بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

جنوں کی خوراک

حدیث نمبر :334

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں،فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ نہ گوبر سے استنجاءکرو اور نہ ہڈی سےکیونکہ یہ تمہارے بھائی جنوں کی خوراک ہے ۱؎ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا مگر نسائی نے زاد الخ کا ذکر نہ فرمایا۔

شرح

۱؎ ہڈیاں جنات کی خوراک ہے اور گوبر ان کے جانوروں کی غذا۔اسی لئے حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّھَا واحد فرمایا یہ ضمیر ہڈیوں کی طرف لوٹتی ہے۔خیال رہے کہ جب مؤمن جنات کے جانوروں کی خوراک کا احترام ہے تو ہمارے جانوروں کی خوراک کا بھی ضرور احترام ہوگا۔بھائی فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان جن مراد ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ جب جنات ہڈی اٹھاتے ہیں تو اس پر گوشت پاتے ہیں اور جب ان کو جانور گوبر میں منہ لگاتے ہیں تواس میں دانے پاتے ہیں جن سے وہ گوبر بنا۔

درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

إلَّا أَنَّهُ إذَا تَرَكَ الِاسْتِنْجَاءَ أَصْلًا، وَصَلَّى يُكْرَهُ؛ لِأَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ جُعِلَ عَفْوًا فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ دُونَ الْكَرَاهَة وَإِذَا اسْتَنْجَى زَالَتْ الْكَرَاهَةُ

ہاں اگر کوئی شخص استنجاء بالکل نہ کرے اور یونہی نماز پڑھے تو مکروہ ہوگی۔ اسلئے کہ تھوڑی نجاست نماز جائز ہونے کے معاملے میں معاف رکھی گئی ہے نہ کہ بلا کراہت جائز ہونے کے معاملے میں اور اگر استنجاء کرلیا تو کراہت زائل ہوجائے گی۔

لِأَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْأَحْجَارِ أُقِيمَ مَقَامَ الْغَسْلِ بِالْمَاءِ شَرْعًا لِلضَّرُورَةِ إذْ الْإِنْسَانُ قَدْ لَا يَجِدُ سُتْرَةً، أَوْ مَكَانًا خَالِيًا لِلْغَسْلِ، وَكَشْفُ الْعَوْرَةِ حَرَامٌ فَأُقِيمَ الِاسْتِنْجَاءُ مَقَامَ الْغَسْلِ فَتَزُولُ بِهِ الْكَرَاهَةُ كَمَا تَزُولُ بِالْغَسْلِ

اسلئے کہ ڈھیلوں سے استنجاء شرعی طور پر پانی سے دھونے کے قائم مقام ہے ضرورت کی وجہ سے، اسلئے کہ انسان کو کبھی چھپنے کے لئے آڑ یا خالی جگہ نہیں مل پاتی جہاں وہ پانی سے استنجاء کی جگہ دھو سکے، اور شرمگاہ کو ظاہر کرنا حرام ہے لہذا ڈھیلوں سے استنجاء کو پانی سے دھونے کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔۔۔ تو جس طرح پانی سے دھونے سے کراہت دور ہوجاتی ہے اسی طرح ڈھیلوں سے استنجاء کرنے سے بھی کراہت دور ہوجائے گی۔

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْأَحْجَارِ، وَلَا يُظَنُّ بِهِ أَدَاءُ الصَّلَاةِ مَعَ الْكَرَاهَة

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ڈھیلوں سے استنجاء فرمایا کرتے تھے۔۔ اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ کراہت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے اس سے پہلے حدیث شریف سے استدلال کیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے اور ہم دیگر دلائل سے وضاحت کرچکے ہیں کہ استنجاء سنتِ موکدہ ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اگر سنت ادا نہ ہوئی تو نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ اس میں کراہت موجود ہو۔

اب علامہ کاسانی استنجاء کے مشروع ہونے کی توجیہ بیان کررہے ہیں کہ دراصل استنجاء کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔

ہم سابقہ دروس میں پڑھ چکے ہیں کہ طہارت، نجاست سے پاکی حاصل کرنے کو کہتے ہیں اورجس شے کے ذریعے طہارت حاصل کی جائے اس کا خود پاک ہونا اور پاک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے، اسکے لئے *پانی* سب سے موزوں چیز ہے۔

*ڈھیلے دراصل پانی کے قائم مقام ہیں*

علامہ کاسانی فرمارہے ہیں کہ ڈھیلوں سے استنجاء کو جائز رکھا گیا ہے اسلئے کہ وہ پانی کے قائم مقام ہے اور بعض اوقات پانی میسر نہیں ہوتا اور انسان کو حاجت پیش آجاتی ہے تو ضرورتا اس کو جائز قرار دیا گیاہے۔ چونکہ پانی اصل ہےاسلئےڈھیلوں کے مقابلے اس سے استنجاء افضل ہے۔ اور حضور سیدِ عالم ﷺ سے ڈھیلے اور پانی دونوں کے ساتھ استنجاء ثابت ہے۔

(علامہ کاسانی نے پانی سے استنجاء کو الگ سے شمار کیا ہےاور ہاتھوں کو گٹے تک دھونے کے بعد اسکا ذکر کیا ہے مگر ہم وہ بحث اسی استنجاء کے ساتھ ہی ذکر کردیں گے تاکہ تسلسل نہ ٹوٹے)

