وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا حُيِّيۡتُمۡ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوۡا بِاَحۡسَنَ مِنۡهَاۤ اَوۡ رُدُّوۡهَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ حَسِيۡبًا ۞

ترجمہ:

اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جب تم کو کسی لفظ سے سلام کیا جائے تو تم اس سے بہتر لفظ کے ساتھ سلام کرو یا اسی لفظ کو لوٹا دو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ (النساء : ٨٦) 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا تھا اور جہاد کے احکام میں سے یہ بھی ہے کہ جب فریق مخالف صلح کرنے پر تیار ہو تو تم بھی اس سے صلح کرلو ‘ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “۔ (الانفال : ٦١) 

ترجمہ : اور اگر وہ صلح کی طرف جھکیں تو آپ بھی اس کی طرف مائل ہوں۔ 

اسی طرح جب کوئی شخص سلام کرے تو اس کے سلام کا عمدہ طریقہ سے جواب دینا چاہیے ورنہ کم از کم اسی لفظ سے سلام کا جواب دیا جائے۔ مثلا السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہے اور اسلام علیکم ورحمۃ اللہ کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے۔

اسلام میں سلام کے مقرر کردہ طریقہ کی افضلیت : 

عیسائیوں کے سلام کا طریقہ ہے منہ پر ہاتھ رکھا جائے (آج کل پیشانی پر ہاتھ رکھتے ہیں) یہودی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہیں ‘ مجوسی جھک کر تعظیم کرتے ہیں عرب کہتے ہیں حیاک اللہ (اللہ تمہیں زندہ رکھے) اور مسلمانوں کا سلام یہ ہے کہ کہیں السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام طریقوں سے افضل ہے کیونکہ سلام کرنے والا مخاطب کو یہ دعا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آفتوں ‘ بلاؤں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے ‘ نیز جب کوئی شخص کسی کو سلام کرتے ہے تو وہ اس کو ضرر اور خوف سے مامون اور محفوظ رہنے کی بشارت دیتا ہے ‘ مکمل سلام یہ ہے السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ‘ اور تشہد میں بھی اتنا ہی سلام ہے ‘ جب کوئی شخص فقط السلام علیکم کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا چاہیے اور اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے اگر کوئی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے تو اس کے جواب میں وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ کہے ‘ اور بعض روایات میں ومغفرتہ کا اضافہ بھی ہے۔ (سنن ابوداؤد : ٥١٩٦) سلام کی ابتداء کرنے والا پہلے لفظ السلام کہتا ہے اور جواب دینے والا وعلیکم السلام کہہ کر بعد میں لفظ السلام کہتا ہے ‘ اس میں نکتہ یہ ہے کہ سلام اللہ کا نام ہے اور مجلس کی ابتداء بھی اللہ کے نام سے ہو اور انتہاء بھی اللہ کے نام پر ہو ‘ اور ابتداء بھی سلامتی کی دعا سے ہو اور انتہاء بھی سلامتی کی دعا پر ہو۔ 

مصافحہ اور معانقہ کی فضیلت اور اجر وثواب کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا کہ اسلام کا کون سا وصف سب سے بہتر ہے آپ نے فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور ہر (مسلمان) کو سلام کرو خواہ تم اس کو پہچانتے ہو یا نہیں۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٤) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تک تم ایمان نہیں لاؤ گے جنت میں داخل نہیں ہو گے ‘ اور جب تک تم ایک دوسرے سے محبت نہیں کرو گے تمہارا ایمان (کامل) نہیں ہوگا ‘ کیا میں تم کو ایسی چیزنہ بتاؤں جس کے کرنے کے بعد تم ایک دوسرے سے محبت کرو ؟ ایک دوسرے کو بکثرت سلام کیا کرو۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٥٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٣‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ٢٠٠٢‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٤٥ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ وہ شخص ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٤‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٩١١) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوتے اگر ہم کسی درخت کی وجہ سے جدا ہو کر پھر مل جاتے تو ایک دوسرے کو سلام کرتے۔ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٧٩٨٣) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عمران بن الحصین (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : السلام علیکم آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس (نیکیاں) ‘ پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ‘ آپ نے سلام کا جواب دیا اور وہ بیٹھ گیا پھر آپ نے فرمایا (تیس) نیکیاں ‘ امام ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے ‘ امام بیہقی نے بھی اس کو حسن کہا ہے ‘ امام ابوداؤد نے سہل سے مرفوعا روایت کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے : پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ، آپ نے فرمایا چالیس (نیکیاں) (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٨‘ کتاب الآداب للبیہقی ‘ رقم الحدیث : ٢٨٠‘ الادب المفرد “ رقم الحدیث : ٩٨٦‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب بھی دو مسلمان ملاقات کے بعد مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ان کو بخش دیا جاتا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢١٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧٣٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٣‘ کشف الاستار “ رقم الحدیث : ٢٠٠٤) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب جب ملاقات کرتے تو مصافحہ کرتے اور جب سفر سے آتے تو معانقہ کرتے۔ حافظ منذری نے لکھا ہے کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (الترغیب والترہیب ج ٣ ص ٤٢٣‘ المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٩٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حماد بن زید نے ابن المبارک سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا۔ 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے تشہد کی تعلیم دی درآں حالیکہ میری دونوں ہتھیلیاں آپ کی دونوں ہتھیلیوں میں تھیں (صحیح البخاری کتاب الاستیذان ‘ باب ٢٨‘ الاخذ بالیدین ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٥) 

حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے ‘ اگر دونوں کے درمیان کوئی درخت یا دیوار یا پتھر حائل ہوجائے اور پھر ملاقات ہو تو دوبارہ سلام کرے (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٠) 

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ جو شخص سلام کرنے میں ابتداء کرے وہ تکبر سے بری ہوجاتا ہے۔ (شعب الایمان ‘ رقم الحدیث : ٨٧٨٦) 

کن لوگوں کو سلام کرنے میں پہل کرنی چاہیے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سوار ‘ پیدل کو سلام کرے اور پیدل بیٹھے ہوئے کو سلام کرے اور کم لوگ زیادہ لوگوں کو سلام کریں۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٣٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٠‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٥١٩٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢١٢‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٩٩٥‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٤٥) 

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھا آپ کا بچوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو سلام کیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٦٧‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢١٦٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٢‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٧٢٠٥‘ عمل الیوم واللیلۃ للنسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٤٥٩‘ حلیۃ الاولیاء : ج ٦ ص ٢٩١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چھوٹا بڑے کو سلام کرے ‘ اور گزرنے والا بیٹھے ہوئے پر اور قلیل ‘ کثیر پر (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٢٣١‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٧١٣‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٩٨) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

اسماء بنت یزید (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہم عورتوں کے پاس سے گزر ہوا تو آپ نے ہم کو سلام کیا۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٩٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٧٠١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٣٥٧‘ المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٦) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے میرے بیٹے جب تم اپنے گھر میں داخل ہو تو سلام کرو اس سے تم پر برکت ہوگی اور تمہارے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٧٠٧) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کلام سے پہلے سلام کرو ‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث منکر ہے (سنن ترمذی : ٢٧٩٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم کو اہل کتاب سلام کریں تو تم کہو وعلیکم (صحیح مسلم : ٢١٦٣‘ سنن ابوداؤد ‘ ٥٢٠٧) 

جن مواقع پر سلام نہیں کرنا چاہیے : 

امام فخرالدین محمد بن عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے یہودی کو سلام کی ابتداء نہ کرو ‘ امام ابوحنیفہ نے کہا ہے اس کو خط میں بھی سلام نہ کہو ‘ امام ابویوسف نے کہا نہ ان کو سلام کرو نہ ان سے مصافحہ کرو ‘ اور جب تم ان پر داخل ہو تو کہو ” السلام علی من اتبع الھدی “ اور بعض علماء نے کہا ہے کہ ضرورت کے وقت ان کو ابتداء سلام کرنا جائز ہے (مثلاکسی کا افسر کافر یابدمذہب ہو تو اس کو اس کے دائیں بائیں فرشتوں کی نیت کرکے سلام کرے) اور جب وہ سلام کریں تو وعلیک کہنا چاہیے حسن نے کہا ہے کہ کافر کو وعلیکم السلام کہنا تو جائز ہے لیکن وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ کہنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ مغفرت کی دعا ہے اور کافر کے لیے مغفرت کی دعا جائز نہیں ‘ شعبی نے ایک نصرانی کے جواب میں کہا وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ ‘ ان پر اعتراض کیا گیا تو انہوں نے کہا کیا یہ اللہ کی رحمت میں جی نہیں رہا ! 

(٢) جب جمعہ کے دن امام خطبہ دے رہا ہو تو حاضرین کو سلام نہ کرے کیونکہ لوگ امام کا خطبہ سننے میں مشغول ہیں۔ 

(٣) اگر حمام میں لوگ برہنہ نہا رہے ہوں تو ان کو سلام نہ کرے اور اگر ازار باندھ کر نہا رہے ہوں تو ان کو سلام کرسکتا ہے۔ 

(٤) جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہو ‘ روایت حدیث کر رہا ہو ‘ یا مذاکرہ علم میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٥) جو شخص اذان اور اقامت میں مشغول ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٦) امام ابو یوسف نے کہا جو شخص چوسر یا شطرنج کھیل رہا ہو یا کبوتر اڑا رہا ہو ‘ یا کسی معصیت میں مبتلا ہو اس کو بھی سلام نہ کرے۔ 

(٧) جو شخص قضاء حاجت میں مشغول ہوا اس کو سلام نہ کرے۔ 

(٨) جو شخص گھر میں داخل ہو تو اپنی بیوی کو سلام کرے اگر اس ساتھ کوئی اجنبی عورت ہو تو اس کو سلام نہ کرے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨٠)

