يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَكُمۡ فَانْفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوۡا جَمِيۡعًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 71

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا خُذُوۡا حِذۡرَكُمۡ فَانْفِرُوۡا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوۡا جَمِيۡعًا‏ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اپنی حفاطت کا سامان لے لو ‘ پھر (دشمن کی طرف) الگ الگ دستوں کی شکل میں روانہ ہو یا سب مل کر روانہ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اپنی حفاطت کا سامان لے لو ‘ پھر (دشمن کی طرف) الگ الگ دستوں کی شکل میں روانہ ہو یا سب مل کر روانہ ہو۔ (النساء : ٧١) 

ربط آیات اور خلاصہ مضمون : 

اس سے پہلی آتیوں میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے متعلق وعید نازل فرمائی تھی ‘ اور انکو اللہ اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا تھا ‘ ان آیتوں میں مسلمانوں کو اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے جہاد کرنے کا حکم دیا ہے اور کافروں سے جہاد کے لیے سامان جنگ تیار رکھنے کا حکم دیا ہے تاکہ کہیں کفار اچانک حملہ نہ کردیں ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے ان منافقین کا حال بیان فرمایا جو جہاد کی راہ میں روڑے اٹکانے والے تھے ‘ اس سے پہلی آیات میں مسلمانوں کے ملک کے داخلی اور اندرون ملک کی اصلاح کے لیے آیات نازل فرمائی تھیں اور اب بیروں ملک اور میدان جنگ کے سلسلہ میں ہدایت نازل کی ہیں۔ 

جہاد کی تیاری اور اس کی طرف رغبت کا بیان : 

اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ کفار کے دفاع اور اپنی حفاظت کے لیے اسلحہ اور ہتھیار فراہم کریں ‘ اور دشمن جس طرح کے ہتھیار استعمال کر رہا ہے ویسے ہی ہتھیار استعمال کریں ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے جنگ یمامہ میں خالد بن ولید کو لکھا دشمنوں کے مقابلہ میں ان جیسے ہتھیار استعمال کرو۔ تلوار کے مقابلہ میں تلوار اور نیزہ کے مقاملہ میں نیزہ سے لڑو۔ اب دنیا میں اپنی بقاء کے لیے ایٹمی طاقت بننا ضروری ہے اور دشمنان اسلام سے مقابلہ اور جہاد کے لیے سائنس اور ٹیکنا لوجی میں مہارت حاصل کرنا ضروری ہے لیکن ہمارے طالب علم جدید ثقافت کے نام پر بین الاقوامی کھیلوں کے میدان میں ہیرو بننا چاہتے ہیں ‘ ڈسکو میوزک ‘ لڑکے لڑکیوں کے مخلوط رقص ‘ اور اچھل کود کے شوز میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور متوسط گھر ڈش انٹینا اور ٹی۔ وی اور وی۔ سی۔ آر کے سیلاب میں بہے جارہے ہیں۔ ایسے میں مسلمان نوجوانوں کے دلوں میں جذبہ جہاد کہاں سے پیدا ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 71

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب

*زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب*

*حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ چمشید پور*

اللہ تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریں کہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔ زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا ایک بائیں۔کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس سے پہلے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ ایک تیار بیٹھا ہوا محافظ لکھ لیتاہے۔(سورہ ق18، آیت50) اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتاہے صرف زبان سے بات کرنا ہی نہیں بلکہ سوچ اور نیت کو بھی جانتاہے۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے( کرام الکاتبین ) ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات اور ہر عمل لکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مریضوں کا کراہنا بھی لکھا جاتاہے ۔ اچھی بات دائیں طرف والا اور بری بات بائیں والا فرشتہ لکھتا رہتاہے۔(سوائے پیشاب پاخانہ کی حالت میں یا بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت خاص میں) ۔یہ معزز فرشتے الگ ہو جاتے ہیں (اسی لئے اس وقت بات کرنا ممنوع ہے)۔نیکی والا فرشتہ ایک نیکی کا دس لکھتاہے، بدی والا ایک بدی کی جگہ ایک ہی لکھتاہے۔ بندہ توبہ کر لے تو گناہ مٹ جاتا ہے ،بندہ مومن کے مرنے کے بعد وہ دونوں فرشتے قیامت تک اس کی قبر پر تسبیح تہلیل کرتے رہتے ہیں جس کا ثواب اس بندے کو ملتاہے۔

*زبان کو گناہ کی باتوں سے بچاؤ:*

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے۔ مثلاً حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردے دینا، کسی کو تکلیف پہنچانا، بات چیت سے دل آزاری کرنا، بُرے ا لقاب سے یا دکرنا، گالیاں بکنا، جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے ۔ترجمہ: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں۔(سورہ نحل، آیت 114) آج جو لوگ حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث پاک میں جن چیزوں کو حرام وحلال قرار دیا گیا ہے، صرف وہ حرام وحلال ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ اللہ پر افتراء کرکے حلال چیزوں کو زبانی کلامی حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آج بہت سے لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دے کر بھی بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ مثلاً سود، رشوت، جوا، ناجائز کھیل تماشے ، شرعی ضرورت کے بغیر فوٹو کھنچوانا وغیرہ۔ آج کل ان سب چیزوںکا بازارخوب گرم ہے اور اس پر نرم لفظوں میں باز آنے کی نصیحت پر لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی اس آیت مبارکہ میں داخل ہیں۔ آج کل لوگوں کی عادت یہ بھی بنی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے ،غصہ آیا اور لعنت ملامت شروع کردی۔ فلاں پر اللہ کی لعنت ، فلاں پر لعنت۔ یہ بیماری بلکہ وبا عام ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہم کو نہیں معلوم کہ کسی پر یہ ہماری بھیجی ہوئی لعنت کا کیا حشر ہوتاہے۔حضور ﷺ نے فرمایا: مومن نہ لعن وطعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتاہے۔(ترمذی) رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو لعنت ملامت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ کسی کے سفارشی۔(صحیح مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مومن کو یہ نہ چاہئے کہ لعنت کرنے والا ہو۔(ترمذی) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتاہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔ پھر دائیں بائیں جاتی ہیں ، جب کہیں راستہ نہیںپاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی۔ اگراُسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔ (ابو داؤد شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے۔ اس نے ہواپر لعنت کی ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو،وہ خدا کی طرف سے مامور ہے ۔ اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (بحوالہ کشف القلوب جلد3صفحہ280،ترمذی شریف)

زبان اللہ کی امانت ہے:

حضرت ابو ہریرہ ص روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ،اس کو چاہئے کہ یا تو وہ اچھی اور نیک بات کہے یا خاموش رہے۔ دوسری روایت بھی ابو ہریرہ صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ،آپؐ نے فرمایا کہ ایک انسان سوچے سمجھے بغیر جب کوئی کلمہ زبان سے کہہ دیتاہے تو وہ کلمہ اس شخص کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتاہے جتنا مشر ق اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بُعد(دوری) ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان)

*زبان جہنم میں لے جانے والی ہے:*

ایک حدیث پاک میں سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہوگی جو اپنی زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مثلاً جھوٹ بول دیا، غیبت کردی ، کسی کا دل دُکھا یا، کسی کی دل آزاری کی، دوسروں کے ساتھ غیبت میں حصہ لیا، کسی کی تکلیف پر خوشی منائی ، زیادہ باتیں کیں۔ جب یہ گناہ کے کام کئے تو اس کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلا گیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ، حدیث نمبر2414) یعنی بہت سے لوگ زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ ایک بڑی پیاری حدیث پاک ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک تین لوگوں کو سخت ناپسند فرماتاہے۔(1)زیادہ باتیں کرنے والے کو(2)فضول خرچی کرنے والے کو (3)زیادہ سوال کرنے والے کو۔بیہقی نے حضرت عمر بن حصینص سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ترمذی شریف میں ابو سعید خدری صسے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم جب صبح کرتا تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں ،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی، حدیث نمبر2408) ۔یہ زبان جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر اس کو صحیح استعمال کریں اس کو قابو میں رکھیں،بے قابو نہ چھوڑیں تو ہمارے دنیا وآخرت کے لئے بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ زبان سے یا تو صحیح بات بولو ورنہ خاموش رہو۔ اس لئے کہ خاموشی اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی غلط بات زبان سے نکالے اور اسی سبب سے زیادہ باتیںکرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منع کیا گیا ہے بلکہ اللہ پاک ایسے شخص کو ناپسند فرماتاہے جیساکہ اوپر حدیث پاک آپ پڑھ چکے ہیں۔

اگر انسان زیادہ بولے گا تو زبان قابو میں نہیں رہے گی،کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں انسان گناہ اور بغض وعداوت کے شیطانی جال میںمبتلا ہوجائے گا۔ اس لئے ضرورت کے مطابق بولئے، زیادہ نہ بولئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو۔ جب تول تول کربولو گے تو یہ زبان قابو میں آجائے گی۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے کرامؒ نے بھی زبان کی حفاظت کو خوب اہمیت دی ہے اور خوب جچی تلی زبان میں بات کر نے کو فوقیت کودی ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جو انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنی زبان کو پکڑ ے بیٹھے تھے اور اس کو مروڑ رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؓ ایساکیوں کر رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا،ترجمہ: اس زبان نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اس لئے اس کو قابومیں کرنا چاہتا ہوں۔(موطا امام مالک،کتاب الکلام باب ماجاء فی مایخاذ من اللسان) بعض روایات مروی ہیں کہ آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر بیٹھ گئے تاکہ بلا ضرورت زبان سے بات نہ نکلے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان جنت بھی کماسکتاہے اور دوزخ بھی کما سکتا ہے۔ زبان کو بہرحال قابو میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ے جا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے ۔ اس لئے انسان جتنا زیادہ غلط کلام کرے گا اتنا ہی وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کی جو وبا چل پڑی ہے، یہ بہت خراب اور خطرناک بات ہے۔ دوستوں کو بلالیا کہ آنا ذرا بیٹھ کر گپ شپ کریں گے۔ اب اس گپ شپ کے اندر جھوٹ بولا جارہاہے ، غیبت ہورہی ہے،دوسروں کی برائی ہورہی ہے، دوسروں کی نقلیں اُتاری جارہی ہیں۔ اس طرح کی اڈہ بازی میں نہ جانے کتنے گناہ ہورہے ہیں۔ یاد رکھیں زبان کی آفات، خرابی، فحش گوئی، دشنام طرازی، زبان درازی کی لعنت ، مسخرہ پن، فضول گوئی ، چغلی ، حسد وغیرہ وغیرہ جتنی آفتیں ہیں زبان کی ہی وجہ سے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔ حضرت ہشام بن عمرص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو طمانچہ مارے ، اس کا کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ،اس کو عذاب سے نجات دی جائے گی۔ جو اللہ سے معذرت کرے گا ،معذرت قبول کی جائے گی۔ مومن کو چاہئے کہ پڑوسی اور مہمان کا اکرام کرے ،زبان کی ترشی سے بچائے اور پڑوسی سے بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔

*زبان کی گھٹتی قیمت:*

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں زبان کی قدر وقیمت گھٹتی جارہی ہے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم سب بہت غفلت اور بے احتیاطیاں برت ر ہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اہل ِعلم ، دین کے ذمہ داران اور میڈیا سے وابستہ سنجیدہ لوگ بھی اس سلسلے میں بے توجہی کے شکار نظر آرہے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہو نا چاہیے کہ اس زبان کو قابو میں کرنے کی اہمیت دل میں پیدا کریں، خوفِ خدا پیدا کریں اور صرف وہی بات کریں جس سے صلاح وفلاح کی ہوائیں چلیں۔