ڈھیلا سے استنجاء *نجاست پونچھنے کا عمل* ہے لہذا اگر ڈھیلے کے قائم مقام کوئی ایسی چیز مل جائے جو ڈھیلے کی طرح *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے والی ہو تو اس سے بھی استنجاء ہوجائے گا، یہ الگ بات ہے کہ اس سے استنجاء جائز قرار دیا گیا ہو یا نہیں۔ اسکی تفصیل آتی ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک روایت نقل فرمائی اور کہا کہ اگر ڈھیلے سے استنجاء کرنے سےکراہت باقی رہتی تو حضور سید عالم ﷺ کبھی اس پر کفایت کرکے نماز ادا نہ فرماتے۔ کیونکہ حضور ﷺ نماز میں مکمل طہارت کا اہتمام فرمانے والے تھے اور آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نماز کے احکامات کی رعایت فرمانے والا نہیں ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

درس 026: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 026: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ثُمَّ نَاقَضَ فِي الِاسْتِنْجَاءِ فَقَالَ: إذَا اسْتَنْجَى بِالْأَحْجَارِ، وَلَمْ يَغْسِلْ مَوْضِعَ الِاسْتِنْجَاءِ جَازَتْ صَلَاتُهُ، وَإِنْ تَيَقُّنًا بِبَقَاءِ شَيْءٍ مِنْ النَّجَاسَةِ، إذْ الْحَجَرُ لَا يَسْتَأْصِلُ النَّجَاسَةَ، وَإِنَّمَا يُقَلِّلُهَا وَهَذَا تَنَاقُضٌ ظَاهِرٌ.

پھر امام شافعی استنجاء کے معاملے میں خود اپنے اصول سے پھر گئے اور فرمایا: اگر کسی شخص نے ڈھیلے سے استنجاء کیا اور استنجاء کی جگہ کو پانی سے نہیں دھویا تو اس کی نماز ہوگئی اگرچہ یقین ہو کہ وہاں تھوڑی بہت نجاست موجود ہے، اسلئے کہ ڈھیلا استعمال کرنے سے نجاست مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی البتہ کم ضرور ہوجاتی ہے۔ امام شافعی کے ہاں یہ واضح تناقض ہے۔

ثُمَّ ابْتِدَاءُ الدَّلِيلِ عَلَى أَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ لَيْسَ بِفَرْضٍ مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ «مَنْ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ، مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ»

استنجاء کے فرض نہ ہونے کی ابتدائی دلیل یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو ڈھیلے سے استنجاء کرے اسے چاہئے کہ وہ طاق تعداد میں استعمال کرے، جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہ کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

وَالِاسْتِدْلَالُ بِهِ مِنْ وَجْهَيْنِ:

أَحَدُهُمَا أَنَّهُ نَفَى الْحَرَجَ فِي تَرْكِهِ، وَلَوْ كَانَ فَرْضًا لَكَانَ فِي تَرْكِهِ حَرَجٌ

اس حدیث مبارک سے دو وجہوں سے استدلال کیا جا تاہے:

پہلی وجہ: نبی کریم ﷺ نے ڈھیلے سے استنجاء نہ کرنے پر حرج کی نفی فرمائی ہے (یعنی نہ کرنے میں کوئی حرج نہیں)، اگر استنجاء فرض ہوتا تو اسکے چھوڑنے میں لازمی طور پر حرج ہوتا۔

وَالثَّانِي: أَنَّهُ قَالَ: "مَنْ فَعَلَ فَقَدْ أَحْسَنَ، وَمَنْ لَا فَلَا حَرَجَ”

وَمِثْلُ هَذَا لَا يُقَالُ فِي الْمَفْرُوضِ، وَإِنَّمَا يُقَالُ فِي الْمَنْدُوبِ إلَيْهِ، وَالْمُسْتَحَبِّ

دوسری وجہ: حضور سید عالم ﷺ نے ارشادفرمایا: جس نے ایسا کیا تو بہت اچھا کیا اور جس نے نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں ہے۔

جو شے فرض ہوتی ہے اس سے متعلق اس طرح حکم بیان نہیں کیا جاتا، بلکہ ایسا اندازِ کلام تو *مندوب* اور *مستحب* کاموں کے بارے میں ہوتاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

امام شافعی کے یاں استنجاء کے مسئلہ میں ایک تضاد پایا جاتا ہے، اپنی دلیل دینے سے پہلے علامہ کاسانی نے اسکا ذکر فرمایا ہے۔

امام شافعی نجاست کی قلیل مقدارمعاف ہونے کے قائل نہیں ہیں، جس قلیل مقدار کی معافی کے وہ قائل ہیں۔۔ وہ اتنی قلیل نجاست ہے جسے عادۃ آنکھیں دیکھ نہ پاتی ہو۔

پھر خود ہی فرماتے ہیں کہ استنجاء کے بعد پانی سے نجاست صاف نہیں کی اور یقین بھی ہو کہ نجاست موجود ہے، اگر نماز پڑھی تو ہوجائے گی۔ یہ ایک واضح تضاد ہے۔

اس بحث سے یہ سبق بھی ملتا ہے کہ سابقہ زمانوں میں ہمارے فقہاء کرام دیگر مذاہب کے مسائل نہ صرف پڑھتے بلکہ ان کے موقف کا رد بھی فرماتے تھے، موجودہ علماء کو فقہاء کرام کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اپنے مطالعہ کو وسیع کرنا چاہئے اور دیگر مذاہب کا مطالعہ بھی کرنا چاہئے۔

