وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

درد امتی کو، تکلیف جنتی حور کو!

حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب کوئی عورت اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو (جنتی) حوریں جو کہ جنت میں اس (شوہر) کی زوجہ ہوں گی، کہتی ہیں:

اے عورت! اسے تنگ نہ کر، تیرا ستیاناس یہ شوہر تو تیرے پاس مہمان ہے عنقریب یہ تجھے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جائے گا-

(انظر: ابن ماجہ، باب فی المراۃ توذی زوجھا، ج1، ص560، ملخصاً)

اس حدیث کو بیان کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ عورتوں کو اپنے شوہر کو تکلیف نہیں دینی چاہیے بلکہ اس روایت سے دو اہم مسئلے بھی معلوم ہوئے:

(1) اگر کسی بندے کو دور سے پکارنا شرک ہوتا تو جنتی حوریں دنیا کی عورتوں کو نہ پکارتیں اور جو کہتا ہے کہ نبی کو پکارنے سے مسجد گندی ہو جاتی ہے تو بہ قول اس کے غیر نبی کو پکارنے کی وجہ سے جنت بھی گندی ہو جانی چاہیے!

(2) جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تنگ کرتی ہے تو جنت کی حور سن لیتی ہے؛ جب جنت کی ایک مخلوق کی سماعت کا یہ عالم ہے تو مالک جنت، صاحب شریعت ﷺ کی سماعت کا کیا عالم ہوگا-

ممکن ہے کہ کسی کے پیٹ میں اس حدیث کی سند کو لے کر درد اٹھے لہذا دوا کے طور پر ہم بتانا چاہتے ہیں کہ ناصر الدین البانی نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے-

(صحیح سنن ابن ماجہ، جلد1، صفحہ نمبر341)

عبد مصطفی

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا (النساء : ٤٨) 

شرک کی تعریف : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کا لغوی معنی ہے دو یا دو سے زیادہ لوگ کسی ایک معین چیز کے مالک ہوں تو وہ دونوں اس کی ملکیت میں شریک ہیں ‘ اور دین میں شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا شریک ٹھیرائے اور یہ سب سے بڑا کفر ہے اور شرک صغیر یہ کہ بعض کاموں میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی رعایت کرے جیسے ریاء اور نفاق۔ 

(المفردات ص ‘ ٢٦٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کرنے کی تعریف یہ ہے : کسی شخص کو الوہیت میں شریک ماننا جیسے مجوس اللہ کے سوا واجب الوجود مانتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں جیسا کہ بت پرست اپنے بتوں کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں۔ (شرح عقائد نفسی ص ٦١‘ مطبوعہ مطبعہ یوسفیہ ہند) 

کیا چیزشرک ہے اور کیا چیز شرک نہیں ہے :

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو واجب بالذات یا قدیم بالذات ماننا ‘ یا اللہ کے سوا کسی کی کوئی صفت مستقل بالذات ماننا (مثلا یہ اعتقاء رکھنا کہ اس کو ازخود علم ہے یا از خود قدرت ہے) یا کسی کو اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ماننا (مثلا اللہ کے ساتھ خاص ہیں ان کو غیر اللہ کے لیے بجا لانا ‘ مثلا کسی بزرگ کی نذر ماننا یا کسی کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنی قدرتت سے رزق اور اولاد دیتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ بلاؤں کو ٹالتا ہے نفع پہنچانا اور ضرر دینا اس کی ذاتی قدرت میں ہے۔ حانث ہونے کے قصد سے کسی کے نام کی قسم کھانا یہ تمام امور شرک ہیں) 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ نے لکھا ہے کہ کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی یہ بھی شرک ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) 

یہ تعریف دو وجہ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک کا تعلق کسی چیز کو سمجھنے اور جاننے سے نہیں ہے ‘ ماننے اور اعتقاد کرنے سے ہے ‘ ثانیا ‘ اس وجہ سے کہ کوئی کسی شخص کو دور سے پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو خبر ہوگئی۔ یہ اس وقت شرک ہوگا جب وہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ بےعطائے غیر مستقل سننے والا ہے ‘ شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ کی اس سلسلہ میں بہت محتاط عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : 

یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ ان کو مطلع فرما دیوے گا ‘ یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجائے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسروحرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٦٨‘ مطبوعہ ناشران محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی) 

اسی طرح مفتی محمد شفیع نے کسی کو سجدہ کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے ‘ سجدہ عبودیت شرک ہے اور سجدہ تعظیم ہماری شریعت میں حرام ہے سابقہ شریعتوں میں جائز تھا۔ 

کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے اگر عبادت کی نیت سے قبر کا طواف کرے اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے تو یہ شرک ہے اور اگر تعظیم کی وجہ سے طواف کرے جیسا کہ اکثر جاہل مسلمان کرتے ہیں تو یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

کسی کے روبرو رکوع کی طرح جھکنا ‘ اس کو بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ عبادت کی نیت سے شرک ہے خواہ حد رکوع تک ہو یا اس سے کم ہو اور تعظیم کی نیت سے حد رکوع تک جھکنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے حالانکہ ان کو صرف موثر حقیقی ماننا شرک ہے ‘ نیز ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ کسی چیز کو جاننا اور سمجھنا شرک نہیں ہوتا اعتقاد اور ماننا شرک ہوتا ہے ‘ اور اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ ستارے نظام عالم میں اللہ کی قدرت کی علامات ہیں اور مثلا کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ کفر نہیں ہے۔ البتہ مکروہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ٥٩‘ مطبوعہ کراچی) 

اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) اس سے قطع نظر کرکے کہ سمجھنے کا شرک سے تعلق نہیں ہے ‘ نحوست کا اعتقاد شرک نہیں ہے بلکہ خلاف واقع اور خلاف شرع ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر کسی نے کسی چیز کو منحوس سمجھا تو وہ گنہ گار ہوگا مشرک نہیں ہوگا۔ 

زیر بحث آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک کے سوا ہر گناہ بخش دیا جائے گا خواہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ اس پر توبہ کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ‘ اور اس آیت میں معتزلہ اور خوارج کا صراحۃ رد ہے۔ حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب کے پاس سے آنے والے نے مجھے بشارت دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٢) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (النساء : ٤٨) 

اس کا معنی ہے جس شخص نے ایسا گناہ کیا جس کی مغفرت نہیں کی جائے گی اور وہ شرک ہے ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ افتری کا لفظ فری ہے ماخوذ ہے فری کا معنی ہے قطع کرنا اور جیسے کسی چیز کو کاٹا جائے تو وہ عموما فاسد ہوجاتی ہے اس لیے افتری کا معنی بہ طور غلبہ کے فساد ہوگیا اور قرآن مجید میں یہ لفظ ظلم ‘ کذب اور شرک کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 14

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّعۡصِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوۡدَهٗ يُدۡخِلۡهُ نَارًا خَالِدًا فِيۡهَا ۖ وَلَهٗ عَذَابٌ مُّهِيۡنٌ

ترجمہ:

اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی حدود سے تجاوز کرے گا اللہ اس کو دوزخ میں داخل کر دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت والا عذاب ہے۔ (النساء : ١٤) 

احکام وراثت کی نافرمانی کرنے والے پر دائمی عذاب کی وعید اور اس کی توجیہہ : 

جس نے میراث کے ان احکام میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی یا اللہ اور اس کے رسول کے فرائض میں سے کسی فرض میں اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی اور اس نے حلال سمجھ کر وراثتت کی حدود سے تجاوز کیا اللہ تعالیٰ اس کو دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل کر دے گا۔ 

اس آیت میں کسی حکم کی نافرمانی کرنے اور حدود سے تجاوز کرنے پر دائمی عذاب کی وعید ہے جب کہ دائمی عذاب صرف کفار کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس نے اللہ کی اہانت اور اس کے رسول کی نافرمانی کی یا حلال سمجھ کر اللہ اور اس کے رسول کی حدود سے تجاوز کیا ‘ یا جمیع حدود سے تجاوز کیا وہ کافر ہوگیا ‘ اور اس آیت میں یہی تاویل ہے۔ 

جنتیوں کے بیان میں خلود کا ذکر جمع کے صیغہ کے ساتھ ہے اور دوزخیوں کے ذکر میں خلود کا ذکر واحد کے صیغہ کے ساھت ہے کیونکہ اطاعت گزار اپنے ساتھ ان کو بھی جنت میں لے جائیں گے جن کی وہ شفاعت کریں گے اس لئے جمع کے صیغہ کا ذکر کیا اور کافر دوزخ میں اکیلا جائے گا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ جنت میں خلود انس کا سبب ہوگا اس لئے جمع کا صیغہ کے صیغہ کا ذکر کیا ‘ اور دوزخ میں خلود وحشت کا سبب ہوگا اور دوزخی اس وحشت میں اکیلا ہوگا اس لئے واحد کا صیغہ ذکر کیا۔ 

معتزلہ وغیرہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جس نے وراثت کے کسی حکم میں نافرمانی کی وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اس سے یہ معلوم ہوا کہ فاسق مرتکب کبیرہ دوزخ میں ہمیشہ رہے گا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ آیت عدم عفو کے ساتھ مقید ہے یعنی اگر اللہ اس کو معاف نہ کرے تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا جبکہ معتزلہ کے نزدیک بھی اس میں یہ قید ہے کہ اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں جو شخص کسی وارث کی میراث سے بھاگا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی وراثت کو منقطع کر دے گا (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٣)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 14

تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 13

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تِلۡكَ حُدُوۡدُ اللّٰهِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَرَسُوۡلَهٗ يُدۡخِلۡهُ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَا‌ ؕ وَذٰ لِكَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ

ترجمہ:

یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے

تفسیر:

احکام وراثت کی اطاعت پر جنت کی بشارت : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے، (النساء : ١٣) 

یتیموں اور میراث کے متعلق جو احکام بیان کیے گئے ہیں یہ اللہ کی حدود ہیں یعنی اللہ کے دیئے ہوئے شرعی احکام ہیں اور اس کی اطاعت کی تفصیلات اور شرائط ہیں ‘ ان پر حدود کا اطلاق اس وجہ سے کیا گیا کہ مکلف کے لئے ان احکام سے تجاوز کرنا جائز نہیں ہے۔ 

اور جو شخص اللہ کے ان احکام پر عمل کرے گا اللہ اس کو ان جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 13