اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے سو ان سے اور اعراض کیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے اور ان سے بہت اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ان سے ان کے نفسوں میں اثر آفریں بات کیجئے۔ (النساء : ٦٣) 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک یہ کہ ان کو تنہائی میں نصیحت کیجئے کیونکہ تنہائی میں نصیحت کے قبول کر نیکی توقع زیادہ ہوتی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے ایسی اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

اسلام غریبی سے شروع ہوا

حدیث نمبر :157

روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام غریبی سے شروع ہوا اورجیسا شروع ہوا تھا ویسا ہی پھر ہوجائے گا غربا کو خوشخبری ہو ۱؎ (مسلم)

شرح

۱؎ غربت کے لفظی معنی ہیں تنہائی اور بیکسی،اسی لیئے مسافر اور تنگ دست کو غریب کہا جاتا ہے کہ مسافر سفر میں اکیلا ہوتا ہے اور تنگ دست بیکس،یعنی اسلام کو پہلے تھوڑے لوگوں نے قبول کیا اور آخر میں بھی تھوڑے ہی لوگوں میں رہ جائے گا،یہ دونوں جماعتیں بڑی مبارک ہیں۔الحمدﷲ!تھوڑے مسلمان بہتوں پر غالب آتے رہے اور آتے رہیں گے،تھوڑا سونا بہت سے لوہے پر اور تھوڑا مشک بہت سی مٹی پر غالب ہے۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ غریب مسکین لوگ اسلام پر قائم رہتے ہیں اکثر مالداربھٹک جاتے ہیں۔

ایک پرُ اثر پیغام

حکایت نمبر64: ایک پرُ اثر پیغام

حضرت سیدنا نافع طاحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ میرا گزر حضرت سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سے ہو ا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا :”تم کون ہو؟” میں نے کہا:” میں عراق کا رہنے والا ہوں، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”کیا تم حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جانتے ہو؟ ”میں نے کہا:”جی ہاں۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا: ”حضرت سیدنا عبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے ساتھ پڑھا کرتے تھے اور میرے بہت گہرے دو ست تھے ،پھر انہوں نے حکومتی عہدہ طلب کیا اور بصرہ کے والی بن گئے، تم جب بصرہ پہنچو تو ان کے پاس جانا۔ جب وہ پوچھیں :” کیا تمہیں کوئی حاجت ہے ؟” تو کہنا: ”میں آپ سے تنہائی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔”پھر جب وہ تنہائی میں تم سے ملاقات کریں توکہنا:” میں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام لے کر آیا ہوں، انہوں نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور کہا ہے:”ہم کھجوریں کھاتے ہیں او رپانی پیتے ہیں ،زندگی ہماری بھی گزر رہی ہے اور تمہاری بھی گزر رہی ہے ۔”

حضرت سیدنا نافع طاحی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:” جب میں حضرت سیدناعبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور انہوں نے مجھ سے پوچھا :” کیا تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے ؟” میں نے کہا : ”میں علیٰحدگی میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں، پھر میں نے کہا:”میں حضرت سیدنا ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔”جیسے ہی انہوں نے یہ سنا تو مجھے ایسا لگا جیسے وہ کانپ رہے ہوں، میں نے کہا؛انہوں نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا ہے کہ” ہم تو کھجوریں کھاکراور پانی پی کر گزارہ کر لیتے ہیں ، زندگی ہماری بھی گزرر ہی ہے اور تمہاری بھی۔”اتنا سننا تھاکہ حضرت سیدناعبداللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا منہ چادر میں چھپایا اور اتنا روئے کہ چادر آنسوؤں سے تر ہوگئی۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟

کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟

Tahaffuz, May 2008 آصف محمود ایڈوکیٹ

Jylland-Posten میں آقائے دوجہاںﷺ کے بارے میں گستاخانہ کارٹون کی اشاعت کے بعد کہنے کو تو ساری مسلم دنیا میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ کابل سے مکہ تک اور اسلام آباد سے بیروت تک صرف وہ لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں جنہیں ہم حقارت سے مولوی اور مغرب نفرت سے بنیاد پرست کہتا ہے۔ کوئی سا ٹی وی چینل آن کرلیجئے اور کوئی سا اخبار اٹھا لیجئے آپ کو ایک لمحے میں معلوم ہوجائے گا کہ یہ لوگ جن کا قرار لٹ گیا ہے اور جن کے دل لہو رورہے ہیں جو سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور جن کی آنکھوں میں درد کے ڈورے اتر آئے ہیں۔ سب مولوی داڑھیوں والے مولوی اور عبائوں والے مولوی۔ آپ کو کوئی کلین شیو نظر نہیں آئے گا کوئی پینٹ شرٹ اور ٹائی والا نظر نہیں آئے گا۔ منہ ٹیڑھا کرکے انگریزی بولنے والے کسی انسانیت دوست سیکولر کو آپ نے ان مظاہروں میں نہیں دیکھا ہوگا۔ ہیومن رائٹس کا کوئی چمپئن باہر نہیں نکلا‘ کابل کے چڑیا گھر کے بندر کی بھوک پر پریشان ہونے والے اور مارگلہ کے خوبصورت جنگل کے پارک میں بڑے شیر کی ازدواجی تنہائی پر لاکھوں روپے کی کانفرنسیں کرنے والے وہ احباب بھی گھر کی دہلیز سے باہر نہ آسکے جن کی نرم دلی اور مزاج کی حساسیت پر ہم لوگ رشک کیا کرتے تھے‘ نہ نواز شریف گرجے نہ بے نظیر برسیں۔ میدان سیاست سے لے کر بت کدہ دانش تک ایک سکوت طاری رہا اور کچھ مصالح غالب رہے۔ وہ سیکولر طبقہ جس نے طالبان کے ہاتھوں بامیان میں بدھا کی تباہی پر یہ کہہ کر ہم جیسوں سے داد پائی تھی کہ کسی کے مذہبی جذبات مجروح کرنا ظلم ہے۔ ساری دنیا کے مسلم جذبات کو چپ چاپ گھائل ہوتے دیکھتا رہا۔ اس سے یہ تک نہ ہوسکا کہ ایک مذمتی بیان ہی جاری کردیتا۔ ڈالروں کو مقصود حیات اور مغرب کو رب نہیں کہنا مجھے عام پاکستانی سے یہ سوال کرنا کہ کیا رسول اﷲﷺ صرف مولویوں کے رسول ہیں؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر ہمیں سوچنا چاہئے کہ توہین نبی رحمتﷺ پر بے قرار ہوکر گھروں سے نکلنے کی سعادت صرف مولویوں کے حصے میں کیوں آئی؟

بعض احباب یہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کا احتجاج غیر حکیمانہ اقدام ہے کیونکہ ڈنمارک کی حکومت اپنے اخبار کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لے سکتی۔ مغرب میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ڈنمارک کی حکومت سے ایسا مطالبہ کرنا ایک فضول مشقت ہے۔ یہ احباب اپنی نجی محفلوں میں صبر کا درس دیتے ہوئے کارٹون کو مغربی روایات سمجھ کر بھول جانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اپنی روایات کو بھول جاتے ہیں یہ معلوم تاریخ کا بدترین فکری سرنڈر ہے۔ ڈنمارک کی آبادی میرے آبائی ڈویژن سرگودھا جتنی ہے اور ہمیں بتایا جارہا ہے کہ ہم اس حقیر اور معمولی آبادی کی روایات کے معبد کی دہلیز پر اپنا سب کچھ قربان کردیں۔