سلام کرنا سنت ہے اور اس کا جواب دینا واجب ہے ‘ اگر جماعت مسلمین کو سلام کیا تو ہر ایک پر جواب دینا فرض کفایہ ہے لیکن جب کسی ایک نے جواب دے دیا تو باقیوں سے جواب دینے کا فرض ساقط ہوجائے گا ‘ فساق اور فجار کو پہلے سلام نہیں کرنا چاہیے اگر کوئی اجنبی عورت کسی مرد کو سلام کرے تو اگر بوڑھی ہو تو اس کا جواب دینا چاہیے اور اگر جوان ہو تو اس کے سلام کا جواب نہ دے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 86

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَّكُنۡ لَّهٗ نَصِيۡبٌ مِّنۡهَا‌ ۚ وَمَنۡ يَّشۡفَعۡ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَّكُنۡ لَّهٗ كِفۡلٌ مِّنۡهَا‌ ؕ وَكَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ مُّقِيۡتًا ۞

ترجمہ:

جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : جو اچھی شفاعت کرے گا اس کے لیے (بھی) اس میں سے حصہ ہے ‘ اور جو بری سفارش کرے گا اس کے لئے (بھی) اس میں سے حصہ ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (النساء : ٨٥) 

شفاعت کا معنی اور اس کی اقسام : 

شفاعت لفظ شفع سے ماخوذ ہے اس کا معنی ہے ایک انسان دوسرے ضرورت مند انسان کے ساتھ مل جائے اور دونوں مل کر اس ضرورت کے متعلق سوال کریں ‘ اور یہاں پر مراد ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیں اور جو مسلمان آپ کی ترغیب سے جہاد کریں گے تو ان کی اس نیکی میں آپ کا بھی حصہ ہوگا ‘ یہ شفاعت حسنہ ہے ‘ اور شفاعت سیئہ یہ ہے کہ منافق اپنے بعض منافقوں کو جہاد میں شریک نہ کرنے کے لیے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شفاعت کرتے تھے کہ ان کو فلاں فلاں عذر ہے اور اس شفاعت سے جہاد میں شریک نہ ہونے کا گناہ دونوں کو ہوگا ان کو بھی جو شریک نہیں ہوئے اور ان کو بھی جنہوں نے ان کے لیے اس کی سفارش کی۔ 

اسی طرح کسی بھی نیک کام میں سفارش کرنا اچھی شفاعت ہے مثلا کسی طالب علم کو دینی مدرسہ میں داخل کرنے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی ضرورت مند عالم دین کے لیے کسی تونگر سے سفارش کرنا کہ ان کی ضرورت کی کتابیں ان کو خرید کردیں ‘ مسجد اور دینی مدرسہ بنوانے کے لیے سفارش کرنا ‘ کسی مجاہد کے لیے اسلحہ کے حصول میں سفارش کرنا ‘ کسی غریب لڑکی کی شادی کے لیے رشتہ یا جہیز کی سفارش کرنا ‘ کسی بےروزگار کے لیے ملازمت کی سفارش کرنا بہ شرطی کہ وہ وہ اس ملازمت کا اہل ہو ‘ اللہ کے حضور کسی مسلمان کے لیے دعا کرنا اس کی مغفرت چاہنا ‘ یہ سب اچھی سفارشیں ہیں ‘ اور بری سفارش یہ ہے کہ شراب خانہ کے پر مٹ کے لیے سفارش کی جائے ‘ سینما بنانے کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ آلات موسیقی کی دکان کے لیے کسی سے سفارش کی جائے ‘ بینک اور انشورنس کمپنی میں ملازمت کے لیے سفارش کی جائے یا کسی نااہل اور غیر مستحق کے لیے سفارش کی جائے۔ 

نیکی کے کاموں میں شفاعت کے متعلق احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب کوئی سائل آتا یا آپ سے کوئی شخص حاجت طلب کرتا تو آپ فرماتے تم شفاعت کرو تمہیں اجر دیا جائے گا ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان پر جو چاہے گا فیصلہ فرمائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٤٣٢‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٢‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٢٥٥٦‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٨١‘ مسند احمد ج ٤ ص ٤٠٠‘ ٤٠٣‘ ٤٠٩‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ١٦٧‘ صحیح ابن حبان ج ٢ ص ٥٣١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص لایا گیا جو آپ سے سواری طلب کرتا تھا ‘ آپ کے پاس اس وقت کوئی سواری نہیں تھی۔ آپ نے اس کی کسی اور شخص کی طرف رہنمائی کی اس شخص نے اس کو سواری دے دی ‘ اس سائل نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر اس کی خبر دی ‘ آپ نے فرمایا نیکی کی رہنمائی کرنے والا بھی نیکی کرنے والے کی مثل ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٢٦٦٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٩٣‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٩‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٧٠٨٣‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١٤٢) 

کسی برے کام کے حصول کے لیے شفاعت کی ممانعت پر اس آیت میں دلیل ہے : 

(آیت) ” ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان “۔ (المائدہ : ٢) 

ترجمہ : اور گناہ اور سرکشی میں ایک دوسرے کی مدد نہ کرو ‘۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 85

