بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلرِّجَالُ قَوَّامُوۡنَ عَلَى النِّسَآءِ بِمَا فَضَّلَ اللّٰهُ بَعۡضَهُمۡ عَلٰى بَعۡضٍ وَّبِمَاۤ اَنۡفَقُوۡا مِنۡ اَمۡوَالِهِمۡ‌ ؕ فَالصّٰلِحٰتُ قٰنِتٰتٌ حٰفِظٰتٌ لِّلۡغَيۡبِ بِمَا حَفِظَ اللّٰهُ‌ ؕ وَالّٰتِىۡ تَخَافُوۡنَ نُشُوۡزَهُنَّ فَعِظُوۡهُنَّ وَاهۡجُرُوۡهُنَّ فِى الۡمَضَاجِعِ وَاضۡرِبُوۡهُنَّ‌ ۚ فَاِنۡ اَطَعۡنَكُمۡ فَلَا تَبۡغُوۡا عَلَيۡهِنَّ سَبِيۡلًا‌ ؕاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيۡرًا‏

ترجمہ:

مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں کیوں کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ‘ اور اس لیے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کیے سو نیک عورتیں فرماں بردار ہیں۔ مردوں کے پس پشت اللہ کی توفیق سے حفاظت کرنے والی ہیں۔ اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو ، اور ان کو (تادیبا) مارو ‘ پس اگر وہ تمہاری فرماں برداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو ‘ بیشک اللہ نہایت بلند بہت بڑا ہے، A

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مرد عورتوں پر قوام ہیں۔ 

قرآن مجید سے عورتوں کی حاکمیت کا عدم جواز : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اور تم اس چیز کی تمنا نہ کرو جس کے ساتھ اللہ نے تمہارے بعض کو بعض فضیلت دی ہے اور اس شان نزول یہ تھا کہ بعض عورتوں نے یہ کہا تھا کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے وراثت میں ان کا حصہ دگنا رکھا گیا حالانکہ ہم صنف ضعیف ہیں اس لئے ہمارا زیادہ حصہ ہونا چاہیے تھا ‘ اللہ تعالیٰ نے آیت میں اس کا جواب دیا ہے کہ مرد عورتوں کے منتظم اور کفیل ہیں اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت ہے اور اس لئے (بھی) کہ مردوں نے ان پر اپنے مال خرچ کئے۔ 

قوام کا معنی : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

قوام کا معنی ہے کسی چیز کو قائم کرنے والا اور اس کی حفاظت کرنے والا۔ (مفردات الفاظ القرآن ص ٤١٦‘ مطبوعہ المکتبہ المرتضویہ ایران) 

علامہ جمال الدین محمد بن مکرم بن منظور افریقی مصری متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

مرد عورت کا قوام ہے یعنی اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور اس کا خرچ برداشت کرتا ہے۔ (لسان العرب ج ١٢ ص ٥٠٣‘ مطبوعہ نشرادب الحوذۃ ایران ‘ ١٤٠٥ ھ تاج العروس ج ٩ ص ٣٥) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

الرجال قوامون کا معنی یہ ہے کہ جس طرح حاکم رعایا پر اپنے احکام نافذ کرتا ہے اسی طرح مرد عورتوں پر احکام نافذ کرتے ہیں ‘ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ مردوں کو عورتوں پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ نبوت ‘ رسالت حکومت ‘ امامت ‘ اذان اقامت اور تکبیرات تشریق وغیرہ مردوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٢٣‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایام جمل میں ہوسکتا تھا کہ میں اصحاب جمل کے ساتھ لاحق ہوجاتا اور ان کے ساتھ مل کر جنگ کرتا ‘ اس موقع پر مجھے اس حدیث نے فائدہ پہنچایا جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا تھا جب اہل فارس نے کسری کی بیٹی کو اپنا حاکم بنا لیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ قوم ہرگز فلاح (اخروی) نہیں پاسکتی جس نے اپنے معاملات میں ایک عورت کو حاکم بنا لیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤٢٥‘ ٧٠٩٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٦٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٠٣‘ صحیح ابن حبان ج ١٠ ص ٤٥١٦‘ مسند احمد ج ٥ ص ٥١‘ ٤٧‘ ٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠ ص ١١٨۔ ١١٧ مصنف ابن ابی شیبہ ج ١٥ ص ٢٦٦‘ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨‘ المستدرک ج ٤ ص ٥٢٥۔ ٥٢٤‘ مجمع الزوائد ج ٥ ص ٢٠٩) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تمہارے حکام نیک ہوں ‘ تمہارے اغنیاء سخی ہوں ‘ اور تمہاری حکومت باہمی مشورہ سے ہو ‘ تو تمہارے لئے زمین کے اوپر کا حصہ اس کے نچلے حصہ سے بہتر ہے اور جب تمہارے حکام بدکار ہوں ‘ اور تمہارے اغنیاء بخیل ہوں ‘ اور تمہارے معاملات عورتوں کے سپرد ہوں تو تمہارے لئے زمین کا نچلا حصہ اس کے اوپر کے حصہ سے بہتر ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٢٧٣) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے آپ کو فتح کی خوش خبری سنائی اور یہ بھی بتایا کہ دشمن کی سربراہی ایک عورت کر رہی تھی ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب مرد عورتوں کی اطاعت کرنے لگیں تو وہ تباہ اور برباد ہوجائیں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (حافظ ذہبی نے بھی اس حدیث کو صحیح الاسناد کہا ہے۔ ) (المستدرک ج ٤ ص ٢٩١) 

عورتوں کی حاکمیت کے عدم جواز میں فقہاء اسلام کی آراء :

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ١٣ ص ١٨٣‘ مطبوعہ ایران) 

امام حسین بن مسعود بغوی شافعی ٥١٦ ھ لکھتے ہیں : 

امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ عورت حکومت یا انتظامیہ کی سربراہ یا قاضی نہیں بن سکتی ‘ کیونکہ سربراہ مملکت کو جہاد قائم کرنے اور مسلمانوں کے معاملات نمٹانے کے لئے گھر سے باہر نکلنے کی ضرورت پڑتی ہے اور قاضی کو مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے باہر جانے کی ضرورت ہوتی ہے اور عورت واجب الستر ہے اس کا گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ (شرح السنۃ ج ١٠ ص ٧٧‘ مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

جمہور فقہاء اسلام نے حضرت ابوبکرہ کی حدیث کی بناء پر عورت کے قاضی بنانے کو ممنوع قرار دیا ہے ‘ علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن معاملات میں عورت شہادت دے سکتی ہے وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز کہا ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٤ ص ‘ ٢٠٤ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

