حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

حضرت عبداللہ بن مسعود کی مرویات

آپکی عظمت شان اس سے ظاہروباہر ہے کہ آپ کو بارگاہ رسالت میں خاص قرب حاصل تھا ،صاحب النعل والوسادۃ آپ کا لقب مشہور تھا کہ آپ کو سفر وحضر میں حضور کی کفش برداری کا اعزاز خاص طور پر نصیب ہوا۔

آپکی روایتیں آپکے مشہو رشاگرد حضرت علقمہ کے ذریعہ محفوظ ہوئیں اور ان سب کولکھا گیا ، بعض لوگوں نے یہ طریقہ بھی اپنایا کہ آپ سے حدیثیں سنکرجاتے اورگھر جاکر وہ احادیث قلمبند کرلیتے تھے ۔وجہ اسکی یہ تھی کہ آپ ابتدائً کتابت کے مخالف تھے ۔(السنن للدارمی، ۶۷ ٭ جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۴۰)

حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

حضرت ابوہریرہ کی روایات کے مجموعے

روایت حدیث میں آپکی شان امتیازی حیثیت کی حامل ہے ،پانچ ہزار سے زائد احادیث کا ذخیرہ تنہا آپ سے مروی ہے جو آج بھی کتابوں میں محفوظ ہے۔

آپکی روایات بھی آپکے دور میں جمع وتدوین کے مراحل سے گذرکر کتابی شکل میں جمع ہو گئی تھیں ،اس سلسلہ کے چند نسخے مشہور ہیں ۔

پہلا نسخہ بشیر بن نہیک کا مرتب کر دہ ہے ۔وہ کہتے ہیں:۔

کنت اکتب ما اسمع من ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلما اردت ان افارقہ اتیتہ بکتابہ فقرأتہ علیہ وقلت لہ : ھذ ماسمعتہ منک قال: نعم (السنن للدارمی، ۶۸ ٭ السنۃ قبل التدوین، ۳۴۸)

حضرت بشیربن نھیک کہتے ہیں : میں جو کچھ حضرت ابوہریرہ سے سنتا وہ لکھ لیا کرتا تھا ، جب میں ان سے رخصت ہونے لگا تووہ مجموعہ میں نے آپکو پڑھکر سنایا اورعرض کیا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے آپ سے سماعت کی ہیں ،فرمایا : ہاں صحیح ہیں ۔

دوسرامجموعہ حضرت حسن بن عمروبن امیہ الضمری کے پاس تھا۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

تیسرا مجموعہ زیادہ مشہور ہے اور یہ ہمام بن منبہ کا مرتب کردہ ہے ۔یہ اب چھپ چکا ہے ، اس مجموعہ کی اکثر احادیث مسند احمد ، صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہیں ،انکے مواز نہ سے پتہ چلتاہے کہ ان میں ذرہ برابر فرق نہیں ،پہلی صدی اورتیسری صدی کے مجموعوں کی مطابقت اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ احادیث ہر قسم کی آمیزش سے محفوظ رہیں ۔

یہ یمن کے امراء سے تھے ، انکے علاوہ تلامذہ اور خود آپکے مرتب کردہ مجموعے بھی تھے ۔ حسن بن عمروبیان کرتے ہیں :۔

تحدثت عند ابی ہریرۃ بحدیث فانکر ہ فقلت انی سمعت منک ، فقال : ان کنت سمعتہ منی فھو مکتوب عندی ،فاخذ بیدی الی بیتہ فأرانا کتبا کثیرۃ من حدیث رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فوجد ذلک الحدیث فقال : قد اخبرتک ان کنت حدثتک بہ فھو مکتوب عندی۔ (فیوض الباری، ۱/۲۳)

میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک حدیث پڑھی ،آپ نے اس کو تسلیم نہ کیا ،میں نے عرض کیا : یہ حدیث میں نے آپ ہی سے سنی ہے ،فرمایا : اگر واقعی تم نے یہ حدیث مجھ سے سنی ہے تو پھر یہ میرے پاس لکھی ہوئی موجود ہوگی ۔پھر آپ میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اپنے گھر لے گئے ،آپ نے ہمیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کی کئی کتابیں دکھائیں وہاں وہ متعلقہ حدیث بھی موجود تھی ،آپ نے فرمایا: میں نے تم سے کہا تھا نا کہ اگر یہ حدیث میں نے تمہیں سنائی ہے تو ضرور میرے پاس لکھی ہوگی۔( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۸۴)

