بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 96

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اَوَّلَ بَيۡتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَـلَّذِىۡ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلۡعٰلَمِيۡنَ‌‌ۚ

ترجمہ:

بیشک سب سے پہلا گھر جو (اللہ کی عبادت کے واسطے) لوگوں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور تمام جہان والوں کی ہدایت کا سبب ہے

تفسیر:

اس آیت کی آیات سابقہ سے مناسبت کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں :

(١) سابقہ آیات میں بھی یہود کے شبہات کے جوابات دیئے گئے تھے اور اس آیت سے بھی یہود کے ایک شبہ کا جواب دینا مقصود ہے جس کو وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں پیش کرتے تھے ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت المقدس کی بجائے کعبہ کو قبلہ بنا لیا تو یہودی کہتے تھے کہ بیت المقدس کعبہ سے افضل ہے اور وہ زیادہ اس کا مستحق ہے کہ نماز میں اس کی طرف منہ کیا جائے کیونکہ بیت المقدس کو کعبہ سے پہلے بنایا گیا ہے ‘ اور اسی جگہ حشر ہوگا ‘ اور تمام انبیاء سابقین (علیہم السلام) کا یہی قبلہ ہے لہذا کعبہ کی بجائے بیت المقدس کی طرف نمازوں میں منہ کرنا زیادہ لائق ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انکے اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے فرمایا اللہ کی عبادت کے واسطے لوگوں کے لیے جو سب سے پہلے گھر بنایا گیا وہ کعبہ ہے ‘ جو مکہ میں ہے سو کعبہ بیت المقدس سے افضل اور اشرف ہے ‘ لہذا نمازوں میں اس کی طرف منہ کرنا چاہیے۔

(٢) اس سے پہلی آیت میں نسخ کو ثابت کیا گیا تھا کیونکہ اونٹ کا گوشت پہلے حلال تھا اور پھر حرام کردیا گیا ‘ سوا سی طرح سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت میں بھی بعض احکام منسوخ کردیئے گئے اور بیت المقدس کی بجائے کعبہ کو قبلہ بنادیا۔

(٣) اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیم پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور ملت ابراہیم کا عظیم شعار حج ہے ‘ سو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حج کرنے کا حکم دیا ہے۔

(٤) یہودونصاری میں سے ہر فرقہ اس کا مدعی تھا کہ وہ ملت ابراہیم پر ہے ‘ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ دونوں کا دعوی جھوٹا ہے کیونکہ ملت ابراہیم میں حج کعبہ ہے اور یہودونصاری دونوں حج نہیں کرتے لہذا دونوں میں سے کوئی بھی ملت ابراہیم پر نہیں ہے۔

(٥) مجاہد سے منقول ہے کہ یہود کہتے تھے کہ بیت المقدس افضل ہے ‘ کیونکہ وہ انبیاء کی ہجرت کی جگہ ہے اور ارض مقدسہ میں ہے اور مسلمان کہتے تھے کہ بلکہ کعبہ افضل ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ عبادت کا پہلا گھر مکہ میں کعبہ ہے لہذا وہی افضل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک سب سے پہلا گھر جو (اللہ کی عبادت کے واسطے) لوگوں کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے۔ (آل عمران : ٩٦)

کعبہ کے اول بیت ہونے کے سلسلہ میں روایات اور راجح روایت کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا زمین پر کون سی مسجد سب سے پہلے بنائی گئی تھی ؟ آپ نے فرمایا مسجد حرام ‘ میں نے کہا پھر کون سی مسجد بنائی گئی تھی ؟ آپ نے فرمایا مسجداقصی ‘ میں نے پوچھا ان کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ آپ نے فرمایا چالیس سال (صحیح بخاری ج ١ ص ٤٧٧)

اس حدیث کو امام مسلم (ج ١ ص ١٩٩) امام نسائی (سنن نسائی ج ١ ص ١١٢) امام ابن ماجہ ‘ (سنن ابن ماجہ ص ٥٥) امام احمد (مسند احمد ج ٥ ص ١٦٧‘ ١٦٦) اور امام بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ (سنن کبری ج ٣ ص ٤٣١‘ مطبوعہ ملتان)

حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں :

اس حدیث پر یہ اشکال ہے کہ کعبہ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بنایا اور مسجد اقصی کو حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بنایا اور ان کے درمیان چالیس سال نہیں بلکہ ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں دونوں مسجدوں کے ابتداء بنانے اور ان کی بنیادیں رکھنے کا ذکر ہے ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ابتداء کعبہ کو بنایا تھا اور نہ حضرت سلیمان نے ابتداء مسجد اقصی کو بنایا تھا ‘ کیونکہ پہلے حضرت آدم نے کعبہ کو بنایا تھا ‘ پھر ان کی اولاد زمین میں پھیل گئی تو ہوسکتا ہے کہ اس کے چالیس سال بعد ان کی اولاد میں سے کسی نے مسجد اقصی کو بنایا ہو ‘ اور اس کے بعد حضرت ابراہیم نے انہی بنیادوں پر کعبہ کو اٹھایا ہو ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں مذکور ہے ‘ علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی اس پر دلالت نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان مسجدوں کو ابتداء بنایا بلکہ انہوں نے ان کی بنیادوں پر کعبہ اور مسجد اقصی کی عمارت کی تجدید کی علامہ خطابی نے کہا ہے کہ مسجد اقصی کو بعض اولیاء اللہ نے حضرت داؤد اور حضرت سلیمان (علیہما السلام) سے پہلے بنایا تھا پھر انہوں نے اس کی عمارت میں زیادتی اور توسیع کی ‘ بعض علماء نے لکھا ہے کہ سب سے پہلے مسجد اقصی کو حضرت آدم (علیہ السلام) نے بنایا تھا ‘ ایک قول ہے کہ فرشتوں نے بنایا تھا ‘ ایک قول ہے کہ سام بن نوح (علیہ السلام) نے بنایا تھا ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے بنایا تھا ‘ جن کا یہ قول ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے مسجد اقصی کو بنایا تھا ان کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ امام ابن ہشام نے کتاب التیحان میں لکھا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے جب کعبہ کو بنالیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بیت المقدس کی طرف جانے کا حکم دیا اور یہ حکم دیا کہ وہاں پر ایک مسجد بنائیں اور اس میں عبادت کریں ‘ اور حضرت آدم (علیہ السلام) کا بیت اللہ کو بنانا بہت مشہور ہے اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے کہ طوفان نوح کے زمانہ میں بیت اللہ کو اٹھا لیا گیا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لیے اس کو مہیا کیا ‘ اور امام ابن ابی حاتم نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ ہی بیت کو بنایا تھا اور جب حضرت آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارا گیا تو ان کو فرشتوں کی آوازیں اور ان کی تسبیحات سنائی نہیں دیتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : ” اے آدم ! میں نے ایک بیت کو زمین پر اتارا ہے اس کے گرد بھی اسی طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے ‘ آپ اس بیت کی طرف چلے جائیں۔ “ حضرت آدم کو ہند میں اتارا گیا تھا پھر وہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور بیت اللہ پہنچے اور اس کا طواف کیا اور ایک قول یہ ہے کہ جب انہوں نے کعبہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھ لی تو انہیں بیت المقدس کی طرف جانے کا حکم دیا گیا اور انہوں نے وہاں ایک مسجد بنائی اور وہاں نماز پڑھی تاکہ آپ کی بعض اولاد کے لیے وہ قبلہ ہوجائے۔ (فتح الباری ج ٦ ص ٤٠٩۔ ٤٠٨‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

