بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب

*بیدم وارثی صاحب کے ایک شعر کے اعتراض کا جواب*

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

میں نے آج یوٹیوپ پر مفتی محمد صوفی کلیم حنفی رضوی صاحب کے تعلق سے ایک آڈیو سنی جس میں آپ فرما رہے تھے کہ یہ شعر پڑھنا درست نہیں ھے، اور اس کی علت بھی بتائی، جس سے راقم سو فیصد متفق ہے، مگر ناسجھ ان کے خلاف ہو گئے اور ان کو برا بھلا کہنے لگے صوفی کلیم صا حب نے حقیقت کو واضح کیا، اور سچائی بتائی کہ مقصود کائنات صرف اور صرف حضور علیہ السلام کی ذات ھے،

اور یہی ہمارا عقیدہ ھے،

میں بھی یہی کہوں گا مقصود کائنات صرف نبی کی ذات ھے، اس میں کوئی دو رائے نہیں ھے

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

مقصودِ کائنات پانچ نہیں بلکہ صرف ایک ھے اور وہ ہے ہمارے نبی سرور انبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم

ہمارا مسلک ہے کہ

*حضور ﷺ مبدیِٔ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ مخزنِ کائنات ہیں*

*حضور ﷺ منشاء کائنات ہیں*

*اور حضور ﷺ مقصودِ کائنات ہیں*

ایک حدیث میں آیا ہے ’’لو لاک لما خلقت الدنیا‘‘ یعنی اے پیارے حبیب تو نہ ہوتا تو میں دنیا کو نہ بناتا۔ ایک حدیث میں آیا لولاک لما خلقت الافلاک یعنی میرے نبی اگر تجھے پیدا کرنا مقصود نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا ۔ اور تفسیر حسینی میں ایک حدیث نقل کی گئی لولاک لما اظہرت الربوبیۃ پیارے اگرتو نہ ہوتا تو میں اپنے رب ہونے کو ظاہر نہ کرتا

صرف یہی نہیں بلکہ ایسے کئی اشعار ہیں جو ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ہیں، جیسا کہ ایک شعر ہم سب بچپن سے سنتے آرہے ہیں

دما دم مست قلندر

علی کا *’پہلا’* نمبر

اس شعر میں بتایا گیا کہ مولائے کائنات مولا علی کا پہلا نمبر ہے

اور یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف ھے حالانکہ مولائے کائنات کا پہلا نمبر نہیں بلکہ چوتھا نمبر ھے مگر ہم آج تک یہی کہ رہے تھے اور پڑھ رہے تھے علی کا پہلا نمبر…

یہ عقیدہ شیعوں رافضیوں کا ھے نہ کہ ہمارا.. پھر مصلح کی مخالف کرنا، ان کے خلاف نازیبہ الفاظ استعمال کرنا کہاں کی دانشمندی ھے؟

*بے بدم یہی ہے پانچ مقصود کائنات؟*

جب اس شعر کے تعلق سے تاج الشریعہ علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا تو آپ نے منع فرمایا اور کہا یہ ہمارے عقیدے کے بلکل خلاف ھے،

ہماری اسی ہٹ دھرمی نے اہل سنت کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ھے، کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں ھے،

*نعت کہنا مشکل کام ھے*

نعت کہنا ایک ایسی صنعت ھے جو انتہائی دشوار اور مشکل ھے اس میدان میں بڑے بڑے ہوشمند ٹھوکریں کھاتے دیکھے گئے ہیں، حضور اعلی حضرت فرماتے ہیں نعت شریف لکھنا بڑا مشکل کام ھے، جس کو لوگوں نے آسان سمجھ لیا ھے، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے، اگر بڑھتا ھے تو الوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص ہوتی ہے الخ.. ملفوظ

کسی کے کلام کی یا کسی بھی ایک شعر کی پزیرائی مل جانا، اور مشہور زمانہ ہو کر علماء کی زبانِ زد ہوجانا اس شعر کی سچائی کی سند نہیں مل جاتی ایسے کئی اشعار ہمارے ذہن و فکر میں گردش کر رہے ہیں جو ہر کوئی پڑھتا ھے مگر پرکھ ہر کوئی نہیں کر سکتا جیسے کہ حضرت محسن کاکوری کے اس شعر میں تنقیص کا پہلو ھے

مفت حاصل ھے مگر اس کی یہ تدبیر نہیں

کھوٹے داموں میں بکے’ یوسف کی تصویر نہیں

حضرت یوسف علیہ السلام کی توہین کی گئی

اسی طرح سے

الہی پھیل جائے روشنائی میرے نامے کی

برا معلوم ہو لفظ احد میں میم احمد کا

معاذ اللہ

*نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا*

حضرت امیر مینائی نعت رسول لکھتے ہوئے راستہ بھول کر الوہیت کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں

شعر ملاحظہ ہو

ظاہر ھے کہ ھے لفظ احمد بے میم

بے میم ہوئے عین خدا ، احمد مختار

ظاہر ہے کہ لفظ احد حقیقت میں بے میم ھے یا لفظ احمد سے میم علیحدہ کردیں تو احد رہ جاتا ہے اور اس سے امیر مینائی یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ احمد واحد ایک اور احمد مختار عین خدا ہیں نعوذ باللہ