علامہ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ جمہور فقہاء اسلام نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ عورت کو منصب قضاء سونپنا جائز نہیں ہے اور علامہ طبری نے جمہور کی مخالفت کی اور یہ کہا کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ قضاء بھی کرسکتی ہے اور بعض مالکیہ نے کہا ہے کہ عورت کی قضاء مطلقا جائز ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ٥٦‘ مطبوعہ لاہور) 

ہر چند کہ علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے یہ لکھا ہے کہ علامہ طبری نے بعض امور میں اور بعض مالکیہ نے عورت کی قضاء کو مطلقا جائز قرار دیا ہے لیکن اول تو یہ ثابت نہیں ‘ اور ثانیا ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی نصوص قطعیہ ‘ احادیث صحیحہ ‘ اسلام کے عمومی احکام اور جمہور فقہاء اسلام کی تصریحات کے سامنے ان اقوال کی کوئی وقعت نہیں ہے اور یہ بھی خیال رہے کہ علامہ طبری اور بعض مالکیہ نے عورت کی عمومی سربراہی کو جائز نہیں کہا بلکہ بعض امور میں عورت کی صرف قضاء کو جائز کہا ہے۔ 

علامہ عینی اور علامہ عسقلانی نے بغیر کسی ثبوت کے علامہ طبری اور بعض مالکیہ کی طرف عورت کی قضاء کے جواز کی نسبت کردی ‘ حقیقت یہ ہے کہ علامہ طبری اور مالکی فقہاء دونوں اس تہمت سے بری ہیں ‘ علامہ ابوبکر ابن العربی مالکی اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 

حضرت ابوبکرہ کی روایت کردہ حدیث میں تصریح ہے کہ عورت خلیفہ نہیں ہوسکتی اور اس مسئلہ میں کسی کا اختلاف نہیں ہے البتہ علامہ محمد بن جریر طبری سے یہ منقول ہے کہ ان کے نزدیک عورت کا قاضی ہونا جائز ہے لیکن انکی طرف اس قول کی نسبت صحیح نہیں ہے۔ ان کی طرف اس قول کی نسبت ایسے ہی غلط ہے جیسا کہ امام ابوحنیفہ کی طرف یہ غلط منسوب کردیا گیا ہے کہ جن امور میں عورت گواہی دے سکتی ہے ان میں وہ فیصلہ بھی کرسکتی ہے۔ نیز 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ بن العربی مالکی متوفی ٥٤٣ ھ لکھتے ہیں : 

عورت سربراہی کی اس لئے اہل نہیں ہے کہ حکومت اور سربراہی سے یہ غرض ہوتی ہے کہ سرحدوں کی حفاظت کی جائے قومی معاملات کو سلجھایا جائے ملت کی جائے اور مالی محاصل حاصل کرکے ان کی مستحقین میں تقسیم کیا جائے اور یہ تمام امور مرد انجام دے سکتا ہے عورت یہ کام انجام نہیں دین سکتی کیونکہ عورت کے لئے مردوں کی مجالس میں جانا اور ان سے اختلاط کرنا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اگر وہ عورت جوان ہے تو اس کی طرف دیکھنا اور اس سے کلام کرنا حرام ہے اور اگر وہ سن رسیدہ عورت ہے تب بھی اس کا بھیڑ بھاڑ میں جانا مخدوش ہے۔ (احکام القرآن ج ٣ ص ١٤٥٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت) 

ملکہ بلقیس کی حکومت سے استدلال کا جواب : 

قرآن کریم میں ملکہ بلقیس کے واقعے کا جس قدر ذکر ہے اس میں اس کی حکومت کے خاتمہ کا ذکر ہے ‘ اسلام قبول کرنے کے بعد پھر اس کی حکومت کے تسلسل کا ذکر نہیں ہے لہذا اس واقعہ میں عورت کی سربراہی کا ادنی جواز بھی موجود نہیں ہے اور اگر بالفرض بلقیس کے اسلام لانے کے بعد اس کی حکومت کو ثبوت ہو بھی تو وہ شریعت سابقہ ہے ہم پر حجت نہیں ہے۔ 

جنگ جمل کے واقعہ سے عورت کی سربراہی پر استدلال کا جواب : 

بعض متجدد علماء جنگ جمل میں حضرت عائشہ (رض) کی شرکت سے عورت کی سربراہی کے جواز پر استدلال کرتے ہیں لیکن یہ استدلال قطعا باطل ہے اول تو حضرت عائشہ (رض) امارت اور خلافت کی مدعیہ نہیں تھیں ہاں وہ امت میں اصلاح کے قصد سے اپنے گھر سے باہر نکلیں لیکن یہ ان کی اجتہادی خطا تھی اور وہ اس پر تاحیات نادم رہیں ‘ امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت عائشہ (رض) (آیت) ” وقرن فی بیوتکن “ تم اپنے گھروں میں ٹھہری رہو “ کی تلاوت کرتیں تو اس قدر روتیں کہ آپ کا دوپٹہ آنسوؤں سے بھیگ جاتا۔ (طبقات کبری ج ٨ ص ٨١‘ مطبوعہ دار صادر بیروت)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 34

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا

ترجمہ:

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو ‘ تو اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو ‘ اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس مال میں سے تم کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے ؟۔ (النساء : ٢٠ )

زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر تم کو کوئی عورت ناپسند ہو اور اس کے علاوہ دوسری عورت پسند ہو اور تم یہ ارادہ کرو کہ تم اپنی عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرلو تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مطلقہ عورت کو جو مہر دیا تھا اس کو واپس لے لو ‘ خواہ وہ ڈھیروں مال کیوں نہ ہو ‘ کیا تم اس عورت پر کوئی تہمت یا بہتان باندھ کر اس مال کو واپس لو گے ؟ اور تمہارے لئے اس عورت سے مال لینا کس طرح جائز ہوگا حالانکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ عمل ازدواج کرکے جسمانی قرب حاصل کرچکے ہو ‘ اور تم اس عورت سے مہر پر عقد نکاح کرچکے ہو جس پر مسلمان گواہ ہوچکے ہیں اور اللہ بھی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٢٨۔ ٢٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

قنطار کا معنی : 

اس آیت میں عورت کو دی ہوئی رقم کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی مقدار میں حسب ذیل آثار ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا قنطار بارہ ہزار ہیں ‘ ابو نضرہ العبدی نے کہا بیل کی کھال میں جتنا سونا بھرا جاسکے ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد بارہ ہزار ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد ستر ہزار دینار ہیں ‘ حضرت معاذ (رض) نے کہا اس مراد بارہ سو اوقیہ ہیں (ایک اوقیہ ‘ چالیس درہم کے برابر ہے) مجاہد سے ایک اور روایت ہے کہ اس سے مراد ستر ہزار مثقال ہیں۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٧٠۔ ٣٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) 

