دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

دیگر صحابہ کرام کے حدیثی مجموعے

اسی طرح حضور کے خادم خاص حضرت ابورافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایتیں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ جمع ہوچکی تھیں۔( الطبقات الکبری لابن سعد ۲/۱۲۳)

حضرت سمرہ بن جندب کی روایتیں بھی انکی زندگی میں جمع ہوئیں اوریہ مجموعہ انکے خاندان میں ایک عرصہ تک محفوظ رہا ، انکے پوتے حبیب نے اسے دیکھ کر روایتیں کیں ۔(تہذیب التہذیب ۴/۱۹۸)

حضرت سعد بن عبادہ انصاری فن کتابت میں مہارت کی بنیاد پر مردکامل سمجھے جاتے تھے ،آپ نے بھی ایک صحیفہ احادیث مرتب کیا تھا ، آپکے صاحبزادے نے ان احادیث کو روایت کیا ۔(الجامع للترمذی، باب الیمین مع الشاہد، ۱/۱۶۰)

حضرت مغیرہ بن شعبہ کے پاس بھی ایک مجموعہ تھا ،ایک مرتبہ آپ نے اپنے کاتب وراد ثقفی سے حضرت امیر معاویہ کو ایک حدیث لکھواکر بھیجی تھی۔( الجامع للبخاری، باب العساکر بعد الصلوۃ، ۱/۱۱۷)

حضرت براء بن عازب جلیل القدر صحابی ہیں ، انکی روایتیں انکی حیات ہی میں تحریری شکل میں مرتب ہوگئی تھیں ،انکے شاگردوں کے شوق کتابت کا یہ عالم تھا کہ کاغذ موجود نہ ہوتا تو ہتھیلیوں پر لکھ لیتے تھے۔(السنن للدارمی، ۶۶)

حضرت عبداللہ بن ابی اوفی ایک خاص صحابی ہیں ،انہوں نے بھی حدیثیں کتابی شکل میں جمع کی تھیں ،سالم ابو النضر کا بیان ہے کہ میں نے آپکی تحریر کردہ ایک حدیث پڑھی ہے۔( الجامع للبخاری، باب الصبر عند القتال، ۱/۳۹۷)

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو کتابت حدیث سے اتنی دلچسپی تھی کہ اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو نصیحت کرتے تھے کہ علم حاصل کرو ،کیونکہ آج تم قوم میں چھوٹے ہو لیکن کل بڑے ہوگے توقوم کو تمہاری ضرورت ہوگی ،جویاد نہ کرسکے تو اسے چاہیئے کہ وہ لکھ لیا کرے۔( جامع بیان العلم، ۴۰)

حضرت امیر معاویہ ،حضرت ثوبان اور حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی مرویات انکے شاگرد خالد بن معدان کے ذریعہ تحریری شکل میں مدون ہوئیں ،انہوں نے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی تھی ،تحریر وتدوین کی جانب خاص توجہ کے باعث انکے پاس ایک باقاعدہ کتاب مرتب ہوگئی تھی۔( تہذیب التہذیب لا بن حجر، ۲/۱۱۹)

جن صحابہ کرام کی تحریری کوششوں کا ذکر ہم نے کیا ان میں بالخصوص وہ حضرات بھی ہیں جنکو مکثرین صحابہ میں شمارکیاجاتاہے یعنی جن سے ایک ہزارسے زائد احادیث روایت کی گئی

ہیں ۔ انکی تفصیل یوں بیان کی جاتی ہے ۔

۱۔ حضرت ابو ہریرہ ۵۳۷۴

۲۔ حضرت عبداللہ بن عمر ۲۶۳۰

۳۔ حضرت انس بن مالک ۲۲۸۶

۴۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ۲۲۱۰

۵۔ حضرت عبداللہ بن عباس ۱۶۶۰

۶۔ حضرت جابر بن عبداللہ ۱۵۴۰

۷۔ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہم ۱۱۷۰

انکے علاوہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی تعداد حدیث کے بارے میں آپ خود حضرت ابو ہریرہ کا فرمان پڑھ چکے کہ مجھ سے زیادہ احادیث حضرت ابن عمرو کی ہیں ۔اس طرح ان حضرات کی مرویات کی تعداد تیئیس ہزار سے زیادہ ہوگی ۔ اور بعض محدثین نے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو بھی مکثرین میں شمار کیا ہے تو کم از کم دوہزار کے مزید اضافہ سے یہ تعداد پچیس ہزار سے بھی زائد ہوجائیگی ۔اور باقی صحابہ کرام کی روایات علیحدہ رہیں ۔

