فقراء ومساکین کا رُتبہ

حکایت نمبر157: فقراء ومساکین کارُتبہ

حضرت سیدنا ابراہیم بن بشارخراسانی قدّس سرہ الربانی سے مروی ہے، ایک مرتبہ مَیں ، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم ، ابو یوسف غسولی اور ابوعبداللہ سنجاری رحمہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسکندریہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب ہم اردن کی نہر کے قریب پہنچے توآرام کی خاطر بیٹھ گئے ۔حضرت سیدنا ابو یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کے پاس خشک روٹیوں کے چند ٹکڑے تھے انہوں نے وہ ہمارے سامنے رکھ دیئے، ہم نے وہ کھائے اور اللہ عزوجل کا شکر ادا کیا ، پھرمیں جلدی سے نہر کی جانب بڑھا تاکہ پینے کے لئے پانی لاؤں مگر حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم مجھ سے پہلے نہرمیں داخل ہوگئے۔ پانی ان کے گھٹنوں تک پہنچ گیا انہوں نے بسم اللہ پڑھ کراپنی ہتھیلیوں سے پانی پیا ۔ پانی پینے کے بعد اَلْحَمْدُلِلّٰہِ کہہ کرنہر سے باہر تشریف لائے پھر پاؤں پھیلا کر بیٹھ گئے اورفرمایا: ”اے ابو یوسف رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ! اگر بادشاہ اور ان کے شہزادے ہماری نعمتوں اور سکون کو جان لیں تو وہ ہمیں تلواروں کے ساتھ مارنے لگیں۔میں نے عرض کی:” حضور! لوگ نعمتوں اورراحت وسکون کے توطالب ہیں مگر انہوں نے سیدھے راستے کو چھوڑ دیا ہے ۔” میری اس بات پرآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ مسکرا دیئے۔
حضرت سیدنا ابراہیم بن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار مزید فرماتے ہیں:” ایک شام ہم نے حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظمکے ساتھ گزاری ۔ ہم روزے سے تھے لیکن افطاری کے لئے ہمارے پاس کوئی چیز نہ تھی ۔ آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے جب مجھے غم وحزن کے عالم میں دیکھاتو فرمایا :” اے ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار ! دیکھو!اللہ عزوجل نے فقراء ومساکین پر نعمتوں اور راحتوں کی کیسی چھماچھم برسات فرمائی ہے کہ کل بروزِقیامت ان سے زکوٰۃ اور حج و صدقہ کے متعلق سوال نہیں فرمائے گا ۔ بلکہ فقرا ء و مساکین کے بارے میں ان لوگوں سے سوال کیا جائے گا جودنیا میں امیر ہیں لیکن آخرت میں فقیر ہوں گے،او ر جودنیا میں معزز ہیں مگر آخرت میں ذلیل و رسوا ہو ں گے ۔ لہٰذا تم غم نہ کر و، جس رزق کااللہ عزوجل نے ذمہ لیا ہے وہ عنقریب تجھے مل کر رہے گا۔ اللہ عزوجل کی قسم! بادشاہ اور غنی تو ہم ہیں۔ ہم ہی تو ہیں جنہیں دنیا میں ہی بہت جلد راحت وسرور میسر ہے ،جب ہم اللہ عزوجل کی اطاعت میں ہوں تو ہمیں کچھ پرواہ نہیں ہوتی کہ ہم کس حال میں صبح وشام کر رہے ہیں۔ ہم ہر حال میں اللہ عزوجل کے شکر گزار ہیں۔”
پھر آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نماز کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ میں بھی اپنی نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوگیا ۔ ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک آدمی آٹھ روٹیاں اور بہت ساری کھجوریں لے کر ہمارے پاس آ یا۔ اس نے سلام کیا او رکہا ـ:”اللہ عزوجل آپ پر رحم فرمائے، یہ کچھ کھانا حاضرِ خدمت ہے، تناول فرمائیے ۔” حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم نے مجھ سے فرمایا:” اے مغموم! کھا نا کھاؤ۔”
ابھی ہم کھانا کھانے بیٹھے ہی تھے کہ ایک سائل آگیا اس نے کہا:”مجھے کچھ کھانا کھلاؤ ۔”آپ رحمۃا للہ تعالیٰ علیہ نے تین روٹیاں اورکچھ کھجوریں سائل کودے دیں تین روٹیاں مجھے عطافرمائیں اوردوروٹیاں خودتناول فرمائیں۔ پھرارشادفرمایا: ”مؤاسات (یعنی غمخواری ) مؤمنین کے اخلاق میں سے ہے ۔”
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ میں ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃاللہ الاعظم کے ساتھ طرابلس روانہ ہوا۔ میرے پاس دو روٹیوں کے علاوہ او رکوئی شے نہ تھی ۔راستے میں ایک سائل نے سوال کیا توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا: ”جو کچھ تیرے پاس ہے وہ اس سائل کودے دے” اس معاملہ میں مَیں نے تھوڑی سی سستی کی، توآپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے مجھ سے فرمایا :” کیا بات ہے ،سائل کو روٹی دینے میں تم سستی کیوں کر رہے ہو؟”یہ سن کر میں نے دونوں روٹیاں توسائل کو دے دیں لیکن میں پریشان تھا ۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا : ”کل تو اس ذات سے ملاقات کریگا جس کے ساتھ اس سے پہلے تو شرف ِملاقات حاصل نہیں کرسکا ۔ اور توان تمام چیزوں کااجر بھی پائے گا جنہیں تو آگے بھیجتا رہا ۔اور جو چیزیں تو دنیا میں چھوڑ جائے گاوہ تجھے کوئی فائدہ نہ دیں گی۔ لہٰذا اپنے لئے آگے کچھ مہیا کر ، تو نہیں جانتا کہ کب اچانک تجھے اپنے رب عزوجل کی طر ف سے بلاوا آجائے ۔ ”
آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی اس گفتگونے مجھے رُلا دیا ۔ اور میری نظر وں میں دنیا کی قدرو قیمت بہت کم کردی ۔ جب انہوں نے مجھے روتے ہوئے دیکھا تو ارشاد فرمایا:” ہاں اسی طر ح زندگی بسر کرو۔”
ابن بشار علیہ رحمۃاللہ الغفار فرماتے ہیں کہ” ایک مرتبہ میں ، حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم ، ابویوسف غسولی اور ابو عبداللہ سنجاری رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم کے ساتھ سفر پرتھا، ہم ایک قبر ستان کے پاس سے گزرے تو حضرت سیدنا ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم ایک قبر کے پاس آئے اپنا ہاتھ اس پر رکھا اور فرمایا :” اے فلاں ! اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے ۔” پھر دو سری قبر کے پاس آئے اور اسی طرح کہا۔آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے سات قبروں کے پاس جا کر اسی طر ح کہا۔ پھران قبروں کے درمیان کھڑے ہوگئے اور باآواز بلند اس طرح ندا کی:” اے فلاں بن فلاں! اے اہل قبور!تم فو ت ہو گئے اور ہمیں پیچھے چھوڑ آئے ۔ ہم بھی جلد ہی تم سے ملنے والے ہیں ۔” پھر آپ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہرونے لگے اور کسی گہری سوچ میں گم ہوگئے کچھ دیر اسی طرح بیٹھے رہے پھر آنسوؤں سے تربتر چہرے کے ساتھ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا :” اے میرے بھائیو!آخرت کی تیاری کے لئے تم پر جدّو جہد اور جلدی لازم ہے،جلد ی کرو اور آخرت کی تیاری میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش کرو،بے شک تیز رفتاری میں اپنے مدِّ مقابل پر وہی سبقت لے جاتا ہے جو تیز چلتا ہے۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

