زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب

*زبان کی آفتیں! تول کر بو لئےجناب*

*حافظ محمد ہاشم قادری مصباحی۔۔۔ چمشید پور*

اللہ تعالیٰ نے جو زبان ہمیں عطا فرمائی ہے، اس پر ذرا غور کریں کہ یہ اتنی عظیم نعمت ہے کہ بندہ اس کا کما حقہ شکر ادا نہیں کر سکتا۔ یہ زبان پیدائش سے لے کر مرتے دم تک انسان کا ساتھ دیتی ہے۔نہ اس کی سروس(Service) کی ضرورت نہ ایندھن یا ریچارج کی ،نہ اوورہالنگ کی اور مفت میں انسان کا ساتھ دیتے چلی جارہی ہے۔یہ زبان ہماری ملکیت نہیں بلکہ ہمارے پاس اللہ کی اَمانت ہے۔ جب یہ امانت ہے تو پھر اس کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہ نہ ہو کہ جو دل میں آیا بک دیا بلکہ جو بات اللہ کے احکام کے مطابق ہو، وہ بات بولی جائے اور وہی بات سنی جائے ۔ زبان ہی سے آدمی جنت کا مستحق بنتاہے اور زبان ہی سے وہ اللہ نہ کرے دوزخ کا بھی مستحق بن جاتاہے۔ اس لئے زبان کی بہت اہمیت ہے ،ویسے بھی مومن کو ہر اہم اور قیمتی چیز کی حفاظت کرنا پڑتی ہے ورنہ وہ چیز ناقدری کی صورت میں اپنی اہمیت وافادیت کھو دیتی ہے۔ زبان کی حفاظت اور اس کا صحیح استعمال انتہائی ضروری ہے۔ اسی لئے قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ میں زبان کی حفاظت اور اس کے صحیح استعمال کی بڑی تاکیدیں آئی ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے، ترجمہ: اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا ایک بائیں۔کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس سے پہلے وہ لکھ لی جاتی ہے۔ ایک تیار بیٹھا ہوا محافظ لکھ لیتاہے۔(سورہ ق18، آیت50) اللہ تبارک و تعالیٰ سب جانتاہے صرف زبان سے بات کرنا ہی نہیں بلکہ سوچ اور نیت کو بھی جانتاہے۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے( کرام الکاتبین ) ہمیشہ ہمیشہ رہتے ہیں جو ہر بات اور ہر عمل لکھ دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ مریضوں کا کراہنا بھی لکھا جاتاہے ۔ اچھی بات دائیں طرف والا اور بری بات بائیں والا فرشتہ لکھتا رہتاہے۔(سوائے پیشاب پاخانہ کی حالت میں یا بیوی کے ساتھ مقاربت کے وقت خاص میں) ۔یہ معزز فرشتے الگ ہو جاتے ہیں (اسی لئے اس وقت بات کرنا ممنوع ہے)۔نیکی والا فرشتہ ایک نیکی کا دس لکھتاہے، بدی والا ایک بدی کی جگہ ایک ہی لکھتاہے۔ بندہ توبہ کر لے تو گناہ مٹ جاتا ہے ،بندہ مومن کے مرنے کے بعد وہ دونوں فرشتے قیامت تک اس کی قبر پر تسبیح تہلیل کرتے رہتے ہیں جس کا ثواب اس بندے کو ملتاہے۔

*زبان کو گناہ کی باتوں سے بچاؤ:*

زبان کو بات چیت، بیان و احکام میں ہمیشہ گناہوں کی باتوں سے بچانا ضروری ہے۔ مثلاً حرام کو حلال اور حلال کو حرام قراردے دینا، کسی کو تکلیف پہنچانا، بات چیت سے دل آزاری کرنا، بُرے ا لقاب سے یا دکرنا، گالیاں بکنا، جھوٹ بولنا ، جھوٹی گواہی دینا۔قرآن پاک کا ارشاد ہے ۔ترجمہ: اور نہ کہو اسے جو تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں، یہ حلال ہے یہ حرام ہے کہ اللہ پر جھوٹ باندھو ۔ بے شک جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں ان کا بھلا نہیں۔(سورہ نحل، آیت 114) آج جو لوگ حلال چیزوں کو حرام قرار دیتے ہیں۔ قرآن پاک اور حدیث پاک میں جن چیزوں کو حرام وحلال قرار دیا گیا ہے، صرف وہ حرام وحلال ہیں۔ تو اب لوگوں کو یہ حق کہاں سے مل گیا کہ اللہ پر افتراء کرکے حلال چیزوں کو زبانی کلامی حرام قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح آج بہت سے لوگ حرام چیزوں کو حلال قرار دے کر بھی بہت بڑا گناہ کرتے ہیں اور اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ مثلاً سود، رشوت، جوا، ناجائز کھیل تماشے ، شرعی ضرورت کے بغیر فوٹو کھنچوانا وغیرہ۔ آج کل ان سب چیزوںکا بازارخوب گرم ہے اور اس پر نرم لفظوں میں باز آنے کی نصیحت پر لوگ طرح طرح کے حیلے بہانے نکالتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی اس آیت مبارکہ میں داخل ہیں۔ آج کل لوگوں کی عادت یہ بھی بنی ہے کہ کسی سے ناراض ہوئے ،غصہ آیا اور لعنت ملامت شروع کردی۔ فلاں پر اللہ کی لعنت ، فلاں پر لعنت۔ یہ بیماری بلکہ وبا عام ہو چکی ہے۔ حالانکہ ہم کو نہیں معلوم کہ کسی پر یہ ہماری بھیجی ہوئی لعنت کا کیا حشر ہوتاہے۔حضور ﷺ نے فرمایا: مومن نہ لعن وطعن کرنے والا ہوتا ہے نہ لعنت کرنے والا ، نہ فحش بکنے والا بے ہودہ ہوتاہے۔(ترمذی) رحمت عالم ﷺ نے فرمایا جو لعنت ملامت کرتے ہیں، وہ قیامت کے دن نہ گواہ ہوں گے نہ کسی کے سفارشی۔(صحیح مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا مومن کو یہ نہ چاہئے کہ لعنت کرنے والا ہو۔(ترمذی) نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتاہے تو وہ لعنت آسمان کو جاتی ہے ۔آسمان کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں۔ پھر دائیں بائیں جاتی ہیں ، جب کہیں راستہ نہیںپاتی تو اس کی طرف آتی ہے جس پر لعنت بھیجی گئی۔ اگراُسے اس کا اہل پاتی ہے تو اس پر پڑتی ہے ورنہ بھیجنے والے پر آجاتی ہے۔ (ابو داؤد شریف) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص کی چادر کو ہوا کے تیز جھونکے لگے۔ اس نے ہواپر لعنت کی ۔ حضورﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو،وہ خدا کی طرف سے مامور ہے ۔ اور جو شخص ایسی چیز پر لعنت کرتاہے جو لعنت کی اہل نہ ہو تو لعنت اسی پر لوٹ آتی ہے۔ (بحوالہ کشف القلوب جلد3صفحہ280،ترمذی شریف)

زبان اللہ کی امانت ہے:

حضرت ابو ہریرہ ص روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو ،اس کو چاہئے کہ یا تو وہ اچھی اور نیک بات کہے یا خاموش رہے۔ دوسری روایت بھی ابو ہریرہ صسے مروی ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے سنا ،آپؐ نے فرمایا کہ ایک انسان سوچے سمجھے بغیر جب کوئی کلمہ زبان سے کہہ دیتاہے تو وہ کلمہ اس شخص کو جہنم کے اندر اتنی گہرائی تک گرا دیتاہے جتنا مشر ق اور مغرب کے درمیان فاصلہ اور بُعد(دوری) ہے۔(صحیح بخاری،کتاب الرقاق، باب حفظ اللسان)

