اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے سو ان سے اور اعراض کیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے اور ان سے بہت اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ان سے ان کے نفسوں میں اثر آفریں بات کیجئے۔ (النساء : ٦٣) 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک یہ کہ ان کو تنہائی میں نصیحت کیجئے کیونکہ تنہائی میں نصیحت کے قبول کر نیکی توقع زیادہ ہوتی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے ایسی اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مِنَ الَّذِيۡنَ هَادُوۡا يُحَرِّفُوۡنَ الۡـكَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِهٖ وَ يَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَعَصَيۡنَا وَاسۡمَعۡ غَيۡرَ مُسۡمَعٍ وَّرَاعِنَا لَـيًّۢا بِاَ لۡسِنَتِهِمۡ وَطَعۡنًا فِىۡ الدِّيۡنِ‌ ؕ وَلَوۡ اَنَّهُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَاَطَعۡنَا وَاسۡمَعۡ وَانْظُرۡنَا لَـكَانَ خَيۡرًا لَّهُمۡ وَاَقۡوَمَ ۙ وَ لٰـكِنۡ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفۡرِهِمۡ فَلَا يُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی (اور آپ سے کہتے ہیں) سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہودیوں میں سے کچھ لوگ اللہ کے کلمات کو ان کی جگہوں سے پھیر دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور نافرمانی کی اور آپ سے کہتے ہیں سنیے آپ نہ سنائے گئے ہوں اور اپنی زبانیں مروڑ کردیں میں طعنہ زنی کرتے ہوئے راعنا کہتے ہیں ‘ اور اگر وہ کہتے ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی اور آپ ہماری بات سنیں اور ہم پر نظر فرمائیں تو یہ ان کے لیے بہتر اور درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت فرمائی ہے سو ان میں سے کم لوگ ہی ایمان لائیں گے (النساء : ٤٦) 

یہود کی تحریف کا بیان : 

کلبی اور مقاتل نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات ‘ آپ کی بعثت کے زمانے اور آپ کی نبوت کے متعلق یہود کی کتاب میں جو پیش گوئیاں تھیں وہ ان کو بدل دیتے تھے اور وہ کہتے تھے کہ ہم نے آپ کی بات سنی اور اس کی نافرمانی کی ‘ اور اپنی زبان مروڑ کر آپ سے راعنا کہتے تھے اور یہ ان کی لغت میں گالی تھی۔ قبتی نے کہا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی حدیث فرماتے یا کوئی حکم دیتے تو وہ کہتے تھے ہم نے سن لیا اور دل میں کہتے تھے کہ ہم نے نافرمانی کرلی ‘ اور جب وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی بات کرنے کا ارادہ کرتے تو کہتے تھے اے ابوالقاسم سنیے اور اپنے دل میں کہتے تھے کہ آپ نہ سنیں ‘ اور وہ آپ سے راعنا کہتے تھے اور اس لفظ سے یہ معنی ظاہر کرتے تھے کہ آپ ان پر نظر رحمت فرمائیں اور زبان مروڑ کر اس سے اپنے دل میں رعونت کا معنی لیتے تھے اور اگر وہ سمعنا وعصینا کی بجائے سمعنا واطعنا کہتے اور ” واسمع غیر مسمع “ اور ” راعنا ‘ کی جگہ انظرنا کہتے ہیں تو یہ بہت بہتر او بہت درست ہوتا ‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کردی ہے ‘ یعنی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اس توہین کی سزا میں ان کو دنیا میں رسوا کردیا اور آخرت میں ان کو اپنی رحمت سے بالکلیہ دور کردیا ‘ سو ان میں سے بہت کم لوگ ایمان لائیں گے ‘ اور یہ وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب ہیں ‘۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جناب میں ایسا لفظ کہنا جس کا ظاہری معنی توہین کا موہم ہو کفر ہے ‘ اس کی پوری تفسیر ہم نے تبیان القرآن جلد اول البقرہ : ١٠٤ میں بیان کردی ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں پر لعنت فرمائی ہے اس لیے ہم یہاں کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق کررہے ہیں۔ 

لعنت کی اقسام اور کسی شخص پر لعنت کرنے کی تحقیق :

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

لعنت کا معنی ہے کسی شخص کو کرنا اور از روئے غضب کسی شخص کو دھتکارنا ‘ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس کو سزا اور عذاب دینا اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کی لعنت کا معنی ہے اس پر رحمت نہ فرمانا ‘ اور اس کو نیکی کی توفیق نہ دینا ‘ اور جب انسان کسی پر لعنت کرے تو اس کا معنی ہے اس کو بددعا دینا۔ (المفردات ص ‘ ٤٥١‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

