🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

🌴🌹 عادتیں 3 اور اجر عظیم🌹🌴

حضرت سیدنا عبدالله بن مسعود رضي الله عنه کا قول ہے :

رسول الله صلى الله عليه و على آله و اصحابه و بارك و سلم نے فرمایا

*🌷أَلَا أُخْبِرُكم بمَن يَحْرُمُ على النَّارِ، وبمَن تَحْرُمُ عليه النَّارُ؟ على كلِّ قريبٍ هيِّنٍ سهْلٍ🌷*

📗 ترمذی اورأحمد

فقیر خالد محمود عرض کرتا ہے کہ حدیث پاک کے ابتدائیہ پر قربان ۔

اللہ تبارک و تعالی کے رسول معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے رحمت و شفقت کا انتہائی انداز اختیار فرمایا ۔

کیا میں تمہیں بتاءوں نہیں

اس قدر نرم ، دھیما ، پیار بھرا لہجہ اختیار فرما کر بات کرے محبوب رب العالمین تو پھر صد ہزار حیف ہے اس پر جو ان پر عمل نہ کرے ، ان کو اپنے کردار کا حصہ نہ بنائے ۔ پھر خصوصا جب کہ نہ زیادہ مشکل ہوں اور نہ ان پر خرچ آئے ۔

ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ بھی آئے چوکھا۔

اس قدر اظہار شفقت سے متوجہ کر کے فرمایا

جو جہنم کی آگ پر حرام کر دیا گیا ہے اور جس پر جہنم کی آگ حرام کر دی گئی ۔

فقیر خالد محمود آپ کی توجہ اس طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتا ہے کہ فرمایا

حرام کر دیا گیا ہے، حرام کر دی گئی ہے، یہ نہیں فرمایا کہ ہو جائے گی بلکہ پختہ اور ٹھوس انداز میں فرمایا کہ حرام ہو چکا ہے ۔ پھر اس بات کو صرف ایک ہی بار نہیں فرمایا بلکہ جملہ بدل کر دو بار فرمایا ۔ ان کو جہنم پر اور جہنم کو ان پر قطعا حرام ہو جانا بتایا

تو بات یہ بنی کہ جہنم میں جانا تو دور کی بات ہے ، جہنم کے قریب تک کا بھی کوئی امکان نہیں ۔

*کن پر :

*على كُلِّ قَريبٍ*،

دوستو !

اللہ تبارک و تعالی کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بشارت کو کتنا عام فرما دیا ۔

كُلِّ _ یعنی ہر کوئی ، امیر غریب چھوٹا بڑا شاہ گدا کالا گورا کوئی بھی ہو

ہو بس !

(1) *قَريبٍ* : لوگوں کے قریب، ان سے دور نہ بھاگنے والا ۔ لوگ اس کے ساتھ آسانی سے مل سکیں ۔

یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اعزہ و احباب و اقارب اس سے بے شک دور ہوتے رہیں ۔ یہ قریب رہتا ہے ۔

(2) *هَيِّنٍ*، سكون و وَقار اور نرمی کے ساتھ لوگوں کے ساتھ برتاؤ رکھنے والا ۔

(3) *سَهْلٍ*: معاملات اور اخلاق میں سہولت والا ، لوگوں میں آسانیاں بانٹنے والا ۔

🌻 فقیر خالد محمود اس معاشرے کا کمزور ترین فرد ہے اور بخوبی آگاہ کہ یہ تینوں عادات اپنانا اتنا آسان نہیں خصوصا اس عہد عجیب و پرآشوب میں

لیکن آپ کو یقین دلاتا ہے کہ ناممکن بھی نہیں ۔ مرد تو ہوتا ہی وہی ہے جو مشکلات سے کھیلے ۔

بدی را بدی سھل باشد جزا

اگر مردی احسن إلى من أساء.

حضرت شیخ سعدی عليه الرحمة کا شعر جو اپنے والد مرحوم و مغفور سے بچپنے میں بھی اکثر سنا ۔

مفتی خالد محمود

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی سے زیادہ ہے ضروری، حکمت عملی

سبسڈی جو عربی میں اِعَانَةُ : اور اردو میں امداد کہلاتی ہے ۔

یہ وہ رقم ہے جو حکومت کسی ادارہ کو برائے ترقی یا بیرونی مقابلہ کے لئے دیتی ہے ۔

کم و بیش تمام اسلامی ممالک اپنے اپنے شہریوں کو حج کے موقع پر سہولیات فراہم کرتے ہیں، حتیٰ کے انڈیا جیسی لبرل ریاست بھی سات سو کروڑ ہر سال حاجیوں کے لیے سبسڈی دیتی ہے۔

ایک دو اہم سوال ہیں جو بار بار انباکس میں رسیو کئیے ۔

سوال :۔ کیا بیت المال سے زکوۃ کے پیسے سے سبسڈی دی جا سکتی ہے؟

جواب :۔ جی نہیں

سوال:۔ تو کیا حکومت دیگر ٹیکسز سے سبسڈی دے سکتی ہے جب کہ وہ پیسہ غریبوں کا ہے؟

جواب:۔ ٹیکسز صرف غریبوں کا پیسہ نہیں اس سے ہر شہری کو سہولت دی جا سکتی ہے اور دی جانی چاہیے، چاہے وہ حج ہو یا کوئی اور سفر یا صحت کے معاملات ہوں یا خوراک کے۔

سوال:۔ سوال یہ ہے کیا ٹیکسز کے ذرائع تمام کے تمام حلال ہیں یا حلال وحرام مکس ہیں؟

جواب:۔ میں سمجھتا ہوں اس کا معقول جواب مفتی منیب الرحمٰن صاحب نے دیا ہے ۔

حکومت پر حج پر سبسڈی دینا کوئی واجب نہیں اور اگر دینا چاہتی ہے تو شرعاًممنوع بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی آمدن مخلوط ہوتی لیکن اس میں جائز ذرائع بھی شامل ہیں ، اس لئے حکومت حج کیلئے جوسبسڈی دے تو وہ یہ سمجھے کے یہ سبسڈی جائز ذرائع سے دے رہی ہے اورحاجی بھی یہ سمجھے کہ اس کویہ سبسڈی جائز ذرائع سے دی جارہی ہے ۔

اگر اس پر اعتراض کیا جائے تو پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کے پاس کچھ بھی جائز نہیں بچے گا کیونکہ ہر جگہ پر ملاوٹ ہے کہیں پر سود کی کہیں پہ ناجائز مال کی حتیٰ کہ ہمارے حج، زکوۃ، مساجد کا چندہ بھی اس سے محفوظ نہیں.

پہلی بات تو یہ یاد رکھیے کہ ٹیکسز کا پیسہ صرف غریبوں کا ہی نہیں ہوتا،

پیسے کے ذرائع عمومی طور پر امیروں کے ہی ہوتے ہیں لیکن غریبوں کی ضروریات کے لئے اور ملک کی فلاح بہبود کے لئے ہی ٹیکسز وصول کیے جاتے ہیں۔

ایک بہترین اسلامی فلاحی ریاست کی بنیاد، ریاست مدینہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی اور اس میں مزید اصطلاحات سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیں۔

مثلاً :۔

ائمہ مساجد کی تنخواہیں مقرر کرنا۔

سڑکوں کی تعمیر اور وقفے وقفے سے سرائے قائم کرنا.