ابن عرعرہ بیان کرتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت علی (رض) سے کہا لوگوں کے لیے زمین پر سب سے پہلے جو گھر بنایا گیا وہ مکہ میں تھا ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا : نہیں ‘ پھر نوح (علیہ السلام) کی قوم کہاں رہتی تھی ؟ اور ہود (علیہ السلام) کی قوم کہاں رہتی تھی ؟ لیکن جو گھر لوگوں کے لیے برکت کے لیے سب سے پہلے بنایا گیا وہ مکہ میں تھا۔

اس حدیث کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کعبہ کو سب سے پہلے عبادت کے لیے نہیں بنایا گیا ‘ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی رہائش کے لیجے تو پہلے بہت سے مکان بنائے گئے تھے لیکن لوگوں کی عبادت کے لیے جو سب سے پہلے گھر بنایا گیا وہ مکہ میں کعبہ تھا اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس کو امام ابن جریر نے اس کے بعد ذکر کیا ہے :

مطر سے روایت ہے کہ بیت اللہ سے پہلے بھی گھر تھے لیکن یہ پہلا گھر تھا جس کو عبادت کے لیے بنایا گیا۔

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو بنانے سے دو ہزار سال پہلے بیت اللہ کو بنایا اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ بیت اللہ کو زمین پر اتارا گیا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہارے ساتھ ایک بیت کو نیچے اتار رہا ہوں ‘ اس کے گرد اس طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے، پھر اس کے گرد حضرت آدم نے طواف کیا اور آپ کے بعد مومنین نے طواف کیا پھر جب طوفان نوح کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کردیا تو اللہ تعالیٰ نے بیت کو اوپر اٹھا لیا اور اس کو زمین والوں کے عذاب سے محفوظ رکھا ‘ پھر بیت اللہ آسمان میں معمور رہا ‘ اس کے بعد جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کعبہ کے آثار تلاش کر رہے تھے تو انہوں نے اس کو پہلے کی پرانی بنیادوں پر تعمیر کیا، (جامع البیان ج ٤ ص ٧۔ ٦‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابن جریر طبری اور حافظ ابن کثیر نے حضرت علی (رض) کی اس روایت کو ترجیح دی ہے کہ زمین پر لوگوں کے رہنے کے لیے پہلے اور بھی گھر بنے ہوئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے جو گھر سب سے پہلے زمین پر بنایا گیا وہ مکہ مکرمہ میں کعبہ تھا ‘ امام بخاری نے حضرت ابوذر (رض) سے جو حدیث روایت کی ہے اس سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی نے امام ہشام سے جو حدیث روایت کی ہے اس میں بھی یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) نے کعبہ بنایا اور اس کے چالیس سال بعد انہوں نے ہی بیت المقدس کو بنایا ‘ اور ہمارے نزدیک یہی راجح ہے ‘ باقی جن روایات میں یہ ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز سے پہلے زمین پر کعبہ بنایا ‘ یا کعبہ کو حضرت آدم کے ساتھ زمین پر اتارا یہ روایات ہمارے نزدیک مرجوح ہیں ہم نے ان روایات کو اس لیے ذکر کیا ہے کہ سب سے پہلے کعبہ کو بنانے کے سلسلہ میں تمام کلیدی روایات کا استیعاب ہوجائے۔

علامہ بدرالدین محمود بن احمد عینی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت آدم نے کعبہ کو بنایا ‘ اور انہوں نے امام ابن ہشام کی کتاب التیجان سے بھی نقل کیا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے پہلے مکہ میں بیت اللہ کو بنایا پھر اس کے بعد بیت المقدس کو بنایا (عمدۃ القاری ج ١٥ ص ‘ ٢٦٢ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

تعمیر کعبہ کی تاریخ :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب کعبہ کو بنایا گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عباس پتھر اٹھا اٹھا کر لا رہے تھے عباس (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا اپنی چادر اپنی گردن کے نیچے رکھ لیں (تاکہ آپ کی گردن میں پتھر نہ چبھیں) آپ زمین پر گرگئے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف لگ گئیں ‘ آپ نے فرمایا میری چادر مجھے دو ‘ پھر آپ کی چادر آپ پر باندھ دی۔

یہ حدیث درایۃ صحیح نہیں ہے کیونکہ جس وقت قریش نے کعبہ کی تعمیر کی اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمر پینتیس سال تھی اور اس وقت حضرت عباس حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چادر اتارنے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے !

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اے عائشہ ! اگر تمہاری قوم زمانہ جاہلیت سے نئی نئی نکلی ہوئی نہ ہوتی تو میں بیت اللہ کو منہدم کرنے کا حکم دیتا ‘ اور اس میں اس حصہ (حطیم) کو داخل کردیتا جو اس سے خارج کردیا گیا ہے اور اس کو زمین سے ملا دیتا ‘ اور اس میں دو دروازے بناتا ایک شرقی دروازہ ‘ ایک غربی دروازہ ‘ اور اس کو میں اساس ابراہیم کے مطابق کردیتا ‘ یہی وہ حدیث تھی جس نے حضرت ابن الزبیر (رض) کو کعبہ کے منہدم کرنے پر برا انگیختہ کیا ‘ یزید بن رومان کہتے ہیں میں اس وقت دیکھ رہا تھا کہ جب حضرت ابن الزبیر (رض) نے کعبہ کو منہدم کیا اور اس کو دوبارہ بنایا اور اس میں حطیم کو داخل کرلیا اور میں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی رکھی ہوئی بنیاد کے پتھر دیکھے جو اونٹ کے کوہان کے برابر تھے ‘ جریر کہتے کہ میں نے اندازہ کیا اس بنیاد سے حطیم تک چھ ہاتھ کا فاصلہ تھا (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٦۔ ٢١٥‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

کعبہ کی تعمیر اور اس کی تجدید اور اصلاح کئی مرتبہ کی گئی ہے اس کی تفصیل حسب ذیل ہے : 

(١) پہلی بار کعبہ کو حضرت آدم (علیہ السلام) نے تعمیر فرمایا ‘ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں :

امام بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اللہ عزوجل نے جبرائیل (علیہ السلام) کو حضرت آدم اور حضرت حواء (علیہما السلام) کے پاس بھیجا اور ان سے فرمایا کہ میرے لیے ایک بیت بناؤ‘ جبرائیل (علیہ السلام) نے ان کے لیے نشان ڈالے ‘ حضرت آدم زمین کھودتے تھے اور حضرت حوا مٹی نکالتی تھیں ‘ انہوں نے اس قدر گہری بنیاد کھودی کہ زمین کے نیچے سے پانی نکل آیا ‘ پھر یہ ندا کی گئی کہ اے آدم یہ کافی ہے ‘ جب حضرت آدم (علیہ السلام) نے یہ بیت بنالیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ اس کے گرد طواف کریں اور ان سے کہا گیا کہ آپ پہلے انسان ہیں اور یہ پہلا بیت ہے ‘ پھر صدیاں گزرتی گئیں حتی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس کا حج کیا۔

(٢) کتاب التیحان میں لکھا ہے کہ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم گمراہ ہوگئی اور انہوں نے کعبہ کو منہدم کردیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب تم انکی ہلاکت کا انتظار کرو حتی کہ تنور جوش مارنے لگے۔ ازرقی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کو بنایا تو بلندی میں اس کا طول نوہاتھ تھا ‘ زمین میں اس کا طول تیس ہاتھ اور عرض بائیس ہاتھ تھا ‘ اور اس پر چھت نہیں تھی اور جب قریش نے اس کو بنایا تو بلند میں اس کا طول اٹھارہ ہاتھ رکھا ‘ اور زمین میں اس کے طول کو چھ ہاتھ اور ایک بالشت کم کردیا اور حطیم کو چھوڑ دیا ‘ اور جب حضرت ابن الزبیر نے اس کو بنایا تو بلندی میں اس کا طول بیس ہاتھ رکھا اور جب حجاج نے اس کو منہدم کر کے بنایا تو اس میں تغیر نہیں کیا اور یہ اب تک اسی طرح بنا ہوا ہے۔

