رزق کی برکت سے محروم کون

حکایت نمبر 155: رزق کی برکت سے محروم کون…..؟

حضرت ابراہیم بن ادہم علیہ رحمۃ اللہ الاعظم فرماتے ہیں،ایک مرتبہ میں اسکندریہ کے ایک شخص سے ملا جسے اسلم بن زید اَلجھنی کہا جاتاتھا ۔ و ہ مجھ سے کہنے لگا :”اے نوجوان ! تم کون ہو؟” میں نے کہا:” میں خراسان کا رہنے والا ہوں۔” اس نے پوچھا: ”تجھے دنیا سے بے رغبتی پر کس چیز نے ابھارا؟” میں نے جواب دیا :” دنیوی خواہشات کو ترک کرنے اور ا ن کے ترک پر اللہ عزوجل کی طرف سے ملنے والے ثوا ب کی امید نے۔”وہ کہنے لگا :” بندے کی اللہ عزوجل سے اجر وثواب کی امید اس وقت تک پوری نہیں ہوسکتی جب تک وہ اپنے نفس کو صبر کرنے کا عادی نہ بنالے ۔ یہ سن کر اُس کے پاس کھڑے ایک شخص نے پوچھا :” صبر کیا ہے؟ ”اس نے جواب دیا:” صبر کی سب سے پہلی منزل یہ ہے کہ انسان ان باتوں کو بھی (خوشی سے) برداشت کرلے جو اس کے دل کو اچھی نہ لگیں۔”میں نے کہا:”اگروہ ایساکر لے تو پھر کیا ہوگا؟”

اس نے کہا :” جب وہ ناپسند یدہ باتوں کو برداشت کرلے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو نور سے بھردے گا ۔پھر میں نے اس سے پوچھا:” نور کیا ہے ؟ ” اس نے مجھے بتایا:”یہ اس شخص کے دل میں موجود ایسا چراغ ہوتا ہے جو حق وباطل اور متشابہ میں فرق کرتا ہے ۔ اے نوجوان ! جب تو اولیاء کرا م رحمہم اللہ تعالیٰ کی صحبت اختیار کرے یا صالحین سے گفتگوکر ے تو ان کی ناراضگی سے ہمیشہ بچتے رہناکیونکہ ان کی ناراضگی میں اللہ عزوجل کی ناراضگی اور ان کی خوشی میں اللہ عزوجل کی خوشی پوشیدہ ہے۔ اے نوجوان! میری یہ باتیں یاد کرلے ، اپنے اندر برداشت کا مادہ پیدا کر اور سمجھدار ہوجا۔”

یہ نصیحت آموز باتیں سن کرمیری آنکھوں سے سیل ِاشک رواں ہوگیا۔میں نے کہا :” اللہ عزوجل کی قسم ! میں نے اللہ عزوجل کی محبت ،اس کی رضاکے حصول اور دنیوی خواہشات کو تر ک کرنے کی خاطر اپنے والدین اورمال و دولت کو چھوڑ اہے۔” اس نے کہا:” بُخل سے کوسوں دور بھاگنا۔ میں نے پوچھا:” بُخل کیا ہے؟” اس نے کہا:” دنیا والوں کے نزدیک توبخل یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے مال میں کنجوسی کرے جبکہ آخرت کے طلبگار وں کے نزدیک بخل یہ ہے کہ کوئی اپنے نفس کے ساتھ اللہ عزوجل سے کنجوسی کرے ۔ یا د رکھ ! جب انسان اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر اپنے دل سے سخاوت کرتا ہے تو اللہ عزوجل اس کے دل کوہدایت او ر تقوی سے بھر دیتا ہے اور اسے سکون ،وقار ، اچھا عمل اورعقل سلیم جیسی نعمتیں ملتی ہیں۔اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ مسرور و شاداں ان دروازوں کے کھلنے کی کیفیت کو دیکھتا ہے۔” 

