وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

پانی چھڑک لیا کریں

حدیث نمبر :351

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ میرے پاس حضرت جبریل آئے عرض کیا اے محمد ۱؎ (صلی اللہ علیہ وسلم)جب آپ وضو کریں تو پانی چھڑک لیا کریں۔ترمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث غریب ہے میں نے محمد یعنی امام بخاری کو کہتے سنا کہ حسن بن علی ہاشمی راوی منکرالحدیث ہے۲؎

شرح

۱؎ شاید یہ حدیث اس آیت کے نزول سے پہلے کی ہے”لَا تَجْعَلُوۡا دُعَآءَ الرَّسُوۡلِ بَیۡنَکُمْ کَدُعَآءِ”الایہ۔اس آیت کے نزول کے بعد فقط نام شریف سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پکارنا حرام ہے،جب ہمارا رب ہی اپنے محبوب کو نبی،رسول،مزمل،مدثرکے القاب سے پکارے تو مخلوق صرف نام سے کیسے پکار سکتی ہے۔اور ہوسکتا ہے کہ یہ الفاظ شریف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے ہوں انہوں نے ادب سے پکارا ہو گا،حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے انکسارًا اس طرح نقل فرمایا،جیسے کہا جاتا ہے کہ مجھ سے فلاں نے کہا تو اس وقت آنا،حالانکہ انہوں نے کہا ہوتا ہے(آپ تشریف لائیے گا)۔

۲؎ یعنی اس اسناد میں کوئی راوی حسن ابن علی بھی ہے جو خود ثقہ نہیں ہے اور اس روایت میں وہ اکیلا ہے مگرمضائقہ نہیں کیونکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث معتبر ہے۔خیال رہے کہ یہ حسن ابن علی کوئی غیر معتبرشخص ہے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ مراد نہیں جیسا بعض لوگوں نےسمجھا۔

لفظِ ولی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الصّلوٰۃ و السّلام علیک یا رسول اللّٰہ

وعلیٰ آلک و اصحابک یا حبیب اللّٰہ ﷺ

صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بہت سے ایسے لوگ ہیں پریشان بال، میلے کچیلے، دروازوں سے ڈھکیلے گئے ہیں مگر اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک ان کا مرتبہ ایسا ہے کہ اگر وہ اڑ کر کسی بات کے لئے قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی قسم سچی کر دے۔

انہیں برگزیدہ نفوسِ قدسیہ میں ایک ذات سیدنا سلطان الہند، عطائے رسول ﷺ، حضرت خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ علیہ کی ہے، جن کی سوانحِ حیات کے حوالے سے کچھ باتیں بطورِ اختصار آئندہ پیغامات پر آپ ملاحظہ کریں گے، ان تمام سے پیشتر مناسب سمجھتا ہوں کہ ’’لفظِ ولی‘‘ کے سلسلہ میں چند باتوں کی وضاحت کر دوں۔

ولی: لفظِ وَلِی وَلْیٌ یا وَلَایَۃٌ سے بنا ہے۔ وَلْیٌ کا معنیٰ قرب اور ولایۃٌ کا معنیٰ حمایت ہے۔ لہٰذا ولی کے لغوی معنے قریب، والی، حمایتی ہیں۔ قرآن شریف میں یہ لفظ مندرجہ ذیل معنوں کے لئے استعمال ہواہے۔ دوست، قریب، مددگار، والی، وارث، معبود، مالک، ہادی۔

۱؎ اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ وَ الَّذِیْنَ آمَنُوا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلوٰۃَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَ ہُمْ رٰکِعُوْنَ تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اور اس کا رسول اور ایمان والے کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔

۲؎ نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُکُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْآخِرَۃِ ہم تمہارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔

۳؎ فَاِنَّ اللّٰہَ ہُوَ مَوْلَاہُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَہِیْرٌ تو بے شک اللہ ان کا مددگار ہے اور جبرئیل اور نیک ایمان والے اور اس کے بعد فرشتے مدد پر ہیں۔

۴؎ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْراً اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی حمایتی دیدے اور ہمیں اپنے پاس سے کوئی مددگار دیدے۔

۵؎ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗ اُمَّہَاتُہُمْ یہ نبی مسلمانوں کا ان کی جان سے زیادہ مالک ہے اور اس کی بیبیاں ان کی مائیں ہیں۔

