بڑی مسجد اور کم نمازی

بڑی مسجد اور کم نمازی

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ جب وہ مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے اور ان میں سے تھوڑے لوگ انھیں (یعنی مساجد کو نمازوں سے) آباد کریں گے-

(صحیح ابن خزیمہ، ج2، باب کراھة التباھی فی بناء المساجد… الخ، ر1321، ط شبیر برادرز لاہور)

حضور ﷺ نے جو کچھ فرمایا وہ حرف بہ حرف حق ہے اور آج ہم اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں-

عالیشان مساجد تعمیر کر دی گئی ہیں، ایک مرتبہ میں ہزاروں بلکہ کہیں کہیں لاکھوں لوگ نماز ادا کر سکتے ہیں لیکن نماز پڑھنے والے گنے چنے لوگ ہیں- فجر کی نماز میں بعض مقامات پر کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ امام اور مؤذن کے علاوہ تیسرا کوئی نہیں پہنچتا-

مساجد کی تعمیر میں ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار تو یوں کیا جاتا ہے جیسے اسی کے مطابق ہمیں آخرت میں اعلی درجہ دیا جانا ہے-

اللہ تعالی ہمیں مساجد کو آباد کرنے کی توفیق عطا فرمائے-

عبد مصطفی

اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ فَاِذًا لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 53

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَمۡ لَهُمۡ نَصِيۡبٌ مِّنَ الۡمُلۡكِ فَاِذًا لَّا يُؤۡتُوۡنَ النَّاسَ نَقِيۡرًا ۞

ترجمہ:

یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے

تفسیر:

یہود کے بخل کی مذمت : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : یا ان کا ملک میں کوئی حصہ ہے اگر ایسا ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے۔ (النساء : ٥٣) 

یہاں سے یہود کی برائیوں کا بیان شروع کیا گیا ہے ‘ اس آیت کا معنی ہے ان کا ملک میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ یہود کہتے تھے کہ آخر زمانہ میں ملک انکی طرف لوٹ آئے گا اس آیت میں ان کے اس دعوی کا رد ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ملک سے مراد نبوت ہو ‘ یعنی ان کے لیے نبوت سے کوئی حصہ نہیں ہے حتی کہ لوگوں پر ان کی اطاعت اور اتباع لازم ہو ‘ پہلی تفسیر زیادہ مناسب کیونکہ اس کا بعد کے جملہ کے ساتھ ربط ہے کیونکہ اگر ان کا ملک ہوتا یا اس میں ان کا کوئی حصہ ہوتا تو یہ لوگوں کو تل برابر بھی کوئی چیز نہ دیتے ‘ یعنی ضرورت مندوں کو کچھ نہ دیتے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 53

اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے

*اسدالدین اویسی!زمانہ یادرکھے گا تری جرأت کے افسانے*

از: *مولانا حشم الدین رضوی الثقافی*

*نوٹ:جو لوگ اویسی صاحب کو بی جے پی کا ایجنٹ کہنے میں لگے ہیں،انھیں چاہیے کہ یہ مضمون پڑھ کر اپنا محاسبہ کریں۔*

*(سیف اصدق)*

قطع نظراس کے کہ مجلس اتحادالمسلمین کے صدراور حیدرآباد کے ایم پی بیرسٹراسدالدین اویسی سیاست میں کتنے کامیاب ہیں اورسیاست میں وہ کس حد تک آگے جائیں گے لیکن ان کی جرأت ،عزم واستقلال،ان کے انداز تخاطب ،ان کی عالی ہمتی اور بے خوفی کوبے اختیار سلام کرنے کو جی چاہتاہے کہ اللہ تعالی اس گئے گذرے عہدمیں بھی ایسے جواں مردوں کو رکھے ہوئے ہیں جو حق کی بات ظالموں کے سامنے کہنے میں کسی طرح کی جھجھک اور عار محسوس نہیں کرتے اور نبی ﷺ کے قول ’ افضل الجھاد کلمۃ حق عند سلطان جائر‘کہ سب سے عظیم جہاد ظالم بادشاہ کے سامنے حق بات کہہ دیناہے‘کے صحیح مصداق ہیں۔جنھوں نے ہرموقعے اور ہرموڑ پراسلام کا دامن تھام رکھاہے اور ملامت کرنے والوں کی ملامت کو پس پشت ڈال دیاہے۔

مثال کے طورپر تبدیلی مذہب کے عنوان پر لب کشائی کرتے ہوئےبیرسٹر محترم پارلیمنٹ میں اس طرح گویاہوتے ہیں ‘’یہ بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے لوگ آپ کے لوگ ہیں ہم ان سے ڈرنے والے نہیں۔ہم اپنے مذہب پرچلیں گے۔ ہمیں جتنافخر ہندوستانی ہونے پرہے اتنا فخرمسلمان ہونے پر بھی ہے۔نہ عیسائی ڈریں گے نہ مسلمان ڈریں گے۔آپ لاکھ کوشش کرلیجئے ہم اپنا مذہب تبدیل کرنے والے نہیں ہیں۔ملک کوبچاناہے ملک کومضبوط کرنا ہے تو اپنے جوکروں کو روکو،اپنے چمچوں کو روکو تب ملک بچے گا ۔شکریہ‘۔

پارلیمنٹ کے اند ر موصوف کی حق گوئی و بے باکانہ للکار آئے دن مشاہدہ میں آتی رہتی ہے۔ اور ہندوستان کا ایک بڑا طبقہ آپ کے خیالات وافکار کو اپنی ترجمانی سے تعبیرکرتاہے۔

رجت شرماکے ساتھ انٹرویومیں یوں کہتے ہیں’ملک سے ہمارانہ کوئی جھگڑا ہے اور نہ ہوگا ان شاء اللہ تعالی۔ یہ ملک ہمارا تھاہمارا ہے اور ہمارارہے گا۔اس ملک کیDiversity (تنوع) ہی اس کی طاقت ہے۔ ایک لڑکی کے اس سوال پر کہ سارے دہشت گرد مسلمان ہی کیوں ہوتے ہیں کے جواب میں نہایت سادگی کے ساتھ جواب دیتے ہوئے یوں لب کشاہوتے ہیں’ مہاتما گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھا کیا؟ اندرا گاندھی کو جس نے مارا وہ مسلمان تھاکیا؟بابری مسجد کو جس نے شہید کیاوہ مسلمان تھا کیا؟دہلی کی سڑکوں پر سکھوں کی گردنیں کاٹنے والے مسلمان تھے کیا؟گجرات کے گلی چوں میں لوگوں کو قتل کرنے والے مسلمان تھے کیا؟ میری بہن !میں آپ سے گذارش کررہاہوں کہ آپ ایسامت سوچئے۔برائی برائی ہوتی ہے اس کو آپ مذہب کے نقطہ نظر سے مت دیکھئے۔ماوواد سے ہماراکیاتعلق ہم تو ہر تشد د کی مذمت کرتے ہیں‘ ۔ یا دارالسلام کے جلسے میں یہ کہناکہ’ اصل گھرواپسی تو اسلام کی طرف آنا ہے کیوں کہ ہربچہ فطرت اسلام پرپیداہوتاہے‘۔ جس کی وجہ باطل عناصر میں خوب کھلبلی مچی.

