اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ‌ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 155

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ تَوَلَّوۡا مِنۡكُمۡ يَوۡمَ الۡتَقَى الۡجَمۡعٰنِۙ اِنَّمَا اسۡتَزَلَّهُمُ الشَّيۡطٰنُ بِبَعۡضِ مَا كَسَبُوۡا ‌ۚ وَلَقَدۡ عَفَا اللّٰهُ عَنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ حَلِيۡمٌ

ترجمہ:

بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں اس دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی اور یقینا اللہ نے ان کو معاف کردیا ‘ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑے حلم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں۔ اس دن جو لوگ تم سے پھرگئے تھے ‘ ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی ‘ بیشک اللہ نے ان کو معاف کردیا بیشک اللہ بہت بخشنے والا بڑا حلم والا ہے (آل عمران : ١٥٥) 

جنگ احد میں بھاگنے والے مسلمانوں کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض اصحاب جنگ احد کے دن مشرکین کے مقابلہ سے بھاگ گئے ‘ اس لغزش کی وجہ سے شیطان کا بہکانا تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس لغزش کو معاف کردیا۔ اب اس میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں ‘ بعض نے کہا اس سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اس دن مشرکین کے مقابلہ سے بھاگ گیا تھا 

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد جنگ احد کے دن قتال سے بھاگنے والے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اصحاب ہیں، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے اور یہ عمل شیطان کے بہکانے اور اس کے ڈرانے کی وجہ سے ہوا تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے درگذر فرمایا اور ان کو معاف کردیا۔ 

دوسرا قول یہ ہے اس آیت سے خاص لوگ مراد ہیں جو جنگ احد میں پیٹھ موڑ کر بھاگ گئے تھے ‘ امام ابن جریر روایت کرتے ہیں : 

عکرمہ بیان کرتے ہیں یہ آیت رافع بن معلی ‘ دیگر انصار ‘ ابوحذیفہ بن عتبہ اور ایک اور شخص کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ 

ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان ‘ حضرت عقبہ بن عثمان (رض) ‘ حضرت سعد بن عثمان (رض) اور دو انصاری جنگ احد کے دن بھاگ گئے حتی کہ وہ مدینہ کی ایک جانب جلعب نامی پہاڑ کے پاس پہنچ گئے ‘ پھر تین دن کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ نے ان سے فرمایا تم بہت دور چلے گئے تھے۔ 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا کیونکہ ان کو کوئی سزا نہیں دی۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٩٦‘ مطبوعہ بیروت) 

جنگ احد میں بھاگنے کی وجہ سے حضرت عثمان پر طعن کا جواب : 

امام ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٠ ھ روایت کرتے ہیں :

غیلان بن جریر بیان کرتے ہے حضرت عثمان بن عفان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے درمیان بحث ہوئی ‘ حضرت عبدالرحمان نے کہا تم مجھے برا کہتے ہو ‘ حالانکہ میں جنگ بدر میں حاضر ہوا اور تم حاضر نہیں ہوئے اور میں نے درخت کے نیچے بیعت (رضوان) کی اور تم نے نہیں کی اور تم جنگ احد کے دن لوگوں کے ساتھ بھاگ گئے تھے حضرت عثمان نے فرمایا جنگ بدر میں حاضر نہ ہونے کا جواب یہ ہے کہ میں کسی غزوہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے غائب نہیں رہا ‘ البتہ غزوہ بدر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی بیمار تھیں ‘ اور میں ان کی تیمارداری میں مشغول تھا ‘ اور رسول اللہ نے بدر کے مال غنیمت سے مجھے بھی اتنا ہی حصہ دیا تھا جتنا آپ نے دوسرے مسلمانوں کو حصہ دیا تھا اور رہا درخت کے نیچے بیعت کا معاملہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے مکہ میں مشرکین سے بات کرنے کے لیے بھیجا تھا ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنا دایاں ہاتھ میرے اپنے دائیں اور بائیں دونوں ہاتھوں سے بہتر ہے اور رہا جنگ احد میں بھاگنے کا سوال تو اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور یہ آیت نازل فرمائی : بیشک جس دن دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل ہوئی تھیں اس دن جو لوگ تم میں سے پھرگئے تھے ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کو لغزش دی تھی ‘ بیشک اللہ نے ان کو معاف کردیا۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٣١٠‘ مطبوعہ دار الباز مکہ مکرمہ ١٤١٣ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عثمان بن موھب بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حج بیت اللہ کرنے کے لیے آیا۔ اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے ہوئے دیکھا اس نے پوچھا یہ کون لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ؟ لوگوں نے کہا یہ قریش ہیں ‘ پوچھا یہ بوڑھا آدمی کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت ابن عمر (رض) ہیں ‘ اس نے کہا میں آپ سے سوال کرتا ہوں کیا آپ مجھے اس کا جواب دیں گے ؟ میں آپ کو اس بیت اللہ کی حرمت کی قسم دے کر سوال کرتا ہوں کیا آپ کو معلوم ہے کہ حضرت عثمان بن عفان جنگ احد کے دن بھاگ گئے تھے ؟ حضرت ابن عمر (رض) نے کہا ہاں ! اس سے کہا کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ غزوہ بدر میں بھی حاضر نہیں ہوئے تھے ؟ حضرت ابن عمر نے کہا ہاں ! اس نے نعرہ لگایا اللہ اکبر ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے کہا تم نے جن چیزوں کے متعلق سوال کیا تھا اب میں تم کو ان کی وجوہات بیان کرتا ہوں رہا جنگ احد میں بھاگنے کا معاملہ تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ نے اس کو معاف کردیا ‘ اور رہا غزوہ بدر میں غیرحاضر رہنا ‘ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صاحبزادی (حضرت رقیہ (رض) ان کے نکاح میں تھیں ‘ (وہ ان کی تیمارداری کر رہے تھے) اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا تم کو بدر میں حاضر ہونے والے مسلمانوں اجر اور مال غنیمت ملے گا اور رہا بیعت رضوان سے غائب ہونے کا معاملہ تو یہ بیعت اس وقت ہوئی تھی جب حضرت عثمان (رض) مکہ جا چکے تھے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دائیں ہاتھ کے متعلق فرمایا یہ عثمان کا ہاتھ ہے ‘ پھر اس کو اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا ‘ اور فرمایا یہ عثمان کی بیعت ہے۔ پھر حضرت ابن عمر (رض) نے اس شخص سے فرمایا تم نے یہ جوابات سن لیے اب جہاں جانا چاہو چلے جاؤ۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٨٢۔ ٥٨١‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

جنگ احد میں مسلمانوں کی جس خطاء کی وجہ سے شیطان نے ان کو لغزش دی۔

اس آیت میں مذکور ہے : ان کے بعض کاموں کی وجہ سے شیطان ہی نے ان کے قدموں کو لغزش دی تھی۔ 

ان کے وہ کون سے کام تھے جن کی وجہ سے شیطان نے ان کو لغزش دی تھی ؟ اس کی کئی تفسیریں ہیں : ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے مرکز کو ترک کرنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کی ‘ اور مال غنیمت لوٹنے کے لیے دوڑ پڑے ‘ حسن نے کہا انہوں نے شیطان کے وسوسوں کو قبول کرلیا دوسرا قول یہ ہے کہ کہ دشمن سے شکست کھا جانا معصیت نہیں تھا ‘ لیکن جب انہوں نے سنا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے تو وہ مدینہ کی حفاظت کے لیے شہر میں چلے گئے تاکہ دشمن اپنے عزائم میں کامیاب نہ ہو ‘ ایک قول یہ ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پکار رہے تھے تو انہوں نے خوف اور ہراس کے غلبہ کی وجہ سے آپ کی پکار کو نہیں سنا ‘ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دشمن کی تعداد ان سے کئی گنا زیادہ تھی کیونکہ وہ سات سو تھے اور دشمن تین ہزار تھا اور ان حالات میں شکست کھاجانا بعید نہیں ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ بھاگ جانا ایسی خطاء ہے جو جائز نہیں ہے اور ہوسکتا ہے کہ انہوں نے یہ سوچا ہو کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی احد پہاڑ کی کسی جانب نکل گئے ہیں۔ 

معلوم یہ ہوتا ہے کہ دشمن کے اچانک پلٹ کر آنے اور اس کے زبردست دباؤ کی وجہ سے ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ بےسوچے سمجھے بھاگ پڑے۔ بہرحال یہ خطاء کسی وجہ سے بھی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا اور سنن ابن ماجہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ جو شخص اپنے گناہ سے تائب ہوجائے وہ اس کی مثل ہے جس نے کوئی گناہ نہیں کیا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی کا اعلان کردیا تو اب کسی شخص کے لیے ان پر اعتراض کرنا جائز نہیں ہے ‘ صحابہ کرام (رض) میں جو باہمی اختلافات تھے اور اس کی وجہ سے جو ان میں جنگیں ہوئیں۔ ہو سب اجتہادی امور پر مبنی تھیں ‘ حضرت علی (رض) اور ان کے رفقاء کا گروہ اپنے اجتہاد میں حق پر تھا ان کو دو اجر ملیں گے اور حضرت معاوی اور ان کی جماعت کو اجتہاد میں خطاء لاحق ہوئی ‘ ان کو ایک اجر ملے گا ‘ ان میں سے کسی فریق پر بھی طعن کرنا جائز نہیں ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ سے عاقبت حسنی کا وعدہ فرمایا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 155

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآٮِٕفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآٮِٕفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 154

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآٮِٕفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآٮِٕفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

ترجمہ:

پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی اور دوسری جماعت (منافقوں کی) اپنی جانوں کے متعلق پریشانیوں میں مبتلا تھی وہ اللہ کے متعلق زمانہ جاہلیت کی طرح ناحق بدگمانی کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہیے بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا اختیار ہے وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے تھے جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے آپ کہیے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے، اور (یہ اس لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرکے مسلمانوں کا سو جانا اور منافقوں کا پریشانی سے جاگتے رہنا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سدی بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مشرکین واپس جانے لگے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم اگلے سال بدر میں مقابلہ کریں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکے پیچھے ایک شخص کو بھیجا دیکھو کہ یہ اپنے گھوڑوں پر بیٹھ گئے ہیں اور سازوسامان ایک طرف رکھ دیا ہے تو پھر مدینہ پر چڑھائی کے لیے آرہے ہیں ‘ تب تم اللہ سے ڈرو ‘ اور صبر کرو اور جنگ کی تیاری کرو ‘ جب اس قاصد نے یہ دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سازو سامان پر بیٹھ گئے ہیں تو وہ تیزی سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے انکے جانے کی خبر دی ‘ جب مسلمانوں کو اس خبر کا علم ہوا تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور وہ بےفکر ہو کر سو گئے اور منافق جاگتے رہے انہیں یہ خطرہ تھا کہ کفار پھر آکر حملہ کردیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دے دی تھی کہ جب وہ اپنے سازوسامان پر سوار ہوں گے تو واپس چلے جائیں اس لیے مسلمان بےفکر ہو کر سو گئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی۔ 

حضرت ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر اونگھ طاری ہوگئی تھی میرے ہاتھ سے تلوار بار بار گر جاتی تھی۔ 

حضرت ابوطلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے نیند سے جھونٹے کھا رہا تھا نیز حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر اونگھ طاری ہو رہی تھی میرے ایک ہاتھ سے تلوار گر جاتی تو میں دوسرے ہاتھ میں اٹھا لیتا ‘ ادھر منافقین کو اپنی جانوں کا خطرہ لگا ہوا تھا وہ زمانہ جاہلیت کیطرح اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں کر رہے تھے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بدگمانیوں کا حال بیان فرمایا : وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہئے کہ بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا ختیار ہے ‘ اور وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا کوئی اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کیے جاتے ‘ وہ زمانہ جاہلیت کی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانیاں کر رہے تھے۔ یعنی وہ تقدیر انکار کر رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں ‘ یعنی اچھی اور بری ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے وابستہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے آزمانے کا معنی : 

وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے یعنی وہ شرک ‘ کفر اور تکذیب کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے ‘ وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاںٗ قتل نہ کیے جاتے ‘ یعنی وہ کہتے تھے کہ اگر ہماری عقل حاضر ہوتی تو ہم اہل مکہ سے قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے بڑے بڑے سردار قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہئے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ 

اور یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے ‘ یعنی اللہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے ‘ تاکہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ بطور غیب جانتا تھا ان کا ظہور بہ طور مشاہدہ ہوجائے یا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو مشاہد کرائے ‘ کیونکہ حقیقۃ آزمانا اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہے کیونکہ آزماتا وہ شخص ہے جو نتیجہ اور انجام سے بیخبر ہو اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اللہ تعالیٰ نے تم پر جنگ اور قتال کو فرض کیا اور جنگ احد میں تمہاری مدد نہیں کی ‘ تاکہ تمہارے صبر کو آزمائے اور جب تم اخلاص سے توبہ کرو تو تمہارے گناہوں کو مٹا دے۔ اس آیت میں بھی آزمانے یہی معنی ہے کہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کسی دل میں کیا خیر ہے اور کیا شر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 154

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَرُدُّوۡكُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 149

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تُطِيۡعُوا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يَرُدُّوۡكُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ فَتَـنۡقَلِبُوۡا خٰسِرِيۡنَ

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اگر تم نے کفار کا کہنا مان لیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں لوٹا دیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے

تفسیر:

دینی معاملات میں کفار کی اطاعت سے ممانعت : 

اس سے پہلی امتوں میں اللہ تعالیٰ نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے متبعین کے آثار صالحہ پر چلنے کی تلقین فرمائی تھی اور اس آیت میں مشرکین عرب اور کفار کی پیروی کرنے سے منع فرمایا ہے ‘ کیونکہ جب جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی تو منافقوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اب جا کر ابوسفیان سے امان حاصل کرنی چاہیے اور بعض نے کہا اب تم اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جاؤ اللہ تعالیٰ نے ان کے رد اور مذمت میں یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! اگر تم نے کافروں کا کہا مان لیا تو وہ تم کو الٹے پاؤں لوٹا دیں گے اور تم نقصان اٹھانے والے ہوجاؤ گے ‘ ہرچند کہ یہ آیت خاص موقع اور خاص سبب کے متعلق نازل ہوئی اور ان کا مورد جنگ احد کے خاص واقعات ہیں لیکن اس کا حکم عام ہے ‘ اور مسلمانوں کو اپنے دین اور اپنے مذہبی معمولات کے خلاف کفار کی کسی بات کو نہیں ماننا چاہیے اور اپنے دین اور مذہب کے خلاف ان کی اطاعت کرنا دین اور دنیا کا فساد مول لینا ہے۔ 

اللہ کے سوا کسی اور کی خدائی پر دلیل کا نہ ہونا۔ 

جنگ احد میں جب ابوسفیان اور اس کے رفقاء دیگر مشرکین مسلمانوں کو شکست دے کر لوٹ گئے اور مکہ کی جانب لگے تو کچھ مسافت طے کرنے کے بعد وہ نادم ہوئے اور کہنے لگے ‘ یہ ہم نے کیا کیا ‘ ہم نے ان سے جنگ کی اور جب تھوڑے سے مسلمان باقی بچ گئے تو ہم لوٹ آئے ‘ واپس چلو ہمارے لیے یہ نادر موقع ہے کہ ہم مسلمانوں کو جڑ سے اکھاڑ دیں ‘ جب انہوں نے واپسی کا عزم کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور وہ اپنا ارادہ پورا کیے بغیر مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیا اور وہ اپنا ارادہ پورا کیے بغیر مکہ واپس چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس احسان کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا : ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب ڈال دیں گے کیونکہ انہوں نے اللہ کے ساتھ اس چیز کو شریک کیا ہے جس کی اس نے کوئی سند نازل نہیں کی۔ 

سلطان کا معنی حجت ‘ بیان ‘ عذر اور برہان ہے ‘ والی کو سلطان اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ زمین پر اللہ عزوجل کی حجت ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ لفظ سلیط سے بنا ہے سلیط تلوں کے تیل کو کہتے ہیں جس سے چراغ روشن کیا جاتا ہے اور حق کو ظاہر کرنے اور باطل کو مٹانے کے لیے بھی سلطان سے روشنی حاصل کی جاتی ہے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ سلیط کا معنی لوہا ہے اور سلاطتہ حدت کو کہتے ہیں اور سلیط کا معنی قہر ہیں۔ اس میں نون زائد ہے اور سلطان کا معنی قوت ہے کیونکہ وہ اپنی قوت سے حکومت کو قائم کرتا ہے اور اپنے احکام جاری کرتا ہے اس آیت کا معنی یہ ہے کہ بتوں کی عبادت کرنا کسی ملت میں بھی جائز نہیں رہا اور نہ عقل اس کو جائز قرار دیتی ہے ‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ عقائد میں تقلید کرنا جائز نہیں ہے ‘ جو چیز بغیر کسی دلیل کے محض رائے اور نفسانی خواہش پر مبنی ہو اس پر عمل کرنا جائز نہیں ہے ‘ مشرکین ایک سے زیادہ عبادت کے مستحق مانتے تھے اور بغیر دلیل کے ان کی عبادت کرتے تھے ‘ بہ فرض محال اگر دو خدا ہوتے تو وہ اپنی خدائی پر کوئی دلیل نازل کرتے اور کوئی حجت اتارتے اور جب اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور خدا کی خدائی پر کوئی دلیل نہیں پائی گئی تو معلوم ہوا اور اس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے اگر کوئی اور خدا ہوتا تو وہ ضرور کوئی دلیل بھیجتا ‘ اس لیے بغیر کسی دلیل کے اللہ کے سوا کسی اور کو خدا ماننا اور اس کی عبادت کرنا شرک اور باطل ہے اور ان مشرکوں کا آخری ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے۔ 

جنگ احد میں مسلمانوں کی پسائی کا بیان : 

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جنگ احد کے بعد مدینہ لوٹ آئے جب کہ اس جنگ میں ستر مسلمان شہید ہوچکے تھے اور بہت سے مسلمان زخمی ہوگئے تھے ‘ اس وقت بعض مسلمانوں نے کہا ہم کو یہ شکست کیسے ہوگئی ہم سے تو اللہ نے مدد کا وعدہ فرمایا تھا ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی : اور بیشک اللہ نے تم سے یا ہوا وعدہ سچا کردیا جب تم (ابتداء میں) اس کے اذن سے ان کافروں کو قتل کر رہے تھے۔ کیونکہ جنگ احد کے شروع میں مسلمانوں کو فتح حاصل ہوگئی تھی ‘ کافر بھاگ گئے اور مسلمان ان کا مال غنیمت لوٹنے لگے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ کی پشت پر پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ متعین کردیا تھا اور فرمایا تھا کہ فتح ہو یا شکست تم اس جگہ سے نہ ہٹنا ‘ جب ان تیراندازوں نے مسلمانوں کو مال غنیمت لوٹتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا ہم بھی جا کر مال غنیمت لوٹتے ہیں ان کے سردار حضرت عبداللہ بن جبیر بن مطعم نے ان کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرحال میں یہیں قائم رہنے کا حکم دیا ہے لیکن دو چار کے سوا کسی نے ان کی بات نہ مانی اور جب یہ مورچہ خالی ہوگیا تو یکایک پیچھے سے آکر خالد بن ولید کی قیادت میں مشرکوں نے حملہ کیا ‘ مسلمان مال غنیمت لوٹ رہے تھے کہ اچانک ان کے سروں پر تلواریں برسنے لگیں وہ گھبرا کر افراتفری میں بھاگے ‘ اور یوں اللہ کی دی ہوئی فتح کو مسلمانوں نے باہمی اختلاف اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نافرمانی سے شکست میں بدل دیا ‘ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان ہی واقعات کا نقشہ کھینچا ہے فرماتا ہے : حتی کہ جب تم نے بزدلی دکھائی اور (رسول اللہ کا) حکم ماننے میں اختلاف کیا ‘ اور اپنی پسندیدہ چیزوں (مال غنیمت) دیکھنے کے بعد تم نے (رسول اللہ کی) نافرمانی کی تم میں سے بعض دنیا کا ارادہ کر رہے تھے (جو اپنی ڈیوٹی چھوڑکر مال غنیمت کے پیچھے دوڑے) اور بعض آخرت کا ارادہ کر رہے تھے (جو اپنی ڈیوٹی پر قائم رہے اور وہی کفار سے مدافعت کرتے ہوئے شہید ہو گیے) اللہ تعالیٰ نے فرمایا نے فرمایا پھر اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سے پھیرلیا تاکہ وہ تمہیں آزمائش میں ڈالے۔ (آل عمران : ١٥٢) اس آیت کی کئی تفسیریں ہیں : 