مزید دیکھیں

قرآن ھے خورشید تو نجم اور صحیفے

اللہ *گہر* اور صدف احمد مختار

مصرعہ ثانی قابل گرفت و لائق اعتراض ہے

صدف سے گہر پیدا ہوتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم صدف ہوئے اور ذات باری تعالی گہر

استغفراللہ

غور کریں بات کہاں سے کہاں جا پہنچی ہے

مشہور نعت گو شاعر حضرت آسی غازی پوری کا یہ شعر بھی دیکھیں

وہی جو مستوی عرش تھا خدا ہوکر

اتر گیا ہے مدینے میں مصطفی ہو کر

ایسے بے شمار کلام ملیں گے، جو ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں، اور اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کے مترادف ہیں،

اس لیے اگر کسی کا مشہور زمانہ کلام ہو یا شعر ہو یا پھر وہ علماء کی زبان زد ہو اگر وہ ہمارے عقیدے کے خلاف ہے تو یہ مشہور ہونا، کتابوں میں بار بار شائع ہونا، علما کا اپنے بیانوں میں ایسے شعر کا پڑھنا ہمارے لیے حجّت نہیں ہوگا کیوں کہ یہ ہمارے عقیدے کے خلاف ھے

ویسے ہی جناب بیدم وارثی صاحب کا یہ شعر ہمارے عقیدے کے خلاف ہیں

*بے دم یہی تو پانچ ہیں مقصودِ کائنات*

*خیرالنساء،حسن و حسین مصطفیٰﷺ،علی*

پھر بھی اگر کسی کی اس تحریر سے تشنگی نہ بجھے تو دارالافتاء سے فتوی طلب کریں

ان شاء اللہ تشفی بخش جواب دیا جائےگا، مگر فتنہ کو بڑھاوا نہ دیں، علمی مسئلہ ہے مثبت انداز میں حل کریں،

اس پوسٹ کو خوب شیئر کریں، جزاک اللہ خیرا

خیر اندیش

عبدالامین برکاتی قادری

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

سیرتِ بی بی عائشہ خواتین کے لئے نمونۂ عمل

مولانا غلام مصطفی قادری باسنوی

محبوبۂ محبوب رب العلمین ام السادات ام المؤ منین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل و کمالات سے قرآنی آیات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبھا الصلوۃ والسلام بھری ہوئی ہیںان کی عظمت و کرامت کے کس کس پہلو پر خامہ فرسائی کی جائے ؎

کرشمہ دامن دل می کشدکہ جا اینجا است

جو خاتون ہی نہیں خواتین کی ماں ہیں ،عظمت و بلندی کی جس چوٹی پر آپ فائز ہیں دنیا میں کسی عورت کو وہ مقام نہیں مل سکاجو ایک طرف اما م الانبیا ء صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجۂ محترمہ ہیں تو دوسری جانب افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی لاڈلی شہزادی ہیں جن کی عصمت اور پاک دامنی کے بارے میں خالق کائنات جل وعلا نے پوری سورئہ نور ناز ل فرمائی اور بہتان باندھنے والوں کا حال بھی بیان کردیا گیا اور یہ عظیم اصول بھی بیان فرمادیا

’’الخبیثت للخبیثین والخبیثون للخبیثت‘‘۔

جس کے بارے میں اگر یہ کہاجائے کہ وہ ملکۂ سلطنت عفت وعصمت ہے تو بے جا نہ ہوگا اس مختصر سے مقالے میں ان کی کن کن خوبیوں کو بیان کیاجائے، زبان اور قلم جواب دے سکتے ہیں مگر اس محترم ہستی کے حالات وکرامات کا بیان کما حقہ نہیں ہو سکتا ۔ سنئے سفیر عشق مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام امام احمد رضاخاں قادری بریلوی رحمۃ اللہ علیہ والہانہ عقیدت کے ساتھ یوں نغمہ سرا ہیں ؎