ناظرین اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ عہد صحابہ میں تدوین حدیث کس منزل میں تھی ۔لہذا منکرین کا یہ کہنا کہ احادیث دوسوسال کے بعد ہی صحیفہ قرطاس پر ثبت ہوئیں ،اس سے پہلے فقط حافظوں پرموقوف تھیں یہ حقیقت سے کتنی بعید بات ہے ۔

درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 033: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَطْلَبٌ فِي الِاسْتِنْجَاءِ

(وَمِنْهَا): الِاسْتِنْجَاءُ بِالْمَاءِ لِمَا رُوِيَ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ الصَّحَابَةِ مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَمُعَاوِيَةُ، وَابْنُ عُمَرَ، وَحُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ أَنَّهُمْ كَانُوا يَسْتَنْجُونَ بِالْمَاءِ بَعْدَ الِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ، حَتَّى قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَعَلْنَاهُ فَوَجَدْنَاهُ دَوَاءً، وَطَهُورًا

استنجا کا بیان:

پانی سے استنجا کرنا( بھی) سنت ہے، اس لئے کہ صحابہ کرام کی ایک جماعت سے مروی ہے جن میں حضرت علی، حضرت معاویہ، حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم شامل ہیں، یہ سب ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کرتے تھے، حتی کہ حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے ایسا کیا اور اس طریقہ کو دوا اور طہارت کا ذریعہ پایا۔

وَعَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَأْمُرُ النَّاسَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بالماءِ بَعْد الإستنجاءِ بِالْأَحْجَارِ، وَيَقُولُ: إنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ يَبْعَرُ بَعْرًا، وَأَنْتُمْ تَثْلِطُونَ ثَلْطًا فَأَتْبِعُوا الْحِجَارَةَ الْمَاءَوَهُوَ كَانَ مِنْ الْآدَابِ فِي عَصْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

اور حضرت حسن بصری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ لوگوں کو حکم دیا کرتے تھے کہ ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے بھی استنجا کیا کریں اور فرماتے تم سے پہلے کے لوگ مینگنیوں کی طرح (سخت) فضلہ خارج کرتے تھےاور تم لوگ پتلا فضلہ خارج کرتے ہو، تو ڈھیلوں کے بعد پانی سے استنجا کیا کرو۔

اور رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں یہ طریقہ آداب میں سے شمارہوتا تھا۔

وَرُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ، وَغَسَلَ مَقْعَدَهُ بِالْمَاءِ ثَلَاثًا»، وَلَمَّا نَزَلَ قَوْله تَعَالَى {فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ} [التوبة: 108] فِي أَهْلِ قِبَا سَأَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ شَأْنِهِمْ، فَقَالُوا: إنَّا نُتْبِعُ الْحِجَارَةَ الْمَاءَ.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہابیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا اوراپنے مقعد شریف (بیٹھنے کی جگہ) کا پانی سے تین بار استنجافرمایا۔

پھر جب اہلِ قبا کے حق یہ آیت نازل ہوئی: "اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے” (التوبہ، 108) تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب دریافت فرمایا، تو انہوں نے کہا: ہم ڈھیلوں سے استنجا کے بعد پانی سے استنجا کرتے ہیں۔

ثُمَّ صَارَ بَعْدَ عَصْرِهِ مِنْ السُّنَنِ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ كَالتَّرَاوِيحِ

پھررسول اللہ ﷺ کے بعد پانی سے استنجا کرنا صحابہ کرام کے اجماع کے سبب سنت قرار پایا، جیسے نمازِتروایح کی جماعت۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*پانی سے استنجا*