(١) فسق اور ظلم پر علی الاطلاق لعنت کرنا جائز ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ : (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الکاذبین “۔ (آل عمران : ٦١) (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظالمین “۔ (الاعراف : ٤٤) 

(٢) کسی معین شخص پر لعنت کرنا جس کا معنی یہ ہو کہ وہ اللہ کی رحمت سے مطلقا مردود ہے یہ اس شخص کے سوا اور کسی پر جائز نہیں ہے جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی ہو جیسے ابو لہب اور ابوجہل اور دیگر مقتولین بدرواحد ‘ اور جس کی کفر پر موت قطعی اور یقینی نہ ہو اس پر یہ لعنت نہیں کی جائے گی خواہ وہ مشہور فاسق ہو جیسے یزید۔ 

(٣) علامہ قہستانی نے لکھا ہے کہ جب کفار پر لعنت کی جائے تو شرعا اس کو معنی ہے اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کرنا ‘ اور جب مومنین پر لعنت کی جائے تو اس کا معنی ہے ان کو ابرار اور مقربین کے درجہ سے دور کرنا ‘ البرالرائق کی بحث لعان میں کیا معین کاذب پر لعنت کرنا جائز ہے ؟ میں کہتا ہوں کہ غایت البیان کے باب العدۃ میں مذکور ہے حضرت ابن مسعود نے فرمایا جو شخص چاہے میں اس سے مباہلہ کا معنی کرلوں اور مباہلہ کا معنی ہے ایک دوسرے پر لعنت کرنا ‘ اور جب ان کا کسی چیز میں اختلاف ہوتا تو وہ کہتے تھے کہ جھوٹے پر خدا کی لعنت ہو ‘ اور فقہاء نے کہا یہ لعنت ہمارے زمانہ میں بھی مشروع ہے ‘ قرآن مجید میں مومن پر لعن معین کا ثبوت ہے جب لعان میں پانچوں دفعہ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والا مرد کہتا ہے : 

(آیت) ” والخامسۃ ان لعنت اللہ علیہ ان کان من الکاذبین “۔ (النور : ٧) 

ترجمہ : اور پانچویں گواہی یہ ہے کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ 

اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ مومن پر لعنت کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس کو مقربین اور ابرابر کے درجہ سے دور کیا جائے نہ کہ اللہ کی رحمت سے بالکلیہ دور کیا جائے۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ٥٤١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 46

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَوۡمَٮِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا وَعَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰى بِهِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَلَا يَكۡتُمُوۡنَ اللّٰهَ حَدِيۡـثًا

ترجمہ:

جن لوگوں نے کفر کیا اور رسول اللہ کی نافرمانی کی ‘ اس دن وہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہ سکیں گے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کافر اور رسول کی نافرمانی کرنے والے اس دن یہ تمنا کریں گے کہ کاش (ان کو دفن کرکے) ان پر زمین برابر کردی جائے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ (النساء : ٤٢) 

قیامت کے دن کفار کے مختلف احوال :

اس آیت میں رسول اللہ کی نافرمانی کرنے والوں کا کافروں پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ اس سے یہ واضح ہوا کہ کفر الگ گناہ ہے اور رسول اللہ کی نافرمانی کرنا الگ گناہ ہے اور کافروں کو کفر کی وجہ سے بھی عذاب ہوگا ‘ اور کافروں کو رسول کی نافرمانی کی وجہ سے اسی وقت عذاب ہوگا جب یہ مانا جائے کہ کافر فروعی احکام کے بھی مخاطب ہیں۔ نیز اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اس روز کافر یہ تمنا کریں گے کہ ان پر زمین برابر کردی جائے اس کا ایک معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ ان کو زمین میں دفن کردیا جائے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو دوبارہ زندہ نہ کیا جاتا اور وہ اسی طرح زمین مدفون رہتے ‘ تیسرا معنی یہ ہے کہ جب وہ دیکھیں گے کہ جانوروں کو مٹی بنادیا گیا ہے تو وہ تمنا کریں گے کہ کاش ان کو بھی مٹی بنادیا جائے۔ 