(٣) جرھم کے ایام میں کعبہ کو ایک یا دو مرتبہ بنایا گیا کیونکہ سیلاب سے کعبہ کی ایک دیوار منہدم ہوگئی تھی ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ اس کو بنایا نہیں گیا تھا صرف اس کی مرمت کی گئی تھی ‘ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ بنایا اور کافی زمانہ گزر گیا تو یہ بوسیدہ ہو کر منہدم ہوگیا پھر اس کو جرھم نے بنایا اور کافی زمانہ کے بعد یہ پھر منہدم ہوگیا تو اس کو قریش نے بنایا اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جوان تھے امام حاکم نے اس حدیث کی اصل کو صحیح قرار دیا ہے۔ (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور قریش کے درمیان دو ہزار سات سو پچھتر سال کا عرصہ ہے)

(٤) امام محمد بن اسحاق نے السیرۃ میں بیان کیا ہے کہ جس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عمرپینتیس سال کی تھی تو قریش کعبہ کو بنانے کے لیے جمع ہوئے وہ اس کی چھت بھی ڈالنا چاہتے تھے اور اس کو منہدم کرنے سے خوف کھاتے تھے ‘ پھر قریش کے تمام قبائل جمع ہوئے اور انہوں نے پتھر جمع کیے اور اس کی بنیاد میں ہر قبیلہ نے پتھر ڈالے حتی کہ حجر اسود کو نصب کرنے کی جگہ آگئی اور اس کو نصب کرنے میں اختلاف ہوا ہر قبیلہ والا اس کو نصب کرنا چاہتا تھا ‘ حتی کہ قریش کے سب سے بوڑھے شخص ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمران بن مخزوم نے یہ فیصلہ کیا کہ کل جو شخص اس مسجد کے دروازہ میں سب سے پہلے داخل ہوگا وہی تمہارے درمیان اس کا فیصلہ کرے گا اور اس دن سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) داخل ہوئے لوگوں نے کہا یہ امین ہیں ہم ان پر راضی ہیں یہ محمد ہیں۔ جب آپ تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا ایک چادر لاؤ‘ پھر آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو اس چادر میں رکھ دیا پھر آپ نے فرمایا ہر قبیلہ والا اس چادر کو پکڑ کر اوپر اٹھائے جب انہوں نے اس چادر کو حجر اسود کو نصب کرنے کی جگہ تک اوپر اٹھا لیا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجر اسود کو نصب کردیا۔ (عمدۃ القاری ج ٩ ص ٢١٧، ٢١٦ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

(٥) اس کے بعد ٦٤ ھ یا ٦٥ ھ ہجری میں حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) نے کعبہ کو منہدم کر کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خواہش کے مطابق بناء ابراہیم پر کعبہ کو بنادیا اور حطیم کو کعبہ میں شامل کردیا۔

(٦) پھر تہتر (٧٣ ھ) میں عبدالملک بن مروان کے حکم سے حجاج بن یوسف نے حضرت ابن الزبیر (رض) کی بناء کو منہدم کردیا اور دوبارہ قریش کی بناء پر کعبہ کو بنادیا اور آج تک کعبہ اسی بناء قریش پر قائم ہے۔

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں :

حافظ ابن عبد البر اور قاضی عیاض وغیرہ نے لکھا ہے کہ رشید یا مہدی یا منصور نے دوبارہ کعبہ کو حضرت ابن الزبیر (رض) کی تعمیر کے مطابق بنانے کا ارادہ کیا اور اس سلسلہ میں امام مالک سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا مجھے ڈر ہے کہیں کعبہ کی تعمیر بادشاہوں کا کھیل نہ بن جائے ‘ تو پھر اس نے بنانے کا ارادہ ترک کردیا ‘ فاکہی نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عبداللہ بن الزبیر کعبہ کو بنانے لگے تو حضرت ابن عباس (رض) نے ان کو اس وقت منع فرمایا تھا اور یہ فرمایا تھا کہ مجھے ڈر ہے کہ تمہارے بعد کوئی اور امیر آئے گا تو پھر اس میں تغیر کرے گا اس کو اسی طرح رہنے دو ۔ (فتح الباری ج ٣ ص مطبو ٤٤٨ عہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ سیوطی نے تاریخ مکہ میں لکھا ہے کہ کعبہ کو دس بار بنایا گیا ‘ پہلی بار فرشتوں نے بنایا ‘ دوسری بار حضرت آدم (علیہ السلام) نے ‘ تیسری بار ان کی اولاد نے ‘ چوتھی بار حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ‘ پانچویں بار عمالقہ نے ‘ چھٹی بار جرہم نے ‘ ساتویں بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے جد امجد قصی بن کلاب نے ‘ اٹھویں بار نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے قریش نے ‘ نویں بار حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) نے اور دسویں بار حجا ج بن یوسف نے، لیکن یہ قول ضعیف ہے۔ صحیح قول وہی ہے جس کو ہم نے اس سے پہلے تفصیل سے مدلل اور باحوالہ بیان کیا ہے۔

کعبہ کے فضائل :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ کے دن فرمایا : اس شہر کو اللہ نے حرم قرار دیا ہے ‘ اس کے کانٹوں کو (بھی) نہیں کاٹا جائے گا ‘ نہ اس کے جانوروں کو بھگایا جائے گا اور نہ اعلان کرنے والے کے علاوہ کوئی شخص اس کی گری ہوئی چیز اٹھائے گا۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢١٦‘ مطبوعہ کراچی)

حضرت ابن عباس (رض) سے ایک اور روایت میں ہے نہ اس کی گھاس کاٹی جائے گی نہ اس کے درخت کاٹے جائیں گے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٨٠‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

ہر چند کہ اس حدیث میں مکہ مکرمہ کی فضیلت ہے لیکن مکہ مکرمہ کی یہ فضیلت کعبہ کی وجہ سے ہے اور کعبہ ہی کی وجہ سے مکہ کو حرم بنایا گیا ہے۔

امام عبدالرزاق بن ہمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ جس شخص نے بیت اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نماز پڑھی اور سوائے نیکی کے اور کوئی بات نہ کی تو اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر لوگ ایک سال تک اس بیت کی زیارت نہ کریں تو وہ بارش سے محروم ہوجائیں گے۔

سلیمان بن یسار بیان کرتے ہیں کہ کعب سے بیت المقدس کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی فضیلت کے متعلق احادیث بیان کیں ‘ شام کے ایک آدمی نے ان سے کہا : اے ابو عباس ! آپ بیت المقدس کا بہت ذکر کرتے ہیں اور بیت اللہ کا اتنا ذکر نہیں کرتے ؟ کعب نے ان سے کہا کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں کعب کی جان ہے ! اللہ تعالیٰ نے تمام روئے زمین پر اس بیت سے افضل کوئی بیت پیدا نہیں کیا ‘ اس بیت کی ایک زبان ہے اور دو ہونٹ ہیں ‘ اور وہ ان سے کلام کرتا ہے ‘ اور اس کا ایک دل ہے جس سے وہ تعقل کرتا ہے یہ سن کر ابو حفص نام کے ایک شخص نے کہا کیا پتھر کلام کرتا ہے ‘ کعب نے کہا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ! کعبہ نے اپنے رب سے یہ شکایت کی کہ میری زیارت کرنے والے اور میری طرف آنے والے کم ہوگئے ‘ اللہ تعالیٰ نے کعبہ کی طرف یہ وحی کی کہ میں تمہاری طرف ایک نئی تورات نازل کروں گا ‘ اور ایسے بندے بھیجوں گا جو رات کو جاگ کر سجدے کریں گے ‘ اور تمہارے فراق میں روئیں گے اور تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے ‘ اور جس نے تمہارے گرد سات طواف کیے اس کو ایک غلام آزاد کرنے کا اجر ملے گا اور جو اس بیت کے گرد سر منڈائے گا قیامت کے دن اس کو ہر بال کے بدلہ میں ایک نور حاصل ہوگا۔ (المصنف ج ٥ ص ١٤۔ ١٣ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ)

