جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کُرلا ویسٹ، ممبئی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ [الصحیح للامام البخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، رقم الحدیث: ۳۳]ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں [۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے [۲] جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے[۳] جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جاے تو اُس میں خیانت کرے ۔یعنی مسلمان کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جھوٹ بولے ، وعدہ خلافی کرے اور امانتوں میں خیانت کرے ۔ ایسا کرنا تو منافقوں کا کام ہے جو کہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے ؛لیکن جو لوگ اللہ و رسول پر یقینِ کامل رکھتے ہیں وہ صداقت کے پیکر ہوتے ہیں ، کیے ہوے وعدہ کو پورا کرنا اُن کی فطرت ہوتی ہے اور وہ خیانت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔حدیثِ پاک میں آقاے دو عالَم ﷺنے اسلام کے بنیادی اوصاف بیان فرماے ہیں ، اِسی لیے بعض روایتوں میں یہ آیا کہ جو لوگ اِن اوصاف سے عاری ہوں وہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ، اگرچہ وہ نمازی ، روزے دار اور مدعیٔ ایمان ہوں ۔

کچھ نادانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین صرف چند فرائض و واجبات پر عمل کر لینے کا نام ہے ۔ نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لیے ، حجِّ بیت اللہ کے ساتھ ہر سال ایک عمرہ کر لیا اور زکوٰۃ کے نام پر کچھ رقم غریبوں اور مسکینوں کو دے کر فارغ ہو گیے۔ایسے جاہلوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اِن باتوں کے علاوہ ہم سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں ہوگا ۔ اِسی لیے بہت سے نمازیوں اور روزے داروں بلکہ حاجی صاحبان کو جھوٹ بولتے ، مکاری کرتے ، ناجائز طریقے سے تجارت کرتے ، امانت میں خیانت کرتے ، گالی گلوج کرتے ، سودی کاروبار کرتے ، رشوت خوری کرتے ،ناپ تول میں کمی کرتے اور بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا دیکھا جاتا ہے جن کی مذہبِ اسلام میں ایک ذرّے کے برابر ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایسے لوگ نماز ، روزہ اور حج و زکوۃ کا اہتمام کرکے ، سر پر ٹوپی رکھ کر یا عِمامہ باندھ کراور چہرے پر ڈاڑھی سجا کرخود کو بہت بڑا متقی وپارسا خیال کرتے ہیں حالانکہ دیگر ناجائز کاموں اور حرام کاریوں میں مبتلا ہونے کے سبب یہ لوگ بد ترین فاسق و فاجر ہوتے ہیں ۔

جو چیزیں مومن کو فاسق و فاجر بنا کر کمالِ ایمان سے بہت دور کر دیتی ہیں ،اُن میں سے تین اہم چیزوں کا ذکر حدیثِ مذکور میں کیا گیا ہے ، جن کے اندر یہ تینوں باتیں ہو ں وہ منافقوں جیسے کام کر رہے ہیں ، ایسے لوگ صحیح معنوں میں مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔عام مسلمان کے ذہنوں میں حدیثِ پاک میں مذکور تینوں عیبوں کا تصور بہت ہی محدود ہے ، حالاں کہ اِن کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ، اتنی وسعت کہ اگر کوئی انسان زندگی کے تمام شعبوں میں اِن تینوں برائیوں سے بچتا رہے تویقینا وہ اللہ رب العزت کا صالح بندہ اور حضور ﷺ کا سچا غلام ہوگا ۔

نفاق کی سب سی پہلی علامت ’’جھوٹ بولنا‘‘ ہے ۔ جھوٹ بولنا حرام و ناجائز ہے ۔ایسا حرام و ناجائز کہ آج تک کسی بھی قابلِ شمار مذہب و مسلک میں اِسے جائز و درست قرار نہیں دیا گیا ، حتی کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی اِسے بہت برا سمجھتے تھے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے کفار و مشرکین سیکڑوں قسم کی برائیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود جھوٹ جیسی بیماری سے بدرجۂ غایت نفرت کیا کرتے تھے ۔ گناہوں کا پلندہ ہونے اور رب تعالیٰ کی توحید کے انکاری ہونے باوجود کذب بیانی سے کوسوں دور رہا کرتے تھے ؛ کیوں کہ خلافِ واقعہ بات کرنا اُن کی غیرت کے خلاف تھی ۔

مگر افسوس صد افسوس!کہ دیگر مہلک امراض کی طرح ’’کذب بیانی ‘‘کے خطرناک جراثیم بھی امتِ مسلمہ کی رگوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عجیب تماشا ہے ! لوگ اِس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا یہ گناہ ہے ہی نہیں ۔ اکثر مسلم آبادی جھوٹ میں اِس قدر گرفتار ہے کہ اگر سروے کرکے کذب بیانی کا فی صد نکالا جاے تو تقریباً مسلمانوں کی ۲۰ پرسنٹ سے زائد باتیں جھوٹی اور خلافِ واقعہ نکلیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بڑوں سے ، بڑے چھوٹوں سے ،بچے ماں باپ سے ، والدین اپنے بچوں سے ،طلبہ اساتذہ سے اور اساتذہ اپنے طلبہ سے ،تاجر گاہکوں سے اور گاہک اپنے تاجروں سے ،دوست دوست سے اور پڑوسی اپنے پڑوسی سے جھوٹ بولنے میں نہ عار محسوس کرتے ہیں نہ کسی قسم کی جھجھک ۔ یہ جھوٹ اِس قدر تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے کہ اب وہ لوگ جو با قاعدہ حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، جائز و نا جائز پر نگاہیں رکھتے ہیں اور شریعت پر چلنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اُنھوں سے بھی جھوٹ کی بہت سی قسموں کو حرام و ناجائز ہونے سے خارج سمجھ لیا ہے ؛ کیوں کہ اُن کے گمانِ باطل کے مطابق وہ چیزیں جھوٹ میں داخل ہی نہیں ہیں ۔ اِس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم و ضروری ہے کہ جھوٹ کی تمام صورتوں کو جانے ، پہچانے اور پھر اُن سے بچنے کی کامیاب کوشش کرے ۔ ورنہ بروزِ قیامت یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں مل سکے گا کہ ہمیں کچھ پتا نہ تھا ، ہماری زبان سے لا علمی میں جھوٹ صادر ہو گیا یا ہم سے نادانی میں جھوٹ سرز د ہو گیا ۔

اب ذیل میں کذب بیانی [جھوٹ] کی وہ مروَّجہ صورتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں اِس قدر رواج پا چکی ہیں کہ بالعموم لوگ اُنھیں غلط اور نا جائز نہیں سمجھتے ، بلکہ فخریہ علی الاعلان سر انجام دیتے ہیں ۔حالاں کہ وہ نا جائز و حرام ہیں ۔

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنوانا :

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنانا یا بنوانا جھوٹ میں شامل ہے ، لہذا جھوٹ کی دوسری صورتوں کی طرح یہ بھی نا جائز و حرام ہے ۔جھوٹے سر ٹیفکٹ کے فاسد جراثیم مسلم معاشرے میں اِس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ اچھے خاصے حاجی و نمازی صاحبان بھی اِس میں اِس طرح ملوث ہیں کہ اِ س کے جھوٹ ، غلط اور فراڈ ہونے کا تصور بھی اُن کے دماغ میں نہیں آتا ۔کمپنی سے بلا رخصت غائب ہونے والے ملازمین ، اسکول و کالجز سے بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طلبہ و معلمین جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر اپنی کمپنی یا کالج میں اِس لیے جمع کرتے ہیں کہ مواخذہ[پوچھ تاچھ] یا تنخواہ کٹنے سے بچ جائیں، یا پھرمزید چھٹیاں حاصل کرنے کے لیے اِسے بنوا کر بھجوا دیتے ہیں ۔ بعض حضرات تواپنے دوست و احباب سے ایسے جھوٹے سرٹیفکٹ بنوانے کا ذکر اِس انداز سے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو اوراس کے جواز میں کوئی شبہ نہ ہو ، حالاں کہ اِس کا جھوٹ ہونا مسلَّمات میں سے ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو اِس طرح کے فراڈ اور ایسی کذب بیانی سے بچنا چاہیے !

جھوٹی سفارش کرنا :

جھوٹی سفارش کرنا بھی جھوٹ کی مروجہ شکلوں میں سے ایک نا جائز شکل ہے ۔ مگر صد افسوس! کہ اِسے بھی بہت سے مسلمانوں نے جھوٹ ہونے سے خارج کر دیا ہے ۔ اِس روحانی مرض میں لوگوں کا ایسا ابتلاے عام ہے کہ الامان والحفیظ ۔جاہل تو جاہل اچھے خاصے پڑھے لکھے دین دار لوگ بھی اِس میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔ نوکری دلانے ، اسکول یا مدرسے میں داخلہ کرانے ، پاسپورٹ وغیرہ سرکاری کاغذات بنوانے اور زمین و جائداد کی خریداری کے لیے دھڑلِّے سے جھوٹی سفارشیں کی جا رہی ہیں ۔ لا علمی میں کسی کی جھوٹی سفارش ہو جاے توخیر شرعاً جرم نہیں ، مگر قصداً جان بوجھ کر جھوٹی سفارش کرنا یقیناً نا جائز و حرام ہے ، شریعتِ اسلامیہ میں اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور آخرت کے سخت محاسبہ سے ڈرنا چاہیے ۔ اللہ ربُّ العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ [سورۂ ق ، آیت نمبر : ۱۸]ترجمہ: وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کو لکھنے کے لیے اس کا محافظ فرشتہ منتظر رہتا ہے ۔مفہوم ِ آیت : تمھاری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ تمھارے نامۂ اعمال میں رکارڈ ہو رہا ہے ۔لہذا ہم سب کو اِس خوش نما جھوٹ سے بھی لازماً پرہیز کرنا چاہیے !

مذاق میں جھوٹ بولنا :

مذاق و تفریح میں بولا جانے والا جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے ، مگر بہت سے مسلمان مذاق میں جھوت بولنے کو برا نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض نادان تو اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تفریح میں بھی زبان سے جھوٹ نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔چنانچہ آقاے دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہٖ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَّہٗ وَیْلٌ لَّہٗ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث: ۴۹۹۲ ] ترجمہ:جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساے اُس پر افسوس ہے ، افسوس ہے ، افسوس ہے ۔یہ ترجمہ میں نے بڑی احتیاط سے کیا ہے ۔ورنہ سخت لب و لہجہ میں اس کا ترجمہ کیا جاے تو یوں ہوگا ’’تباہی و بربادی یا دردناک عذاب ہے اُس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کذب بیانی سے کام لے ‘‘ ایسا بھی نہیں کہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفریح و مذاق سے یکسر محروم کر رکھا ہے ، بلکہ اس نے تفریحِ طبع کے لیے پاکیزہ اور صاف ستھرے مذاق کی اجازت دی ہے ۔ہمارے نبی آقاے دو عالم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے خوش طبعی اور مذاق کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ کتبِ احادیث میں کثیر روایتیں موجود ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے مذاق میں بھی کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا ،بلکہ ہمیشہ آپ کی زبانِ اقدس سے حق ہی جاری ہوا ۔

شمائلِ ترمذی کے اندر یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک خاتون نے آکر عرض کیا :حضور ! دعا فرما دیں کہ اللہ عز وجل مجھے جنت میں پہنچا دے ! حضور ﷺ نے[از راہِ مزاح] فرمایا: کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جاے گی ۔یہ سن وہ بوڑھی خاتون زار و قطار رونے لگیں ۔ حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ کوئی عورت اِس حالت میں جنت میں نہیں جاے گی کہ وہ بوڑھی ہو ، بلکہ جوان ہو کر جاے گی ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ]آپ غور فرمائیں کہ : آقا ﷺ نے مذاق میں کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو خلافِ واقعہ ہو ۔ حضور ﷺ کی پر لطف مذاق کی ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں۔

شمائلِ ترمذی کی یہ روایت بھی دیکھیں ! کہ:ایک دیہاتی صحابی آپ ﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آکر عرض گزار ہوے ، یا رسول اللہ !مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیجیے !اُن کی فریاد سن کرحضور ﷺ نے[از راہِ مذاق]ارشاد فرمایا : ہم تمھیں ایک اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔اُنھوں نے کہا: حضور ! مجھے سواری کا جانور چاہیے ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ارے [نادان]تمھیں جو دیا جاے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوگا ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی مزاح النبی ﷺ ]

لہذا ہمیں اپنی زبان سنبھال کر استعمال کرنی چاہیے ، بطورِ تفریح و مذاق کہی جانے والی باتیں بھی فحش و عریانیت اور کذب بیابی سے پاک ہونی چاہئیں اور مذاق کے معاملات میں بھی اپنے حبیب ،کائنات کی طبیب حضور سرورِ عالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا چاہیے !

بچوں سے جھوٹ بولنا کیسا ؟: بعض والدین اپنے بچوں کو بہلانے یا ٹرخانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ، مثلاً چاکلیٹ یا کھلونا دلانے کا یاباہر لے جانے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُنھوں نے جھوٹ بول کر اپنے نامۂ اعمال میں ایک گناہ کا اضافہ کر لیا ہے ۔ صحابۂ رسول حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْماً وَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ ھَا تَعَالَ اُعْطِکَ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیہِ ، قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطیِہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث : ۴۹۹۳]

ترجمہ: ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا : اِدھر آ !میں تجھے کچھ دوں گی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے غریب خانہ پر جلوہ بار تھے ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا :تونے اِسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میں اِسے کھجور دوں گی ۔ یہ سن حضور ﷺ نے ماں سے فرمایا: اگر تو اِسے کچھ نہ دیتی تو تیرے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جاتا ۔

اِس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین پر واجب ہے کہ محض بہلانے کے لیے اپنے بچوں سے جھوٹ نہ بولیں ، اُن سے وعدہ خلافی نہ کریں ،بلکہ اُن سے ہمیشہ سچ بولیں ، تاکہ بچوں کی دلوں میں سچائی سے الفت ومحبت اور کذب بیانی سے نفرت و بیزاری پیدا ہو ۔ آج مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے بہت سے بچوں کے سینوں سے جھوٹ کی برائی اِس لیے نکل چکی ہے کہ اُن کی پرورش جھوٹ اور وعدہ خلافی جیسے گندے ماحول میں ہوئی ہے ۔اگر بچوں کو امانت و صداقت کا پیکر بنانا ہے تو گھروں میں دینی ماحول بپا کرنا ہوگا۔

جھوٹے کیریکٹر سر ٹیفکٹ کی حیثیت :

آج کل جھوٹا کیریکٹر سرٹیفکٹ بنانے یا بنوانے کا بھی کا فی رواج ہو چکا ہے ۔عوام تو خیر عوام ہے بہت سے خواص کہلوانے بھی اِس مرض میں مبتلا ہیں ۔شاید ہی کسی کے دل و دماغ میں اِس کی حرمت کا خیال آتا ہو ۔حالاں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ حاصل کرنا یا دوسروں کے لیے جاری کرنا ’’کذب و دغا بازی‘‘ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے نا جائز ہے ۔کیوں کہ اِس طرح کے سرٹیفکٹ کو جاری کرنے والا کذب بیانی کرتے ہوے اُس میں یہ لکھتا ہے کہ : مثلاً میں اِنھیں پانچ سال سے جانتا ہوں ، اِنھیں پانچ سال کا تجربہ ہے ، اِ ن کااخلاق و کردار بہت اچھا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔تعجب و افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مدارسِ اسلامیہ میں داخلہ لینے یا تقرری کرانے کے لیے پڑھے لکھے لوگ اِس قسم کا فراڈ کرتے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض نادان تو اِس قسم کی حرکت کو نہ صرف یہ کہ درست بلکہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔لا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہ العلیِّ العظیمِ ۔

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے ! کہ سرٹیفکٹ جاری کرنا یا اس پر دست خط کرنا ایک قسم کی گواہی ہے، سرٹیفکٹ یا تصدیق نامہ جاری کرنے والا در اصل ’’گواہ‘‘ ہوتا ہے ۔ کسی کے بارے میں گواہی اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے بارے میں یقین سے معلوم نہ ہو ۔اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جسے ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے، لہذا بغیر علم کے کسی کے کیریکٹر و کردار کی گواہی دینا درست نہیں ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل ’’گناہِ کبیرہ‘‘ ہے ۔ کیوں کہ حدیثِ پاک میں’’ شھادۃ زُور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی کو نہ صرف بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے بلکہ آقاے دو عالم ﷺ نے اِسے شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : :

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَآئِرِ ۔ ثَلَاثاً ۔اَلاِشْرَاکُ بِاللہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ ۔ وَ کَانَ رَسُوْ لُ اللہِ ﷺ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہٗ سَکَتَ ۔ [ الصحیح للامام مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الکبائر و اکبرھا ۔ رقم الحدیث : ۲۶۹]

ترجمہ: ہم غلامانِ مصطفی اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوے تھے ۔ تبھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ حضور ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا۔آقاے کریم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے ،جب’’ جھوٹی گواہی‘‘ کا ذکر آیا تو آپ وﷺ بالکل سیدھے بیٹھ گیے اور بار بار’’شھادۃ الزور ‘‘ کے الفاظ دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہماری تمنا ہوئی کہ حضو ر ﷺ خاموش ہو جائیں ۔

جھوٹی گواہی کی شناعت و خباثت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ آقاے دو عالم ﷺ نے صرف یہی نہیں کہ گناہِ کبیرہ شمار کراتے وقت اِس کا ذکر ’’شرک‘‘ کے ساتھ کیا ، بلکہ اِس کے ذکر کے وقت سیدھے بیٹھ کر اِس کی شدتِ حرمت پر تنبیہ بھی فرمائی ۔

در اصل اِس حدیثِ پاک میں آقاے دو عالم ﷺ نے سنتِ اِلٰہیہ پر عمل کیا ہے ؛ کیوں کہ خود پروردگارِ عالَم نے جھوٹی گواہی کو شرکِ اکبر اور بت پرستی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے اور اپنے بندوں کو اِن دونوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ، فرماتا ہے :

فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔[سورۃ الحج ، رقم الآیت : ۳۰]ترجمہ: اے میرے بندو! تم بت پرستی کی غلاظت اور ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو !

اِ س آیتِ کریمہ اور حدیثِ نبوی سے اُنھیں عبرت حاصل کرنی چاہیے جو جھوٹے تصدیق نامے اور کیریکٹر سر ٹیفکٹ بناتے یا بنواتے پھر رہے ہیںاور اللہ کے بندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بلکہ غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا جھوٹ بولنے سے زیادہ نقصان دن اور خطرناک ہے ،اس لیے کہ جھوٹی گواہی میں ’’کذب بیانی‘‘ کے ساتھ دوسروں کو ’’گمراہ کرنے‘‘ کے عناصر بھی پاے جاتے ہیں، کیوں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ جس کے پاس پہنچے گا بادی النظر میں وہ یہی سمجھے گا کہ یہ صاحب بڑے نیک ہیں اور پھر اس پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ معاملات کرے گا ، جس کے نتیجے میں اُسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔لہذا جھوٹے تصدیق نامے بنانے اور بنوانے سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے ۔

بلا تحقیق کسی مدرسے کی تصدیق کرنا :

بعض لوگ علما یا اربابِ اقتدار یا کسی صاحبِ رسوخ کے پاس آکر اپنے ادارے کے کاغذات دکھا کر ’’تصدیق نامہ ‘‘ لکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تصدیق کرنے والا بلا تحقیق و تفتیش اپنے لیٹر پیڈ پر یہ لکھ دیتا ہے کہ ’’ میں اِس ادارے کو جانتا ہوں ، یہاں شاندار دینی تعلیم ہوتی ہے ، دارالاقامہ میں کافی تعداد میں طلبہ بھی رہتے ہیں ،نظم ونسق ماشاء اللہ کافی بہتر چل رہا ہے ، آپ حضرات ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون فرمائیں ‘‘حالاں کہ تصدیق کرانے والوں میں بہت سے حضرات اعلیٰ درجے کے مکار اور فراڈی ہوتے ہیں ، محض اپنی چالاکی اور چرب زبانی سے لوگوں سے اپنے فرضی مدرسوں کے لیے تصدیق نامے حاصل کر لیتے ہیںاور پھر دھڑلِّے سے چندہ کرتے اور خوب دادِ عیش دیتے ہیں ۔ اِس لیے بلا تحقیق و معلومات کیے کسی بھی نامعلوم شخص کے کہنے پر تصدیق نامہ دینے سے گریز کیا جاے ، کیوں کہ یہ بھی جھوٹی گواہی دینے کی زمرے میں داخل ہونے کے سبب ممنوع ہے ۔

خود ساختہ مولانا یا مفتی بننا کیسا ؟:

بعض لوگ عالم یا مفتی نہیں ہوتے یعنی با ضابطہ کسی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ،مگر بڑے ناز و فخر سے خود کو عالم ،مولانا یا مفتی کہلواتے ہیں ، بلکہ اگر اُن کے نام کے آگے اِس قسم کے القاب و آداب مذکور نہ ہوں تو بڑی برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے حضرات بھی کذب بیان کے جرم میں مبتلا ہیں ۔ بعض شہروں میں مثلاً ممبئی میں القاب و آداب کی ایسی درگت بنی ہوئی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ یہاں ہر عالمانہ وضع قطع رکھنے والا کسی جید عالم یا تجربہ کار مفتی سے کم نہیں ہے ، بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ جسے بھی عالم ، فاضل یامفت کا مفتی بننا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں کو رخ کرلیتاہے۔بعض پوسٹروں میں تو صرف مفتیانِ کرام اور مفکرانِ عظام ہی جلوہ بار نظر آتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نا ہنجار قسم کے لوگ اپنے جلسوں کی جھوٹی شان پڑھانے کے لیے بعض حفاظ و قراء بلکہ بعض طلبہ کو بھی بھاری بھرکم القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

یہ تمام صورتیں کذب بیانی کے زمرے میں شامل ہیں ، لہذا نا جائز ہیں ۔ بعض حضرات اپنے بھولے پن کے سبب ہر ڈاڑھی ٹوپے اور ہر جبے قبے والے کو عالمِ دین سمجھ لیتے ہیں بلکہ انھیں ’’ عالم یا مفتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارتے بھی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کی جاے اور بتایا جاے کہ اسلامی وضع رکھنے والا ہر شخص مفتی نہیں ہوتا ۔ بلکہ جس غیرِ عالم کو عالم کہہ کر پکارا جاے ،اُس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ فوراًپکارنے والی کی اصلاح کرے اور آئندہ اِس قسم کے القاب کے ساتھ پکارنے سے گریز کرنے کی تلقین کرے ۔اگر ایسا ہو گیا تو ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اِس قسم کی برائیاں دم توڑ دیں گی ۔

عیب دار کو بے عیب اور نقلی کو اصلی بتانا کیسا ؟:

بازار و مارکیٹ میں ہر قسم کی چیزیں بیچی جاتی ہیں ،بعض چیزیں عیب دار اور بعض بے عیب ہوتی ہیں ، اِسی طرح بعض چیزیں اصلی جب کہ بعض چیزیں نقلی ہوا کرتی ہیں ، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہر تاجر اپنے مال کو اچھا اور ہر دکان دار اپنے سامان کو بے عیب بتاتا ہے ۔ یہ بھی دھوکہ ، فریب اور کذب بیانی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے ، بلکہ اِس کا غلط اور فراڈ ہونا ایسا واضح ہے کہ خود بیچنے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے ۔لہذا دکان دار پر واجب و ضروری ہے کہ گاہک سے جھوٹ نہ بولے ،بلکہ اُسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرے ۔ ہاں اگر کسی مال کا نقلی ہونا یا کسی سامان کا عیب دار ہونا گاہک کو معلوم ہے تو اب اسے بتانے کی حاجت نہیں ۔ یہ ایسا ابتلاے عام ہے کہ شاید ہی کوئی تاجر یا دکان دار اِس سے محفوظ و مامون ہو ۔

دیکھیے ! یہ ہمارے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام، حضرت سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، جوکہ بہت بڑے فقیہ و محدث اور جلیل القدر تابعی ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے ۔آپ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی دین داری ملاحظہ فرمائیں ! کہ : ایک مرتبہ آپ کے پاس کپڑے کا ایسا تھان آیا جس میں کوئی عیب تھا ۔آپ نے دکان پر کام کرنے والے ملازموں کو حکم دیا کہ گاہک کو بتا دیا جاے کہ اِس کپڑے میں فلاں عیب ہے ۔ چند دنوں کے بعد اُس ملازم نے بغیر عیب بتاے اُس کپڑے کو بیچ دیا ۔ جب منافع کی رقم سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ کو دی تو

آپ نے پوچھا کہ تم نے اُس گاہک کو عیب بتا دیا تھا ؟ ملازم نے کہا : حضور ! میں بھول گیا تھا ۔ یہ سن کر آپ کو بڑا رنج لاحق ہوا ، فوراًا ُس گاہک کی تلاش و جستجو شروع کی اور پورے شہر میں اُسے ڈھنڈھوایا ، جب وہ گاہک مل گیا تو آپ نے اُس سے کہا : آپ نے جو مال میری دکان سے خریدا ہے ، وہ عیب دار ہے ، آپ چاہیں تو اُسے واپس کر دیں اور قیمت لے لیں اور چاہیں تو اُسی عیب کے ساتھ اُسے رکھ لیں ۔

بعض روایتوں میں آیا کہ تلاشِ بسیار کے باوجود جب آپ اُسے نہ پا سکے تو اُس تھان کی پوری رقم آپ نے راہِ خدا میں صدقہ کر دی ۔ سبحان اللہ ! یہ تھا ہمارے امام کا زہد و تقویٰ ۔آج ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اُس ملازم کو شاباشی دیتا کہ تو نے عیب دار سامان بیچ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، مگر ہمارے امام نے نقصان برداشت کر لینا تو گوارا کر لیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ کسی گاہک کو دھوکہ دیا جاے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کہ ہمارے نبی حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللہِ وَ لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تَلْعَنُہُ ۔[السنن للامام ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا و لم یبینہ ، رقم الحدیث : ۲۳۳۲]

ترجمہ: جو شخص عید دار چیز بیچے اور اس عیب کے بارے میں وہ خریدار کو نہ بتاے [کہ اِس کے اندر یہ خرابی ہے ]تو ایسا شخص مسلسل اللہ رب العزت کے غضب میں رہتا ہے اور اللہ کے فرشتے ایسے آدمی پر لگاتار لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

ہمارے امام کو اِسی امانت وصداقت کا صلہ ملا کہ آج دنیا کے اکثر مسلمان آپ ہی کے مقلد ہیں ، بلکہ آپ کی تقلید کو باعث فخر یقین کرتے ہیں ۔جب کہ آج کل کے تاجروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، عیب دار کو عمدہ بتاتے ہیں ، نقلی سامان کو اصلی بتاتے ہیں ، بلکہ قسمیں کھا کھاکر معیوب سامانوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ مصائب و آلام کی شکل میں جو ہم پر عذابِ خدا نازل ہو چکا ہے ،وہ اِسی کذب بیان اور اِسی دھوکہ دھڑی کی دین ہے ۔

اِس قسم کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہمارے معاشرے میں بولے جاتے ہیں جن کی نشان دہی ان شاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر کی جاے گی ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمارے معاشرے کو پر قسم کی کذب بیان سے محفوظ و مامون فرماے ۔ آمین !

زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب

*زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب*

*حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ چمشید پور*

اللہ تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریں کہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔ زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا ایک بائیں۔کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس سے پہلے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ ایک تیار بیٹھا ہوا محافظ لکھ لیتاہے۔(سورہ ق18، آیت50) اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتاہے صرف زبان سے بات کرنا ہی نہیں بلکہ سوچ اور نیت کو بھی جانتاہے۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے( کرام الکاتبین ) ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات اور ہر عمل لکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مریضوں کا کراہنا بھی لکھا جاتاہے ۔ اچھی بات دائیں طرف والا اور بری بات بائیں والا فرشتہ لکھتا رہتاہے۔(سوائے پیشاب پاخانہ کی حالت میں یا بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت خاص میں) ۔یہ معزز فرشتے الگ ہو جاتے ہیں (اسی لئے اس وقت بات کرنا ممنوع ہے)۔نیکی والا فرشتہ ایک نیکی کا دس لکھتاہے، بدی والا ایک بدی کی جگہ ایک ہی لکھتاہے۔ بندہ توبہ کر لے تو گناہ مٹ جاتا ہے ،بندہ مومن کے مرنے کے بعد وہ دونوں فرشتے قیامت تک اس کی قبر پر تسبیح تہلیل کرتے رہتے ہیں جس کا ثواب اس بندے کو ملتاہے۔

*زبان کو گناہ کی باتوں سے بچاؤ:*

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے۔ مثلاً حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردے دینا، کسی کو تکلیف پہنچانا، بات چیت سے دل آزاری کرنا، بُرے ا لقاب سے یا دکرنا، گالیاں بکنا، جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے ۔ترجمہ: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں۔(سورہ نحل، آیت 114) آج جو لوگ حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث پاک میں جن چیزوں کو حرام وحلال قرار دیا گیا ہے، صرف وہ حرام وحلال ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ اللہ پر افتراء کرکے حلال چیزوں کو زبانی کلامی حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آج بہت سے لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دے کر بھی بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ مثلاً سود، رشوت، جوا، ناجائز کھیل تماشے ، شرعی ضرورت کے بغیر فوٹو کھنچوانا وغیرہ۔ آج کل ان سب چیزوںکا بازارخوب گرم ہے اور اس پر نرم لفظوں میں باز آنے کی نصیحت پر لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی اس آیت مبارکہ میں داخل ہیں۔ آج کل لوگوں کی عادت یہ بھی بنی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے ،غصہ آیا اور لعنت ملامت شروع کردی۔ فلاں پر اللہ کی لعنت ، فلاں پر لعنت۔ یہ بیماری بلکہ وبا عام ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہم کو نہیں معلوم کہ کسی پر یہ ہماری بھیجی ہوئی لعنت کا کیا حشر ہوتاہے۔حضور ﷺ نے فرمایا: مومن نہ لعن وطعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتاہے۔(ترمذی) رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو لعنت ملامت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ کسی کے سفارشی۔(صحیح مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مومن کو یہ نہ چاہئے کہ لعنت کرنے والا ہو۔(ترمذی) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتاہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔ پھر دائیں بائیں جاتی ہیں ، جب کہیں راستہ نہیںپاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی۔ اگراُسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔ (ابو داؤد شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے۔ اس نے ہواپر لعنت کی ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو،وہ خدا کی طرف سے مامور ہے ۔ اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (بحوالہ کشف القلوب جلد3صفحہ280،ترمذی شریف)

زبان اللہ کی امانت ہے:

حضرت ابو ہریرہ ص روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ،اس کو چاہئے کہ یا تو وہ اچھی اور نیک بات کہے یا خاموش رہے۔ دوسری روایت بھی ابو ہریرہ صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ،آپؐ نے فرمایا کہ ایک انسان سوچے سمجھے بغیر جب کوئی کلمہ زبان سے کہہ دیتاہے تو وہ کلمہ اس شخص کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتاہے جتنا مشر ق اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بُعد(دوری) ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان)

*زبان جہنم میں لے جانے والی ہے:*

ایک حدیث پاک میں سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہوگی جو اپنی زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مثلاً جھوٹ بول دیا، غیبت کردی ، کسی کا دل دُکھا یا، کسی کی دل آزاری کی، دوسروں کے ساتھ غیبت میں حصہ لیا، کسی کی تکلیف پر خوشی منائی ، زیادہ باتیں کیں۔ جب یہ گناہ کے کام کئے تو اس کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلا گیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ، حدیث نمبر2414) یعنی بہت سے لوگ زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ ایک بڑی پیاری حدیث پاک ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک تین لوگوں کو سخت ناپسند فرماتاہے۔(1)زیادہ باتیں کرنے والے کو(2)فضول خرچی کرنے والے کو (3)زیادہ سوال کرنے والے کو۔بیہقی نے حضرت عمر بن حصینص سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ترمذی شریف میں ابو سعید خدری صسے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم جب صبح کرتا تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں ،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی، حدیث نمبر2408) ۔یہ زبان جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر اس کو صحیح استعمال کریں اس کو قابو میں رکھیں،بے قابو نہ چھوڑیں تو ہمارے دنیا وآخرت کے لئے بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ زبان سے یا تو صحیح بات بولو ورنہ خاموش رہو۔ اس لئے کہ خاموشی اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی غلط بات زبان سے نکالے اور اسی سبب سے زیادہ باتیںکرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منع کیا گیا ہے بلکہ اللہ پاک ایسے شخص کو ناپسند فرماتاہے جیساکہ اوپر حدیث پاک آپ پڑھ چکے ہیں۔

اگر انسان زیادہ بولے گا تو زبان قابو میں نہیں رہے گی،کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں انسان گناہ اور بغض وعداوت کے شیطانی جال میںمبتلا ہوجائے گا۔ اس لئے ضرورت کے مطابق بولئے، زیادہ نہ بولئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو۔ جب تول تول کربولو گے تو یہ زبان قابو میں آجائے گی۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے کرامؒ نے بھی زبان کی حفاظت کو خوب اہمیت دی ہے اور خوب جچی تلی زبان میں بات کر نے کو فوقیت کودی ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جو انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنی زبان کو پکڑ ے بیٹھے تھے اور اس کو مروڑ رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؓ ایساکیوں کر رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا،ترجمہ: اس زبان نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اس لئے اس کو قابومیں کرنا چاہتا ہوں۔(موطا امام مالک،کتاب الکلام باب ماجاء فی مایخاذ من اللسان) بعض روایات مروی ہیں کہ آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر بیٹھ گئے تاکہ بلا ضرورت زبان سے بات نہ نکلے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان جنت بھی کماسکتاہے اور دوزخ بھی کما سکتا ہے۔ زبان کو بہرحال قابو میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ے جا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے ۔ اس لئے انسان جتنا زیادہ غلط کلام کرے گا اتنا ہی وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کی جو وبا چل پڑی ہے، یہ بہت خراب اور خطرناک بات ہے۔ دوستوں کو بلالیا کہ آنا ذرا بیٹھ کر گپ شپ کریں گے۔ اب اس گپ شپ کے اندر جھوٹ بولا جارہاہے ، غیبت ہورہی ہے،دوسروں کی برائی ہورہی ہے، دوسروں کی نقلیں اُتاری جارہی ہیں۔ اس طرح کی اڈہ بازی میں نہ جانے کتنے گناہ ہورہے ہیں۔ یاد رکھیں زبان کی آفات، خرابی، فحش گوئی، دشنام طرازی، زبان درازی کی لعنت ، مسخرہ پن، فضول گوئی ، چغلی ، حسد وغیرہ وغیرہ جتنی آفتیں ہیں زبان کی ہی وجہ سے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔ حضرت ہشام بن عمرص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو طمانچہ مارے ، اس کا کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ،اس کو عذاب سے نجات دی جائے گی۔ جو اللہ سے معذرت کرے گا ،معذرت قبول کی جائے گی۔ مومن کو چاہئے کہ پڑوسی اور مہمان کا اکرام کرے ،زبان کی ترشی سے بچائے اور پڑوسی سے بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔

*زبان کی گھٹتی قیمت:*

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں زبان کی قدر وقیمت گھٹتی جارہی ہے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم سب بہت غفلت اور بے احتیاطیاں برت ر ہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اہل ِعلم ، دین کے ذمہ داران اور میڈیا سے وابستہ سنجیدہ لوگ بھی اس سلسلے میں بے توجہی کے شکار نظر آرہے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہو نا چاہیے کہ اس زبان کو قابو میں کرنے کی اہمیت دل میں پیدا کریں، خوفِ خدا پیدا کریں اور صرف وہی بات کریں جس سے صلاح وفلاح کی ہوائیں چلیں۔

*ہم اپنا احتساب کریں:*

کیا ہمارے نزدیک ہماری زبان ہر قسم کی ذمہ داری اور لگام سے آزاد اور مستثنیٰ ہے؟ کیا ہم اس بات کے قولاًنہ سہی عملاً منکرہیں جو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انسان کوئی بات بولتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک فرشتہ تیار رہتا ہے لکھنے کے لئے۔(القرآن سورہ ق، آیت 81)کیا ہم سب کو اطمینان ہے کہ ہماری زبان سے جو کچھ نکل رہا ہے اس پر کسی کی گرفت نہیں ہوگی؟ اگر آج ہم میں سے ہر شخص اتنا عزم وارداہ کرلے کہ اسی لمحے سے اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیں گے تو ذاتی ، گھریلو، رشتے ہمسائیگی اوردوستی کے دائر ے میں پڑیں بڑی خرابیوں ، رنجشوں اور فتنوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔بات کہو تو پکی اور مضبوط اور قرآن کی زبان میں *قولوللناس حسنا* یعنی لوگوں سے بات کرو تو خوبی کی بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کثیر سے حفاطت زبان کی اہمیت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا پر عمل کی توفیق ہوجائے۔ آمین,رابطہ: hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب وامام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور پن کوڈ 831020, جھارکھنڈ،

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

فتویٰ امانت ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کریں

فتویٰ امانت ہے، اسے سیاست کی نذر نہ کریں

از: افتخار الحسن رضوی

دکھ اور کرب کی بات یہ ہے کہ ہماری مذہبی قائدین سیاسی اختلافات کی اۤڑ اور تعصب میں فتوے دیتے ہیں، ان کے معتقدین ان فتاوٰی کو حکم قطعی مان کر میدان میں اترتے ہیں اور جن لوگوں کے خلاف فتوے دیے جاتے ہیں انہیں کافر، گستاخ اور بد مذہب سمجھتے ہیں۔ ماضی قریب میں بلاول بھٹو، سید مراد علی شاہ، شہباز شریف، رانا ثناء اللہ اور عمران خان کے خلاف ہمارے مذہبی علماء نے فتوے دے (تحریری و تقریری)۔ لیکن ہر نئی صبح کے ساتھ یہ فتوے ردی کی ٹوکری میں گئے۔ عمران خان صادق و امین بن چکا ہے، پنجاب کے وزیر اعلٰی کی پیر سیالوی صاحب سے ملاقات کے بعد رانا ثناء اللہ اب حاجی ثناء اللہ بن چکا ہے۔

ہمارے مفتی، علماء، خطباء اور پیر صاحبان کب تک عوام کے ساتھ کھلواڑ کریں گے؟ یہ لوگ کب تک شریعت کا تمسخر اڑائیں گے؟ کیا یہ لوگ فتوٰی دینے کے اہل ہیں؟ یہ کس حیثیت سے فتوٰی دیتے ہیں؟ کیا ان کی عقلیں، دماغ اور ذہنی صحت اتنی اچھی ہے کہ یہ فتوے دیں؟

حضرت عبدالرحمٰن بن ابی لیلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے ایک سو بیس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اس حالت میں پایا کہ ان میں سے کوئ محدث ہوتا تو اس کی کوشش ہوتی کہ ان کی بجائے کوئی اور بھائی حدیث بیان کر دے، اور مفتی کی یہ خواہش ہوتی کہ کوئی دوسرا مفتی ان کی جگہ فتویٰ دے۔ یہ ان لوگوں کی احتیاط تھی جنہوں نے براہ راست رسول اللہ ﷺ سے تعلیم حاصل کی، یہ لوگ حضور کی مجلس و صحبت میں رہے۔ اۤج کے مولوی و مفتی اور پیر و شیخ اس قدر بے دریغی سے کیوں کام لیتے ہیں؟

امام ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں؛

"فتوٰی دینا صرف تین لوگوں کا کام ہے، وہ شخص جو قراۤن کے ناسخ و منسوخ کا علم رکھتا ہو، امیر جس کو فتوٰی دیے بغیر کوئی چارہ نہ ہو، یا حمق تکلف کرنے والا۔

پھر امام ابن سیرین علیہ الرحمہ فرماتے ہیں میں پہلے دو میں سے تو ہوسکتا ہوں لیکن تیسرا نہیں بن سکتا۔

اۤج کے سیاسی میدان میں سیاسی اختلافات کی اۤڑ میں فتوی فتوی کھیلنے والے یہ مولوی اسی تیسری کیٹیگری میں اۤتے ہیں۔ (الا ما شاء اللہ)۔

عوام الناس کو چاہیے کہ ایسے پیروں ، مولویوں اور مفتیوں کے ساتھ سختی سے پیش اۤئیں اور ان کا ہر اعتبار سے بائیکاٹ کریں۔ یہ مسلک، مذہب اور دین کے بیوپاری بن کر اسلام و مسلمین کی تضحیک و تذلیل کا سبب بنتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے یہ سلسلہ بھی چل نکلا ہے کہ فلاں جماعت کے ایک سو تیس، فلاں بورڈ کے پچاس، فلاں جماعت کے پانچ سو مفتیوں نے فلاں جماعت، فلاں حکومت کے خلاف اجتماعی فتوٰی جاری کر دیا۔ ان میں سے ایک خاص تعداد ان مفتیوں کی ہی ہوتی ہے جو نکاح پڑھانے کی فیس پر مسجد انتظامیہ سے لڑتے ہوئے بے روزگار ہو کر گھر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر لاری اڈے پر "مرنڈا” یا دال سویاں بیچتے نظر اۤتے ہیں۔ (کسی کی تضحیک مقصود نہیں، مثال دے رہا ہوں کہ یہ عقل کے اس قدر کمزور لوگ ہوتے ہیں)۔

عالم، مفتی اور پیر کو اپنا گھر مضبوط کرنا چاہیے، کوئی بھی رائے دینے سے قبل صد بار سوچے، سمجھے اور پھر بولے، فتویٰ حکم شریعت ہوتا ہے، یہ ایک امانت ہے اور اس کے اجراء میں صداقت و امانت دونوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ فتوٰی اللہ عزوجل اور اس کے حبیب کریم ﷺ کی رضا کے لیے دیا جائے ، لوگوں کی اصلاح کے لیے دیا جائے نہ کہ سیاسی و مالی مقاصد کے لیے۔ یاد رکھیں مسند افتاء ایک امانت ہے اور اس امانت میں خیانت کرنے والا بد ترین انسان ہے۔

ایسی صورتِ حال میں وہ علماء جو امت میں انتشار و افتراق سے محفوظ رہیں، یا اس مقدس منصب کا خیال رکھتے ہیں ان کو خراج تحسین پیش کیا جانا چاہیے۔

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ  ۚ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 164

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اِذۡ بَعَثَ فِيۡهِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡ اَنۡفُسِهِمۡ يَتۡلُوۡا عَلَيۡهِمۡ اٰيٰتِهٖ وَيُزَكِّيۡهِمۡ وَيُعَلِّمُهُمُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ  ۚ وَاِنۡ كَانُوۡا مِنۡ قَبۡلُ لَفِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ

ترجمہ:

بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ‘ بیشک وہ اس سے پہلے ضرور کھلی گمراہی میں تھے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

احسان جتلا کر جزا کا طالب ہونا یہ معنی مذموم ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بغیر طلب جزاء کے مومنوں پر اپنے انعام اور احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

آیات سابقہ سے اس آیت کے ارتباط کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں : 

(١) اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر لوگوں کے دو گروہ بیان فرمائے ایک وہ جو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں اور دوسرے وہ جو اللہ کی ناراضگی کے کام کرتے ہیں۔ اب اللہ نے ان دونوں فریقوں کی تفصیل شروع کی پہلے مومنین کا ذکر فرمایا جو اللہ کی رضا کے لیے عمل کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج کر ان پر احسان فرمایا جو ان پر اللہ کی آیات کی تلاوت کرتا ہے اور ان کو کفر اورشرک کی نجاست سے پاک کرتا ہے اور ان کے اعضاء اور قلب کو ہر قسم کے گناہوں سے بچا کر صاف رکھتا ہے اور ان کو کتاب اور سنت کی تعلیم دیتا ہے۔

(٢) بعض منافقین نے جنگ بدر کے دن ایک چادر کے متعلق یہ کہا تھا کہ شاید نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ چادرلی ہوگی ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد کرتے ہوئے اور نبی کریم کی براءت کرتے ہوئے فرمایا تھا اور خیانت کرنا کسی نبی کی شان نہیں ہے (آل عمران : ١٦١) 

اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اسی برات اور نزاہت کو موکد کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی کہ یہ عظیم رسول ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور ان کے سامنے نشو و نما پائی اور پوری زندگی میں اس نبی سے صدق ‘ امانت ‘ اللہ کی طرف بلانے اور دنیا سے بےرغبتی کرنے کے سوا ان سے کچھ ظاہر نہیں ہوا ‘ تو ایسے صادق ‘ امین اور زاہد کی طرف خیانت کی نسبت کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ 

(٣) پھر اللہ تعالیٰ نے صرف آپ کی برائت اور نزاہت پر اکتفا نہیں کی بلکہ فرمایا اس عظیم رسول کا وجود تو تمہارے لیے بہت بڑی نعمت ہے ‘ کیونکہ وہ تم کو بےدینی اور گمراہی سے پاک کرتے ہیں اور تم کو علوم و معارف سے نوازتے ہیں ‘ امام احمد روایت کرتے ہیں : 

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) نے نجاشی سے کہا : اے امیر ! ہم لوگ جاہل تھے ‘ بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ بےحیائی کے کام کرتے تھے ‘ رشتے توڑتے تھے ‘ ہمسایوں سے بدسلوکی کرتے تھے ‘ ہم میں سے قوی شخص ضعیف کا حق کھا جاتا تھا ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری طرف ایک عظیم رسول بھیجا جن کے نسب کو ‘ ان کے صدق کو ‘ ان کی امانت داری کو اور ان کی پاک دامنی کو ہم اچھی طرح جانتے تھے ‘ انہوں نے ہم کو دعوت دی کہ ہم اللہ واحد لاشریک کی عبادت کریں ‘ اور ہم اور ہمارے آباء و اجداد جن پتھروں اور بتوں کی عبادت کرتے تھے اس کو ترک کردیں انہوں نے ہم کو تعلیم دی کہ ہم سچ بولیں ‘ امانت ادا کریں ‘ رشتے جوڑیں ‘ ہمسایوں سے اچھا سلوک کریں ‘ حرام کاموں اور خوں ریزی کو چھوڑ دیں ‘ انہوں نے ہمیں بےحیائی کے کاموں ‘ جھوٹ بولنے ‘ یتیم کا مال کھانے اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانے سے منع کیا۔ انہوں نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں ‘ نماز پڑھیں ‘ زکوۃ ادا کریں اور روزے رکھیں۔ الحدیث (مسند احمد ج ١ ص ٢٠٢) 

سوجس نبی نے ایسی انقلاب افروز تعلیم دی ہو اس کی طرف خیانت کی نسبت کرنا کس طرح درست ہوسکتا ہے۔ 

(٤) تم لوگ گوشہ گمنامی میں پڑے ہوئے تھے تمہارے شہر میں یہ عظیم رسول پیدا ہوئے ‘ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک بےنظیر اور لافانی کتاب نازل کی اور ان کو بہ کثرت معجزات عطا کئے ‘ تمام انبیاء کا ان کو قائد بنایا تو ان کی وجہ سے اور ان کے دین پر عمل کرنے کی وجہ سے تمہیں تمام دنیا میں شہرت اور عزت ملی تو ان پر کسی قسم کا طعن کرنا کس قدر عدل اور انصاف سے بعید ہے۔ 

(٥) اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیتوں میں مسلمانوں کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد کرنے کی تلقین کی تھی ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اس عظیم رسول کی بعثت تم پر اللہ کا بہت بڑا احسان ہے سو تم پر لازم ہے کہ تم اپنی تمام تر قوتوں سے ان کے ساتھ مل کر جہاد کرو۔ 

نبیوں اور رسولوں کی بعثت کا عام انسانوں اور مومنوں کے لیے رحمت ہونا : 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کو مسلمانوں پر احسان قرار دیا ہے ‘ جس طرح کی بعثت مومنوں پر احسان طرح عموما نبیوں اور رسولوں کی بعثت بھی عام انسانوں اور مومنوں پر احسان ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے عموما انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے متعلق اس آیت میں ارشاد فرمایا ہے : 

(آیت) ” رسلا مبشرین ومنذرین لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “۔ (النساء : ١٦٥) 

ترجمہ : (ہم نے) بشارت دینے والے اور ڈرانے والے رسول (بھیجے) تاکہ رسولوں (کے آنے) کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے خلاف کے خلاف کسی عذر کی گنجائش نہ رہے۔ 

رسولوں کی بعثت سے لوگوں کو متعدد طریقوں سے رشد رو ہدایت حاصل ہوتی ہے : 

(١) انسانوں کی عقل اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت کے لیے ناقص اور نارسا ہے اور شیطان قدم قدم پر لوگوں کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے خلاف شکوک و شبہات ڈالتا ہے ‘ اللہ کا نبی کا انسانوں کو اللہ کی معرفت کراتا ہے اور شکوک و شبہات کا ازالہ کرتا ہے۔ 

(٢) ہرچند کہ بعض انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کی معرفت حاصل کرلیتے ہیں لیکن وہ از خود یہ نہیں جان سکتے کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں سے راضی ہوتا ہے اور کن کاموں سے ناراض ہوتا ہے ‘ نبی ان کو عبادات اور معاملات کے لیے ایسے طریقے بتاتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے اور ان کاموں سے منع فرماتا ہے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے۔ 

(٣) انسان اپنی فطرت میں سست اور غافل ہے ‘ اسے عبادات اور معاملات کے طریقے معلوم بھی ہوجائیں پھر بھی وہ سستی اور غفلت کی وجہ سے بےعملی اور بدعملی کا شکار ہوجاتا ہے نبی آکر انہیں نیکی کی طرف رغبت دلاتا ہے اور برائی پر اللہ کی گرفت سے ڈراتا ہے۔ 

(٤) جس طرح آنکھ میں اللہ تعالیٰ نے چیزوں کو دیکھنے کا نور رکھا ہے لیکن جب تک آفتاب یا چراغ کا نور اس نور کے معاون نہ ہو تو اشیاء کو دیکھنے کے لیے یہ نور ناکافی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے عقل میں اپنی معرفت کا نور رکھا ہے لیکن جب تک نور نبوت اس کے معاون نہ ہو یہ نور ناکام اور ناتمام ہے۔ 

(٥) نبی اللہ کے احکام پر عمل کرکے دکھاتا ہے اور عملی نمونہ پیش کرتا ہے۔ 

(٦) انسان اس وقت بےجھجھک گناہ کرتا ہے جب وہ حرص ‘ شہوت یا غضب سے بےقابو ہوجائے ‘ نبی اپنی تعلیم سے دلوں میں ایسا خوف خدا پیدا کرتا ہے کہ انسان ایسی حالت میں سنبھل جاتا ہے خدا کو یاد کرتا ہے اور معصیت سے باز آجاتا ہے۔ 

(٧) سخت مشکلات ‘ مصائب اور بیماریوں میں نبی پابندی سے اللہ کی اطاعت اور عبادت کرتا ہے تاکہ سخت مشکلات اور مصائب کسی شخص کے لیے عبادت نہ کرنے کا عذر نہ بن سکیں۔ 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلائل اور مومنین پر وجوہ احسان : 

سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر حسب ذیل دلائل ہیں اور یہی دلائل مومنوں پر وجوہ احسان ہیں : 

(١) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں پیدا ہوئے اور آپ نے وہیں نشو و نما پائی ‘ اور چالیس سال تک اہل مکہ دیکھتے رہے کہ آپ نے ہمیشہ سچ بولا ‘ اور آپ کی پارسائی اور امانت و دیانت کا سکہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھ گیا۔ آپ حرص وطمع ‘ جھوٹ ‘ بےحیائی اور برائی کے کاموں سے ہمیشہ دور رہے لوگ آپ کو صادق اور امین کے نام سے پہچانتے تھے۔ پھر جب آپ نے چالیس سال بعد اللہ کے نبی اور رسول ہونے کا دعوی کیا تو یہ یقین کیا جاسکتا تھا کہ جس شخص نے آج تک بندوں کے متعلق کوئی جھوٹ نہیں بولا وہ یکایک خدا پر کیسے جھوٹ باندھے گا !

(٢) اہل مکہ کو علم تھا کہ آپ نے کسی استاذ کے آگے کبھی زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا ‘ کسی کا درس سنا نہ کسی کتاب کو پڑھا نہ کسی سے علم کا تکرار کیا ‘ پھر چالیس سال اسی طرح گزارنے کے بعد آپ یکایک غار حرا سے نکلے اور ایسا فصیح وبلیغ کلام پڑھا جس کی نظیر لانے سے آج تک تمام دنیا عاجز ہے ‘ پھر اس کلام میں گذشتہ اقوام کی تاریخ اور ان کے واقعات تھے جن کو پہلے آپ نے کسی سے سنا نہ تھا اور جن کی اہل کتاب نے تصدیق کردی اور اس کلام میں مستقبل کے متعلق پیش گوئیاں تھیں جو اپنے اپنے وقت میں حرف بہ حرف پوری ہوئیں تو عقل سلیم کے لیے اس کو باور کرنے میں کوئی تامل نہ رہا کہ یہ کسی انسان کا نہیں اللہ کا کلام ہے ‘ اور اس کلام کو اللہ نے آپ پر نازل کیا اور آپ اور آپ اس کے برگزیدہ نبی اور رسول ہیں۔

(٣) مخالفین نے آپ کو دعوی نبوت سے دستبردار ہونے کے لیے بڑی بھاری مالی پیش کشیں کیں ‘ عرب کی حسین عورتوں کو نکاح کے لیے پیش کیا ‘ لیکن آپ توحید کا پیغام سنانے سے دستبردار نہیں ہوئے ‘ پھر آپ کو اذیتیں پہنچائی گئیں ‘ آپ کے اصحاب کو تنگ کیا گیا ‘ آپ کا سماجی بائیکاٹ کردیا گیا (٧ نبوت میں) مخالفین نے مل کر یہ معادہ کیا کہ کوئی شخص خاندان بنوہاشم سے تعلق رکھے گا نہ ان سے خریدو فروخت کرے گا نہ ان کے پاس کوئی کھانے پینے کی چیز جانے دیگا حتی کہ وہ سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتل کے لیے ہمارے حوالے نہ کردیں ‘ اس کے نتیجہ میں آپ تین سال تک شعب ابو طالب میں محصور رہے ‘ جب ان مصائب اور مشقتوں کے باوجود آپ اللہ کی توحید بیان کرنے سے دست کش نہیں ہوئے تو سب نے مل کر آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا حتی کہ آپ کو ہجرت کر کے اپنا وطن چھوڑنا پڑا ‘ آپ نے سب کچھ چھوڑا ‘ لیکن پیغام حق سنانا نہیں چھوڑا ‘ جو شخص اپنے موقف کی خاطر اتنے مصائب اور اذیتیں برداشت نہیں کرسکتا۔ سو جس شخص کے سامنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی یہ سیرت ہو اس کو آپ کو صداقت میں کبھی تامل نہیں ہوسکتا۔ 

(٤) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کتاب پیش کی، اس میں اللہ کی وجود ‘ اس کے خالق کائنات ہونے اور واحد لا شریک ہونے کا بیان ہے اور شرک سے تنزیہ ہے ‘ اس میں نیک عمل کرنے اور برے عمل نہ کرنے کی تلقین اور ترغیب ہے ‘ اور ان کے منکروں پر عذاب نازل ہونے کا بیان ہے۔ غرض اس کتاب میں نیکی اور سچائی کے سوا کچھ نہیں تو جس شخص نے یہ کتاب پیش کی اور اس کے منزل من اللہ ہونے کا دعوی کیا وہ خود نیک اور سچا کیوں نہیں ہوگا ! 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیشمار معجزات پیش کیے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھایا ‘ سورج کو پلٹایا ‘ درخت آپ کے اشارہ پر چل کر آتے اور پھر واپس اپنی جگہ چلے جاتے ‘ درختوں ‘ پتھروں ‘ اور مختلف جانوروں نے آپ کا کلمہ پڑھا ‘ کھانے پینے کی چیزوں کی کم مقدار آپ کی برکت سے بہت زیادہ ہوجاتی تھی ‘ آپ نے علوم و معارف کے دریا بہائے غیب کی خبریں بیان کیں ‘ آپ چاہتے تو آپ خدائی کا دعوی کردیتے اور یہ دنیا جو چند کمالات کی وجہ سے حضرت عیسیٰ اور حضرت عزیر کو خدا مان چکی ہے ‘ جس نے فرعون کو بغیر کسی کمال کے خدا مان لیا تھا جو لوگ بلاوجہ اور بےسبب عناصر اور پتھروں کی پرستش کرتے رہے ان سے کچھ بعید نہ تھا بلکہ زیادہ توقع تھی کہ وہ ان کمالات کو دیکھ کر آپ کی خدائی کے دعوی پر یقینا ایمان لے آتے ‘ لیکن آپ نے کہا میں تمہاری مثل ایک بشر ہوں ‘ جس طرح تم خدا نہیں میں بھی خدا نہیں ہوں ‘ مجھ پر صرف اس کی وحی آتی ہے ‘ یہ کلام جس کی فصاحت و بلاغت ‘ غیب کی خبروں اور عالم گیر ہدایتوں کے اعتبار سے میں نے اس کی نظیر لانے کا چیلنج کیا ہے یہ میری قابلیت اور کاوش کا نتیجہ نہیں ہے لفظ بہ لفظ اللہ کا کلام ہے ‘ اور یہ جو بہ کثرت معجزات میں نے دکھائے ہیں یہ میری قدرت کا ثمرہ نہیں ہیں یہ اسی خدائے واحد کی قدرت سے ظہور میں آئے ہیں ‘ میں جو اولین اور آخرین کی خبریں ‘ ” ماکان “ ومایکون “ اور غیب کی باتیں بتاتا ہوں یہ میرا ذاتی علم نہیں ہے ‘ یہ سب کچھ میں اللہ کے دیئے ہوئے علم اور اس کی وحی سے بتاتا ہوں ‘ میرا علم اور میری قدرت ‘ میرا کوئی وصف اور کوئی کمال بھی ذاتی نہیں ہے ‘ میں خود اور میرے تمام اوصاف سب اللہ کے عطا کردہ ہیں ‘ آپ سے کہا گیا کہ فلاں علاقہ کے لوگ اپنے بادشاہ کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ اس بات کے زیادہ لائق ہیں کہ آپ کو سجدہ کیا جائے ‘ آپ نے فرمایا اگر مخلوق کے لیے سجدہ روا ہوتا تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ‘ ہماری تعظیم صرف سلام کرنے میں ہے ‘ آپ بہت زیادہ عبادت کرتے تھے اور راتوں کو اتنا طویل قیام کرتے تھے کہ آپ کے پیر سوج جاتے تھے ‘ دن میں سو مرتبہ سے زیادہ اللہ سے استغفار کرتے تھے آپ کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آپ نے اتنے عظیم کمالات پیش کیے اور برملا یہ اعلان کیا کہ یہ میرا ذاتی کمال نہیں ہے ‘ جھوٹا انسان تو بڑا بننے کے لیے دوسروں کے ایسے کمالات بھی اپنی طرف منسوب کرلیتا ہے جن کے اصل ماخذ کا بہ آسانی پتا چل جاتا ہے ‘ اگر بالفرض آپ یہ کہہ دیتے کہ یہ سب میرے ذاتی کمالات ہیں تو کسی انسان کے پاس ان کمالات کے اصل ماخذ تک پہنچنے کا کوئی ذریعہ نہیں تھا آپ کی صداقت اور راست بازی پر اس سے بڑھ کر کھلی ہوئی دلیل اور کیا ہوگی ، صرف یہی نہیں آپ نے ان کمالات میں سے کسی کمال کا اعزاز نہیں لیا ‘ بلکہ آپ نے ہمیشہ اس سے اجتناب کیا کہ ان کمالات کی وجہ سے آپ کی غیر معمولی تعظیم اور تکریم کی جائے ‘ لوگوں نے آپ کو سجدہ کرنا چاہا تو آپ نے اس سے منع فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مغفرت کا اعلان قطعی کردیا پھر بھی راتوں کو اس قدر طویل قیام فرماتے کہ پاؤں پر ورم آجاتا ‘ اور استفار پر بھی فرماتے کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ! غرض ان تمام کمالات کے باوجود آپ نے عجز و انکسار اور اظہار عبدیت کو اپنا شعار بنایا ‘ ایک مرتبہ مال غنیمت میں بہت سے غلام ‘ باندیاں اور بہت سازو سامان ملا ‘ آپ نے اس سے بہت مسلمانوں کو دیا اگر کسی کو نہیں دیا تو اپنی صاحبزادی حضرت سدتنا فاطمہ زہرا (رض) کو ‘ فرمایا تم عشاء کی نماز کے بعد ٣٣ مرتبہ سبحان اللہ ‘ ٣٣ مرتبہ الحمد للہ اور ٣٤ مرتبہ اللہ اکبر پڑھ لینا ‘ یہ تمہیں ایک باندی کی ضرورت سے کفایت کرے گا ‘ جو شخص جھوٹا ہو وہ اپنے کمالات سے اپنی ذات کے لیے نفع حاصل کرتا ہے یا اپنی اولاد کے لیے ‘ آپ نے اپنے کمالات سے اپنے لیے کوئی بڑائی چاہی ‘ نہ نفع اور آرام چاہا ‘ نہ اپنی اولاد کے لیے کوئی منفعت طلب کی بلکہ جو نفع ملا وہ عام مسلمانوں کو پہنچایا اور جو بڑائی اور کبریائی تھی اس کی نسبت اللہ کی طرف کی ‘ لوگوں کو بھی اللہ کی عبادت کی طرف بلایا اور خود بھی دن رات اس کی عبادت میں لگے رہے تو ہم ان کو سچا کیوں نہ مانیں ‘ ان کی تصدیق کیوں نہ کریں اور ان پر ایمان کیوں نہ لائیں ! 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے اہل عرب کا دین بدترین دین تھا ‘ وہ بتوں کی عبادت کرتے تھے ‘ ان کے اخلاق بھی بہت خراب تھے ‘ وہ قتل و غارت گری ‘ لوٹ مار اور ڈاکہ زنی کرتے تھے ‘ مردار کھاتے تھے ‘ رشتوں کو توڑتے تھے ‘ شراب پیتے تھے اور جوا کھیلتے تھے ‘ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان میں مبعوث کیا ‘ تو وہ ذلت کی پسماندگی سے نکل کر عزت کی بلندیوں پر فائز ہوگئے ‘ حتی کہ وہ علم وہنر ‘ زھد وتقوی اور فہم فراست اور شجاعت اور بہادری کے لحاظ سے دنیا کی سب سے افضل اور برتر قوم شمار کیے جانے لگے اور چونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے تو دوسروں کی بہ نسبت ان کو آپ سے استفادہ کا زیادہ موقع ملا اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک اللہ نے مومنوں پر احسان فرمایا جب ان میں ان ہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا۔ 

(٧) ہر قوم اپنے بطل جلیل اور رجل عظیم پر فخر کرتی ہے ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر یہود و نصاری اور عرب سب فخر کرتے تھے ‘ سو ان پر فخر کرنا سب میں مشترک تھا ‘ اور یہود صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر فخر کرتے تھے اور نصاری صرف حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر فخر کرتے تھے ‘ عرب والوں کے لیے کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جس پر وہ انفرادی طور پر فخر کرتے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا اور اب عرب بجا طور پر یہ فخر کرتے ہیں کہ انبیاء ورسل کے سردار دو عالم کے مختار ان کے شہر میں پیدا ہوئے اور یہیں انہوں نے اعلان نبوت کیا۔ 

(٨) اللہ تعالیٰ نے نوع انسان اور بشر سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا ‘ اور یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے اگر اللہ تعالیٰ نور ‘ نار ملائکہ یا جنات میں سے آپ کو مبعوث کردیتا تو انسانوں کے لیے آپ سے استفادہ کرنا ممکن نہ ہوتا آپ کی سیرت مسلمانوں کے لیے نمونہ اور حجت نہ ہوتی اس لیے اللہ نے اپنا یہ عظیم رسول فرشتوں میں سے بھیجا نہ جنات میں سے نہ نور میں سے نہ نار میں سے بلکہ یہ عظیم رسول انسانوں میں سے مبعوث فرمایا اور مومنوں کی جنس میں سے اس عظیم رسول کو بھیجا ‘ تاکہ مومن اس سے استفادہ کرسکیں ‘ اس کی بات سن سکیں ‘ اس کے عمل کو دیکھ سکیں اس کی بات سن سکیں ‘ اس کے عمل کو دیکھ سکیں اور بیشک یہ اللہ کا مومنوں پر بہت بڑا احسان ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے بنوآدم کو جو تکریم دی ‘ اس کو احسن تقویم میں پیدا کیا ‘ اپنے دست قدرت سے اس کی تخلیق کی اور اسے اپنی صورت پر بنایا ‘ یہ ساری عزتیں اور کرامتیں انسان اور بشر کو اس لیے دی گئی تھیں کہ اس عظیم رسول کو نوع انسان اور بشر سے مبعوث فرمانا تھا۔ اگر ان کو مبعوث کرنا نہ ہوتا تو بشریت کا یہ فروغ ہوتا نہ انسانیت کا یہ عروج ہوتا۔ 

(٩) اس آیت میں مومنین سے مراد مومن ہیں جو اس وقت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے تھے ‘ اور فرمایا ہے ” جب ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول بھیجا “ اس سے مراد ان امور میں مماثلت ہے جو آپ کے قرب اور آپ سے اکتساب فیض کا سبب ہوں ‘ اور اس سے مراد نسب ‘ لغت اور وطن ہے ‘ جب آپ ان کے نسب اور ان کی قوم سے مبعوث ہوئے تو لوگ آپ سے مانوس ہوئے اور آپ کی طرف مائل ہوئے اور آپ کے قرب سے توحش اور اجنبیت کا شکار نہیں ہوئے ‘ اور جب آپ ان کی لغت اور ان کی زبان میں کلام کرتے تھے تو آپ کا خطاب اور آپ کا کلام سمجھنا ان کے لیے آسان ہوا نیز ہم زبان ہونا بھی قرب کا ذریعہ ہوتا ہے ‘ اور جب آپ ان کے وطن میں رہنے والے تھے اور آپ نے ان کے سامنے نشو و نما پائی اور آپ کی تمام زندگی ان کے سامنے تھی ‘ انہوں نے آپ کی سچائی ‘ اپنے موقف پر استقامت اور آپ کے معجزات دیکھے تو ان کے لیے آپ پر ایمان لانا بہت آسان ہوگیا۔ 

(١٠) علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ آپ ان کے نسب سے مبعوث نہیں کیے گئے اور یہ مومنوں پر اس وجہ سے احسان ہے کہ اگر آپ کسی اور جنس سے مبعوث کیے جاتے تو ایک جنس دوسری جنس سے متوحش اور متنفر ہوتی ہے اور اس سے مانوس نہیں ہوتی اور جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو مومنوں کی جنس سے مبعوث کیا تو وہ آپ سے مانوس ہوئے اور ان کو آپ سے وحشت نہیں ہوئی اور آپ سے فیض حاصل کرنا ان کے لیے آسان ہوگیا اور آپ کی زبان وہ سمجھتے تھے ‘ اور آپ کی سیرت پر مطلع تھے اور یہ آپ کی تصدیق کا ذریعہ بنا ‘ اس آیت میں آپ کی بعثت کو مومنین کے لیے احسان فرمایا ہے حالانکہ آپ تمام جہانوں کے لیے رحمت ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کی رحمت سے استفادہ صرف مومنین ہی کرتے ہیں ‘ جس طرح قرآن مجید کو فرمایا یہ متقین کے لیے ہدایت ہے جب کہ دوسری آیت میں فرمایا ہے یہ تمام لوگوں کے لیے ہدایت ہے۔ (البقرہ : ١٨٥) کیونکہ قرآن مجید کی ہدایت سے صرف متقین ہی استفادہ کرتے ہیں۔ (روح المعانی : ج ٤ ص ١١٣۔ ١١٢) 

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نوع انسان اور بشر سے مبعوث کیے گئے : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں :

(آیت) ” من انفسہم “ کا معنی ہے ان کے نسب سے ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا ان کے نسب سے مراد یہ ہے کہ آپ ولد اسماعیل سے تھے ‘ اور یہ حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے کیونکہ انہوں نے فرمایا یہ آیت خاص عربوں کے لیے ہے ‘ اور دوسرے مفسرین نے کہا اس آیت سے مراد کل مومن ہیں اور (آیت) ” من انفسھم “ کا معنی یہ ہے کہ آپ ان میں سے ایک فرد ہیں ‘ وہ آپ کو بھی پہچانتے تھے اور آپ کے نسب کو بھی پہچانتے تھے ‘ آپ نہ فرشتے تھے اور نہ بنو آدم کے علاوہ کسی اور جنس کے فرد تھے ‘ یہ قول زجاج کا مختار ہے ‘ اگر مومنوں پر احسان کی وجہ یہ ہو کہ آپ عرب تھے تو عجمیوں پر آپ کی بعثت کی وجہ سے کوئی احسان نہیں ہوگا ‘ لیکن عجمیوں پر بھی اس وجہ سے احسان ہے کہ جب ان کو آپ کی بعثت کی خبر دی گئی اور ان کو یہ معلوم ہوگیا کہ آپ انی ہی میں سے ایک فرد ہیں اور انہوں نے آپ کے صدق اور آپ کی امانت کو جان لیا تو ان کے لیے آپ کی نبوت کو ماننا آسان ہوگیا۔ (الوسیط ج ١ ص ٥١٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو اللیث نصر بن محمد سمرقندی الحنفی المتوفی ٣٧٥ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسہم “ کا معنی ہے ان کی اصل اور عرب میں ان کے نسب سے ‘ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی جنس سے یعنی بنو آدم سے ‘ اللہ نے آپ کو فرشتوں میں سے نہیں بنایا ‘ آپ کی تین فضیلتیں تھیں ‘ آپ کا نسب عربوں میں قریش میں سے تھا ‘ اور قریش میں سے بنو ہاشم میں سے تھا اور اس پر اتفاق تھا کہ عرب افضل ہیں اور عربوں میں قریش اور قریش میں سے بنو ہاشم۔ دوسری فضیلت یہ تھی کہ اعلان نبوت سے پہلے آپ لوگوں میں بہ طور امین معروف تھے ‘ اور تیسری فضیلت یہ تھی کہ سب کو معلوم تھا کہ آپ امی ہیں اور پھر آپ نے ایک معجز کلام پیش کیا۔ (تفسیر السمرقندی ج ١ ص ٣١٣‘ مطبوعہ مکتبہ دارالباز مکہ مکرمہ ١٤١٣ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان کی مثل بشر ہیں ‘ ایک قرات شاذہ فا کی زبر کے ساتھ ہے یعنی آپ ان میں سے زیادہ نفیس ہیں ‘ کیونکہ آپ بنو ہاشم سے ہیں اور بنو ہاشم قریش میں افضل ہیں ‘ اور عرب عجم سے افضل ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا یہ آیت عرب کے لیے ہے اور دیگر مفسرین نے کہا کہ اس سے مراد کل مومن ہیں اور (آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان میں سے ایک فرد ہیں ‘ اور ان کی مثل بشر ہیں اور صرف وحی سے ان میں ممتاز ہیں (الجامع الاحکام القرآن ج ٤ ص ٢٦٤۔ ٢٦٣ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت میں دو قول ہیں حضرت عائشہ (رض) اور جمہور سے منقول ہے کہ یہ آیت عربوں کے ساتھ خاص ہے اور اس کا معنی ہے آپ کا نسب ان میں معروف ہے اور یہی وجہ احسان ہے اور دوسروں کا قول ہے یہ آیت سب مومنوں کے لیے ہے اور اس آیت کا معنی ہے نہ آپ فرشتے ہیں اور نہ بنو آدم کے علاوہ کسی اور جنس کے فرد ہیں اور یہی وجہ احسان ہے۔ (زادالمیسر ج ١ ص ٤٩٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے آپ ان کے نسب سے اور ان کی جنس سے ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آسانی کے ساتھ آپ کا کلام سمجھ لیں ‘ اور صدق اور امانت میں آپ کے حال سے وقف ہوں اور آپ پر فخر کریں ایک قرات فا کی زبر کے ساتھ ہے ‘ یعنی آپ ان میں سے سب سے زیادہ شرف والے ہیں کیونکہ آپ کا قبیلہ سب سے اشرف اور افضل تھا۔ (انوار التنزیل (درسی) ص ٩٥‘ مطبوعہ دارفراس للنشروالتوزیع مصر) 

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کا معنی ہے کہ آپ بنو آدم کی جنس سے ہیں ‘ اور یہ اس وجہ سے احسان ہے کہ لوگ آپ سے مانوس ہو کر اکتساب فیض کرلیں ‘ اور دو مختلف جنسوں میں جو وحشت اور نفرت ہوتی ہے وہ نہ ہو ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کے مخاطب عرب ہیں اور وجہ احسان یہ ہے کہ آپ ان کی مثل عرب ہیں ‘ ان کی زبان بولتے ہیں اس وجہ سے ان کے لیے آپ سے استفادہ آسان ہے اور آپ کی سیرت طیبہ انمیں معروف ہے اور یہ آپ کی نبوت کو جاننے کا ذریعہ ہے۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ٤١٦۔ ٤١٥ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابو العباس بن یوسف السمین الحلبی الشافعی المتوفی ٧٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

(آیت) ” من انفسھم “ کا معنی ہے کہ آپ انکی جنس سے ہیں ‘ حضرت عائشہ (رض) حضرت فاطمہ (رض) اور ضحاک کی یہی قرات ہے ‘ اور حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ یہ فاء کی زبر کے ساتھ ہے ‘ یعنی آپ سب سے زیادہ نفیس اور مکرم ہیں ‘ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نسب ‘ حسب اور صہر (سسرال) کے لحاظ سے تم سب سے زیادہ نفیس ہوں۔ (الدرالمصون ج ٢ ص ٢٥١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ )

علامہ جلال الدین شافعی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

آپ ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آپ کا کلام سمجھ سکیں اور آپ کی وجہ سے مشرف ہوں نہ فرشتے ہیں نہ عجمی (جلالین مع الجمل ج ١ ص ٣٣٢‘ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی) 

علامہ ابوالسعود محمد بن عمادی حنفی متوفی ٩٨٢ ھ لکھتے ہیں : 

آپ ان کے نسب سے یا ان کی جنس سے ان کی مثل عربی ہیں تاکہ وہ آسانی سے آپ کا کلام سمجھ سکیں اور آپ کے صدق اور آپ کی امانت پر مطلع ہوں اور اس پر فخر کریں اور اس میں ان کے لیے عظیم شرف ہے ‘ ایک قرات فا کی زبر کے ساتھ ہے کیونکہ آپ کا قبیلہ سب سے افضل قبیلہ تھا۔ (تفسیر ابوالسعود علی ھامش الکبیر ج ٢ ص ٤٥٧‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نور کا اطلاق بھی فرمایا ہے۔ 

(آیت) ” قد جآء کم من اللہ نور و کتاب مبین “۔ (المائدۃ : ١٥) 

بے شک تمہارے پاس اللہ کی طرف سے نور آیا اور روشن کتاب “۔ 

اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرنور کا اطلاق بھی جائز ہے ‘ نور کی دو قسمیں ہیں ایک حسی اور مادی نور ہے جیسے سورج ‘ چاند اور چراغ کا نور ہے جو آنکھ سے نظر آتا ہے اور حسی نور اندھیروں کو دور کرتا ہے ‘ ایک معنوی نور ہے جو کفر اور گمراہی سے نکل کر اسلام اور ہدایت کی طرف لاتا ہے ‘ اس کا ادراک عقل سے ہوتا ہے ‘ اور یہی نور افضل ہے اور یہی انبیاء (علیہم السلام) کی صفت ہے ‘ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے لائق بھی یہی نور ہے ‘ نیز آپ کی بشریت مادی کثافتوں سے پاک اور منزہ تھی اور غایت لطافت میں تھی حتی کہ آپ کے جسم مبارک کا سایہ بھی نہیں پڑتا تھا اس وجہ سے بھی آپ کو نور فرمایا گیا اور اس لیے بھی کہ آپ کی حقیقت میں عقل کے علاوہ استعداد وحی کا عنصر بھی رکھا گیا جو عام انسانوں کے اعتبار سے بہ منزلہ فصل ہے اور اسی آپ امور غیبیہ کا ادراک کرتے ہیں ‘ اس لیے آپ کو نور فرمایا گیا ‘ نیز اس لیے بھی کہ بعض اوقات آپ سے حسی نورانیت کو بھی ظہور ہوتا ہے جیسا کہ بعض احادیث میں ہے :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کے دو دانتوں میں جھری (خلاء) تھی ‘ جب آپ گفتگو فرماتے تو آپ کے سامنے کے دانتوں سے نور کی طرح نکلتا ہوا دیکھائی دیتا تھا۔ (شمائل ترمذی مع جامع ترمذی ص ٥٦٩‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ‘ سنن دارمی ج ١ ص ٢٣‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان ‘ دلائل النبوۃ ج ١ ص ٢١٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٧٩‘ مطبوعہ دار الکتب العربی ‘ بیروت ١٤٠٢ ھ) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سایہ نہ تھا ‘ آپ جب بھی سورج کے سامنے کھڑے ہوتے تھے ‘ آپ کا نور سورج کی روشنی پر غالب رہتا اور آپ جب بھی چراغ کے سامنے کھڑے ہوتے تو آپ کا نور چراغ کے نور پر غالب رہتا (الوفاباحوال المصطفی ص ٤٠٧‘ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد) 

بعض علماء سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو انسان اور بشر نہیں مانتے وہ کہتے ہیں کہ آپ کی حقیقت نور ہے اور بشریت آپ کی صفت یا آپ کا لباس ہے ‘ اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ آپ کی حقیقت کیا ہے یہ کوئی نہیں جانتا ‘ نورانیت بھی آپ کی صفت ہے ‘ اور بشریت بھی آپ کی صفت ہے ‘ لیکن قرآن مجید اور احادیث صحیحہ سے یہی واضح ہوتا ہے کہ آپ نوع انسان اور بشر سے مبعوث کیے گئے ہیں اور یہی آپ کی حقیقت ہے لیکن استعداد وحی کے لحاظ سے آپ عام انسانوں سے ممتاز ہیں اور آپ پرنور کا اطلاق بھی کیا گیا ہے اور اس کے محامل وہی ہیں جو ہم نے بیان کردیئے ہیں لیکن یہ ایک فکری مسئلہ ہے اس کا ضروریات دین سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تاہم یہ بات ضرور ملحوظ رہنی چاہیے کہ ہماری عقائد کی تمام کتابوں میں لکھا ہوا ہے کہ نبی انسان اور بشر ہوتا ہے جس پر وحی نازل کی جاتی ہے اور اس کو تبلیغ احکام کے لیے مبعوث کیا جاتا ہے : 

صدرالافاضل سید محمد نعیم الدین مراد آبادی متوفی ١٣٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء وہ بشر ہیں جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی آتی ہے۔ (کتاب العقائد ص ٨‘ مطبوعہ تاجدار حرم پبلشنگ کمپنی کراچی) 

صدر الشریعہ علامہ محمد امجد علی اعظمی متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

عقیدہ : نبی اس بشر کو کہتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے لیے وحی بھیجی ہو ‘ اور رسول بشر ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ملائکہ میں بھی رسول ہیں۔ rnّ (بہار شریعت ج ١ ص ٩‘ مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور) 

تلاوت ‘ تزکیہ اور کتاب و حکمت کی تعلیم کا بیان : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو ان پر اللہ کی آیات تلاوت کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

یعنی ان پر قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہیں ‘ آیت کا معنی دلیل ہے ‘ قرآن مجید کے جملوں کو اس لیے آیات فرمایا ہے کیونکہ قرآن مجید کا ہر جملہ اپنی بلاغت کے اعتبار سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دعوی نبوت کے صدق پر دلیل ہے ‘ اور وہ چونکہ اہل لسان تھے اس لیے ہر جملہ سے انکے مفہوم کو بغیر کسی ترجمہ کے جان لیتے تھے اور اس کی بلاغت کی وجہ سے اس کے اعجاز کو بھی سمجھتے تھے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے باطن کو صاف کرتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

تزکیہ کا معنی ہے پاک اور صاف کرنا ‘ یعنی آپ انہیں اسلام کی ہدایت دے کر ان کے ظاہر کو صاف اور ان کے باطن کو پاک کرتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔ (آل عمران : ١٦٤) 

کتاب کی تعلیم سے مراد ہے قرآن مجید کے مقاصد کا بیان کرنا اور قرآن مجید کے حفظ کا حکم دنیا ‘ تاکہ انہیں ہر وقت قرآن مجید کے معانی مستحضر رہیں اور حکمت سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے ‘ یا کتاب سے مراد ظاہر شریعت ہے اور حکمت سے مراد شریعت کے اسرار اور معارف ہیں ‘ یا حکمت سے مراد ہے شریعت کے بیان کیے ہوئے وہ اصول جن پر عمل کرنے سے ایک فرد ‘ ایک خاندان اور ایک ملک کی اصلاح ہوتی ہے جس کو تہذیب اخلاق ‘ تدبیر منزل اور سیاست مدینہ کہا جاتا ہے، مثلا قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “۔ (الحشر : ٩) 

ترجمہ : جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو وہی لوگ کامیاب ہیں۔ 

یا جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی چیز کی محبت تمہیں (اس کا عیب دیکھنے سے) اندھا اور (اس کا عیب سننے سے) بہرہ کردیتی ہے (سنن ابوداؤد ج ٢ ص ٣٤٣‘ مسند احمد ج ٥ ص ١٩٤‘ ج ٦ ص ٤٥٠) 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو حکمت کی تعلیم دی ہے یہ اس کی دو تین مثالیں ہیں ‘ جو شخص قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ کرے گا وہ ایسی بیشمار مثالوں پر مطلع ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 164

وَمِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ يُّؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ‌ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ اِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآٮِٕمًا ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡا لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِىۡ الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَ هُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 75

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ يُّؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ‌ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ اِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآٮِٕمًا ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡا لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِىۡ الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَ هُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) اہل کتاب میں سے بعض ایسے لوگ ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ڈھیروں مال بھی امانت رکھو تو وہ تم کو ادا کردیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو وہ تم کو ادا نہیں کریں گے سوا اس کے کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ان ان پڑھ لوگوں کا مال ہڑپ کرنے پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہوگی اور وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں

تفسیر:

اہل کتاب کے امانت داروں اور خائنوں کا بیان : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اہل کتاب نے کہا یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ جو کچھ ہمیں دیا گیا ہے اس کی مثل کسی اور کو بھی دی جائے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ خیانت کرنا تمام مذاہب میں مذموم ہے ‘ اس کے باوجود وہ خیانت کرتے ہیں اور جو لوگ مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے میں جھوٹے ہیں اور وہ کے ساتھ معاملہ میں کب سچے ہوسکتے ہیں ! نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ اہل کتاب کی دو قسمیں ہیں ‘ بعض ‘ معاملات میں ایماندار ہیں اور بعض خائن ہیں تاکہ مسلمان ان سے تعلق قائم کرنے میں ہوشیار رہیں کیونکہ اہل کتاب خائن ہیں وہ مسلمانوں کا مال ہڑپ کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

امام واحدی ضحاک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے پاس بارہ سواوقیہ (ایک اوقیہ چوتھائی چھٹانک کے برابر ہے) سونا رکھا ‘ انہوں نے وہ سونا اس کو ادا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی ‘ اور ایک شخص نے فخ اس میں عازوراء نام کے ایک یہودی عالم کے پاس ایک دینار امانت رکھا تو اس نے اس میں خیانت کی (الوسیط ج ١ ص ٤٥١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا سوا اس کے کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو ‘ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ عملا اس کے سر پر کھڑا رہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے مسلسل مطالبہ کرتا رہے خواہ کھڑا ہو یا نہ ہو ‘ سدی وغیرہ نے کہا ہے کہ وہ اس کا پیچھا نہ چھوڑے ‘ ہر وقت اس کے ساتھ رہے اور اس سے مطالبہ کرتا رہے ‘ امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قرض خواہ کے لئے جائز ہے کہ وہ اس وقت تک مقروض کا پیچھا نہ چھوڑے جب تک کہ وہ اس کا قرض ادا نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی خیانت کی وجہ بیان فرمائی کہ یہودی یہ کہتے تھے کہ ان ‘ ان پڑھ لوگوں کا مال ہڑپ کرنے پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہوگی ‘ یہودی اسلام اور قرآن کے مخالف تھے اس کے باوجود ان میں جو نیک لوگ تھے اور امانت ادا کرتے تھے قرآن مجید نے ان کی نیکی کو ظاہر فرمایا ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید نے یہودیوں کی خیانت کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا ہے حالانکہ اور قوموں میں بھی موجود ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرنے کو جائز سمجھتے تھے بلکہ اس کو کار ثواب قرار دیتے تھے۔

کفار کی نیکیوں کے مقبول یا مردود ہونے کی بحث : 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اچھی بات گو کافر کی ہو وہ بھی کسی درجہ میں اچھی ہی ہے ‘ جس کا فائدہ اس کو دنیا میں نیک نامی ہے اور آخرت میں عذاب کی کمی۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٩٣‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ) ہمارے نزدیک یہ تفسیر صحیح نہیں ہے۔ آخرت میں کفار کے عذاب میں کمی ہونا صراحۃ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” لا یخفف عنہم العذاب ولا ھم ینظرون “۔ (البقرہ : ١٦٢)

ترجمہ : نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

شیخ محمود الحسن متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی ان پر عذاب یکساں اور متصل رہے گا اور یہ نہ ہوگا کہ عذاب میں کسی قسم کی کمی ہوجائے یا کسی وقت ان کو عذاب سے مہلت مل جائے۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ لکھتے ہیں :

داخل ہونے کے بعد کسی وقت ان پر سے جہنم کا عذاب ہلکا بھی نہ ہونے پائے گا اور نہ داخل ہونے سے قبل ان کو کسی میعاد کی مہلت دی جائے گی۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا تھا مسکین کو کھانا کھلاتا تھا کہ اس کو اس کا فائدہ ہوگا آپ نے فرمایا ان نیکیوں سے اس کو نفع نہیں ہوگا اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا۔ اے اللہ ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٢٥)

علامہ نووی نے قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ کفار کو ان اعمال سے نفع نہیں ہوگا ‘ ان کو ثواب ہوگا نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔

علامہ عینی نے علامہ قرطبی سے نقل کیا ہے کہ ابولہب اور جن کفار کے متعلق تخفیف عذاب کی تصریح ہے وہ ان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٠ ص ٩٥)

یہودی غیر یہودی کا مال کھانا کیوں جائز سمجھتے تھے ؟ 

(١) یہودی اپنے دین میں سخت متعصب تھے وہ کہتے تھے جو دین میں ان کا مخالف ہو اس کو قتل کرنا بھی جائز ہے اور جس طرح بن پڑے اس کا مال لوٹنا بھی جائز ہے۔

(٢) یہودی کہتے تھے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ساری مخلوق ہماری غلام ہے اس لیے وہ ہر غیر یہودی کا مال اپنے لیے جائز سمجھتے تھے۔

(٣) یہودی مطلقا غیر کے مال کو حلال نہیں سمجھتے تھے بلکہ عرب کے جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے ان کے مال کو کھانا اپنے لیے جائز گردانتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٧٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

یہودی جو کہتے تھے کہ مسلمانوں کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی تحقیر اور اپنا تفوق بیان کرنا تھا ‘ وہ اس پر تکبر کتے تھے کہ وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ان کو مسلمانوں سے پہلے کتاب دی گئی اس لیے وہ خود کو اہل کتاب اور مسلمانوں کو امین کہتے تھے ‘ اور جو شخص دین میں ان کا مخالف ہو اس کے حقوق کے استحاصل کو جائز سمجھتے تھے ‘ اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ جو شخص جاہل ہو یا امی ہو اس کے حقوق کو ضائع کرنا جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات میں اسرائیلی اور غیر اسرائیل کے ساتھ معاملات میں تفریق تو کی ہے لیکن یہ نہیں لکھا کہ غیر اسرائیلی کے مال کو ناجائز طور پر ہڑپ کرلیا جائے لیکن انہوں نے اپنے سوء فہم اور کم عقلی سے یہ سمجھ لیا کہ غیر اسرائیلی کا مال کھانا جائز ہے ‘ تو رات کی عبارت یہ ہے :

تو پردیسی (اجنبی ‘ غیر اسرائیلی) کو سود پر قرض دے تو دے پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا اس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جارہا ہے تیرے سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے تجھ تجھ کو برکت دے۔ (استثناء باب : ٢٣ آیت : ٢٠‘ پرانا عہد نامہ ص ١٨٨)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ غیر اسرائیلی سے اسرائیلی کا سود لینا جائز ہے ‘ یہ نہیں کہا کہ غیر اسرائیلی کا اصل مال ہڑپ کرلینا جائز ہے ‘ اور یہ بھی اس تقدیر پر ہے کہ ہم یہ تسلیم کرلیں کہ موجودہ تورات میں جو یہ آیت لکھی ہوئی ہے اصل تورات میں بھی یہ حکم اسی طرح تھا ‘ جب کہ قرآن مجید میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت محرف ہے ‘ کیونکہ جب غیر اسرائیلی سے سود لینا جائز ہوگا تو غیر اسرائیلی سے اس کی اصل رقم سے زائد رقم وصول کرنا جائز ہوگا۔ اور یہی غیر اسرائیلی کا ناحق مال کھانا ہے جس کو یہودی جائز سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا : وہ اللہ پر دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ (آل عمران : ٧٥)

اما امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہود نے کہا عربوں کا مال لوٹنے پر ہم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

سدی بیان کرتے ہیں کہ یہود سے کہا گیا کہ تم اپنے پاس رکھوائی ہوئی امانتیں واپس کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا کہ عربوں کا مال کھانے پر ہماری گرفت نہیں ہوگی ‘ کیونکہ اللہ نے ان کا مال ہمارے لیے حلال کردیا ہے۔

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ قبل از اسلام کچھ لوگوں نے یہودیوں کے ہاتھ کچھ مال فروخت کیا ‘ پھر وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے یہودیوں سے اپنے مال کی قیمت کا تقاضا کیا ‘ یہودیوں کے ہاتھ کچھ مال فروخت کیا ‘ پھر وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے یہودیوں سے اپنے مال کی قیمت کا تقاضا کیا ‘ یہودیوں نے کہا ہمارے پاس تمہاری کوئی امانت نہیں ہے ‘ نہ ہم نے تمہارا کوئی مال ادا کرنا ہے ‘ کیونکہ تم نے اپنا سابق دین ترک کردیا ہے اور انہوں نے دعوی کیا کہ ہماری کتاب میں نہ اسی طرح لکھا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ پر دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں :

غیر معروف طریقہ سے مخالفین کا مال کھانے کا عدم جواز : 

سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے دشمن جھوٹ بولتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے ‘ ماسوا امانت کے کیونکہ وہ ادا کی جائے گی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ٢٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

بعض یورپی ممالک میں بعض علماء اسلام یہ فتوی دیتے ہیں کہ یورپ ‘ امریکہ اور افریقہ کے کافر ممالک میں سود کا لین دین جائز ہے اور غیر معروف طریقہ سے کافروں کا مال کھانا جائز ہے مثلا ایک شخص شہر میں خود کو بےروزگار ظاہر کرکے حکومت سے بیروزگاری کا وظیفہ لے اور دوسرے شہر میں کوئی ملازمت کرے اور حکومت کو فریب دے کر وظیفہ لیتا رہے تو یہ جائز ہے ‘ یا خاوند اور بیوی جھوٹ بول کر طلاق ظاہر کریں اور دونوں الگ الگ رہائش حکومت سے حاصل کرلیں اور ایک رہائش کو خفیہ طور پر کرایہ پر اٹھادیں ‘ یا ایک شخص کسی ادارہ سے تنخواہ زیادہ وصول کرے اور کاغذات میں تنخواہ کم دکھائے تاکہ حکومت سے کم آمدنی کی مراعات حاصل کرے تو یہ تمام امور شرعا جائز ہیں کیونکہ کافر کا مال کھانا جائز ہے۔

یہ طریقہ بالکل یہودیوں کا طریقہ ہے جو یہ کہتے ہیں تھے کہ مسلمانوں کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اسلام ایک عالم گیر دین ہے ‘ اسلام نے ایمان داری اور راستبازی کی تعلیم دی ہے ‘ ایسی دیانت اور امانت کی تعلیم دی جس سے متاثر ہو کر دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی حقلہ بگوش اسلام ہوجائیں ‘ نہ یہ کہ اسلام میں دوسرے مذہب کے لوگوں سے دھوکے اور فریب سے رقم بٹورنے کا جواز بیان کیا جائے جس سے دوسری اقوام متنفر ہوں۔ اسلام کی ہدایت تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے میدان جنگ اور جہاد میں جو قوم مسلمانوں سے بالفعل بر سرپیکار ہو ان کی جان اور ان کے اموال محترم نہیں ہیں۔ انکو دوران جہاد جنگ اور جہاد میں جو قوم مسلمانوں سے بالفعل برسرپیکار ہو ان کی جان اور ان کے اموال محترم نہیں ہیں۔ ان کو دوران جہاد قتل کردیا جائے گا اور جو زندہ بچیں گے ان کو گرفتار کر لیاجائے گا اور میدان جنگ میں کافروں کا جو مال ملے گا وہ مال غنیمت ہے ‘ امام اس مال کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے روانہ کرے گا اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔

یا کافر اپنی املاک چھوڑ کر چلے جائیں اور مسلمان املاک پر بغیر جنگ کے قبضہ کرلیں جیسے فدک تھا اس کو مال فے کہتے ہیں ‘ اس کے علاوہ کافروں کا مال لینے کی کوئی جائز صورت نہیں ہے ‘ جو کافر جزیہ دے رہے ہوں ان کے جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور جن کافر ملکوں سے انکے معاہدے ہوں انکے مال بھی کسی غیر معروف طریقہ سے لینا جائز نہیں ہے۔ یہ صرف یہودیوں کا نظریہ تھا کہ جو لوگ دین میں ان کے مخالف ہوں ان کا مال غیر معروف اور غیر قانونی طریقہ سے لینا جائز ہے۔

ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں : حقوق اور امانات کی ادائیگی میں اللہ کے دین میں مومن اور غیر مومن کی مطلقا تفریق نہیں ہے ‘ کیونکہ حق مقدس ہے اور کسی شخص کے دین کی وجہ سے اس کا حق بالکل متاثر نہیں ہوتا ‘ اور رہے یہود تو وہ عہد پورا کرنے کو حق واجب نہیں کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول کے بعد فرمایا :

(آیت) ” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ (ال عمران : ٧٥)

ترجمہ : اور وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

اس آیت میں ان کافروں کا رد ہے جو از خود چیزوں کو حرام اور حلال قرار دیتے تھے اور ان کو شریعت اور دین بتاتے تھے۔

اللہ کے ساتھ عہد پورا کرنا یہ ہے کہ اس کے احکام پر وجوبا عمل کیا جائے اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے لازما اجتناب کیا جائے۔ اور لوگوں سے معاملات ‘ عقود اور امانات کی ادائیگی کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کیا جائے۔ اس عہد کو پورا کرنا بھی ایمان سے ہے بلکہ یہ ایمان کی اعلی خصال میں سے ہے اور اسی ایمان کی وجہ سے بندہ اپنے رب کے قریب تر ہوتا ہے اور اس کی محبت اور رضا کا مستحق قرار پاتا ہے ‘ اور جو شخص عہد شکنی کرے وہ بالکل اللہ سے ڈرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ گروہ منافقین میں سے ہے اور باطل اور غیر معروف طریقہ سے مال کھانے کہ وجہ سے انسان اللہ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا مستحق ہوتا ہے ‘ امام احمد نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا مال ناحق کھایا وہ جب اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا ‘ اور امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ترمذی اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منا فق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت انس (رض) سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جو شخص امانت دار نہ ہو وہ مومن نہیں اور جو شخص عہد پورا نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں اور عہد توڑنے والے اور امانت میں خیانت کرنے والے کی سزا اللہ کے نزدیک زنا ‘ چوری ‘ شراب نوشی ‘ جوئے اور ماں باپ کی نافرمانی اور دیگر تمام کبیرہ گناہوں سے زیادہ ہے ‘ کیونکہ عہد شکنی کا فساد اور اس کا ضرر بہت بڑا اور بہت عام اور بہت شامل ہے۔ (تفسیر منیرج ٣ ص ٢٧٠۔ ٢٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

غیر معروف اور غیر قانونی طریقوں سے کافر اقوام کا مال کھانے کے دلائل پر بحث ونظر : 

جب مسلمان کسی کافر قوم سے برسرجنگ ہوں اس وقت کافروں کا ملک دارالحرب ہوتا ہے اور اس وقت دارالحرب کے کافروں کی جان اور اموال مباح ہیں لیکن جن ممالک سے مسلمان برسر جنگ نہیں ہیں۔ ان سے سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور ان کے ہاں پاسپورٹ اور ویزے سے آنا جانا جاری اور معمول ہے اور ان ممالک میں مسلمانوں کو جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ حاصل ہے بلکہ وہاں انہیں اسلامی احکام پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے جیسے امریکہ ‘ برطانیہ ‘ کینیڈا اور جرمنی وغیرہ ایسے ملک دارالحرب نہیں بلکہ دارالکفر ہیں اور ایسے ممالک کے کافروں کے اموال مسلمانوں پر مباح نہیں ہیں۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ کافروں کا مال ان پر مباح ہے خواہ جس طرح حاصل ہو بشرطیکہ اس سے مسلمانوں کا وقار مجروح نہ ہو ان کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (النساء : ٢٩)

ترجمہ : اے ایمان والو ! آپس میں اپنے اموال ناحق نہ کھاؤ الا یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے تجارت ہو۔

اس آیت سے یہ لوگ اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو آپس میں ناجائز طریقے سے مال کھانے سے منع کیا ہے اور اگر مسلمان کافروں کا مال ناجائز طریقے سے کھالیں تو اس سے منع نہیں کیا گیا ‘ سو مسلمانوں کے لئے کفار کے اموال عقد فاسد سے یا ناجائز طریقے سے کھانا جائز ہے۔ اولا تو یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ یہ مفہوم مخالف سے استدلال ہے اور وہ جائز نہیں ہے ‘ ثانیا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید کا عام اسلوب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق سے مسلمانوں کے ساتھ خطاب کرتا ہے لیکن اس سے قرآن مجید کا منشاء یہ نہیں ہے کہ نیکی صرف مسلمانوں کے ساتھ کی جائے اور کفار کے ساتھ سلوک میں مسلمان نیکیوں کو چھوڑ کر بدترین برائیوں پر اتر آئیں حتی کہ کفار کے نزدیک مسلمان ایک خائن اور بدکردار قوم کے نام سے معروف ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا “۔ (النور : ٣٣)

ترجمہ : اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جب کہ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم (اس بدکاری کے کاروبار کے ذریعہ) دنیا کا عارضی فائدہ طلب کرو۔

اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے منع کیا ہے کہ وہ اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور کریں تو کیا اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی دارالکفر میں کافر عورتوں کا کوئی قحبہ خانہ کھول کر اس سے کاروبار کرنا شروع کردیں ؟

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو درآں حالیکہ تم جانتے ہو۔

کیا اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کافروں کی امانتوں میں خیانت کرلیا کریں ؟

(آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم “۔ (النحل : ٩٤)

ترجمہ : اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا دینے کے لئے بہانہ نہ بناؤ۔

کیا اس آیت کا یہ معنی ہے کہ کافروں سے رروغ حلفی میں کوئی مضائقہ نہیں ؟

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١٩)

ترجمہ : بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

کیا اس آیت سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ کافروں میں بےحیائی اور بدکاری کو پھیلانا جائز اور صواب ہے اور اخروی ثواب کا موجب ہے ؟

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشایہ ہے کہ اخلاق اور کردار کے اعتبار سے دنیا میں مسلمان ایک آئیڈیل قوم کے لحاظ سے پہچانے جائیں غیر اقوام مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو دیکھ کر متاثر ہوں۔ مسلمانوں کی امانت اور دیانت کی ایک عالم میں دھوم ہو۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ کفار قریش ہزار اختلاف کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راستبازی ‘ پارسائی ‘ امانت اور دیانت کے معترف اور مداح تھے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں تلوار اور جہاد سے زیادہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باکمال سیرت کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کی کافر سے لڑائی تیروتفنگ کی نہیں اصول اور اخلاق کی لڑائی ہے۔ اس کا نصب العین زر اور زمین کا حصول نہیں بلکہ دنیا میں اپنے اصول اور اقدار پھیلانا ہے۔ اب اگر اس نے اپنے مکارم اخلاق ہی کو کھو دیا اور خود ہی ان اصولوں اور تعلیمات کو قربان کردیا جس کو پھیلانے کے لیے وہ کھڑا ہوا ہے تو پھر اس میں اور دوسری اقوام میں کیا فرق رہے گا اور کس چیز کی وجہ سے اس کو دوسروں پر فتح حاصل ہوگی اور کس قوت سے وہ دلوں اور روحوں کو مسخر کر سے گا ؟

جو لوگ دارالکفر میں حربی کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں اور حربی کافروں کے اموال کو عقد فاسد کے ساتھ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں وہ اس پر کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس عمل کی مذمت کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو حق کھانے کے لئے یہ مسئلہ گھڑ لیا تھا کہ عرب کے امی جو ہمارے مذہب پر نہیں ہیں ان کا مال جس طرح لے لیا جائے روا ہے ‘ غیر مذاہب والوں کی امانت میں خیانت کی جائے تو کچھ گناہ نہیں خصوصا وہ عرب جو اپنا آبائی دین کو چھوڑ کر مسلمان بن گئے خدا نے ان کا مال ہمارے لئے حلال کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک الا مادمت علیہ قآئما ذالک بانھم قالوا لیس علینا فی الامیین سبیل ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ (آل عمران : ٧٥)

ترجمہ : اور ان (یہودیوں) میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک اشرفی امانت رکھو تو جب تک تم ان کے سر پر نہ کھڑے رہو وہ تم کو واپس نہیں دیں گے یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ امیین (مسلمانوں) کا مال لینے سے ہماری پکڑ نہیں ہوگی اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں :

غور کیجئے جو لوگ دارالکفر میں حربی کافروں سے سود لینے اور عقد فاسد پر ان کے معاملے کو جائز کہتے ہیں ان کے عمل میں اور یہودیوں کے اس مذموم عمل میں کیا فرق رہ گیا ؟

حضرت ابوبکر کے قمار کی وضاحت :

جو لوگ کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر نے مکہ میں ابی بن خلف سے اہل روم کی فتح پر شرط لگائی تھی اس وقت مکہ دارالحرب تھا حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے شرط جیت کر وہ رقم وصول کرلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں رقم لینے سے منع نہیں کیا اس سے معلوم ہوا کہ حربی کافروں سے قمار اور دیگر عقود فاسدہ کے ذریعہ رقم بٹورنا جائز ہے۔

یہ استدلال بالکل بےجان ہے کیونکہ حضرت ابوبکر کے شرط لگانے کا ذکر جن روایات میں ہے وہ باہم متعارض ہیں۔

قاضی بیضاوی ‘ بغوی ‘ علامہ آلوسی اور دیگر مفسرین نے بغیر کسی سند کے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابوبکر کے شرط جیتنے کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے ہار گئے تو وہ دس اونٹ دیں گے اور اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے جیت گئے تو ابی کو دس اونٹ دینے ہوں گے پھر جب حضور سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ہے۔ بضع کا لفظ تو تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے تم شرط اور مدت دونوں کو بڑھا دو پھر حضرت ابوبکر نے نوسال میں سو اونٹوں کی شرط لگائی جب ساتواں سال شروع ہوا اور ابن ابی حاتم اور ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ جنگ بدر کے دن رومی ایرانیوں پر غالب آگئے حضرت ابوبکر نے ابی کے ورثاء سے اونٹ لے لئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ اونٹ لے کر آئے تو آپ نے فرمایا یہ سحت (مال حرام) ہے اس کو صدقہ کردو حالانکہ اس وقت تک حرم قمار کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ (روح المعانی ج ٢١ ص ‘ ١٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ آلوسی نے ترمذی کے حوالے سے بھی حضرت ابوبکر کے جیت جانے کا واقعہ لکھا ہے لیکن یہ علامہ آلوسی کا تسامح ہے ‘ جامع ترمذی میں حضرت ابوبکر کے شرط ہارنے کا ذکر ہے حافظ ابن کثیر نے بھی ترمذی کے حوالے سے ہارنے ہی کا ذکر ہی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ تابعین کی ایک جماعت نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور مفسرین کی ذکر کردہ مذکورہ الصدر روایت کو عطاء خراسانی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اس کو بہت غریب (اجنبی) قرار دیا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم ج ٥ ص ٣٤٢۔ ٣٤١ مطبوعہ دارالندلس بیروت)

جامع ترمذی کی روایت کا متن یہ ہے :

نیار بن اسلمی بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الم غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین ‘۔۔

الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے چند سالوں بعد غالب ہوجائیں گے۔ جن دنوں یہ آیت نازل ہوئی ان دنوں میں ایرانیوں کو رومیوں پر برتری تھی اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی ایرانیوں پر فتح پاجائیں کیونکہ وہ اور رومی اہل کتاب تھے اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔

(آیت) ” ویومئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ ینصر من یشاء وھو العزیز الرحیم “۔۔

ترجمہ : جس دن مسلمانوں اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ عزیز رحیم ہے۔۔

اور قریش یہ چاہتے تھے کہ ایرانی غالب ہوجائیں کیونکہ وہ دونوں نہاہل کتاب تھے نہ بعثت پر ایمان رکھتے تھے ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابوبکر نے مکہ کے اطراف میں یہ اعلان کردیا۔ الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس سے) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں غالب ہوجائیں گے۔ قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا تمہارے پیغمبر یہ کہتے ہیں کہ چند سالوں میں رومی ایرانیوں پر غالب ہوجائیں گے کیا ہم اس پر شرط نہ لگائیں حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کیوں نہیں اور یہ قمار کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا پھر حضرت ابوبکر (رض) اور مشرکین نے شرط لگائی مشرکین نے کہا ” بضع سنین “ تین سالوں سے لے کر نو سالوں تک ہے تم ہمارے درمیان اس کی درمیانی مدت طے کرلو پھر انہوں نے یہ مدت چھ سال طے کی پھر چھ سال گذر گئے اور رومی غالب نہ ہوئے اور مشرکین نے حضرت ابوبکر (رض) سے شرط وصول کرلی اور پھر جب ساتواں سال شروع ہوا تو رومی ایرانیوں پر غالب ہوگئے تو پھر مسلمانوں نے حضرت ابوبکر پر تنقید کی کہ انہوں نے ” بضع سنین “ کو چھ سال کیوں قرار دیا کیونکہ اللہ نے تو ” بضع سنین “ فرمایا تھا (اور وہ نو سال تک کو کہتے ہیں) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٦٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوبکر (رض) کے قمار سے جو یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حربی کافروں کا مال ناجائز طریقے سے بھی لینا جائز ہے اس روایت کی تحقیق کے بعد اس کے حسب ذیل جواب ہیں :

(١) حضرت ابوبکر کے قمار کا واقعہ جن روایات سے ثابت ہے وہ مضطرب ہیں یعنی بعض روایات میں حضرت ابوبکر کے جیتنے کا ذکر ہے اور بعض میں ہارنے کا ذکر ہے اور مضطرب روایا ات سے استدلال صحیح نہیں ہے۔

(٢) قمار کا یہ واقعہ بالاتفاق حرمت قمار سے پہلے کا ہے کیونکہ یہ شرط فتح مکہ سے پہلے لگائی گئی تھی اور قمار کی حرمت سورة مائدہ میں نازل ہوئی ہے جو مدینہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو نہ خود قبول فرمایا نہ حضرت ابوبکر کو لینے دیا بلکہ فرمایا یہ مال حرام ہے اس کو صدقہ کردو۔ (اس میں یہ دلیل ہے کہ جب انسان کسی مال حرام سے بری ہونا چاہے تو برات کی نیت سے اس کو صدقہ کردے)

دارالحرب ‘ دارالکفر اور دارالاسلام کی تعریفات : 

شمس الائمہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ دارالحرب کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک دارالحرب کی تین شرطیں ہیں ایک یہ کہ اس پورے علاقے میں کافروں کی حکومت ہو اور درمیان میں مسلمانوں کا کوئی ملک نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ اسلام کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت محفوظ نہ ہو اسی طرح ذمی بھی محفوظ نہ ہو ‘ تیسری شرط یہ ہے کہ اس میں شرک کے احکام ظاہر ہوں۔ (المبسوط ج ١٠ ص ١١٤ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١٣٩٨ ھ)

علامہ سرخسی نے دارالحرب کی تیسری شرط یہ بیان کی ہے کہ اس میں مشرکین شرک کے احکام ظاہر کریں ‘ علامہ شامی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں :

یعنی شرک کے احکام مشہور ہوں اور اس میں اہل اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیا جائے۔ (ھندیہ) اور ظاہر یہ ہے کہ اگر اس میں مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے احکام جاری ہوں تو پھر وہ دارالحرب نہیں ہوگا۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

یہ تعریف اس ملک پر صادق آئے گی جس ملک سے مسلمان عملا برسر جنگ ہوں اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ ہوں اور وہاں کسی مسلمان کی اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان مال اور عزت محفوظ نہ ہو جیسا کہ کسی زمانہ میں اسپین میں تھا وہاں ایک ایک مسلمان کو چن کر قتل کردیا گیا وہاں اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے جیسے امریکہ برطانیہ ہالینڈ جرمنی اور افریقی ممالک یہ ملک دارالحرب نہیں ہیں بلکہ دارالکفر ہیں۔ فقہاء احناف نے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی آزادی کے پیش نظر ایسے ممالک کو دار الاسلام کہا ہے لیکن یہ حکما دارالاسلام ہیں حقیقتا دارالکفر ہیں۔ بعض اوقات فقہاء دارالکفر پر مجازا دارالحرب کا بھی اطلاق کردیتے ہیں لیکن یہ ملک حقیقتا دارالسلام ہیں نہ دارالحرب بلکہ یہ دارالکفر ہیں ‘ کافروں کی حکومت کی وجہ سے کبھی ان پر دارالحرب کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور اسلامی احکام پر عمل کی آزادی کی وجہ سے کبھی ان پر دارالسلام کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

معراج الدرایہ میں مبسوط کے حوالے سے لکھا ہے جو شہر کفار کے ہاتھوں میں ہیں وہ بلاد اسلام ہیں بلاد حرب نہیں ہیں کیونکہ کفار نے ان شہروں میں کفر کے احکام ظاہر نہیں کئے بلکہ قاضی اور حاکم مسلمان ہیں جو ضرورت کی وجہ سے یا بلاضرورت کفار کی اطاعت کرتے ہیں ‘ اور ہر وہ شہر جس میں کفار کی طرف سے حاکم مقرر ہو اس میں جمعہ اور عیدین پڑھنا اور حد قائم کرنا اور قاضیوں کو مقرر کرنا جائز ہے کیونکہ شرعا مسلمان کافروں پر غالب ہیں اور اگر حاکم کفار ہوں پھر بھی مسلمانوں کے لئے جمعہ کو قائم کرنا جائز ہے اور مسلمانوں کی رضا مندی سے کسی شخص کو قاضی بنادیا جائے گا اور مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ کسی مسلمان حاکم کو تلاش کریں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٥٤١۔ ٥٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مبسوط کی اس عبارت میں کافروں کے ملک کو جو بلاد اسلام یا دارالاسلام سے تعبیر کیا گیا ہے ظاہر ہے یہ حقیقی اطلاق نہیں ہے کیونکہ دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور وہاں اسلامی شعائر اور احکام اسلامیہ کا غلبہ ہو لیکن کافروں کے جس ملک میں مسلمانوں کو اسلامی احکام پر عمل آزادی ہو وہاں جمعہ اور عید کا قیام جائز ہے اور اسی وجہ سے وہ علاقہ حکما دارالاسلام ہے حقیقتا دارالاسلام ہے نہ حقیقتا دارالحرب ہے ‘ قبل از تقسیم ہندوستان کو جو علماء نے دارالاسلام قرار دیا تھا اس کا یہی مطلب تھا ورنہ ظاہر ہے کہ وہاں مسلمانوں کی حکومت تھی نہ احکام اسلامیہ کا غلبہ تھا اس لئے ہندوستان حقیقتا دارالکفر ہی تھا اور حقیقتا دارالحرب اس لیے نہیں تھا کہ وہاں مسلمانوں کو جان اور مال کا تحفظ حاصل تھا۔

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

مسلمان تاجر جب گھوڑے پر سوار ہو کر اور اسلحہ کے ساتھ امان لے کر دارالحرب جائیں درآں حالیکہ وہ اس گھوڑے اور اسلحہ کو کافروں کے ہاتھ بیچنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو ان کو اس سے منع نہیں کیا جائے گا کیونکہ تاجر کو اپنے مصالح کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے پس جس طرح تاجر کے لیے یہ چیزیں دارالاسلام میں ممنوع نہیں اسی طرح دارالحرب میں ممنوع نہیں ہیں۔ (شرح السیر الکبیر ج ٤ ص ١٥٧١‘ مطبوعۃ المکتب للحرکۃ الثورۃ الاسلامیہ افغانستان ١٤٠٥ ھ)

فقہاء نے اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ مسلمان تاجر کے لئے سواری اور اسلحہ کو دارالحرب میں تجارت کے لئے لے جا کر فروخت کرنا جائز نہیں البتہ کھانے پینے کی اشیاء اور جن چیزوں کا تعلق آلات حرب سے نہ ہو ان کو دارالحرب میں لے جا کر فروخت کرنا اور ان کی تجارت کرنا جائز ہے۔

ہم نے یہ عبادت اس لئے نقل کی ہے کہ فقہاء دارالکفر پر بھی مجازا دارالحرب کا اطلاق کردیتے ہیں کیونکہ دارالحرب کی تو یہ تعریف ہے جہاں مسلمان اور ذمی کو جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل نہ ہو اس لئے ایسی جگہ مسلمان تاجروں کا تجارت کے لئے جانے کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اس لئے یہ دارالحرب نہیں ہے اب تک کی بحث سے جو تعریفات حاصل ہوئی ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

دارالاسلام : وہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور شعائر اسلامی اور احکام اسلامیہ کا غلبہ ہو۔ دارالحرب : وہ علاقہ جہاں کافروں کی حکومت ہو اور کفر کے احکام کا غلبہ ہو اور کسی مسلمان کو اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل نہ ہو ‘ اسی طرح ذمی کو بھی تحفظ حاصل نہ ہو۔

دارالکفر : وہ علاقہ جہاں کافروں کی حکومت ہو ‘ اس علاقے کے ساتھ مسلمانوں کے سفارتی تعلقات ہوں ‘ مسلمان وہاں تجارت کے لئے جاتے ہوں ‘ مسلمانوں کو وہاں جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو اور احکام اسلامیہ پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔

ان تعریفات کے اعتبار سے امریکہ ‘ برطانیہ ‘ کینیڈا ‘ ہالینڈ ‘ مغربی جرمنی اور افریقی ممالک جہاں مسلمان امان اور آزادی کے ساتھ رہتے ہیں یہ سب دارالکفر ہیں یہاں جمعہ اور عیدین پڑھنا جائز ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں اس لیے یہاں مسلمانوں کے لئے سود کا لین دین کسی طرح جائز نہیں ہے اسی طرح یہاں کافروں کا مال عقود فاسدہ سے لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اگر فقہاء احناف نے درجہ کراہت میں کافروں کے مال لینے کو جائز کہا ہے تو دارالحراب میں کہا ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں اس لئے یہاں مسلمانوں کے لئے سود کا لین دین کسی طرح جائز نہیں ہے اسی طرح یہاں کافروں کا مال عقود فاسدہ سے لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اگر فقہاء احناف نے درجہ کراہت میں کافروں کے مال لینے کو جائز کہا ہے تو دارالحرب میں کہا ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں۔ فقہاء نے ایسے ممالک پر مجازا دارالحرب کا اطلاق کیا ہے اور مجازا ” دارالاسلام کا اطلاق بھی کیا ہے لیکن حقیقت میں یہ ممالک دارالکفر ہیں ‘ دارالحرب ہیں نہ دارالاسلام۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :

اگر دارالحرب میں اہل اسلام کے احکام جاری کردیئے جائیں تو وہ دارالاسلام بن جاتا ہے مثلا جمعہ اور عید پڑھائی جائے۔ خواہ اس میں کافر اصلی باقی رہیں اور خواہ وہ علاقہ دارالاسلام سے متصل نہ ہو۔

یہ دارالحرب اور دارالاسلام کی تعریفیں ہیں اور دارالکفر کی تعریف علامہ شامی کی اس عبارت سے مستفاد ہوتی ہے :

رہے وہ ممالک جن کے والی کفار ہیں تو مسلمانوں کے لئے ان ملکوں میں جمعہ اور عید کی نماز قائم کرنا جائز ہے اور مسلمانوں کی باہمی رضا مندی سے وہاں قاضی مقرر کرنا جائز ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ مسلمان والی کو (بہ شرط استطاعت) طلب کریں اور ہم اس سے پہلے جمعہ کے باب میں اس کو بزاز یہ سے نقل کرچکے ہیں (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٥٤١۔ ٢٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

دارا الکفر میں غیر قانونی طریقہ سے کافروں کا مال کھانے کا عدم جواز :

خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل کے سوا تمام کا فرملکوں کے ساتھ حکومت پاکستان کے سفارتی تعلقات ہیں اور پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ مسلمانان کافر ملکوں میں جاسکتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے ملکوں میں آسکتے ہیں اور جو لوگ ویزہ لے کر کسی ملک میں جائیں ان کو اس ملک میں جائیں ان کو اس ملک میں امان حاصل ہوتی ہے اور ان کی جان اور مال کی حفاظت کرنا اس حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ شخص کسی مال کو غیر معروف اور غیر قانونی طریقہ سے حاصل نہیں کرسکتا اور اگر اس نے ایسا کیا تو وہ مال حرام ہوگا اور اس پر اس کا صدقہ کرنا واجب ہے اس کو شرعی اصطلاح میں مستامن کہتے ہیں۔

علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

مستامن کا معنی ہے جو امان کا طالب ہو اور یہ وہ شخص ہے جو کسی دوسرے ملک میں امان لے کر داخل ہو خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا حربی ‘ مسلمان دارالحرب (یعنی دارالکفر) میں امان لے کر داخل ہوا تو اس پر ان کی جان ‘ مال اور ان کی عورتوں کی عزت کے درپے ہونا حرام ہے ‘ کیونکہ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں (علامہ شامی نے لکھا ہے کیونکہ مسلمان جب امان لے کر ان کے ملک میں داخل ہوا تو وہ اس بات کا ضامن ہوگیا کہ وہ ان کی جان مال اور عزت کے درپے نہیں ہوگا اور عہد شکنی کرنا حرام ہے ہاں اگر کافروں کا حکمران عہد شکنی کرے اور اس مسلمان کا مال لوٹ لے یا اس کو قید کرلے یا کوئی اور کافر ایسا کام کرے اور حکمران کو اس کا علم ہو اور وہ اس کو منع نہ کرے تو پھر مسلمان پر بھی ان شرائط پابندی نہیں ہے کیونکہ انہی کافروں نے عہد شکنی کی ہے۔ (بحر ‘ رد المختارج ٣ ص ٢٤٧) اگر کوئی مسلمان وہاں سے (غیرقانونی طور پر) کوئی مال لے کر دارالاسلام میں آیا تو وہ وہ اس کی ملکیت میں حرام چیز ہے اور اس کا صدقہ کرنا واجب ہے ‘ اور اگر وہ ان سے کوئی چیز چھین کر لایا ہے تو اس پر واجب ہے کہ جس شخص کی چیز ہے وہ اس کو واپس کرے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٢٥٣۔ ٢٤٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

علامہ حاکم نے کافی میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں نے کافروں کے ملک میں ایک درہم کو دو درہموں کے عوض نقد یا ادھار فروخت کیا یا کوئی چیز ان کے ہاتھ خمر (انگوری شراب) یا خنزیر یا مردار کے عوض فروخت کی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ کیونکہ مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کافروں کی رضا مندی سے ان سے مال حاصل کرلے ‘ یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک ان میں سے کوئی چیز جائز نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٤٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ہمارے نزدیک امام ابو یوسف کا قول ہی صحیح ہے کیونکہ اسلام عالم گیر مذہب ہے اور اس کے احکام قیامت تک تمام انسانوں کے لئے ہیں اسلام نے شراب ‘ خنزیر ‘ مردار اور سود کو مطلقا حرام کیا ہے ‘ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ان کی حرمت کے لئے کوئی استثناء نہیں ہے دارالاسلام ہو ‘ دارالکفرہو یا درالحرب ہو ہر جگہ شراب ‘ خنزیر ‘ مردار اور سود حرام ہیں ‘ اور جو لوگ غیر قانونی طریقہ سے کافروں کے مال لینے کو جائز کہتے ہیں وہ بھی دارالکفر میں مسلمانوں کے لئے خنزیر اور شراب کی بیع کو جائز کہنے کی جرات نہیں کریں گے۔

پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں نے جن کافر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ ایک دوسرے کے ملکوں میں ان کے باشندوں کی آمدورفت رہتی ہے اور ان کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات بھی ہیں سو یہ ان کے ساتھ معاہدہ امن و سلامتی اور بقاء باہمی کے وعدہ کے قائم مقام ہے ‘ اس لئے کسی مسلمان کا ایسے کسی کافر ملک میں جاکر دھوکے اور فراڈ کے ذریعہ ان کا پیسہ بٹورنا جائز نہیں ہے۔

علامہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

جو مسلمان کافر ملک میں امان حاصل کرکے (ویزہ لے کر) جائے اس پر ان کے ساتھ عہد شکنی کرنا اور دھوکہ دینا مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ غدر (عہدشکنی) حرام ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کی دبر (مقعد) پر ایک جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جس سے اس کی عہد شکنی پہچانی جائے گی ‘ اگر اس مسلمان نے کافروں سے عہد شکنی اور دھوکا دہی سے ان کا مال حاصل کرلیا اور اس مال کو دارالاسلام میں لے آیا تو دوسرے مسلمانوں کو اگر علم ہو تو ان کے لیے اس مال کو خریدنا حرام ہے کیونکہ وہ مال کسب خبیث سے حاصل ہوا ہے اور اس مال کو خریدنے سے اس کسب خبیث کی حوصلہ افزائی ہوگی اور یہ مسلمانوں کے لیے مکروہ ہے ‘ اور اس کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی یہ حدیث ہے کہ جب انہوں نے اپنے کافر ساتھیوں کو قتل کردیا اور ان کا مال لے کر مدینہ آئے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے یہ چاہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) لے لیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا اسلام تو مقبول ہے لیکن تمہارا مال غدر (عہد شکنی اور دھوکا دہی پر مبنی ہے) سو ہمیں اس مال کی ضرورت نہیں ہے۔ (المبسوط ج ١٠ ص ٩٧۔ ٩٦ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١٣٩٨ ھ)

نیز علامہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

جب مسلمان مشرکین کی کسی قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال لینا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ قائم ہے ‘ اور اس معاہدہ کی وجہ سے ان کی جان اور مال مسلمانوں کی جان اور مال کی طرح محترم ہے ‘ سو جس طرح مسلمانوں کی اجازت کے بغیر ان کا مال لینا جائز نہیں ہے ‘ اسی طرح جن مشرکوں سے معاہدہ ہو ان کی رضا مندی کے بغیر ان کا مال لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ بغیر رضامندی کے ان کا مال لینا غدر اور عہد شکنی ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عہد پورا کیا جائے اور اس میں غدر نہ کیا جائے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ معاہدہ ہونے کے بعد کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب نے ہمارے کھیتوں میں سے سبزیاں اور لہسن لے لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے کہ جس قوم کے ساتھ معاہدہ ہو اس کا کوئی مال حق کے سوا لینا جائز نہیں ہے۔ (شرح السیر الکبیر ج ٢ ص ١٣٣‘ مطبوعۃ المکتبہ الثورۃ الاسلامیہ افغانستان ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں :

جب مسلمان دارالحرب (دارالکفر) میں تجارت کے لیے داخل ہو تو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان کی جانوں اور مالوں کے درپے ہو ‘ کیونکہ وہ ان سے امان طلب کرنے کے بعد اس بات کا ضامن ہوگیا ہے کہ وہ ان کی جان اور مال میں تعرض نہیں کرے گا ‘ اور ضمانت کے بعد تعرض کرنا غدر (عہد شکنی) ہے اور غدر حرام ہے۔ (ہدایہ اولین میں ص ٥٨٤‘ مکتبہ امدادیہ ملتان)

علامہ بدرالدین عینی نے اس کی شرح میں یہ حدیث ذکر کی ہے :

حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩١٢) (البنایہ ج ٦ ص ٦١٨‘ مطبوعہ دارالکفر بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

احادیث اور فقہاء کے ان کثیر حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ دارالکفر میں غیر قانونی طریقہ سے کافروں کا مال کھانا جائز نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 75

اسلام میں عدل وانصاف کا وسیع تصور

فرمان باری تعالیٰ ہے !اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِ حْسَانِ وَاِیْتَایِ ذِی الْقُرْبیٰo(سورۃ النحل ۹۰)

ترجمہ:۔بے شک اللہ حکم فرماتا ہے انصاف اور نیکی کا اور رشتہ داروں کے دینے کا ۔(کنز الایمان)

عدل کے معنیٰ ہیں برابر کرنا ،یا افراط وتفریط کی درمیانی راہ اختیار کرنا جسے اعتدال کہا جاتا ہے ۔شرعی اعتبار سے عدل ،انسانی کمالات کا سر چشمہ اور جملہ اخلاقی اقدار ومحاسن کا منبع ومرکز ہے۔ اسی سے انسان بارگاہ الوہیت کا مقرب اور مخلوق کا محبوب بنتا ہے ،عدل ہی دنیاوی فلاح وبہبود اور اخروی نجات کا ذریعہ ہے ،یہ اللہ وحدہ لاشریک کی صفات عالیہ میں سے ایک صفت ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی اشرف المخلوقات انسان میں پنہاں کیا ہے اسی لئے کوئی بھی انسان اس کی افادیت واہمیت کا انکار نہیں کرتا ہے۔

اسلام صرف اپنوں کے ساتھ عدل وانصاف کا حکم نہیں دیتا بلکہ غیروں کے ساتھ بھی عدل ومساوات کا حکم دیتا ہے۔چنانچہ اللہ نے جب اپنے حبیبﷺکو منصب نبوت کی زمہ داریاں پوری کرنے کی تاکیدفرمائی تو ساتھ ہی ساتھ عدل کا بھی حکم فرمایا۔ارشاد ہوتا ہے:

۔فَلِذٰلِکَ فَادْعُ وَاسْتَقِمْ کَمَا اُمِرْتَ وَ لَاَ تَتََّبِعْ اَھْوَائَ ھُمْ وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَا اَنْزَلَ اﷲُمِنْ کِتَابٍ وَاُمِرْتُ لِاَ عْدِلَ بَیْنَکُمْ (الشوریٰ؍۱۵)

ترجمہ:۔تو اسی لئے بلائو اور ثابت قدم رہو جیسا تمہیں حکم ہوا اور ان کی خواہشوں پر نا چلو اور کہو کہ میں ایمان لایا اس پر جو کتاب اللہ نے اتاری اور مجھے حکم ہے کہ میں تم میں انصاف کروں۔(کنز الایمان)

آیۂ کریمہ میں ’’وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَکُمْ‘‘کا جملہ قابل توجہ ہے کہ اپنے تو اپنے بلکہ غیروں کے ساتھ بھی عدل وانصاف کا حکم دیا جارہا ہے۔اور یہ حکم اس نبیٔ مکرم رسولِ رحمتﷺ کو دیاگیا جو دنیا کو نظامِ عدل سے روشناش کرانے اور عدل کی برتری واضح کرنے کے لئے مبعوث کیا گیا ۔جس رسول معظمﷺنے اپنے عدل کی قوت سے تکبر وغرور کے بتوں کوپاش پاش کردیا ،مظلوموں کو ظلم واستبداد سے نجات دلائی ، امیر وغریب کے فرق کو مٹایا ،غلاموں پر آقائوں کی بر تری کا خاتمہ کیا ، رنگ ونسل اور زبان ومکان کے امتیاز کو پامال کیا ،صدیوں سے زندہ در گور کردینے والی مظلوم بچیوں پر عدل وانصاف کا دروازہ کھول دیا ۔

قرآن نے جس عدل کا حکم دیا ہے اور رحمت عالمﷺنے جس نظام عدل کی قولی وعملی تعلیم دی ہے اس کی نظیر دنیا کے کسی قانون،کسی مذہب میں نہیں ملتی ،اسلامی نظام عدل سے ظلم وستم ،جبر واستبداد ،لو ٹ مار ، قتل وغارت کا خاتمہ ہوتا ہے،ہر قسم کے تعصبات دم توڑتے نظر آتے ہیں ،ہواوہوس ،غروتمکنت،خود بینی وخود پسندی کے بت پاش پاش ہوتے ہیں ،اسلامی نظام عدل سے چھوت چھات ، ملوکیت اور غلامیت کے مزاج کا سد باب ہوتا ہے ۔اسلامی نظام عدل سے سب کے لئے ایک حاکم ،ایک قانون کی عملی صورت نظر آتی ہے ،عزت و آبروکی حفاظت ہوتی ہے ،مظلوم وبیکس کی فریاد رسی ہوتی ہے ،ظالم کو عبرتناک سزا ملتی ہے ،اسلامی نظام عدل سے پورا معاشرہ امن وسلامتی کا ایسا گہوارہ بن جاتا ہے جس کی فظا میں راتیں بے خوف وخطر اور دن پر سکون گزرتے ہیں ،جس سے انسانی تہذیب وتمدن پر وان چڑھتی اور انسانیت عروج وترقی کی راہ پاتی ہے۔

آیئے!عدل کی اہمیت وافادیت کا اندازہ سب سے پہلے داعیٔ اعظمﷺکی حیات طیبہ سے لگائیں ۔میرے پیارے آقاﷺنے اعلان نبوت سے قبل ہی اس موحول اور سوسائٹی میں عدل کا تعارف کرایا جس میں لفظ عدل کا استعمال تو ہوتا تھا لیکن اس کی عملی صورت کا تصور تک نہ تھا ،اس وقت عدل صرف اپنی اغراض کی تکمیل کا نام تھا ، ایسے ماحول میں وہ نبی جو انسانوں کو قیامت تک کے لئے ایک بے نظیر نظام کی تعلیم دینے کے لئے آیاتھا سب سے پہلے خود عدل کرکے دکھاتا ہے۔

یہ وہ وقت ہے جب قریش خانۂ کعبہ کی تعمیر کی اور متحد ومنظم ہو کر محنت سے تعمیر کرنے والے اچانک اس مسئلہ دست بگریباں ہوگئے کہ حجر اسود نصب کرنے کا اعزاز کو حاصل کریگا ،چار پانچ دن مسلسل یہ اختلاف چلتا رہا ،سخت کلامی بھی ہوئی ،ہاتھا پائی کا مظاہرہ بھی ہوا ،حتیٰ کہ تلواریں تان لی گئیں ،اب خون کی ندیاں تو بہتی نظر آتی تھیں لیکن مسئلہ کا حل دور دور تک نہ تھا ۔بالآخر اللہ  نے اپنے گھر کو قتل وغارت سے بچانے اور حق حقدار کو عطا فرمانے کے لئے کسی دل میں یہ بات ڈالی اور وہ چلایا اے گروہ قریش !جھگڑا ختم کرو اور اس شخص کو اپنا حَکَم بنالو جو کل سب سے پہلے اس مسجد کے دروازہ میں داخل ہو ؛یہ بات ان کی سمجھ میں آگئی اور صبح کا انتظار کرنے لگے اور سپیدئہ سحر نمودار ہوتے ہی ہر ایک تیزی سے اس گھر کی طرف دوڑنے لگا لیکن جو مسجد کے دروازے میں داخل ہوا اس نے اپنے اعلیٰ اخلاق ،بلند کردار ،حضرت عبد اللہ کے در یتیم محمدﷺکو اپنا استقبال کرتے پایا اور خوش ہوکر چلایا ’’ھذا الامین رضینا بہ حکما ھذامحمد‘‘یہ محمد ہیں(ﷺ)یہ امین ہیں ہم سب ان کے فیصلے پر راضی ہیں ،اب اللہ ل کے گھر کو آباد کرنے والے آقاااللہ ہی کے گھر میں عدل وانصاف کا ماظہرہ فرماتے اور عدل کو متعارف کراتے ہیں،فرمایا:’’ھَلُمَّ اِلَیَّ ثَوْبًا‘‘مجھے ایک چادردو!چادر پیش کی گئی ،آپ ا نے اسے پھیلایا اور اپنے دست مبارک سے حجر اسود اس میں رکھا اور ہر قبیلہ کے ایک ایک سردار کو بلایا اور فرمایا :سب مل کر چادر پکڑو اور اس اعزاز میں میرے ساتھ شریک ہوجائو!حیرت واستعجاب ار مسرت وشادمانی کی ملی جلی کیفیت میں سب نے چادر پکڑی اور حجر اسود کو اس مقام تک لے آئے جہاں اسے نصب کرنا تھا ،اب حضور انے اسے اپنے نورانی ومقدس ہاتھوں سے اٹھایا اور دیوار میں مقررہ جگہ پر نصب کردیا ۔یہ پہلا موقع تھا جب آقائے کریم اکے عدل وانصاف سے ایک بڑی خون ریزی کا خطرہ ٹلا اور پوری قوم کو مسرت وشادمانی نصیب ہوئی۔

جنگ بدر کے بعد گرفتار شدگان میں حضورﷺکے چچا حضرت عباس  بھی تھے جو ابھی دولت ایمان سے مصرف نہیں ہوئے تھے ۔انہیں اسی طرح باندھا گیا تھا جس طرح دوسرے قیدیوں کو باندھا گیا تھا ،اور جب قیدیوں سے فدیہ لے کر انہیں آزاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو ایک عام آدمی کا فدیہ چار ہزاردرہم مقرر ہوا ،لیکن ان میں جو دولت مند تھے ان سے زیادہ رقم لینے کا فیصلہ ہوا ۔بعض صحابہ نے خیال کیا کہ حضرت عباس  کو حضورﷺکا چچا ہونے کے ناطے بغیر فدیہ آزاد کردیاجائے ۔آقائے کریمﷺو اطلاع ہوئی تو آپ نے فرمایا : سب قیدیوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے اور عباس سے زیادہ رقم لی جائے کیونکہ وہ دولت مند ہیں۔

یہ اور اس جیسے واقعات اس حقیقت کی وضاحت کے لئے کافی ہی کہ اسلام کا نظام عدل اپنے اور غیروںسب کے لئے یکسا ہے ۔ اسلام کا نظام عدل ہر شخص کو اس کا حق دلانے کا ضامن ہے ،کسی کی امارت ،رشتہ داری ،دینی خدمت ،جاہ وحشمت یا کوئی بھی وجہ اس کے نفاذحائل نہیں ہوسکتی ۔اب حضور ا کے بعد امت مسلمہ کے حقوق وامور کے دو عظیم محافظوں کے واقعات عدل ملاحظہ ہو ں۔

یہ یار غار حضرت ابوبکر صدیق ص ہیں،جب مسند خلافت پر رونق افروز ہوتے ہیں تو اپنے پہلے ہی خطبے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی بنیاد عدل وانصاف کو قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔

اے لوگو !میں تم پر حاکم مقرر کیا گیا ہوں حالانکہ میں تم لوگوں میں زیادہ بہتر نہیں ،اگر میں اچھا کام کروں تو میری مدد کرو اور برائی کی طرف جائوں تو مجھے سیدھا کردو ،صدق امانت ہے ،کذب خیانت ہے ۔ان شاء اللہ تمہارا کمزور میرے نزدیک قوی ہے یہاں تک کہ میں اس کا حق واپس دلادوں ،اور تمہارا قوی میرے نزدیک کمزور ہے یہاں تک کہ میں اس سے دوسروں کا حق دلادوں ۔پھر آ نے فرمایا : ’’وَاَطِیْعُوْنِیْ مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِذَا عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَلَاَ طَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ‘‘میری فرمانبرداری کروجب تک میں اللہ ورسول(د وا) کی فرمانبرداری کروں اور جب میں اللہ اور اس کے رسولﷺکی نافرمانی کروں تو تم پر بھی میری اطاعت نہیں۔امیر المومنین حضرت عمر فاروق اعظم  کا عدل ’’عدل فاروقی‘‘کے عنوان سے معروف اور متعارف ہے آپ کے باب عدل سے صرف ایک واقعہ پیش ہے ۔

آپ کے دور خلافت میں غسان کا بادشاہ جبلہ بن عسفان مشرف باسلا م ہوتا ہے ،اللہ کے گھر کا طواف کرنے کعبۃ اللہ میں حاضر ہوتا ہے ،دوران طواف ایک بدو کا پیر اس کی چادر پر پڑگیا ،احکم الحاکمین کے دربار میں دنیا کے اس شہنشاہ کی رگ تکبر پھڑک اٹھی ،اس نے بدو کے منھ پر ایسا تھپڑ مارا کہ غریب کے کئی دانت باہر آگئے ۔وہ دوڑا دوڑا عدالت فاروقی میں حاضر ہوا اور مقدمہ دائر کردیا۔ آپ نے بادشاہ کو طلب کیا، معاملہ کی تحقیق کی بادشاہ نے جرم کااعتراف کیا، آپ نے بدو کو اجازت دی کہ بادشاہ کے منھ پر اتنے ہی زور سے تھپڑ مارے کہ اس کے بھی دانت نکل پڑیں، جبلہ بادشاہ واویلا مچانا شروع کیااور کہنے لگا کہ آپ کے یہاں ایک دیہاتی اورایک بادشاہ کے دانت برابرہیں؟ امیر المومنین نے اسے قرآنی فیصلہ’’وَکَتَبْنَا عَلَیْہِمْ فِیْہَا اِنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَالْاَنْفَ بِالْاَ نْفِ وَالْاُ ذْنَ بِالْاُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ والْجُرُوْحَ قِصَاصٌ‘‘سنایا۔

(المائدۃ : ۴۴)

اور آپ نے فرما یا:کہ تحفظ حقوق کے اعتبار سے اسلام امیر وغریب میں کوئی امتیاز نہیں کرتا، اسلامی قانون سب کے لئے ایک ہے، ایک گنوار بد واور ایک شہنشاہ کے دانتوں میں کیا فرق ہوسکتا ہے؟ اے بادشاہ! تونے اعتراف جرم کرلیا ہے لہٰذا اب تو قصاص کے لئے تیار ہوجا۔ وہ اسلام تو قبول کرچکاتھا لیکن ایمان اب تک اس کے دل میں راسخ نہیں ہواتھا، اس نے سزا سے بچنے کے لئے بہانہ تلاش کیا اور بولا اے امیر المومنین! مجھے ایک دن کی مہلت دے دی جائے، مہلت کی درخواست منظور ہوئی اور جبلہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر غسان بھاگ گیا اور وہاں جاکر مرتد ہوگیا۔

اﷲ اکبر! اسلامی عدل کی فوقیت وبرتری تو ملاحظہ کرو کہ کوئی مرتد ہوتا ہے توہوجائے، اسلام کا قانون اٹل ہے، اس میں کسی سودے بازی کی گنجائش نہیں، اسلامی نظام عدل ومساوات سب کے لئے یکساں ہے، مجرم چاہے مزدور کسان ہو، غریب ہو امیرو حاکم ہو، یادولت مند ہو، اسلامی عدل مظلوم کوسہارا دیتا ہے۔ ظالم ومجرم کو سجادیتا ہے اور حق دار کو حق دلاتاہے۔

ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات پر موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے ہیں جنہیں حیطۂ تحریر میں لانامشکل ہے ، اختصار کے پیش نظر انہیں واقعات پر اقتصار کرتا ہوں آپ ان واقعات سے اسلامی نظام عدل ومساوات کی اہمیت وافادیت کا اندازہ بخوبی لگا سکتے ہیں، رب قدیر ہمیں ہر حال میں عدل وانصاف کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ حبیبہ الکریم علیہ وآلہ افضل الصلوات والتسلیم