں آنکھیں بالکل صحیح تھیں۔(وفاء الوفاء جلد چہارم ص۱۳۷۳ للعلامہ السمھودی)

غور فرمائیں کہ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابیٔ رسول ہیں ان حضرات سے بڑھ کر احادیث رسول کو سمجھنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ انہوں نے دعائے حاجت والی حدیث سے یہی سمجھا کہ یہ دعا نبیٔ کریمکی ظاہری زندگی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔حضور سے استمدادو استعانت ،نداء اور پکار ان کی ظاہری زندگی کے بعد بھی خود صحابہ کا معمول ہے ۔پھر حضرت عثمان ابن حنیف کے کہنے پر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آنے والے حاجت مند یا تو صحابی تھے یا کم از کم کبار تابعین میں سے تھے ۔ انہوں نے بلا چون و چرا اس عملِ توسل واستعانت پر عمل کیا جس سے واضح ہے کہ بعد رحلت بھی استمدادووسیلہ ونداء جائز ومستحسن ہیں ……… ربیعہ ابن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں’’کنت أبیت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأتیتہ بوضوئہ وحاجتہ فقال لی سل فقلت اسئلک مرافقتک فی الجنۃ قال أوغیر ذلک قلت ھو ذاک ،قال فاعنی علی نفسک بکثرۃ السجود (رواہ مسلم) (مسلم شریف بحوالہ مشکوٰۃص ۸۴)

’’میں سرکار دوعالمکے ساتھ وہاں رات میں رہتا ۔ ایک دفعہ رات میں آپ کے لئے وضو کا پانی اور دیگر ضرورت کی چیزیں لایا۔ آپ نے فرمایا کہ ربیعہ !مانگ کیا مانگتا ہے ؟۔عرض کی میں حضور سے سوال کرتا ہوں کہ جنت میں حضور کی رفاقت ہو ،فرمایا کچھ اور مانگنا ہے ۔ عرض کی میری مراد تو بس یہی ہے ،فرمایا تو تم اپنے نفس پرمیری مدد زیادہ سجدہ کرکے کرو‘‘۔ مذکورہ حدیث پاک میں وارد دو،تین الفاظ کی طرف قارئین کی توجہ مبذول کرنا چاہتا ہوں۔(۱)ایک تولفظ’’ سَلْ‘‘ ہے(۲)دوسرا’’اسئلک مرافقتک‘‘ یعنی جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال(۱)سَلْ امر کا صیغہ ہے جس میں حضورا نے ربیعہ بن کعب سے مانگنے کو کہا ،اس کا مفعول مذکور نہیں کیونکہ کوئی خاص مفعول یہاں مطلوب نہیں ،تو جس چیز کا بھی مطالبہ ہو وہ صحیح ہوگا۔کہ اس میں نا کسی چیز کی تقید ہے ،نا کسی امر کی تحصیص تو اس سے صاف واضح ہوا کہ حضورا ہر قسم کی حاجت وضرورت پوری فرما سکتے ہیں ،ہر طرح کی مدد کرسکتے ہیں۔(۲)جنت میں حضور کی رفاقت کا سوال خود حضور سے ہی کیا گیا ، جنت میں رفاقت عظیم ترین نعمت ہے۔مگر اس نعمت کے سوال پر حضور نے منع نہ فرمایااور نہ یہ فرمایا کہ ربیعہ یہ شرک ہے ۔بلکہ مزید مانگنے کا مطالبہ فرمایا۔یہ غیر خدا سے مدد مانگنا ہوا ۔(۳)لفظ أعِنِّیْ کا معنی ہی ہے ’’میری مدد واعانت کر ‘‘اسی کو استعانت کہتے ہیں۔تو غیر اللہ سے استعانت ہوئی ۔ اگر یہ تصور توحید کے منافی ہوتا تو حضور ہر گز ارشاد نہ فرماتے۔شیخ محقق اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں’’سل‘‘فرماکر سوال کو مطلق رکھا ،کسی خاص چیز سے مقید نہ فرمایا جس سے معلوم ہوا کہ تمام معاملات حضور کے دست کرم میں ہیں،جوچاہیں ،جس کو چاہیںاپنے رب کے حکم سے عطا کردیں۔ (اشعۃ اللمعات للشیخ عبد الحق ،باب السجود وفضلہ)

شیخ محقق کی یہ تشریح استمداد کو تصور توحید کے منافی قرار دینے والوں کے لئے تا زیانۂ عبرت ہے ۔

قحط میں حضورکے وسیلے سے دعاکرنا

جب اہل مدینہ قحط میں مبتلا ہوگئے اور انہوں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر شکایت کی تو رسول اللہﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی۔تو خوب جم کر بارش ہوئی ۔مدینہ منورہ کے آس پاس کے لوگوں نے حاضر ہوکر عرض کی ہم ڈوب جائیں گے ۔پھر آپ نے دعا کی اور بارش صرف ارد گرد میں ہوئی ۔حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا:’’ولو ادرک ابو طالب ھذا الیوم لسرہ فقال لہ بعض اصحابہ یا رسول اللہ!اردت بقول ؎ وابیض یستقی الغمام بوجھہ ثمال الیتامیٰ عصمۃللارامل

’’ قال نعم‘‘یعنی اگر ابو طالب اس دن کو پاتے تو خوش ہوتے ایک صحابی نے عرض کیا ۔ حضور آپ کااشارہ ان کے اس شعر کی جانب ہے ۔ گورے رنگ والے جن کے چہرے کے وسیلے سے بارش کی دعا مانگی جاتی ہے ۔ یتیموںاور ناداروں کے ماویٰ وملجاء ،فرمایا ہاں۔(السیرۃ النبویہ لابن ھشام ج ۱؍ص ۱۷۹ ۔صحیح البخاری باب الاستقاء اول ص ۱۳۷)

بعد رحلت حضور سے توسل واستعانت

وسیلہ بالانسان کے متعلق بخاری باب الاستقاء میں روایت ہے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ،حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا عمل یہ تھا کہ جب قحط پڑتا تو حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وسیلے سے آپ اللہ سے بارش کا سوال کرتے ۔دعا کے الفاظ یہ ہوتے۔’’اللھم انا کنا نتوسل الیک نبینا صلی اللہ علیہ وسلم فتسقینا وانا نتوسل الیک بعم نبینا فاسقنا قال فیسقون۔ (صحیح البخاری جلد اول ص ۱۳۷)

اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ میں اپنے نبی ا کا وسیلہ لے کر حاضر ہوتے تھے توتو ہمیں سیراب کرتا اور اب ہم اپنے نبی کے چچا کا وسیلہ لیکر آئے ہیں،ہم پر بارش برسا ۔راوی کہتے ہیں تو مینہ برستا‘‘۔

یہ حدیث اس پر واضح دلیل ہے کہ اہل بیت اور بزرگان دین کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ بنانا اور ان کے سہارے مدد طلب کرنا مستحب ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ عمل تمام صحابۂ کرام کے مجمع میں ہوا اور بلا نکیر سب نے اس پر عمل کیا تو توسل واستعانت کے مستحب ہونے پر صحابہ کا اجماع ہوگیا ۔توسل سے یہاں دعاکی درخواست مراد نہیں ،جیسا کہ ابن تیمیہ کے ریزہ خوار کہتے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالا حدیث میں صاف تصریح ہے کہ اے اللہ !ہم اپنے نبی کے چچا کو وسیلہ لاتے ہیں۔ہم پر بارش نازل فرما۔اس کو دعا کی درخواست پر محمول کرنا حدیث کی تحریفِ معنوی ہے۔ابن تیمیہ کے پیرو کاروں کا یہ کہنا ہے کہ اگر بعد رحلت بھی حضور اکرم ا سے تو سل جائز ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عباس سے کیوں وسیلہ لیتے۔دھوکا اور فریب وجہالت ہے کیونکہ کسی چیز کے مختلف طریقوں میں سے کسی ایک طریقہ کو اپنانا دوسرے کی نفی کی دلیل نہیںبلکہ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ بر تر کے ہوتے ہوئے اس سے کم رتبے والے سے بھی وسیلہ لیا جاسکتا ہے ۔پھر یہ کہ حضرت عباس سے توسل میں ایک اہم افادہ مقصود تھا حضور اقدس ا سے توسل واستعانت کا مستحب مستحسن ہونا سب کو معلوم تھا ممکن ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ غیر نبی سے تو سل جائز نہیں تو حضرت عمر نے حضرت عباس کو وسیلہ بنا کر واضح کردیا کہ غیر نبی سے توسل بھی مستحب ہے،بالخصوص رشتۂ نبی ا کا وسیلہ لینا ، حدیث کے الفاظ ’’کنا نتوسل‘‘سے ظاہر ہے کہ یہ تو سل واستعانت صرف عہد رسالت ا کے ساتھ خاص نہ تھا بعد میں بھی صحابہ کا یہ معمول رہا ۔جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وصال کے بعد استمداد ووسیلہ لینا جائز نہیں،وہ در اصل صحیح روایتوں کے منکر ہیں۔چنانچہ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ’’فتح الباری‘‘ میں اور علامہ قسطلانی نے ’’المواھب اللدنیہ‘‘میں مصنف ابن ابی شیبہ کے حوالے سے یہ روایت بیان فرمائی۔ اس کے راوی حضرت عمر کے خازن مالک الدار ہیں ۔وہ کہتے ہیں کہ ’’اصاب الناس قحط فی زمان عمربن الخطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجاء رجل الی قبر النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقال یا رسول اللہ!استق اللہ لامتک فانھم قد ھلکو افاتاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی المنام فقال ائت عمر فاقرئہ السلام واخبرہ انھم یسقون۔ (فتح الباری دوم ،ص ۱۳۷)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں لوگ قحط میں مبتلاء ہوئے تو ایک شخص نبیٔ کریم ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوا ،اور کہا یا رسول اللہا !اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرمائیں ،لوگ ہلاک ہورہے ہیں ۔نبی کریم ا خواب میں ایک شخص کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: عمر سے جاکر عرض کرو کہ عنقریب بارش آئے گی۔بعض لوگوں نے اس شخص کا نام بلال بن حارث مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بتایا ہے۔اس حدیث کو علامہ ابن حجر اور علامہ قسطلانی نے صحیح قرار دیا ہے۔بیہقی نے’’ دلائل النبویہ‘‘ میں یہ حدیث ذکر کیا ہے ۔تو اس حدیث صحیح سے ثابت ہوا کہ وقتا فوقتا صحابۂ کرام حضور ا کے مزار اقدس پر حاضر ہوکر حضورا سے استعانت واستمداد کرتے تھے ۔

منکرین استمداد کے لئے یہ آیت کریمہ کافی ہے۔اللہ عزوجل فرماتا ہے :

’’ولوانھم اذ ظلموا انفسھم جاؤک فاستغفروااللہ واستغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ توابا رحیما۔(سورۃ النساء آیت ۶۴)

اور جب وہ اپنی جانو ںپر ظلم (یعنی گناہ)کرکے تیرے پاس حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور معافی مانگیںان کے لئے رسول تو بیشک اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں گے۔

رسول پاک کی بارگاہ میں حاضری دے کر ان سے معافی مانگنے اور توبہ واستغفار کرنے کا یہ حکم حضور کی حیات ظاہری کے ساتھ خاص نہیں۔بلکہ آپ کے پردہ فرمانے کے بعد بھی یہ حکم جو ں کا تو ںباقی ہے ۔ صحابۂ کرام اور ائمۂ اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے ۔ چنانچہ علامہ نور الدین علی ابن احمد سمہودی اپنی کتاب’’وفاء الوفاء ‘‘ میںفرماتے ہیں :

’’علماء اسلام نے اس آیت کریمہ سے یہی سمجھا ہے کہ یہ حکم حضور اکی ظاہری حیات اور بعد وصال دونوں کو عام ہے اور آپ کی قبر انور پر حاضر ہونے والوں کے لئے اس آیت کریمہ کی تلاوت اور توبہ کرنے اور مغفرت چاہنے کو مستحب قرار دیا ہے‘‘ چنانچہ ذیل میں عہد صحابہ کے دو واقعات بیان کئے جاتے ہیں جن سے علامہ سمہودی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے راسخین کی رائے اور مسلک اہلسنت وجماعت کی تائید ہوتی ہے ۔

(۱)محمد عتبی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہﷺ کی قبر انور کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اعرابی دیہاتی آیا اور وہ السلام علیک یا رسول اللہ کے بعد کہنے لگا ،اے رسولوں میں سب سے بہتر اللہ تعالیٰ نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے ،اور اس میں ارشاد فرمایا ہے جب لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرکے آپ کی بار گاہ میں حاضر ہوں اور اللہ تعالیٰ سے معافی چاہیں اور آپ بھی ان کے لئے سفارش کریں تو اللہ ضرور توبہ قبول فرمائے گا ۔میں آپ کے پاس اپنے گناہوں کی مغفرت کے لئے آیا ہو ں یارسول اللہ! میں آپ کو اپنے رب عزوجل کی بارگاہ میں شفیع بناتاہوں،پھر روتے ہوئے اس نے یہ اشعار پڑھے۔