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ ہر روز کعبہ کے گرد ایک سو بیس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ ساٹھ رحمتیں کعبہ کا طواف کرنے والوں کے لیے ‘ چالیس اعتکاف کرنے والوں کے لیے اور بیس رحمتیں کعبہ کو دیکھنے والوں کے لیے۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ‘ ١٠٣‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری مسجد میں نماز پڑھنا ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ماسوا مسجد حرام (کعبہ) کے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٩ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا ایک نماز ہے اور محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنا پچیس نمازوں کے برابر ہے ‘ اور جامع مسجد میں نماز پڑھنا پانچ سو نمازوں کے برابر ہے اور میری مسجد میں نماز پڑھنا پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے اور مسجد حرام میں نماز پڑھنا ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔ (سنن ابن ماجہ ص ١٠٢‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی ج ١ ص ٤٥٣‘ مطبوعہ بیروت)

حافظ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ لکھتے ہیں :

عام محدثین یہ کہتے ہیں کہ مسجد حرام میں نماز پڑھنارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد سے سو گنا افضل ہے اور باقی مساجد سے ایک لاکھ گنا افضل ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں نماز پڑھنا باقی مساجد سے ایک ہزار گنا افضل ہے۔ (الاستذکار ج ٧ ص ٢٢٦‘ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالتہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف تین مساجد کی طرف سفر کیا جائے گا ‘ مسجد حرام ‘ مسجد رسول اور مسجد اقصی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٥٨ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں :

شہربن حوشب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری (رض) کے سامنے طور پر جا کر نماز پڑھنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی سفر کرنے والے کے لیے کسی مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے سفر کرنا جائز نہیں ہے ماسوا مسجد حرام ‘ مسجد اقصی اور میری مسجد کے ‘ الحدیث (مسند احمد ج ٣ ص ٦٤‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ بدرالدین عینی نے لکھا کہ اس حدیث کی سند حسن ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی اور حافظ بدرالدین عینی نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان تین مسجدوں کے علاوہ مطلقا سفر کرنے سے منع نہیں فرمایا بلکہ کسی اور مسجد کی خصوصیت کی وجہ سے اس میں نماز پڑھنے کے قصد سے سفر کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ اس لیے روز گار ‘ علم دین کے حصول اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کرنا جائز ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی لکھتے ہیں :

لہذا ان لوگوں کا قول باطل ہے جنہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر شریف اور دیگر صالحین کی قبروں کی زیارت کے لیے سفر کرنے سے منع کیا ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ ابن تیمیہ سے جو مسائل منقول ہیں یہ ان میں سب سے قبیح مسئلہ ہے۔ (فتح الباری ج ٣ ص ٦٦‘ مطبوعہ دار نشر الکتب الاسلامیہ ‘ لاہور ١٤٠١ ھ)

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

طلب علم ‘ تجارت ‘ نیک لوگوں اور متبرک مقامات کی زیارت کے لیے سفر کرنا ممنوع نہیں ہے ‘ نیز لکھا ہے کہ قاضی ابن کج نے کہا ہے کہ اگر کسی شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے نذر مانی تو اس نذر کو پورا کرنا واجب ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٧ ص ٢٥٤‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ)

ملا علی قاری حنفی نے لکھا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کی زیارت کے لیے سفر کو حرام کہنے کی وجہ سے شیخ ابن تیمیہ کی تکفیر کی گئی ہے اور یہ تکفیر صحت اور صواب کے زیادہ قریب ہے کیونکہ جس چیز کی اباحت پر اتفاق ہو اس کو حرام کہنا بھی کفر ہے تو جس چیز کے مستحب ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے اس کو حرام کہنا بہ طریق اولی کفر ہوگا : (شرح الشفاء ج ٣ ص ١٦١۔ ١٦٠‘ مطبوعہ دار الفکر بیروت)

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص نیکی کرتا ہوا بیت اللہ میں داخل ہو وہ اپنے گناہوں سے بخشا ہوا بیت اللہ سے نکلے گا۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ١٤٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص بیت اللہ میں داخل ہوا وہ بخشا ہوا نکلے گا۔

علامہ عز الدین بن جماعہ الکنانی متوفی ٧٦٧ ھ لکھتے ہیں :

امام ابو سعید جندی فضائل مکہ میں اور امام واحدی اپنی تفسیر میں حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد سات طواف کئے اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی ‘ اور زمزم کا پانی پیا اس کے گناہ جتنے بھی ہوں معاف کردیئے جائیں گے۔

امام ازرقی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب کوئی شخص بیت اللہ میں طواف کے ارادہ سے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کا استقبال کرتی ہے ‘ اور جب وہ بیت اللہ میں داخل ہوتا ہے تو اللہ کی رحمت اس کو ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور اس کے ہر قدم کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ پانچ سو نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے پانچ سو گناہ مٹا دیتا ہے ‘ اور اس کے لیے پانچ سودرجات بلند کردیتا ہے اور جب وہ طواف سے فارغ ہو کر مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھتا ہے ‘ تو وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہوجاتا جیسے اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا اور اس کے لیے اولاد اسماعیل سے دس غلاموں کے آزاد کرنے کا اجر لکھ دیا جاتا ہے اور حجر اسود کے قریب ایک فرشتہ اس کا استقبال کرکے کہتا ہے تم اپنے پچھلے عملوں سے فارغ ہوگئے ‘ اب از سر نو عمل شروع کرو ‘ اور اس کو اس کے خاندان کے ستر نفوس کے حق میں شفاعت۔۔۔۔۔۔۔

امام ابن ماجہ نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے بیت اللہ کے سات طواف کئے ‘ اور اس نے ان کلمات کے سوا اور کوئی کلام نہیں کیا : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ “ اس کے دس گناہ مٹا دیئے جائیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور جس نے یہ کلمات پڑھتے ہوئے طواف کیا وہ اللہ کی رحمت میں ڈوبا ہوا طواف کرے گا۔

امام فاکہی حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ ستر ہزار فرشتوں نے کعبہ کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ طواف کرنے والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔

قاضی عیاض نے شفاء میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز پڑھی اس کے اگلے اور پچھلے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور قیامت کے دن اس کا امن والوں میں حشر کیا جائے گا۔

امام ترمذی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بیت اللہ کے گرد پچاس طواف کیے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جیسے وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔

اس حدیث سے مراد پچاس مرتب سات طواف کرنا ہے ‘ کیونکہ صرف ایک طواف کے ساتھ عبادت نہیں کی جاتی ‘ امام عبدالرزاق اور امام فاکہی نے یہ روایت کیا ہے کہ جس نے پچاس مرتبہ سات طواف کیے تو وہ اس دن کی طرح ہوجائے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو ‘ اور یہ مراد نہیں ہے کہ وہ پچاس مرتبہ سات طواف ایک ہی وقت میں کرے بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے صحیفہ اعمال میں پچاس بار سات طواف کرنے کا عمل ہونا چاہیے۔

امام سعید بن منصور نے سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ جس شخص نے بیت اللہ کا حج کیا اور پچاس مرتبہ سات طواف کیے وہ اس طرح پاک ہو کر لوٹے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔

امام سعید بن منصور نے حضرت عمر (رض) سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بیت اللہ میں آیا اور وہ اسی بیت کا ارادہ کر کے آیا تھا پھر اس نے طواف کیا تو وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا جس طرح اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے نزدیک آسمان پر اس کے سب سے معزز فرشتے وہ ہیں جو اس کے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں اور زمین پر اس کے نزدیک سب سے معزز وہ انسان ہیں جو اس کے بیت کے گرد طواف کرتے ہیں۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٥٥‘ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)

نیز علامہ عزالدین بن جماعہ الکنانی لکھتے ہیں :

بیت اللہ کی آیات میں سے یہ ہیں کہ دلوں میں اس کی ہیبت واقع ہوتی ہے اس کے پاس دل جھک جاتے ہیں ‘ اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں ‘ پرندے اس کے اوپر نہیں اڑتے اور اس پر بیٹھتے نہیں ہیں ‘ البتہ اگر کوئی پرندہ بیمار ہو تو طلب شفاء کے لیے اس کے اوپر بیٹھ جاتا ہے۔

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہمیں منی پر تعجب ہوتا ہے یہ بہت تنگ جگہ ہے لیکن جب لوگ یہاں آتے ہیں تو یہ وسیع ہوجاتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منی رحم کی طرح ہے ‘ جب عورت کو حمل ہوتا ہے تو اللہ سبحانہ اس کو وسیع کردیتا ہے۔ (ہدایہ السالک الی المذاہب الاربعہ ج ١ ص ٣٩۔ ٣٧ مطبویہ دارا الشائر الاسلامیہ بیروت)

مکہ مکرمہ کو بکہ اور مکہ کہنے کی مناسبت :

اس آیت میں فرمایا ہے ” لوگوں کے لیے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے “ بکہ اور مکہ ایک شہر کے دو نام ہیں ‘ اور چونکہ باء اور میم دنوں قریب المخرج ہیں اس لیے بکہ اور مکہ دونوں کہنا صحیح ہیں ‘ مکہ مکرمہ کو بکہ کہنے کی حسب ذیل وجوہ بیان کی گئی ہیں :

(١) بک کا معنی ہے ایک دوسرے کو دھکا دینا ‘ اور مکہ میں بہت رش اور ازدحام ہوتا ہے اس لیے لوگ ایک دوسرے کو دھکا دیتے ہیں۔

(٢) چونکہ مکہ مکرمہ بڑے جابر حکمرانوں کی گردنیں جھکا دیتا ہے اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں۔

(٣) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ لفظ بکاء سے بنا ہو اور چونکہ یہاں آکر لوگ یاد خدا میں اور خوف خدا سے بہت روتے ہیں، اس لیے اس کو بکہ کہتے ہیں اور مکہ کہنے کی یہ وجوہ ہیں۔

(١) تمک الذنوب کا معنی ہے گناہوں کو زائل کرنا ‘ چونکہ اس شہر میں عبادت کرنے اور حج اور عمرہ کرنے سے گناہ زائل ہوجاتے ہیں اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔

(٢) تمک العظم کا معنی ہے ہڈی کے اندر جو کچھ ہو اس کو کھینچ لینا ‘ اور یہ شہر دوسرے شہروں کے لوگوں کو اپنے اندر کھینچ لیتا ہے اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں۔

(٣) اس شہر میں پانی کم ہے گویا اس کا پانی کھینچ لیا گیا اس لیے اس کو مکہ کہتے ہیں :

بعض علماء نے کہا کہ مکہ پورے شہر کا نام ہے اور بکہ خاص مسجد حرام کا نام ہے کیونکہ بک کا معنی ازدحام ہے اور ازدحام اور ایک دوسرے کو دھکا دینا مسجد حرام میں طواف کے وقت ہوتا ہے ‘ اور بعض علماء نے اس کے برعکس کہا کیونکہ قرآن مجید میں ہے سب سے پہلا گھر جو بنایا گیا وہ بکہ میں ہے اس سے متبادر یہی ہوتا ہے کہ یہاں بکہ شہر کو فرمایا ہے۔

بیت اللہ کے اسماء : 

بیت اللہ کے اسماء حسب ذیل ہیں :

(١) بیت اللہ کا مشہور نام کعبہ ہے قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” جعل اللہ الکعبۃ البیت الحرام قیاما للناس “۔ (المائدہ : ٩٧)

ترجمہ اللہ نے معزز بیت کعبہ کو لوگوں کے قیام کا سبب بنایا :

کعبہ کا معنی شرف اور بلندی ہے ‘ اور بیت اللہ بھی مشرف اور بلند ہے اس لیے اس کو کعبہ کہتے ہیں :

(٢) بیت اللہ البیت العتیق بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” ولیطوفوا بالبیت العتیق “۔ (الحج : ٢٩)

ترجمہ : اور وہ البیت العتیق کا طواف کریں۔

اس بیت کو عتیق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم بیت ہے ‘ اور عتیق کا معنی قدیم ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک آسمان اور زمین سے پہلے اس بیت کو بنایا گیا ‘ عتیق کا دوسرا معنی ہے آزاد ‘ اور بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو طوفان نوح میں غرق ہونے سے آزاد رکھا ‘ اور طوفان کے وقت اس کو اوپر اٹھا لیا گیا ‘ عتیق کا معنی قوی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اتنا قوی بنایا ہے کہ جو شخص اس کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اس کو خود تباہ کردیا جاتا ہے اور جو شخص اس بیت کی زیارت کے قصد سے آئے اللہ اس کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے۔

(٣) بیت اللہ کو مسجد الحرام بھی کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” سبحان الذی اسری بعبدہ لیلا من المسجد الحرام “۔ (بنی اسرائیل : ١)

ترجمہ : سبحان ہے وہ جو اپنے (مکرم) بندے کو رات کے قلیل حصہ میں مسجد حرام سے لے گیا۔

بیت اللہ کو مسجد حرام اس لیے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے اس شہر میں قتال کو حرام کردیا ہے اور یہ دائمی حرمت ہے ‘ نیز اس شہر میں شکار کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے درختوں کو اور اس کی گھاس کاٹنے کو حرام کردیا ہے ‘ اس شہر کے جانوروں کو ستانا اور پریشان کرنا حرام ہے۔ اس میں حدود کو جاری کرنا حرام ہے اور اس شہر کے یہ تمام احکام اس مسجد کی حرمت کی وجہ سے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : برکت والا اور تمام جہان والوں کی ہدایت کا سبب ہے (آل عمران : ٩٦)

کعبہ کی برکت اور ہدایت کا معنی :

برکت کا ایک معنی ہے کسی چیز کا بڑھنا اور زائد ہونا ‘ اس لحاظ سے کعبہ اس لیے برکت والا ہے کہ کعبہ میں ایک نماز کا اجر دوسری مساجد کی نسبت ایک لاکھ درجہ زیادہ ہے ‘ جیسا کہ پہلے سنن ابن ماجہ اور الاستذکار کے حوالوں سے بیان کرچکے ہیں ‘ اور کعبہ میں حج کرنے کا اجر وثواب بہت زیادہ ہے ‘

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اللہ کے لیے حج کیا اور اس میں جماع کیا نہ جماع کے متعلق کوئی بات کی اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک) لوٹے گا جس دن وہ اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا تھا۔ ( صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠٦ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے اور حج مبرور کی جزاء صرف جنت ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ٤٣٦‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حج مبرور کی صحیح اور زیادہ مشہور تعریف یہ ہے کہ اس حج کے دروان کوئی گناہ نہ کیا ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ حج کرنے کے بعد انسان پہلے سے زیادہ نیک ہوجائے اور دوبارہ گناہوں کو نہ کرے ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ جو حج ریاکاری کے لیے نہ کیا جائے ‘ تیسرا قول یہ ہے کہ جس حج کے بعد انسان گناہ نہ کرے۔