تاہم اس آیت میں قنطار سے مراد ڈھیروں روپیہ ہے امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا اس سے مراد مال کثیر ہے (جامع البیان : ج ٤ ص ٢١٤) اسی طرح علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی لکھا ہے اس سے مراد مال کثیر ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٣) 

حضرت عمر کا زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمانا :

امام سعید بن منصور متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا سنو ! عورتوں کے مہر بہت زیادہ نہ رکھا کرو۔ اگر مجھے کسی کے متعلق معلوم ہوا کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باندھے ہوئے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں آپ کے مقرر کردہ مہر سے زائد رقم کو بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس وقت قریش کی ایک عورت نے کہا اے امیر المومنین آیا اللہ کی کتاب پر عمل کرنا زیادہ حقدار ہے یا آپ کے حکم پر عمل کرنا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا بلکہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ‘ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : اگر تم نے کسی عورت کو قنطار (ڈھیروں مال) بھی دیا ہو تو اس سے واپس نہ لو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہہ ہے آپ دو یا تین بار یہ فرما کر منبر سے نیچے اتر آئے اور فرمایا میں نے تم کو زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا سنو اب جو شخص جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٥٩٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٤٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٣٣‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

کہ امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ رکھے اور جب اس عورت نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی تو آپ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما ہر شخص کو عمر سے زیادہ قرآن کی سمجھ ہے ‘ اور زبیر بن بکار نے عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے کہ اس عورت کے اعتراض کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا مرد نے خطا کی اور عورت نے درست کیا۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٣٣) 

دوسری روایت کو حافظ ابن عبدالبرمتوفی ٤٦٣ ھ نے بھی عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے (جامع بیان العلم ج ١ ص ١٣١) 

حضرت عمر (رض) کے علم پر شیعہ کا اعتراض اور اس کا جواب : 

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابویعلی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلہ کا بھی علم نہیں تھا تو وہ خلافت کے اہل کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے مثلا کوئی کہے کہ اگر فلاں شخص تمہارے بیٹے کو قتل کردے پھر بھی تم اس کو معاف کردینا اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ اگر تم عورت کو قنطار دو پھر بھی اس سے واپس نہ لینا۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ قنطار مہرباندھنا جائز ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں قنطار دینے کا ذکر ہے نہ یہ کہ قنطار بہ طور مہر دیا جائے اس لئے اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور خاوند کا عورت کو ہبہ کرکے واپس لینا صحیح نہیں ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا سب سے آسان مہر ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ عورت کی سعادت یہ ہے کہ اس کا مہر سہل ہو۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٥) 

ہمارے نزدیک علامہ آلوسی کے یہ دونوں جواب صحیح نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر (رض) نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور اس عورت کی رائے کو صحیح اور اپنی رائے کو خطا قرار دے کر اس سے رجوع فرمالیا تھا اور یہ حضرت عمر (رض) کی للہیت اور بلند ہمتی کی دلیل ہے کہ بھرئے مجمع میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا۔ رہا شیعہ کا اعتراض تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے لئے عالم کل ہونا لازم نہیں ہے ‘ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے زندیقوں کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور میں ان زندیقوں کو قتل کردیتا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) 

امام حسین بن محمد بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا۔ اور تمام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح السنۃ ج ٥ ص ٤٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کوئی مسئلہ دریافت کیا آپ نے اس کا جواب دیا اس شخص نے کہا یہ مسئلہ اس طرح نہیں اس طرح ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے درست کہا اور میں نے خطا کی ” وفوق کل ذی علم علیم “ اور ہر علم والے سے زیادہ علم والا ہے۔ (جامع البیان ج ١٣ ص ١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ ابن عبد البر نے بھی اس اثر کو محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے (جامع العلم ج ١ ص ١٣١) 

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی ایک مسئلہ کا علم نہ ہونا خلافت کے منافی نہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی عظمت ہے کہ انہوں نے حدیث کے سامنے ہونے کے بعد اپنے موقف سے رجوع فرما لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ‌ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِىۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِىۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 183

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيۡنَاۤ اَلَّا نُؤۡمِنَ لِرَسُوۡلٍ حَتّٰى يَاۡتِيَنَا بِقُرۡبَانٍ تَاۡكُلُهُ النَّارُ‌ؕ قُلۡ قَدۡ جَآءَكُمۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِىۡ بِالۡبَيِّنٰتِ وَبِالَّذِىۡ قُلۡتُمۡ فَلِمَ قَتَلۡتُمُوۡهُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ صٰدِقِيۡنَ

ترجمہ:

جن لوگوں نے یہ کہا کہ اللہ نے ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے آپ کہیے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر آئے اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے تھے تو اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن لوگوں نے یہ کہا ہے کہ اللہ ہم سے یہ عہد لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں حتی کہ وہ ایسی قربانی پیش کرے جس کو آگ کھاجائے۔ (آل عمران : ١٨٣) 

پچھلی امتوں میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کو آسمانی آگ کا کھا جانا : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت میں یہ یہودیوں کا دوسرا طعن ہے وہ کہتے تھے کہ پہلے نبیوں کی شریعت میں قربانی ‘ صدقات اور مال غنیمت کے مقبول ہونے کہ علامت یہ تھی کہ ان کو ایک آگ آکر کر کھا جاتی تھی اگر آپ سچے نبی ہوتے تو آپ کی قربانی کو بھی آگ کھا جاتی ! 

قربان اس نیکی کو کہتے ہیں جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جائے ‘ اس کا مصدر قرب ہے ‘ اور قرب سے قربان اسی طرح بنا ہے جس طرح کفران اسی طرح رجحان اور خسران : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

عطا بیان کرتے ہیں کہ بنو اسرائیل اللہ کے لیے جانور ذبح کرتے اور اس میں سے عمدہ گوشت نکال کر گھر کے وسط میں رکھ دیتے ‘ گھر کی چھت کھلی ہوئی ہوتی تھی، پھر ان کے نبی کریم کھڑے ہو کر اللہ سے دعا کرتے اور بنو اسرائیل گھر کے گرد کھڑے ہوتے تھے ‘ پھر آسمان سے بغیر دھوئیں کے صاف آگ اترتی اور اس قربانی کو کھا جاتی تھی۔ (الوسیط ج ١ ص ٥٢٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ (پچھلی امتوں میں) ایک شخص صدقہ کرتا تھا اگر وہ صدقہ قبول ہوجاتا تو آسمان سے آگ اتر کر اس کو کھا جاتی تھی (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٣١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ، درالمنثور ج ٢ ص ٤٠٦ مطبوعہ ایران) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن المنذر نے ابن جریرج سے روایت کیا ہے کہ ہم سے پہلی امتوں میں کوئی شخص قربانی سے تقرب حاصل کرتا تو لوگ نکل کر دیکھتے کہ اس کی قربانی قبول ہوئی ہے یا نہیں اگر اس کی قربانی قبول ہوتی تو آسمان سے ایک سفید آگ آکر اس کو کھا لیتی ‘ اگر اس کی قربانی قبول نہ ہوتی تو آگ آکر نہیں کھاتی تھی۔ 