اس کے بعد علامہ کاسانی نے سنن ابو داؤد کی ایک حدیث شریف سے استدلال کیا ہے کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔ اور استدلال دو طریقوں سے فرمایا ہے:

پہلا یہ کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے استنجاء چھوڑ دینے پر فرمایا کہ *حرج نہیں* حالانکہ جو شے فرض ہوتی ہے اس کے ترک کردینے پر لازما حرج واقع ہوتا ہے، لہذا ثابت ہوا کہ استنجاء فرض نہیں ہے۔

دوسرا یہ کہ حضور نبی رحمت ﷺ نے استنجاء کے حوالے سے جو اندازِ تکلم اختیار فرمایا ایسا انداز کسی مندوب و مستحب یعنی اچھے کام کے لئے اختیار کیا جاتا ہے نہ کہ فرائض کے لئے۔

لہذا اتنا تو ثابت ہوگیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے، بلکہ اس سے نیچے درجے کا کوئی حکم رکھتا ہے۔

اسکے سنتِ موکدہ ہونے پر فقہاء نے دلیل یہ دی ہے کہ حضور سیدِ عالم ﷺ نے اس پر ہمیشہ عمل فرمایا ہے ۔

لیکن مسئلہ یہ ہے کہ احناف کی تمام کتب میں صرف اتنا لکھا ہے کہ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَاظَبَ عَلَيْهِ یعنی حضور سید عالم ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے اور اصول یہ ہے کہ جس فعل پر حضور سرورِ عالم ﷺ بغیر ترک کئے ہمیشگی اختیار فرمائیں وہ واجب ہوتی ہے نہ کہ سنت۔۔۔

سنت اس وقت ثابت ہوتی ہے جب حضور نبی کریم ﷺ اس پر ہمیشہ عمل فرمائیں لیکن بیانِ جواز کے لئے کبھی ترک بھی فرمادیں۔

کتبِ احناف میں یہ تصریح نہیں ہے کہ حضور ﷺ نے استنجاء ترک بھی فرمایا ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسے واجب نہیں بلکہ سنتِ موکدہ کہتے ہیں، اس اشکال پر تفصیلی کلام علامہ بدر الدین عینی نے البنایہ شرح الہدایہ میں فرمایا ہے۔ کافی کے حوالے سے جو جواب دیا گیا ہے وہ قابلِ قبول ہے جسے ہم اپنے الفاظ میں بیان کردیتے ہیں۔۔۔

دیگر دلائل سے یہ بات ثابت ہے کہ قلیل مقدار یعنی درہم کی مقدار سے کم جگہ *معفو* یعنی معاف ہوتی ہے لہذا استنجاء کو واجب تو نہیں کہہ سکتے، اب رہا یہ معاملہ کہ حضور ﷺ نے اس پر ہمیشگی اختیار فرمائی ہے تو اس سے سنتِ موکدہ کا اثبات ہوجاتا ہے، اور اس کے ترک کا عادی شخص گنہگار ہوگا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

کتابت پر بھروسہ کر کے پڑھنے کی چند مثالیں

امام بخاری علیہ رحمۃ الباری نے ایک حدیث الادب المفرد میں نقل فرمائی جسکی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک صغیر سن بھائی تھے ۔ ایک چڑیاہاتھ میں لئے کھیلتے پھرتے تھے ،کسی دن وہ چڑیا مرگئی۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ حضور ہمارے یہاں تشریف فرماہوئے تودیکھا کہ میرے بھائی رنجیدہ ہیں، وجہ دریافت کی، ہم نے قصہ بیان کیا ،چونکہ بچوں پر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کاپیار اورشفقت عام تھی ،مزاح اور جوش طبعی کیلئے کبھی نادرالمثال جملوں سے نواز تے ،اسی انداز میں حضور نے پہلے انکی کنیت ابوعمیر قراردی اورفرمایا ۔

یااباعمیر مافعل النغیر۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب الکنیۃ للصبی،السنن لا بی داؤد، کتاب الادب باب فی الرجل یکنی،)

ابوعمیر نغیر نے کیاکیا ۔

امام حاکم اسی ارشاد رسول کے متعلق فرمارتے ہیں ،کہ ایک صاحب جنہوں نے احادیث کی سماعت مشائخ سے نہ کی تھی یونہی کتابت پر بھروسہ کرکے کتاب کھو ل کر حدیث پڑھنا شروع کردی ،جب یہ حدیث آئی چونکہ علم حدیث سے تہی دامن تھے اورنغیر کالفظ بھی کچھ غیر مشہورساہے لہذا فرمادیا یہ لفظ بعیرہے اور تلامذہ کوبے دھڑک بتادیا کہ حضور ابوعمیر سے پوچھ رہے ہیں

اے ابوعمیر اونٹ کیاہوا ۔

صحیح بخاری کی روایت میں صراحت ہے کہ یہ ایسے بچے تھے کہ ابھی دودھ چھوٹا تھا ،پھر قارئین اس بات کااندازہ خود لگاسکتے ہیں کہ ابوعمیر کاواسطہ کس سے رہاہوگا اونٹ سے یاچڑیاسے ،نیز حضور کا مزاح یہاں کلام مسجع کی شکل میں ہے تو پھر مقصد ہی فوت ہوگیا ۔