آزادی اظہار کی مغربی  روایات میں بلاشبہ کچھ خوبیاں ہیں لیکن آزادی اور مادر پدر آزادی میں فرق ہوتا ہے خود مغرب کے صحافیوں کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ ان کی یہ آزادی کہاں دم توڑ دیتی ہے۔ آج پورے یورپ میں کسی صحافی کی یہ جرات نہیں کہ وہ ہٹلر کا دفاع کرے۔ 60 لاکھ یہودیوں کے قتل عام کے ڈرامے کی حقیقت کے بارے میں سوال اٹھانا جرم ہے۔ کسی یورپی صحافتی کی جرات نہیں کہ وہ یہودیوں کے خلاف کچھ بھی لکھ سکے اس وقت بھی David Irving دنیا کی جیل میں گل سڑ رہا ہے۔ کیونکہ اس نے ہولوکاسٹ کے ڈرامے کی حقیقت بیان کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ کیسی آزادی صحافت ہے کہ سارے یورپ میں قانون نافذ کردیا گیا ہے کہ کوئی فرد کوئی صحافی‘ کوئی اخبار ہولوکاسٹ کو زیر بحث نہیں لاسکتا۔ یہ صحافی خدا اور اس کے رسولوں کے بارے میں تو بکواس کرسکتے ہیں مگر یہودیوں اور ان کے خود ساختہ ڈرامے ہولوکاسٹ کے بارے میں کچھ نہیں لکھ سکتے کیونکہ اس صورت میں انہیں جیل یاترا کرنا پڑتی ہے۔ برطانیہ کے ہائیڈ پارک کو دیکھ لیجئے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں آپ کو جو جی میں بول دیجئے جی چاہے تو دیوتائوں کو گالی دے ڈالئے۔ آپ سے کوئی تعرض نہیں ہوگا لیکن اس جگہ بھی اگر آپ ملکہ برطانیہ کی شان میں گستاخی کریں گے تو برطانیہ کا قانون حرکت میں آجائے گا یعنی ملکہ برطانیہ کی عزت و احترام کے آگے آزادی رائے کا بلیدان دے دیا جائے گا۔

مغرب کی آزادی کو جب مسلمانوں سے واسطہ ہو تو یہ مادر پدر آزاد بن جاتی ہے‘ شعائر کی بے حرمتی کی آزادی ‘ توہین رسالت کی آزادی‘ باراتوں پر بم مار کر دلہنوں کو خاک بنادینے کی آزادی‘ مدارس پر میزائل مار کر معصوم بچوں کو چیتھڑوںمیں تبدیل کردینے کی آزادی‘ ہر ظلم‘ ہر وحشت‘ ہر بربریت اور ہر درندگی کی آزادی۔

آپ کو علم ہونا چاہئے کہ ڈنمارک کے اخبار کی معذرت کی حقیقت کیا ہے اور ڈنمارک حکومت کی مسلم دشمنی کی نوعیت کیا ہے۔

ایک اخبار یہ اخبار معذرت کرچکا ہے اور دوسری جانب اس میں شائع ہونے والا کارٹون ہمارے یورپ کے اخبارات میں اہتمام کے ساتھ دوبارہ شائع ہورہے ہیں۔ یورپ کے معاملات ہماری طرح نہیں ہیں کہ ہر چیز بے ہنگم بے ڈھنگے انداز میں چل رہی ہو۔ وہاں کاپی رائٹ کا قانون پوری عملداری کے ساتھ موجود ہے اور یہ ممکن ہی نہیں کہ Jyllands-Posten کی مرضی کے بغیر یورپ کا کوئی اخبار اس کو شائع کرسکے۔ گویا معذرت کے باوجود یہ اخبار مسلسل مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے۔

ادھر ڈنمارک کا کردار بھی وہی ہے کہ چونکہ معاملہ مسلمانوں سے ہے‘ اس لئے ہر کسی کو کام کی آزادی ہے ورنہ ڈنمارک حکومت چاہے تو ڈنمارک کے قانون میں اس بات کی گنجائش موجود ہے کہ اخبار کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ڈنمارک کے کرمنل کوڈ کی سیکشن 40,266-B اور 142 کے تحت یہ کارٹون ایک ایسا جرم ہے جس کے تحت کارٹونسٹ کو جرمانہ یا اڑھائی سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ لیکن ڈنمارک کے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ اخبار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتے۔

ہر قوم کی ایک باٹم لائن ہوتی ہے اور ذلت کے بدترین موسموں میں بھی وہ اس باٹم لائن سے نیچے نہیں جاتی۔ اس کی تمام مجبوریاں‘ اس کی ساری مصلحتیں اور اس کی جملہ کمزوریاں اس باٹم لائن پر آکر دم توڑ دیتی ہیں۔ یہاں پہنچ کر اس کی لغت کے مفاہیم بدل جاتے ہیں۔ زندگی بے معنی ہوجاتی ہے اور دھڑ پر رکھا سر ایک بوجھ بن جاتا ہے۔

تو کیا ہم اس بات پر تیار ہیں کہ ہم ناموس رسالت اقدس کو اپنی باٹم لائن قرار دے سکیں؟