مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞

ترجمہ:

جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا، وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو اس بات کے خلاف کہتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ اس کو لکھتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں تو آپ ان سے اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے اور اللہ (بطور) کارساز کافی ہے۔ (النساء : ٨١۔ ٨٠) 

منصب رسالت :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ‘  حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور رسول کی اطاعت حجت ہے ‘ امام شافعی نے الرسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ہر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ کتاب میں فرض کیا ہے مثلا حج ‘ نماز اور زکوۃ ‘ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا بیان نہ فرماتے تو ہم ان کو کیسے ادا کرتے اور کسی بھی عبادت کو انجام دینا ہمارے لیے کس طرح ممکن ہوتا ‘ اور جب احکام شرعیہ کا آپ کے بیان کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر آپ کی اطاعت کرنا حقیقت میں اللہ عزوجل کی اطاعت ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری معصیت کی اس نے اللہ کی معصیت کی ‘ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس امیر کی معصیت کی اس نے میری معصیت کی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٣٥‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٣٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٧١) 

قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ امیر کی اطاعت غیر معصیت میں واجب ہے اور معصیت میں اس کی اطاعت حرام ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم دینا اللہ کا حکم دینا ہے ‘ آپ کا منع کرنا اللہ کا منع کرنا ہے ‘ آپ کا وعدہ اللہ کا وعدہ ہے اور آپ کی وعید اللہ کی وعید ہے ‘ آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے اور آپ کا غضب اللہ کا غضب ہے ‘ اور آپ کو ایذاء پہنچانا اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے ‘ کیونکہ آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور سورة آل عمران : ٣١‘ میں آپ کی اتباع کو واجب قرار دیا ہے ‘ اگر آپ کے قول یا عمل میں معصیت اور گناہ آسکے تو پھر معصیت اور گناہ میں بھی آپ کی اتباع واجب ہوگی اور یہ محال ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں : 

(١) اگر کوئی شخص زبان سے اسلام کو قبول کرلیتا ہے اور دل سے ایمان نہیں لاتا تو آپ اس نگران نہیں ہیں کیونکہ آپ کے احکام صرف ظاہر پر ہیں۔ 

(٢) اگر کوئی شخص آپ کی تبلیغ کے باوجود ظاہرا بھی اسلام نہیں لاتا تو آپ غم نہ کریں ‘ کیونکہ آپ کسی کو جبرا مسلمان بنانے والے نہیں ہیں اس کے بعد فرمایا : وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو۔ الخ۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین موافقت اور اطاعت کو ظاہر کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تاکہ اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیں ‘ اور جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو اس کے خلاف کہتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١١٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزنش فرمائی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ اس کو لکھ لیتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے ساتھ جو کراما کاتبین مقرر کیے ہیں وہ انکی باتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا آپ ان اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے ‘ یعنی آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کا مواخذہ نہ کریں اور نہ (ابھی) ان کے نفاق کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں اور اللہ پر توکل کریں اور تمام معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے شر کو آپ سے دور کرنے کے لیے کافی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٧٧) 

شان نزول اور ربط آیات :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہجرت سے پہلے بعض صحابہ کفار سے جلد جنگ کرنا چاہتے تھے ‘ انہوں نے کہا آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم مشرکین سے مکہ میں قتال کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس سے منع کیا اور فرمایا ابھی مجھے کفار سے قتال کرنے کی اجازت نہیں ملی اور جب ہجرت ہوگئی اور مسلمانوں کو مشرکین سے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے اس کو مکروہ جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہئے کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١٠٨) امام نسائی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وق اس اور بعض دیگر صحابہ نے ایسا کہا تھا۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٣٢٥) واللہ اعلم بالصواب۔ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ لوگ موت کے ڈر سے جہاد کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جہاد سے منع کرنے والے کچھ ضعیف مسلمان اور منافقین تھے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم پر فتیل کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ فتیل کا معنی باریک دھاگا بھی ہے ‘ اور کھجور کی گٹھلی پر جو باریک سا چھلکا ہوتا ہے اس کو بھی فتیل کہتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ يَاۡمُرُكُمۡ اَنۡ تُؤَدُّوا الۡاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهۡلِهَا ۙ وَاِذَا حَكَمۡتُمۡ بَيۡنَ النَّاسِ اَنۡ تَحۡكُمُوۡا بِالۡعَدۡلِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمۡ بِهٖ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيۡعًۢا بَصِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ تم کو یہ حکم دیتا ہے کہ تم امانت والوں کو ان کی امانتیں ادا کرو ‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو بیشک اللہ تمہیں کیسی اچھی نصیحت فرماتا ہے بیشک اللہ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ (النساء : ٥٨) 

ربط آیات اور شان نزول :

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے بعض احوال بیان فرمائے اور وعید اور وعد کا ذکر فرمایا ‘ اس کے بعد پھر احکام تکلیفیہ کا ذکر شروع فرمایا ‘ نیز اس سے پہلے یہود کی خیانت کا ذکر فرمایا تھا کہ انکی کتاب میں سیدنامحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل ہیں وہ ان کو چھپالیتے ہیں اور لوگوں کے سامنے بیان نہیں کرتے اور اس میں خیانت کرتے ہیں تو اس کے مقابلہ میں مسلمانوں کو امانت داری کا حکم دیا۔ امانت ادا کرنے کا حکم عام ہے خواہ مذاہب میں ہو ‘ عقائد میں ہو معاملات میں ہو یا عبادات میں ہو۔

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ کے متعلق نازل ہوئی ہے فتح مکہ کے دن جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس سے کعبہ کی چابیاں لے لیں پھر آپ بیت اللہ کے باہر اس آیت کی تلاوت کرتے ہوئے آئے ‘ پھر آپ نے عثمان کو بلایا اور انہیں چابیاں دے دیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٢) 

امانت ادا کرنے کے متعلق قرآن مجید کی آیات :