یا خیرمن دفنت بالقاع أعظمہ

فطاب من طیبھن لاقاع والاکم

نفسی الفداء لقبر انت ساکنہ

فیہ العفاف وفیہ الجود والکرم

’’اے ان تمام لوگوں میں سب سے افضل جو زمین میں دفن کردیئے گئے تو ان کی خوشبو سے چٹیل میدان اور ٹیلے مہک اٹھے ۔میری جان اس قبر پر فدا جس میں آپ آرام فرماہیںجو پاک دامنی اور جود وکرم کا خزانہ ہے‘‘۔راوی کہتے ہیں کہ وہ اعرابی دوبارہ مغفرت طلب کرکے لوٹااتنے میں میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں نبیٔ کریم ا کی زیارت سے مشرف ہوا۔سرکار نے فرمایا:’’یا عتبی الحق الاعرابی فبشرہ بان اللہ تعالیٰ قد غفرلہ۔‘‘ ’’جائو اس اعرابی سے مل کر بتائو کہ اللہ تعالیٰ نے میری سفارش سے اس کی مغفرت فرمادی ہے۔‘‘(رواہ ابن عساکر فی تاریخہ ،الجواہر المنظم لابن حجر الھیتمی ص ۱۵۳)

(۲)دوسری روایت ابو سعید السمعانی کی ہے ۔وہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورﷺ کے وصال کے تین دن بعد ایک اعرابی آپ کی قبر انور پر حاضر ہوئے اور انہوں نے خود کو قبر شریف پر گرا دیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگے اور کہتے جاتے تھے ۔ یارسول اللہ ! جو کچھ آپ نے فرمایا ہم نے سنا اور ہم نے آپ کے بتائے ہوئے کو محفوظ کرلیا یا رسول اللہ! آپ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ’’ولو انھم اذ ظلمواالخ‘‘میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اب میں آپ کی بار گاہ میں حاضر آیا ہوںکہ آپ اپنے رب سے میرے لئے استغفار کریں ۔تو قبر انور سے آواز آئی کہ تیری مغفرت ہوگئی‘‘۔( وفاء الوفاء ،ج ۴، ص ۱۳۶۱، الجواہر المنظم ص ۱۵۵)

ان دونوں روایتوں میں صاف وضاحت ہے کہ آپﷺ کی رحلت کے بعد قبر انور پر حاضر ہوکر استغفار واستمداد واستعانت واستشفاء جائزومستحب ہے اور یہ صحابۂ کرام کا طریقہ ہے۔عہد صحابہ کے بعد کے ائمہ ،علماء واولیاء نے بھی استمداد واستعانت وتوسل کو جائز ومستحسن سمجھا ۔ اس تعلق سے مستند کتابوں میں اتنا کچھ ہے کہ اس کے لئے دفتر در کار ہے ۔ یہاں سید الاولیاء حضرت غوث الثقلین کا ایک ارشاد نقل کیا جارہا ہے ۔ حضور سیدنا غوث اعظم کا یہ ارشاد’’ بہجۃ الاسرار شریف ‘‘میں مذکور ہے ۔’’جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہواور جو کسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے اور دورکعت نماز پڑھے ،ہر رکعت میںبعد فاتحہ کے سورۂ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام پھیر کر نبی اپر درود بھیجے اور مجھے یاد کرے پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے‘‘۔اس طرح بہت سے اقوال حضرت غوث الثقلین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہیں ۔ان کے علاوہ بہت سے بزرگان دین سے اس طرح کے اقوال مروی ہیں۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اولیاء وصلحاء سے استمداد جائز ودرست ہے۔

حضرت شیخ حسن عدوی حمزاوی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں شیخ الاسلام شہاب الدین رملی کا یہ عقیدہ بیان فرمایا۔’’شیخ الاسلام رملی سے پوچھا گیا کہ عوام مصیبت وپریشانی کے وقت یا شیخ فلاں اور اس قسم کے الفاظ کہتے ہیں تو کیا مشائخ کرام وصال کے بعد امداد فرماتے ہیں ؟تو آپ نے جواب دیا کہ انبیاء،اولیاء، صالحین اور علماء سے استغاثہ(فریاد خواہی)جائز ہے۔کیونکہ یہ حضرات وصال کے بعد ایسی ہی امداد فرماتے ہیں ۔جیسی وہ اپنی حیات ظاہری میں امداد فرمایا کرتے تھے کیونکہ انبیاء کے معجزے ، اولیاکی کی کرامتیں ہیں۔ مشارق الانوار ،للشیخ الحسن العدوی الحمزاوی

خاتم الفقہاء علامہ ابن عابدین شامی کی رد المختار کے حاشیہ میں ہے’’زیادی نے یہ بات بہ تحقیق بیان کی ہے، جب کسی انسان کی کوئی چیز گم ہوجائے اور وہ یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز واپس فرمادے تو اسے چاہییٔ کہ کسی بلند جگہ قبلہ رو کھڑا ہو جائے اور سورۂ فاتحہ پڑھ کر اس کا ثواب نبیٔ کریم ا کو پہونچائے پھر سیدی احمد بن علوان کو ایصال ثواب کرے۔’’یا سیدی احمد یا ابن علوان ان لم ترد علی ضالتی والانزعتک من دیوان الاولیاء‘‘یعنی اس طرح کہے یا سیدی احمد اے ابن علوان !اگر آپ نے میری گم شدہ چیز واپس نہ کی تو میں آپ کا نام دفتر اولیاء سے کاٹ دوں گاتو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے کہنے والے کو واپس فرمادے گا۔‘‘رد المختار کتاب اللقطہ ج ۶؍ص ۴۴۷

شاہ عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ ’’فتح العزیز‘‘میں سورئہ فاتحہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ غیراللہ سے استمدادو استعانت اگر بایں طور ہے کہ اس غیراللہ پر کلی اعتماد کرتا ہے اور اسے عون الٰہی کا مظہر نہیں جانتا تو وہ حرام ہے اور اگر التفات تو حق تعالیٰ کی طرف ہے اور غیر اللہ سے استمداد بایں طور ہے کہ اسے مدد الٰہی کا مظہر جانتا ہے جس کو استعانت ظاہری کہتے ہیں یہ شرعا جائز ودرست ہے۔انبیاء ،اولیاء سے اس قسم کی استعانت کی جاتی ہے‘‘۔ فتح العزیز تفسیر سورۂ فاتحہ

الغرض ذوات واشخاص سے استعانت واستمداد بلا شبہ جائز ومستحسن ہے۔کوئی بھی مسلمان انبیاء ،اولیاء ،صلحاء سے استمدادا نہیں مستقل بالذات سمجھ کر نہیں کرتا ہے۔نہ ہی انہیں قادر بالذات سمجھتا ہے بلکہ انہیں قضائے حاجات کا وسیلہ اور وصول فیض کا واسطہ جانتا ہے اور یہ معنیٰ تو غیر خدا ہی کے ساتھ خاص ہے ۔اس استمدادواستعانت کو تصور توحید کے منافی قرار دینا اور مشرک گرداننا توحید اور شرک کے شرعی مفہوم سے جاہل وناواقف رہنے کی بین دلیل ہے۔جیسا کہ ابن تیمیہ اور اس کے ریزہ خوار محمد ابن عبد الوھاب واسماعیل دہلوی نے اسے شرک قرار دیا ہے ۔ہم اوپر عرض کرچکے ہیں کہ پورے عالم کا مسئلہ استمدادپر اجماع واتفاق رہا کہ عہد رسالت سے تقریبا سات سو سال تک کسی کے دل میں یہ خیال بھی نہ گزرا ہوگا کہ انبیاء واولیاء سے استمداد توحید کے منافی عمل ہے۔رہا ابن تیمیہ کا اسے حرام وشرک بتانا تو یہ جمہور اسلام کی مخالفت ہے جسے اس کے دور کے علماء نے اسے مسترد کردیا ہے ۔در اصل ابن تیمیہ اور اس کے متبعین شرک وتوحید کا معنیٰ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ لوگ اس بنیادی نکتہ پر غور نہ کر سکے کہ عہد رسالت کے مشرکین کا اصل شرک کیا تھا ۔اس لئے انہوں نے اپنے خود ساختہ تصور توحید کو اسلامی تصور توحید قراردے دیاحالانکہ اسلامیات کے ماہرین نے اس بات کی خوب صراحت کردی ہے ، کہ عہد رسالت کے مشرکین کا شرک ان کا چند معبود جاننے کا نظریہ تھا اور اللہ سبحانہ کے لئے اولاد ماننے کا عقیدہ تھا اور اپنے خود ساختہ معبودوں کو نظام کائنات کی تدبیر میں خدا کا شریک سمجھناتھا ۔شرک توحید کی ضد ہے۔علامہ عینی نے توحید کا معنیٰ یہ بیان کیا ہے۔ ’’توحید اصل میں وَحَّدَ یُوَحِّدُ کا مصدر ہے اور وَحّدْتُ اللہ َ کے معنیٰ ہیں میں نے اللہ کو اس کی ذات وصفات میں منفرداعتقاد کیا ۔ جس کی نہ تو کوئی نظیر ہے ،نہ ہی اس کی کوئی شبیہ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ توحید نام ہے اللہ کی ذات کے لئے یہ ثابت کرنا کہ وہ دوسری ذات کے مشابہ نہیں ہے اور نہ صفات سے عاری ہے‘‘۔ حاشیہ بخاری جلد دوم ،ص ۱۰۹۶

اسی کے ساتھ ساتھ شرک کا مفہوم بھی ذھن میں بسالیں علامہ سعد الدین تفتازانی شرح عقائد نسفی میں فرماتے ہیں ۔شرک کرنے کے معنیٰ یہ ہیں۔الوہیت بمعنٰی وجوب وجود میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ مجوسیوں کا شرک ہے ۔یا الوہیت بمعنیٰ استحقاق عبادت میں کسی کو خدا کا شریک ثابت کرنا جیسا کہ اصنام پرستوں کا شرک ہے۔ شرح العقائد للنسفی ۶۱ ، مجلس برکات مبارکپور اعظم گڑھ

شرک کی اس تعریف سے بخوبی عیاں ہے کہ خدا کی عطا کردہ قوت امداد مان کر انبیاء اولیا ء سے مدد طلب کرنا ہرگز ہرگز شرک کے خانے میں نہیں آتا …نہ ہوگا کہ دینی و دنیاوی کسی بھی طرح کی مدد کسی غیر اللہ سے چاہنا شرک ٹھہرے گا ۔والعیاذ باللہ ! تو حق وہی ہے جس پر عہد رسالت سے لیکر آج تک مسلمانان عالم کا اجماع ہے ۔بلکہ پچھلی اُمتوں کا بھی کہ قضائے حاجات کے لئے صالحین سے استمدادتصوّرِ توحید کے منافی نہیں ۔

پیشاب سے پرہیز

حدیث نمبر :322

روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنھما سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اﷲ علیہ وسلم دو قبروں پر گزرے تو فرمایا کہ یہ دونوں عذاب دیئے جارہے ہیں اورکسی بڑی چیز میں عذاب نہیں دیئے جارہے ان میں سے ایک تو پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور مسلم کی روایت میں ہے کہ پیشاب سے پرہیز نہ کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا پھرتا تھا پھر آپ نے ایک ہری تر شاخ لی اور اسے چیرکر دو۲ حصے فرمائے پھر ہرقبر میں ایک گاڑ دی لوگوں نے عرض کیا یارسول اﷲ آپ نے یہ کیوں کیا،تو فرمایا کہ شاید جب تک یہ نہ سوکھیں تب تک ان کا عذاب ہلکا ہو ۱؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث بڑے معر کے کی ہے اس سے بے شمار مسائل مستنبط ہوسکتے ہیں جن میں سے چند یہ ہیں:

(۱)حضور کی نگاہ کے لئے کوئی شے آڑ نہیں،کھلی چھپی ہرچیز آپ پر ظاہر ہے کہ عذاب قبر کے اندر ہے حضور قبر کے اوپر تشریف رکھتے ہیں اور عذاب دیکھ رہے ہیں۔

(۲)حضور خلقت کے ہر کھلے چھپے کام کو دیکھ رہے ہیں کہ کون کیا کررہا ہے اور یہ کیا کرتا تھا،فرمادیا کہ ایک چغلی کرتا تھا اور ایک پیشاب سے نہیں بچتا تھا۔

(۳)گناہ صغیرہ پر حشر و قبر میں عذاب ہوسکتا ہے۔دیکھو چغلی وغیرہ گناہ صغیر ہ ہیں مگر عذاب ہورہا ہے۔

(۴)حضور ہر گناہ کا علاج بھی جانتے ہیں،دیکھو قبر پر شاخیں لگائیں تاکہ عذاب ہلکا ہو۔

(۵)قبروں پر سبزہ،پھول،ہار وغیرہ ڈالنا سنت سے ثابت ہے کہ اس کی تسبیح سے مردے کو راحت ہے۔

