فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے ہیں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں۔ (النساء : ٦٥) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہ ماننے والا مومن نہیں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے حضرت زبیر (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زمین کو سیراب کرنے والی پانی کی ایک نالی میں جھگڑا کیا وہ دونوں اس سے اپنے درختوں کو پانی دیتے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر تم اپنی زمین کو پانی دو ‘ پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ‘ وہ انصاری غضبناک ہوا اور اس نے کہا یہ آپ کے عم زاد ہیں اس لیے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے زبیر تم پانی دو پھر پانی کو روک لو حتی کہ وہ دیواروں کی طرف لوٹ جائے ‘ حضرت زبیر نے کہا خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (آیت) ” فل اور بک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم “ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٣٦٠‘ ٢٣٥٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٣٥٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٣٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٣١‘ ٤٥٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١١٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٥٣) 

امام ابن جریر نے اس آیت کے شان نزول میں دو حدیثیں ذکر کی ہیں مذکور الصدر حضرت عبداللہ بن الزبیر کی روایت بھی ذکر کی ہے اور وہ روایت بھی ذکر کی ہے جس میں مذکور ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوا ‘ منافق یہ فیصلہ کعب بن اشرف سے کرانا چاہتا تھا بعد ازاں جس کا حضرت عمر نے سر اڑا دیا تھا ‘ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کے نزول کا سبب ہوں (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک فیصلہ کو بہ ظاہر مان لیتا ہے ‘ لیکن دل سے قبول نہیں کرتا اس لیے فرمایا کہ وہ آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف دل میں بھی تنگی نہ پائیں ‘ بعض اوقات ایک عدالت سے فیصلہ کے بعد اس سے اوپر کی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ کرنے کا اختیار ہوتا ہے جیسے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ کی جاسکتی ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کرنے کے بعد پھر کسی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ نہیں کی جاسکتی ‘ اس لیے بعد میں فرمایا اس فیصلہ کو خوشی سے مان لو ‘ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو فیصلہ کریں وہ خطا سے مامون اور محفوظ بلکہ معصوم ہوتا ہے یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے اگر کوئی شخص کتنا ہی عبادت گزار ہو لیکن اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر حضور ایسا نہ کرتے اور ایسا کرلیتے تو وہ مومن نہیں رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ يَعۡلَمُ اللّٰهُ مَا فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ فَاَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ وَعِظۡهُمۡ وَقُلْ لَّهُمۡ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ قَوۡلًاۢ بَلِيۡغًا ۞

ترجمہ:

یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے سو ان سے اور اعراض کیجئے اور ان کو نصیحت کیجئے اور ان سے بہت اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور ان سے ان کے نفسوں میں اثر آفریں بات کیجئے۔ (النساء : ٦٣) 

اس آیت کی دو تفسیریں ہیں ایک یہ کہ ان کو تنہائی میں نصیحت کیجئے کیونکہ تنہائی میں نصیحت کے قبول کر نیکی توقع زیادہ ہوتی ہے دوسری تفسیر یہ ہے کہ ان سے ایسی اثر آفریں بات کیجئے جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 63

‌وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا  ۖۚ وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ‌ۚ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰكُمۡ‌ؕ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَٮِٕذٍ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ‌ۚ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 167

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

‌وَلِيَعۡلَمَ الَّذِيۡنَ نَافَقُوۡا  ۖۚ وَقِيۡلَ لَهُمۡ تَعَالَوۡا قَاتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَوِ ادۡفَعُوۡا ‌ۚ قَالُوۡا لَوۡ نَعۡلَمُ قِتَالًا لَّا تَّبَعۡنٰكُمۡ‌ؕ هُمۡ لِلۡكُفۡرِ يَوۡمَٮِٕذٍ اَقۡرَبُ مِنۡهُمۡ لِلۡاِيۡمَانِ‌ۚ يَقُوۡلُوۡنَ بِاَفۡوَاهِهِمۡ مَّا لَيۡسَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا يَكۡتُمُوۡنَ‌ۚ

ترجمہ:

اور تاکہ (اللہ) منافقوں کو الگ کر دے ‘ اور ان سے کہا گیا آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو ‘ یا (اپنے شہر کا) دفاع کرو تو انھوں نے کہا اگر ہم جانتے کہ جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہاری پیروی کرتے ‘ اس دن وہ ایمان کی بہ نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایسی بات کہہ رہے تھے جو انکے دلوں میں نہیں تھی اور اللہ ان چیزوں کو زیادہ جاننے والا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں

القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 167

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآٮِٕفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآٮِٕفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 154

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ اَنۡزَلَ عَلَيۡكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ الۡغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغۡشٰى طَآٮِٕفَةً مِّنۡكُمۡ‌ۙ وَطَآٮِٕفَةٌ قَدۡ اَهَمَّتۡهُمۡ اَنۡفُسُهُمۡ يَظُنُّوۡنَ بِاللّٰهِ غَيۡرَ الۡحَـقِّ ظَنَّ الۡجَـاهِلِيَّةِ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ هَلۡ لَّنَا مِنَ الۡاَمۡرِ مِنۡ شَىۡءٍ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡاَمۡرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ‌ؕ يُخۡفُوۡنَ فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ مَّا لَا يُبۡدُوۡنَ لَكَ‌ؕ يَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ كَانَ لَنَا مِنَ الۡاَمۡرِ شَىۡءٌ مَّا قُتِلۡنَا هٰهُنَا ‌ؕ قُلۡ لَّوۡ كُنۡتُمۡ فِىۡ بُيُوۡتِكُمۡ لَبَرَزَ الَّذِيۡنَ كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقَتۡلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمۡ‌ۚ وَلِيَبۡتَلِىَ اللّٰهُ مَا فِىۡ صُدُوۡرِكُمۡ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِىۡ قُلُوۡبِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ عَلِيۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ

ترجمہ:

پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی اور دوسری جماعت (منافقوں کی) اپنی جانوں کے متعلق پریشانیوں میں مبتلا تھی وہ اللہ کے متعلق زمانہ جاہلیت کی طرح ناحق بدگمانی کر رہے تھے وہ کہہ رہے تھے کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہیے بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا اختیار ہے وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے تھے جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے تھے وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاں قتل نہ کیے جاتے آپ کہیے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے، اور (یہ اس لیے ہوا) کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو آزمائے (ظاہر کرے) اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے

تفسیر:

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرکے مسلمانوں کا سو جانا اور منافقوں کا پریشانی سے جاگتے رہنا : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

سدی بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن جب مشرکین واپس جانے لگے تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا ہم اگلے سال بدر میں مقابلہ کریں گے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکے پیچھے ایک شخص کو بھیجا دیکھو کہ یہ اپنے گھوڑوں پر بیٹھ گئے ہیں اور سازوسامان ایک طرف رکھ دیا ہے تو پھر مدینہ پر چڑھائی کے لیے آرہے ہیں ‘ تب تم اللہ سے ڈرو ‘ اور صبر کرو اور جنگ کی تیاری کرو ‘ جب اس قاصد نے یہ دیکھا کہ وہ لوگ اپنے سازو سامان پر بیٹھ گئے ہیں تو وہ تیزی سے دوڑتا ہوا آیا اور اس نے انکے جانے کی خبر دی ‘ جب مسلمانوں کو اس خبر کا علم ہوا تو انہوں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور وہ بےفکر ہو کر سو گئے اور منافق جاگتے رہے انہیں یہ خطرہ تھا کہ کفار پھر آکر حملہ کردیں گے ‘ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ خبر دے دی تھی کہ جب وہ اپنے سازوسامان پر سوار ہوں گے تو واپس چلے جائیں اس لیے مسلمان بےفکر ہو کر سو گئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی پھر (اللہ نے) پریشانی کے بعد تم پر سکون نازل کیا (جس کے نتیجہ میں) تمہاری ایک جماعت پر اونگھ طاری ہوگئی۔ 

حضرت ابو طلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر اونگھ طاری ہوگئی تھی میرے ہاتھ سے تلوار بار بار گر جاتی تھی۔ 

حضرت ابوطلحہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے نیند سے جھونٹے کھا رہا تھا نیز حضرت ابوطلحہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ پر اونگھ طاری ہو رہی تھی میرے ایک ہاتھ سے تلوار گر جاتی تو میں دوسرے ہاتھ میں اٹھا لیتا ‘ ادھر منافقین کو اپنی جانوں کا خطرہ لگا ہوا تھا وہ زمانہ جاہلیت کیطرح اللہ تعالیٰ کے متعلق طرح طرح کی بدگمانیاں کر رہے تھے۔ (جامع البیان ج ٤ ص ٩٣۔ ٩٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بدگمانیوں کا حال بیان فرمایا : وہ کہہ رہے تھے کہ کیا اس معاملہ میں ہمارا بھی کوئی اختیار ہے ؟ آپ کہئے کہ بیشک تمام معاملات میں اللہ ہی کا ختیار ہے ‘ اور وہ کہہ رہے تھے کہ اگر ہمارا کوئی اختیار ہوتا تو ہم اس جگہ قتل نہ کیے جاتے ‘ وہ زمانہ جاہلیت کی طرح اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانیاں کر رہے تھے۔ یعنی وہ تقدیر انکار کر رہے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ کہئے کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہیں ‘ یعنی اچھی اور بری ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے وابستہ ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے آزمانے کا معنی : 

وہ اپنے دلوں میں ان چیزوں کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے یعنی وہ شرک ‘ کفر اور تکذیب کو چھپاتے ہیں جو آپ پر ظاہر نہیں کرتے ‘ وہ کہتے تھے کاش ہمارا کچھ اختیار ہوتا تو ہم یہاںٗ قتل نہ کیے جاتے ‘ یعنی وہ کہتے تھے کہ اگر ہماری عقل حاضر ہوتی تو ہم اہل مکہ سے قتال کے لیے نہ نکلتے اور ہمارے بڑے بڑے سردار قتل نہ کیے جاتے۔ آپ کہئے اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کا قتل کیا جانا مقدر ہوچکا تھا وہ ضرور اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے۔ 

اور یہ اس لیے ہوا کہ اللہ تمہارے دلوں کی باتوں کو آزمائے ‘ یعنی اللہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے ‘ تاکہ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ بطور غیب جانتا تھا ان کا ظہور بہ طور مشاہدہ ہوجائے یا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو مشاہد کرائے ‘ کیونکہ حقیقۃ آزمانا اللہ تعالیٰ کے حق میں محال ہے کیونکہ آزماتا وہ شخص ہے جو نتیجہ اور انجام سے بیخبر ہو اور تمہارے دلوں کو (وسوسوں اور اندیشوں سے) صاف کر دے اللہ تعالیٰ نے تم پر جنگ اور قتال کو فرض کیا اور جنگ احد میں تمہاری مدد نہیں کی ‘ تاکہ تمہارے صبر کو آزمائے اور جب تم اخلاص سے توبہ کرو تو تمہارے گناہوں کو مٹا دے۔ اس آیت میں بھی آزمانے یہی معنی ہے کہ تمہارے ساتھ ایسا معاملہ کرے جو آزمانے والا کرتا ہے اور اللہ دلوں کی باتوں کو خوب جاننے والا ہے۔ یعنی وہ جانتا ہے کہ کسی دل میں کیا خیر ہے اور کیا شر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 154