یہ سن کراس کے رفقاء میں سے ایک شخص نے کہا :” حضور !اس کی آتشِ عشق کو مزید بھڑکایئے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس نوجوان کو اللہ عزوجل کی طر ف سے ولایت کی توفیق عطا کی گئی ہے۔ ” وہ شخص اپنے رفیق کی اس بات سے بہت متعجب ہو ا کہ” اسے اللہ عزوجل کی ولایت کی تو فیق عطا کی گئی ہے۔” پھر میری طرف متوجہ ہو ا اور کہنے لگا:” اے عزیز ! عنقریب تو اچھے لوگوں کی صحبت اختیار کریگا۔ جب تجھے یہ سعادت نصیب ہو تو ان کے لئے ایسی زمین کی مانند ہوجا کہ اگر وہ چاہیں تو تجھے پاؤں کے نیچے روند ڈالیں ۔ اوراگر وہ تجھے ماریں،جھڑکیں یا دھتکاردیں تو تُو اپنے دل میں سوچنا کہ تو آیاکہاں سے ہے ؟ اگر تو غور وفکر کریگا تو اللہ عزوجل کی نصرت تیری مؤید ہوگی اور اللہ عزو جل تجھے دین کی سمجھ بوجھ عطا فرمائے گا،پھر لوگ دل وجان سے تجھے مان لیں گے ۔اے نوجوان !یا د رکھ ،جب کسی انسان کو اچھے لوگ چھوڑ دیں ، پرہیز گار اس کی صحبت سے بچنے لگیں اور نیک لوگ اس سے ناراض ہو جائیں تو یہ اس کے لئے نقصان دہ بات ہے۔ اب اسے جان لینا چاہے کہ اللہ عزوجل مجھ سے ناراض ہے ۔جو شخص اللہ عزوجل کی نافرمانی کر ے گا تو اللہ عزوجل اس کے دل کو گمراہی اور تاریکی سے بھر دے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ وہ رزق( کی برکت )سے محرو م ہوجائے گا اور خاندان والوں کی جفا اور صاحبِ اقتدار لوگو ں کا بغض اس کا مقدّر بن جائے گا ۔پھر اللہ عزوجل جہاں چاہے اسے ہلاک کر دے۔”میں نے کہا:” ایک مرتبہ میں نے ایک نیک شخص کی ہمراہی میں کوفہ سے مکہ مکرمہ تک سفر کیا۔جب شام ہوتی تو وہ دو رکعت نماز ادا کرتا۔ پھر آہستہ آہستہ کلام کرتا۔میں دیکھتا کہ ثرید سے بھرا ہوا پیالہ اور پانی سے بھرا ہوا ایک کوزہ اس کے دائیں جانب رکھا ہوتا۔ وہ اس کھانے میں سے خود بھی کھاتا اور مجھے بھی کھلاتا۔ میری یہ بات سن کر وہ شخص اور اس کے رفقاء رونے لگے۔”پھراس نے مجھے بتایا:” اے میرے بیٹے! وہ میرے بھائی داؤد تھے اور ان کی رہائش بلخ سے پیچھے ایک گاؤں میں تھی۔ داؤد کے وہاں سکونت اختیار فرمانے کی وجہ سے وہ گاؤں دو سری جگہوں پر فخر کرتا ہے ۔اے عزیز ! انہوں نے تجھے کیا کہا تھا ، او رکہا سکھایا تھا ؟” میں نے کہا:” انہوں نے مجھے اسمِ اعظم سکھایا۔” اس شخص نے پوچھا: ”وہ کیا ہے ؟” میں نے کہا:” اس کا بولنا میرے لئے بہت بڑا معاملہ ہے۔ ایک بار میں نے اسم اعظم پڑھا تو فوراً ایک آدمی ظاہر ہوا اور میرا دامن پکڑ کر کہنے لگا:” سوال کر، عطا کیا جائے گا۔ ” مجھ پر گھبراہٹ طاری ہوگئی ۔ میری یہ حالت دیکھ کر وہ بولا:” گھبرانے کی کوئی بات نہیں ،میں خضر ہوں اورمیرے بھائی داؤد نے تمہیں اللہ عزوجل کا اسم ِاعظم سکھایا ہے ۔ا س اسم اعظم کے ذریعے کسی ایسے شخص کے لئے کبھی بھی بد دعا نہ کرنا جس سے تمہارا ذاتی جھگڑا اوراختلاف ہو، اگر ایساکروگے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اسے دنیا و آخرت کی ہلاکت میں مبتلا کردو اور پھر تم بھی نقصان اُٹھاؤ ۔ بلکہ اس اسمِ اعظم کے ذریعے اللہ عزوجل سے دعا کرو کہ وہ تمہارے دل کو دینِ اسلام پر ثابت رکھے ۔تمہارے پہلو کو شجاعت وبہادری عطا فرمائے، تمہاری کمزوری کو قوت سے بدل دے ۔ تمہاری وحشت کو اُنسیَّت سے اور تمہارے خوف کو امن سے بدل دے۔ ”پھر مجھ سے کہا:”اے نوجوان ! نفس کی خواہشات کو تر ک کرنے کی غرض سے دنیا کو چھوڑنے والوں نے اللہ عزوجل کی رضا کو (اپنا) لباس ، اس کی محبت کواپنی چادر اور اس کی عظمت وبزرگی کو اپنا شعار بنالیا ہے ۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے ان پر ایسا فضل وانعام فرمایاکہ ایسا کسی پر نہ فرمایا۔ اتناکہنے کے بعد وہ چلا گیا۔ وہ شخص میری اس بات سے بہت متعجب ہوا۔ پھر کہنے لگا :” یقینا اللہ عزوجل ایسے ہدایت یافتہ لوگو ں سے ( دین اسلام کی) تبلیغ کا کام لیتا ہے ۔ اے عزیز ! ہم نے تجھے (ان باتوں سے) نفع پہنچا یا اور جو ہم نے سیکھا تھا وہ تجھے سکھادیا ۔ پھر ان میں سے بعض نے بعض سے کہا :” خوب سیرہوکر کھانے کے بعد رات جاگ کر گزارنے کی طمع نہیں کی جاسکتی۔ دنیا کی محبت کے ہوتے ہوئے اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہیں کی جاسکتی، تقوی اور پر ہیز گاری کو ترک کرنے کے باوجود حکمت کا الہام ہونا محض خام خیالی ہے ۔ظلمت وتاریکی کی راہوں میں گم ہونے کے باوجود تیرے سب کام صحیح ہو جائیں یہ نہیں ہو سکتا ۔ اور جب تجھے مال سے محبت ہو توپھر تو اللہ عزوجل سے محبت کی طمع نہ کر ۔ لوگو ں پر ظلم وجفا کرنے کے با جود تمہارے دل کے نرم ہونے کا گمان نہیں کیا جاسکتا ۔ فضول کلام کرنے کے باوجود رقت قلبی ، مخلوق پر رحم نہ کرنے کے باوجود اللہ عزوجل کی رحمت اور علمائے کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کی مجالس میں نہ بیٹھنے کے باوجود رشد وہدایت کی طمع محض خام خیالی ہی ہے ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبیالامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‌ؕ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 82