” اللہ نے تم کو ان سے پھیر دیا “ کی تفسیریں۔

(١) احد پہاڑ کی پشت پر جو تیر انداز مقرر کیے گئے تھے ان کے دو گروہ ہوگئے تھے۔ ایک مال غنیمت کے پیچھے دوڑ پڑا تھا ‘ اور ایک گروہ اپنی جگہ قائم رہا تھا ‘ پھر جو گروہ اپنی جگہ قائم رہا دشمن کی چڑھائی کے بعد اگر وہ اسی طرح قائم رہتا تو دشمن ان کو قتل کردیتا اور وہ بغیر کسی مقصد اور فائدہ اور فائدہ کے قتل ہوجاتے ‘ اس لیے ان کے لیے یہ جائز ہوا کہ وہ اس جگہ سے کسی اور مناسب مورچہ پر چلے جائیں اور وہاں ان کو جہاد کرنے کا اور باقی پر ایک محفوظ جگہ چلے گئے تھے ‘ اسی طرح وہ مسلمان بھی ایک محفوظ جگہ چلے گئے اور وہاں ان کو جہاد کرنے کا اور باقی مسلمانوں کی طرف سے مدافعت کرنے کا حکم دیا اس لیے فرمایا پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیرلیا تاکہ وہ تم کو آزمائش میں ڈالے ‘ اور جو صحابہ مال غنیمت لوٹنے چلے گئے تھے ان کے متعلق فرمایا : اور بیشک اس نے تم کو معاف کردیا اور اللہ ایمان والوں پر بہت فضل کرنے والا ہے۔ 

(٢) اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب ڈال دیا تھا لیکن جب مسلمانوں کا ایک گروہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف مال غنیمت لوٹنے کے لیے بھاگا تو اللہ تعالیٰ نے بطور سزا مسلمانوں کا رعب کفار کے دلوں سے زائل کردیا اس لیے فرمایا : پھر اللہ نے تم کو ان سے پھیرلیا ‘ اور اس چیز کو مسلمانوں کے لیے آزمائش بنا دیاتا کہ وہ اللہ سے توبہ کریں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کی مخالفت کرنے سے استغفار کریں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کردیا۔

(٣) اللہ تعالیٰ نے تم کو ان سے پھیر دیا۔ اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے تم کو فورا ان پر دوبارہ حملہ کرنے کا حکم نہیں دیا تاکہ اس تخفیف کے ذیریعہ تم کو آزمائش میں ڈالے اور یہ ظاہر فرمائے کہ تم میں سے کتنے لوگ دوبارہ جہاد میں ثابت قدم رہتے ہیں اور اس بار جو تم سے چوک ہوگئی اس کو اللہ نے معاف کردیا۔ 

(٤) ” اللہ نے تم کو ان سے پھیر دیا “ اس کا معنی یہ ہے تم کفار پر غلبہ پاچکے تھے لیکن جب تم نے نافرمانی کی اور بزدلی دکھائی تو اللہ نے تم کو شکست میں مبتلا کر کے تم کو ان سے پھیر دیا یعنی تمہارے غلبہ کو ان سے پھیر دیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور بیشک اس نے تم کو معاف کردیا ‘ یعنی اس حکم عدولی کی سزا میں تم کو بالکل نیست ونابود نہیں کیا اور تمہاری اس لغزش کو معاف کردیا ‘ جہاد میں پیٹھ موڑ کو بھاگنا گناہ کبیرہ ہے اور یہاں اس گناہ کبیرہ پر مسلمانوں کے معافی مانگنے کا ذکر نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے بغیرتوبہ اور استغفار کے مسلمانوں کے اس گناہ کو معاف کردیا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کا ذکر فرمایا کہ اللہ ایمان والوں پر بہت فضل کرنے والا ہے۔ 

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کے بھی گناہ کبیرہ کو معاف کردیتا ہے اور یہی اہل سنت و جماعت کا مذہب ہے اس کے برخلاف خوارج اور معتزلہ کے نزدیک بغیر توبہ کے گناہ کبیرہ معاف نہیں ہوتا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جب تم چڑھتے جارہے تھے اور کسی کو پیٹھ پھیر کر نہیں دیکھ رہے تھے اور رسول تمہاری پچھلی جماعت میں کھڑے ہوئے تم کو بلا رہے تھے تو اللہ نے تمہیں غم بالائے غم میں مبتلا کیا تاکہ (مال غنیمت سے) محرومی اور اس (شکست) کی مصیبت پر تم غم زدہ نہ ہو ‘ اور اللہ تمہارے کاموں کی خبر رکھنے والا ہے۔ 

مسلمانوں کو غم اٹھانے اور مصائب برداشت کرنے کا عادی بنانا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حسن بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد میں جب مسلمان دشمن سے شکست کھا گئے تو وہ وادی میں بگٹٹ بھاگتے ہوئے جا رہے تھے۔ 

قتادہ بیان کرتے ہیں جنگ احد کے دن مسلمان وادی میں بھاگے جارہے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ اللہ کے بندو میری طرف آؤ۔ 

سدی بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب مشرکوں نے مسلمانوں پر شدت سے دباؤ ڈالا اور ان کو شکست دے دی تو بعض مسلمان مدینہ چلے گئے ‘ اور بعض پہاڑ پر چڑھ کر ایک چٹان کی اوٹ میں ہوگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے اللہ کے بندو میری طرف آؤ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے پہاڑ پر چڑھنے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان کو بلانے کا ذکر کیا ہے۔ 

جس طرح کسی بڑی مصیبت کو دیکھ کر چھوٹی مصیبت کا غم جاتا رہتا ہے ‘ اسی مسلمان مال غنیمت سے محرومی اور شکست پر غم زدہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے غم میں مبتلا کیا تاکہ اس بڑے غم کے مقابلہ میں یہ چھوٹا غم جاتا رہے اس بڑے غم کی کئی تفسیرین کی گئی ہیں ‘ امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ اس دن سب سے بڑا غم یہ تھا کہ یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے اور دوسرا غم یہ تھا کہ ستر صحابہ شہید ہوگئے تھے۔ ٦٦ انصار اور ٤ مہاجرین اور بہت سارے صحابہ زخمی ہوگئے تھے۔ 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ ایک غم یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی تھی اور دوسرا غم یہ تھا کہ کافروں نے پلٹ کر حملہ کیا اور مسلمان اس اچانک یلغار سے گھبرا کر بھاگ پڑے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٨٩۔ ٨٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت کی یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکم عدولی کر کے جو آپ کو غم پہنچایا تھا اس کی سزا میں انہیں جنگ احد میں شکست اور اپنے احباب کے قتل اور ان کے زخمی ہونے کا غم اٹھانا پڑا ‘ تاکہ مسلمان غم اٹھانے اور مصیبت برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں اور مستقبل میں پھر کبھی کسی مصیبت اور محرومی سے غم زدہ نہ ہوں۔ 

دوسری تفسیر یہ ہے کہ جنگ بدر میں جو مشرکین کو غم اٹھانا پڑا تھا اس کے مقابلہ میں جنگ احد میں مسلمانوں کو غم اٹھانا پڑا تاکہ مسلمانوں کی توجہ دنیا سے منقطع ہوجائے ‘ وہ دنیا کے ملنے سے خوش ہوں ‘ نہ دنیا کے جاتے رہنے سے مغموم ہوں ‘ یعنی نہ بدر کی کامیابی پر اترائیں نہ احد کی ناکامی پر حوصلہ ہار بیٹھیں۔ 

تیسری تفسیر یہ ہے کہ جنگ احد میں ان کو بہت سے غموں سے سابقہ پڑا تھا ‘ جانی اور مالی نقصان کا غم تھا ‘ تمام مسلمانوں کو جو ہزیمت اٹھانی پڑنی اس کا غم تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جو چہرہ زخمی ہوا اور آپ کا دانت شہید ہوا اس کا غم تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر پھیل گئی اس کا غم تھا ‘ مسلمانوں سے جو حکم عدولی سرزد ہوگئی اس کی پشیمانی تھی اور اس پر مواخذہ کا غم تھا ‘ مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے حالانکہ آپ انہیں آوازیں دے رہے تھے۔ اس بزدلی دکھانے کا غم تھا ‘ آپ کے حکم ماننے میں جو اختلاف اور تنازع کیا اس کا غم تھا مال غنیمت ہاتھ سے نکل جانے کا غم تھا ‘ ابوسفیان نے جو پلٹ کر حملہ کیا اور بھگدڑ میں مسلمان مارے گئے اس کا غم تھا۔ مسلمانوں کے احباب اور رشتہ دار مارے گئے انکا مثلہ کیا گیا اس کا غم تھا ‘ غرض بہت سارے غموم تھے ان پر یہ غم اس لیے مسلط کیے گئے کہ وہ غم جھیلنے اور مصائب برداشت کرنے کے عادی ہوجائیں تاکہ پھر کبھی اگر کوئی نعمت جاتی رہے یا کوئی مصیبت آپڑے تو گھبرانہ جائیں اور ثابت قدمی اور اطمینان سے مردانہ وار مصائب کا مقابلہ کریں۔ 