بنت صدیق آرام جان نبی

اس حریم برأت پہ لاکھوں سلام

یعنی ہے سورئہ نور جس کی گواہ

ان کی پر نور صورت پہ لاکھوں سلام

جن میں روح القدس بے اجاز ت نہ جائیں

اس سرادق کی عصمت پہ لاکھوں سلام

شمع تابان کاشانۂ اجتہاد

مفتیٔ چہار ملت پہ لاکھوں سلام

سیدہ سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بعد تاجدار دوعالمﷺ نے اس عظیم المرتبت خاتون سے نکاح فرماکر اسے زوجیت کاشرف بخشا یہ بھی آپ کی خصوصیات میں سے ہے کہ رسول گرامی وقارﷺ نے جن گیارہ خواتین سے نکاح فرمایا ان میں آپ ہی کنوارتھیں بقیہ تمام بیویاں بوقت نکاح یا تو مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ تھیں ۔ دوسری امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہی وہ خوش بخت خاتون ہیں جن کا حضور سے نکا ح خود رب العزت نے منتخب فرمایا جب کہ دوسری عورتوں کارشتہ اور نکاح دنیوی اعتبار سے ان کے والدین یا رشتہ دار کرتے ہیںاور رحمت عالمﷺ کے ان سے نکاح کرنے کے دو بڑے سبب تھے ایک تو آپ کی ذہا نت و فطانت اور پاکبازی اور دوسرا آپ کے والد ماجد حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایثار ،یعنی اپنا گھر بار اور جان و دل سب نچھاور کرنا ۔ نیز رحمت عالم انے جن مقاصد حسنہ کے پیش نظر متعدد خواتین کو شرفِ زوجیت عطا فرمایا، بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے ساتھ نکا ح سے وہ مقاصد حاصل ہوگئے ……اس طرح تاجدار کائنات ا نے اپنے مخلص ترین صحابی سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کی جانثاری کاسب سے بڑا صلہ جو اس دنیا میں ممکن تھا عطا فرمایا ۔( ضیاء النبی)

آپ پیکر شرم و حیا بھی تھیں اورمجسمۂ عفت و عصمت بھی ، مزاج میں نفاست ،طبیعت میں لطافت ،سیرت و خصلت اور ذہانت و فطانت نیز علم و ہنر میں وہ کمال تھا کہ اس وقت سے لے کرتا ایں دم عورتوں میں کوئی آپ کی مثال نہ پیش کرسکا ۔ علم و فضل میں آپ کا مقام نہ صرف دوسری عورتوں میں بلکہ تمام ازواج مطہرات اور اکثر صحابۂ کرام میں بہت اونچا تھا، کئی حضرات صحابہ وہ ہیں جنہوں نے آپ کے بحر علم سے خوب خوب استفادہ کیا ۔

یہ دیکھو حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو خود بہت بڑے عالم و فاضل اور جلیل القدر صحابی ہونے کا شرف رکھتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی کسی حدیث پاک کو سمجھنے میں میں مشکل پیش آئی اور ہم نے اس کے متعلق حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا تو ان کے پاس اس حدیث کے متعلق علم پایا ۔

اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں ۔

’’میں نے کسی عورت کو طب ،فقہ اور شعرکے علوم میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے بڑھ کرنہیں پایا ‘‘۔ (ضیاء النبی)

حضرت امام زہری کے یہ پیارے الفاظ بھی آ پ کے علم وہنر میں مہارت تامہ ہونے کا ثبوت ہیں ۔فرماتے ہیں :

اگر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے علم کے مقابلے میںتمام امھات المومنین ،بلکہ تمام عورتوں کے علوم کو رکھا جائے تو حضرت صدیقہ کے علم کا پلہ بھاری ہوگا ۔ (فضائل اہلبیت ص؍۲۲۲)

حضرت امام قاسم رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحابہ کے بعد مدینہ منورہ کے سات مشہور اہل علم تابعین میں سے ہیں،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانۂ خلافت ہی میں مستقل طور پر افتاء کا منصب حاصل کرچکی تھیں حضرت عمر ،حضرت عثمان اور ان کے بعد آخر زندگی تک وہ برابر فتویٰ دیتی رہیں‘‘۔ (ابن سعد ۲؍۳۷۵بحوالہ فضائل اہلبیت)

حضرت عطاء بن ابورباح تابعی جن کومتعدد صحابہ سے تلمذ کا شرف حاصل ہے ،فرماتے ہیں:

’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سب سے زیادہ سمجھنے والی سب سے زیادہ علم والی اور لوگوں میں سب سے زیادہ اچھی رائے والی تھیں‘‘۔

بلا شبہ علم وفضل ،فہم وفراست میں آپ کے پا یہ کوکوئی خاتون نہیں پہنچ سکی ،کتاب اللہ اور سنت رسول اکے صحیح سمجھنے اور سمجھانے میں آپ کا جو ممتاز مقام تھاوہ کسی سے پوشیدہ نہیں اور کیوں نہ ہو جس کے شوہر باوقار معلم کائنات اور عالم ماکان ومایکون ہو ں ان کے کاشانۂ اقدس میں رہنے والی خوش قسمت بیوی اور خاتون اسلام کا پھر کیا پوچھنا ۔خود آقائے کائنات ا ارشاد فرماتے ہیں:’’خذوانصف دینکم عن ھذہ الحمیراء‘‘اپنے دین کانصف علم اس حمیرا یعنی بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا سے سیکھو‘‘۔

اس مقدس خاتون اسلام کے امت مصطفوی پر بھی کئی احسانات ہیں ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنھا کے توسط سے امت پر کئی رحیمانہ احکام وضوابط کا نزول ہوا ۔کیا یہ معلوم نہیں ہے ہمیں کہ کوئی مرد وعورت وضو اور غسل کے لئے پانی پر قدرت نہ رکھے تو شریعت اسلامی کی طرف سے اسے تیمم کرکے پاکی حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے ۔یہ تیمم کی اجازت اسی پاکیزہ بی بی کی وساطت سے عطا ہوئی ہے ۔