موصوف کے روز مرہ کے ٹی وی ڈبیٹ اور انٹرویو کو دیکھ کر بے اختیار دعانکل جاتی ہے کہ اسد! اللہ تجھے سلامت رکھے۔ تو اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کا جانباز اور حقدار ترجمان ہے۔تو نے ہرجگہ اور ہرموقع پر اسلام اور اس ملک کے دستور کی وکالت کی ہے اور ڈنکے کی چوٹ پر کی ہے۔

تین طلاق کےمخالف 28 دسمبر 2017 کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے والےپہلے ٹرپل طلاق بل کا اسدالدین اویسی نے جس ہمت وپامردی اور دلائل وبراہین کے ساتھ رد کیاتھاوہ قابل دید وقابل ملاحظہ ہے۔انھوں نے خوب جم کرمخالفت کی اور دلائل وبراہین سے مدلل گفتگو کی اور بہرحال ان کی آواز آسمان والے کے یہاں سنی گئی اور بل راجیہ سبھا میں پاس نہ ہو پایا۔ موصوف اس دن تن تنہامورچالیے ہوئےتھے۔اور انھوں نے اپنے جلسوں میں اپنے اس اکیلے پن کا باربار اظہار بھی کیاجس نے ہر مرد مومن کے دل پر اثر کیا..

اور پھر آج بتاریخ 27 دسمبر 2018 کو اسدالدین اویسی نے جس طرح سے بل کو مسترد کیا کی اس کی داد دیے بغیر نہیں رہاجاسکتا۔ بیرسٹر نے آئین ہند کا حوالہ دے کر اسے مذہبی آزادی میں مداخلت قرار دیا اور کہا کہ میں ایک باپ، ایک بھائی، ایک چاچا ااور بیٹا ہونے کے ناطے اس ایوان کے ذریعےحکومت کو بتانا چاہتاہوں کہ ہندوستان کی صد فیصد مسلم خواتین اس بل کی پرزور مخالفت کرتی ہیں اور اسے ریجکٹ کرتی ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ آئین ہند کی دفعات 14؍15؍26؍اور 29کے تحت جو مذہبی آزادی کی گارنٹی دی گئی ہے یہ بل ان کے خلاف ہے اس لیے میں اس کی مخالفت کرتا ہوں۔ انھوں نے اپنے نرالے اور پرجوش انداز میں آگے کہاکہ :اس حکومت کی وہ کون سی مجبوری ہے کہ یہ ہم جنسی اور زناکاری کو جرم کی فہرست سے نکال دیاگیاپر آپ اس کی مخالفت نہیں کرتے لیکن آپ ٹرپل طلاق کے خلاف ہیں اور اسے قابل سزاجرم اس لیے سمجھتے ہیں کیو ں کہ یہ مسئلہ ہم سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون آئین کے خلاف ہے اورمختلف قوانین اور نقطہائے نظر کا حوالہ دیتے ہوئے وزیر قانون کو کچھ قانون کی کتابیں پڑھنے کا بھی مشورہ دے ڈالا تاکہ انھیں کچھ مبادیات قانون معلوم ہو جائیں.. سابری مالامندر کا حوالہ دیتے ہوئےجب وہ یہ سوال پوچھ رہے تھے تو منظر دیدنی تھا:کہ کیاآپ کا عقیدہ تو آپ کا ہوگااور میراعقیدہ میرانہیں ہوگا؟ انھوں نے یہ سوال بھی چست کرنے میں کوئی دقیقہ نہ اٹھا رکھاکہ ہمارے ملک میں طلاق کے قانون میں اگر کوئی ہندو طلاق دیتا ہے تو اسے ایک سال کی سزا کیوں ہے، اور مسلمان کو تین سال کی سزا کیوں؟ کیا یہ آرٹیکل 14 کا غلط استعمال نہیں ہے؟ انہوں نے اس موقع پر ایم جے اکبر کے خلاف گزشتہ دنوں چھڑی می ٹو مہم کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے ان کے ساتھ نرم رویے کا بھی خوب استہزاء کیا اور مرکزی وزیر مختار عباس نقوی پر بھی طنز کسا۔ انہوں نے ببانگ دہل یہ بھی کہاکہ طلاق کے تعلق سے حکومت کے ارادے نیک نہیں ہےاور یہ بھی کہا کہ جب سپریم کورٹ نے کہدیا ہے کہ اس سے شادی نہیں ٹوٹتی تو پھر آپ کس بات کی سزا دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہاکہ ٹرپل طلاق بل کامقصد صرف مسلمانوں کو پریشان کرنا ہے اور انہیں جیل بھیجوانا ہے۔ انہوں نے سائرہ بانو کے تعلق سے کہا کہ وہ تو بی جے پی میں چلی گئی آپ کی حکومت نے اس کےلیے کیا کیا؟ شادی ایک معاہدہ ہے کو مبرہن کرتے ہوئے مسٹر اویسی نے نہایت شاندار تجویز پیش کی۔حکومت کے اٹارنی جنرل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کے برے عزائم کو بے نقاب کیا۔

موصوف اویسی جی نے اپنی گفتگو میں ایوان زیریں اندر قرآن کے حوالے سے باتیں پیش کرنے والوں اور والیوں کو دعوت توحید وختم نبوت بھی دے ڈالا۔اورپھر اختتام تو اتناشانداررہا کہ بس کیا پوچھنا۔انھوں نے اخیرمیں کہاکہ میڈم! میں آپ کے واسطے سے حکومت کو یہ بتاناچاہتاہوں کہ آپ کے قانون سے ، آپ کے دباؤ سے ، آپ کے زور سے،آپ کے جبر سے ہم اپنے مذہب کو نہیں چھوڑیں گے۔جب تک دنیاباقی رہے گی ہم مسلمان بن کر شریعت پر چلتے رہیں گے ۔ ہم اس بل کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔

واہ اویسی صاحب! آپ نے اس ایوان بھی اسلام کی حقانیت کا ببانگ دہل اعلان کیا اور واقعی حق اداکردیا۔ اور مجھے اور مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کا یہ یقین ہے کہ جب تک آپ جیسے باہمت اور سمجھدار اور غیور مسلمان اس ملک میں اور ایوانوں میں موجود رہیں گے اسلام کی آواز کو دبایانہیں جاسکے گا ۔ ان شاء اللہ

دعاگو ہوں کہ اللہ آپ کو قدم بقدم ترقی دے اور ہندوستان کی سیاست کے آسمان کا چمکتاماہتاب اور دمکتاآفتاب بنائے اور ہرطرح دشمنوں کے شرورفتن سے محفوظ رکھے۔اقبال مرحوم نے آپ ہی جیسے لوگوں کے لیے کہا تھا:

آئین جوان ِمرداں حق گوئی وبے باکی

اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

کسی اورشاعر کے یہ اشعاربھی ایسے ہی جانبازوں اور باہمت وباغیرت لوگوں کے لیے کہے گئے ہیں:

سفینہ جو اپنا جلانے چلا ہے

وہ دین نبی کو بچانے چلا ہے

اسے دیکھ کر تو فرشتے ہیں حیران

وہ اپنے لہو میں نہانے چلا ہے

وہ راہ خدا میں پلٹ کے نہ دیکھے

وہ سب کچھ تو اپنا لٹانے چلا ہے

وہ خالد کا وارث وہ طارق کا ثانی

سبق وہ شجاعت کا پڑھانے چلا ہے

بہا کر لہو اپنے قلب و جگر کا

وہ گلشن نبی کا سجانے چلا ہے

بہت ہیں پریشاں یہ ظالم یہ جابر

وہ ظلم و ستم کو مٹانے چلا ہے

عزائم ہیں اس کے پہاڑوں سے اونچے

وہ مغرور سر کو جھکانے چلا ہے

جو بندوں کو رب سے نہ ملنے کبھی دے

وہ دیوار باطل گرانے چلا ہے

وہ قرآن کا داعی وہ دین کا سپاہی

خلافت کا منظر دکھانے چلا ہے

ستارے بھی تکتے ہیں راہیں جو اس کی

حجازیؔ بھی پلکیں بچھانے چلا ہے

خشیت الٰہی اور ہمارے شب و روز

خشیت الٰہی اور ہمارے شب و روز

محمد ضیاء الرحمن علیمی قادری

خوف خداوندی ،خشیت الٰہی ایک ایسی سرمدی اور لازوال نعمت ہے کہ آب و گل کی منزلیں طے کرکے خوبصورت وجودپانے والایہ انسان جب اس نعمت سے نواز دیا جاتا ہے تو یہ خاکی ہوتے ہوئے بھی خاکی نہیں رہ جاتا ،بلکہ وہ ملکوتی صفات کا پیرہن زیب تن کرلیتا ہے اور پھر اس پر ہمیشہ استغراقی کیفیت طاری ہوتی رہتی ہے ، وہ ہمہ وقت یاد الٰہی میں مگن ،ذکرو فکرِ حق میں مگن اور الٰہی سوچ میں غلطاں و پیچاں رہتا ہے ،اس بو قلمونی دنیا کی رنگینیاں اس کی متنوع ثقات ، اس کی مختلف تہذیب ، اس کے طرزعمل اس کے طور طریقے ، اور اس کے انداز بود و باش پر اثر انداز نہیں ہوتی ، کیونکہ خشیت الٰہی کی یہ مقدس چادر اس کو دنیا کی عریانیت و فحاشیت اور اس کو حیوانیت میں ملوث ہونے سے بچالیتی ہے اور وہ انسان کامل بن کر کشت حیات میں آخرت کی فصل اُگانے میں شب و روز مصروف رہتا ہے ۔

انبیاء کرام علیہم السلام کا تو پوچھنا ہی کیا وہ تو خشیت خداوندی کے ایسے پیکر تھے کہ کوئی بھی ان کی ہمسری نہیں کرسکتا ۔اور کوئی کر بھی کیسے سکتا ہے جب کہ اس راہ میں توفیق الٰہی مسلسل ان کے ہم رکاب تھی ،لیکن اگر ہم صحابۂ کرام کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کریں اور ان کے احوال زندگی سے آشنائی حاصل کریں تو یہ بات ہم پر اعیانِ ثابتہ کی طرح واضح ہوجائے گی کہ بندگان خدا کی اس مقدس جماعت کی زندگیاں،ان کے روزو شب، خوف الٰہی ، زہدو تقویٰ کے بے مثال نمونوں سے بھری پڑی ہیں ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ان کی زندگیوں کا مطالعہ اس نیت سے کریں کہ ہمیں بھی ان کے نقوش قدم پر چل کر اخروی سعادت سے سرفراز ہونا ہے ۔کیوں کہ بقول شاعر ؎

ان کا سایہ اک تجلی ان کا نقش پا چراغ

وہ جدھر گئے روشنی ہوتی گئی

خوشی کا موقع ہو یا غم واندوہ کا،ابتلاء وآزمائش کا زمانہ ہو یا آفت وناگہانی مصیبتوں کے نزول کا دور ،ہر زمانہ ،ہر وقت میں یہ مقدس جماعت عذاب الٰہی سے لرزاں وترساں نظر آتی ہے ،چنانچہ حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بار گا ہ میں حاضر ہوکر ایک مرتبہ حضرت نضر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول کے مقدس صحابی !کیا سرکار دوعالمﷺ کے زمانے میں بھی دن میں اندھیرا چھا جایا کرتا تھا ؟تو اس پر آپ نے ارشاد فرمایا کہ خداکی پناہ!حضورا کے زمانے میں تو ذرا سی ہوا تیز ہو جاتی تو ہم لوگ قیامت کے آجانے کے خوف سے مسجدوں کی طرف دوڑ جاتے تھے ۔(جمع الفوائد)

یوں ہی حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو باجماع اہل سنت ،جماعت انبیاء کے بعد سرخیل گروہ انسانیت ہیں اور ان کا جنتی ہونا قطعی اور یقینی دلائل سے ثابت ہے ،ان کے متعلق توروایتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ آپ ہمیشہ خشیت الٰہی میں گرفتار رہا کرتے ،چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ آپ فرمایا کرتے،کاش میں کوئی گھاس ہوتا کہ جانور مجھ کو کھا لیتے ،ایک مرتبہ ایک جانور کو بیٹھا ہوا دیکھ کر ٹھنڈی سانس بھری اور فرمایا تو کس قدر لطف وآسائش میں ہے کہ کھاتا ہے،پیتا ہے،درختوں کے سائے میں پھرتا ہے اور آخرت میں تجھ پر کوئی حساب وکتاب نہیں ،کاش !ابو بکر بھی تجھ جیسا ہوتا ۔ (تاریخ خلفاء)

ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آپ کی کچھ ترش کلامی ہوگئی ، اور آپ نے حضرت اسلمی کو کوئی ناگوار جملہ کہہ دیا ،تو فورا ًآپ نے ان سے فرمایا کہ تو بھی مجھے ویسا ہی جملہ کہہ دے تا کہ بدلہ ہوجائے،لیکن انہوں نے کہنے سے انکار کردیا ،تو آپ نے فرمایا کہ بدلے میں کوئی جملہ کہہ دو ورنہ میں آقائے دوجہاں کی بار گاہ میں اس معاملہ کو عرض کردوں گا ،لیکن اس کے باوجود جب وہ اپنے فیصلہ پر اٹل رہے تو آپ اٹھ کر چلے گئے ،تھوڑی دیر بعد بنو اسلم کے کچھ افراد آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بھی بڑی عجیب بات ہے کہ خود ہی زیادتی کی اور خود ہی سرکار دوجہاں ا سے شکایت کی دھمکی بھی دے دی ،اس پر حضرت ربیعہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم جانتے نہیں،یہ کون ہیںیہ ابوبکر صدیق ہیں،اگر یہ خفا ہوگئے تو اللہ کے لاڈلے رسول ﷺ مجھ سے خفا ہوجائیں گے ،اور جب محبوب دوعالمﷺناراض ہوجائیں گے تو اللہ تعالیٰ کا غضب یقینی ہوجائے گا اور پھر ربیعہ کی ہلاکت میں شک وشبہہ کی کوئی گنجائش نہیں رہ جائے گی اس کے بعد انہوں نے سرکار دوعالمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر سارا ماجرا بیان کردیا ،تو سرکار ابد قرارﷺنے ارشاد فرمایا،ٹھیک ہے،تمہیں جواب بدلے کے طور پر نہیں کہنا چاہییٔ،البتہ اس کے بدلے میں یوں کہنا چاہییٔ،اے ابو بکر اللہ تمہیں معاف فرمائے۔