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ھُمَزَۃ لُمَزَۃ

ان دنوں مِن حَیثُ القوم ہم ایک دوسرے کی قبریں کھودنے ‘ چیتھڑے اڑانے ‘ طعنہ زنی ‘عیب جوئی اور تذلیل وتحقیر میں مصروف رہتے ہیں اور اس میں ہمیں بڑا لطف آتا ہے‘ جبکہ قرآن وسنت کی تعلیمات کی روشنی میں ان عادات واقدار کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: 

(1)”ہلاکت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو منہ پر طعنے دیتا ہے اور پسِ پشت عیب جوئی کرتا ہے‘جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کر رکھا ‘وہ گمان کرتا ہے کہ اُس کا مال اُسے حیاتِ جاودانی عطا کرے گا‘ہرگز نہیں!وہ ”حُطَمَۃ‘‘ میں ضرور پھینک دیا جائے گا اور آپ کو کیامعلوم ”حُطَمَۃ‘‘کیا ہے ‘وہ اللہ کی بھڑکائی ہوئی آگ ہے (جس کے شعلے ) سینوں تک بلند ہوں گے ‘بے شک وہ آگ ان پر ہر طرف سے لمبے لمبے ستونوں میںبند کی ہوئی ہوگی ‘(الہُمَزہ:1-9)‘‘۔ 

تفسیر کبیر میں ہے:”ھُمَزَہ‘‘ سے مراد غیبت کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد عیب جوئی کرنا ‘ ابوزید نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد ہاتھ یا اشاروں سے اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد زبان سے عیب جوئی کرنا ‘ ابوالعالیہ نے کہا: ھُمَزَہ سے مراد سامنے طعن کرنا اور ”لُمَزَہ‘‘ سے مراد پیٹھ پیچھے غیبت کرنا‘ ایک معنی یہ بیان کیا ہے کہ ھُمَزَہ سے مراد ظاہراً اور لُمَزَہ سے مراد آنکھ یا ابروکے اشارے سے طعن کرنا ‘ ولید بن مغیرہ ایسے ہی کرتا تھا ۔

اللہ تعالیٰ نے نہایت نفیس انداز میں فرمایا:”اپنے عیب نہ نکالواور(ایک دوسرے کو)برے ناموں سے نہ پکارو‘‘ (الحجرات:11)۔ اس میں نفسیاتی انداز میں بتایا گیا کہ تم جس کے عیب نکالتے ہو‘ وہ تمہارا ہی بھائی ہے ‘ تمہاری ملّت کا ایک فرد ہے‘ کوئی غیر تو نہیں ہے ‘ یعنی اس کی توہین کر کے تم اپنی توہین کر رہے ہو‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:(1) ”اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو‘ بے شک بعض گمان گناہ ہیں اور نہ تم دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگائو اور نہ تم ایک دوسرے کی غیبت کرو‘ کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے‘ سو تم اس کو ناپسند کرو گے اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا بے حد رحم فرمانے والا ہے‘‘(الحجرات: 12)۔(2) ”اور(اے مخاطَب!) جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ لگ جائو‘ بے شک کان ‘ آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں (روزِ قیامت) باز پرس ہوگی‘‘ (الاسرائ: 36)۔اللہ تعالیٰ نے دوسروں کے پوشیدہ احوال کا سراغ لگانے سے منع فرمایا ‘ حدیث پاک میں اسے ”تجسُّس‘‘اور ”تَحَسُّس‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے:

” رسول اللہ ﷺ منبر پر چڑھے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو! جو اپنی زبان سے ایمان لائے ہو اور (ابھی) ایمان تمہارے دلوں میں جاگزیں نہیں ہوا‘ مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچائو‘ انہیں عار نہ دلائو‘ ان کی پوشیدہ باتوں کے درپے نہ ہوجائو‘ پس بے شک جو اپنے مسلمان بھائی کے پوشیدہ راز کے درپے ہوگا‘اللہ تعالیٰ اس کی پردہ دری فرمائے گااور جس کے عیوب کو اللہ ظاہر کر دے ‘وہ رسوا ہوجائے گاخواہ وہ کجاوے میں بیٹھا ہو‘نافع بیان کرتے ہیں: ایک دن حضرت عبداللہ بن عمرکی نظر بیت اللہ پر پڑی تو انہوں نے کہا: (اے بیت اللہ!)تیری عظمت بے پایاں ہے ‘ تیری حرمت عظیم ہے لیکن ایک (بے قصور)مسلمان (کے خونِ ناحق) کی حرمت اللہ تعالیٰ کے نزدیک تجھ سے بھی زیادہ ہے‘‘ (سنن ترمذی:2032)۔

(2)”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مسلمان‘ مسلمان کا بھائی ہے‘ وہ نہ اس پر خود ظلم کرے اور نہ کسی اور کو اس پر ظلم کرنے دے اور جو اپنے بھائی کی حاجت پوری کرنے میں مشغول رہتا ہے‘اللہ تعالیٰ اس کی حاجت براری فرماتا ہے اور جس نے کسی مسلمان سے کوئی مصیبت دور کی تو اللہ قیامت کی مصیبتوں میں سے اس کی کوئی مصیبت دور فرمادے گا اور جس نے کسی مسلمان کا پردہ رکھا‘ اللہ قیامت کے دن اس کا پردہ رکھے گا‘‘ (صحیح البخاری:2442)۔