فان امن بعضکم بعض فلیؤد الذی اؤتمن امانتہ ولیتق اللہ ربہ “۔ (البقرہ : ٢٨٣) 

ترجمہ : پس اگر تم میں سے ایک کو دوسرے پر اعتبار ہو تو جس پر اعتبار کیا گیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کی امانت ادا کردے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امانتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرودرآں حالیکہ تم کو علم ہے۔ 

(آیت) ” والذین ھم لامنتھم وعھدھم راعون “۔ (المؤمنون : ٨) 

ترجمہ : اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے عہد کی رعایت کرنے والے ہیں۔ 

امانت ادا کرنے کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب امانت ضائع کردی جائے تو قیامت کا انتظار کرو ‘ سائل نے پوچھا امانت کیسے ضائع ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب کوئی منصب کسی نااہل کے سپرد کردیا جائے تو قیامت کا انتظار کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٩) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو تمہارے پاس امانت رکھے اس کی امانت ادا کرو اور جو تمہارے ساتھ خیانت کرے اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٣٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٨‘ سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٩٧‘ مسند احمد ج ٣ ص ١٤١٤‘ المستدرک ج ٢ ص ٤٦) 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مجالس کی گفتگو امانت ہوتی ہے ماسوا اس کے کہ کسی کا ناجائز خون بہانا ہو ‘ یا کسی کی آبرو ریزی کرنی ہو یا کسی کا مال ناحق طریقہ سے حاصل کرنا ہو (یعنی اگر ایسی بات ہو تو اس کی صاحب حق کو اطلاع دے کر خبردار کرنا چاہیے) (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ٤٨٦٩) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ثوبان (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص امانت دار نہ وہ اس کا ایمان نہیں اور جو وضو نہ کرے اس کا ایمان نہیں۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٤) 

حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ‘ جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو امانت ادا کرو ‘ جب تم عہد کرو تو اس کو پورا کرو ‘ جب تم بات کرو سچ بولو ‘ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو ‘ اپنی نظریں نیچی رکھو اور اپنے ہاتھ نہ پھیلاؤ۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٥٦ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس امت میں سے جو چیزیں سب سے پہلے اٹھائی جائیں گی وہ حیا اور امانت ہیں ‘ سو تم اللہ عزوجل سے اس کا سوال کرو۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا کسی شخص کی نماز اور روزے سے تم دھوکے میں نہ آنا ‘ جو چاہے نماز پڑھے اور جو چاہے روزے رکھے لیکن جو امانت دار نہیں ہے وہ دین دار نہیں ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٥٢٧٩)

اللہ کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا معاملہ اپنے رب کے ساتھ متعلق ہوتا ہے یا مخلوق کے ساتھ اور ہر معاملہ کے ساتھ اس پر لازم ہے کہ وہ اس معاملہ کو امانت داری کے ساتھ کرے۔ 

اللہ تعالیٰ کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام بجالائے اور جن چیزوں سے اللہ نے اس کو منع کیا ہے ان سے رک جائے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا ہر چیز میں امانت داری لازم ہے ‘۔ وضو میں جنابت میں ‘ نماز میں ‘ زکوۃ میں اور روزے میں ‘ حضرت ابن عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان میں شرم گاہ پیدا کی اور فرمایا میں اس امانت کو تمہارے پاس چھپا کر رکھ رہا ہوں ‘ اس کی حفاظت کرنا ‘ ہاں اگر اس کا حق ادا کرنا ہو ‘ یہ بہت وسیع معاملہ ہے ‘ زبان کی امانت یہ ہے کہ اس کو جھوٹ ‘ چغلی ‘ غیبت ‘ کفر ‘ بدعت اور بےحیائی کی باتوں میں نہ استعمال کرے ‘ آنکھ کی امانت یہ ہے کہ اس سے حرام چیز کی طرف نہ دیکھے۔ کان کی امانت یہ ہے کہ اس سے موسیقی ‘ فحش باتیں ‘ جھوٹ اور کسی کی بدگوئی نہ سنے ‘ نہ دین اور خدا اور رسول کے خلاف باتیں سنے ‘ ہاتھوں کی امانت یہ ہے کہ ان سے چوری ‘ ڈاکہ ‘ قتل ‘ ظلم اور کوئی ناجائز کام نہ کرے ‘ منہ میں لقمہ حرام نہ ڈالے ‘ اور پیروں کی امانت یہ ہے کہ جہاں جانے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے وہاں نہ جائے اور تمام اعضاء سے وہی کام لے جن کاموں کے کرنے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ 

(آیت) ” انا عرضنا الامانۃ علی السموت والارض والجبال فابین ان یحملنھا واشفقن منھا وحملھا الانسان ‘ انہ کان ظلوما جھولا “۔ (الاحزاب ‘ ٧٢) 

ترجمہ : ہم نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر اپنی امانت کو پیش کیا انہوں نے اس امانت میں خیانت کرنے سے انکار کیا اور اس میں خیانت کرنے سے ڈرے ‘ اور انسان نے اس میں خیانت کی بیشک وہ ظالم اور جاہل ہے۔ 