(ضیاء النبی)

اب آیئے آپ کی ان خصوصیات کا بھی تذکرہ ملاحظہ کریں جو دیگر ازواج مطہرات میں سے صرف آپ کو عطا ہوئی ہیں ۔ سیدہ صدیقہ خود فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے دس ایسی خوبیوں سے مالامال فرمایا ہے جو صرف میرے حصے میں آئیں ۔

(۱) حضورﷺ نے میرے سوا کسی کنواری عورت سے شادی نہیں کی

(۲) میرے سوا ازواج مطہرات میں سے کوئی بھی ایسی نہیں جس کے ماں باپ دونوں مہاجر ہوں ۔

(۳) اللہ تعالیٰ نے میری پاک دامنی کابیان آسمان سے قرآن میں اتارا

(۴) نکاح سے قبل حضرت جبرئیل علیہ السلام نے ایک ریشمی کپڑے میں میری صورت لاکر حضور اقدس ﷺ کو دکھلادی تھی اور آپ تین رات مجھے خواب میں دیکھتے رہے ۔

(۵) میں اور حضورﷺ ایک ہی برتن میں سے پانی لے کر غسل کیاکرتے تھے یہ شرف میرے سواازواج مطہرات میں کسی کوبھی نصیب نہیں ہوا۔

( ۶) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نمازپڑھتے تھے اور میں آپ کے آگے سوئی ہوئی رہتی تھی امہات المومنین میں سے کوئی بھی حضور اکرم اکی اس کریمانہ محبت سے سرفرازنہیں ہوئی ۔

(۷) میں حضور اقدسﷺکے ساتھ ایک لحاف میں سوتی رہتی تھی اور آپ پر خداکی وحی نازل ہواکرتی تھی یہ اعزاز خداوندی ہے جو میرے سوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجۂ محترمہ کو حاصل نہیں ہوا۔

(۸) وفات اقدس کے وقت میں حضورﷺ کو اپنی گود میں لئے ہوئی تھی اور آپ کاسر انور میرے سینے اور حلق کے درمیان تھا اور اسی حالت میں آپ ا کا وصا ل ہوا۔

(۹) حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے میری باری کے دن وصال فرمایا

(۱۰) آقائے کا ئنات علیہ التحیۃوالثناء کی قبر انور خاص میرے گھر (حجرۂ عائشہ ) میں بنی ۔ (سیرۃالمصطفیٰ ا)

عبادت و ریاضت :

کاشانۂ نبوت میں اپنی زندگی کے ایام گزارنے والی خاتون کی عبادت کے انداز بھی نرالے ہی ہوں گے اور جو پیغمبر اسلامﷺ کی زوجۂ محترمہ ہو پھر جس کے توسط سے کچھ شرعی احکام کی امت کواجازت ملی ہوخوداس کی عبادت وریاضت کاکیا پوچھنا ، آپ بکثرت فرائض کے علاوہ نوافل پڑھتیں اور اکثر روزہ دار رہتیں ، ہر سال حج کرتیں ،بہت زیادہ سخی اور فیاض تھیں ۔ آپ کے بھتیجے حضرت امام قاسم بن محمد بن ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ بی بی عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنھا روزانہ بلاناغہ تہجدکی نمازپڑھنے کی پابندتھیں اور اکثر روزہ دار بھی رہاکرتیں ۔

خوف خداوندی اور خشیت ربانی کایہ عالم کہ ایک بار دوزخ یادآگئی تورونا شروع کردیا ۔سرکار مدینہﷺنے رونے کا سبب دریافت فرمایا تو عرض کیاکہ مجھے دوزخ کاخیال آگیا اس لئے رورہی ہوں ۔

اور سخاوت و فیاضی کایہ حال تھا کہ حضرت عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ’’ لقد رأیت عائشۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تقسم سبعین الفا و انھا لترقع جیب درعھا ‘‘

بے شک میں نے دیکھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ستر ہزار کی رقم راہ خدائے پاک میں تقسیم کردی حالانکہ وہ خود اپنی قمیص کی جیب میں پیوند لگاتی تھیں ۔ (حلیۃ الاولیاء)

رسول کونینﷺ کی نگاہ میں بھی آپ کا مقام و رتبہ بڑا تھا اور تاجدا کونینﷺ انہیں بہت زیادہ چاہتے تھے آپ کا لقب ہی محبوبۂ محبوب رب العالمین ہے ۔تاجدار کونینﷺکو جو آپ سے محبت تھی وہ ناقابل بیان ہے۔

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب غزوۂ سلاسل سے واپس آئے تو انہوں نے حضور اقدسﷺ سے پوچھا ،یارسول اللہ ا ! ’’ای الناس احب الیک قال عائشۃ فقلت من الرجال قال ابوھا ‘‘آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے ؟ فرمایا عائشہ، انہوں نے عرض کی مردوں میں ؟ فرمایا ان کے والد(سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ )۔ ( بخاری شریف ج۱؍ ۵۱۷)