رنج کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج 

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں۔

شروع میں مسلمان بھاگے جا رہے تھے لیکن بعد میں حضرت کعب بن مالک (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا اور انہوں نے بلند آواز سے ندا کی اے مسلمانو ! مبارک ہو یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو خاموش ہونے کا اشارہ کیا پھر سب مسلمان آپ کے پاس جمع ہوگئے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 149

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 146

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَاَيِّنۡ مِّنۡ نَّبِىٍّ قٰتَلَ ۙ مَعَهٗ رِبِّيُّوۡنَ كَثِيۡرٌ ۚ فَمَا وَهَنُوۡا لِمَاۤ اَصَابَهُمۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَمَا ضَعُفُوۡا وَمَا اسۡتَكَانُوۡا ‌ؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الصّٰبِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور کتنے نبیوں کے ساتھ اللہ والوں نے اللہ کی راہ میں قتال کیا ‘ تو اللہ کی راہ میں مصائب پہنچنے کی وجہ سے نہ وہ سست ہوئے نہ کمزور پڑے اور نہ دبے ‘ اور اللہ صبر کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

تفسیر:

مصائب میں ثابت قدمی پر سابقہ امتوں کا نمونہ : 

جو مسلمان جنگ احد میں گھبرا کر بھاگ گئے تھے ان کی تادیب کے لیے اللہ تبارک وتعالیٰ انبیاء سابقین اور ان کے متبعین کے احوال بیان فرما رہا ہے کہ تمہارے لیے انبیاء سابقین کے متبعین میں نمونہ ہے وہ جہاد کی سختیوں اور مشقتوں پر صبر کرتے تھے اور کسی مرحلہ پر دشمن سے گھبرا کر بھاگتے نہیں تھے ‘ سو جنگ احد میں تمہارا دشمنوں کے اچانک حملہ کرنے اور ازدہام سے گھبرا جانا اور افراتفری میں بھاگ جانا کس طرح مناسب ہوسکتا ہے تمہیں غور کرنا چاہیے کہ کتنے نبیوں نے اللہ کی راہ میں قتال کیا اور ان کے ساتھ ان کے اصحاب نے دین کی سربلندی کے لیے قتال کیا ‘ ان میں سے کتنے جنگ میں شہید ہوئے اور کتنے زخمی ہوگئے لیکن اس کے باوجود وہ سست اور کمزور نہیں ہوئے اور نہ اس کے بعد وہ جہاد کرنے سے گھبرائے نہ انہوں نے دشمنوں سے صلح کرنے کے لیے سوچا نہ وہ دنیا کے مال و متاع دیکھ کر اس کو لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑے ‘ نہ انہوں نے دشمنوں سے صلح کرنے کے لیے سوچا نہ وہ دنیا کے مال ومتاع دیکھ کر اس کو لوٹنے کے لیے ٹوٹ پڑے نہ انہوں نے پیٹھ پھیری بلکہ اپنے نبی کے شہید ہونے کے بعد بھی وہ اسی پامردی اور ثابت قدمی سے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتے رہے۔ یہ ان کے چند قابل تحسین کاموں کی ایک جھلک ہے ‘ اور اس میں ان مسلمانوں پر تعریض ہے جو اپنے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی جھوٹی خبر سن کر گھبرا گئے تھے اور ان میں سے بعض ابوسفیان سے امان حاصل کرنے کی تدبیریں سوچ رہے تھے۔

انبیاء سابقین کے متبعین کے محاسن افعال میں سے یہ بھی ہے کہ انہوں نے جنگ میں ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اپنے مطلوب کا ذکر کرنے سے پہلے اپنے گناہوں کی معافی طلب کی اور اس میں دعا کا یہ ادب بتایا ہے کہ پہلے اپنے گناہوں کی معافی مانگو اور پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی اور مراد طلب کیا کرو ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کی تحسین فرمائی اور ان کو نیکو کار قرار دیا اور ان کو دنیا اور آخرت اجر عطا فرمایا۔

آیات مذکورہ سے مستنبط مسائل : 

١٤٢ سے ١٤٨ تک جو آیات ذکر کی گئی ہیں ان سے حسب ذیل مسائل معلوم ہوتے ہیں :

(١) جنت میں داخل ہونے کے لیے جہاد کی سختیوں اور مشتقوں پر صبر کرنا چاہیے اور دین کی راہ میں اور شرعی احکام پر عمل کرنے میں جن مصائب کا سامنا ہو ان پر صبر کرنا چاہیے۔

(٢) اللہ کی راہ میں شہید ہونے کی سعادت محض اس کی آرزو کرنے سے نہیں ملتی ‘ بلکہ جہاد کی تکلیفوں اور صعوبتوں پر صبر کرنے سے ملتی ہے۔

(٣) شہادت کی تمنا میں یہ نیت نہ کرے کہ کوئی کافر مار دے ‘ بلکہ یہ نیت کرے کہ میں اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا رہوں گا خواہ مجھے قتل کردیا جائے۔

(٤) رسول اپنی امتوں میں ہمیشہ نہیں رہتے اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو ان کے مشن کو اسی سابقہ جذبہ سے آگے بڑھاتے رہنا چاہیے نہ یہ کہ آدمی اللہ کے دشمنوں سے مفاہمت کی تدبیریں سوچنے لگے۔

(٥) سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی باقی انبیاء علیہم اسلام کی مثل نبی اور رسول ہیں اور ان نبیوں پر موت آچکی ہے ‘ اور ہر نبی کا مشن دین کی تبلیغ ہے اور دین کی مکمل تبلیغ کرنے کے بعد ان کا مشن پورا ہوجاتا ہے اور دنیا سے ان کے تشریف لے جانے کے بعد ان کی رسالت اور تشریع باقی رہتی ہے ‘ سو اس سنت کے مطابق آپ بھی اپنے وقت پر وفات پاجائیں گے لیکن آپ کا دین اور اپ کی شریعت باقی رہے گی۔

(٦) موت کا ایک وقت مقرر ہے اور کوئی شخص اس وقت سے پہلے نہیں مرسکتا۔

(٧) ہر شخص کو اس کی نیت کا پھل ملتا ہے ‘ جو دنیا چاہتا ہے اس کو اپنے مقسوم کے مطابق دنیا مل جاتی ہے اور جو آخرت چاہتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو آخرت میں اجر عطا فرماتا ہے۔

(٨) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور نیکیوں کے لیے کوشش کرنا صرف اس امت کی خصوصیت نہیں ہے ‘ انبیاء سابقین علیہم الصلوت والتسلیمات کی امتیں بھی انتہائی صبر و استقامت کے ساتھ جہاد کے لیے بھرپور کوششیں کرتی رہیں۔

(٩) مصیبت ‘ پریشانی اور دشمنوں یورش کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے۔

(١٠) دعا میں اپنے مقصود کو طلب کرنے سے پہلے اپنے گناہوں پر توبہ اور استغفار کرنا چاہیے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 146

وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ؕ وَسَنَجۡزِى الشّٰكِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 145

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا كَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تَمُوۡتَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا ؕ وَ مَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الدُّنۡيَا نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ۚ وَمَنۡ يُّرِدۡ ثَوَابَ الۡاٰخِرَةِ نُؤۡتِهٖ مِنۡهَا ‌ؕ وَسَنَجۡزِى الشّٰكِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور کسی شخص کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر مرنا ممکن نہیں ہے (سب کی) اجل لکھی ہوئی ہے۔ اور جو دنیا کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور جو آخرت کا اجر چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور ہم عنقریب شکر کرنے والوں کو جزا دیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کسی شخص کے لیے اللہ کے اذن کے بغیر مرنا ممکن نہیں ہے۔ (آل عمران : ١٤٥)

اذن سے مراد اللہ کا امر یا اس کی قضاء اور قدر ہے ‘ اس آیت کی پہلی آیت سے مناسبت یہ ہے کہ منافقوں نے مسلمانوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے یہ خبر اڑا دی تھی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید کردیئے گئے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ قتل موت کی مثل ہے اور موت اللہ تعالیٰ کے مقدر کیے ہوئے وقت پر آتی ہے تو جس طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنے گھر میں موت آتی تو وہ آپ کے دین کے فساد کی موجب نہ ہوتی سو اسی طرح اگر بفرض محال آپ کو شہید کردیا جائے تو وہ آپ کے دین کے فساد کا کس طرح موجب ہوگا !

دوسری وجہ یہ ہے کہ سابقہ آیتوں میں بھی مسلمانوں کو جہاد پر برانگیختہ کیا گیا تھا اور اس آیت میں بھی ان کو جہاد پر آمادہ کیا گیا ہے کہ موت کے ڈر سے جہاد کو نہ چھوڑو ‘ کیونکہ اللہ کے امر اور اس کی قضاء اور قدر کے بغیر موت نہیں آسکتی خواہ تم اپنے گھر میں ہو یا میدان جہاد میں اور اس میں منافقین کے ایک طعنہ کا جواب بھی ہے کیونکہ جب مسلمان جنگ احد سے فارغ ہو کر شہر میں پہنچے تو ان سے منافقوں نے کہا اگر تم ہمارے ساتھ رہتے تو تمہارے ساتھی جو جنگ احد میں قتل کردیئے جاتے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کے رد میں فرمایا ہر شخص کی موت ایک وقت معین میں مقرر ہے ‘ اس وقت پر جو شخص جہاں ہوگا مرجائے گا خواہ وہ اپنے گھر میں ہو یا میدان جنگ میں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سب کی) اجل لکھی ہوئی ہے۔ (آل عمران : ١٤٥)

درایت اور روایت سے لوح محفوظ میں تمام امور کے لکھے جانے بیان :

کتاب موجل سے مراد ہے وہ کتاب جس میں سب کی اجل لکھی ہوئی ہے اور وہ لوح محفوظ ہے۔

آیت کے اس حصہ میں بھی ان لوگوں کا رد ہے جنہوں نے سیدنانبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شہید ہوجانے کی افواہ اڑائی تھی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی موت کا وقت لوح محفوظ میں لکھا ہوا ہے اور کوئی شخص اس وقت کے آنے سے پہلے نہیں مرسکتا تو سیدنا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ان کے وقت سے پہلے موت کیسے آسکتی ہے۔