مجاہدین اور انکی اولادوں کے وظائف مقرر کرنا۔

حاجیوں کے لئے پانی کا انتظام کرنا۔

اسی طرح ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے لیے سہولیات فراہم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کرے.

اسلامی حکومتوں میں بھی آمدن کے ذرائع ایک سے زیادہ ہوتے ہیں جس طرح زکوۃ، عشر، خراج، مال غنیمت وغیرہ ۔

اسی طرح موجودہ جمہوری حکومتوں کے پاس بھی آمدن کے ایک سے زائد ذرائع ہیں زکوۃ اور عشر ہے اور ہر قدم ٹیکسز جیسے بجلی، پانی، گیس، پٹرول، حتیٰ کے کھانے پینے پر ٹیکسز ہیں روڈ پر چلنے کا ٹیکس ہے، گاڑی خریدنے اور چلانے پر ٹیکسز ہے ۔

تو ٹیکسز اسی لئے دیئے جاتے ہیں کہ اس کے بدلے میں حکومت شہریوں کو سہولتیں فراہم کرے۔

اس میں دو باتیں ناجائز ہو سکتی ہیں ۔

ایک یہ کہ کوئی حاجی حج پر جانے کے لئے حکومت سے امداد طلب کرے، جبکہ ایسا کبھی نہیں ہوتا بلکہ ہر سال درخواستیں زیادہ ہوتی ہیں اور حکومت کم لوگوں کو اجازت دیتی ہے، کیونکہ سعودی عرب کی طرف سے ایک مخصوص کوٹہ مقرر کیا جاتا ہے۔

اور دوسری ناجائز بات اقرباپروی ہے کہ کوئی وزیر، مشیر، یا حکومتی عہدیدار کسی خاص شخص کو سرکاری پیسے سے حج پر لے جائے۔

لیکن جب کسی حاجی کی طرف سے امداد کا مطالبہ بھی نہ ہو۔اور اقرباپروری بھی نہ ہو ۔

تو بطور پاکستانی شہری کے ان کو سہولت فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے وہ سبسڈی سے ہو یا کسی بھی ذریعہ سے۔

اور یہ کہنا کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں جیسے چاہے لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں حکومت جس طرح بھی لوٹنا چاہے صاحب استطاعت لُٹنے کے لئے تیار ہوجائے۔

سبسڈی سے زیادہ ضروری

1 ۔سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا جائے ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی جائے

3۔ وی آئی پی ہوٹلز کی بکنگ ختم کی جائے.۔

4:۔ عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی مگر مہنگی رہائشیں کرائے پر نہ لی جائیں ،

5:. مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات مگر سستی کرایہ پر حاصل کی جائیں۔

6:۔ ٹرانسپورٹ کرایہ پر لیں اور حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کریں۔

یہ وہ اقدامات ہے کہ اگر ان کو اختیار کیا جائے اور صحیح طریقے سے عمل درآمد کروایا جائے تو شاید سبسڈی کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔

تحریر :۔ محمد یعقوب نقشبندی اٹلی

سبسڈی والا حج

سؤال:

حکومت کی طرف سے ملنے والی حج سبسڈی پہ جن لوگوں نے حج کیا ہے کیا أنکا حج صحیح ہے ؟ کیونکہ حکومت کی آمدنی میں سود کی رقم بھی شامل ہوتی ہے .

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

جب ہم لوگوں کے ساتھ تعامل کرتے ہیں تو وہ تین طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں:

پہلی قسم:

أن لوگوں کی ہے جنکی آمدنی کے سب ذرائع جائز و حلال ہوتے ہیں أنکے ساتھ تعامل کرنے یا أن سے گفٹ وغیرہ وصول کرنے میں کسی کا اختلاف نہیں ، بلکہ أحسن یہی ہے کہ أیسے ہی لوگوں کے ساتھ تعامل کرنے أور کاروبار کرنے کو ترجیح دی جائے ، جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” وتعاونوا على البر والتقوى ” ( مائدہ ، 2 )

ترجمہ: نیکی أور تقوی ( کے معاملات) پر إیک دوسرے کی مدد کیا کرو۔

سب نیک عمل کسب حلال ہے تو جب ہم حلال ذرائع سے کاروبار کرنے والے سے کاروبار کریں گے تو یہ أسکے تعاون میں شامل ہوگا أور ہماری آمدنی کسب حلال سے ہوگی ، أور کسب حلال کی فضیلت میں کثیر أحادیث مبارکہ وارد ہیں جیسے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے فرمایا:

” نعم المال الصالح للرجل الصالح "

ترجمہ: نیک شخص کے لیے پاکیزہ مال کتنا ہی أچھا ہے.

( شعب الإيمان للبيهقي ، حديث : 1190 ، 2/446 )

إس حدیث مبارکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مال حلال کی تعریف کی أور نیک لوگوں کے لیے یہی حلال مال أچھا ہوتا ہے مطلب أنکو حرام مال قریب نہیں جانا چاہیے.

دوسری قسم:

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جنکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوتے ہیں ،

تقوی یہ ہے کہ أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل و لین دین نہیں کرنا چاہیے لیکن أگر کوئی أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کرلیتا ہے تو شرعا کوئی ممانعت نہیں بشرطیکہ وہ جو معاملہ کررہا ہے وہ شرعی طریقے کے مطابق ہے مثلا اگر کوئی سود والے شخص سے کوئی شئے خریدتا ہے یا أسے بیچتا ہے تو أگر أسکا خریدنا یا بیچنا سود سے خالی ہے تو کوئی حرج نہیں جیسے کہ علامہ عینی حنفی أور ابن بطال مالکی نے أیسے معاملے کے جواز پر درج ذیل دلائل ذکر کیے ہیں:

قال ابن المنذر : احتج من رخص فيه بأن الله تعالى ذكر اليهود فقال ” سماعون للكذب أكالون للسحت "/ مائده ، 24 .

وقد رھن الشارع درعه عند اليهودي ، وقال الطبري : إباحة الله تعالى أخذ الجزية من أهل الكتاب مع علمه بأن أكثر أموالهم أثمان الخمور والخنازير ، وهم يتعاملون بالربا.

ترجمہ:

ابن منذر فرماتے ہیں : جو أیسے لوگوں کے ساتھ معاملے کرنے کی رخصت دیتے ہیں وہ ” سماعون للکذب أکالون للسحت ” آیت سے استدلال کرتے ہیں ، أور جو حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں کے پاس أپنی درعہ رکھی أس سے بھی ، أور إمام طبری فرماتے ہیں: اللہ رب العزت نے اہل کتاب سے جزیہ لینے کو مباح قرار دیا حالانکہ أنکے مال میں شراب و خنزیر سے حاصل ہونے والے مال کی آمیزش ہوتی تھی أور وہ یہودی سود کا کاروبار بھی کرتے تھے .

