بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو ‘ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘ بیشک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (النساء : ٤٣) 

حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے ممانعت کا شان نزول : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لئے کھانے کی دعوت کی ‘ اور ہم کو (تحریم شراب سے پہلے) شراب پلائی ہم نے شراب پی اور نماز کا وقت آگیا ‘ انہوں نے نماز پڑھانے کے لیے مجھے امام بنادیا میں نے پڑھا (آیت) ” قل یایھا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “۔ (آپ کہیے کہ اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧١) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠‘ ھ نے از ابو عبدالرحمن از حضرت علی (رض) روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت علی (رض) نے شراب پی اور نماز حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے پڑھائی اور ان کو اس آیت کے پڑھنے میں التباس ہوگیا تب یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٦١) 

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٠١) 

امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو امام بنادیا گیا اور اس نے قرات میں یہ غلطی کی پھر یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ذہبی نے بھی اس کو صحیح لکھا ہے۔ (المستدر ج ٢ ص ٣٠٧) 

امام ابوالحسن واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٥٦‘ تفسیر سفیان الثوری ‘ ص ٥٦‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٥٦) 

بعض مفسرین نے کہا اس آیت کا معنی ہے جب تم پر نیند کا غلبہ ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حالت جنابت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص سفر میں جنبی ہوجائے اور اس کو غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ‘ زجاج نے کہا اس کی حقیقت یہ ہے کہ حالت جنابت میں تم نماز نہ پڑھو ‘ قبتی نے کہا اس آیت میں صلوۃ سے مراد موضع الصلوۃ ہے یعنی مسجد ‘ اور اس کا معنی ہے کہ حالت جنابت میں تم مساجد کے قریب نہ جاؤ مگر صرف راستہ گزرنے کے لئے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘۔ 

تیمم کی مشروعیت کا سبب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گئے ‘ جب مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ہار کو تلاش کرنے کے لئے رک گئے ‘ اور آپ کے ساتھ تمام قافلہ رک گیا ‘ اس جگہ پانی تھا اور نہ صحابہ کے ساتھ پانی تھا ‘ صحابہ نے حضرت ابوبکر (رض) سے شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ (حضرت) عائشہ (رض) نے کیا کیا ہے ؟ تمام لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرا لیا ‘ اس مقام پر پانی ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے۔ (یہ شکایت سن کر) حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس آئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے زانو پر سر رکھے ہوئے محو نیند تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور کہنے لگے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام صحابہ کو پریشان کیا ہے اور ایسی جگہ روک لیا ہے جہاں بالکل پانی نہیں ہے ‘ نہ صحابہ کے پاس پانی ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) ناراض ہو کر جو کچھ ان کے آیا کہتے رہے اور اپنے ہاتھ سے میری کو کھ میں اپنی انگلی چبھوتے رہے ‘ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام میں خلل آنے کے خیال سے اپنی جگہ سے مطلقا نہیں ہلی ‘ یہاں تک کہ اسی حال میں یعنی جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہ تھا ‘ صبح ہوگئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ‘ فرمائی پھر نقباء میں سے حضرت اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابوبکر یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر میں سوار تھی تو ہار اس کے نیچے سے نکل آیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٥٦٨) 

حضرت عائشہ (رض) کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی بحث : 

اس حدیث میں ہے : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہار نکل آیا۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا تو اس کو ہار مل گیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

ایک روایت میں دو شخصوں کا ذکر ہے ‘ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے ‘ علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو بھیجا وہ حضرت اسید بن حضیر اور اس کے متبعین تھے ‘ وہ گئے تو ان کو کچھ نہیں ملا ‘ پھر واپسی میں حضرت اسید کو اس اونٹ کے نیچے سے وہ ہار مل گیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ١٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء نہیں بتایا یا اس طرف متوجہ نہیں کیا کہ ہار کہاں ہے کیونکہ اس میں متعدد حکمتیں تھیں اور آپ کی امت کو بہت سے مسائل کی تعلیم دینا تھی بعض ازاں یہ ہیں۔ 

حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل : 

علامہ بدرالدین عینی نے بیان کیا کہ اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں : 

(١) بعض علماء (علامہ ابن حجر عسقلانی) نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قیام کرنا جائز ہے ‘ جہاں پانی نہ ہو اور اس راستہ پر سفر کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی ہی جگہ سفر اور قیام کیا تھا۔ 

(٢) کسی شادی شدہ خاتون کی شکایت اس کے والد سے کرنا ‘ خواہ اس کا خاوند موجود ہو ‘ صحابہ کرام (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس لیے شکایت کی تھی کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے اور صحابہ کرام (رض) آپ کو نیند سے بیدار نہیں کرتے تھے۔ 

(٣) کسی فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف کرنا ‘ کیونکہ پانی نہ ملنے کا سبب حضرت عائشہ (رض) کے ہار کا گم ہونا تھا۔ 

(٤) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا خواہ اس وقت اس کا خاوند موجود ہو ‘ جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کا خاوند اس پر راضی ہوگا۔ 

(٥) کسی شخص کا اپنی بیٹی کو سرزنش کرنا خواہ وہ بیٹی شادی شدہ ہو اور صاحب منصب ہو۔ 

(٦) اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف یا آفت پہنچے جو حرکت اور اضطراب کا موجب ہو تو وہ صبر کرے اور اپنے جسم کو ہلنے سے باز رکھے جب کہ اس کی حرکت سے کسی سونے والے ‘ بیمار یا نمازی یا قاری یا علم میں مشغول شخص کی تشویش اور بےآرامی کا خدشہ ہو۔ 

(٧) سفر میں تہجد کی رخصت ‘ یہ اس قول پر ہے کہ آپ پر تہجد کی نماز واجب تھی۔ 

(٨) پانی کو تلاش کرنا صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز کا وقت آجائے ‘ کیونکہ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے نماز کا وقت آگیا پانی کو تلاش کیا گیا۔ 