اللہ تعالیٰ کو تمام حوادث اور کوائف کا علم ہے اور تمام مخلوق ‘ اس کا رزق ‘ اس کی اجل ‘ اس کی سعادت یا شقاوت لوح محفوظ میں لکھی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم کا خلاف ہونا محال ہے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے جہل کو مستلزم ہے ‘ اور کفر ‘ فسق ‘ ایمان اور اطاعت ان سب کی نسبت بندوں کی طرف کی جاتی ہے وہ ان میں سے جس چیز کو اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہی چیز پیدا کردیتا ہے اور ان کے اسی اختیار کی بناء پر ان کو جزاء یا سزا دی جاتی ہے لیکن ازل میں اللہ تعالیٰ کو علم تھا کہ بندوں نے اپنے اختیار سے یا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا اور اس نے اس علم کے مطابق لوح محفوظ میں لکھا دیا ہے اسی علم کو قضاء و قدر سے تعبیر کیا جاتا ہے لہذا لوح محفوظ میں وہی لکھا ہے جو بعد میں بندوں نے اپنے اختیار سے کرنا تھا اس لیے یہ وہم نہ کیا جائے کہ بندے تقدیر کی وجہ سے مجبور ہیں۔

لوح محفوظ میں تمام امور کے لکھے جانے پر حسب ذیل احادیث دلالت کرتی ہیں ‘

امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے پیدا فرمایا وہ قلم اور مچھلی ہے ‘ قلم نے پوچھا میں کیا لکھوں ؟ فرمایا جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے وہ لکھو ‘ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ن والقلم “ ”’ ن “ سے مراد مچھلی ہے اور قلم سے مراد قلم ہے۔

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث میں ایک راوی مومل ثقہ اور کثیرالخطاء ہے ‘ ابن معین وغیرہ نے اس کی توثیق کی ہے ‘ اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ضعیف کہا ہے ‘ اور اس حدیث کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد : ج ٧ ص ١٢٨)

نیز امام طبرانی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب اللہ تعالیٰ نے قلم کو پیدا فرمایا تو اس سے فرمایا لکھو تو اس نے قیامت تک ہونے والی تمام چیزوں کو لکھ دیا۔

حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩٠)

امام ابو یعلی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو سب سے پہلے پیدا کیا وہ قلم ہے ‘ پھر اس کو لکھنے کا حکم دیا تو اس نے ہر چیز کو لکھ دیا۔

حافظ الہیثمی نے اس حدیث کو امام بزار کے حوالے سے لکھا ہے اور کہا ہے کہ اس کے تمام راوی ثقہ ہیں (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١٩٠) امام ابن جریر نے بھی اس حدیث کو حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے (جامع البیان ج ٢٩ ص ١١) امام بیہقی نے بھی اس حدیث کو روایت کیا ہے (کتاب الاسماء والصفات ص ٢٧١) حافظ سیوطی نے بھی اس حدیث کا ذکر کیا ہے۔ (الدرالمنثور ج ٦ ص ٢٤٩)

امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیشک اللہ نے لوح محفوظ کو موتی سے پیدا کیا اس کے صفحات سرخ یاقوت کے ہیں ‘ اس کا قلم نور ہے ‘ اللہ تعالیٰ ہر روز اس میں تین سو ساٹھ بار نظر فرماتا ہے ‘ پیدا کرتا ہے اور رزق دیتا ہے ‘ اور مارتا ہے اور جلاتا ہے ‘ اور عزت دیتا ہے اور ذلت دیتا ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ (المعجم الکبیر ج ١٢ ص ٥٧ مطبوعہ بیروت)

حافظ الہثمی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو امام طبرانی نے دو سندوں سے روایت کیا ہے اس سند کے راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٧ ص ١١)

امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میں جوان مرد ہوں ‘ مجھے اپنے نفس پر بدکاری کا خوف ہے ‘ اور میں عورتوں سے نکاح کرنے کی (مالی) قدرت نہیں رکھتا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے ‘ میں نے پھر یہی گزارش کی آپ پھر خاموش رہے میں نے سہ بارہ عرض یا آپ پھر خاموش رہے ‘ میں نے پھر کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے ابوہریرہ ‘ تمہارے ساتھ جو کچھ پیش آنے والا ہے اس کو لکھ کر قلم خشک ہوچکا ہے ‘ اب تم خصی ہو یا نہ ہو۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٧٦٠۔ ٧٥٩‘ مطبوعہ کراچی)

اس حدیث میں آپ نے خصی ہونے کا حکم نہیں دیا بلکہ یہ امربہ طور تہدید ہے۔ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ تقدیر میں جو کچھ لکھا ہے وہ ہوجائے گا تم خصی ہو یا نہ ہو خلاصہ یہ ہے کہ تمام امور ازل میں اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے متعلق ہوچکے ہیں اس لیے خصی ہونا نہ ہونا برابر ہے ‘ کیونکہ جو کچھ مقدر ہوچکا وہ ہو کر رہے گا ‘ اس حدیث میں آپ نے خصی ہونے کی اجازت نہیں دی ‘ بلکہ اشارۃ اس سے منع فرمایا ہے گویا کہ آپ نے فرمایا جب ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضاء اور قدر سے متعلق ہے تو خصی ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ حضرت عثمان بن مظعون (رض) نے آپ سے خصی ہونے کی اجازت طلب کی تھی تو آپ نے اس سے صراحۃ منع فرما دیا تھا ‘ اس حدیث سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جب تک کسی شخص کے لیے ممکن ہو وہ جائز اسباب کو حاصل کرے اس کے بعد اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دے اور جب جائز اسباب کو حاصل کرنا اس کی قدرت میں نہ ہو تو پھر اللہ پر توکل کرے اور ان اسباب کے پیچھے نہ پڑے جو اس کی قدرت میں نہیں ہیں ‘ اسی لیے جب حضرت ابوہریرہ (رض) نکاح کرنے کے مالی وسائل نہیں رکھتے تھے تو گناہ سے بچنے کے لیے ان کو آپ نے خصی ہونے کا حکم نہیں دیا ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) کو آپ نے روزہ رکھنے کا حکم نہیں دیا جیسا کہ دوسرے صحابہ کو دیا تھا کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) اصحاب صفہ میں سے تھے اور بہ کثرت روزے رکھتے تھے لیکن بعض لوگوں کی جوانی ککا دف روزوں سے بھی نہیں مرتا۔

اس حدیث سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ انسان تقدیر کے ہاتھوں مجبور ہے ‘ ہاں واقعی مجبور ہے لیکن تقدیر میں وہی کچھ لکھا گیا ہے جو انسان نے اپنے اختیار اور ارادہ سے کرنا تھا ‘ اللہ تعالیٰ علام الغیوب ہے اس کو ازل میں علم تھا کہ انسان پیدا ہونے کے بعد کیا کرے گا اور جو کچھ انسان نے اپنے اختیار سے کرنا تھا وہ اس نے لکھ دیا ‘ اسی علم کا نام تقدیر اور لکھے ہوئے کا نام لوح محفوظ ہے۔

(آیت) ” وکل شیء فعلوہ فی الزبر۔ وکل صغیر و کبیر مستطر۔ (القمر : ٥٢۔ ٥١)

ترجمہ : اور جو کچھ انہوں نے کیا وہ سب صحیفوں میں لکھا ہوا ہے ‘ ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھا ہوا ہے۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھیں اس وقت اللہ کا عرش پانی پر تھا۔ (صحیح مسلم بشرح الابی ج ٩ ص ٢٦‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اس حدیث میں پچاس ہزار سال کے عدد سے وقت کی اتنی مقدار تقدیر کا مراد ہے ‘ حقیقۃ پچاس ہزار سال کا وقت مراد نہیں ہے کیونکہ وقت تو حرکات فلک اور سورج کی رفتار سے بنتا ہے اور سورج کے طلوع اور غروب سے دن رات بنتے ہیں اور دن رات سے مہینے اور سال بنتے ہیں اور جب افلاک اور سورج نہیں پیدا کئے گئے تھے تو اس متعارف معنی میں وقت بھی نہیں تھا۔

رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو دنیا کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں دیں گے اور جو آخرت کا صلہ چاہے گا ہم اسے اس میں سے دیں گے اور ہم عنقریب شکر کرنے والوں کو جزاء دیں گے۔ (آل عمران : ١٤٥)

نیت اور اخلاص کا بیان :

جنگ احد میں جو مسلمان شریک ہوئے تھے ان میں سے نومسلموں کی نیت غنیمت اور متاع دنیوی تھی اکثر راسخ العقیدہ مسلمان صرف دین کی سربلندی کے لیے اس جنگ میں شریک ہوئے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم ہر شخص کو اس کی نیت کے اعتبار سے حصہ دین گے جو دنیا چاہتا ہو اس کو دنیا ملے گی اور جو عقبی چاہتا ہو اس کو عقبی ملے گی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمر بن الخطاب (رض) منبر پر بیان کر رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اعمال کا مدار صرف نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو اس کی نیت کا پھل ملتا ہے ‘ سو جس شخص کی ہجرت دنیا پانے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی شے کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