( عمدۃ القاری ، 9/55 ، شرح صحیح البخاری لابن بطال مالکی ،3/511 )

حضور صلی الله علیہ وسلم نے یہودیوں سے معاملہ فرمایا حالانکہ یہودی کی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں تھے تو لہذا إس سے ثابت ہوتا ہے کہ جسکی آمدنی کے ذرائع حلال و حرام دونوں ہوں تو أس سے بھی تعامل کیا جاسکتا ہے شرعا أس میں کوئی ممانعت نہیں .

اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ جو سود لیتا ہو کیا أسکے ہاں کھانا کھاسکتے ہیں تو آپ نے کھانا کھانے کی إجازت دی.

(شرح صحیح بخاری ابن بطال مالکی ، 3/511 )

تیسری قسم:

تیسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جنکا سارا مال ہی حرام ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہو تو إسکی دو صورتیں ہے ہیں:

پہلی صورت:

وہ مال حرام لعینہ ہو یعنی دوسرے کی مرضی کے بغیر حاصل کیا گیا ہو جیسے ڈاکہ ڈال کر یا چوری کرکے یا قبضہ کرکے تو أیسا مال أس سے نہیں لیا جائے گا أور نہ ہی أس سے لین دین کیا جائے گا کیونکہ یہ گناہ کبیرہ ہے جیسے بعض دکاندار چوروں أور ڈاکوؤں سے لین دین دین کرتے ہیں تو یہ حرام ہے

جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” ولا تعاونوا علی الإثم والعدوان واتقوا الله إن الله شديد العقاب” ( مائده ، 2 )

ترجمہ:

گناہ أور ظلم پر إیک دوسرے سے تعاون نہ کیا کرو أور اللہ سے ڈرو ، بے شک اللہ رب العزت سخت سزا دینے والا ہے.

لہذا چوری و ڈاکہ یا ناجائز قبضے والا مال خریدنا یہ گناہ و ظلم پر چور یا ڈاکو مدد کرنے کے زمرے میں آتا ہے اس لیے أس کے ساتھ لین دین جائز نہیں.

دوسری صورت:

حرام لکسبہ،

أگر أسکا یہ حرام مال کسب حرام سے ہے یعنی سود وغیرہ سے تو آپ تعامل کرسکتے ہیں بشرطیکہ آپ کے أور أسکے درمیان لین دین حرام طریقے سے نہ ہو لیکن علماء کرام نے أیسے لوگوں کے ساتھ تعامل کو مکروہ کہا ہے یعنی کراہت تحریمی کیونکہ یہ بھی حرام پر مدد کرنے کے زمرے میں ہے.

لہذا حرام لعینہ میں علماء کرام کا اتفاق ہے کہ أس میں لین دین جائز نہیں .

اعتراض :

کیا جسکا مال حلال و حرام ذرائع سے آتا ہو تو کیا لین دین کے وقت أس سے پوچھیں گے کہ کیا جو مال تم مجھے دے رہے ہو وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام سے؟

رد:

نہیں ، أس سے پوچھیں گے نہیں أگر آپکو وہ خود بتائے یا پھر آپکو خود کسی ذریعے سے معلوم ہوجائے تو پھر وہ مال لینا جائز نہیں ہوگا ، أگر نہیں معلوم تو آپ أسکے ساتھ معاملات کرسکتے ہیں کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے استفسار کرنے سے منع فرمایا ہے:

” إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه طعاما فليأكل من طعامه، ولا يسأله عنه ، وإن سقاه شرابا من شرابه فليشرب من شرابه ، ولا يسأله عنه "

ترجمہ:

جب تم میں سے کوئی أپنے مسلمان بھائی کے پاس حاضر ہو ، پس وہ أسکو کھانا کھلائے تو وہ کھالے أس( کھانے) کے متعلق سؤال نہ کرے ، أور أگر کوئی مشروب پلائے تو پی لے ، أور أس ( مشروب) کے متعلق سؤال نہ کرے ( کہ وہ حلال ذرائع سے ہے یا حرام) .

( مسند أحمد بن حنبل ،حدیث نمبر: 9184 ، 15/99 , حدیث حسن ہے)

إس حدیث میں واضح ہے کہ جو مسلمان بھائی دے وہ لے لے أس سے سؤال نہ کرے کہ یہ حرام ذرائع سے ہے یا حلال

کیونکہ مسلمان اصلا حلال ذرائع سے رزق حاصل کرتا ہے ، أور جب وہ معروف ہوجائے کہ وہ حرام کا کاروبار بھی کرتا ہے تو پھر احتیاطا أس سے سؤال کرسکتا ہے کیونکہ أب وہ وہ خود کو أس أصل سے خارج کرچکا ہے جیسے ملا علی قاری فرماتے ہیں :

” وذلک إذا لم يعلم فسقه "

ترجمہ:

یہ سؤال نہ کرنا أس وقت ہوگا جب أسکا فسق معلوم نہ ہو ( أگر حرام ذرائع سے مال حاصل کرنا أسکی عادت بن گئ ہو تو وہ پھر سؤال کرے گا یہ حلال میں سے ہے یا حرام میں سے ).

( مرقاة المفاتيح للملا علي قاري ، حديث نمبر : 3228 ، 5/211 )

أگر کوئی أپنے حلال مال کو حرام مال سے پاک کرنا چاہے تو أسکا طریقہ کیا ہے ؟

إسکا طریقہ یہ ہے کہ أگر مال حرام لعینہ ہے یعنی وہ مال أس نے چوری یا ڈاکہ یا ناجائز قبضے کرکے کمایا ہے تو پھر جن سے أس نے وہ مال چوری کیا ہے أنکو واپس کردے ، أگر أسکو معلوم نہیں تو پھر ملکی خزانے میں جمع کروادے أگر أسے یقین ہوکہ حاکم وقت کرپٹ نہیں ، أور أگر وہ کرپٹ ہے تو غرباء وغیرہ میں تقسیم کردے جتنی حرام مال کی قدر ہو أسکو تقسیم کردے أپنے مال میں سے نکال کر أگر تمییز ممکن نہ ہو أگر ممکن ہو تو پھر جو مال حرام اس نے الگ رکھا ہوا ہے اسی کو تقسیم کرے

أگر أسکا مال حرام لکسبہ ہے یعنی دوسروں سے أس نے بیع و شراء کرکے کمایا ہے لیکن حرام طریقے سے جیسے سود وغیرہ لے کر تو جو حرام کا مال ہے وہ مکی خزانے میں جمع کردے أگر حاکم وقت کرپٹ نہیں أور أگر کرپٹ ہے تو پھر وہ مال غرباء و مساکین و ضرورت مندوں میں تقسیم کردے .