حکایت نمبر156: یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے

حضرت سیدنا ابو صالح رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ سے مروی ہے کہ حضرت سیدناہقل بن زیاد اوزاعی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ وعظ ارشاد فرمایا: ”اے لوگو ! تم اللہ عزوجل کی ان نعمتوں کا بہت شکر ادا کرو جن کی وجہ سے تم اللہ عزوجل کی بھڑکائی ہوئی اس آگ سے دور کر دیئے گئے جو دلوں تک چڑھ جاتی ہے ۔ تم ایسے گھر میں ہو جس میں تھوڑی ہی دیر ٹھہرنا ہے اورتم بہت ہی قلیل عرصہ کے لئے ان لوگوں کے نائب بن کرـآئے ہو جن کی عمر یں تم سے زیادہ تھیں ، ان کے جسم تم سے زیادہ لمبے تھے، انہوں نے پہاڑوں کو کھود کر پھاڑ ڈالااور چٹانیں توڑ ڈالیں ۔وہ ایسے جنگجو اور بہادر تھے کہ شہرو ں میں پہنچ کر شدید حملہ کرتے ، ان کے اجسام ستونوں کی مانند تھے ۔ انہوں نے اس فانی دنیامیں بہت کم وقت گزارا ۔گردش ایا م نے ان کی طویل عمریں گھٹادیں، ان کے نشانات مٹادیئے، ان کے گھر وں کو ویران کردیا اور ان کے ذکر کو بھلادیا ۔ ان میں سے کوئی بھی باقی نہ رہا،جولوگ بہت گرجدارآواز میں باتیں کرتے تھے مرنے کے بعد کبھی ان کی دھیمی سی آواز بھی سنائی نہ دی ۔
وہ فضول امیدوں میں پڑے عیش وعشرت سے زندگی بسر کر رہے تھے۔ انہوں نے لوگوں کے انجام سے عبرت حاصل نہ کی اور غفلت کی وادیوں میں بھٹکتے رہے۔ پھر اچانک رات کے وقت ان پر اللہ عزوجل کاعذاب نازل ہو ا تو ان میں سے اکثر اپنے گھروں میں سوئے ہی رہ گئے(یعنی موت کے منہ میں اُتر گئے) ۔اور جو باقی رہ گئے تھے وہ عذاب کے آثار و نشانات ،زوالِ نعمت،اور تباہ وبرباد گھر وں کو دیکھنے لگے ۔ان باتوں میں ان لوگوں کے لئے عبرت و نشانیاں ہیں جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہیں ۔
ان کے بعد تمہاری عمریں کم ہوگئیں ہیں۔دنیا فناکی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اب ہرطرف برائیوں کا دور دورہ ہے ۔ عفوو درگزر پیٹھ پھیر گیا ،خیر خواہی اور نرمی رخصت ہوگئی۔ اب عبرتناک ہولناکیاں ، مختلف قسم کی سزائیں ، فتنہ وفساد ، لغزشوں کی بھرمار اور گزرے ہوئے ان لوگوں کی بُر ی باتیں باقی رہ گئیں جن کی وجہ سے خشکی اور سمندر میں فساد برپا ہوا۔ اے لوگو! تم ان غافلوں کی طر ح نہ ہوجانا جنہیں طویل عمری کی جھوٹی امیدوں نے دھوکے میں ڈالے رکھا۔ ”
( اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اور تمہیں اطاعت گزاروں اور آخرت کی تیاری کرنے والوں میں شامل فرمائے۔ )
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