ّّ اللہ کامحبوب بنے جوتمہیں چاہے

اس کا تو بیان ہی نہیں جس کو تم چاہو

رسول کونینﷺ نے جو بھی تعلیمات امت کو عطا فرمائیں پہلے خود ان پر عمل کیا۔ آپ یقینا بے مثال شوہر تھے حقوق زوجیت کی جو آپ نے مثال پیش فرمائی وہ آج بھی سب کو متاثر کرتی ہے ۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک فارسی حضورﷺ کا پڑوسی تھا اس نے آپﷺ کی دعوت کی، فقال ھذہ لعائشۃ تو آپنے فرمایا ساتھ عائشہ کی بھی ؟فقال لا ۔فقال رسول اللہ الا؟اس نے کہا نہیں تو حضور انے فرمایا :پھر میں بھی قبول نہیں کرتا ۔وہ چلا گیا پھر دوبارہ آیا تو یہی سوال وجواب ہوا ۔تیسری مرتبہ پھر آیا تو آپ نے پھر یہی فرمایا کہ ساتھ عائشہ بھی ہوگی؟اس نے کہا ،جی ہاں ، پھر آپ اور سیدہ عائشہ اس کے گھر گئے ۔ (مسلم شریف جلد اول )

شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ آپ کے تنہا دعوت نہ قبول کرنے کی وجہ یہ تھی کی اس روز گھر میں فاقہ تھا ،آپ کے انس ومحبت اور لطف وکرم سے بعید تھا کہ گھر میں بیوی کو بھوکا چھوڑ کر اکیلے کھانا کھالیں۔ (فضائل اہل بیت ص؍۲۱۲)

جس جگہ سے حضرت عائشہ گوشت کھاتیں اسی جگہ سے سرکار بھی گوشت تناول فرماتے ،جس برتن سے حضرت عائشہ پانی پیتیں اسی برتن سے ان کے منھ لگنے کی جگہ سے آپ بھی پانی نوش فرماتے، حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ رسولِ اکرم نور مجسم انے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ عائشہ! جبرئیل تجھے سلام کہتا ہے میں نے کہا وعلیہ السلام ورحمۃ اللہ برکاتہ،

اور فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ حضور اقدسﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ جب کبھی تم مجھ سے راضی ہوتی ہو تو میں جان لیتا ہوں اور جب تم مجھ سے ناراض ہوتی ہو تو بھی جان لیتا ہوں ،حضرت عائشہ نے عرض کیا، وہ کس طرح ؟فرمایا :تم جب راضی اور خوش ہوتی ہو تو قسم کھاتے وقت یوں کہتی ہو’’ لاورب محمد‘‘مجھے محمد کے رب کی قسم !اور جب کبھی ناراض ہوتی ہو تو یوں قسم کھاتی ہو ۔لاورب ابراھیم مجھے ابراھیم کے رب کی قسم ،حضرت عائشہ نے عرض کیا بے شک یا رسول اللہ ا !بات ایسے ہی ہے لیکن میں صرف آپ کا نام چھوڑتی ہوں،آپ کی محبت تو میرے دل میں بدستور رہتی ہے ۔ ؎

اللہ اللہ عائشہ کا اتنا اونچا ہے مقام

حشر تک انہی کے گھر ہے محمد کاقیام

حضرت اُم المومنین کے یہ چند فضائل و کمالات پڑھکر ہماری ماں بہنوں کو ان کی سیرت و کردار کو اپنے لئے نمونۂ عمل بنانا چاہیئے ورنہ ہمارا دعوئے محبت بیکار اور جھوٹا ہوگا۔کیا محبوب سے محبت کرنے والے محبوب کی سنتوں اور طریقوں سے منھ موڑ تے ہیں ۔ نہیں ہر گز نہیں، بلکہ وہ تو اپنے محبوب کی ایک ایک ادا پر جاں فدا کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

آپ کی حیات مبارکہ کو پڑھنے کے بعد ہماری ماں بہنیں اگر آپ کی سیرت کو اپنی زندگی میں بھی اپنائیں تو یقینا کامیابی اور کامرانی ان کے قدم چومے گی ۔مذکورہ بالا واقعات اورحالات سے ہمیں یہ درس ملتاہے۔

(۱) پہلی چیزجوہمیں سیدہ صدیقہ کی زندگی میں ملتی ہے وہ ہے خدا کا خوف و خشیت اور محبت خدا وعشق والفت مصطفوی ا میں شیفتگی ،کہ وہ ہر کام خدا ورسول جل وعلا اکی رضا و خوشنودی ہی کے لئے کرتی تھیں۔

(۲) حقوق شوہر کی ادائیگی جس اچھوتے انداز میں فرمائی وہ ہماری ماں بہنوں کے لئے مکمل نمونہ ہے اگر موجودہ دور میں زندگی بسر کرنے والی عورتیں اسے مشعل راہ بنالیں تو ضرور معاشر ہ میں نکھار پیدا ہوجائے ۔ کیا قسم کھانے والاواقعہ میں اس دور کی خواتین کے لئے درس نہیں ہے کہ میاں بیوی کے درمیان کبھی نااتفاقی ہوجائے تو اسے نرمی سے حل کریں اور پیار ومحبت کے جملوں سے ایک دوسرے کادل خوش کردیں۔کیا ایک برتن سے پانی پینا ہماری ماں بہنوں کے لئے شوہر کو راضی کرنے کا ذریعہ نہیں ہے؟