پھر فرمایا اور وہ اللہ سے کسی بات کو نہیں چھپا سکیں گے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن جب مشرکین دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرما رہا ہے جنہوں نے شرک نہیں کیا تو وہ کہیں گے۔ (آیت) ” واللہ ربنا ماکنا مشرکین “۔ (الانعام : ٢٣) ” ہمیں اپنے پروردگار کی قسم ہم شرک کرنے والے نہیں تھے “ اس وقت ان کے منہ اور ہاتھ اور پیر ان کے خلاف گواہی دیں گے اور وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ سورة الانعام میں یہ مذکور ہے کہ کفار یہ کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور اس آیت میں یہ مذکور ہے کہ وہ اللہ سے کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تعارض ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ قیامت کے دن مختلف احوال ہوں گے ‘ ایک وقت میں وہ کہیں گے کہ (آیت) ” ماکنا نعمل من سوء “۔ (النحل : ٢٨) ” ہم کوئی برا کام نہیں کرتے تھے “ اور کہیں گے کہ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اور ایک وقت ہوگا کہ (آیت) ” شہد علیہم سمعھم وابصارھم وجلودھم بما کانوا یعملون “۔ (حم السجدہ : ٢٠) ” ان کے کان ‘ انکی آنکھیں اور ان کی کھالیں ان کے خلاف ان کاموں کی گواہی دیں گے جو وہ کرتے تھے “ اس وقت وہ کسی بات کو چھپا نہیں سکیں گے اور یہ تمنا کریں گے کہ کاش ان پر زمین برابر کردی جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 42

وَلَا تُؤۡتُوا السُّفَهَآءَ اَمۡوَالَـكُمُ الَّتِىۡ جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ قِيٰمًا وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 5

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُؤۡتُوا السُّفَهَآءَ اَمۡوَالَـكُمُ الَّتِىۡ جَعَلَ اللّٰهُ لَـكُمۡ قِيٰمًا وَّارۡزُقُوۡهُمۡ فِيۡهَا وَاكۡسُوۡهُمۡ وَقُوۡلُوۡا لَهُمۡ قَوۡلًا مَّعۡرُوۡفًا‏

ترجمہ:

اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے اور اس مال میں سے ان کو کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے۔ 

کم عقلوں کو مال نہ دینے اور یتیم کے مال کو ولی کا مال فرمانے کی توجیہہ : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا یتیموں کا مال ان کے حوالے کردو اور عورتوں کا مہر ان کے حوالے کردو۔ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ یہ حکم اس وقت ہے جب یتیم یا تمہاری منکوحہ عاقل بالغ ہو اور جب وہ عاقل بالغ نہ ہوں تو ان کے اموال کو اپنے پاس حفاظت سے رکھو اور جب وہ بالغ ہوجائیں اور ان کی عقل پختہ ہوجائے تو انکے اموال ان کے حوالے کردو۔ 

اس آیت میں یہ فرمایا ہے اور کم عقلوں کو اپنے مال نہ دو حالانکہ مراد یہ ہے کہ کم عقلوں کو ان کے مال حوالے نہ کرو حتی کہ وہ عاقل بالغ ہوجائیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یتیم کا مال اس کے ولی اور سرپرست کی تحویل میں رہتا ہے۔ اس ادنی مناسبت کی وجہ سے یتیم کے مال کی اس کے سرپرست کی طرف نسبت کردی گئی۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اس آیت میں یتیم کے مال کو ولی کا مال اس لئے فرمایا ہے تاکہ ولی یتیم کے مال کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح وہ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے۔ وہ اس کو فضول اور بےدریغ خرچ نہ کرے اور اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرے اور یتیم کے مال کی اپنے مال کی طرح حفاظت کرے۔ 

مال کم عقل کی ملک کرنا اس آیت کے منافی نہیں : 

سفہاء ‘ سفیہ کی جمع ہے سفیہ کم عقل کو کہتے ہیں اس میں اختلاف ہے کہ یہاں سفہاء سے کون مراد ہیں : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن جبیر نے کہا سفہاء سے مراد یتیم اور عورتیں ہیں۔ حسن بصری نے کہا اس سے مراد نابالغ ہیں۔ امام طبری کا مختار یہ ہے کہ اس سے کم عقل مراد ہے خواہ وہ لڑکا ہو یا لڑکی بالغ ہو یا نابالغ۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٦٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت میں نابالغ بچوں کو مال دینے سے منع فرمایا ہے اور احادیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت نعمان بن بشیر (رض) روایت کرتے ہیں کہ میرے والد مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے کر گئے اور کہا میں نے اپنے اس بیٹے کو مال ہبہ کیا ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اتنا ہی مال ہبہ کیا ہے ؟ انہوں نے کہا نہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو اس سے رجوع کرلو۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٥٨٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث ١٦٢٣) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کم عمر بچوں کو ہبہ کرنا صحیح ہے البتہ ان میں مساوی ہبہ کرنا چاہیے اور اس آیت میں کم عمر بچوں کو دینے سے منع کیا گیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں ناسمجھ بچوں کو مال ہبہ کرنے اور ان کی ملکیت میں دینے سے منع فرمایا بلکہ تصرف کرنے کے لئے ان کے ہاتھوں میں مال دینے سے منع فرمایا ہے کیونکہ وہ اس کی حفاظت کرنے اور اس کو صحیح محل پر خرچ کرنے کے طریقوں پر مطلع نہیں ہوتے۔ 