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَا يَتَدَبَّرُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ‌ؕ وَلَوۡ كَانَ مِنۡ عِنۡدِ غَيۡرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوۡا فِيۡهِ اخۡتِلَافًا كَثِيۡرًا ۞

ترجمہ:

وہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ! اگر یہ قرآن اللہ کے غیر کے پاس سے آیا ہوتا تو یہ اس میں بہت اختلاف پاتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : وہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ! اگر یہ قرآن اللہ کے غیر کے پاس سے آیا ہوتا تو یہ اس میں بہت اختلاف پاتے۔ (النساء : ٨٢) 

قرآن مجید میں اختلاف نہ ہونے کا بیان : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ لوگ قرآن مجید کے معانی میں اور اس کے الفاظ بلیغہ میں غور کیوں نہیں کرتے ‘ اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ قرآن مجید میں نہ کوئی اختلاف ہے نہ اضطراب ہے نہ تعارض اور تضاد ہے اگر یہ قرآن اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کلام ہوتا تو اس میں بہت اختلاف اور تعارض ہوتا ‘ اور جب ایسا نہیں ہے تو ثابت ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ 

غیر اللہ کے کلام میں اختلاف تین وجہ سے ہوسکتا ہے ‘ اس کے الفاظ میں اختلاف ہو یا معنی میں یا ترتیب میں ‘ الفاظ میں اختلاف اس طرح ہوسکتا تھا کہ بعض الفاظ تو فصاحت اور بلاغت میں حد اعجاز کو پہنچے ہوں اور بعض اس حد سے کم ہوں اور جب قرآن مجید کا تمام متن کلام معجز ہے اور اس کی ہر سورت اور ہر آیت حد اعجاز کو پہنچی ہوئی ہے تو اس میں الفاظ کے اعتبار سے کوئی اختلاف نہیں ہے ‘ اور اس میں معانی کے اعتبار سے اس طرح اختلاف ہوسکتا تھا کہ اس میں غیب کی خبریں جو بیان کی گئی ہیں ان میں سے بعض صحیح ہوتیں اور بعض غلط ہوتیں ‘ اسی طرح مبداء اور معاد کے جو تکوینی احکام بیان کیے گئے ہیں وہ غلط ثابت ہوتے حالانکہ ہر زمانہ میں قرآن مجید کی صداقت تسلیم کی جاتی رہی ہے ‘ اور قرآن مجید نے ماضی کی جو خبریں اور گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی امتوں کے جو احوال بیان کیے ہیں وہ حرف بہ حرف صادق ہوئے اسی طرح قرآن مجید نے جو عقائد اور احکام شرعیہ بیان کیے ان میں بھی کسی قسم کا کوئی تعارض اور تضاد نہیں ہے۔ 

