اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞

ترجمہ:

جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (النساء : ٧٦) 

مسلمانوں اور کافروں کی باہمی جنگ میں ہر ایک کا ہدف اور نصب العین :

اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ 

قرآن مجید کی ترغیب جہاد کے نکات :

اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے۔ 

اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔ 

ترغیب جہاد کی متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :) جو شخص میرے راستہ میں جہاد کے لیے نکلا اور وہ شخص صرف مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسول کی تصدیق کی وجہ سے نکلا ہو۔ میں اسکا ضامن ہوں کہ اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا جنت میں داخل کر دوں ‘ (آپ نے فرمایا :) اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر میں شامل ہوئے بغیر نہ رہتا ‘ اور بیشک میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٠٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٥٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا کسی عبادت کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اسکی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر بار یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تیسری بار آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے ‘ رات کو قیام کرے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرے اور وہ روزے اور نماز سے تھکتا نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٢٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کا خاتمہ اس کے عمل پر کردیا جاتا ہے، ماسوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا رہے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٠٠‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤‘ مشکل الآثار ج ٣ ص ١٠٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ افضل اعمال ہیں ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کردیئے جاؤ درآں حالیکہ تم صبر کرنے والے ہو ‘ ثواب کی نیت کرنے والے ہو آگے بڑھ کر وار کرنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے کہا میں نے کہا یہ بتایئے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں بشرطیکہ تم صبر پر قائم ہو ‘ اور تمہاری نیت ثواب کی ہو ‘ تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو تو قرض کے سوا تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ مجھ سے ابھی جبرائیل نے یہ کہا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٥٦) 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠٢) 

حضرت معاذ بن جبل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر بھی جہاد کیا اس کیلیے جنت واجب ہوگئی ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا اس کا خوان بہا وہ جب قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہوگا اس خون کا رنگ زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے ہیں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں۔ (النساء : ٦٥) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہ ماننے والا مومن نہیں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے حضرت زبیر (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زمین کو سیراب کرنے والی پانی کی ایک نالی میں جھگڑا کیا وہ دونوں اس سے اپنے درختوں کو پانی دیتے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر تم اپنی زمین کو پانی دو ‘ پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ‘ وہ انصاری غضبناک ہوا اور اس نے کہا یہ آپ کے عم زاد ہیں اس لیے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے زبیر تم پانی دو پھر پانی کو روک لو حتی کہ وہ دیواروں کی طرف لوٹ جائے ‘ حضرت زبیر نے کہا خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (آیت) ” فل اور بک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم “ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٣٦٠‘ ٢٣٥٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٣٥٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٣٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٣١‘ ٤٥٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١١٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٥٣) 

امام ابن جریر نے اس آیت کے شان نزول میں دو حدیثیں ذکر کی ہیں مذکور الصدر حضرت عبداللہ بن الزبیر کی روایت بھی ذکر کی ہے اور وہ روایت بھی ذکر کی ہے جس میں مذکور ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوا ‘ منافق یہ فیصلہ کعب بن اشرف سے کرانا چاہتا تھا بعد ازاں جس کا حضرت عمر نے سر اڑا دیا تھا ‘ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کے نزول کا سبب ہوں (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک فیصلہ کو بہ ظاہر مان لیتا ہے ‘ لیکن دل سے قبول نہیں کرتا اس لیے فرمایا کہ وہ آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف دل میں بھی تنگی نہ پائیں ‘ بعض اوقات ایک عدالت سے فیصلہ کے بعد اس سے اوپر کی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ کرنے کا اختیار ہوتا ہے جیسے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ کی جاسکتی ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کرنے کے بعد پھر کسی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ نہیں کی جاسکتی ‘ اس لیے بعد میں فرمایا اس فیصلہ کو خوشی سے مان لو ‘ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو فیصلہ کریں وہ خطا سے مامون اور محفوظ بلکہ معصوم ہوتا ہے یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے اگر کوئی شخص کتنا ہی عبادت گزار ہو لیکن اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر حضور ایسا نہ کرتے اور ایسا کرلیتے تو وہ مومن نہیں رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں ‘ بیشک اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں۔ (النساء : ٥٦) 

