اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے سو ان سے اور اعراض کیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے اور ان سے بہت اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ان سے ان کے نفسوں میں اثر آفریں بات کیجئے۔ (النساء : ٦٣) 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک یہ کہ ان کو تنہائی میں نصیحت کیجئے کیونکہ تنہائی میں نصیحت کے قبول کر نیکی توقع زیادہ ہوتی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے ایسی اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے اﷲ جانے

حدیث نمبر :262

روایت ہے حضرت عبداﷲ سے فرمایا اے لوگو!جو کوئی کچھ جانتا ہوتو بیان کردے اور جو نہ جانتا ہو وہ کہہ دے اﷲ جانے ۱؎ کیونکہ علم یہ ہی ہے جسے تم نہ جانو تو کہہ دو اﷲ جانے۲؎ اﷲ تعالٰی نے اپنے نبی سے فرمایا کہ فرمادو میں نبوت پر تم سے اجرت نہیں مانگتا اور نہ میں بناوٹ کرنے والوں سے ہوں۳؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ یہ حدیث موقوف ہے یعنی حضرت عبداﷲ ابن مسعود کا اپنا فرمان۔مقصد یہ ہے کہ کوئی عالم اپنی بے علمی ظاہرکرنے میں شرم نہ کرے،اگر کوئی مسئلہ معلوم نہ ہوتو گھڑکر نہ بتائے ہماری بے علمی علم سے زیادہ ہے رب فرماتا ہے:”وَمَاۤ اُوۡتِیۡتُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِیۡلًا” فرشتوں نے عرض کیا تھا:”لَا عِلْمَ لَنَاۤ”حضرت علی سے سرمنبر کوئی مسئلہ پوچھا گیا آپ نے فرمایا مجھے معلوم نہیں،وہ گستاخ بولا کہ آپ بے علمی کے باوجود منبر پر کیوں کھڑے ہوگئے؟ آپ نے فرمایا کہ میں بقدرعلم منبر پر چڑھا ہوں اگر بقدر جہالت چڑھتا تو آسمان پرپہنچ جاتا۔(مرقاۃ)

۲؎ یعنی اپنی بے علمی جاننا بھی علم ہے،اپنی جہالت سے ناواقف ہونا جہل مرکب،مفتیان کرام فتوےٰ کے آخر میں لکھتے ہیں” اَﷲُ وَ رَسُوْلُہٗ اَعْلَمُ”وہ یہاں سے اخذ ہے۔

۳؎ حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اولین و آخرین سب سے بڑے عالم،تمام جہان کے معلم ہیں مگر انہیں حکم دیا گیا جس چیز کا علم آپ کو اب تک نہ دیا گیا ہو بتکلف نہ بتائیں۔چنانچہ حضورسے اصحاب کہف کی تعداد پوچھی گئی نہ بتائی کیونکہ اس کا علم بعدمیں عطاءہوا،حضرت عمرسے سوال ہوا کہ فاکھہ اور ابٌّ(میوہ اور چارہ)میں کیا فرق ہے ؟ فرمایا مجھے خبر نہیں،حضرت امام مالک نے چھتیس مسائل میں فرمایا کہ میں نہیں جانتا،حضرت امام ابوحنیفہ سے پوچھا گیا کہ دھرکیا چیز ہے فرمایا مجھے خبرنہیں۔

جانتا ہے پھر اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی

حدیث نمبر :220

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جس سے علمی بات پوچھی گئی جسے وہ جانتا ہے پھر اسے چھپائے تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگام دی جائے گی ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ترمذی ابن ماجہ عن انس)

شرح

۱؎ یعنی اگرکسی عالم سے دینی ضروری مسئلہ پوچھا جائے اور وہ بلاوجہ نہ بتائے تو قیامت میں وہ جانوروں سے بدترہوگا کہ جانور کے منہ میں چمڑے کی لگام ہوتی ہے اور اس کے منہ میں آگ کی لگام ہوگی۔خیال رہے کہ یہاں علم سے مراد حرام،حلال،فرائض واجبات وغیرہ تبلیغی مسائل ہیں جن کا چھپانا جرم ہے۔عالم پر شرعی مسئلہ بتانا ضروری ہے نہ کہ لکھنا لہذا مفتی فتوے لکھنے کی اجرت لےسکتا ہے۔خصوصًا وہ فتویٰ جن پرمقدمے چلتے ہیں اورمفتی کو کچہریوں میں حاضری دینی پڑتی ہے۔رب فرماتا ہے:”وَلَا یُضَآرَّکَاتِبٌ وَّلَا شَہِیۡدٌ”۔