حجر (قولی تصرف سے روکنا) کا لغوی اور شرعی معنی : 

حجر کا لغوی معنی ہے منع کرنا اور روکنا ‘ اور اصطلاحی معنی ہے ولی یا قاضی کا کسی کم عقل بچہ ‘ مجنون یا غلام کو قولی تصرف (مثلا خریدنا ‘ بیچنا ‘ ہبہ کرنا) سے روکنا ‘ اس کا سبب صغر ‘ جنون اور غلام ہونا ہے اس لئے بچہ ‘ مجنون اور مغلوب العقل کی دی ہوئی طلاق نافذ نہیں ہوگی اور اس کا اقرار کرنا صحیح نہیں ہے ‘ اگر بچہ یا مجنون کو بیع وشراء کی سمجھ ہو اور اس کے ولی نے ان کو اجازت دی ہو اور اس بیع وشراء میں غبن فاحش نہ ہو تو ان کی بیع وشراء صحیح نہیں ہے۔ اگر یہ کسی کے پاس اجرت پر کام کریں تو ان کی اجرت واجب ہوجائے گی اور جس عقد میں ان کے لئے نفع محض ہو وہ صحیح ہے۔ اس لئے ان کا صدقہ اور ہبہ قبول کرنا صیح ہے جو شخص آزاد ‘ عاقل اور بالغ ہو لیکن اس کی عقل کم ہو امام اعظم کے نزدیک اس کو قولی تصرف سے روکنا صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ اس کی آزادی اور بلوغ کے منافی ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کو روکنا صحیح ہے تاکہ اس کا مال محفوظ رہے۔ ورنہ وہ اس کو بےجاخرچ کرکے ضائع کر دے گا اور فتوی امام ابو یوسف اور امام محمد کے قول پر ہے۔ (درمختار رد المختار ج ٥ ص ٩٣‘ ٨٩ ملخصا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

حجر کے ثبوت میں قرآن اور سنت سے دلائل : 

نابالغ بچہ اور کم عقل کو مالی تصرف سے روکنے پر قرآن مجید کی زیر تفسیر آیت دلیل ہے جس میں فرمایا ہے : 

اور کم عقلوں کو اپنے وہ مال نہ دو جن کو اللہ نے تمہاری گزر اوقات کا ذریعہ بنایا ہے اور ان سے خیر خواہی کی بات کہو ‘ اور یتیموں کا (بطور تربیت) امتحان لیتے رہو حتی کہ جب وہ نکاح (کی عمر) کو پہنچ جائیں اور تم ان میں سمجھ داری (کے آثار) دیکھو تو ان کے مال ان کے حوالے کردو (النساء : ٦۔ ٥) 

اور حجر (قولی تصرف سے روکنے) کے ثبوت میں یہ احادیث بھی ہیں : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) نے فرمایا : کیا تم کو نہیں معلوم کہ تین شخصوں سے قلم (تکلیف) اٹھالیا گیا مجنون سے حتی کہ وہ تندرست ہوجائے ‘ بچہ سے حتی کہ وہ بالغ ہوجائے اور سوئے ہوئے سے حتی کہ وہ بیدار ہوجائے۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مغلوب العقل کے سوا ہر شخص کی طلاق جائز ہے۔ (صحیح البخاری ‘ کتاب الطلاق باب : ١١ رقم الحدیث : ٥٢٦٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تین شخصوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے سوئے ہوئے سے حتی کہ بیدار ہوجائے ‘ مجنون سے حتی کہ شفایاب ہوجائے اور بچہ سے حتی کہ وہ بڑا ہوجائے۔ (سنن ابو داؤد : ٤٣٩٨‘ سنن ترمذی : ١٤٢٨‘ سنن نسائی : ٣٤٣٢‘ سنن ابن ماجہ : ٢٠٤١‘ سنن کبری للنسائی : ٧٣٤٦‘ مسند احمد : ج ١ ص ١١٨‘ ١٤٠ ج ٦ : ص ١٠١‘ ١٠٠‘ سنن دارمی : ٢٢٩٦) 

ان حدیثوں میں مجنون اور نابالغ کے قولی تصرفات کو روکنے کی دلیل ہے اور جو آزاد عاقل بالغ ہو لیکن کم عقل ہو اس کو روکنے پر سورة نساء کی زیر تفسیر آیت میں بھی دلیل ہے اور اس حدیث میں بھی اس پر دلیل ہے : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی بیع اور شراء میں کچھ کمزوری تھی اور وہ بیع کرتا تھا اس کے گھر والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کو حجر (منع) کیجئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو بلا کر منع فرمایا اس نے کہا یا رسول اللہ میں بیع کرنے سے صبر نہیں کرسکتا۔ آپ نے فرمایا جو تم بیع کرو تو کہو یہ چیز اتنے اور انتے کی ہے اور کوئی دھوکا نہ کیا جائے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٥٤‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٦٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٠١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٤٤٩٧) 