*ہم اپنا احتساب کریں:*

کیا ہمارے نزدیک ہماری زبان ہر قسم کی ذمہ داری اور لگام سے آزاد اور مستثنیٰ ہے؟ کیا ہم اس بات کے قولاًنہ سہی عملاً منکرہیں جو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انسان کوئی بات بولتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک فرشتہ تیار رہتا ہے لکھنے کے لئے۔(القرآن سورہ ق، آیت 81)کیا ہم سب کو اطمینان ہے کہ ہماری زبان سے جو کچھ نکل رہا ہے اس پر کسی کی گرفت نہیں ہوگی؟ اگر آج ہم میں سے ہر شخص اتنا عزم وارداہ کرلے کہ اسی لمحے سے اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیں گے تو ذاتی ، گھریلو، رشتے ہمسائیگی اوردوستی کے دائر ے میں پڑیں بڑی خرابیوں ، رنجشوں اور فتنوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔بات کہو تو پکی اور مضبوط اور قرآن کی زبان میں *قولوللناس حسنا* یعنی لوگوں سے بات کرو تو خوبی کی بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کثیر سے حفاطت زبان کی اہمیت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا پر عمل کی توفیق ہوجائے۔ آمین,رابطہ: hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب وامام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور پن کوڈ 831020, جھارکھنڈ،

حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

حکومت کی طرف سے دی جانے والی حج سبسڈی پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ

أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ) :

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ،

وبعد:

إس دور فتن میں زیادہ تر ہم سوشل میڈیا یا إلیکٹرونک میڈیا یا دیگر میڈیا نیٹ ورک پر فتوی شریعت کو دیکھتے ہوئے نہیں دیتے بلکہ أپنے نظری و فکری اختلاف کو دیکھتے ہوئے دیتے ہیں ، مطلب یہ کہ أگر کوئی شخص نظریاتی یا فکری طور پہ ہمارے ساتھ اتفاق رکھتا ہے تو ہم أسکی غلط بات کو بھی موافق شرع بنادیتے ہیں أور أگر مخالف ہے تو أسکی شرعی بات کو بھی غیر شرعی رنگ دے دیتے ہیں ،

جیسے إس حج سبسڈی ختم کرنے والے مسئلہ میں دو فریق بن گے ، إیک فریق صراحتاً أسے غیر شرعی کہ رہا ہے أور إیک فریق مطلقاً حکومت کی سپورٹ کررہا ہے أور أسے مستحسن عمل قرار دے رہا ہے ،

لہذا ہم درج ذیل میں إن دونوں فریقین کے درمیان علمی محاکمہ کرتے ہیں أور مسئلہ کو شرعی طور پہ بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں:

حج سبسڈی ختم کرنے پر شرعی مؤقف کو جاننے کے لیے پہلے ہمیں درج ذیل کچھ نقاط کی وضاحت کرنی ہوگی:

پہلا نقطہ :

ملکی خزانہ کس کی ملکیت ہوتا ہے :

ملکی خزانہ أس ملک کے لوگوں کی ملکیت ہوتا ہے ، إسی لیے إس مال کو مال اللہ یا المال العام بولتے ہیں یعنی یہ اللہ کا مال ہوتا ہے جسکا مطلب یہ ہے کہ وہ أس مال میں سب لوگوں کا حق ہوتا ہے ،

أور مال اللہ کا لفظ أحادیث مبارکہ میں بھی آیا ہے جسکا بیان آگے آرہا ہے.

جیسے علامہ کاسانی فرماتے ہیں :

” بیت المال مال المسلمین "

ترجمہ: بیت المال مسلمین کا مال ہوتا ہے .

( بدائع الصنائع ، 4/39 )

إس میں واضح ہے کہ ملکی خزانے میں جتنا بھی پیسہ ہو یا دیگر مال أسکے مالک أس ملک کے مسلمان ہے یعنی أگر وہ إسلامی ملک ہے.

قاضی ماوردی شافعی أور قاضی أبو یعلی حنبلی فرماتے ہیں :

” کل مال استحقه المسلمون ، ولم يتعين مالكه منهم ، فهو من حقوق بيت المال "

ترجمہ:

ہر وہ مال جسکے حقدار مسلمان ہیں أور أس مال کا کوئی خاص مالک بھی نہ ہو تو وہ مال بیت المال ( ملکی خزانہ) کے حق میں سے ہے .

( الأحکام السلطانیۃ للماوردی ، ص : 213 ، الأحکام السلطانیۃ لأبی یعلی الحنبلی ، ص: 235 )

یہ بھی یہی فرمارہے ہیں کہ ملکی خزانہ میں جتنا پیسا ہو یا مال یا ملک میں ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو أسکے مستحق أس ملک کے مسلمان ہیں.

لہذا ملکی خزانہ أور ملک کی ہر وہ شئے جسکا کوئی خاص مالک نہ ہو یا پھر مالک ہو لیکن کوئی أسکا وارث نہ ہو یا معلوم نہ ہو وہ سارا مال ملکی خزانے میں جاتا ہے أور أسکے مالک أس ملک کے سب مسلمان ہوتے ہیں.

دوسرا نقطہ :

ملکی خزانے کے لیے خلافت راشدہ میں کونسا لفظ بولا جاتا تھا :

ملکی خزانہ کے لیے سب سے پہلے حضور صلی الله علیہ وسلم کے دور مبارکہ میں جس لفظ کا إطلاق ہوتا تھا وہ تھا : مال اللہ ومال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ،

پھر سیدنا صدیق أکبر أور خلافت راشدہ میں ملکی خزانے کے لیے ” بیت مال المسلمین ” کا لفظ استعمال ہوتا تھا پھر بعد میں إسکو ” بیت المال ” بولا جانے لگا کیونکہ بیت المال سے مراد سب کے نزدیک واضح تھا کہ وہ بیت مال المسلمین مراد ہے ، وزارت خزانہ کو ” دیوان بیت المال ” کے نام سے موسوم کیا جاتا.

( مقدمہ ابن خلدون ، ص: 244 ، الأحکام السلطانیۃ ماوردی ، ص: 203 بحوالہ الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ ، 8/242 ، 243 )

تیسرا نقطہ:

ملکی خزانے کو چلانے والے کی حیثیت کیا ہوتی ہے :

ملکی خزانے کا سربراہ حاکم وقت یا أسکی طرف سے مقرر کردہ منسٹر جسکو وزیر خزانہ کہتے ہیں أسکی حیثیت مالک کی نہیں ہوتی بلکہ وہ أس ملک کے لوگوں کا نائب ہوتا ہے،

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

” إني أنزلت نفسي وإياكم من هذا المال بمنزلة وال اليتيم ، فإن الله تبارك وتعالى قال ( ومن كان غنيا فليستعفف ومن كان فقيرا فليأكل بالمعروف / اگر ( والی/ یتیم کی کفالت کرنے والا) غنی ہو تو أس مال سے کچھ نہ لے أور أگر غریب ہو تو حسب عرف أس میں سے لے سکتا ہے ( یعنی جس سے أسکی بنیادی ضروریات پوری ہوجائیں)”

ترجمہ : حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک میں خود کو أور تم کو بیت المال میں یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح سمجھتا ہوں ( یعنی جس طرح یتیم کی کفالت کرنے والے کا حق ہے اتنا ہی ہمارا).

( الخراج لأبی یوسف ، ص: 46 )

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ صریح فرمارہے ہیں کہ حاکم وقت اور وزیر خزانہ کی حیثیت یتیم کی کفالت کرنے والے شخص کی طرح ہوتی ہے یعنی یہ مال ملک کے لوگوں کی أمانت ہے،

أور قرآن مجید نے سورہ نساء میں یتیم کی کفالت کرنے والے سے درج أعمال کا مطالبہ کیا جسکو ہم صرف مفہوما لکھ رہے ہیں:

نمبر 1: وہ یتیم کے مال سے ناجائز طریقے سے یا کرپشن کرکے کچھ بھی نہیں لے گا.

نمبر 2 : جب وہ بالغ ہوجائے تو أسکا مال أسے پورے حساب کے ساتھ واپس کرے .

نمبر 3 : أپنے عہد ایمانداری کو پورا کرے.

نمبر 4 : أگر وہ یتیم کے مال سے کھاتا ہے تو أس نے گویا دوزخ کو أپنے پیٹ میں بھرا.

جب حاکم وقت أور وزیر خزانہ إیک یتیم کی کفالت کرنے والے کی طرح أسکی حیثیت ہے تو یہ أحکام أس پر بھی لاگو ہونگے ، لیکن بدقسمتی سے ہم نے کبھی إسلامی اکانومی سسٹم أپنایا ہی نہیں.

چوتھا نقطہ:

ملکی خزانے کے مال کو خرچ کرنے یا سبسڈی دینے کے قواعد و ضوابط کیا ہیں؟

قاضی أبو یوسف أور دیگر فقہاء کرام نے أحادیث سے استنباط کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ملکی خزانے کو صرف أن معاملات میں خرچ کرے گا جس میں أس ملک کے تمام لوگوں کو فائدہ ہو أگر فردی فائدہ ہوا یا کچھ خاص لوگوں کو تو أس سے وہ خرچ نہیں کرے گا ، کسی خاص شخص کے لیے وہ أسی وقت خرچ کرسکتا ہے جب أسکے پاس پیسے نہ ہوں أور کوئی أور ذریعہ بھی نہ ہو تو پھر وہ ملکی خزانے سے أس پر خرچ کرسکتا ہے

کیونکہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” من ترك مالا فلورثته ، ومن ترك كلا فإلينا "

ترجمہ :

جس نے ( فوت ہوتے وقت ) مال چھوڑا وہ ورثاء کے لیے یے ،أور جس نے قرض چھوڑا وہ میری طرف ( سے أدا ہوگا )

( صحیح بخاری ، حدیث نمبر : 2398 )

إس حدیث میں واضح ہے کہ أگر وہ قرض چھوڑ کے جارہا ہے أور أسکے پاس مال نہیں ہے کیونکہ (کلا) أسکو کہتے ہیں جسکے پاس مال نہ ہو تو وہ میں أدا کرونگا تو حضور صلی الله علیہ وسلم حاکم بھی تھے تو إس حدیث سے ملکی خزانے سے کسی أیسے خاص شخص کی مدد کرنا جائز ہے جسکے پاس پیسے نہ ہوں جیسے یتیم بچے یا بیوہ عورتیں .

قاضی أبو یوسف نے ہارون الرشید کو فرمایا:

” ويعمل في ذلك يرى أنه خير للمسلمين وأصلح لأمرهم "

ترجمہ : وہ أس ( بیت المال) میں تصرف کرسکتا ہے جس میں مسلمانوں کے لیے بھلائی ہو أور أنکے معاملات کے لیے زیادہ مناسب ہو.

( الخراج ، ص: 72 )

لہذا ملکی خزانے سے أسی وقت کوئی خرچ کرسکتا ہے جب أس میں اجتماعی فائدہ ہو.