خلق خدا کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

تمام مخلوق کی امانت کو ادا کرنا ‘ اس میں یہ امور داخل ہیں : اگر کسی شخص نے کوئی امانت رکھوائی ہے تو اس کو واپس کرنا ‘ ناپ تول میں کمی نہ کرنا ‘ لوگوں کے عیوب بیان نہ کرنا ‘ حکام کا عوام کے ساتھ عدل کرنا ‘ علماء کا عوام کے ساتھ عدل کرنا بایں طور پر کہ انکی صحیح رہنمائی کرنا ‘ تعصب کے بغیر اعتقادی مسائل کو بیان کرنا ‘ اس میں یہود کیلیے بھی یہ ہدایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے جو دلائل تورات میں مذکور ہیں انکونہ چھپائیں ‘ اور بیوی کے لئے ہدایت ہے کہ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کی عزت اور اس کے مال کی حفاظت کرے اور جس شخص کا گھر میں آنا اسے ناپسند ہو اس کو نہ آنے دے ‘ تاجر ذخیرہ اندوزی نہ کریں ‘ بلیک مارکیٹ نہ کریں ‘ نقلی دوائیں بنا کر لوگوں کی جان سے نہ کھیلیں ‘ کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ نہ کریں ‘ ٹیکس نہ بچائیں ‘ اسمگلنگ کرکے کسٹم ڈیوٹی نہ بچائیں۔ سودی کاروبار نہ کریں ‘ ہیروئن ‘ چرس اور دیگر نشہ آور اور مضر صحت اشیاء کو فروخت نہ کریں ‘ بیروکریٹس رشوت نہ لیں ‘ سرکاری افسران اپنے محکمہ سے ناجائز مراعات حاصل نہ کریں ‘ ڈیوٹی پر پورا وقت دیں ‘ دفتری اوقات میں غیر سرکاری کام نہ کریں۔ آج کل شناختی کارڈ ‘ پاسپورٹ مختلف اقسام کے لائسنس اور ٹھیکہ داروں کے بل غرض کوئی کام بھی رشوت کے بغیر نہیں ہوتا جب ان کاموں کا کرنا ان کی سرکاری ڈیوٹی ہے تو بغیر رشوت کے یہ کام نہ کرنا سرکاری امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح ایک پارٹی کے ممبر کو عوام میں اس پارٹی کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں ممبربننے کے بعد وہ رشوت لے کر لوٹا کریسی کی بنیاد پر پارٹی بدل لیتا ہے تو وہ بھی عوام کے انتخاب اور انکی امانت میں خیانت کرتا ہے ‘ حکومت کے ارکان اور وزراء جو قومی خزانے اور عوام کے ٹیکسوں سے بلاوجہ غیر ملکی دوروں پر غیر ضروری افراد کو اپنے ساتھ لے جا کر اللے تللے اور عیاشیاں کرتے ہیں وہ بھی عوام کی امانت میں خیانت کرتے ہیں ‘ اسکول اور کالجز میں اساتذہ اور پروفیسر حضرات پڑھانے کی بجائے گپ شب کرکے وقت گزار دیتے ہیں۔ یہ بھی امانت میں خیانت ہے ‘ اسی طرح تمام سرکاری اداروں میں کام نہ کرنا اور بےجامراعات حاصل کرنا اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو نوازنا ‘ کسی اسامی پر رشوت یا سفارش کی وجہ سے نااہل کا تقرر کرنا یہ بھی امانت میں خیانت ہے، کسی دنیاوی منفعت کی وجہ سے نااہل کو ووٹ دینا یہ بھی خیانت ہے۔ اگر ہم گہری نظر سے جائزہ لیں تو ہمارے پورے معاشرے میں خیانت کا ایک جال بچھا ہوا ہے اور ہر شخص اس نیٹ ورک میں جکڑا ہوا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کے ماتحت افراد کے متعلق سوال ہوگا ‘ حاکم نگہبان ہے اور اس سے اپنے عوام کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور مرد اپنے اہل خانہ کا نگہبان ہے اور اس سے اپنے اہل کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگہبان ہے اور اس سے امور خانہ کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ نوکر اپنے مالک کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور ایک شخص اپنے باپ کے مال کا نگہبان ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘ اور تم میں سے ہر شخص (کسی نہ کسی چیز کا) نگہبان ہے اور اس سے اس چیز کے متعلق جواب طلبی ہوگی ‘(صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٨٩٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٢٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٩٢٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١١‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥) 

امام ابو عبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری متوفی ٤٠٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی آدمی کو کسی جماعت کا امیر بنایا حالانکہ اس کی جامعت میں اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بندہ تھا تو بنانے والے نے اللہ ‘ اس کے رسول اور جماعت مسلمین سے خیانت کی ‘ اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ لیکن امام بخاری اور مسلم نے اس کو روایت نہیں کیا۔ (المستدرک ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢) 

علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی متوفی ٩٧٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس آدمی نے کسی شخص کو مسلمانوں کا عامل بنایا حالانکہ وہ شخص جانتا تھا کہ اس سے بہتر شخص موجود ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کا زیادہ جاننے والا ہے تو اس آدمی نے اللہ تعالیٰ اسکے رسول اور تمام مسلمانوں کے ساتھ خیانت کی۔ (کنز العمال ج ٦ ص ٧٩) 

ان دونوں حدیثوں کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے : 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص کو بغیر علم کے فتوی دیا گیا تو اس کا گناہ فتوی دینے والے پر ہوگا ‘ اور جس شخص نے اپنے بھائی کی رہنمائی کسی چیز کی طرف کی حالانکہ اس کو علم تھا کہ اہلیت اور صلاحیت اس کے غیر میں ہے تو اس نے اپنے بھائی کی ساتھ خیانت کی (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٥٧) 

اپنے نفس کے ساتھ معاملہ میں امانت داری کا دائرہ کار :

انسان کا اپنے نفس کے ساتھ امانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنے نفس کے لیے اس چیز کو پسند کرے جو دین اور دنیا میں اس کے لیے زیادہ مفید اور نفع آور ہو ‘ اور غلبہ غضب اور غلبہ شہوت کی وجہ سے ایسا کوئی کام نہ کرے جس سے مآل کار دنیا میں اس کی عزت وناموس جاتی رہے اور آخرت میں وہ عذاب کا مستحق ہو ‘ انسان کی زندگی اور صحت اس کے پاس اللہ کی امانت ہے وہ اس کو ضائع کرنے کا مجاز نہیں ہے ‘ اس لیے سگریٹ پینا ‘ چرس ‘ ہیروئن اور کسی طرح تمباکو نوشی کرنا ‘ افیون کھانا ‘ یہ تمام کام صحت اور انسانی زندگی کے لیے مضر ہیں ‘ اسی طرح شراب پینا یا کوئی نشہ آور مشروب کھانا اور پینا ‘ نشہ آور دوائیں استعمال کرنا یہ بھی انسان کی صحت کے لیے مضر ہیں اور آخرت میں عذاب کا باعث ہیں ‘ اور یہ تمام کام اپنے نفس کے ساتھ خیانت کے زمرہ میں آتے ہیں ‘ ناجائز ذرائع سے آمدنی حاصل کرنا ‘ لوگوں پر ظلم کرنا یہ بھی دنیا اور آخرت کی بربادی کا سبب ہیں اور اپنی ذات کے ساتھ خیانت کرنا ہے ‘ فرائض اور واجبات کو ترک کرکے اور حرام کاموں کا ارتکاب کرکے خود کو عذاب کا مستحق بنانا یہ بھی اپنی ذات کے ساتھ خیانت ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کا مکلف کیا ہے کہ وہ خود بھی نیک بنے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک بنائے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا “۔ (التحریم : ٦) 