رزق کی برکت سے محروم کون

حکایت نمبر 155: رزق کی برکت سے محروم کون…..؟

حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم فرماتے ہیں،ایک مرتبہ میں اسکندریہ کے ایک شخص سے ملا جسے اسلم بن زید اَلجھنی کہا جاتاتھا ۔ و ہ مجھ سے کہنے لگا :”اے نوجوان ! تم کون ہو؟” میں نے کہا:” میں خراسان کا رہنے والا ہوں۔” اس نے پوچھا: ”تجھے دنیا سے بے رغبتی پر کس چیز نے ابھارا؟” میں نے جواب دیا :” دنیوی خواہشات کو ترک کرنے اور ا ن کے ترک پر اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثوا ب کی امید نے۔”وہ کہنے لگا :” بندے کی اللہ عزوجل سے اجر وثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر کرنے کا عادی نہ بنالے ۔ یہ سن کر اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا :” صبر کیا ہے؟ ”اس نے جواب دیا:” صبر کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو بھی (خوشی سے) برداشت کرلے جو اس کے دل کو اچھی نہ لگیں۔”میں نے کہا:”اگروہ ایساکر لے تو پھر کیا ہوگا؟”

اس نے کہا :” جب وہ ناپسند یدہ باتوں کو برداشت کرلے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو نور سے بھردے گا ۔پھر میں نے اس سے پوچھا:” نور کیا ہے ؟ ” اس نے مجھے بتایا:”یہ اس شخص کے دل میں موجود ایسا چراغ ہوتا ہے جو حق وباطل اور متشابہ میں فرق کرتا ہے ۔ اے نوجوان ! جب تو اولیاء کرا م رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرے یا صالحین سے گفتگوکر ے تو ان کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہناکیونکہ ان کی ناراضگی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی اور ان کی خوشی میں اللہ عزوجل کی خوشی پوشیدہ ہے۔ اے نوجوان! میری یہ باتیں یاد کرلے ، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر اور سمجھدار ہوجا۔”

یہ نصیحت آموز باتیں سن کرمیری آنکھوں سے سیل ِاشک رواں ہوگیا۔میں نے کہا :” اللہ عزوجل کی قسم ! میں نے اللہ عزوجل کی محبت ،اس کی رضاکے حصول اور دنیوی خواہشات کو تر ک کرنے کی خاطر اپنے والدین اورمال و دولت کو چھوڑ اہے۔” اس نے کہا:” بُخل سے کوسوں دور بھاگنا۔ میں نے پوچھا:” بُخل کیا ہے؟” اس نے کہا:” دنیا والوں کے نزدیک توبخل یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں کنجوسی کرے جبکہ آخرت کے طلبگار وں کے نزدیک بخل یہ ہے کہ کوئی اپنے نفس کے ساتھ اللہ عزوجل سے کنجوسی کرے ۔ یا د رکھ ! جب انسان اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اپنے دل سے سخاوت کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے دل کوہدایت او ر تقوی سے بھر دیتا ہے اور اسے سکون ،وقار ، اچھا عمل اورعقل سلیم جیسی نعمتیں ملتی ہیں۔اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ مسرور و شاداں ان دروازوں کے کھلنے کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔” 