اسلام نے ایک دوسرے کی پردہ دری اور عیب جوئی سے منع کرنے کے ساتھ ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اپنے دین کے دشمنوں کو اپنا رازدار نہیں بنانا چاہیے ‘ اس کا انجام نقصان ہی نقصان ہے ‘ فرمایا:”اے ایمان والو! غیروں کو اپنا رازدار نہ بنائو‘ وہ تمہاری بربادی میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے‘ انہیں وہی چیز پسند ہے ‘جس سے تمہیں تکلیف پہنچے ‘ان کی باتوں سے تودشمنی عیاں ہوچکی ہے اور جو کچھ ان کے سینوں میں چھپا ہوا ہے‘ وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے‘ اگر تم عقل سے کام لیتے ہو تو ہم نے تمہارے لیے نشانیوں کو بیان کردیا ہے‘‘(آل عمران:118)۔بہت سے حضرات اپنا راز دوسروں پر افشا کرتے ہیں اور پھر اُن سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اُس پر پردہ ڈالے رہیں ‘ جب ایک شخص خود اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتا تو کسی دوسرے سے توقع رکھنا عبث ہے۔رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی بتایا کہ بہت سے مفاسد کا منبع زبان ہے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا: (1)”جو مجھے اس چیز کی (شریعت کے تابع رکھنے کی )ضمانت دے گا جو دو داڑھوں اور دو ٹانگوں کے درمیان ہے(یعنی زبان اور شرمگاہ) ‘ تو میں اُسے جنت کی ضمانت دوں گا‘‘ (بخاری: 6474)۔(2)”جو خاموش رہا‘ اس نے نجات پائی‘‘ (سنن ترمذی:2501)۔(3)”جب بنی آدم صبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اعضازبان کے تابع ہوتے ہیں اور زبان سے کہتے ہیں: ہمارے بارے میں اللہ سے ڈرتی رہ ‘ کیونکہ ہمارے حقوق کی حفاظت تمہارے ذریعے ہے‘ اگر تو صحیح رہے گی تو ہم بھی صحیح رہیں گے اور اگر تو کجی اختیار کرلے گی تو ہم میں بھی کجی آجائے گی‘‘ (ترمذی:2407)۔(4)سفیان بن عبداللہ ثقفی نے عرض کیا: یارسول اللہ! مجھے وہ چیز بتائیے‘ جسے میں مضبوطی سے تھام لوں‘ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو:میرا رب اللہ ہے ‘ پھر اس پر ثابت قدم رہو ‘ میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! وہ کون سی چیز ہے‘ جس سے مجھے سب سے زیادہ خوفزدہ رہنا چاہیے ‘ تو آپ ﷺ نے اپنی زبانِ مبارک کو پکڑ کر فرمایا: یہ(یعنی زبان)‘‘ (ترمذی: 2410)۔(5)”نبی ﷺ نے فرمایا: جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کو چھپایا‘اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیب پر پردہ ڈالے گااور جس نے اپنے مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ دری کی تو قیامت میں اللہ تعالیٰ اُس کے عیب کو فاش کردے گایہاں تک کہ اُسے اپنے گھر میں رسواکرے گا‘ ‘(سنن ابن ماجہ:2546)۔