محاکمہ:

حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر موافقین و معارضین کے درمیان علمی محاکمہ :

موافقین کا علمی محاکمہ :

وہ لوگ جو حج سبسڈی بند کرنے پر حکومت کی تائید کررہے ہیں،

أور کہ رہے ہیں کہ حج صاحب استطاعت پر فرض ہے حکومت کی طرف سے سبسڈی دینا ضروری نہیں وہ صحیح کہ رہے ہیں لیکن کیا انہوں نے مذکورہ بالا أحکام کی روشنی میں إس تائید کے دوران حکومت کی طرف سے درج ذیل أمور میں جو سبسڈیز دی جارہی ہے أس پہ مذمت کی؟

۔نمبر 1 : حکومت کی طرف سے جو خاص لوگ حج و عمرہ کرتے ہیں تو کیا سپورٹ کرنے والوں نے حکومت سے یہ سؤال کیا کہ أگر حج سبسڈی دینا شرعا خلاف ہے تو خاص لوگوں کو فری حج و عمرہ کروانا کہاں سے شرعی ہوگیا؟

نمبر 2 : ملکی دووروں کے دوران جو وفود کے وفود ملکی خزانے سے سفر کرتے ہیں یہ کیا شرعا جائز ہے؟

نمبر 3 : منسٹرز کی لاکھوں میں تنخواہیں کیا شرعی ہیں؟

نمبر 4 : منسٹرز کو جو دیگر سبسڈیز دی جاتی ہیں جیسے ایک سے زائد گاڑیاں ، أنکا پٹرول ، کالنک کارڈز ، کھانا رہائش وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ سب سبسڈیز شرعی ہیں؟

نمبر 5 : کیا حج پہ جو خرچ ہوتا ہے أس سے زیادہ جو حکومت فیس وصول کررہی ہے کیا یہ شرعی ہے؟ کیا لوگوں کو استطاعت حج سے نکالنا شرعی ہے؟ یا پھر استطاعت کے نام سے زیادہ پیسا بٹورنا شرعی ہے؟

نمبر 6: کیا کسی إیک صوبے پہ خرچ زیادہ کرنا أور باقیوں کو پسماندہ چھوڑ دینا کیا یہ شرعا جائز ہے؟

سپورٹ کرنے والے کیا شریعت کو أپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں کہ جیسے چاہا سپورٹ کرنا شروع کردی،

کیا حضور صلی الله علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرفرمایا:

” إن رجالا يتخوضون في مال الله بغير حق ، فلهم النار يوم القيامة "

ترجمہ: بے شک لوگ اللہ کے مال ( بیت المال/ ملکی خزانے) کو بغیر حق کے خرچ کررہے ہیں أنکے لیے قیامت کے دن ( دوزخ کی) آگ ہوگی.

سپورٹ کرنے والے حکومت کی طرف سے دی جانے والی دیگر غیر شرعی سبسڈیز کی مذمت کیوں نہیں کررہے؟

معارضین کا علمی محاکمہ :

جو لوگ حکومت کی طرف سے حج سبسڈی بند کرنے پر گالیاں دے رہے ہیں تو کیا شریعت أنکی خواہش کے تابع ہے ؟

کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ ملکی خزانے سے حج کے لیے پیسے دینا جائز ہے؟

کیا حج والوں کو سبسڈی دینا اجتماعی فائدے میں آتی ہے یا خاص لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے؟

خدا کے لیے جب بھی شریعت کی بات کریں تو حق بات کریں چاہے أس میں آپکے مخالف کی سپورٹ ہی کیوں نہ ہو أور یہی قرآن کا حکم ہے :

” ولا تقولوا لما تصف ألسنتكم الكذب هذا حلال وهذا حرام لتفتروا على الله الكذب إن الذين يفترون على الله الكذب لا يفلحون "

( النحل ، 116 )

ترجمہ: أپنی زبانوں سے مت کہو کہ یہ حلال ہے أور یہ حرام تاکہ تم اللہ پر جھوٹ باندھو ،

بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوگا .

أپنی بات کو درج ذیل عظیم و درد بھرے قصے پر ختم کررہا ہوں :

إمام شاطبی فرماتے ہیں کہ ابن بشکوال نے إیک قصہ بیان کیا وہ یہ کہ:

حکم جو خلیفہ تھا وہ روزے کی حالت میں جماع کربیٹھا تو فقہاء کرام سے أس نے مسئلہ پوچھا تو فقہاء نے فرمایا:

کھانا کھلادو ( جو ساٹھ مسکینوں کو کھلانا ہوتا ہے) ، إسحاق بن ابراہیم خاموش رہے تو خلیفہ نے أن سے پوچھا : آپکا کیا فتوی ہے ؟

آپ نے فرمایا :

میں وہ فتوی نہیں دونگا جو آپکو مجھ سے پہلے یہ فقہاء کرام دے چکے ہیں بلکہ میرا فتوی یہ ہے کہ روزے رکھو ( دو ماہ کے جو کفارہ ہے) ،

أن سے أسی مجلس میں کسی نے کہا کہ کیا مذہب إمام مالک میں کھانا کھلانا جائز نہیں؟

إسحاق بن ابراہیم نے فرمایا:

تمہیں مذہب مالک یاد ہے کیونکہ تم خلیفہ کی خوشامت چاہتے ہو ،

إمام مالک کا فتوی کھانا کھلانے کا أسکے لیے ہے جس کے پاس مال ہو أور خلیفہ ( حاکم وقت) کا کوئی مال و دولت نہیں ہوتی تو کھانا کہاں سے کھلائے گا ؟

کیونکہ جو مال إنکے پاس ہے وہ تو بیت مال المسلمین کا ہے یعنی ملکی خزانے کا ،

تو خلیفہ نے اسحاق بن ابراہیم کے فتوے پر عمل کیا أور أنکا شکریہ بھائی أدا کیا.

( اعتصام للشاطبی ، أقسام المعنی المناسب الذی یربط بہ الحکم ، 2/611 )

إس قصے میں حضرت اسحاق بن ابراہیم کے فتوے کی طرف غور فرمائیں کہ حاکم وقت کا کوئی مال نہیں ہوتا یعنی اسے اپنے لیے أپنی جائز مقررہ تنخواہ سے زیادہ لینے یا دینے کا کوئی حق نہیں ہوتا

لیکن ہمارے حکمران تو آتے ہی إس لیے ہیں کہ ناجائز مال جمع کرسکیں.

تو میری دونوں فریق سے التجاء ہے کہ خدارا شریعت کو ترجیح دیں أپنی من پسند خواہش کو نہیں.

کاش أگر ہماری سبسڈیز کی پالیسی شریعت کے دیے گے إکانومی نظام کے تابع ہوتی تو ہمیں کبھی معیشت کی پستی جیسی ذلت سے نہ گزرنا پڑتا.

نوٹ: جو لوگ حکومت کی طرف سے ملنے والی سبسڈی پر پہلے حج کرچکے ہیں کیا وہ صحیح تھا یا نہیں کیونکہ حکومت کی آمدنی سود پر بھی مشتمل ہوتی ہے

– ان شاءاللہ-

إس پہ کل مفصل وضاحت کی جائے گی.

واللہ أعلم

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنۡـتُمۡ سُكَارٰى حَتّٰى تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِىۡ سَبِيۡلٍ حَتّٰى تَغۡتَسِلُوۡا‌ ؕ وَاِنۡ كُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤى اَوۡ عَلٰى سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡكُمۡ مِّنَ الۡغَآٮِٕطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَيَمَّمُوۡا صَعِيۡدًا طَيِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡهِكُمۡ وَاَيۡدِيۡكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا

ترجمہ:

اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو ‘ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘ بیشک اللہ نہایت معاف کرنے والا بہت بخشنے والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (النساء : ٤٣) 

حالت نشہ میں نماز پڑھنے سے ممانعت کا شان نزول : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی ابن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے ہمارے لئے کھانے کی دعوت کی ‘ اور ہم کو (تحریم شراب سے پہلے) شراب پلائی ہم نے شراب پی اور نماز کا وقت آگیا ‘ انہوں نے نماز پڑھانے کے لیے مجھے امام بنادیا میں نے پڑھا (آیت) ” قل یایھا الکافرون، لا اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون “۔ (آپ کہیے کہ اے کافرو میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم عبادت کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو) تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ حتی کہ تم یہ جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧١) 

امام ابن جریر متوفی ٣١٠‘ ھ نے از ابو عبدالرحمن از حضرت علی (رض) روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت علی (رض) نے شراب پی اور نماز حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے پڑھائی اور ان کو اس آیت کے پڑھنے میں التباس ہوگیا تب یہ آیت نازل ہوئی : اے ایمان والو ! نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٦١) 

امام ابوبکر جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٢٠١) 

امام حاکم نیشا پوری متوفی ٤٠٥ ھ نے اس حدیث میں یہ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو امام بنادیا گیا اور اس نے قرات میں یہ غلطی کی پھر یہ آیت نازل ہوئی ‘ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ‘ امام ذہبی نے بھی اس کو صحیح لکھا ہے۔ (المستدر ج ٢ ص ٣٠٧) 

امام ابوالحسن واحدی متوفی ٤٦٨ ھ نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٥٦‘ تفسیر سفیان الثوری ‘ ص ٥٦‘ تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٥٦) 

بعض مفسرین نے کہا اس آیت کا معنی ہے جب تم پر نیند کا غلبہ ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور نہ جنابت کی حالت میں مگر یہ کہ تم مسافر ہو حتی کہ تم غسل کرلو۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ حالت جنابت میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کوئی شخص سفر میں جنبی ہوجائے اور اس کو غسل کے لئے پانی نہ ملے تو وہ تیمم کرکے نماز پڑھ لے ‘ زجاج نے کہا اس کی حقیقت یہ ہے کہ حالت جنابت میں تم نماز نہ پڑھو ‘ قبتی نے کہا اس آیت میں صلوۃ سے مراد موضع الصلوۃ ہے یعنی مسجد ‘ اور اس کا معنی ہے کہ حالت جنابت میں تم مساجد کے قریب نہ جاؤ مگر صرف راستہ گزرنے کے لئے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد :۔ اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص قضاء حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہو ‘ پھر تم پانی نہ پاؤ تو تم پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ سو تم اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مسح کرو ‘۔ 

تیمم کی مشروعیت کا سبب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک سفر میں گئے ‘ جب مقام بیداء یا ذات الجیش پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گرگیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس ہار کو تلاش کرنے کے لئے رک گئے ‘ اور آپ کے ساتھ تمام قافلہ رک گیا ‘ اس جگہ پانی تھا اور نہ صحابہ کے ساتھ پانی تھا ‘ صحابہ نے حضرت ابوبکر (رض) سے شکایت کی اور کہنے لگے کہ تم نہیں دیکھ رہے کہ (حضرت) عائشہ (رض) نے کیا کیا ہے ؟ تمام لوگوں کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٹھہرا لیا ‘ اس مقام پر پانی ہے اور نہ لوگوں کے ساتھ پانی ہے۔ (یہ شکایت سن کر) حضرت ابوبکر (رض) میرے پاس آئے اور اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے زانو پر سر رکھے ہوئے محو نیند تھے ‘ حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے ڈانٹنا شروع کیا اور کہنے لگے تم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تمام صحابہ کو پریشان کیا ہے اور ایسی جگہ روک لیا ہے جہاں بالکل پانی نہیں ہے ‘ نہ صحابہ کے پاس پانی ہے ‘ پھر حضرت ابوبکر (رض) ناراض ہو کر جو کچھ ان کے آیا کہتے رہے اور اپنے ہاتھ سے میری کو کھ میں اپنی انگلی چبھوتے رہے ‘ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آرام میں خلل آنے کے خیال سے اپنی جگہ سے مطلقا نہیں ہلی ‘ یہاں تک کہ اسی حال میں یعنی جب کہ لوگوں کے پاس پانی نہ تھا ‘ صبح ہوگئی ‘ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آیت تیمم نازل فرمائی ‘ فرمائی پھر نقباء میں سے حضرت اسید بن حضیر نے کہا اے آل ابوبکر یہ کوئی آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ! حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے اس اونٹ کو کھڑا کیا جس پر میں سوار تھی تو ہار اس کے نیچے سے نکل آیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٥٦٨) 