اس روایت سے ظاہر کہ آپ کے پاس تحریر شدہ احادیث دس پانچ نہیں تھیں بلکہ جو کچھ وہ بیان کرتے تھے ان سب کو قید کتابت میں لے آئے تھے ۔قارئین اس بات سے بخوبی انداز لگاسکتے ہیں کہ صحابہ کے دور میں کتنا عظیم ذخیرئہ حدیث بشکل کتابت ظہور پذیر ہوچکا تھا ۔

کتابت و ممانعت والی روایتوں میں تطبیق

کتابت و ممانعت والی روایتوں میں تطبیق

علامہ پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں :۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعض ایسی احادیث موجود ہیں جن میں احادیث لکھنے کی ممانعت کی گئی ہے ۔بعض صحابہ کرام سے بھی ایسے آثار مروی ہیں کہ انہوں نے احادیث لکھنے کو ناپسند فرمایا ۔اور تابعین میں بھی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جن کے بیانات سے اندازہ ہوتاہے کہ وہ احادیث لکھنے کے خلاف تھے ۔

روی ابوسعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم انہ قال : لاتکتبوا عنی شیأ غیرالقرآن ،ومن کتب عنی شیأ غیرالقرآن فلیمحہ (المسند لا حمد بن حنبل، ۳/۲۱ ٭ المستدرک للحاکم، ۱/۱۲۷المنہل اللطیف فی اصول الحدیث الشریف، ۱۷

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضوراقدس سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میری طرف سے سوائے قرآن حکیم کے کوئی چیز نہ لکھو ،اور جس نے قرآن حکیم کے علاوہ کچھ لکھا ہو وہ اسے مٹادے ۔

علامہ محمدبن علوی المالکی الحسنی فرماتے ہیں :۔

وہذاھو الحدیث الصحیح الوحید فی الباب۔ ( المنہل اللطیف فی اصول الحدیث الشریف، ۱۷)

اس موضوع پر یہی واحد صحیح حدیث ہے :۔

اس حدیث کے علاوہ بعض کتابوں میں اس مفہوم کی کچھ اور احادیث بھی مل جاتی ہیں ، اس قسم کی احادیث صراحۃً کتابت حدیث سے منع کررہی ہیں ، جولوگ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ احادیث طیبہ کی کتابت وتدوین دوسری یاتیسری صدی ہجری سے پہلے نہیں ہوئی وہ صرف اسی مفہوم کی احادیث کو پیش کرتے ہیں ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ احادیث کی کتابت سے منع کرنے والی ان احادیث کے ساتھ ساتھ ایسی احادیث بھی کثرت سے موجود ہیں جو احادیث طیبہ کو لکھنے کی ترغیب دیتی ہیں ،اور بعض احادیث سے تو یہ بھی پتہ چلتاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰعلیہ وسلم نے خود احادیث لکھنے کا حکم دیا۔(۔ ضیاء النبی، ۷/۱۱۳)

یہاں ایک حدیث ملاحظہ ہوباقی تفصیل آئندہ صفحات میں پیش کی جائیگی ۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ

کنت اکتب کل شیٔ اسمعہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ارید حفظہ فنھتنی قریش وقالوا : تکتب کل شیٔ سمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ورسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشر یتکلم فی الغضب والرضا فامسکت عن الکتاب ،فذکرت ذلک لرسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہوسلم فأومأباصبعہ الی فمہ وقال : اکتب فوالذی نفسی بیدہ ماخرج منہ الاحقِ ( جامع بیان العلم لا بن عبد البر، ۲۶)

میں حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے جوکچھ سنتا اسے لکھ لیتا تھا ،میرامقصد یہ ہوتا تھا کہ اسے حفظ کرلونگا ،قریش نے مجھے ایسا کرنے سے منع کیا اور کہا : تم جوکچھ حضور سے سنتے ہو اسے لکھ لیتے ہو حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم بشر ہیں ، آپ غصے اور رضا ہرحال میں کلام فرماتے ہیں ،میں نے لکھنا چھوڑ دیا اور اس بات کا ذکر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں کیا ،حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی انگشت پاک سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا : لکھا کرو ،اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میریجان ہے اس زبان سے ہمیشہ حق بات ہی نکلتی ہے ۔