(۳) کیا بی بی عائشہ کے علم وفضل میں کمال اور صحابۂ کرام علیھم الرضوان کا دینی مسائل میں آپ سے رجوع کرنا ہماری ماں بہنوں کے لئے درس نہیں ہے کہ مردوں کی طرح عورتوں کو بھی دینی تعلیم حاصل کرکے زندگی کو عمدہ بنانی چاہیئے تاکہ وہ خود نیک اور صالح کردار اپنا کر اپنی نسل کوبھی صحیح راستے پر چلائیں ۔

(۴) کیا آپ کاباریک دو پٹے کو پھاڑ دینا خواتین اسلام کو پردے اور عصمت وعفت کا خاص خیال رکھنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے ۔آپ کی زندگی کا ہر پہلو اسلام کی شہزادیوں کے لئے مکمل نمونۂ عمل اور مشعل راہ ہے ۔

متفرقات

جنابِ اطہر ہاشمی کا شکریہ:

حیدر علی آتش کا شعر ہے:

لگے منہ بھی چڑھانے، دیتے دیتے گالیاں صاحب 

زباں بگڑی تو بگڑی تھی، خبر لیجے دہن بگڑا 

اس شعر سے استفادہ کرتے ہوئے جنابِ اطہر ہاشمی نے ایک جریدے میں اپنے کالم کا عنوان باندھا ہے:”خبر لیجے زباں بگڑی‘‘، اس میں وہ زبان وبیان کی اصلاح کا فریضہ انجام دیتے ہیں ۔دورِ حاضر میں اردو زبان کے تحفظ کے لیے یہ وقت کی ضرورت ہے ،کاش کہ ہماری جامعات میں شعبۂ اردو کے اساتذہ وطلبہ اور صحافت سے وابستہ لوگ اس سے استفادہ کریں ۔ ”خبر لیجیے زباں بگڑی‘‘ میرا پسندیدہ کالم ہے اور جب بھی دستیاب ہوتا ہے، تو سب سے پہلے یہی کالم پڑھتا ہوں ،کیونکہ ہم طالبِ علم ہیں اور صاحبانِ علم سے جو بھی علمی توشہ ملے اُسے غنیمت سمجھتے ہیں اور اُن کے لیے دعا کرتے ہیں ، زبان وبیان کی اصلاح میرا بھی پسندیدہ موضوع ہے ،لیکن میں اس شعبے کا مبتدی ہوں ،مُتَخَصِّص نہیں ہوں، جبکہ جنابِ اطہر ہاشمی ماشاء اللہ! مُتَخَصِّص ہیں ، انہوں نے مجھے بھی قابلِ اصلاح سمجھا ،اُن کا بارِ دگر شکریہ ،وہ لکھتے ہیں: 

”لیکن 2جولائی کو حضرتِ مفتی منیب الرحمن کا مضمون اردوان کی کامیابی پر شائع ہوا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں: ”ترکی میں تبدیلی کے آثار دیدہ کور کے علاوہ سب کو نظر آتے ہیں‘‘۔ حضرتِ علامہ کو اردو کیا، عربی، فارسی پر بھی کامل عبور ہے، انہیں یہ فرق ضرور ملحوظ رکھنا چاہیے تھا۔ ان کے مذکورہ جملے کا مطلب ہے کہ دیدہ کور سمیت سب کو نظر آرہا ہے۔ اگر نظر آرہا ہے تو دیدہ کور یعنی اندھا کیسے ہوا؟ شاعر تو کہتا ہے کہ دیدہ کور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے۔ یہاں علاوہ کی جگہ سوا ہونا چاہیے تھا۔لیکن بڑے بڑے علماء کے سامنے ہماری کیا بساط،ایک مفتی تو سند ہوتا ہے‘‘۔