ان آیتوں میں ولی کے معنے قریب، دوست، مددگار، مالک ہیں۔

۶؎ اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ ہَاجَرُوْا وَ جَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَ اَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیْنَ آوَوْا وَّنَصَرُوْآ اُولٰٓئِکَ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ بے شک جو ایمان لائے اور اللہ کے لئے گھر بار چھوڑا اور اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے لڑے اور وہ جنہوں نے جگہ دی اور مدد کی وہ ایک دوسرے کے وارث ہیں۔

اس آیت میں ولی بمعنی وارث ہے کیوں کہ شروع اسلام میں مہاجر و انصار ایک دوسرے کے وارث بنا دئے گئے تھے۔

۷؎ وَ الَّذِیْنَ آمَنُوْا وَ لَمْ یُہَاجِرُوْا مَالَکُمْ مِّنْ وَّلَایَتِہِمْ مِّنْ شَیْئٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا

اور وہ جو ایمان لائے اور ہجرت نہ کی تمہیں ان کا ترکہ کچھ نہیں پہنچتا ۔

اس آیت میں بھی ولی سے مراد وارث ہے کیوں کہ اولِ اسلام میں غیر مہاجر مہاجر کا وارث نہ ہوتا تھا۔

۸؎ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآئُ بَعْضٍ اور کافر آپس میں ایک دوسرے کے وارث ہیں۔

۹؎ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُہُمْ اَوْلٰی بِبَعْضٍ اور رشتے دار ایک دوسرے سے زیادہ نزدیک ہیں۔

۱۰؎ فَہَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّا یَّرِثُنِیْ وَ یَرِثُ مِنْ آلِ یَعْقُوْبَ

تو مجھے اپنے پاس سے کوئی ایسا دے ڈال جو میرا کام اٹھائے۔

ان آیات میں بھی ولی سے مراد وارث ہے۔ جیسا کہ بالکل ظاہر ہے۔

۱۱؎ اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ آمَنُوْا یُخْرِجُہُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ وَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَوْلِیٰٓئُہُمُ الطَّاغُوْتُ یُخْرِجُوْنَہُمْ مِّنَ النُّوْرِ اِلَی الظُّلُمٰتِ اللہ والی ہے مسلمانوں کا انہیں اندھیروں سے نور کی طرف نکالتا ہے اور کافروں کے حمایتی شیطان ہیں وہ انہیں نور سے اندھیروں کی طرف نکالتے ہیں۔

اس آیت میں ولی بمعنیٰ حامی والی ہے۔ بعض آیات میں ولی بمعنیٰ معبود آیا ہے ملاحظہ ہو

۱۲؎ وَالَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖ اَوْلِیَآئَ مَا نَعْبُدُہُمْ اِلاَّ لِیُقَرِّبُوْنَآ اِلَی اللّٰہِ زُلْفٰی اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور والی بنا لئے، کہتے ہیں ہم تو انہیں صرف اتنی بات کے لئے پوجتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ کے پاس نزدیک کر دیں۔

اس آیت میں ولی بمعنیٰ معبود ہے اس لئے کہ آگے فرمایا گیا ’’مَا نَعْبُدُہُمْ‘‘

۱۳؎ اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْآ اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیٓ اَوْلِیَآئَ اِنَّآ اَعْتَدْنَا جَہَنَّمَ لِلْکٰفِرِیْنَ نُزُلاً تو کیا کافر یہ سمجھتے ہیں کہ میرے بندوں کو میرے سوا حمایتی بنا لیں گے۔ بے شک ہم نے کافروں کی مہمانی کو جہنم تیار کر رکھی ہے۔

اس آیت میں بھی ولی بمعنی معبود ہے۔ اس لئے کہ ان ولی بنانے والوں کو کافر کہا گیا۔ کیوں کہ کسی کو دوست اور مددگار بنانے سے انسان کافر نہیں ہوتا جیسا کہ پچھلی آیتوں سے معلوم ہوا ہے۔ معبود بنانے سے کافر ہوتا ہے۔

۱۴؎ مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اَوْلِیَآئَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اِتَّخَذَتْ بَیْتًا

ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالئے ہیں مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایا۔

اس آیت میں بھی ولی بمعنیٰ معبود ہے کہ یہاں کفار کی مذمت بیان ہو رہی ہے اور کافر ہی دوسروں کو معبود بناتے ہیں۔ (علم القرآن، ص:۷۴)

