اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞

ترجمہ:

جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (النساء : ٧٦) 

مسلمانوں اور کافروں کی باہمی جنگ میں ہر ایک کا ہدف اور نصب العین :

اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ 

قرآن مجید کی ترغیب جہاد کے نکات :

اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے۔ 

اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔ 

ترغیب جہاد کی متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :) جو شخص میرے راستہ میں جہاد کے لیے نکلا اور وہ شخص صرف مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسول کی تصدیق کی وجہ سے نکلا ہو۔ میں اسکا ضامن ہوں کہ اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا جنت میں داخل کر دوں ‘ (آپ نے فرمایا :) اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر میں شامل ہوئے بغیر نہ رہتا ‘ اور بیشک میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٠٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٥٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا کسی عبادت کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اسکی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر بار یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تیسری بار آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے ‘ رات کو قیام کرے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرے اور وہ روزے اور نماز سے تھکتا نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٢٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کا خاتمہ اس کے عمل پر کردیا جاتا ہے، ماسوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا رہے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٠٠‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤‘ مشکل الآثار ج ٣ ص ١٠٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ افضل اعمال ہیں ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کردیئے جاؤ درآں حالیکہ تم صبر کرنے والے ہو ‘ ثواب کی نیت کرنے والے ہو آگے بڑھ کر وار کرنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے کہا میں نے کہا یہ بتایئے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں بشرطیکہ تم صبر پر قائم ہو ‘ اور تمہاری نیت ثواب کی ہو ‘ تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو تو قرض کے سوا تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ مجھ سے ابھی جبرائیل نے یہ کہا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٥٦) 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠٢) 

حضرت معاذ بن جبل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر بھی جہاد کیا اس کیلیے جنت واجب ہوگئی ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا اس کا خوان بہا وہ جب قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہوگا اس خون کا رنگ زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَكَيۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡهُمۡ مُّصِيۡبَةٌ ۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡكَ يَحۡلِفُوۡنَ‌ۖ بِاللّٰهِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًـا وَّتَوۡفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اس وقت کیا حال ہوگا جب ان کے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ان پر کوئی مصیبت ٹوٹ پڑے تو پھر یہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آئیں کہ ہمارا تو ماسوا نیکی اور باہمی موافقت کے اور کوئی ارادہ نہ تھا

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 62

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 29

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘ بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ (النساء : ٢٩ )

مال حرام کی انواع اور اقسام : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جسموں اور بدنوں میں تصرف کرنے کی ہدایت دی تھی ‘ زنا اور عمل لوط سے منع فرمایا ‘ اسی طرح محرمات کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا تھا ‘ اور اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے اموال میں تصرف کے متعلق ہدایت دی ہے بیع و شراء کے ذریعہ دوسرے کا مال حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ہبہ ‘ وراثت اور کسی چیز کو بنا کر اس کا مالک ہونا جائز ہے ‘ اور جوا سٹہ ‘ سود ‘ غصب ‘ چوری ‘ ڈاکہ ‘ خیانت ‘ جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ اور رشوت سے دوسرے کا مال کھانا ناجائز ہے۔ 

سود کے متعلق ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں باقی چیزوں کا ناجائز اور گناہ ہونا واضح ہے اس لئے ہم یہاں رشوت کے متعلق گفتگو کریں گے۔ 

رشوت کی تعریف ‘ وعید اور شرعی احکام : 

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

کوئی شخص حاکم یا کسی اور افسر مجاز کو کوئی چیز دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا حاکم کو اپنی منشاء پوری کرنے پر ابھارے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ‘ ١٥٠ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا گیا کہ سحت کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا رشوت ‘ پھر سوال کیا گیا کہ فیصلہ پر رشوت لینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے (نازل کردہ) احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ (المائدہ : ٤٤) (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) 

کسی پر ظلم کرنے کے لئے یا کوئی ناجائز کام کرانے کے لئے کچھ دینا رشوت ہے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے یا خود کو ظلم سے بچانے کے لئے کچھ دینا یہ رشوت نہیں ہے۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال غنیمت تقسیم کیا اور بڑے بڑے عطایا دیئے اور عباس بن مرداس کو بھی کچھ مال دیا تو وہ اس پر ناراض ہوگیا اور شعر پڑھنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کچھ اور مال دے کر) ہمارے متعلق اس کی زبان بند کردو ‘ پھر اس کو کچھ اور مال دیا حتی کہ وہ راضی ہوگیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٤٣٤ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو ان سے ان کا کچھ سامان چھین لیا گیا تو انہوں نے اس سامان کو اپنے پاس رکھا اور دو دینار دے کر وہ سامان چھڑا لیا۔ 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جس کام میں رشوت دینے والا گناہ گار ہوتا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اپنی جان اور مال سے ظلم اور ضرر دور کرنے کے لئے دی جائے، رشوت وہ چیز ہے کہ تم اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے کچھ دو جو تمہارا حق نہیں ہے اس میں دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنتہ ملتان) 