*زبان جہنم میں لے جانے والی ہے:*

ایک حدیث پاک میں سرکار دوجہاں ﷺ نے فرمایا کہ جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوںکی ہوگی جو اپنی زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ مثلاً جھوٹ بول دیا، غیبت کردی ، کسی کا دل دُکھا یا، کسی کی دل آزاری کی، دوسروں کے ساتھ غیبت میں حصہ لیا، کسی کی تکلیف پر خوشی منائی ، زیادہ باتیں کیں۔ جب یہ گناہ کے کام کئے تو اس کے نتیجے میں وہ جہنم میں چلا گیا۔(ترمذی، کتاب الایمان، باب ماجاء فی حرمۃ الصلوٰۃ، حدیث نمبر2414) یعنی بہت سے لوگ زبان کی کرتوت کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے۔ ایک بڑی پیاری حدیث پاک ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ پاک تین لوگوں کو سخت ناپسند فرماتاہے۔(1)زیادہ باتیں کرنے والے کو(2)فضول خرچی کرنے والے کو (3)زیادہ سوال کرنے والے کو۔بیہقی نے حضرت عمر بن حصینص سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ سکوت پر قائم رہنا ساٹھ برس کی عبادت سے افضل ہے۔ ترمذی شریف میں ابو سعید خدری صسے روایت ہے حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم جب صبح کرتا تو تمام اعضاء زبان کے سامنے عاجزانہ یہ کہتے ہیں کہ تو خدا سے ڈر کہ ہم سب تیرے ساتھ وابستہ ہیں ،اگر تو سیدھی رہی تو ہم سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگئی تو ہم سب ٹیڑھے ہوجائیں گے۔(ترمذی، حدیث نمبر2408) ۔یہ زبان جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمائی ہے اگر اس کو صحیح استعمال کریں اس کو قابو میں رکھیں،بے قابو نہ چھوڑیں تو ہمارے دنیا وآخرت کے لئے بڑی نعمت ہے۔ اسی لئے کہا گیا کہ زبان سے یا تو صحیح بات بولو ورنہ خاموش رہو۔ اس لئے کہ خاموشی اس سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ آدمی غلط بات زبان سے نکالے اور اسی سبب سے زیادہ باتیںکرنے سے منع کیا گیا ہے ۔ نہ صرف منع کیا گیا ہے بلکہ اللہ پاک ایسے شخص کو ناپسند فرماتاہے جیساکہ اوپر حدیث پاک آپ پڑھ چکے ہیں۔

اگر انسان زیادہ بولے گا تو زبان قابو میں نہیں رہے گی،کچھ نہ کچھ گڑبڑ ضرور ہوگی اور اس کے نتیجے میں انسان گناہ اور بغض وعداوت کے شیطانی جال میںمبتلا ہوجائے گا۔ اس لئے ضرورت کے مطابق بولئے، زیادہ نہ بولئے۔ ایک بزرگ کا قول ہے کہ پہلے بات کو تولو پھر بولو۔ جب تول تول کربولو گے تو یہ زبان قابو میں آجائے گی۔ صحابہ کرامؓ اور صوفیائے کرامؒ نے بھی زبان کی حفاظت کو خوب اہمیت دی ہے اور خوب جچی تلی زبان میں بات کر نے کو فوقیت کودی ہے۔

حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ جو انبیاء کرام کے بعد سب سے افضل انسان ہیں ،وہ ایک مرتبہ اپنی زبان کو پکڑ ے بیٹھے تھے اور اس کو مروڑ رہے تھے۔ لوگوں نے پوچھا کہ آپ ؓ ایساکیوں کر رہے ہیں؟انہوں نے جواب دیا،ترجمہ: اس زبان نے مجھے ہلاکتوں میں ڈال دیا ہے، اس لئے اس کو قابومیں کرنا چاہتا ہوں۔(موطا امام مالک،کتاب الکلام باب ماجاء فی مایخاذ من اللسان) بعض روایات مروی ہیں کہ آپ منہ میں کنکریاں ڈال کر بیٹھ گئے تاکہ بلا ضرورت زبان سے بات نہ نکلے۔ زبان ایسی چیز ہے کہ اس کے ذریعہ سے انسان جنت بھی کماسکتاہے اور دوزخ بھی کما سکتا ہے۔ زبان کو بہرحال قابو میں کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ے جا استعمال نہ ہو۔ اس سے بچنے کا طریقہ یہی ہے کہ انسان زیادہ باتیں کرنے سے پرہیز کرے ۔ اس لئے انسان جتنا زیادہ غلط کلام کرے گا اتنا ہی وہ زیادہ گناہوں میں مبتلا ہوگا۔

ہمارے معاشرے میں زبان کے غلط استعمال کی جو وبا چل پڑی ہے، یہ بہت خراب اور خطرناک بات ہے۔ دوستوں کو بلالیا کہ آنا ذرا بیٹھ کر گپ شپ کریں گے۔ اب اس گپ شپ کے اندر جھوٹ بولا جارہاہے ، غیبت ہورہی ہے،دوسروں کی برائی ہورہی ہے، دوسروں کی نقلیں اُتاری جارہی ہیں۔ اس طرح کی اڈہ بازی میں نہ جانے کتنے گناہ ہورہے ہیں۔ یاد رکھیں زبان کی آفات، خرابی، فحش گوئی، دشنام طرازی، زبان درازی کی لعنت ، مسخرہ پن، فضول گوئی ، چغلی ، حسد وغیرہ وغیرہ جتنی آفتیں ہیں زبان کی ہی وجہ سے ہیں۔ بزرگوں نے کہا ہے کہ یہی زبان شکر بھی کھلائے اور یہ زبان جوتے بھی کھلائے۔ حضرت ہشام بن عمرص سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص غلام کو طمانچہ مارے ، اس کا کفارہ غلام کو آزاد کرنا ہے۔ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا ،اس کو عذاب سے نجات دی جائے گی۔ جو اللہ سے معذرت کرے گا ،معذرت قبول کی جائے گی۔ مومن کو چاہئے کہ پڑوسی اور مہمان کا اکرام کرے ،زبان کی ترشی سے بچائے اور پڑوسی سے بھلائی کی بات کرے ورنہ خاموش رہے۔

*زبان کی گھٹتی قیمت:*

نہایت ہی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ آج کے دور میں زبان کی قدر وقیمت گھٹتی جارہی ہے اور اس کے صحیح استعمال سے ہم سب بہت غفلت اور بے احتیاطیاں برت ر ہے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اہل ِعلم ، دین کے ذمہ داران اور میڈیا سے وابستہ سنجیدہ لوگ بھی اس سلسلے میں بے توجہی کے شکار نظر آرہے ہیں۔ اس لئے سب سے پہلا کام یہ ہو نا چاہیے کہ اس زبان کو قابو میں کرنے کی اہمیت دل میں پیدا کریں، خوفِ خدا پیدا کریں اور صرف وہی بات کریں جس سے صلاح وفلاح کی ہوائیں چلیں۔

*ہم اپنا احتساب کریں:*

کیا ہمارے نزدیک ہماری زبان ہر قسم کی ذمہ داری اور لگام سے آزاد اور مستثنیٰ ہے؟ کیا ہم اس بات کے قولاًنہ سہی عملاً منکرہیں جو قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ انسان کوئی بات بولتا ہے مگر یہ کہ اس کے لئے ایک فرشتہ تیار رہتا ہے لکھنے کے لئے۔(القرآن سورہ ق، آیت 81)کیا ہم سب کو اطمینان ہے کہ ہماری زبان سے جو کچھ نکل رہا ہے اس پر کسی کی گرفت نہیں ہوگی؟ اگر آج ہم میں سے ہر شخص اتنا عزم وارداہ کرلے کہ اسی لمحے سے اپنی زبان اپنے قابو میں رکھیں گے تو ذاتی ، گھریلو، رشتے ہمسائیگی اوردوستی کے دائر ے میں پڑیں بڑی خرابیوں ، رنجشوں اور فتنوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔بات کہو تو پکی اور مضبوط اور قرآن کی زبان میں *قولوللناس حسنا* یعنی لوگوں سے بات کرو تو خوبی کی بات کرو ۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کثیر سے حفاطت زبان کی اہمیت ہمارے دلوں میں پیدا فرمائے اور اس بارے میں ہمیں قرآن وحدیث کی تعلیمات پر مخلصانہ عمل کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں زندگی کے ہر شعبے میں قرآنی نسخۂ کیمیا پر عمل کی توفیق ہوجائے۔ آمین,رابطہ: hhmhashim786@gmail.com, حافظ محمد ہاشم قادری صدیقی مصباحی خطیب وامام مسجد ہاجرہ رضویہ اسلام نگر کپا لی وایا مانگو جمشیدپور پن کوڈ 831020, جھارکھنڈ،

شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے

حدیث نمبر :336

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو سرمہ لگائے وہ طاق بار لگائے ۱؎ کرے تو اچھا ہے نہ کرے تو گناہ نہیں۲؎ اور جو استنجا کرے تو طاق سے کرے جو کرے تو اچھا اور نہ کرے تو گناہ نہیں۳؎ اور جو کھائے تو جو خلال سے نکالے وہ تھوک دے اور جوزبان سے نکالے وہ نگل لے۴؎ جو کرے تو اچھا ہے جو نہ کرے تو گناہ نہیں۵؎ اور جو پاخانہ جائے تو آڑ کرے اگر آڑ نہ پائے یا بجز اس کے کہ ریت کا ڈھیر جمع کرے تو اس ڈھیر کی طرف پیٹھ کرے ۶؎ کیونکہ شیطان لوگوں کے پاخانہ کے مقام سے کھیلتا ہے جو یہ کرے تو اچھا ہےجو نہ کرے تو گناہ نہیں ۷؎(أبوداؤد،ابن ماجہ،دارمی)

شرح

۱؎ ہر آنکھ میں تین سلائیاں اس طرح کہ پہلے داہنی آنکھ میں تین۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ پہلے دہانی میں دو،پھربائیں میں تین،پھر دائیں میں ایک،تاکہ داہنی پر اتبداءاورانتہاء ہو،اس میں بھی حرج نہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سوتے وقت تین تین سلائیاں لگایا کرتے تھے،اس پر پابندی کرنے والا ان شاءاﷲ اندھا نہ ہوگا۔