ترجمہ : اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ۔ 

اگر کوئی شخص خود نیک ہے اور پابند صوم وصلوۃ ہے لیکن اس کے گھر والے اور اس کے ماتحت لوگ بدکار ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر عمل نہیں کرتے اور وہ ان کو برے کام ترک کرنے اور نیک کام کرنے کا حکم نہیں دیتا تب بھی وہ بری الذمہ نہیں ہے اور اخروی عذاب کا مستحق ہے اور اپنے نفس کے ساتھ خیانت کر رہا ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے ہر شخص اپنے ماتحت لوگوں کا نگہبان ہے اور ہر شخص ان کے متعلق جواب دہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :‘ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء : ٥٨) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ جب کسی شخص کو حاکم بنایا جائے تو اس پر واجب ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے ‘ ہم اس جگہ قضاء کے متعلق احادیث بیان کریں گے تاکہ معلوم ہو کہ اسلام میں قضاء کے متعلق کیا ہدایات ہیں :

قضاء کے آداب اور قاضی کے ظلم اور عدل کے متعلق احادیث : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن کی طرف بھیجا ‘ آپ نے پوچھا تم کیسے فیصلہ کرو گے ‘ انہوں نے کہا میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اگر کتاب اللہ میں (مطلوبہ حکم) نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں رسول اللہ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا ‘ آپ نے پوچھا اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت میں مطلوبہ حکم نہ ہو ؟ انہوں نے کہا پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا ‘ آپ نے فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فرستادہ کو توفیق دی۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٩٢) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو بکرہ (رض) نے سجستان میں اپنے بیٹے کی طرف خط لکھا کہ تم دو آدمیوں کے درمیان غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرنا ‘ کیونکہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کوئی شخص غصہ کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٧٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٩) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس دو شخص مقدمہ پیش کریں تو جب تک تم دوسرے شخص کا موقف نہ سن لو پہلے کے لیے فیصلہ نہ کرو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٦‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٣١٠) 

حضرت بریدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قاضیوں کی تین قسمیں ہیں ایک جنت میں ہوگا اور دو دوزخ میں ہوں گے ‘ جنت میں وہ قاضی ہوگا جو حق کو پہچان لے اور اس کے مطابق فیصلہ کرے ‘ اور جو حق کو پہچاننے باوجود اس کے خلاف فیصلہ کرے وہ دوزخ میں ہوگا ‘ اور جو شخص جہالت سے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے وہ بھی دوزخ میں ہوں گا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٣) 

حضرت عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب حاکم اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور صحیح نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لئے دو اجر ہیں اور جب وہ اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے اور غلط نتیجہ پر پہنچے تو اس کے لیے ایک اجر ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٥٧٤) 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب اور اس کے نزدیک سب سے مقرب شخص امام عادل ہوگا اور سب سے زیادہ مبغوض اور سب سے دورامام ظالم ہوگا (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٣٣٤) 

حضرت ابن ابی اوفی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک قاضی ظلم نہ کرے اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اور جب وہ ظلم کرے تو اللہ اس کے ساتھ نہیں ہوتا اور شیطان اس سے چمٹ جاتا ہے۔ (سنن ترمذی : ١٣٣٥) 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس امت کو پاک نہیں کرتا جس میں اس کے کمزور کا حق اس کے طاقت ور سے نہ لیا جائے۔ (اس حدیث کو امام بزار نے روایت کیا ہے ‘ اس کی سند میں المثنی بن صباح ہے یہ ضعیف راوی ہے ‘ ایک روایت میں ابن معین نے اس کی توثیق کی ہے اور ایک روایت میں کہا ہے اس کی حدیث لکھی جائے گی اور اس کو ترک نہیں کیا جائے گا ‘ اور دوسرے کے نزدیک یہ متروک ہے) (کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١٣٥٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ کسی فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لعنت کی ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدی ١٣٤١) 

امام طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فیصلہ میں رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر اللہ نے لعنت کی ہے۔ (المعجم الکبیر ج ٢٣ ص ٣٩٨) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن کسی کا سایہ نہیں ہوگا اس دن سات آدمی اللہ کے سائے میں ہوں گے۔ عدل کرنے والا حاکم ‘ وہ شخص جو اللہ کی عبادت میں جوان ہوا ‘ جس کا دل مسجدوں میں معلق رہا ‘ وہ دو شخص جو اللہ کی محبت میں ملیں اور اللہ کی محبت میں جدا ہوں ‘ وہ شخص جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھ سے آنسو بہیں ‘ وہ شخص جس کو خوب صورت اور بااختیار عورت گناہ کی دعوت دے اور وہ کہے کہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں ‘ وہ شخص جو چھپا کر صدقہ دے حتی کہ اس کے بائیں ہاتھ کو پتا نہ چلے کہ اس نے دائیں ہاتھ سے کیا دیا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٦٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٠٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٣٩١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ رقم الحدیث : ٣٥٨‘ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث : ٢٤٦٢‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٣٩‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩‘ سنن کبری للبیہقی : ج ٣ ص ٦٥‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٥٧) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چار آدمیوں سے اللہ تعالیٰ بغض رکھتا ہے : جو بہت قسمیں کھا کر سودا بیچے ‘ متکبر فقیر ‘ بوڑھا زانی ‘ اور ظالم حاکم : (صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٥٥٣٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٦٥) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عدل کرنے والے حاکم کا ایک دن ساٹھ سال کی عبادت سے افضل ہے اور زمین میں حد کو قائم کرنا اس زمین پر چالیس روز کی بارش سے زیادہ نفع آور ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٧٣٧٩)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 58