(٩) آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے وضو واجب تھا ‘ اسی وجہ سے ان کو بہت تشویش اور صدمہ لاحق ہوا کہ وہ ایسی جگہ ٹھہرے ہیں جہاں پانی نہیں ہے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ علامہ ابن البر نے کہا ہے کہ تمام اہل سیرت اس پر مفتق ہیں کہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز فرض ہوئی ہے ‘ آپ نے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہے (آیت وضو آیت تیمم کے ساتھ نازل ہوئی ہے یہ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦ ہے) اگر یہ اعتراض ہو کہ وضو پہلے ہی واجب تھا تو آیت وضو کو نازل کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضو کی فرضیت قرآن مجید سے ہوگئی ‘ بعض روایت میں ہے کہ حضرت اسلع اعرجی ‘ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سواری لاتے تھے ایک دن انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں جنبی ہوں تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واقعہ بھی ہار گم ہونے والے دن پیش آیا ہو کیونکہ وہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا اور سواری والا تھا۔ 

(١٠) اس حدیث میں تیمم میں نیت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ تیمم کا معنی ہے قصد کرو۔ 

(١١) اس میں یہ دلیل ہے کہ تندرست ‘ مریض ‘ بےوضو اور جنبی سب کے لیے تیمم مشروع ہے ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ لیکن فقہاء میں سے کسی نے ان کے قول پر عمل نہیں کیا ‘ کیونکہ احادیث صحیحہ میں جنبی کے لیے تیمم کا جواز ثابت ہے۔ 

(١٢) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس پر سب کا اجماع ہے ‘ اور حضر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ سفر اور حضر میں تیمم کرنا مساوی ہے ‘ جب پانی نہ ملے ‘ یا مرض یا خوف شدید یا وقت نکلنے کے خوف سے پانی کا استعمال کرنا مشکل ہو ‘ علامہ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی نے کہا کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی نے کہا جو شخص تندرست ہو اور مقیم ہو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو اپنی جان کی ہلاکت کا خوف ہو ‘ علامہ طبری نے کہا امام ابویوسف اور امام زفر کے نزدیک مقیم کے لئے مرض اور خروج وقت کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام شافعی ‘ لیث اور طبری نے یہ بھی کہا ہے کہ جب خروج وقت کا خوف ہو تو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں ‘ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اعادہ لازم ہے ‘ اور عطاء بن ابی رباح نے یہ کہا ہے کہ جب پانی دستیاب ہو تو مریض اور غیر مریض دونوں تیمم نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن عبدالبر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خروج وقت کے خوف سے تیمم جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقیم کے لیے خروج وقت کے خوف کے سبب سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ 

(١٣) امن کے زمانہ میں ازواج کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اگر ایک شخص کی کئی بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کو ساتھ لے جائے ‘ اور قرعہ اندازی کر کے اس کو لے جانا مستحب ہے جس کے نام کا قرعہ نکلے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک قرعہ اندازی کرنا واجب ہے 

جنبی کے لیے جواز تیمم میں صحابہ کا اختلاف : 

جنبی کے لیے تیمم کرنے میں صحابہ کا اختلاف تھا ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سے منع کرتے تھے اور جمہور صحابہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں مل سکا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا نماز مت پڑھ۔ حضرت عمار (رض) کہنے لگے ‘ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ ہم دونوں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے بہرحال نماز نہیں پڑھی ‘ لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا ‘ اور میں نے نماز پڑھ لی (جب حضور کی خدمت میں میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑا دیتے ‘ پھر ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کرتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو ‘ حضرت عمار (رض) نے کہا اگر آپ فرمائیں تو میں یہ حدیث کسی اور سے نہ بیان کروں ‘ امام مسلم نے ایک اور سند بیان کر کے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمار (رض) کے جواب کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم تمہاری روایت کا بوجھ تمہیں پر ڈالتے ہیں۔ 

شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا ‘ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور اس کو ایک ماہ تک پانی نہ مل سکے تو وہ شخص کس طرح نمازیں پڑھے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا وہ شخص تیمم نہ کرے خواہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے ‘ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا ‘ پھر آپ سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا جواب دیں گے۔ (آیت) ” فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا “۔ ” جب تم کو پانی نہ مل سکے تو پانی مٹی سے تیمم کرو “ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس آیت کی بناء پر لوگوں کو تیمم کی اجازت دیدی جائے تو وہ پانی ٹھنڈا لگنے کی بناء پر بھی تیمم کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار (رض) کی یہ حدیث نہیں سنی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کیلیے بھیجا ‘ راستہ میں (جب میں سویا تو) مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ پس میں خاک پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا ‘ جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ‘ پھر جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتت میں حاضر ہوا ‘ اور اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے اور بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا اور دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور چہرہ پر مسح کیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کی حدیث پر اطمینان نہیں کیا تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٤٦۔ ٣٤٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢۔ ٣٢١) 

نیزامام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات کو جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧) 

اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) کا بعض مسائل میں اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو طعن تشنیع نہیں کرتے تھے اور فروعی مسائل میں اختلاف کو وسعت ظرف سے لیتے تھے ‘ اگر اس قسم کا اختلاف آج کے مسلمانوں میں ہو تو ایک دوسرے کے خلاف نہ جانے کتنے رسالے لکھے جائیں اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے اور آپس میں جو تم پیزار شروع ہوجائے۔ 

تیمم کی تعریف ‘ اس کی شرائط اور مذاہب فقہاء : 

تیمم ‘ کتاب ‘ سنت اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے ‘ تیمم کی خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو سرفراز کیا ہے ‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ‘ تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں پر کیا جاتا ہے ‘ ہمارا اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں (دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مارنا) ضروری ہیں ‘ ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور ایک ضرب سے کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا جائے ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ سالم بن عبداللہ بن عمر ‘ سفیان ثوری ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اصحاب رائے اور دوسرے تمام فقہاء (رض) کا یہی مسلک ہے ‘ عطاء مکحول ‘ اوزاعی ‘ امام احمد ‘ اسحق ‘ ابن المنذر ‘ اور عامۃ المحدثین کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کیلیے صرف ایک ضرب واجب ہے۔ زہری نے یہ کہا ہے کہ ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے ‘ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے ماوراء تیمم نہیں ہے ‘ اور ابن سیرین سے منقول ہے کہ تیمم میں تین ضربات ہیں ‘ ایک ضرب چہرے کے لیے دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لئے۔ 

علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ تیمم حدث اصغر کے لئے بھی ہے اور حدث اکبر (جنبی ‘ حائض اور نفساء) کے لئے بھی ہے ‘ سلف اور خلف میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں ہے ‘ ماسوا حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک قول کے ‘ یہ بھی روایت ہے کہ ان دونوں نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا ‘ جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے ثبوت میں بکثرت احادیث مشہورہ مروی ہیں ‘ جب جنبی تیمم سے نماز پڑھ لے تو اس پر غسل کرنا بالاجماع واجب ہے ‘ اس میں صرف ابوسلمہ عبدالرحمن تابعی کا قول مخالف ہے لیکن یہ قول بالاجماع متروک ہے ‘ اور احادیث صحیحہ مشہورہ میں وارد ہے کہ جب پانی مل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو غسل کرنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤) اگر مسافر کے پاس پانی نہ ہو تو وہ پھر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے ‘ وہ (اگر اتنا پانی ہو تو) اپنی شرمگاہوں کو دھو کر تیمم کریں اور نماز پڑھ لیں اور اگر انہوں نے اپنی شرمگاہیں دھو لیں تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اور اگر مرد نے اپنے آلہ کو نہیں دھویا اور اس پر رطوبت فرج لگی ہوئی تھی جس قول کے مطابق رطوبت فرج نجس ہے اس کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ورنہ نہیں ‘ جس شخص نے کسی مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کیا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس نے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں پر غالبا پانی نہیں ہوتا ‘ مثلا سفر میں ہے تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے ‘ اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں پر کبھی کبھی پانی نہیں ہوتا اور اکثر ہوتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ ہے (جو شخص ڈیڑھ انگریزی میل کی مسافت پر شہر سے دور ہو اور اس کو پانی دستیاب نہ ہو تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک تیمم کرسکتا ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے، ہدایہ) 

امام شافعی ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ داؤد ظاہری، اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تیمم صرف ایسی پاک مٹی کے ساتھ جائز ہے جس کا غبار عضو کے ساتھ لگ جائے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ زمین کی تمام اقسام سے تیمم کرنا جائز ہے ‘ حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے ‘ اور بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ جو چیز زمین کے ساتھ متصل ہو ‘ اس کے ساتھ تیمم کرنا بھی جائز ہے اور برف کے متعلق ان کی دو روایتیں ہیں ‘ اور اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا کہ برف اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ 

تیمم کے بعض مسائل : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیرجمل (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف جارہے تھے ایک مسلمان نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور تیمم کر کے اس کو جواب دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩ )

یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ اس وقت پانی نہیں تھا کیونکہ جب پانی موجود ہو اور اس کے استعمال پر قدرت ہو تو تیمم جائز نہیں ہے ‘ خواہ فرض نماز ‘ نماز عید ‘ یا نماز جنازہ کے فوت ہونے کا خوف ہو ‘ امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عید اور جنازہ کے فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے تیمم جائز ہے ‘ کیونکہ ان کی قضاء نہیں ہے۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مٹی کی جنس سے تیمم کرنا ضروری ہے اور اس پر غبار ہونا ضروری نہیں جیسا کہ احناف کا مذہب ہے کیونکہ عام طور پر دیوار پر غبار نہیں ہوتا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دیوار کے مالک کی اجازت کے بغیر آپ نے کیسے تیمم کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دیوار مباح تھی یا کسی ایسے شخص کی دیوار تھی جس کو آپ جانتے تھے اور آپ کو علم تھا کہ آپ کے تصرف سے اس کو اعتراض نہیں ہوگا ‘ اس حدیث میں نوافل کے لیے تیمم کرنے پر بھی دلیل ہے ‘ پیشاب کرتے وقت جس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کافورا جواب نہیں دیا ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ قضاء حاجت کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اسی طرح اس حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے۔ اسی طرح جماع کی حالت میں بھی ذکر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس حال میں مطلقا کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن ضرورت کے مواقع مستثنی ہیں ‘ مثلا کسی نابینا کو کو یں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھے تو بتادے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

امام, مقرر, پیر اور ہم

📌امام, مقرر, پیر اور ہم📌

🖊 محمد شاہد علی مصباحی

آج ہندوستان میں ہماری قوم کو جتنا نقصان ہمارے دشمن اپنی رات دن کی محنت اور کوشش سے نہیں پہنچاتے اس سے کہیں زیادہ ہم اور آپ خود پہنچاتے ہیں ۔اور مذہب اسلام کی روح اور جسم دونوں کو زخمی کرتے ہیں۔جبکہ دوسرے لوگ تو صرف ہمارے مذہب کے جسم کو ہی زخمی کرتے ہیں۔

اب آپ یہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے مذہب کو کیوں اور کیسے زخمی کرتے ہیں ؟ ۔ ہم تو اسلام کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔اور اسکے لئے ہم اپنی پوری توانائی کے ساتھ کوشش کرتے ہیں.

تو آئیے میں آپکو بتا دوں ہم اپنی قوم کو کیسے نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ قوم کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے ۔ کوئی بھی قوم اس وقت ترقی حاصل کرتی ہے جب اس قوم کے ہادی ،رہبر،مارگ درشک ،پڑھے لکھے اور بلند فکر اور قوم کے لئے اپنی جان و مال سب کچھ قربان کرنے کا جذبہ رکھنے والے ہوں۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری قوم کے رہبر ،ہادی کون ہیں ؟ ۔وہ تیں طرح کے لوگ ہیں ۔ امام ، مقرر اور پیر۔

1⃣امام

امام قوم کا پیشوا اور رہنما ہوتا ہے ۔امام اگر چاہے تو قوم کی کشتی کو ساحل نجات تک پہنچا دے ،یا قوم کو گمنامی کے دلدل میں لے جاکر ڈال دے۔ غور فرمائیں ! امام کب قوم کو صحیح راستہ دکھائے گا ؟ جب وہ پڑھا لکھا اچھی فکر والا حافظ و عالم ہوگا۔

اب ہم اپنے اماموں کے ایجوکیشن انکی تعلیم انکی ڈگری پر غور کریں تو ہمیں نظر آئیگا کہ زیادہ تر امام صرف حافظ ہیں ان میں بھی اکثر تو ایسے ہوتے ہیں جو نماز کے مسائل تک سے واقفیت نہیں ، اور نہ جانے کتنے ایسے ہیں جنکو قرآن تک پڑھنا نہیں آتا کئی مرتبہ تو ایسا لگتا ہے کہ جماعت چھوڑ کر الگ نماز پڑھ لی جائے۔

ایسے لوگ نہ تو نماز کے مسائل سے پوری طرح واقف ہوتے ہیں اور نہ ہی وہ قوم کی رہنمائی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ لیکن ہم نے انہیں اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں! کہ کیا وہ ہماری رہنمائی کر سکتے ہیں ؟ جن کو خود راستہ کا علم نہ ہو ۔ مگر افسوس آج کل ہم نے زیادہ تر ایسے ہی افراد کو اپنا امام بنا لیا ہے۔ اب لامحالہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ

؏ مرا راہبر ہے وہ راہبر جسے راستے کی خبر نہیں

اب ظاہر سی بات ہے انسان وہی خرچ کرتا ہے جو اسکے پاس ہو۔اور برتن سے وہی چیز نکلتی ہے جو اس میں رکھی گئی ہو۔

آپ یوں سمجھئے کسی مریض کو ( ۵۰۰ mg )کی دوا کی ضرورت ہے اور آپ اسے صرف (۰۵mg ) کی دوا دیں تو کیا ہوگا؟۔

اسی لئے ہم جب بھی امام چنیں تو ہمیشہ یہ خیال رکھیں کہ وہ قوم کے لئے مخلص اور حافظ و عالم کے ساتھ ساتھ ایک اچھا مفکر اور قوم کا غمخوار بھی ہو۔ یا کم از کم نماز کے مسائل سے واقفیت رکھتا ہو ،نیز قرآن کو صحیح طریقہ پر پڑھ نے کی صلاحیت کا ما لک ہو۔

جب امام حافظ کے ساتھ ساتھ عالم نھی ہوگا تو وہ اپنے بیانات میں آپ کو مسائل بتائے گا اور وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے بیانات سے قوم کی صحیح رہنمائی کریگا۔

ایک جگہ اما م کی ضرورت پیش آئی کچھ لوگوں نے کہا ایک بہت ہی اچھے علامہ، مولانا، حافظ وقاری ہیں تو انہیں بلوایا گیا ۔بڑی لمبی اونچی ٹوپی اور جبہ قبہ کے ساتھ عطر بیزیاں فرماتے ہوئے مسجد میں داخل ہوئے ،جمعہ میں تقریر کی تو یہ محسوس ہوا کہ ساری مسجد سر پر اٹھا لیں گے مگر جب ان سے مارک شیٹ مانگی گئی تو صرف حفظ کی نکلی ۔

2⃣مقرر

(تقریر کرنے والا)۔یہ طبقہ بھی قوم کے لئے بہت اہمیت رکھتا ہے۔

لوگ ان لوگوں کے نام سے جمع ہوتے ہیں جب کسی پوسٹر میں اچھے مقرر ( اسپیکر) کا نام دیکھتے ہیں تو دوڑے چلے آتے ہیں۔اگر یہ لوگ اپنا کام پوری ایمانداری کے ساتھ نبھائیں تو ساری عوام کو نجات کے راستے پر لگا دیں ،اور تمام مسلمانوں کو اللہ کی بارگاہ میں سر و سجود ہونے والا بنا دیں

مگر افسوس کے ساتھ پھر وہی بات کہنا پڑ رہی ہے کہ اس جماعت کی ایک بڑی فہرست ہے جو نہ تو تعلیم سے شغف رکھتی ہے اور نہ قوم کی خیر خواہی ۔ بلکہ یہ جماعت تقریر صرف اور صرف اپنے فائدے ، نزرانے اور عوام کو خوش کرنے کے لئے کرتی ہے۔ وہ قوم مسلم جو عبادت رب کے لئے پیدا کی گئی ہے اسے نماز ،روزہ، زکوۃ اور ضرورت کے مسائل نہ بتا کر ممبرر سول پر بیٹھ کر چٹکلے ، جھوٹھی روایات، من گڑھت واقعات، امیروں کی چاپلوسی میں وہ قیمتی وقت گزار دیتے ہیں جو قوم کی سیاسی، سماجی ،دینی ، فلاح و بہبود اور اس کی اصلاح کے لیئے وقف کیا گیا تھا ۔اور نہ جانے کتنے مسلم بھائیوں اور بہنوں کی خون پسینہ کی کمائی پر شب خون مار جاتے ہیں ۔ اور افسوس! کہ ہم اور آپ ایسے ہی مقرروں کو پسند کرتے ہیں۔

یاد رکھئے ! جلسے جو قوم کی اصلاح اور رہنمائی کے لئے ہوتے تھے ہم نے انہیں امیروں کی تعریف گاہ ،چٹکلے اور ایکٹنگ کا جوہر دکھانے اسٹیج بنا کر رکھ دیا ہے ۔ اگر یہی حال رہا اور ہم نے ایسے مقرروں (اسپیکرس) کا بائکاٹ نہیں کیا جو ہماری قوم کو تاریکیوں میں ڈال کر اپنی جیبیں بھرنا چاہتے ہیں ۔تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا نام و نشان تک دنیا میں باقی نہیں رہے گا۔

؏ تمھاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

اگر واعظ قوم کا درد رکھنے والا ہوگا تو وہ قوم کو ابھرتے ہوئے مسائل سے باخبر کریگا ،انہیں صراط مستقیم پر لانے کی خاطر کوشش کریگا ،انہیں مسائل دینیہ سے آگاہ کریگا ،اسلام کی قدر سے آشنا کریگا، سیرت رسولﷺ اور سیرت صحابہ کرام ﷢ کا درس دیگا، بزرگان دین اور اکابرین امت ﷭ کے ارشادات و فرمودات کی تعلیم عام کریگا ۔اور اگر واعظ مخلص اور قوم کا ہمدرد نہیں تو وہ کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے یہ آپ بخوبی جانتے ہیں۔

3⃣پیر

پیر مسلمان کا جسمانی اور روحانی ہادی ہوتا ہے ۔پیر کو دیکھ مرید راہ ہدایت پا جاتے ہیں اگر پیر کامل ہے تو مرید کو شریعت کے علم و عمل کا غازی بنا دے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں حضور شیخ الشیوخ ،قطب الاقطاب ،محبوب سبحانی سیدنا غوث الاعظم عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں چور آیا تو قطب بن کر لوٹا ۔عطائے رسول سلطان الہند خواجۂ خواجگاں فخر ہندوستاں خواجہ معین الدین چشتی حسن سنجری (خواجہ غریب نواز) رضی اللہ تعالی عنہ نے جادوگر جوگی جے پال یا کو مومن(عبداللہ بیابانی) بنا دیا۔

لیکن کوئی بھی یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ کبھی حضور غوث اعظم یا خواجہ غریب نواز (رضی اللہ تعالی علیھم اجمعین کو کسی نے نماز چھوڑتے یا شریعت کے خلاف کوئی کام کرتے دیکھا ہو۔