ولی اللہ، ولی من دون اللہ: ولی بمعنیٰ دوست یا مددگار دو طرح کے ہیں، ایک اللہ کے ولی، دوسرے اللہ کے مقابل ولی۔ اللہ کے ولی وہ ہیں جو اللہ کا قرب رکھتے ہیں اور اس کے دوست ہوں اور اسی وجہ سے دنیا والے انہیں دوست رکھتے ہیں۔ ولی مِن دُونِ اللہ کی دو صورتیں ہیں، ایک یہ کہ خدا کے دشمنوں کو دوست بنایا جائے۔ جیسے کافروں یا بتوں یا شیطان کو، دوسرے یہ کہ اللہ کے دوستوں یعنی نبی، ولی کو خدا کے مقابل مددگار سمجھا جائے کہ خدا کا مقابلہ کر کے یہ ہمیں کام آئیں گے۔ ولی اللہ کو ماننا عینِ ایمان ہے اور ولی من دون اللہ بنانا عینِ کفر و شرک ہے۔

ولی اللہ کے لئے یہ آیت ہے ’’اَلآ اِنَّ اَوْلِیَآئَ اللّٰہِ لاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘

سن لو! بے شک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہے نہ کچھ غم۔ اس آیت میںولی اللہ کا ذکر ہے۔

ولی من دون اللہ کے لئے مندرجہ ذیل آیتیں ہیں:

(۱) ’’لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ‘‘

اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمایتی نہ مدد گار۔

(۲) ’’وَمَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ‘‘ اللہ کے مقابل نہ تمہارا کوئی دوست ہے اور نہ مددگار۔

ان دو آیتوں میں ولی من دون اللہ کا ذکر ہے۔ پہلی آیت میں دشمنانِ خدا کو دوست بنانے کی ممانعت ہے، دوسری آیت میں خدا کے مقابل دوست کی نفی ہے۔ یعنی رب تعالیٰ کے مقابل دنیا میں کوئی مددگار نہیں۔ نہ ولی، نہ پیر، نہ نبی۔ یہ حضرات جس کی مدد کرتے ہیں، اللہ کے حکم اور ارادے سے کرتے ہیں۔

ولی یا اولیاء کے ان معانی کا بہت لحاظ رکھنا چاہئے۔ بے موقعہ ترجمہ بد عقیدگی کا باعث ہوتا ہے۔ مثلاً اگر ’’اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوْلُہٗ‘‘ کا ترجمہ یہ کر دیا جائے کہ تمہارا معبود اللہ، رسول اور مومنین ہیں تو شرک ہوگیا۔ اور اگر ’’مَا لَکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ‘‘ کا یہ معنی کر دیا جائے کہ خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں تو کافر ہوگیا۔ کیوں کہ قرآن نے جن آیتوں میں بہت سے مددگاروں کا ذکر فرمایاہے ان آیتوں کا انکار ہو جائے گا۔ رب تعالیٰ فرماتا ہے ’’کافروں کا کوئی مددگار نہیں‘‘ معلوم ہوا کہ مومنوں کے مددگار ہیں۔

۱؎ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰہُ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ نَصِیْراً اور جسے خدا لعنت کرے تو ہرگز اس کا کوئی یار نہ پائے گا۔

۲؎ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِن وَّلِیٍ مِّنْ بَعْدِہٖ اور جسے اللہ گمراہ کرے اس کا کوئی رفیق نہیں اللہ کے مقابل۔

۳؎ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَہٗ وَلِیًّا مُّرْشِدًا اور جسے گمراہ کرے تو ہرگز اس کا کوئی حمایتی راہ دکھانے والا نہ پائو گے۔

س

آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے

حدیث نمبر :344

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ جاتے تو میں آپ کی خدمت میں چھاگل یاپیالہ میں پانی لاتا ۱؎ آپ استنجاء کرتے پھر ہاتھ شریف زمین پر رگڑتے ۲؎ پھر میں دوسرا برتن لاتا تو وضو فرماتے۳؎ اسے ابوداؤد اور دارمی نے روایت کیا،نسائی نےبمعنی۔

شرح

۱؎ اس سےمعلوم ہوا کہ نبی امتی سے،پیرمرید سے،استاد شاگرد سے،باپ اپنے بیٹے سے خدمت لے سکتا ہے۔اور ان لوگوں کا رضاء کارانہ طور پر بزرگوں کی خدمت کرنا سعادت مندی ہے۔

۲؎ تاکہ مٹی سے ہاتھ مانجھ کر بو دفع کردی جائے لہذا استنجے کے بعدصابون وغیرہ سے ہاتھ دھونا سنت سے ثابت ہے۔خیال رہے کہ حضور کا یہ فعل شریف بھی امت کے لیے ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے فضلات میں بدبو نہ تھی حتی کہ ایک بی بی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا پیشاب دھوکہ میں پی لیا جیسا کہ اس کے موقع پر ذکر کیا جائے گا۔ان شاءاﷲ!