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ يَحۡسُدُوۡنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ‌ۚ فَقَدۡ اٰتَيۡنَاۤ اٰلَ اِبۡرٰهِيۡمَ الۡـكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَاٰتَيۡنٰهُمۡ مُّلۡكًا عَظِيۡمًا‏ ۞

ترجمہ:

یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا یہ لوگوں سے اس چیز پر حسد کرتے ہیں جو اللہ نے ان کو اپنے فضل سے عطا فرمائی ہے، تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے ان کو ملک عظیم عطا کیا تھا (النساء : ٥٤) 

یہود کے حسد کی مذمت : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے بخل کی مذمت کی تھی اور اس آیت میں ان کے حسد کی مذمت کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے فضل سے جو نعمت عطا فرمائی تھی یہود اس پر حسد کرتے تھے ‘ وہ کس نعمت پر حسد کرتے تھے اس میں اختلاف ہے ‘ قتادہ نے کہا ان کو یہ امید تھی کہ آخری نبی بنواسرائیل سے مبعوث ہوں گے اور جب اللہ تعالیٰ نے بنو اسماعیل سے آخری نبی مبعوث فرمایا تو وہ اس پر حسد کرنے لگے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہود نے کہا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر تواضع کا دعوی کرتے ہیں اور ان کے نکاح میں اتنی ازواج ہیں۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٨٨) لیکن پہلی تفسیر زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس آیت کے دوسرے جملہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو بیشک ہم نے آل ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی تھی اور ہم نے انکو ملک عظیم عطا کیا تھا تو پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حسد کیوں کرتے ہیں یہ نعمت تو حضرت ابراہیم کی آل کو بھی ملی تھی اور ان کو بھی مل چکی ہے۔ 

اس آیت میں کتاب سے مراد جنس کتاب ہے اور وہ تورات ‘ انجیل اور زبور اور دیگر صحائف کو شامل ہے اور حکمت سے مراد نبوت ہے یا وہ اسرار ہیں جو اللہ کی کتاب میں ودیعت کیے گئے ہیں ‘ حضرت ابراہیم کی آل میں نبی اور رسول مبعوث کیے گئے جن کو یہ کتابیں اور حکمتیں دی گئیں اور وہ سب ان یہودیوں کے آباء اور اسلاف تھے ‘ اور ان کے آباء اور اسلاف کو ملک عظیم بھی دیا گیا جیسے حضرت یوسف (علیہ السلام) ‘ حضرت دادؤ (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو ملک دیئے گئے ‘ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے لئے بہت زیادہ بیویاں حلال کی گئی تھیں۔ پھر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ کیوں اعتراض کرتے ہیں۔

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابوداؤد نے سنن میں اور امام بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حسد کرنے سے بچو کیونکہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑکیوں کو کھا جاتی ہے۔ 

امام ابن جریر اور امام ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تفسیر میں سدی سے روایت کیا ہے کہ ملک عظیم سے مراد عورتوں سے نکاح ہے۔ جب حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ننانوے بیویاں تھیں اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں تو سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کثرت ازدواج کس طرح باعث اعتراض ہوگا ! 

اور حاکم نے مستدرک میں محمد بن کعب سے روایت کیا ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی تین سو بیویاں اور سات سو باندیاں تھیں۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٧٣‘ مطبوعہ ایران)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 54

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (النساء : ٥١) 

جبت اور طاغوت کا معنی : 

ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے وہ جبت ہے (تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٦٤) 

عطیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جبت سے مراد بت ہیں اور طاغوت سے مراد بتوں کے ترجمان ہیں جو بتوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بتوں کی طرف منسوب کرکے لوگوں سے جھوٹی اور من گھڑت باتیں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جبت سے مراد ساحر ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے ‘ مجاہد نے کہا طاغوت سے مراد وہ شیطان ہے جو انسان کی صورت میں آتا ہے اور لوگ اس کے پاس اپنے مقدمات پیش کرتے ہیں ‘ مجاہد نے ایک تفسیر یہ بھی کی ہے کہ طاغوت سے مراد کاہن ہے اور جبت سے مراد ساحر ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک تفسیر یہ ہے کہ جبت سے مراد ایک یہودی عالم حی بن اخطب ہے اور طاغوت سے مراد ایک یہودی سردار اور عالم کعب بن اشرف ہے۔ (جامع البیان : ج ٥ ص ٨٤۔ ٨٣) 

امام رازی نے بیان کیا ہے کہ حی بن اخطب اور کعب بن الاشرف چند یہودیوں کے ساتھ مکہ گئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کفار قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے۔ قریش نے کہا تم اہل کتاب ہو اور ہماری بہ نسبت تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب ہو۔ ہم تمہاری بات پر اس وقت تک اعتبار نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے بتوں کو سجدہ نہیں کرو گے تاکہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں سو انہوں نے بتوں کو سجدہ کرلیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بعض اہل کتاب جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں ‘ پھر ابو سفیان نے پوچھا : یہ بتاؤ کہ ہم زیادہ ہدایت کے طریقہ پر ہیں یا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کعب نے پوچھا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ قریش نے کہا وہ کہتے ہیں صرف ایک خدا کی عبادت کرو ‘ بتوں کی عبادت نہ کرو اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ترک کردیا ہے اور لوگوں میں جدائی ڈال دی ہے ‘ کعب نے پوچھا اور تمہارا دین کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں ‘ حجاج کو پانی پلاتے ہیں ‘ مہمان نوازی کرتے ہیں اور قیدیوں کو چھڑاتے ہیں تو کعب بن اشرف نے کہا تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہودی اہل کتاب کافروں کے متعلق کہتے ہیں یہ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٣٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 1 سورہ البقرہ آیت نمبر1 تا 7