أور یہ أحکام حدیث ابن اللتبیہ سے مستنبط ہیں کیونکہ انہوں نے بھی ناجائز طریقے سے مال جمع کیا تھا ، یہ متفق علیہ حدیث ہے

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر: 6979 ، صحیح مسلم ، حدیث نمبر: 1832 )

حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر حج کا حکم کیا ہے؟

حکومت کی آمدنی حلال و حرام دونوں ذرائع سے حاصل ہوتی ہے تو یہ دوسری قسم کے لوگوں کے تحت إسکا حکم آئے گا یعنی حکومت کا مال حلال و حرام دونوں ہوتا ہے تو جو وہ سبسڈی دے رہی تھی تو ہو سکتا ہے کہ وہ حلال مال سے ہو

أور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حرام مال سے لیکن کیونکہ یقینا نہیں معلوم کہ وہ جو سبسڈی دیتی رہی ہے وہ حرام مال سے تھی یا حلال سے تو إس شبہہ کی بنیاد پر وہ سبسڈی پر کیا ہوا حج صحیح ہے لیکن إس حرام کے احتمال کی وجہ سے أن لوگوں کو توبہ کرتے رہنا چاہیے تاکہ أنکا حج مقبول ہو ،

مولا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا جاتا ہے کہ آپ نے فرمایا:

” لا بأس بجوائز السلطان ، فإن ما يعطيكم من الحلال أكثر مما يعطيكم من الحرام، وقال: لا تسأل السلطان شيئاً ، وإن أعطى فخذ ، فإن ما في بيت المال من الحلال أكثر مما فيه من الحرام "

ترجمہ:

بادشاہ ( حاکم وقت) کے تحائف ( لینے میں) کوئی حرج نہیں ، کیونکہ وہ حلال میں سے جو دیتے ہیں وہ أس حرام میں سے جو دیتے ہیں أس سے زیادہ ہوتے ہیں ( یعنی حلال تحائف زیادہ ہوتے ہیں) ، أور فرمایا: بادشاہ سے سوال بھی نہیں کرو گے ( کہ یہ حلال ہے یا حرام) ، أگر وہ تمہیں دیں تو لے لو کیونکہ بیت المال ( ملکی خزانے) میں حلال کا مال حرام سے زیادہ ہوتا ہے.

( مغنی لابن قدامہ ، فصل حکم قبول جوائز السلطان ، 4/202 )

یہ مولا علی رضی اللہ عنہ کے أپنے دور کے ملکی خزانے کی بات کررہے ہیں کیونکہ أس وقت جو جزیہ وغیرہ ہوتا تھا تو وہ اہل کتاب سے لیا جاتا تھا جنکی آمدنی حرام ذرائع سے بھی ہوتی تھی إس لیے بیت المال ( ملکی خزانے) میں حرام مال کے ہونے کا خدشہ رہتا تھا لیکن مولا علی رضی اللہ عنہ کے قول کا یہ مطلب نہیں أس وقت خلفائے راشدین حرام ذرائع سے مال جمع کرتے تھے لہذا کسی کے ذہن میں کوئی شبہہ پیدا نہ ہو۔

جیسے حضور صلی الله علیہ وسلم أہل کتاب کے تحائف کو قبول فرماتے تھے حالانکہ أنکی آمدنی حلال و حرام سے مختلط ہوتی تھی لیکن کیونکہ بعینہ معلوم نہیں تھی تو إس لیے قبول فرماتے ، أگر معلوم ہوتا کہ یہ حرام ہے تو قبول نہیں فرماتے تھے ،

أیلہ کے بادشاہ نے آپکو إیک سفید سواری گفٹ کی أور چادر پہنائی إسکو إمام بخاری نے أپنی صحیح میں روایت کیا ہے ، حدیث نمبر : 1481 ،

إسی طرح وہ یہودیہ عورت کا جو قصہ معروف ہے جس نے زہر والی بکری کھلائی تو أسکی دعوت بھی حضور صلی الله علیہ وسلم نے قبول فرمائی تو یہ واقعہ ہوا

أور یہ واقعہ متفق علیہ ہے صحیح بخاری میں باب قبول ہدیۃ المشرکین أور صحیح مسلم باب السم دیکھیں۔

لہذا جب حکومت کی آمدنی حلال و حرام ذرائع دونوں سے ہے أور بعینہ مال حرام ہونا معلوم بھی نہیں ہوتا تو أسکی طرف حج سبسڈی کا گفٹ لینے میں کوئی شرعی ممانعت نہیں لیکن ورعا و تقوی کے طور پہ جائز نہیں.

اعتراض:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے جو أہل کتاب سے ہدیہ قبول کیا کیا وہ تقوی کے خلاف تھا؟

رد:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے أہل کتاب کے جو ہدیے قبول کیے أسکی دو وجہ تھیں:

پہلی وجہ :

یہ تھی کہ جواز کو ثابت کیا جائے یعنی یہ ظاہر کرنا تھا کہ أہل کتاب سے ہدیہ لینا جائز ہے أگر چہ أنکی آمدنی حلال و حرام مال سے مختلط ہوتی۔

دوسری وجہ:

تالیف قلوب تھا کہ وہ أپکے إس حسن سلوک سے متاثر ہوکر إسلام قبول کرلیں لہذا حضور صلی الله علیہ وسلم کا أہل کتاب سے ہدیہ لینا تقوی کے خلاف نہ تھا بلکہ شرعی حکم واضح کرنا تھا.

ہمارے دور میں تو حکومت کی آمدنی زیادہ حرام ذرائع سے ہوتی ہے لہذا بچنا چاہیے أور إسی میں تقوی ہے.

کیا حرام مال سے کیا ہوا حج ہوجاتا ہے؟

حج میں أصل یہ ہے کہ إنسان حلال آمدنی سے حج کرے جیسے کہ قرآن مجید نے فرمایا:

” إنما يتقبل الله من المتقين "

( مائده ، 27 )

ترجمہ: بے شک اللہ ( أعمال ) متقین سے قبول فرماتا ہے .

آیت میں صریح ہے کہ عمل وہی قبول ہے جسکی بنیاد تقویٰ پر ہو أور جو حرام مال سے حج کرے أسکی بنیاد تقوی پر نہیں بلکہ گناہ پر ہے لہذا وہ قبول نہیں.

أور

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” إِذَا خَرَجَ الرَّجُلُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَلالٌ ، وَرَاحِلَتُكَ حَلالٌ ، وَحَجُّكُ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَنَادَى : لَبَّيْكَ ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ : لا لَبَّيْكَ وَلا سَعْدَيْكَ ، زَادُكَ حَرَامٌ وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ

( المعجم الأوسط للطبرانی ، حدیث نمںر : 5228 ، 5/251 ، حدیث کی سند ضعیف ہے ، جامع العلوم والحکم ، 1/261 )

مفہوم حدیث:

جب شخص حلال مال کے ساتھ حج کرنے کے لیے نکلتا ہے تو جب وہ کہتا ہے لبیک اللہم لبیک تو آسمان سے نداء دینے والا کہتا ہے لبیک و سعدیک تمہارا زاد راہ حلال ، تمہاری سواری ( ٹکٹ) حلال پیسوں کی ، تمہارا حج مقبول ہے ، جب کوئی شخص حرام مال کے ساتھ حج کرتا ہے تو آسمان سے نداء دینے والا فرشتہ کہتا ہے : لا لبیک ولا سعدیک ، تمہارا زاد راہ حرام ہے تمہاری ٹکٹ حرام کی ہے ، تمہارا حج غیر مقبول ہے.

