قرآنی تعارض پر ایک سؤال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر

قرآنی تعارض پر ایک سوال اور مسئلہ حساب و کتاب اور قضاء قدر:

اعتراض:

قرآن میں ہے:

"وما تشاؤون إلا أن يشاء الله..” (سورۃ انسان ، 30 )

یہ آیت بتارہی ہے کہ ہوتا وہی جسکو اللہ چاہتا ہے تو جب جو وہ چاہتا ہے وہی ہونا ہے تو ہمارا حساب کیوں ؟

پھر دوسری آیت میں ہے :

"وقل الحق من ربكم فمن شاء فليؤمن ومن شاء فليكفر..” ( سورۃ کھف ، 29 )

اس آیت میں اللہ مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف کررہا ہے اور پہلی آیت میں أپنی ذات کی طرف تو اس طرح قرآن کی دونوں آیات میں تعارض ہوا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب أز ابن طفیل الازہری ( محمد علی):

محترم دوست!

مختصراً یہ بتاتا چلوں کہ انسان کے مختلف مجالات ہیں ایک من مجال خلقت ، ایک مجال تکلیف ( شریعت کا پابند ہونا) ، ایک مجال عدم ( موت)

أب قضاء و قدر کو ان تین مجالات کی روشنی میں سمجھیں:

پہلا مجال خلقت:

انسان مجال خلقت میں آزاد نہیں ، یعنی اپنی ولادت ، أپنی جنڈر اپنی لمبائی و ہائٹ وغیرہ لہذا اس میں انسان مجبور ہے وہ چاہے جتنے بھی آزادی کے نعرے لگا لے وہ اس میں بے بس ہے اور مجبور ہے اسکو کوئی اختیار حاصل نہیں ، لہذا حریت مطلقہ کا خیال طبعی طور پہ باطل ہے۔

دلیل:

” لِّلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۚ يَهَبُ لِمَن يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ "

( سورۃ شوری ، 49 )

ترجمہ: زمین و آسمان اللہ کی ملکیت ہیں ، جو وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہے بیٹی عطاء کردے جیسے چاہے بیٹا دے دے۔ ( اور یہی آیت دیگر مخلوق کے لیے بھی ہے )

دوسرا مجال عدم:

اسی طرح انسان مجال عدم یعنی موت میں بھی مجبور ہے اور اسے کوئی آزادی حاصل نہیں وہ اپنے اختیار سے اپنی موت اور اسکے مکان و وقت کا تعین نہیں کرسکتا لہذا وہ تقدیر الہٰی میں مجبور ہے وہ اسی کے سامنے سر تسلیم خم ہے۔

دلیل:

” أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدرِككُّمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنتُمْ فِي بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ۔۔”

( سورۃ نساء ، 78 )

ترجمہ:

تم جہاں بھی ہو موت تمہیں پالے گی اگر چہ تم كتنے ہی مضبوط قلعے ( محلات) میں ہوں۔

مجال خلقت و عدم پر خود بداہت دلیل جلی ہے۔

تیسرا مجال تکلیف:

مجال تکلیف یعنی مکلف ہونا مطلب یہ کہ اللہ کے أحکام کی اتباع کرنا ، اس مجال میں انسان آزاد ہے کیونکہ اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ ظلم کرے یا عدل، جھوٹ بولے یا سچ ، قتل کرے یا جان کی حفاظت اس میں اسے اختیار حاصل ہے

اس مجال میں وہ تقدیر کے سامنے مجبور نہیں اور یہ منطقی طور پہ ثابت ہے کہ بعض اوقات انسان جھوٹ کو ترک کرکے سچ بولتا ہے ، قتل کو چھوڑ کر جان کی حفاظت کرتا ہے تو یہ دلیل ہے کہ وہ آزاد ہے مجبور نہیں ۔

اس پر کافی دلائل ذکر کیے ہیں قرآن نے کیوں محاسبہ کا مدار اسی پر ہے کچھ دلائل درج ذیل ہیں :

” وهديناه النجدين "

(بلد ،10 )

ترجمہ:

ہم نے اس ( انسان) کو واضح دو ( خیر وبد) رستوں ( میں فرق کرنے کی) ہدایت دی.

"فألھمھا فجورھا وتقواھا”

(شمس ، 8 )

ترجمہ:

أس ( اللہ رب العزت) نے أس ( نفس انسانی) کو بدی وہ نیکی کا إلہام کردیا.

"وقل الحق من ربکم فمن شاء فلیؤمن۔۔۔۔۔”

( اس آیت کا نمبر سؤال میں درج ہے)

ترجمہ:

آپ فرمادیں! حق تمہارے رب کی طرف سے ہے پس جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔

” لا إكراه في الدين قد تبين الرشد من الغي …..”

( بقرۃ ، 256 )

ترجمہ:

دین میں ( داخل ہونے کے لیے )کوئی جبر نہیں ، تحقیق ہدایت گمراہی سے واضح ہوچکی ہے۔

اب آپ کے سؤال کی طرف آتے ہیں کہ محاسبہ کیوں؟

آپ نے دیکھا کہ انسان مجال خلقت اور مجال عدم میں مجبور ہے

تو لہذا ان دونوں مجالات میں کوئی محاسبہ نہیں ،

اللہ آپ سے آپکے رنگ مکان ولادت قد و قامت کے متعلق سوال نہیں کرے گا اور نہ محاسبہ اور اسی طرح نہ ہی آپکی موت کے متعلق کہ اس وقت کیوں فوت ہوئے؟ اس جگہ کیوں فوت ہوئے؟

اس کا بھی سؤال نہیں ہوگا کیونکہ انسان مجبور ہے تو لہذا اس میں محاسبہ نہیں ہے ، اگر اس میں محاسبہ ہوتا تو پھر آپکا اعتراض بنتا تھا ،کیونکہ ان دو مجالات میں محاسبہ کرنا گویا کہ ظلم ہے ، اس لیے کوئی حساب کتاب نہیں۔

اب بچا تیسرا مجال وہ مجال تکلیف یعنی احکام شریعت کی پابندی تو اس میں انسان آزاد ہے جیسے ہم نے وضاحت کی تو جب وہ آزاد ہے تو شر و خیر کے متعلق بھی اسے بتادیا گیا تو اب اسکے خیر و شر کا حساب ہوگا ، اور یہ حساب اسکی آزادی کی وجہ سے ہے۔

اب اعتراض ہوگا کہ شر کو اللہ نے پیدا کیا تو پھر حساب کیسا؟

جواب:

پہلی بات تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ شر ایک اضافی نسبت کا نام ہے،

اور اگر مان بھی لیں تو اس نے شر کو مستقل پیدا کیا ہے لیکن ہمیں اسی شرکو کرنے پر مجبور نہیں کیا بلکہ بتایا ہے کہ یہ شر ہے اور یہ خیر اور ہمیں آزادی دے دی کہ جو چاہو کرو کیونکہ شر و خیر مجال تکلیف میں آتے ہیں،

اور اس میں ہمیں آزادی ہے لیکن شر پر سزا ہے اور خیر پر جزاء تو لہذا جب ہم آزاد ہیں تو پھر حساب کرنا عدل کا تقاضا ہے ،

اور یہ حساب صرف مجال تکلیف میں ہے مجال خلقت و مجال عدم میں نہیں کیونکہ ان دونوں میں ہم مجبور ہیں لہذا محاسبہ سے آزاد ہیں۔

دوسرا:

آپ نے دو آیات کے تعارض کی بات کی۔

تو اگر اب آپ پہلے سؤال کے جواب میں غور فرمائیں تو آپکو معلوم ہوجائے گا کہ دونوں آیات میں کوئی تعارض نہیں مجال خلقت و مجال عدم اور مجال تکلیف کو دیکھتے ہوئے۔

دوسرا اس کا جواب یہ ہے کہ :

مجال تکلیف میں جو ہمیں مشیئت کی آزادی ہے یہ بھی اللہ کی مشیئت کی وجہ سے عطاء ہوئی تو جس میں مشیئت کی نسبت اللہ کی طرف ہے وہ مجال خلقت و عدم و مجال تکلیف میں ذاتی اعتبار سے ہے ،

اور جس آیت میں مشیئت کی نسبت مخلوق کی طرف ہے تو وہ مجال تکلیف میں عطائی ہے

تو جب اس نے ہمیں مجال تکلیف میں آزادی دی ہے تو ضروری ہے کہ اسکا محاسبہ بھی وہ کرے اور یہی عدل کا تقاضا ہے

لہذا دونوں آیات تعارض سے پاک ہیں اور حکمت بلیغ کی طرف اشارہ کررہی ہیں۔

واللہ أعلم.