(۶)قبر پر قرآن پاک کی تلاوت،وہاں حافظ بٹھانا بہت اچھا ہے کہ جب سبزہ کے ذکر سے عذاب ہلکا ہوتا ہے تو انسان کے ذکر سے ضرور ہلکا ہوگا۔اشعۃ اللمعات نے جامع الاصول سے روایت کی کہ حضرت بریدہ صحابی نے وصیت کی تھی میری قبر میں دو ہری شاخیں ڈال دی جائیں تاکہ نجات نصیب ہو۔

(۷)اگرچہ ہرخشک و ترچیزتسبیح پڑھتی ہے مگر سبزے کی تسبیح سے مردے کو راحت نصیب ہوتی ہے۔ایسے ہی بے دین کی تلاوت قرآن کا کوئی فائدہ نہیں کہ اس میں کفر کی خشکی ہے۔مؤمن کی تلاوت مفید ہے کہ اس میں ایمان کی تری ہے۔

(۸)گنہگاروں کی قبر پر سبزہ عذاب ہلکا کرے گا،بزرگوں کی قبروں پر سبزہ مدفون کا ثواب و درجہ بڑھائے گا۔جیسے مسجد کے قدم وغیرہ۔

(۹)حلال جانوروں کا پیشاب نجس ہے جس سے بچنا واجب۔دیکھو اونٹ کا چرواہا اونٹ کے پیشاب کی چھینٹوں سے پرہیز نہ کرنے کی وجہ سے عذاب میں گرفتار ہوا۔

(۱۰)خشک نہ ہونے کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تاثیر صرف حضور کے ہاتھ شریف کی نہ تھی ہم بھی قبر پر سبزہ ڈالیں تو یہی تاثیر ہوگی۔

(۱۱)بزرگوں کے قبرستان میں قدم رکھنے کی برکت سے وہاں عذاب اٹھ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے۔(مرقاۃ)

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏

ترجمہ:

مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں کیوں کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ‘ اور اس لیے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے سو نیک عورتیں فرماں بردار ہیں۔ مردوں کے پس پشت اللہ کی توفیق سے حفاظت کرنے والی ہیں۔ اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو ، اور ان کو (تادیبا) مارو ‘ پس اگر وہ تمہاری فرماں برداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ‘ بیشک اللہ نہایت بلند بہت بڑا ہے، A

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ 

قرآن مجید سے عورتوں کی حاکمیت کا عدم جواز : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض فضیلت دی ہے اور اس شان نزول یہ تھا کہ بعض عورتوں نے یہ کہا تھا کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے وراثت میں ان کا حصہ دگنا رکھا گیا حالانکہ ہم صنف ضعیف ہیں اس لئے ہمارا زیادہ حصہ ہونا چاہیے تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اس کا جواب دیا ہے کہ مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے اور اس لئے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے۔ 

قوام کا معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

قوام کا معنی ہے کسی چیز کو قائم کرنے والا اور اس کی حفاظت کرنے والا۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ٤١٦‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران) 

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

مرد عورت کا قوام ہے یعنی اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اس کا خرچ برداشت کرتا ہے۔ (لسان العرب ج ١٢ ص ٥٠٣‘ مطبوعہ نشرادب الحوذۃ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ تاج العروس ج ٩ ص ٣٥) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

الرجال قوامون کا معنی یہ ہے کہ جس طرح حاکم رعایا پر اپنے احکام نافذ کرتا ہے اسی طرح مرد عورتوں پر احکام نافذ کرتے ہیں ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ نبوت ‘ رسالت حکومت ‘ امامت ‘ اذان اقامت اور تکبیرات تشریق وغیرہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جمل میں ہوسکتا تھا کہ میں اصحاب جمل کے ساتھ لاحق ہوجاتا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرتا ‘ اس موقع پر مجھے اس حدیث نے فائدہ پہنچایا جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا جب اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا حاکم بنا لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح (اخروی) نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤٢٥‘ ٧٠٩٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٣‘ صحیح ابن حبان ج ١٠ ص ٤٥١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥١‘ ٤٧‘ ٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠ ص ١١٨۔ ١١٧ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ ص ٢٦٦‘ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٢٥۔ ٥٢٤‘ مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٠٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے حکام نیک ہوں ‘ تمہارے اغنیاء سخی ہوں ‘ اور تمہاری حکومت باہمی مشورہ سے ہو ‘ تو تمہارے لئے زمین کے اوپر کا حصہ اس کے نچلے حصہ سے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدکار ہوں ‘ اور تمہارے اغنیاء بخیل ہوں ‘ اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لئے زمین کا نچلا حصہ اس کے اوپر کے حصہ سے بہتر ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٧٣) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کو فتح کی خوش خبری سنائی اور یہ بھی بتایا کہ دشمن کی سربراہی ایک عورت کر رہی تھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں تو وہ تباہ اور برباد ہوجائیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (حافظ ذہبی نے بھی اس حدیث کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ ) (المستدرک ج ٤ ص ٢٩١) 

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں فقہاء اسلام کی آراء :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٣ ص ١٨٣‘ مطبوعہ ایران) 

امام حسین بن مسعود بغوی شافعی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : 

امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت حکومت یا انتظامیہ کی سربراہ یا قاضی نہیں بن سکتی ‘ کیونکہ سربراہ مملکت کو جہاد قائم کرنے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور قاضی کو مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت واجب الستر ہے اس کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ (شرح السنۃ ج ١٠ ص ٧٧‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جمہور فقہاء اسلام نے حضرت ابوبکرہ کی حدیث کی بناء پر عورت کے قاضی بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے ‘ علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن معاملات میں عورت شہادت دے سکتی ہے وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٤ ص ‘ ٢٠٤ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ جمہور فقہاء اسلام نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کو منصب قضاء سونپنا جائز نہیں ہے اور علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ عورت کی قضاء مطلقا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٥٦‘ مطبوعہ لاہور) 

ہر چند کہ علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے یہ لکھا ہے کہ علامہ طبری نے بعض امور میں اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز قرار دیا ہے لیکن اول تو یہ ثابت نہیں ‘ اور ثانیا ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ ‘ احادیث صحیحہ ‘ اسلام کے عمومی احکام اور جمہور فقہاء اسلام کی تصریحات کے سامنے ان اقوال کی کوئی وقعت نہیں ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ علامہ طبری اور بعض مالکیہ نے عورت کی عمومی سربراہی کو جائز نہیں کہا بلکہ بعض امور میں عورت کی صرف قضاء کو جائز کہا ہے۔ 

علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے بغیر کسی ثبوت کے علامہ طبری اور بعض مالکیہ کی طرف عورت کی قضاء کے جواز کی نسبت کردی ‘ حقیقت یہ ہے کہ علامہ طبری اور مالکی فقہاء دونوں اس تہمت سے بری ہیں ‘ علامہ ابوبکر ابن العربی مالکی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

حضرت ابوبکرہ کی روایت کردہ حدیث میں تصریح ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی اور اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے البتہ علامہ محمد بن جریر طبری سے یہ منقول ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا قاضی ہونا جائز ہے لیکن انکی طرف اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ ان کی طرف اس قول کی نسبت ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ کی طرف یہ غلط منسوب کردیا گیا ہے کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ نیز 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ بن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں : 

عورت سربراہی کی اس لئے اہل نہیں ہے کہ حکومت اور سربراہی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے قومی معاملات کو سلجھایا جائے ملت کی جائے اور مالی محاصل حاصل کرکے ان کی مستحقین میں تقسیم کیا جائے اور یہ تمام امور مرد انجام دے سکتا ہے عورت یہ کام انجام نہیں دین سکتی کیونکہ عورت کے لئے مردوں کی مجالس میں جانا اور ان سے اختلاط کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اگر وہ عورت جوان ہے تو اس کی طرف دیکھنا اور اس سے کلام کرنا حرام ہے اور اگر وہ سن رسیدہ عورت ہے تب بھی اس کا بھیڑ بھاڑ میں جانا مخدوش ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ١٤٥٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

ملکہ بلقیس کی حکومت سے استدلال کا جواب : 

قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے واقعے کا جس قدر ذکر ہے اس میں اس کی حکومت کے خاتمہ کا ذکر ہے ‘ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اس کی حکومت کے تسلسل کا ذکر نہیں ہے لہذا اس واقعہ میں عورت کی سربراہی کا ادنی جواز بھی موجود نہیں ہے اور اگر بالفرض بلقیس کے اسلام لانے کے بعد اس کی حکومت کو ثبوت ہو بھی تو وہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے۔ 

جنگ جمل کے واقعہ سے عورت کی سربراہی پر استدلال کا جواب : 

بعض متجدد علماء جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی شرکت سے عورت کی سربراہی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں لیکن یہ استدلال قطعا باطل ہے اول تو حضرت عائشہ (رض) امارت اور خلافت کی مدعیہ نہیں تھیں ہاں وہ امت میں اصلاح کے قصد سے اپنے گھر سے باہر نکلیں لیکن یہ ان کی اجتہادی خطا تھی اور وہ اس پر تاحیات نادم رہیں ‘ امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ (رض) (آیت) ” وقرن فی بیوتکن “ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو “ کی تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ (طبقات کبری ج ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دار صادر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّالۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ۚ كِتٰبَ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ‌ۚ وَاُحِلَّ لَـكُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰ لِكُمۡ اَنۡ تَبۡتَـغُوۡا بِاَمۡوَالِكُمۡ مُّحۡصِنِيۡنَ غَيۡرَ مُسَافِحِيۡنَ‌ ؕ فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِهٖ مِنۡهُنَّ فَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ فَرِيۡضَةً‌ ؕ وَلَا جُنَاحَ عَلَيۡكُمۡ فِيۡمَا تَرٰضَيۡـتُمۡ بِهٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡـفَرِيۡضَةِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا حَكِيۡمًا

ترجمہ:

اور (تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں تو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک بن جاؤ‘ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں ‘ کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو ‘ درآں حالیکہ تم ان کو قلعہ نکاح کی حفاظت میں لانے والے ہو نہ کہ محض عیاشی کرنے والے ہو ‘ پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی ہے، تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو ‘ (یہ اللہ کا کیا ہوا) فرض ہے ‘ اور مہر مقرر کرنے کے بعد جس (کمی بیشی) پر تم باہم راضی ہوگئے اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ بیشک اللہ خوب جاننے والا بہت حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اور تم پر حرام کی گئی ہیں) وہ عورتیں جو دوسروں کے نکاح میں ہوں مگر (کافروں کی) جن عورتوں کے تم مالک ہوجاؤ یہ حکم تم پر اللہ کا فرض کیا ہوا ہے۔ (النساء : ٢٤ )

جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کی تحقیق :

میدان جنگ میں جو کافر قید ہوجائیں ان کو غلام بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور جو کافر عورتیں مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوں اور قید ہوجائیں انکو باندیاں بنالیا جاتا ہے اور امیر لشکر ان کو مجاہدین میں تقسیم کردیتا ہے اور ان باندیوں کے ساتھ ان کے مالک بغیر نکاح کے مباشرت کرسکتے ہیں۔ مخالفین اسلام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام میں انسانوں کو غلام اور باندیاں بنایا جاتا ہے اور یہ شرف انسان کے خلاف ہے بلکہ تذلیل انسانیت ہے۔ اس اعتراض کی وجہ اس مسئلہ سے ناواقفیت ہے۔ جنگی قیدیوں کے ساتھ روس ‘ جرمنی اور یورپی ممالک میں جو وحشیانہ مظالم کئے جاتے رہے اور ان سے جو جبری مشقتیں لی جاتی رہیں۔ اس کے مقابلہ میں اسلام نے غلاموں اور باندیوں کے ساتھ جس حسن سلوک کی ہدایت دی ہے اور ان کو آزاد کرنے پر جو اجر وثواب کی بشارتیں دی ہیں یہ ان ہی کا نتیجہ ہے کہ آج دنیا سے لونڈی اور غلاموں کا چلن ختم ہوگیا ‘ نیز یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اسلام نے یہ لازمی طور پر نہیں کہا کہ جنگی قیدیوں کو لونڈیاں اور غلام بنایا جائے بلکہ اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ ان کو بلافدیہ آزاد کردیا جائے یا جسمانی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردیا جائے یا ان کو لونڈی اور غلام بنالیا جائے چونکہ اس زمانہ میں جنگی قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنانے کا رواج تھا ‘ اس لئے مسلمانوں کو یہ اجازت دی کہ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنائیں تو تم بھی مکافات عمل کے طور پر ان کے قیدیوں کو لونڈی اور غلام بنا سکتے ہو۔ اگر وہ تمہارے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلے میں آزاد کریں تو تم بھی ان کے قیدیوں کو مالی فدیہ کے بدلہ میں آزاد کردو ‘ اور اگر وہ تمہارے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کریں تو تم بھی ان کے جنگی قیدیوں سے اپنے قیدیوں کا تبادلہ کرلو اور اگر وہ تبرع اور احسان کرکے تمہارے جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ چھوڑ دیں مسلمان مکارم اخلاق اور تبرع اور احسان کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ اور اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا لقیتم الذین کفروا فضرب الرقاب حتی اذا اثخنتموھم فشدوا الوثاق فاما منا بعد واما فدآء حتی تضع الحرب اوزارھا “۔ (محمد : ٤) 