حضرت سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت سے کون سا مسلمان واقف نہیں،آپ ان خوش قسمت صحابۂ کرام میں ہیں جن کو دنیا ہی میں نوید جنت سنادی گئی،لیکن اس کے باجود آپ کے بارے میں کتب سیر ومغازی اس بات کی شاہد عدل ہیں کہ آپ بسااوقات تنکا ہاتھ میں لے کر فرماتے کاش میں تنکا ہوتا ،کبھی فرماتے کاش میری ماں نے جنا ہی نہ ہوتا ،صبح کی نماز میں اکثر سورئہ کہف ، سورئہ طہٰ جیسی بڑی سورتیں تلاوت فرماتے اور اس قدر روتے کہ کئی کئی صفوں تک آواز پہونچتی تھی ،ایک مرتبہ صبح کی نماز میں سورئہ یوسف کی تلاوت فرمارہے تھے ،جب آیت’’انما اشکو بثی وحزنی الی اللہ‘‘(میں تو اپنی پریشانی اور غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں)پر پہونچے تو اس قدر روئے کہ آواز نکلنی بند ہوگئی،یوں ہی تہجد کی نماز میں روتے روتے گر جاتے اور بیمار ہوجاتے ۔ایک مرتبہ آپ کسی کام میں مصروف تھے،ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا فلاں شخص نے مجھ پر ظلم کیا ہے ،آپ چل کر مجھے بدلہ دلوا دیجئے ،آپ نے اس کو ایک دُرہ مار کر فرمایا کہ جب میں اس کام کے لئے بیٹھتا ہوں اس وقت تو آتے نہیں،جب میں دوسرے کاموں میں مشغول ہوجاتا ہوں تو شکایتیں لے کر آتے ہو اور کہتے ہو کہ چل کر بدلہ دلوادیجئے ؟وہ شخص مایوس چلا گیا ، پھر آپ نے آدمی بھیج کر اس انسان کو بلوایا اور اس کے ہاتھ میں دُرہ تھما کر فرمایا کہ بدلہ لے لو ،اس نے عرض کیا کہ میں نے اللہ کے واسطے معاف کیا ،پھر آپ گھر تشریف لائے ،دورکعت نماز پڑھی اور پھر اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا اے عمر تو کمینہ تھا اللہ نے تجھ کو اونچا کیا ،تو گمراہ تھا اللہ نے تجھ کو ہدایت دی،تو ذلیل تھا اللہ نے تجھے عزت دی ،پھر لوگوں کا بادشاہ بنایا ،اب ایک شخص آکر کہتا ہے کہ مجھے ظلم کا بدلہ دلوادے،تو تو اس کو مارتا ہے ،کل قیامت کے دن کیا جواب دے گا اور پھر اسی طرح بڑی دیر تک اپنے آپ کو ملامت کرتے رہے ۔ (اسد الغابۃ)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات سے کون آشنا نہیں،آپ حبر الامۃ ،سید المفسرین کے معزز القاب سے یاد کئے جاتے ہیں ،سرکار دوعالمﷺنے آپ کے حق میں یہ دعا فرمائی ’’اللھم علمہ التاویل‘‘خلفائے راشدین میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کی صغر سنی کے باوجود بڑا احترام فرمایا کرتے تھے،اور کبار صحابۂ کرام کی بارگاہوں میں عزت واحترام کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔لیکن ان تمام دینی شرف کے باوجود آپ خوف خدا سے اس قدر روتے تھے کہ چہرہ پر آنسوئوں کے ہر وقت بہنے کی وجہ سے دو نالیاں سی بن گئی تھیں۔حضرت وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ ظاہری بینائی سے محرومی کے بعد ایک مرتبہ میں آپ کو لئے جارہا تھا ،آپ مسجد حرام تک تشریف لے گئے ،وہاں ایک مجمع سے کچھ جھگڑے کی آواز آرہی تھی ،اس پر آپ نے فرمایا مجھے اس مجمع کی طرف لے چلو ،میں انہیں اس طرف لے گیا ،وہاں پہونچ کر آپ نے سلام کیا ،ان لوگوں نے بیٹھنے کی درخواست کی تو آپ نے انکار فرمایا اور ارشاد فرمایا تمہیں معلوم نہیں کہ اللہ کے خاص بندے وہ لوگ ہیں جن کو خوف الٰہی نے خاموش کر رکھا ہے ،حالانکہ نہ وہ عاجز ہیں اور نہ وہ گونگے ،بلکہ فصیح لوگ ہیں، بولنے والے ہیں،سمجھ دار ہیں ،مگر اللہ تعالیٰ کی بڑائی کے ذکر نے ان کی عقلوں کو اُڑا رکھا ہے ،ان کے دل اس کی وجہ سے ٹوٹے رہتے ہیں اور زبانیں چپ رہتی ہیں اور جب اس حالت پر ان کو پختگی میسر ہوجاتی ہے ،تو اس کی وجہ سے نیک کاموں میں وہ جلدی کرتے ہیں ،تم لوگ ان سے کہاں ہٹ گئے؟ حضرت وہب کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے دو آدمیوں کو بھی ایک جگہ جمع نہیں دیکھا ۔