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

جھوٹ کی کچھ مروَّجہ صورتیں

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

تحریر : سید محمد اکرام الحق قادری مصباحی

صدر المدرسین : دارالعلوم محبوبِ سبحانی، کُرلا ویسٹ، ممبئی

🌹🌹🌹🌹🌹🌹

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَ اِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا اؤتُمِنَ خَانَ [الصحیح للامام البخاری ، کتاب الایمان ، باب علامۃ المنافق ، رقم الحدیث: ۳۳]ترجمہ:منافق کی تین نشانیاں ہیں [۱] جب بات کرے تو جھوٹ بولے [۲] جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے[۳] جب اُس کے پاس کوئی امانت رکھی جاے تو اُس میں خیانت کرے ۔یعنی مسلمان کی شان سے یہ بہت بعید ہے کہ وہ جھوٹ بولے ، وعدہ خلافی کرے اور امانتوں میں خیانت کرے ۔ ایسا کرنا تو منافقوں کا کام ہے جو کہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے ؛لیکن جو لوگ اللہ و رسول پر یقینِ کامل رکھتے ہیں وہ صداقت کے پیکر ہوتے ہیں ، کیے ہوے وعدہ کو پورا کرنا اُن کی فطرت ہوتی ہے اور وہ خیانت سے کوسوں دور رہتے ہیں ۔حدیثِ پاک میں آقاے دو عالَم ﷺنے اسلام کے بنیادی اوصاف بیان فرماے ہیں ، اِسی لیے بعض روایتوں میں یہ آیا کہ جو لوگ اِن اوصاف سے عاری ہوں وہ مسلمان کہلانے کے مستحق نہیں ، اگرچہ وہ نمازی ، روزے دار اور مدعیٔ ایمان ہوں ۔

کچھ نادانوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ دین صرف چند فرائض و واجبات پر عمل کر لینے کا نام ہے ۔ نماز پڑھ لی ، روزے رکھ لیے ، حجِّ بیت اللہ کے ساتھ ہر سال ایک عمرہ کر لیا اور زکوٰۃ کے نام پر کچھ رقم غریبوں اور مسکینوں کو دے کر فارغ ہو گیے۔ایسے جاہلوں نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ اِن باتوں کے علاوہ ہم سے کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں ہوگا ۔ اِسی لیے بہت سے نمازیوں اور روزے داروں بلکہ حاجی صاحبان کو جھوٹ بولتے ، مکاری کرتے ، ناجائز طریقے سے تجارت کرتے ، امانت میں خیانت کرتے ، گالی گلوج کرتے ، سودی کاروبار کرتے ، رشوت خوری کرتے ،ناپ تول میں کمی کرتے اور بہت سے ایسے کاموں میں مبتلا دیکھا جاتا ہے جن کی مذہبِ اسلام میں ایک ذرّے کے برابر ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ایسے لوگ نماز ، روزہ اور حج و زکوۃ کا اہتمام کرکے ، سر پر ٹوپی رکھ کر یا عِمامہ باندھ کراور چہرے پر ڈاڑھی سجا کرخود کو بہت بڑا متقی وپارسا خیال کرتے ہیں حالانکہ دیگر ناجائز کاموں اور حرام کاریوں میں مبتلا ہونے کے سبب یہ لوگ بد ترین فاسق و فاجر ہوتے ہیں ۔

جو چیزیں مومن کو فاسق و فاجر بنا کر کمالِ ایمان سے بہت دور کر دیتی ہیں ،اُن میں سے تین اہم چیزوں کا ذکر حدیثِ مذکور میں کیا گیا ہے ، جن کے اندر یہ تینوں باتیں ہو ں وہ منافقوں جیسے کام کر رہے ہیں ، ایسے لوگ صحیح معنوں میں مومن کہلانے کا حق نہیں رکھتے ۔عام مسلمان کے ذہنوں میں حدیثِ پاک میں مذکور تینوں عیبوں کا تصور بہت ہی محدود ہے ، حالاں کہ اِن کے مفہوم میں بہت زیادہ وسعت ہے ، اتنی وسعت کہ اگر کوئی انسان زندگی کے تمام شعبوں میں اِن تینوں برائیوں سے بچتا رہے تویقینا وہ اللہ رب العزت کا صالح بندہ اور حضور ﷺ کا سچا غلام ہوگا ۔

نفاق کی سب سی پہلی علامت ’’جھوٹ بولنا‘‘ ہے ۔ جھوٹ بولنا حرام و ناجائز ہے ۔ایسا حرام و ناجائز کہ آج تک کسی بھی قابلِ شمار مذہب و مسلک میں اِسے جائز و درست قرار نہیں دیا گیا ، حتی کہ زمانۂ جاہلیت کے لوگ بھی اِسے بہت برا سمجھتے تھے۔ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ زمانۂ جاہلیت کے کفار و مشرکین سیکڑوں قسم کی برائیوں میں مبتلا ہونے کے باوجود جھوٹ جیسی بیماری سے بدرجۂ غایت نفرت کیا کرتے تھے ۔ گناہوں کا پلندہ ہونے اور رب تعالیٰ کی توحید کے انکاری ہونے باوجود کذب بیانی سے کوسوں دور رہا کرتے تھے ؛ کیوں کہ خلافِ واقعہ بات کرنا اُن کی غیرت کے خلاف تھی ۔

مگر افسوس صد افسوس!کہ دیگر مہلک امراض کی طرح ’’کذب بیانی ‘‘کے خطرناک جراثیم بھی امتِ مسلمہ کی رگوں میں داخل ہو چکے ہیں ۔ عجیب تماشا ہے ! لوگ اِس دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں کہ گویا یہ گناہ ہے ہی نہیں ۔ اکثر مسلم آبادی جھوٹ میں اِس قدر گرفتار ہے کہ اگر سروے کرکے کذب بیانی کا فی صد نکالا جاے تو تقریباً مسلمانوں کی ۲۰ پرسنٹ سے زائد باتیں جھوٹی اور خلافِ واقعہ نکلیں گی۔ حد تو یہ ہے کہ چھوٹے بڑوں سے ، بڑے چھوٹوں سے ،بچے ماں باپ سے ، والدین اپنے بچوں سے ،طلبہ اساتذہ سے اور اساتذہ اپنے طلبہ سے ،تاجر گاہکوں سے اور گاہک اپنے تاجروں سے ،دوست دوست سے اور پڑوسی اپنے پڑوسی سے جھوٹ بولنے میں نہ عار محسوس کرتے ہیں نہ کسی قسم کی جھجھک ۔ یہ جھوٹ اِس قدر تیزی کے ساتھ مسلم معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے کہ اب وہ لوگ جو با قاعدہ حلال و حرام کی تمیز کرتے ہیں ، جائز و نا جائز پر نگاہیں رکھتے ہیں اور شریعت پر چلنے کا اہتمام کرتے ہیں ، اُنھوں سے بھی جھوٹ کی بہت سی قسموں کو حرام و ناجائز ہونے سے خارج سمجھ لیا ہے ؛ کیوں کہ اُن کے گمانِ باطل کے مطابق وہ چیزیں جھوٹ میں داخل ہی نہیں ہیں ۔ اِس لیے ہر صاحبِ ایمان پر لازم و ضروری ہے کہ جھوٹ کی تمام صورتوں کو جانے ، پہچانے اور پھر اُن سے بچنے کی کامیاب کوشش کرے ۔ ورنہ بروزِ قیامت یہ کہہ کر چھٹکارا نہیں مل سکے گا کہ ہمیں کچھ پتا نہ تھا ، ہماری زبان سے لا علمی میں جھوٹ صادر ہو گیا یا ہم سے نادانی میں جھوٹ سرز د ہو گیا ۔

اب ذیل میں کذب بیانی [جھوٹ] کی وہ مروَّجہ صورتیں بیان کی جا رہی ہیں جو بد قسمتی سے مسلم معاشرے میں اِس قدر رواج پا چکی ہیں کہ بالعموم لوگ اُنھیں غلط اور نا جائز نہیں سمجھتے ، بلکہ فخریہ علی الاعلان سر انجام دیتے ہیں ۔حالاں کہ وہ نا جائز و حرام ہیں ۔

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنوانا :

جھوٹا میڈیکل سرٹیفکٹ بنانا یا بنوانا جھوٹ میں شامل ہے ، لہذا جھوٹ کی دوسری صورتوں کی طرح یہ بھی نا جائز و حرام ہے ۔جھوٹے سر ٹیفکٹ کے فاسد جراثیم مسلم معاشرے میں اِس طرح داخل ہو چکے ہیں کہ اچھے خاصے حاجی و نمازی صاحبان بھی اِس میں اِس طرح ملوث ہیں کہ اِ س کے جھوٹ ، غلط اور فراڈ ہونے کا تصور بھی اُن کے دماغ میں نہیں آتا ۔کمپنی سے بلا رخصت غائب ہونے والے ملازمین ، اسکول و کالجز سے بلا اجازت غیر حاضر رہنے والے طلبہ و معلمین جھوٹا سرٹیفکٹ بنوا کر اپنی کمپنی یا کالج میں اِس لیے جمع کرتے ہیں کہ مواخذہ[پوچھ تاچھ] یا تنخواہ کٹنے سے بچ جائیں، یا پھرمزید چھٹیاں حاصل کرنے کے لیے اِسے بنوا کر بھجوا دیتے ہیں ۔ بعض حضرات تواپنے دوست و احباب سے ایسے جھوٹے سرٹیفکٹ بنوانے کا ذکر اِس انداز سے کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی بات ہو اوراس کے جواز میں کوئی شبہ نہ ہو ، حالاں کہ اِس کا جھوٹ ہونا مسلَّمات میں سے ہے ۔ لہذا مسلمانوں کو اِس طرح کے فراڈ اور ایسی کذب بیانی سے بچنا چاہیے !