امام حاکم نے ایک اور واقعہ انہیں سے متعلق لکھا ہے ۔کہ اہل عرب عموماً قافلوں میں نکلتے تھے لہذا اونٹوں کے گلے میں گھنٹیاں باندھتے ، انکی غرض جوبھی رہی ہو لیکن اس سے منع کیاگیا ،غالبا سازومزامیرکی شکل سے مشابہت کی وجہ سے ،الفاظ حدیث یوں منقول ہیں ۔

لاتعجب الملائکۃ رفقۃ فیھا جرس ۔

فرشتے اس قافلہ کو دوست نہیں رکھتے جس کے جانوروں کے گلے میں گھنٹیاں ہوں ، ان صاحب نے ’جرس ‘ کو’ خرس‘ پڑھ دیا اور مطلب بیان فرمایا کہ جولوگ ریچھ کوقافلہ میں رکھتے ہیں وہ ملائکہ کے نزدیک ناپسند یدہ ہیں ۔

اسی طرح مشہور حدیث ہے :۔

البزاق فی المسجد خطیئۃ وکفارتہا دفنہا ۔(الجامع الصحیح للبخاری، باب کفارۃ البزاق فی المسجد، ۱/۵۹الصحیح لمسلم، باب النھی عن البصاق فی المسجد، ۱/۲۰۷)

مسجد میں تھوک گناہ اور اسکا کفارہ دفن کردینا ہے۔

اسکے متعلق ایک محدث صاحب کاواقعہ منقول ہے کہ انہوں نے اسکو ’البراق ‘ پڑھا اور معنی بتائے کہ براق مسجد میں دیکھے تودفن کرڈالے ۔

امام حاکم اس سے بھی عجیب تربیان کرتے ہیں ،کہ مشہور محدث حضرت ابن خزیمہ نے فرمایا : مشہور واقعہ ہے کہ

ان عمربن الخطاب توضأ فی جر نصرانیۃ۔

ایک موقع پر حضرت عمرفاروق اعظم نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضوکیا ۔

پڑھنے والے نے اسکو ’حرّ ، بمعنی اندام نہانی پڑھا ، اب قارئین خود اندازہ کرلیں کہ بات چل رہی تھی کہ کن پانیوں اورکون کونسے برتنون سے وضوہوسکتا ہے اور یہ کیسی فحش کلامی پر اترآئے۔

یہ حال ہے اس کتابت کا محض جس پر منکرین حدیث نے بنائے کار رکھی ہے ۔

ہوسکتا ہے کوئی صاحب کہہ اٹھیں کہ اس طرح کی تصحیف اورایسے ذھول ومسامحات سے کتنوں کا دامن پاک رہا ہے ؟ یہ ان حضرات کی کوتاہی تھی پھر اسکا نفس کتابت سے کیا تعلق کہ اسکو مذموم قرار دیا جائے ۔

ہم کہتے ہیں صحیح ہے کہ فی نفسہ کتابت کسی علم کی حفاظت کیلئے مذموم نہیں ،لیکن اتنی بات توطے ہوگئی کہ محض کتابت پرتکیہ کرلینا اوراسی کو حفاظت علم وفن کا معیار قرار دینا درست نہیں رہا جب تک حفظ وضبط کا اسکے ساتھ مضبوط سہارا نہ ہو۔

پھر یہاں یہ امربھی قابل توجہ ہے کہ جن غلطیوں کی نشاندھی کی گئی ہے وہ معمولی نہیں بلکہ درایت سے کوسوں دورنری جہالت کی پیداوار ہیں ، اختلاف قرأت یا نسخوں کی تبدیلی اس طرح کی غلطیوں میں مسموع نہیں ہوتی ۔بلکہ ان مثالوں کو تصحیف کہنا ہی نہیں چاہیئے انکے لئے تو تحریف کا عنوان دینا ضروری ہے ۔

اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز وہ مثالیں ہیں جن میں قاری نے غلط پڑھنے کے ساتھ ساتھ انکے معانی پر جزم کرکے توجیہ کرتے ہوئے وہ باتیں کہدی ہیں جو بالکل بے سروپا ہیں ۔

ایک حدیث شریف میں ہے: ۔

زرغبا تزددحباً۔

حضرت عبداللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا،کبھی کبھی ملاقات سے محبت زیادہ ہوتی ہے ۔

امام حاکم کہتے ہیں :۔

ایک صاحب جنکا نام محمد بن علی المذکرتھا ،ہوسکتا ہے وعظ گوئی کا پیشہ کرتے ہوں لہذا لوگوں کوعشروصدقات کی ترغیب دینے کیلئے ایک واقعہ گڑھ لیا ہو ،چنانچہ اس حدیث کو ان الفاظ میں پڑھکر سنایا ۔حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔

زرعنا تزداد حناً۔

ہم نے کھیتی کی تو وہ سب مہندی ہو گئی۔

لوگوں نے تعجب خیز انداز میں پوچھا ،جناب اس کا کیا مطلب ہوا ؟بولے:

اصل میں قصہ یہ ہے کہ کسی علاقہ کے لوگوں نے اپنی کھیتی باڑی کا عشر وصدقہ ادانہیں کیاتھا ،لہذا اسکی سزاملی ،حضور کی خدمت میں شکایت لیکر پہونچے ،یارسول اللہ ! ہم لوگوں نے کھیتی کی تھی لیکن وہ سب مہندی کے درخت بن گئی ۔ توحضور نے انکا قول نقل کرتے ہوئے لوگوں کو برے نتائج سے خبر دار کیا ہے ،معاذ اللہ رب العالمین ۔