قرآن مجید میں روز افزوں واقعات اور نئے نئے احوال کے مطابق آیات نازل ہوتی رہیں اور یہ یک وقت کئی کئی سورتوں کی آیات نازل ہوتی رہیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر آیت کو اس سے متعلق سورت میں لکھواتے رہے اور کسی جگہ ترتیب میں کوئی خطایا کوئی غلطی واقع نہیں ہوئی۔ 

دنیا کی ہر کتاب میں کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی جگہ سے کوئی خطاء اور کوئی غلطی اور کوئی تعارض اور تضاد واقع ہوجاتا ہے صرف اللہ کی کتاب قرآن مجید ایسی کتاب ہے جس میں کسی وجہ سے کہیں کوئی اختلاف اور تضاد نہیں ہے اور یہ اس بات کی قوی دلیل ہے کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 82

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ قِيۡلَ لَهُمۡ كُفُّوۡۤا اَيۡدِيَكُمۡ وَاَقِيۡمُوا الصَّلٰوةَ وَاٰ تُوا الزَّكٰوةَ ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيۡهِمُ الۡقِتَالُ اِذَا فَرِيۡقٌ مِّنۡهُمۡ يَخۡشَوۡنَ النَّاسَ كَخَشۡيَةِ اللّٰهِ اَوۡ اَشَدَّ خَشۡيَةً‌ ۚ وَقَالُوۡا رَبَّنَا لِمَ كَتَبۡتَ عَلَيۡنَا الۡقِتَالَ ۚ لَوۡلَاۤ اَخَّرۡتَنَاۤ اِلٰٓى اَجَلٍ قَرِيۡبٍ‌ ؕ قُلۡ مَتَاعُ الدُّنۡيَا قَلِيۡلٌ‌ ۚ وَالۡاٰخِرَةُ خَيۡرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى وَلَا تُظۡلَمُوۡنَ فَتِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جس سے کیا گیا تھا کہ (ابھی جنگ سے) اپنے ہاتھ روکے رکھو ‘ اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو ‘ پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ انسانوں سے اس طرح ڈرنے لگا جس طرح اللہ کا ڈر ہوتا ہے یا اس سے بھی زیادہ اور انہوں نے کہا اے ہمارے رب تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کردیا۔ کیوں نہ تو نے ہمیں کچھ اور مہلت دی ہوتی ‘ آپ کہیے کہ دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے ‘ اور (اللہ سے) ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے اور تم پر ایک دھاگے کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ (النساء : ٧٧) 

شان نزول اور ربط آیات :

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ مکہ میں ہجرت سے پہلے بعض صحابہ کفار سے جلد جنگ کرنا چاہتے تھے ‘ انہوں نے کہا آپ ہمیں اجازت دیجئے کہ ہم مشرکین سے مکہ میں قتال کریں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اس سے منع کیا اور فرمایا ابھی مجھے کفار سے قتال کرنے کی اجازت نہیں ملی اور جب ہجرت ہوگئی اور مسلمانوں کو مشرکین سے قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو بعض لوگوں نے اس کو مکروہ جانا ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آپ ان سے کہئے کہ دنیا کا سامان تھوڑا ہے اور اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے آخرت بہت بہتر ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ١٠٨) امام نسائی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت سعد بن ابی وق اس اور بعض دیگر صحابہ نے ایسا کہا تھا۔ (سنن کبری ج ٦ ص ٣٢٥) واللہ اعلم بالصواب۔ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ملک کے دفاع اور کفار کے خلاف جہاد کی تیاری کرنے کا حکم دیا تھا اور یہ بھی فرمایا تھا کہ کچھ لوگ موت کے ڈر سے جہاد کرنے سے گھبراتے ہیں ‘ اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ جہاد سے منع کرنے والے کچھ ضعیف مسلمان اور منافقین تھے۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے کہ تم پر فتیل کے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا ‘ فتیل کا معنی باریک دھاگا بھی ہے ‘ اور کھجور کی گٹھلی پر جو باریک سا چھلکا ہوتا ہے اس کو بھی فتیل کہتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 77