جھوٹی سفارش کرنا :

جھوٹی سفارش کرنا بھی جھوٹ کی مروجہ شکلوں میں سے ایک نا جائز شکل ہے ۔ مگر صد افسوس! کہ اِسے بھی بہت سے مسلمانوں نے جھوٹ ہونے سے خارج کر دیا ہے ۔ اِس روحانی مرض میں لوگوں کا ایسا ابتلاے عام ہے کہ الامان والحفیظ ۔جاہل تو جاہل اچھے خاصے پڑھے لکھے دین دار لوگ بھی اِس میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔ نوکری دلانے ، اسکول یا مدرسے میں داخلہ کرانے ، پاسپورٹ وغیرہ سرکاری کاغذات بنوانے اور زمین و جائداد کی خریداری کے لیے دھڑلِّے سے جھوٹی سفارشیں کی جا رہی ہیں ۔ لا علمی میں کسی کی جھوٹی سفارش ہو جاے توخیر شرعاً جرم نہیں ، مگر قصداً جان بوجھ کر جھوٹی سفارش کرنا یقیناً نا جائز و حرام ہے ، شریعتِ اسلامیہ میں اِس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ایسے لوگوں کو خدا کا خوف کرنا چاہیے اور آخرت کے سخت محاسبہ سے ڈرنا چاہیے ۔ اللہ ربُّ العزت قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے : مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ [سورۂ ق ، آیت نمبر : ۱۸]ترجمہ: وہ جو بات بھی کرتا ہے اس کو لکھنے کے لیے اس کا محافظ فرشتہ منتظر رہتا ہے ۔مفہوم ِ آیت : تمھاری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ تمھارے نامۂ اعمال میں رکارڈ ہو رہا ہے ۔لہذا ہم سب کو اِس خوش نما جھوٹ سے بھی لازماً پرہیز کرنا چاہیے !

مذاق میں جھوٹ بولنا :

مذاق و تفریح میں بولا جانے والا جھوٹ بھی جھوٹ ہی ہوتا ہے ، مگر بہت سے مسلمان مذاق میں جھوت بولنے کو برا نہیں سمجھتے ، بلکہ بعض نادان تو اِسے اپنا حق سمجھتے ہیں ۔ حالانکہ ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی ﷺ نے تفریح میں بھی زبان سے جھوٹ نکالنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے ۔چنانچہ آقاے دو عالم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں :وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّثُ فَیَکْذِبُ لِیُضْحِکَ بِہٖ الْقَوْمَ وَیْلٌ لَّہٗ وَیْلٌ لَّہٗ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث: ۴۹۹۲ ] ترجمہ:جو شخص جھوٹ بول کر لوگوں کو ہنساے اُس پر افسوس ہے ، افسوس ہے ، افسوس ہے ۔یہ ترجمہ میں نے بڑی احتیاط سے کیا ہے ۔ورنہ سخت لب و لہجہ میں اس کا ترجمہ کیا جاے تو یوں ہوگا ’’تباہی و بربادی یا دردناک عذاب ہے اُس کے لیے جو لوگوں کو ہنسانے کے لیے کذب بیانی سے کام لے ‘‘ ایسا بھی نہیں کہ مذہبِ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو تفریح و مذاق سے یکسر محروم کر رکھا ہے ، بلکہ اس نے تفریحِ طبع کے لیے پاکیزہ اور صاف ستھرے مذاق کی اجازت دی ہے ۔ہمارے نبی آقاے دو عالم ﷺ نے بھی صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے خوش طبعی اور مذاق کی باتیں ارشاد فرمائی ہیں ۔ کتبِ احادیث میں کثیر روایتیں موجود ہیں ، لیکن آپ ﷺ نے مذاق میں بھی کبھی کذب بیانی سے کام نہیں لیا ،بلکہ ہمیشہ آپ کی زبانِ اقدس سے حق ہی جاری ہوا ۔

شمائلِ ترمذی کے اندر یہ روایت موجود ہے کہ ایک مرتبہ آپ ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں ایک خاتون نے آکر عرض کیا :حضور ! دعا فرما دیں کہ اللہ عز وجل مجھے جنت میں پہنچا دے ! حضور ﷺ نے[از راہِ مزاح] فرمایا: کوئی بھی بڑھیا جنت میں نہیں جاے گی ۔یہ سن وہ بوڑھی خاتون زار و قطار رونے لگیں ۔ حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ کوئی عورت اِس حالت میں جنت میں نہیں جاے گی کہ وہ بوڑھی ہو ، بلکہ جوان ہو کر جاے گی ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی صفۃ مزاح رسول اللہ ﷺ ]آپ غور فرمائیں کہ : آقا ﷺ نے مذاق میں کوئی ایسی بات نہیں فرمائی جو خلافِ واقعہ ہو ۔ حضور ﷺ کی پر لطف مذاق کی ایسی متعدد روایتیں موجود ہیں۔

شمائلِ ترمذی کی یہ روایت بھی دیکھیں ! کہ:ایک دیہاتی صحابی آپ ﷺ کی بارگاہِ بے کس پناہ میں آکر عرض گزار ہوے ، یا رسول اللہ !مجھے ایک اونٹنی عنایت فرما دیجیے !اُن کی فریاد سن کرحضور ﷺ نے[از راہِ مذاق]ارشاد فرمایا : ہم تمھیں ایک اونٹنی کا بچہ دیں گے ۔اُنھوں نے کہا: حضور ! مجھے سواری کا جانور چاہیے ! اونٹنی کا بچہ میرے کس کام کا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ارے [نادان]تمھیں جو دیا جاے گا وہ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہوگا ۔[شمائل الترمذی ، باب ما جاء فی مزاح النبی ﷺ ]

لہذا ہمیں اپنی زبان سنبھال کر استعمال کرنی چاہیے ، بطورِ تفریح و مذاق کہی جانے والی باتیں بھی فحش و عریانیت اور کذب بیابی سے پاک ہونی چاہئیں اور مذاق کے معاملات میں بھی اپنے حبیب ،کائنات کی طبیب حضور سرورِ عالم ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کرنا چاہیے !

بچوں سے جھوٹ بولنا کیسا ؟: بعض والدین اپنے بچوں کو بہلانے یا ٹرخانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں ، مثلاً چاکلیٹ یا کھلونا دلانے کا یاباہر لے جانے کا جھوٹا وعدہ کرتے ہیں اور اُس وقت اُن کے حاشیۂ ذہن میں بھی یہ بات نہیں آتی کہ اُنھوں نے جھوٹ بول کر اپنے نامۂ اعمال میں ایک گناہ کا اضافہ کر لیا ہے ۔ صحابۂ رسول حضرت عبد اللہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ :

دَعَتْنِیْ اُمِّیْ یَوْماً وَ رَسُوْلُ اللہِ ﷺ قَاعِدٌ فِیْ بَیْتِنَا فَقَالَتْ ھَا تَعَالَ اُعْطِکَ ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ وَمَا اَرَدْتِّ اَنْ تُعْطِیہِ ، قَالَتْ: اُعْطِیْہِ تَمْرًا ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللہِ ﷺ اَمَا اِنَّکِ لَوْ لَمْ تُعْطیِہِ شَیْئًا کُتِبَتْ عَلَیْکِ کِذْبَۃٌ ۔[السنن لابی داؤد ، کتاب الادب ، باب التشدید فی الکذب ، رقم الحدیث : ۴۹۹۳]

ترجمہ: ایک دن میری ماں نے مجھے بلایا اور کہا : اِدھر آ !میں تجھے کچھ دوں گی ۔اس وقت رسول اللہ ﷺ میرے غریب خانہ پر جلوہ بار تھے ۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے میری ماں سے فرمایا :تونے اِسے کیا دینے کا ارادہ کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : میں اِسے کھجور دوں گی ۔ یہ سن حضور ﷺ نے ماں سے فرمایا: اگر تو اِسے کچھ نہ دیتی تو تیرے نامۂ اعمال میں ایک گناہ لکھا جاتا ۔