مگر آج کچھ ایسے پیر بھی ہیں جو قوم مسلم کو بیوقوف بناتے ہیں صرف اور صرف پیسے کے لئے عوام کے سامنے شریعت کا جنازہ نکالتے رہتے ہیں

اذان ہوتی رہتی ہے ،نماز ہوتی رہتی ہے نہ تو پیر صاحب خود نمازادا کرتے ہیں اور نہ مریدوں کو نماز کے لئے کہتے ہیں اور جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آپ نماز نہیں پڑھتے تو کبھی کسی جاہل پیر سے جواب ملتا ہے کہ ہم مدینہ شریف میں نماز پڑھتے ہیں اور کبھی جواب ملتا ہے کہ ہم روحانی نماز پڑھتے ہیں ، کبھی کہاجاتا ہے کہ اب ہم فنا فی اللہ ہو گئے ہیں اب ظاہری عبادات نماز ، روزہ، خاص کر زکوٰۃ تو بالکل ہم سے ساقط ہے ۔ہاں مگر کوئی مرید دس بار بھی حج کرائے تب بھی حج ساقط نہیں ہوتا ۔ کیوں کہ فری میں ایک فارن ٹرپ شاپنگ کے ساتھ میسر آتی ہے اور جاتے وقت مریدین جو نذرانہ پیش کرتے ہیں وہ بونس ۔

لوگو! ذرا غور کرو ایسے پیر نماز تو مدینے میں ادا کرتے ہیں مگر کھانا مرید کے گھر پر ہی کھاتے ہیں، فنا فی اللہ ہونے کے بعد کھانا ساقط نہیں ہوتا اور وہ بھی عمدہ اور لذیذ ، کیوں کہ اگر کھانا ساقط پوگیا تو جان بھی ساقط ہوجائے گی۔اور پیر صاحب کو جان بڑی پیاری ہے۔ اور پیسے بھی ساقط نہین ہوتے کیوں کہ انہیں سے عیش و عشرت کا سامان مہیا ہونا ہے، حج ساقط نہیں ہوتا کیوں کہ گھومنے کو ملتا ہے نذرانوں کے ساتھ۔

ہاں اگر کوئی چیز فنا فی اللہ ہونے کے بعد ساقط ہوتی ہے تو وہ نماز ہے۔کیوں کہ اس میں ان ڈھونگیوں کو سوائے مشقت کے کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔

کیا کبھی ایسا سنا ہے؟ کہ حضور ﷺ کے گھر سے کوئی مہمان آکر بغیر کھانا کھائے واپس گیا ہو ۔مگر یہ پیر کہتے ہیں کہ حضورﷺ نماز کے لئے مدینہ بلاتے ہیں ۔مگر نماز کے بعد کہہ دیتے ہیں کہ کھانا مریدوں کے گھر کھا لینا ۔اور وہ بھی (چکن،مٹن) سے کم مت کھانا اگر سبزی روٹی ہو تو کسی دوسرے کے گھر کھا لینا۔

اے لوگو! کب تک ان ڈھونگی پیروں کے چنگل میں پھنستے رہو گے ؟

اور وہ پیر جو کہتے ہیں ہماری نماز معاف ہے وہ یہ نہیں سوچتے کہ جب حضورﷺ کی نماز معاف نہ ہوئی ،تو ان جاہل پیروں کی کیا معاف ہوگی؟۔

ایسے پیروں کے لئے حضرت مولانا روم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔

کار شیطاں میکند نامش ولی

گر ولی ایں است لعنت بر ولی

ترجمہ۔شیطان کا کام کرتا ہے اور اپنے آپ کو ولی کہتا ہے اگر اسی کو ولی کہتے ہیں تو لعنت ہے ایسے ولی پر

4⃣ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

پیارے اسلامی بھائیو ! یہ تین لوگ اگر سدھر جائیں تو قوم مسلم آج کے اس دور کے پر آشوب ماحول میں بھی اپنا کھویا ہوا وقار پا سکتی ہے۔اگر ہمارے امام پڑھے لکھے حسساس ہونگے تو ہمیں صحیح راہ دکھائیں گے چاپلوسی کر کے وقت برباد نہیں کریں گے اور اگر ہمارے مقرر (اسپیکرس) ہمیں صحیح راستہ دکھائیں گے اور جوکس اور چاپلوسی سے کام نہیں لیں گے تو ہمیں صحیح جانکاری ملے گی اور ہم دنیا میں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی اجر پائیں گے۔

اور اگر پیر چاہیں تو شریعت پر خود عمل کر کے سارے مریدوں کو بھی نمازی اور شریعت پر عمل کرنے والا بنا سکتے ہیں یہی وہ تین گروپ ہیں جو قوم مسلم کو صرف اپنے فائدے کے لئے نقصان اور پستی کی گہرائیوں کی طرف دھکیل رہے ہیں ۔ہمیں اب انکی فریب کاریوں سے اپنے آپ کو اور اپنی قوم کو بچانا ہے

مساجد انتظامیہ

صبح سویرے مختلف ائمہ مساجد کی قرات سننا ، مصر کےفرماں رَوا ابن طولون کی عادت میں شامل تھا ۔

ایک دن ( قراَت سن کر گھر لوٹے تو ) اپنے مصاحب سے کہنے لگے:

یہ دینار لے جاؤ اور فلاں مسجد کے امام صاحب کو دے آؤ!

مصاحب کہتاہے: میں دینار لے کر امام صاحب کےہاں پہنچا ، تو ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔

امام صاحب میرے ساتھ گُھل مِل گئےاوراپنے دُکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہنے لگے :

” میری بیوی کے ہاں ولادت ہونے والی ہے ، لیکن میرے پاس اتنی رقم بھی نہیں کہ اُس کے لیے ضروری سامان لاسکوں ، اسی پریشانی میں آج نماز پڑھاتے وقت بھی کئی غلطیاں ہوگئیں ۔ “

مصاحب کہتاہے میں نے آکر ابن طولون کو ساری بات بتائی

، تو کہنے لگے:

امام صاحب نے سچ کہا ؛ میں آج ان کی قرات سننے کے لیے ٹھہرا تو وہ بہت غلطیاں کررہے تھے ، میں نے سمجھ لیا ان کا دل کسی اور طرف مشغول ہے ۔( اسی لیے انھیں رقم بھجوائی )

( انظر: الاذکیا لابن جوزی ، الباب الحادی عشر فی سیاق المنقول من ذلک عن السلاطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ص 57 ، ط دارالفکر بیروت ، س 1425 ھ )

اللہ پاک ہماری مساجد انتظامیہ کو بھی ابن طولون جیسی فہم و فراست عطافرمائے ۔

امام صاحبان کے بھول جانے پر ، چڑھائی کرنے کے بجائےبھولنے کی وجہ تلاش کیا کریں ، ہوسکتا ہے وہ بھی مصری امام کی طرح کسی پریشانی میں مبتلا ہوں!