جیسا کہ ہم نے پچھلے دروس میں ذکر کیا کہ نجاست سے پاکیزگی حاصل کرنا اصل مقصد ہے، جس کا سب سے بہترین ذریعہ پانی ہے۔۔لیکن نجاست تھوڑی لگی ہو تو اس کے لئے ڈھیلے کو بھی روا رکھا گیا ہے تاکہ نجاست کو پونچھ کر طہارت حاصل کی جاسکے۔

*استنجا ڈھیلے سے یا پانی سے۔۔؟*

نبی کریمﷺسے دونوں طریقے ثابت ہیں، آپ نے ڈھیلوں سے بھی استنجا فرمایا ہے اور پانی سے بھی استنجا فرمایا ہے۔

مسند امام احمد، ترمذی، نسائی وغیرہم میں حدیث موجود ہے کہ حضرت عائشہ نے عورتوں کو فرمایا کہ اپنے خاوندوں کو کہو کہ وہ قضاء حاجت اور پیشاب کا اثر پانی سے دھولیا کریں کیونکہ نبی کریمﷺ بھی یونہی کرتے تھے۔

ابوداؤد اور ابن ماجہ کی حدیث ہے فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ حضور ﷺ کے لئے پانی لیکر کھڑے ہوگئے، بعد فراغت حضور ﷺ نے فرمایا: عمر یہ کس لئے؟ عرض کیا: تاکہ آپ اس سے طہارت حاصل کرسکیں، ارشادفرمایا: مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی پیشاب کروں تو پانی سے طہارت حاصل کروں۔

صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طرزِعمل بھی مختلف تھا۔

*بعض صحابہ کرام ڈھیلے اور پانی دونوں کا استعمال فرماتے جیسے اہلِ قبا کے لوگ۔۔ علامہ عینی نے لکھا ہے کہ انصار صحابہ کرام ڈھیلوں اور پانی دونوں کا استعمال کیا کرتے تھے اور انہی کے حق میں سورہ توبہ کی آیت 108 نازل ہوئی۔

*بعض صرف ڈھیلوں کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عمر فاروق۔

*بعض صرف پانی کا استعمال فرماتے جیسے حضرت عائشہ۔

رضی اللہ عنہم اجمعین۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ استنجا کے تین درجات ہیں:

*پہلادرجہ:* پہلے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے پھر پانی سے استنجا کیا جائے، یعنی ڈھیلے اور پانی دونوں کوجمع کرلیا جائے، یہ طریقہ مسجدِ قبا کے نمازی صحابہ کرام علیہم الرضوان کا طریقہ تھا جس کی اللہ تبارک و تعالی نے تعریف فرمائی اور ان کے حق میں آیت نازل فرمائی جو اوپر مذکور ہے۔ لہذا یہ سب سے افضل طریقہ ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح)

*دوسرا درجہ:* اس کے بعد پانی سے استنجا افضل ہے، اسلئے کہ اس سے بہت اچھے انداز پر طہارت حاصل ہوجاتی ہے۔ (الاختیارلتعلیل المختار)

*تیسرا درجہ:* سب سے آخری درجہ ڈھیلوں کا ہے، یہ رسول اللہ ﷺ سے منقول اور بہت سے صحابہ کرام کا اسی پر عمل تھا۔

*پانی سے استنجا سنت میں شامل ہے یا آداب میں۔۔؟*

مطالعہ کے دوران فقہاء کرام کی مختلف رائے میرے سامنے آئیں، بعض فقہاء نے ڈھیلے کو دائمی سنت (راتبہ) شمار کیا اور پانی کو ادب اور فضیلت والی چیز قراردیا ہے جیسے علامہ سرخسی نے المبسوط میں لکھا ہے۔