جنابِ اطہر ہاشمی کا تبصرہ درست ہے ،مجھے یوں لکھنا چاہیے تھا: ”ترکی میں تبدیلی کے آثار دیدۂ کور کے سوا سب کو نظر آتے ہیں‘‘۔بعض الفاظ شروع سے زبان پہ چڑھے ہوتے ہیں ،اس لیے معنی سے صرفِ نظر ہوجاتا ہے ،آئندہ اس کا خیال رکھیں گے۔ انہوں نے ایک اور شمارے میں مزید لکھا:”مفتی منیب الرحمن بلاشبہ بہت بڑے عالم ہیں اور اردو ہی کیا عربی، فارسی پر بھی کامل عبور ہے۔ ایک بڑے مدرسے کے پرنسپل ہونے کے ناتے پروفیسر بھی کہلاتے ہیں۔ ان کی تفہیم المسائل کے عنوان سے کئی جلدوں میں بڑی معرکہ آرا (معرکۃ الآرا نہیں)تصنیف ہے۔ ہم نے اس سے بہت استفادہ کیا ہے۔ تفہیم المسائل (جلد نمبر9) میں انہوں نے کئی جگہ” علائو الدین‘‘ لکھا ہے۔ اسے کمپوزنگ یا کتابت کی غلطی نہیں کہا جاسکتا۔ ویسے بھی ایسی علمی اور دینی کتابوں کی پروف ریڈنگ بہت احتیاط سے کی جاتی ہے۔ محترم مفتی منیب الرحمن رویتِ ہلال کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، ان کے فتوے پر ہم رمضان کا آغاز کرتے اور عید مناتے ہیں۔ اب اگر وہ علاء الدین کو علائو الدین لکھیں تو اسے فتویٰ سمجھ لینا چاہیے اور جن لوگوں پر ہم نے اعتراض کیا اُن سے معذرت کرلینی چاہیے۔لیکن ایک معاملہ اور ہے جس میں معذرت کی گنجائش نہیں۔6ستمبر کو حضرت مفتی صاحب کا ایک مضمون جدید فلاحی ریاست کے موسّس کے عنوان سے شائع ہوا ہے، اس میں وہ لکھتے ہیں:”ارشادِ رسولﷺ ہے:اے اللہ ازراہِ کرم ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے کسی ایک کے ذریعے اسلام کو غلبہ، قوت اور طاقت عطا فرما‘‘۔ ان جملوں کو ارشادِ رسولﷺ کہا گیا ہے جو نہ صرف غلط ہے ،بلکہ رسول اکرم ﷺ نے اپنے سے کوئی غلط بات یا جملہ منسوب کرنے پر سرزنش فرمائی ہے۔ مفتی منیب سے زیادہ اور کون اس بات سے واقف ہوگا۔ انہوں نے عمر بن ہشام کا نام ہی بدل دیا۔ ابوجہل اس کا نام نہیں تھا، بلکہ اس کی جہالت کی وجہ سے اسے یہ لقب ملا تھا۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا تھا :عمر بن ہشام یا عمر بن خطاب میں سے، یعنی دو عمر میں سے کسی ایک کو اسلام کے لیے باعثِ قوت بنا اور اللہ کریم نے عمر ؓبن خطاب کو یہ اعزاز عطا فرمایا۔ اسی لیے سیدنا عمرؓ کو دعائے رسولؐ بھی کہا جاتا ہے۔یاد رہے کہ ابوجہل یعنی جہل والا ان معنوں میں جاہل نہیں تھا جو عام ہیں، یعنی ناخواندہ۔ وہ قریش کے چند خواندہ لوگوں میں سے تھا اور ابوالحِکَم کہلاتا تھا۔ جَہالت (ج بالفتح)کا مطلب ناواقفیت، بے وقوفی، اجڈ پن بھی ہے۔ لغات کے مطابق جہل اور جاہل اس کو بھی کہتے ہیں جو جانتے ہوئے بھی سچ کا اقرار نہ کرے اور اپنی ضد پر اڑا رہے۔ ابوجہل کو خوب معلوم تھا کہ حق کیا ہے، لیکن اس کے تکبر نے اسے عمر بن ہشام سے ابوجہل بنادیا، اللہ تعالیٰ نے عمرؓبن خطاب کو فضیلت عطا کرنی تھی، سو وہ ایمان لے آئے‘‘۔

میرے لیے باعثِ حیرت ہے کہ کالم میں سنن ترمذی کی حدیث کا باقاعدہ حوالہ موجود ہے ،تو جنابِ ہاشمی نے کیسے کہہ دیا : ”(کہ یہ ایسی غلطی ہے )جس پر معذرت کی گنجائش نہیں ہے ‘‘، حضورِ والا! یہ غلطی نہیں ہے ، یہ سو فیصد درست ہے اور حدیثِ مبارک میں یہ کلمات موجود ہیں ،آپ نے اصل ماخذ کی طرف رجوع کیے بغیر اپنے حافظے پر اعتماد کرتے ہوئے اسے غلط کہہ دیا اور اس پر ایک طرح سے وعید کا حوالہ بھی دے دیا ،نہایت ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ آپ اس تبصرے سے رجوع فرمائیں۔ 

جنابِ اطہر ہاشمی کی خدمت میں گزارش ہے :” فقیر گوگیا پاشا قسم کا پروفیسر نہیں ہے ،بلکہ تدریس سے باقاعدہ وابستہ رہا ہے اور ”پروفیسر آف اسلامک سٹڈیز ‘‘کی حیثیت سے ریٹائر ہوا ہے، اگرچہ میں اپنے ادارے کا سربراہ بھی ہوں اور 1973ء سے دینی علوم کی تدریس سے بھی وابستہ ہوں اور گزشتہ تیس سال سے اِفتاء کا کام بھی کر رہا ہوںاورمیری کتب عام کالجوں اور ایل ایل بی میں شاملِ نصاب رہی ہیں ‘‘۔مجھے بہت بڑا عالم ہونے کا زعم کبھی نہیں رہا ، البتہ دین کا طالب علم ضرور ہوں اورنبی کریم ﷺ کی جانب اپنی وضع کی ہوئی حدیثیں منسوب کرنے کی بابت آپ ﷺ کی وعیدات ہمیشہ پیشِ نظر رہتی ہیں ،اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ آیاتِ کریمہ و احادیثِ مبارکہ باحوالہ لکھوں، بعض اوقات کالم کی گنجائش مانع ہوجاتی ہے،وہ احادیثِ مبارکہ یہ ہیں :