شفی الاصبحی بیان کرتے ہیں کہ وہ جب مدینہ میں آئے تو ایک شخص کے گرد لوگ جمع تھے ‘ انہوں نے پوچھا یہ کون ہے ؟ لوگوں نے کہا یہ حضرت ابوہریرہ (رض) ہیں ‘ میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا وہ لوگوں میں حدیث بیان کررہے تھے ‘ جب وہ خاموش ہوئے اور تنہا رہ گئے تو میں نے کہا آپ مجھے ایسی حدیث سنائیے جس کو آپ نے خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہ غور سنا ہو اور اس کو سمجھا ہو ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا میں تم کو ایسی حدیث سناتا ہوں جس کو میں نے بغور سنا اور سمجھا ہے پھر حضرت ابوہریرہ (رض) بےہوش ہوگئے ‘ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہوش میں آئے اور کہنے لگے میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس گھر میں سنائی تھی۔ اس وقت میرے اور آپ کے سوا اس گھر میں اور کوئی نہیں تھا ‘ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) دوبارہ بےہوش ہوگئے پھر تھوڑی دیر بعد چہرہ ملتے ہوئے ہوش میں آئے ‘ اور کہا میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو اس گھر میں آپ نے مجھے سنائی اور میرے اور آپ کے سوا اس گھر میں اور کوئی نہیں تھا ‘ پھر حضرت ابوہریرہ (رض) تیسری بار بےہوش ہوگئے پھر تیسری بار چہرہ ملتے ہوئے ہوش میں آئے اور کہا میں تم کو ضرور ایسی حدیث سناؤں گا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس گھر میں تنہائی میں مجھے سنائی تھی پھر چوتھی بار کافی دیر بےہوش رہے ‘ پھر لڑکھڑاتے ہوئے اٹھے ‘ میں نے ان کو سہارا دیا پھر جب ہوش میں آئے تو بیان کرنے لگے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا ‘ تو اللہ تعالیٰ لوگوں کے درمیان فیصلے کرے گا اور سب لوگ گھٹنوں کے بل ہوں گے سب سے پہلے اس شخص کو بلایا جائے گا جس نے قرآن یاد کیا اور جس نے اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جو شخص بہت مالدار تھا ‘ اللہ تعالیٰ قاری سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو اس کتاب کا علم نہیں دیا جو میں نے اپنے رسول پر نازل کی تھی ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے اس علم پر کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا میں دن رات قرآن مجید پڑھتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم نے جھوٹ بولا ! فرشتے بھی کہیں تم نے جھوٹ بولا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے جھوٹ بولا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص قاری ہے ! یہ کہا گیا ‘ پھر اس مالدار شخص کو لایا جائے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا میں نے تجھ کو وسعت نہیں دی تھی حتی کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں ! اے میرے رب ! اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو میں نے تم کو جو کچھ دیا تھا تم نے اس میں کیا عمل کیا ؟ وہ کہے گا میں رشتہ داروں سے نیک سلوک کرتا تھا اور صدقہ کرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا ‘ تم جھوٹ بولتے ہو ‘ فرشتے بھی اس سے کہیں گے تم جھوٹ بولتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص جواد ہے ‘ سو یہ کیا گیا ‘ پھر اس شخص کو لایا جائے گا جو اللہ کی راہ میں قتل کیا گیا تھا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تم کو کس چیز میں قتل کیا گیا ! وہ کہے گا مجھے تیرے راستہ میں جہاد کا حکم دیا گیا تھا ‘ سو میں نے قتال کیا حتی کہ میں قتل کردیا گیا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تم جھوٹ بولتے ہو ‘ فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تم جھوٹ بولتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں شخص بہت بہادر ہے ‘ سو یہ کہا گیا ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھٹنے پر ہاتھ مار کر فرمایا : اے ابوہریرہ قیامت کے دن اللہ کی مخلوق میں سے یہ پہلے تین شخص ہوں گے جن سے جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی ‘ شفی نے یہ حدیث حضرت معاویہ کو سنائی تو حضرت معاویہ نے کہا ان لوگوں کو یہ سزا دی گئی ہے تو باقی لوگوں کو کیا حال ہوگا ! پھر حضرت معاویہ اتنی دیر تک روتے رہے کہ ہم نے گمان کیا وہ ہلاک ہوجائیں گے ‘ کچھ دیر بعد حضرت معاویہ کی حالت سنبھلی تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے پھر یہ آیات پڑھیں :

(آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا نوف الیھم اعمالھم فیھا وھم فیھا لایبخسون۔ اولئک الذین لیس فی الاخرۃ الا النار وحبط ما صنعوا فیھا وبطل ماکانوا یعملون “۔ (ھود : ١٦۔ ١٥)

ترجمہ : جو لوگ (صرف) دنیا اور اس کی زینت کے طالب ہیں ہم انہیں دنیا میں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیں گے اور اس میں ان سے کمی نہیں کی جائے گی ‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں دوزخ کے سوا کچھ نہیں ‘ اور دنیا میں انہوں نے جو کام کیے وہ ضائع ہوگئے اور انہوں نے جو عمل کیے وہ رائیگاں چلے گئے۔ (الجامع الصحیح کتاب الزھد : ٣٧‘ باب : ٤٨‘ ماجاء فی الریاء والسمعۃ )

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 145

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 144

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوۡلٌ  ۚ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِهِ الرُّسُلُ‌ؕ اَفَا۟ٮِٕنْ مَّاتَ اَوۡ قُتِلَ انْقَلَبۡتُمۡ عَلٰٓى اَعۡقَابِكُمۡ‌ؕ وَمَنۡ يَّنۡقَلِبۡ عَلٰى عَقِبَيۡهِ فَلَنۡ يَّضُرَّ اللّٰهَ شَيۡـــًٔا‌ ؕ وَسَيَجۡزِى اللّٰهُ الشّٰكِرِيۡنَ

ترجمہ:

اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ‘ ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں اگر وہ فوت ہوجائیں یا شہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے تو جو اپنی ایڑیوں پر پھرجائے گا سو وہ اللہ کا کچھ نقصان نہی کرے گا اور عنقریب اللہ کا شکر کرنے والوں کو جزا دے گا

تفسیر:

امام ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں :

ایک مہاجر ایک انصاری کے پاس سے گزرا اس وقت وہ خون میں لتھڑا ہوا تھا اس نے کہا اے فلاں شخص کیا تمہیں معلوم ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ‘ انصاری نے کہا اگر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ہیں تو آپ تبلیغ فرما چکے ہیں ‘ اب تم ان کے دین کی طرف سے قتال کرو۔

ضحاک بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو شکست ہوگئی تو ایک منادی نے ندا کی سنو ! محمد تو قتل کردیئے گئے اب تم اپنے پچھلے دین کی طرف لوٹ جاؤ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور محمد (خدا نہیں ہیں) صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول گزر چکے ہیں۔ اگر وہ فوت ہوجائیں یاشہید ہوجائیں تو کیا تم اپنی ایڑیوں پر پھر جاؤ گے۔

یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جس طرح آپ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا تاکہ وہ مخلوق کو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی اطاعت کی دعوت دیں ‘ اور جب ان کی مدت پوری ہوگئی تو وہ فوت ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا ‘ سو اسی طرح محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اپنی مدت پوری ہونے کے بعد وفات پاجائیں گے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان بعض لوگوں پر اظہار ناراضگی فرمایا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہادت کی خبر سن کر یہ سوچنے لگے تھے کہ اب کافروں سے صلح کر لینی چاہیے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنے دین سے پھرجائے گا وہ اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

امام رازی لکھتے ہیں :

جنگ احد میں حضرت مصعب بن عمیر کے ہاتھ میں جھنڈا تھا ان کو ابن قمیہ نے شہید کردیا۔ اس واقعہ سے یہ گمان کرلیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہیدکر دیا گیا ‘ اور شیطان نے پکار کر کہا سنو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ‘ پھر آپ کی شہادت کی خبر لوگوں میں پھیل گئی ‘ اس وقت بعض ضعیف العقیدہ مسلمانوں نے کہا کاش عبداللہ بن ابی ہمیں ابو سفیان سے امان دلوا دے ‘ اور منافقوں نے کہا اگر یہ نبی ہوتے تو قتل نہ کیے جاتے ‘ تم اپنے بھائیوں اور اپنے دین کی طرف لوٹ جاؤ‘ حضرت انس بن نضر نے کہا اے قوم ! اگر محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شہید ہوگئے ہیں تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رب تو زندہ ہے جس کو موت نہیں آئے گی اور تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد زندہ رہ کر کیا کرو گے ! جس دین کے لیے آپ نے قتال کیا تھا تم بھی اسی دین کے خاطر قتال کرو اور جس پر آپ فدا ہوگئے تم بھی اس پر فدا ہوجاؤ پھر کہا اے اللہ ! میں ان لوگوں کے قول پر تجھ سے معذرت کرتا ہوں ! پھر انہوں نے تلوار سونت کر قتال کرنا شروع کیا حتی کہ وہ شہید ہوگئے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات اور آپ کی نماز جنازہ کا بیان : 

ان آیتوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وفات پانے کا ذکر کیا گیا ہے ‘ اس لیے ان آیتوں کی تفسیر میں مفسرین نے آپ کی نماز جنازہ کا بیان کیا ہے اور ایک یہ مسئلہ اٹھایا ہے کہ آپ کی تدفین میں تاخیر کیوں کی گئی ‘ اس کا ایک سبب یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جانشین اور مسلمانوں کا ایک امیر مقرر کرنا ضروری تھا ‘ جو مسلمانوں کے تمام معاملات کا والی ‘ اسلامی سرحدوں کا محافظ ‘ نمازوں کا قائم کرنے والا اور حدود کو جاری کرنے والا ہو ‘ اگر بالفرض اس وقت کوئی دشمن ملک پر حملہ کردیتا تو مسلمانوں کا کوئی امیر ہونا چاہیے تھا جو مسلمانوں کی حفاظت کرتا ‘ دوسری وجہ یہ تھی کہ تمام مسلمانوں پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حق تھا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی نماز جنازہ پڑھتے ‘ آپ کے حجرہ میں زیادہ لوگوں کی گنجائش نہیں تھی اس لیے باری باری تمام مسلمانوں نے جاکر آپ کی نماز جنازہ پڑھی ‘ اور چونکہ ولی شرعی کے نماز جنازہ پڑھنے کے بعد جنازہ تکرار جائز نہیں ہے اس لیے پہلے خلیفہ المسلمین اور آپ کے ولی شرعی کو منتخب کیا گیا وہ حضرت ابوبکر تھے اور سب مسلمانوں کے بعد حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھی اس کے بعد آپ کو دفن کردیا گیا ‘ اس تمام کاروائی میں تین دن لگے۔