علامہ سید امین ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ نے لکھا ہے کہ حدیث میں ہے جس نے حج کیا اور جماع یا اس سے متعلق باتیں نہیں کیں اور نہ کوئی کبیرہ گناہ کیا وہ اس طرح ہوجائے گا جس طرح اس دن تھا جس دن اپنی ماں کے بطن پیدا ہوا تھا ‘ اس سے مراد ہے کہ حج کے احرام سے لے کر حج مکمل ہونے تک۔ (رد المختار ج ٢ ص ‘ ١٦١ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

برکت کا دوسرا معنی دوام اور بقاء ہے ‘ اور چونکہ روائے زمین پر ہر وقت کسی نہ کسی جگہ نما زکا وقت ہوتا ہے اس لیے ہر وقت کعبہ کی طرف توجہ کرکے عبادت کی جاتی ہے اور خود کعبہ میں بھی ہر وقت نماز پڑھی جاتی ہے اس لیے کعبہ کی طرف منہ کرکے اور خود کعبہ میں دائما عبادت کی جاتی ہے۔

کعبہ تمام ” العلمین “ کے لیے ہدایت ہے اس کی حسب ذیل وجوہ ہیں :

(١) کعبہ تمام روئے زمین کے نماز پڑھنے والوں کے لیے قبلہ ہے اور وہ اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اس لیے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے سمت قبلہ کی ہدایت ہے۔

(٢) کعبہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتا ہے اور کعبہ میں جو عجائب اور غرائب ہیں وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صدق اور آپ کی نبوت پر دلالت کرتے ہیں اس اعتبار سے کعبہ تمام جہان والوں کے لیے ہدایت ہے۔

(٣) کعبہ تمام جہان والوں کو جنت کی ہدایت دیتا ہے جو خلوص نیت سے کعبہ کی زیارت کرے ‘ کعبہ کا طواف کرے اور اس میں نمازیں پڑھے کعبہ ان کو جنت کی ہدایت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس میں واضح نشانیاں ہیں ‘ مقام ابراہیم ہے۔

کعبہ اور مقام ابراہیم کی نشانیاں :

ان نشانیوں کی تفصیل حسب ذیل ہے :

(١) اس بیت کے بیت اللہ ہونے کی واضح نشانی یہ ہے کہ یہ بیت غیر آباد بیابان میں بنایا گیا جس کے اطراف میں پھلوں کھیتوں کا نام و نشان بھی نہیں تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اس کے پاس رہنے والوں کے لیے رزق پہنچانے کا بہترین انتظام کردیا ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس شہر والوں کے لیے پھلوں کے حصول کی دعا کی تھی ‘ سو تمام دنیا کے پھل یہاں لائے جاتے ہیں اور یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی استجابت دعا کا ثمر ہے۔

(٢) اس بیت میں اس بات کی واضح نشانیاں موجود ہیں کہ یہی وہ بیت ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا بنایا ہوا تھا اسی مقام کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے بعد اپنی رہائش کے لیے منتخب فرمایا ‘ اسی کے پاس صفا اور مروہ کی وہ پہاڑیاں ہیں جن کے درمیان حضرت ہاجرہ بےقراری سے دوڑ رہی تھیں ‘ یہیں پر زمزم نام کا وہ کنواں ہے جو حضرت جبرائیل کے پر مارنے سے جاری ہوا تھا ‘ حضرت ہاجرہ نے اس بہتے ہوئے چشمہ کو روکنے کے لیے زمزم کہا تھا اسی نام سے یہ کنواں آج تک موسوم ہے ‘ اسی کے پاس منی ہے جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے لے گئے تھے ‘ یہیں پر وہ جمرات ہیں جہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شیطان کو کنکریاں ماری تھیں۔

(٣) اسی بیت کے شہر کے لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی۔

(آیت) ” واذ قال ابراہیم رب اجعل ھذا البلد امنا “۔ (ابراہیم : ٣٥)

ترجمہ : اور جب ابراہیم نے دعا کی اے میرے رب ! اس شہر کو امن والا بنا دے۔

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد پونے تین ہزار سال تک جاہلیت کے سبب تمام ملک عرب بدامنی کا شکار رہا اور اس شورش زدہ ملک میں صرف کعبہ کی سرزمین ہی ایسا حصہ تھی جس میں ہمیشہ امن رہا ‘ بلکہ اسی کعبہ کی بدولت باقی ملک عرب میں بھی چار ماہ کے لیے امن ہوجاتا تھا۔

(٤) یہ کعبہ کی ہی فیض آفرینی ہے کہ حدود حرم میں وہ جانور بھی امن سے رہتے ہیں جن کا دوسری جگہوں پر شکار کرلیا جاتا ہے ‘ بلکہ سرزمین کعبہ میں لگنے والے درخت کٹنے سے محفوظ رہتے ہیں اور حدود حرم میں مجرموں پر حد نہیں لگائی جاتی۔

(٥) جب سے بیت اللہ قائم ہوا اللہ تعالیٰ نے اس کی سرزمین کو مخالفین کے حملوں سے محفوظ رکھا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے ابرہہ نے ہاتھیوں کی فوج لے کر کعبہ پر حملہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ابابیلوں کے ذریعہ ہاتھیوں کی اس فوج کو تباہ و برباد کردیا۔

(٦) مقام ابراہیم ایک پتھر ہے جس میں ٹخنوں تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قدموں کے نشان ثبت ہیں اور یہود و نصاری کی عداوت اور بغض کے باوجود اس پتھر کا پونے تین ہزار سال سے محفوظ چلا آنا زبردست نشانی ہے۔

(٧) یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کعبہ کی تعمیر کی تھی ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حضرت ہاجرہ سے اپنا سر دھلوایا تھا ‘ دوسرا قول یہ ہے کہ اس پتھر پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے حج کا اعلان کیا تھا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 96