حضرت عائشہ (رض) کے گم شدہ ہار کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم کی بحث : 

اس حدیث میں ہے : 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا : ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہار نکل آیا۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی لکھتے ہیں : 

صحیح بخاری میں ہے : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو بھیجا تو اس کو ہار مل گیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٣٤) 

ایک روایت میں دو شخصوں کا ذکر ہے ‘ اور یہ ایک ہی واقعہ ہے ‘ علماء نے کہا ہے کہ جس شخص کو بھیجا وہ حضرت اسید بن حضیر اور اس کے متبعین تھے ‘ وہ گئے تو ان کو کچھ نہیں ملا ‘ پھر واپسی میں حضرت اسید کو اس اونٹ کے نیچے سے وہ ہار مل گیا۔ (شرح مسلم للنووی ج ١ ص ١٦٠‘ مطبوعہ کراچی) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے ابتداء نہیں بتایا یا اس طرف متوجہ نہیں کیا کہ ہار کہاں ہے کیونکہ اس میں متعدد حکمتیں تھیں اور آپ کی امت کو بہت سے مسائل کی تعلیم دینا تھی بعض ازاں یہ ہیں۔ 

حدیث تیمم سے استنباط شدہ مسائل : 

علامہ بدرالدین عینی نے بیان کیا کہ اس حدیث سے حسب ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں : 

(١) بعض علماء (علامہ ابن حجر عسقلانی) نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اس جگہ قیام کرنا جائز ہے ‘ جہاں پانی نہ ہو اور اس راستہ پر سفر کرنا جائز ہے جہاں پانی نہ ہو ‘ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسی ہی جگہ سفر اور قیام کیا تھا۔ 

(٢) کسی شادی شدہ خاتون کی شکایت اس کے والد سے کرنا ‘ خواہ اس کا خاوند موجود ہو ‘ صحابہ کرام (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے اس لیے شکایت کی تھی کہ اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سو رہے تھے اور صحابہ کرام (رض) آپ کو نیند سے بیدار نہیں کرتے تھے۔ 

(٣) کسی فعل کی نسبت اس کے سبب کی طرف کرنا ‘ کیونکہ پانی نہ ملنے کا سبب حضرت عائشہ (رض) کے ہار کا گم ہونا تھا۔ 

(٤) کسی شخص کا اپنی بیٹی کے پاس جانا خواہ اس وقت اس کا خاوند موجود ہو ‘ جب اس کو یہ معلوم ہو کہ اس کا خاوند اس پر راضی ہوگا۔ 

(٥) کسی شخص کا اپنی بیٹی کو سرزنش کرنا خواہ وہ بیٹی شادی شدہ ہو اور صاحب منصب ہو۔ 

(٦) اگر کسی شخص کو ایسی تکلیف یا آفت پہنچے جو حرکت اور اضطراب کا موجب ہو تو وہ صبر کرے اور اپنے جسم کو ہلنے سے باز رکھے جب کہ اس کی حرکت سے کسی سونے والے ‘ بیمار یا نمازی یا قاری یا علم میں مشغول شخص کی تشویش اور بےآرامی کا خدشہ ہو۔ 

(٧) سفر میں تہجد کی رخصت ‘ یہ اس قول پر ہے کہ آپ پر تہجد کی نماز واجب تھی۔ 

(٨) پانی کو تلاش کرنا صرف اس وقت واجب ہوتا ہے جب نماز کا وقت آجائے ‘ کیونکہ عمرو بن حارث کی روایت میں ہے نماز کا وقت آگیا پانی کو تلاش کیا گیا۔ 

(٩) آیت وضو کے نازل ہونے سے پہلے وضو واجب تھا ‘ اسی وجہ سے ان کو بہت تشویش اور صدمہ لاحق ہوا کہ وہ ایسی جگہ ٹھہرے ہیں جہاں پانی نہیں ہے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ علامہ ابن البر نے کہا ہے کہ تمام اہل سیرت اس پر مفتق ہیں کہ جب سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نماز فرض ہوئی ہے ‘ آپ نے وضو کے ساتھ نماز پڑھی ہے (آیت وضو آیت تیمم کے ساتھ نازل ہوئی ہے یہ سورة مائدہ کی آیت نمبر ٦ ہے) اگر یہ اعتراض ہو کہ وضو پہلے ہی واجب تھا تو آیت وضو کو نازل کرنے میں کیا حکمت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تاکہ وضو کی فرضیت قرآن مجید سے ہوگئی ‘ بعض روایت میں ہے کہ حضرت اسلع اعرجی ‘ جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے سواری لاتے تھے ایک دن انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں جنبی ہوں تو تیمم کی آیت نازل ہوگئی اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت ضعیف ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کا واقعہ بھی ہار گم ہونے والے دن پیش آیا ہو کیونکہ وہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت کرتا تھا اور سواری والا تھا۔ 

(١٠) اس حدیث میں تیمم میں نیت کے وجوب پر دلیل ہے کیونکہ تیمم کا معنی ہے قصد کرو۔ 

(١١) اس میں یہ دلیل ہے کہ تندرست ‘ مریض ‘ بےوضو اور جنبی سب کے لیے تیمم مشروع ہے ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کے لیے تیمم جائز نہیں قرار دیتے تھے ‘ لیکن فقہاء میں سے کسی نے ان کے قول پر عمل نہیں کیا ‘ کیونکہ احادیث صحیحہ میں جنبی کے لیے تیمم کا جواز ثابت ہے۔ 

(١٢) اس حدیث میں سفر میں تیمم کرنے کے جواز کی دلیل ہے ‘ اس پر سب کا اجماع ہے ‘ اور حضر میں تیمم کرنے میں اختلاف ہے ‘ امام مالک اور ان کے اصحاب کا مسلک یہ ہے کہ سفر اور حضر میں تیمم کرنا مساوی ہے ‘ جب پانی نہ ملے ‘ یا مرض یا خوف شدید یا وقت نکلنے کے خوف سے پانی کا استعمال کرنا مشکل ہو ‘ علامہ ابو عمرو ابن عبدالبر مالکی نے کہا کہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے ‘ امام شافعی نے کہا جو شخص تندرست ہو اور مقیم ہو اس کے لیے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ الا یہ کہ اس کو اپنی جان کی ہلاکت کا خوف ہو ‘ علامہ طبری نے کہا امام ابویوسف اور امام زفر کے نزدیک مقیم کے لئے مرض اور خروج وقت کے خوف کی وجہ سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے ‘ امام شافعی ‘ لیث اور طبری نے یہ بھی کہا ہے کہ جب خروج وقت کا خوف ہو تو تندرست اور بیمار دونوں تیمم کرسکتے ہیں ‘ وہ نماز پڑھ لیں اور ان پر اعادہ لازم ہے ‘ اور عطاء بن ابی رباح نے یہ کہا ہے کہ جب پانی دستیاب ہو تو مریض اور غیر مریض دونوں تیمم نہ کریں۔ میں کہتا ہوں کہ علامہ ابن عبدالبر کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ خروج وقت کے خوف سے تیمم جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک مقیم کے لیے خروج وقت کے خوف کے سبب سے تیمم کرنا جائز نہیں ہے۔ 

(١٣) امن کے زمانہ میں ازواج کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے اگر ایک شخص کی کئی بیویاں ہوں تو وہ کسی ایک کو ساتھ لے جائے ‘ اور قرعہ اندازی کر کے اس کو لے جانا مستحب ہے جس کے نام کا قرعہ نکلے ‘ امام مالک ‘ امام شافعی اور امام احمد کے نزدیک قرعہ اندازی کرنا واجب ہے 

جنبی کے لیے جواز تیمم میں صحابہ کا اختلاف : 

جنبی کے لیے تیمم کرنے میں صحابہ کا اختلاف تھا ‘ حضرت عمر (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) اس سے منع کرتے تھے اور جمہور صحابہ کے نزدیک جنبی کے لیے تیمم کرنا جائز تھا۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابزی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا میں جنبی ہوگیا اور مجھے پانی نہیں مل سکا ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا نماز مت پڑھ۔ حضرت عمار (رض) کہنے لگے ‘ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں جب میں اور آپ ایک سفر میں تھے۔ ہم دونوں جنبی ہوگئے اور ہمیں پانی نہیں ملا۔ آپ نے بہرحال نماز نہیں پڑھی ‘ لیکن میں زمین پر لوٹ پوٹ ہوگیا ‘ اور میں نے نماز پڑھ لی (جب حضور کی خدمت میں میں پہنچا اور واقعہ عرض کیا) تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم دونوں ہاتھ زمین پر مارتے پھر پھونک مار کر گرد اڑا دیتے ‘ پھر ان کے ساتھ اپنے چہرہ اور ہاتھوں پر مسح کرتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا اے عمار خدا سے ڈرو ‘ حضرت عمار (رض) نے کہا اگر آپ فرمائیں تو میں یہ حدیث کسی اور سے نہ بیان کروں ‘ امام مسلم نے ایک اور سند بیان کر کے یہ اضافہ کیا کہ حضرت عمار (رض) کے جواب کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہم تمہاری روایت کا بوجھ تمہیں پر ڈالتے ہیں۔ 

شقیق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت ابوموسی اشعری (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ حضرت ابوموسی (رض) نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے مخاطب ہو کر فرمایا ‘ اگر کسی شخص پر غسل فرض ہو اور اس کو ایک ماہ تک پانی نہ مل سکے تو وہ شخص کس طرح نمازیں پڑھے گا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے فرمایا وہ شخص تیمم نہ کرے خواہ اس کو ایک ماہ تک پانی نہ ملے ‘ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا ‘ پھر آپ سورة مائدہ کی اس آیت کا کیا جواب دیں گے۔ (آیت) ” فلم تجدوا ماء فتیمموا صعیدا طیبا “۔ ” جب تم کو پانی نہ مل سکے تو پانی مٹی سے تیمم کرو “ حضرت عبداللہ نے فرمایا مجھے خدشہ ہے کہ اگر اس آیت کی بناء پر لوگوں کو تیمم کی اجازت دیدی جائے تو وہ پانی ٹھنڈا لگنے کی بناء پر بھی تیمم کرنا شروع کردیں گے۔ حضرت ابو موسیٰ (رض) نے فرمایا کیا آپ نے حضرت عمار (رض) کی یہ حدیث نہیں سنی ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے کسی کام کیلیے بھیجا ‘ راستہ میں (جب میں سویا تو) مجھ پر غسل فرض ہوگیا۔ پس میں خاک پر اسی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا ‘ جس طرح جانور لوٹ پوٹ ہوتے ہیں ‘ پھر جب میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمتت میں حاضر ہوا ‘ اور اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا تمہارے لیے یہ کافی تھا کہ تم اس طرح کرتے پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر ایک مرتبہ مارے اور بائیں ہاتھ سے دائیں پر مسح کیا اور دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور چہرہ پر مسح کیا ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا کیا تمہیں پتہ نہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کی حدیث پر اطمینان نہیں کیا تھا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٨‘ صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٤٦۔ ٣٤٠‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٢٢۔ ٣٢١) 

نیزامام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) ایک سرد رات کو جنبی ہوگئے ‘ انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” ولا تقتلوا انفسکم ان اللہ کان بکم رحیما “۔ پھر انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے ان کو ملامت نہیں کی۔ (صحیح البخاری کتاب التیمم باب : ٧) 