یہ سن کراس کے رفقاء میں سے ایک شخص نے کہا :” حضور !اس کی آتشِ عشق کو مزید بھڑکایئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نوجوان کو اللہ عزوجل کی طر ف سے ولایت کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ” وہ شخص اپنے رفیق کی اس بات سے بہت متعجب ہو ا کہ” اسے اللہ عزوجل کی ولایت کی تو فیق عطا کی گئی ہے۔” پھر میری طرف متوجہ ہو ا اور کہنے لگا:” اے عزیز ! عنقریب تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا۔ جب تجھے یہ سعادت نصیب ہو تو ان کے لئے ایسی زمین کی مانند ہوجا کہ اگر وہ چاہیں تو تجھے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں ۔ اوراگر وہ تجھے ماریں،جھڑکیں یا دھتکاردیں تو تُو اپنے دل میں سوچنا کہ تو آیاکہاں سے ہے ؟ اگر تو غور وفکر کریگا تو اللہ عزوجل کی نصرت تیری مؤید ہوگی اور اللہ عزو جل تجھے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے گا،پھر لوگ دل وجان سے تجھے مان لیں گے ۔اے نوجوان !یا د رکھ ،جب کسی انسان کو اچھے لوگ چھوڑ دیں ، پرہیز گار اس کی صحبت سے بچنے لگیں اور نیک لوگ اس سے ناراض ہو جائیں تو یہ اس کے لئے نقصان دہ بات ہے۔ اب اسے جان لینا چاہے کہ اللہ عزوجل مجھ سے ناراض ہے ۔جو شخص اللہ عزوجل کی نافرمانی کر ے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو گمراہی اور تاریکی سے بھر دے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ رزق( کی برکت )سے محرو م ہوجائے گا اور خاندان والوں کی جفا اور صاحبِ اقتدار لوگو ں کا بغض اس کا مقدّر بن جائے گا ۔پھر اللہ عزوجل جہاں چاہے اسے ہلاک کر دے۔”میں نے کہا:” ایک مرتبہ میں نے ایک نیک شخص کی ہمراہی میں کوفہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کیا۔جب شام ہوتی تو وہ دو رکعت نماز ادا کرتا۔ پھر آہستہ آہستہ کلام کرتا۔میں دیکھتا کہ ثرید سے بھرا ہوا پیالہ اور پانی سے بھرا ہوا ایک کوزہ اس کے دائیں جانب رکھا ہوتا۔ وہ اس کھانے میں سے خود بھی کھاتا اور مجھے بھی کھلاتا۔ میری یہ بات سن کر وہ شخص اور اس کے رفقاء رونے لگے۔”پھراس نے مجھے بتایا:” اے میرے بیٹے! وہ میرے بھائی داؤد تھے اور ان کی رہائش بلخ سے پیچھے ایک گاؤں میں تھی۔ داؤد کے وہاں سکونت اختیار فرمانے کی وجہ سے وہ گاؤں دو سری جگہوں پر فخر کرتا ہے ۔اے عزیز ! انہوں نے تجھے کیا کہا تھا ، او رکہا سکھایا تھا ؟” میں نے کہا:” انہوں نے مجھے اسمِ اعظم سکھایا۔” اس شخص نے پوچھا: ”وہ کیا ہے ؟” میں نے کہا:” اس کا بولنا میرے لئے بہت بڑا معاملہ ہے۔ ایک بار میں نے اسم اعظم پڑھا تو فوراً ایک آدمی ظاہر ہوا اور میرا دامن پکڑ کر کہنے لگا:” سوال کر، عطا کیا جائے گا۔ ” مجھ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔ میری یہ حالت دیکھ کر وہ بولا:” گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،میں خضر ہوں اورمیرے بھائی داؤد نے تمہیں اللہ عزوجل کا اسم ِاعظم سکھایا ہے ۔ا س اسم اعظم کے ذریعے کسی ایسے شخص کے لئے کبھی بھی بد دعا نہ کرنا جس سے تمہارا ذاتی جھگڑا اوراختلاف ہو، اگر ایساکروگے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے دنیا و آخرت کی ہلاکت میں مبتلا کردو اور پھر تم بھی نقصان اُٹھاؤ ۔ بلکہ اس اسمِ اعظم کے ذریعے اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ وہ تمہارے دل کو دینِ اسلام پر ثابت رکھے ۔تمہارے پہلو کو شجاعت وبہادری عطا فرمائے، تمہاری کمزوری کو قوت سے بدل دے ۔ تمہاری وحشت کو اُنسیَّت سے اور تمہارے خوف کو امن سے بدل دے۔ ”پھر مجھ سے کہا:”اے نوجوان ! نفس کی خواہشات کو تر ک کرنے کی غرض سے دنیا کو چھوڑنے والوں نے اللہ عزوجل کی رضا کو (اپنا) لباس ، اس کی محبت کواپنی چادر اور اس کی عظمت وبزرگی کو اپنا شعار بنالیا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے ان پر ایسا فضل وانعام فرمایاکہ ایسا کسی پر نہ فرمایا۔ اتناکہنے کے بعد وہ چلا گیا۔ وہ شخص میری اس بات سے بہت متعجب ہوا۔ پھر کہنے لگا :” یقینا اللہ عزوجل ایسے ہدایت یافتہ لوگو ں سے ( دین اسلام کی) تبلیغ کا کام لیتا ہے ۔ اے عزیز ! ہم نے تجھے (ان باتوں سے) نفع پہنچا یا اور جو ہم نے سیکھا تھا وہ تجھے سکھادیا ۔ پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا :” خوب سیرہوکر کھانے کے بعد رات جاگ کر گزارنے کی طمع نہیں کی جاسکتی۔ دنیا کی محبت کے ہوتے ہوئے اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہیں کی جاسکتی، تقوی اور پر ہیز گاری کو ترک کرنے کے باوجود حکمت کا الہام ہونا محض خام خیالی ہے ۔ظلمت وتاریکی کی راہوں میں گم ہونے کے باوجود تیرے سب کام صحیح ہو جائیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ اور جب تجھے مال سے محبت ہو توپھر تو اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہ کر ۔ لوگو ں پر ظلم وجفا کرنے کے با جود تمہارے دل کے نرم ہونے کا گمان نہیں کیا جاسکتا ۔ فضول کلام کرنے کے باوجود رقت قلبی ، مخلوق پر رحم نہ کرنے کے باوجود اللہ عزوجل کی رحمت اور علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی مجالس میں نہ بیٹھنے کے باوجود رشد وہدایت کی طمع محض خام خیالی ہی ہے ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حکایت نمبر 154: ترکِ دنیااورفکرِآخرت کے متعلق ایک تحریر