تمام فقہاء کرام کا اتفاق ہے سوائے حنابلہ کے ظاہری قول کے کہ حج أدا ہوجائے گا یعنی فریضہ ساقط ہو جائے گا لیکن قبول نہیں ہوگا مطلب ثواب نہیں ہوگا أور وہ گنہگار بھی شمار ہوگا کیونکہ أس نے حرام مال سے حج کیا ہے ،

أور مذہب حنبلی کے ظاہری قول کے مطابق أسکا حج بھی أدا نہیں ہوگا بلکہ وہ أپنی حلال آمدنی سے دوبارہ حج کرے گا.

( حاشیہ ابن عابدین حنفی ، مطلب فیمن حج بمال حرام ، 2/456 ، مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل المالکی ، وصح بالحرام وعصی ، 2/528 ،المجموع شرح المہذب لنووی شافعی ، فرع: إذا حج بمال حرام ، 7/62 ، الإنصاف في معرفة الراجح من الخلاف للمرداوي الحنبلي ، الحج بمال مغصوب ، 6/205 )

إمام نووی نے المجموع میں اس مسئلہ میں إمام غزالی سے کچھ تنبیہات نقل کی ہیں ، تفصیل کے لیے مجموع کا باب ما نھی عنہ من بیع الغرر أور مواہب الجلیل میں باب تنبیہات خرج لحج واجب بمال فیہ شبھۃ کا مطالعہ فرمائیں وہ مفید ہے.

واللہ أعلم

درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 027: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

إلَّا أَنَّهُ إذَا تَرَكَ الِاسْتِنْجَاءَ أَصْلًا، وَصَلَّى يُكْرَهُ؛ لِأَنَّ قَلِيلَ النَّجَاسَةِ جُعِلَ عَفْوًا فِي حَقِّ جَوَازِ الصَّلَاةِ دُونَ الْكَرَاهَة وَإِذَا اسْتَنْجَى زَالَتْ الْكَرَاهَةُ

ہاں اگر کوئی شخص استنجاء بالکل نہ کرے اور یونہی نماز پڑھے تو مکروہ ہوگی۔ اسلئے کہ تھوڑی نجاست نماز جائز ہونے کے معاملے میں معاف رکھی گئی ہے نہ کہ بلا کراہت جائز ہونے کے معاملے میں اور اگر استنجاء کرلیا تو کراہت زائل ہوجائے گی۔

لِأَنَّ الِاسْتِنْجَاءَ بِالْأَحْجَارِ أُقِيمَ مَقَامَ الْغَسْلِ بِالْمَاءِ شَرْعًا لِلضَّرُورَةِ إذْ الْإِنْسَانُ قَدْ لَا يَجِدُ سُتْرَةً، أَوْ مَكَانًا خَالِيًا لِلْغَسْلِ، وَكَشْفُ الْعَوْرَةِ حَرَامٌ فَأُقِيمَ الِاسْتِنْجَاءُ مَقَامَ الْغَسْلِ فَتَزُولُ بِهِ الْكَرَاهَةُ كَمَا تَزُولُ بِالْغَسْلِ

اسلئے کہ ڈھیلوں سے استنجاء شرعی طور پر پانی سے دھونے کے قائم مقام ہے ضرورت کی وجہ سے، اسلئے کہ انسان کو کبھی چھپنے کے لئے آڑ یا خالی جگہ نہیں مل پاتی جہاں وہ پانی سے استنجاء کی جگہ دھو سکے، اور شرمگاہ کو ظاہر کرنا حرام ہے لہذا ڈھیلوں سے استنجاء کو پانی سے دھونے کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔۔۔ تو جس طرح پانی سے دھونے سے کراہت دور ہوجاتی ہے اسی طرح ڈھیلوں سے استنجاء کرنے سے بھی کراہت دور ہوجائے گی۔

وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنْجِي بِالْأَحْجَارِ، وَلَا يُظَنُّ بِهِ أَدَاءُ الصَّلَاةِ مَعَ الْكَرَاهَة

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ ڈھیلوں سے استنجاء فرمایا کرتے تھے۔۔ اور حضور ﷺ سے یہ گمان نہیں کیا جاسکتا ہے کہ آپ کراہت کے ساتھ نماز ادا فرماتے ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

علامہ کاسانی نے اس سے پہلے حدیث شریف سے استدلال کیا کہ استنجاء فرض نہیں ہے اور ہم دیگر دلائل سے وضاحت کرچکے ہیں کہ استنجاء سنتِ موکدہ ہے۔ اور یہ بات بھی ثابت ہوچکی ہے کہ اگر سنت ادا نہ ہوئی تو نماز جائز ہوجاتی ہے اگرچہ اس میں کراہت موجود ہو۔

اب علامہ کاسانی استنجاء کے مشروع ہونے کی توجیہ بیان کررہے ہیں کہ دراصل استنجاء کو پانی کے قائم مقام قرار دیا گیا ہے۔

ہم سابقہ دروس میں پڑھ چکے ہیں کہ طہارت، نجاست سے پاکی حاصل کرنے کو کہتے ہیں اورجس شے کے ذریعے طہارت حاصل کی جائے اس کا خود پاک ہونا اور پاک کرنے کی صلاحیت رکھنے والا ہونا ضروری ہے، اسکے لئے *پانی* سب سے موزوں چیز ہے۔

*ڈھیلے دراصل پانی کے قائم مقام ہیں*

علامہ کاسانی فرمارہے ہیں کہ ڈھیلوں سے استنجاء کو جائز رکھا گیا ہے اسلئے کہ وہ پانی کے قائم مقام ہے اور بعض اوقات پانی میسر نہیں ہوتا اور انسان کو حاجت پیش آجاتی ہے تو ضرورتا اس کو جائز قرار دیا گیاہے۔ چونکہ پانی اصل ہےاسلئےڈھیلوں کے مقابلے اس سے استنجاء افضل ہے۔ اور حضور سیدِ عالم ﷺ سے ڈھیلے اور پانی دونوں کے ساتھ استنجاء ثابت ہے۔

(علامہ کاسانی نے پانی سے استنجاء کو الگ سے شمار کیا ہےاور ہاتھوں کو گٹے تک دھونے کے بعد اسکا ذکر کیا ہے مگر ہم وہ بحث اسی استنجاء کے ساتھ ہی ذکر کردیں گے تاکہ تسلسل نہ ٹوٹے)

ڈھیلا سے استنجاء *نجاست پونچھنے کا عمل* ہے لہذا اگر ڈھیلے کے قائم مقام کوئی ایسی چیز مل جائے جو ڈھیلے کی طرح *مزیلِ نجاست* یعنی نجاست کو زائل کرنے والی ہو تو اس سے بھی استنجاء ہوجائے گا، یہ الگ بات ہے کہ اس سے استنجاء جائز قرار دیا گیا ہو یا نہیں۔ اسکی تفصیل آتی ہے۔