دوزخ میں جلی ہوئی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدلنے پر تعذیب بلامعصیت کی بحث : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ربیع بیان کرتے ہیں کہ کافروں کی کھال چالیس ہاتھ موٹی ہوگی اور ان کا دانت ستر ہاتھ بڑا ہوگا اور ان کا پیٹ اتنا بڑا ہوگا کہ اس میں پہاڑ سما جائے۔ 

حسن بیان کرتے ہیں ایک دن میں ستر ہزار بار انکی کھال جلے گی اور بدل جائے گی۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٩ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی ‘ اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا فاصلہ ایک تیز رفتار سوار تین دن میں طے کرتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٢) 

قرآن مجید کی اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ کافر کی کھال جلنے کے بعد اس کو نئی کھال دی جائے گی اور اس کو عذاب دیا جائے گا تو یہ تعذیب بلا معصیت ہے کیونکہ اس نئی کھال نے تو کوئی گناہ نہیں کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل عذاب روح کو ہوتا ہے اور جسم اور اس کے اجزاء تو روح تک عذاب پہنچانے کے آلات ہیں ‘ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ مذہب یہ ہے کہ روح اور جسم دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

روح اور جسم دونوں پر عذاب کی دلیل : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے پیچھے رہ گئے ‘ آپ ہم سے آملے اس وقت ہم نے نماز میں تاخیر کردی تھی ‘ ہم نے وضوء کیا اور پیروں پر مسح کرلیا ‘ تو آپ نے دو یاتین مرتبہ بلند آواز سے فرمایا : (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روح اور بدن دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

نیز علامہ محمد بن احمد سفارینی متوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں :

امت کے تمام متقدمین اور ائمہ کا مذہب یہ ہے کہ عذاب روح اور بدن دونوں کو ہوتا ہے۔ (لوامع الانوار ج ٢ ص ٢٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

تعذیب بلامعصیت کے اشکال کے صحیح جوابات :

اس لئے اس اشکال کو صحیح جواب یہ ہے کہ کھال کے جل کر پکنے کا معنی ہے اس کا سیاہ پڑجانا ‘ اور اس کو دوسرے کھال سے بدلنے کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی کھال کا رنگ اپنی قدرت کاملہ سے سفید کر دے گا ‘ جیسے دنیا میں انسان جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے چہرہ کا رنگ بدل جاتا ہے اور صحت مند ہونے کے بعد اسی چہرہ کا رنگ نکھر کر تروتازہ ہوجاتا ہے۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح سنار ایک انگوٹھی کو توڑ کر یا اس کو پگھلا کر اسی مادہ سے دوسری نئی صورت کی انگوٹھی بنا دیتا ہے ‘ اسی طرح تشبیہ و تمثیل اللہ تعالیٰ ایک کھال کو جلا کر اس سے نئی کھال پیدا کر دے گا۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اصل میں عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوتے باقی اعضاء کا جل جانا اور دوبارہ بن جانا صرف روح اور اجزاء اصلیہ تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ 

اور جن احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافر کے دانت ‘ اس کی کھال اور دیگر اعضاء کی جسامت بڑھ جاتی ہے ان پر بھی یہ اشکال ہوتا ہے کہ جس دانت نے گناہ کیا تھا وہ تو احد پہاڑ جتنا نہیں تھا اس دانت کے ساتھ جو اضافہ کیا گیا ہے اس پر عذاب بغیر کسی معصیت کے ہوگا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی اجزء اور اعضاء کو کسی اضافہ کے بغیر اتنا بڑا کر دے گا ‘ یا زائد حصہ کو عذاب نہیں ہوگا اور کافر کی شکل قبیح بنانے کے لئے اس کے اعضاء کو بڑا کردیا جائیگا اور صحیح جواب یہی ہے کہ اصل عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوگا یہ اضافات تو ان اجزاء تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ 

روح اور جسم دونوں کے مستحق عذاب ہونے کی ایک مثال :