حافظ جلال الدین نے ابن ابی حاتم سے روایت کیا ہے کہ پچھلی امتوں میں رسول دلائل لے کر آتے اور ان کی نبوت کی علامت یہ تھی کہ وہ گائے کے گوشت کو اپنے ہاتھ پر رکھتے پر آسمان سے آگ آکر اس کو کھالیتی (الدرالمنثور ج ٢ ص ٤٠٥‘ مبطوعہ ایران)

پچھلی امتوں پر مال غنیمت کا کھانا بھی حلال نہیں تھا اور آسمانی آگ آکر کر غنیمت کو کھا جاتی تھی البتہ اگر کوئی شخص خیانت کرکے مال غنیمت سے کوئی چیز نکال لیتا تو پھر آسمانی آگ نہیں آتی تھی۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انبیاء سابقین میں سے کسی نبی نے جہاد کیا اور اپنی امت سے فرمایا جس شخص نے نکاح کیا ہو اور وہ اپنی بیوی سے عمل ازواج کرنا چاہتا ہوں ‘ جب کہ ابھی تک اس نے یہ عمل نہ کیا ہو اور جس نے گھر بنایا ہو اور ابھی اس کی چھت نہ ڈالی ہو ‘ اور جس شخص نے بکریاں یا اونٹیناں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچوں کی پیدائش کا انتظار کررہا ہو ‘ یہ سب لوگ ہمارے ساتھ نہ جائیں ‘ اس نبی نے عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت تک جہاد کیا ‘ پھر اس نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں ‘ اے اللہ ! اس کو ہم پر روک دے ‘ حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس نبی کو فتح عطا فرمائی ‘ پھر تمام مال غنیمت جمع کیا گیا ‘ آگ آئی اور اس نے مال کو نہیں کھایا اس نبی نے فرمایا تم میں کوئی خیانت کرنے والا ہے ‘ ہر قبیلہ کا ایک شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ ایک شخص کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے کہا تم میں کوئی شخص خیانت کرنے والا ہے ‘ تمہارے قبیلے کا ہر شخص میرے ہاتھ پر بیعت کرے ‘ پھر اس قبیلہ کے دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک گیا ‘ انہوں نے فرمایا تم میں خیانت ہے ‘ تب وہ سونے کی بنی ہوئی گائے کا سر لائے ‘ انہوں نے مال غنیمت میں سونے کا وہ سر رکھا نے اس کو کھالیا پھر اللہ نے ہمارے لیے مال غنیمت کو حلال کردیا ‘ اللہ نے ہمارے ضعف اور عجز کو دیکھ کر اس کو حلال کیا۔ (صحیح البخاری ج ٣ ص ٣٨٢‘ رقم الحدیث، ٣١٢٤ مطبوعہ دارالباز مکہ مکرمہ ‘ صحیح مسلم ج ٣ ص ١٣٦٦‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم سے پہلے بنو آدم میں سے کسی کے لیے مال غنیمت حلال نہیں ہوا ‘ آسمان سے آیک آگ آکر اس کو کھا لیتی تھی۔ (صحیح البخاری ج ٥ ص ٢٧٢‘ رقم الحدیث، ٣٠٩٥ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ سنن کبری للنسائی ج ٥ ص ٣٥٢ طبع بیروت) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : اے میرے رب ! میں نے تورات میں یہ دیکھا ہے کہ ایک امت اپنے صدقات کو خود کھائے گی اور ان سے پہلے جب کوئی اپنا صدقہ نکالتا تھا تو اللہ تعالیٰ ایک آگ بھیجتا تھا وہ اس کو کھا لیتی تھی ‘ اگر وہ صدقہ قبول نہیں ہوتا تھا تو وہ آگ اس کے قریب نہیں جاتی تھی ‘ اے اللہ اس امت کو میری امت بنا دے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ امت احمد ہے۔ (دلائل النبوۃ ج ١ ص ٣٧٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ مختصر تاریخ دمشق ج ٢ ص ‘ ٤٤ مطبوعہ دارالفکر ‘ البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٦٢ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت الوفا لابن الجوزی ج ١ ص ٣٩‘ طبع فیصل آباد پاکستان ‘ دلائل النبوۃ لابی نعیم ج ١ ص ٦٨‘ سبل الھدی والرشاد ج ١٠ ص ٣٦٦) 

تورات میں لکھا ہے : 

اور خداوند کے حضور سے آگ نکلی اور سو ختنی قربانی اور چربی کو مذبح کے اوپر بھسم کردیا۔ (احبار : باب ‘ ٩‘ آیت : ٢٤‘ تورات ص ١٠٢‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی لاہور) 

یہود کے دوسرے اعتراض کا جواب : 

یہود کا یہ کہنا کہ سچے نبی کی صرف یہ علامت ہے کہ اس کی پیش کی ہوئی قربانی کو آسمانی آگ کھاجائے ‘ صحیح نہیں ہے ‘ کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی نبوت کے ثبوت میں یدبیضا اور اژدھے کا معجزہ پیش کیا تھا ‘ نیز قربانی کو آسمانی آگ کا کھا جانا اس لیے نبوت پر دلیل ہے کہ وہ ایک امر خلاف عادت ہے اور معجزہ ہے سو جو امر خلاف عادت پیش کیے تو ان پر اس کی تصدیق کرنا واجب ہے ‘ نیز اس سے پہلے بہت سے نبیوں نے ان کا مطلوبہ معجزہ بھی پیش کیا تھا اور ان کی قربانی کو آسمانی آگ کھا گئی تھی۔ اس کے باوجود یہود ان پر ایمان نہیں لائے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہود کا رد کرتے ہوئے فرمایا : آپ کہئے کہ مجھ سے پہلے تمہارے پاس کئی رسول بہت سی واضح نشانیاں لے کر اور تمہاری کہی ہوئی نشانی (بھی) لے کر آئے اگر تم سچے ہو تو تم ان کو پھر کیوں قتل کرتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 183

حکومت قادیان نے اپنا بغض نکالتے ہوۓ رٶیت ہلال کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کردیا