علامہ کاسانی نے ایک روایت نقل فرمائی اور کہا کہ اگر ڈھیلے سے استنجاء کرنے سےکراہت باقی رہتی تو حضور سید عالم ﷺ کبھی اس پر کفایت کرکے نماز ادا نہ فرماتے۔ کیونکہ حضور ﷺ نماز میں مکمل طہارت کا اہتمام فرمانے والے تھے اور آپ سے بڑھ کر کوئی بھی نماز کے احکامات کی رعایت فرمانے والا نہیں ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغۡفِرُ اَنۡ يُّشۡرَكَ بِهٖ وَيَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰ لِكَ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ۚ وَمَنۡ يُّشۡرِكۡ بِاللّٰهِ فَقَدِ افۡتَـرٰۤى اِثۡمًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ اس گناہ کو نہیں بخشتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اس کو جس کے لئے چاہیے بخش دیتا ہے اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا (النساء : ٤٨) 

شرک کی تعریف : 

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٥٠٢ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کا لغوی معنی ہے دو یا دو سے زیادہ لوگ کسی ایک معین چیز کے مالک ہوں تو وہ دونوں اس کی ملکیت میں شریک ہیں ‘ اور دین میں شرک یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کا شریک ٹھیرائے اور یہ سب سے بڑا کفر ہے اور شرک صغیر یہ کہ بعض کاموں میں اللہ کے ساتھ غیر اللہ کی بھی رعایت کرے جیسے ریاء اور نفاق۔ 

(المفردات ص ‘ ٢٦٠‘ مطبوعہ المکتبۃ المرتضویہ ‘ ایران ‘ ١٣٤٢ ھ)

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩١ ھ لکھتے ہیں : 

شرک کرنے کی تعریف یہ ہے : کسی شخص کو الوہیت میں شریک ماننا جیسے مجوس اللہ کے سوا واجب الوجود مانتے ہیں یا اللہ کے سوا کسی کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں جیسا کہ بت پرست اپنے بتوں کو عبادت کا مستحق مانتے ہیں۔ (شرح عقائد نفسی ص ٦١‘ مطبوعہ مطبعہ یوسفیہ ہند) 

کیا چیزشرک ہے اور کیا چیز شرک نہیں ہے :

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کو واجب بالذات یا قدیم بالذات ماننا ‘ یا اللہ کے سوا کسی کی کوئی صفت مستقل بالذات ماننا (مثلا یہ اعتقاء رکھنا کہ اس کو ازخود علم ہے یا از خود قدرت ہے) یا کسی کو اللہ کے سوا عبادت کا مستحق ماننا (مثلا اللہ کے ساتھ خاص ہیں ان کو غیر اللہ کے لیے بجا لانا ‘ مثلا کسی بزرگ کی نذر ماننا یا کسی کے متعلق یہ اعتقاد رکھنا کہ وہ اپنی قدرتت سے رزق اور اولاد دیتا ہے ‘ بارش برساتا ہے ‘ بلاؤں کو ٹالتا ہے نفع پہنچانا اور ضرر دینا اس کی ذاتی قدرت میں ہے۔ حانث ہونے کے قصد سے کسی کے نام کی قسم کھانا یہ تمام امور شرک ہیں) 

مفتی محمد شفیع متوفی ١٣٩٦ ھ نے لکھا ہے کہ کسی کو دور سے پکارنا اور یہ سمجھنا کہ اس کو خبر ہوگئی یہ بھی شرک ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) 

یہ تعریف دو وجہ سے صحیح نہیں ہے کیونکہ شرک کا تعلق کسی چیز کو سمجھنے اور جاننے سے نہیں ہے ‘ ماننے اور اعتقاد کرنے سے ہے ‘ ثانیا ‘ اس وجہ سے کہ کوئی کسی شخص کو دور سے پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ اس کو خبر ہوگئی۔ یہ اس وقت شرک ہوگا جب وہ یہ اعتقاد رکھے کہ وہ بےعطائے غیر مستقل سننے والا ہے ‘ شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ کی اس سلسلہ میں بہت محتاط عبارت ہے وہ لکھتے ہیں : 

یہ خود معلوم آپ کو ہے کہ ندا غیر اللہ تعالیٰ کو کرنا شرک حقیقی جب ہوتا ہے کہ ان کو عالم سامع مستقل عقیدہ کرے ورنہ شرک نہیں ‘ مثلا یہ جانے کہ حق تعالیٰ ان کو مطلع فرما دیوے گا ‘ یا باذنہ تعالیٰ انکشاف ان کو ہوجائے گا یا باذنہ تعالیٰ ملائکہ پہنچا دیویں گے جیسا درود کی نسبت وارد ہے یا محض شوقیہ کہتا ہو محبت میں یا عرض حال محل تحسروحرمان میں کہ ایسے مواقع میں اگرچہ کلمات خطابیہ بولتے ہیں لیکن ہرگز نہ مقصود اسماع ہوتا ہے نہ عقیدہ ‘ پس ان ہی اقسام سے کلمات مناجات واشعار بزرگان کے ہوتے ہیں کہ فی حد ذاتہ نہ شرک نہ معصیت۔ (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٦٨‘ مطبوعہ ناشران محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی) 

اسی طرح مفتی محمد شفیع نے کسی کو سجدہ کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے ‘ سجدہ عبودیت شرک ہے اور سجدہ تعظیم ہماری شریعت میں حرام ہے سابقہ شریعتوں میں جائز تھا۔ 

کسی کی قبر یا مکان کا طواف کرنا بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ اس میں بھی تفصیل ہے اگر عبادت کی نیت سے قبر کا طواف کرے اور یہ مسلمان کے حال سے بہت بعید ہے تو یہ شرک ہے اور اگر تعظیم کی وجہ سے طواف کرے جیسا کہ اکثر جاہل مسلمان کرتے ہیں تو یہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

کسی کے روبرو رکوع کی طرح جھکنا ‘ اس کو بھی شرک لکھا ہے ‘ جب کہ عبادت کی نیت سے شرک ہے خواہ حد رکوع تک ہو یا اس سے کم ہو اور تعظیم کی نیت سے حد رکوع تک جھکنا حرام اور گناہ کبیرہ ہے۔ 

دنیا کے کاروبار کو ستاروں کی تاثیر سے سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے حالانکہ ان کو صرف موثر حقیقی ماننا شرک ہے ‘ نیز ہم نے پہلے بھی لکھا ہے کہ کسی چیز کو جاننا اور سمجھنا شرک نہیں ہوتا اعتقاد اور ماننا شرک ہوتا ہے ‘ اور اگر کوئی شخص یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ ستارے نظام عالم میں اللہ کی قدرت کی علامات ہیں اور مثلا کہے کہ فلاں ستارہ کی وجہ سے بارش ہوئی تو یہ کفر نہیں ہے۔ البتہ مکروہ ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ٥٩‘ مطبوعہ کراچی) 

اور کسی مہینہ کو منحوس سمجھنا اس کو بھی شرک لکھا ہے (معارف القرآن ج ٢ ص ٤٣٠) اس سے قطع نظر کرکے کہ سمجھنے کا شرک سے تعلق نہیں ہے ‘ نحوست کا اعتقاد شرک نہیں ہے بلکہ خلاف واقع اور خلاف شرع ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدشگونی لینے سے منع فرمایا ہے لیکن اگر کسی نے کسی چیز کو منحوس سمجھا تو وہ گنہ گار ہوگا مشرک نہیں ہوگا۔ 