بعض نے مزید اضافہ کیا کہ صحابہ کرام کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا سنت شمار کیا جاتا اور پانی آداب میں شمار کیا جاتا لیکن ہمارے زمانے میں پانی سے استنجا کرنا ہی سنت ہے، اسی کی طرف امام حسن بصری نے اشارہ کرتے ہوئے عقلی توجیہ بھی بیان کی کہ صحابہ کرام کے زمانے میں لوگوں کا فضلہ مینگنیوں کی طرح سخت ہوتا تھا لہذا انہیں پانی کی اتنی حاجت نہیں ہوتی اور کوئی کرلے تو آداب کا حصہ شمار ہوتی لیکن تم لوگوں کا فضلہ (غذا کی وجہ سے) پتلا ہوتا ہے لہذا پانی استعمال کرنا ہی سنت ہے۔۔ علامہ کاسانی نے اسی اختلاف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کلام فرمایا ہے۔

لیکن صحیح اور مفتی بہ قول یہی ہے کہ پانی سے استنجا ہر زمانے میں سنت رہا ہے کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں۔ (رد المحتاروغیرہ)

نفسِ سنت پانی یا ڈھیلے کسی سے بھی ادا ہوجائے گی۔ (فتاوی رضویہ)

ہاں فضیلت کے درجات ہم نے دلائل کے ساتھ اوپر ذکر کردئے ہیں۔

علامہ کاسانی نے ایک اور عمدہ توضیح پیش کردی اور پانی کو آداب میں شمار کرنے والوں کو جواب بھی دے دیا کہ اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ڈھیلوں سے استنجا رائج تھا اور پانی سے استنجا آداب سے شمار ہوتا تھا مگر بعد میں صحابہ کرام علیہم الرضوان پانی کے ساتھ استنجا پر عمل پیرا ہوگئے تو ان کے اجماع کے سبب اسے بھی سنت کا درجہ حاصل ہوگیا، جیسے تراویح کی جماعت کا مسئلہ تھا۔

*ابو محمد عارفین القادری*

جب کبھی پیشاب کروں تو وضو کرو

حدیث نمبر :352

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں پیشاب کیا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو حضرت عمر آپ کے پچھلے پانی کا کوزہ لے کر کھڑے ہوگئے فرمایا اے عمر!یہ کیا؟عرض کیا پانی ہے جس سے آپ وضو کریں فرمایا مجھے یہ حکم نہیں کہ جب کبھی پیشاب کروں تو وضو کرو اگر یہ کروں تو سنت ہوجائے ۱؎ (ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ یعنی سنت مؤکدہ،ورنہ باوضو رہنا سنت مستحبہ تو ہے۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ صحابہ کرام حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کے لیے حکم کا انتظار نہیں کرتے تھے بلکہ موقع کی تلاش میں رہتے تھے۔دوسرے یہ کہ جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ کریں وہ سنت مؤکدہ ہے۔اور جس کا حکم بھی کریں وہ واجب۔تیسرے یہ کہ بارہا سرکار نے امت پر آسانی کرنے کے لئے مستحب کاموں کو چھوڑ دیا ہے اور یہ چھوڑنا بھی حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے لیے باعث ثواب ہےکیونکہ تبلیغ ہے۔

اسے سچا نہ مانو

الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :349

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں جو تمہیں یہ خبر دے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر پیشاب کرتے تھے تو اسے سچا نہ مانو آپ بیٹھ کر ہی پیشاب کرتے تھے ۱؎(احمد،ترمذی،نسائی)

شرح

۱؎ ام المؤمنین حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت کریمہ کا ذکر فرمارہی ہیں۔یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر میں کبھی کھڑے ہو کر پیشاب نہ کیا ورنہ ایک آدھ بار عذرا ً کھڑے ہو کر پیشاب کیا ہے،لہذا احادیث میں تعارض نہیں۔