حضرت حنظلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابۂ کرام کی جماعت میں ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں ،غسیل الملائکہ آپ کا لقب ہے،آپ بھی ہمیشہ اللہ کے خوف سے سرشار رہتے،خود فرماتے ہیں،ایک مرتبہ ہم لوگ حضورﷺکی مجلس میں تھے ،حضورﷺ نے ایسا وعظ فرمایا کہ دل نرم پڑ گئے اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ،اپنی حقیقت ہم پر ظاہر ہوگئی ، سرکارﷺکی مجلس پاک سے اٹھ کر جب میں گھر آیا ،بچے پاس آگئے، کچھ دنیا کا تذکرہ چھڑ گیا اور بچوں کے ساتھ ہنسنا اور بولنا شروع کردیا ، مذاق اور دل لگی کا دور چل پڑا ،اور وہ حالت جاتی رہی جو حضورﷺکی مجلس میں تھی ،اچانک خیال آیا کہ میں پہلے کس حال میں تھا ،اور اب کس حال میں ہوں ،میں نے اپنے دل میں کہا کہ تو تو منافق ہوگیا، حضورﷺکی بارگاہ میں تو وہ حالت تھی ؟اور اب گھر آکر دوسری حالت ہوگئی؟ میں اس پر افسوس کرتا یہ کہتا ہوا نکل پڑا کی حنظلہ تو منافق ہوگیا ، سامنے سے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لارہے تھے،میں نے ان سے عرض کیا کہ حنظلہ تو منافق ہوگیا ،وہ یہ سن کر فرمانے لگے سبحان اللہ !کیا کہہ رہے ہیں؟ہرگز نہیں،میں نے پوری صورت حال سے آگاہ کیا کہ ہم لوگ جب سرکارﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ،اور حضورﷺجنت وجہنم کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ہم لوگ ایسا ہوجاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں ،اور حضورﷺکے پاس سے لوٹ جاتے ہیں تو بیوی بچوں اور جائداد وغیرہ کی فکر میں اس سے غافل ہوجاتے ہیں،اس پر حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ایسا تو ہمارے ساتھ بھی پیش آتا ہے ،چنانچہ ہم دونوں سرکارﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور میں نے عرض کیا کہ جب ہم لوگ آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور آپ جنت ودوزخ کا تذکرہ فرماتے ہیں تو ہم ایسے ہوجاتے ہیں گویا وہ دونوں ہمارے سامنے ہیں ،اور جب آپ کی بارگاہ سے لوٹ جاتے ہیں تو دنیا میں پھنس کر اسے بھول جاتے ہیں،یہ تو منافقت ہے تو حضورﷺنے ارشاد فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر تمہارا ہر وقت وہی حال رہے جیسا میرے سامنے ہوتا ہے تو فرشتے تمہارے بستروں اور راستوں میں مصافحہ کرنے لگیں۔

(مسلم ،احیاء العلوم)

حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق بھی روایتوں میں آتا ہے کہ آپ خشیت الٰہی میں بہت رویا کرتے تھے یہاں تک کہ روتے روتے آپ کی آنکھیں بیکار ہوگئی تھیں،کسی شخص نے ایک مرتبہ دیکھ لیا تو فرمانے لگے تم میرے رونے پر تعجب کرتے ہو اللہ کے خوف سے سورج بھی روتا ہے۔یوں ہی حضرت سیدنا زرارہ بن اوفٰی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک مسجد میں نماز پڑھ رہے تھے ،جب آیت کریمہ ’’فاذا نقر فی الناقور‘‘(پھر جب صور پھونکا جائے گا) پر پہونچے تو فورا گرگئے اور روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی ۔

یہ وہ چند صحابۂ کرام ہیں جن کی حیات طیبہ سے خوف الٰہی کے چند نمونے پیش کئے گئے ،یہ حضرات تقویٰ،دین داری،پابندیٔ شرع کے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے ،یہ اس مقدس جماعت کی خشیت کا حال ہے جن کے متعلق خود قرآن کریم کا ارشاد ہے’’واذا سمعوا ما انزل الی الرسول تریٰ أعینھم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق ۔یقولون ربنا آمنا فاکتبنا مع الشٰھدین‘‘اور جب وہ سنتے ہیں وہ جو رسول کی طرف اترا تو ان کی آنکھیں دیکھو کہ آنسوئوں سے ابل رہی ہیں ،اس لئے کہ وہ حق پہچان گئے ۔کہتے ہیں اے رب ہمارے ہم ایمان لائے ،تو ہمیں حق کے گواہوں میں لکھ لے ۔ (کنزالایمان) جن کے متعلق قرآن کریم ایک دوسرے مقام پر یوں گویا ہے ’’اللہ نزل احسن الحدیث کتابا متشابھا مثانی تقشعر منہ جلود الذین یخشون ربھم ثم تلین جلودھم وقلوبھم الی ذکر اللہ ‘‘اللہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے ،دوہرے بیان والی ،اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں ،پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑ تے ہیں یاد خدا کی طرف رغبت میں ۔

(کنز الایمان)

یہ وہی مقدس جماعت ہے جو ’’قد افلح المومنون الذین ھم فی صلاتھم خاشعون‘‘(مراد پہونچے ایمان والے جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں)کی عملی تصویر تھی ،یہ وہ لوگ ہیں جو کلمۂ حق کی سر بلندی کے لئے دن میں مصروف جہاد رہا کرتے تھے ،اور راتوں کو اپنی جبین نیاز اپنے خالق ومالک کے حضور خم کرکے یہ مناجات کیا کرتے تھے۔ ؎

میری زندگی کا مقصد تیرے دین کی سرفرازی

میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی

یہ وہی جماعت ہے جس کے متعلق سرکار دوجہاںا کا فرمان عالیشان ہے ،اللہ اللہ !میرے صحابہ ستاروں کے مانند ہیں،جن کی بھی پیروی کرلو گے راہ یاب ہوجائوگے ،لیکن دوسری طرف ہم ہیں اور ہماری زندگیاں ہیں ،جو عصیاںشعاری سے عبارت ہیں،ہمیں عملی اعتبار سے کوئی دینی شرف حاصل نہیں ،خیر کی کسی آیت کے ہم مصداق نہیں،لیکن پھر بھی ہم اپنی عصیاں شعاری پر نازاں ہیں ،فکر فرداسے لاپروا،ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ان آیتوں سے ہمارا ایمان رخصت ہو چکا ہے جن میں دردناک عذاب کی خبر دی گئی ہے ،آسمانی آفتیں ، ناگہانی حوادث بھی ہمارے قلوب کو جھنجھوڑ نے میں کامیاب نہیںہو پارہے ہیں،دنیا کے مختلف خطوںسے زلزلوںکی خبریںآتی ہیںہم بڑے ذوق وشوق کے ساتھ ان خبروں کی تلاوت تو کرلیتے ہیں لیکن ان کی سلوٹوں میں پوشیدہ عبرتوں کو حرزجاں نہیں بناتے ،عالمی طور پر تبدیلیٔ موسم کی خبریں سنتے آرہے ہیں لیکن اس کی گہرائیوں تک پہونچنے کی کوشش نہیں کرتے ،آخر ہمارے دلوں کو کیا ہوگیا ہے؟ یہ نرم کیوں نہیں پڑتے؟ ہمارے سینوں میں تو دھڑکتا ہوا دل ہے ،قرآن پتھروں کے متعلق شہادت دیتا ہے کہ کچھ پتھروں سے نہریں پھوٹ پڑتی ہیں،کچھ سے پھٹ کر پانی بہنے لگتا ہے ،اور کچھ اللہ تعالیٰ کے خوف سے گرجاتے ہیں لیکن ہمارے دل نرم نہیں پڑتے جن میں حیات کی دھڑکنیں موجود ہیں ،آخر سبب کیا ہے ؟ کیا ہمارے اسلاف کی خشیت کے وہ زرین واقعات جو انسانیت کے ماتھے کے جھومر ہیں اب صرف تاریخ کی کتابوں میں پڑھے جائیں گے ؟ ہم ان واقعات کی عملی تصویر بن کر تاریخ کے صفات میں خشیت الٰہی کے نئے باب کا اضافہ نہیں کر سکتے؟