اِس حدیثِ پاک سے ہمیں یہ سبق ملا کہ والدین پر واجب ہے کہ محض بہلانے کے لیے اپنے بچوں سے جھوٹ نہ بولیں ، اُن سے وعدہ خلافی نہ کریں ،بلکہ اُن سے ہمیشہ سچ بولیں ، تاکہ بچوں کی دلوں میں سچائی سے الفت ومحبت اور کذب بیانی سے نفرت و بیزاری پیدا ہو ۔ آج مسلم معاشرے میں پروان چڑھنے والے بہت سے بچوں کے سینوں سے جھوٹ کی برائی اِس لیے نکل چکی ہے کہ اُن کی پرورش جھوٹ اور وعدہ خلافی جیسے گندے ماحول میں ہوئی ہے ۔اگر بچوں کو امانت و صداقت کا پیکر بنانا ہے تو گھروں میں دینی ماحول بپا کرنا ہوگا۔

جھوٹے کیریکٹر سر ٹیفکٹ کی حیثیت :

آج کل جھوٹا کیریکٹر سرٹیفکٹ بنانے یا بنوانے کا بھی کا فی رواج ہو چکا ہے ۔عوام تو خیر عوام ہے بہت سے خواص کہلوانے بھی اِس مرض میں مبتلا ہیں ۔شاید ہی کسی کے دل و دماغ میں اِس کی حرمت کا خیال آتا ہو ۔حالاں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ حاصل کرنا یا دوسروں کے لیے جاری کرنا ’’کذب و دغا بازی‘‘ کے زمرے میں آنے کی وجہ سے نا جائز ہے ۔کیوں کہ اِس طرح کے سرٹیفکٹ کو جاری کرنے والا کذب بیانی کرتے ہوے اُس میں یہ لکھتا ہے کہ : مثلاً میں اِنھیں پانچ سال سے جانتا ہوں ، اِنھیں پانچ سال کا تجربہ ہے ، اِ ن کااخلاق و کردار بہت اچھا ہے ۔ وغیرہ وغیرہ ۔تعجب و افسوس اُس وقت زیادہ ہوتا ہے جب مدارسِ اسلامیہ میں داخلہ لینے یا تقرری کرانے کے لیے پڑھے لکھے لوگ اِس قسم کا فراڈ کرتے نظر آتے ہیں ۔بلکہ بعض نادان تو اِس قسم کی حرکت کو نہ صرف یہ کہ درست بلکہ کارِ ثواب سمجھتے ہیں ۔لا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہ العلیِّ العظیمِ ۔

ایسے لوگوں کو سمجھنا چاہیے ! کہ سرٹیفکٹ جاری کرنا یا اس پر دست خط کرنا ایک قسم کی گواہی ہے، سرٹیفکٹ یا تصدیق نامہ جاری کرنے والا در اصل ’’گواہ‘‘ ہوتا ہے ۔ کسی کے بارے میں گواہی اُس وقت تک نہیں دی جا سکتی جب تک اس کے بارے میں یقین سے معلوم نہ ہو ۔اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جسے ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے، لہذا بغیر علم کے کسی کے کیریکٹر و کردار کی گواہی دینا درست نہیں ہے ۔ بلکہ اگر غور کیا جاے تو معلوم ہوگا کہ یہ عمل ’’گناہِ کبیرہ‘‘ ہے ۔ کیوں کہ حدیثِ پاک میں’’ شھادۃ زُور‘‘ یعنی جھوٹی گواہی کو نہ صرف بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے بلکہ آقاے دو عالم ﷺ نے اِسے شرک کے ساتھ ملا کر ذکر فرمایا ہے ۔چنانچہ حضرت ابو بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ : :

کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللہِ ﷺ فَقَالَ: اَلَا اُنَبِّئُکُمْ بِاَکْبَرِ الْکَبَآئِرِ ۔ ثَلَاثاً ۔اَلاِشْرَاکُ بِاللہِ وَ عُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَ شَھَادَۃُ الزُّوْرِ اَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ ۔ وَ کَانَ رَسُوْ لُ اللہِ ﷺ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَمَا زَالَ یُکَرِّرُھَا حَتّٰی قُلْنَا لَیْتَہٗ سَکَتَ ۔ [ الصحیح للامام مسلم ، کتاب الایمان ، باب بیان الکبائر و اکبرھا ۔ رقم الحدیث : ۲۶۹]

ترجمہ: ہم غلامانِ مصطفی اپنے آقا ﷺ کی بارگاہ میں بیٹھے ہوے تھے ۔ تبھی آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمھیں سب سے بڑے گناہوں کے بارے میں نہ بتا دوں ۔ حضور ﷺ نے یہ جملہ تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ عز وجل کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ۔ والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا یا جھوٹی بات بولنا۔آقاے کریم ﷺ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوے تھے ،جب’’ جھوٹی گواہی‘‘ کا ذکر آیا تو آپ وﷺ بالکل سیدھے بیٹھ گیے اور بار بار’’شھادۃ الزور ‘‘ کے الفاظ دہراتے رہے ، یہاں تک کہ ہماری تمنا ہوئی کہ حضو ر ﷺ خاموش ہو جائیں ۔

جھوٹی گواہی کی شناعت و خباثت کا اندازہ اس بات لگائیں کہ آقاے دو عالم ﷺ نے صرف یہی نہیں کہ گناہِ کبیرہ شمار کراتے وقت اِس کا ذکر ’’شرک‘‘ کے ساتھ کیا ، بلکہ اِس کے ذکر کے وقت سیدھے بیٹھ کر اِس کی شدتِ حرمت پر تنبیہ بھی فرمائی ۔

در اصل اِس حدیثِ پاک میں آقاے دو عالم ﷺ نے سنتِ اِلٰہیہ پر عمل کیا ہے ؛ کیوں کہ خود پروردگارِ عالَم نے جھوٹی گواہی کو شرکِ اکبر اور بت پرستی کے ساتھ ملا کر ذکر کیا ہے اور اپنے بندوں کو اِن دونوں سے دور رہنے کا حکم دیا ہے ، فرماتا ہے :

فَاجْتَنِبُوْا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ ۔[سورۃ الحج ، رقم الآیت : ۳۰]ترجمہ: اے میرے بندو! تم بت پرستی کی غلاظت اور ناپاکی سے بچو اور جھوٹی بات سے بھی بچو !

اِ س آیتِ کریمہ اور حدیثِ نبوی سے اُنھیں عبرت حاصل کرنی چاہیے جو جھوٹے تصدیق نامے اور کیریکٹر سر ٹیفکٹ بناتے یا بنواتے پھر رہے ہیںاور اللہ کے بندوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بلکہ غور کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ جھوٹی گواہی دینا جھوٹ بولنے سے زیادہ نقصان دن اور خطرناک ہے ،اس لیے کہ جھوٹی گواہی میں ’’کذب بیانی‘‘ کے ساتھ دوسروں کو ’’گمراہ کرنے‘‘ کے عناصر بھی پاے جاتے ہیں، کیوں کہ جھوٹا سرٹیفکٹ جس کے پاس پہنچے گا بادی النظر میں وہ یہی سمجھے گا کہ یہ صاحب بڑے نیک ہیں اور پھر اس پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ معاملات کرے گا ، جس کے نتیجے میں اُسے نقصان بھی پہنچ سکتا ہے ۔لہذا جھوٹے تصدیق نامے بنانے اور بنوانے سے پرہیز کرنا لازم وضروری ہے ۔

بلا تحقیق کسی مدرسے کی تصدیق کرنا :

بعض لوگ علما یا اربابِ اقتدار یا کسی صاحبِ رسوخ کے پاس آکر اپنے ادارے کے کاغذات دکھا کر ’’تصدیق نامہ ‘‘ لکھنے کا مطالبہ کرتے ہیں اور تصدیق کرنے والا بلا تحقیق و تفتیش اپنے لیٹر پیڈ پر یہ لکھ دیتا ہے کہ ’’ میں اِس ادارے کو جانتا ہوں ، یہاں شاندار دینی تعلیم ہوتی ہے ، دارالاقامہ میں کافی تعداد میں طلبہ بھی رہتے ہیں ،نظم ونسق ماشاء اللہ کافی بہتر چل رہا ہے ، آپ حضرات ادارے کی تعمیر و ترقی کے لیے تعاون فرمائیں ‘‘حالاں کہ تصدیق کرانے والوں میں بہت سے حضرات اعلیٰ درجے کے مکار اور فراڈی ہوتے ہیں ، محض اپنی چالاکی اور چرب زبانی سے لوگوں سے اپنے فرضی مدرسوں کے لیے تصدیق نامے حاصل کر لیتے ہیںاور پھر دھڑلِّے سے چندہ کرتے اور خوب دادِ عیش دیتے ہیں ۔ اِس لیے بلا تحقیق و معلومات کیے کسی بھی نامعلوم شخص کے کہنے پر تصدیق نامہ دینے سے گریز کیا جاے ، کیوں کہ یہ بھی جھوٹی گواہی دینے کی زمرے میں داخل ہونے کے سبب ممنوع ہے ۔

خود ساختہ مولانا یا مفتی بننا کیسا ؟:

بعض لوگ عالم یا مفتی نہیں ہوتے یعنی با ضابطہ کسی ادارے کے فارغ التحصیل نہیں ہوتے ،مگر بڑے ناز و فخر سے خود کو عالم ،مولانا یا مفتی کہلواتے ہیں ، بلکہ اگر اُن کے نام کے آگے اِس قسم کے القاب و آداب مذکور نہ ہوں تو بڑی برہمی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایسے حضرات بھی کذب بیان کے جرم میں مبتلا ہیں ۔ بعض شہروں میں مثلاً ممبئی میں القاب و آداب کی ایسی درگت بنی ہوئی ہے کہ الامان و الحفیظ ۔ یہاں ہر عالمانہ وضع قطع رکھنے والا کسی جید عالم یا تجربہ کار مفتی سے کم نہیں ہے ، بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ جسے بھی عالم ، فاضل یامفت کا مفتی بننا ہوتا ہے وہ بڑے شہروں کو رخ کرلیتاہے۔بعض پوسٹروں میں تو صرف مفتیانِ کرام اور مفکرانِ عظام ہی جلوہ بار نظر آتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ بعض نا ہنجار قسم کے لوگ اپنے جلسوں کی جھوٹی شان پڑھانے کے لیے بعض حفاظ و قراء بلکہ بعض طلبہ کو بھی بھاری بھرکم القاب سے نواز دیتے ہیں ۔

یہ تمام صورتیں کذب بیانی کے زمرے میں شامل ہیں ، لہذا نا جائز ہیں ۔ بعض حضرات اپنے بھولے پن کے سبب ہر ڈاڑھی ٹوپے اور ہر جبے قبے والے کو عالمِ دین سمجھ لیتے ہیں بلکہ انھیں ’’ عالم یا مفتی صاحب‘‘ کہہ کر پکارتے بھی ہیں ۔ ایسے لوگوں کی اصلاح کی جاے اور بتایا جاے کہ اسلامی وضع رکھنے والا ہر شخص مفتی نہیں ہوتا ۔ بلکہ جس غیرِ عالم کو عالم کہہ کر پکارا جاے ،اُس کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ فوراًپکارنے والی کی اصلاح کرے اور آئندہ اِس قسم کے القاب کے ساتھ پکارنے سے گریز کرنے کی تلقین کرے ۔اگر ایسا ہو گیا تو ان شاء اللہ تعالی بہت جلد اِس قسم کی برائیاں دم توڑ دیں گی ۔

عیب دار کو بے عیب اور نقلی کو اصلی بتانا کیسا ؟:

بازار و مارکیٹ میں ہر قسم کی چیزیں بیچی جاتی ہیں ،بعض چیزیں عیب دار اور بعض بے عیب ہوتی ہیں ، اِسی طرح بعض چیزیں اصلی جب کہ بعض چیزیں نقلی ہوا کرتی ہیں ، مگر ہوتا یہ ہے کہ ہر تاجر اپنے مال کو اچھا اور ہر دکان دار اپنے سامان کو بے عیب بتاتا ہے ۔ یہ بھی دھوکہ ، فریب اور کذب بیانی کے زمرے میں آنے کی وجہ سے حرام و ناجائز ہے ، بلکہ اِس کا غلط اور فراڈ ہونا ایسا واضح ہے کہ خود بیچنے والوں کو بھی اس کا اعتراف ہوتا ہے ۔لہذا دکان دار پر واجب و ضروری ہے کہ گاہک سے جھوٹ نہ بولے ،بلکہ اُسے حقیقتِ حال سے آگاہ کرے ۔ ہاں اگر کسی مال کا نقلی ہونا یا کسی سامان کا عیب دار ہونا گاہک کو معلوم ہے تو اب اسے بتانے کی حاجت نہیں ۔ یہ ایسا ابتلاے عام ہے کہ شاید ہی کوئی تاجر یا دکان دار اِس سے محفوظ و مامون ہو ۔

دیکھیے ! یہ ہمارے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے امام، حضرت سیدنا امام اعظم نعمان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ، جوکہ بہت بڑے فقیہ و محدث اور جلیل القدر تابعی ہونے کے ساتھ ایک بہت بڑے تاجر بھی تھے ۔آپ کپڑے کی تجارت کیا کرتے تھے ۔ مگر آپ کی دین داری ملاحظہ فرمائیں ! کہ : ایک مرتبہ آپ کے پاس کپڑے کا ایسا تھان آیا جس میں کوئی عیب تھا ۔آپ نے دکان پر کام کرنے والے ملازموں کو حکم دیا کہ گاہک کو بتا دیا جاے کہ اِس کپڑے میں فلاں عیب ہے ۔ چند دنوں کے بعد اُس ملازم نے بغیر عیب بتاے اُس کپڑے کو بیچ دیا ۔ جب منافع کی رقم سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ کو دی تو

آپ نے پوچھا کہ تم نے اُس گاہک کو عیب بتا دیا تھا ؟ ملازم نے کہا : حضور ! میں بھول گیا تھا ۔ یہ سن کر آپ کو بڑا رنج لاحق ہوا ، فوراًا ُس گاہک کی تلاش و جستجو شروع کی اور پورے شہر میں اُسے ڈھنڈھوایا ، جب وہ گاہک مل گیا تو آپ نے اُس سے کہا : آپ نے جو مال میری دکان سے خریدا ہے ، وہ عیب دار ہے ، آپ چاہیں تو اُسے واپس کر دیں اور قیمت لے لیں اور چاہیں تو اُسی عیب کے ساتھ اُسے رکھ لیں ۔

بعض روایتوں میں آیا کہ تلاشِ بسیار کے باوجود جب آپ اُسے نہ پا سکے تو اُس تھان کی پوری رقم آپ نے راہِ خدا میں صدقہ کر دی ۔ سبحان اللہ ! یہ تھا ہمارے امام کا زہد و تقویٰ ۔آج ہم میں سے کوئی ہوتا تو شاید اُس ملازم کو شاباشی دیتا کہ تو نے عیب دار سامان بیچ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے ، مگر ہمارے امام نے نقصان برداشت کر لینا تو گوارا کر لیا مگر یہ گوارا نہ کیا کہ کسی گاہک کو دھوکہ دیا جاے ۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ سب کچھ اِس لیے کیا کہ ہمارے نبی حضور سیدنا محمد مصطفی ﷺ نے ارشاد فرمایا :

مَنْ بَاعَ عَیْبًا لَمْ یُبَیِّنْہُ لَمْ یَزَلْ فِیْ مَقْتِ اللہِ وَ لَمْ تَزَلِ الْمَلٰئِکَۃُ تَلْعَنُہُ ۔[السنن للامام ابن ماجہ ، کتاب التجارات ، باب من باع عیبا و لم یبینہ ، رقم الحدیث : ۲۳۳۲]

ترجمہ: جو شخص عید دار چیز بیچے اور اس عیب کے بارے میں وہ خریدار کو نہ بتاے [کہ اِس کے اندر یہ خرابی ہے ]تو ایسا شخص مسلسل اللہ رب العزت کے غضب میں رہتا ہے اور اللہ کے فرشتے ایسے آدمی پر لگاتار لعنت بھیجتے رہتے ہیں ۔

ہمارے امام کو اِسی امانت وصداقت کا صلہ ملا کہ آج دنیا کے اکثر مسلمان آپ ہی کے مقلد ہیں ، بلکہ آپ کی تقلید کو باعث فخر یقین کرتے ہیں ۔جب کہ آج کل کے تاجروں کا حال یہ ہے کہ لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ، عیب دار کو عمدہ بتاتے ہیں ، نقلی سامان کو اصلی بتاتے ہیں ، بلکہ قسمیں کھا کھاکر معیوب سامانوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ مصائب و آلام کی شکل میں جو ہم پر عذابِ خدا نازل ہو چکا ہے ،وہ اِسی کذب بیان اور اِسی دھوکہ دھڑی کی دین ہے ۔

اِس قسم کے اور بھی بہت سے جھوٹ ہمارے معاشرے میں بولے جاتے ہیں جن کی نشان دہی ان شاء اللہ تعالیٰ کسی اور موقع پر کی جاے گی ۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے حبیب ﷺ کے صدقے ہمارے معاشرے کو پر قسم کی کذب بیان سے محفوظ و مامون فرماے ۔ آمین !

وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَىَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 72

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنَّ مِنۡكُمۡ لَمَنۡ لَّيُبَطِّئَنَّ‌ۚ فَاِنۡ اَصَابَتۡكُمۡ مُّصِيۡبَةٌ قَالَ قَدۡ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَىَّ اِذۡ لَمۡ اَكُنۡ مَّعَهُمۡ شَهِيۡدًا ۞

ترجمہ:

بیشک تم میں وہ (گروہ بھی) ہے جو ضرور تاخیر کرے گا پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں (جنگ میں) ان کے ساتھ نہ تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک تم میں وہ (گروہ بھی) ہے جو ضرور تاخیر کرے گا پھر اگر تمہیں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو وہ کہے گا کہ اللہ نے مجھ پر انعام کیا کہ میں (جنگ میں) ان کے ساتھ نہ تھا۔ اور اگر تمہیں اللہ کا فضل (مال غنیمت) مل جائے تو ضرور (اس طرح) کہے گا گویا کہ تمہارے اور اس کے درمیان کوئی دوستی ہی نہ تھی کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑی کامیابی حاصل کرلیتا۔ (النساء : ٧٣۔ ٧٢) 

ان دو آیتوں میں یہ بتایا ہے کہ تمہارے درمیان منافق بھی ہیں اور بزدل اور کمزور ایمان والے بھی ہیں ‘ منافقوں کو تو جہاد سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کیونکہ ان کو اسلام اور مسلمانوں سے کوئی محبت نہیں ہے اور جو بزدل اور کمزور ایمان والے ہیں۔ وہ موت کے ڈر سے جہاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے ‘ یہ لوگ جہاد کے نتیجہ اور انجام کے منتظر رہتے ہیں اگر کسی معرکہ میں مسلمان قتل ہوجائیں یا بہت زخمی ہوجائیں تو یہ جہاد میں اپنے شریک نہ ہونے اور قتل سے بچنے کی وجہ سے بہت خوش ہوتے ہیں اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس لشکر میں وہ نہیں تھے ‘ اور اگر مسلمان فتح یاب ہو کر لوٹیں اور بہت سامال غنیمت لائیں تو یوں کہتے ہیں جیسے ان کا تمہارے دین سے کوئی تعلق ہی نہیں کاش ہم بھی اس معرکہ میں ہوتے اور ہم کو بھی مال غنیمت سے حصہ ملتا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 72

اس سے منع فرمایا کہ

حدیث نمبر :320

روایت ہے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم کورسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ ہم پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کو منہ کریں یا داہنے ہاتھ سے استنجاءکریں یا تین پتھروں سے کم سے استنجاء کریں ۲؎ یا گوبر یا ہڈی سے استنجاء کریں ۳؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ابوعبداللہ ہے،ایران کے شہر اصفہان کے مضافات میں بستی”ہاجن”کے رہنے والے تھے،دین کی تلاش میں پھرتے تھے،۱۴ جگہ فروخت ہوئے،یہاں تک کہ جوئندہ یا بندہ حضور تک مدینہ میں پہنچ گئے۔ساڑھے تین سو ۳۵۰ سال عمر پائی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے تابعی اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ۵۳ھ؁ مقام مدائن میں وفات پائی۔(مرقاۃ)بعض مورّخین نے لکھا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں سے آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف کریمہ سنے تو آپ کی تلاش میں نکلے۔

۲؎ خیال رہے کہ قبلہ کو منہ کرکے پیشاب پاخانہ کرنا مکروہ تحریمہ ہے،داہنے ہاتھ سے چھوٹا یا بڑا استنجاء مکروہ تنزیہی،اورتین ڈھیلے بڑے استنجے کے لیے عام حالات میں مستحب ہے،اگر اس سے کم و بیش میں صفائی ہو تو کرلے۔یہی مذہب حنفی ہے،امام شافعی کے یہاں تین ڈھیلے واجب ہیں۔

۳؎ کیونکہ ہڈی جنات کی غذا ہے اور گوبر ان کے جانوروں کی،نیزگوبرخودنجس ہے،تو اس سے پاکی کیسے حاصل ہو گی اور ہڈی کہیں نوکیلی کہیں چکنی ہوتی ہے،چکنی طرف سے صفائی نہ ہوگی نوک کی طرف سے زخم کا اندیشہ ہے۔

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

صحابہ نے عمل سے کتابت حدیث کا ثبوت دیا

اولاً بعض صحابہ کرام کو کتابت حدیث میں تامل رہا ،اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ کتابت کی وجہ سے حفظ وضبط کا وہ اہتمام نہیں رہ سکے گا اور اسکی جانب وہ توجہ باقی نہ رہے گی ، اس طرح سفینوں کا علم سینوں کو خالی کردیگا ،آئندہ صرف تحریریں ہونگی جن پر اعتماد ہوگا اور انکے پیچھے حافظہ کی قوت نہ ہوگی کہ غلطیوں کی تصحیح ہوسکے ،لہذا حذف واضافہ کا سلسلہ شروع ہوجائے گا اور تحریف کے دروازے کھل جائیں گے ، منافقین اور یہودونصاری کو روایات میں تغیروتبدل کا موقع مل جائے گا، اس طرح دین کی بنیادوں میں رخنہ اندازی شروع ہوسکتی ہے ،ان وجوہ کی بنا پر کچھ ایام بعض صحابہ کرام کو تذبذب رہا ،لیکن اسلام جب دور دور تک پھیل گیا ، اور خوب قوت حاصل ہوگئی تو مندرجہ بالا خدشات کی جانب سے اطمینان ہوگیا اورقرآن مجید کی طرح رفتہ رفتہ حدیث کی کتابت پر بھی سب متفق ہوگئے ۔ ہاں مگر ان حضرات صحابہ کے درمیان یہ طریقہ بھی رائج تھا کہ کتابیں دیکھ دیکھ کر احادیث بیان نہیں کی جاتی تھیں ، اسی وجہ سے ان تحریری مجموعوں کو کوئی خاص شہرت حاصل نہیں ہوسکی پھر کافی تعداد میں صحابہ کرام نے اس فریضہ کو انجام دیا جس کی قدرے تفصیل اس طرح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما جو پہلے کتابت حدیث کے سخت مخالف تھے لیکن بعد میں وہ عملی طور پر اس میدان میں اتر آئے اور آخر میں ان کی مجالس کا یہ طریقہ تھا ۔

حضرت سعید بن جبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

کنت اکتب عند ابن عباس فی صحیفۃ (السنن للدارمی، ۹۶)

میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی خدمت میں اوراق پر احادیث لکھتاتھا۔

حضرت موسی بن عقبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: ۔

وضع عندنا کریب حمل بعیر اوعدل بعیر من کتب ابن عباس ،قال :

فکان علی بن عبداللہ بن عباس اذا اراد الکتاب کتب الیہ ابعث علی بصحیفۃ کذاکذا ،قال : ینسخھا فیبعث الیہ احداہما ( کتاب العلل للترمذی، الطبقات الکبری لا بن سعد، ۵/۲۱۶)

حضرت کریب نے ہمارے پاس ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی کتابیں رکھیں ۔حضرت علی بن عبداللہ بن عباس جب کوئی کتاب چاہتے تو انہیں لکھدیتے کہ مجھے فلا ں صحیفہ بھیجدو ،وہ اسے نقل کرتے اور ان میں سے ایک بھیج دیتے۔

انکی یہ تصانیف انکی زندگی ہی میں دوردور تک پھیل گئی تھیں ،اس سلسلہ میں امام طحاوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا بیان نقل کیا ہے ۔

عن ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ان ناسا من اہل الطائف اتوہ بصحیفۃ من صحفہ لیقرء ھا علیہم ،فلما اخذہالم ینطلق فقال : انی لما ذھب بصری بلھت فاقرأوھاعلی ،ولایکن فی انفسکم من ذلک حرج ،فان قرأ تکم علی کقرأنی علیکم۔ (شرح معانی الآثار، للطحاوی، ۲/۳۸۴)

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے مروی ہے کہ طائف کے کچھ لوگ انکے پاس انکی کتابوں سے ایک کتاب لیکر آئے تاکہ وہ انہیں پڑھکر سنائیں ،حضرت ابن عباس نے جب وہ کتابیں لیں تو پڑھ نہ سکے ،فرمایا: جب سے میری نگاہ جاتی رہی میں بیکار ہوگیا ہوں ،تم لوگ خود میرے سامنے پڑھو اوراس میں کچھ حرج نہ سمجھو ،میرے سامنے تمہارا پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے کہ میں تمہارے سامنے پڑھوں ۔

تصانیف کی اس کثرت سے کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیئے ،کیونکہ آپ نے علم حدیث کی تحصیل میں غیر معمولی کوشش اور محنت سے کام لیاتھا ۔اسکی تفصیل آپ گذشتہ پیغامات میں پڑھ چکے ہیں ۔

صرف اسلام ہی دین ہے

سارے جہاں کے خالق و مالک، معبودِ حقیقی اللہ عز و جل کے یہاں صرف اسلام ہی دین ہے، اسلام کے سوا جتنے بھی ادیان و مذاہب رائج ہیں سب خود ساختہ ہیں، انسانوں ہی کے ایجاد کردہ ہیں، جن کی کوئی حقیقت ہے نہ حیثیت اور جو ہرگز ہرگز قابلِ قبول نہیں۔ اللہ جل مجدہٗ نے صاف ارشاد فرمایا:…

’’ان الدین عند اللہ الاسلام‘‘ترجمہ: بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے۔ (کنز الایمان،آل عمران، ۱۹)

’’و من یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ‘‘ (آل عمران) ترجمہ: اور جو اسلام کے سوا کوئی دین چاہے گا وہ ہرگز اس سے قبول نہ کیا جائے گا۔ (کنز الایمان)

جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام صرف چودہ سو برس پرانا دین ہے وہ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ اسلام کا زمینی سفر اسی وقت شروع ہو گیا تھا جب دنیا کے سب سے پہلے انسان اور تمام انسانوں کے باپ حضرت آدم علیہ السلام نے اس دھرتی پر قدم رنجہ فرمایا تھا حالانکہ اسلام کا سفرِ اصلی نورِ محمدی کی تخلیق سے ہی شروع ہو گیا تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرتِ عیسیٰ علیہ السلام تک سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا، وہ مسلمان تھے، انہوں نے اسلام ہی کی تبلیغ کی اور ان پر جو ایمان لائے وہ مسلمان ہی کہلائے۔ البتہ جب نبیوں اور رسولوں کے سردار و خاتم، پیغمبرِ اسلام، نبی ٔ امی، حضرت سیدنا محمد عربیتشریف لائے تو رب عظیم نے آپ کو سارے انسانوں کا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر اسلام کو کامل فرمایا۔

قرآن مقدس ان تمام حقائق کا اس طرح اظہار فرماتا ہے:…

’’کان الناس امۃ واحدۃ‘‘ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے۔

(کنزالایمان، البقرہ، ۲۱۳)

’’و ما کان الناس الا امۃ واحدۃ فاختلفوا‘‘ ترجمہ: اور لوگ ایک ہی امت تھے پھر مختلف ہوئے۔ (کنز الایمان،یونس،۱۹)

’’قل یٰایہا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا‘‘

ترجمہ: تم فرمادو اے لوگو! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔

(کنزالایمان ،اعراف، ۱۵۸)

چوں کہ آقا حضور ﷺ کل انسانوں کے رسول ہیں، رسول انسانیت ہیں، رب کائنات نے انہیں سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔ ارشاد ربانی ہے:…’’و ما ارسلنٰک الا رحمۃ للعلمین‘‘ ترجمہ: اور ہم نے تم کو نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہاں کے لئے۔ (کنزالایمان،الانبیاء:۱۰۷)

’’الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا‘‘ ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام دین پسند کیا۔ (کنزالایمان،مائدہ:۳)

خود حضور رسالت مآب ﷺ نے بھی اعلان فرمایا:…

’’اے اللہ کے نبیو! ہمارا دین ایک ہے‘‘ (بخاری شریف)

یعنی ہر نبی کا دین اسلام ہی تھا۔

چوں کہ سارے نبیوں کا دین اسلام ہی تھا اور دنیا کے سارے انسان، خطہ و علاقہ اور عہد کے مطابق انہیں ہادیانِ کرام کی امت میں تھے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے آقا حضور سیدنا محمد رسول اللہا تمام انسانوں کے رسول ہیں اور وہی کل جہاں کے لئے رحمت ہیں۔ لہٰذا اس سے بھی ثابت ہوا کہ اسلام ہی کل انسانوں کا دین ہے۔

چوں کہ اسلام ہی سارے انسانوں کا دین ہے اس لئے اللہ رب العزت نے سب کے لئے ایک مرکز قائم فرمایا، ارشاد فرماتا ہے: …’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبارکا و ہدیً للعالمین فیہ آیٰت بینٰت مقام ابراہیم و من دخلہ کان آمنا و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین‘‘ ترجمہ:بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہاں کا راہنما، اس میں کھلی نشانیاں ہیں، ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ اور جو کوئی اس میں آئے امان میں ہو اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہاں سے بے پرواہ ہے۔

(البقرہ:۹۶،۹۷…کنزالایمان)

قرآنی آیات اور سرکار ابد قرارﷺ کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ اسلام ہی دینِ الٰہی ہے، یہی سارے نبیوں اور رسولوں کا دین ہے، اللہ تعالیٰ نے اس دین کو حضرت سیدنا محمد رسول اللہ ا پر کامل فرمایا۔ رہتی دنیا تک چوں کہ حضور ا کی نبوت و رسالت قائم رہے گی اور اسلام ہی کی حکمرانی رہے گی۔

اسلام در اصل دینِ فطرت ہے یہی سب کا دین ہے، ہر انسان کا دین ہے، رنگ و نسل، خطہ و علاقہ، عہد و عصر اور جنس و عمر کی تخصیص کے بغیر اور اسی لئے اس کا ہر اصول اور قانون انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ اس نے انسان کو زندگی کا سلیقہ اور بندگی کا طریقہ بخشا ہے۔ یہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کی فطرت پر خالقِ کائنات اللہ رب تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو پیدا فرمایا ہے۔

ارشادِ ربانی ہے:…’’اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا، اللہ کی بنائی ہوئی چیز نہ بدلنا، یہی سیدھا دین ہے مگر بہت لوگ نہیں جانتے‘‘ (کنزالایمان… روم:۳۰)

حدیثِ پاک ہے:…’’بچہ اپنی فطرت پر پیدا ہوتا ہے پھر جب وہ بولنے لگتا ہے تو اس کے ماں باپ اس کو یہودی بنا لیتے ہیں، عیسائی بنا لیتے ہیں، مجوسی بنا لیتے ہیں‘‘ (الجامع الصغیر للسیوطی)

اسلام ہی دینِ فطرت بھی اور دینِ انسانیت بھی

’’اسلام دینِ انسانیت ہے‘‘ سے دو معانی مراد لئے جا سکتے ہیں۔

(۱)اسلام انسانیت یعنی آدمیت، بشریت کا دین ہے، یعنی سارے انسانوں کا دین ہے۔

(۲)انسانیت سے مراد ہے انسانی اقدار یعنی شرافت، انس، محبت، رحمدلی، اخلاق، تہذیب وغیرہ وغیرہ۔

پس اسلام سلامتی کا دین ہے، امن و آشتی کا دین ہے، اخلاق و تہذیب اور شرافت کا دین ہے، رأفت و رحمت اور محبت و رواداری کا دین ہے۔ اس کی دعوت، اسکی تعلیم، اس کی صداقت، اس کی محبت ہر انسان کو عام ہے۔

اسلام کی تعریف ایک مستشرق نے اس طرح کی ہے وہ اسلام کو انگریزی میں لکھتا ہے۔ ISLAM

اس کے پہلے حرف (I) سے مراد لیتا ہے (I) یعنی میں۔

دوسرے حرف (S) سے مراد لیتا ہے Shallیعنی (گا)

تیسرے حرف (L) سے مراد لیتا ہے Love یعنی محبت۔

چوتھے حرف (A) سے مراد لیتا ہے All یعنی سب۔

پانچویں حرف (M) سے مراد لیتا ہے Man Kind بنی نوعِ انسانی۔

مطلب ہوا:… "I shall love all Man kind”

یعنی میں سبھی انسانوں سے پیار کروں گا۔ اور لا ریب یہی اسلام ہے۔

اسلام کسی بھی انسان کے ساتھ ظلم، نا انصافی، کسی کی دل آزاری اور تعصب و فرقہ واریت کے سخت خلاف ہے۔ اسلام امن و آشتی کا علم بردار ہے۔ اصل ستیہ اور اہنسا (سچائی اور عدمِ تشدد۔ Truth and Non-Vorlence) کا علم بردار صرف اور صرف اسلام ہے۔

قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے:…’’جس نے کوئی جان قتل کی بغیر جان کے بدلے یا زمین میں فساد کئے گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کیا اور جس نے ایک جان کو جلایا اس نے گویا سب لوگوں کو جلایا‘‘ (مائدہ:۳۲)

جانِ رحمت سیدنا محمد عربی ا کا ارشاد گرامی ہے:…’’مخلوق اللہ کا گھرانہ ہے۔ پس اللہ کے نزدیک سب سے محبوب وہی ہے جو اس کے گھرانے کے لئے فائدہ مند ہو‘‘ ۔

(طبرانی کبیر، طبرانی اوسط، حلیۃ الاولیا، شعب الایمان و غیرہا)

اسلام جو دینِ فطرت ہے، دینِ انسانیت ہے، رحمت و محبت ہے، جس نے انسان کو اس کے پیدا کرنے والے خالق و مالک اور اس کے معبود حقیقی کی معرفت عطا کی، جس نے انسان کو تہذیب و اخلاق اور شرافت و انسانیت کا درس دیا، جہاں گیری و جہاں بانی کے آداب سکھائے۔ افسوس اور حیرت بلکہ ظلم در ظلم!! کہ اعدائِ اسلام اور ظالمانِ زمانہ بالخصوص امریکہ و یورپ اور ایشیامیں ان کے ایجنٹ اسرائیل اور ہمارے ملک بھارت کی فرقہ پرست تنظیموں کے لیڈران اور ارکان، اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت زدہ کرنے کے لئے اسلام پر دہشت گردی اور مسلمانوں پر دہشت گرد کا لیبل لگانے میں جٹے ہوئے ہیں۔ در اصل ان ظالمانِ زمانہ کو اسلام کی حقانیت سے سخت خطرہ ہے جو ان کے شیطانی مشن کے فروغ کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