حسن ظن :تعمیر انسانیت اور صالح معاشرے کی بنیاد

حسن ظن :تعمیر انسانیت اور صالح معاشرے کی بنیاد

 ڈاکٹر جہاں گیر حسن مصباحی 


حسن ظن ایک ایسی خوبی ہے جس کی معنویت وافادیت سے ہم چاہ کر بھی انکارنہیں کرسکتے ،اگر ہم حسن ظن کو دل سے اپنالیں تو اِس میں دورائے نہیں کہ ہم دینی اوردنیوی ہر طرح کے اختلافات و اِتہامات سے پاک وصاف ہوجائیں،کیوں کہ حسن ظن نہ صرف مسلمانوں کا ایمانی زیورہے،بلکہ یہ آپسی ہم آہنگی،صلح ومصالحت، اتفاق و اتحاد اور معاشرت انسانی کی صلاح وفلاح کے لیے ناگزیربھی ہے۔اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے کہ’’اے ایمان والو!بہت گمانوں سے بچو،بلاشبہ بعض گمان گناہ ہیں ۔‘‘(حجرات:12)
بدگمانی سے بچنے کا واضح مطلب ہے کہ ہم خودکو حسن ظن سے آراستہ کریں ورنہ اس کا اثر یہ ہوگا کہ نہ ہم اپنے اندرپیدا ہونے والے انتشارواختلاف کو روک پائیں گے اور نہ ہی انسانی معاشرے کی صالح تعمیرکرپائیں گے ،جب کہ نفس کا تزکیہ اور معاشرے کی صالح تعمیروتشکیل ہماری دینی اور دنیوی دونوں ذمہ داری ہے،اوراِسی ذمے داری کی صحیح انجام دہی کی وجہ سے ہماری عبادتوں میں حسن اور نکھارپیداہوتاہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ’’حسن ظن بہترین عبادت ہے۔(ابوداود،باب فی حسن الظن،ح:4995)
 یہاں ایک سوال پیداہوتاہے کہ اللہ رب العزت جو بادشاہوں کا بادشاہ اور حاکموں کا حاکم ہے ،بندوں کے تمام عیوب ونقائص جانتے ہوئے بھی اُن کی عیب پوشی کرتارہتا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم عبدالستارہوکربھی اپنے کسی بھائی کی عیب پوشی نہیں کرپاتے ہیں اورحسن ظن کی تاکیدوتلقین ہونے کے باوجوداپنے بھائی کے ساتھ حسن ظن نہیں رکھ پاتے ہیں۔
اسی طرح اگرکوئی ناگواربات ہمارے بڑوںکے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ہمیں بُری لگ جاتی ہے اورہم اُسے کسی بھی طرح ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے ،لیکن وہی بات اگر کسی اورکے بڑوں کے بارے میں کہی جاتی ہے تو وہ ہمیں اچھی لگ جاتی ہے اورہم بڑی آسانی سے اُسے مان لیتے ہیں،جب کہ حسن ظن کا تقاضا یہ ہے کہ جس بات کوہم اپنے اکابرکے لیے معیوب سمجھتے ہیں اس کو ہرکسی کے اکابرکے لیے بھی معیوب سمجھیں اور جسے ہم اپنے اکابرکے لیے اچھا سمجھتے ہیں اُسے دوسروں کے اکابر کے لیے بھی اچھا سمجھیں۔
 اس کے علاوہ کبھی ایسا بھی ہوتاہے کہ فردمخالف صحیح العقیدہ مومن ہے اورپابندشریعت بھی،اس کے باوجوداگر وہ کوئی مدلل بات بھی کہتا ہے تو ہم بلاسوچے سمجھے اُس کو رَدکردیتے ہیں،جب کہ فردموافق صحیح العقیدہ مومن توہے مگرپابندشریعت نہیں،اگروہ کوئی بات کہتا ہے غیرمدلل ہی سہی ،پھربھی ہم اُسے نہ صرف خودقبول کرتے ہیں بلکہ دوسروں سے بھی قبول کروانے کے لیے پورا زور لگادیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ دینی اور دنیوی دونوں سطحوں پراختلاف وانتشار اور فتنہ وفساد کا بازارگرم ہوجاتا ہے، ایسے حالات میں حسن ظن کی معنویت واہمیت بڑھ جاتی ہے ،کیوں کہ ایسے وقت میں اگرہم حسن ظن سے کام لیتے ہیں تو نہ صرف امن وآشتی، آپسی ہم آہنگی، صلح ومصالحت اوراتحادواتفاق کو فروغ دیتے ہیں،بلکہ معاشرتی انتشارواختلاف ختم کرنے کے ساتھ ساتھ قرب الٰہی کے بھی حق دار ہوتے ہیں۔
چنانچہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاہے کہ’’اے لوگو!اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھو،کیوں کہ اللہ اپنے بندوں کے حسن ظن سے زیادہ قریب ہے۔‘‘(شعب الایمان ،باب الرضامن اللہ) یہی وجہ ہے کہ علمائے ربانی اورمشائخ کرام نے ہمیشہ حسن ظن سے کام لیا ہے اور اگرکبھی کسی سے بدگمانی ہوئی بھی تواُس کو اپنے ہی تک محدود رکھا ، کسی پر ظاہر ہونے نہیں دیا،کیوں کہ کسی سے بدگمان ہونااورپھر اس کا اظہارکرناگناہ ہے۔
 اس پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ’’بدگمانی دوطرح کی ہوتی ہیں،ایک بدگمانی گناہ ہے اور ایک بدگمانی گناہ نہیں ۔جوبدگمانی گناہ ہے وہ یہ ہے کہ کسی سے بدگمان بھی رہے اور اُس کاپروپیگنڈ ہ بھی کرے اور جوبدگمانی گناہ نہیں ہے وہ یہ ہے کہ کسی سے بدگمان تورہے لیکن اُس کاپروپیگنڈہ نہ کرے۔‘‘(ترمذی،باب ماجاء فی ظن السوء ،حدیث:1988)
اس لحاظ سے ہمیں عملی طورپر اپنااپنا محاسبہ کرناہوگا کہ ہم کہاںتک حسن ظن کے زیور سے مزین ہیں اور جس کوہم حسن ظن سمجھ رہے ہیں وہ حسن ظن ہے بھی یا نہیں۔کہیں ایسا تونہیں کہ ہم احباب واقارب کے عیوب ونقائص کو بھی اپنے حسن ظن کی وجہ سے محاسن وخوبیاں شمارکررہے ہیں اوراُن کی بڑی سے بڑی خرابیوں پر بھی پردہ ڈال رہے ہیں،اس کے برخلاف دشمنوں کے محاسن و خوبیوں کو بھی عیوب ونقائص گمان کررہے ہیں،اُن کی چھوٹی چھوٹی برائیوں کو بھی بڑا کرکے بیان کررہے ہیں اورمزہ لیلیکر اُس کا پروپیگنڈہ بھی کررہے ہیں،اگرایسا ہے توجان لیں کہ ہم حسن ظن سے کوسوں دور ہیں۔
 (ایڈیٹر ماہنامہ خضرراہ،الہ آباد)


تعلیم نسواں کی اہمیت

تعلیم نسواں کی اہمیت

 بنت فضل بیگ مہر  Tahaffuz, July 2008

ہر قوم کی تعمیر و ترقی کا انحصار اس کی تعلیم پر ہوتا ہے۔ تعلیم ہی قوم کے احساس وشعور کو نکھارتی ہے اور نئی نسل کو زندگی گزارنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان کسی صفت و کمال سے وہ دل کی صفائی‘ فراخی اور وسعت حاصل نہیں کرسکتا جو علم کی بدولت حاصل کرنے میںکامیاب ہوجاتا ہے۔

تعلیم ایک ایسا عمل ہے جو تخلیق انسانی کے ظہور سے شروع ہوا۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کو تمام مفید انسانی علوم کی تعلیم فرمائی۔ پھر یہ علوم نسل انسانی میں منتقل ہوتے رہے اور آج علوم کی بے شمار شاخیں ہیں۔

علم کی افادیت قرآن و حدیث سے بھی ثابت ہے۔ سورہ مجادلہ آیت نمبر ۱۱ میں اﷲ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جنہیں علم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔

اﷲ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا (ترجمہ کنزالایمان)

سورہ زمر آیت ۹ میں علم والوں کی فضیلت کا کچھ اس طرح سے بیان ہے:

تم فرمائو کیا برابر ہیں جاننے والے اور انجان‘ نصیحت تو وہی مانتے ہیں جو عقل والے ہیں (ترجمہ کنزالایمان)

سرکار مدینہﷺ نے فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جو کوئی طالب علم کبھی عالم کے دروازے پر علم سیکھنے کے لئے آمدورفت رکھتا ہے اس کے ہر قدم پر ایک ایک سال کی عبادت لکھ دی جاتی ہے اور ہر ہر قدم کے بدلے میں جنت میں اس کے لئے ایک ایک شہر آباد کردیا جاتا ہے اور جس زمین پر چلتا ہے وہ زمین اس کے لئے استغفار کرتی ہے (نزہتہ المجالس)

