نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل اور پانی سے استنجاء

حدیث نمبر :353

روایت ہے حضرت ابوایوب و جابر و انس سے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک ہونا پسند کرتے ہیں اور اﷲ ستھروں کو پسند فرماتاہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے انصار کے گروہ اﷲ نے تمہاری پاکی کی بہت تعریف کی ہے تمہاری کیسی پاکی ہے۲؎ وہ بولے کہ ہم نماز کے لیئے وضو جنابت کے لئے غسل کرتے ہیں اور پانی سے استنجاء ۳؎ تو فرمایا کہ وہ یہ ہی پاکی ہے اسے لازم کرلو ۴؎(ابن ماجہ)

شرح

۱؎ اس آیت میں مسجد قباء کی تعریف فرمائی گئی ہے،اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے،یعنی چونکہ مسجد کے آس پاس انصار رہتے ہیں،اور اس میں وہی نماز پڑھتے ہیں،یہ بڑے پاک لوگ ہیں،آپ بھی وہاں نماز پڑھاکریں۔اس سے معلوم ہوا کہ جس مسجد کو بزرگوں نے بنایا ہو،یا بزرگوں نے وہاں نمازیں پڑھی ہوں،یا اس کے قریب بزرگ رہتے ہوں،یا دفن ہوں وہاں نماز کا ثواب زیادہ ہے اور ارادۃً وہاں جا کر نماز پڑھنا رب کو پسند ہے۔اس سے شریعت اورتصوف کے بہت سے مسائل حاصل ہوسکتے ہیں۔اس کی پوری تحقیق ہماری تفسیر”نورالعرفان”میں دیکھو۔

۲؎ یہ سوال و جواب لوگوں کو سنانے کے لیے ہے،ورنہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر ایک کے عمل سے واقف ہیں،فرماتے ہیں”لَایُخْفٰی عَلیَّ صَلوٰتُکُمْ”الخ۔

۳؎ ڈھیلوں کے بعد پانی سےبھی استنجاء کرلیتے ہیں،یاصرف پانی سے ہی استنجاءکرتے ہیں نہ کہ ڈھیلوں سے،دوسرے معنی زیادہ ظاہر ہیں،جیسا کہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے۔دوسرے لوگ صرف ڈھیلوں پر کفایت کرتے ہیں مگر یہ کفایت خشک پاخانے میں ہوسکتی ہے،دست کی صورت میں دھونا فرض ہے جب کہ روپے سے زیادہ جگہ لتھڑ جائے۔

۴؎ یعنی پانی سے استنجاء لازم کرلو۔نماز کے لیئے وضوءاور جنابت سے غسل تو سب حضرات ہی کرتے تھے۔

جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ

حدیث نمبر :342

روایت ہے حضرت علی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جنات کی آنکھوں اور لوگوں کے سترکے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی پاخانہ میں جائے تو بسم اﷲ کہہ لے ۱؎ اسے ترمذی نے روایت کیااورفرمایا یہ حدیث غریب ہے اس کی سند قوی نہیں۔

شرح

۱؎ یعنی جیسے دیوار اور پردے لوگوں کی نگاہ سے آڑ بنتے ہیں،ایسے ہی یہ اﷲ کا ذکر جنات کی نگاہوں سے آڑ بنے گا کہ جنات اس کو نہ دیکھ سکیں۔

میں گندے جن اور جناتنی سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں

حدیث نمبر :341

روایت ہے زید بن ارقم سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ یہ پاخانے جنات کے حاضر رہنے کی جگہ ہیں ۲؎ تو جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو کہہ لے میں گندے جن اور جناتنی سے اﷲ کی پناہ لیتا ہوں۳؎(ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ آپ مشہور صحابی ہیں،آپ کی کنیت ابو عمرو ہے،انصاری ہیں،خزرجی ہیں،کوفہ میں قیام رہا،۸۵ سال عمر پائی، ۷۸ھ؁ میں کوفہ میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔

۲؎ کیونکہ یہاں پلیدیاں پڑتی ہیں،اﷲ کا ذکر ہوتا نہیں،اس لئے وہاں شیطان لوگوں کی تاک میں بیٹھتے ہیں،اسی لئے حکم ہے کہ بلاضرورت پاخانہ میں نہ جاؤ اوربلاوجہ وہاں نہ بیٹھو۔خیال رہے کہ گرجے،مندر،شراب خانے،سینما،جہاں جواری جوا کھیلیں یہ تمام جگہ شیطانوں کے ٹھکانے ہیں۔سرکار نے فرمایا ہے کہ بازاروں میں شیطان رہتا ہے کہ وہاں جھوٹ،دھوکے بہت دیئےجاتے ہیں۔