عذاب جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے اس سلسلہ میں علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے علامہ سفیری کی شرح بخاری سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن روح اور بدن میں بحث ہوگی ‘ روح جسم سے کہے گی کہ گناہ تم نے کیے ہیں میں تو ایک ہوا کی مانند تھی اگر تم نہ ہوتے تو میں کوئی عمل نہیں کرسکتی تھی ‘ اور جسم کہے گا تم نے مجھے کام کرنے کا حکم دیا تھا اگر تم نہ ہوتیں تو میں درخت کے تنے کی طرح ہوتا اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کو کبھی حرکت نہ دیتا ‘ تب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھیجے گا وہ کہے گا تم دونوں کی مثال ایک لنجے اور ایک اندھے کی ہے یہ دونوں ایک باغ میں گئے لنجے نے اندھے سے کہا میں یہاں پھل دیکھ رہا ہوں لیکن ان کو توڑ نہیں سکتا ‘ تو اندھے نے کہا تم مجھ پر سوار ہوجاؤ پھر جہاں پھل ہوں تو دیکھ کر توڑ لینا ‘ سو دونوں مجرم ہیں اور دونوں سزا کے مستحق ہی لنجابہ منزلہ روح ہے اور اندھا بمنزلہ جسم ہے ‘ علامہ آلوسی نے اس مثال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اندھے اور لنجے دونوں کو شعور ہے اور یہاں صرف روح کو شعور ہے جسم کو شعور نہیں ہے ‘ پھر اس کا جواب دیا کہ ہوسکتا ہے جسم کو شعورہو اور ہم کو اس کا پتا نہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٥٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

میرے نزدیک اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ مثال صرف مسئلہ کی تفہیم کے لئے ہوتی ہے اس کا ممثل لہ سے بالکلیہ مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو ‘ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘ بیشک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (النساء : ٤٣) 

حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے ممانعت کا شان نزول : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لئے کھانے کی دعوت کی ‘ اور ہم کو (تحریم شراب سے پہلے) شراب پلائی ہم نے شراب پی اور نماز کا وقت آگیا ‘ انہوں نے نماز پڑھانے کے لیے مجھے امام بنادیا میں نے پڑھا (آیت) ” قل یایھا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “۔ (آپ کہیے کہ اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧١) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠‘ ھ نے از ابو عبدالرحمن از حضرت علی (رض) روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت علی (رض) نے شراب پی اور نماز حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے پڑھائی اور ان کو اس آیت کے پڑھنے میں التباس ہوگیا تب یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٦١) 

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٠١) 

امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو امام بنادیا گیا اور اس نے قرات میں یہ غلطی کی پھر یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ذہبی نے بھی اس کو صحیح لکھا ہے۔ (المستدر ج ٢ ص ٣٠٧) 

امام ابوالحسن واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٥٦‘ تفسیر سفیان الثوری ‘ ص ٥٦‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٥٦) 

بعض مفسرین نے کہا اس آیت کا معنی ہے جب تم پر نیند کا غلبہ ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حالت جنابت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص سفر میں جنبی ہوجائے اور اس کو غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ‘ زجاج نے کہا اس کی حقیقت یہ ہے کہ حالت جنابت میں تم نماز نہ پڑھو ‘ قبتی نے کہا اس آیت میں صلوۃ سے مراد موضع الصلوۃ ہے یعنی مسجد ‘ اور اس کا معنی ہے کہ حالت جنابت میں تم مساجد کے قریب نہ جاؤ مگر صرف راستہ گزرنے کے لئے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘۔ 

تیمم کی مشروعیت کا سبب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گئے ‘ جب مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ہار کو تلاش کرنے کے لئے رک گئے ‘ اور آپ کے ساتھ تمام قافلہ رک گیا ‘ اس جگہ پانی تھا اور نہ صحابہ کے ساتھ پانی تھا ‘ صحابہ نے حضرت ابوبکر (رض) سے شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ (حضرت) عائشہ (رض) نے کیا کیا ہے ؟ تمام لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرا لیا ‘ اس مقام پر پانی ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے۔ (یہ شکایت سن کر) حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس آئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے زانو پر سر رکھے ہوئے محو نیند تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور کہنے لگے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام صحابہ کو پریشان کیا ہے اور ایسی جگہ روک لیا ہے جہاں بالکل پانی نہیں ہے ‘ نہ صحابہ کے پاس پانی ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) ناراض ہو کر جو کچھ ان کے آیا کہتے رہے اور اپنے ہاتھ سے میری کو کھ میں اپنی انگلی چبھوتے رہے ‘ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام میں خلل آنے کے خیال سے اپنی جگہ سے مطلقا نہیں ہلی ‘ یہاں تک کہ اسی حال میں یعنی جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہ تھا ‘ صبح ہوگئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ‘ فرمائی پھر نقباء میں سے حضرت اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابوبکر یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر میں سوار تھی تو ہار اس کے نیچے سے نکل آیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٥٦٨) 