میرے مسلمان بھائیو! جس طرح دینِ اسلام میں مسجد کا مقام بہت بلند ہے ، اسی طرح امام مسجد کی بھی بڑی شان ہے ۔

اگر غور کیا جائے تو امام ہی وہ ہستی ہے جس کے طفیل اللہ تعالی مقتدیوں کو ایک نماز کے بدلے کئی کئی نمازوں کا ثواب عطافرماتاہے ۔

اس لیے ہم سب پرفرض ہے کہ اپنے امام مسجد کی دنیوی ضرورتوں کا ہرطرح سے خیال رکھاکریں ، تاکہ وہ فارغُ البال ہوکر ہمیں دین سکھائیں ۔

لقمان شاہد

22/4/1440 ھ

علماء آسمان کے نیچے بدترین خلق

حدیث نمبر :266

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نےعنقریب لوگوں پر وہ وقت آئے گا جب اسلام کا صرف نام ۱؎ اورقرآن کا صرف رواج ہی رہ جائے گا۲؎ ان کی مسجدیں آباد ہوں گی مگر ہدایت سے خالی۳؎ ان کے علماءآسمان کے نیچے بدترین خلق ہوں گے ان سے فتنہ نکلے گا اور انہیں میں لوٹ جائے گا ۴؎ اسے بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کیا ہے۔

شرح

۱؎ اس طرح کہ مسلمانوں کے نام اسلامی ہوں گے اور اپنے کو مسلمان کہتے ہوں گے مگر رنگ ڈھنگ سب کافروں کے سے جیسا آج دیکھا جارہا ہے،یا ارکان اسلام کے نام و شکل تو باقی رہیں گے مگر مقصود فوت ہوجائے گا،نماز کا ڈھانچہ ہوگا خشوع خضوع نہیں،زکوۃ دیں گے مگر قوم پروری ختم ہوجائے گی،حج کریں گے مگر صرف سیر کے لیئے،جہاد ہوگا مگر صرف ملک گیری کے لیئے۔

۲؎ رسم نقش کو بھی کہتے ہیں اور طریقہ کو بھی،یہاں دونوں معنی درست ہیں،یعنی قران کے نقوش کاغذ میں اور الفاظ زبان پر ہوں گے مگر احترام قلب میں اور عمل قالب میں نہ ہوگا یا رسمًا قرآن پڑھایا رکھا جائے گا،کچہریوں میں جھوٹی قسمیں کھانے کے لیئے،اور گھروں میں میت پر پڑھنے کے لیئے،عمل کیلئے عیسائیوں کے قوانین ہوں گے۔

۳؎ یعنی مسجدوں کی عمارت عالی شان،درودیوار نقشیں ،بجلی کی فٹنگ خوب،مگر نمازی کوئی نہیں،ان کے امام بے دین،گویا مسجد میں بجائے ہدایت کے بے دینیوں کا سرچشمہ بن جائے گی،ہر مسجد سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ درس کی آوازیں آئیں گی مگر وہ درس زہر قاتل ہوں گے،جن میں قرآن کے نام پر کفر و طغیان پھیلایا جائے گا۔

۴؎ یعنی بے دین علماءسوء کی کثرت ہوگی جن کا فتنہ سارے مسلمانوں کوگھیرلے گا جیسے دائرے کا خط جہاں سے شروع ہوتا ہے وہیں پہنچ کر دائرہ کومکمل بنادیتا ہے اور ساری سطح کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے ایسے ہی ان کا فتنہ ہوگا۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ سارے عالم خراب ہوجائیں گے ورنہ دین مٹ جاتا۔اللہ اس دین اور صلحائے حق کو تاقیامت رکھے گا جو دین کو اصلی رنگ میں باقی رکھیں گے جیسا کہ آج بھی دیکھا جارہاہے۔

علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا

حدیث نمبر :204

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ علم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا ۱؎ حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے گمراہ ہوں گے گمراہ کریں گے ۲؎(بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ یہ حدیث کا تتمّہ ہے جس میں فرمایا گیا کہ قریبِ قیامت علم اُٹھ جائیگا،جہالت پھیل جائے گی،یعنی اس کے اٹھنے کا ذریعہ نہ ہوگا کہ لوگ پڑھا ہوا بھول جائیں گے،بلکہ علماء وفات پاتے رہیں گےاور بعد میں دوسرے علماء پیدا نہ ہوں گے جیساکہ اب ہورہا ہے کہ ایک خلقت انگریزی کے پیچھے پھر رہی ہے،دینِ رسول اللہ یتیم ہو کر رہ گیا۔علم سے علمِ دین مراد ہے۔

۲؎ پیشوا سے مرادقاضی،مفتی،امام اور شیخ ہیں جن کے ذمّے دینی کام ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ دینی عہدے جاہل سنبھال لیں گے اور اپنی جہالت کا اظہار ناپسندکریں گے۔مسئلہ پوچھنے پر یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں خبر نہیں بلکہ بغیر علم گھڑکر غلط مسئلے بتائیں گے اس کا انجام ظاہرہے۔بےعلم طبیب مریض کی جان لیتا ہے اور جاہل مفتی اور خطیب ایمان بربادکرتے ہیں۔

مشائخ سے محبت کیوں ؟

مشائخ سے محبت کیوں ؟

جہانگیر حسن مصباحی

محترم قارئین! ہم جو زندگی بسرکررہے ہیں اُس پر غوروفکرکریں تو اُس کے دورُخ سامنے آتے ہیں :

۱۔ دنیوی رُخ 

 ۲۔دینی رُخ 

اور یہ دونوں رُخ ہماری زندگی کے انتہائی لازمی جزو ہیں۔اس سے نہ تو ہم منھ موڑ سکتے ہیں اورنہ اُس کے بغیرہماری زندگی کی گاڑی آگے بڑھ سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں ان دونوں شعبوں کو بہتر سے بہتر بنانے کی تاکیدو تلقین فرمائی ہے اور اُس کے لیے دعا مانگنےکایہ قرآنی طریقہ بھی عنایت فرمایا ہے:

 رَبّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (بقرہ ۲۰۱)

 یعنی اے ہمارےرب!ہماری دنیا بھی بہتر بنااور ہماری آخرت بھی اور ہمیں جہنم کی تکلیف سے بھی محفوظ رکھ ۔

 گویاہماری زندگی کے اِن دونوں خانوں میں جب تک اعتدال وتوازن(Balance)قائم نہیں ہوجاتا،اس وقت تک نہ ہماری دنیوی زندگی کامیابی سے ہمکنارہوسکتی ہےاور نہ ہی ہماری دینی زندگی صلاح وفلاح کے پُل صراط سے گذرسکتی ہے،اگر اعتدال وتوازن قائم نہیں ہوتا تو یقین جان لیں کہ ہم عذابِ الٰہی کےمستحق ضرورہوں گے ۔

 اب سوال یہ ہے کہ ہماری دنیوی اور دینی زندگی میں اعتدال وتوازن کیسے قائم ہو،اورہم کون سا عمل کریں جس سے ہماری دنیابھی حسین رہے اور ہماری آخرت بھی سنورجائے ؟

تو اِس سلسلے میں عرض ہے کہ کتاب وسنت پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سےبھی محبت و عقیدت رکھنی ہوگی، تاکہ ہمارابےنور دل پُرنورہو،اورخودشناسی کے ساتھ اُن سےخداشناسی کی دولتیں بھی حاصل ہوں۔ کیوں کہ یہ طے شدہ حقیقت ہے کہ جس طرح قلبی اطمینان کے لیے قلب کاتزکیہ وتصفیہ ناگزیر ہے اسی طرح خداشناسی کے لیے خودشناسی بھی انتہائی لازم و ضروری ہے،کیوں کہ خودشناسی پر ہی خداشناسی موقوف ہے۔ اس کی تائید اِس قول سے بھی ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے:

 مَنْ عَرَفَ نَفْسَہٗ فَقَدَ عَرَفَ رَبَّہٗ۔ 

یعنی جس نے خود کو پہچان لیا گویااُس نے اپنے رب کو پہچان لیا۔

چنانچہ اگر ہم واقعی خودشناسی اورخدا شناسی کے طلب گار ہیں تو ہمارے اوپرواجب ہے کہ ہم اپنے دلوں میں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ کی محبت کو راسخ کریں،اُن کی صحبت اختیارکریں اوراُن کی تعلیمات کو اپنا وظیفہ بنائیں۔ کیوں کہ یہ فطری بات ہے کہ جب ہم کسی سے محبت کرتے ہیں تواخلاقی طورپر اُس کی چھوٹی سے چھوٹی بات کوبھی نظرانداز نہیں کرپاتے بلکہ اُس کی ہر بات کوبسروچشم قبول کرلیتے ہیں،چاہے اُس کی وجہ سےہمیں ہزارمصیبتوں کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے ،یعنی ہمیشہ اور ہرحال میں اُس کی رضا وخوشنودی کے طالب رہتے ہیں ،اسی طرح عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے جب ہماری محبت گہری اور سچی ہو گی تو یقیناً ہم اُن کی تعلیمات مثلاًتواضع وانکساری،اخوت ومحبت،تعظیم مومن،اصلاح نفس،عیب پوشی اور اس طرح کے دوسرے اعلی ایمانی اور اخلاقی اقدار سے حصہ پائیں گے اور جب ہمارے اعمال وکردارمیں اُن کی تعلیمات واصلاحات رچ بس جائیں گی تو پھر ہماری دنیابھی بن جائے گی اورہماری آخرت بھی سنورجائے گی۔

 یہاں یہ بات بھی یادرکھنے کی ہے کہ عارفین باللہ اورصوفیامشائخ ایک آئینے کی حیثیت بھی رکھتے ہیں،جس طرح آئینے کے سامنے جانے سے ہم اپنے بدن کے ظاہری عیوب ونقائص سے آگاہ ہوتے ہیں اوراُن کو دورکرکے اپنی ظاہری خوب صورتی میں چارچاند لگاتے ہیںاسی طرح عارفین باللہ اورصوفیامشائخ کی خدمت میں جانے سے ہمیں اپنے قلبی اورذہنی عیوب ونقائص سے آگاہی ہوتی ہے جنھیں ہم مشائخ کے فیضان اور اُن کی صحبت کی برکتوں سے دورکرتے ہیں اور ہمارا باطن نورِ حق سے منورہواُٹھتا ہے۔ پھر نتیجے کے طورپر ہم اپنی حقیقت وجودسے بھی آگاہ ہوتے ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کی ذات وصفات سے بھی ۔

مزید ہمیں اس پہلو پر بھی نظر رکھنی ہوگی کہ ہم جوعارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے محبت وعقیدت رکھتے ہیں اس میں ہم کہاں تک سچے ہیں،اور ہماری یہ عقیدت ومحبت کہیں رسمی تو نہیں؟ میرے خیال میں اس کی حقیقت واصلیت کو چانچنے کرنے کا آسان ساطریقہ یہ ہے کہ ہم اپنااپنامحاسبہ کریں اور یہ دیکھیں کہ جن مشائخ سے ہم محبت و عقیدت کے دعویدار ہیں اُن کے اعمال وکردار کا اثر ہماری دنیوی اوردینی زندگی پر کس قدر ہے؟ اُن کے فرمودات وتعلیمات پر ہم کہاں تک عمل کررہے ہیں اوراُن کے پیغامات کے سانچے میں واقعی ہم ڈھل بھی رہے ہیں یا اُن کے پیغامات کو اپنے بنائے ہوئے سانچے میں ڈھال رہے ہیں؟اگرہمارے اندراُن کے اعمال وکردارکااثر ہےتوالحمدللہ!ورنہ ہم اپنے اندرموجودعیوب ونقائص کودورکرنے کی پوری پوری کوشش کریں۔ وہ اس طورپر کہ اپنے محبوب ومقتدامشائخ کےقابل تقلید اعمال وکردار کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں اوراُنھیں اپنی دنیوی ودینی زندگی میں نافذ کریں ،اور جس طرح اُن نفوس قدسیہ نے ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھا اور عیب پوشی کے ساتھ اختلاف کی صورت میں بھی اتحاد واتفاق کادامن نہیں چھوڑا،اسی طرح ہم بھی ایک دوسرے کی عزت نفس کا خیال رکھیں اورعیب پوشی کے ساتھ اختلاف کے باوجود اتحاد واتفاق کا دامن نہ چھوڑیں ۔ مثلاًیہ واقعات دیکھیں:

۱۔ایک بار شیخ شہا ب الدین سہروردی اور شیخ اکبر ابن عربی کا آمنا سامنا ہو ا۔ دو نو ں بزرگوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، لیکن کوئی بات نہیں کی،اور دونوں اپنی اپنی منزل کی طرف بڑھ گئے۔ یہ دیکھ کر ایک شخص نے شیخ اکبر ابن عربی سے دریافت کیاکہ شیخ شہاب الدین سہروردی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ اس پر اُنھوں نے فرمایا:

 مَمْلُوْءُ سُنَّۃٍمِّنْ فَوْ قِہٖ إلٰی قَدْمِہٖ۔

یعنی وہ سرسے پاؤں تک سنت مبارکہ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

اس کے بعد اُس شخص نے شیخ شہا ب الدین سہر وردی سے دریافت کیاکہ شیخ اکبر ابن عربی کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟اس پر اُنھوں نےفرمایا :

 ھُوَ بَحْرُ الْحَقَا ئِقِ۔

 یعنی وہ حقائق ومعارف کے سمندر ہیں ۔

۲۔امام شافعی کااپنےشاگرد یونس بن عبد الاعلیٰ سے ایک مسئلےمیں مبا حثہ ہو گیااوروہ دونوں ایک رائے پر متفق نہ ہو سکے ۔ پھرجب کچھ دنوں بعد امام شافعی کی ملاقات یونس بن عبدالاعلیٰ سے ہوئی، توامام شافعی نے اُن کا ہاتھ تھاما اور فر مایا:کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم بھائی بھائی بن کر رہیں،اگرچہ ایک مسئلے میں ہمارا اتفاق نہیں۔

 ۳۔ایک بار مخدوم بہار شیخ شرف الدین احمد یحیٰ منیری کا گذر ایک گاؤں سےہوا۔عصر کا وقت تھا،جماعت کھڑی تھی،اور باوضوبھی تھے ،جماعت میں شامل ہوگئے ۔نمازبعد چلنے لگے کہ ایک شخص نے اُن کو پہچان لیا،پھر اُن سے کہنے لگا کہ حضور! جس امام کے پیچھے آپ نے نماز اداکی ہے وہ ایک شرابی ہے۔آپ نے فرمایاکہ وہ رات میں پیتا ہوگا دن میں نہیں ۔اس شخص نے کہا کہ نہیں، حضور! دن میں بھی پیتاہے،پھر انھوں نے فرمایاکہ اچھا روزروزنہیں پیتاہوگا۔اُس شخص نے پھر کہا کہ نہیں، حضور!وہ روز پیتا ہے ،پھر اُنھوں نے فرمایا کہ اچھا عام دنوں میں پیتا ہوگا رمضان کے دنوں میں نہیں پیتا ہوگا ۔غرض کہ وہ شخص امام کے عیب کو مزے لے لے کر بیان کرتا رہا اور مخدوم بہار اُس کی عیب پوشی کرتے رہے۔یہ خبر امام تک پہنچی تو وہ فوراً مخدوم بہار کی خدمت میں پہنچا اور یہ کہہ کر تائب ہوگیا کہ حضور!ہرایک نےمیرے عیبوں کوبیان ہی کیا،آج تک کسی نےاس پر پردہ نہیں ڈالا۔ آپ وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے نہ صرف میرے عیبوں کو چھپایاہے بلکہ مجھے ذلیل ورسوا ہونے سے محفوظ رکھنے کی کوشش بھی کی ہے۔

 یہ سن کر مخدوم بہار نے فرمایاکہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ۔سنو! اللہ رب العزت جب ہمارے ہزاروں عیبوں کو چھپاسکتا ہے اور دنیا والوں کے سامنے رسوا ہونےسے بچاسکتا ہے تو کیا ہم اُس کےبندے ہوکر مخلوق کےایک عیب کو بھی چھپانہیں سکتے۔

 ان تینوں واقعات میں جس مثبت فکراوراِکرام واحترام کے جس جذبےکا اظہار کیاگیا ہے ،میرے خیال میں اس کے پیچھے اصل وجہ یہی ہے کہ یہ اشخاص نہ صرف اپنی عزت نفس کے رکھوالے تھے بلکہ تمام مخلوقات کی عزت نفس کے محافظ بھی تھے،اوریہ اُسی کی برکت ہے کہ لاکھ اختلاف کے باوجودیہ لوگ آپس میںایک دوسرےکا ازحداِکرام واِحترام کیاکرتے تھے ،جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ شروفساد سراُٹھانے سے پہلے ہی سرنگوں ہوگیا۔ اِنھیں باتوں کی تعلیم دیتے ہوئےسلطان العارفین مخدوم شاہ عارف صفی فرماتے ہیں: ہر شخص کوچاہیے کہ دوسروں کو اپنے سے افضل جانے، اپنے عیبوں کو دیکھے،اور دوسروں کے عیوب پر نگاہ نہ رکھے۔

 گویا اِن مشائخ کےمذکورہ بالا اعمال وکردارواضح طورپر ہمیں یہ پیغام وترغیب دیتے ہیں کہ ہم اپنے اعمال وکردارکاپل پل جائزہ لیں کہ ہم ایک دوسرے کی عزت نفس کاخیال کہاں تک رکھتے ہیں؟کیا اختلاف اور عدم اتفاق کی صورت میں بھی ہم آپسی اخوت ومروت کا مظاہرہ کرتے ہیں؟اور کیاہم اپنے بھائیوں کے عیوب کی پردہ پوشی کرکے اُسے ذلیل و رسوا ہونے سے بچاتے ہیں؟چنانچہ بالخصوص آج کے اس افراتفری کے ماحول میں جب کہ ایک سے ایک قدآور شخصیات ایک دوسرے کی عزت نفس کاخیال نہیں رکھ پارہی ہیں عارفین باللہ اورصوفیامشائخ سے محبت وعقیدت اوربھی ناگزیر ہوگئی ہےکہ ایک طرف اُن سے عقیدت ومحبت ہمیں برائیوں میں ملوث ہونے سے محفوظ رکھے گی تو دوسری طرف ہمارے دلوں میں دیگر علماو مشائخ کے احترام واکرام کا جذبہ بیدارکردے گی ،اورپھرہم تخریب کاری کی جگہ تعمیری عمل کافریضہ انجام دے سکیں گے۔