حضرت سیدنا شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے:” میں نے دو سو دینار کا ایک گھر خریدا اور ایک تحریر لکھ دی ، اور عادل لوگوں کو (اس پر) گواہ بنایا ، اس بات کی خبر حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الْکَرِیْم کو پہنچی تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: ”اے شریح! مجھے خبر پہنچی ہے کہ تو نے ایک گھر خریدا ہے اور ایک تحریر لکھی ہے اور اس پر عادل لوگوں کو گواہ بھی بنایا ہے ؟” میں نے عرض کی:” اے امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! یہ خبر حقیقت (پر مبنی)ہے ۔”آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”اے شریح! جلد ہی تیرے پاس ایسا شخص آئے گا جو نہ تو تیری تحریر دیکھے گا اور نہ ہی تجھ سے تیرے گھر کے بارے میں سوال کریگا۔ وہ تجھے اس گھر سے نکال کر تیری قبر کے حوالے کردے گا ۔ اگر تو میرے پاس آتا تو میں تیرے لئے یہ مضمون لکھتا:

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

یہ وہ گھرہے جسے حقیر بندے نے اس شخص سے خرید ا ہے جسے کوچ کرنے ( کے حکم )کی وجہ سے پر یشان کیا گیا ہے اور مرنے والا ہے ۔ اس نے ایسا گھر لیا ہے جو دھوکے کا گھر ہے اور اس پر چار حدو د مشتمل ہیں ۔

ان میں سے پہلی حد مختلف امور کی طرف دعوت دینے والی چیزوں پر ختم ہوتی ہے ،دوسری حد مصائب وتکالیف کی طرف دعوت والی باتوں پر ، تیسری حد نفسانی خواہشات اور فضول کاموں پر اور چوتھی حدد ھوکے باز شیطان پر ختم ہوتی ہے اور اس میں اس گھر کا دروازہ شرو ع ہوتا ہے ۔

اس دھوکا میں پڑے شخص نے ایک امید کے ساتھ اس شخص سے سارا گھر خرید لیا جو پیغامِ اجل کی وجہ سے پریشان ہے۔ اب یہ قناعت کی عزت سے نکل کر لالچ کے گھر میں داخل ہوگیا ہے لیکن گھر خرید نے والے نے کون سی بہت بڑی حاجت پوری کرلی ہے جبکہ بادشاہوں کے اجسام کا مالک، جابر لوگو ں کی جانوں کوسلب کرنے والا ، فر عونوں جیسے کسرٰی ، تبع ، حمیر اور وہ جس نے محل بنایا پھراسے پختہ و مزین کیا اور لوگو ں کو اکٹھا کر کے انہیں غلام بنالیا اور جو اپنے بیٹے کے لئے بھی اس ملکیت کا گمان رکھتا تھا اور ان کی بادشاہت کو ختم کرنے والا ان سب کو میدا نِ حشر میں جمع فرمائے گا اورجب فیصلہ سنانے کے لئے کرسی رکھی جائے گی اس وقت باطل کام کرنے والے خسارے میں ہوں گے اور منادی اس طرح ندا کرے گا:”دوآنکھوں والے کے لئے حق کتنا واضح اور روشن ہے۔ بے شک سفر دو دن کا ہے، نیک اعمال کر کے زادِ راہ تیا رکرلو کیونکہ انتقال اور زوال کا وقت قریب آن پہنچا ہے” ۔

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم) 

خون کے آنسو

حکایت نمبر153: خون کے آنسو

حضرت سیدنا اسماعیل بن ہشام علیہ رحمۃ اللہ السلام فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کے ایک مرید نے بتایا :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا فتح موصلی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی خدمتِ بابر کت میں حاضر ہوا ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے ہوئے تھے، آنکھوں سے سیلِ اشک رواں تھا، ہتھیلیاں آنسوؤں سے تر بتر تھیں۔ مَیں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے قریب ہوا اور غور سے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی طرف دیکھا تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش تھی جس کی وجہ سے آنسو سرخی مائل ہوگئے تھے ۔”