ترجمہ : جب تم کافروں سے نبرد آزما ہو تو ان کی گردنیں اڑا دو ‘ یہاں تک کہ جب تم ان کو خوب قتل کرچکو تو (جو زندہ گرفتار ہوں ان کو مضبوطی سے قید کرلو پھر یا تو ان پر محض احسان کرکے ان کو آزاد کردو یا ان سے (مالی یا بدنی) فدیہ لے کر ان کو آزاد کردو۔ 

اور اگر کافر مسلمانوں کے جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنائیں تو مکافات عمل کے طور پر انکے جنگی قیدیوں کو بھی لونڈی اور غلام بنانا جائز ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” وجزآء سیئۃ سیئۃ مثلھا “۔ (الشوری : ٤٠ )

ترجمہ : برائی کا بدلہ تو اس کی مثل برائی ہے۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ اسلام نے لازمی طور پر جنگی قیدیوں کو لونڈی یا غلام بنانے کی ہدایت نہیں دی ہے۔ 

ہم نے قرآن مجید کی آیت سے یہ بیان کیا ہے کہ جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ یا مالی یا جانی فدیہ لے کر آزاد کرنا اسلام میں جائز ہے اب ہم اس پر احادیث سے دلائل پیش کر رہے ہیں مکہ جنگ سے فتح ہوا تھا اور تمام اہل مکہ جنگی قیدی تھے پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امتنانا ان کو آزاد کردیا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو ابوسفیان کے گھر میں داخل ہوگیا اس کو امان ہے اور جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا اس کو امان ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٨٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٧٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٢٩٢‘ ٥٣٨‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٤ ص ٤٧٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ١١٨‘ مطولا ومختصرا) 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ روایت کرتے ہیں ؛ 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کعبہ کے دروازہ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا لا الا اللہ وحدہ لاشریک لہ “۔ اللہ نے اپنے وعدہ کو سچا کیا۔ اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور صرف اسی نے تمام لشکروں کو شکست دی ‘ سنو زمانہ جاہلیت کی ہر زیادتی ‘ ہر خون اور ہر مال آج میرے قدموں کے نیچے ہے یہاں کعبہ کی چوکھٹ اور حجاج کی سبیل پر ‘ اے قریش کی جماعت ! اللہ نے تم سے زمانہ جاہلیت کے تکبر اور باپ دادا پر فخر کو دور کردیا ہے ‘ تمام انسان آدم سے پیدا کئے گئے ہیں اور آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔ آپ نے فرمایا جاؤ تم سب آزاد ہو۔ (مختصرا) (السیرۃ النبویہ لابن ہشام علی ہامش الروض الانف ج ٢ ص ٢٧٤‘ مطبوعہ مطبعہ فاروقیہ ملتان ١٣٩٧ ھ ‘ سبل الہدی والرشاد ج ٥ ص ٢٤٢) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨ ھ نے اس خطبہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٩ ص ١١٨‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان) 

مالی فدیہ کے بدلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر رہا فرمایا تھا۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگی قیدیوں کے متعلق فرمایا اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور وہ مجھ سے ان بدبوداروں (قیدیوں) کے متعلق سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان سب کو آزاد کردیتا۔ 

(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨٩‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٥٥٨‘ مسند ابویعلی ‘ رقم الحدیث : ٧٤١٦‘ شرح السنہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩ ص ٦٧‘ مسند احمد ج ٤ ص ٨٠‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١٥٠٦) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ بدر کے دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فدیہ لے کر (قیدیوں کو) آزاد کردیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٠) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنگ بدر کے دن اہل جاہلیت کے لئے چار سو (درہم) فدیہ مقرر فرمایا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩١) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے لئے فدیہ کی رقم بھیجی تو حضرت زینب (رض) نے ابو العاص کے فدیہ کے لئے جو مال بھیجا اس میں وہ ہار بھی تھا جو حضرت خدیجہ (رض) نے انکی ابو العاص سے شادی کے موقع پر ان کو دیا تھا ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ہار کو دیکھا تو آپ پر شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ نے فرمایا : اگر تم لوگ مناسب سمجھو تو اس کے قیدی کو (بلامعاوضہ) آزاد کردو اور ان کا ہار ان کو واپس کردو۔ صحابہ نے کہا ٹھیک ہے ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو العاص سے وعدہ لے لیا یا اس نے از خود وعدہ کیا تھا کہ وہ حضرت زینب (رض) کو آپ کو آپ کے پاس بھیج دے گا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زید بن حارثہ اور ایک انصاری (رض) کو بھیجا اور فرمایا تم بطن یا جج میں ٹھہرنا حتی کہ تمہارے پاس سے (حضرت) زینب گزریں وہ دونوں حضرت زینب کو حضور کے پاس لے کر آئے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٢‘ المستدرک ج ٣ ص ٢٣‘ مسند احمد ج ٦ ص ٢٧٦) 

علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی ٩٤٢ ھ لکھتے ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدر کے قیدیوں کا چار سو درہم فدیہ مقرر کیا تھا ‘ عباس نے کہا ان کے پاس کوئی مال نہیں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو وہ مال کہاں ہے جس کو تم نے اور ام الفضل نے زمین میں دفن کیا تھا اور تم نے کہا تھا کہ اگر میں اس مہم میں کام آگیا تو یہ مال میرے بیٹوں فضل ‘ عبداللہ اور قثم کے لئے ہوگا۔ عباس نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے جس کا میرے اور ام الفضل کے سوا کسی کو پتہ نہیں تھا۔ 

امام بخاری اور بیہقی نے حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ بعض انصار نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اپنے بھتیجے عباس سے فدیہ نہ لیں ‘ آپ نے فرمایا۔ نہیں بخدا تم ان میں سے ایک درہم بھی نہ چھوڑنا۔ آپ نے بعض سے چار ہزار فدیہ لیا بعض سے دو ہزار ‘ بعض سے ایک ہزار اور بعض پر احسان کر کے ان کو بلافدیہ آزاد کردیا۔ 

اہل مکہ کو لکھنا آتا تھا اور اہل مدینہ کو لکھنا نہیں آتا تھا ‘ جس اہل مکہ کے پاس مال نہیں تھا آپ نے ان کا یہ فدیہ مقرر کیا کہ وہ مدینہ کے دس لڑکوں کو لکھنا سکھائیں اور جب وہ لڑکے لکھنے میں ماہر ہوگئے تو وہ آزاد کردیئے گئے ‘ حضرت زید بن ثابت نے بھی ان ہی سے لکھنا سیکھا تھا۔ (سبل الہدی والرشاد ج ٤ ص ٦٩‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤) 

مسلمانوں قیدیوں سے تبادلہ میں جنگی قیدی آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تبادلہ میں بھی قیدیوں کو آزاد کیا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمران بن حصین بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ بنو ثقیف بنو عقیل کا حلیف تھا۔ ثقیف نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ میں سے دو شخصوں کو قید کرلیا تھا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ نے بنو عقیل کے ایک شخص کو گرفتار کرلیا اور اس کے ساتھ عضباء اونٹنی کو بھی پکڑ لیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کے پاس گئے درآں حالیکہ وہ بندھا ہوا تھا اس نے کہا اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے اس سے پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا حجاج کی اونٹنیوں پر سبقت کرنے والی اونٹنی کیوں پکڑی گئی ؟ یعنی عضباء ‘ اور آپ نے مجھے کس جرم میں پکڑا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں نے تم کو تمہارے حلیف ثقیف کے بدلہ میں پکڑا ہے پھر آپ چلے گئے اس نے کہا یا محمد ‘ یامحمد ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مہربان اور رقیق القلب تھے ‘ آپ لوٹ آئے اور پوچھا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں نے مسلمان ہوں ! آپ نے فرمایا اگر تو گرفتار ہونے سے پہلے یہ کہتا تو مکمل طور پر کامیاب ہوتا آپ چلے گئے اس نے پھر آواز دی اور کہا یا محمد یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے فرمایا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا میں بھوکا اور پیاسا ہوں مجھے کھانا اور پانی دیجئے آپ نے اس کی حاجت پوری کی ‘ پھر اس کو ان دو مسلمانوں کے بدلہ میں آزاد کردیا گیا جن کو ثقیف نے پکڑا تھا۔ (صحیح مسلم “ رقم الحدیث : ١٦٤١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣١٦‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٥٩‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ٥٣٩٥‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٤٠‘ ٤٣٣‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٧٢‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٤ ص ١٨٨‘ المعجم الکبیر للطبرانی ج ١٨ ص ٤٥٣) 

حضرت سلمہ بن اکوع (رض) بیان کرتے ہیں ہیں کہ ہم نے قبیلہ فزارہ کے خلاف جہاد کیا۔ اس جہاد میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو ہمارا امیر بنایا تھا جب ہمارے اور پانی کے درمیان کچھ دیر کی مسافت رہ گئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں حکم دیا کہ ہم رات کے آخری حصہ میں اتریں ‘ پھر ہر طرف سے حملہ کا حکم دیا گیا ‘ اور ہم ان کے پانی پر پہنچے اور جس جگہ کو قتل کرنا تھا اس کو قتل کیا اور قید کیا ‘ میں کفار کے ایک گروہ کو دیکھ رہا تھا جس میں کفار کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے یہ خطرہ ہوا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیار مارا جب انہوں نے تیر کو دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کرلے آیا ‘ ان میں فزارہ کی ایک عورت تھی جس نے چمڑے کی کھال کو منڈھ رکھا تھا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی تھی جو عرب کی حسین ترین دوشیزہ تھی ‘ میں ان سب کو پکڑ کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس لے آیا حضرت ابوبکر (رض) نے وہ لڑکی مجھے انعام میں دے دی ‘ ہم مدینہ پہنچے ابھی میں نے اس لڑکی کے کپڑے بھی نہ اتارے تھے کہ میری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بازار میں ملاقات ہوئی آپ نے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے ہبہ کردو ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ خدا کی قسم یہ لڑکی مجھے بہت پسند ہے اور میں نے ابھی تک اس کا لباس بھی نہیں اتارا اگلے دن میری پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو تمہارا باپ بہت اچھا تھا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! خدا کی قسم ! یہ آپ کی ہے میں نے اس لڑکی کا لباس تک نہیں اتارا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وہ لڑکی اہل مکہ کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں کئی مسلمان قیدیوں کو چھڑا لیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٥‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٤٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٠‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٦‘ ٥١ سنن بیہقی ج ٩ ص ١٢٩) 

جنگی قیدیوں کو احسانا بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق احادیث : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بلامعاوضہ بھی جنگی قیدیوں کو آزاد کیا ہے فتح مکہ کے بعد اہل مکہ کو طلقاء (آزاد) قرار دینے اور جنگ بدر کے بعض جنگی قیدیوں کو بلامعاوضہ آزاد کرنے کی ہم اس سے پہلے احادیث سے مثالیں ذکر کرچکے ہیں بعض مزید احادیث ملاحظہ فرمائیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجد کی طرف حملہ کرنے کے لئے گھوڑے سواروں کی ایک جماعت بھیجی ‘ صحابہ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو گرفتار کرکے لائے جس کا ثمامہ بن اثال تھا اور اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور آپ نے فرمایا ثمامہ کو کھول دو ‘ ثمامہ مسجد کے قریب ایک درختت کے پاس گیا اس نے غسل کیا پھر مسجد میں داخل ہوا اور کہا : ” اشھد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمد رسول اللہ “۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ایضا “۔ : ٤٦٩‘ ٢٤٢٢‘ ٢٤٢٣‘ ٤٣٧٢) 

امام مسلم نے اس حدیث کو بہت تفصیل سے روایت کیا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧٦٤) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

مروان بن الحکم اور مسور بن مخرمہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوازن کے مسلمانوں کا وفد آیا اور انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ انہیں (مال غنیمت میں ان سے لئے ہوئے) اموال اور ان کے جنگی قیدی واپس کردیں آپ نے فرمایا میرے نزدیک سب سے اچھی بات وہ ہے جو سب سے سچی ہو تم دو میں سے ایک چیز کو اختیار کرلو جنگی قیدی یا مال ‘ اور میں تم کو غور کے لئے مہلت دیتا ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طائف سے واپس آنے کے بعد دس سے زیادہ راتوں تک ان کا انتظار کیا جب ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو دو میں سے صرف ایک چیز واپس کریں گے تو انہوں نے کہا ہم اپنے جنگی قیدیوں کو اختیار کرتے ہیں ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی شان کے مطابق اس کی حمد وثناء کی پھر فرمایا تمہارے یہ مسلمان بھائی تمہارے پاس رجوع کرتے ہوئے آئے ہیں اور میری رائے یہ ہے کہ ان کے قیدی ان کو واپس کر دوں تم میں سے جو شخص طیب خاطر سے ایسا کرسکتا ہے وہ کر دے ‘ اور جو یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ اسکے پاس رہے تو جب اس کے بعد سب سے پہلے مال غنیمت حاصل ہوگا ہم اس کو اس کا حصہ واپس کردیں گے۔ مسلمانوں نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر خوشی سے ایسا کرتے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہمیں پتا نہیں چلا کہ تم میں سے کس شخص نے خوشی سے اجازت دی اور کسی نے خوشی سے اجازت نہیں دی تم واپس جاؤ اور اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کرو۔ انہوں نے اپنے اپنے کار مختار سے مشورہ کیا اور پھر آکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم خوشی سے اجازت دیتے ہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣١٣٢۔ ٣١٣١‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٣) 