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ﴿﴾

اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا (ف۱)

(ف1)

سورۂ بقرہ یہ سورت مدنی ہے ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا مدینہ طیّبہ میں سب سے پہلے یہی سورت نازل ہوئی سوائے آیت ” وَاتَّقُوْا یَوْماً تُرْجَعُوْنَ ” کے کہ حجِ وَداع میں بمقام مکّہ مکرّمہ نازل ہوئی ۔ (خازن) اس سورت میں دو سو چھیاسی آیتیں چالیس رکوع چھ ہزار ایک سو اکیس کلمے پچیس ہزار پانچ سو حرف ہیں ۔ (خازن) پہلے قرآنِ پاک میں سورتوں کے نام نہ لکھے جاتے تھے ، یہ طریقہ حجّاج نے نکالا ۔ ابنِ عربی کا قول ہے کہ سورۂ بقر میں ہزار امر ، ہزار نہی ، ہزار حکم ، ہزار خبریں ہیں ، اس کے اخذ میں برکت ، ترک میں حسرت ہے ، اہلِ باطل جادو گر اس کی استطاعت نہیں رکھتے ، جس گھر میں یہ سورت پڑھی جائے تین دن تک سرکش شیطان اس میں داخل نہیں ہوتا ۔ مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں یہ سورت پڑھی جائے ۔ (جمل) بیہقی و سعید بن منصور نے حضرت مغیرہ سے روایت کی کہ جو شخص سوتے وقت سورۂ بقرکی دس آیتیں پڑھے گا قرآن شریف کو نہ بھولے گا ، وہ آیتیں یہ ہیں چار آیتیں اوّل کی اور آیت الکرسی اور دو اس کے بعد کی اور تین آخر سورت کی ۔ 

مسئلہ : طبرانی وبیہقی نے حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا میت کو دفن کر کے قبر کے سرہانے سورۂ بقر کے اول کی آیتیں اور پاؤں کی طرف آخر کی آیتیں پڑھو ۔ 

شانِ نُزول : اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک ایسی کتاب نازل فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا جو نہ پانی سے دھو کر مٹائی جا سکے نہ پرانی ہو ، جب قرآنِ پاک نازل ہوا تو فرمایا ”ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” کہ وہ کتابِ موعود یہ ہے ۔ ایک قول یہ ہے کہ اللہ تعالٰی نے بنی اسرائیل سے ایک کتاب نازل فرمانے اور بنی اسمٰعیل میں سے ایک رسول بھیجنے کا وعدہ فرمایا تھا ، جب حضور نے مدینہ طیّبہ کو ہجرت فرمائی جہاں یہود بکثرت تھے تو ”الۤمّۤ ذٰلِکَ الْکِتٰبُ ” نازل فرما کر اس وعدے کے پورے ہونے کی خبر دی ۔ (خازن)

الٓمّٓۚ(۱)(ف۲ )

(ف2)

”الٓمّٓۤ ”سورتوں کے اول جو حروفِ مقطّعہ آتے ہیں ان کی نسبت قولِ راجح یہی ہے کہ وہ اَسرارِ الٰہی اور متشابہات سے ہیں ، ان کی مراد اللہ اور رسول جانیں ہم اس کے حق ہونے پر ایمان لاتے ہیں ۔

ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۲)

وہ بلند رتبہ کتاب (قرآن) کوئی شک کی جگہ نہیں( ف ۳ ) اس میں ہدایت ہے ڈر والوں کو (ف۴)

(ف3)

اس لئے کہ شک اس میں ہوتا ہے جس پر دلیل نہ ہو ، قرآنِ پاک ایسی واضح اور قوی دلیلیں رکھتا ہے جو عاقلِ مُنْصِف کو اس کے کتابِ الٰہی اور حق ہونے کے یقین پر مجبور کرتی ہیں تو یہ کتاب کسی طرح قابلِ شک نہیں جس طرح اندھے کے انکار سے آفتاب کا وجود مشتبہ نہیں ہوتا ایسے ہی مُعانِدِ سیاہ دل کے شک و انکار سے یہ کتاب مشکوک نہیں ہو سکتی ۔

(ف4)

” ھُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ ” اگرچہ قرآنِ کریم کی ہدایت ہر ناظرکے لئے عام ہے ، مومن ہو یا کافِر جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا ” ھُدًی لِّلنَّا سِ” لیکن چونکہ اِنتفاع اس سے اہلِ تقوٰی کو ہوتا ہے اس لئے ” ھُدًی لِلّمُتَّقِیْنَ ” ارشاد ہوا جیسے کہتے ہیں بارش سبزہ کے لئے ہے یعنی منتفع ، اس سے سبزہ ہوتا ہے اگرچہ برستی کلر اور زمین بے گیاہ پر بھی ہے ۔ تقوٰی کے کئی معنٰی آتے ہیں ، نفس کو خوف کی چیز سے بچانا اور عرفِ شرع میں ممنوعات چھوڑ کر نفس کو گناہ سے بچانا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا متّقی وہ ہے جو شرک وکبائر و فواحش سے بچے ۔ بعضوں نے کہا متّقی وہ ہے جو اپنے آپ کو دوسروں سے بہتر نہ سمجھے ۔ بعض کا قول ہے تقوٰی حرام چیزوں کا ترک اور فرائض کا ادا کرنا ہے ۔ بعض کے نزدیک معصیت پر اصرار اور طاعت پر غرور کا ترک تقوٰی ہے ۔ بعض نے کہا تقوٰی یہ ہے کہ تیرا مولٰی تجھے وہاں نہ پائے جہاں اس نے منع فرمایا ۔ ایک قول یہ ہے کہ تقوٰی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام اور صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کی پیروی کا نام ہے ۔ (خازن) یہ تمام معنی باہم مناسبت رکھتے ہیں اور مآل کے اعتبار سے ان میں کچھ مخالفت نہیں ۔ تقوٰی کے مراتب بہت ہیں عوام کا تقوٰی ایمان لا کر کُفر سے بچنا ، مُتوسّطین کا اوامر و نواہی کی اطاعت ، خواص کا ہر ایسی چیز کو چھوڑنا جو اللہ تعالٰی سے غافل کرے ۔ (جمل) 