دیسی لبرل کاٹھے کے انگریز ایک عرصے سے بک بک کررہے تھے کہ دنیا چاند پر پہنچ گٸ اور مولوی ابھی تک دوربین سے چاند دیکھ رہے ہیں ۔۔دیسی درآمدی لبڑلز ، دیسی ملحدین ، لنڈے کے انگریز کٸ سالوں سے مدارس ، مساجد ، علماۓ کرام ، اور خاص کر رٶیت ہلال کمیٹی کی وجہ سے پاکستانیوں کو ترقی نہ کرنے کا ذمہ دار ٹہراتے ہیں۔۔۔

حالانکہ کسی مولوی رویت ہلال کمیٹی نے آج تک کسی یونیورسٹیز ، کالجز میں جا کہ دھمکی نہیں لگاٸ کہ خبردار اگر چاند پر پہنچنے کی کوشش یا ساٸنسی شعبے میں کچھ ایجاد کرنے کی کوشش کی تو تمھیں کوڑے مارے جاٸیں گے۔۔کاٹھے انگریزوں نے آج تک ساٸنس کے نام پر چلنے والی یونیورسٹیز و انسٹیٹیوٹ سے یہ سوال نہیں کیا کہ او پوپلے منہ والے کلین شیو مسٹنڈے پرنسپل تمھارے کالج یونیورسٹی سے بین الاقوامی طرز کا کوٸ ساٸنٹس پیدا کیوں نہیں ہورہا۔۔۔لاکھوں تنخواہ خصوصی مراعات ، پیٹرول گاڑیاں اٸیر ٹکٹ ہڑپنے کے باوجود تمھاری یونیورسٹیاں کالجز سواٸے چھانڑے بازی کے اڈے نظر آنے کے تعلیمی کارکردگیاں کیوں نہیں دکھارہیں۔۔۔؟؟

چونکہ لنڈے کے انگریز و دیسی لبڑلز کو فنڈ ہی مذہب کو ٹارگٹ کرنے کے ملتے ہیں اسی لۓ اس کی پستول دس بارہ ہزار تنخواہ لینے والے مولوی اور مدرسوں پہ چلتی ہے۔۔۔

گزشتہ دنوں تحریک لبیک کے قاٸدین کے خلاف ہونے والے کریک ڈاٶن کے بعد مفتی منیب الرحمان صاحب نے ایک پریس کانفرس کے دوران خادم حسین رضوی اور ان کے دوستوں کی رہاٸ کا مطالبہ کیا مدارس کے طلبإ کو احتجاج کے لۓ نکالنے کا عندیہ دیا اور ناموس رسالت ﷺ کے لٸے اپنے ایمانی جذبے کی وضاحت کی۔۔۔

مفتی منیب الرحمان کی پریس کانفرس کے بعد مستنصر حسین تارڑ نامی ایک میر جعفر لبڑل کالم نگار نے مفتی صاحب کی تحریک لبیک کی حمایت سے جلتے ہوۓ عمران خان سے رٶیت ہلال کمیٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا اگرچہ اس ٹومی لبڑل کو اصل تکلیف ملعونہ کے خلاف مفتی صاحب کے پریس کانفرس پر تھی مگر کالم میں اس نے رٶیت ہلال کمیٹی کے بے جا اخراجات کا رونارویا اور مفتی صاحب پر بھاری تنخواہ اور بے جا مراعات لینے کا بھونڈہ الزام لگایا ۔۔۔اس الزام کے جواب میں مفتی صاحب نے بھی دندان شکن جواب لکھ کر اس دیسی لبڑل کی واہیاتی کے پڑخچے اڑادۓ اور تارڈ کے الزامات کو رد کرکے اس کو اس کی تکلیف کی اصل وجہ بتادی مفتی صاحب نے اسے ساتھ یہ بھی کہا کہ دیسی لبرلز کی آخری سوٸ رٶیت ہلال کمیٹی پر اٹکتی ہے جیسے اسے ختم کرنے کے بعد پوری قوم چاند پر پہنچ جاۓ گی۔۔۔۔۔۔

چونکہ اس وقت اسلامی جموریہ پاکستان قادیانی جمہوریہ پاکستان کا منظر پیش کررہا ہے ۔تحریک لبیک کے معذور اور بیمار قاٸدین اور علمإ کو چھوڑ کر دیگر پیر ، فقیر ، شعلہ بیاں ، مقرر جو کہ سواۓ بارہ ربیع الاول کے جلوس نکالنے ، جھومنے ، گیارہویں ، بارہویں ، عرس ، میلاد ، نذر و نیاز ، چندے ، کونڈے ، اور حلوے مانڈے بارہ ربیع الاول پر لاٸٹیں لگانے اور جھنڈے لہرانے کی برکات و فضاٸل کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔ناموس رسالت اور تحفظ ختم نبوت ﷺ پر بدترین حملے پر زبان کو تالو سے چپکاۓ بیٹھے ہیں معلوم چلتا ہے کہ پاکستان میں صرف تحریک لبیک والے ہی اصل مسلمان ہیں باقی صرف سنیوں کی پھرکی لے رہے تھے۔۔۔۔

حکومت قادیان تو ان تمام معاملات کو اچھی طرح پہچانتی ہے کہ کون سا پیر عالم ان کا دشمن ہے اور کون سا ہمارا ایجنٹ۔۔۔۔؟؟

جونہی مفتی منیب الرحمان صاحب نے علماۓ حق ہونے کا ثبوت دیتے ہوۓ ملعونہ کے خلاف اور تحریک لبیک کے حق میں پریس کانفرس کی تو چند دنوں بعد حکومت قادیان نے اپنا بغض نکالتے ہوۓ رٶیت ہلال کمیٹی ختم کرنے کا اعلان کردیا۔۔۔۔۔۔

سنیوں اصلی اور نقلی کی پہچان سے واقف ہوجاٶ ورنہ بعد میں سواۓ پچھتانے کے کچھ ہاتھ نہیں آۓ گا۔۔۔۔

سونا پاس ہے ، سونا بن ہے ، سونا زہر ہےاٹھ پیارے

تو کہتا ہے نیند ہے میٹھی ، تیری مت ہی نرالی ہے۔۔۔۔!!!

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِيَآءُ ‌ۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَقَتۡلَهُمُ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ ۙۚ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 181

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰهُ قَوۡلَ الَّذِيۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيۡرٌ وَّنَحۡنُ اَغۡنِيَآءُ ‌ۘ سَنَكۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَقَتۡلَهُمُ الۡاَنۡۢبِيَآءَ بِغَيۡرِ حَقٍّ ۙۚ وَّنَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِيۡقِ

ترجمہ:

بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ عنقریب ہم ان کا قول لکھ لیں گے اور ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا (بھی لکھ لیں گے) اور ہم کہیں گے کہ دوزخ کی آگ کا عذاب چکھو

تفسیر:

اسلام کے نظام زکوۃ پر یہودیوں کا اعتراض :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیت المدارس گئے آپ نے دیکھا وہاں بہت سے یہودی فخ اس کے گرد جمع تھے۔ یہ شخص یہودیوں کا بہت بڑا عالم تھا ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے فخ اس سے کہا اے فخ اس ! تم پر افسوس ہے، تم اللہ سے ڈرو اور اسلام قبول کرلو ‘ تم کو معلوم ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ‘ وہ اللہ کے پاس سے وہ دین برحق لے کر آئے ہیں جس کو تم تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہو ‘ فخ اس نے کہا بہ خدا اے ابوبکر ہمیں اللہ کی کوئی حاجت نہیں ہے ‘ بلکہ اللہ ہمارا محتاج (فقیر) ہے ‘ ہمیں اس سے فریاد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ ہم سے فریاد کرتا ہے اور ہم اس سے مستغنی (غنی) ہیں ‘ اگر اللہ ہم سے مستغنی ہوتا تو ہم سے قرض طلب نہ کرتا جیسا کہ تمہارے پیغمبر کہتے ہیں ‘ وہ ہم کو ربا (سود) سے منع کرتا ہے اور خود ہم کو سود (اللہ کی راہ میں خرچ کرنے پر زیادہ اجر) دیتا ہے ‘ اگر اللہ غنی ہوتا تو ہم کو سود نہ دیتا ‘ حجرت ابوبکر یہ سن کر غضبناک ہوئے اور فخ اس کے منہ پر زور سے ایک تھپڑ مارا اور فرمایا یہ خدا اگر ہمارے اور تمہارے درمیان معاہدہ نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن مار دیتا ‘ فخ اس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا اور حضرت ابوبکر کی شکایت کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھا تم نے اس کو تھپڑ کیوں مارا تھا ؟ حضرت ابوبکر نے بتایاس کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی اور کہا اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ اس وجہ سے میں نے غضبناک ہو کر اس کو تھپڑ مارا فخ اس نے اس کا انکار کیا اور کہا میں نے یہ نہیں کہا تھا تب اللہ تعالیٰ نے فخ اس کے رد اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : بیشک اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا جنہوں نے کہا تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں (جامع البیان ج ٤ ص ‘ ١٢٩ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

یہودیوں کے اعتراض مذکور کا جواب :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جان اور مال خرچ کرنے کا حکم دیا تھا ‘ اور اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کے خلاف یہودیوں کے شبہات کے جواب دیئے ہیں ان کا ایک شبہ یہ تھا اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے قرض مانگتا ہے اور اس پر اصل رقم سے زیادہ اجر دینے کا وعدہ فرماتا ہے اور یہ بعینہ سود ہے وہ مسلمانوں کو سود سے منع کرتا ہے اور خود سود دیتا ہے ‘ نیز اس کا قرض مانگنا اس کو احتیاج کو ظاہر کرتا ہے۔ سو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس خدا کی دعوت دے رہے ہیں وہ عبادت کے لائق نہیں ہے۔ اس کے اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قرض مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کی سربلندی اور ناداروں اور مسکینوں کے لیے اصحاب ثروت خرچ کریں اور وہ جو کچھ دنیا میں خرچ کریں گے اللہ ان کو دس گنا ‘ سات سو گنا ‘ یا اس سے بھی زیادہ ثواب عطا فرمائے گا ‘ نیز مال انسان کو طبعا محبوب ہوتا ہے اور جب وہ اللہ کے حکم پر مال خرچ کریں گے تو ان کے دعوی ایمان کا سچا ہونا ثابت ہوگا ‘ نیز مال کو خرچ کرنے سے انسان کے دل سے مال کی محبت کم ہوگی اور دنیا سے بےرغبتی پیدا ہوگی ‘ غریبوں اور مسکینوں کی محبت اور ان کی دعائیں حاصل ہوگی اور یہ بہت عظیم نفع ہے۔ 

مخالف کے طعن کے جواب میں اس پر طعن کر کے اس کو ساکت کرنا۔ 

فخ اس یہودی نے اسلام پر اعتراض کرتے ہوئے برسبیل الزام یہ کہا تھا کہ اسلام کے نظام زکوۃ اور صدقہ و خیرات کے احکام سے اللہ کا فقیر ہونا لازم آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر گرفت کرتے ہوئے ان پر برسبیل الزام فرمایا پھر تم نبیوں کو ناحق کیوں قتل کرتے تھے اور ایک مسلم برائی بیان فرما کر ان پر گرفت فرمائی ہرچند کہ قتل ان کے آباؤ و اجداد نے کیا تھا لیکن یہ ان کے اس فعل پر راضی تھے اس لیے ان کو اس فعل کا مخاطب کیا گیا ‘ اس آیت سے معلوم ہوا کہ معترض کے جواب کا یہ بھی ایک طریقہ ہے کہ اس کے اعتراض کے جواب میں اس کے مسلم عیب اور نقص کو بیان کرکے اس کو ساکت کردیا جائے۔ 

اللہ تعالیٰ کی شان میں توہین آمیز کلام کفر ہے :

فخ اس یہودی کا یہ عقیدہ اور نظریہ نہیں تھا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں ‘ بلکہ اس نے اسلام کے نظام زکوۃ پر اعتراض کرتے ہوئے بہ طریق الزام یہ کہا تھا اس لیے باوجود اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہوا اور حضرت ابوبکر (رض) نے اس کو تھپڑ مارا اور اس کو واجب القتل قرار دیا ‘ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف کوئی ہتک آمیز جملہ خواہ بہ طریق الزام کہا جائے یا بہ طریق عقیدہ ہر طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے اور کفر ہے اور اس کا قائل موجب قتل ہے۔ 

علامہ اقبال ایشیا کے عظیم شاعر انقلاب ہیں انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعہ ہندوستان کے غلام مسلمانوں میں آزادی کا شعور پیدا کیا فرنگی تہذیب سے نفرت دلائی اور اسلام کی عظمت کو جاگزیں کیا لیکن ان کے بعض اشعار بارگاہ الوہیت میں بہت گستاخانہ ہیں : 

کبھی ہم سے کبھی غیروں سے شناسائی ہے ،

بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہر جائی ہے۔

(کلیات اقبال ص ١٣١ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

واضح رہے کہ جواب شکوہ ‘ شکوہ کے گستاخانہ اشعار سے رجوع اور توبہ نہیں ہے ‘ رجوع تب ہوتا جب ان اشعار کو کتاب سے نکال دیا جاتا۔ 

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم ،

بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے۔

(کلیات اقبال ص ٢٤٠ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

خود ڈاکٹر اقبال کو بھی بارگاہ الوہیت میں اپنی گستاخیوں کا احساس تھا وہ کہتے ہیں : 

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال ،

کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند۔ 

(کلیات اقبال ص ٢٥٢ الفیصل نشران و تاجران کتب لاہور ‘ ١٩٩٥ ء) 

اسرار خودی کے مقدمہ میں ڈاکٹر اقبال نے حافظ شیرازی کی بہت ہجو کی تھی لکھا تھا : 

الخدر از محفل حافظ الخدر 

الخدر از گوسفنداں الخدر۔ 

حافظ شیرازی کے چاہنے والوں نے اس کے جواب میں ڈاکٹر اقبال کی بہت مذمت کی اور ان کی ہجو میں بہت اشعار لکھے ایک شعر یہ تھا : 

الخدر از بد سگالاں الخدر 

الخدر از شغالاں الخدر :

چنانچہ ڈاکٹر اقبال نے اسرار خود کے مقدمہ سے حافظ شیرازی کی ہجو والے تمام اشعار نکال دیئے ‘ میں سوچتا ہوں کہ اس زمانے میں حافظ کے چاہنے والے تو تھے خدا کا چاہنے والا کوئی نہ تھا ورنہ ڈاکٹر اقبال ‘ اللہ کی شان میں گستاخانہ اشعار کو بھی نکال دیتے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) اللہ تعالیٰ کی شان میں فقیر کا لفظ نہ سن سکے اور برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں بخیل کا لفظ خاموشی سے سن لیا حالانکہ بخیل کے لفظ میں فقیر کی بہ نسبت زیادہ توہین ہے۔ شاید اس زمانہ میں صدیق اکبر کی طرح غیرت مند کوئی مسلمان نہیں تھا ! 

حضرت ابوبکر کی تصدیق معراج کا صلہ :

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن ابی حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کیا ہے (الی قولہ) صبح کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مشرکین کے سامنے واقعہ معراج سنایا وہ لوگ حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور کہا اے ابوبکر ! تمہارے پیغمبر یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ گذشتہ رات ایک ماہ کی مسافت کا سفر کرکے واپس آگئے ہیں ‘ اب بولو کیا کہتے ہو ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا اگر واقعی آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ فرمایا ہے اور میں اس کی تصدیق کرتا ہوں ! اور میں تو اس سے زیادہ بعید باتوں میں آپ کی تصدیق کرتا ہوں آپ آسمانوں سے آنے والی خبریں بیان کرتے ہیں اور میں ان کی تصدیق کرتا ہوں اسی دن سے حضرت ابوبکر (رض) کا نام صدیق پڑگیا۔ (تفسیر ابن کثیر ج ٤ ص ‘ ٢٤٨ مطبوعہ ادارہ اندلس ‘ بیروت ‘ ١٣٨٥ ھ) 

جب تمام مشرکین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سفر معراج کا انکار کر رہے تھے تو سب سے پہلے حضرت ابوبکر (رض) نے اس کی تصدیق کی تھی اور جب فخ اس اللہ تعالیٰ کو فقیر کہہ کر منکر ہوگیا اور سب یہودی حضرت ابوبکر (رض) کی تکذیب کر رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کی تصدیق کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جو حضرت ابوبکر (رض) نے تصدیق کی تھی اس کا بدلہ اتار دیا !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 181

معجزے اب کدھر گئے! ایک اعتراض کا جواب

معجزے اب کدھر گئے! ایک اعتراض کا جواب

اعتراض:-

پیغمبر اسلام(ﷺ) نے اپنی حیات میں کفار کے مطالبے پر بطور حجت و بطورِ دلیلِ نبوت کئی معجزے ظاہر کئے مگر آج کے انسان کیلئے ایسا آپشن کیوں نہیں؟

(سادہ لفظوں میں اس اعتراض کو یوں بھی لکھا جا سکتا ہے)

دور حاضر کا انسان معجزوں سے محروم کیوں ہے؟

جواب:-

سب سے پہلے یہ طے کیا جائے کہ مذکورہ سوالات کسی ملحد کی طرف سے بطور اعتراض وارد کئے گئے ہیں

یا

مذکورہ سوالات کی حیثیت کسی مسلمان یا جدید ذہن میں اٹھنے والے شبہات کی سی ہے؟

میں نے ان سوالات کو بطور شبہات لیا ہے۔ یعنی یہ فرض کر کے جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ سائل وجود باری تعالیٰ، سلسلہ نبوت، حقانیت و تعلیماتِ اسلام کا قائل ہے۔

سوال یہ ہے کہ آج کے انسان کو ایمان لانے یا ایمان میں مضبوطی کیلئے معجزوں سے محروم کیوں رکھا گیا ہے؟

سب سے پہلے کچھ بنیادی اصولی باتوں کو سمجھ لیجئے۔(یہ وہ مقدمات ہیں جنہیں سائل پہلے سے تسلیم کرتا ہے، یہاں صرف یاد دہانی مقصود ہے تاکہ جواب کو سمجھنے میں آسانی ہو)

1۔ انسان کو مکلف مخلوق بنایا گیا ہے۔ یعنی جانوروں سے ممتاز کر کے انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکامات کی بجا آوری کا پابند کیا گیا ہے۔ اگر انسان ان احکامات کی بجاآوری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، بصورت دیگر انسان کو سزا دی جائے گی۔

2۔ انسان کو مکلف بنانے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل عطا فرمائی ہے تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کر سکے۔ اسے ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ انسان کو عقل کی وجہ سے مکلف کیا گیا ہے یعنی انسان مکلف اس لئے ہے کیونکہ اس کے پاس عقل ہے۔

3۔ حق و باطل میں تمیز کیلئے اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف عقل ہی نہیں عطا فرمائی بلکہ اضافی کرم یہ بھی فرمایا کہ سوا لاکھ انبیائے کرام علیھم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا۔حق و باطل میں تمیزاور مکلف بنانے کیلئے عقل کافی تھی، سو اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا فرما دی، اللہ تعالیٰ پر لازم نہیں تھا کہ وہ انسان کی رہنمائی کیلئے سلسلہ نبوت کو بھی لازما قائم فرمائے بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا احسان و فضل و کرم ہے کہ اس نے انسان کی رہنمائی کیلئے انبیائے کرام بھی بھیج دئے۔اس بات کو توجہ سے سمجھئے۔علم الکلام کی زبان میں اسے ہم یوں کہتے ہیں کہ "ایمان واجب بالشرع ہے یا واجب بالعقل؟” اہل سنت و جماعت کے کلامی مکاتب فکر میں سے اشاعرہ کے مطابق ایمان واجب بالشرع ہے۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اسے چھوڑ دیجئے۔ دوسرے مکتب فکر یعنی ماتریدیہ کے مطابق ایمان واجب بالعقل ہے اور اس کا مطلب یہی ہے جو میں نے اوپر بیان کیا ہے، یعنی یہ کہ انسان عاقل مخلوق ہونے کی وجہ سے مکلف ہے۔