جنگی قیدیوں کو مال کے بدلہ آزاد کرنے ‘ جنگی قیدیوں کے بدلہ آزاد کرنے ‘ اور بلامعاوضہ آزاد کرنے کے متعلق ہم احادیث بیان کی ہیں، اب ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلہ کے متعلق فقہاء کی آراء بھی بیان کردیں :

جنگی قیدیوں کو آزاد کرنے کے متعلق فقہاء اسلام کی آراء : 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ھمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوحنیفہ (رح) سے ایک روایت یہ ہے کہ جنگی قیدیوں سے فدیہ نہ لیا جائے قدوری اور صاحب ہدایہ کا یہی مختار ہے ‘ اور امام ابوحنیفہ سے دوسری روایت یہ ہے کہ ان سے فدیہ لیا جائے۔ امام ابویوسف ‘ امام محمد ‘ امام شافعی ‘ امام مالک اور امام احمد کا بھی یہی قول ہے، مگر عورتوں کا فدیہ لینے میں ان کا اختلاف ہے اور امام احمد نے بچوں کا بھی فدیہ لینے سے منع کیا ہے ‘ اور سیر کبیر میں مذکور ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا فدیہ لیا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کی ظاہر روایت یہی ہے ‘ امام ابویوسف نے کہا کہ مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے ان کا فدیہ لیا جائے۔ امام ابوحنیفہ کے پہلے قول کی دلیل یہ ہے کہ اگر جنگی قیدی کافروں کو لوٹا دیئے گئے تو وہ ان کی قوت اور مسلمانوں کے لئے ضرر کا باعث ہوں گے اور دوسرے قول اور تمام ائمہ کے قول کی دلیل یہ ہے کہ جنگی قیدی کو قتل کرنے یا اس کو غلام بنانے سے زیادہ بہتر یہ ہے کہ اس کے بدلہ میں مسلمان قیدی کو کافروں سے چھڑا لیا جائے کیونکہ مسلمانوں کی حرمت بہت عظیم ہے ‘ اور جنگی قیدی کو ان کے حوالے کرنے سے مسلمانوں کو ضرر پہنچنے کی جو دلیل دی گئی ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جب اس کے بدلہ میں ہمارا مسلمان قیدی ہمارے پاس آجائے گا تو اس ضرر کا توڑ ہوجائے گا اور یہ معاملہ برابر برابر ہوجائے گا اس کے علاوہ ایک مسلمان کو کافروں کی قید سے چھڑانے کی فضیلت اور اس کو اللہ کی عبادات کرنے کا موقع فراہم کرنا اس پر مستزاد ہے اور جب کہ یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سے بھی ثابت ہے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ٤٦١‘ درالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

کافر جنگی قیدی کو مسلمان قیدی کے بدلہ میں آزاد کیا جائے یا مال کے بدلہ میں ‘ قول مشہور کے مطابق پہلی صورت جائز نہیں ہے لیکن ضرورت کے وقت اس میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ سیر کبیر میں ہے۔ امام محمد نے فرمایا جب ان قیدیوں سے نسل متوقع نہ ہو جیسے شیخ فانی پھر بھی ان کے تبادلہ میں کوئی حرج نہیں ہے (الاختیار) قیدیوں کے تبادلہ میں اختلاف ہے لیکن محیط میں مذکور ہے کہ ظاہر الروایہ کے مطابق یہ جائز ہے اس کی پوری بحث قہستانی میں ہے ‘ اور زیلعی نے سیر کبیر سے نقل کیا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا ظاہر قول جواز ہے۔ فتح القدیر میں ہے کہ امام ابو یوسف اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے اور ائمہ ثلاثہ سے بھی یہی منقول ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی یہی ثابت ہے صحیح مسلم وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مسلمانوں قیدیوں کا دو مشرک قیدیوں سے تبادلہ کیا اور ایک عورت کے بدلہ میں مکہ میں قید بہت سے مسلمانوں کو آزاد کرایا (ہدایہ ‘ قدوری) اور دیگر متون میں جو مذکور ہے قیدیوں سے فدیہ لینا جائز نہیں ہے اس سے مراد مالی فدیہ ہے جب ضرورت نہ ہو اور ضرورت کے وقت مالی فدیہ لینا بھی جائز ہے اور مسلمان قیدیوں سے تبادلہ بھی جائز ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٢٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

کیا بغیر نکاح کے لونڈیوں سے مباشرت کرنا قابل اعتراض ہے : 

عام طور سے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بغیر نکاح لونڈیوں سے مباشرت کرنا ایک غیر اخلاقی فعل ہے حالانکہ اسلام اس کو روارکھا گیا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کے بعد بیویوں سے مباشرت کرنا اور ان کے جسم پر خواہی نخواہی مالکانہ تصرف کرنا کیونکر اخلاقی فعل ہوگیا ؟ نکاح کی حقیقت صرف یہ ہے کہ دو مسلمان گواہوں کے سامنے ایک عورت خود یا اس کا وکیل کہے کہ میں اس شخص کے ساتھ اتنے مہر کے عوض خود کو یا اپنی موکلہ کو نکاح میں دیتا ہوں اور مرد کہے میں نے قبول کیا ‘ اور امام مالک کے نزدیک گواہوں کا ہونا بھی شرط نہیں ہے کسی مجمع عام میں ایجاب و قبول کرلیا جائے تو نکاح ہوجاتا ہے آخر ایجاب و قبول کے ان کلمات میں کیا تاثیر ہے کہ ایک عورت بالکلیہ مرد پر حلال ہوجاتی ہے ؟ 

اصل واقعہ یہ ہے کہ محض ایجاب و قبول سے عورت مرد پر حلال نہیں ہوتی بلکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے حلال ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ نے نکاح کی اس خاص صورت میں عورتوں کو مردوں پر حلال کردیا ہے ورنہ تنہائی میں اگر عورت اور مرد ایجاب و قبول کے یہی کلمات کہہ لیں تو وہ ایک دوسرے پر حلال نہیں ہیں، بلکہ نکاح کے بعد بھی بیوی کے ساتھ مباشرت کرنا مطلقا حلال نہیں ہے۔ حیض اور نفاس کے ایام میں اللہ تعالیٰ نے اس کو بیوی سے مباشرت کی اجازت نہیں دی ہے اس لئے ان ایام میں بیوی سے مباشرت کرنا مرد کے لئے جائز نہیں ہے ‘ اس سے واضح ہوگیا کہ عورت کے مرد پر حلال ہونے کا سبب نکاح نہیں ہے اللہ تعالیٰ کی اجازت ہے ‘ اگر اللہ تعالیٰ نکاح کی صورت میں اجازت دے تو بیویاں شوہروں پر حلال ہوجاتی ہیں اور اگر اللہ ملک یمین کی صورت میں اجازت دے تو باندیاں مالکوں پر حلال ہوجاتی ہیں ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد وہ قابل اعتراض نہیں اسی طرح اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد یہ بھی قابل اعتراض نہیں ہے۔ 

اب ہم آپ کے سامنے وہ آیات پیش کرتے ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ نے باندیوں کو مالکوں پر حلال کردیا ہے بشرطیکہ اس کا باندی ہونا شرعا صحیح ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ اوماملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣) 

ترجمہ : اگر تم کو یہ اندیشہ ہو کہ تم ایک سے زیادہ بیویوں میں عدل نہیں کرسکو گے تو ایک بیوی پر قناعت کرو یا اپنی باندیوں پر اکتفاء کرو۔ 

(آیت) ” والمحصنات من النسآء الا ما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٢٤) 

ترجمہ : دوسروں کی بیویاں تم پر حرام ہیں البتہ تمہاری باندیاں تم پر حرام نہیں۔ 

(آیت) ” والذین ھم لفروجھم حافظون، الا علی ازواجھم اوماملکت ایمانھم فانھم غیرملومین، (المؤمنون : ٥۔ ٦‘ المعارج : ٣٠۔ ٢٩) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں البتہ اپنی بیویوں اور باندیوں سے مباشرت کرنے میں ان پر ملامت نہیں ہے۔ 

ان کے علاوہ قرآن مجید میں اور بھی بہت سی آیات ہیں جن میں باندیوں کے ساتھ مباشرت کی اجازت دی گئی ہے۔ اب صرف ایک بات رہ جاتی ہے کہ عقد نکاح میں عورت اپنے اختیار سے یہ عقد کرتی ہے جب کہ جب باندی کو ہبہ کیا جاتا ہے یا اس کو فروخت کیا جاتا ہے تو اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنے کی پاداش میں بطور سزا اس کا یہ اختیار سلب کرلیا گیا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب سے دنیا میں لونڈی اور غلام بنانے کا رواج ہوا لونڈیوں کے ساتھ یہی معاملہ روا رکھا گیا ہے اس لئے اگر کافر مسلمانوں کے ساتھ یہ معاملہ کریں تو ان کے ساتھ بھی عمل مکافات کے طور پر یہی معاملہ روا رکھا گیا ‘ لیکن جو شخص کسی باندی کے ساتھ مباشرت کرتا ہے اور اس سے اولاد ہوجاتی ہے تو وہ اس کی حقیقی اولاد اور اس کی وارث ہوتی ہے اور وہ باندی ام ولد ہوجاتی ہے اور اس شخص کے مرنے کے بعد وہ آزاد ہوجاتی ہے ‘ اسلام نے غلامی کے رواج کو ختم کرنے کے لئے بہت اقدامات کئے ہیں اور غلاموں کو آزاد کرنے کے لئے بہت بشارتیں دیں ہیں ‘ ہم انشاء اللہ النساء : ٣٦ میں اس کو تفصیل سے بیان کریں گے اور اس کے نتیجہ میں اب دنیا سے غلامی کا چلن ختم ہوگیا ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے علاوہ سب عورتیں تم پر حلال کی گئی ہیں کہ تم اپنے مال (مہر) کے عوض ان کو طلب کرو۔ (النساء : ٢٤ )

مہر کے مال ہونے پر دلیل : 

اس آیت میں امام اعظم ابوحنیفہ کی یہ دلیل ہے کہ مہر مال ہوتا ہے۔ بعض شوافع اس کا یہ جواب دیتے ہیں کہ چونکہ عرف عام میں مال کو مہر قرار دیا جاتا ہے اس لئے یہاں مال کا ذکر کیا گیا ہے اور صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت سہل بن سعد (رض) سے یہ حدیث مروی ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہبہ کردیا ایک شخص نے جب دیکھا کہ آپ کو اس حاجت نہیں تو اس نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا آپ اس سے میرا نکاح کر دیجئے۔ جب اس شخص کو مہر کے لئے کچھ نہ مل سکا تو آپ نے اس سے پوچھا تمہیں کتنا قرآن یاد ہے اس نے کہا مجھے فلاں فلاں سورت یاد ہے آپ نے فرمایا تمہیں جو قرآن یاد ہے اس کے سبب سے میں نے تمہارا اس سے نکاح کردیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ تعلیم قرآن بھی مہر ہوسکتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تعلیم قرآن مہر کا بدل نہیں ہے آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے میں نے قرآن مجید کی تعظیم کی وجہ سے تمہارا اس سے نکاح کردیا اور اس شخص پر مہر مثل واجب تھا اس پر تفصیلی بحث ہم اس سے پہلے کرچکے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر جن عورتوں سے (نکاح کرکے) تم نے مہر کے عوض تمتع کیا ہے (لذت حاصل کی ہے) تو ان عورتوں کو ان کا مہر ادا کردو۔ (النساء : ٢٤ )

جواز متعہ پر علماء شیعہ کے دلائل : 

مشہور شیعہ مفسر ابو علی فضل بن الحسن الطبرسی من القرن السادس لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مراد نکاح المتعہ ہے اور یہ وہ نکاح ہے جو مہر معین سے مدت معین کے لئے کیا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ‘ سدی ‘ ابن سعید اور تابعین کی ایک جماعت سے یہی مروی ہے ‘ اور ہمارے اصحاب امامیہ کا یہی مذہب ہے اور یہی واضح ہے کیونکہ لفظ استمتاع اور تمتع کا لفظی معنی نفع اور لذت حاصل کرنا ہے لیکن عرف شرع میں وہ اس عقد معین کے ساتھ مخصوص ہے۔ خصوصا جب اس لفظ کی عورتوں کی طرف اضافت ہو اس بناء پر اس آیت کا یہ معنی ہوگا جب تم ان سے متع کرلو تو ان کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کو اس کی اجرت دے دو ‘ اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماع کے بعد مہر کو واجب نہیں کیا بلکہ متعہ کے بعد مہر کو واجب کیا ہے اور حضرت ابی بن کعب ‘ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس آیت کی اس طرح قرات کی ہے : 

(آیت) ” فما استمتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن “۔ 

ترجمہ : جب تم نے مدت معین تک ان سے استمتاع (متعہ) کیا تو ان کو ان کی اجرت (مہر) دے دو ۔ 