ہماری نقل کردہ ان دونوں حدیثوں میں بظاہر تعارض نظر آتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ نصوص قرآن وحدیث میں کبھی حقیقی تعارض ہوہی نہیں سکتا ہے ،جہاں تعارض نظر آتا ہے وہ فقط ظاہری ہوتاہے ،جن لوگوں نے ایسے مقامات پر تعارض سمجھا وہ قلت فہم کی پیداوارہے ۔ اگر حقیقی تعارض قرآن وحدیث میں پایا جاتا تو وہ تمام نصوص رد ہوجاتیں جہاں تعارض نظرآتا ہے اور یہ دونوں علی الاطلاق دین اسلام کے مصدرقرار نہ پاتے ۔

ایسے مقامات پر علمائے کرام دفع تعارض کیلئے مختلف صورتیں اپناتے ہیں تاکہ خداوند قدوس کا کلام بلاغت نظام اوراسکے رسول معظم صاحب جوامع الکلم کے فرامین اپنے حقیقی محامل پر محمول ہوسکیں ۔دفع تعارض کی وجوہ کو ہم نے ابتدائے مضمون میں شرح وبسط کے ساتھ بیان کردیا ہے ،لہذا انکی طرف رجوع کریں ۔

یہاں ان میں سے بعض کے ذریعہ تعارض کودور کیاجا سکتاہے ،پہلی وجہ دفع تعارض

کیلئے نسخ ہے اوروہ یہاں منصور بلکہ واقع ۔

والحق انہ لاتعارض ،وقداجتھد کثیرمن اہل العلم فی الجمع بینھما ،

واحسن مأ اراہ فی ذلک ھوالقول بنسخ احادیث النھی عن الکتابۃ۔( المنہل اللطیف فی اصول الحدیث الشریف، ۱۹)

حق یہ ہے کہ یہاں کسی قسم کا تعارض نہیں ،علما ء نے ان احادیث میں تطبیق کی کئی صورتیں بیان کی ہیں ، جورائے میرے نزدیک ان میں سب سے زیادہ اچھی ہے وہ یہ ہے کہ ایسی احادیث جن میں کتابت احادیث کی ممانعت کی گئی ہے وہ منسوخ ہیں ۔

اپنے موقف کی تفصیل بیان کرتے ہوئے علامہ محمد بن علوی مالکی فرماتے ہیں ۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ کتابت حدیث کی ممانعت پردلالت کرنے والی احادیث کازمانہ مقدم ہے یاان احادیث کا جن میں کتابت حدیث کی اجازت دی گئی ہے ۔اگرممانعت والی احادیث ابتدائی زمانے کی ہوں اوراجازت والی احادیث بعد کے زمانے کی تومسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے ۔ اوراگر یہ کہا جائے کہ جن احادیث میں کتابت حدیث کی اجازت ہے وہ مقدم ہیں ااور ممانعت والی موخر تواس سے وہ حکمت ہی فوت ہوئی جاتی ہے جس کے تحت احادیث لکھنے کی ممانعت کی گئی۔ وہ حکمت یہ تھی کہ قرآن وحدیث میں التباس پید انہ ہوجائے جیسا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی سے ظاہر ہے آپ نے فرمایا :۔

امحضوا کتاب اللہ واخلصوہ۔

اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ہر قسم کے شائبۂ التباس سے پاک رکھو ۔

قرآن اور حدیث میں التباس کا خدشہ اسلام کے ابتدائی دور میں تو قابل فہم ہے جب ابھی فن کتابت بھی عام نہیں ہوا تھا اور مدینہ میںیہودی اور منافقین بھی تھے ،ان حالات میں قرآن اور حدیث کے درمیان التباس کا خدشہ تھا۔ اس لئے احادیث کی کتابت کو منع کردیا گیا تاکہ لوگ قرآن حکیم کی طرف پوری پوری توجہ دیں اور کتابت قرآن کے ساتھ کتابت حدیث کی وجہ سے دونوں میں التباس پیدا نہ ہو ۔ لیکن یہ بات قرین قیاس نہیں کہ ابتدامیں تو احادیث لکھنے کی اجازت ہو اور جب کتابت کا فن عام ہوگیا اور قرآن و حدیث میں التباس کا کوئی خطراہ نہ رہا تواحادیث لکھنے کی ممانعت کردی گئی۔ اس لئے قرین قیاس یہ ہی ہے کہ ممانعت والی احادیث اجازت والی احادیث سے مقدم ہیں اور ممانعت والی منسوخ ہیں ۔(ضیاء النبی، ۷/۱۱۷)