(1)” نبی ﷺ نے فرمایا: مجھ پر جھوٹ بولنا کسی عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے ،جو مجھ پر دانستہ جھوٹ بولے گا،تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، (بخاری:1291)‘‘، (2)نبی ﷺ نے فرمایا:” میری طرف منسوب کر کے حدیث بیان کرنے سے بچے رہو ، سوائے ایسی احادیث کے کہ جن کا تمہیں علم ہو، سو جو کوئی میری طرف دانستہ جھوٹی بات منسوب کرے گاتووہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے اور جو قرآن میں اپنی رائے پر کوئی بات کرے ، تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، (سنن ترمذی:2951)‘‘۔

لیکن جو حدیث میں نے ”جدید فلاحی ریاست کے موسّس‘‘کے عنوان سے اپنے کالم میں لکھی ہے ،اس پر جنابِ اطہر ہاشمی کی گرفت درست نہیں ہے ، وہ حدیث کتبِ احادیث میں موجود ہے، حوالہ جات درج ذیل ہیں:(1)عبداللہ بن عباس بیان کرتے ہیں:نبی ﷺ نے (اللہ تعالیٰ کے حضور)دعا کی: اے اللہ! تو ابوجہل بن ہشام یا عمر بن خطاب (میں سے کسی ایک)کے ذریعے اسلام کو غلبہ عطا فرما، راوی بیان کرتے ہیں: (اگلے دن) جب صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ ﷺکی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور اسلام قبول کیا،(سنن ترمذی:3683،فضائل الصحابہ لاحمد بن حنبل:311،الشریعہ للآجری:1345 )‘‘۔

(2)حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبیﷺ بیت اللہ کے پاس نماز پڑھ رہے تھے،ابوجہل اور اس کے ساتھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے، اس وقت انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم میں سے کون ایسا کرسکتا ہے کہ (قبیلے کا نام لے کرکہا:)بنو فلاں کے ہاں جو اونٹنی ذبح ہوئی ہے ،اس کے بچہ دان کو لے کر آئے اور جب (سیدنا) محمد(ﷺ) سجدہ کریں تو وہ ان کی پشت پر رکھ دے، تو قوم کا سب سے بدبخت شخص اٹھا، وہ اس بچہ دان کو لے کر آیا، پھر وہ انتظار کرتا رہا، حتیٰ کہ جب نبیﷺ سجدے میں گئے تو اس نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت کے اوپر آپ کے کندھوں کے درمیان رکھ دیا ،(حضرت عبداللہ بن مسعود )بیان کرتے ہیں:میں (بے بسی کے عالم میں )یہ منظر دیکھ رہا تھا ،لیکن آپ کے کسی کام نہیں آسکتا تھا ، کاش!(کہ اس وقت) میرے کوئی مدد گار ہوتے، انہوں نے کہا: مشرکین ہنسی سے لوٹ پوٹ ہونے کے سبب ایک دوسرے پر گرے جارہے تھے اور رسول اللہ ﷺ سجدے میں تھے اور اپنا سر نہیں اٹھارہے تھے حتیٰ کہ حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیںاور انہوں نے اس بچہ دان کو آپ کی پشت سے اٹھاکر پھینک دیا ،پھر آپﷺنے اپنا سرِ اقدس اٹھایااور بارگاہِ الٰہی میں تین مرتبہ التجا کی : ”اے اللہ! قریش کی گرفت فرما‘‘، قریش پر آپ کی دعائے ضرر ناگوار گزری ، راوی کا بیان ہے:”وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں دعا قبول ہوتی ہے‘‘ ،پھر آپ ﷺنے نام لے کر ان کے خلاف دعا کی :” اے اللہ! ابوجہل کی گرفت فرما، عُتبہ بن ربیعہ ، شَیبہ بن ربیعہ، ولید بن عُتبہ، اُمیَّہ بن خَلَف اور عُقبہ بن ابی مُعَیط کی گرفت فرما اور آپ ﷺنے ساتویں شخص کا نام بھی لیاجو راوی کو یاد نہ رہا، عبداللہ بن مسعود بیان کرتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے، رسول اللہ ﷺ نے (دعائے ضرر کے وقت )جن اشخاص کا نام لیا تھا،میں نے ان سب کو بدر کے کنویں میں اوندھے منہ پڑے ہوئے دیکھا، (صحیح البخاری:240)‘‘۔(جاری ہے)

از مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان قبلہ بشکریہ روزنامہ دنیا پاکستان