جو کسی منصب (اسامی) کے نااہل ہوں ان کو اس کی ذمہ داری نہ سونپی جائے۔ 

حجر یعنی قولی تصرفات سے روکنا ‘ اس کا تعلق ولی سے بھی ہے اور قاضی سے بھی ‘ اور حجر کا سبب کم عقلی ہے اور نااہلی بھی اس کے قریب ہے۔ اس لئے جو شخص کسی عہد کا اہل نہ ہو اور وہ اس عہدہ پر کام کرے تو قاضی ‘ سلطان یا حکومت وقت پر لازم ہے کہ مسلمانوں کو اس کے ضرر سے بچانے کے لئے اسے اس عہدہ پر کام کرنے سے روک دے مثلا ان پڑھ ‘ عطائی حکیم اور بےسند ڈاکٹر۔ انکو لوگوں کی جانوں سے کھیلنے کے لئے علاج معالجہ سے روکنا لازم ہے۔ بعض جگہ کمپاؤڈر حضرات محلہ میں ایک چھوٹی سی کلینک کھول کر طب کی مشق کرتے رہتے ہیں۔ اسی طرح بعض مساجد میں پانچ وقتی امام جو نماز کے مسائل سے بھی بمشکل واقف ہوتے ہیں وہ لوگوں کو نکاح ‘ طلاق ‘ حلال اور حرام کے مسائل غلط سلط بتاتے رہتے ہیں۔ اس لئے علاج کے معاملہ میں مستند اور تجربہ کار ڈاکٹر سے اور دینی مسائل میں کسی دینی دارالعلوم کے مفتی سے رجوع کرنا چاہیے۔ اسی طرح باقی معاملات میں بھی ہر فن کے ماہر سے رجوع کرنا چاہیے اور کسی اناڑی اور ناتجربہ کار کے ہاتھ میں اپنا کوئی معاملہ نہیں دینا چاہیے۔ 

ہمارے زمانہ میں حجر کو صحیح طریقہ سے جاری کرنے کی حکومت سے کوئی امید نہیں ہے کیونکہ تمام سرکاری اداروں میں حکومت نے سیاسی وابستگی ‘ رشوت اور سفارش کی بنیاد پر ہر شعبہ میں بکثرت نااہل افراد بھرتی کردیئے ہیں۔ اب کسی منصب کے لئے اہلیت اور قابلیت معیار نہیں ہے بلکہ سرکاری افسروں کے ساتھ تعلقات یا پھر زیادہ سے زیادہ روپوں کی پیش کش معیار ہے اس لئے ہر ادارہ میں اکثریت ان ملازموں کی ہوتی ہے جو ان ملازمتوں کے نااہل ہوتے ہیں۔ قرآن مجید نے جس طرح حکم دیا ہے کہ کم عقل لوگوں کو ان کا مال نہ دو کیونکہ وہ اس مال کو ضائع کردیں گے۔ اس سے یہ مفہوم بھی نکلتا ہے کہ جو شخص کسی منصب کا اہل نہ ہو اس کو اس منصب کی ذمہ داری نہ سونپی جائے لیکن ہمارے ملک اور ہمارے معاشرے میں اس کے صریح خلاف عمل ہو رہا ہے کئی انگوٹھا چھاپ پیسے کے زور پر اسمبلی کے ممبر بن جاتے ہیں اور وزارت کے اہل ہوجاتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 5

صحابہ حفاظت حدیث کی خاطر ایک سے زیادہ راویوں سے شہادت لیتے

صحابہ حفاظت حدیث کی خاطر ایک سے زیادہ راویوں سے شہادت لیتے

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے ان تمام چیزوں کے ساتھ اس بات پر بھی خاص زور دیا کہ حدیث رسول اور سنت مصطفی علیہ التحیۃ والثناء ہر قسم کے جھوٹ کی ملاوٹ اور شائیبہ تک سے پاک رہے ۔کیونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی طرف سے جہاں حدیث کو یاد کرنے، دوسروں تک پہونچانے اور عمل کرنے کی ترغیب ملی تھی وہیں آپ کی جانب بے بنیاد اور غلط بات منسوب کرنے پر وعید شدید کا سزاوار بھی قرار دیا گیا تھا ،لہذا وہ حضرات نہایت احتیاط کے ساتھ روایتیں بیان کرتے اور جب کسی چیز کا فیصلہ سنت سے کرنا مقصود ہوتا تو اس کی تائید وتوثیق میں چند صحابہ کی شہادت کو سامنے رکھا جاتا تھا ۔