ہاں یقینا ہم کرسکتے ہیں ،ہم ان کے سچے جانشین بن کر دکھا سکتے ہیں اور آج بھی ہم خوف الٰہی ،ایمانی عزم وحوصلہ سے دنیا کی تمام اسلام مخالف طاقتوں کو زیر کرسکتے ہیں ،بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے اسلاف کی سیرتوں کو اپنی زندگی کا اٹوٹ حصہ قراردے دیں اور ان کے اقوال وافعال کو اپنی زندگیوں میں اتار لیں ،یہ دنیا کی ساری طاقتیں اسی طرح مسخر ہوجائیں گی جس طرح ان کے تابع فرمان ہو گئیں تھیں،قرآن کی آیت آج بھی مسلمانوں کو بآواز بلند پکار رہی ہے ’’سستی وکاہلی نہ کرواورغم نہ کھائوتمہیںغالب رہوگے اگرمومن کامل ہو‘‘۔

خدارا! اٹھیئے!اور خشیت الٰہی سے آراستہ ہو کر آسمان رشد وہدایت پر ساون بھادوں بن کر برس جائیے،پیاسی انسانیت کی آنکھیں آب زلال کے انتطار میں پتھرا گئیں ہیں۔للہ!بہت دیر ہوگئی اب دیر نہ کیجئے ،مادیت،اشتراکیت،علمانیت،فاشزم اور کمیونزم کے زخم کاری سے تڑپتی انسانیت کے زخموں پر معرفت الٰہی کا مرہم علاج رکھ دیجئے ،خوف خداوندی کی دوا دے دیجئے ،انسانیت کی گردنیں آپ کے احسان تلے ہمیشہ دبی رہیںگی ؎

انداز بیان گرچہ بہت شوخ نہیں ہے

شایدکہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات

زمان، مکان اور اخوان

زمان، مکان اور اخوان

شوکت علی سعیدی

اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی میں جس طرح خوشی اور مسرت عطا کی ہے اسی طرح دکھ اور تکلیف بھی دیا ہے۔کہتے ہیں کہ زمان، مکان اور اخوان تینوں بہتر وموافق حال ہوں تو ایک عجیب وغریب مسرت کا احساس ہوتا ہے۔ اس میں ایک ایسی خوشی ملتی ہے جس کی تلاش ہر انسان کو ہمیشہ رہتی ہے، لیکن بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جن کو یہ دولت میسر آتی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جنھیں یہ دولت مل جائے ان کی زندگی نہایت ہی کامیابی و کامرانی کے ساتھ گزرتی چلی جاتی ہے اور جو اِس دولت سے محروم رہتے ہیں انھیں گھٹ گھٹ کے جینے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔

اب ذرا اس کی تفصیل جانتے ہیں کہ زمان ، مکان اور اخوان کی حقیقت ہے کیا ؟

زمان:

زمان وقت کو کہتے ہیں ،اسی سے زمانہ ہے۔عام طور پر جب کوئی نا موافق واقعہ ہوتا ہے تو لوگوں کی زبان پر فوراً یہ جملہ جاری ہوتا ہے کہ: ’’زمانہ بہت خراب ہے۔‘‘ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ زمانہ اچھا رہے۔ اگر غور کریں تو زمانہ اپنے آپ میں کوئی چیز نہیں ہے ،ہاں! ایک زمانے میں زندگی گذارنے والے افراد کے مجموعی اثرات سے زمانے کے اچھا یا برا ہونے کاتصور کیا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے زمانے میں تبدیلی کی صورت رکھی ہے۔ رات بنائی،دن بنایا۔صبح ، دوپہر اور شام بنائے ۔ ان سب کی اپنی خصوصیتیں ہیں،ان ہی تمام اوقات کو جب جمع کیا جائے تو زمانے کی شکل بنتی ہے ۔

کوئی انسان اپنی دنیاوی زندگی میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ زمانے سے باہر ہے،اگر اس کی زندگی ہے تو وہ کسی نہ کسی وقت، یعنی زمانے میں مقید ہے۔ کسی کے لیے دن زیادہ موافق ہے تو کسی کے لیے رات ،کسی کے لیے صبح بہتر ہے تو کسی کے لیے شام۔اسی زمانے میں موسم بھی داخل ہے، یعنی سردی، گرمی اوربرسات۔

 اسی طرح کسی کو سردی پسند ہے تو کسی کو گرمی یا پھر کسی کو برسات۔ زمانہ مختلف ہے اور اس میں اختلاف ہونے کی وجہ یہی ہے کہ لوگوں کی پسندیں مختلف ہیں اوراسی اعتبار سے ایسی تخلیق کی گئی ہے ۔ اس کی ایک مقدار متعین کر دی گئی ہے تاکہ کسی کو یہ شکایت نہ رہے کہ اسے جو وقت اور موسم پسند ہے وہ نہیں ملتا۔جس شخص کا کام شام کو اچھا ہوتا ہے اورموسم کے اعتبار سے جاڑے کا موسم مناسب ہے تو اس کی خواہش یہی رہتی ہے کہ کاش!شام ہی شام ہوتی اور صرف جاڑے کا ہی موسم ہوتا ،لیکن یقین مانیں کہ جو مقدار اللہ نے متعین کر دی ہے اس سے گھٹ بڑھ جائے تو وہ انسان پھر یہ دعا کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ وہی مقدار بہتر تھی، ٹھیک اسی طرح کہ لذیذ کھانا دیکھ کر دل یہی کہتا ہے کہ ہر وقت ایساہی لذیذ کھانا ملے لیکن اگر اسے مسلسل وہ کھانا ملنے لگے تو وہ اُوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ کھچڑی، دال یاچاول ہی کھلاؤ۔

حاصل یہ کہ زمان وہ وقت ہے جس میں ہم اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

مکان:

مکان جگہ کو کہتے ہیں۔ ہر انسان جس طرح کسی نہ کسی وقت میں ہوتاہے اسی طرح کسی نہ کسی جگہ میں ہوگا، اس سے اپنے آپ کو باہر نہیں رکھ سکتا۔ زمانے کی طرح جگہ کے بارے میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں جگہ بہت خراب ہے، یا فلاں جگہ بہت بہتر ہے۔ خراب اور بہتر کا تصور بھی نفس جگہ سے نہیں ہے بلکہ زمان کے موافق و غیر موافق ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے یا وہاں پر رہنے والے افراد (اخوان)کی خصلتوں اور عادتوں کی وجہ سے ہوتا ہے، جیسے کچھ جگہیں ایسی ہوتی ہیں جہاں پر گرمی زیادہ پڑتی ہے یا برسات زیادہ  ہوتی ہے، کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں رات ہی رات ہوتی ہے تو اُن غیرموافق اوقات کو دیکھتے ہوئے زبان سے برملا نکلتا ہے کہ’’ وہ جگہ اچھی نہیں ہے‘‘، اسی طرح کسی جگہ پر بسنے والے افراد بے وفا ، خود غر ض اور دغابازہوں تو اس جگہ کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ’’ وہ جگہ اچھی نہیں ہے ‘‘،یوں ہی جہاں خوش گوار موسم رہتا ہویا لوگ وفادار، ملنساراور خوشی وغم میں شریک ہونے والے ہوں تو وہاں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ’’ وہ جگہ بہت اچھی ہے‘‘۔