یہ سب نتیجہ اسی چیز کا تھا کہ حدیث کسی استاذ سے پڑھی نہیں تھی صرف کتاب سے نقل کرکے بتادی جس میں بیچارے کاتب کی خامہ فرسائی سے الفاظ میں تغیر ہوگیا ہوگا جسکو یہ خود سمجھ نہ پائے ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی احادیث کریمہ کی غلط تاویل بھی بسااوقات

اسی بے علمی اور محض کتابت پر بھروسہ کی پیدا وار ہوتی ہے ۔

حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھی ، چونکہ نماز عید میدان میں اداکی جاتی تھی ،لہذا سترہ کے طور پر کبھی چھوٹاتیز بلم وغیرہ نصب کرلیا جاتا ، دوسرے اوقات کی نمازیں بھی جب سفر میں اداہوتیں تو سترہ کا طریقہ عام تھا ،حدیث کے الفاظ ہیں ۔

کان یرکزالعنزۃ ویصلی الیھا ۔(الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۵)

نیزہ گاڑاجاتا اور اسکی جانب رخ کرکے دورکعت نمازپڑھی ۔

دوسری حدیث میں ہے:۔

فصلی الی العنزۃ بالناس رکعتین۔ (الصحیح لمسلم، باب السترۃ، ۱/۱۹۶)

پھر حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے نیزہ کی طرف رخ کرکے دورکعت نمازپڑھائی۔

اب سنئے۔

عرب کے ایک قبیلہ کانام ’عنزہ ‘تھا ،اسکے ایک فرد ابوموسی عنزی بیان کرتے تھے کہ

ہماری قوم کو بڑا شرف حاصل ہے کہ حضور نے ہمارے قبیلہ کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی ہے۔(مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

غالبا انکی اسی طرح کی غفلتوں کے پیش نظر امام ذھلی نے فرمایا ۔

فی عقلہ شی۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴ /۲۴)

انکی عقل میں کچھ فتور تھا ۔

دوسری وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے جوامام ابن حبان نے بیان کی ۔

کان لا یقرء الامن کتابہ۔ (میزان الاعتدال للذہبی، ۴/۲۴)

احادیث ہمیشہ کتاب سے پڑھنے کے عادی تھے ۔

نیزامام نسائی فرماتے ہیں ۔

کان یغیر فی کتابہ۔( میزان الاعتدال، للذہبی، ۴/۲۴)

اپنی کتاب میں تغیر سے بھی کام لیتے تھے ۔

حدیث شریف میں ہے :۔

ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم احتجر فی المسجد۔ ( مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں چٹائی سے آڑ کی ۔

اسی معنی کی روایت بخاری شریف میں یوں ہے ۔

کان یحتجرحصیرا باللیل فیصلی ویبسطہ بالنہار فیجلس علیہ۔ ( الجامع الصحیح للبخاری، کتاب اللباس،)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم شب میں ایک چٹائی سے آڑکرکے نماز پڑھتے اوردن میں اسکو بچھاکراس پر تشریف فرماہوتے ۔

قاضی مصر ابن لہیعہ نے اسکو یوں روایت کردیا ۔

احتجم فی المسجد ۔

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مسجد میں فصد کھلوائی ۔

امام ابن صلاح اس غلطی کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔

اخذہ من کتاب بغیرسماع۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

ابن لہیعہ نے شیخ سے سماعت کئے بغیر کتاب سے دیکھکر روایت کردیا ۔

حدیث شریف میں ہے ۔

ان النبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نھی عن تشقیق الخطب۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں نفاظی اور بناوٹی انداز سے منع فرمایا۔

دوسری حدیث یوں مروی ہے ۔

لعن رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم الذین یشققون الخطب تشقیق الشعر۔ (مقدمہ ابن صلاح، ۱۴۱)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے وعظ وتقریر میں بتکلف شعروشاعری کی طرح قافیہ بندی کرنے والوں کو ملعون فرمایا ۔

اب لطیفہ ملاحظہ کریں :۔

اس حدیث کوایک بیان کرنے والے مقرر نے مسجد جامع منصور میں اس طرح پڑھا ،

نھی عن تشقیق الحطب ۔

حضور نے لکڑیاں چیرنے سے منع فرمایا۔

اتفاق سے مجلس میں ملاحوں کی ایک جماعت بھی تھی ،بولے

فکیف نعمل والحاجۃ ماسۃ۔ (مقدمہ بن صلاح، ۱۴۲)

ہم کشتیاں کیسے بنائیں کہ اسکے لئے تو لکڑی چیرنے کی ضرورت پڑتی ہے ۔

ان بیچاروں کا روزگار ہی کشتی چلانے پرتھا توانکی تشویش بجا تھی ،امام ابن صلاح نےآگے کی بات ذکر نہیں کی کہ پھر ان ملاحوں کو جواب کیا ملا ۔

ان جیسے بہت سے قصے امام مسلم نے کتاب التمیز میں ذکر کئے ہیں اوردیگر محدثین مثل دارقطنی وغیرہ نے شرح وبسط سے مفید معلومات بیان کی ہیں ۔