۲؎ یعنی یہ امروجوب کے لیے نہیں بلکہ استحباب کے لیے ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ مطلق امرو جوب کے لیے ہوتا ہے ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو امر کے بعد اس فرمان کی ضرورت نہ ہوتی۔

۳؎ یعنی بڑے استنجے کے لیے تین،یاپانچ،یاسات حسب ضرورت ڈھیلے لے۔اگر چار یا چھ لئے جب بھی مضائقہ نہیں کیونکہ مقصود صفائی ہے۔خیال رہے کہ سرمے کی تین ہی سلائیاں لگائے پانچ یاسات نہیں کہ یہی سنت ہے۔

۴؎ کیونکہ خلال سے نکالے ہوئے میں خون سے مخلوط ہونے کا احتمال ہے،لہذا احتیاطًا نہ کھائے اور زبان سے نکالے ہوئے میں یہ احتمال نہیں وہاں اس احتیاط کی ضرورت نہیں۔

۵؎ یہ اس صورت میں ہے کہ خون سے مخلوط ہونے کا صرف احتما ل ہو یقین نہ ہو،اگر یقین ہوتو نگلنا حرام ہےکیونکہ بہتا خون حرام بھی ہے اورنجس بھی،خواہ دوسرے کا۔اس سے اشارۃً معلوم ہوتا ہے کہ بہتا خون جسم میں داخل کرنا ناجائز ہے جیسے پیشاب پاخانہ داخل کرنا کہ یہ سب نجس ہیں۔

۶؎ لوگوں کے سامنے تو آڑ کرنا فرض ہے،تنہائی میں آڑ مستحب،کیونکہ یہ حیا کا ایک شعبہ ہے اسی لیے تنہائی میں بھی ننگا رہنا ممنوع ہے۔ڈھیر کی طرف پیٹھ کرنااس واسطے ہے کہ آگے تو کپڑے وغیرہ سے بھی آڑ کی جاسکتی ہے ورنہ دونوں طرفیں ستر کے لائق ہیں۔

۷؎ یعنی تنہائی میں یہ پردہ مستحب ہے واجب نہیں۔شیطان کے کھیلنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ننگا دیکھ کر ہنستا ہے،وسوسے ڈالتا ہے وغیرہ۔

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 194

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رَبَّنَا وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَلَا تُخۡزِنَا يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ ‌ؕ اِنَّكَ لَا تُخۡلِفُ الۡمِيۡعَادَ

ترجمہ:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ہمارے رب ! ہمیں وہ عطا فرما جس کا تو نے اپنے رسولوں کی زبان کے ذریعہ ہم سے وعدہ فرمایا ہے ‘ اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کرنا بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٩٤) 

دعا قبول ہونے کے علم کے باوجود دعا کرنے کی حکمتیں : 

مسلمانوں نے اپنی دعا میں یہ کہا تو نے اپنے رسولوں کی زبانوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا فرما ‘ بیشک تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ‘ اس آیت پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ کے خلاف کرنا محال ہے ‘ پھر یہ دعا کیوں کی گئی کہ تو اپنے وعدہ کے مطابق عطا فرما۔ اس کا جواب یہ ہے کہ دعا سے مقصود اظہار عبودیت ہے کیونکہ بعض چیزوں کے متعلق ہم کو معلوم ہے کہ لامحالہ ایسا ہوگا پھر بھی اس کی دعا کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین “۔ (المؤمنون : ١١٨) 

ترجمہ : آپ دعا کیجئے اے میرے رب مغفرت فرما اور رحم فرما اور تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے۔ 

رسو اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مغفرت سورة فتح سے قطع طور پر ثابت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اظہار عبودیت کے لیے آپ کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم برقرار رکھا۔ 

(آیت) ” قال رب احکم بالحق “۔ (الانبیاء : ١١٤) 

ترجمہ : (اللہ کے رسول نے) دعا کی اے میرے رب برحق فیصلہ فرما ،

حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ برحق ہی ہوتا ہے پھر بھی اللہ کے رسول نے اظہار عبودیت کے لیے یہ دعا کی۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے جو رسولوں کے ذریعہ مغفرت اور اجروثواب کا وعدہ فرمایا ہے وہ نام بہ نام معین اشخاص سے وعدہ نہیں فرمایا بلکہ وہ وعدہ بطور نیک اوصاف کے ہے یعنی جو لوگ اعمال صالحہ کریں گے ان کے لیے جنت اور آخرت کی نعمتیں ہیں ‘ اس لیے ہم کو یہ معلوم نہیں کہ ہمارا شمار ان اوصاف کے حاملین میں ہے یا نہیں جب کہ ہم سے انواع و اقسام کے گناہ بھی ہوتے رہتے ہیں اس لیے ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ ہمیں عطا فرما۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ عطا فرمائے گا لیکن یہ نہیں فرمایا تھا کہ مسلمانوں کو کب غلبہ نصیب ہوگا سو مسلمانوں نے اس غلبہ کے حصول کے لیے دعا کی۔ 

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان اپنے نیک اعمال کی وجہ سے اجر وثواب کا مستحق نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جو وعدہ فرمایا ہے وہ اس وعدہ کی وجہ سے اجر کا مستحق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا اور مسلمانوں نے اللہ سے دعا کرتے ہوئے یہ کہا کہ اے اللہ اپنے وعدہ کی وجہ سے ہمیں عطا فرما یہ نہیں کہا کہ ہمارے اعمال کی وجہ سے عطا فرما : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ‘ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ کو بھی نہیں ؟ فرمایا مجھ کو بھی نہیں الا یہ کہ اللہ مجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے ‘ تم درست کام کرو اور نیکی کے قریب ہو ‘ صبح ‘ شام اور رات کے کچھ حصہ میں درمیانہ روی اور اعتدال سے عمل کرو۔ 

صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٤٦٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨١٨‘ ٢٨١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٠١‘ سنن دارمی رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣٧‘ ٥٢٤‘ ٥١٤‘ ٥٠٩‘ ج ٣ ص ٣٦٢‘ ٣٣٧‘ ٥٣‘ ج ٦ ص ١٢٥‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٤٦١ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 3 آل عمران – آیت نمبر 194

علم دو طرح کے ہیں

حدیث نمبر :260

روایت ہے حضرت حسن سے فرماتےہیں علم دو طرح کے ہیں ایک علم دل میں یہ علم فائدہ مند ہے ۱؎ دوسرا علم صرف زبان پر یہ انسان پر اﷲ کی حجت ہے۲؎ (دارمی)

شرح

۱؎ یعنی علم دین کی دو نوعیتیں ہیں:ایک وہ جس کا نورعالم کے دل میں اترجائے جس سے قلب روشن اور قالب مطیع ہو جائے یہ علم عالم کو نفع دے گا اور دوسروں کوبھی،ایسے عالم کا وعظ بلکہ اس کی صحبت اکسیر ہے۔اس کی علامت یہ ہے کہ عالم کے دل میں خوف خدا اور محبت جناب مصطفے،آنکھوں میں تری،زبان پر اﷲ کا ذکر رہتے ہیں۔صوفیاء فرماتے ہیں کہ علم بغیر تصوف فسق ہے اورتصوف بغیرعلم بے دینی۔

۲؎ یعنی جب عالم صرف باتیں اچھی کرے مگر اس کا اپنا دل نور سے اور بدن اثرعلم سے خالی ہو یہ علم قیامت میں عالم کے الزام کھا جانے کا ذریعہ ہوگا کہ رب فرمائے گا تو سب کچھ جانتاتھا پھرگمراہ اور بدعمل کیوں بنا؟ صوفیاءفرماتے ہیں کہ جس علم میں تصوف کی چاشنی نہ ہو وہ علم لسانی وارثت شیطانی ہے۔آدم علیہ السلام کا علم قلبی تھا شیطان کا لسانی۔

خشک زبانیں

حکایت نمبر116: خشک زبانیں

حضرت سیدنا محمد بن حسین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”میں نے حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود علیہ رحمۃاللہ الاحد کو مقام ”طرطوس”میں آدھی رات کے وقت دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ زار وقطار رو رہے تھے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زبان مبارک پر یہ نصیحت آموز کلمات جاری تھے:

خبردار! جس شخص نے دنیا ہی کو اپنا مقصد ِعظیم بنا لیا اور ہر وقت اسی کی تگ ودومیں لگا رہاتو کل بروزِ قیامت اسے بہت زیادہ غم وپر یشانی کاسامنا کرنا پڑے گا اور جو شخص آخرت میں پیش آنے والے معاملات کو یا د رکھتا ہے اوربروزِ قیامت پیش آنے والی سختیوں اور اورگھبراہٹو ں کو ہر دم پیشِ نظر رکھتا ہے تواس کا دل دنیا سے اُچاٹ ہوجاتا ہے اور جو شخص اللہ عزوجل کے عذاب کی وعیدوں سے ڈرتا ہے وہ بھی دنیا وی خواہشات کو چھوڑ دیتا ہے۔