اب حکومتِ وقت سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے اور اس پر کریک ڈائون کی بات کر رہی ہے ‘ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے منفی استعمال کا شعار بھی ہماری آج کی حکمراں جماعت نے حزبِ اختلاف میں رہتے ہوئے رائج کیا اور اب اُسی کاہتھیار اس کے خلاف استعمال ہورہا ہے اور وہ اس سے بچائو کی تدبیر اختیار کرنے پر مجبور ہے‘ ماضی کی حکومت نے جب سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی تھی تو جنابِ عمران خان نے اس کی شدیدمخالفت کی تھی ‘لیکن : دیر آید درست آید‘ موجودہ حزبِ اختلاف یقینااس کی مخالفت کرے گی ۔ ہمارے سیاسی رہنماہرچیز کے حُسن وقبُح کے بارے میں وقتی مفاد کو ترجیح دیتے ہیں ۔ آج سوشل میڈیا موجودہ حکومت کے لیے دردِ سر بنا تو اس کے خلاف کریک ڈائون کرنے کی تدبیر کی جارہی ہے ‘ اس اقدام کانیک نیتی پر مبنی ہوناصرف اُس صورت میں سمجھا جائے گاکہ حکومت خود بھی اپنے ماضی کے رویے پراظہارِ ندامت کرے اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم کرے تو یہ اقدام قابلِ ستائش ہے ‘ لیکن اگر اپنے خلاف موادپر مواخذہ کرے اور دوسروں کی بدستور تضحیک کرے ‘تو اسی کو چنیدہ انصاف کہتے ہیں؛البتہ جو لوگ اسلام دشمن عناصر بالخصوص قادیانی‘ سیکولرز لبرلز کامہذب انداز میں ردّاور اسلام کا دفاع کرتے ہیں‘ توان پرپابندی کا کوئی جواز نہیں ہے ‘ ہمیشہ دائمی مفاد پیشِ نظر رہنا چاہیے ۔ سوشل میڈیا کے استعمال کی بابت ایک عالم نے کہا: ” فوائد ونقصانات دونوں کے حامل جدید آلات کوان کے مثبت اور منفی دونوں پہلوئوں کا موازنہ کیے بغیراستعمال نہ کریں ‘ انسان جلد باز ہے‘ وہ مثبت پہلوئوں سے جلد متاثر ہوتا ہے اور منفی گوشوں سے غفلت برتتا ہے۔ ذرائع ابلاغ واشتہارات کے ذریعے جب کسی نئی چیز کا فائدہ اس کے علم میں آتا ہے‘ تو وہ فوراً اس کی طرف لپکتا ہے اور اس کے منفی پہلوئوں اور نقصانات پر غور نہیں کرتا؛ چنانچہ وہ نتائج سے بے خبر رہ کربتدریج ان کے نقصانات کاشکار ہوجاتا ہے‘‘۔اسلام نے شراب کی قطعی حرمت کا حکم نازل ہونے سے پہلے شراب اور جوئے سے اجتناب کے بارے میں یہی اصول تعلیم فرمایا: ”(اے رسول !)وہ آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں‘ آپ کہیے: ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیںاور ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ‘‘ (البقرہ:219)۔اسی کو فقہ کی اصطلاح میں ”سدِّ ذرائع‘‘ کہتے ہیں ‘یعنی دفعِ شر کوحصولِ منفعت پر مقدم رکھنا۔ اس آفت میں بعض دین دار لوگ بھی مبتلا ہوگئے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ اپنی فہم میں شر کو خیر کے حصول کا ذریعہ بنارہے ہیں ‘ کیونکہ اُن کے نزدیک اپنے مخالف کا رَد یا اہانت خیر ہے ۔

سوشل میڈیا کے غیر دانشمندانہ استعمال کا نقصان شعارِدین کو بھی ہورہا ہے‘ بعض ایسے لوگ جو اہلیت نہیں رکھتے‘جہاد باللسان یا جہاد بالقلم سمجھ کر اپنے اپنے فتوے صادر کردیتے ہیں اور ردعمل میں لبرل طبقہ چاہتا ہے کہ صریح کفر کے سدِّباب کے لیے جہاں فتویٰ ضروری ہے ‘وہاں بھی پابندی لگا دی جائے‘ تاکہ کفروضلالت کے آگے کوئی شرعی رکاوٹ ہی نہ رہے اور دین بازیچۂ اطفال بن جائے۔ یہ لوگ کچھ حساس و اہم اسلامی قوانین کوبے اثر بنانے کیلئے شہادتِ مردودہ کوبہانہ بنا کرشعوری طور پراسی حربے کو استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں ۔ماضی میں ”اِنِ الْحُکمُ اِلَّا لِلّٰہ‘‘ (یعنی حکم اور فیصلہ تو اللہ ہی کا نافذہو گا)کا نعرہ لگا کر خوارج نے فتنہ برپا کیا‘ جو مختلف صورتوں میں آج بھی جاری ہے ‘ اسی حربے کی فتنہ سامانی پرحضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا: ”یہ کلمۂ حق ہے ‘جسے باطل مقصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ‘‘۔ الغرض باطل کو حق کے لیے یا حق کو باطل کے لیے حربے کے طور پر استعمال کرنا کسی طور پر بھی جائز نہیں ہے۔

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ

بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان

 

دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں

حدیث نمبر :340

روایت ہے حضرت ابوسعیدنے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ دوشخص پاخانہ کرنے نہ جائیں کہ شرمگاہیں کھولے باتیں کریں کیونکہ اﷲ تعالٰی اس پر ناراض ہوتاہے ۱؎ (احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)

شرح

۱؎ کیونکہ دوسرے کے سامنے ننگاہونا بھی منع ہے،اور پیشاب پاخانہ کرتے ہوئے باتیں کرنابھی جرم،اس وقت باتیں کرنے سے ملائکہ کو تکلیف ہوتی ہے،بلکہ اس وقت اﷲ کا بھی ذکر نہ کریں،اگر چھینک آئے تو زبان سے الحمدﷲ بھی نہ کہیں،اگر کوئی سلام کرے تو جواب بھی نہ دیں۔غرض کہ پیشاب پاخانہ اورصحبت کے وقت مطلقًا بات کرنا ممنوع ہے۔

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يُّطِعِ اللّٰهَ وَالرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِيۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰهُ عَلَيۡهِمۡ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيۡقِيۡنَ وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِيۡنَ‌ ۚ وَحَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِيۡقًا ۞

ترجمہ:

اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو اللہ اور رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے جو انبیاء صدیقین ‘ شہداء ‘ اور صالحین ہیں ‘ اور یہ کیا ہی عمدہ ساتھی ہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے فضل ہے اور اللہ کافی ہے جاننے والا۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زیارت کے لیے صحابہ کا اضطراب : 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ انصار میں سے ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں غمزدہ حالت میں حاضر ہوا آپ نے پوچھا کیا ہوا میں تم کو غمزدہ کیوں دیکھ رہا ہوں ‘ اس نے کہا : اے اللہ کے نبی میں اس چیز پر غور کر رہا ہوں کہ ہم ہر صبح وشام آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے ہیں ‘ کل جب آپ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ جنت کے بلند درجہ میں ہوں گے ‘ اور ہم آپ کے درجہ تک نہ پہنچ سکیں تو ہمارا کیا حال ہوگا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی اس کا کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر نازل ہوئے۔ اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے تو وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا۔ الآیہ (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠٤ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اہل جنت کا ایک دوسرے کے ساتھ ہونا ان کے درجوں میں مساوات کو مستلزم نہیں : 

اس آیت کا یہ معنی نہیں ہے کہ اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والے اور انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین سب جنت کے ایک درجہ میں ہوں گے ‘ کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ فاضل اور مفضول کا ایک درجہ ہوجائے بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ جنت میں رہنے والے سب ایک دوسرے کی زیارت کرنے پر قادر ہوں گے اور ان کے درجات کا فاصلہ ایک دوسرے کی زیارت اور مشاہدہ کیلیے حجاب نہیں ہوگا۔ 

اس آیت میں انبیاء ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین کا ذکر کیا گیا ہے ہم سطور ذیل میں انکی تعریفات ذکر کر رہے ہیں۔ 

نبی ‘ صدیق ‘ شہید اور صالح کی تعریفات : 

(١) نبی وہ انسان ہے جس پر وحی نازل ہو اور جس کو اللہ نے مخلوق تک اپنے احکام پہنچانے کے لیے بھیجا ہو۔ 

(٢) صدیق وہ شخص ہے جو اپنے قول اور اعتقاد میں صادق ہو۔ جیسے حضرت ابوبکر صدیق (رض) اور دیگر فاضل صحابہ ‘ اور انبیاء سابقین (علیہم السلام) کے اصحاب کیونکہ وہ صدق اور تصدیق میں دوسروں پر فائق اور غالب ہوتے ہیں ‘ یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو دین کے تمام احکام کی بغیر کسی شک اور شبہ کے تصدیق کرے وہ صدیق ہے۔ 

(٣) شہید وہ شخص ہے جو دلائل اور براہین کے ساتھ دین کی صداقت پر شہادت دے اور اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتا ہوا مارا جائے جو مسلمان ظلما قتل کیا جائے وہ بھی شہید ہے۔ 

(٤) صالح نیک مسلمان کو کہتے ہیں ‘ جس کی نیکیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں۔ 

اس آیت میں چونکہ صدیقین کا ذکر آیا ہے اس لیے ہم ابوبکر صدیق (رض) کے بعض فضائل ذکر رہے ہیں۔ 

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی بعض خصوصیات اور فضائل : 

(١) امام بخاری حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ‘ تم لوگوں نے کہا آپ جھوٹے ہیں (العیاذ باللہ) اور ابوبکر (رض) نے تصدیق کی اور اپنی جان اور اپنے مال سے میری غم خواری کی۔ (صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٦٦١) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ابوبکر (رض) نبی کریم (رض) کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے تھے جب اور لوگ آپ کی تکذیب کر رہے تھے۔ 

(٢) حضرت ابوبکر (رض) نے امت میں سب سے پہلے تبلیغ اسلام کی اور ان کی تبلیغ سے حضرت عثمان ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عبدالرحمن بن عوف ‘ حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت عثمان بن مظعون (رض) ایسے اکابر صحابہ اسلام لائے۔ 

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سفر ہجرت میں اپنی رفاقت کے لیے تمام صحابہ میں سے حضرت ابوبکر (رض) کو منتخب کیا۔

(٤) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) کو حج میں مسلمانوں کا امیر بنایا۔ 

(٥) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دو مرتب حضرت ابوبکر (رض) کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ 

(٦) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایام علالت میں حضرت ابوبکر (رض) کو امام بنایا اور حضرت ابوبکر (رض) نے سترہ نمازیں پڑھائیں۔ 

(٧) واقعہ معراج کی جب کافروں نے تکذیب کی تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کی سب سے پہلے تصدیق کی اور یہیں سے آپ کا لقب صدیق ہوا۔ 

(٨) غزوہ تبوک میں گھر کا سارا سامان اور مال لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ 

(٩) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعدد احادیث میں آپ کو صدیق فرمایا۔ 

(١٠) قرآن مجید میں نبوت کے بعد جس مرتبہ کا ذکر ہے وہ صدیقیت ہے اور متعدد آیات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ذکر کی طرف اشارہ ہے حضرت ابوبکر کے صدیق ہونے پر امت کا اجماع ہے اور چونکہ نبی کے بعد صدیق کا ذکر اور مقام ہے سو معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) خلیفہ ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 69

کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے

حدیث نمبر :338

روایت ہے عبداﷲ ابن سرجس سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ تم میں سے کوئی شخص سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ۲؎ (ابوداؤد،نسائی)

شرح

۱؎ آپ قبیلہ مزینہ یا قبیلہ بنی مخزوم سے ہیں،بصرہ کے رہنے والے ہیں،آپ کے والد کا نام یا سرجس ہے یا نرجس۔

۲؎ حجر سے مراد یا زمین کا سوراخ یا دیوار کی پھٹن،چونکہ اکثر سوراخوں میں زہریلے جانور،چیونٹیاں وغیرہ کمزور جانور یا جنات رہتے ہیں،چیونٹیاں پیشاب یاپانی سے تکلیف پائیں گی،یا سانپ وجن نکل کر ہمیں تکلیف دیں گے،اس لیے وہاں پیشاب کرنا منع فرمایا گیا۔چنانچہ سعدابن عبادہ انصاری کی وفات اسی سے ہوئی کہ آپ نے ایک سوراخ میں پیشاب کیا جن نے نکل کر آپ کو ہلاک کردیا۔لوگوں نے اس سوراخ سے یہ آوا زسنی "نَحْنُ قَتَلْنَا سَیِّدَ الْخَزْرَ جِ سَعْدَ بْنِ عُبَادَۃَ وَرَمَیْنَاہٗ بِسَھْمٍ فَلَمْ نُخْطِ مَوَادَ”۔(مرقاۃ واشعۃ اللمعات)

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوۡكَ فِيۡمَا شَجَرَ بَيۡنَهُمۡ ثُمَّ لَا يَجِدُوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيۡتَ وَيُسَلِّمُوۡا تَسۡلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : تو (اے رسول مکرم) آپ کے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ (ہر) باہمی جھگڑے ہیں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف اپنے دلوں میں تنگی بھی نہ پائیں اور اس کو خوشی سے مان لیں۔ (النساء : ٦٥) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ نہ ماننے والا مومن نہیں ہے : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ انصار کے ایک شخص نے حضرت زبیر (رض) سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے زمین کو سیراب کرنے والی پانی کی ایک نالی میں جھگڑا کیا وہ دونوں اس سے اپنے درختوں کو پانی دیتے تھے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا : اے زبیر تم اپنی زمین کو پانی دو ‘ پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ‘ وہ انصاری غضبناک ہوا اور اس نے کہا یہ آپ کے عم زاد ہیں اس لیے ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا ‘ پھر آپ نے فرمایا : اے زبیر تم پانی دو پھر پانی کو روک لو حتی کہ وہ دیواروں کی طرف لوٹ جائے ‘ حضرت زبیر نے کہا خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ یہ آیت اسی واقعہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (آیت) ” فل اور بک لایؤمنون حتی یحکموک فیما شجر بینہم “ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٣٦٠‘ ٢٣٥٩‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٣٥٧‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٣٦٣٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٣٠٣٨‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٥٤٣١‘ ٤٥٣١‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث : ١١١٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٤٨٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٦ ص ١٥٣) 

امام ابن جریر نے اس آیت کے شان نزول میں دو حدیثیں ذکر کی ہیں مذکور الصدر حضرت عبداللہ بن الزبیر کی روایت بھی ذکر کی ہے اور وہ روایت بھی ذکر کی ہے جس میں مذکور ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی کا جھگڑا ہوا ‘ منافق یہ فیصلہ کعب بن اشرف سے کرانا چاہتا تھا بعد ازاں جس کا حضرت عمر نے سر اڑا دیا تھا ‘ امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ یہ دونوں واقعے اس آیت کے نزول کا سبب ہوں (جامع البیان ج ٥ ص ‘ ١٠١ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو نہ ماننے والا مومن نہیں ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان ایک فیصلہ کو بہ ظاہر مان لیتا ہے ‘ لیکن دل سے قبول نہیں کرتا اس لیے فرمایا کہ وہ آپ کے کیے ہوئے فیصلہ کے خلاف دل میں بھی تنگی نہ پائیں ‘ بعض اوقات ایک عدالت سے فیصلہ کے بعد اس سے اوپر کی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ کرنے کا اختیار ہوتا ہے جیسے ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ کی جاسکتی ہے لیکن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کرنے کے بعد پھر کسی عدالت میں اس فیصلہ کے خلاف رٹ نہیں کی جاسکتی ‘ اس لیے بعد میں فرمایا اس فیصلہ کو خوشی سے مان لو ‘ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو فیصلہ کریں وہ خطا سے مامون اور محفوظ بلکہ معصوم ہوتا ہے یہ حکم قیامت تک کے لیے ہے اگر کوئی شخص کتنا ہی عبادت گزار ہو لیکن اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ اگر حضور ایسا نہ کرتے اور ایسا کرلیتے تو وہ مومن نہیں رہے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 65