غصہ اور ناراضگی

غصہ اور ناراضگی

محمد مبشر حسن مصباحی

 غصہ اورناراضگی انسانی سماج ومعاشرے میں ایک ایسی بیماری ہے جو عام بیماریوں سے زیادہ نقصان دہ ہے۔اس نے ایک نہ ایک فرد،بلکہ پوری دنیامیں انسانیت کے شیرازے کو بکھیر کر رکھ دیا ہے۔اس وبانے نہ صرف بر صغیر ہندوستان ، بلکہ ایشیاویورپ اور دیگر ممالک کوبھی اپنی چپیٹ میں لے لیا ہے۔ اسی غصہ اور ناراضگی کے سبب انسان ایک دوسرے سے برسرپیکارنظرآتاہے اور یہ سلسلہ آج ایک نہ تھمنے والے سیلاب کی طرح آگے ہی بڑھتاجارہا ہے۔ اس نے جہاں انسانیت کی روح، اخوت و محبت اورانسان دوستی کو پامال کر رکھا ہے وہیں خاندانی رشتے، سماجی و ملکی تعلقات اور خیرسگالی کے جذبات کوبھی متأثرکررہا ہے۔غصہ اور ناراضگی آج جس طرح جان لیوا ہیضے کی شکل میں انسانی سماج کے اندر اپنے بال وپر جمارہے ہیں ،اگر ا س پر قابو نہ پایاگیا تو وہ دن دور نہیں کہ انسانیت کا جنازہ اٹھ جا ئے  اور اس کے لیے کسی میڈیسن کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انسان کو خود اس بیماری سے لڑنے کے لیے کوشش کرنا ہوگا۔

آج دوست واحباب کے درمیان جارحانہ سلوک، بھائیوں اوربہنوں میں اَن بن، باپ بیٹے اور ماں بیٹیوں کے بیچ تلخیاں،ان سب باتوںکا اصل سبب غصہ اورناراضگی ہی ہے۔ انگنت شوہروں اور بیویوں کی خوش حال زندگیاں غصے اور ناراضگی ہی کی وجہ سے اجیرن بنی ہوئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن و احادیث میں غصہ اورناراضگی کی سخت مذمت کی گئی ہے اور حرام قراردیا گیا ہے ،جبکہ غصہ پینے ولے اور عفو در گذر سے کام لینے والوں کی تعریف وستائش کی گئی ہے،ایسے بندوںکو اللہ تعالیٰ بھی پسند کرتا جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں،ارشادباری ہے:

وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۔‘‘( آل عمران آیت:۱۳۴)

ترجمہ:اور غصہ پینے والے اور لوگوں کو در گزر کرنے والے اور اللہ احسان کرنے والے کو پسند فرماتا ہے۔

ابلیس جب مردودِ بارگاہ الٰہی ہواتو اس کی سب سے اہم اور بڑی وجہ غصہ اور ناراضگی ہی رہی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے  فرشتوں کے ساتھ ابلیس کو بھی یہ حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کروتوتمام فرشتوں نے سجدہ کیا لیکن ابلیس نے سوچ کر کہ وہ آگ سے بنایا گیا ہے اورحضرت آدم مٹی سے اور آگ مٹی سے بہر حال افضل و اعلیٰ ہے ، اپنے غصہ اورناراضگی کا اظہارکرڈالا،اوربولا :

’’خَلَقْتَنِی مِنْ نَارِِ وَخَلَقْتَہٗ مِنْ طِیْن۔‘‘( اعراف ،آیت:۱۲)

یعنی اے اللہ!تو نے مجھے آگ سے بنایاہے اور آدم کو مٹی سے ۔

نتیجے کے طورپربارگاہ خداوندی سے ہمیشہ کے لیے نکال دیا گیا ،باوجود کہ وہ مُعَلِّمُ الْمَلَکُوتِ رہ چکاتھا۔معلوم ہوا کہ غصہ کرنا اور ناراض ہونا انسانی صفت نہیں ہے بلکہ یہ ایک شیطانی صفت ہے، جس سے بچنا انتہائی ضروری ہے،ورنہ غصہ اورناراضگی کے سبب بندے کی دنیا اور آخرت دونوں تباہ وبرباد ہوجائے گی۔

غصے کی حقیقت

غصہ اورغضب کا محل دل ہے جس کا معنی انتقام کے لیے خونِ دل کا جوش مارنا ہے۔ اس کے تین درجے ہیں:

۱۔ افراط

۲۔ تفریط

۳۔اعتدال

 حدیث شریف میں ہے کہ:

 بعض لوگوں کو غصہ جلد آ جاتا ہے اور جلد چلاجاتاہے یہ ایک کے بدلے میں دوسرا ہے اور بعض کو غصہ دیر میں آتا ہے اور دیر میں جاتا ہے یہاں بھی ایک کے بدلے میں دوسرا ہے، یعنی ایک بات اچھی ہے اور ایک بات بری ،ادلا بدلا ہو گیا۔اور تم میں بہتر وہ ہیں کہ جنھیں دیر میں غصہ آئے اور جلدچلاجائے اور بدتر وہ ہیں جنھیں غصہ جلد آئے اور دیر میں جائے۔

 غصے سے بچو کہ وہ آدمی کے دل پر ایک انگارا ہے۔ دیکھتے نہیں ہو کہ گلے کی رگیں پھول جاتی ہیں اور آنکھیں سرخ ہو جاتی ہیں جو شخص غصہ محسوس کرے لیٹ جائے اور زمین سے چمٹ جائے۔