۳؎ اکثر نہ کہ ہمیشہ،جیساکہ دوسری روایات سے ثابت ہے۔چونکہ برتن چھوٹا تھا استنجے کے بعد وضو کے لائق پانی نہیں بچتا تھا،اس لیے دوسرے برتن سے وضو فرماتے تھے ورنہ استنجے کے بچے ہوئے پانی سے وضو جائز ہے۔

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدۡ اَطَاعَ اللّٰهَ ‌ۚ وَمَنۡ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ عَلَيۡهِمۡ حَفِيۡظًا ۞

ترجمہ:

جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جس نے رسول کی اطاعت کی تو بیشک اس نے اللہ کی اطاعت کرلی ‘ اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا، وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ رات کو اس بات کے خلاف کہتا ہے جو وہ کہہ چکا تھا اور اللہ اس کو لکھتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں تو آپ ان سے اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے اور اللہ (بطور) کارساز کافی ہے۔ (النساء : ٨١۔ ٨٠) 

منصب رسالت :

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس آیت کا معنی یہ ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے ‘  حسن بصری نے کہا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور رسول کی اطاعت حجت ہے ‘ امام شافعی نے الرسالہ میں ذکر کیا ہے کہ ہر وہ کام جس کو اللہ تعالیٰ کتاب میں فرض کیا ہے مثلا حج ‘ نماز اور زکوۃ ‘ اگر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کا بیان نہ فرماتے تو ہم ان کو کیسے ادا کرتے اور کسی بھی عبادت کو انجام دینا ہمارے لیے کس طرح ممکن ہوتا ‘ اور جب احکام شرعیہ کا آپ کے بیان کے بغیر ادا کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر آپ کی اطاعت کرنا حقیقت میں اللہ عزوجل کی اطاعت ہے۔ (الوسیط ج ٢ ص ٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری معصیت کی اس نے اللہ کی معصیت کی ‘ اور جس نے امیر کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس امیر کی معصیت کی اس نے میری معصیت کی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٣٥‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٣٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٩‘ مسند احمد ج ٢ ص ٤٧١) 

قاضی عیاض نے لکھا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ امیر کی اطاعت غیر معصیت میں واجب ہے اور معصیت میں اس کی اطاعت حرام ہے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم دینا اللہ کا حکم دینا ہے ‘ آپ کا منع کرنا اللہ کا منع کرنا ہے ‘ آپ کا وعدہ اللہ کا وعدہ ہے اور آپ کی وعید اللہ کی وعید ہے ‘ آپ کی رضا اللہ کی رضا ہے اور آپ کا غضب اللہ کا غضب ہے ‘ اور آپ کو ایذاء پہنچانا اللہ کو ایذا پہنچانا ہے۔ 

اس آیت میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے ‘ کیونکہ آپ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اطاعت قرار دیا ہے اور سورة آل عمران : ٣١‘ میں آپ کی اتباع کو واجب قرار دیا ہے ‘ اگر آپ کے قول یا عمل میں معصیت اور گناہ آسکے تو پھر معصیت اور گناہ میں بھی آپ کی اتباع واجب ہوگی اور یہ محال ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور جس نے پیٹھ پھیری تو ہم نے آپ کو اس کا نگران بنا کر نہیں بھیجا۔ اس آیت کی دو تفسیریں کی گئی ہیں : 

(١) اگر کوئی شخص زبان سے اسلام کو قبول کرلیتا ہے اور دل سے ایمان نہیں لاتا تو آپ اس نگران نہیں ہیں کیونکہ آپ کے احکام صرف ظاہر پر ہیں۔ 