اس سے یہ معلوم ہوا کہ صحابہ کرام (رض) کا بعض مسائل میں اختلاف ہوتا تھا لیکن وہ ایک دوسرے کو طعن تشنیع نہیں کرتے تھے اور فروعی مسائل میں اختلاف کو وسعت ظرف سے لیتے تھے ‘ اگر اس قسم کا اختلاف آج کے مسلمانوں میں ہو تو ایک دوسرے کے خلاف نہ جانے کتنے رسالے لکھے جائیں اور ایک دوسرے کی تکفیر کی جائے اور آپس میں جو تم پیزار شروع ہوجائے۔ 

تیمم کی تعریف ‘ اس کی شرائط اور مذاہب فقہاء : 

تیمم ‘ کتاب ‘ سنت اور امت مسلمہ کے اجماع سے ثابت ہے ‘ تیمم کی خصوصیت سے اللہ تعالیٰ نے صرف اس امت کو سرفراز کیا ہے ‘ امت کا اس پر اجماع ہے کہ حدث اصغر ہو یا حدث اکبر ‘ تیمم صرف چہرے اور ہاتھوں پر کیا جاتا ہے ‘ ہمارا اور جمہور کا اس پر اجماع ہے کہ تیمم کے لیے دو ضربیں (دو بار پاک مٹی پر ہاتھ مارنا) ضروری ہیں ‘ ایک ضرب سے چہرے پر مسح کیا جائے اور ایک ضرب سے کہنیوں سمیت ہاتھوں پر مسح کیا جائے ‘ حضرت علی بن ابی طالب ‘ حضرت عبداللہ بن عمر ‘ حسن بصری ‘ شعبی ‘ سالم بن عبداللہ بن عمر ‘ سفیان ثوری ‘ امام مالک ‘ امام ابوحنیفہ ‘ اصحاب رائے اور دوسرے تمام فقہاء (رض) کا یہی مسلک ہے ‘ عطاء مکحول ‘ اوزاعی ‘ امام احمد ‘ اسحق ‘ ابن المنذر ‘ اور عامۃ المحدثین کا مسلک یہ ہے کہ چہرے اور ہاتھوں کیلیے صرف ایک ضرب واجب ہے۔ زہری نے یہ کہا ہے کہ ہاتھوں پر بغلوں تک مسح کرنا واجب ہے ‘ علامہ خطابی نے کہا ہے کہ اس میں علماء کا اختلاف نہیں ہے کہ کہنیوں سے ماوراء تیمم نہیں ہے ‘ اور ابن سیرین سے منقول ہے کہ تیمم میں تین ضربات ہیں ‘ ایک ضرب چہرے کے لیے دوسری ضرب ہتھیلیوں کے لیے اور تیسری ضرب کلائیوں کے لئے۔ 

علماء کا اس پر اجماع ہے ‘ تیمم حدث اصغر کے لئے بھی ہے اور حدث اکبر (جنبی ‘ حائض اور نفساء) کے لئے بھی ہے ‘ سلف اور خلف میں سے اس کا کوئی مخالف نہیں ہے ‘ ماسوا حضرت عمر بن الخطاب (رض) اور حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے ایک قول کے ‘ یہ بھی روایت ہے کہ ان دونوں نے اس قول سے رجوع کرلیا تھا ‘ جنبی کے لیے تیمم کے جواز کے ثبوت میں بکثرت احادیث مشہورہ مروی ہیں ‘ جب جنبی تیمم سے نماز پڑھ لے تو اس پر غسل کرنا بالاجماع واجب ہے ‘ اس میں صرف ابوسلمہ عبدالرحمن تابعی کا قول مخالف ہے لیکن یہ قول بالاجماع متروک ہے ‘ اور احادیث صحیحہ مشہورہ میں وارد ہے کہ جب پانی مل گیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کو غسل کرنے کا حکم دیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٤٤) اگر مسافر کے پاس پانی نہ ہو تو وہ پھر اپنی بیوی سے جماع کرسکتا ہے ‘ وہ (اگر اتنا پانی ہو تو) اپنی شرمگاہوں کو دھو کر تیمم کریں اور نماز پڑھ لیں اور اگر انہوں نے اپنی شرمگاہیں دھو لیں تو ان پر نماز کا اعادہ نہیں ہے ‘ اور اگر مرد نے اپنے آلہ کو نہیں دھویا اور اس پر رطوبت فرج لگی ہوئی تھی جس قول کے مطابق رطوبت فرج نجس ہے اس کو نماز کا اعادہ کرنا ہوگا ورنہ نہیں ‘ جس شخص نے کسی مرض یا زخم کی وجہ سے تیمم کیا تو اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے اور جس نے پانی کے نہ ہونے کی وجہ سے تیمم کیا تو اگر وہ ایسی جگہ ہے جہاں پر غالبا پانی نہیں ہوتا ‘ مثلا سفر میں ہے تو اس پر اعادہ واجب نہیں ہے ‘ اور اگر ایسی جگہ ہے جہاں پر کبھی کبھی پانی نہیں ہوتا اور اکثر ہوتا ہے تو اس پر نماز کا اعادہ ہے (جو شخص ڈیڑھ انگریزی میل کی مسافت پر شہر سے دور ہو اور اس کو پانی دستیاب نہ ہو تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک تیمم کرسکتا ہے اور اس پر نماز کا اعادہ نہیں ہے، ہدایہ) 

امام شافعی ‘ امام احمد ‘ ابن المنذر ‘ داؤد ظاہری، اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ تیمم صرف ایسی پاک مٹی کے ساتھ جائز ہے جس کا غبار عضو کے ساتھ لگ جائے ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام مالک یہ کہتے ہیں کہ زمین کی تمام اقسام سے تیمم کرنا جائز ہے ‘ حتی کہ دھلے ہوئے پتھر سے بھی تیمم کرنا جائز ہے ‘ اور بعض اصحاب مالک نے یہ کہا ہے کہ جو چیز زمین کے ساتھ متصل ہو ‘ اس کے ساتھ تیمم کرنا بھی جائز ہے اور برف کے متعلق ان کی دو روایتیں ہیں ‘ اور اوزاعی اور سفیان ثوری نے یہ کہا کہ برف اور ہر وہ چیز جو زمین پر ہو اس کے ساتھ تیمم کرنا جائز ہے۔ 

تیمم کے بعض مسائل : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو جہم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیرجمل (مدینہ کے قریب ایک جگہ) کی طرف جارہے تھے ایک مسلمان نے آپ کو سلام کیا ‘ آپ نے اس کو سلام کا جواب نہیں دیا حتی کہ آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور تیمم کر کے اس کو جواب دیا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩ )

یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ اس وقت پانی نہیں تھا کیونکہ جب پانی موجود ہو اور اس کے استعمال پر قدرت ہو تو تیمم جائز نہیں ہے ‘ خواہ فرض نماز ‘ نماز عید ‘ یا نماز جنازہ کے فوت ہونے کا خوف ہو ‘ امام شافعی کا مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ کا مذہب یہ ہے کہ عید اور جنازہ کے فوت ہونے کے خوف کی وجہ سے تیمم جائز ہے ‘ کیونکہ ان کی قضاء نہیں ہے۔ 

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ مٹی کی جنس سے تیمم کرنا ضروری ہے اور اس پر غبار ہونا ضروری نہیں جیسا کہ احناف کا مذہب ہے کیونکہ عام طور پر دیوار پر غبار نہیں ہوتا۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دیوار کے مالک کی اجازت کے بغیر آپ نے کیسے تیمم کرلیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ دیوار مباح تھی یا کسی ایسے شخص کی دیوار تھی جس کو آپ جانتے تھے اور آپ کو علم تھا کہ آپ کے تصرف سے اس کو اعتراض نہیں ہوگا ‘ اس حدیث میں نوافل کے لیے تیمم کرنے پر بھی دلیل ہے ‘ پیشاب کرتے وقت جس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے اس کافورا جواب نہیں دیا ‘ اس میں یہ دلیل ہے کہ قضاء حاجت کے وقت سلام کرنا مکروہ ہے اور اگر کوئی سلام کرے تو اس حالت میں اس کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اسی طرح اس حالت میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے۔ اسی طرح جماع کی حالت میں بھی ذکر کرنا مکروہ تحریمی ہے اور اس حال میں مطلقا کلام کرنا مکروہ تنزیہی ہے لیکن ضرورت کے مواقع مستثنی ہیں ‘ مثلا کسی نابینا کو کو یں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھے تو بتادے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 43

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنۡ تَجۡتَنِبُوۡا كَبٰٓٮِٕرَ مَا تُنۡهَوۡنَ عَنۡهُ نُكَفِّرۡ عَنۡكُمۡ سَيِّاٰتِكُمۡ وَنُدۡخِلۡـكُمۡ مُّدۡخَلًا كَرِيۡمًا

ترجمہ:

اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے ‘ اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر تم کبیرہ گناہوں سے بچتے رہو جن سے تمہیں منع کیا گیا ہے تو ہم تمہارے (صغیرہ) گناہوں کو معاف کردیں گے اور تمہیں عزت کی جگہ داخل کردیں گے۔ (النساء : ٣١)

صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کی تحقیق : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

بعض عرفاء نے کہا ہے کہ یہ مت سوچو کہ گناہ صغیرہ ہے یا کبیرہ ‘ یہ غور کرو کہ تم کس ذات کی نافرمانی کر رہے ہو اور اس اعتبار سے تمام گناہ گناہ کبیرہ ہیں۔ قاضی ابوبکر بن طیب ‘ استاد ابواسحق اسفرائنی ‘ ابوالمالی ‘ ابو نصر عبدالرحیم قشیری وغیرھم کا یہی قول ہے۔ انہوں نے کہا کہ گناہوں کو اضافی طور پر صغیرہ یا کبیرہ کہا جاتا ہے۔ مثلا زنا کفر کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور بوس وکنار زنا کی بہ نسبت صغیرہ ہے اور کسی گناہ سے اجتناب کی وجہ سے دوسرے گناہ کی مغفرت نہیں ہوتی بلکہ تمام گناہوں کی مغفرت اللہ کی مشیت کے تحت داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ (النساء : ٤٨) 

ترجمہ : بیشک اللہ اس کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے اور جو اس سے کم (گناہ) ہو اسے جس کے لئے چاہے گا بخش دے گا۔ 

اور یہ جو قرآن مجید میں ہے 

(آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ نکفر عنکم سیاتکم “۔ (النساء : ٣١) 

اس آیت میں کبائر سے مراد انواع کفر ہیں ‘ یعنی اگر تمام انواع کفر سے بچو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کو مٹا دے گا ‘ نیز صحیح مسلم اور دوسری کتب حدیث میں حضرت ابوامامہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے قسم کھا کر کسی مسلمان شخص کا حق مارا اللہ تعالیٰ اس آدمی پر دوزخ واجب کر دے گا اور اس پر جنت حرام کر دے گا ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! ہرچند کہ (اس شخص کا حق) تھوڑی سی چیز ہو ؟ آپ نے فرمایا : ہرچند کہ وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی کیوں نہ ہو ! پس معمولی معصیت پر بھی ایسی شدید وعید ہے جیسی بڑی معصیت پر وعید ہے۔ 

علامہ قرطبی مزید لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ہے کہ جن چیزوں سے منع کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس ممانعت کو جہنم یا غضب یا لعنت یا عذاب کے ذکر پر ختم کیا ہے اور گناہ کبیرہ ہے ‘ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا سورة نساء کی تیتیس (٣٣) آیتوں میں جن چیزوں سے منع کیا ہے اور پھر فرمایا ہے (آیت) ” ان تجتنبوا کبائر ما تنھون عنہ “۔ وہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ طاؤس کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) سے سوال کیا گیا کہ کیا کبائر سات (٧) ہیں فرمایا یہ ستر کے قریب ہیں اور سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کیا کبائر سات ہیں فرمایا یہ سات سو کے قریب ہیں البتہ استغفار کے بعد کوئی گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار سے کوئی گناہ صغیرہ نہیں رہتا (بلکہ کبیرہ ہوجاتا ہے) 