اخوان:

اخوان کا مطلب ہے ہم خیال، ہم مزاج اور ہم طبیعت افراد۔ جب کسی جگہ چند ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ایک ہی پیشے سے تعلق رکھتے ہیں تو اُن کے مجموعے کو ہم اخوان کہتے ہیں۔ شریف انسان یہ چاہتا ہے کہ شریفوں کی ایک پوری جماعت ہمیں مل جائے اسی طرح رذیل شخص شریفوں کے بیچ میں رہنا پسند نہیں کرتا، وہ اپنی خصلت کے انسانوں کی جماعت ڈھونڈتا ہے اور اسی طرح کی سوسائٹی میں رہنا پسند کرتا ہے۔

ایک خاص صفت و عادت والا فرداپنی جیسی ہی صفت و عادت والے شخص کا طالب ہوتا ہے اور جب اسے ایسا شخص مل جاتا ہے تو خوب بہتر جوڑی جمتی ہے، اس سے جدا ہونا بھی پسند نہیں کرتا،لیکن اس دنیاوی زندگی کو دو تین ہم عادت و ہم خیال افراد کے بیچ میں نہیں گزار ا جا سکتا بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر ایسی سوچ و فکر رکھنے والے افراد کی ضرورت پڑتی ہے۔ایسی صورت میں اس طرح کے افراد کی تلاش شروع ہو جاتی ہے جو ہم خیال اور موافق ہوں، ایسے افراد کے نہ ملنے کی صورت میں ہم ہر طرح کی کوشش او رجتن کرکے لوگوں کو اپنا ہم فکر وہم خیال بناتے ہیں اور جہاں جہاں ہمارا بس چلتاہے وہاں ہم کوشش بھی کرتے ہیں۔ پہلے اپنے گھر والوںکی ذہنیت میں ہم آہنگی لاتے ہیں پھر اپنے نوکر چاکر سے بھی یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ا ن کی طرح ہو جائیں اور ہماری یہ کوشش مرتے دم تک کسی نہ کسی شکل میں باقی رہتی ہے۔

کس طرح کے زمان و مکان اور اخوان کی طلب ہو؟

ہر شخص اپنی طبیعت کے مطابق زمان مکان اور اخوان چاہتا ہے۔ جس شخص کو صالح زمان، پاکیزہ مکان اور بہتر اخوان مل جائے تو اس کی زندگی ہمیشہ خوش گوار نظر آتی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مختلف زمان و مکان اور اخوان کی موجودگی میں کس طرح کے زمان و مکان اور اخوان کی طلب کی جائے۔ ایک دنیا کی ترقی چاہنے والا شخص یہی خواہش رکھے گا کہ اس کی زندگی میںجوپلاننگ ہے اس کے لیے صحیح وقت(زمان) مل جائے مناسب جگہ (مکان) مل جائے اور اس کے من پسند افراد(اخوان) مل جائیں، تاکہ اس کی پلاننگ کامیاب ہو۔اسی طرح ایک دین کی راہ میں ترقی چاہنے والا شخص اس چیز کا طالب ہوتا ہے کہ اس کے لیے صحیح وقت مل جائے جس میں وہ عبادت کرے ، ایسی جگہ مل جائے جہاں اسے ہر طرح کے فتنہ و فساد سے محفوظ رہنے کا موقع ملے اور ایسے افراد مل جائیں جو دین کی راہ میں معاون و مددگار ثابت ہوں۔

 اب ہمیں غور یہ کرنا ہے کہ ہم دنیا کی ترقی کے لیے صالح زمان، پاکیزہ مکان، بہتر اخوان کی تلاش و جستجو میں اپنی زندگی صرف کر رہے ہیں یا دین کی راہ میں ترقی کے لیے صالح زمان، پاکیزہ مکان اور بہتر اخوان کی طلب میں ہیں۔اللہ عز و جل سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے زمان ومکان اور اخوان کی طلب کرنے کی توفیق دے جس سے ہماری دنیا بھی بہتر ہو اور آخرت بھی بہتر ہو۔

نفع ونقصان کی بنیاد

نفع ونقصان کی بنیاد

اشتیاق عالم مصباحی

ایک پُر اَمن معاشرے کا وجودتبھی ممکن ہے ، جب ہر شخص صرف اللہ کو مالک و متصرف مانے ،اور اسی کے حکم پر عمل کرے

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

وَ الْعَصْرِ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(سورۂ عصر ۳)

ترجمہ:زمانے کی قسم!ایمان والے،نیک عمل کرنے والے،حق کی وصیت کرنے والے اور صبر کی تلقین کرنے والوں کے سوا تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔

اس سورہ میں خاص طورپر جن باتوں کا ذکر ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱۔عصر

 یعنی وقت اورزمانہ،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہی معنی مراد ہے ۔

حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عصر سے مراد، دن کے دونوں حصے،یعنی صبح اورشام ہیں ۔

 حضرت حسن رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عصر سے مراد زوال(سورج ڈھلنے)سے لے کر غروب(سورج ڈوبنے) تک کا وقت ہے، اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عصر سے دن کا آخری حصہ مراد ہے۔

چنانچہ اللہ رب العزت دن کے اس حصے کی قسم کا ذکر فرماکر بندے کو تنبیہ فرمارہاہے کہ اب بازار کا وقت ختم ہونے والا ہے، کمانے کا وقت نہیں رہا،ابھی بھی خاموش بیٹھے رہے اور کچھ کمائے بغیر گھر لوٹے تو بچے اپنا حق مانگیں گے اور تمھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے ہی دنیا کا وقت قیامت سے بہت قریب ہے،تم نے ابھی تک اس گھر کے لیے تیاری نہیں کی ہے، حالاں کہ تمھیں خوب معلوم ہے کہ قیامت میں اُن تمام نعمتوں کے بارے میں تجھ سے سوال ہوگا جودنیا میں تمھیں دی گئیں۔اسی طرح بندوں کے ساتھ تمہارے معاملات کے بارے میں بھی تم سے پوچھا جائے گا،غرض کہ ہر مظلوم کو اس کا حق دلایاجائے گا اس وقت تم خسارے اور گھاٹے میں ہوگے ۔

۲۔ انسان 

انسان سے مراد جنس انسان ہے جس میں مومن اور مشرک سب برابر کےشریک ہیں،یا پھر انسان سے مراد خاص انسان یعنی کافرمرادہے۔اگر جنس انسان مرادہو توایسی صورت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھا نے والا وہ کافر ہوگا جو اللہ رب العزت کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرائے اور کم نقصان والا وہ مومن ہوگا جو عمل صالح کے ساتھ برائی کی بھی آمیزش کرے ۔