مَیں یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوا اور عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اللہ عزوجل کی قسم! سچ سچ بتائیں؟کیا آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں میں خون کی آمیزش ہے ؟”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا :”اگر تُو نے مجھے قسم نہ دی ہوتی تو میں ہر گزنہ بتاتا لیکن اب مجبور اًبتا رہا ہوں کہ واقعی میری آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ خون بھی بہتا ہے اسی وجہ سے آنسوؤں کی رنگت تبدیل ہوگئی ہے ۔”میں نے عرض کی: ”حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رونے پر مجبور کیا ہے اور آخرایسا کون سا غم آپ کو لاحق ہے کہ آپ خون کے آنسو روتے ہیں؟ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”میں روتا تو اس لئے ہوں کہ میں اللہ عزوجل کے اَحکام پر عمل نہ کرسکا ، اس کی عبادت میں کوتا ہی کرتا رہا، مَیں اپنے مالک حقیقی عزوجل کی کَمَاحَقُّہٗ فرمانبردار ی نہ کرسکا اور آنسوؤں میں خو ن اس لئے آتا ہے کہ مجھے یہ خوف ہمیشہ دامن گیر رہتا ہے کہ میرا یہ رونا اللہ عزوجل کی بارگاہ میں مقبول بھی ہے یا نہیں ۔ میرے اعمال میرے مولیٰ عزوجل کی بارگاہ میں قبول بھی ہوئے ہیں یا نہیں؟” بس یہی خوف مجھے خون کے آنسو رُلاتا ہے ۔”اتنا کہنے کے بعد آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ دو بارہ رونے لگے ۔پوری زندگی آپ کی یہی کیفیت رہی او راسی حالت میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا انتقال ہوا۔وصال کے بعد میں نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو خواب میں دیکھا تو عرض کی: ”مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟” آپ نے جواب دیا :” میرے رحیم وکریم پروردگا ر عزوجل نے مجھے بخش دیا ۔”پھر میں نے پوچھا: ”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے آنسوؤں کا آپ کو کیاصلہ دیا گیا ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”میرے پاک پرورگار عزوجل نے مجھے اپناقُرب خاص عطا فرمایا اور پوچھا: ”اے فتح مو صلی!تم دنیا میں آنسو کیوں بہایا کرتے تھے ؟” میں نے عرض کی: ”میرے رحیم وکریم پروردگار عزوجل! مَیں اس خوف سے آنسو بہاتا تھا کہ میں نے تیری عبادت کا حق ادا نہ کیا، تیری اطا عت نہ کرسکا، تیرے اَحکامات پر عمل پیرا نہ ہوسکا۔” پھر اللہ عزوجل نے مجھ سے پوچھا:” تمہارے آنسوؤں میں خون کیوں آتا تھا ؟” میں نے عرض کی:” اے میرے پاک پروردگار عزوجل !مجھے ہر وقت یہ خوف دامن گیر رہتا کہ نہ جانے میرے اَعمال تیری بارگاہ میں مقبول بھی ہیں یا نہیں؟ ایسا نہ ہو کہ میرے اعمال ا کارت ہوگئے ہوں، بس یہی خوف مجھے خون کے آنسورلاتا تھا ۔”یہ سن کرمیرے پاک پروردگار عزوجل نے ارشاد فرمایا: ”اے فتح موصلی !یہ تیرا گمان تھا کہ تیرے اعمال مقبول ہیں یا نہیں، مجھے میری عزت وجلال کی قسم !چالیس سال سے تمہارے نامہ اعمال میں تم پر نگہبان فرشتوں(یعنی کراماً کاتبین) نے ایک گناہ بھی نہیں لکھا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

ٹوٹی ہو ئی صراحی

حکایت نمبر152: ٹوٹی ہو ئی صراحی

حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :” ایک مرتبہ میں حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی بارگاہ میں حاضر ہوا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے گھر میں تشریف فرما تھے، آنکھوں سے آنسوؤں کی بر سات ہورہی تھی، بڑے درد مندانہ اَنداز میں رو رہے تھے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سامنے ایک صراحی ٹوٹی ہوئی تھی۔ میں نے جاکر سلام عرض کیا اور بیٹھ گیا ۔ مجھے دیکھ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے رونا بند کردیا۔ میں نے عرض کی:” حضور! آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو کس چیز نے رُلایا ہے؟ آخر آپ کو ایسا کون ساغم لاحق ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آپ اتنی گریہ و زاری کر رہے ہیں؟”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا:” آج میں روزے سے تھا ، میری بیٹی یہ صراحی لے کر آئی، اس میں پانی بھرا ہوا تھا ۔اس نے مجھ سے کہا: اے میرے والد گرامی! آج گرمی بہت زیادہ ہے، مَیں یہ صراحی لے کر آئی ہوں تا کہ اس میں پانی ٹھنڈا ہو جائے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ٹھنڈے پانی سے روزہ افطار کریں۔” یہ کہنے کے بعد میری بیٹی نے وہ صراحی ٹھنڈی جگہ رکھ دی ، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ میری آنکھ لگ گئی۔ میں نے خواب میں ایک حسین وجمیل عورت دیکھی، اس نے چاندی کی قمیص پہنی ہوئی تھی ، اس کے پاؤں میں ایسی خوبصورت جوتیاں تھیں کہ میں نے آج تک ایسی جوتیاں کہیں نہیں دیکھیں اور نہ ہی ایسے خوبصورت پاؤں کبھی دیکھے۔ وہ میرے پاس اسی دروازے سے اس کمرے میں آئی۔میں نے اس سے کہا :”تُو کس کے لئے ہے ؟” اُس نے جواب دیا : ”مَیں اس کے لئے ہوں جو ٹھنڈے پانی کی خواہش نہ کرے اور صراحی کا ٹھنڈاپانی نہ پئے۔”اِتنا کہنے کے بعد اس نے صراحی کو اپنی ہتھیلیو ں سے گھمانا شروع کیا ۔ میں نے وہ صراحی اس سے لی اور زمین پر دے ماری پھر میری آنکھ کھل گئی ۔ یہ جو تم سامنے ٹو ٹی ہوئی صراحی دیکھ رہے ہو یہ وہی صراحی ہے ۔”حضرت سیدنا جنید بغدادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی فرماتے ہیں :”اس کے بعد حضرت سیدنا سری سقطی علیہ رحمۃاللہ القوی نے کبھی بھی ٹھنڈا پانی نہ پیا۔ مَیں جب بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے گھر جاتا تو دیکھتا کہ وہ صراحی اسی طر ح ٹوٹی ہوئی پڑی ہے اور اس پر گرد وغبار کی تہہ جم چکی ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس خواب کے بعد صراحی کو ہاتھ تک نہ لگایا۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حکایت نمبر151: کعبۃاللہ شریف پر پہلی نظر