حضرت عائشہ (رض) کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی بحث : 

اس حدیث میں ہے : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہار نکل آیا۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا تو اس کو ہار مل گیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

ایک روایت میں دو شخصوں کا ذکر ہے ‘ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے ‘ علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو بھیجا وہ حضرت اسید بن حضیر اور اس کے متبعین تھے ‘ وہ گئے تو ان کو کچھ نہیں ملا ‘ پھر واپسی میں حضرت اسید کو اس اونٹ کے نیچے سے وہ ہار مل گیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ١٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء نہیں بتایا یا اس طرف متوجہ نہیں کیا کہ ہار کہاں ہے کیونکہ اس میں متعدد حکمتیں تھیں اور آپ کی امت کو بہت سے مسائل کی تعلیم دینا تھی بعض ازاں یہ ہیں۔ 

حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل : 

علامہ بدرالدین عینی نے بیان کیا کہ اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں : 

(١) بعض علماء (علامہ ابن حجر عسقلانی) نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قیام کرنا جائز ہے ‘ جہاں پانی نہ ہو اور اس راستہ پر سفر کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی ہی جگہ سفر اور قیام کیا تھا۔ 

(٢) کسی شادی شدہ خاتون کی شکایت اس کے والد سے کرنا ‘ خواہ اس کا خاوند موجود ہو ‘ صحابہ کرام (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس لیے شکایت کی تھی کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے اور صحابہ کرام (رض) آپ کو نیند سے بیدار نہیں کرتے تھے۔ 

(٣) کسی فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف کرنا ‘ کیونکہ پانی نہ ملنے کا سبب حضرت عائشہ (رض) کے ہار کا گم ہونا تھا۔ 

(٤) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا خواہ اس وقت اس کا خاوند موجود ہو ‘ جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کا خاوند اس پر راضی ہوگا۔ 

(٥) کسی شخص کا اپنی بیٹی کو سرزنش کرنا خواہ وہ بیٹی شادی شدہ ہو اور صاحب منصب ہو۔ 

(٦) اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف یا آفت پہنچے جو حرکت اور اضطراب کا موجب ہو تو وہ صبر کرے اور اپنے جسم کو ہلنے سے باز رکھے جب کہ اس کی حرکت سے کسی سونے والے ‘ بیمار یا نمازی یا قاری یا علم میں مشغول شخص کی تشویش اور بےآرامی کا خدشہ ہو۔ 

(٧) سفر میں تہجد کی رخصت ‘ یہ اس قول پر ہے کہ آپ پر تہجد کی نماز واجب تھی۔ 

(٨) پانی کو تلاش کرنا صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز کا وقت آجائے ‘ کیونکہ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے نماز کا وقت آگیا پانی کو تلاش کیا گیا۔ 

(٩) آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے وضو واجب تھا ‘ اسی وجہ سے ان کو بہت تشویش اور صدمہ لاحق ہوا کہ وہ ایسی جگہ ٹھہرے ہیں جہاں پانی نہیں ہے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ علامہ ابن البر نے کہا ہے کہ تمام اہل سیرت اس پر مفتق ہیں کہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز فرض ہوئی ہے ‘ آپ نے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہے (آیت وضو آیت تیمم کے ساتھ نازل ہوئی ہے یہ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦ ہے) اگر یہ اعتراض ہو کہ وضو پہلے ہی واجب تھا تو آیت وضو کو نازل کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضو کی فرضیت قرآن مجید سے ہوگئی ‘ بعض روایت میں ہے کہ حضرت اسلع اعرجی ‘ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سواری لاتے تھے ایک دن انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں جنبی ہوں تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واقعہ بھی ہار گم ہونے والے دن پیش آیا ہو کیونکہ وہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا اور سواری والا تھا۔ 