حضرت مترجم قدس سرہ نے فرمایا تقوٰی سات قسم کا ہے ۔

(۱) کُفر سے بچنا یہ بفضلہ تعالٰی ہر مسلمان کو حاصل ہے (۲) بدمذہبی سے بچنا یہ ہر سنی کو نصیب ہے (۳) ہر کبیرہ سے بچنا (۴) صغائر سے بھی بچنا (۵) شبہات سے احتراز (۶) شہوات سے بچنا (۷) غیر کی طرف التفات سے بچنا یہ اخص الخواص کا منصب ہےاور قرآنِ عظیم ساتوں مرتبوں کا ہادی ہے ۔

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَۙ(۳)

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں (ف۵) اور نماز قائم رکھیں (ف۶) اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری راہ میں اٹھائیں (ف۷)

(ف5)

” اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” یہاں سے مُفْلِحُوْنَ ” تک آیتیں مومنین با اخلاص کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً ایماندار ہیں ۔ اس کے بعد دو آیتیں کھلے کافِروں کے حق میں ہیں جو ظاہراً و باطناً کافِر ہیں ۔ اس کے بعد ” وَ مِنَ النَّاسِ” سے تیرہ آیتیں منافقین کے حق میں ہیں جو باطن میں کافِر ہیں اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں ۔ (جمل) 

غیب مصدر یا اسمِ فاعِل کے معنی میں ہے ، اس تقدیر پر غیب وہ ہے جو حواس و عقل سے بدیہی طور پر معلوم نہ ہو سکے ، اس کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جس پر کوئی دلیل نہ ہو یہ علمِ غیب ذاتی ہے اور یہی مراد ہے آیۂ ” عِنْدَہ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُھَآ اِلَّا ھُوَ ” میں اور ان تمام آیات میں جن میں علمِ غیب کی غیرِ خدا سے نفی کی گئی ہے ، اس قِسم کا علمِ غیب یعنی ذاتی جس پر کوئی دلیل نہ ہو اللہ تعالٰی کے ساتھ خاص ہے ، غیب کی دوسری قِسم وہ ہے جس پر دلیل ہو جیسے صانِعِ عالَم اور اس کی صفات اور نبوّات اور ان کے متعلقات احکام و شرائع و روزِ آخر اور اس کے احوال ، بَعث ، نشر ، حساب ، جزا وغیرہ کا علم جس پر دلیلیں قائم ہیں اور جو تعلیمِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے یہاں یہی مراد ہے ، اس دوسرے قسم کے غیوب جو ایمان سے علاقہ رکھتے ہیں ان کا علم و یقین ہر مومن کو حاصل ہے اگر نہ ہو آدمی مومن نہ ہو سکے اور اللہ تعالٰی اپنے مقرب بندوں انبیاء و اولیاء پر جو غیوب کے دروازے کھولتا ہے وہ اسی قسم کا غیب ہے یا غیب معنی مصدری میں رکھا جائے اور غیب کا صلہ مومن بہ قرار دیا جائے یا باء کو متلبسین محذوف کے متعلق کر کے حال قرا ر دیا جائے ، پہلی صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے جو بے دیکھے ایمان لائیں جیسا حضرت مترجم قدس سرہ نے ترجمہ کیا ہے ، دوسری صورت میں معنی یہ ہوں گے جو مؤمنین کے پسِ غیب ایمان لائیں یعنی ان کا ایمان منافقوں کی طرح مومنین کے دکھانے کے لئے نہ ہو بلکہ وہ مخلص ہوں ، غائب حاضر ہر حال میں مؤمن رہیں ۔ غیب کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے قلب یعنی دل مراد ہے ، اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ وہ دل سے ایمان لائیں ۔ (جمل) ایمان جن چیزوں کی نسبت ہدایت و یقین سے معلوم ہے کہ یہ دینِ محمّدی سے ہیں ، ان سب کو ماننے اور دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرنے کا نام ایمان صحیح ہے ، عمل ایمان میں داخل نہیں اسی لئے ” یُؤمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ” تر جمۂ کنز الایمان : (جو بے دیکھے ایمان لائیں ) کے بعد ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ” تر جمۂ کنز الایمان : (نماز قائم رکھیں ) فرمایا ۔

(ف6)

نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ اس پر مداومت کرتے ہیں اور ٹھیک وقتوں پر پابندی کے ساتھ اس کے ارکان پورے پورے ادا کرتے اور فرائض ، سُنَن ، مستحبات کی حفاظت کرتے ہیں ، کسی میں خلل نہیں آنے دیتے ، مفسدات و مکروہات سے اس کو بچاتے ہیں اور اس کے حقوق اچھی طرح ادا کرتے ہیں ۔ نماز کے حقوق دو طرح کے ہیں ایک ظاہری وہ تو یہی ہیں جو ذکر ہوئے ، دوسرے باطنی وہ خشوع اورحضوریعنی دل کو فارغ کر کے ہمہ تن بارگاہِ حق میں متوجہ ہو جانا اور عرض و نیاز و مناجات میں محویت پانا ۔

(ف7)

راہِ خدا میں خرچ کرنے سے یا زکٰوۃ مراد ہے جیسا دوسری جگہ فرمایا ” یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکوٰۃَ ” یا مطلق انفاق خواہ فرض و واجب ہو جیسے زکٰوۃ ، نذر ، اپنا اور اپنے اہل کا نفقہ وغیرہ ، خواہ مستحب جیسے صدقاتِ نافلہ ، اموات کا ایصالِ ثواب ۔ 