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 74

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ ؕ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا ۞

ترجمہ:

پس اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو لڑنا چاہیے جو آخرت (کے ثواب) کے عوض دنیا کی زندگی فروخت کرچکے ہیں۔ اور جو اللہ کی راہ میں جنگ کرے پھر وہ قتل کردیا جائے یا غالب آجائے تو ہم عنقریب اسے اجر عظیم عطا فرمائیں گے

القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 74

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 52

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ‌ ؕ وَمَنۡ يَّلۡعَنِ اللّٰهُ فَلَنۡ تَجِدَ لَهٗ نَصِيۡرًا ۞

ترجمہ:

یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جب پر اللہ لعنت کرے تو (اے مخاطب) تو ہرگز اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جب پر اللہ لعنت کرے تو (اے مخاطب) تو ہرگز اس کا کوئی مددگار نہ پائے گا۔ (النساء : ٥٢) 

چونکہ یہودیوں نے بت پرستوں کو موحدین پر فضیلت دی تھی ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت فرمائی ‘ اور اللہ کی لعنت کا معنی ہے ان کو اللہ کی رحمت سے بالکل یہ دور کردیا جائے ‘ اور یہ ان پر دنیا میں لعنت ہے یہ جہاں کہیں بھی ہوں لعنتی رہیں گے اور آخرت میں ان پر زیادہ لعنت ہوگی جس دن کوئی شخص کسی کافر کے کام نہیں آسکے گا اس کے برخلاف مومنوں کو اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 52

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظۡلِمُ مِثۡقَالَ ذَرَّةٍ‌ ۚ وَاِنۡ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفۡهَا وَيُؤۡتِ مِنۡ لَّدُنۡهُ اَجۡرًا عَظِيۡمًا

ترجمہ:

بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک اللہ ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا اور اگر کوئی نیکی ہو تو اس کو دگنا کردیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عطا فرماتا ہے۔ (النساء : ٤٠) 

اللہ کے ظلم نہ کرنے کا معنی :

ظلم کا معنی ہے کسی چیز کو اس کے مخصوص محمل کے سوا ‘ کمی یا زیادتی کرکے کسی اور جگہ رکھنا سو اس آیت میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ کسی کی نیکیوں کے ثواب میں کمی کرتا ہے نہ کسی کی برائیوں کے عذاب میں کمی کرتا ہے ‘ اس لئے بندوں کو چاہیے کہ انکو جس چیز کا حکم دیا ہے اس پر عمل کریں اور جس کام سے منع کیا ہے اس سے رک جائیں۔ 

ظلم کا یہ معنی بھی ہے : غیر کی ملک میں تصرف کرنا ‘ اللہ کے سوا جو کچھ ہے وہ اللہ کی ملکیت ہے اور مالک اپنی ملک میں جو تصرف بھی کرے وہ ظلم نہیں ہے۔ اگرچہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرے گا لیکن پھر بھی بفرض محال اگر وہ تمام مخلوق کو دوزخ میں ڈال دے تو یہ ظلم نہیں ہوگا کیونکہ سب اس کے مملوک ہیں اور وہ مالک علی الاطلاق ہے ہم نے بفرض محال اس لیے کہا ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کو اجر وثواب دینے کا وعدہ فرما چکا ہے اور اپنے وعدے کے خلاف کرنا اس کے حق میں محال ہے کیونکہ انعام کا وعدہ کرکے انعام نہ دینا عیب ہے اور عیب اللہ کے لیے محال ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کے اجروثواب بڑھانے کا معنی : 

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اگر کوئی نیکی ہو تو وہ اس کو دگنا کردیتا ہے ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ بندہ ایک نیکی پر دس گنے اجر کا مستحق ہے تو اللہ اس کو بیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا تیس گنا اجر عطا فرمائے گا یا اس سے بھی زیادہ عطا فرمائیگا۔ 

امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

زازان بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس گیا انہوں نے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیگا ‘ پھر اللہ کی طرف سے ایک منادی یہ ندا کرے گا کہ جس شخص نے اپنا حق لینا ہو آئے اور اپنا حق لے لے ‘ بخدا اگر بچے کا اپنے باپ پر یا کسی کا اپنے بیٹے پر یا اپنی بیوی پر جو بھی حق ہوگا وہ لے لے گا ‘ خواہ وہ چھوٹا حق ہو ‘ اور اس کا مصداق کتاب اللہ میں یہ آیت ہے : 