معلوم ہوا کہ غصہ اچھی عادت نہیں ،کیونکہ غصہ اچھے بھلے انسان کو وحشی بنادیتا ہے اوراس کے درمیان اچھے برے کی تمیز بھی مٹادیتا ہے ،جس کی وجہ سے آپس میں نفاق تو پیدا ہوتا ہے معاشرے میں بھی ا س کا غلط اثر پڑتا ہے۔

غصے کا علاج

غصے اور ناراضگی سے بچنے کے لیے لازم ہے کہ انسان اپنے اندر تشدد، انتہا پسندی، جارحیت اور کڑا پن کو جگہ نہ دیں، بلکہ تواضع و انکساری ،بردباری، لطف و کرم اور جود و سخا جیسے اعلیٰ صفات کے حامل بنیں،کیونکہ یہ صفات انسان کو غصے اور ناراضگی پر قابوپانے میں مدد کرتی ہیں، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی اور غصے کا علاج بتاتے ہوئے فرمایا:

غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا ہوتا ہے اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہٰذا جب کسی کو غصہ آجائے تو وضو کرلے ۔(ابو داؤد)

مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: جب کسی کو غصہ آئے اور وہ کھڑا ہو تو بیٹھ جائے، اگر غصہ چلا جائے تو ٹھیک ورنہ لیٹ جائے۔(ترمذی)

سیدعالم رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف علاج پر اکتفا نہ کیا، بلکہ غصے سے محفوظ رہنے پر بے شمار برکتوں کی بشارت بھی دی، جیسا کہ حضرت ابو دردارضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے کہا: یا رسول اللہ!

 ’’دُلَّنِی عَلَی عَمَلٍ یُدْخِلُنِی الْجَنَّۃَ، قال لَاتَغْضَب۔‘‘ (المعجم الکبیرللطبرانی)

ترجمہ: مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں جو جنت میں پہنچا دے فرمایا غصہ نہ کرو۔

ایک دوسری حدیث شریف میں ہے:

’’ مَنْ کَظَمَ غَیْظًا وَہُوَ یَسْتَطِیعُ أَنْ یُنْفِذَہُ ، دَعَاہُ اللّٰہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ.ی رُؤُوسِ الْخَلاَئِقِ ، حَتَّی یُخَیِّرَہُ فِی أَیِّ الْحُورِ شَاء َ.‘‘(ترمذی)

ترجمہ: جس نے غصہ کوپی لیاحالانکہ وہ غصہ کر سکتا تھا تو اللہ رب العزت اسے قیامت کے دن اختیار دے گا کہ وہ حورمیں سے جس حورکوچاہے لے لے۔

اس طرح اسلامی تعلیمات اور انسانی تجربات کی روشنی میںہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ غصہ اور ناراضگی سے نہ صرف ہماری جانی و مالی نقصانات اور اتحاد کاشیرازہ بکھرتا ہے، بلکہ ہمارے اندر شیطانی اورناپسندیدہ صفتیں بھی پیداہوتی ہیں جو ہمارے ایمان کو بھی کھوکھلا کردیتی ہیں اور ہمارے سماج ومعاشرے کو بگاڑدیتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان بلاؤں سے ہمیشہ محفوظ رکھے۔(آمین)

جنت میں کون نہیں جائے گا؟

جنت میں کون نہیں جائے گا؟ 

 مقصود احمد سعیدی
 
دنیا کایہ دستورہے کہ جب آقا کسی غلام کو خریدتا ہے تو اس کے لیے اپنے مالک کی تابعداری کرنا ضروری ہوتاہے۔اس کا حکم بجالانااس غلام کی ذمے داری ہوتی ہے۔ اگرغلام اپنے آقا کے حکم اورفرمان کے خلاف کرتا ہے تووہ ہرحال میں سزاکامستحق ہوتاہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ جوسب حاکموں کا حاکم ہے۔ سارے جہان کا پروردگار ہے۔ اس نے انسان اور جنات کو اسی لیے پیدافرمایا ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں۔ 
اب اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیںکرتا،اس کے حکم کے خلاف کام کرتا ہے تواسے سزا ملے گی۔وہ زندہ ہے تو دنیا میں پریشانی اٹھا سکتا ہے اور اگر وفات پاگیا تو کل قیامت کے دن جہنم میں جائے گا۔ 
عبادت کیا ہے؟ تو جواب صاف ہے کہ اللہ رب العزت نے جن احکام کو بجا لانے کا حکم عطا فرمایا ہے اس کو بجا لانا اور جن سے بچنے کا حکم عطا فرمایا ہے، اس سے بچنا یہی عبادت ہے، اللہ کا حکم ہے کہ:
مَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا(۷ )(حشر)

 ترجمہ:رسول تمھیں جو عطا کریں اسے لے لو اور جس سے روکیں اس سے رک جاؤ۔

اس آیت کریمہ کا صاف مطلب یہ ہے کہ رسول اعظم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی اتباع کرو۔ان کے حکم کی تابعداری کرواورہرگزہرگز خلاف ورزی نہ کرو، ورنہ ہلاکت میں مبتلا ہو جاؤگے اور پھرتمھارا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :

اَنَّ رجُلاً قَالَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!ما حَقُّ الْوَالِدَیْنِ عَلٰی وَلَدِ ھِمَا؟ قَالَ: ھُمَا جَنَّتُکَ و نَا رُکَ۔(سنن ابن ماجہ) 
ترجمہ: ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ!(ﷺ) ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ دونوں تمھارے لیے جنت ہیں اور تمھارے لیے جہنم۔

اس حدیث شریف میں جہاں والدین کی عظمت کا اظہار ہے وہیں ان اولادکے لیے تنبیہ بھی ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آتے ہیں اور ان اولاد کے لیے خوشخبری ہے جو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرتے ہیں،یعنی جو شخص اپنے ماں باپ کو راضی رکھے گا جنت کا حق دار ہوگا اور جو ناراض رکھے گا وہ دوزخ کا ایندھن بنے گا۔
عبد اللہ ابن عمرو رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: 

عَنِ النَّبِی صلَّی اللّٰہ تعالیٰ عَلَیہ وَسَلَّمَ قَالَ لَایَدْخُلُ الْجَنَّۃَ عَاقٌّ وَلَا قَمَّارٌ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ۔ (مسنداحمد،مشکوۃ)
ترجمہ: حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ والدین کی نافرمانی کرنے والا، جوا کھیلنے والا، احسان جتانے والا اور شراب کا عادی جنت میں داخل نہ ہوگا۔

اس حدیث پاک میں تین اشخاص کو جہنمی بتایاگیا ہے ۔
۱۔ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا،کیونکہ ماں باپ کی ناراضگی میں رب تبارک و تعالیٰ کی ناراضگی ہے اوراللہ کو ناراض کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کہاں۔
۲۔ جوا کھیلنے والا،یعنی وہ کھیل جس میں روپے اور دولت کی بازی لگائی جائے۔
۳۔احسان جتانے والا،یعنی دوسروں کے ساتھ بھلائی کر کے لوگوں کو بتاتے رہنا۔ایسے احسان کرنے والے کو نہ اللہ پسند کرتاہے نہ اس کا رسول اور جنھیں اللہ و رسول پسند نہ کرے اس کا ٹھکانہ جہنم ہی تو ہوگا۔
۴۔ شراب کاعادی، شراب ایک حرام چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے استعمال کرنے سے منع فرمایا ہے۔جو کوئی اس کی حکم کی نافرمانی کرے اس کی سزا جہنم ہے۔
عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے: 

قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلَّی اللّٰہُ تعالیٰ عَلَیہ وَسَلَّم اِنَّ الصِدْقَ بِرٌّ اِنَّ البِرَّ یَھْدِیْ اِلَی الْجَنَّۃِ وَ اِنَّ الکِذْبَ فُجُوْرٌ وَ اِنَّ الفُجُوْرَ یَھْدِیْ اِلَی النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سچ بولنا نیکی ہے اور نیکی جنت میں لے جاتی ہے اور جھوٹ بولنا فسق و فجور ہے اور فسق و فجور دوزخ میں لے جاتا ہے۔

اس حدیث میں جھوٹ کو جہنم کی طرف لے جانے والا قرار دیا گیا ہے کیوں کہ جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی پھٹکار ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ عز وجل فرماتا ہے:

أَنَّ لَعْنَتَ اللہِ عَلَیْہِ إِنْ کَانَ مِنَ الْکَاذِبِیْنَ(۶۱)(آل عمران ) 
یعنی جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہے۔

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ قَتَّاتٌ۔(بخاری ) 
ترجمہ: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔

عبد الرحمن بن غنم اور اسما بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے،وہ بیان کرتے ہیں: 

اَنَّ النَّبِیَّ صلَّی اللّٰہ تَعَالیٰ عَلَیہ وَسَلَّمَ قَالَ شِرَارُ عِبَادِ اللّٰہِ الْمَشَّاؤُنَ بِالنَّمِیْمَۃِ۔ اَلْمُفَرِّقُوْنَ بَیْنَ الاَحِبَّۃِ۔(احمد، بیہقی) 

ترجمہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خدائے تعالیٰ کے بدترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں۔ چغل خور یعنی وہ شخص جو کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے۔ ایسا کرنا حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضاً(۱۲)(حجرات)

تم میں سے کوئی کسی کی چغل خوری نہ کرے۔

اس برے عمل کے ذریعے انسان دو جرموں کا ارتکاب کرتا ہے ۔ ایک تو اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو اپناتا ہے جو آخرت کے لیے گھاٹے کا سودا ہے ۔ دوسرا اپنے دوستوں کو خود سے جدا کر لیتا ہے جو سماج و معاشرے میں نقصان کا سبب ہے۔
بعض دفعہ انسان گفتگو کے دوران کچھ ایسی باتیں کہہ جاتا ہے جسے وہ جھوٹ، چغلی اور فسق وفجورنہیں سمجھتاجب کہ وہی باتیں اس کے لیے بہت بڑے عذاب کی شکل اختیار کر لیتی ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے: 

اَلنَّبِیِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ:اَنَّ الْعَبْدَ لَیَتَکَلَّم بِالْکَلِمَۃِ مَا بَیْنَ فِیْھَا یَزِلُ بَھِا اِلی النَّارِ اَبْعَد کَمَابَیْنَ الْمَشْرِقِ والْمَغْرِبِ۔ 
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بندہ کوئی ایسا کلمہ کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے دوزخ میں اتنی دور چلا جاتا ہے جتنا کہ مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