اے مسکین! اگر تُو چاہتا ہے کہ تجھے راحت وسکون اور عظیم نعمتیں ملیں تو رات کو کم سویاکراور شب بیداری کو اپنا معمول بنا لے، جب تجھے کوئی نصیحت کرے ،نیکی کی دعوت دے اور برائی سے منع کرے تو اس کی دعوت قبول کر۔ تو اپنے پیچھے والوں کے رزق کی فکر میں غمگین نہ ہو کیونکہ تو ان کے رزق کامکلف نہیں بنایا گیا۔ 

تو اپنے آپ کو اس عظیم دن کے لئے تیار رکھ جب تیرا سامنا خالق ِکائنات عزوجل سے ہوگاتو اس کی بارگاہ میں حاضر ہوگا پھر تجھ سے سوال وجواب ہوں گے۔ اس سخت دن کی تیاری میں ہر وقت مشغول رہ ، نیک اعمال کی کثرت کر اور اپنے آخرت کے خزانے کو اعمالِ صالحہ کی دولت سے جلد از جلد بھرنے کی کوشش کر، فضول مشاغل کو ترک کردے اور موت سے پہلے موت کی تیاری کرلے ورنہ بعد میں بہت پچھتا وا ہوگا ۔ جس وقت تیری روح نکل رہی ہوگی اور گلے تک پہنچ جائے گی تو تیری تمام محبوب اَشیاء جن کی تُو خواہش کیا کرتاتھا، سب کی سب دنیا ہی میں رہ جائیں گی اور ا س وقت تیری حسرت اِنتہا کو پہنچ چکی ہو گی لہٰذا اس وقت سے پہلے آخرت کی تیاری کرلے۔”

آخرت کی تیاری کا بہترین طریقہ :

(آخرت کی تیاری کابہترین طریقہ یہ ہے کہ ) تُوہر وقت یہ تصور رکھ کہ بس موت آپہنچی ہے ،رو ح میرے گلے میں اٹکی ہوئی ہے ،بس چندسانس باقی ہیں اور میں سکرات کے عالم میں غمگین و پریشان ہوں۔ میری تمام خواہشات ملیا میٹ ہوگئیں ، گھر والوں کے لئے جو تمنا ئیں تھیں وہ خاک میں مل گئیں۔ میرے اِرد گر د میرے اہل و عیال کھڑے ہیں اور میں انہیں بڑی حسرت سے دیکھ رہا ہوں ، ان میں سے کوئی بھی میرے ساتھ قبر میں جانے کو تیار نہیں۔ بس میرے اعمال میرے ساتھ ہوں گے ، اگر اعمال اچھے ہوئے تو آخرت میں آسانی ہوگی اوراگر (معاذ اللہ عزوجل ) اعمال برے ہوئے تو وہاں کی تکلیف بر داشت نہ ہو سکے گی ۔

؎ نہ بیلی ہو سکے بھائی نہ بیٹا باپ تے مائی تو کیوں پھرتا ہے سودائی عمل نے کام آنا ہے

پھر حضرت سیدنا ابو معاویہ اسود علیہ رحمۃاللہ الاحدنے فرمایا :”تمام اُمور میں سب سے زیادہ اَجر وثواب کا باعث صبر ہے، مصائب پر صبر کرنا بہت عظیم اَمر ہے ، لہٰذا صبر سے کام لے ۔ اپنی زبان کو ہر وقت اللہ عزوجل کے ذکر سے تر رکھ ۔کبھی بھی اس کے ذکر سے غافل نہ رہ ، ہرہر سانس پر اس کی پاکی بیان کر۔”

؎ غلام اک دم نہ کر غفلت حیاتی پر نہ غُرّہ خدا کی یاد کر ہر دم کہ جس نے کام آنا ہے

پھر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دوبارہ رونا شرو ع کردیا ۔

پھر فرمانے لگے: ”ہائے افسوس! وہ دن کیسا خوفناک ہوگا جس دن میرا رنگ متغیر ہوجائے گا ، اس دن کا خوف مجھے کھائے جاتا ہے ،جب زبانیں خشک ہوجائیں گی، اگربروزِ قیامت میرا زادِ آخرت کم پڑگیا تو میرا کیا بنے گا، اس وقت میں کہاں جاؤں گا ؟کون میر ی مدد کریگا؟”اِتنا کہنے کے بعد پھر درد بھرے انداز میں رونے لگے۔

؎ دِلا غافل نہ ہو، یکدم یہ دنیا چھوڑ جانا ہے بغیچے چھوڑ کر خالی زمیں اندر سمانا ہے جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے پوچھا گیا:” حضور! یہ نصیحت آموز اور عظیم باتیں کس کے لئے ہیں اور آپ نے کہا ں سے سیکھی ہیں ؟ ”تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ”یہ ہر عقل مند کے لئے مفیدباتیں ہیں،جو بھی ان پر عمل کریگا فلاح وکامرانی سے مشرف ہوگا اور یہ تمام باتیں مَیں نے ایک بہت ہی دانا شخص حضرت سیدنا علی بن فضیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے سیکھی ہیں۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں

حدیث نمبر :245

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جو اعمال و نیکیاں مؤمن کو بعدموت بھی پہنچتی رہتی ہیں ان میں سے وہ علم ہے جسے سیکھا گیا اور پھیلایا گیا ۱؎ اور نیک اولاد جو چھوڑ گیا ۲؎ یا قرآن شریف جس کا وارث بنا گیا۳؎ یا مسجد یا مسافر خانہ جو بنا گیا ۴؎ یا نہر جو جاری کرگیا یا خیرات جسے اپنے مال سے اپنی تندرستی و زندگی میں نکال گیا۵؎ کہ یہ چیزیں اسے مرے بعد بھی پہنچتی رہتی ہیں۶؎ (ابن ماجہ،بیہقی فی شعب الایمان)

شرح

۱؎ زبان سے یا قلم سے کہ اپنے کامل شاگرد اور بہترین تصنیفات چھوڑیں،جب تک مسلمان ان سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے،اسے ثواب پہنچتا رہے گا۔

۲؎ خواہ اولاد کو نیک بنا کر گیا یا اس کے مرنے کے بعد اولاد نیک ہوگئی دونوں صورتوں میں اسے ثواب ملتا رہے گا۔

۳؎ اس طرح کہ اپنے ہاتھ سے قرآن لکھ کر یا خریدکر چھوڑ گیا اسی حکم میں تمام دینی کتب ہیں۔

۴؎ کوشش سےیا اپنے پیسہیا اپنے ہاتھ سے،اسی حکم میں مدرسے اور خانقاہیں بھی ہیں۔

۵؎ تندرستی کی اس لیئے قید لگائی کہ مرض الموت میں خیرات کرنے کا آدھا ثواب ہےکیونکہ اس وقت خود اپنے کو مال کی حاجت نہیں رہتی اس میں تمام صدقہ جاریہ آگئے جیسے کنویں کھدوانا،نلکے لگوانا،ہسپتال بنا جانا وغیرہ۔

۶؎ بعض تا قیامت بعض اس سے کم،جس قدر صدقہ کا بقا اسی قدر اس کا اجر۔

وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏ – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 104

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ اُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِ‌ؕ وَاُولٰٓٮِٕكَ هُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ‏

ترجمہ:

اور تم میں ایسے لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو اچھائی کی طرف بلائیں اور نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے منع کریں ‘ اور وہی لوگ فلاح کو پہنچنے والے ہیں

تفسیر:

ربط آیات اور مناسبت : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کفار اہل کتاب کی دو وجہ سے مذمت فرمائی تھی ایک یہ کہ وہ خود کافر اور گمراہ ہیں اس لیے فرمایا اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیتوں کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو (آل عمران : ٩٨) اور دوسری اس وجہ سے کہ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں لہذا فرمایا : اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے (آل عمران : ١٠٢) اور چونکہ گمراہ کرنے کی وجہ سے اہل کتاب کی مذمت کی تھی اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا اور تم میں ایسے لوگوں کی ایک جماعت ہونی چاہیے جو نیک کاموں کا حکم دیں اور برے کاموں سے روکیں۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق قرآن مجید کی مزید آیات 

(آیت) ” کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر “۔ (ال عمران : ١١٠)

ترجمہ : ان سب امتوں میں جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہیں تم بہترین امت ہو تم نیکی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔

(آیت) ” یبنی اقم الصلوۃ وامر بالمعروف وانہ عن المنکر “۔ (لقمان : ١٧)

ترجمہ : اے میرے بیٹے نماز قائم رکھ ‘ اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روک۔

(آیت) ” وان طآئفتان من المؤمنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما فان بغت احداھما علی الاخری فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔ (الحجرات : ٩)

ترجمہ : اور اگر ایمان لوگوں کی دو جماعتیں آپس میں جنگ کریں تو ان میں صلح کرا دو پھر ان میں سے ایک جماعت دوسری پر زیادتی کرے تو اس جماعت سے جنگ کرو جو زیادتی کرے حتی کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔

(آیت) ” لعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل علی لسان دادؤ و عیسیٰ ابن مریم ‘ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون۔ کانوا لا یتناھون عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون “۔ (المائدہ : ٧٩۔ ٧٨)

ترجمہ : بنو اسرائیل سے جنہوں نے کفر کیا وہ داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان پر لعنت کیے گئے ‘ ان کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ‘ وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو انہوں نے کیے تھے۔ یقینا وہ بہت ہی برے کام کرتے تھے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے متعلق احادیث اور آثار : 

امام مسلم بن حجاج قشری متوفی ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جس شخص نے برائی کو دیکھا وہ اپنے ہاتھ سے برائی کو مٹائے ‘ اگر وہ اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنی زبان سے مٹائے اور اگر اس کی بھی طاقت نہ رکھتا ہو تو دل سے اس کو برا جانے ‘ اور یہ سب سے کمزور درجہ کا ایمان ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ‘ ٥١ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

حافظ زکی الدین عبدالعظیم بن عبدالقوی متوفی ٦٥٦ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سلطان یا ظالم امیر کے سامنے حق بات کہنا سب سے افضل جہاد ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ جامع ترمذی ‘ سنن ابن ماجہ)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں ‘ اور وہ شخص جس نے ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اس ظالم حاکم نے اسے قتل کردیا اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ حاکم نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے جس نبی کو بھی مجھ سے پہلے کسی امت میں مبعوث فرمایا اس نبی کے اس امت میں حواری ہوتے تھے ‘ اور اس کے اصحاب ہوتے تھے جو اس کی سنت پر عمل کرتے تھے اور اس کے حکم پر عمل کرتے تھے ‘ پھر ان کے بعد ایسے برے لوگ آئے جو ایسی باتیں کرتے تھے جس پر خود عمل نہیں کرتے تھے اور ایسے کام کرتے تھے جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا ‘ سو جو ان کے ساتھ ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے ‘ اور جو ان کے ساتھ زبان سے جہاد کرے وہ بھی مومن ہے ‘ اس کے علاوہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ (صحیح مسلم)

حضرت حذیفہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو ورنہ عنقریب اللہ تم پر اپنا عذاب نازل فرمائے گا تم اس سے دعا کرو گے اور تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنے آپ کو حقیر نہ جانے صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم میں سے کوئی شخص کیسے اپنے آپ کو حقیر جانے گا ؟ آپ نے فرمایا : وہ یہ گمان کرے گا کہ اس کے اوپر کلام کی گنجائش ہے پھر وہ کلام نہیں کرے گا ‘ اللہ عزوجل قیامت کے دن اس سے فرمائے گا تمہیں میرے متعلق کس چیز نے کلام سے روکا تھا ؟ وہ کہے گا لوگوں کے خوف سے ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں اس کا زیادہ حقدار تھا کہ تم مجھ سے خوف کھاتے ‘ اس حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب بنواسرائیل گناہوں میں مبتلا ہوگئے تو ان کے علماء نے ان کو منع کیا ‘ وہ باز نہ آئے ‘ وہ علماء ان کی مجالس میں بیٹھتے رہے ‘ اور ان کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض کے دل ان جیسے کردیئے ‘ اور حضرت داؤد اور حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کی زبانوں سے ان پر لعنت کی ‘ کیونکہ انہوں نے نافرمانی کی تھی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے ‘ پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تکیہ لگائے ہوئے تھے پھر آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے حتی کہ وہ اپنے نفس کو اتباع حق پر لازم کرلیں ‘ اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی قوم میں رہ کر گناہ کر رہا ہو اور وہ لوگ اس کو گناہ سے روکنے پر قادر ہوں اور نہ روکیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا کرے گا ‘ اس حدیث کو امام ابو داؤد ‘ امام ابن ماجہ اور امام ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے فرمایا : اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔ (المائدہ : ١٠٥)

ترجمہ : اے ایمان والوں ! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : جب لوگ کسی شخص کو ظلم کرتے ہوئے دیکھیں اور اس کے ہاتھ کو نہ پکڑیں تو عنقریب اللہ ان سب پر عذاب نازل فرمائے گا۔ اس حدیث کو امام ابوداؤد ‘ اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میری امت میں ان لوگوں کو دیکھو جو ظالم کو ظالم کہنے سے ڈریں تو تم ان سے الگ ہوجاؤ۔ اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور کہا یہ صحیح الاسناد ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور نیکی کا حکم نہ دے اور برائی سے نہ روکے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

(مسند احمد ‘ جامع ترمذی ‘ صحیح ابن حبان) الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٢٤٣۔ ٢٢٣‘ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤٠٧)

علامہ سید محمد مرتضی حسینی زبیدی متوفی ١٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

امام بزار حضرت عمر بن الخطاب (رض) سے اور امام طبرانی حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے منع کرتے رہنا ورنہ تم پر تم ہی میں سے برے لوگ مسلط کردیئے جائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ دعا قبول نہیں ہوگی ‘ امام ترمذی کی روایت میں ہے : ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر عذاب نازل فرمائے گا پھر تم اللہ سے دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

امام ابن ماجہ نے سند حسن کے ساتھ روایت کیا ہے :

اللہ تعالیٰ بندے سے سوال کرے گا : جب تو نے برائی کو دیکھا تو اس کو روکنے سے تجھ کو کس چیز نے منع کیا تھا ؟ اور جب اللہ تعالیٰ بندے کو حجت کی تلقین کردے گا تو وہ کہے گا : مجھے تجھ سے امید تھی اور میں لوگوں سے ڈرتا تھا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں زیادہ حقدار تھا کہ تو مجھ سے ڈرتا (اتحادف السادۃ المتقین ج ٧ ص ١٢۔ ٦‘ ملخصا مطبعہ میمنہ مصر ١٣١١ ھ)

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا خاموش رہنے سے بہتر ہے۔

حضرت ابن عباس (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص کسی مقام پر کھڑا ہو کر حق بات کہہ سکتا ہے اس کو حق بات کہہ دینی چاہیے کیونکہ یہ (حق کہنا) اس کی موت کو مقدم کرسکتا ہے نہ اس کو اس کے لکھے ہوئے رزق سے محروم کرسکتا ہے۔

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے حق بات کہنا ہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جس نے نیکی کا حکم دیا نہ برائی سے روکا وہ ہلاک ہوگیا۔

حضرت ابن عباس نے سعید بن جبیر سے فرمایا اگر تم کو یہ خوف ہو کہ نیکی کا حکم دینے سے تمہارا امام تمہیں قتل کر دے گا تو پھر چھوڑ دو ۔

حضرت بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ عزوجل نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف یہ وحی فرمائی کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو ‘ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب ان میں تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے پلک جھپکنے کی مقدار بھی تیری نافرمانی نہیں کی ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس شہر کو الٹ دو وہ بندہ میری وجہ سے ایک ساعت کے لیے بھی ناراض نہیں ہوا۔

مالک بن دینار کہتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی محبت کی وجہ سے دنیاد اوروں سے صلح کرلی ہے ہم میں سے کوئی کسی کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور نہ برائی سے روکتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس حال پر نہیں چھوڑے گا ‘ کاش مجھے علم ہو تاکہ کون سا عذاب نازل ہوگا۔ (شعب الایمان ج ٦ ص ٩٧۔ ٩٢ ملتقطا ‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠ ھ)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تفصیل اور تحقیق : 

برائی سے روکنا اور نیکی کا حکم دینا فرض کفایہ ہے ‘ جب لوگ اس فرض کر ادا کرلیں تو باقیوں سے اس کی فرضیت ساقط ہوجاتی ہے اور جب تمام لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیں تو سب گنہ گار ہوں گے ‘ اور جس جگہ کوئی اور شخص برائی سے روکنے والا نہ ہو اور وہاں صرف ایک عالم ہو تو اس پر برائی سے روکنا فرض عین ہے۔ مثلا کوئی شخص اپنی بیوی کو ‘ اپنی اولاد کو یا اپنے نوکر کو کوئی برا کام کرتے ہوئے دیکھے یا کسی نیکی میں تقصیر کرتا ہوا پائے تو اس کے لیے نہی عن المنکر فرض ہے۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ شخص خود کامل ہو تمام احکام شرعیہ پر عامل اور تمام محرمات شرعیہ سے مجتنب ہو اور نہ ہی یہ حکام کے ساتھ خاص ہے اور نہ ہی علماء کے ساتھ مخصوص ہے ‘ اس کی تفصیل یہ ہے کہ جو احکام ظاہر اور مشہور ہیں مثلا نماز ‘ روزہ کی فرضیت ‘ جھوٹ ‘ قتل ‘ زنا اور چوری وغیرہ کی حرمت ان کا علم ہر مسلمان کو ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ ہو مثلا نماز نہ پڑھنے اور جھوٹ بولنے پر ٹوکے اور نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے اور جو احکام شرعیہ غامض اور دقیق ہیں یا جن کا تعلق اجتہاد سے ہے عام لوگوں کا ان میں دخل نہیں ہے اور نہ وہ اس میں انکار کرسکتے ہیں (مثلا روزہ میں انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں ‘ ٹیلی فون پر نکاح ہوتا ہے یا نہیں ‘ اعضاء اور قرنیہ کی پیوندکاری ‘ انتقال خون وغیرہ) جو مسئلہ اجتہادی اور مختلف فیہ ہو ‘ مثلا کسی مجتہد کے نزدیک جائز اور کسی کے نزدیک ناجائز ہو اور عمل کرنے والا کسی مفتی کے فتوی کے مطابق عمل کر رہا ہو تو اس کو گناہ نہیں ہوگا خواہ وہ دوسرے مجتہد کے نزدیک ناجائز ہی کیوں نہ ہو ‘ ایسی صورت میں بھی عالم کو چاہیے کہ اس کو ٹوکے تاکہ وہ ایسی صورت پر عمل کرے جس میں کسی مجتہد کا اختلاف نہ ہو (مثلا بیمار روزہ دار ‘ اگر روزہ میں انجیکشن لگواتا ہے تو اس روزہ کی قضا کرلے۔ )