احادیث ممانعت واجازت میںدفع تعارض اور تطبیق کے سلسلہ میں یہ پہلا طریقہ تھا کہ وجوہ نسخ میں سے ایک وجہ کو اختیا ر کرکے دونوں طرح کی روایات میں تطبیق دی گئی اور وہ ہے روایات میں باعتبار زمانہ تقدم وتاخر ۔

دفع تعارض کیلئے یہاں ایک اور صورت بھی ہے کہ وجوہ جمع میں سے کسی ایک وجہ کو بروئے کار لایا جائے ،غوروفکر کے بعد یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ وجہ تنویع ہے ۔یعنی دونوں میں حکم عام ہے اور یہ الگ الگ انواع سے متعلق ہے ۔

علامہ پیرکرم شاہ ازہری لکھتے ہیں :۔

لیکن علمائے ملت اسلامیہ نے کتابت حدیث کی ممانعت اور جواز کے متعلق مرویہ احادیث میں تطبیق کی اور بھی کئی صورتیں بیان کی ہیں ، ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ

ممانعت ان لوگوں کیلئے ہے جن کا حافظہ اچھا ہے ، ان کو کتابت سے اس لئے منع کیاگیا ہے تاکہ وہ کتابت پر بھروسہ کرکے احادیث کو حفظ کرنے کے معاملہ میں سستی کا مظاہرہ نہ کریں ۔ اور اجازت ان لوگوں کیلئے ہے جن کو اپنے حافظوں پر اعتبار نہ تھا ۔جیسے ابو شاہ ،کہ اس کیلئے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حدیث کولکھنے کا خود حکم فرمایا ۔

تطبیق کی ایک اور صورت علمائے کرام نے یہ بیان کی ہے کہ عام لوگوں کیلئے تو کتابت کی ممانعت تھی ، کیونکہ کتابت میں ماہر نہ ہونے کی وجہ سے التباس اور غلطی کا امکان موجود تھا ، لیکن جو لوگ فن کتابت کے ماہر تھے اور اس مہارت کی وجہ سے جن سے غلطی اور التباس کا امکان نہ تھا ان کو احادیث لکھنے کی اجازت دیدی گئی ۔ جیسے کہ حضرت عبداللہ بن عمر وبن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے احادیث لکھنے کی اجازت فرمائی ،کیونکہ وہ کتابت کے فن میں ماہر تھے اور ان سے غلطی کا اندیشہ نہ تھا۔( ضیاء النبی، ۷/۱۱۷)

ان وجوہ تطبیق اور روایات کی تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم خود نہیں چاہتے تھے کہ میرے صحابہ احادیث میںاس طرح مشغول ہوں جیسے کہ قرآن کریم میں منہمک رہتے ہیں ۔لیکن آپ کا مطلب یہ بھی نہیں تھا کہ میرے طریقوں کا اتباع نہ کریں کہ اس کے بغیر تو پھر قرآن کریم کا اتباع اور اس کی تعلیما ت پر کامل طور سے عمل ہوہی نہیں سکتاتھا ،جیساکہ ہم اول مضمون میںبیان کر آ ئے ہیں کہ قرآنی تعلیمات کو بغیر اسوئہ رسول کے سمجھا ہی نہیں جاسکتا تھا لیکن اسکی دونو عیتیں تھیں ، بعض صورتوں میں عمل ہی ممکن نہیں تھا اور بعض میں عمل تو ہوسکتا تھا لیکن ناقص وناتمام رہتا یا باحسن وجوہ انجام نہ پاتا ۔

ان تمام چیزوں کو سامنے رکھنے سے یہ نتیجہ ضرور ظاہر ہوگا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی منشاء مبارک یہ ہی تھی کہ سنن واحادیث پر عمومیت کا رنگ غالب نہ آئے اور فرق مراتب کے ساتھ ساتھ کیفیت عمل میں بھی برابری نہ ہونے پائے ورنہ امت مسلمہ دشواری میں مبتلا ہوگی۔

لہذا خدا وند قدوس نے اپنے فضل وانعام سے ’ لایکلف اللہ نفسا الا وسعہا ،کا مژدہ اپنے محبوب کے ذریعہ اپنے بندوں کو سنایا اور حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی رحمت عامہ وشاملہ سے امت مسلمہ کو حرج وضرر میں پڑ نے سے محفوظ ومامون رکھا ۔