تیری بخشش چاہیئے

حدیث نمبر :343

روایت ہے حضرت عائشہ سے فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پاخانے سے آتے تو فرماتے تیری بخشش(چاہیئے) ۱؎(ترمذی،و ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ان تمام احادیث میں بیت الخلاءسے پاخانے پھرنے کی جگہ مراد ہے،جنگل میں ہو،یاچھت پر،یا گھر کے گوشہ میں،نہ کہ خاص کوٹھڑیاں کیونکہ اس زمانہ میں گھروں میں پاخانہ کی کوٹھڑیاں بنانے کا رواج نہ تھا۔اور پاخانہ سے فارغ ہوکرمغفرت مانگنے کی دو وجہ ہیں:ایک یہ کہ فراغت کا وقت اﷲ کے ذکر کے بغیر گزرا کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سوائے اس حالت کے تمام حالات میں ذکر اﷲ کرتے تھے خداوند اس کوتاہی کو معاف کر۔دوسرے یہ کہ خیریت سے پاخانہ ہوجانا خدا کی بڑی نعمت ہے جس کے شکریہ سے زبان قاصرہے خدایا اس قصور کو معاف کر۔خیال رہے کہ حضور کی استغفارہ امّت کی تعلیم کے لیے ہے۔

درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)

*درس 031: (كِتَابُ الطَّهَارَةِ) (فَصْلٌ سُنَنُ الْوُضُوءِ)*

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ لِمَا رُوِيَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَجْمِرُ بِيَسَارِهِ، وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ بِيَمِينِهِ، وَيَسْتَنْجِي بِيَسَارِهِ، وَلِأَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ.

اوراستنجا بائیں ہاتھ سے کرنا چاہئے، اس لئے کہ روایت میں آیا ہے کہ نبی کریم ﷺ سیدھے ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے اور بائیں ہاتھ سے استنجا فرمایا کرتے تھے۔ چناچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی رحمت ﷺ دائیں ہاتھ سے کھانا تناول فرماتے تھے اور بائیں ہاتھ سے استنجا کیا کرتے تھے۔اور اسلئے بھی کہ بایاں ہاتھ گندگی کے لئے ہے۔

وَهَذَا إذَا كَانَتْ النَّجَاسَةُ الَّتِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَدْرَ الدِّرْهَمِ، أَوْ أَقَلَّ مِنْهُ

استنجاکا حکم اس وقت تک ہے جب تک نجاست *مَخْرَج* پر *درہم* کے برابر یا اس سے کم ہو۔

فَإِنْ كَانَتْ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَمْ يُذْكَرْ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَاخْتَلَفَ الْمَشَايِخُ فِيهِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا يَزُولُ إلَّا بِالْغَسْلِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَبِهِ أَخَذَ الْفَقِيهُ أَبُو اللَّيْثِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لِأَنَّ الشَّرْعَ وَرَدَ بِالِاسْتِنْجَاءِ بِالْأَحْجَارِ مُطْلَقًا مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ

اور اگر *مَخْرَج* پر درہم سے زائد نجاست لگی ہے تو *ظاہر الروایۃ* میں اس حوالے سے حکم مذکور نہیں ہے، لہذا علماء احناف میں اس سلسلے میں اختلاف واقع ہوا، بعض علماء فرماتے ہیں: مخرج پر لگی نجاست درہم سے زائد ہو تو پانی سے دھونا ضروری ہے، اور بعض علماء فرماتے ہیں: ڈھیلوں کے ذریعے بھی نجاست دور کی جاسکتی ہے، اور اسی دوسرے قول کو فقیہ ابو اللیث سمرقندی نے اختیار کیا ہےاور یہی قول صحیح ہے، اس لئے کہ شریعتِ مطہرہ میں ڈھیلوں سے استنجا کا حکم بغیر کسی امتیاز کے مطلق (Without Condition) بیان ہوا ہے۔

وَهَذَا كُلُّهُ إذَا لَمْ يَتَعَدَّ النَّجَسُ الْمَخْرَجَ

یہ تمام احکام اس وقت ہیں جب نجاست *مَخْرَج* کے اردگرد نہ پھیلے۔

فَإِنْ تَعَدَّاهُ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمُتَعَدِّي أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ يَجِبُ غَسْلُهُ بِالْإِجْمَاعِ

اگر نجاست مَخْرَجَ کے ارد گرد پھیل جائے، تو دیکھا جائے گا، اگر وہ درہم کی مقدار سے زیادہ ہے تو بالاجماع (یعنی تمام علماء کا متفق ہونا) اس جگہ کا پانی سے دھونا واجب ہے۔

وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ لَا يَجِبُ غَسْلُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَأَبِي يُوسُفَ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَجِبُ.

اگر نجاست درہم کی مقدار سے کم ہے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس کا دھونا واجب نہیں ہے اور امام ابو یوسف اور امام محمد کے نزدیک اس کا دھونا واجب ہے۔

وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي شَرْحِهِ مُخْتَصَرَ الْكَرْخِيِّ أَنَّ النَّجَاسَةَ إذَا تَجَاوَزَتْ مَخْرَجَهَا وَجَبَ غَسْلُهَا، وَلَمْ يَذْكُرْ خِلَافَ أَصْحَابِنَا

امام قدوری نے مختصر الکرخی کی شرح کرتے ہوئےذکر کیا ہے کہ نجاست اگر مخرج سے تجاوز کرجائے تو اس کا دھونا واجب ہے ، انہوں نے ہمارے ائمہ کے مذکورہ اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔

لِمُحَمَّدٍ أَنَّ الْكَثِيرَ مِنْ النَّجَاسَةِ لَيْسَ بِعَفْوٍ، وَهَذَا كَثِيرٌ

امام محمد کی دلیل یہ ہے کہ *کثیر نجاست* معاف نہیں ہوتی، اور مخرج کے ارد گرد پھیلنے والی نجاست (مخرج کو ملاکر) کثیر شمار ہوگی۔

وَلَهُمَا أَنَّ الْقَدْرَ الَّذِي عَلَى الْمَخْرَجِ قَلِيلٌ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ كَثِيرًا بِضَمِّ الْمُتَعَدِّي إلَيْهِ

اور شیخین یعنی امام اعظم اور امام ابو یوسف کی دلیل یہ ہے کہ *مخرج* پر لگنے والی نجاست قلیل ہوتی ہے، اور یہ کثیر اس وقت شمار ہوگی جب اسے ارد گرد پھیلنے والی نجاست سے ملاکر شمار کیا جائے۔

وَهُمَا نَجَاسَتَانِ مُخْتَلِفَتَانِ فِي الْحُكْمِ، فَلَا يَجْتَمِعَانِ

اور *مخرج پر لگنے والی نجاست* اور *ارد گرد پھیلنے والی نجاست* حکم کے سلسلے میں مختلف ہیں، تو انہیں جمع نہیں کیا جائے گا۔

أَلَا يُرَى أَنَّ إحْدَاهُمَا تَزُولُ بِالْأَحْجَارِ، وَالْأُخْرَى لَا تَزُولُ إلَّا بِالْمَاءِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتَا فِي الْحُكْمِ يُعْطَى لِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا حُكْمُ نَفْسِهَا، وَهِيَ فِي نَفْسِهَا قَلِيلَةٌ فَكَانَتْ عَفْوًا.

کیا دیکھا نہیں کہ ایک نجاست تو ڈھیلوں کے استعمال سے زائل ہوجاتی ہے جبکہ دوسری نجاست سوائے پانی کے کسی سے زائل نہیں ہوتی، اور جب یہ دونوں حکم میں مختلف ہیں تو دونوں کے موجود ہونے کے وقت ان کے لئے الگ الگ حکم نافذ ہوگا۔ اور ارد گرد پھیلنے والی نجاست چونکہ قلیل ہے اسلئے قابلِ عفو ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

*وضاحت:*

*استنجا بائیں ہاتھ سے کیا جائے*

استنجا بائیں ہاتھ سے کرنا سنت ہے، دائیں ہاتھ سے کرنا ممنوع اور گناہ ہے ۔(فتاوی رضویہ04) اسی طرح دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو پکڑنا بھی مکروہ ہے۔

متعدد کتبِ حدیث میں بکثرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے اور دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے سے ممانعت آئی ہے۔ علامہ کاسانی نے جو حدیث شریف ذکر کی ہے وہ ابوداؤد اور مسند امام احمد وغیرہ میں مروی ہے۔

علامہ کاسانی نے بائیں ہاتھ سے استنجا کی ممانعت پر دو دلیلیں دی ہیں:

ایک تویہی کہ حدیث شریف میں ممانعت ہے۔

دوسری یہ کہ بایاں ہاتھ کا استعمال عموما گندگی کے لئے ہوتا ہے۔ "أَنَّ الْيَسَارَ لِلْأَقْذَارِ”

یہ بات مزاجِ شریعت سے معلوم ہوئی کہ گندگی، برائی یا کم بھلائی کے کاموں کو بائیں جانب شمار کیا جاتا ہے، اسی لئے بائیں ہاتھ سے کھانا مکروہ ہے، ناک پونچھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کیا جائے، ناپسندیدہ خواب دیکھے تو بائیں جانب تھتکارنے اور شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہے، قرآن مجید نے جہنمیوں کو اصحاب الشمال یعنی بائیں طرف کے لوگ فرمایا۔۔ وغیرہ وغیرہ

یاد رکھیں یہ ضروری نہیں کہ آپ کو ہر جگہ ہر کام کا واضح حکم ملے، کچھ چیزیں مزاجِ شریعت سے سمجھی جاتی ہیں جس طرح گندگی کے کاموں کے لئے بائیں ہاتھ کا استعمال رکھا ہے اسی طرح اچھے اور پاکیزہ کاموں کے لئے دائیں ہاتھ کا استعمال مطلوب اور محبوب ہوتا ہے۔ اور ان تمام چیزوں کے روحانی اثرات آپ کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں۔

*استنجا۔۔اور۔۔ نجاست کی جگہ کے احکام*

یہ بحث ذرا سمجھئے گا۔۔

انسان کے اگلے یا پچھلے مقام سے نجاست خارج ہوتی ہے۔ جس جگہ سے نجاست خارج ہوتی ہے اسے *مَخْرَج* کہتے ہیں۔ لہذا مخرَج دو (2) ہیں:

1- مخرَج البول: پیشاب خارج ہونے کی جگہ۔

2- مخرج الغائط: پاخانہ خارج ہونے کی جگہ، اسے حَلْقَةُ الدُّبُر بھی کہتے ہیں۔

*مخرج البول:* پیشاب خارج ہونے کی جگہ مرد کی تنگ اور عورت کی کشادہ ہوتی ہےاسلئے عورت کے مسئلہ میں پیشاب کا درہم سے زیادہ جگہ تک پھیل جانا ممکن ہے، لہذا اگر مخرج کے علاوہ پیشاب اتنا پھیل جائے کہ درہم سے زیادہ جگہ گھیر لے تو اس جگہ کا پانی سے دھونا فرض ہے۔

*مخرج الغائط:* پاخانہ خارج ہونے کی جگہ پر نجاست کم لگی ہو یا زیادہ لگی ہو تو ڈھیلے سے استنجا کافی ہے لیکن مخرج کے علاوہ ارد گرد جگہ پر بھی نجاست پھیل گئی تو دو صورتیں ہیں:

پہلی صورت: اگر مخرج کے اردگرد نجاست درہم سے کم پھیلی ہے تو پانی سے دھونا فرض نہیں ہے کیونکہ *مخرج* کا الگ حکم ہے اور *حولِ مخرج* یعنی ارد گرد پھیلنے والی نجاست الگ حکم رکھتی ہے۔ لہذا قلیل ہونے کی وجہ سے دونوں کا دھونا فرض نہیں ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی ہے۔

دوسری صورت: اگر اردگرد نجاست درہم سے زیادہ پھیلی ہے تو بالاتفاق دھونا فرض ہے، ڈھیلوں سے استنجا کافی نہیں ہے۔

علامہ کاسانی نے جو اختلاف ذکر کیا ہے اس میں مفتی بہ قول شیخین کا ہے، یعنی امام اعظم اور امام ابویوسف کے قول پر عمل کیا جاتا ہے۔ دیگر کتبِ فقہ سمیت فتاوی رضویہ اور بہارِ شریعت میں اسی قول پر فتوی دیا گیا ہے۔

*ابو محمد عارفین القادری*

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59