امام ابن ماجہ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی اس وقت حضرت ابوبکر (رض) مدینہ کے بالائی حصہ میں اپنی بیوی بنت خارجہ کے پاس تھے ‘ مسلمان کہنے لگے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے۔ آپ پر وہ کیفیت طاری ہے جو نزول وحی کے وقت ہوتی ہے ‘ حضرت ابوبکر (رض) آئے آپ کا چہرہ مبارک کھولا اور آپ کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا ‘ اور کہا آپ اللہ کے نزدیک اس سے مکرم ہیں کہ آپ پر وہ دو موتیں طاری کرے ‘ بیشک ‘ خدا کی قسم ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے ہیں ‘ ادھر حضرت عمر مسجد کی ایک جانب یہ کہہ رہے تھے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت نہیں ہوئے ‘ جب تک آپ تمام منافقوں کے ہاتھ اور پیر نہیں کاٹ دیں گے اس وقت تک آپ فوت نہیں ہوں گے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے منبر پر چڑھ کر فرمایا : جو شخص اللہ کی عبادت کرتا ہو تو اللہ تعالیٰ زندہ ہے اور اس کو موت نہیں آئے گی ‘ اور جو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبادت کرتا ہو تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بےش فوت ہوگئے ہیں ‘ (آیت) ” وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اوقتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیہ فلن یضر اللہ شیئا وسیجزی اللہ الشاکرین “۔ حضرت عمر (رض) نے کہا مجھے ایسا لگا جیسے میں نے اس دن سے پہلے یہ آیت نہیں پڑھی تھی۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمانوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے قبر کھودنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے حضرت ابو عبیدہ کی طرف ایک آدمی بھیجا جو اہل مکہ کی طرف (شق) قبر بناتے تھے ‘ اور ایک آدمی حضرت ابوطلحہ کی طرف بھیجا جو اہل مدینہ کی طرف لحد (بغلی قبر) بناتے تھے ‘ اور یہ دعا کی اے اللہ ! اپنے رسول کے لیے ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرلے ‘ تو مسلمانوں کو حضرت ابوطلحہ مل گئے ‘ ان کو بلایا گیا اور حضرت ابوعبیدہ (وقت پر) نہیں ملے ‘ سو انہوں نے لحد بنائی ‘ منگل کے دن انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا جنازہ تیار کرلیا (غسل دے کر کفن پہنا دیا) پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حجرہ میں آپ کو ایک تخت پر رکھا گیا ‘ پھر باری باری مسلمان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتے اور نماز جنازہ پڑھتے حتی کہ جب مرد فارغ ہوگئے تو پھر عورتیں آئیں اور کسی شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ کی امامت نہیں کی۔

مسلمانوں کا اس میں اختلاف ہوا تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کس جگہ بنائی جائے بعض مسلمانوں نے کہا آپ کو آپ کے اصحاب کے ساتھ دفن کیا جائے حضرت ابوبکر نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ جس جگہ نبی کی روح قبض کی جاتی ہے اس کو وہی دفن کیا جاتا ہے پھر جس بستر پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوئے تھے ‘ انہوں نے اس بستر کو اٹھایا اور وہیں آپ کی قبرکھودی پھر بدھ کی رات جب آدھی ہوگئی تو آپ کو دفن کردیا گیا ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت فضل بن عباس اور ان کے بھائی حضرت قثم ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام شقران آپ کی قبر میں اترے ‘ حضرت اوس بن خولی نے حضرت علی سے کہا میں تم کو اللہ کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہمارے تعلق کی قسم دیتا ہوں ‘ حضرت علی نے ان سے کہا تم بھی اترو ‘ حضرت شقران نے اس چادر کو لیا جس کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہنتے تھے ‘ اور اس کو قبر میں رکھ دیا اور کہا خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس چادر کو کوئی نہیں پہنے گا۔ (سنن ابن ماجہ ‘ باب : ٦٥‘ ذکر وفاتہ ووفنہ

حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت میں ایک راوی حسین بن عبید اللہ ہاشمی ہے۔ امام احمد ‘ علی بن مدینی ‘ اور امام نسائی نے اس کو متروک قر دیا ‘ امام بخاری نے کہا اس پر زندقہ کی تہمت ہے ‘ اور اس حدیث کے باقی راوی ثقہ ہیں۔

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت سالم بن عبید اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آپ کے مرض میں بےہوشی طاری ہوگئی ‘ آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا نماز کا وقت ہوگیا ؟ صحابہ نے عرض کی ہاں ‘ آپ نے فرمایا بلال سے کہو اذان کہیں اور ابوبکر سے کہو مسلمانوں کو نماز پڑھائیں ‘ حضرت عائشہ (رض) نے کہا میرے والد رقیق القلب ہیں جب وہ آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو رونا شروع کردیں گے اور نماز نہیں پڑھا سکیں گے اگر آپ کسی اور کو حکم دے دیں ! آپ پر پھر بےہوشی طاری ہوگئی ‘ جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا بلال سے اذان کے لیے کہو اور ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ‘ تم تو یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ کی عورتوں کی مثل ہو ‘ حضرت بلال کو اذان کا حکم دیا ‘ انہوں نے اذان دی ‘ اور حضرت ابوبکرکو نماز پڑھانے کا حکم دیا انہوں نے مسلمانوں کو نماز پڑھائی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آرام محسوس کیا ‘ آپ نے فرمایا دیکھو میں کس کے سہارے چلوں ‘ پھر حضرت بریرہ (رض) اور ایک اور شخص آئے ‘ آپ ان کے سہارے سے چلے ‘ جب حضرت ابوبکر نے آپ کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گئے ‘ آپ نے اشارہ کیا وہ اسی جگہ کھڑے رہیں حتی کہ حضرت ابوبکر (رض) نے نماز پوری کرلی ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ‘ حضرت عمر نے کہا بہ خدا میں نے جس شخص کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی ہے میں اس تلوار سے اس کو قتل کر دوں گا ‘ اور وہ لوگ ان پڑھ تھے ان میں اس سے پہلے کوئی نبی نہیں ہوا تھا ‘ لوگ رک گئے ‘ لوگوں نے کہا اے سالم جاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صاحب کو بلا کر لاؤ‘ میں حضرت ابوبکر (رض) کے پاس گیا وہ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے میں روتا ہوا گیا ‘ جب حضرت ابوبکر (رض) نے میری یہ کیفیت دیکھی تو پوچھا کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ہے میں نے کہا حضرت عمر (رض) یہ کہتے ہیں کہ میں نے جس شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کرلی گئی ہے تو میں اس کو اپنی اس تلوار سے مار دوں گا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا چلو ‘ میں ان کے ساتھ گیا ‘ حضرت ابوبکر (رض) آئے اس وقت لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جارہے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے کہا میرے لیے جگہ چھوڑو ‘ ان کے لیے کشادگی کی گئی ‘ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھکے ‘ آپ کو چھوا ‘ اور پڑھا ” انک میت وانھم میتون “ بےآپ پر موت آنی ہے اور بیشک انہوں نے بھی مرنا ہے۔ “ (الزمر : ٣٠) صحابہ نے پوچھا اے رسول اللہ کے صاحب ! کیا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز جنازہ پڑھیں گے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا ہاں ! صحابہ نے پوچھا کس طرح ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا ایک قوم جائے تکبیر پڑھے۔ دعا کرے اور درود پڑھے۔ پھر دوسری قوم جائے ‘ تکبیر پڑھے درود پڑھے اور دعا کرے پھر باہر آجائے ‘ حتی کہ تمام لوگ اسی طرح داخل ہوں ‘ صحابہ نے پوچھا : اے رسول اللہ کے صاحب ! کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دفن کیا جائے گا فرمایا : ہاں ! پوچھا کہاں ؟ فرمایا جس جگہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روح قبض کی گئی تھی ! کیونکہ اللہ نے آپ کی روح صرف پاک جگہ پر ہی قبض کی ہے ‘ تب صحابہ نے جان لیا کہ آپ نے سچ کہا ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ آپ کے عم زاد آپ کو غسل دیں گے اور مہاجرین باہم مشورہ کرنے لگے ‘ صحابہ نے کہا انصار کو بلاؤ تاکہ اس معاملہ (خلافت) میں ہم ان سے مشورہ کریں ‘ انصار نے کہا ایک امیر ہم سے ہوجائے ‘ ایک امیر تم سے ہوجائے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اس شخص کی مثل کون ہوگا جس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی : (آیت) ” ثانی اثنین اذھما فی الغار اذ یقول لصاحبہ لاتحزن ان اللہ معنا “۔ پھر حضرت ابوبکر نے ہاتھ پھیلایا اور حضرت عمر (رض) نے بیعت کی پھر سب لوگوں نے بیعت کرلی۔ (الشمائل المحمدیہ ص ٣٣٨۔ ٣٣٧‘ رقم الحدیث : ٣٩٧‘ یہ حدیث صحیح ہے ‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٢٣٤‘ مطبوعہ المکتبہ التجاریہ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٥ ھ)

حافظ ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فوت ہوگئے تو لوگ حجرہ میں داخل ہوئے اور باری باری آپ پر نماز جنازہ پڑھی ‘ جب مرد فارغ ہوگئے تو پھر عورتوں نے نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر بچوں نے نماز پڑھی ‘ پھر غلاموں نے نماز پڑھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز کی کسی نے امامت نہیں کی۔ (سنن کبری ج ٧ ص ٢٥٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ملتان)

علامہ ابن اثیر متوفی ٦٣٠ ھ نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے۔ (الکامل فی التاریخ ج ٢ ص ٢٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی صرف صلوۃ وسلام عرض کیا گیا تھا ‘ بعض روایات اس کی موید بھی ہیں لیکن جمہور کے نزدیک آپ کی نماز جنازہ پڑھی گئی تھی جیسا کہ شمائل ترمذی میں تصریح ہے کہ آپ پر نماز جنازہ میں تکبیرات پڑھی جائیں اور صلوۃ پڑھی جائے اور دعا کی جائے۔