۳؎ مگر یہ کلمات پاخانہ میں جانے سے پہلے کہے،پاخانہ کے اندر اﷲ کا ذکر منع ہے،کیونکہ وہاں گندگیاں ہیں۔

دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں

حدیث نمبر :340

روایت ہے حضرت ابوسعیدنے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں کہ شرمگاہیں کھولے باتیں کریں کیونکہ اﷲ تعالٰی اس پر ناراض ہوتاہے ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ کیونکہ دوسرے کے سامنے ننگاہونا بھی منع ہے،اور پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے باتیں کرنابھی جرم،اس وقت باتیں کرنے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ اس وقت اﷲ کا بھی ذکر نہ کریں،اگر چھینک آئے تو زبان سے الحمدﷲ بھی نہ کہیں،اگر کوئی سلام کرے تو جواب بھی نہ دیں۔غرض کہ پیشاب پاخانہ اورصحبت کے وقت مطلقًا بات کرنا ممنوع ہے۔

تین لعنتی چیزوں سے بچو

حدیث نمبر :339

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو،گھاٹوں، درمیانی راستہ اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے ۱؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ ہر وہ جگہ جہاں لوگ بیٹھتے یا آرام کرتے ہوں وہاں پاخانہ کرنا منع ہے کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہے اور لوگ بھی گالیاں دیتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے غسل اور استنجاءخانوں میں پاخانہ کرنا سخت جرم ہے۔بندوں کو ستانے والا رب کے عذاب کا مستحق ہے۔

کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :338

روایت ہے عبداﷲ ابن سرجس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ مزینہ یا قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،آپ کے والد کا نام یا سرجس ہے یا نرجس۔

۲؎ حجر سے مراد یا زمین کا سوراخ یا دیوار کی پھٹن،چونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور،چیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنات رہتے ہیں،چیونٹیاں پیشاب یاپانی سے تکلیف پائیں گی،یا سانپ وجن نکل کر ہمیں تکلیف دیں گے،اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا۔چنانچہ سعدابن عبادہ انصاری کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ نے ایک سوراخ میں پیشاب کیا جن نے نکل کر آپ کو ہلاک کردیا۔لوگوں نے اس سوراخ سے یہ آوا زسنی "نَحْنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَ جِ سَعْدَ بْنِ عُبَادَۃَ وَرَمَیْنَاہٗ بِسَھْمٍ فَلَمْ نُخْطِ مَوَادَ”۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :337

روایت ہے عبداﷲ ابن مغفل سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی غسل خانہ میں ہرگز پیشاب نہ کرے پھر اس میں غسل یا وضو کرے گا۲؎کیونکہ عام وسوسے اسی سے ہوتے ہیں۳؎ اسے ابوداؤد،ترمذی اورنسائی نے روایت کیا مگر ان دونوں نے "ثم یغتسل” کا ذکر نہ کیا۔

شرح

۱؎ آپ صحابی ہیں،قبیلہ مزینہ سے ہیں،بیعت الرضوان میں شریک ہوئے،مدینہ منورہ قیام رہا،شہر تَسْتُر فتح ہونے پر اول آپ ہی وہاں داخل ہوئے،عہد فاروقی میں بصرہ میں لوگوں کو علم دین سکھانے کے لئے آپ کو بھیجا گیا،وہیں ۵۹ھ ؁میں وفات ہوئی۔

۲؎ مستحمہ کے معنی ہیں گرم پانی استعمال کرنے کی جگہ۔ حمیم گرم پانی،اسی سے حمام بنا۔اگرغسل خانہ کی زمین پختہ ہواوراس میں پانی خارج ہونے کی نالی بھی ہو تو وہاں پیشاب کرنے میں حرج نہیں،اگرچہ بہتر ہے کہ نہ کرے۔لیکن اگر زمین کچی ہو اور پانی نکلنے کا راستہ بھی نہ ہو تو پیشاب کرنا سخت برا ہے کہ زمین نجس ہوجائے گی،اورغسل یاوضو میں گندا پانی جسم پر پڑے گا۔یہاں دوسری صورت ہی مراد ہے اسی لیے تاکیدی ممانعت فرمائی گئی۔

۳؎ یعنی ا س سے وسوسوں اور وہم کی بیماری پیدا ہوتی ہے،جیسا کہ تجربہ ہے یا گندگی چھینٹیں پڑنے کا وسوسہ رہے گا۔پہلے معنی زیادہ ظاہر ہیں۔