اور اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اس آیت میں آیت میں استمتاع سے مراد عقد متعہ ہے۔ 

حکم نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) سے روایت کیا ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہیں کرتے تو کسی بدبخت کے سوا کوئی زنا نہیں کرتا ‘ اور عطا نے حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد اور حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت عمر کے عہد میں متعہ کیا ہے۔ نیز اس آیت میں لفظ استمتاع سے مراد متعہ ہے نہ کہ جماع اور انتفاع ‘ اس پر دلیل یہ ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو ان کو ان کا مہر ادا کردو تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے۔ اس پر مزید تائید یہ ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دو متعہ (متعہ نکاھ اور تمتع بالحج) حلال تھے اور میں ان سے منع کرتا ہوں اور تمتع بالحج بالاتفاق منسوخ نہیں ہے تو پھر تمتع بالنکاح بھی منسوخ نہیں ہوگا۔ (مجمع البیان ج ٣ ص ‘ ٥٣۔ ٥٢ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ‘ ایران ‘ ١٤١١ ھ) 

علماء شیعہ کے نزدیک متعہ کے فقہی احکام : 

شیخ ابو جعفر محمد بن یعقوب کلینی متوفی ٣٢٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو عمیر کہتے ہیں کہ میں نے ہشام بن سالم سے متعہ کا طریقہ پوچھا انہوں نے کہا تم یوں کہو اے اللہ کی بندی میں اتنے پیسوں کے عوض اتنے دنوں کے لئے تم سے متعہ کرتا ہوں ‘ جب وہ ایام گزر جائیں گے تو اس کو طلاق ہوجائے گی اور اس کی کوئی عدت نہیں ہے۔ (الفروع من الکافی ج ٥ ص ٤٥٦‘ ٤٥٥‘ مطبوعہ درالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٢٦ ھ) 

شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوسی متوفی ٤٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

منصور صیقل بیان کرتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) نے فرمایا مجوسی (آتش پرست) عورت سے متعہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے (الاستبصار ج ٣ ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالاسلامیہ طہران ‘ ١٣٦٥ ھ) 

زرارہ کہتے ہیں کہ ابوعبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا گیا کہ کیا متعہ صرف چار عورتوں سے کیا جاسکتا ہے ؟ انہوں نے کہا متعہ اجرت کے عوض ہوتا ہے خواہ ہزار عورتوں سے کرلو۔ (الاستبصارج ٣ ص ١٤٧) 

عمر بن حنظہ بیان کرتے ہیں کہ متعہ میں فریقین کے درمیان میراث نہیں ہوتی (الاستبصارج ٣ ص ١٥٣) 

شیخ ابو جعفر محمد بن علی بن حسین قمی متوفی ٣٨١ ھ لکھتے ہیں : 

محمد بن نعمان نے ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے پوچھا کم از کم کتنی چیز کے عوض متعہ ہوسکتا ہے انہوں نے کہا دو مٹھی گندم سے۔ تم اس سے کہو کہ میں تم سے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے مطابق متعہ کرتا ہوں تو نکاح ہے زنا نہیں ہے اس شرط پر کہ نہ میں تمہارا وارث ہوں اور نہ تم میری وارث ہو ‘ نہ میں تم سے اولاد کا مطالبہ کروں گا ‘ یہ نکاح ایک مدت متعین تک ہے پھر اگر میں نے چاہا تو میں اس مدت میں اضافہ کر دوں گا اور تم بھی اضافہ کردینا۔ (من لایحضرہ الفقیہہ ج ٣ ص ٢٤٩‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران ‘ ١٣٦١ ھ) 

شیخ روح اللہ خمینی متعہ کے احکام بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : 

(٢٤٢١) متعہ والی عورت اگرچہ حاملہ ہوجائے خرچ کا حق نہیں رکھتی۔ 

(٢٤٢٢) متعہ والی عورت (چار راتوں میں سے ایک رات) ایک بستر پر سونے اور شوہر سے ارث پانے اور شوہر بھی اس کا وارث بننے کا حق نہیں رکھتا۔ 

(٢٤٢٣) متعہ والی عورت کو اگرچہ علم نہ ہو کہ وہ اخراجات اور اکٹھا سونے کا حق نہیں رکھتی تب بھی اس کا عقد صحیح ہے اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی شوہر پر کوئی حق نہیں رکھتی۔ (توضیح المسائل اردو ‘ ٣٦٩‘ ٣٦٨‘ مطبوعہ سازمان تبلیغات) 

علماء شیعہ کے جواز متعہ پر دلائل کے جوابات :

علماء شیعہ نے ” الی اجل مسمی “ کی قرات سے متعہ کے جواز پر جو استدلال کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ قرات شاذہ ہے قرآن مجید کی جو قرات متواتر ہے حتی کہ شیعہ کے قرآن میں بھی جو قرات مذکورہ ہے اس میں یہ الفاظ موجود نہیں ہیں اس لئے قرات متواترہ کے مقابلہ میں اس قرات سے استدلال درست نہیں ہے۔ 

اس پر اتفاق ہے کہ جنگ خیبر سے پہلے متعہ حلال تھا پھر جنگ خیبر کے موقعہ پر متعہ کو حرام کردیا گیا ‘ پھر فتح مکہ کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ حلال کیا گیا تھا اور اس کے بعد اس کو دائما حرام کردیا گیا۔ حضرت ابن عباس (رض) متعہ کے جواز کے قائل تھے لیکن اخیر عمر میں انہوں نے اس سے رجوع کرلیا تھا اور جب حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ آپ نے متعہ کے جواز کا فتوی دیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا میں نے یہ فتوی نہیں دیا میرے نزدیک متعہ خون ‘ مردار اور خنزیر کی طرح حرام ہے اور یہ صرف اضطرار کے وقت حلال ہے ‘ یعنی جب نکاح کرنا ممکن نہ ہو اور انسان کو غلبہ شہوت کی وجہ سے زنا کا خطرہ ہو ‘ لیکن اخیر عمر میں حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے بھی رجوع کرلیا اور یہ جو بعض روایات میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر (رض) کے عہد میں متعہ کیا جاتا تھا حتی کہ حضرت عمر (رض) نے اس سے منع کردیا اس کا جواب یہ ہے کہ جن لوگوں تک متعہ کی حرمت نہیں پہنچی تھی وہ متعہ کرتے تھے حضرت عمر نے ان کو تبلیغ کردی تو وہ متعہ سے باز آگئے۔ حضرت عمر (رض) نے متعہ کو حرام نہیں کیا نہ یہ ان کا منصب ہے انہوں نے صرف متعہ کی حرمت بیان کی ہے جیسے اور دیگر احکام شرعیہ بیان کئے ہیں اور حضرت علی (رض) نے جو فرمایا کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ سے منع نہ کرتے تو کوئی بدبخت ہی زنا کرتا ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت عمر (رض) متعہ کی حرمت کو قرآن اور حدیث سے واضح نہ کرتے اور متعہ کی ممانعت پر سختی سے عمل نہ کراتے تو زنا بالکل ختم ہوجاتا۔ 

صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ‘ حضرت جابر ‘ حضرت سلمہ بن اکوع اور حضرت بہرہ بن معبد جہنی (رض) سے اباحت متعہ کے متعلق احادیث ہیں۔ لیکن کسی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ وطن میں متعہ کی اجازت دی گئی ہو ‘ ان تمام احادیث میں یہ مذکور ہے کہ سفر میں متعہ کی اجازت دی گئی تھی۔ جہاں ان صحابہ کی بیویاں نہیں تھیں جب کہ وہ گرم علاقے تھے اور عورتوں کے بغیر ان کا رہنا مشکل تھا۔ اس وجہ سے جہاد کے موقعہ پر ضرورتا متعہ کی اجازت دی گئی حضرت ابن ابی عمر (رض) کی روایت میں یہ تصریح ہے کہ ابتداء اسلام میں ضرورت کی بناء پر متعہ کی اجازت تھی جیسے ضرورت کے وقت مردار کا کھانا مباح ہوتا ہے فتح مکہ کے موقع پر متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس تحریم کو دہرایا گیا ہم ان تمام امور پر باحوالہ احادیث پیش کریں گے۔ 

شیخ طبرسی نے لکھا ہے کہ اگر اس آیت کا یہ معنی ہو کہ جن عورتوں سے تم نے مہر کے عوض لذت حاصل کی یعنی جماع کیا ہے تو انکا مہر ادا کردو ‘ تو اس سے لازم آئے گا کہ بغیر جماع کے مہر واجب نہ ہو، حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ غیر مدخولہ کا بھی نصف مہر واجب ہوتا ہے ‘ یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ اس آیت میں حصر کا کوئی لفظ نہیں ہے کہ تم صرف اسی عورت کا مہرادا کرو جس سے تم نے جماع کیا ہو۔ 

حرمت متعہ پر قرآن مجید سے دلائل : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث وربع فان خفتم الا تعدلوا فواحدۃ وما ملکت ایمانکم “۔ (النساء : ٣)

ترجمہ ؛ جو عورتیں تم کو پسند ہیں ان سے نکاح کرو ‘ دو دو سے تین تین سے اور چار چار سے اور اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ ان کے درمیان انصاف نہیں کرسکوگے تو صرف ایک نکاح کرو یا اپنی کنیزوں پر اکتفاء کرو۔ 

یہ آیت سورة نساء سے لی گئی ہے جو مدنی سورت ہے اور ہجرت کے بعد نازل ہوئی ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قضاء شہوت کی صرف دو جائز صورتیں بیان فرمائی ہیں کہ وہ ایک سے چار تک نکاح کرسکتے ہیں ‘ اور اگر ان میں عدل قائم نہ رکھ سکیں تو پھر اپنی باندیوں سے نفسانی خواہش پوری کرسکتے ہیں اور بس ! اگر متعہ بھی قضاء شہوت کی جائز شکل ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ان دو صورتوں کے ساتھ ذکر فرما دیتا اور اس جگہ متعہ کا بیان نہ کرنا ہی اس بات کا بیان ہے کہ وہ جائز نہیں ہے۔ اوائل اسلام سے لے کر فتح مکہ تک متعہ کی جو شکل معمولی اور مباح تھی اس آیت کے ذریعہ اس کو منسوخ کردیا گیا۔ 

شیعہ حضرات کو اگر شبہ ہو کہ اس آیت میں لفظ نکاح متعہ کو بھی شامل ہے لہذا نکاح کے ساتھ متعہ کا جواز بھی ثابت ہوگیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح کی حد صرف چار عورتوں تک ہے اور متعہ میں عورتوں کی تعداد کے لئے کوئی قید نہیں ہے۔ اس کی مزید تفصیل یہ ہے کہ نکاح اور متعہ دو الگ الگ حقیقتیں ہیں نکاح میں عقد دائمی ہوتا ہے اور متعہ میں عقد عارضی ہوتا ہے نکاح میں منکوحات کی تعداد محدود ہے اور متعہ میں ممنوعات کی کوئی حد نہیں۔ نکاح میں نفقہ ‘ سکنی ‘ نسب اور میراث لازم ہوتے ہیں اور ایلاء ظہار ‘ لعان اور طلاق عارض ہوتے ہیں اور متعہ میں ان میں سے کوئی امر لازم نہیں ہے نہ عارض۔ لہذا نکاح اور متعہ دو متضاد حقیقتیں ہیں اور نکاح سے متعہ کا ارادہ غیر معقول ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 24

وَالّٰتِىۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ مِنۡ نِّسَآٮِٕكُمۡ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّنۡكُمۡ‌ ۚ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِى الۡبُيُوۡتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰٮهُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 15

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالّٰتِىۡ يَاۡتِيۡنَ الۡفَاحِشَةَ مِنۡ نِّسَآٮِٕكُمۡ فَاسۡتَشۡهِدُوۡا عَلَيۡهِنَّ اَرۡبَعَةً مِّنۡكُمۡ‌ ۚ فَاِنۡ شَهِدُوۡا فَاَمۡسِكُوۡهُنَّ فِى الۡبُيُوۡتِ حَتّٰى يَتَوَفّٰٮهُنَّ الۡمَوۡتُ اَوۡ يَجۡعَلَ اللّٰهُ لَهُنَّ سَبِيۡلًا

ترجمہ:

اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں تو ان کے خلاف اپنے چار (مسلمان) مردوں کی گواہی طلب کرو ‘ پس اگر وہ گواہی دے دی تو ان (عورتوں) کو گھروں میں مقید رکھو حتی کہ انھیں موت آجائے ‘ یا اللہ ان کے لیے کوئی (اور) راہ پیدا کر دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں۔ (النساء : ١٥)