قاضی خاں اوزجندی حنفی متوفی ٥٩٤ ھ نے رشوت کی چار قسمیں لکھی ہیں : 

(١) منصب قضاء کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا اس میں رشوت دینا اور لینا دونوں حرام ہیں۔ 

(٢) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لئے رشوت دے یہ رشوت جانبین سے حرام ہے خواہ وہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو ‘ کیونکہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری اور اس پر فرض ہے۔ 

(٣) اپنی جان اور اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا یہ لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر حرام نہیں ہے ‘ اس طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دیناجائز ہے اور لینا حرام ہے 

(٤) کسی شخص کو اس لئے رشوت دی کہ وہ اس کو سلطان یا حاکم تک پہنچا دے تو اس کا دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے۔ (فتاوی قاضی خان علی ہامش الہندیہ ج ٢ ص ٣٦٣‘ ٣٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ فتح القدیر ‘ ج ٦ ص ٣٨٥‘ طبع سکھر ‘ بنایہ شرح ہدایہ الجزء الثالث ص ٢٦٩‘ طبع فیصل آباد ‘ البحر الرائق ج ٦ ص ٢٦٢۔ ٢٦١‘ طبع مصر) 

اپنے آپ کو قتل کرنے کی ممانعت کے تین محمل : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو بیشک اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ٢٩) 

اس آیت کے تین معنی ہیں ایک معنی یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کریں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٨٦) اس لئے اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ 

دوسرا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ اس کی مثال یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات میں جنبی ہوگئے تو انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے “ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے (ان کو) ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری : کتاب التیمم باب ٧ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

اس آیت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی آیت کی بناء پر خود کشی کرنا حرام ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کے عذاب کا بیان :ـ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہتھیار سے خود کشی کرے گا تو دوزخ میں وہ ہتھیار اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ شخص جہنم میں اس ہتھیار سے ہمیشہ خود کو زخمی کرتا رہے گا ‘ اور جو شخص زہر سے خود کشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا اور جو شخص پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔ (صحیح مسلم : رقم الحدیث : ١٠٩) 

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خود کشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کفر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب سے انسان دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا پھر خود کشی کرنے والا دائمی عذاب میں کیوں مبتلا ہوگا ؟ اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ 

اول : یہ کہ یہ حدیث اس شخص کے متعلق ہے جس کو خود کشی کے حرام ہونے کا علم تھا اس کے باوجود اس نے حلال اور جائز سمجھ کر خود کشی کی ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں خلود کا استحقاق بیان کیا گیا ہے اور یہ جائز ہے کہ مستحق خلود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے یا پھر خلود مکث طویل کے معنی میں ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جس نے خود کو قتل کرلیا خواہ عمدا اس کو غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اسی پر فتوی ہے اگرچہ دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کی بہ نسبت یہ زیادہ بڑا گناہ ہے ‘ امام ابن ہمام نے امام ابویوسف کے قول کو ترجیح دی ہے، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے خود کشی کی تھی آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ (الدرالمختار ج ١ ص ٥٨٤‘ علی ہامش ردالمختار) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم نے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور بظاہر یہ ہے کہ آپ نے اس پر نماز جنازہ زجرا نہیں پڑھی جس طرح آپ نے مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ میں سے بھی کسی نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی کیونکہ دوسروں کی نماز آپ کی نماز کے برابر نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ کی صلوۃ انکے لئے سکون ہے۔ شرح المنیہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور اہل سنت و جماعت کے قواعد پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے ‘ کیونکہ مطلقا گنہگار کی توبہ مقبول ہوتی ہے بلکہ کافر کی توبہ بھی کفر سے قطعا مقبول ہوتی ہے حالانکہ اس کا گناہ زیادہ ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ نزع روح کے وقت توبہ مقبول نہیں ہوتی اور جس نے ایسے فعل سے خود کشی جس سے فورا مرجائے (مثلا کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کردینا) تو اس کو توبہ کا وقت ہی نہیں ملا، یا نزع روح کے وقت چند لمحے ملے اور اس وقت کی توبہ مقبول نہیں ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی آلہ سے زخمی کرلیا اور اس کے بعد وہ کچھ دن زندہ رہا اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ کی قبولیت کا یقین رکھنا چاہیے یہ ساری بحث اس کے متعلق ہے جس نے عمدا خود کو قتل کیا اور جس نے خود کو خطاء قتل کیا اس کو شمار شہداء میں ہوگا۔ (ردالمختار ج ١ ص ٥٨٥‘ ٥٨٤) 

خلاصہ یہ ہے کہ کسی بڑے عالم اور مفتی کو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھانا چاہیے اور عام مسلمان کو چاہیے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھا دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 29

وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 139

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تَهِنُوۡا وَ لَا تَحۡزَنُوۡا وَاَنۡتُمُ الۡاَعۡلَوۡنَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ‏

ترجمہ:

اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غم کھاؤ اگر تم کامل مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور نہ کمزوری دکھاؤ اور نہ غم کھاؤ اگر تم کامل مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے۔ (آل عمران : ١٣٩) 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ پچھلی امتوں کے احوال پر غور کرو ‘ سو جب تم گزری ہوئی امتوں کے احوال پر غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہوگا کہ بعض اوقات باطل قوتوں کو وقتی طور پر غلبہ حاصل ہوجاتا ہے لیکن انجام کار وہ مغلوب ہوجاتے ہیں اور حق پرست غالب آجاتے ہیں۔ اس لیے اگر جنگ احد میں وقتی طور پر کفار مکہ کو غلبہ حاصل ہوگیا ہے تو تم اس سے چنداں پریشان نہ ہو اور گھبراؤ مت بالآخر تم ہی کو غلبہ ہوگا ” وہن “ کے معنی کمزوری ہیں اور اس آیت کا معنی ہے اور تم جہاد کرنے سے کمزوری نہ دکھاؤ اور ہمت نہ ہارو۔ 

مسلمانوں کے اعلی اور غالب ہونے کے معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم کامل مومن ہو تو تم ہی غالب رہو گے ‘ اس آیت میں غلبہ سے مراد غلبہ ہے یا دلیل اور برہان کا غلبہ ہے یا مرتبہ کا غلبہ ہے ‘ یعنی اگر تم ایمان کامل پر قائم رہے اور اجتماعی طور پر اللہ تعالیٰ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرتے رہے تو کفار کے خلاف معرکہ آرائیوں میں تم ہی فتح یاب اور کامران ہوگے جیسا کہ جنگ احد کے بعد کی جنگوں میں مسلمان عہد رسالت میں مسلسل کامیابیاں حاصل کرتے رہے۔ پھر عہد صحابہ میں بھی مسلمان کفار کے خلاف جنگوں میں کامیاب ہوتے رہے حتی کہ بنو امیہ کے دور میں تین براعظموں میں مسلمانوں کی حکومت پہنچ چکی تھی۔ لیکن بعد میں جب مسلمان تن آسانی ‘ تعیش ‘ باہمی لڑائیوں اور طوائف الملوکی کا شکار ہوئے اور ایمان کامل پر قائم رہنے کا معیار برقرار نہ رکھ سکے تو ان کو پھر اسی شکست وریخت کا سامنا کرنا پڑا جس کا اس سے پہلے جنگ احد میں سامنا کرچکے تھے ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے دلیل اور برہان کا غلبہ ‘ یعنی اگرچہ مادی اعتبار سے مسلمان کسی زمانہ میں مغلوب ہوجائیں جیسا کہ اب ہیں اور کفار غالب ہوں تب بھی مسلمانوں کا دین کفار کے باطل دینوں کے مقابلہ میں دلیل اور برہان کے اعتبار سے غالب ہے اور دین اسلام کا ہر اصول معقولیت کے لحاظ سے کفار کے اصولوں سے برتر ہے۔ آج دنیا کے کافروں میں زیادہ عیسائی ہیں۔ پھر دہرئیے ہیں اور پھر بت پرست ہیں۔ اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کا خدائے واحد کا عقیدہ ان تمام عقائد پر دلیل کے اعتبار سے غالب ہے کیونکہ بتوں کا مستحق عبادت نہ ہونا بدیہی ہے ‘ اور مطلقا کسی پیدا کرنے والے کا نہ ہونا بھی بداہۃ باطل ہے اور تین خداؤں کا ہونا بھی باطل ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ اور روح القدس دونوں مخلوق ہیں اور مخلوق خدا نہیں ہوسکتی ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کے نبیوں کے معجزات اب دنیا میں موجود نہیں ہیں اور مسلمانوں کے نبی کا معجزہ اب بھی موجود ہے یہود و نصاری کی کتاب کی اصل زبان تک باقی نہیں رہی اور ان کی کتاب میں ردوبدل ہوگیا جب کہ مسلمانوں کے نبی کی کتاب من وعن اسی طرح موجود ہے اور انشاء اللہ قیامت تک موجود رہے گی ‘ اسی طرح عبادات کے طریقوں ‘ سیاست ‘ معاشرت ‘ اور زندگی کے باقی شعبوں میں مسلمانوں کے دین کے اصول باقی تمام ادیان سے افضل اور اعلی ہیں ‘ اور یا مسلمانوں کے اعلی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمانوں کا درجہ سب سے اعلی ہے ‘ اگر کسی جنگ میں مسلمان مغلوب ہوجائیں اور کافر غالب ہوں تب بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک مسلمان اعلی ہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 139