۔۔۔۔۔

معجزے سے مراد ایسا واقعہ ہے جس کے اسباب کا فہم مافوق الفہم ہو، یعنی جو عقل کو عاجز کر دے۔ انبیائے کرام معجزات کو اپنی نبوت کی صداقت کی دلیل قرار دیا کرتے تھے اور ان کا بنیادی دعویٰ یہ ہوتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے منتخب کئے گئے افراد ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قوم کی طرف ہدایت کی غرض سے مبعوث فرمایا ہے۔ قومیں، اپنے اندر سے ہی ابھرنے والے ایک مدعی نبوت کی نبوت پر ایمان لانے کیلئے کسی معجزے کا مطالبہ کیا کرتی تھیں، تب انبیائے کرام اللہ رب العزت کی مدد و نصرت سے معجزات صادر فرما کر اپنی نبوت پر دلیل قائم کیا کرتے تھے ۔

یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ چونکہ ایمان واجب بالعقل ہے پس اولا تو کسی قوم میں ہدایت کیلئے کسی نبی کا بھیجا جانا ہی اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا اضافی احسان ہے ، پھر نبی بھیج کر نبی سے معجزہ صادر کروانا تو مزید ایک احسان ہے۔

۔۔۔۔۔

اب آئیے اصل سوال یا شبہ کی طرف کہ آج کے انسان کیلئے اللہ تعالیٰ نے معجزات کا انتظام کیوں نہیں فرمایا؟ معجزات تو درکنار، جدید انسان کیلئے تو کسی نبی کو بھی مبعوث نہیں فرمایا گیا بلکہ انسان کو بالکل بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے!

اوپر کی تمام باتوں کو اچھی طرح زہن نشین کر لیجئے تو ان مغالطوں کا جواب آسانی سے سمجھ آ جائے گا۔

1) سب سے پہلے تو یہ دیکھئے کہ جدید اور ماضی کے انسان کی

"معلومات "،

"ذرائع معلومات”

اور "کائنات پر دسترس”

میں زمین و آسمان کا فر ق ہے۔ یہ فرق زندگی کے کن کن شعبوں میں ہے اور کس حد تک ہے، یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے!یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ جسے بیان کرنے کی ضرورت ہو۔

2) دوسرے نمبر پر یہ دیکھئے کہ ایمان کیلئے

انبیائے کرام کی بعثت

یا

معجزات کا وقوع

انسان کا کوئی بنیادی حق نہیں تھا کہ جسے اللہ لازما پورا کرتا۔ ہدایت کیلئے انسان کی واحد ضرورت عقل تھی جو اللہ نے انسان کو پہلے ہی عطا کردی۔ انبیائے کرام اور معجزات تو ماضی کے انسان پر اللہ کے اضافی احسانات تھے جو اللہ تعالیٰ نے اس لئے فرمائے کیونکہ ماضی کا انسان ایک محدود نوعیت کا انسان تھا۔ اس کی محدودیت کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ سلسلہ نبوت و معجزات کو جاری نہ فرماتا تب بھی ماضی کا انسان اللہ تعالیٰ کو جواب دہ نہیں ٹھہرا سکتا تھا۔ اللہ کا احسان تھا کہ اس نے انسان کی ضرورت سے بڑھ کر اسے عطا کر دیا۔

3) تیسرے نمبر پر یہ سمجھنے کی کوشش کیجئےجدید انسان کے پاس معلومات کا طوفان ہے، جدید انسان ستاروں پر کمندیں ڈال رہا ہے، آج کا انسان لامحدود سے لامحدود تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ماضی کے انسان کے سامنے بیٹھ کر اگر آپ امریکہ میں ویڈیو کال کرتے تو عین ممکن تھا وہ آپ پر ایمان لے آتا کیونکہ ماضی کے پیمانوں کے مطابق یہ ایک عدد معجزہ تھا!!! اور یہ معجزہ آج بچہ بچہ صادر کرتا پھرتا ہے۔۔۔!!! تو یہ ہے فرق ماضی اور جدید انسان کی دسترس میں!

جدید انسان پر اللہ تعالیٰ نے اپنے اضافی احسانات اس لئے نہیں فرمائے کیونکہ جدید انسان کو ایمان لانے کیلئے ان احسانات کی ضرورت نہیں تھی۔ جدید انسان اگر صرف سائنسی تحقیقات کو ہی غیر جانبدار ہو کر دیکھ لے تو وہ اللہ اکبر اور سبحان اللہ کہہ اٹھے! اللہ تعالیٰ نے زندگی کے ہر شعبے میں جدید انسان کو جتنا نواز رکھا ہے کیا اس کے بعد بھی کیا عقلی طور پر سلسلہ نبوت و معجزات کے جاری رکھنے کی کوئی منطقی وجہ ہو سکتی ہے؟؟!!!

الحاصل یہ کہ آپ ایک جدید انسان ہیں۔ ایمان کو تلاش کرنا چاہتے ہیں تو صرف گوگل کو ہی استعمال کر لیں! کائنات کے ایسے ایسے راز آپ پر فاش ہوں گے کہ ماضی کا انسان ان کا تصور تک نہیں کر سکتا۔ پھر آپ کے پاس کونسا منطقی جواز باقی بچتا ہے کہ آپ ہدایت اور ایمان کیلئے نئے نبی یا معجزے کا مطالبہ کریں!

تو یہ تھی بنیادی وجہ انبیائے کرام اور معجزات کے سلسلے کو روک دینے کی، کہ زمانہ جدید میں "اضافی احسانات” کی ضرورت نہ تھی!

لیکن ٹھہرئے!

اگرچہ ضرورت نہیں تھی لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی صورت میں نبی آخر الزمانﷺ کا ایک زندہ معجزہ ہر صدی ہر زمانے ہر خطے کے انسانوں کیلئے محفوظ فرما دیا ہے۔ قرآن پاک تمام معجزات میں سب سے بڑا معجزہ ہے جو واقع ہونے کے بعد ختم نہیں ہو گیا بلکہ تاقیامت باقی رہے گا۔ اب زرا سوچئے آپ تو ایک عدد مزید معجزے کا مطالبہ کر رہے تھے جبکہ اللہ تعالیٰ نے تو سب سے بڑا معجزہ آپ کے مطالبے سے پہلے ہی آپ کو عطا کر کے احسان کر رکھا ہے!

تو تم اپنے پرور دگار کی کون کون سے نعمتوں کو جھٹلاو گے؟

فیصل ریاض شاہد

25-12-2018