حضرت سیدنا حامد اسودعلیہ رحمۃ اللہ الصمد ، حضرت سیدنا ابراہیم خوّاص علیہ رحمۃ اللہ الرزاق کے عقید ت مندوں میں سے تھے ۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ جب کبھی سفر پر روانہ ہوتے تو کسی کو بھی اطلاع نہ دیتے اور نہ ہی کسی کو اپنے ساتھ سفر پر چلنے کے لئے کہتے ۔جب کبھی سفر کا اِرادہ ہوتا تو ایک بر تن اپنے ساتھ لے جاتے جو وضو اور پانی پینے کے لئے استعمال فرماتے ۔

ایک مرتبہ اسی طر ح آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنا بر تن اٹھایا اور ایک سمت چل دیئے۔ میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے پیچھے ہولیا۔ہماراسفرجاری رہاآپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دورانِ سفر مجھ سے کوئی بات نہ کی یہاں تک کہ ہم کوفہ پہنچ گئے ۔ وہاں ہم نے ایک دن اور ایک رات قیام کیا، پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ”قادسیہ” کی طر ف روانہ ہوئے ۔ جب ہم قادسیہ پہنچے تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میری طرف متو جہ ہو کر پوچھنے لگے : ”اے حامد !تم یہاں کیسے آئے ؟” میں نے عرض کی:” حضور! میں آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کے ساتھ ساتھ ہی سفرکرتا آرہا ہوں۔میں سارے سفر میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ رہاہوں۔”

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میرا اِرادہ تو حج کرنے کا ہے، اگر اللہ عزوجل نے چاہا تو اب میں مکہ مکرمہ کی طرف جاؤں گا۔” تو میں نے عرض کی :”حضور ! ان شاء اللہ عزوجل میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ساتھ مکہ شریف چلوں گا۔” چنانچہ ہم سوئے حرم روانہ ہوئے اور مسلسل دن رات سفر کیا۔

ہمارا سفر اسی طرح جاری وساری تھا۔مکہ مکرمہ قریب سے قریب تر ہوتا جارہا تھا۔اچانک ہمیں راستے میں ایک نوجوان ملا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ وہ ہمارے ساتھ ایک دن اور ایک رات سفر کرتا رہا لیکن راستے میں اس نے ایک بھی نماز نہ پڑھی۔یہ دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اس سے کہا:”اے نوجوان !تُو کل سے ہمارے ساتھ ہے لیکن تُونے ایک بھی نماز نہ پڑھی حالانکہ نماز حج سے بھی زیادہ اَہمیت کی حامل ہے۔”اس نوجوان نے جواب دیا: ”اے شیخ! مجھ پر نماز فرض نہیں ۔” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے پوچھا: ”کیا تُو مسلمان نہیں؟ ” اس نے جواب دیا: ”نہیں،بلکہ میں نصرانی ہوں اورمیں اس جنگل بیابان میں یہ دیکھنے آیا ہوں کہ مَیں توکُّل میں کتنا کامل ہوں او رمجھے میرے پروردگار عزوجل پر کتنا بھروسا ہے کیونکہ میرا نفس مجھ سے کہتا ہے کہ تو تو کُّل میں بہت کامل ہے لیکن میں نے نفس کی بات پر یقین نہ کیا اور یہ تہیہ کرلیا کہ اپنے آپ کو آزماؤں گا او رکسی ایسی جگہ جاؤں گا جہاں میرے او رمیرے رب عزوجل کے سوا کوئی نہ ہوپھر وہاں دیکھو ں گا کہ میرے اندر کتنا توکُّل ہے۔ چنانچہ میں اس جنگل بیابان میں آگیا ہوں اوراپنے آپ کو آزمارہا ہوں۔”

اس نوجوان کی یہ بات سن کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وہاں سے اٹھے اور چلتے ہوئے مجھ سے فرمایا: ”اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔” نوجوان بھی ہمارے ساتھ ہی چلنے لگا۔ حرم شریف سے قریب ”وادی مُرّ’ ‘میں پہنچ کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اپنے پرانے کپڑے اُتار کر دھوئے پھر وضو کرنے کے بعد اس نوجوان سے پوچھا:” تمہارا نام کیا ہے؟” اس نے جواب دیا: ” عبدا لمسیح” آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” اے عبدالمسیح! اب حرم شریف کی حد شرو ع ہونے والی ہے اور کفار کا داخلہ حرم شریف میں حرام ہے۔

جیسا کہ اللہ عزوجل نے اپنی آخری کتا ب قرآن کریم میں ارشا د فرمایا:

اِنَّمَا الْمُشْرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَایَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِہِمْ ہٰذَا ۚ

ترجمہ کنزالایمان:مشرک نرے ناپاک ہیں تواس برس کے بعدوہ مسجد حرام کے پاس نہ آنے پائیں۔( پ10، تو بہ :28)

لہٰذا تم اب یہیں رکو اور ہر گزہرگز حرم شریف میں داخل نہ ہونا اگر تم داخل ہوئے تو ہم حُکّام سے تمہاری شکایت کر دیں گے ۔”

اِتنا کہنے کے بعد ہم نے اس نوجوان کو وہیں چھوڑ ا اور ہم مکہ مکرمہ کی نور بار مشکبار فضاؤں میں داخل ہوگئے ۔پھر ہم میدانِ عرفات کی جانب روانہ ہوئے۔ وہاں حاجیوں کا ہجوم تھا اچانک ہم نے اسی نوجوان کو میدانِ عرفات میں دیکھا اس نے حاجیوں کی طر ح اِحرام باندھا ہوا تھا اور بے تا بانہ نظر وں سے کسی کو تلاش کر رہا تھا جونہی اس نے ہمیں دیکھا فوراً ہمارے پاس چلا آیا اور حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی کو بوسہ دینے لگا۔ یہ صورتحال دیکھ کر حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا:” اے عبد المسیح! تم یہاں کیسے آگئے ؟” اس نوجوان نے عرض کی:”حضور! اب میرا نام عبد المسیح نہیں بلکہ عبد اللہ ہے (یعنی اب وہ عیسائی مسلمان ہو چکا تھا)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:”اپنا پورا واقعہ بیان کر وکہ تم کس طرح مسلمان ہوئے، تمہاری زندگی میں یہ انقلاب کیسے آیا ؟” اس نوجوان نے عرض کی:” حضور! جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مجھے چھوڑ کر آگئے تھے تو میں وہیں موجود رہا اور میرے دل میں یہ خواہش مچلنے لگی کہ آخر مَیں بھی تو دیکھوں کہ وہ مکہ مکرمہ کیسی جگہ ہے جس کی طرف مسلمان سفر و ہجر کی صعوبتیں بر داشت کر کے ہر سال حج کے لئے آتے ہیں۔آخر اس میں ایسی کیا عجیب بات ہے ۔” اسی خواہش کی بناء پر میں نے بھیس بدلا اورمسلمانوں جیسی حالت بنالی۔ میری خوش قسمتی کہ وہا ں ایک قافلہ پہنچاجو”حرمین شریفین ” آرہا تھا ۔ میں نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا اور ا س قافلے میں شامل ہوگیا۔

جوں جوں ہمارا قافلہ مکہ مکرمہ سے قریب ہوتا جارہا تھا میرے دل کی دنیا بدلتی جارہی تھی۔ عجیب وغریب کیفیت کا عالم تھاپھر جونہی میری نظر ”خانہ کعبہ” پر پڑی تو میرے دل سے تمام اَدیان باطلہ کی محبت نکل گئی اور ”دینِ اسلام ”کی محبت میرے دل میں گھر کر گئی۔مَیں نے فوراً”عیسائیت ”سے توبہ کر کے محمد رسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی غلامی اِختیار کرلی اور مسلمان ہوگیا ۔اس وقت میرا دل بہت خوشی محسوس کر رہا تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد میں نے غسل کیا احرام باندھا اور دعا کی:” اے اللہ عزوجل! آج میری ملاقات حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ہوجائے ۔” بارگاہِ خداوندی عزوجل میں میری دعا قبول ہوئی اور میں اب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوں ۔”حضرت سیدنا ابراہیم خواص رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بہت خوش ہوئے۔ اسے خوب شفقتوں اور محبتوں سے نوازا۔پھر ہماری طرف متو جہ ہوئے اور فرمایا:” اے حامد ! دیکھ لو سچائی میں کتنی برکت ہے۔ اس نوجوان کو حق کی تلاش تھی اور یہ اپنی طلب میں سچا تھا لہٰذا اسے حق مل گیا یعنی یہ اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگیا ۔” پھر وہ نوجوان ہمارے ساتھ ہی رہنے لگا اور بہت بلند مرتبہ حاصل کیا ۔ بالآ خر وہ دارِ فناسے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوگیا ۔(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)