(آیت) ” فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسآء لون “۔ (المؤمنون : ١٠١) 

ترجمہ : پھر جب صور پھونکا جائے گا تو ان کے درمیان اس دن رشتے (باقی) نہیں رہیں گے اور نہ وہ ایک دوسرے کا حال پوچھیں گے۔ 

ایک شخص سے کہا جائیگا ان لوگوں کے حقوق ادا کرو وہ شخص کہے گا اے رب ! دنیا تو گذر چکی ہے میں ان کے حقوق کہاں سے ادا کروں ؟ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا اس شخص نے نیک اعمال کو دیکھو ‘ اور مستحقین کو اس کی نیکیاں دید و ‘ پھر جب اس کی ایک ذرہ کے برابر نیکی رہ جائے گی تو فرشتے کہیں گے ‘ (حالانکہ اللہ کو خوب علم ہے) اے ہمارے رب ہم نے ہر حقدار کو اس کی نیکی دیدی اب اس کی صرف ایک نیکی رہ گئی ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائیگا میرے اس بندہ کی نیکی کو دگنا چوگنا کردو ‘ اور اس کو میرے فضل اور رحمت سے جنت میں داخل کردو ‘ اور اس کا مصداق یہ آیت ہے ‘ اور اگر وہ بندہ شقی ہو اور اس کی تمام نیکیاں ختم ہوجائیں تو فرشتے عرض کریں گے کہ اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں اور اس کی صرف برائیاں رہ گئی ہیں اور لوگوں کے حقوق باقی ہیں اللہ تعالیٰ فرمائیگا حقداروں کے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دو اور اس کے لئے جہنم کا پروانہ لکھ دو ۔ (نعوذ باللہ منہ) 

ابوعثمان النھدی بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت ابوھریرہ (رض) سے ملاقات ہوئی میں نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ ایک نیکی کا اجر بڑھا کر ایک بڑھا کر ایک کروڑ درجہ کردیا جاتا ہے ‘ انہوں نے کہا تم کو اس پر کیوں تعجب ہے بہ خدا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک نیکی کو ہزار ضرب ہزار (ایک کروڑ) درجہ تک پہنچا دے گا۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٥٨۔ ٥٧ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے ‘ اس کا ایک معنی یہ ہے کہ بندہ کا عمل اتنے اجر کا مقتضی نہیں ہے یہ اجر اللہ اپنے پاس سے عطا فرماتا ہے ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نیکیوں کا اجر وثواب بڑھاتا ہے جس سے بندہ کو جنت میں جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور اپنے پاس سے اجر عظیم عطا فرماتا ہے جس سے بندہ کو روحانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ روحانی لذتیں اللہ تعالیٰ کے دیدار سے حاصل ہوتی ہے اور یہ جنت میں حاصل ہونے والی سب سے عظیم نعمت ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 40

دل کی دنیا بدل گئی

حکایت نمبر146: دل کی دنیا بدل گئی

حضرت سیدنا حسن بن حضر علیہ رحمۃ اللہ الاکبر فرماتے ہیں، مجھے بغداد کے ایک شخص نے بتا یا کہ حضرت سیدنا ابو ہاشم علیہ رحمۃ اللہ الدائم نے بیان فرمایا:” ایک مرتبہ میں نے بصرہ جانے کا ارادہ کیا۔چنانچہ میں ساحل پر آیا تا کہ کسی کشتی میں سوار ہو کر جانبِ منزل روانہ ہوجاؤں،جب وہا ں پہنچا تو دیکھا کہ ایک کشتی موجود ہے اور اس میں ایک لونڈی اور اس کا مالک سوار ہے ۔ میں نے بھی کشتی میں سوار ہونا چاہا تو لونڈی کے مالک نے کہا :” اس کشتی میں ہمارے علاوہ کسی اور کے لئے جگہ نہیں ،ہم نے یہ ساری کشتی کرایہ پر لے لی ہے لہٰذا تم کسی اور کشتی میں بیٹھ جاؤ۔” لونڈی نے جب یہ بات سنی تو اس نے اپنے آقا سے کہا :” اس مسکین کو بٹھا لیجئے۔” چنا نچہ اس لونڈی کے مالک نے مجھے بیٹھنے کی اجازت دے دی اور کشتی جھومتی جھومتی بصرہ کی جانب سطحِ سمند ر پر چلنے لگی، موسم بڑا خوشگوار تھا۔ میں ان دونوں سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھا ہوا تھا۔ وہ دونوں خوش گپیوں میں مشغول خوشگوار موسم سے خوب لُطف اَندو ز ہو رہے تھے ۔