مسلمان کے لئے علم ایک عظیم تر نعمت ہے بس مومن کی شان یہ ہے کہ وہ ہر وقت اپنے علم میں اضافہ کرنے کی ہرممکن کوشش کرتا رہے۔ زندگی کے جس حصے میں چاہے بچپن کے ایام ہوں یا جوابی کاد ور ہو یا بڑھاپے کی سرحدیں عبور کررہا ہو‘ پس جہاں سے اور جب اسے علم دین ملے تو اسے اپنی گمشدہ نعمت سمجھ کر حاصل کرے کہ علم جتنا زیادہ ہوگا اتنا ہی اس کے درجات بڑھتے جائیں گے اور دنیا و آخرت میں اس کی فلاح و بہبود اور ترقی کے دروازے کھلتے جائیں گے۔

الغرض کہ علم ایسی چیز نہیں جس کی فضیلت اور خوبیوں کے بیان کرنے کی حاجت ہو۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ علم ایک بہت بہتر چیز ہے۔ ایک لازوال دولت ہے اور اﷲ عزوجل کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا حاصل کرنا وجہ امتیاز و فضیلت و شرف اور سعادت مندی ہے۔ یہی وہ چیز ہے کہ اس سے انسانی زندگی کامیاب اور خوشگوار ہوتی ہے اور اسی سے دنیا و آخرت سنورتی ہے۔

حضرت امام غزالی رحمتہ اﷲ علیہ کا فرمان ہے ’’تعلیم کا مقصد صرف نوجوان نسل کی پیاس بجھانا نہیں بلکہ ساتھ ہی ان میں اخلاقی کردار اور اجتماعی زندگی کے اوصاف نکھارنے کا احساس بھی پیدا کرنا ہے‘‘

آج ہم پستی کی طرف جارہے ہیں اور زوال کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل علم کی عطا کردہ بصیرت اور لذت سے محروم ہے۔ علم کے نتیجے میں نیک و بد اور خوب و ناخوبکی جو تمیز پیدا ہونی چاہئے‘ اس کا بھی فقدان ہے۔ اخلاق و کردار کے لحاظ سے تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ میں فرق کرنا مشکل ہے۔ غرض یہ کہ علم جو اعتماد قوت عملی اور اخلاق پیدا کرتاہے اس سے ہماری نئی نسل عاری نظرآتی ہے۔ اس حقیقت کا احساس عام ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم اپنی افادیت کھو چکی ہے اور ہمارے معاشی اور معاشرتی تقاضوں سے تعلیم کا کوئی ربط و رشتہ باقی نہیں رہ گیا۔ اس طرح ہمارا سارا معاشرہ اپنی اقدار سمیت شکست کا شکار ہوگیا ہے۔ یہ ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

اس کے علاوہ آج ہمارے معاشرے میں عورت کی تعلیم پر زیادہ توجہ نہیں دی جاتی جبکہ حدیث مبارک میں ہے کہ :

حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ معلم کائنات سرکار دو عالمﷺ نے ارشاد فرمایا:

طالب العلم فریضتہ علی کل مسلم

یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان (مردو عورت) پر فرض ہے۔

معلوم ہوا کہ مرد کی طرح عورت پر بھی علم کا حصول فرض ہے۔ خواتین پردے میں رہتے ہوئے کسی بھی سطح تک تعلیم حاصل کرسکتی ہیں۔ اسلام نے انہیں تعلیم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا۔ لیکن حدود توڑنے کی صورت میں بغاوت کے زمرے میں آئیں گی۔

معاشرے کو سنوارنے یا بگاڑنے میں عورت کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ اسلام نے دنیا کو بتایا کہ جس طرح مرد اپنا مقصد وجود رکھتا ہے اسی طرح عورت کی تخلیق کی بھی ایک غائیت ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ معاشرے کی تشکیل صرف مرد تک ہی محدود نہیں بلکہ عورت بھی اس میں برابر کی حقدار ہے۔

عورت پر گھریلو ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عورت کے لئے امور خانہ داری کے علاوہ دنیا کے باقی کام ممنوع ہیں۔ بلکہ خانگی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد وہ اپنے ذوق اور رجحان کے لحاظ سے علمی‘ ادبی اور اصلاحی کاموں میںحصہ لے سکتی ہے۔ مسلمان عورت ڈاکٹر‘ پروفیسر‘ انجینئر‘ عالمہ‘ مورخ‘شاعرہ‘ ادیبہ اور محقق وغیرہ سب کچھ ہوسکتی ہے کیونکہ ایک خود مختار فرد کی حیثیت سے اس کا یہ پیدائشی ورثہ ہے۔

دین اسلام نے واضح طور پر بتادیا ہے کہ مرد اور عورت کی تخلیقی بنیاد ایک ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی فضیلت انسانی کا ذکر آیا ہے اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں۔ تقویٰ اور آخرت کی فلاح کا جو معیار مرد کے لئے مقرر کیا گیا ہے‘ وہی عورت کے لئے ہے۔ ہمارا دین عورت کو گھر کی چار دیواری میں اس طرح قید نہیں کرتا کہ وہ اپنی ضروریات کیلئے دوسروں کی دست نگر رہے۔ نبی  اکرمﷺ نے فرمایا:

بے شک تمہیں اﷲ نے گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے اپنی ضروریات کے حصول کے لئے

اسلام کے عظیم احسانات میں سے عورت کو جس قدر حصہ ملا ہے‘ اس کی مثال دنیائے تاریخ میں نہیں ملتی اور اسی طرح تعلیمات نبویﷺ پر عمل کرتے ہوئے جو کارنامے معزز محترم خواتین نے انجام دیئے ان سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا۔

آیئے عورت کی تعلیم کے حوالے سے اس عظیم ہستی کا ذکر خیر کرتے ہیں کہ جنہوں نے شجاعت و بہادری جذبہ عبادت‘ بندگی‘ علمی خدمات میں اپنی مثال قائم کردی ہے۔ ہر میدان علم و عمل میں ان کی شہرت کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

وہ عظیم ہستی ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اﷲ عنہا ہیں۔ انہیں قرآن کریم کی پہلی حافظہ کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ بلند پایہ محدثہ تھیں ۔ تقریبا ۲۲۱۰ احادیث مبارکہ کی حافظہ بھی تھیں اور ہزاروں صحابہ کرام علیہم الرضوان کی استاد بھی تھیں۔ دین کا 1/3 حصہ انہیں کی بدولت ہم تک پہنچا۔ خلافت فاروقی میں اہم معاملات میں ان کی رائے کو فضیلت دی جاتی تھی۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ہر قسم کے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ الشعری فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں کو کوئی مشکل ایسی نہیں نہ آئی جس کا علم حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کے پاس نہ ہو۔ حضرت عروہ بن زبیر کا قول ہے کہ میں نے قرآن‘ حدیث‘ فقہ‘ تاریخ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہ سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا۔

کتب سیرت میں متعدد روایتیں ملتی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کو دینی علوم کے علاوہ طب‘ تاریخ اور شعر و ادب میں بھی دسترس حاصل تھی۔

مگر افسوس کہ آج مسلم خواتین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ نہ اسلام کا جوش ہے‘ نہ ایمان کا جذبہ ہے اور نہ ہی علم حاصل کرنے کی لگن ہے۔ انہیں تو بس نت نئے فیشن اپنانے کا شوق ہے۔ اور دنیا کی حرص و ہوس ہے۔ یہ سب علم  سے دوری اور احکام شریعت سے لاعلمی کی وجہ سے ہے۔

آج ہمارے معاشرے کے وہ والدین جو اپنے لڑکوں کی تعلیم پر زیادہ توجہ دیتے ہیں لیکن لڑکیوں پر توجہ نہیں دیتے‘ انہیں چاہئے کہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا کی مقدس زندگی سے درس حاصل کرتے ہوئے لڑکیوں کو بھی علم کی راہوں سے روشناس کروائیں۔

یاد رہے کہ جس قوم کی بیٹی پڑھی لکھی ہوتی ہے اس قوم کی اخلاقی بنیادیں بھی مضبوط ہوتی ہے۔