گناہ کبیرہ کی تعداد اور ان کے حصر میں علماء کا اختلاف ہے کیونکہ ان میں آثار مختلف ہیں ‘ میں یہ کہتا ہوں کہ گناہ کبیرہ کے متعلق صحیح اور حسن بکثرت احادیث ہیں اور ان سے حصر مقصود نہیں ہے البتہ بعض گناہ بعض دوسرے گناہ سے زیادہ بڑے ہیں اور شرک سب سے بڑا گناہ ہے جس کی مغفرت نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونا ہے کیونکہ اس میں قرآن مجید کی تکذیب ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” ورحمتی وسعت کل شیء “ میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ” انہ لایایئس من روح اللہ الا القوم الکفرون “۔ میری رحمت سے کافروں کے سوا کوئی مایوس نہیں ہوتا۔ اس کے بعد تیسرا درجہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ” افامنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخاسروان “۔ (الاعراف : ٩٩) کیا یہ اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہیں ؟ تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے ہی بےخوف ہوتے ہیں۔ اس کے بعد چوتھے درجہ پر قتل سب سے بڑا گناہ ہے اور اس کے بعد لواطت ہے ‘ پھر زنا ہے ‘ پھر شراب نوشی ہے پھر نماز اور اذان کا ترک کرنا ہے پھر جھوٹی گواہی دینا ہے اور ہر وہ گناہ جس پر عذاب شدید کی وعید ہے یا اس کا ضرر عظیم ہے وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٦١۔ ١٥٩ ملخصا مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

میں نے گناہ کبیرہ کے متعلق ان تمام اقوال اور تعریفات پر غور کیا میرے نزدیک جامع مانع اور منضبط تعریف یہ ہے : جس گناہ کی دنیا میں کوئی سزا ہو یا اس پر آخرت میں وعید شدید ہو یا اس گناہ پر لعنت یا غضب ہو وہ گناہ کبیرہ ہے اور اس کا ماسوا گناہ صغیرہ ہے اور اس سے بھی زیادہ آسان اور واضح تعریف یہ ہے کہ فرض کا ترک اور حرام کا ارتکاب گناہ کبیرہ ہے۔ اور واجب کا ترک اور مکروہ تحریمی کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے نیز کسی گناہ کو معمولی سمجھ کر بےخوفی سے کرنا بھی گناہ کبیرہ ہے علامہ نووی شافعی اور علامہ بھوتی حنبلی نے جو گناہ کبیرہ اور صغیرہ کی مثالیں دی ہیں ان پر یہ تعریفیں صادق آتی ہیں اس لئے گناہ صغیرہ اور کبیرہ کو سمجھنے کے لئے ان تعریفات کی روشنی میں ان مثالوں کو ایک بار پھر پڑھ لیاجائے۔ اس بحث میں یہ نکتہ ملحوظ رہنا چاہیے کہ فرض کے ترک کا عذاب واجب کے ترک کے عذاب سے اور حرام کے ارتکاب کا عذاب مکروہ تحریمی کے ارتکاب کے عذاب سے شدید ہوتا ہے اور اصولیین کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ فرض اور واجب کے ترک کا عذاب ایک جیسا ہوتا ہے اور ان میں صرف ثبوت کے لحاظ سے فرق ہے۔ 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ صغیرہ اور کبیرہ دو قسم کے ہیں۔ استاذ ابو اسحاق نے کہا ہے کہ کوئی گناہ صغیرہ نہیں ہوتا لیکن یہ صحیح نہیں ہے ‘ گناہ کبیرہ کی چار تعریفیں ہیں۔ (١) جس معصیت پر حد واجب ہوتی ہے وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٢) جس معصیت پر کتاب اور سنت میں وعید شدید ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٣) امام نے ’ ارشاد “ میں لکھا ہے کہ جس گناہ کو لاپرواہی کے ساتھ کیا گیا ہو وہ گناہ کبیرہ ہے۔ 

(٤) جس کام کو قرآن مجید نے حرام قرار دیا ہو یا جس کام کی جنس میں قتل وغیرہ کی سزا ہو یا جو کام علی الفور فرض ہو اس کو ترک کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ 

علامہ نووی نے دوسری تعریف کو ترجیح دی ہے پھر علامہ نووی لکھتے ہیں کہ یہ گناہ کبیرہ کی منضبط تعریفات ہیں۔ بعض علماء نے گناہ کبیرہ کو تفصیلا ‘ شمار بھی کیا ہے ان کی تفصیل یہ ہے : قتل ‘ زنا ‘ لواطت ‘ شراب پینا ‘ چوری ‘ قذف ‘ (تہمت لگانا) جھوٹی گواہی دینا ‘ مال غصب کرنا ‘ میدان جہاد سے بھاگنا ‘ سود کھانا ‘ مال یتیم کھانا ‘ والدین کی نافرمانی کرنا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عمدا ‘ جھوٹ باندھنا ‘ بلاعذر شہادت کو چھپانا ‘ رمضان میں بلاعذر روزہ نہ رکھنا ‘ جھوٹی قسم کھانا ‘ قطع رحم کرنا ‘ ناپ اور تول میں خیانت کرنا ‘ نماز کو وقت سے پہلے پڑھنا ‘ بلاعذر نماز قضاء کرنا ‘ مسلمان کو ناحق مارنا ‘ صحابہ کرام کو سب وشتم کرنا ‘ رشوت لینا ‘ دیوثی (فاحشہ عورتوں کے لئے گاہک لانا) حاکم کے پاس چغلی کھانا ‘ زکوۃ نہ دینا ‘ نیکی کا حکم نہ دینا ‘ باوجود قدرت کے برائی سے نہ روکنا ‘ قرآن مجید بھلانا ‘ حیوان کو جلانا ‘ عورت کا بلاسبب خاوند کے پاس نہ جانا ‘ اللہ کی رحمت سے مایوس ہونا ‘ اللہ کے عذاب سے بےخوف ہونا ‘ علماء کی توہین کرنا ‘ ظہار ‘ بلاعذر خنزیر یا مردار کا گوشت کھانا ‘ جادو کرنا ‘ حالت حیض میں وطی کرنا اور چغلی کھانا۔ یہ سب گناہ کبیرہ ہیں۔ 

علامہ نووی نے گناہ صغیرہ کی تفصیل میں ان گناہوں کو لکھا ہے : 

اجنبی عورت کو دیکھنا ‘ غیبت کرنا ‘ ایسا جھوٹ جس میں حد ہے نہ ضرر ‘ لوگوں کے گھروں میں جھانکنا ‘ تین دن سے زیادہ کسی مسلمان سے قطع تعلق کرنا ‘ زیادہ لڑنا جھگڑنا اگرچہ حق پر ہو ‘ غیبت پر سکوت کرنا ‘ مردہ پر بین کرنا ‘ مصیبت میں گریبان چاک کرنا اور چلانا ‘ اترا اترا کرچلنا ‘ فاسقوں سے دوستی رکھنا اور ان کے پاس بیٹھنا ‘ اوقات مکروہہ میں نماز پڑھنا ‘ مسجد میں خریدو فروخت کرنا ‘ بچوں پاگلوں کو مسجد میں لانا ‘ جس شخص کو لوگ کسی عیب کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں اس کا امام بننا، نماز میں عبث کام کرنا ‘ جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ‘ قبلہ رخ بول وبراز کرنا “ عام راستہ پر بول وبراز کرنا ‘ جس شخص کو غلبہ شہوت کا خطرہ ہو اس کا روزہ میں بوسہ لینا ‘ صوم وصال رکھنا ‘ استمناء ‘ بغیر جماع کے اجنبیہ سے مباشرت کرنا (یعنی بوس وکنار اور بغل گیر ہونا) بغیر کفارے کے مظاہر کا اپنی عورت سے جماع کرنا ‘ اجنبی عورت سے خلوت کرنا ‘ عورت کا بغیر محرم اور خاوند کے سفر کرنا یا بغیر ثقہ عورتوں کے سفر کرنا۔ (یہ مذہب شافعی کے ساتھ خاص ہے) بخش ‘ احتکار ‘ مسلمان کی بیع پر بیع کرنا ‘ اسی طرح مسلمان کی قیمت پر قیمت لگانا اور منگنی پر منگنی کرنا ‘ شہری کا دیہاتی سے بیع کرنا ‘ دیہاتی قافلہ سے بیع کے لئے ملاقات کرنا ‘ تصریہ (بیع کے لئے تھنوں میں دودھ روک لینا) بغیر عیب بیان کئے ہوئے عیب دار چیز کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت کتا رکھنا ‘ مسلمان کا کافر کو قرآن مجید اور دینی کتابوں کو فروخت کرنا ‘ بلا ضرورت نجاست کو بدن پر لگانا اور بلاضرورت خلوت میں اپنی شرمگاہ کھولنا۔ 

عدالت (نیک چلنی) میں صغائر سے بالکل اجتناب کرنا شرط نہیں ہے لیکن صغیرہ پر اصرار یعنی بلاتوبہ بار بار صغیرہ کا ارتکاب کرنا صغیرہ گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے۔ (روضۃ الطالبین وعمدۃ المقتین ج ١٢ ص ٢٢٥۔ ٢٢٢ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ١٤٠٥ ھ) 

علامہ شمس الدین مقدسی محمد بن مفلح حنبلی متوفی ٧٦٣ ھ لکھتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ گناہ ہے جس پر حد ہو یا اس پر وعید ہو یا اس پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی کی گئی ہو جس طرح حدیث میں ہے : من غش فلیس منا “۔ ” جس نے دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے “ یعنی یہ وہ کام ہے جو ہمارے احکام میں سے نہیں ہے یا ہمارے اخلاق میں سے نہیں ہے یا ہماری سنت میں سے نہیں ہے ‘ اور فصول ‘ غتیہ اور مستوعب میں ہے کہ غیبت اور چغلی صغائر میں سے ہے اور قاضی نے معتمد میں کہا ہے کہ کبیرہ وہ ہے جس کا عقاب زیادہ ہو اور صغیرہ وہ ہے جس کا عقاب کم ہو۔ ابن حامد نے کہا ہے کہ صغائر خواہ کسی نوع کے ہوں وہ تکرار سے کبیرہ ہوجاتے ہیں اور ہمارے فقہاء نے کہا ہے کہ تکرار سے صغیرہ کبیرہ نہیں ہوتا جیسا کہ جو امور غیر کفر ہوں وہ تکرار سے کفر نہیں ہوتے۔ (کتاب الفروع ج ٦ ص ٥٦٥۔ ٥٦٤ مطبوعہ عالم الکتب بیروت ‘ ١٣٨٨ ھ) 

علامہ منصور بن یونس بن ادریس بھوتی حنبلی متوفی ١٠٤٦ ھ بیان کرتے ہیں : 

گناہ کبیرہ وہ ہے جس پر دنیا میں حد ہو اور آخرت میں وعید ہو جیسا کہ سود کھانا اور والدین کی نافرمانی کرنا ‘ اور شیخ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ جس فعل پر غضب ہو یا لعنت ہو یا اس فعل کے مرتکب سے ایمان کی نفی ہو۔ 