زیر بحث آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شرک کے سوا ہر گناہ بخش دیا جائے گا خواہ صغیرہ گناہ ہو یا کبیرہ اس پر توبہ کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو ‘ اور اس آیت میں معتزلہ اور خوارج کا صراحۃ رد ہے۔ حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے رب کے پاس سے آنے والے نے مجھے بشارت دی کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس نے شرک نہ کیا ہو وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ میں نے کہا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو آپ نے فرمایا اگرچہ اس نے زنا کیا ہو یا چوری کی ہو۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٨٢) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا تو یقینا اس سے بہت بڑے گناہ کا بہتان باندھا۔ (النساء : ٤٨) 

اس کا معنی ہے جس شخص نے ایسا گناہ کیا جس کی مغفرت نہیں کی جائے گی اور وہ شرک ہے ‘ اور اس کا دوسرا معنی ہے جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا۔ افتری کا لفظ فری ہے ماخوذ ہے فری کا معنی ہے قطع کرنا اور جیسے کسی چیز کو کاٹا جائے تو وہ عموما فاسد ہوجاتی ہے اس لیے افتری کا معنی بہ طور غلبہ کے فساد ہوگیا اور قرآن مجید میں یہ لفظ ظلم ‘ کذب اور شرک کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 48

قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ

باب آداب الخلاء

پاخانے کے آداب کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ خلاء لغت میں خالی جگہ کو کہتے ہیں۔اصطلاح میں آبدست کو،چونکہ یہ کام تنہائی میں ہوتا ہے اس لئے اسے خلاکہاجاتاہے۔

حدیث نمبر :318

روایت ہے ابو ایوب انصاری سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جب تم پاخانہ جاؤ تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرو اور نہ پیٹھ لیکن یا تو پورب کی طرف ہوجاؤ یا پچھم کی طرف ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ کا نام خالدابن زیدہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،بیعت عقبہ میں موجود تھے،تمام غزوات میں حضور کے ساتھ رہے،حضور نے ہجرت کے دن اولًا انہی کے گھر قیام فرمایا،صحابہ رضی اللہ عنھم کے اختلاف کے وقت حضرت علی مرتضیٰ کے ساتھ تمام جنگوں میں شامل رہے،یزید ابن معاویہ کی سرکردگی میں جو روم پر جہاد ہوئے ان میں آپ غازیانہ شان سے شامل تھے،قسطنطنیہ پر حملہ کے وقت بیمارہوگئے،وصیت کی کہ اس جہاد میں میری میت اپنے ساتھ رکھنا،اور قسطنطنیہ فتح ہوجائے تومجاہدین کے قدموں کے نیچے مجھے دفن کرنا،چنانچہ آپ قسطنطنیہ کی فصیل کے نیچے مدفون ہیں،آپ کی قبر زیارت گاہ خواص و عام ہے۔بیماران کی قبر کی مٹی سے شفا پاتے ہیں۔(مرقاۃ و اکمال)

۲؎ یعنی پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ یا پیٹھ کرنا حرام ہے۔چونکہ مدینہ منورہ میں قبلہ جانب جنوب ہے اور شام یعنی بیت المقدس جانب شمال،وہاں کے لحاظ سےفرمایا گیا کہ شرق یاغرب کو منہ کرلو۔چونکہ ہمارے ہاں قبلہ جانب مغرب ہے لہذا ہم لوگ جنوب یا شمال کو منہ کریں گے۔خیال رہے کہ اس حدیث میں جنگل یا آبادی کی کوئی قید نہیں۔بہرحال کعبہ کو منہ یا پیٹھ کرکے استنجا کرنا حرام ہے۔حنفیوں کا یہی مذہب ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 29

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَاۡكُلُوۡۤا اَمۡوَالَـكُمۡ بَيۡنَكُمۡ بِالۡبَاطِلِ اِلَّاۤ اَنۡ تَكُوۡنَ تِجَارَةً عَنۡ تَرَاضٍ مِّنۡكُمۡ‌ ۚ وَلَا تَقۡتُلُوۡۤا اَنۡـفُسَكُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمۡ رَحِيۡمًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو ‘ بیشک اللہ تم پر رحم فرمانے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے نہ کھاؤ سوا اس کے کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو۔ (النساء : ٢٩ )

مال حرام کی انواع اور اقسام : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے جسموں اور بدنوں میں تصرف کرنے کی ہدایت دی تھی ‘ زنا اور عمل لوط سے منع فرمایا ‘ اسی طرح محرمات کے ساتھ نکاح کرنے سے منع فرمایا تھا ‘ اور اس آیت میں مسلمانوں کو ان کے اموال میں تصرف کے متعلق ہدایت دی ہے بیع و شراء کے ذریعہ دوسرے کا مال حاصل کرنے کی اجازت دی ہے اسی طرح ہبہ ‘ وراثت اور کسی چیز کو بنا کر اس کا مالک ہونا جائز ہے ‘ اور جوا سٹہ ‘ سود ‘ غصب ‘ چوری ‘ ڈاکہ ‘ خیانت ‘ جھوٹی قسم کھا کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ اور رشوت سے دوسرے کا مال کھانا ناجائز ہے۔ 

سود کے متعلق ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں باقی چیزوں کا ناجائز اور گناہ ہونا واضح ہے اس لئے ہم یہاں رشوت کے متعلق گفتگو کریں گے۔ 

رشوت کی تعریف ‘ وعید اور شرعی احکام : 

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی حنفی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں : 

کوئی شخص حاکم یا کسی اور افسر مجاز کو کوئی چیز دے تاکہ وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے یا حاکم کو اپنی منشاء پوری کرنے پر ابھارے۔ (تاج العروس ج ١٠ ص ‘ ١٥٠ مطبوعہ المطبعۃ الخیریہ ‘ مصر ‘ ١٣٠٦ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ مسروق بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا گیا کہ سحت کا کیا معنی ہے ؟ انہوں نے کہا رشوت ‘ پھر سوال کیا گیا کہ فیصلہ پر رشوت لینے کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے کہا یہ کفر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے (نازل کردہ) احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر ہیں۔ (المائدہ : ٤٤) (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنۃ ملتان) 

کسی پر ظلم کرنے کے لئے یا کوئی ناجائز کام کرانے کے لئے کچھ دینا رشوت ہے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے یا خود کو ظلم سے بچانے کے لئے کچھ دینا یہ رشوت نہیں ہے۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کا مال غنیمت تقسیم کیا اور بڑے بڑے عطایا دیئے اور عباس بن مرداس کو بھی کچھ مال دیا تو وہ اس پر ناراض ہوگیا اور شعر پڑھنے لگا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (کچھ اور مال دے کر) ہمارے متعلق اس کی زبان بند کردو ‘ پھر اس کو کچھ اور مال دیا حتی کہ وہ راضی ہوگیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٤٣٤ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب وہ حبشہ کی سرزمین پر پہنچے تو ان سے ان کا کچھ سامان چھین لیا گیا تو انہوں نے اس سامان کو اپنے پاس رکھا اور دو دینار دے کر وہ سامان چھڑا لیا۔ 