مسئلہ : گیارھویں ، فاتحہ، تیجہ ، چالیسواں وغیرہ بھی اس میں داخل ہیں کہ وہ سب صدقاتِ نافلہ ہیں اور قرآنِ پاک و کلمہ شریف کا پڑھنا ، نیکی کے ساتھ اور نیکی ملا کر اجر و ثواب بڑھاتا ہے ۔ 

مسئلہ : ” مِمَّا ” میں مِنْ تبعیضیہ اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ انفاق میں اسراف ممنوع ہے یعنی انفاق خواہ اپنے نفس پر ہو یا اپنے اہل پر یا کسی اور پر ، اعتدال کے ساتھ ہو اسراف نہ ہونے پائے ۔ 

” رَزَقْنَا ھُمْ ” کی تقدیم اور رزق کو اپنی طرف نسبت فرما کر ظاہر فرمایا کہ مال تمہارا پیدا کیا ہوا نہیں ، ہمارا عطا فرمایا ہوا ہے ، اس کو اگر ہمارے حکم سے ہماری راہ میں خرچ نہ کرو تو تم نہایت ہی بخیل ہو اور یہ بُخل نہایت قبیح ۔

وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَۚ-وَ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَؕ(۴)

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا(ف۸) اور آخرت پر یقین رکھیں (ف۹)

(ف8)

اس آیت میں اہلِ کتاب سے وہ مومنین مراد ہیں جو اپنی کتاب اور تمام پچھلی آسمانی کتابوں اور انبیاء علیہم السلام کی وحیوں پر بھی ایمان لائے اور قرآنِ پاک پر بھی اور ” مَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ ” سے تمام قرآنِ پاک اور پوری شریعت مراد ہے ۔ (جمل) 

مسئلہ : جس طرح قرآنِ پاک پر ایمان لانا ہر مکلَّف پر فرض ہے اسی طرح کتبِ سابقہ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو اللہ تعالٰی نے حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام سے قبل انبیاء علیہم السلام پر نازل فرمائیں البتہ ان کے جو احکام ہماری شریعت میں منسوخ ہو گئے ان پر عمل درست نہیں مگر ایمان ضروری ہے مثلاً پچھلی شریعتوں میں بیتُ الْمقد س قبلہ تھا ، اس پر ایمان لانا تو ہمارے لئے ضروری ہے مگر عمل یعنی نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرنا جائز نہیں ، منسوخ ہو چکا ۔ 

مسئلہ : قرآنِ کریم سے پہلے جو کچھ اللہ تعالٰی کی طرف سے اس کے انبیاء پر نازل ہوا ان سب پر اجمالاً ایمان لانا فرضِ عین ہے اور قرآن شریف پر تفصیلاً فرض کفایہ ہے لہٰذا عوام پر اس کی تفصیلات کے علم کی تحصیل فرض نہیں جب کہ عُلَماء موجود ہوں جنہوں نے اس کی تحصیلِ علم میں پوری جہد صرف کی ہو ۔

(ف9)

یعنی دارِ آخرت اور جو کچھ اس میں ہے جزا و حساب وغیرہ سب پر ایسا یقین و اطمینان رکھتے ہیں کہ ذرا شک و شبہ نہیں ، اس میں اہلِ کتاب وغیرہ کُفّار پر تعریض ہے جن کے اعتقاد آخرت کے متعلق فاسد ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْۗ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۵)

وہی لوگ اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور وہی مراد کو پہنچنے والے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۶)

بےشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے (ف۱۰) انہیں برابر ہے چاہے تم انہیں ڈراؤیا نہ ڈراؤ وہ ایمان لانے کے نہیں

(ف10)
اولیاء کے بعد اعداء کا ذکر فرمانا حکمتِ ہدایت ہے کہ اس مقابلہ سے ہر ایک کو اپنے کردار کی حقیقت اور اس کے نتائج پر نظر ہو جائے ۔
شانِ نُزول : یہ آیت ابوجہل ، ابولہب وغیرہ کُفّار کے حق میں نازل ہوئی جو علمِ الٰہی میں ایمان سے محروم ہیں اسی لئے ان کے حق میں اللہ تعالٰی کی مخالفت سے ڈرانا ، نہ ڈرانا دونوں برابر ہیں ، انہیں نفع نہ ہو گا مگر حضور کی سعی بیکار نہیں کیونکہ منصبِ رسالتِ عامّہ کا فرض رہنمائی و اقامت حُجّت و تبلیغ علٰی وجہِ الکمال ہے ۔
مسئلہ : اگر قوم پندپذیر نہ ہو تب بھی ہادی کو ہدایت کا ثواب ملے گا ۔ اس آیت میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تسکینِ خاطر ہے کہ کُفّار کے ایمان نہ لانے سے آپ مغموم نہ ہوں آپ کی سعی تبلیغِ کامل ہے اس کا اجر ملے گا ، محروم تو یہ بدنصیب ہیں جنہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی ۔ کُفر کے معنٰی اللہ تعالٰی کے وجود یا اس کی وحدانیت یا کسی نبی کی نبوّت یا ضروریاتِ دین سے کسی امر کا انکار یا کوئی ایسا فعل جو عِنْدَ الشَّرع انکار کی دلیل ہو کُفر ہے ۔

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰى سَمْعِهِمْؕ-وَ عَلٰۤى اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ٘-وَّ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۠(۷)

اللہ نے اُن کے دِلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے (ف۱۱) اور ان کے لیے بڑا عذاب

(ف11)

خلاصہ : مطلب یہ ہے کہ کُفّار ضلالت و گمراہی میں ایسے ڈوبے ہوئے ہیں کہ حق کے دیکھنے ، سننے ، سمجھنے سے اس طرح محروم ہو گئے جیسے کسی کے دل اور کانوں پر مُہر لگی ہو اور آنکھوں پر پردہ پڑا ہو ۔ 

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ بندوں کے افعال بھی تحتِ قدرتِ الٰہی ہیں ۔