نماز میں دل لگانے کی تدبیر

نماز میں دل لگانے کی تدبیر:

نمازمیں غفلت دو وجہ سے ہوتی ہے،ایک سبب ظاہری جبکہ دوسرا باطنی ہے ۔

ظاہری سبب ایسی جگہ نمازپڑھنا ہے ،جہاں توجہ ادھر اُدھر متوجہ ہوجاتی ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ ایسی جگہ نماز پڑھی جائے ،جہاں کوئی چیز سنائی اور دکھا ئی نہ دے ،بہتر ہے ،انسان دوران نماز اپنی آنکھیں بھی بند کر لے ،کیونکہ دل، آنکھ اور کان کے تابع ہے۔

باطنی سبب خیالات اور وساوس کا آنا ہے ،اس سے بچنے کی تدبیر یہ ہے ،پہلے ضروری کام کاج کرلے ،پھر نماز پڑھے،دوسرا طریقہ یہ ہے کہ نماز میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے ،اس کے معانی میں غور و فکر کرے ،تیسرا طریقہ یہ ہے کہ جس چیزکے باکثرت خیال آتے ہیں ،اس سے جان چھڑانے کی صورت نکالے ،جیسے ایک مرتبہ دوران نماز حضور کا دہیان کپڑے کی کڑھائی کی طرف گیا ،تو آپ نے وہ قمیص دوبارہ نہیں پہنی، اسی وجہ سے حضرت طلحہ نے اپنا پوراباغ صدقہ کر دیا تھا۔

(ملخص ازکیمیائے سعادت ،امام غزالی )

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایتوں کے مجموعے

حضرت عبداللہ بن عمروبن العاص کی روایتوں کے مجموعے

آپ پڑھ چکے کہ حضرت عبداللہ بن عمرو کو حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ سے کتابت حدیث کی کامل طور پر اجازت بلکہ حکم مل چکا تھا ۔لہذا آپ نے جو بھی سنا اسکو لکھا ۔ آپ نے اپنے صحیفہ کانام ’’الصادقہ ‘‘ رکھاتھا ،آپ نے بلا واسطہ روایات کو اس میں جمع کیاتھا۔

خودفرماتے ہیں :۔

ہذہ الصادقۃ فیہا ماسمعتہ من رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ولیس بینی وبینہ فیہااحد ۔ 

یہ صحیفہ صادقہ ہے ، اس میں وہ احادیث درج ہیں جو میں نے خود حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ، اسکی روایت کیلئے میرے اورحضور کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ۔

آپ کو یہ صحیفہ بہت عزیز تھا ،فرماتے تھے ۔

مایرغبنی فی الحیوۃ الاالصادقۃ والوہط ۔

زندگی میں میری دلچسپی جن چیزوں سے ہے ان میں ایک یہ صحیفہ ہے اور دوسری ’’وھط‘‘ نامی میری زمین ہے ۔

حفاظت کیلئے آپ اس صحیفے کو ایک صندوق میں بند رکھتے تھے ۔ آپ کے بعد آپ کے اہل خانہ نے بھی اس صحیفے کی حفاظت کی ۔اغلب یہ ہے کہ آپ کے پوتے حضرت عمرو بن شعیب اس صحیفے سے روایت کرتے تھے ۔ گو حضرت عمرو بن شعیب سے ساراصحیفہ مروی نہیں لیکن امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں اسکے مندرجات کو روایت کردیا ہے ۔احادیث کی دوسری کتابوں میں بھی اس صحیفے کی احادیث ملتی ہیں ۔

اس صحیفے کی علمی اہمیت بہت زیادہ ہے ،کیونکہ یہ ایک تاریخی دستاویز ہے اور اس سے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سامنے احادیث لکھنے کا واضح ثبوت بھی ملتاہے ۔(ضیاء النبی ۷/۱۳۳)

کہتے ہیں اس میں ایک ہزار حدیثیں تھیں ۔

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 5 سورہ البقرہ آیت نمبر40 تا 46

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِیْۤ اُوْفِ بِعَهْدِكُمْۚ-وَ اِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ(۴۰)

اے یعقوب کی اولاد (ف۶۹) یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا (ف۷۰) اور میرا عہد پورا کرو میں تمہارا عہد پورا کروں گا (ف۷۱) اور خاص میرا ہی ڈر رکھو (ف۷۲)

(ف69)

اسرائیل بمعنی عبداللہ عبری زبان کا لفظ ہے یہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا لقب ہے۔(مدارک) کلبی مفسر نے کہا اللہ تعالیٰ نے ” یٰۤاَیُّھَاالنَّاسُ اعْبُدُوْا ” فرما کر پہلے تمام انسانوں کو عموماً دعوت دی پھر ” اِذْ قَالَ رَبُّکَ ” فرما کر انکے مبدء کا ذکر کیا اس کے بعد خصوصیت کے ساتھ بنی اسرائیل کو دعوت دی یہ لوگ یہودی ہیں اور یہاں سے سیقول تک ان سے کلام جاری ہے کبھی بملاطفت انعام یاد دلا کر دعوت کی جاتی ہے کبھی خوف دلا یا جاتا ہے کبھی حجت قائم کی جاتی ہے۔ کبھی ان کی بدعملی پر توبیخ ہوتی ہے کبھی گزشتہ عقوبات کا ذکر کیا جاتا ہے۔

(ف70)

یہ احسان کہ تمہارے آباء کو فرعون سے نجات دلائی ، دریا کو پھاڑا ابر کو سائبان بنایا ان کے علاوہ اور احسانات جو آگے آتے ہیں ان سب کو یاد کرو اور یاد کرنا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی کرکے شکر بجالاؤ کیونکہ کسی نعمت کا شکر نہ کرنا ہی اس کا بھلانا ہے۔

(ف71)

یعنی تم ایمان و اطاعت بجالا کر میرا عہد پورا کرو میں جزاء و ثواب دے کر تمہارا عہد پورا کروں گا اس عہد کا بیان آیہ ” وَلَقَدْ اَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ ” میں ہے۔

(ف72)

مسئلہ : اس آیت میں شکر نعمت ووفاء عہد کے واجب ہونے کا بیان ہے اور یہ بھی کہ مومن کو چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈرے ۔

وَ اٰمِنُوْا بِمَاۤ اَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ وَ لَا تَكُوْنُوْۤا اَوَّلَ كَافِرٍۭ بِهٖ۪-وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا٘-وَّ اِیَّایَ فَاتَّقُوْنِ(۴۱)

اور ایمان لاؤ اس پر جو میں نے اتارا اس کی تصدیق کرتا ہوا جو تمہارے ساتھ ہے اور سب سے پہلے اس کے منکر نہ بنو (ف۷۳) اور میری آیتوں کے بدلے تھوڑے دام نہ لو (ف۷۴) اور مجھی سے ڈرو

(ف73)

یعنی قرآن پاک توریت وانجیل پرجو تمہارے ساتھ ہیں ایمان لاؤاور اہلِ کتاب میں پہلے کافر نہ بنوکہ جو تمہارے اتباع میں کفر اختیار کرے اس کا وبال بھی تم پر ہو ۔

(ف74)

ان آیات سے توریت و انجیل کی وہ آیات مراد ہیں جن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے مقصد یہ ہے کہ حضور کی نعت دولت دنیا کے لئے مت چھپاؤ کہ متاع دنیا ثمن قلیل اور نعمت آخرت کے مقابل بے حقیقت ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت کعب بن اشرف اور دوسرے رؤساء و علماء یہود کے حق میں نازل ہوئی جو اپنی قوم کے جاہلوں اور کمینوں سے ٹکے وصول کرلیتے اور ان پر سالانے مقرر کرتے تھے اور انہوں نے پھلوں اور نقد مالوں میں اپنے حق معین کرلئے تھے انہیں اندیشہ ہوا کہ توریت میں جو حضور سیدِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت ہے اگر اس کو ظاہر کریں تو قوم حضور پر ایمان لے آئے گی اور ان کی کچھ پرسش نہ رہے گی۔ یہ تمام منافع جاتے رہیں گے اس لئے انہوں نے اپنی کتابوں میں تغییر کی اور حضور کی نعت کو بدل ڈالا جب ان سے لوگ دریافت کرتے کہ توریت میں حضور کے کیا اوصاف مذکور ہیں تو وہ چھپالیتے۔ اور ہر گز نہ بتاتے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔(خازن وغیرہ)

وَ لَا تَلْبِسُوا الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوا الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۴۲)

اور حق سے باطل کو نہ ملاؤ اور دیدہ و دانستہ حق نہ چھپاؤ

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ وَ ارْكَعُوْا مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو (ف۷۵)

(ف75)

اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فرضیت کا بیان ہے اور اس طرف بھی اشارہ ہے کہ نمازوں کو ان کے حقوق کی رعایت اور ارکان کی حفاظت کے ساتھ ادا کرو مسئلہ : جماعت کی ترغیب بھی ہے حدیث شریف میں ہے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا تنہا پڑھنے سے ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔

اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۴۴)

کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۷۶)

(ف76)

شان نُزول : عُلَماءِ یہود سے ان کے مسلمان رشتہ داروں نے دین اسلام کی نسبت دریافت کیا تو انہوں نے کہا تم اس دین پر قائم رہو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دین حق اور کلام سچا ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ایک قول یہ ہے کہ آیت ان یہودیوں کے حق میں نازل ہوئی جنہوں نے مشرکین عرب کو حضور کے مبعوث ہونے کی خبر دی تھی اور حضور کے اتباع کرنے کی ہدایت کی تھی پھر جب حضور مبعوث ہوئے تو یہ ہدایت کرنے والے حسد سے خود کافر ہوگئے اس پر انہیں توبیخ کی گئی ۔(خازن و مدارک)

وَ اسْتَعِیْنُوْا بِالصَّبْرِ وَ الصَّلٰوةِؕ-وَ اِنَّهَا لَكَبِیْرَةٌ اِلَّا عَلَى الْخٰشِعِیْنَۙ(۴۵)

اور صبر اور نماز سے مدد چاہو اور بےشک نماز ضرور بھاری ہے مگر ان پر جو دل سے میری طرف جھکتے ہیں (ف۷۷)

(ف77)

یعنی اپنی حاجتوں میں صبر اور نماز سے مدد چاہو سبحان اللہ کیا پاکیزہ تعلیم ہے صبر مصیبتوں کا اخلاقی مقابلہ ہے انسان عدل و عزم حق پرستی پر بغیر اس کے قائم نہیں رہ سکتا صبر کی تین قسمیں ہیں۔(۱) شدت و مصیبت پر نفس کو روکنا (۲)طاعت و عبادت کی مشقتوں میں مستقل رہنا(۳)معصیت کی طرف مائل ہو نے سے طبیعت کو باز رکھنا ،بعض مفسرین نے یہاں صبر سے روزہ مراد لیا ہے وہ بھی صبر کا ایک فرد ہے اس آیت میں مصیبت کے وقت نما ز کے ساتھ استعانت کی تعلیم بھی فرمائی،کیونکہ وہ عبادتِ بدنیہ ونفسانیہ کی جامع ہے اور اس میں قربِ الہٰی حاصل ہو تا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہم امور کے پیش آنے پر مشغولِ نماز ہو جاتے تھے،اس آیت میں یہ بھی بتایا گیا کہ مومنین صادقین کے سوا اوروں پر نماز گرا ں ہے ۔

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَ اَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ۠(۴۶)

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا (ف۷۸)

(ف78)

اس میں بشارت ہے کہ آخرت میں مؤمنین کو دیدارالہی کی نعمت ملے گی

انس بن مالک کی مرویات کے مجموعے

انس بن مالک کی مرویات کے مجموعے

آپ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے خادم خاص ہونے کی وجہ سے کثیر الروایت ہیں ، اپنے بیٹوں اورتلامذہ کو احادیث لکھواتے تھے ،جب کثرت سے لوگ آنے لگے تو آپ وہ صحیفے ہی اٹھا لائے جن میں احادیث تھیں اور فرمایا : یہ وہ احادیث ہیں جو میں نے خود حضور سے سنیں اور پھر لکھ کر دوبارہ سنائیں ۔( السنۃ قبل التدوین، ۳۲۰)

بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا اِلَى الطَّاغُوۡتِ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ؕ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡـطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 60

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ يَزۡعُمُوۡنَ اَنَّهُمۡ اٰمَنُوۡا بِمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلِكَ يُرِيۡدُوۡنَ اَنۡ يَّتَحَاكَمُوۡۤا اِلَى الطَّاغُوۡتِ وَقَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ يَّكۡفُرُوۡا بِهٖ ؕ وَيُرِيۡدُ الشَّيۡـطٰنُ اَنۡ يُّضِلَّهُمۡ ضَلٰلًاۢ بَعِيۡدًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور ان (کتابوں) پر (ایمان لائے ہیں) جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انھیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ انھیں گمراہ کرکے بہت دور کی گمراہی میں ڈال دے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اس (کتاب) پر ایمان لائے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور ان (کتابوں) پر (ایمان لائے ہیں) جو آپ سے پہلے نازل کی گئی ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنے مقدمے طاغوت کے پاس لے جائیں حالانکہ انھیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کریں۔ (النساء : ٦٠) 

حضور کا فیصلہ نہ ماننے والے منافق کو حضرت عمر (رض) کا قتل کردینا : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مکلفین کو یہ حکم دیا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کریں اور ان آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ منافقین رسول اللہ کی اطاعت نہیں کرتے اور آپ کے فیصلہ پر راضی نہیں ہوتے اور اپنے مقدمات طاغوت کے پاس لے جاتے ہیں ‘ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ اس آیت میں طاغوت سے مراد کعب بن اشرف ہے ‘ یہ ایک یہودی عالم تھا۔ 

ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوگیا ‘ یہودی نے کہا میرے اور تمہارے درمیان ابو القاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کریں گے ‘ اور منافق نے کہا میرے اور تمہارے درمیان کعب بن اشرف فیصلہ کریں گے ‘ کیونکہ کعب بن اشرف بہت رشوت خور تھا اور اس مقدمہ میں یہودی حق پر تھا اور منافق باطل پر تھا ‘ اس وجہ سے یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ مقدمہ لے جانا چاہتا تھا ‘ اور منافق کعب بن اشرف کے پاس یہ مقدمہ لے جانا چاہتا تھا ‘ جب یہودی نے اپنی بات پر اصرار کیا تو وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہودی کے حق اور منافق کے خلاف فیصلہ کردیا ‘ منافق اس فیصلہ سے راضی نہیں ہوا اور کہا میرے اور تمہارے درمیان حضرت عمر (رض) فیصلہ کریں گے ‘ دونوں حضرت عمر کے پاس گئے یہودی نے بتادیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے حق میں اور اس منافق کے خلاف فیصلہ کرچکے ہیں لیکن یہ مانتا نہیں ہے ‘ حضرت عمر نے بتادیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے حق میں اور اس منافق کے خلاف فیصلہ کرچکے ہیں لیکن یہ مانتا نہیں ہے ‘ حضرت عمر (رض) نے منافق سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے ‘ اس نے کہا ہاں ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا ٹھیرو انتظار کرو میں ابھی آتا ہوں گھر گئے تلوار لے کر آئے اور اس منافق کا سرقلم کردیا ‘ پھر اس منافق کے گھر والوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حضرت عمر (رض) کی شکایت کی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے پوری تفصیل معلوم کی ‘ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس نے آپ کے فیصلہ کو مسترد کردیا تھا اسی وقت حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہا عمر فاروق ہیں انہوں نے حق اور باطل کے درمیان فرق کردیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) سے فرمایا تم فاروق ہو اس قول کی بناء پر طاغوت سے مراد کعب بن اشرف یہودی ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٤٩۔ ٢٤٨‘ الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٢٦٥۔ ٢٦٤‘ الدرالمنثور ج ٢ ص ١٧٩‘ روح المعانی ج ٥ ص ٦٧ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 60