امیرالمومنین سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک عورت آئی اور اس نے اپنے پوتے کی وراثت میں سے حصہ مانگا ، وراثت میں دادی کے حصہ کے متعلق نہ قرآن حکیم میں ذکر تھا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حدیث پاک حضرت صدیق اکبر نے سنی تھی، آپ نے لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا تو حضرت مغیرہ بن شعبہ اٹھے اور عرض کیا : مجھے معلوم ہے کہ حضور نے دادی کو چھٹا حصہ دیا تھا ، انہوں جب حدیث پیش کی تو آپ نے ان سےگواہ پیش کرنے کو کہا ،حضرت محمد بن مسلمہ نے گواہی دی تو آپ نے فیصلہ فرمایا۔

ایک دفعہ حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو باہر سے تین دفعہ سلام کیا لیکن جواب نہ ملا ،آپ واپس لوٹ آئے ، حضرت عمر نے ان کو بلوایا اور واپس جانے کی وجہ پوچھی ،آپ نے کہا : حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔جو شخص تین دفعہ سلام کہے اور اسے صاحب خانہ اندر جانے کی اجازت نہ دے تووہ خواہ مخواہ اندر جانے پر مصر نہ ہو بلکہ واپس لوٹ جائے ۔ حضرت عمر نے فرمایا: اس حدیث کی صحت پر گواہ پیش کرو ورنہ میں تمہاری خبر لوں گا ۔وہ صحابہ کے پاس گئے تو پریشان تھے ،وجہ پوچھی تو آپ نے سارا ماجراکہہ سنایا، صحابہ کرام میں سے چند نے گواہی دی کہ ہم نے بھی یہ حدیث سنی ہے ، چنانچہ ایک صاحب نے حضرت عمر کے پاس آکر شہادت دی اس پر حضرت فاروق اعظم نے فرمایا: ۔

انی لم اتہمک ولکنی خشیت ان یتقول الناس علی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ۔(ضیاء النبی ۷/۹۹)

اے ابوموسی ! میرا ارادہ تمہیں متہم کرنے کا نہیں تھا ، لیکن میں نے اس خوف سے اتنی سختی کی کہ کہیں لوگ بے سروپا باتیں حضور کی طرف منسوب نہ کرنے لگیں ۔

حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانہ ٔ خلافت میں مسجد نبوی کو وسیع کرنے کی ضرورت پیش آئی ،مسجد کے قبلہ کی طرف حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا مکان تھا ،حضرت عمر نے ان سے مسجد کیلئے مکان فروخت کرنے کی درخواست کی ،حضرت عباس نے انکارکردیا،دونوں حضرات حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گئے ،انہوں نے جب صورت حال کے متعلق سنا تو فرمایا : اگر چاہوتو میں تمہیں ایک حدیث پاک سنا سکتاہوں جواس مسئلہ میں آپکی رہنمائی کریگی ۔ آپ نے فرمایا : سنائو۔حضرت ابی کعب نے فرمایا : میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی کی کہ وہ اللہ تعالیٰ کا گھر تعمیر کریں جس میں اسکو یاد کیا جائے ۔اللہ تعالیٰ نے اس گھر کیلئے جگہ کا تعین بھی فرمادیا ،حضرت دائود علیہ السلام کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ وہ اس شخص سے وہ جگہ زبردستی حاصل کرلیں تواللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی ،اے دائود ! میں نے تمہیں اپنا گھر تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا جس میں میرا ذکر کیا جائے اور تم میرے گھر میں غصب کو داخل کرنا چاہتے ہو ، غصب کرنا میری شان کے شایاں نہیں ہے ، اب تمہاری اس لغزش کی سزا یہ ہے کہ تم میرے گھر کو تعمیر کرنے کے شرف سے محروم رہوگے ۔

حضرت دائود نے عرض کی ! پروردگار ! کیامیری اولاد اس گھر کو تعمیر کرسکے گی ؟ فرمایا : ہاں تمہاری اولاد کو یہ شرف حاصل ہوگا ۔

حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہسے یہ حدیث سنی تو فرمایا : میں تمہارے پاس ایک مسئلہ لیکر آیاتھا اور تم نے ایک ایسا مسئلہ کھڑاکردیا جو اس پہلے مسئلہ سے بھی شدید تر ہے ،تمہیں اپنے قول کے گواہ پیش کرنا ہوں گے ۔ وہ انہیں لے کر مسجد نبوی میں آئے اور انہیں صحابہ کرام کے ایک حلقہ کے پاس لاکھڑاکیا ،ان صحابہ کرام میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔

حضرت عمر نے اس مجمع صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا : میں تمہیں خداکی قسم دے کر کہہ رہا ہوں کہ جس شخص نے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وہ حدیث سنی ہو جس میں حضرت دائود علیہ السلام کو بیت المقدس کی تعمیر کا حکم ملنے کاذکر ہے وہ اسے بیان کرے ۔ حضرت ابوذرغفاری نے فرمایا : میں نے یہ حدیث حضور سے سنی ہے ،دوسرے اور پھر تیسرے صاحب نے بھی کھڑے ہوکر تصدیق کی ۔یہ سن کر حضرت عمر نے ان کو چھوڑ دیا ۔اس پر حضرت ابی بن کعب نے کہا : اے عمر ! کیا تم مجھ پر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حدیث کے سلسلہ میں تہمت لگاتے ہو ؟ حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں متہم نہیں کرتا ،میں نے تو حدیث کے سلسلہ میں احتیاط کیلئے یہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ (ضیاء النبی ۷/۱۰۰)

حضرت مالک بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :۔

سمعت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ یقول لعبد الرحمن بن عوف وطلحۃ والزبیر وسعد رضی اللہ تعالیٰ عنہم : نشدتکم باللہ الذی تقوم السماء والارض بہ ،اعلمتم ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال: انالانورث ماترکناہ صدقۃ قالوا : اللہم نعم۔ (المسند لا حمد بن حنبل، ۱/۴۴)

میں نے حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت طلحہ ،حضرت زبیر بن العوام اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا: میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی قسم دیکر پوچھتا ہوں جسکی قدرت سے زمین و آسمان قائم ہیں ،کیا تم جانتے ہو کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :۔

ہماری وراثت تقسیم نہیں ہوتی ،ہم جومال چھوڑیں وہ صدقہ ہے ۔ اس پر ان سب نے فرمایا : ہاں خداکی قسم ہمیں اس حدیث پاک کاعلم ہے ۔

حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جومنہاج وطریقہ حدیث رسول کی حفاظت وصیانت کیلئے مقرر فرمایا تھا اس پر آپکے بعد امیرالمومنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی سختی سے قائم رہے ،آپ نے ایک موقع پر ارشادفرمایا تھا ۔

لایحل لاحد یروی حدثنا عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم لم اسمع بہ فی عہد ابی بکر ولاعمر ،رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔

کسی شخص کو ایسی حدیث روایت کرنے کی اجازت نہیں جو میں نے ابوبکروعمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے زمانوں میں نہیں سنی۔(ضیاء النبی ۷/۱۰۴)

امیرالمومنین مولی المسلمین حضرت علی مرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی احتیاط ملاحظہ فرمائیں ،فرماتے ہیں :

میں جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے کوئی حدیث سنتا تواللہ تعالیٰ اس حدیث سے جو چاہتا مجھے نفع عطافرماتا۔ جب کوئی دوسرا میرے سامنے کوئی حدیث بیان کرتاتو میں اس سے قسم لیتا، جب وہ قسم کھاتا تو میں اسکی حدیث کو تسلیم کرلیتا ۔

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ اعلان کرادیا تھا ۔

اتقواالروایات عن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الاماکان یذکر منہا فی زمن عمر ، فان عمر کان یخوف الناس فی اللہ تعالی۔ٰ (ضیاء النبی، ۷/۱۰۴)

حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ،صرف وہ احادیث بیان کرو جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد ہمایوں میں روایت ہوتی تھیں ، کیونکہ حضرت عمر اس سلسلہ میں لوگوں کواللہ کا خوف دلاتے تھے ۔

اس سختی سے صحابہ کرام کا مقصد صرف یہ تھا کہ لوگ جن چیزوں کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حوالے سے سنیں اس میں کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ ہو ۔

یہ ہی وجہ ہے کہ بعض صحابہ کرام جو اگر چہ سفر وحضر میں حضور کے ساتھ رہے لیکن ان سے احادیث بہت کم مروی ہیں ۔ عشرہ مبشرہ اگرچہ علم وفضل اور زہدوتقوی میں غیر معمولی حیثیت

کے حامل تھے لیکن ان سے احادیث کی اتنی تعداد منقول نہیں جتنا انکے فضل وکمال کا تقاضا تھا۔ کہ ان حضرات کے شرائط سخت تھے ۔

بعض صحابہ کرام تو جب احادیث روایت کرنے کا ارادہ فرماتے ان پر رعشہ طاری ہوجاتا اور لرزہ براندام ہوجاتے تھے ، حضرت عمر بن میمون رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ۔

میں ہرجمعرات کی شا م بلاناغہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوتا لیکن میں نے کبھی آپکی زبان سے یہ الفاظ نہیں سنے کہ حضور نے یہ فرمایا ۔

ایک شام انکی زبان سے یہ الفاظ نکلے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ۔ کہتے ہیں : یہ الفاظ کہتے ہی وہ جھک گئے ،میں نے انکی طرف دیکھا تووہ کھڑے تھے ،ان کی قمیص کے بٹن کھلے ہوئے تھے ،آنکھوں سے سیل رشک رواں تھا اورگردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں ۔