امام احمد رضا قادری لکھتے ہیں :

جنازہ اقدس پر نماز کے باب میں علماء مختلف ہیں ایک کے نزدیک یہ نماز معروف نہ ہوئی بلکہ لوگ گروہ در گروہ حاضر آتے اور صلوۃ وسلام عرض کرتے ‘ بعض احادیث بھی اس کی موید ہیں ‘ اور بہت علماء یہی نماز معروف مانتے ہیں۔ امام قاضی عیاض نے اس کی تصحیح فرمائی ‘ جیسا کہ زرقانی شرح الموطا میں ہے ‘ سیدنا صدق اکبر (رض) تسکین فتن وانتظام امت میں مشغول ‘ جب تک ان کے دست حق پرست پر بیعت نہ ہوئی تھی ‘ لوگ فوج فوج آتے اور جنازہ انور پر نماز پڑھتے جاتے ‘ جب بیعت ہوئی ولی شرعی صدیق ہوئے انہوں نے جنازہ اقدس پر نماز پڑھی ‘ پھر کسی نے نہ پڑھی ‘ کہ بعد صلوۃ ولی پھر اعادہ نماز جنازہ کا اختیار نہیں ‘ مبسوط امام شمس الائمہ سرخسی میں ہے حضرت ابوبکر (رض) معاملات کو درست کرنے اور فتنہ کو سرد کرنے میں مشغول تھے ‘ مسلمان آپ کے آنے سے پہلے نماز جنازہ پڑھتے رہے اور حق آپ کا تھا ‘ کیونکہ آپ ہی خلیفہ مقرر ہوئے تھے جب آپ فارغ ہوگئے تو آپ نے نماز جنازہ پڑھی ‘ پھر آپ کے بعد کسی نے آپ پر نماز جنازہ نہیں پڑھی (مبسوط ج ٢ ص ٢٧‘ مطبوعہ بیروت) (فتاوی رضویہ ج ٤ ص ٥٤‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

بعض علماء جو اسکے قائل ہیں کہ آپ کی نماز جنازہ نہیں پڑھی گئی تھی ‘ صرف آپ پر صلوۃ وسلام عرض کیا گیا تھا وہ اس روایت سے استدلال کرتے ہیں :

حافظ الہیثمی متوفی ٨٠٧ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مرض کا غلبہ ہوا تو ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ پر نماز کون پڑھے گا ؟ حضور روئے ‘ ہم بھی روئے ‘ آپ نے فرمایا ‘ ٹھہرو ‘ اللہ تمہاری مغفرت کرے اور تمہارے نبی کی طرف سے تم کو اچھی جزادے ‘ جب تم مجھے غسل دے چکو ‘ اور مجھ پر خوشبو لگا چکو ‘ اور مجھے کفن پہنا چکو تو مجھے میری قبر کے کنارے رکھ دینا ‘ پھر ایک ساعت کے لیے میرے پاس سے چلے جانا ‘ کیونکہ پہلے مجھ پر میرے دوست اور میرے ہم نشیں جبرائیل اور میکائیل نماز پڑھیں گے ‘ پھر اسرافیل ‘ پھر ملک الموت اپنے لشکر کے ساتھ نماز پڑھیں گے ‘ پھر تمام فرشتے آکر نماز پڑھیں گے ‘ پھر تم لوگ فوج درفوج آکر داخل ہونا اور مجھ پر صلوۃ وسلام پڑھنا الحدیث ‘ اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے لین اس کی اسانید منقطع ہیں ‘ عبدالرحمن نے مرہ سے سماع نہیں کیا ‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں کئی ضعیف راوی ہیں ان میں سے ایک اشعث بن طابق ہے ازدی نے کہا اس کی حدیث صحیح نہیں ہوتی۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ‘ ٢٥ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

اس حدیث کو امام حاکم نے بھی اپنی سند سے روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن عبدالرحمن مجہول ہے ہم کو اس کی عدالت یاجرح کا علم نہیں ہے اور اس کے باقی راوی ثقہ ہیں۔ (المستدرک ج ٢ ص ٦٠‘ مطبوعہ دارالباز ‘ مکہ مکرمہ)

علامہ ذہبی ‘ امام حاکم پر تعاقب کرتے ہوئے لکھتے ہیں ‘ عبدالملک مجہول نہیں ہے ‘ بلکہ اس کو فلاس نے کذاب قرار دیا ہے ‘ اور انہوں نے کہا اس کے باقی روای ثقہ ہیں ‘ تو ہر موضوع حدیث اسی طرح ہوتی ہے ‘ جس میں ایک کے سوا باقی راوی ثقہ ہوتے ہیں اگر حاکم احتیاط کرتے تو اس حدیث کو اپنی کتاب میں درج نہ کرتے۔ (تلخیص المستدرک ج ٢ ص ٦٠)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز جنازہ کی مکمل تفصیل اور تحقیق ہم نے اپنے ایک مقالہ میں کی ہے جس میں بہ کثرت حوالہ جات درج کیے ہیں ‘ یہ مقاملہ مقالات سعیدی میں شامل کردیا گیا ہے ‘ اہل علم اس کا مطالعہ کریں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 144

وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ ۖ فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ- سورۃ 3 – آل عمران – آیت 143

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ كُنۡتُمۡ تَمَنَّوۡنَ الۡمَوۡتَ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَلۡقَوۡهُ ۖ فَقَدۡ رَاَيۡتُمُوۡهُ وَاَنۡتُمۡ تَنۡظُرُوۡنَ

ترجمہ:

تم تو موت کے آنے سے پہلے موت کی تمنا کیا کرتے تھے سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا ہے اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم تو موت کے آنے سے پہلے موت کی تمنا کیا کرتے تھے ‘ سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا ہے اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ (آل عمران : ١٤٣)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے بعض صحابہ جنگ بدر میں حاضر نہیں ہو سکے تھے ‘ اور وہ جنگ احد برپا ہونے سے پہلے یہ تمنا کرتے تھے کہ پھر جنگ بدر کی طرح کوئی معرکہ ہو تو وہ اس جنگ میں داد شجاعت دیں یا شہید ہو کر اللہ تعالیٰ سے اجر وثواب پائیں اور جب جنگ احد ہوئی تو ان میں سے بعض کفار کے دباؤ اور ان کے رش کی وجہ سے ثابت قدم نہ رہے اور ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور بعض صبر و استقامت کے ساتھ لڑتے رہے اور اس سے پہلے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا اس کو پورا کیا۔ سو جو لوگ کفار کے رش اور اچانک حملہ کی وجہ سے بھاگ پڑے تھے اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کہ تم تو موت کے آنے سے پہلے موت کی تمنا کیا کرتے تھے سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا ہے اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے اور جنہوں نے اس پر صبر کیا اور استقامت کے ساتھ جہاد کرتے رہے انکی اللہ تعالیٰ نے تعریف کی۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

ربیع بیان کرتے ہیں کہ مسلمانوں کی ایک جماعت جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکی تھی اور اہل بدر کو جو فضیلت اور کرامت حاصل ہوئی تھی اس سے محروم رہے تھے۔ اس لیے وہ یہ تمنا کرتے تھے کہ پھر کوئی جہاد کا موقع آئے تو وہ اللہ کی راہ میں قتال کریں پھر جب جنگ احد ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تم تو موت کے آنے سے پہلے موت کی تمنا کیا کرتے تھے سو اب تم نے موت کو دیکھ لیا ہے اور وہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ٧١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان کے چچا حضرت انس بن نضر (رض) جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے انہوں نے کہا میں پہلے جہاد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ساتھ شریک نہیں ہوسکا تھا ‘ اگر اب اللہ نے مجھے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جہاد میں شرکت کا موقع دیا تو اللہ تعالیٰ (لوگوں کو) دکھا دے گا کہ میں کس قدر کوشش کرتا ہوں ‘ جب جنگ احد میں مقابلہ ہوا تو مسلمان شکست کھاگئے حضرت نضر تلوار لے کر آگے بڑھے تو حضرت سعد بن معاذ سے ملاقات ہوئی۔ حضرت نضر (رض) نے کہا اے سعد کہا جارہے ہو ‘ مجھے تو احد کے پاس سے جنت کی خوشبو آرہی ہے ! وہ کفار سے قتال کرتے رہے حتی کہ قتل کردیئے گئے ان کی لاش پر اس قدر زخم تھے کہ ان کی بہن کے سوا ان کو کوئی نہ پہچان سکا ‘ ان کی بہن نے ان کی انگلیوں کے پوروں اور تل سے پہچانا تھا ان کے جسم پر ستر سے زیادہ نیزوں اور تیروں کے زخم تھے۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ٥٧٩‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

قرآن مجید کی زیر بحث آیت اور ان احادیث میں یہ تصریح ہے کہ صحابہ کرام شہادت کی تمنا کرتے تھے۔ نیز امام بخاری روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) یہ دعا کرتے تھے کہ اے اللہ ! مجھے اپنی راہ میں شہادت عطا فرما اور اپنے رسول کے شہر میں مجھے موت عطا فرما۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٢٥٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

اس آیت اور ان احادیث پر یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ شہادت کا حاصل یہ ہے کہ کافر مومن پر غالب آکر مسلمان کو قتل کردے ‘ سو شہادت کی تمنا کافر کے ہاتھوں مرنے کی تمنا کرنا ہے ‘ اور مسلمان پر کافر کے غلبہ کی تمنا کرنا ہے اور یہ مذموم ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ شہادت فی نفسہ قبیح ہے لیکن چونکہ یہ اعلاء کلمۃ اللہ کا سبب ہے اس وجہ سے یہ حسن لغیرہ ہے ‘ اور جب مسلمان شہادت کی تمنا اور دعا کرتا ہے تو اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے دین کو سربلند کرے اور اللہ کے دشمنوں کو قتل کرے۔ خواہ اس راہ میں اس کی جان جاتی رہے وہ یہ دعا نہیں کرتا کہ اس کو کوئی کافر آکر مار دے کیونکہ ایسی دعا تو معصیت اور کفر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 143