(٢) اگر کوئی شخص آپ کی تبلیغ کے باوجود ظاہرا بھی اسلام نہیں لاتا تو آپ غم نہ کریں ‘ کیونکہ آپ کسی کو جبرا مسلمان بنانے والے نہیں ہیں اس کے بعد فرمایا : وہ آپ سے کہتے ہیں ہم نے اطاعت کی اور جب وہ آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو۔ الخ۔ 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ منافقین موافقت اور اطاعت کو ظاہر کرتے ہیں اور جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو اس کے خلاف کہتے ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے تاکہ اپنی جان اور مال کو محفوظ کرلیں ‘ اور جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو اس کے خلاف کہتے تھے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١١٣) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کو سرزنش فرمائی ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور اللہ اس کو لکھ لیتا ہے جو کچھ وہ رات کو کہتے ہیں ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کے ساتھ جو کراما کاتبین مقرر کیے ہیں وہ انکی باتوں کو لکھ لیتے ہیں ‘ اس کے بعد فرمایا آپ ان اعراض کیجئے اور اللہ پر توکل کیجئے ‘ یعنی آپ ان سے درگزر فرمائیں اور ان کا مواخذہ نہ کریں اور نہ (ابھی) ان کے نفاق کو لوگوں کے سامنے ظاہر کریں اور اللہ پر توکل کریں اور تمام معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیں ‘ اللہ تعالیٰ ان کے شر کو آپ سے دور کرنے کے لیے کافی ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 80

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ ۚ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ۚ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا  ۞

ترجمہ:

جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو ایمان والے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں لڑتے ہیں سو (اے مسلمانو ! ) تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے۔ (النساء : ٧٦) 

مسلمانوں اور کافروں کی باہمی جنگ میں ہر ایک کا ہدف اور نصب العین :

اس آیت میں یہ بتایا کہ جب مسلمانوں اور کافروں کے درمیان جنگ ہوتی ہے تو اس جنگ سے کافروں کی غرض کیا ہوتی ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے ‘ کافر مادی مقاصد کے حصول کے لیے جنگ کرتے ہیں اور بت پرستی کا بول بالا کرنے کے لیے اور اپنے وطن اور اپنی قوم کی حمایت میں لڑتے ہیں ‘ ان کے پیش نظر زمین اور مادی دولت ہوتی ہے ‘ نام ونمود اور اپنی بڑائی کے لیے اور دنیا میں اپنی بالادستی قائم کرنے لیے لڑتے ہیں اور کمزور ملکوں کی زمین ‘ ان کی معدنی دولت اور ان کے ہتھیاروں کو لوٹنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ اس کے برعکس مسلمانوں کے سامنے اخروی مقاصد ہوتے ہیں ‘ وہ اللہ کی بڑائی اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے ہیں ‘ وہ بت پرستی ‘ کفر ‘ شر اور ظلم کو مٹانے ‘ نظام اسلام کو قائم کرنے ‘ خیر کو پھیلانے اور عدل و انصاف کو نافذ کرنے کے لیے لڑتے ہیں ‘ ان کا مقصد زمین کو حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ زمین پر اللہ کی حکومت قائم کرنا ہوتا ہے ‘ وہ اپنے استعمار اور آمریت قائم کرنے کے لیے اور دوسروں کی زمین اور دولت پر قبضہ کرنے اور لوگوں کو اپنا محکوم بنانے کے لیے نہیں لڑتے بلکہ انسانوں کو انسانوں کی بندگی سے آزاد کرا کر سب لوگوں کو خدائے واحد کے حضور سر بسجود کرانے کے لیے جہاد کرتے ہیں۔ 

قرآن مجید کی ترغیب جہاد کے نکات :

اپنے ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کے لیے اسلحہ کو حاصل کرنا توکل کیخلاف نہیں ہے ‘ کیونکہ توکل کا معنی ترک اسباب نہیں ہے بلکہ کسی مقصود کے حصول کے اسباب کو فراہم کرکے اور اس کے حصول کے لیے جدوجہد کرکے نتیجہ کو اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دینا توکل ہے۔ 