٭ صرف اسلام ہی انسانیت کا محافظ اور عالمی امن کا ضامن ہے۔

٭ اسلام نے رواداری کا جو تصور پیش کیا ہے تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، یہاں تک کہ اس دور جدید میں بھی یہ تصور نہیں ملتا۔

٭ اسلام نے ذمی کافر کو مسلمانوں ہی کے سے حقوق دئے ہیں۔

٭ اسلام نے غلاموں کو آزادی سے ہمکنار کیا، جبری مزدوری، استحصال، ذخیرہ اندوزی، کالابازاری، سود خوری، بے پردگی، عیاشی، فحاشی اور تمام خرافات و خرابات کا سدِ باب فرما دیا۔

٭ انسان تو انسان اسلام نے تو حیوانات و نباتات کے تحفظ اور ان کی بے حرمتی پر روک لگا دی۔

٭ رحمتِ عالم ﷺ نے (۱)زندہ جانوروں کا گوشت کاٹنے سے منع فرمایا۔ (۲)کسی بھی جانور کو آگ میں جلانے سے منع فرمایا۔ (۳)جانوروں کو آپس میں لڑانے سے منع فرمایا۔ (۴)کسی بھی جانور کو بھوکا پیاسا رکھ کر ذبح کرنے سے منع فرمایا۔

اسلام کی سچائیوں اور اچھائیوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک دفتر ہی نہیں پوری عمر چاہئے۔ یہ ہر انسان کا دین ہے، اسلام ہی ہر انسان کا گھر ہے، یہیں امن ہے، ہر انسان کو اسلام کے گھر میں یعنی اپنے گھر میں لوٹ آنا چاہئے۔

علم کی اہمیت وفضیلت احادیث مبارکہ کی روشنی میں

٭ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ’’العلم حیٰوۃ الاسلام و عماد الدین‘‘ علم اسلام کی زندگی ہے اور دین کا ستون ہے۔ (کنزا لعمال)

٭ حضرتِ عبادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ علم عبادت سے بہتر ہے۔ اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بہترین عبادت علم کا حاصل کرنا ہے۔ (کنزالعمال)

٭ حضرتِ ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارﷺ نے ارشاد فرمایا ’’تدارس العلم ساعۃ من اللیل خیر من احیائہا‘‘ ایک گھڑی علم حاصل کرنا پوری رات جاگنے سے بہتر ہے۔ (مشکوٰۃ)

٭ حضرتِ انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکارِ اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ کائنات ﷺ نے فرمایا جو شخص علم کی تلاش میں راستہ چلتا ہے تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستے کو آسان کر دیتا ہے اور جب کوئی قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں(یعنی مسجد، مدرسہ، خانقاہ میں) جمع ہوتی ہے اور قرآنِ مجید کو پڑھتی اور پڑھاتی ہے تو ان پر خدا سکینہ نازل فرماتا ہے، خدا کی رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے ان کو گھیر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا ذکر ان فرشتوں میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں۔ (مسلم شریف)

٭ سید عالم ﷺ فرماتے ہیں ’’مَنْ یُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَیْراً یُّفَقِّہْہُ فِیْ الدِّیْنِ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ جس کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے۔ (بخاری،مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے ’’لِکُلِّ شَیْئیٍ طَرِیْقٌ وَّ طَرِیْقُ الجَنَّۃِ العِلْمُ‘‘ ہر چیز کا ایک راستہ ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔ ( کنز العمال ص۸۹)

٭ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ جو شخص علم کی تلاش میں ہوگا جنت اس کی تلاش میں ہوگی۔ اور جو شخص گناہ کی کھوج میں ہوگا جہنم اس کی کھوج میں ہوگی۔(کنز العمال ج۱ ص۹۲)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سرکار اقدس ﷺ نے فرمایا کہ جو علم کی تلاش میں نکلا تو واپسی تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہے۔ (مشکوٰۃ، ص۳۴)

٭ حضرت سنجرہ ازدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے علم حاصل کیا تو یہ حاصل کرنا اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گیا۔ (ترمذی، الدارمی)

٭ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبیٔ کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا دو بھوکے سیر نہیں ہوتے ہیں، ایک علم کا بھوکا علم سے سیر نہیں ہوتا، دوسرا دنیا کا بھوکا دنیا سے سیر نہیں ہوتا۔ (بیہقی، مشکوٰۃ، ص۳۷)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب طالبِ علم کو موت آجائے اور وہ طلب علم کی حالت پر مرے تو وہ شہید ہے۔ (کنز العمال، جلد اول ص۷۹)

٭ حضرت زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ’’مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ تَکَفَّلَ اللّٰہُ لَہٗ بِرِزْقِہٖ‘‘ یعنی جس نے علم دین حاصل کیا اللہ تعالیٰ نے اس کی روزی کو اپنے ذمۂ کرم پر لے لیا۔ (کنز العمال)

٭ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے لوگوں کو دیکھنا پسند کرے تو وہ طالب علموں کو دیکھے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، کوئی طالب علم جب کسی عالم کے دروازے پر آتا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر قدم کے بدلے جنت میں ایک شہر تیار کرتا ہے۔ اور وہ زمین پر اس حال میں چلتا ہے کہ زمین اس کے لئے مغفرت طلب کرتی ہے۔ اور صبح و شام اس حال میں کرتا ہے کہ بخشا ہوا ہوتا ہے اور ملائکہ طالب علموں کے لئے گواہی دیتے ہیں کہ وہ جہنم سے اللہ کے آزاد کئے ہوئے ہیں۔ (تفسیر کبیر)

٭ حضور سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کے قدم علم کی طلب میں گرد آلود ہوں اللہ تعالیٰ اس کے جسم کو جہنم پر حرام فرمائے گا اور خدائے تعالیٰ کے فرشتے اس کے لئے مغفرت طلب کریں گے۔ اور اگر علم کی طلب میں مر گیا تو شہید ہوا اور اس کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوگی اور اس کی قبر تا حد نگاہ کشادہ کر دی جائے گی اور اس کے پڑوسیوں پر روشن کر دی جائے گی۔ چالیس قبریں اس کے داہنے، چالیس اس کے بائیں، چالیس اس کے پیچھے اور چالیس قبریں اس کے آگے۔ (تفسیر کبیر، جلد اول، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں کم کھانا، مسجد میں بیٹھنا، کعبہ دیکھنا، مصحف کو دیکھنا، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔(فتاویٰ رضویہ)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں عبادت سے ہیں مصحف کو دیکھنا، کعبہ کو دیکھنا، ماں باپ کو دیکھنا، زمزم کے اندر نظر کرنا اور اس سے گناہ اترتے ہیں، اور عالم کا چہرہ دیکھنا۔ (فتاویٰ رضویہ، ۴؍۶۱۶)

٭ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دین کی سمجھ رکھنے والا ایک شخص(عالم) شیطان پر ایک ہزار عابدوں کے مقابلہ میں زیادہ بھاری ہے۔

(جامع الاحادیث ص۱۷۳)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب انسان مر جاتا ہے تو اس سے اس کا عمل کٹ جاتا ہے۔ مگر تین چیزوں کا ثواب برابر جاری رہتا ہے صدقۂ جاریہ، علم جس سے نفع حاصل کیا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرے۔ (مسلم، مشکوٰۃ)

٭ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ نبیٔ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا دوچیزوں کے سوا کسی میں حسد جائز نہیں۔ ایک وہ شخص جسے اللہ نے مال دیا اور وہ اسے راہِ حق میں خرچ کرے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ نے دین کا علم عطا فرمایا تو وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے۔ (بخاری )

٭ سید عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے عالم کی توہین کی تحقیق اس نے علم دین کی توہین کی اور جس نے علمِ دین کی توہین کی تحقیق اس نے نبی ا کی توہین کی اور جس نے نبیٔ کریم ا کی توہین کی یقینا اس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی، اور جس نے جبریل علیہ السلام کی توہین کی تحقیق اس نے اللہ کی توہین کی، اور جس نے اللہ تبارک و تعالیٰ کی توہین کی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسکو ذلیل و رسوا کریگا۔

(تفسیر کبیر، جلد۱، ص۲۸۱)

٭ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے عالم زمین میں اللہ تعالیٰ کی دلیل و حجت ہے تو جس نے عالم میں عیب نکالا وہ ہلاک ہو گیا۔ (کنز ا لعمال )

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے ’’مُجَالَسَۃُ الْعُلَمَائِ عِبَادَۃٌ‘‘ یعنی عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔ (کنز العمال)

٭ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو چر لیا کرو۔ عرض کیا گیا جنت کے باغ کیا ہیں؟ فرمایا عالموں کی مجلس۔ (کنز ا لعمال)

٭ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ شریعت کی ایک بات کا سننا سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے۔ اور علم دین کی گفتگو کرنے والوں کے پاس ایک گھڑی بیٹھنا غلام آزاد کرنے سے بہتر ہے۔ (کنز العمال)