حضرت انس بن مالک فرماتے ہیں : مجھے غلطی کا خوف نہ ہو تو میں تمہیں بہت سی ایسی باتیں سنائوں جو میں نے حضور سے سنی ہیں۔ (ضیاء النبی، ۷/۱۰۲)

حیرت ہے کہ جس عہد کے لوگ روایت حدیث کے بارے میں اتنے محتاط ہوں وضع حدیث کو اس دورکا کارنامہ خیال کیاجاتاہے ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے بعد تابعین اورتبع تابعین نے بھی حدیث رسول کے چشمۂ صافی کو غایت درجہ ستھرا رکھنے کی مساعی جاری رکھیں اور اپنے ادوار میں کامل احتیاط سے کام لیا ،انہیں کے زمانہ خیر میں تدوین حدیث یعنی باقاعدہ حدیثوں کو کتابی شکل میں مدون کیاگیا جواس زمانہ کی ضرورت کے بالکل عین مطابق تھا جیسا کہ تفصیل آئندہ آرہی ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انمول عمل

امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انمو ل نصیحتیں

جن پر داعئی دین اگر عمل کرے تو دارین میں سرخروئی حاصل ہو سکتی ہے ۔

(۱) تم بادشاہ سے ایسا عمل رکھو جیسے آگ سے رکھتے ہو ، کہ اس سے دور رہتے ہوئے فائدہ اٹھائو ، بہت قریب نہ جائو ۔

(۲) عوام کے سامنے صرف اسی بارے میں بات کرو جس کے بارے میں تم سے سوال کیا جائے ، ان کے سامنے نہ ہنسو ، نہ مسکرائو ۔

(۳) بازاروں میں ذیادہ نہ جائو ۔اور دوسروں کی دکانوں میں نہ بیٹھو، اور نہ راستوں میں ٹہرو ۔

(۴) گھر کے علاوہ کسی جگہ بیٹھنا چاہو تو مسجد میں جا بیٹھو ۔

(۵) سسرال میں بیوی کے ساتھ رہائش اختیار نہ کرنا ، اور دو بیو یوں کو ایک گھر میں جمع نہ کرنا ۔

(۶) حق گوئی میں کسی کا پروا نہ کرنا خواہ بادشاہ وقت کیو ں نہ ہو ۔

(۷) خود کو عوام اور اپنے گردو پیش والوں سے ذیادہ عبادت گذا ر بنائو۔

(۸) اہل علم کے شہر میں جائو تو عامی بن کر جائو تاکہ وہاں کے اہل علم تم کو اپنا حق مارنے والا نہ سمجھ لیں ۔اور نہ ان کی موجودگی میں مسئلہ بتائو نہ ان کے اساتذہ پر طعن کرو ۔

(۹) ذیادہ ہنسنے اور عورتوں کے ساتھ ذیادہ باتیں کر نے سے دل مردہ ہو تا ہے ۔

(۱۰) راستہ چلنے میں وقار و طمانینت اختیار کرو۔کا موں میں جلدی نہ کرو ، اور جو شخص تمہیں پیچھے سے پکارے اس پر توجہ نہ دو ۔

(۱۱) گفتگو میں ذیادہ چینخ پکار نہ کرو۔ لوگوں کے درمیان اللہ عز و جل کا ذکر کرو تاکہ لوگ سیکھیں ۔

(۱۲) نمازوں کے بعد اپنے لئے کچھ ورد مقرر کر لو ۔ ہر ماہ چند دن روزے کے لئے خاص کرلو ۔ اور اپنے نفس کی نگرانی کرو ۔

(۱۳) جب تمہیں کسی کی برائی کا علم ہو تو اس کا تذ کرہ نہ کرو ۔اس کی کوئی اچھائی تلاش کرو اور اسی سے اس کا ذکر کرو ۔

(۱۴) قرآن مقدس کی تلاوت ، قبور ِ مشائخ ،اور مبارک مقامات کی زیارت کثرت سے کرو ۔

(۱۵) بخل سے گریز کرنا ۔کیونکہ بخل انسان کو رسوا کرتا ہے اور نہ لالچی اور جھوٹا بننا ،بلکہ اپنی مروت ہر معاملے میں محفوظ رکھنا ۔

(۱۶) بڑوں کے ہوتے ہوئے اس وقت تک نشست میں بر تری اختیار نہ کرو جب تک وہ تمہیں خود پیش کش نہ کریں ۔

مذکورہ نصیحتیں ان سو نصیحتوں میں سے ہیں جو امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے امام ابو یوسف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ارشاد فرمائی تھیں ۔