جھوٹ بولنا گناہ صغیرہ ہے بشرطیکہ اس پر دوام اور استمرار نہ ہو البتہ جھوٹی گواہی دینا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جھوٹ باندھنا یا کسی پر جھوٹی تہمت لگانا گناہ کبیرہ ہے اور صلح کرانے کے لئے بیوی کو راضی کرنے کے لئے اور جنگی چال کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ علامہ ابن جوزی نے کہا ہے ہر وہ نیک مقصد جو جھوٹ کے بغیر حاصل نہ کیا جاسکتا ہو اس کے لئے جھوٹ بولنا مباح ہے۔ غیبت میں اختلاف ہے علامہ قرطبی نے اس کو کبائر میں شمار کیا ہے اور ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ یہ صغیرہ ہے۔ صاحب الفصول ‘ صاحب الغنیہ اور صاحب المستوعب کی یہی تحقیق ہے۔ امام داؤد نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے متعلق بلاعلم کچھ کہنا گناہ کبیرہ ہے ‘ ضرورت کے وقت علم چھپانا گناہ کبیرہ ہے ‘ فخر اور غرور کے لئے علم حاصل کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ جاندار کی تصویر بنانا گناہ کبیرہ ہے ‘ کاہن اور نجومی کے پاس جانا اور ان کی تصدیق کرنا گناہ کبیرہ ہے ‘ غیر اللہ کو سجدہ کرنا ‘ بدعت کی دعوت دینا ‘ خیانت کرنا ‘ بدفالی کرنا ‘ بدفالی نکالنا ‘ سونے اور چاندی کے برتنوں میں کھانا ‘ وصیت میں زیادتی کرنا ‘ خمر بیچنا ‘ سودی معاملہ لکھنا اور سود پر گواہی دینا کبیرہ ہے ‘ دو چہروں والا ہونا یعنی بظاہر دوستی رکھنا اور بباطن دشمنی رکھنا گناہ کبیرہ ہے۔ خود کو کسی اور نسب کی طرف منسوب کرنا ‘ جانور سے بدفعلی کرنا ‘ بلاعذر جمعہ ترک کرنا ‘ نشہ آور اشیاء استعمال کرنا ‘ نیکی کرکے احسان جتلانا ‘ لوگوں کی مرضی کے بغیر ان کی باتیں کان لگا کر سننا ‘ کسی پر بلا استحقاق لعنت کرنا ‘ غیر اللہ کی قسم کھانا یہ تمام امور گناہ کبیرہ ہیں ‘ اور جو مسائل اجتہادیہ ہیں ان کو کسی مجتہد کی اتباع میں کرنا ‘ معصیت نہیں ہے ‘ مثلا امام ابوحنیفہ کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کرنا جائز ہے اور امام شافعی کے نزدیک جائز نہیں ہے اور امام مالک کے نزدیک بغیر گواہوں کے نکاح جائز ہے اور باقی ائمہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ علامہ بھوتی حنبلی کے ذکر کردہ کبیرہ گناہوں میں سے ہم نے ان گناہوں کو حذف کردیا جن کو اس سے پہلے ہم علامہ نووی کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں۔ (کشاف القناع ج ٦ ص ٤٢٢۔ ٤١٩‘ ملخصا مطبوعہ عالم الکتب بیروت) 

اصرار سے گناہ صغیرہ کے کبیرہ ہونے کی وجہ : 

علامہ شامی اور دوسرے فقہاء نے لکھا ہے کہ گناہ صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے ایک علمی مجلس میں مجھ سے ایک فاضل دوست نے سوال کیا کہ صغیرہ پر اصرار کرنا دوبارہ اسی گناہ کا ارتکاب کرنا ہے اس لئے یہ اسی درجہ کی معصیت ہونی چاہیے اور جب یہ پہلے صغیرہ تھا تو دوبارہ اس کو کرنے سے یہ گناہ کبیرہ کیسے ہوگیا ؟ میں نے اس کے جواب میں کہا : اگر گناہ صغیرہ کرنے کے بعد انسان نادم ہو اور اس پر استغفار کرے اور پھر دوبارہ شامت نفس سے وہ صغیرہ گناہ کرلے تو یہ اصرار نہیں ہے تکرار ہے اور گناہ صغیرہ کرنے کے بعد نادم اور تائب نہ ہو اور بلاجھجک اس گناہ کا اعادہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے اور یہ کبیرہ اس وجہ سے ہوگیا کہ اس نے اس گنہا کو معمولی سمجھا اور اس میں احکام شرعیہ کی تخفیف اور بےوقعتی ہے اور شریعت کی تخفیف اور بےوقعتی گناہ کبیرہ ہے ‘ جبکہ شریعت کی توہین کفر ہے۔ فرض اور واجب تو دور کی بات ہے جو فعل مسنون ہو اس کی تخفیف اور بےوقعتی بھی گناہ کبیرہ ہے ‘ اور اس کی توہین کرنا کفر ہے۔ العیاذ باللہ ! 

اس کے بعد اس بحث کو لکھتے وقت جب میں نے اس سوال پر غور کیا تو مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ قرآن اور حدیث میں معصیت پر اصرار کرنے کو کبیرہ قرار دیا ہے خواہ وہ کسی درجہ کی معصیت ہو معصیت پر نفس اصرار گناہ کبیرہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

آیت) ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اوظلموا انفسھم ذکرواللہ فاستغفروا الذنوبھم ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی مافعلوا وھم یعلمون، اولئک جزآؤھم مغفرۃ من ربھم وجنت تجری من تحتھا الانھار خالدین فیھا ونعم اجر العاملین “۔ (ال عمران : ١٣٦۔ ١٣٥) 

ترجمہ : اور جب وہ لوگ بےحیائی کا کام یا اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اللہ کو یاد کرکے اپنے گناہوں کی معافی طلب کریں اور اللہ کے سوا کون گناہوں کو بخشتا ہے اور وہ لوگ جان بوجھ کر اپنے کئے (یعنی گناہوں) پر اصرار نہ کریں۔ ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ جنات ہیں جن کی نیچے دریا جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے اور (نیک) کام کرنے والوں کا کیا ہی اچھا بدلہ ہے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مغفرت اور اخروی انعامات کو عدم اصرار معصیت پر مرتب فرمایا ہے اس کا لازمی مفہوم یہ ہے کہ معصیت پر اصرار کرنا اخروی عذاب کو مستلزم ہے اور اس سے بھی زیادہ صریح یہ آیت ہے۔ : 

(آیت) ” عفا اللہ عما سلف ومن عاد فینتقم اللہ منہ ‘ واللہ عزیز ذوانتقام “۔ (المائدہ : ٩٥) 

ترجمہ : جو ہوچکا اس کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اور جس نے دوبارہ یہ کام کیا تو اللہ اس سے بدلہ لے گا اور اللہ بڑا غالب ہے بدلہ لینے والا۔ 

ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اصرار پر وعید فرمائی ہے اور وعید گناہ کبیرہ پر ہوتی ہے۔

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان لوگوں کے لئے عذاب ہو جو اپنے کئے ہوئے (گناہ) پر جان بوجھ کر اصرار کرتے ہیں۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوبکر صدیق (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے (گناہ پر) استغفار کرلیا تو یہ اس کا اصرار نہیں ہے خواہ وہ دن میں ستر مرتبہ گناہ کرے۔ (سنن ابودادؤ‘ رقم الحدیث : ١٥١٤) 

اس حدیث سے یہ واضح ہوا کہ گناہ کے بعد استغفار کرلیا جائے تو یہ تکرار ہے اور گناہ کے بعد پھر گناہ کرے اور توبہ نہ کرے تو پھر یہ اصرار ہے جیسا کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے۔ 

علامہ قرطبی لکھتے ہیں : کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : 

استغفار کے ساتھ گناہ کبیرہ نہیں رہتا اور اصرار کے ساتھ گناہ صغیرہ نہیں رہتا (یعنی کبیرہ ہوجاتا ہے) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٥٩‘ مطبوعہ ایران) 

اصرار کے ساتھ گناہ کبیرہ ہوجاتا ہے اس پر یہ حدیث صراحتا دلالت کرتی ہے علامہ آلوسی امام بیہقی کے حوالے سے لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے موقوفا روایت ہے کہ جس گناہ پر بندہ اصرار کرے (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرے) وہ گناہ کبیرہ ہے اور جب بندہ کسی گناہ پر توبہ کرلے تو وہ گناہ کبیرہ نہیں ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٦٢‘ مطبوعہ بیروت) 

قرآن مجید کی آیات ‘ احادیث اور آثار سے یہ واضح ہوگیا کہ گناہ پر اصرار کرنا (یعنی گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا) اس گناہ کو کبیرہ بنا دیتا ہے خواہ وہ گناہ کسی درجہ کا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ گناہ کرنے کے بعد توبہ نہ کرنا اس پر دلالت کرتا ہے کہ وہ شخص اس گناہ کو معمولی اور بےوقعت سمجھتا ہے اور اس کا یہ عمل اس بات کا مظہر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منع کرنے کو اہمیت نہیں دیتا اور ان کے احکام کی پرواہ نہیں کرتا اور شریعت کو معمولی اور بےوقعت سمجھنا اور اس سے لاپرواہی برتنا یہی گناہ کبیرہ ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 31

وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ‌ ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِى الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصٰى بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ ۙ غَيۡرَ مُضَآرٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَلِيۡمٌ ؕ‏ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 12

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَـكُمۡ نِصۡفُ مَا تَرَكَ اَزۡوَاجُكُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَـكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡنَ‌ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصِيۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ اِنۡ لَّمۡ يَكُنۡ لَّكُمۡ وَلَدٌ ۚ فَاِنۡ كَانَ لَـكُمۡ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكۡتُمۡ‌ مِّنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ تُوۡصُوۡنَ بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ‌ ؕ وَاِنۡ كَانَ رَجُلٌ يُّوۡرَثُ كَلٰلَةً اَوِ امۡرَاَةٌ وَّلَهٗۤ اَخٌ اَوۡ اُخۡتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡهُمَا السُّدُسُ‌ ۚ فَاِنۡ كَانُوۡۤا اَكۡثَرَ مِنۡ ذٰ لِكَ فَهُمۡ شُرَكَآءُ فِى الثُّلُثِ مِنۡۢ بَعۡدِ وَصِيَّةٍ يُّوۡصٰى بِهَاۤ اَوۡ دَ يۡنٍ ۙ غَيۡرَ مُضَآرٍّ‌ ۚ وَصِيَّةً مِّنَ اللّٰهِ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌ حَلِيۡمٌ ؕ‏

ترجمہ:

تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے تمہارے لیے آدھا حصہ ہے۔ بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو ‘ اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہارا چوتھائی حصہ ہے ان کی وصیت پوری کرنے اور ان کا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا چوتھائی حصہ ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا اٹھواں حصہ ہے ‘ تمہاری وصیت پوری کرنے اور تمہارا قرض ادا کرنے کے بعد اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کے ماں باپ ہوں اور نہ اولاد اور اس کا (ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا ایک تہائی حصہ ہے اس شخص کی وصیت پوری کرنے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد ‘ وصیت میں نقصان نہ پہنچایا گیا ہو ‘ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا بہت حلم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہاری بیویوں کے ترکہ میں سے تمہارے لئے آدھا حصہ ہے بشرطیکہ ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو تمہارے لئے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے۔ ان کی وصیت پوری کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ‘ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے۔ ان کی وصیت پوری کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد ‘ اور اگر تمہاری اولاد نہ ہو تو تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی حصہ ہے اور اگر تمہاری اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے ان کا آٹھواں حصہ ہے تمہاری وصیت پوری کرنے اور تمہارا قرض ادا کرنے کے بعد۔ 

شوہر اور بیوی کے احوال :

اولاد کی ماں باپ کے ساتھ اور ماں باپ کی اولاد کے ساتھ نسبی قرابت ہے ‘ اور یہ بلاواسطہ قرابت ہے اور شوہر کی بیوی کے ساتھ اور بیوی کی شوہر کے ساتھ نکاح کے سبب سے قرابت ہے اور یہ بھی بلاواسطہ قرابت ہے ‘ ان کے علاوہ جو قرابتیں ہیں مثلا بھائی بہن وغیرہ وہ بالواسطہ قرابتیں ہیں کیونکہ بھائی ‘ بہن وغیرہ کی قرابت ماں باپ کے واسطہ سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلے بلاواسطہ قرابت داروں کے احکام وراثت بیان فرمائے اور پھر بالواسطہ قرابت داروں کے احکام بیان فرمائے ‘ اور بلاواسطہ قرابت میں نسبی قرابت سببی قرابت سے قوی ہے اس لئے پہلے نسبی قرابت داروں میں اولاد اور ماں باپ کے حصص بیان فرمائے اس کے بعد سببی قرابت میں شوہر اور بیوی کے حصص بیان فرمائے اور یہ نہایت عمدہ ترتیب ہے۔ 

اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اگر بیوی کی اولاد نہ ہو تو شوہر کا حصہ نصف (آدھا) ہے اور اگر اولاد ہو تو اسکا حصہ چوتھائی ہے اور اگر شوہر کی اولاد نہ ہو تو بیوی کا حصہ ربع (چوتھائی) ہے اور اگر اولاد ہو تو اس کا حصہ ثمن (آٹھواں) ہے اس سے واضح ہوا کہ شوہر کا حصہ بیوی کے حصہ سے دگنا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مرد کا حصہ عورت سے دگنا ہوتا ہے۔ 

اس آیت میں اولاد سے مراد عام ہے خواہ ایک ہو یا زیادہ ‘ مذکرہو یا مونث ‘ نیز وہ اولاد واسطہ ہو جیسے بیٹا یا بیٹی یا بالواسطہ ہو جیسے پوتا اور پوتی ‘ اور جب بیوی شوہر کی وارث ہو تو شوہر کی اولاد عام ہے خواہ اسی بیوی سے ہو یا کسی اور بیوی سے۔ اسی طرح جب شوہر بیوی کا وارث ہو تب بھی اولاد عام ہے خواہ وہ اسی شوہر کی اولاد ہو یا اس کے پہلے شوہر کی اولاد ہو ‘ اسی طرح بیوی ایک ہو یا کئی بیویاں ہوں سب کا حصہ ثمن (آٹھواں) ہے اور آٹھواں حصہ ان سب بیویوں میں تقسیم کردیا جائے گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کا نہ والد ہو اور نہ اولاد اور (اس کا ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا تہائی حصہ ہے اس شخص کی وصیت پوری کرنے اور اس کا قرض ادا کرنے کے بعد وصیت میں نقصان نہ پہنچایا گیا ہو۔ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہے اور اللہ خوب جاننے والا ‘ بہت حکمت والا ہے۔ 

کلالہ کا معنی اور اس کے مصداق کی تحقیق :

کلالہ کی کئی تفسیریں ہیں : ایک تفسیر یہ ہے کہ کلالہ ان وارثوں کو کہتے ہیں جو میت کے نہ والد ہوں اور نہ اولاد۔ یہ تفسیر حضرت ابوبکر (رض) سے مروی ہے۔ دوسری تفسیر یہ ہے کہ کلالہ اس مورث میت (مرنے والے شخص) کو کہتے ہیں جس کا نہ والد ہو اور انہ اس کی اولاد ہو ‘ یہ تفسیر حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے اور یہی تفسیر مختار ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ کلالہ میت کے ترکہ کو بھی کہتے ہیں۔ 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کلالہ کی تفسیر میں میری ایک رائے ہے اگر یہ درست ہے تو اللہ وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے اور اگر یہ خطاء ہے تو میری اور شیطان کی طرف سے ہے اور اللہ اس سے بری ہے ‘ کلالہ اس وارث کو کہتے ہیں جو میت کا نہ والد ہو اور نہ اولاد ‘ اور حضرت عمر (رض) جب خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا میں اس بات سے اللہ سے حیاء کرتا ہوں کہ میں نے کلالہ کی تفسیر میں حضرت ابوبکر کی رائے سے اتفاق نہیں کیا۔ (جامع البیان ج ٤ ص ١٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفۃ ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب میں بیمار ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) میری عیادت کے لئے آئے مجھ پر بےہوشی طاری تھی آپ نے وضو کیا اور وضو کا بچا ہوا پانی مجھ پر ڈالا مجھے ہوش آگیا۔ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے مال کو کس طرح تقسیم کروں۔ آپ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ میراث کی آیت نازل ہوئی : 

آیت) ” ویستفتونک قل اللہ یفتیکم فی الکلالۃ ان امرؤا ھلک لیس لہ ولد ولہ اخت لھا ولد فان کا نتا اثنتین فلھما الثلثن مما ترک وان کانوا اخوۃ رجالا ونسآء فللذکر مثل حظ الانثیین “۔ (النسا : ١٧٦) 

ترجمہ : آپ سے حکم معلوم کرتے ہیں آپ فرمادیجئے کہ اللہ تمہیں کلالہ (کی میراث) میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا شخص فوت ہوجائے جس کی نہ اولاد ہو (نہ والد) اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لئے نصف ترکہ ہے ‘ اور وہ شخص اس بہن کا وارث ہوگا اگر اس کا بیٹا نہ ہو ‘ اور اگر دو بہنیں ہوں تو ان کو اس شخص کے ترکہ کا دو تہائی ٢۔ ٣، ملے گا اور اگر اس کے وارث بہن بھائی ہوں مرد بھی اور عورتیں بھی تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے کے برابر ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦١٦) 

یہ سورة النساء کی آخری آیت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلالہ کی تفسیر میں اسی آیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

معدان ابوبکر (رض) کا ذکر کیا اور کہا میں اپنے بعد کلالہ سے اہم اور کوئی چیز چھوڑ کر نہیں جارہا اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جتنا کلالہ کے متعلق پوچھا ہے اور کسی چیز کے متعلق نہیں پوچھا اور آپ نے نے جتنی سختی اس میں کی ہے اور کسی چیز میں نہیں فرمائی حتی کہ آپ نے میرے سینہ میں انگلی چبھوئی اور فرمایا اے عمر کیا تم کو سورة النساء کی آخری آیت کافی نہیں ہے ؟ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦١٧) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

کلالہ کی تفسیر میں کئی اقوال ہیں اور زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ کلالہ ان وارثوں کو کہتے ہیں جو والد (ماں باپ) اور اولاد (یا بیٹے کی اولاد) کے ماسوا ہوں ‘ اس کے ثبوت میں حضرت براء بن عازب سے حدیث صحیح ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ جو وارث بیٹے کے ماسوا ہوں ‘ ایک قول یہ ہے کہ اخیافی بھائیوں کو کلالہ کہتے ہیں ‘ ایک قول ہے، عم زاد بھائیوں کو کلالہ کہتے ہیں ایک قول ہے تمام عصبات کو ‘ ایک قول ہے تمام وارثوں کو ‘ ایک قول ہے میت کو ‘ ایک قول ہے مال موروث کو ‘ جوہری نے کہا کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کی نہ اولاد ہو نہ والد (ماں باپ) ہو ‘ زمخشری نے کہا کلالہ کا اطلاق تین پر کیا جاتا ہے اس مرنے والے پر جس کی نہ اولاد ہے نہ والد (ماں باپ) اور اس وارث پر جو نہ والد (ماں باپ) ہے نہ اولاد ‘ اور ان قرابت داروں پر جو والد (ماں باپ) اور اولاد کی جہت سے نہ ہوں۔ (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٨٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٧ ھ) 

علامہ محمد بن خلفہ وشتانی ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

صحیح یہ ہے جس پر علماء کی ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کا نہ والد (ماں باپ) ہو اور نہ اولاد۔ (اکمال اکمال المعلم ج ٥ ص ٥٦٥‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جب کوئی شخص فوت ہوجائے اور نہ اس کا والد (ماں باپ) ہو اور نہ اس کی اولادتو اس کے وارث کلالہ ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق (رض) حضرت عمر (رض) اور جمہور اہل علم کا قول ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٧٦ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اکثر صحابہ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا قول یہ ہے کہ کلالہ وہ وارث ہیں جو والدین اور اولاد کے ماسوا ہوں یہی قول صحیح اور مختار ہے (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٦٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

مرنے والا خود کلالہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، 

(آیت) ” وان کان رجل یورث کلالۃ “۔ یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ کلالہ میت کا اسم ہے اور کلالہ اس کا حال اور اس کی صفت ہے اسی لئے منصوب ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کلالہ مرنے والے کا وارث ہے جو نہ والد (ماں باپ) ہو نہ ولد ‘ اور میں حضرت ابوبکر کی مخالفت سے حیا کرتا ہوں اور جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوئے تو انہوں نے کہا کلالہ اس مرنے والے کو کہتے ہیں جس کی نہ اولاد ہو نہ والد۔ حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے سو قرآن مجید کی یہ آیت اور صحابہ کرام کے اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں کہ مرنے والا خود کلالہ ہے۔ (احکام القرآن ج ٦ ص ٨٦‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر کسی ایسے مرد یا عورت کا ترکہ تقسیم کرنا ہو جس کا نہ والد ہو اور نہ اولاد اور (اس کا ماں کی طرف سے) بھائی یا بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے اور اگر وہ (بھائی یا بہن) ایک سے زیادہ ہوں تو ان سب کا تہائی حصہ ہے۔ 

آیت مذکورہ میں بھائی بہن سے اخیافی بھائی بہن مراد ہونے پر دلائل : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

اس آیت کریمہ میں بھائی یا بہن سے مراد فقط اخیافی بھائی بہن (ماں کی طرف سے) عام مفسرین کا اسی پر اتفاق ہے حتی کہ بعض نے کہا اس پر اجماع ہے۔ متعدد مفسرین نے حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت کیا ہے کہ وہ اس آیت کو یوں پڑھتے تھے۔ ” ولہ اخ واخت من ام “۔ اور حضرت ابی اس کو پڑھتے تھے ولہ اخ اواخت من الام “ ہرچند کہ یہ قرات شاذ ہے تاہم اکثر علماء کا یہ مختار ہے کہ جب قرات شاذہ صحیح سند کے ساتھ مروی ہو تو وہ خبر واحد کے حکم میں ہے اور اس پر بھی عمل کرنا واجب ہے اور اس میں بعض کا اختلاف بھی ہے۔ اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ عینی اور علاتی بھائی بہن (سگے اور باپ کی طرف سے) کا ذکر اس سورت کی آخری آیت میں ہے۔ نیز اس آیت میں بیان فرمایا ہے کہ اگر اخیافی بھائی یا بہن ایک ہو تو اس کا حصہ سدس (چھٹا) ہے اور اگر ایک سے زیادہ ہو تو ان کا حصہ ثلث (تہائی) ہے اور ماں کا بھی یہی حصہ ہے تو مناسب ہوا کہ ماں کی طرف بھائی یا بہن کا بھی یہی حصہ ہو نیز عینی بھائی اور بہن عصبہ ہوتے ہیں جیسا کہ اس سورت کے آخر میں فرمایا ہے اور آیت میں بھائی اور بہن کا حصہ سدس اور ثلث مقرر فرمایا ہے اب اگر اس آیت میں بھائی اور بہن سے علاتی بھائی اور بہن سے علاتی بھائی اور بہن مراد لیا جائے تو ان آیتوں میں تعارض لازم آئے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 12