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جس کام میں رشوت دینے والا گناہ گار ہوتا ہے یہ وہ نہیں ہے جو اپنی جان اور مال سے ظلم اور ضرر دور کرنے کے لئے دی جائے، رشوت وہ چیز ہے کہ تم اس چیز کو حاصل کرنے کے لئے کچھ دو جو تمہارا حق نہیں ہے اس میں دینے والا گنہگار ہوتا ہے۔ (سنن کبری ج ١٠ ص ١٣٩ مطبوعہ نشرالسنتہ ملتان) 

قاضی خاں اوزجندی حنفی متوفی ٥٩٤ ھ نے رشوت کی چار قسمیں لکھی ہیں : 

(١) منصب قضاء کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا اس میں رشوت دینا اور لینا دونوں حرام ہیں۔ 

(٢) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لئے رشوت دے یہ رشوت جانبین سے حرام ہے خواہ وہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو ‘ کیونکہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری اور اس پر فرض ہے۔ 

(٣) اپنی جان اور اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دینا یہ لینے والے پر حرام ہے دینے والے پر حرام نہیں ہے ‘ اس طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لئے رشوت دیناجائز ہے اور لینا حرام ہے 

(٤) کسی شخص کو اس لئے رشوت دی کہ وہ اس کو سلطان یا حاکم تک پہنچا دے تو اس کا دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے۔ (فتاوی قاضی خان علی ہامش الہندیہ ج ٢ ص ٣٦٣‘ ٣٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ فتح القدیر ‘ ج ٦ ص ٣٨٥‘ طبع سکھر ‘ بنایہ شرح ہدایہ الجزء الثالث ص ٢٦٩‘ طبع فیصل آباد ‘ البحر الرائق ج ٦ ص ٢٦٢۔ ٢٦١‘ طبع مصر) 

اپنے آپ کو قتل کرنے کی ممانعت کے تین محمل : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو بیشک اللہ تم پر بہت رحم فرمانے والا ہے۔ (النساء : ٢٩) 

اس آیت کے تین معنی ہیں ایک معنی یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کو قتل نہ کریں کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٨٦) اس لئے اگر ایک مسلمان نے دوسرے مسلمان کو قتل کیا تو یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے اپنے آپ کو قتل کیا۔ 

دوسرا معنی یہ ہے کہ کوئی ایسا کام نہ کرو جس کے نتیجہ میں تم ہلاک ہوجاؤ اس کی مثال یہ حدیث ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات میں جنبی ہوگئے تو انہوں نے تیمم کیا اور یہ آیت پڑھی ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ تم اپنے نفسوں کو قتل نہ کرو بیشک اللہ تم پر بےحد رحم فرمانے والا ہے “ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے (ان کو) ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری : کتاب التیمم باب ٧ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

اس آیت کا تیسرا معنی یہ ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے خود کشی کرنے سے منع فرمایا ہے اور اسی آیت کی بناء پر خود کشی کرنا حرام ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کے عذاب کا بیان :ـ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص ہتھیار سے خود کشی کرے گا تو دوزخ میں وہ ہتھیار اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا اور وہ شخص جہنم میں اس ہتھیار سے ہمیشہ خود کو زخمی کرتا رہے گا ‘ اور جو شخص زہر سے خود کشی کرے گا وہ جہنم میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا اور جو شخص پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ گرتا رہے گا۔ (صحیح مسلم : رقم الحدیث : ١٠٩) 

اس حدیث پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ خود کشی کرنا گناہ کبیرہ ہے اور گناہ کبیرہ کفر نہیں ہے اور اس کے ارتکاب سے انسان دائمی عذاب کا مستحق نہیں ہوتا پھر خود کشی کرنے والا دائمی عذاب میں کیوں مبتلا ہوگا ؟ اس اعتراض کے دو جواب ہیں۔ 

اول : یہ کہ یہ حدیث اس شخص کے متعلق ہے جس کو خود کشی کے حرام ہونے کا علم تھا اس کے باوجود اس نے حلال اور جائز سمجھ کر خود کشی کی ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں خلود کا استحقاق بیان کیا گیا ہے اور یہ جائز ہے کہ مستحق خلود ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے یا پھر خلود مکث طویل کے معنی میں ہے۔ 

خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنے کا شرعی حکم : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جس نے خود کو قتل کرلیا خواہ عمدا اس کو غسل دیا جائے گا اور اس پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی اسی پر فتوی ہے اگرچہ دوسرے مسلمان کو قتل کرنے کی بہ نسبت یہ زیادہ بڑا گناہ ہے ‘ امام ابن ہمام نے امام ابویوسف کے قول کو ترجیح دی ہے، کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے خود کشی کی تھی آپ نے اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔ (الدرالمختار ج ١ ص ٥٨٤‘ علی ہامش ردالمختار) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس حدیث سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم نے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور بظاہر یہ ہے کہ آپ نے اس پر نماز جنازہ زجرا نہیں پڑھی جس طرح آپ نے مقروض کی نماز جنازہ نہیں پڑھی تھی ‘ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ صحابہ میں سے بھی کسی نے اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھی کیونکہ دوسروں کی نماز آپ کی نماز کے برابر نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے آپ کی صلوۃ انکے لئے سکون ہے۔ شرح المنیہ میں بھی اسی طرح مذکور ہے اور اہل سنت و جماعت کے قواعد پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ہے ‘ کیونکہ مطلقا گنہگار کی توبہ مقبول ہوتی ہے بلکہ کافر کی توبہ بھی کفر سے قطعا مقبول ہوتی ہے حالانکہ اس کا گناہ زیادہ ہے ‘ ہوسکتا ہے کہ ان کی مراد یہ ہو کہ نزع روح کے وقت توبہ مقبول نہیں ہوتی اور جس نے ایسے فعل سے خود کشی جس سے فورا مرجائے (مثلا کنپٹی پر پستول رکھ کر فائر کردینا) تو اس کو توبہ کا وقت ہی نہیں ملا، یا نزع روح کے وقت چند لمحے ملے اور اس وقت کی توبہ مقبول نہیں ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی آلہ سے زخمی کرلیا اور اس کے بعد وہ کچھ دن زندہ رہا اور اس نے توبہ کرلی تو اس کی توبہ کی قبولیت کا یقین رکھنا چاہیے یہ ساری بحث اس کے متعلق ہے جس نے عمدا خود کو قتل کیا اور جس نے خود کو خطاء قتل کیا اس کو شمار شہداء میں ہوگا۔ (ردالمختار ج ١ ص ٥٨٥‘ ٥٨٤) 

خلاصہ یہ ہے کہ کسی بڑے عالم اور مفتی کو اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھانا چاہیے اور عام مسلمان کو چاہیے کہ اس کی نماز جنازہ پڑھا دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 29