 ۳۔ خسر

 اس لفظ کا معنی ہے اصل مال کا ختم ہونا یا اس میں نقصان ہوجانا۔ لفظ خُسْرٍمیں تنوین تعظیم کے لیے ہے ،جس کا معنی ایسا نقصان ہے جس کی حقیقت صر ف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو۔

علامہ فخر الدین رازی اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ہرشخص گھاٹے اور نقصان میں مبتلا ہے ،کیوں کہ انسان کی اصل پونجی اوردولت اس کی زندگی ہے جو تیزی کے ساتھ گزر رہی ہے۔

 اگر انسان معصیت اور گناہ میں مصروف ہے تو یہ اس کے نقصان کا باعث ہے اور اگر جائز کام میں زندگی گزاررہا ہے تو بھی خسارے میں ہے، کیوں کہ بندہ ایسے کام پر قادر تھا جس سے فائدہ حاصل ہو، قدرت کے باوجود بے فائدہ کام میں لگے رہنا نقصان دہ ہے۔

البتہ! اگرطاعت وعبادت میں بندہ زندگی گزارے تو عبادت کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہے، اوراگر اعلیٰ و عمدہ کیفیت کے ساتھ عبادت کرسکتا تھا مگر اُس کے باوجود اِس طریقے کو چھوڑ دیا تو یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے ۔

۴۔ مومنین( اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) 

 یعنی وہ لوگ جواللہ رب العزت کی تصدیق اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ رب العزت کے پاس سے جو کچھ لے کر آئے اُن تمام چیزوں کی اس طرح تصدیق کرتے ہیں کہ اُن میںذرہ برابر بھی کسی شک کی گنجائش نہیں۔

۵۔ صالحین(وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ) 

 مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ رب العزت نے ان کے ذمے لازم کیا ہے اُسے انجام دیتے ہیں اور حرام کا موں سے بچتے ہیں ،یعنی ایسا عمل جس کے اندر کسی طرح کا فساداورخرابی نہ ہو،اُسے کرتے ہیں،کیوں کہ اُنھیں صرف احکام الٰہیہ کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاء(بینہ۵)

ترجمہ:بندوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ تمام چیزوں سے منھ موڑ کراَخلاص کے ساتھ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں۔

حق کی وصیت (وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ) 

حق سے مراد ایسا یقینی امرہے جس کا انکار نہ کیا جاسکے ، مثلاً:اللہ ،ایمان، قرآن یا ہر وہ نیک امر جو اعتقاد یا عمل سے تعلق رکھتاہو۔

اوراگر حق سے مراد اللہ رب العزت ہو تو اَب معنی یہ ہو گا کہ بندے کے حال کے مطابق اللہ رب العزت کے غضب کا خوف اور اُس کی رحمت کی امید دلاتے رہے،یااگر حق سے ایمان و قرآن دونوں مراد ہوں تواُس کا معنی یہ ہوگا کہ ایمان کے تقاضوں اور قرآنی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین اور وصیت کرے۔

صبرکی تلقین(وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) 

مطلب یہ ہےکہ ایک دوسرے کو طاعت پر جمے رہنے اور گناہوں سے بچنے کی وصیت کرتے ہیں۔

صبر ایک ایسی قوت کا نام ہے جس سے انسان مشقتوں اورمصیبتوں کو برداشت کرنے پر قادر ہو ۔

دیلمی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 صبر کی تین قسمیں ہیں:

۱۔مصیبتوں پر صبر کرنا

 ۲۔طاعت وبندگی پر جمے رہنا

۳۔گناہوں سے الگ رہنا

 جواَپنی تجارت میں نقصان اٹھانے والے نہیں ہیں، اُن کے اندر چار صفتیں موجود ہوتی ہیں :

۱۔ایمان

 ۲۔عمل صالح

 ۳۔حق کی وصیت

۴۔ صبر کی تلقین

 خسارے اور نقصان سے بچنے کے لیے محض ایمان وعمل کافی نہیں ہے،بلکہ ان سب کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو خیر کی دعوت اور صبر کی تلقین کرنا بھی لازم وضروری ہے۔

اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم ذکرفرماکر اِنسانیت کی ہلاکت ونجات اور نفع ونقصان کو اس سو رہ میں بیان فرما یا ہے۔ہلاکت انسان کا مقدر ہے وہ کبھی بھی اس سے نہیں بچ سکتا، کیوں کہ ہر لمحہ انسان پر اللہ رب العزت کی نعمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، جس کی واضح دلیل سانس کی نعمت ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ بندہ ہر سانس کے بدلے شکر ادا کرنے سے مجبور ہے لیکن اس کے باوجود اللہ رب العزت نے محض اپنی رحمت سے انسانوںکویہ درس دیا کہ اگروہ اُن تمام خوبیوںکے حامل ہوجائیں تواُن کی برائیاں،بھلائیوں اور پریشانیاں، آسائشوں میں بدل جائیں گی ۔

اس میں غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم ذکرکرکے یہ واضح اشارہ کردیاہے کہ ایک پُر اَمن اور منظّم معاشرے کا وجود اُسی وقت ممکن ہے ، جب ہر شخص صرف اللہ کو حاکم ،مالک اور متصرف مانے ،پھر اسی کے حکم کے مطابق عمل کرے اور عمل کی تلقین کرے تو یقیناًیہ باتیں انسانوں کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں امن و امان اور صلح وآشتی کی ضامن ہوں گی ۔

اللہ رب العزت ہم سب کو مومنین، صالحین،داعیان حق اور صابرین کی صف میں شامل کرے۔( آمین )

احکام شریعہ کا دسواں حصہ

حدیث نمبر :177

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جو احکام شریعہ کا دسواں حصہ چھوڑ دے تو وہ ہلاک ہوجائےپھر وہ زمانہ آوے گا کہ جو احکام کے دسویں حصے پر عمل کرے نجات پاوے گا ۱؎ (ترمذی)

شرح

۱؎ خیال رہے کہ یہاں احکام سے مرادتبلیغ اور سنن ونوافل وغیرہ ہیں نہ کہ فرائض و واجبات،یعنی آج چونکہ تبلیغ اور ساری نیکیوں کے لیئے کوئی رکاوٹ نہیں اب کچھ بھی چھوڑنا اپنا قصور ہے۔آخر زمانہ میں رکاوٹیں بہت ہوں گی اس وقت آج کے لحاظ سے دسواں حصہ پر عمل کرنا بڑی بہادری ہوگی۔لہذا حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ اب ایک ہی نماز اور ہزاروں حصہ زکوۃ اور رمضان کے تین روزہ کافی ہیں یا یہ مناسبت مجموعی احکام کے لحاظ سے ہے۔چنانچہ آج اسلامی جہاد قضاء کے احکام پر پورا عمل ناممکن ہے ہم چور کے ہاتھ نہیں کاٹ سکتے،زانی کو سنگسار نہیں کرسکتے وغیرہ۔