(١٠) اس حدیث میں تیمم میں نیت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ تیمم کا معنی ہے قصد کرو۔ 

(١١) اس میں یہ دلیل ہے کہ تندرست ‘ مریض ‘ بےوضو اور جنبی سب کے لیے تیمم مشروع ہے ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ لیکن فقہاء میں سے کسی نے ان کے قول پر عمل نہیں کیا ‘ کیونکہ احادیث صحیحہ میں جنبی کے لیے تیمم کا جواز ثابت ہے۔ 

(١٢) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس پر سب کا اجماع ہے ‘ اور حضر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ سفر اور حضر میں تیمم کرنا مساوی ہے ‘ جب پانی نہ ملے ‘ یا مرض یا خوف شدید یا وقت نکلنے کے خوف سے پانی کا استعمال کرنا مشکل ہو ‘ علامہ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی نے کہا کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی نے کہا جو شخص تندرست ہو اور مقیم ہو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو اپنی جان کی ہلاکت کا خوف ہو ‘ علامہ طبری نے کہا امام ابویوسف اور امام زفر کے نزدیک مقیم کے لئے مرض اور خروج وقت کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام شافعی ‘ لیث اور طبری نے یہ بھی کہا ہے کہ جب خروج وقت کا خوف ہو تو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں ‘ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اعادہ لازم ہے ‘ اور عطاء بن ابی رباح نے یہ کہا ہے کہ جب پانی دستیاب ہو تو مریض اور غیر مریض دونوں تیمم نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن عبدالبر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خروج وقت کے خوف سے تیمم جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقیم کے لیے خروج وقت کے خوف کے سبب سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ 

(١٣) امن کے زمانہ میں ازواج کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اگر ایک شخص کی کئی بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کو ساتھ لے جائے ‘ اور قرعہ اندازی کر کے اس کو لے جانا مستحب ہے جس کے نام کا قرعہ نکلے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک قرعہ اندازی کرنا واجب ہے 

جنبی کے لیے جواز تیمم میں صحابہ کا اختلاف : 

جنبی کے لیے تیمم کرنے میں صحابہ کا اختلاف تھا ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سے منع کرتے تھے اور جمہور صحابہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں مل سکا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا نماز مت پڑھ۔ حضرت عمار (رض) کہنے لگے ‘ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ ہم دونوں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے بہرحال نماز نہیں پڑھی ‘ لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا ‘ اور میں نے نماز پڑھ لی (جب حضور کی خدمت میں میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑا دیتے ‘ پھر ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کرتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو ‘ حضرت عمار (رض) نے کہا اگر آپ فرمائیں تو میں یہ حدیث کسی اور سے نہ بیان کروں ‘ امام مسلم نے ایک اور سند بیان کر کے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمار (رض) کے جواب کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم تمہاری روایت کا بوجھ تمہیں پر ڈالتے ہیں۔ 

شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا ‘ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور اس کو ایک ماہ تک پانی نہ مل سکے تو وہ شخص کس طرح نمازیں پڑھے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا وہ شخص تیمم نہ کرے خواہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے ‘ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا ‘ پھر آپ سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا جواب دیں گے۔ (آیت) ” فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا “۔ ” جب تم کو پانی نہ مل سکے تو پانی مٹی سے تیمم کرو “ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس آیت کی بناء پر لوگوں کو تیمم کی اجازت دیدی جائے تو وہ پانی ٹھنڈا لگنے کی بناء پر بھی تیمم کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار (رض) کی یہ حدیث نہیں سنی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کیلیے بھیجا ‘ راستہ میں (جب میں سویا تو) مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ پس میں خاک پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا ‘ جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ‘ پھر جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتت میں حاضر ہوا ‘ اور اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے اور بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا اور دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور چہرہ پر مسح کیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کی حدیث پر اطمینان نہیں کیا تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٤٦۔ ٣٤٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢۔ ٣٢١) 

نیزامام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات کو جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧) 

اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) کا بعض مسائل میں اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو طعن تشنیع نہیں کرتے تھے اور فروعی مسائل میں اختلاف کو وسعت ظرف سے لیتے تھے ‘ اگر اس قسم کا اختلاف آج کے مسلمانوں میں ہو تو ایک دوسرے کے خلاف نہ جانے کتنے رسالے لکھے جائیں اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے اور آپس میں جو تم پیزار شروع ہوجائے۔ 

تیمم کی تعریف ‘ اس کی شرائط اور مذاہب فقہاء : 

تیمم ‘ کتاب ‘ سنت اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے ‘ تیمم کی خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو سرفراز کیا ہے ‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ‘ تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں پر کیا جاتا ہے ‘ ہمارا اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں (دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مارنا) ضروری ہیں ‘ ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور ایک ضرب سے کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا جائے ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ سالم بن عبداللہ بن عمر ‘ سفیان ثوری ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اصحاب رائے اور دوسرے تمام فقہاء (رض) کا یہی مسلک ہے ‘ عطاء مکحول ‘ اوزاعی ‘ امام احمد ‘ اسحق ‘ ابن المنذر ‘ اور عامۃ المحدثین کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کیلیے صرف ایک ضرب واجب ہے۔ زہری نے یہ کہا ہے کہ ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے ‘ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے ماوراء تیمم نہیں ہے ‘ اور ابن سیرین سے منقول ہے کہ تیمم میں تین ضربات ہیں ‘ ایک ضرب چہرے کے لیے دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لئے۔ 

علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ تیمم حدث اصغر کے لئے بھی ہے اور حدث اکبر (جنبی ‘ حائض اور نفساء) کے لئے بھی ہے ‘ سلف اور خلف میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں ہے ‘ ماسوا حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک قول کے ‘ یہ بھی روایت ہے کہ ان دونوں نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا ‘ جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے ثبوت میں بکثرت احادیث مشہورہ مروی ہیں ‘ جب جنبی تیمم سے نماز پڑھ لے تو اس پر غسل کرنا بالاجماع واجب ہے ‘ اس میں صرف ابوسلمہ عبدالرحمن تابعی کا قول مخالف ہے لیکن یہ قول بالاجماع متروک ہے ‘ اور احادیث صحیحہ مشہورہ میں وارد ہے کہ جب پانی مل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو غسل کرنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤) اگر مسافر کے پاس پانی نہ ہو تو وہ پھر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے ‘ وہ (اگر اتنا پانی ہو تو) اپنی شرمگاہوں کو دھو کر تیمم کریں اور نماز پڑھ لیں اور اگر انہوں نے اپنی شرمگاہیں دھو لیں تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اور اگر مرد نے اپنے آلہ کو نہیں دھویا اور اس پر رطوبت فرج لگی ہوئی تھی جس قول کے مطابق رطوبت فرج نجس ہے اس کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ورنہ نہیں ‘ جس شخص نے کسی مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کیا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس نے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں پر غالبا پانی نہیں ہوتا ‘ مثلا سفر میں ہے تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے ‘ اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں پر کبھی کبھی پانی نہیں ہوتا اور اکثر ہوتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ ہے (جو شخص ڈیڑھ انگریزی میل کی مسافت پر شہر سے دور ہو اور اس کو پانی دستیاب نہ ہو تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک تیمم کرسکتا ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے، ہدایہ) 

امام شافعی ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ داؤد ظاہری، اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تیمم صرف ایسی پاک مٹی کے ساتھ جائز ہے جس کا غبار عضو کے ساتھ لگ جائے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ زمین کی تمام اقسام سے تیمم کرنا جائز ہے ‘ حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے ‘ اور بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ جو چیز زمین کے ساتھ متصل ہو ‘ اس کے ساتھ تیمم کرنا بھی جائز ہے اور برف کے متعلق ان کی دو روایتیں ہیں ‘ اور اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا کہ برف اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ 

تیمم کے بعض مسائل : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیرجمل (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف جارہے تھے ایک مسلمان نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور تیمم کر کے اس کو جواب دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩ )

یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ اس وقت پانی نہیں تھا کیونکہ جب پانی موجود ہو اور اس کے استعمال پر قدرت ہو تو تیمم جائز نہیں ہے ‘ خواہ فرض نماز ‘ نماز عید ‘ یا نماز جنازہ کے فوت ہونے کا خوف ہو ‘ امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عید اور جنازہ کے فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے تیمم جائز ہے ‘ کیونکہ ان کی قضاء نہیں ہے۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مٹی کی جنس سے تیمم کرنا ضروری ہے اور اس پر غبار ہونا ضروری نہیں جیسا کہ احناف کا مذہب ہے کیونکہ عام طور پر دیوار پر غبار نہیں ہوتا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دیوار کے مالک کی اجازت کے بغیر آپ نے کیسے تیمم کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دیوار مباح تھی یا کسی ایسے شخص کی دیوار تھی جس کو آپ جانتے تھے اور آپ کو علم تھا کہ آپ کے تصرف سے اس کو اعتراض نہیں ہوگا ‘ اس حدیث میں نوافل کے لیے تیمم کرنے پر بھی دلیل ہے ‘ پیشاب کرتے وقت جس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کافورا جواب نہیں دیا ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ قضاء حاجت کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اسی طرح اس حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے۔ اسی طرح جماع کی حالت میں بھی ذکر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس حال میں مطلقا کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن ضرورت کے مواقع مستثنی ہیں ‘ مثلا کسی نابینا کو کو یں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھے تو بتادے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا

ترجمہ:

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ (نیکی کرو) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : ٣٦) 

اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ شریک نہ کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دراز گوش پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان کو خوش خبری نہ دو ورنہ وہ اسی پر توکل کرکے بیٹھ جائیں گے (عمل نہیں کریں گے) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ سنن ترمذی : ٢٦٥٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٢١٠‘ مسند ابوعوانہ : ج ١ ص ١٧) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اللہ پر بندوں کے حق کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل اور کرم سے شرک نہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ عمل کی وجہ سے کسی بندہ کا اللہ پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یہ حدیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دے دی تو حضرت معاذ (رض) نے موت سے پہلے اس حدیث کو بیان فرمادیا تاکہ علم کو چھپانے پر جو وعید ہے اس میں داخل نہ ہوں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھ کو وصیت کیجئے آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے اور کسی وقت کی نماز ترک نہ کرو اور شراب نہ پیو کیونکہ وہ برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٤‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٩٥‘ مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦) 

ماں باپ کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کون لوگ میرے اچھے سلوک کے مستحق ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا پھر تمہاری ماں ‘ کہا پھر فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٤١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٦) 

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے شکر کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انسان کے حق میں سب سے بڑی نعمت اس کا وجود اور اس کی تربیتت اور پرورش ہے اور اس کے وجود کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں ‘ اسی طرح اس کی تربیت اور پرورش میں حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ نیز جس طرح اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس سے اس کا عوض نہیں چاہتا اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بلاعوض نعمتیں دے دیتے ہیں ‘ اور جس طرح اللہ بندہ کو نعمتیں دینے سے تھکتا اور اکتاتا نہیں والدین بھی اولاد کو نعمتیں دینے سے تھکتے اور اکتاتے نہیں ‘ اور جس طرح بندے گنہ گار ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا ‘ اسی طرح اگر اولاد نالائق ہو پھر بھی ماں باپ اس کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتے ‘ اور جس طرح اللہ اپنے بندوں کو دائمی ضرر اور عذاب سے بچانے کے لئے ہدایت فراہم کرتا ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو ضرر سے بچانے کے لئے نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ 

ماں باپ کے ساتھ اہم نیکیاں یہ ہیں کہ انسان ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے ‘ ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے ‘ ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرے ‘ ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرے ‘ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرے ‘ ان کے ساتھ عاجزی اور تواضع کے ساتھ رہے ‘ ان کی اطاعت کرے اور ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرے خواہ اس کے خیال میں وہ اس پر ظلم کر رہے ہوں ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے ‘ ماں کے بلانے پر نفل نماز توڑ دے البتہ فرض نماز کسی کے بلانے پر نہ توڑے اگر اس کا باپ یہ کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو طلاق دے دے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کیا پھر حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣، سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣‘ ٤٢‘ ٢٠) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ تم چاہو تو اس کو ضائع کردو اور تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو ‘ سفیان کی ایک روایت میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں باپ کا ذکر ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٦) 

حافظ عبدالعظیم بن عبد القوی لکھتے ہیں : 

سب سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا اور بیٹے کی باپ کے ساتھ نیکی یہی ہے کہ جس کو باپ ناپسند کرے اس کو بیٹا بھی ناپسند کرے اور جس سے اس کا باپ محبت کرتا ہو اس سے محبت کرے خواہ اس کو وہ ناپسند ہو ‘ یہ اس وقت واجب ہے جب اس کا باپ مسلمان ہو ‘ ورنہ مستحب ہے۔ (مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٣٥) 

نیز باپ کے ساتھ یہ بھی نیکی ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تحائف بھیجتے تھے ‘ جب بیویوں کی سہیلیوں کا یہ درجہ ہے تو باپ کے دوستوں کا مقام اس سے زیادہ بلند ہے ‘ نیز ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے لئے استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی ہے ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھا ماں باپ کے فوت ہونیکے بعد میں ان کے ساتھ کس طرح نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا انکی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو ‘ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرو ‘ انکے دوستوں کی عزت کرو اور جن کے ساتھ وہ صلہ رحم کرتے تھے انکے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٨ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

جو پڑوسی رشتہ دار ہو اس کا ایک حق اسلام ہے اور ایک رشتہ داری کا حق ہے اور ایک پڑوسی کا حق ہے ‘ اور جو پڑوسی اجنبی ہو اس کے ساتھ اسلام اور پڑوسی کا حق ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے دوبارہ پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے ہدیہ بھیجا یا نہیں ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل مجھ کو ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو میرا وارث کر دے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٩‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠١٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دوستوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ‘ اور جو شخص اپنے پڑوسیوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١١٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ ص ٢١٥) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ‘ میں ان میں سے کس کے ساتھ ابتداء کروں ‘ فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازہ کے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٥٠‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ‘ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو ‘ اگر وہ بدحال ہو تو اس پر ستر کرو ‘ اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دو ‘ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو ‘ اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر : ج ١٩ ص ٤١٩) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربا زیادہ کرے۔ پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٦١٥‘ کشف الاستار عن زوائد ‘ رقم الحدیث : ١٩٠١‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٣٦٨) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص پیٹ بھر کر رات گذارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥١‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١١٩) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ جس شخص کا گھر یا دکان تمہارے گھر یا دکان سے متصل ہو وہ تمہارا پڑوسی ہے ‘ بعض علماء نے چالیس گھروں تک اتصال کا اندازہ کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے غلاموں کے ساتھ نیکی کرو۔ 

غلاموں اور خادموں کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یہ) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ سو جو تم کھاتے ہو وہ ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ ان کو پہناؤ اور ان کے ذمہ ایسا کام نہ لگاؤ جو ان پر بھاری ہو اور اگر تم ان کے ذمہ ایسا کام لگاؤ تو تم ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٣٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم نبی التوبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے غلام کو تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر حد قائم کرے گا ‘ سوا اس کے کہ وہ بات صحیح ہو ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٥) 

حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے سنا کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ابو مسعود تحمل کرو ‘ ابو مسعود تحمل کرو ‘ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ‘ آپ نے فرمایا جتنا تم اس پر قادر ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اللہ کے لئے آزاد ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں ‘ آپ نے فرمایا ہر دن میں ستر بار۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٦) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے اور اس کو خدا یاد آجائے تو اس کو مارنا چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا وہ ایک تنکے سے زمین کرید رہے تھے انہوں نے کہا اس عمل میں ایک تنکے کے برابر بھی اجر نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا پیٹا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کردے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے غلام آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کو عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں اس کی فرج آزاد کردے گا۔ 

اسلام میں غلامی کو ختم کرنے کے لئے بہت سے طریقے مقرر کیے گئے قتل خطا کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ‘ قسم توڑنے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ظہار کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے ‘ عمدا روزہ توڑنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس غلام نہ ہوں تو وہ کفارہ قسم میں تین دن روزے رکھے گا ‘ اور باقی صورتوں میں دو ماہ کے روزے رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36