پھر اس لونڈی کے مالک نے کھانا منگوایا اور دستر خوان بچھا دیا گیا۔ جب وہ دونوں کھانے کے لئے بیٹھے تو انہوں نے مجھے آواز دی:” اے مسکین !تم بھی آجاؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ ۔” مجھے بہت زیادہ بھوک لگی تھی اور میرے پاس کھانے کو کچھ بھی نہ تھا چنانچہ میں ان کی دعوت پر ان کے ساتھ کھانے لگا ۔

جب ہم کھانا کھا چکے تو اس شخص نے اپنی لونڈی سے کہا:” اب ہمیں شراب پلاؤ۔” لونڈی نے فوراً شراب کا جام پیش کیا اور وہ شخص شراب پینے لگاپھر اس نے حکم دیاکہ اس شخص کو بھی شراب پلاؤ ۔ میں نے کہا:”اللہ عزوجل تجھ پر رحم فرمائے، میں تمہارا مہمان ہوں او ر تمہارے ساتھ کھانا کھا چکاہوں،اب میں شراب ہرگز نہیں پیوں گا ۔” اس نے کہا:” ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔” پھر جب وہ شراب کے نشے میں مست ہوگیا تو لونڈی سے کہا :”سارنگی (یعنی باجا) لاؤ او رہمیں گا نا سناؤ ۔” لونڈی سارنگی لے کر آئی اور اپنی پُر کشش آواز میں گانے لگی ، اس کا مالک گانے سنتا رہا اور جھومتا رہا ، لونڈی بھی سارنگی بجا تی رہی اور پُرکشش آواز سے اپنے مالک کا دل خوش کرتی رہی ۔ 

یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا وہ دونوں اپنی ان رنگینیوں میں بدمست تھے اورمَیں اپنے رب عزوجل کے ذکر میں مشغول رہا۔ جب کافی دیر گزر گئی اور اس کا نشہ کچھ کم ہوا تو وہ میری طر ف متوجہ ہوا او رکہنے لگا:” کیاتُونے پہلے کبھی اس سے اچھاگانا سنا ہے؟ دیکھو!کتنے پیارے انداز میں اس حسینہ نے گانا گایا ہے،کیا تم بھی ایساگا سکتے ہو ؟ ” میں نے کہا :” میں ایک ایسا کلام آپ کو سنا سکتا ہو ں جس کے مقابلے میں یہ گانا کچھ حیثیت نہیں رکھتا ۔” اس نے حیران ہوکر کہا :”کیا گانوں سے بہتر بھی کوئی کلام ہے؟” میں نے کہا :”ہاں! اس سے بہت بہتر کلام بھی ہے۔” اس نے کہا:” اگر تمہارا دعوی درست ہے تو سناؤ ذرا ہم بھی تو سنیں کہ گانوں سے بہتر کیا چیز ہے؟”تو مَیں نے سُوْرَۃُ التَّکْوِیْر کی تلاوت شروع کردی :

اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ ۪ۙ﴿۱﴾وَ اِذَا النُّجُوۡمُ انۡکَدَرَتْ ۪ۙ﴿۲﴾وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ ۪ۙ﴿۳﴾

ترجمہ کنزالایمان:جب دھوپ لپیٹی جائے اورجب تارے جھڑپڑیں اور جب پہاڑچلائے جائیں۔(پ30،التکویر:1تا3)