برائی سے روکنے کے لیے تادیب اور تعزیر کے مراتب : 

علامہ ابوبکر جصاص حنفی لکھتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔ (المائدہ : ١٠٥)

ترجمہ : اے ایمان والوں ! تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

حضرت ابوبکر (رض) نے ایک خطبہ میں اس آیت کو تلاوت کرکے فرمایا تم اس آیت کا غلط مطلب لیتے ہو ‘ ہم نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب لوگ کسی ظلم کرنے والے کو دیکھیں اور اس کے ہاتھوں کو نہ پکڑیں تو قریب ہے اللہ تعالیٰ ان سب پر عذاب نازل فرمائے ‘ ابو امیہ شعبانی بیان کرتے ہیں کہ ہم نے ابو ثعلبہ خشنی سے اس آیت کے متعلق پوچھا انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا تھا ‘ آپ نے فرمایا تم نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جاری ہے اور خواہش کی پیروی کی جارہی ہے ‘ دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے ‘ اور ہر شخص اپنی رائے پر اترا رہا ہے ‘ اس وقت تم صرف اپنی جان کی فکر کرو اور عوام کو چھوڑ دو ‘ کیونکہ تمہارے بعد صبر کے ایام ہیں ‘ ان ایام میں صبر کرنا انگارے پکڑنے کے مترادف ہے اس وقت میں ایک عمل کرنے والے کو پچاس عمل کرنے والوں کا اجر ملے گا۔

یہ حدیث اس چیز پر دلالت کرتی ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے دو حال ہیں ایک حال وہ ہے جس میں برائی کو بدلنا اور اس کو مٹانا ممکن ہے ‘ اس حال میں جس شخص کے لیے برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹانا ممکن ہو اس پر اس برائی کو مٹانا فرض ہے اور اس کی کئی صورتیں ہیں ‘ ایک صورت یہ ہے کہ وہ برائی کو تلوار سے مٹائے مثلا ایک شخص اس کو یا کسی اور شخص کو قتل کرنے کا قصد کرے ‘ یا اس کا مال لوٹنے کا قصد کرے ‘ یا اس کی بیوی سے زنا کرنے کا قصد کرے ‘ اور اس کو یقین ہو کہ زبانی منع کرنے سے وہ باز نہیں آئے گا یا بغیر ہتھیار کے اس سے جنگ کی (مثلا تھپڑ یا مکہ مارا) تب بھی باز نہ آئے گا تب اس پر لازم ہے کہ اس کو قتل کردے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کا ارشاد ہے : تم میں سے جو شخص برائی دیکھے اس کو اپنے ہاتھ سے مٹائے ‘ اور جو شخص برائی کر رہا ہے اگر اس کو قتل کیے بغیر اس برائی کو مٹانا ممکن نہ ہو تو اس کو قتل کرنا اس پر فرض ہے ‘ اور اگر اس کو ظن غالب ہو کہ بغیر ہتھیار کے بھی اس برائی کو مٹانا ممکن ہے۔ (مثلا تھپڑ اور مکہ مارنے سے) تو پھر اس کو قتل کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اگر اس کو یہ گمان ہو کہ اب اگر اس کو بغیر ہتھیار کے مارا یا زبان سے منع کیا تو یہ باز آجائے گا لیکن بعد میں اتنی سزا سے باز نہیں آئے گا اور اس کو قتل کیے بغیر یہ برائی نہیں مٹ سکے گی تو پھر اس کو قتل کرنا لازم ہے۔ ایک آدمی کے لیے ملکی قانون کو ہاتھ میں لینا جائز نہیں ہے ‘ البتہ اگر کوئی شخص کسی مسلمان کی جان یا مال یا عزت پر حملہ آور ہو تو وہ اپنی یا دوسرے مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت بچانے کے لیے مزاحمت کرے اور اگر اس مزاحمت کے دوران وہ حملہ آور اس کے ہاتھوں مارا جائے تو اس سے شرعا کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ (سعیدی غفرلہ)

ابن رستم نے امام محمد سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے کسی کا سامان چھین لیا تو تمہارے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے حتی کہ تم اس کا سامان چھڑا لو ‘ اور اس آدمی کو واپس کردو اسی طرح امام ابوحنیفہ نے فرمایا جو چور مکانوں میں نقب لگا رہا ہو ‘ تمہارے لیے اس کو قتل کرنا جائز ہے اور جو آدمی تمہارا دانت توڑنا چاہتا ہو (مدافعت میں) تمہارا اس کو قتل کرنا جائز ہے بہ شرطی کہ تم ایسی جگہ پر ہو جہاں لوگ تمہاری مدد کو نہ پہنچیں ‘ اور ہم نے جو یہ ذکر کیا ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

(آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔ (الحجرات : ٩)

ترجمہ : جو جماعت زیادتی کرے اس سے اس وقت تک جنگ کرو حتی کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے۔

اسی طرح حدیث میں ہے : تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے وہ اس کو اپنے ہاتھوں سے مٹائے۔ “ اس لیے جب کوئی شخص کسی برائی کو دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹائے خواہ برائی کرنے والے کو قتل کرنا پڑے ‘ اور اگر وہ زبان سے منع کرنے سے باز آجائے تو اس کو زبان سے منع کرے ‘ یہ حکم ہر اس برائی کے لیے ہے جو علی الاعلان کی جارہی ہو اور اس پر اصرار کیا جارہا ہو ‘ مثلا کوئی شخص بھتہ اور جبری ٹیکس وصول کرے ‘ اور جب ہاتھ سے برائی کو مٹانا اور زبان سے منع کرنا دونوں میں اس کی جان کو خطرہ ہو تو اس کے لیے سکوت جائز ہے اور اس وقت اس پر لازم ہے کہ اس برائی سے اور ان برائی کرنے والوں سے الگ ہوجائے۔

قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” علیکم انفسکم ‘ لایضرکم من ضل اذا اھتدیتم “۔

ترجمہ : تم اپنی جانوں کی فکر کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔

حضرت ابن مسعود (رض) نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا : جب تک تمہاری بات کو قبول کیا جائے گا تم نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو ‘ اور جب تمہاری بات کو قبول نہ کیا جائے تو پھر تم اپنی جان کی فکر کرو ‘ اسی طرح حضرت ابوثعلبہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نیکی کا حکم دیتے رہو اور برائی سے روکتے رہو حتی کہ جب تم یہ دیکھو کہ بخل کی اطاعت کی جا رہی ہے ‘ خواہش کی پیروی کی جارہی ہے دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہر شخص اپنی رائے پر اترا رہا ہے تو پھر تم اپنی جان کی فکر کرو اور لوگوں کی فکر کرنا چھوڑ دو ‘ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو قبول نہ کریں اور اپنی خواہشات اور آراء کی پیروی کریں تو پھر تمہارے لیے ان کو چھوڑنے کی گنجائش ہے اور تم اپنی فکر کرو اور لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور جب لوگوں کا یہ حال ہو تو پھر آپ نے برائی پر ٹوکنے کو ترک کرنا مباح کردیا۔

بغیر علم کے وعظ اور تبلیغ کرنا حرام ہے : 

وعظ ‘ تقریر اور تبلیغ دین کے ذریعہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا علماء دین کا منصب ہے اور علم دین کی حسب ذیل شرائط ہیں :

(١) عربی لغت ‘ صرف اور نحو کا عالم ہونا کہ عربی عبارت بغیر اعراب کے صحیح پڑھ سکے اور قرآن مجید اور احادیث کا صحیح ترجمہ کرسکے۔

(٢) قرآن مجید ‘ احادیث ‘ آثار صحابہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خلفاء راشدین کی سیرت اور فقہ کا عالم ہو اور اس پر کامل عبور رکھتا ہو۔