اسی طرح آلات حرب کو حاصل کرنا بھی تقدیر کے خلاف نہیں ہے بلکہ جہاد کی تیاری کرنا بھی تقدیر سے ہے۔ اس رکوع کی آیات میں بتایا گیا ہے کہ جہاد کیلیے پے درپے مجاہدوں کے دستے بھیجنا بھی جائز ہے اور یک بارگی مل کر حملہ کرنا بھی جائز ہے اور یہ کہ ہر دور میں کچھ لوگ اپنی بدنیتی یا بزدلی کی وجہ سے یا غداری اور منافقت کی وجہ سے جہاد سے منع کرنے والے بھی ہوتے ہیں ‘ لیکن مسلمان ان سے متاثر نہ ہوں بلکہ اخروی اجر وثواب کی وجہ سے جہاد کریں ‘ وہ جہاد میں غالب ہوں یا مغلوب ہر صورت میں ان کے لیے اجر ہے ‘ نیز یہ بتایا ہے کہ جہاد کا ایک داعیہ اور سب یہ ہے کہ جس خطہ زمین میں کافروں نے مسلمانوں کو غلام بنایا ہوا ہے یا انکے ملک پر قبضہ کر کے ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیا ہوا ہے ‘ ان کو کافروں اور ظالموں سے آزاد کرانے کے لیے بھی جہاد کرنا چاہیے اور آخر میں یہ بتایا کہ کافروں کا جنگ میں کیا مطمح نظر ہوتا ہے اور مسلمانوں کا ہدف کیا ہونا چاہیے۔ 

ترغیب جہاد کی متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : (اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :) جو شخص میرے راستہ میں جہاد کے لیے نکلا اور وہ شخص صرف مجھ پر ایمان رکھنے اور میرے رسول کی تصدیق کی وجہ سے نکلا ہو۔ میں اسکا ضامن ہوں کہ اس کو اجر یا غنیمت کے ساتھ لوٹاؤں یا جنت میں داخل کر دوں ‘ (آپ نے فرمایا :) اگر میری امت پر دشوار نہ ہوتا تو میں کسی لشکر میں شامل ہوئے بغیر نہ رہتا ‘ اور بیشک میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں قتل کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں ‘ پھر قتل کیا جاؤں پھر قتل کیا جاؤں (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٦‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٠٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٥٣) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد کرنا کسی عبادت کے برابر ہے ؟ آپ نے فرمایا تم اسکی طاقت نہیں رکھتے انہوں نے دو یا تین مرتبہ یہی سوال کیا آپ نے ہر بار یہی فرمایا کہ تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ‘ تیسری بار آپ نے فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو دن کو روزہ رکھے ‘ رات کو قیام کرے اور اللہ کی آیات کی تلاوت کرے اور وہ روزے اور نماز سے تھکتا نہ ہو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٧٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٢٥) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فضالہ بن عبید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر شخص کا خاتمہ اس کے عمل پر کردیا جاتا ہے، ماسوا اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے فوت ہوجائے اس کا عمل قیامت تک بڑھایا جاتا رہے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٢٦٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٠٠‘ المعجم الکبیر ج ١٨ ص ٨٠٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٤٤‘ مشکل الآثار ج ٣ ص ١٠٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا فی سبیل اللہ اور ایمان باللہ افضل اعمال ہیں ‘ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا یہ میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں اگر تم اللہ کی راہ میں قتل کردیئے جاؤ درآں حالیکہ تم صبر کرنے والے ہو ‘ ثواب کی نیت کرنے والے ہو آگے بڑھ کر وار کرنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو ‘ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے کیا کہا ؟ اس شخص نے کہا میں نے کہا یہ بتایئے اگر میں اللہ کی راہ میں قتل کردیا جاؤں تو کیا اس سے میرے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں بشرطیکہ تم صبر پر قائم ہو ‘ اور تمہاری نیت ثواب کی ہو ‘ تم آگے بڑھنے والے ہو پیچھے ہٹنے والے نہ ہو تو قرض کے سوا تمہارے سب گناہ معاف ہوجائیں گے ‘ مجھ سے ابھی جبرائیل نے یہ کہا ہے۔ 

(صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٧١٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٥٦) 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شہید کو قتل ہونے سے صرف اتنی تکلیف ہوتی ہے جتنی تم میں سے کسی کو چیونٹی کے کاٹنے سے۔ (سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣١٦١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠٢) 

حضرت معاذ بن جبل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس مسلمان شخص نے اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقت کے برابر بھی جہاد کیا اس کیلیے جنت واجب ہوگئی ‘ اور جو شخص اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا اس کا خوان بہا وہ جب قیامت کے دن اٹھے گا تو اس کا بہت زیادہ خون بہہ رہا ہوگا اس خون کا رنگ زعفران کا ہوگا اور خوشبو مشک کی ہوگی۔ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٢‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤١‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ١٣٤١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٩٢)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 76

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59