عورتوں کی بدکاری پر ابتدائی سزا کا بیان : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا تھا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کی بدکاری پر انہیں سزا دینے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی درحقیقت ان کے ساتھ حسن سلوک ہے کیونکہ سزا ملنے کے بعد جب وہ بدکاری سے باز آجائیں گی تو آخرت کی سزا سے بچ جائیں گی ‘ دوسری وجہ یہ بتلانا ہے کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کا معنی یہ نہیں ہے کہ انہیں بےحیائی کے لئے بےلگام چھوڑ دیا جائے اور تیسری وجہ یہ بتانا ہے کہ احکام شرعی اعتدال پر مبنی ہیں ‘ ان میں افراط اور تفریط نہیں ہے نہ یہ کہ عورت کو بالکل دبا کر رکھا جائے اور اس کے حقوق سلب کر لئے جائے اور نہ یہ کہ اسے بالکل آزاد چھوڑ دیا جائے اور اس کی بےراہ روی پر بھی اس سے محاسبہ اور مواخذہ نہ کیا جائے۔ 

جمہور مفسرین نے یہ کہا ہے کہ اس آیت میں بدکاری سے مراد زنا ہے کیونکہ جب عورت کی طرف زنا کی نسبت کی جائے تو اس کا ثبوت اسی وقت ہوتا ہے جب اس کے خلاف چار مسلمان مرد گواہی دیں۔ اسلام میں ابتداء اس کی یہ سزا تھی کہ ایسی عورت کو تاحیات گھر میں قید کردیا جائے یا اللہ ان کے لئے کوئی اور راہ پیدا کردے ‘ اور وہ راہ یہ ہے کہ کنواری عورت کو سو کوڑے لگائے جائیں اور شادی شدہ کو رجم کردیا جائے اور اس راہ کا بیان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں فرمایا ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبادہ بن صامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجھ سے لو ‘ مجھ سے لو ‘ اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے لئے راہ پیدا کردی ‘ اگر کنوارہ مرد کنواری عورت کے ساتھ زنا کرے تو سو کوڑے لگاؤ اور ایک سال کے لئے شہر بدر کردو اور اگر شادی شدہ مرد شادی شدہ عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو ان کو سو کوڑے لگاؤ اور ان کو سنگسار کردو۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٦٩٠‘ سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٤٣٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٥٥٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢٢٢‘ صحیح ابن حبان ج ٠ ا ‘ ص ٤٤٢٥) 

جمہور مفسرین کے نزدیک یہ آیت اس وقت منسوخ ہوگئی جب زنا کی حد کے احکام نازل ہوگئے اور ابومسلم اصفہانی کے نزدیک یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی ان کے نزدیک عورتوں کی بدکاری یا بےحیائی کے کام سے مراد زنا نہیں ہے بلکہ اس سے مراد عورتوں کا اپنی جنس کے ساتھ لذت حاصل کرنا ہے ‘ لیکن ابو مسلم اصفہانی کا یہ قول اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی نے یہ تفسیر نہیں کی اور یہ اس حدیث کے خلاف ہے کہ اللہ نے عورتوں کے لئے راہ پیدا کردی۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٦٧ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو ان کے خلاف اپنے چار (مسلمان آزاد) گواہ طلب کرو۔ 

حدود میں عورتوں کی گواہی نامعتبر ہونے کے دلائل : 

مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ حدود میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں ہوتی۔ 

(امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥ ھ ‘ روایت کرتے ہیں :

زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے بعد دونوں خلیفوں کے زمانہ میں یہ سنت تھی کہ حدود میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں۔ 

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ حدود میں عورتوں کی گواہی جائز نہیں۔ 

عامر بیان کرتے ہیں کہ حدود میں عورتوں کی شہادت جائز نہیں۔ 

سفیان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حماد سے سنا ہے کہ حدود میں عورتوں کی شہادت جائز نہیں۔ 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حدود میں عورت کی گواہی جائز ہے نہ غلام کی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٠ ص ٦٠۔ ٥٩‘ مصنف عبدالرزاق ج ٧ ص ٣٣٠۔ ٣٢٩) 

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ اس مسئلہ میں امت کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ 

زنا کے ثبوت کے لئے چار مسلمان آزاد مردوں کی گواہی ضروری قرار دی ہے تاکہ زنا کے ثبوت کے لئے بار ثبوت سخت ہو زنا کے ثبوت کے لئے یہ کڑی شرط اس لئے عائد کی گئی ہے تاکہ لوگوں کی عزتیں محفوظ رہیں اور کوئی شخص دو جھوٹے گواہ پیش کر کے کسی کو بلاوجہ متہمم نہ کرسکے ‘ اگر کوئی شخص چار مسلمان گواہ پیش نہ کرسکا تو اس پر حد قذف لگے گی جو اسی (٨٠) کوڑے ہیں اور جس نے کسی کو زنا کرتے ہوئے دیکھا اور اس پر چار گواہ نہ ہوں تو بندوں کا پردہ رہے گا ‘ یا اس لئے کہ زنا کا ارتکاب مرد اور عورت کرتے ہیں اور ہر دو کو سزا ملتی ہے اس لئے اس میں چار گواہ مقرر کئے گئے تاکہ ہر ایک کے حق میں دو دو گواہ ہوں اور نصاب شہادت مکمل ہوجائے لیکن یہ کوئی قوی وجہ نہیں ہے۔ 

حد زنا میں چار مردوں کی گواہی پر اعتراض کا جواب : 

چار مرد گواہوں کی شرط پر بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ مثلا لڑکیوں کے ہوسٹل میں ایک لڑکی کی جبرا اور ظلما عصمت دری کی گئی اور موقع پر صرف لڑکیاں ہیں یا کسی صورت میں کوئی بھی نہیں ہے وہ لڑکی کیسے انصاف حاصل کرے گی ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ سزا اس وقت دی جاتی ہے جب قانونی تقاضے پورے ہوں مثلا اگر جنگل میں جہاں کوئی نہ وہاں کوئی شخص کسی کو قتل کردے تو گواہ نہ ہونے کی وجہ سے قاتل کو سزا نہیں ملے گی ایسی صورتوں میں مجرم دنیاوی سزا سے تو بچ جائے گا لیکن اخروی سزا کا مستحق ہوگا۔ 

کیا زانی کے خلاف استغاثہ کرنے والی لڑکی پر حد قذف لگے گی ؟ 

ایک وحشت زدہ کنواری لڑکی جس کا لباس تار تار اور خون آلود ہے روتی اور آنسو بہاتی ہوئی پولیس کے پاس پہنچتی ہے اور کہتی ہے کہ فلاں شخص نے اس کے ساتھ زنا بالجبر کیا ہے۔ اس شخص کو فورا موقع واردات پر گرفتار کرلیا جاتا ہے اور میڈیکل رپورٹ سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اس لڑکی سے دخول کیا گیا ہے اور اس شخص کی منی اس لڑکی کے اندام نہانی میں موجود ہے تو اب سوال یہ ہے کہ اس قرینہ کی وجہ سے اس شخص پر زنا کی حد لازم ہوگی یا بغیر چار مرد گواہوں کے اس شخص کی طرف زنا کی نسبت کرنے کی وجہ سے اس لڑکی پر حد قذف لگائی جائے گی ؟ اس کا حل یہ ہے کہ ثبوت زنا کے لئے یقینا یہ قوی قرینہ ہے لیکن اس شخص پر حد لگانے کے بجائے اس کو تعزیرا سزا دی جائے جیسا کہ فقہاء شراب کی بو کی بناء پر شراب کی حد تو جاری نہیں کرتے لیکن تعزیرا سزا دیتے ہیں ‘ باقی رہایہ سوال کہ بغیر چار مرد گواہوں کے کسی شخص کی طرف زنا کی نسبت کرنا قذف ہے اور اس کو تہمت لگانا ہے اس لئے اس لڑکی پر حد قذف لگنی چاہیے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قذف اس وقت ہوگا جب کوئی شخص کسی کو متہم اور بدنام کرنے کی حیثیت سے مسلمانوں میں ایک فحش بات کو پھیلانے کی غرض سے اس پر زنا کی تہمت لگائے ‘ اس کے علاوہ اگر کسی غرض صحیح کی وجہ سے کوئی شخص کسی کی طرف زنا کی نسبت کرے تو یہ قذف نہیں ہے مثلا ایک شخص حاکم کے سامنے اعتراف جرم کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اس لئے مجھ پر حد جاری کی جائے۔ اب اس کے اعتراف سے اس پر تو زنا کی حد لازم ہوجائے گی لیکن اس کے اعتراف سے اس عورت پر اس وقت تک حد لازم نہیں ہوگی جب تک کہ وہ عورت خود اعتراف نہ کرے اور اس شخص نے جو اعتراف جرم کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور اس عورت کی طرف زنا کی نسبت کی ہے یہ قذف نہیں ہے ‘ اور نہ ان کلمات سے اس شخص پر حد قذف لازم ہوگی کیونکہ ان کلمات سے اس شخص کا مقصود اپنے جرم کا اعتراف کرنا ہے نہ کہ کسی کو بدنام اور متہم کرنا مقصود ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں سے جو دو شخص بےحیائی کا ارتکاب کریں تو تم ان کو اذیت پہنچاؤ پس اگر وہ توبہ کرلیں تو ان سے درگزر کرو۔ 

” دو شخصوں کی بےحیائی “ کی تفسیر میں متعدد اقوال : 

اس آیت کی تفسیر میں اختلاف ہے بعض مفسرین نے کہا اس سے مراد کنوارہ مرد اور کنواری عورت ہے اور اس سے پہلی آیت میں شادی شدہ عورتیں مراد تھیں اس کی دلیل یہ ہے :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سدی نے کہا اس آیت میں کنواری لڑکیاں اور کنوارے لڑکے مراد ہیں جن کا نکاح نہیں ہوا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر وہ بےحیائی کا ارتکاب کریں تو ان کو (مار پیٹ سے) ایذا پہنچاؤ۔ ابن زید کا بھی یہی قول ہے۔ 

بعض نے کہا پہلی آیت میں زنا کار عورتیں مراد تھیں اور ان کو مار پیٹ سے ایذا پہنچاؤ‘ اس کی دلیل یہ ہے کہ مجاہد نے اس کی تفسیر میں کہا ہے اس آیت سے زناہ کرنے والے مرد مراد ہیں ‘ اور بعض نے کہا اس آیت میں مرد اور عورت دونوں مراد ہیں خواہ وہ کنوارے ہوں یا شادی شدہ ان کی سزا یہ ہے کہ ان کو مار پیٹ کر ایذا پہنچائی جائے یہ عطا اور حسن بصری کا قول ہے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٢٠٠‘ مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

ایذاء پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ ان کو اس بےحیائی پر ملامت کی جائے اور ڈانٹ ڈپٹ کی جائے اور مار پیٹ کی جائے۔ حسن بصری کا قول یہ ہے کہ عورتوں کو پہلے ملامت کی جائے اور مارا جائے اور پھر گھروں میں قید کردیا جائے اور اس آیت کا حکم مقدم ہے اور اس سے پہلی والی آیت کا حکم موخر ہے ‘ بہرحال جمہور مفسرین کے نزدیک ان دونوں آیتوں کا حکم سورة نور سے منسوخ ہوگیا جس میں کنواروں کے لئے زنا کی حد سو کوڑے بیان کی گئی ہے اور احادیث متواترہ سے جن میں شادی شدہ زانیوں کی حد رجم (سنگسار کرنا) بیان کی گئی ہے البتہ ابو مسلم کے نزدیک پہلی آیت سے مراد وہ عورتیں ہیں جو اپنی جنس کے ساتھ شہوانی لذت حاصل کرتی ہیں اور دوسری آیت سے مراد وہ مرد ہیں جو ایک دوسرے سے عمل قوم لوط (اغلام) کرکے لذت حاصل کرتے ہیں۔ ابو مسلم کے نزدیک یہ دونوں آیتیں منسوخ نہیں ہیں لیکن یہ قول ضعیف ہے کیونکہ صحابہ کرام اور فقہاء تابعین نے عمل قوم لوط کی حرمت پر اس آیت سے استدلال نہیں کیا تاہم چونکہ یہاں اغلام کی بحث آگئی ہے اس لئے ہم اغلام کی حرمت پر قرآن مجید اور احادیث سے دلائل کا ذکر کریں گے۔

اغلام کی حرمت پر قرآن مجید کی آیات : 

(آیت) ” ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ ماسبقکم بہا من احد من العلمین، انکم لتاتون الرجال شہوۃ من دون النسآء بل انتم قوم مسرفون “۔ (الاعراف : ٨١۔ ٨٠) 

ترجمہ : لوط کو بھیجا جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم ایسی بےحیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کی، بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے نفسانی خواہش پوری کرتے ہو بلکہ تم (انسانیت کی) حد سے تجاوز کرنے والے ہو۔ rnّ (آیت) ” ولوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون، ائنکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النسآء بل انتم قوم تجھلون “۔ (النمل : ٥٥۔ ٥٤ )

ترجمہ : اور لوط کو (یاد کیجئے) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا تم (آپس میں) دیکھتے ہوئے بےحیائی کرتے ہو، بیشک تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے نفسانی خواہش پوری کرتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔ rnّ (آیت) ” وامطرنا علیم مطرا فسآء مطرالمنذرین “۔ (النمل : ٥٨) 

ترجمہ : اور ہم نے ان پر پتھرروں کی بارش کی سو جو لوگ ڈرائے ہوئے تھے ان پر کیسی بری بارش ہوئی۔ rnّ (آیت) ” فلما جآء امرنا جعلنا عالیھا سافلھا وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منضود، مسومۃ عندربک وماھی من الظالمین ببعید “۔ (ھود : ٨٣۔ ٨٢) 

ترجمہ : اور جب ہمارا عذاب آپہنچا تو ہم نے (قوم لوط کی) بستی کے اوپر کے حصہ کو نچلا حصہ کردیا اور ہم نے ان پر لگا تار کنکر پتھر برسائے جو آپ کے رب کی طرف سے نشان زدہ تھے ‘ اور پتھر برسانے کی یہ سزا ظالموں کے لئے مستعبد نہیں ہے۔ 

اغلام کی حرمت پر احادیث اور آثار : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کا مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خوف ہے وہ قوم لوط کا عمل (اغلام ‘ مرد کا اپنی جنس کے ساتھ بدفعلی کرنا) ہے۔ (یہ حدیث حسن ہے) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٤٥٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٦٣‘ المستدرک صحیح الاسناد : ج ٤ ص ٣٥٧) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو تم قوم لوط کا عمل کرتے ہوئے دیکھو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردو۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٤٥٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٥٦١‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٣٨٦) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو لوگ عہد شکنی کرتے ہیں ان میں قتل (عام) ہوجاتا ہے اور جن لوگوں میں بےحیائی پھیل جاتی ہے اللہ تعالیٰ ان میں موت کو مسلط کردیتا ہے اور جو لوگ زکوۃ نہیں دیتے ان سے بارش کو روک لیا جاتا ہے۔ یہ حدیث امام مسلم کی شرح کے مطابق صحیح ہے۔ (المستدرک ج ٢ ص ١٢٦‘ امام ذہبی نے بھی اس حدیث کی موافقت کی ہے) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے سات آدمیوں پر سات آسمانوں کے اوپر سے لعنت کرتا ہے ‘ اور ان میں سے ایک شخص پر تین بار لعنت کرتا ہے اور ہر ایک پر ایسی لعنت کرتا ہے جو اس کو کافی ہوگی۔ فرمایا : جو قوم لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے ‘ جو قوم لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے جو قوم لوط کا عمل کرے وہ ملعون ہے ‘۔ جو غیر اللہ کے لئے ذبح کرے وہ ملعون ہے ‘ جو کسی جانور سے بدفعلی کرے وہ ملعون ہے ‘ جو شخص ماں باپ کی نافرمانی کرے وہ ملعون ہے ‘ جو شخص ایک عورت اور اس کی بیٹی کو نکاح میں جمع کرے وہ ملعون ہے ‘ جو شخص زمین کی حدود میں تبدیلی کرے وہ ملعون ہے ‘ جو شخص اپنے مولا کے غیر کی طرف منسوب ہو وہ ملعون ہے ‘ (محرزبن عارون کے سوا اس حدیث کی سند صحیح ہے جمہور کے نزدیک وہ ضعیف ہے ‘ لیکن امام ترمذی نے اس کی حدیث کو حسن کہا ہے ‘ حاکم نے اس حدیث کو کہا یہ صحیح الاسناد ہے) (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٨٤٩٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چار آدمی اللہ کے غضب میں صبح کرتے ہیں اور اللہ کے غضب میں شام کرتے ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کون ہیں ؟ فرمایا : وہ مرد جو عورت کی مشابہت کریں اور وہ عورتیں جو مردوں کی مشابہت کریں اور جو شخص جانوروں سے بدفعلی کرے اور جو مرد ‘ مرد سے بدفعلی کرے۔ 

اس حدیث کے ایک راوی محمد بن سلام خزاعی کی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت غیر معروف ہے ‘ امام بخاری نے کہا اس حدیث میں اس کا کوئی متابع نہیں ہے۔ امام ابن عدی نے کہا محمد بن سلام کی وجہ سے یہ حدیث منکر ہے ‘ ہرچند کہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن ترہیب میں معتبر ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٤‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٣٨٥‘ کامل ابن عدی : ج ٦ ص ٢٢٣٣) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو لکھا کہ عرب کے بعض قبائل میں ان کو ایک مرد ملا جو مرد کے ساتھ بدفعلی کرتا ہے حضرت ابوبکر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو جمع کیا جن میں حضرت علی بھی تھے (رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین) حضرت علی نے فرمایا یہ ایک ایسا گناہ ہے جس کو صرف ایک امت نے کیا تھا اور تمہیں معلوم ہے اللہ نے ان پر کیسا عذاب بھیجا ‘ میرے رائے ہے کہ اس شخص کو آگ میں جلادیا جائے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تمام اصحاب نے اس پر اتفاق کرلیا کہ اس شخص کو آگ میں جلا دیا جائے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے اس شخص کو آگ میں جلانے کا حکم دیا۔ (یہ حدیث حسن ہے) شعب الایمان رقم الحدیث : ٥٣٨٩) 

امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) کے پاس کچھ زندیق لائے گئے انہوں نے ان کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اگر میں وہاں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ کے عذاب کے ساتھ سزا دینے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) چونکہ وہاں پر موجود حضرت علی (رض) تک یہ حدیث نہیں پہنچی تھی اس لیے حضرت علی (رض) نے یہ مشورہ دیا اور دیگر صحابہ نے اس مشورہ کی تائید کی۔ 

عمل قوم لوط کی حد یا تعزیر میں مذہب اربعہ :

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

دررغرر میں مذکور ہے کہ جو شخص عمل قوم لوط کرے اس کو تعزیر لگائی جائے گی مثلا اس کو آگ میں جلا دیا جائے۔ 

اور اس پر دیوار گرا دی جائے گی ‘ اور اس کو کسی بلند جگہ سے الٹا کرکے گرا دیا جائے گا اور اس پر پتھر مارے جائیں گے اور الحاوی میں مذکور ہے کہ اس کو کوڑے مارنا زیادہ صحیح ہے ‘ فتح القدیر میں مذکور ہے اس پر تعزیر ہے اور اس کو اس وقت تک قید میں رکھا جائے حتی کہ وہ مرجائے یا توبہ کرلے ‘ اور اگر وہ دوبارہ یہ عمل کرے تو اس کو امام سیاسۃ قتل کردے ‘ امام کی قید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قاضی کو یہ اختیار نہیں ہے۔ (النہر والبحر) اسی طرح استمناء حرام ہے ‘ صحیح مذہب یہ ہے کہ جنت میں عمل قوم لوط نہیں ہوگا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت کی ہے اور اس کو قبیح اور خبیث فعل قرار دیا ہے اور جنت میں اس عمل سے پاک ہے (فتح القدیر) الاشباہ والنظائر میں مذکور ہے کہ اس فعل کی حرمت عقلی ہے اس لئے جنت میں اس کا وجود نہیں ہوگا ایک قول یہ ہے کہ اس کی حرمت شرعی ہے ‘ البحر میں مذکور ہے کہ اس کی حرمت عقلا شرعا اور طعا زنا سے زیادہ شدید ہے اور زنا کی حرمت طبعا نہیں ہے کیونکہ جس عورت کی طرف طبیعت راغب ہو اس سے نکاح کیا جاسکتا ہے اور اگر وہ کنیز ہو تو اس کو خرید کر اس سے شہوت پوری کی جاسکتی ہے ‘ اس کے برخلاف اگر کسی لڑکے پر طبیعت راغب ہو تو اس سے قضاء شہوت کا کوئی جائز ذریعہ نہیں ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر حد نہیں ہے اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ یہ کم درجہ کا جرم ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ حد مجرم کو جرم سے پاک کردیتی ہے (یہ امام شافعی کا قول ہے) بلکہ حد نہ ہونا اس جرم کی شدت کی وجہ سے ہے اور جو شخص اس عمل کو جائز سمجھے وہ جمہور کے نزدیک کافر ہے۔ (الدرمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٥٦۔ ١٥٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

زیادات میں مذکور ہے اس کے فاعل کی سزا امام کی رائے پر موقوف ہے جب کہ فاعل عادی ہو خواہ اس کو قتل کردے خواہ اس کو مارے اور قید کردے ‘ الاشباہ میں مذکور ہے جب تک وہ بار بار یہ فعل نہ کرے امام اعظم کے نزدیک اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ علامہ بیری نے کہا ہے کہ دو بار اس فعل کے کرنے پر اس کو قتل کردیا جائے گا فتح القدیر میں ہے کہ اس کو بلندی سے گرانے کی سزا اس لئے ہے تاکہ قوم لوط کی سزا سے مشابہت ہو کیونکہ ان کی زمین کو الٹ پلٹ کردیا گیا تھا۔ ابن الولید معتزلی نے کہا جنت میں اس فعل کے اندر کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ دنیا میں اس فعل سے اس لئے منع کیا گیا ہے اس سے نسل منقطع ہوتی ہے اور یہ فعل کے اندر کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ دنیا میں اس فعل سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ اس سے نسل منقطع ہوتی ہے اور یہ فعل محل نجاست میں ہوتا ہے اور جنت میں یہ دونوں چیزیں نہیں ہیں ‘ اس لئے جنت میں شراب حلال ہے کیونکہ اس میں نشہ نہیں ہوگا اور نہ عقل زائل ہوگی ‘ امام ابو یوسف نے جواب دیا کہ مردوں کی طرف جنسی میلان کرنا ان کے لئے باعث عار ہوتا ہے اور یہ فی نفسہ قبیح ہے کیونکہ ان کو اس عمل کے لئے پیدا نہیں کیا گیا اسی وجہ سے اس فعل کو کسی شریعت میں جائز نہیں کیا گیا ‘ اس کے برعکس شراب بعض شریعتوں میں جائز تھی اور جنت کو باعث عار اور قابل نفرت کاموں سے پاک رکھا گیا ہے ‘ لیکن ابن الولید نہیں مانا اس نے کہا عار کی وجہ یہ ہے کہ اس میں نجاست کے ساتھ تلویث ہے اور جب جنت میں نجاست نہیں ہوگی تو عار بھی نہیں ہوگا ‘ اس کے ثبوت کے لئے دو گواہ کافی ہیں نہ کہ چار اور اس میں صاحبین کا اختلاف ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ١٥٦۔ ١٥٥ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن محمد بن حبیب ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

عمل قوم لوط سب سے بڑی بےحیائی کا کام ہے اس لئے اس پر سب سے بڑی حد ہے اس میں دو قول ہیں : 

(١) امام شافعی نے کہا ہے کہ شادی شدہ ہو یا کنوارہ اس کو پتھر مار مار کر قتل کردیا جائے (کتاب الام ج ٧ ص ٨٣) 

حضرت عبداللہ بن عباس ‘ سعید بن مسیب ‘ امام مالک ‘ امام احمد اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے۔ قتل کرنے کے دو طریقے ہیں یا تو رجم کردیا جائے یہ فقہائے بغداد کا قول ہے یا تلوار سے قتل کردیا جائے یہ فقہائے بصرہ کا قول ہے۔ 

(٢) شادی شدہ کو رجم کردیا جائے اور کنوارے کو سو کوڑے لگائے جائیں اور اس کو ایک سال کے لئے شہر بدر کردیا جائے۔ اس کی حد میں فاعل اور مفعول بہ برابر ہیں البتہ اگر مفعول نابالغ ہو تو اس پر تعزیر ہے۔ (الحاوی الکبیر ج ١٧ ص ٦٢ ملخصا مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤١٤ ھ) 

امام عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

امام احمد بن حنبل کے نزدیک عمل قوم لوط کرنے والے کی حد یہ ہے کہ اس کو رجم کردیا جائے خواہ وہ شادی شدہ ہو خواہ کنوارہ۔ امام احمد کا دوسرا قول یہ ہے کہ کنوارے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور شادی شدہ کو رجم کیا جائے گا۔ (المغنی ج ٩ ص ‘ ٥٨ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤٠٥ ھ ‘ )

علامہ ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ بن علی الخرشی المالکی قرطبی متوفی ١١٠١ ھ لکھتے ہیں :

جس شخص نے قوم لوط کا عمل کیا ہو تو فاعل اور مفعول بہ دونوں کو رجم کردیا جائے خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ‘ فاعل کی اس بات میں تصدیق نہیں کی جائے گی کہ اس نے خوشی سے یہ فعل کیا تھا یا مجبورا اگر مفعول بہ کے ساتھ جبرا یہ فعل کیا گیا یا بچہ کے ساتھ اس کی خوشی سے کیا گیا ہو تو اس کو رجم نہیں کیا جائے گا ‘ اور صرف فاعل کو رجم کیا جائے گا اس کے ثبوت کے لئے بھی چار گواہ ضروری ہیں جس طرح زنا میں چار مرد گواہوں کی شرط ہے۔ (الخرشی علی مختصر سید خلیل ج ٨ ص ٨٢‘ مطبوعہ دارصادر بیروت) 

ائمہ ثلاثہ کے نزدیک اس عمل پر حد ہے اور بہ ظاہر اس کا ثبوت بھی چار گواہوں سے ہوگا۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر تعزیر ہے کیونکہ اس کی سزا حد زنا کی طرف معین اور قطعی نہیں ہے نیز امام ابوحنیفہ کے نزدیک حد کا نہ ہونا تخفیف کے لئے نہیں بلکہ تغلیظ کے لئے ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 15