(٣) مسلک حق اہل سنت و جماعت کے عقائد اور ان کے دلائل کا عالم ہو اور باطل فرقوں کے رد کی کامل مہارت رکھتا ہو۔

(٤) پیش آمدہ مسائل کا حل قرآن ‘ سنت ‘ علم کلام اور فقہ کی کتابوں میں دیکھ کر بغیر کسی کی مدد کے نکال سکتا ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” وتلک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون “۔ (العنکبوت : ٤٣)

ترجمہ : یہ مثالیں ہیں جن کو ہم لوگوں کے لیے بیان فرماتے ہیں ‘ ان کو صرف علماء ہی سمجھتے ہیں۔

قرآن مجید کی آیتوں کا ترجمہ کرنا ‘ ان سے مسائل کا استنباط کرنا اور ان کی باریکیوں اور اسرار کو سمجھنا مذکور الصدر علوم کے بغیر ممکن نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کے عالم فرمایا ہے۔

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس نے بغیر علم کے قرآن مجید میں کوئی بات کہی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤١٩ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اعلی حضرت فاضل بریلوی (رح) سے سوال کیا گیا :

عرض : کیا واعظ کا عالم ہونا ضروری ہے ؟

ارشاد : غیر عالم کو وعظ کہنا حرام ہے۔

عرض : عالم کی کیا تعریف ہے ؟

ارشاد : عالم کی تعریف یہ ہے کہ عقائد سے پورے طور آگاہ ہو اور مستقل ہو اور اپنی ضروریات کو کتاب سے نکال سکے بغیر کسی کی مدد کے۔ (الملفوظ ج ١ ص ٨ مطبوعہ لاہور)

کتاب سے مراد تفسیر ‘ حدیث اور فقہ کی عربی کتابیں ہیں کیونکہ اعلی حضرت نے اردو کی کتابیں پڑھ کر وعظ کرنے سے منع فرمایا ہے جیسا کہ عنقریب فتاوی رضویہ سے بیان کیا جائے گا۔

نیز اعلی حضرت (رح) فرماتے ہیں :

صوفی بےعلم مسخرہ شیطان است وہ جانتا ہی نہیں ‘ شیطان اپنی باگ ڈور میں لگا لیتا ہے ‘ حدیث میں ارشاد ہوا بغیر فقہ کے عابد بننے والا ایسا ہے جیسے چکی میں گدھا کہ محنت شاقہ کرے اور حاصل کچھ نہیں (الملفوظ ج ٣ ص ٢٩‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)

نیز اعلی حضرت (رح) واعظ کے متعلق لکھتے ہیں :

مسئلہ ١٨ ذیقعدہ ١٣١٩ ھ :

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اس زمانہ میں بہت لوگ اس قسم کے ہیں کہ تفسیر و حدیث بےخواندہ وبے اجازت اساتذہ ‘ برسر بازار ومسجد وغیرہ بطور وعظ ونصائح کے بیان کرتے ہیں حالانکہ معنی ومطلب میں کچھ مس نہیں فقط اردو کتابیں دیکھ کر کہتے ہیں یہ کہنا اور بیان کرنا ان لوگوں کا شرعا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا تو جروا :

الجواب :

حرام ہے اور ایسا وعظ سننا بھی حرام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ‘ من قال فی القران بغیر علم فلیتبوا مقعدہ من النار۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار والحدیث رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس (رض) واللہ تعالیٰ اعلم (فتاری رضویہ ج ١، ١٨٨١٠‘ مکتبہ رضویہ لاہور)

اعلی حضرت امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سے سوال کیا گیا کہ اگر بےعلم اپنے آپ کو مولوی کہلوائے (آج کل تو بےعلم ‘ ناخواندہ ‘ اور بےسند یافتہ اپنے آپ کو علامہ کہلواتے ہیں ! ) اور منبر پر بیٹھ کر وعظ کرے اس کا کیا حکم ہے تو اس کے جواب میں لکھتے ہیں :

یونہی اپنے آپ کو بےضرورت شرعی مولوی صاحب لکھنا بھی گناہ و مخالف حکم قرآن عظیم ہے۔ قال اللہ تعالیٰ ۔

(آیت) ” ھو اعلم بکم اذا انشاکم من الارض واذا انتم اجنۃ فی بطون امھتکم فلا تزکوا انفسکم ھو اعلم بمن اتقی “۔

ترجمہ : اللہ تمہیں خوب جانتا ہے جب اوس نے تمہیں زمین سے اوٹھان دی اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں چھپے تھے تو اپنی جانوں کو آپ اچھا نہ کہو خدا خوب جانتا ہے جو پرہیز گار ہے۔

اور فرماتا ہے۔

(آیت) ” الم الی الذین یزکون انفسھم بل اللہ یزکی من یشاء “۔

ترجمہ : کیا تم نہ ان لوگوں کو جو آپ اپنی جان کو ستھرا بتاتے ہیں بلکہ خدا ستھرا کرتا ہے جسے چاہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من قال انا عالم فھو جاھل “ جو اپنے آپ کو عالم کہے وہ جاہل ہے رواہ الطبرانی فی الاوسط عن ابن عمر (رض) بسند حسن ‘ ہاں اگر کوئی شخص حقیقت میں عالم دین ہو اور لوگ اس کے فضل سے ناواقف اور یہ اس سچی نیت سے کہ وہ آگاہ ہو کر فیض لیں ہدایت پائیں اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تو مضائقہ نہیں جیسے سیدنا یوسف علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والتسلیم نے فرمایا تھا

(آیت) ” انی حفیظ علیم “۔۔

پھر یہ بھی سچے عالموں کے لیے ہے۔ زید جاہل کا اپنے آپ کو مولوی صاحب کہنا دونا گناہ ہے کہ اس کے ساتھ جھوٹ اور جھوٹی تعریف کا پسند کرنا بھی شامل ہے ہوا، قال اللہ عزوجل، (آیت) ” لا تحسبن الذین یفرحون بما اتوا ویحبون ان یحمدوا بمالم یفعلوا فلاتحسبنم بمفازۃ من العذاب ولھم عذاب الیم “۔۔

ترجمہ : ہرگز نہ جانیوتو انہیں جو اتراتے ہیں اپنے کام پر اور دوست رکھتے ہیں اسے کہ تعریف کیے جائیں اس بات سے جو انہوں نے نہ کی تو ہرگز نہ جانیو انہیں عذاب سے پنا کی جگہ میں اور ان کے لیے دکھ کی مار ہے۔

معالم شریف میں عکرمہ تابعی شاگرد عبداللہ بن عباس (رض) سے اس آیت کی تفسیر میں منقول ” یفرحون باضلالھم الناس وبنسبۃ الناس ایاھم الی العلم ولیسوا باھل العلم “۔ خوش ہوتے ہیں ‘ لوگوں کو بہکانے پر اور اس پر کہ لوگ نہیں مولوی کہیں حالانکہ مولوی نہیں۔ جاہل کی وعظ گوئی بھی گناہ ہے۔ وعظ میں قرآن مجید کی تفسیر ہوگی یا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث یا شریعت کا مسئلہ اور جاہل کو ان میں کسی چیز کا بیان جائز نہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من قال فی القران بغیر عم فلیتبوا مقعدہ من النار “ جو بےعلم قرآن کی تفسیر بیان کرے وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے رواہ الترمذی وصححہ عن ابن عباس (رض) ، احادیث میں اسے صحیح وغلط وثابت و موضوع کی تمیز نہ ہوگی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من یقل علی مالم اقل فلیتبوا مقعدہ من النار “ جو مجھ پر وہ بات کہے جو میں نے نہ فرمائی وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں بنا لے رواہ البخاری فی صحیحہ عن سلمۃ بن الاکوع (رض) اور فرماتے ہیں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ” افتوا بغیر علم فضلوا واضلوا “ بےعلم مسئلہ بیان کیا سو آپ بھی گمراہ ہوئے اور لوگوں کو بھی گمراہ کیا ” رواہ الائمۃ احمد والشیخان والترمذی وابن ماجہ عن عبداللہ بن عمر و (رض) دوسری حدیث میں آیا حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض “ جو بےعلم فتوی دے اسے آسمان و زمین کے فرشتے لعنت کریں رواہ ابن عساکر عن امیر المومنین علی کرم اللہ وجہہ یونہی جاہل کا پیر بننا لوگوں کو مرید کرنا چادر سے زیادہ پاؤں پھیلانا چھوٹا منہ بڑی بات ہے پیر ہادی ہوتا ہے اور جاہل کی نسبت ابھی حدیثوں سے گزرا کہ ہدایت نہیں کرسکتا نہ قرآن سے نہ حدیث سے نہ فقہ سے ’۔ ع کہ بےعلم نتواں خداراشناخت۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٩٦۔ ٩٥‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

نیز بےعلم کے فتوی دینے اور علماء کی توہین کرنے والے کے متعلق لکھتے ہیں :

رحمۃ اللہ علیہالجواب :

سند حاصل کرنا تو کچھ ضرور نہیں ہاں باقاعدہ تعلیم پانا ضرور ہے۔ مدرسہ میں ہو یا کسی عالم کے مکان پر اور جس نے بےقاعدہ تعلیم پائی وہ جاہل محض سے بدتر نیم ملا خطرہ ایمان ہوگا ایسے شخص کو فتوی نویسی پر جرات حرام ہے حدیث میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” من افتی بغیر علم لعنتہ ملئکۃ السماء والارض “ جو بےعلم فتوی دے اس پر آسمان و زمین کے فرشتوں کی لعنت ہے اور اگر فتوی سے اگرچہ صحیح ہو وجہ اللہ مقصود نہیں بلکہ اپنا کوئی دنیاوی نفع منظور ہو تو یہ دوسرا سبب لعنت ہے کہ آیات اللہ کے عوض ثمن قلیل حاصل کرنے پر فرمایا گیا (آیت) ” اولئک لا خالق لھم فی الاخرۃ ولا یکلمھم اللہ ولا ینظر الیہم یوم القیمۃ ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم “۔۔

ترجمہ : ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر رحمت کرے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ‘

اور علمائے دین کی توہین کرنے والا منافق ہے۔ حدیث میں ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں ” ثلثۃ لا یستخف بحقہم الا منافق بین النفاق ذوالعلم و ذوالشیبۃ فی الاسلام و امام مقسط “۔ تین شخصوں کا حق ہلکا نہ جانے گا مگر جو منافق کھلا منافق ہو عالم اور وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا اور سلطان اسلام عادل ‘ تحصیل زر کے لیے علماء ومسلمین پر بیجا حملہ کرنے والا ظالم ہے اور ظلم قیامت کے دن ظلمات ‘ قاضی مذکور جیسے امام کے پیچھے بلاوجہ شرعی نماز ترک کرنا تفریق جماعت یا ترک جماعت ہے اور دونوں حرام وناجائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ (فتاوی رضویہ ٢، ١٠ ص ٣٠٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی)

بے علم کے وعظ کے متعلق اعلی حضرت (رح) لکھتے ہیں :

الجواب :

(١) اگر علم عالم ہے تو اس کا یہ منصب ہے اور جاہل کو وعظ کہنے کہ اجازت نہیں وہ جتنا سنوارے گا اس سے زیادہ بگاڑے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔

اعلی حضرت (رح) بیت کی شرائط کے متعلق فرماتے ہیں :

بیعت اس شخص سے کرنا چاہیے جس میں یہ چار باتیں ہوں اور نہ بیعت جائز نہ ہوگی۔ اول سنی صحیح العقیدہ ہو ‘ کم از اتنا علم ضروری ہے کہ بلاکسی امداد کے اپنی ضروریات کے مسائل کتاب سے خود نکال سکے، ثالثا ‘ اس کا سلسلہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک متصل ہو کہیں منقطع نہ ہو ‘ رابعا فاسق معلن نہ ہو۔ (الملفوظ ص ٥٢٣‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور)

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے خود نیک ہونا ضروری نہیں ہے۔

علامہ ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ فرماتے ہیں :

قرآن مجید اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی احادیث سے ہم نے یہ واضح کردیا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر فرض کفایہ ہے اور جب بعض لوگ اس فرض کو ادا کرلیں تو پھر باقیوں سے ساقط ہوجاتا ہے ‘ اور اس فرض کی ادائیگی میں نیک اور بد کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی شخص کسی ایک فرض کو ترک کردے تو اس کی وجہ سے باقی فرائض اس سے ساقط نہیں ہوتے ‘ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے تو اس سے روزہ اور دیگر عبادات کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی۔ اس طرح جو شخص تمام نیکیاں نہ کرے اور کسی برائی سے نہ رکے تو اس سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی فرضیت ساقط نہیں ہوتی ‘ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں صحابہ کی ایک جماعت حاضر ہوئی ‘ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بتائیے کہ اگر ہم تمام نیکیوں پر عمل کرلیں حتی کہ کوئی نیکی باقی نہ بچے مگر ہم نے اس پر عمل کرلیا ہو اور تمام برائیوں سے بچیں حتی کہ کوئی برائی نہ بچے مگر ہم اس سے رک چکے ہوں تو کیا اس وقت ہمارے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کرنے کی اجازت ہے ؟ آپ نے فرمایا نیکیوں کا حکم دو خواہ تم نے نیکیوں پر عمل نہ کیا ہو اور برائی سے روکو خواہ تم برائی نہ رکتے ہو۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کو باقی تمام فرائض کی ادائیگی کے مساوی قرار دیا ہے ‘ جس طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود دیگر فرائض کا ادا کرنا ساقط نہیں ہوتا ‘ اسی طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود دیگر فرائض کا ادا کرنا ساقط نہیں ہوتا ‘ اسی طرح بعض واجبات میں تقصیر کے باوجود امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ساقط نہیں ہوتا۔

ہتھیاروں سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکو فتنہ کہنے کا بطلان : 

علماء امت میں سے صرف ایک جاہل قوم نے یہ کہا کہ باغی جماعت سے قتال نہ کیا جائے اور ہتھیاروں کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ کیا جائے انہوں نے کہا جب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں ہتھیار اٹھانے کی ضرورت پڑے تو یہ فتنہ ہے ‘ حالانکہ قرآن مجید میں ہے :

(آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفئی الی امر اللہ “۔

ترجمہ : جو جماعت بغاوت کرے اس سے جنگ کرو حتی کہ وہ اللہ کے امر کی طرف لوٹ آئے۔

ان لوگوں نے یہ کہا کہ سلطان کے ظلم اور جور پر انکار نہ کیا جائے ‘ البتہ سلطان کا غیر اگر برائی کرے ‘ اس کو قول سے منع کیا جائے اور بغیر ہتھیار کے ہاتھ سے منع کیا جائے۔ یہ لوگ بدترین امت ہیں امام ابو داؤد نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سب سے افضل جہاد یہ ہے کہ ظالم سلطان یا ظالم امیر کے سامنے کلمہ حق کہا جائے۔ اور حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سید الشہداء حمزہ بن عبدالمطلب ہیں اور وہ شخص جس نے ظالم حاکم کے سامنے کھڑے ہو کر اس کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے روکا اور اس کی پاداش میں اس کو قتل کردیا گیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ٣٤۔ ٣٠‘ ملخصا مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ)

کسی شخص سے محبت کی وجہ سے امر بالمعروف کو ترک نہ کیا جائے۔ 

کسی شخص سے دوستی اور محبت کی وجہ سے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہیں کرنا چاہیے ‘ نہ کسی شخص کے نزدیک قدر و منزلت بڑھانے اور اس سے کوئی فائدہ طلب کرنے کے لیے مداہنت (بےجانرمی اور دنیاوی مفاد کیلیے نہی عن المنکر کو ترک کرنا) کرنی چاہیے۔ کیونکہ کسی شخص سے دوستی اور محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کے ساتھ خیرخواہی کی جائے اور اس کی خیر خواہی یہ ہے کہ اس کو آخرت کی فلاح کی ہدایت دی جائے اور اس کو آخرت کے عذاب سے بچایا جائے اور کسی انسان کا سچا دوست وہی ہے جو اس کے لیے آخرت کی بھلائی کی سعی کرے ‘ اور اگر وہ فرائض اور واجبات کی ادائیگی میں تقصیر کر رہا ہو تو اسے ان فرائض کی ادائیگی کا حکم دے اور اگر وہ کسی برائی کا ارتکاب کررہا ہو تو اس کو برائی سے روکے۔

امر بالمعروف میں ملائمت کو اختیار کیا جائے۔ 

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر میں نرمی اور ملائمت کو اختیار کرنا چاہیے تاکہ وہ موثر ہو ‘ امام شافعی (رح) نے فرمایا جس شخص نے اپنے مسلمان بھائی کو تنہائی میں نصیحت کی اس نے خیر خواہی کی ‘ اور جس نے کسی شخص کو لوگوں کے سامنے نصیحت کی اور ملامت کی اس نے اس کو شرمندہ اور رسوا کیا۔

اگر کسی برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹانے سے ملکی قوانین کو اپنے ہاتھوں میں لینا لازم نہیں آتا تو اس برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹایا جائے ورنہ زبان سے اس کی اصلاح کی کوشش کی جائے ‘ اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اس برائی کو دل سے ناپسند کرے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ حکام اور ارباب اقتدار پر لازم ہے کہ وہ برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹائیں۔ مثلا قاتل کو قصاص میں قتل کریں اور چور کا ہاتھ کاٹیں ‘ زانی کو کوڑے لگائیں یا رجم کریں اسی طرح دیگر حدود الہیہ جاری کریں ‘ اور علماء پر لازم ہے کہ وہ زبان سے برائی کی مذمت کریں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں اور عوام کو چاہیے کہ وہ ہر برائی کو دل سے برا جانیں ‘ لیکن صحیح یہ ہے کہ جس شخص کے سامنے ظلم اور زیادتی ہو ‘ اس کو حسب مقدور مٹانے کی کوشش کرے جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 104