میں تلاوت کرتا جارہا تھا او راس کی حالت تبدیل ہوتی جارہی تھی۔اس کی آنکھوں سے سیلِ اشک رواں ہوگیا ۔بڑی توجہ وعاجزی کے ساتھ وہ کلامِ الٰہی عزوجل کو سنتا رہا ۔ایسا لگتا تھا کہ کلام ِالٰہی عزوجل کی تجلیاں اس کے سیاہ دل کو منور کر چکی ہیں اور یہ کلام تاثیر کا تیر بن اس کے دل میں اُتر چکا ہے،اب اسے عشقِ حقیقی کی لذت سے آشنائی ہوتی جارہی تھی۔تلاوت کر تے ہوئے جب میں اس آیت مبارکہ پر پہنچا :’ ‘وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَتْ 0 ترجمہ کنز الایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے۔(پ۳۰،التکریر:۱۰)”تو اس نے اپنی لونڈی سے کہا:”جا !میں نے تجھے اللہ عزوجل کی خاطر آزاد کیا ۔”پھر اس نے اپنے سامنے رکھے ہوئے شراب کے سارے برتن سمندر میں انڈیل دئیے۔ سارنگی ، باجا اور آلات لہو ولعب سب تو ڑ ڈالے پھر وہ بڑے مؤ دبانہ اَنداز میں میرے قریب آیا اور مجھے سینے سے لگا کر ہچکیاں لے لے کر رونے لگا او رپوچھنے لگا:”اے میرے بھائی! مَیں بہت گناہگار ہوں، مَیں نے ساری زندگی گناہوں میں گزاردی اگر میں اب توبہ کرو ں تو کیا اللہ عزوجل میری تو بہ قبول فرمالے گا ؟”

مَیں نے اسے بڑی محبت دی اور کہا:” بے شک اللہ عزوجل تو بہ کرنے والوں اور پاکیزگی حاصل کرنے والوں کو بہت پسند فرماتا ہے ،وہ تو تو بہ کرنے والوں سے بہت خوش ہوتا ہے، اللہ عز وجل کی بارگاہ سے کوئی مایوس نہیں لوٹتا، تم اس سے تو بہ کرو وہ ضرور قبول فرمائے گا ”

چنانچہ اس شخص نے میرے سامنے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کی اور خوب رو رو کر معافی مانگتا رہا۔ پھر ہم بصرہ پہنچے اور دونوں نے اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر ایک دوسرے سے دوستی کرلی۔ چالیس سال تک ہم بھائیوں کی طرح رہے چالیس سال بعد اس مردِ صالح کا اِنتقال ہوگیا ۔مجھے اس کا بہت غم ہوا ،پھرایک رات میں نے اسے خواب میں دیکھا تو پوچھا:” اے میرے بھا ئی! دنیا سے جانے کے بعد تمہارا کیا ہوا تمہا را ٹھکانہ کہا ں ہے ؟” اس نے بڑی دِلربا اورشیریں آواز میں جواب دیا: ”دنیا سے جانے کے بعد مجھے میرے رب عزوجل نے جنت میں بھیج دیا ۔”

میں نے پوچھا:” اے میرے بھائی !تمہیں جنت کس عمل کی وجہ سے ملی؟ ” اس نے جواب دیا :”جب تم نے مجھے یہ آیت سنائی تھی:

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ ﴿۪ۙ10﴾

ترجمہ کنز الایمان:اور جب نامہ اعمال کھولے جائیں گے۔ (پ30،التکویر:10)

تواسی آیت کی برکت سے میری زندگی میں انقلاب آگیا تھا۔اسی وجہ سے میری مغفرت ہوگئی اور مجھے جنت عطاکر دی گئی۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي الله تعالي عليه وسلم)

(میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!قرآنِ پاک ایک ایسی عظیم نعمت ہے کہ اس کو سن کر نہ جانے کتنے ایسے سیاہ دل روشن ہوگئے جو گناہو ں کے تاریک گڑھے میں گر چکے تھے ، کتنے ہی مردہ دلوں کو قرآن کریم نے جِلا بخشی ،بڑے بڑے مجرموں نے جب اسے سنا تو ان کے دل خوفِ خداوندی عزوجل سے لرز اٹھے اور وہ تمام سابقہ گناہوں سے تو بہ کر کے صلوٰۃ وسنت کی راہ پر گامزن ہوگئے۔ کلام الٰہی عزوجل ایسا بابرکت کلام ہے کہ جس نے بڑے بڑے کفار کو کفر کے ظلمت کدوں سے نکال کر ایسی عظمتیں عطا کیں کہ وہ آفتا ب ِہدایت بن کر لوگو ں کے ہادی ومقتدا بن گئے او راپنے جلوؤں سے دنیا کو منور کرنے لگے اور جو اِن کے دامن سے وابستہ ہوگیا وہ بھی منور ہوگیا ۔اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل !ہمیں قرآن کریم کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اوراس کی تعلیم عام کرنے کی تو فیق عطا فرما ۔) 

؎ یہی ہے آرزو تعلیمِ قرآں عام ہوجائے ہر ایک پر چم سے اُونچا پرچمِ اسلام ہوجائے

آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم