کیا فون کالز ، میسجز ، إیمیلز کے ذریعے طلاق ہوجاتی ہے؟

سؤال: کیا فون کالز ، میسجز ، إیمیلز کے ذریعے طلاق ہوجاتی ہے؟

جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):

الحمد لله رب العالمين والصلاه والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين،

وبعد:

اللہ رب العزت نے أمت مسلمہ پہ فقہاء کرام و محدثین عظام کے ذریعے إحسان عظیم فرمایا ہے کہ جنہوں نے إنسان کی زندگی کے متعلق تمام أحکام کو قرآن و أحادیث سے مستنبط و مستخرج فرماکر کتب مرتب کردیں ،

لہذا فون کالز ، إیمیلز یا میسجز کے ذریعے جو طلاق کا مسئلہ ہے إسکو ہم فقہاء کرام – رحمھم اللہ جمیعا – کے بیان کردہ مسئلہ طلاق بالکتابۃ أور رسالۃ پر تخریج کرسکتے ہیں ،

مذاہب أربعۃ کے معتمد قول کے مطابق لکھ کر دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے اختلاف صرف إس میں ہے کہ لکھ کر دی جانے والی طلاق کنایات میں سے ہے یا صریح ألفاظ میں سے؟

ہم درج ذیل میں فقہ حنفی کو بیان کرتے ہیں :

فون کالز، میسجز یا إیمیلز کے ذریعے طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ أس میں کسی قسم کا شک نہ ہو أور طلاق دینے والے سے تائید کی جائے کہ فون کالز پر وہی تھا یا کسی أور نے أسکی آواز نکال کر طلاق کا کہا ؟

پھر أگر وہ اقرار کرلے کہ میں ہی تھا تو طلاق واقع ہو جائے گی لیکن أگر وہ کہے کہ نہیں کوئی أور تھا تو پھر أس سے پوچھا جائے گا کہ کیا أسکو طلاق دینے کے لیے آپ نے کہا یا نہیں؟

أگر وہ کہے کہ مینے نہیں کہا تو طلاق نہیں ہوگی أور اگر وہ کہے کہ: جی، مینے أسے طلاق دینے کا کہا تھا تو پھر طلاق واقع ہوجائے گی۔

علامہ کاسانی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"عدم الشک من الزوج فی الطلاق وھو شرط الحکم بوقوع الطلاق حتی لو شک فيه لا يحكم بوقوعه حتى لا يجب عليه أن يعتزل امرأته ؛ لأن النكاح كان ثابتا بيقين ووقع الشك في زواله بالطلاق فلا يحكم بزواله بالشك”

( بدائع الصنائع للکاسانی الحنفی ، فصل فی الرسالۃ فی الطلاق ، 3/126 )

مفہوم عبارت: أگر زوج کو شک ہوکہ أس نے طلاق دی ہے یا نہیں تو طلاق واقع نہیں ہوگی کیونکہ نکاح کا ثبوت یقینی ہے أور نکاح کے ختم ہونے کا ثبوت شک پر مبنی لہذا یقین شک سے ختم نہیں ہوتا تو طلاق بھی نہیں ہوگی .

إس عبارت کا واضح مفہوم ہے کہ شک ہو تو طلاق نہیں ہوگی أور أگر خاوند انکار کرے تو من باب أولی نہیں ہوگی.

یہ فون کالز کے ذریعے طلاق والا مسئلہ طلاق بالرسالۃ پہ تخریج ہوگا.

رہی بات میسجز یا إیمیلز کے ذریعے طلاق دینے کی بات تو اس میں بھی درج بالا سوالات پوچھیں جائیں گے جب تائید ہوجائے أورکسی قسم کا شک نہ رہے تو طلاق واقع ہوجائے گی بشرطیکہ أس نے میسج یا إیمیلز یوں کی ہو:

أے میری بیوی تجھے طلاق ہے یا جب تو یہ مسج یا إیمیلز پڑھے تو تجھے طلاق ہے یعنی أسکو أیڈریس کرے۔

لیکن أگر وہ میسج یا إیمیلز یوں لکھتا ہے کہ :

میری بیوی کو طلاق ہے تو اس صورت میں یہ الفاظ کنائی ہونگے تو أس سے نیت پوچھی جائے کہ کیا آپکی نیت طلاق کی ہے یا نہیں؟ اگر کہے نہیں تو طلاق نہیں ہوگی أور أگر کہے کہ جی نیت تھی تو طلاق ہوجائے گی۔

( بدائع الصنائع ، 3/109 )

أگر اسکا شوہر کہے کہ مینے فلاں شخص کو طلاق دینے کا نہیں کہا تھا بذریعہ میسج یا فون کالز یا إیمیلز لیکن دوسرا شخص کہے کہ نہیں تونے ہی مجھے کہا تھا تو اس صورت میں اعتبار شوہر کا ہوگا لہذا طلاق نہیں ہوگی ، جیسے کہ علامہ ابن عابدین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

"كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه "

( حاشیۃ ابن عابدین الحنفی ، مطلب فی الطلاق بالکتابۃ ، 3/246 )

ترجمہ: ہر وہ کتاب جسکو نہ أس نے أپنے ہاتھ سے لکھا ہو أور نہ ہی وہ خود أس کے لیے راضی ہو تو طلاق نہیں ہوگی جب تک وہ اقرار نہ کرلے کہ یہ أسکی کتاب ہے ( یعنی أس نے خود لکھا ہے یا کال کی ہے یا میسج یا پھر ایمیل کی ہے یا کروایا ہے ).

تو لہذا اختلاف کے وقت بات شوہر کی مانی جائے گی ۔

تنبیہ:

ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ أن پڑھ لوگوں کو دھوکا دے کر طلاق والے پیپرز پہ انگوٹھا لگوا لیتے ہیں أور پھر جاکر کسی بھی مفتی سے فتوی لے کر طلاق دلوا دیتے ہیں تو یہ طلاق نہیں ہوگی أگر انگوٹھا لگانے والا انکار کردے کہ مجھے نہیں معلوم تھا کہ اس پہ کیا لکھا ہوا ہے؟

واللہ أعلم .

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا

ترجمہ:

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ (نیکی کرو) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : ٣٦) 

اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ شریک نہ کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دراز گوش پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان کو خوش خبری نہ دو ورنہ وہ اسی پر توکل کرکے بیٹھ جائیں گے (عمل نہیں کریں گے) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ سنن ترمذی : ٢٦٥٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٢١٠‘ مسند ابوعوانہ : ج ١ ص ١٧) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اللہ پر بندوں کے حق کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل اور کرم سے شرک نہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ عمل کی وجہ سے کسی بندہ کا اللہ پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یہ حدیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دے دی تو حضرت معاذ (رض) نے موت سے پہلے اس حدیث کو بیان فرمادیا تاکہ علم کو چھپانے پر جو وعید ہے اس میں داخل نہ ہوں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھ کو وصیت کیجئے آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے اور کسی وقت کی نماز ترک نہ کرو اور شراب نہ پیو کیونکہ وہ برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٤‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٩٥‘ مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦) 

ماں باپ کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کون لوگ میرے اچھے سلوک کے مستحق ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا پھر تمہاری ماں ‘ کہا پھر فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٤١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٦) 

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے شکر کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انسان کے حق میں سب سے بڑی نعمت اس کا وجود اور اس کی تربیتت اور پرورش ہے اور اس کے وجود کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں ‘ اسی طرح اس کی تربیت اور پرورش میں حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ نیز جس طرح اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس سے اس کا عوض نہیں چاہتا اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بلاعوض نعمتیں دے دیتے ہیں ‘ اور جس طرح اللہ بندہ کو نعمتیں دینے سے تھکتا اور اکتاتا نہیں والدین بھی اولاد کو نعمتیں دینے سے تھکتے اور اکتاتے نہیں ‘ اور جس طرح بندے گنہ گار ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا ‘ اسی طرح اگر اولاد نالائق ہو پھر بھی ماں باپ اس کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتے ‘ اور جس طرح اللہ اپنے بندوں کو دائمی ضرر اور عذاب سے بچانے کے لئے ہدایت فراہم کرتا ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو ضرر سے بچانے کے لئے نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ 

ماں باپ کے ساتھ اہم نیکیاں یہ ہیں کہ انسان ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے ‘ ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے ‘ ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرے ‘ ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرے ‘ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرے ‘ ان کے ساتھ عاجزی اور تواضع کے ساتھ رہے ‘ ان کی اطاعت کرے اور ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرے خواہ اس کے خیال میں وہ اس پر ظلم کر رہے ہوں ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے ‘ ماں کے بلانے پر نفل نماز توڑ دے البتہ فرض نماز کسی کے بلانے پر نہ توڑے اگر اس کا باپ یہ کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو طلاق دے دے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کیا پھر حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣، سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣‘ ٤٢‘ ٢٠) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ تم چاہو تو اس کو ضائع کردو اور تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو ‘ سفیان کی ایک روایت میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں باپ کا ذکر ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٦) 

حافظ عبدالعظیم بن عبد القوی لکھتے ہیں : 

سب سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا اور بیٹے کی باپ کے ساتھ نیکی یہی ہے کہ جس کو باپ ناپسند کرے اس کو بیٹا بھی ناپسند کرے اور جس سے اس کا باپ محبت کرتا ہو اس سے محبت کرے خواہ اس کو وہ ناپسند ہو ‘ یہ اس وقت واجب ہے جب اس کا باپ مسلمان ہو ‘ ورنہ مستحب ہے۔ (مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٣٥) 

نیز باپ کے ساتھ یہ بھی نیکی ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تحائف بھیجتے تھے ‘ جب بیویوں کی سہیلیوں کا یہ درجہ ہے تو باپ کے دوستوں کا مقام اس سے زیادہ بلند ہے ‘ نیز ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے لئے استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی ہے ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھا ماں باپ کے فوت ہونیکے بعد میں ان کے ساتھ کس طرح نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا انکی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو ‘ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرو ‘ انکے دوستوں کی عزت کرو اور جن کے ساتھ وہ صلہ رحم کرتے تھے انکے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٨ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

جو پڑوسی رشتہ دار ہو اس کا ایک حق اسلام ہے اور ایک رشتہ داری کا حق ہے اور ایک پڑوسی کا حق ہے ‘ اور جو پڑوسی اجنبی ہو اس کے ساتھ اسلام اور پڑوسی کا حق ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے دوبارہ پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے ہدیہ بھیجا یا نہیں ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل مجھ کو ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو میرا وارث کر دے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٩‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠١٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دوستوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ‘ اور جو شخص اپنے پڑوسیوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١١٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ ص ٢١٥) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ‘ میں ان میں سے کس کے ساتھ ابتداء کروں ‘ فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازہ کے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٥٠‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ‘ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو ‘ اگر وہ بدحال ہو تو اس پر ستر کرو ‘ اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دو ‘ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو ‘ اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر : ج ١٩ ص ٤١٩) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربا زیادہ کرے۔ پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٦١٥‘ کشف الاستار عن زوائد ‘ رقم الحدیث : ١٩٠١‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٣٦٨) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص پیٹ بھر کر رات گذارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥١‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١١٩) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ جس شخص کا گھر یا دکان تمہارے گھر یا دکان سے متصل ہو وہ تمہارا پڑوسی ہے ‘ بعض علماء نے چالیس گھروں تک اتصال کا اندازہ کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے غلاموں کے ساتھ نیکی کرو۔ 

غلاموں اور خادموں کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یہ) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ سو جو تم کھاتے ہو وہ ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ ان کو پہناؤ اور ان کے ذمہ ایسا کام نہ لگاؤ جو ان پر بھاری ہو اور اگر تم ان کے ذمہ ایسا کام لگاؤ تو تم ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٣٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم نبی التوبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے غلام کو تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر حد قائم کرے گا ‘ سوا اس کے کہ وہ بات صحیح ہو ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٥) 

حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے سنا کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ابو مسعود تحمل کرو ‘ ابو مسعود تحمل کرو ‘ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ‘ آپ نے فرمایا جتنا تم اس پر قادر ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اللہ کے لئے آزاد ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں ‘ آپ نے فرمایا ہر دن میں ستر بار۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٦) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے اور اس کو خدا یاد آجائے تو اس کو مارنا چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا وہ ایک تنکے سے زمین کرید رہے تھے انہوں نے کہا اس عمل میں ایک تنکے کے برابر بھی اجر نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا پیٹا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کردے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے غلام آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کو عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں اس کی فرج آزاد کردے گا۔ 

اسلام میں غلامی کو ختم کرنے کے لئے بہت سے طریقے مقرر کیے گئے قتل خطا کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ‘ قسم توڑنے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ظہار کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے ‘ عمدا روزہ توڑنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس غلام نہ ہوں تو وہ کفارہ قسم میں تین دن روزے رکھے گا ‘ اور باقی صورتوں میں دو ماہ کے روزے رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑنے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو ‘ اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشو) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو اور ان کو (تادیبا) مارو پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امان میں حاصل کیا ہے اور اللہ کی اجازت سے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کانشان نہ پڑے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢١٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن عمرو اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ والوداع میں تھے آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : سنو عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو وہ تمہارے پاس تمہاری قید میں ہیں تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو ‘ ہاں اگر وہ کھلی بےحیائی کریں تو ان کو ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کا اثر ظاہر نہ ہو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو سنو تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہاری عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ان کو تمہارے گھروں میں آنے نہ دیں ‘ اور سنو تمہاری عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو اچھا پہناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء :) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٥١) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زیاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مارا نہ کرو ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ بدخلقی اور بدزبانی کرتی ہیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مارنے کی اجازت دی پھر بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر جا کر اپنے خاوندوں کی شکایت کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بہت ساری عورتوں نے اپنے خاوندوں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے پھر دن گزرنے کے بعد اس سے جماع کرے۔ (صحیح البخاری :‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق فقہاء کا نظریہ : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (احناف) نے یہ تصریح کی ہے کہ چار صورتوں میں مرد عورت کو مار سکتا ہے۔

(١) جب خاوند چاہتا ہو کہ بیوی بناؤ سنگھار کرے اور بیوی میک اپ نہ کرے۔ 

(٢) خاوند بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے۔ 

(٣) جب وہ نماز نہ پڑھے ایک قول یہ ہے کہ جب وہ غسل نہ کرے۔ 

(٤) جب وہ بغیر عذر شرعی کے گھر سے باہر نکلے ‘ ایک قول ہے کہ جب وہ خاوند کو ناراض کرے ‘ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زبیر بن العوام کی چوتھی بیوی تھی جب وہ کسی بیوی سے ناراض ہوتے تو وہ اس کو کھونٹی کی لکڑی سے مارتے حتی کہ وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ‘ واضح رہے کہ بیوی کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا اس کو مارنے سے افضل ہے الا یہ کہ کوئی ناقابل برداشت معاملہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ٢٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشوہر) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ 

اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل : 

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ منصف حاکم ہیں اور ان منصفوں کو از خود یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب جانیں تو خاوند اور اس کی بیوی کو نکاح پر برقرار رکھیں یا ان میں سے کسی ایک کے ذمہ کسی چیز کی ادائیگی لازم کردیں یا مناسب جانیں تو ان کا نکاح فسخ کردیں ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک یہ منصف وکیل ہیں اور ان کو اختیار نہیں ہے الا یہ کہ زوجین ان کو فسخ نکاح کا اختیار بھی تفویض کردیں۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اور مرد کی طرف سے جو دو شخص مقرر کئے جائیں وہ ان کے وکیل ہوں گے اور بہ حیثیت وکیل کے ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کے حکم کے بغیر از خود ان کا نکاح فسخ کردیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١٩٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

یہ دونوں حاکم زوجین کے وکیل ہیں اور ان کے فیصلہ میں ان دونوں کی رضا کا اعتبار ہوگا یہ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ حاکموں کے فیصلہ کے لئے زوجین کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٧٨۔ ٧٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

جن دو شخصوں کو بھیجا جائے گا اس کے متعلق دو قول ہیں وہ وکیل ہیں اور ان کو از خود زوجین میں تفریق کا اختیار نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حاکم ہیں اور ان کا اختیار ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ یہ وکیل ہیں۔ (روضۃ الطالبین ج ٥ ص ٦٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح روایت یہ ہے کہ یہ دونوں شخص حاکم ہیں اور جب یہ دونوں شخص زوجین کے درمیان تفریق کردیں تو تفریق واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ نکاح سے مقصود الفت اور حسن معاشرت ہے اور وہ ان کے نزدیک نہیں پائی گئی (الی قولہ) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر خاوند کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر عورت کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ہم عورت کو مرد کا تابع کریں گے اور اگر دونوں کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو بھی ان میں تفریق کردی جائے گی اور مرد کو بعض مہر ادا کرنا ہوگا نہ کہ پورا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٤١۔ ٥٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جہاں دونوں حاکم زوجین کے درمیان تفریق کردیں گے تو یہ طلاق بائن کے قائم مقام ہے اور حاکموں کا منصب طلاق واقع کرنا ہے وکالت کرنا نہیں ہے ‘ امام مالک ‘ امام اوزاعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا “۔ ” ایک حاکم مرد کی طرف سے بھیجو اور ایک حاکم عورت کی طرف سے بھیجو “ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ یہ دونوں قاضی اور حاکم ہیں وکیل یا شاہد نہیں ہیں ‘ اور وکیل کی شریعت میں اور تعریف ہے اور حاکم کی شریعت میں اور تعریف ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی تعریف الگ الگ بیان کردی ہے تو کسی شخص یا عالم کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ وہ ایک لفظ کی تعریف کو دوسرے لفظ میں محمول کردے (اس کے بعد علامہ قرطبی نے اپنے موقف پر سنن دارقطنی سے حدیث پیش کی) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٧٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فقہاء مالکیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے ایک عورت اور اس کا خاوند آئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی ان لوگوں نے عورت کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا اور مرد کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے ان دونوں حاکموں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تم دونوں پر کیا فرض ہے ؟ اگر تمہاری رائے میں ان دونوں میں تفریق ہونی چاہیے تو تم ان میں تفریق کردو اور اگر تمہاری رائے میں ان کو اکٹھا ہونا چاہیے تو تم ان کو اکٹھا کردو خاوند نے کہا رہی فرقت تو میں اس کو اجازت نہیں دیتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بخدا تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک تم اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی نہ ہوجاؤ وہ تمہارے حق میں ہو یا تمہارے خلاف ‘ عورت نے کہا میں اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی ہوں خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١١٨٨٣‘ جامع البیان : ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦۔ ٣٠٥) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں حضرت علی (رض) نے خبر دی ہے کہ حاکموں کا فیصلہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوگا جب تک کہ دونوں فریق اس فیصلہ پر راضی نہ ہوجائیں ‘ اسی لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حاکموں کا تفریق کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ خاوند اس پر راضی نہ ہوجائے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اگر خاوند اس کا اقرار کرلے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور نہ قاضی جانبین سے حاکم بنانے سے پہلے اس کو طلاق پر مجبور کرے گا ‘ اسی طرح سے اگر عورت خاوند کی نافرمانی کا اقرار کرلے تو قاضی اس کو خلع پر مجبور کرے گا نہ مہر واپس کرنے پر ‘ اور جب جانبین سے حاکم مقرر کرنے سے پہلے یہ حکم ہے تو جانبین سے حاکم مقرر کرنے کے بعد بھی یہی حکم ہوگا اور خاوند کی مرضی کے بغیر ان حاکموں کا اس کی بیوی کو طلاق دینا صحیح نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام مالک کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ حضرت علی (رض) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بیوی اور خاوند کے جھگڑے میں حاکم بنانے کا معنی ہی یہ ہے کہ یہ اختیار ہے کہ فریقین کے بیان لینے کے بعد وہ اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے خواہ نکاح برقرار رکھے خواہ نکاح و فسخ کردے ‘ اور حاکم بنائے جانے کے بعد بھی ان کو یہ اختیار نہ ہو اور طلاق دینے کا اختیار خاوند کے پاس ہی رہے تو پھر ان کی حیثیت حاکم کی نہیں وکیل کی ہوگی ‘ حالانکہ قرآن مجید نے ان کو حاکم فرمایا ہے نیز حسب ذیل آثار بھی امام مالک کے موید ہیں : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم میں تفریق کرنا چاہیں تو تفریق کردیں اور اگر ان کو ملانا چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

شعبی کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم چاہیں تو ان میں تفریق کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت معاویہ (رض) دونوں کو حاکم بنایا گیا ‘ ہم سے کہا گیا کہ اگر تمہاری رائے ان کو جمع کرنا ہو تو ان کو جمع کردو اور اگر تمہارے رائے ان میں تفریق کرنا ہو تو ان میں تفریق کردو ‘ معمر نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان (رض) نے بھیجا تھا۔ (المصنف رقم الحدیث : ٥١٢۔ ٥١١‘ جامع البیان ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦) 

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کو دونوں طرف کے وکیل یا منصف ختم کرا سکیں تو جو فریق مظلوم ہو اس کو داد رسی کے لئے عدالت میں جانا چاہیے۔ 

اگر شوہر ‘ بیوی کو خرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ 

ہمارے زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا خرچ نہیں دیتا اور نہ اس کو طلاق دیتا ہے بیوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیتی ہے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت گواہوں کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلہ کرکے اس نکاح کو فسخ کردیتی ہے اور اس کو موجودہ مجسٹریٹ اپنی اصطلاح میں خلع سے تعبیر کرتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ از روئے شرع قابل عمل ہے یا نہیں۔ 

امام دارقطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے عیال کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی جو کہتی ہے مجھ کو کھلاؤ مجھ و علیحدہ کردو۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

جو شخص بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے عاجر ہو اس کے بارے میں امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں تفریق نہیں کی جائے گی جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نامرد ہو تو بالاتفاق ان میں تفریق کردی جاتی ہے اور جب کہ نفقہ نہ دینے کا ضرر مباشرت نہ کرنے کے ضرر سے زیادہ ہے تو اس میں بہ طریق اولی تفریق ہونی چاہیے (کیونکہ شوہر کے جماع نہ کرنے پر تو صبر ہوسکتا ہے لیکن بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ) ۔ (بدایۃ المجتہد ج ٣ ص ٣٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ المہذب مع شرح المہذب ج ١٨ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو البرکات سیدی احمد دردیر مالکی لکھتے ہیں : 

جب عورت فسخ نکاح کا ارادہ کرے اور حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرے تو اگر کا خاوند کا افلاس ثابت نہ ہو تو حاکم خاوند کو کھانے کا خرچ اور کپڑے دینے کا حکم دے جبکہ عورت نے نفقہ نہ دینے کی شکایت کی ہو یا اس کو طلاق دینے کا حکم دے یا کہے کہ یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے گا۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوقی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اب رہا یہ سوال کہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق جو اقول پیش کئے گئے ہیں ان میں خاوند عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور ہمارے زیر بحث جو صورت ہے اس میں خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا اور غائب ہوتا ہے تو غائب کے خلاف جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کیسے نافذ ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر غائب کے خلاف دلیل قائم کردی گئی اور قاضی گمان غالب یہ ہے کہ یہ حق ہے جھوٹ نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حیلہ ہے تو غائب کے خلاف یا اس کے حق میں فیصلہ کردینا چاہیے اسی طرح مفتی بھی یہ فتوی دے سکتا ہے تاکہ حرج نہ ہو اور لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں ‘ اور اس میں ضرورت ہے علاوہ ازیں یہ مسئلہ مجہتدفیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی طرف سے ایک وکیل کرلیا جائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غائب کی رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کمی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے اور عنقریب مسخر میں اس کا ذکر ہوگا اسی طرح فتح القدیر کے باب المفقود میں ہے کہ جب قاضی غائب کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی مصلحت دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کردے گا اور اس کا حکم نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ خواہ قاضی حنفی ہو اور خواہ ہمارے زمانہ میں ہو اور یہ قاعدہ پہلے قاعدہ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس قاعدہ کو ضرورت اور مصلحت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات : 

کسی مظلوم اور نان ونفقہ سے محروم عورت کے حق میں جب عدالت فسخ نکاح کردیتی ہے اور اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو اس پر بعض علماء کرام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عدالت کے فیصلہ کی بناء پر اس نکاح کے جواز کا دروازہ کھول دیا جائے تو جو عورت بھی اپنے خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے گی وہ عدالت میں جھوٹا دعوی دائر کر کے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گی۔ اس اعتراض کے جواب میں پہلے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کے دروازہ پر کچھ لوگوں کے جھگڑنے کی آواز سنی آپ ان کے پاس باہر گئے اور فرمایا میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں) میرے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا فوقف زیادہ وضاحت سے پیش کرے اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں سو (بفرض محال) اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ صرف آگ کا ٹکڑا ہے وہ اس کو لے یا ترک کردے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٤٥٨‘ ٧١٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی میں (ازخود) غیب اور مخفی امور کو نہیں جانتا جیسا کہ حالت بشریہ کا تقاضا ہے اور آپ صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور مخفی چیزیں اللہ کی ولایت میں تھیں ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو آپ کو مخفی امور پر مطلع فرما دیتا حتی کہ آپ (صورت واقعیہ کے مطابق) یقین کے ساتھ فیصلہ فرماتے لیکن اللہ نے آپ کی امت کو آپ کی اقتداء کا حکم دیا اس لئے آپ نے ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کی اتباع کرنے میں آسانی اور اطمینان ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٥) 

اسی طرح حافظ ان حجر شافعی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ١٧٥) 

اس حدیث اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت خاوند کے خلاف جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتی ہے تو عدالتتو بہرحال ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرے گی لیکن اس جھوٹ کا وبال اس عورت کے سر پر ہوگا۔ ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کے متعلق ایک اور حدیث یہ ہے : جو لوگ غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ نے واپس آکر ان سے باز پرس کی تو اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ (منافقین) آئے انہوں نے مختلف بہانے کئے اور قسمیں کھائیں سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہر کردہ بہانوں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطنی امور کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک صرف حجت ظاہریہ کا اعتبار ہے : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جھوٹے گواہوں کے ساتھ ظاہرا و باطنا عقود اور فسوخ میں قضا نافذ ہوجاتی ہے بہ شرطی کہ قضا کے محل میں اسی قضا کی صلاحیت ہو اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو۔ (درمختار علی ہامش ردالمختار ج ٤ ص ٣٣٣) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

فسوخ سے مراد ایسافیصلہ ہے جو عقد حکم کو فسخ کردے ‘ لہذایہ طلاق کو بھی شامل ہے اور اس کی فروع میں سے یہ ہے کہ ایک عورت نے دعوی کیا کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور خاوند اس کا منکر ہو اور اس عورت نے اپنے دعوی پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہے خواہ اس کو حقیقت حال کا علم ہو اور ان دو گواہوں میں سے بھی اگر کوئی اس عورت سے نکاح کرے تو عدت کے بعد اس عورت سے نکاح اور مباشرت کرنا جائز ہے اور اس کے پہلے خاوند کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو وطی کرنے کا موقع دے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس عورت پر اس کا خاوند ظلم کرے اس کو نہ گھر میں رکھے اور نہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ دے اور نہ اس کو طلاق دے اور وہ عورتت جوان ہو وہ اپنے معاش کے حصول کے لئے محنت مزدوری یا ملازمت کرے تو اس کو اپنی عزت اور عفت کے لٹ جانے کا بھی خطرہ ہو (اور ایسے واقعات ہمارے ہاں ہوتے رہتے ہیں) تو اس صورت حال کے مطابق اگر عدالت اس کے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے تو یہ ائمہ ثلاثہ کے مطابق ایک جائز عمل ہے ‘ اب اگر کوئی عورت اس قانون سے فائدہ اٹھا کر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے آباد نہ کرنے کی فرضی داستان سنا کر اپنے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرا لے تو اس کا وبال اس عورت کے سر ہوگا اور اس کے اس جھوٹ کی وجہ سے اس جائز طریقہ کو ترک نہیں کیا جائے گا اس کی نظر یہ ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ زیارت قبور کو اس لئے ترک نہیں کیا جائے گا کہ زیارت قبور میں بہت سے منکرات اور مفاسد (ناجائز اور برے کام) مثلا مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور دوسرے امور (مثلا قبروں پر سجدہ کرنا) داخل ہوگئے ہیں کیونکہ عبادات کو ان کاموں کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انسان پر لازم ہے کہ ان عبادات کو بجا لائے اور ان غلط کاموں کا رد کرے اور حسب استطاعت ان بدعات کو زائل کرے (رد المختار ج ١ ص ‘ ٦٠٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

ثانیا : یہ کہ جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ کرانا صرف فسخ نکاح کے عقد کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے۔ ہر قسم کے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پیشہ ور جھوٹے گواہ عدالت کے باہر مل جاتے ہیں اور ان کی بناء پر بہت سے مقدمات میں ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کردیا جاتا ہے تو اب اگر کسی مقدمہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر عدالت کے فیصلہ کو اس لئے معتبر نہ مانا جائے کہ یہ شہادت فی الواقع جھوٹی تھی تو پھر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ معتبر نہیں رہے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ جھوٹی گواہی کی بناء پر ہو اور اس کا حل یہی ہے کہ عدالت کا کام ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کرنا ہے اگر کسی فریق نے جھوٹے شواہد پیش کئے ہیں تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہوگا اور حقیقت کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔ 

قضاء علی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ : 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز ہے انہوں نے کہا جو دور دراز غائب ہو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ نے کہا کہ غائب کے خلاف مطلقا فیصلہ نہیں کیا جائے گا (بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس طرح حاضر کے خلاف ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح غائب کے خلاف بھی ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے (روضۃ الطالبین ج ٨ ص ١٥٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی فیروزآبادی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک شخص قاضی کے سامنے پیش ہو اور شہر سے غائب شخص کے خلاف دعوی کرے یا شہر میں حاضر ہو لیکن بھاگ جائے یا شہر میں حاضر ہو اور چھپ جائے اور اس کو حاض کرنا مشکل ہو تو اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ نہ ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس دعوی کا سننا غیر مفید ہے ‘ اور اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ ہوں تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور اس کے گواہوں کو بھی سنا جائے گا کیونکہ اگر ہم اس کے دعوی کو نہ سنیں تو اس مدعی علیہ کا غائب ہونا یا شہر میں چھپ جانا لوگوں کے حقوق ساقط کرنے کا سبب ہوگا جب کہ ان حقوق کی حفاظت کے لئے حاکم کو نصب کیا جاتا ہے۔ (المہذب ج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ شرح المہذب ج ٢٠ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جس غائب شخص کے خلاف کوئی حق ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا (الی قولہ) غائب کے خلاف صرف آدمیوں کے حقوق میں فیصلہ کیا جائے گا البتہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ حدود میں اسقاط کی گنجائش ہے اگر کسی غائب شخص کے چوری کرنے پر گواہ قائم ہوں تو اس سے مال واپس لینے کا حکم دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں دیاجائے۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص مجلس عدالت سے غائب ہو یا اس شہر سے غائب ہو اور اس کے خلاف گواہ قائم ہوں تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا خواہ اس مقدمہ کا تعلق آدمیوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی حدود سے۔ (محلی ابن حزم ج ٩ ص ٣٦٦) 

قضاء علی الغائب کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ابو سفیان ایک کم خرچ کرنے والے انسان ہیں اور مجھے ان کے مال سے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کے مال سے اتنی مقدار لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٤) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو سفیان (رض) اس مجلس سے غائب تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ‘ امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان ہی یہ قائم کیا ہے باب القضاء علی الغائب۔ اس حدیث میں مالی معاملات میں غائب کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے فسخ نکاح میں غائب کے خلاف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے مفقود (لاپتہ) شخص کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اس کی بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد چار ماہ دس دن (عدت وفات گزارے) پھر اگر اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اپنے دئیے مہر اور بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ (المصنف ‘ رقم الحدیث : ١٢٣١٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 

امام مالک فرماتے ہیں کہ جب اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا تو پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا۔ 

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور وہ غائب ہوگیا اور اس حال میں اس نے اس طلاق سے رجوع کرلیا عورت کو طلاق کی خبر پہنچی اور اس کے رجوع کی خبر نہیں پہنچی اور اس نے دوسری جگہ شادی کرلی حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا جب اس عورت نے نکاح کرلیا تو اب پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا خواہ دوسرے خاوند نے اس سے دخول کیا ہو یا نہیں۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢١٩) 

ان دو حدیثوں میں فسخ نکاح اور طلاق کے معاملہ میں قضاء علی الغائب کا ثبوت ہے۔ 

امام شافعی ‘ امام مالک ‘ اور امام احمد کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے لیکن فقہاء احناف نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر ضرورت کی بناء پر کوئی حنفی قاضی یا مفتی ائمہ ثلاثہ کے اس قول پر فتوی دے تو یہ جائز ہے اور جس عورت کو اس کا خاوند تنگ کرنے کے لئے نہ خرچ دیتا ہو نہ طلاق دیتا ہو اور اپنی عزت اور عصمت کی حفاظت کے ساتھ ملازمت کرکے اس کے لئے روٹی کمانا مشکل اور دشوار ہو اور اندریں صورت وہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے ‘ خاوند حاضر نہ ہو اور عدالت خاوند کے خلاف یک طرفہ ڈگری دے کر خلع کردے (یعنی نکاح فسخ کردے) تو یہ فیصلہ صحیح ہے اور عدت کے بعد اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح ہے۔ 

دفع حرج ‘ مصلحت اور ضرورت کی بناء پرائمہ ثلاثہ کے مذہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

جو فقہاء احناف قضاء علی الغائب کو جائز کہتے ہیں وہ یہ فرق نہیں کرتے کہ حنفی قاضی یہ فیصلہ کرے یا غیر حنفی فیصلہ کرے ‘ قنیہ میں بھی مذکور ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا حنفی ہونا شرط نہیں ہے ‘ اس تصریح سے علامہ رملی اور علامہ مقدسی کا یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا مجوزین میں سے ہونا شرط ہے اور یہی صاحب البحر الرائق کا نظریہ ہے ‘ صاحب البحر نے قضاء علی الغائب کو مفقود کے ساتھ خاص کیا ہے ‘ علامہ رملی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں عموم ہے ‘ جامع الفصولین میں مذکور ہے کہ مسئلہ میں فقہاء کی آراء مضطرب ہیں پس میرے نزدیک یہ ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں غور وفکر کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے اور حرج اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے اور اگر جواز کا تقاضا ہو تو اس کو جائز کہا جائے ورنہ اس کو ناجائز کہا جائے ‘ مثلا ایک شخص نے اپنی بیوی کو چند نیک لوگوں کے سامنے طلاق دی پھر وہ شہر سے غائب ہوگیا اور اس کی جگہ کا پتہ نہیں یا پتہ تو ہے لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہے یا عورت یا اس کے وکیل کا اس کے پاس جانا مشکل ہے کیونکہ وہ جگہ دور ہے یا کوئی اور مانع ہے ‘ اسی طرح اگر مقروض غائب ہوجائے اور اس کا شہر میں مال ہو ‘ اس قسم کی مثالوں میں اگر قاضی کے سامنے غائب کے خلاف گواہ پیش کردیئے جائیں اور قاضی کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ گواہ سچے ہیں اور ان میں کوئی جھوٹ یا حیلہ نہیں ہے تو قاضی کو چاہیے کہ غائب کے خلاف فیصلہ کر دے اور مفتی کو بھی چائیے کہ حرج اور حاجت کو دور کرنے کے لئے اس کے جواز کا فتوی دے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہیں جب کہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس کو جائز کہتے ہیں اور ہمارے اصحاب (احناف) کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی جانب سے ایک ایسا وکیل کرلیا جائے جس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ غائب کی جانب سے مکمل رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے اسی طرح مسخر میں ہے اور فتح القدیر کے باب المفقود میں بھی یہی مذکور ہے کہ غائب کے خلاف قضاء جائز نہیں لیکن جب قاضی غائب کے حق میں اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں مصلحت دیکھے تو فیصلہ کردے اور یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ خواہ قاضی حنفی ہو۔ (درالمختار علی الدر المختار ج ٤ ص ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آزاد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١) 

ترجمہ : اپنی بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ رکھو ورنہ ان کو معروف طریقہ سے علیحدہ کردو اور ان پر زیادتی کرنے اور ضرر پہنچانے کی نیت سے ان کو اپنے پاس نہ رکھو۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ خاوند کے پاس جب بیوی کو نفقہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کا چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے ‘ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ بیوی کو معروف طریقہ سے علیحدہ کرنے کی حد سے نکل گیا پھر حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے ‘ کیونکہ جو شخص اس کو خرچ دینے پر قادر نہیں ہے اس کے نکاح میں رہنے سے اس عورت کو ضرر لاحق ہوگا اور بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابو عبید ‘ یحییٰ بن القطان اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے حضرت عمر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب نے کہا یہی سنت ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے : (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

حاکم پر لازم ہے کہ وہ خاوند سے کہے یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی کو طلاق واقع کردے۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوتی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ بیروت) 

سو اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے خلاف یہ مقدمہ دائر کرے تو کہ اس کا خاوند اس کو خرچ دیتا ہے نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور اس پر گواہ قائم کردے اور خاوند بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دے ‘ خواہ وہ قاضی حنفی ہو یا شافعی یا مالکی یا حنبلی : 

مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی رئیس دارافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں : 

ہاں شوہر کا ظلم و زیادتی اگر عدالت میں شرعی گواہوں سے ثابت ہوجائے اور شوہر شرعی طریقہ سے اسے آباد کرنے پر رضامند نہیں ہوتا نہ اسے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضا مند ہوتا ہے تو ان مجبوریوں کے بعد عدالت گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر یک طرفہ فسخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے۔ (جواہر الفتاوی ج ٣ ص ٣٢٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

مفتی رشید احمد کراچی نے بھی اسی صورت میں عدالت کے فیصلہ کو نافذ العمل قرار دیا ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٥ ص ٤١١۔ مطبوعہ کراچی) 

میں نے اس مسئلہ کو شرح صحیح مسلم میں بھی لکھا تھا اور یہاں مزید تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جب کوئی مظلوم عورت ہمارے زمانہ کے مفتیوں کے پاس جاتی ہے جس کو خاوند نہ خرچ دیتا ہے نہ طلاق ‘ خاوند عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت یک طرفہ ڈگری دے دیتی ہے تو ہمارے مفتی اس فیصلہ کو نہیں مانتے اور اس عورت کو عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے مسئلہ کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے ‘ سو میں نے صرف اسلام کے دفاع کے جذبہ سے یہ تحقیق پیش کی ہے اور اللہ نیتوں کو جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ‌ ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ‌ ؕ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌ ۚ فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ‌ ؕ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَ تَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 25

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ لَّمۡ يَسۡتَطِعۡ مِنۡكُمۡ طَوۡلًا اَنۡ يَّنۡكِحَ الۡمُحۡصَنٰتِ الۡمُؤۡمِنٰتِ فَمِنۡ مَّا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ مِّنۡ فَتَيٰـتِكُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ‌ ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِاِيۡمَانِكُمۡ‌ ؕ بَعۡضُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ‌ ۚ فَانْكِحُوۡهُنَّ بِاِذۡنِ اَهۡلِهِنَّ وَاٰ تُوۡهُنَّ اُجُوۡرَهُنَّ بِالۡمَعۡرُوۡفِ مُحۡصَنٰتٍ غَيۡرَ مُسٰفِحٰتٍ وَّلَا مُتَّخِذٰتِ اَخۡدَانٍ‌ ؕ فَاِذَاۤ اُحۡصِنَّ فَاِنۡ اَ تَيۡنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيۡهِنَّ نِصۡفُ مَا عَلَى الۡمُحۡصَنٰتِ مِنَ الۡعَذَابِ‌ ؕ ذٰ لِكَ لِمَنۡ خَشِىَ الۡعَنَتَ مِنۡكُمۡ‌ ؕ وَاَنۡ تَصۡبِرُوۡا خَيۡرٌ لَّكُمۡ‌ ؕ وَاللّٰهُ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ

ترجمہ:

اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ ‘ مسلمان باندیوں سے (نکاح کرے) اور اللہ تمہارے ایمان کو بہت زیادہ جاننے والا ہے، تم باہم ایک دوسرے کی جنس سے ہو ‘ تم ان (باندیوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو ‘ دراں حالیکہ وہ (باندیاں) قلعہ نکاح کی حفاظت میں آنے والی ہوں ‘ بدکار نہ ہوں ‘ نہ غیروں سے آشنائی کرنے والی ہوں ‘ اور جب وہ قلعہ نکاح میں محفوظ ہوجائیں پھر بےحیائی کا کام کریں تو ان کو آزاد (کنواری) عورت کی آدھی سزا ملے گی (باندیوں سے نکاح کا) یہ حکم تم میں سے اس شخص کے لیے ہے جس کو اپنے نفس پر بدچلنی کا خدشہ ہو ‘ اور تمہارے لئے صبر کرنا بہتر ہے اور اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے ؏

تفسیر:

نیز اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ومن لم یستطع منکم طولا ان ینکح المحصنت المؤمنت فمن ماملکت ایمانکم من فتیتکم المؤمنت “۔ (الی قولہ) ذلک لمن خشی العنت منکم وان تصبروا خیرلکم۔ (النساء : ٢٥) 

ترجمہ : اور تم میں سے جو شخص آزاد کنواری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنے کی مالی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے نکاح کرے۔ اور یہ حکم اس شخص کے لئے ہے جسے غلبہ شہوت کی وجہ سے اپنے اوپر زنا کا خطرہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

اس آیت میں غلبہ شہوت رکھنے والے شخص کے لئے صرف دو طریقے تجویز کئے گئے ہیں ایک یہ کہ وہ باندیوں سے نکاح کرے دوسرا یہ کہ وہ صبط نفس کرے اور تجرد کی زندگی گزارے اگر متعہ ہوتا تو کنیزوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھنے کی صورت میں اس کو متعہ کی ہدایت دی جاتی ‘ لیکن ایسا نہیں کیا گیا پس معلوم ہوا کہ کوئی شخص متعہ نہیں کرسکتا اسے نکاح ہی کرنا پڑے گا خواہ باندیوں سے کرے اور اگر ان سے بھی نکاح کی طاقت نہیں رکھتا تو پھر اسے صبر کرنا پڑے گا۔ متعہ کے جواز کی کوئی صورت نہیں ہے۔ 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” ولیستعفف الذین لایجدون نکاحا حتی یغنیھم اللہ من فضلہ “۔ (النور : ٣٣) 

ترجمہ : اور جو لوگ نکاح کی طاقت نہیں رکھتے ان پر لازم ہے کہ وہ ضبط نفس کریں حتی کہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی کر دے۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے غیر مبہم الفاظ میں واضح فرماد یا ہے کہ اگر نکاح نہیں کرسکتے تو ضبط نفس کرو اگر متعہ جائز ہوتا تو نکاح کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں متعہ کی اجازت دے دی جاتی ‘ جب کہ متعہ کی اجازت کی بجائے ضبط نفس کا حکم دیا گیا ہے تو معلوم ہوگیا کہ اسلام میں متعہ کے جواز کا کوئی تصور نہیں ہے۔ 

(آیت) ” محصنین غیر مسافحین “۔ (النساء : ٢٤) 

ترجمہ : درآں حالیکہ تم ان کو قلعہ نکاح کی حفاظت میں لانے والے ہو نہ محض عیاشی کرنے والے۔ 

اور یہ واضح ہے کہ متعہ میں محض عیاشی ہوتی ہے اس میں متعہ والی عورت کا مرد پر نفقہ ہوتا ہے نہ اس کی طلاق ہے نہ عدت اور نہ وہ مرد کے ترکہ کی وارث ہوتی ہے یہ محض عیاشی ہے۔ حفاظت نکاح میں ہوتی ہے۔ 

حرمت متعہ پر احادیث سے دلائل : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ خیبر کے دن عورتوں سے متعہ اور پالتو گدھوں کے گوشت کو حرام کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٢١٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٢٤) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کے ساتھ غزوہ تبوک میں گئے ہم تنیۃ الوداع پر اترے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چراغوں کو دیکھا اور عورتوں کو روتے ہوئے دیکھا آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ بتایا گیا کہ جن عورتوں سے متعہ کیا گیا تھا وہ رو رہی ہیں آپ نے فرمایا نکاح ‘ طلاق ‘ عدت اور میراث نے متعہ کو حرام کردیا۔ (مسند ابو یعلی ‘ رقم الحدیث : ٦٥٩٤‘ مؤسسۃ علوم القرآن بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

کیونکہ متعہ میں نہ طلاق ہوتی ہے نہ عدت اور نہ میراث ‘ نہ اس کو نکاح کہا جاتا ہے بلکہ اس میں عورت کا نان نفقہ بھی واجب نہیں ہوتا جیسا کہ کتب شیعہ سے باحوالہ گزر چکا ہے اور نہ متعہ والی عورت پر بیوی کا اطلاق ہوتا ہے کیونکہ قرآن مجید میں بیویوں کی وارثت بیان کی گئی ہے اور متعہ والی عورت وارث نہیں ہوتی۔ 

اس حدیث کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے امام بخاری نے اس کو ضعیف کہا ہے لیکن ابن معین اور ابن حبان نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے اس کی سند کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ انصاری (رض) بیان کرتے ہیں ہم باہر گئے اور ہمارے ساتھ وہ عورتیں تھیں جن کے ساتھ ہم نے متعہ کیا تھا جب ہم ثنیۃ الرکاب پر پہنچے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ یہ وہ عورتیں ہیں جن سے ہم نے متعہ کیا تھا آپ نے فرمایا یہ قیامت تک کے لئے حرام کردی گئی ہیں۔ (المعجم الاوسط : ٩٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ المعارف ریاض۔ ١٤١٦ ھ) 

اس حدیث کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ ہے۔ امام احمد نے اس کو ضعیف کہا ہے اور امام ابو حاتم نے اس کو ثقہ کہا ہے اور اس کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں۔ 

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا آپ نے متعہ کے جواز کا کیسا فتوی دیا ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے کہا ‘ (آیت) ” اناللہ وانا الیہ راجعون “ خدا کی قسم میں نے یہ فتوی نہیں دیا اور نہ میں نے یہ ارادہ کیا تھا میں نے اسی صورت میں متعہ کو حلال کہا ہے جس صورت میں اللہ نے مردار ‘ خون اور خنزیر کے گوشت کو حلال فرمایا ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ١٠٦٠١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

اس حدیث کی سند میں حجاج بن ارطاۃ ثقہ ہے لیکن وہ مدلس ہے اور اس کے باقی راوی حدیث صحیح کے راوی ہیں 

امام ابوبکرعبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی ٢٣٥‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

ربیع بن مرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود اور باب کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا : سنو ! اے لوگو ! میں نے تم کو متعہ کرنے کی اجازت دی تھی سنو اب اللہ نے متعہ کو قیامت تک کے لئے حرام کردیا ہے ‘ سو جس شخص کے پاس ان میں سے کوئی عورت ہے اس کو چھوڑ دے اور جو کچھ اس کو دیا ہے وہ اس سے واپس نہ لے۔ 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے اگر وہ متعہ کی حرمت نہ بیان کرتے تو علی الاعلان زنا ہوتا۔ 

حضرت عبداللہ بن الزبیر (رض) نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا سنو متعہ زنا ہے۔ (المصنف ج ٢۔ ٤ ص ٢٩٣۔ ٢٩٢ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٦ ھ) 

امام عبدالرزاق بن ہمام ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں :

ابن ابی عمرۃ انصاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے ان کے متعہ کے متعلق فتوی کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا میں نے امام المتقین کے ساتھ متعہ کیا ہے ‘ ابن ابی عمرہ نے کہا اللہ معاف فرمائے متعہ ضرورت کی بناء پر رخصت تھا جیسے ضرورت کے وقت مردار خون اور خنزیر کے گوشت کی رخصت ہوتی ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٣٣)

ربیع بن سبرہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورتوں سے متعہ کو حرام کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٣٤)

معمر اور حسن بیان کرتے ہیں کہ عمرۃ القضاء کے موقع پر صرف تین دن کے لئے متعہ حلال ہوا تھا اس سے پہلے حلال ہوا تھا نہ اس کے بعد۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٠‘ سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٨٣٢) 

ربیع بن سبرہ والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے جب آپ مقام عسفان پر پہنچے تو آپ نے فرمایا عمرہ حج میں داخل ہوگیا۔ سراقہ نے پوچھا یا رسول اللہ کیا یہ دائما ‘ ہے ؟ آپ نے فرمایا ‘ ہے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو ہم نے بیت اللہ اور صفا اور مروہ کے درمیان طواف کیا پھر پھر آپ نے ہم کو عورتوں سے متعہ کرنے کا حکم دیا ہم نے کہا ہم اس کو مدت معین کے لئے کریں گے آپ نے فرمایا کرو ‘ میں اور میرا ایک ساتھی باہر نکلے ہم دونوں کے پاس ایک ایک چادر تھی ہم دونوں ایک عورت کے پاس گئے اور ہم دونوں نے اپنے آپ کو اس پر پیش کیا اس نے میرے ساتھی کی چادر کی طرف دیکھا تو وہ میری چادر سے زیادہ نئی تھی اور میری طرف دیکھا تو میں اس سے زیادہ جوان تھا بالآخر اس نے مجھ کو پسند کرلیا اور میں نے اپنی چادر کے عوض اس سے متعہ کرلیا میں اس کے ساتھ اس رات کو رہا جب صبح کو میں مسجد کی طرف گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے جس شخص نے کسی عورت کے ساتھ مدت معین کے لئے متعہ کیا ہے تو وہ اس کو طے شدہ چیز دے دے اور جو اس کو دے رکھا ہے اس سے واپس نہ لے اور اس سے الگ ہوجائے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لئے متعہ حرام کردیا ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٣) 

حضرت ابن عمر (رض) سے متعہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا یہ زنا ہے۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٢) 

حسن بصری بیان کرتے ہیں کہ متعہ صرف تین دن ہوا پھر اللہ عزوجل اور اس کے رسول نے اس کو حرام کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٣‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧) 

حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا : متعہ کو طلاق ‘ عدت اور میراث نے منسوخ کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٤‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧) 

حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا رمضان نے ہر روزہ کو منسوخ کردیا ‘ زکوۃ نے ہر صدقہ کو منسوخ کردیا، اور طلاق ‘ عدت اور میراث نے متعہ کو منسوخ کردیا۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١٤٠٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٠٧۔ مواردالظمآن : ص ٣٠٩) 

احادیث شیعہ سے حرمت متعہ پر دلائل : 

زید بن علی اپنے آباء سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے بیان فرمایا کہ خیبر کے دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پالتو گدھوں کے گوشت اور نکاح متعہ کو حرام کردیا۔ (تہذیب الاحکام ج ٧ ص ٣٥١‘ الاستبصار ج ٣ ص ١٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ تہران) 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب خیبر کے دن متعہ حرام کردیا گیا تھا تو پھر فتح مکہ کے موقع پر متعہ کیوں ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ متعہ خیبر کے دن ہی حرام کردیا گیا تھا فتح مکہ کے موقع پر ضرورت کی وجہ سے تین دن کے لئے عارضی رخصت دی گئی اور پھر اس کو دائماحرام کردیا گیا اور حجۃ الوداع کے موقع پر تاکیدا اس کی حرامت کو دہرایا گیا جیسے اور کئی حرام کاموں کی حرمت کو اس موقع پر بیان کیا گیا۔ 

بعض مفسرین کا تسامح : 

مفتی محمد شفیع لکھتے ہیں : فرمان باری تعالیٰ شانہ : (آیت) ” والذین ھم لفروجھم حافظون الا علی ازواجھم او ماملکت ایمانھم فانھم غیر ملومین “۔ یہ ایسا واضح ارشاد ہے جس میں کسی تاویل کی گنجائش نہیں۔ اس سے حرمت متعہ صاف ظاہر ہے اس کے مقابلہ میں بعض شاذ قراتوں کا سہارا لینا قطعا غلط ہے۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٣٦٨) 

علامہ آلوسی (روح المعانی : ج ٥ ص ٧) امام رازی (تفسیر کبیر ج ٣ ص ١٩٥) پیر محمد کرم شاہ الازہری (ضیاء القرآن ج ٣ ص ٢٤٥) اور دیگر مفسرین نے بھی سورة المومنون (: ٦) کی اس آیت کو حرمت متعہ کی قطعی دلیل بنایا ہے لیکن یہ اس لئے صحیح نہیں ہے کہ المومنون مکی سورت ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مکہ میں متعہ حرام ہوگیا تھا جب کہ اس پر اتفاق ہے کہ ٧ ہجری تک مدینہ میں متعہ حلال رہا اور جنگ خیبر کے موقع پر متعہ کو حرام کیا گیا جیسا کہ صحیح بخاری ‘ صحیح مسلم اور سنن ترمذی کی حدیث میں ہے اور مفتی محمد شفیع نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اسی لئے ہم نے النساء اور النور کی آیتوں سے حرمت متعہ پر استدلال کیا ہے اور یہ مدنی سورتیں ہیں اور ان پر شیعہ علماء کا یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ فافہم وتشکر۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں سے جو شخص آزاد مسلمان عورتوں سے نکاح کی طاقت نہ رکھے تو وہ مسلمانوں کی مملوکہ مسلمان باندیوں سے (نکاح کرے) (النساء : ٢٥ )

اہل کتاب باندیوں سے نکاح میں فقہاء کے مذاہب : 

امام ابوحنیفہ کے نزدیک آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی قدرت کے باوجود باندی یا کتابیہ باندی سے نکاح کرنا مکروہ ہے کیونکہ باندی کی اولاد بھی اس کے مالک کی غلام ہوتی ہے اور آزاد شخص کے لئے یہ باعث عار ہے کہ اس کی اولاد لونڈی اور غلام بن جائے۔ 

اس آیت میں باندیوں کے ساتھ مسلمان ہونے کی صفت کو ذکر کیا ہے امام شافعی کے نزدیک چونکہ مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے اس لئے ان کے نزدیک یہ صفت بمنزلہ شرط ہے اور جو شخص آزاد (کنواری) مسلمان عورت سے نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ باندی سے اسی وقت نکاح کرسکتا ہے جب باندی مسلمان ہو ‘ اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک باندی کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے بلکہ مستحب ہے باندی اگر اہل کتاب ہو پھر بھی وہ اس سے نکاح کرسکتا ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٧٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

امام احمد کا بھی یہی مذہب ہے اور امام مالک کے نزدیک جو شخص آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی طاقت رکھتا ہو وہ بھی باندی سے نکاح کرسکتا ہے اور امام اعظم کے نزدیک آزاد مسلمان عورت کے ہوتے ہوئے باندی سے نکاح جائز نہیں (الجامع احکام القرآن ج ٥ ص ١٣٦) اہل کتاب باندیوں سے نکاح کے جواز پر امام ابوحنیفہ کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محرمات کے علاوہ ہر عورت سے نکاح کرنے کو حلال قرار دیا ہے ماسوا ان کے جن کی کتاب اللہ میں تخصیص کرلی گئی ہے اور اہل کتاب باندی کی تخصیص نہیں کی گئی ‘ وہ آیتیں یہ ہیں : 

(آیت) ” فانکحوا ماطاب لکم من النساء “ 

ترجمہ : تو اپنی پسند کے موافق عورتوں سے نکاح کرلو۔ 

(آیت) ” واحل لکم ما ورآء ذالکم “۔ (النسا : ٢٤) 

ترجمہ : اور محرمات کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال کردی گئی ہیں۔ 

(روح المعانی ج ٥ ص ٨ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت) 

ان آیات کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ اہل کتاب باندی کے ساتھ بھی نکاح جائز ہے اور یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک ہے۔ 

غیر سید کا فاطمی سیدہ سے نکاح :

بعض سادات کرام نے کہا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسب کے فضائل میں جو احادیث وارد ہیں وہ بھی ان آیات کے عموم کے لئے مخصص ہیں اور سیدہ کا نکاح غیر سید سے حرام ہے۔ سادات کرام کا احترام اور اکرام مسلم ہے لیکن یہ استدلال صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ احادیث زیادہ سے زیادہ خبر واحد ہیں اور خبر واحد قرآن مجید کے عموم کے لئے ناسخ نہیں ہوسکتی ‘ بعض سادات کرام نے کہا جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آواز پر آواز اونچی کرنا جائز نہیں ہے تو آپ کے نسب کے اوپر نسب کرنا کیسے جائز ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ نکاح سے یہ لازم نہیں آتا کہ شوہر کا نسب بیوی کے نسب سے اونچا ہوجائے ورنہ کسی سید کا نکاح بھی سیدہ سے جائز نہیں ہوگا۔ نیز حضرت فاطمہ (رض) کی صاحبزادیوں میں سے کسی صاحبزادی کا نکاح تو یقینا غیر فاطمی شخص سے ہوا ہے کیونکہ ہماری شریعت میں بھائی بہن کا نکاح جائز نہیں ہے جیسا کہ محرمات کے بیان میں گزر چکا ہے ‘ اس بحث میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہم یہ دعوت نہیں دیتے کہ غیر فاطمی سید فاطمی سیدہ سے نکاح کریں نہ یہ ہمارا منصب اور حق ہے ہمارا صرف یہ کہنا ہے کہ اگر کہیں یہ نکاح منعقد ہوجاتا ہے تو اس کو حرام کہنے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ اگر ہمارے کسی استدلال سے سادات کرام کی دل آزاری ہوئی ہے تو ہم ان سے معافی چاہتے ہیں اور سادات کرام کی محبت کو حرز ایمان سمجھتے ہیں۔ لیکن مسئلہ اپنی جگہ پر ہے۔ اگر اس نکاح کو حرام کہا جائے تو جس سیدہ خاتون نے اپنی مرضی یا اپنے والدین کی مرضی سے غیر سید سے نکاح کیا اس فاطمی سیدہ خاتون کو مرتکب حرام ‘ زانیہ اور اس کی اولاد کو ولد الزنا کہنا لازم آئے گا ‘ اور مانعین ایسا کہتے بھی ہیں لیکن ہم شہزادی رسول اور سیدہ فاطمہ کی صاحبزادی کے متعلق ایسا فتوی لگانا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور سیدہ فاطمہ (رض) کو اذیت پہنچانے کے مترادف سمجھتے ہیں اور اس کو خطرہ ایمان گردانتے ہیں ‘ سو جو لوگ اس نکاح کو ناجائز اور حرام کہتے ہیں وہ نادانستگی میں شہزادی رسول کو زانیہ کہہ کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا پہنچا رہے ہیں۔ کسی بھی نکاح رجسٹرار کے کے ریکارڈ شدہ رجسٹر کو دیکھ لیں ملک کے طول وعرض میں غیر فاطمی سید کے فاطمی سیدہ سے نکاح کے بہت مندرجات مل جائیں گے ‘ آخر جس فاطمی سیدہ خاتون نے غیر سید سے نکاح کیا ہے وہ بھی تو بنت رسول ہے اس کو زنا کی گالی دینا کسی مسلمان کے لئے کس طرح زیبا ہے کیا اس کا احترام اور اکرام واجب نہیں ہے۔ کیا اس کو گالی دینے سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت نہیں پہنچے گی ؟ خدارا سوچئے کہ ہم اس نکاح کے جواز کا فتوی دے کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شہزادیوں کی عزتوں کا تحفظ کر رہے ہیں یا العیاذ باللہ انکی توہین کررہے ہیں۔ مانعین اس نکاح کو حرام کہتے ہیں اور حرام کو حلال سمجھنا کفر ہے تو جس سیدہ خاتون یا اس کے سادات والدین نے جائز سمجھ کر نکاح کردیا تو آپ کے نزدیک وہ العیاذ باللہ کافر ہوگئے اور کافر کا ٹھکانہ دوزخ ہے آخر آپ خون رسول کو دوزخ میں کیوں پہنچانے کے درپے ہیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تم ان (باندیوں) سے ان کے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو اور دستور کے مطابق ان کے مہر ادا کرو درآں حالیکہ وہ (باندیاں) قلعہ نکاح کی حفاظت میں آنے والی ہوں ‘ بدکار نہ ہوں نہ غیروں سے آشنائی کرنے والی ہوں۔ (النساء : ٢٥ )

باندیوں سے نکاح کے احکام :

اس آیت میں باندیوں کے اہل سے مراد ان کے مالک ہیں اس آیت میں یہ بتانا مقصود ہے کہ باندی کے مالک کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح صحیح نہیں ہے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو غلام اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نکاح کرے وہ زانی ہے۔ (سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٠٧٨‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١١٣) 

اس آیت کے آخر میں فرمایا یہ حکم تم میں سے ہراس شخص کے لئے ہے جس کو اپنے نفس پر بدچلنی کا خدشہ ہو اور اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ‘ اس میں یہ بتایا ہے کہ اگرچہ باندیوں سے نکاح کی تم کو اجازت دی گئی ہے لیکن اگر تم آزاد مسلمان عورت سے نکاح کی طاقت نہ رکھتے ہو اور پاک دامنی کے ساتھ رہ سکتے ہو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ باندی پر اس کے مالک کا حق شوہر کے حق سے زیادہ ہوتا ہے۔ اس لئے وہ تمہاری خدمت اور حقوق کے لئے سبیل نہیں پاسکیں گی اور ان کے مالک سفر اور حضر میں ان سے خدمت لینے اور جس کو چاہے فروخت کرنے پر قادر ہوں گے اور اس میں شوہروں کے لئے دشواری ہے کیونکہ باندی کے مہر کا مالک اس کا مولی ہوگا اور اس باندی سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ اس کے مالک کی غلام ہوگی۔ اس کے بعد فرمایا اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ اس میں یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے نفس پر صبر نہ کرسکا تو اللہ اس کو بخشنے والا اور مہربان ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ قلعہ نکاح میں محفوظ ہوجائیں پھر بےحیائی کے کام کریں تو ان کو آزاد (کنواری) عورت کی آدھی سزا ملے گی۔ 

یعنی اگر باندیاں زنا کریں تو ان کی سزا وہ ہے جو آزاد کنواریوں کو سزا دی جاتی ہے اور آزاد کنواری عورت کو زنا کرنے پر سو کوڑے لگائے جاتے ہیں تو ان کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 25

وَ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّيۡثَاقًا غَلِيۡظًا‏- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 21

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ كَيۡفَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ وَقَدۡ اَفۡضٰى بَعۡضُكُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ وَّاَخَذۡنَ مِنۡكُمۡ مِّيۡثَاقًا غَلِيۡظًا‏

ترجمہ:

اور تم اس مال کو کیونکر واپس لو گے جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ (خلوت میں) مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم اس مال کو کیونکر واپس لوگے ! جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ (خلوت میں) مل چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ (النساء : ٢١ )

خلوت صحیحہ کی وجہ سے کامل مہر کے وجوب پر فقہاء احناف کے دلائل :

اس آیت میں زن وشو کے لئے افضاء کا لفظ استعمال فرمایا ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ اور سدی سے یہ روایت ہے کہ اس سے مراد جماع ہے اور امام شافعی کا بھی یہی مذہب ہے کہ اس سے مراد جماع ہے اور اگر شوہر نے جماع نہ کیا ہو تو طلاق کے وقت عورت صرف نصف مہر لینے کی مستحق ہے خواہ ان کے درمیان خلوت صحیحہ ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ زجاج کا بھی یہی مختار ہے ‘ اور افضاء کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کے درمیان خلوت صحیحہ ہوچکی ہو اور یہی امام ابوحنیفہ کا مذہب ہے۔ 

فقیہ ابو اللیث نصربن محمد سمرقندی متوفی ٣٧٠ ھ روایت کرتے ہیں :

فرا نے کہا ہے کہ افضاء کا معنی یہ ہے کہ مرد اور عورت کے درمیان خلوقت صحیحہ ہو ‘ خواہ جماع ہو یا نہ ہو ‘ اور اس سے پورا مہر واجب ہو ہوجاتا ہے کلبی نے کہا ہے کہ جب شوہر اور بیوی ایک بستر میں جمع ہوں تو پورا مہر واجب ہوجاتا ہے خواہ خاوند اس کے ساتھ جمع کرے یا نہ کرے ‘ زرارہ بن اوفی متوفی ٩٣ ھ نے بیان کیا ہے کہ خلفاء راشدین مہدیین نے یہ فیصلہ کیا کہ جس نے دروازہ بند کر کے پردہ ڈال دیا اس پر پورا مہر اور عورت پر عدت واجب ہوگئی (سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٢٥) اور مقاتل نے کہا ہے کہ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ افضاء کا معنی جماع ہے اور ہمارے علماء رحمہم اللہ نے یہ کہا ہے کہ جب خلوت صحیحہ ہوگئی تو پورا مہر اور عدت واجب ہوجائے گی خواہ جماع ہو یا نہ ہو۔ (تفسیر سمرقندی ج ١ ص ٢٤٣۔ ٢٤٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٣ ھ) 

اس کے بعد فرمایا حالانکہ وہ عورتیں تم سے میثاق غلیظ (پختہ عہد) لے چکی ہیں۔ اس کی تفسیر میں اکثر مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد وہ قول ہے جو نکاح کرانے والے کہتے ہیں کہ ہم نے اس عورت سے تمہارا نکاح اس عہد و پیمان پر کیا ہے کہ تم اس عورت کو دستور کے مطابق رکھو گے یا حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دو گے ‘ اور ابو العالیہ نے کہا اس سے مراد یہ قول ہے کہ تم نے ان عورتوں کو اللہ کی امانت کے طور پر عقد میں لیا ہے اور اللہ کی اجازت سے تم نے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کرلیا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 21

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا- سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ اَرَدتُّمُ اسۡتِبۡدَالَ زَوۡجٍ مَّكَانَ زَوۡجٍ ۙ وَّاٰتَيۡتُمۡ اِحۡدٰٮهُنَّ قِنۡطَارًا فَلَا تَاۡخُذُوۡا مِنۡهُ شَيۡـــًٔا‌ ؕ اَ تَاۡخُذُوۡنَهٗ بُهۡتَانًا وَّاِثۡمًا مُّبِيۡنًا

ترجمہ:

اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو ‘ تو اس مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو، کیا تم اس مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تم ایک بیوی کے بدلہ دوسری بیوی لانا چاہو ‘ اور ان میں سے ایک کو تم ڈھیروں مال دے چکے ہو تو اس مال میں سے تم کچھ بھی واپس نہ لو۔ کیا تم مال کو بہتان باندھ کر اور کھلے گناہ کا ارتکاب کرکے واپس لو گے ؟۔ (النساء : ٢٠ )

زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ اگر تم کو کوئی عورت ناپسند ہو اور اس کے علاوہ دوسری عورت پسند ہو اور تم یہ ارادہ کرو کہ تم اپنی عورت کو طلاق دے کر دوسری عورت سے نکاح کرلو تو تمہارے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مطلقہ عورت کو جو مہر دیا تھا اس کو واپس لے لو ‘ خواہ وہ ڈھیروں مال کیوں نہ ہو ‘ کیا تم اس عورت پر کوئی تہمت یا بہتان باندھ کر اس مال کو واپس لو گے ؟ اور تمہارے لئے اس عورت سے مال لینا کس طرح جائز ہوگا حالانکہ تم ایک دوسرے کے ساتھ عمل ازدواج کرکے جسمانی قرب حاصل کرچکے ہو ‘ اور تم اس عورت سے مہر پر عقد نکاح کرچکے ہو جس پر مسلمان گواہ ہوچکے ہیں اور اللہ بھی ہر چیز پر گواہ ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٢٨۔ ٢٧ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت سے معلوم ہوا کہ عورت کا زیادہ سے زیادہ مہر رکھنے کی کوئی حد نہیں ہے۔ 

قنطار کا معنی : 

اس آیت میں عورت کو دی ہوئی رقم کے لئے قنطار کا لفظ استعمال کیا گیا ہے اس کی مقدار میں حسب ذیل آثار ہیں : حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا قنطار بارہ ہزار ہیں ‘ ابو نضرہ العبدی نے کہا بیل کی کھال میں جتنا سونا بھرا جاسکے ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد بارہ ہزار ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد ستر ہزار دینار ہیں ‘ حضرت معاذ (رض) نے کہا اس مراد بارہ سو اوقیہ ہیں (ایک اوقیہ ‘ چالیس درہم کے برابر ہے) مجاہد سے ایک اور روایت ہے کہ اس سے مراد ستر ہزار مثقال ہیں۔ (سنن دارمی ‘ رقم الحدیث : ٣٤٧٠۔ ٣٤٦٤‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی بیروت) 

تاہم اس آیت میں قنطار سے مراد ڈھیروں روپیہ ہے امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے کہا اس سے مراد مال کثیر ہے (جامع البیان : ج ٤ ص ٢١٤) اسی طرح علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی لکھا ہے اس سے مراد مال کثیر ہے۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٣) 

حضرت عمر کا زیادہ مہر رکھنے سے منع فرمانا :

امام سعید بن منصور متوفی ٢٢٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

شعبی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے لوگوں کے سامنے خطبہ دیا۔ انہوں نے اللہ کی حمد وثناء کی پھر فرمایا سنو ! عورتوں کے مہر بہت زیادہ نہ رکھا کرو۔ اگر مجھے کسی کے متعلق معلوم ہوا کہ کسی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے باندھے ہوئے مہر سے زیادہ مہر باندھا ہے تو میں آپ کے مقرر کردہ مہر سے زائد رقم کو بیت المال میں داخل کر دوں گا۔ اس وقت قریش کی ایک عورت نے کہا اے امیر المومنین آیا اللہ کی کتاب پر عمل کرنا زیادہ حقدار ہے یا آپ کے حکم پر عمل کرنا ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا بلکہ اللہ کی کتاب پر عمل کرنا ‘ اس عورت نے کہا آپ نے ابھی عورتوں کا زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے : اگر تم نے کسی عورت کو قنطار (ڈھیروں مال) بھی دیا ہو تو اس سے واپس نہ لو ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا ہر شخص عمر سے زیادہ فقیہہ ہے آپ دو یا تین بار یہ فرما کر منبر سے نیچے اتر آئے اور فرمایا میں نے تم کو زیادہ مہر رکھنے سے منع کیا تھا سنو اب جو شخص جتنا چاہے مہر رکھ سکتا ہے۔ (سنن سعید بن منصور ‘ رقم الحدیث : ٥٩٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث : ١٠٤٢٠‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٢٣٣‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٢٨٤) 

حافظ جلال الدین سیوطی متوفی ٩١١ ھ لکھتے ہیں : 

کہ امام ابو یعلی نے روایت کیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص چار سو درہم سے زیادہ مہر نہ رکھے اور جب اس عورت نے قرآن مجید کی یہ آیت پیش کی تو آپ نے فرمایا اے اللہ مجھے معاف فرما ہر شخص کو عمر سے زیادہ قرآن کی سمجھ ہے ‘ اور زبیر بن بکار نے عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے کہ اس عورت کے اعتراض کے بعد حضرت عمر (رض) نے فرمایا مرد نے خطا کی اور عورت نے درست کیا۔ (الدرالمنثور ج ٢ ص ١٣٣) 

دوسری روایت کو حافظ ابن عبدالبرمتوفی ٤٦٣ ھ نے بھی عبداللہ بن مصعب سے روایت کیا ہے (جامع بیان العلم ج ١ ص ١٣١) 

حضرت عمر (رض) کے علم پر شیعہ کا اعتراض اور اس کا جواب : 

علامہ آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے اس حدیث کو امام ابویعلی کے حوالہ سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ شیعہ اس حدیث پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ حضرت عمر کو اس مسئلہ کا بھی علم نہیں تھا تو وہ خلافت کے اہل کس طرح ہوسکتے ہیں ؟ پھر انہوں نے اس کا یہ جواب دیا کہ اس آیت میں یہ تصریح نہیں ہے کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے مثلا کوئی کہے کہ اگر فلاں شخص تمہارے بیٹے کو قتل کردے پھر بھی تم اس کو معاف کردینا اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کو قتل کرنا جائز ہے اسی طرح یہاں فرمایا کہ اگر تم عورت کو قنطار دو پھر بھی اس سے واپس نہ لینا۔ اس سے یہ کب لازم آتا ہے کہ قنطار مہرباندھنا جائز ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں قنطار دینے کا ذکر ہے نہ یہ کہ قنطار بہ طور مہر دیا جائے اس لئے اس آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور خاوند کا عورت کو ہبہ کرکے واپس لینا صحیح نہیں ہے ‘ امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر عورت وہ ہے جس کا سب سے آسان مہر ہو ‘ حضرت عائشہ (رض) نے روایت کیا ہے کہ عورت کی سعادت یہ ہے کہ اس کا مہر سہل ہو۔ (روح المعانی ج ٤ ص ٢٤٥) 

ہمارے نزدیک علامہ آلوسی کے یہ دونوں جواب صحیح نہیں ہیں کیونکہ اس حدیث کے مطابق حضرت عمر (رض) نے یہ تسلیم کرلیا تھا کہ قنطار مہر باندھنا جائز ہے اور اس عورت کی رائے کو صحیح اور اپنی رائے کو خطا قرار دے کر اس سے رجوع فرمالیا تھا اور یہ حضرت عمر (رض) کی للہیت اور بلند ہمتی کی دلیل ہے کہ بھرئے مجمع میں انہوں نے اپنی رائے سے رجوع فرما لیا۔ رہا شیعہ کا اعتراض تو اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کے لئے عالم کل ہونا لازم نہیں ہے ‘ امام بخاری نے عکرمہ سے روایت کیا ہے کہ حضرت علی (رض) نے زندیقوں کو جلا دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ اگر میں ہوتا تو ان کو نہ جلاتا کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دو اور میں ان زندیقوں کو قتل کردیتا ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اس کو قتل کردو (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٩٢٢) 

امام حسین بن محمد بغوی متوفی ٥١٦ ھ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جب حضرت علی (رض) کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا : ابن عباس (رض) نے سچ کہا۔ اور تمام اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ مرتد کو قتل کیا جائے گا۔ (شرح السنۃ ج ٥ ص ٤٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) سے کوئی مسئلہ دریافت کیا آپ نے اس کا جواب دیا اس شخص نے کہا یہ مسئلہ اس طرح نہیں اس طرح ہے ‘ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے درست کہا اور میں نے خطا کی ” وفوق کل ذی علم علیم “ اور ہر علم والے سے زیادہ علم والا ہے۔ (جامع البیان ج ١٣ ص ١٩‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

حافظ ابن عبد البر نے بھی اس اثر کو محمد بن کعب القرظی سے روایت کیا ہے (جامع العلم ج ١ ص ١٣١) 

ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ کسی ایک مسئلہ کا علم نہ ہونا خلافت کے منافی نہیں اور یہ حضرت علی (رض) کی عظمت ہے کہ انہوں نے حدیث کے سامنے ہونے کے بعد اپنے موقف سے رجوع فرما لیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 20

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 3

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تُقۡسِطُوۡا فِى الۡيَتٰمٰى فَانْكِحُوۡا مَا طَابَ لَـكُمۡ مِّنَ النِّسَآءِ مَثۡنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ‌ ‌ۚ فَاِنۡ خِفۡتُمۡ اَلَّا تَعۡدِلُوۡا فَوَاحِدَةً اَوۡ مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ ذٰ لِكَ اَدۡنٰٓى اَلَّا تَعُوۡلُوۡا

ترجمہ:

اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرسکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو ‘ دو ، دو سے تین تین سے اور چار چار سے ‘ پس اگر تمہیں یہ خدشہ ہو کہ تم (ان میں) عدل نہ کرسکو گے تو (صرف) ایک سے نکاح کرو ‘ یا اپنی مملوکہ کنیزوں سے استمتعاع کرو یہ اس سے زیادہ قریب (بہ صحت) ہے کہ تم کسی ایک کی طرف جھک جاؤ

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں میں انصاف نہ کرسکو گے تو تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔ 

بعض لوگوں کی سرپرستی اور ولایت میں یتیم لڑکیاں ہوتی تھیں وہ لڑکی اس کے مال میں شریک ہوتی تھی اس کا سرپرست اس سے شادی کرنا چاہتا لیکن اس کو پورا مہر نہیں دینا چاہتا تھا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عائشہ (رض) سے اس آیت کے متعلق سوال کیا۔ انہوں نے کہا اے بھتیجے ایک سرپرست کے زیرپرورش ایک یتیم لڑکی ہوتی جو اس کے مال میں شریک ہوتی۔ اس شخص کو اس لڑکی کا مال اور اس کا حسن و جمال پسند آتا وہ اس کے مہر میں عدل و انصاف کئے بغیر اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا اور اس لڑکی کو جتنا مہر دوسرے لوگ دیتے اس سے کم مہر دینا چاہتا تو ایسے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا حتی کہ وہ ان کے مہر میں عدل و انصاف کریں اور رواج کے مطابق ان جیسی لڑکیوں کو جتنا مہر ملتا ہے اتنا مہران کو دیں۔ (اور اگر وہ ایسا نہ کریں) تو ان یتیم لڑکیوں کے سوا اور لڑکیاں جو ان کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلیں۔ (صحیح البخاری : رقم الحدیث : ٢٤٩٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٠١٨‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٢٠٦٨ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٣٤٦) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ لڑکی سے نکاح جائز ہے کیونکہ یتیم نابالغ کو کہتے ہیں اور لڑکیوں کو رواج کے مطابق مہردینا چاہیے اس آیت میں فرمایا ہے کہ جو لڑکیاں تم کو پسند ہوں ان سے نکاح کرلو اور لفظ ” ما “ عام ہے ‘ اس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ جواز نکاح کے لیے کفو کی شرط لگانا غلط ہے اور سیدہ کا غیر سید سے نکاح کرنا جائز ہے اس پر حسب ذیل دلائل ہیں :

غیر کفو میں نکاح کے جواز پر احادیث :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم کو وہ شخص نکاح کا پیغام دے جس کے دین اور اس کے خلق پر تم راضی ہو تو اس سے تم (اپنی لڑکی کا) نکاح کردو اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو زمین میں فتنہ ہوگا اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ 

(الجامع الصحیح ‘ رقم الحدیث : ١٠٨٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٦٧‘ سنن کبری ج ٧ ص ٨٢‘ المستدرک ج ٢ ص ١٦٤‘ مراسیل ابو داؤد ص ١١ کنز العمال ‘ رقم الحدیث : ٤٤٦٩٥‘ مصابیح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٢٢٩٥)

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ نے اس حدیث کو کچھ اضافہ کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

یحیی بن ابی کثیر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تمہارے پاس وہ شخص آئے جسکی امانت اور خلق پر تم راضی ہو تو اس کے ساتھ نکاح کردو خواہ وہ کوئی شخص ہو۔ اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں بہت بڑا فتنہ ہوگا اور بہت بڑا فساد ہوگا۔ (مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٠٣٢٥‘ ج ٦ ص ١٥٣۔ ١٥٢) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت فاطمہ بنت قیس (رض) روایت کرتی ہیں کہ حضرت ابو عمرو بن حفص (رض) نے مجھے طلاق دے دی اور آں حالیکہ وہ غائب تھے۔ انکے وکیل نے حضرت فاطمہ (رض) کے پاس کچھ جو، بھیجے وہ ناراض ہوگئیں وکیل نے کہا بہ خدا تمہارا ہم پر اور کوئی حق نہیں ہے ‘ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ کے پاس گئیں اور یہ واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا تمہارا اس پر کوئی نفقہ واجب نہیں ہے پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ کہ وہ ام شریک کے گھر عدت گزاریں ‘ پھر فرمایا ان کے ہاں تو میرے اصحاب آتے ہیں تم ابن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو کیونکہ وہ ایک نابینا شخص ہے تم آرام سے اپنے کپڑے رکھ سکوگی اور جب تمہاری عدت پوری ہوجائے تو مجھے خبر دینا وہ کہتی ہیں کہ جب میری عدت پوری ہوئی تو میں نے آپ کو بتایا کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان اور حضرت ابو جہم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابو جہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی اتارتا ہی نہیں اور رہے معاویہ تو وہ مفلس آدمی ہیں ان کے پاس مال نہیں ہے ‘ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو ‘ میں نے انکوناپسند کیا آپ نے پھر فرمایا اسامہ سے نکاح کرلو ‘ میں نے ان سے نکاح کرلیا اور اللہ تعالیٰ نے اس نکاح میں بہت کی اور عورتیں مجھ پر رشک کرتی تھیں۔ 

(صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٤٨٠‘ جامع ترمذی رقم الحدیث : ١١٣٥‘ سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٢٢٨٤‘ سنن نسائی رقم الحدیث : ٣٤١٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٨٦٩‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢٣٤ مسند احمدج ٦ ص ٤١٢) 

حضرت فاطمہ بنت قیس قریش کے ایک معزز گھرانے کی خاتون تھیں۔ حضرت اسامہ بن زید (رض) غلام زادے تھے ان کے کفو نہ تھے ‘ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نکاح کر کے یہ واضح کردیا کہ غیر کفو میں بھی نکاح جائز ہے اور بسا اوقات اس میں بڑی خیر ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ عتبہ بن ربیعہ بن عبد الشمس کے بیٹے ابو حذیفہ جنگ بدر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تھے ‘ حضرت ابو حذیفہ (رض) نے سالم کو اپنا منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا ‘ سالم ایک انصاری عورت کے غلام تھے ‘ حضرت ابو حذیفہ نے سالم کے ساتھ اپنی سگی بھتیجی ہند بنت الولید بن عتبہ بن ربیعہ کا نکاح کردیا تھا۔ (صحح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥٠٨٨ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث : ٣٢٨٠‘ مصنف عبدالرزاق ج ٦ ص ١٥٥‘ سنن کبری بیہقی ج ٧ ص ١٣٧) 

اس حدیث میں بھی یہ مذکور ہے ایک آزاد قرشیہ کا نکاح ایک غلام سے کیا گیا۔ 

ان احادیث میں تصریح ہے کہ نکاح کے جواز کے لئے نصب میں کفو اور مساوات اور مماثلت کی شرط لگانا ازروئے اسلام صحیح نہیں ہے۔ 

کفو میں نکاح کی شرط کے متعلق مذاہب اربعہ : 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ حامد آفندی حنفی سے سوال کیا گیا کہ ایک ہاشمی شخص نے دانستہ اپنی مرضی سے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح ایک غیر ہاشمی شخص سے کردیا آیا یہ نکاح صحیح ہے ؟ جواب ہاں اس صورت میں نکاح صحیح ہے۔ (تنقبح الفتاوی الحامدیہ ج ١ ص ٢١‘ مطبوعہ کوئٹہ) 

افضل اور انسب یہی ہے کہ کفو میں یعنی ایک جیسے خاندانوں میں نکاح کیا جائے تاکہ شوہر اور اس کی زوجہ کے درمیان ذہنی یگانگت رہے اور خاندان کی ناہمواری کی وجہ سے ازدواجی زندگی میں تلخیاں پیدا نہ ہوں تاہم اگر کسی وقت کسی احمد کے نزدیک اس مسئلہ میں دو قول ہیں ایک قول کے مطابق کفو شرط ہے اور دوسرے کے مطابق کفو شرط نہیں ہے۔ (مغنی ابن قدامہ ج ٧ ص ٢٦) امام مالک کے نزدیک جواز نکاح کے لئے کفو شرط نہیں ہے (المدونۃ الکبری ج ٢ ص ١٤٥۔ ١٤٤) 

امام شافعی کے نزدیک غیر کفو میں نکاح جائز ہے۔ (کتاب الام ج ٥ ص ١٥‘ روضۃ الطالبین ج ٧ ص ٨٤) فقہاء احناف میں سے امام ابوبکر جصاص اور امام کرخی کے نزدیک کفو مطلقا شرط نہیں ہے اور جمہور فقہاء احناف کے نزدیک اگر لڑکی کے اولیاء (سرپرست) غیر کفو میں اس کی مرضی سے نکاح کردیں تو نکاح صحیح ہے اور اگر لڑکی خود غیر کفو میں نکاح کرے تو اس کے اولیاء کو اس نکاح پر اعتراض کا حق ہے اور عدالت سے یہ نکاح منسوخ کرا سکتے ہیں۔ (رد المختارج ٢ ص ٣١٨) 

اس مسئلہ میں زیادہ تفصیل جانبین کے دلائل اور بحث ونظر کے لئے شرح صحیح مسلم ج ٣ اور ج ٦ کا مطالعہ فرمائیں۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہیں جو عورتیں پسند ہوں ان سے نکاح کرو۔ دو دو سے ‘ تین تین سے اور چار چار سے۔ (النساء : ٣)

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ جو شخص مالی اور جسمانی طور پر متعدد بیویاں رکھ سکتا ہے وہ بہ شرط عدل و انصاف چار بیویوں کو اپنے نکاح میں رکھ سکتا ہے اور اگر وہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہ کرسکے تو وہ صرف ایک بیوی کو نکاح میں رکھے۔ 

تعدد ازدواج پر اعتراض کے جوابات :

اسلام نے بہ شرط عدل چار عورتوں سے نکاح کی جو اجازت دی ہے اس پر مستشرقین اعتراض کرتے رہتے ہیں دوسری طرف کچھ آزاد خیال مسلمان ہیں جو اپنے آپکو اللہ اور رسول سے زیادہ حقوق انسانیت کا محافظ سمجھتے ہیں انہی لوگوں کے اثر سے پاکستان میں عائلی قوانین بنائے گئے اور بیوی کی اجازت کے بغیر مرد کے لئے دوسری شادی کرنا قانونا ممنوع قرار دے دیا گیا۔ سالہا سال سے تادم تحریر پاکستان میں یہ قانون نافذ ہے حالانکہ ملک کے تمام اہل فتوہ علماء اس قانون کو مسترد کرچکے ہیں۔ بعض معاشرتی مشکلات کے لئے تعددازدواج کی رخصت ایک معقول حل ہے اور اس کے بغیر اور کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ عورتوں کی اوسط پیدائش مردوں کی اوسط پیدائش سے زیادہ ہوتی ہے ہم فرض کرلیتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کی شرح پیدائش میں ایک اور دو کی نسبت ہے اب اگر ہر مرد صرف ایک عورت سے شادی کرے تو سوال یہ ہے کہ جو عورتیں بچ جائیں گی ان کے لیے کیا طریقہ تجویز کیا جائے گا اس مسئلہ کے حل کے صرف تین صورتیں ہیں۔ 

(ا) باقی ماندہ عورتیں تمام عمر شادی کے بغیر گزار دیں اور اپنی جنسی خواہش کبھی کسی مرد سے پوری نہ کریں۔ 

(ب) باقی عورتیں بغیر شادی کے ناجائز طریقہ سے اپنی خواہش پوری کریں۔ 

(ج) باقی عورتوں سے وہ مرد شادی کرلیں جو مالی اور جسمانی طور سے اس کے اہل ہوں۔ 

پہلی صورت فطرت کے خلاف ہے اور عام بشری طاقت سے باہر ہے۔ دوسری صورت دین اور قانون دونوں اعتبار سے ناجائز اور گناہ ہے اس لئے قابل عمل ‘ معروف ‘ فطری اور پسندیدہ صورت صرف تیسری صورت ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے۔ 

دوسری دلیل یہ ہے کہ بالعموم مرد ساٹھ سال کی عمر تک جنسی عمل کا اہل اور تروتازہ رہتا ہے جب کہ عورت بالعموم دس بارہ بچے جن کر چالیس سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد جنسی عمل کے لئے پرکشش یا اہل نہیں رہتی اب اگر صرف ایک بیوی سے نکاح کی اجازت ہو تو مرد اپنی زندگی کے بیس سال کیسے گزارے گا۔ اس کی بھی صرف تین صورتیں ہیں۔ 

(١) ان بیس سالوں میں مرد اپنی جنس خواہش کو بالکل پورا نہ کرے۔ 

(ب) اس عرصہ میں مرد ناجائز طریقہ سے اپنی خواہش پوری کرے۔ 

(ج) اس عرصہ کے لئے مرد دوسری عورت سے نکاح کرلیے۔ 

پہلی صورت غیر فطری ہے اور دوسری صورت غیر قانونی اور شرعی ہے اس لیے قابل عمل صرف تیسری صورت ہے۔ 

یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جگہ مرد اور عوت کی جسمانی اہلیت میں عمر کا یہی معیار ہو ‘ اس میں کمی بیشی بھی ہوسکتی ہے لیکن بعض صورتوں میں یہ مشکل بہرحال بیش آتی ہے اور تعدد ازدواج کے سوا اس کا اور کوئی معقول حل نہیں ہے۔

تیسری دلیل یہ ہے کہ بعض اوقات کسی شخص کی بیوی بانجھ ہوتی ہے جس سے اولاد نہیں ہوسکتی اور انسان اپنی نسل بڑھانے اور اپنا سلسلہ نسب آگے منتقل کرنے کے لیے طبعی طور پر اولاد کا خواہش مند ہوتا ہے اس مشکل کے حل کی بھی صرف دو صورتیں ہیں۔ 

(١) پہلی بیوی کو طلاق دے کر دوسری شادی کرلے۔ 

(ب) پہلی کے ہوتے ہوئے دوسرا نکاح کرلے۔ 

اور عدل و انصاف کے مطابق اور انسانی ہمدردی کے نزدیک تر صرف صورت ہے جو اسلام کے تعدد ازواج کے اصول پر مبنی ہے کیونکہ جو عورت بانجھ ہو اس کو خود بھی اولاد کی پیاس ہوتی ہے اور شوہر کی اولاد سے بھی اس کی ایک گونہ تسکین ہوجاتی ہے۔ 

چوتھی دلیل یہ ہے کہ فرض کیجئے کہ کسی شخص کی بیوی ایک متعدی مرض میں مبتلا ہو یا اس کو کوئی ایسی بیماری ہو جس میں شفاء کی امید بالکل نہ ہو یا بہت کم ہو اور اس کا شوہر جوان اور صحت مند ہو۔ اب اس شخص کے سامنے صرف چار راستے ہیں۔ 

(ا) اس عورت کو طلاق دے دے۔

(ب) تمام عمر جنسی خواہش پوری نہ کرے۔ 

(ج) ناجائز طریقہ سے اپن جنسی خواہش پوری کرے۔ 

(د) وہ شخص دوسری شادی کرلے۔ عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی کے اعتبار سے یہی صورت قابل عمل ہے۔ 

چار بیویوں پر اقتصار کی توجیہہ :

صاحب استطاعت کو چار بیویوں کی اجازت دینے میں یہ حکمت ہے کہ اگر اس کی صرف ایک یا دو بیویاں ہوں اور وہ دونوں ماہواری کے ایام میں ہوں اور اس کا خاوند صحت مند ‘ قوی اور توانا ہو تو اس کا نفسانی خواہش پر قابو پانا مشکل ہوگا اور جب اس کی چار بیویاں ہوں گی تو ایسا بہت کم اتفاق ہوگا کہ وہ چاروں بیک وقت حیض اور نفاس کے مسائل سے دو چار ہوں اور اگر چار سے زیادہ نکاح کی اجازت ہوتی تو اس بات کا خدشہ تھا کہ وہ ان کے حقوق ادا نہیں کرسکے گا اور بیویوں کے ساتھ بےانصافی ہوگی کیونکہ تمام بیویوں کے حقوق ادا کرنا بہت مشکل ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ” اگر تم کو یہ خوف ہو کہ تم ان میں عدل نہیں کرسکو گے تو پھر صرف ایک عورت سے نکاح کرو “ بیویوں کی باری مقرر کرنے میں ‘ ان کے ساتھ جماع کرنے اور ان کے کھانے ‘ پینے ‘ کپڑوں اور رہائش میں مساوات کرنا عدل اور انصاف ہے اور اگر اس کو کسی ایک بیوی کے ساتھ زیادہ محبت اور دوسری سے کم ہو تو یہ عدل اور انصاف کے منافی نہیں ہے۔ اس لئے صرف چار بیویوں پر اکتفا کرنا عدل اور متوسط صورت ہے کیونکہ زمانہ جاہلیت میں بیویوں کی تعداد کی کوئی حد معین نہیں تھی۔ تاہم اسلام میں ایک سے زیادہ بیویوں کی اجازت اسی شخص کے لئے ہے جو عدل و انصاف کے ساتھ انکے حقوق ادا کرسکے اور چار سے زیادہ نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔ احادیث میں ہے کہ جن مسلمانوں نے پہلے چار سے زیادہ بیویاں رکھی ہوئی تھیں اس آیت کے نازل ہونے کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو منتخب کرکے رکھ لیں اور باقی کو الگ کردیں۔ 

قبل از اسلام چار سے زیادہ کی ہوئی بیویوں کے متعلق احادیث :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ غیلان بن سلمہ ثقفی اسلام لائے اور ان کی زمانہ جاہلیت میں دس بیویاں تھیں وہ بھی انکے ساتھ مسلمان ہوگئیں تو ان کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ وہ ان میں سے چار کو اختیار کرلیں۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١١٣١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٣) 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت قیس بن حارث (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب میں مسلمان ہوا تو میرے پاس آٹھ بیویاں تھیں۔ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کو بیان کیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان میں سے چار کو اختیار کرلو۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢٢٤٢) 

قبل از اسلام سے زیادہ کی ہوئی بیویوں کے متعلق مذاہب ائمہ : 

حافظ زکی الدین منذری متوفی ٦٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ان میں سے چار بیویوں کو اختیار کرلو ‘ اس حدیث کی ظاہری عبارت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کو اختیار ہے کہ وہ ان میں سے جن کو چاہے رکھ لے۔ خواہ ان تمام بیویوں سے عقد واحد میں نکاح کیا ہو یا ہر بیوی سے الگ الگ عقد کیا ہو اور اور اس میں پہلی اور پچھلی کا امتیاز نہیں ہے کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بغیر کسی استثناء اس کی طرف اختیار مفوض کردیا ہے۔ 

امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد بن حنبل کا یہی مذہب ہے اور اسحاق بن راہویہ ‘ محمد بن الحسن اور حسن بصری سے بھی یہی منقول ہے۔ اس کے برخلاف امام ابو حنفیہ اور سفیان ثوری نے یہ کہا ہے کہ اگر ان سب سے عقد واحد میں نکاح کیا ہے تو تمام بیویوں کو اس سے الگ کردیا جائے گا اور اگر اس نے متعدد بیویوں سے یکے بعد دیگرے ترتیب سے نکاح کیا ہے تو علی الترتیب پہلی چار سے نکاح صحیح ہوگا اور چار سے زائد بیویوں کو اس سے الگ کردیا جائے گا۔ 

حافظ منذری فرماتے ہیں مذکور الصدر احادیث سے یہ معنی باطل ہوجاتا ہے کیونکہ ان احادیث کی رو سے یہ جائز ہے کہ جس کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں ہیں وہ ان میں سے کسی بھی چار بیویوں کو اختیار کرلے خواہ وہ پہلی ہوں یا پچھلی اور جو ائمہ یہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ دیکھنا ہوگا کہ جن کے ساتھ ماضی میں نکاح صحیح تھا وہ اسلام لانے کے بعد نکاح میں برقرار رہیں تو ان پر یہ لازم آئے گا کہ ماضی میں جو نکاح بغیر گواہ اور ولی کی اجازت کے بغیر کئے گئے ہوں وہ بھی اسلام لانے کے بعد صحیح نہ ہوں اور نہ وہ نکاح صحیح ہوں جو پہلی خاوند کی عدت میں کئے گئے اور اگر یہ نکاح اس لئے صحیح قرار دیئے جائیں کہ یہ جاہلیت کے نکاح تھے اور اسلام لانے کے بعد وہ معاف ہوگئے تو اسی طرح متعدد ازواج کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے اور تقدیم اور تاخیر سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیے اور اس پر یہ اعتراض نہیں ہوگا کہ اگر کسی نے جاہلیت میں اپنی ماں یا بہن سے نکاح کرلیا تو وہ بھی اسلام لانے کے بعد صحیح ہونا چاہیے کیونکہ ماں یا بہن ذوات میں سے ہیں وہ ہرحال میں ماں اور بہن ہی رہیں گی اس کے برخلاف کسی بیوی کا مقدم یا موخر ہونا اوصاف میں سے ہے۔ (سنن ابوداؤد ج ٣ ص ١٥٧۔ ١٥٥‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت) 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہاں امام اعظم کے مذہب پر اس حدیث کا جواب مشکل ہے کیونکہ ابن ہبیرہ نے یہ نقل کیا ہے کہ جو شخص مسلمان ہوا اور اس کے نکاح میں چار سے زیادہ عورتیں تھیں تو امام اعظم کا مذہب یہ ہے کہ اگر ان سب سے بیک وقت نکاح کیا ہے تو یہ نکاح باطل ہے اور اگر یکے بعد دیگرے نکاح کیا ہے تو پہلی چار کے ساتھ نکاح صحیح ہوگا اور باقی کے ساتھ نکاح باطل ہوگا ‘ اور ائمہ ثلاثہ نے حدیث کے مطابق یہ کہا ہے کہ اسلام لانے کے بعد اس کو اختیار ہوگا وہ ان میں سے جن چار کو چاہے اپنے نکاح میں رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے (روح المعانی ج ٤ ص ‘ ١٩٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

احادیث صحیحہ صریحہ کا اقوال ائمہ پر مقدم ہونا : 

اس مسئلہ میں بلکہ ہر مسئلہ میں ہمارا یہ موقف ہے کہ احادیث صحیحہ صریحہ ہر امام کے قول پر مقدم ہیں البتہ جس مسئلہ میں دو حدیثیں ہوں کسی امام نے ایک حدیث پر عمل کیا اور دوسرے امام نے دوسری حدیث پر عمل کیا تو ہم اسی حدیث پر عمل کریں گے جس پر ہمارے امام نے عمل کیا ہے اور اس کی وجوہ ترجیح بیان کریں گے جیسا کہ عنقریب مہر کی مقدار میں انشاء اللہ واضح ہوجائے گا ‘ اور جس مسئلہ پر بہ ظاہر قرآن مجید اور حدیث کا تعارض ہو ‘ اور ہمارے امام نے قرآن پر عمل کیا ہو ہم اس حدیث کو قرآن مجید کے مطابق کرکے اس کی توجیہہ کریں گے اور جس مسئلہ میں ایک طرف حدیث ہو اور دوسری طرف محض رائے اور قیاس ہو تو اس صورت میں ہمارے نزدیک صحیح نہیں ہے اور امام اعظم ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اور زیر بحث صورت ایسی ہی ہے اس لئے صحیح یہی ہے کہ اسلام لانے سے پہلے جس شخص کے نکاح میں چار سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ شخص اور اس کی تمام بیویاں ایک ساتھ مسلمان ہوجائیں تو اس شخص کو اختیار دیا جائے گا کہ وہ ان میں سے جن چار کو چاہے رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے ‘ میں نے تقریبا بیس اکیس سال پہلے تذکرہ المحدثین میں اس کے خلاف لکھا تھا ‘ اس سے میں اب رجوع کرتا ہوں۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج مطہرات کا بیان :

تعدد ازدواج کی بحث میں مستشرقین کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گیارہ شادیاں کیں اور انکے نزدیک زیادہ شادیاں کرنا زیادہ نفسانی خواہشوں پر مبنی ہے ‘ نیز آپ نے تزویج کی زیادہ سے زیادہ حد چار بیویاں مقرر کی ہے پھر آپ کا یہ عمل خود آپ کے قول کے خلاف ہے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کی تفصیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پچیس سال کی عمر میں حضرت خدیجہ (رض) سے شادی کی وہ ایک بیوہ خاتون تھیں پچاس سال کی عمر تک آپ نے حضرت سودہ (رض) سے نکاح کیا ‘ ہجرت سے دو سال پہلے ہی حضرت عائشہ (رض) سے نکاح ہوگیا تھا اور ہجرت کے ایک سال بعد ان کی رخصتی عمل میں آئی پھر واقعہ بدر کے دو سال بعد حضرت ام سلمہ سے نکاح ہوا ‘ ہجرت کے دو سال بعد حضرت حفصہ (رض) سے نکاح ہوا پھر ٣ ھ میں حضرت زینب بن جحش سے نکاح ہوا پھر ٥ ھ میں حضرت جویریہ سے نکاح ہوا پھر ٦ ھ میں حضرت ام حبیبہ سے نکاح ہوا۔ پھر ٧ ھ میں حضرت صفیہ سے نکاح ہوا پرھ میمونہ بنت الحارث پھر فاطمہ بنت سریح پھر زینب بنت خزیمہ پھر ہند بنت یزید پھر اسماء بنت النعمان پھر قتیلہ بنت الاشعث پھر شتاء بنت اسماء سے نکاح کیا۔ (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ١٤٥) 

ابو طاہر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت انس اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پندرہ خواتین سے نکاح کیا ‘ تیرہ ازواج کی رخصتی ہوئی اور آپ کے پاس گیارہ ازواج نکاح میں جمع ہوگئیں اور جس وقت آپ کا وصال ہوا اس وقت آپ کی نو ازواج تھیں 

مشہور یہ ہے کہ گیارہ ازواج کی رخصتی ہوئی اور دو میں اختلاف ہے ان گیارہ ازواج میں سے چھ قرشیہ تھیں چار غیر قرشیہ اور ایک بنو اسرائیل میں سے تھیں۔ 

جوچھ ازواج قرشیہ تھیں ان کی تفصیل یہ ہے : حضرت خدیجہ ‘ (رض) حضرت عائشہ (رض) حضرت حفصہ (رض) حضرت ام حبیبہ (رض) حضرت ام سلمہ (رض) ‘ حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) اور جو چار ازواج عربیہ غیر قریشہ تھیں وہ یہ ہیں : حضرت زینب بنت جحش (رض) حضرت میمونہ بنت الحارث ‘ (رض) حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) حضرت جویرہ بنت الحارث ‘ (رض) اور ایک بنو اسرائیل میں سے ہیں حضرت صفیہ بنت حی بن اخطب (رض) ۔ 

تعددازواج کا آپکی خصوصیت ہونا : 

اس تفصیل سے یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا متعدد ازواج سے نکاح کرنا کسی نفسانی خواہش کی وجہ سے نہیں تھا کیونکہ نفسانی خواہش کا غلبہ زیادہ سے زیادہ بیس سے پچاس سال کی عمر تک ہوتا ہے اور آپ نے پچیس سال کی عمر میں ایک بال بچوں والی بیوہ خاتون سے نکاح کیا اور جب تک وہ زندہ رہیں آپ نے پچاس سال کی عمر تک دوسرا نکاح نہیں کیا اگر تعدد ازواج کی وجہ سے حظ نفسانی ہوتا تو آپ جوانی میں کسی حسین ‘ کم عمر اور کنواری لڑکی سے نکاح کرتے بلکہ ایسی متعدد لڑکیوں سے نکاح کرتے اور جب آپ نے ایسا نہیں کیا اور مکہ کی زندگی میں تریپن سال کی عمر تک آپ کے حرم میں صرف ایک زوجہ تھیں پہلے حضرت خدیجہ (رض) اور پھر حضرت سودہ (رض) کیونکہ حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی اور مدینہ منورہ میں ہی آپ کے حرم میں متعدد ازواج آئیں جن میں سے حضرت عائشہ (رض) کے علاوہ باقی تمام ازواج معمر ‘ بیوہ یامطلقہ خواتین تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ازواج کا تعدد کسی حظ نفسانی پر مبنی نہیں تھا بلکہ اس کی وجہ خانگی اور عائلی زندگی میں اسلام کے احکام روایت اور تبلیغ تھی اور زیادہ سے زیادہ خاندانوں کے ساتھ رشتہ قائم کرنا تھا تاکہ دین اسلام کی تبلیغ کے زیادہ مواقع میسر ہوں اور کئی مسلم خاندانوں کو رشتہ داری کا شرف عطا کرنا تھا اور کئی عیالدار خواتین سے نکاح کرکے سوتیلے بچوں کی پرورش اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا اسوہ اور نمونہ مہیا کرنا تھا نیز یہ بتلانا تھا کہ عام مسلمان تو دو بیویوں کے درمیان بھی عدل اور انصاف قائم نہیں کر پاتے تو اسلام ہو ان کی سیرت کی عظمت پر جنہوں نے بیک وقت نو ازواج مطہرات کے درمیان عدل و انصاف کو قائم رکھا اور یہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل ہر شعبہ میں آپ کے قول سے بڑھ کر ہوتا ہے آپ نے زیادہ سے زیادہ چار بیویوں میں عدل کرنے کا حکم دیا اور خود نو بیویوں میں عدل کرکے دکھایا اور اس سے یہ بھی واضح ہوا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احکام شرعیہ پر عمل کرنے میں عام افراد امت کے مساوی نہیں ہیں بلکہ احکام شرعیہ کے ہر شعبہ میں آپ کی انفرادیت اور خصوصیت ہے ‘ آپ کی نیند سے آپکا وضو نہیں ٹوٹتا آپ کے فضلات طیب و طاہر ہیں۔ نماز میں آپ قبلہ کی طرف منہ کرنے کے محتاج نہیں بلکہ قبلہ اپنے قبلہ ہونے میں آپ کی توجہ کا محتاج ہے ‘ آپ کا نماز پڑھنا اس لئے ہے کہ آپ اپنے رب سے راضی ہوں ‘ زکوۃ آپ پر فرض نہیں ‘ صدقات آپ کے لائق نہیں بلکہ قیامت تک آپ کی آل کے بھی لائق نہیں۔ نکاح میں آپ کے لئے تعدد کی شرط نہیں ‘ مہر مقرر کرنا آپ پر ضروری نہیں ‘ ازواج میں باریوں کی تقسیم بھی آپ پر واجب نہیں ‘ آپ کسی کو اپنے ترکہ کا وارث نہیں بناتے کیونکہ آپ زندہ ہیں اسی آپ کے وصال کے بعد آپ کی ازواج کا کسی اور سے نکاح کرنا جائز نہیں ‘ سو جس طرح دیگر احکام شرعیہ میں اللہ تعالیٰ نے آپ کا امتیاز قائم رکھا ہے نکاح میں تعدد ازدوازج کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعددازدواج کی تفصیل وار حکمتیں :

(١) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پہلی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ بنت خویلد (رض) ہیں آپ کیساتھ نکاح سے پہلے حضرت خدیجہ عتیق بن عائذ کے نکاح میں تھیں ان سے ایک بیٹی ہند تھیں اس کے بعد انہوں نے ابو ہالہ مالک بن نباش کے ساتھ نکاح کیا اور ان سے ہند اور ہالہ نام کے دو بیٹے پیدا ہوئے (اسدالغابہ ج ٥ ص ٤٣٤) زمانہ جاہلیت میں حضرت خدیجہ (رض) کا لقب طاہرہ تھا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مضاربت پر ان کے مال سے تجارت کرتے تھے۔ اپنے شوہر کی وفات کے بعد حضرت خدیجہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امانت اور دیانت سے متاثر ہوئیں۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ٢٥ سال کی عمر میں حضرت خدیجہ (رض) سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چالیس سال تھی۔ ہجرت سے چار یا پانچ پہلے حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال ہوگیا۔ حضرت خدیجہ (رض) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چار صاحبزادیاں حضرت زینب (رض) ‘ حضرت رقیہ ‘ حضرت ام کلثوم (رض) اور حضرت فاطمہ (رض) پیدا ہوئیں۔ ان سب نے زمانہ اسلام پایا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی اور ایک صاحب زادے حضرت قاسم پیدا ہوئے، ایک اور صاحبزادہ حضرت ابراہیم ماریہ قبطیہ (رض) سے پیدا ہوئے۔ حضرت خدیجہ (رض) نبی کریم کے ساتھ چوبیس یا پچیس سال تک زندہ رہیں اور ان کی موجودگی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ حضرت خدیجہ (رض) سے آپ کا نکاح عام عادت اور فطرت کے مطابق ہوا اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور اس کی حکمت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تمام اولاد امجاد حضرت خدیجہ (رض) سے ہی مقدر کردی تھی۔ 

(٢) حضرت عائشہ بنت صدیق (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دوسری زوجہ ہیں۔ امام طبرانی اور احمد نے روایت کیا ہے کہ جب حضرت خدیجہ (رض) فوت ہوگئیں تو حضرت عثمان بن مظعون کی بیوی خولہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئیں اور عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ آپ نے فرمایا کس سے ؟ عرض کیا آپ چاہیں تو کنواری سے نکاح سے نکاح کرلیں اور چاہیں تو بیوہ سے کرلیں۔ کنواری عائشہ بنت ابی بکر ہیں اور بیوہ سودہ بنت زمعہ ہیں (رض) آپ نے فرمایا جاؤ ان دونوں سے میرا ذکر کرو۔ الحدیث۔ (مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢٣١) ہجرت سے دو سال پہلے حضرت عائشہ (رض) سے نکاح ہوا اس وقت حضرت عائشہ (رض) کی عمر چھ سال تھی اور ہجرت کے ایک سال بعد حضرت عائشہ (رض) کی رخصتی ہوئی (صحاح ستہ) نوسال رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہیں۔ اور سترہ رمضان منگل کی شب ٥٨ ہجری میں آپ کا وصال ہوگیا۔ مدینہ طیبہ میں وفات ہوئی۔ بقیع میں مدفون ہوئیں۔ حضرت ابوہریرہ (رض) نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 

حضرت عائشہ (رض) سے عادت اور فطرت کے مطابق نکاح ہوا اور جب نکاح ہوا تو تعدد ازواج کا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور ان کے ساتھ نکاح کرنے میں حکمت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) جو آپ کے سب سے زیادہ معتمد صحابی تھے انکورشتہ کی فضیلت عطا کرنی تھی کہ وہ آپ کے خسر ہوگئے۔ جس طرح حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے ساتھ اپنی صاحبزادیوں کا نکاح کر کے آپ نے ان کو دامادی کی فضیلت عطا فرمائی اور کمسن اور کنواری لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے کا نمونہ قائم کرنا تھا اور یہ بتلانا تھا کہ دوست اور ایمانی بھائی حقیقی بھائی نہیں ہوتا اور اس کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔ 

(٣) آپ کی تیسری زوجہ حضرت سودہ بنت زمعہ (رض) ہیں یہ بہت پہلے اسلام لا کر بیعت کرچکی تھیں۔ یہ آپ سے پہلے اپنے عمراد سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں۔ وہ حضرت سودہ (رض) کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔ ان دونوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی جب یہ دونوں مکہ میں آئے تو انکے خاوند فوت ہوگئے۔ جب ان کی عدت پوری ہوگئی تو حضرت عائشہ (رض) سے نکاح کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انک کو نکاح کا پیغام دیا پھر آپ نے نبوت کے آٹھویں یا دسویں سال ان سے نکاح کرلیا۔ حضرت خدیجہ (رض) کی وفات کے بعد انکی رخصتی ہوئی تھی۔ حضرت عمر (رض) کی خلافت کے اخیر میں مدینہ میں ان کی وفات ہوئی۔ امام واقدی سے منقول ہے کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے دوران چون (٥٤) ہجری میں ان کی وفات ہوئی۔

ان سے نکاح کے وقت بھی تعدد ازواج کا مسئلہ نہیں تھا کیونکہ حضرت خدیجہ کی وفات ہوچکی تھی اور حضرت عائشہ کی ابھی رخصتی نہیں ہوئی تھی اور ان سے نکاح کرنے میں یہ حکمت تھی کہ یہ قریش اور اپنے اعزہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر حبشہ ہجرت کرگئی تھیں جب یہ حبشہ سے واپس آئیں تو انکے خاوند فوت ہوگئے اب اگر یہ اپنے عزیزوں میں لوٹ جاتیں تو وہ ان پر اور زیادہ ظلم وستم کرتے اور انکے دین کو آزمائش میں ڈال دیتے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے حال پر ترس کھا کر ان سے عقد کرکے انکو اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں لے لیا اور انہیں ان کے اسلام اور ان کی ہجرت کی جزا دی۔ نیز اس میں آپکی سیرت کا یہ نمونہ ہے کہ کسی بےسہارا بیوہ عورت سے نکاح کرکے اپنی حفاظت میں لے لینا آپ کی سنت اور آپ کی پاکیزہ سیرت ہے۔ ہجرت کے ایک سال بعد آپ کی دو بیویاں حضرت عائشہ اور حضرت سودہ آپ کے پاس جمع ہوگئیں اور اسی وقت تعدد ازواج کی ابتداء ہوئی اس وقت آپ کی عمر شریف ٥٤ سال تھی۔ 

(٤) آپ کی چوتھی زوجہ حضرت حفصہ بنت عمر بن الخطاب (رض) ہیں یہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اعلان نبوت سے پانچ سال پہلے پیدا ہوئی تھیں۔ یہ پہلے حضرت خنیس بن حذافہ (رض) کے نکاح میں تھیں۔ امام بخاری نے روایت کیا ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے تھے بدر میں حاضر ہوئے اور مدینہ میں فوت ہوگئے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٥١٢٢) ہجرت کے تیس ماہ بعد شعبان میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کرلیا۔ شعبان ٤٥ ھ میں مدینہ منورہ میں آپ کی وفات ہوئی مروان بن الحکم نے آپکی نماز جنازہ پڑھائی۔ 

ان سے نکاح کا سبب حضرت عمر کی دلداری تھا اور انکو اپنے رشتہ کی فضیلت عطا کرنا تھا جیسا کہ ہم نے حضرت عائشہ (رض) کے سلسلہ میں بیان کیا ہے۔ 

(٥) آپ کی پانچویں زوجہ حضرت زینب بنت خزیمہ ہیں ان کا لقب ام المساکین تھا کیونکہ یہ بہت زیادہ صدقہ اور خیرات کرتی تھیں۔ یہ پہلے حضرت عبداللہ بن جحش (رض) کے نکاح میں تھیں اور جنگ احد میں شہید ہوگئے۔ ایک قول یہ ہے کہ یہ پہلے طفیل بن حارث کے نکاح میں تھیں۔ انہوں نے ان کو طلاق دے دی پھر ان کے بھائی عبیدہ بن الحارث نے ان سے نکاح کرلیا وہ جنگ بدر میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے اکتیس ماہ بعد ان سے نکاح کیا تھا۔ یہ نکاح حضرت حفصہ سے نکاح کے بعد ہوا تھا۔ ابن اثیر نے ذکر کیا ہے کہ حضرت زینب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس دو یا تین ماہ رہیں۔ اس کے بعد فوت ہوگئیں۔ حضرت زینب چونکہ دوسروں کا سہارا بنی تھیں اس لیے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے بیوہ ہونے کے بعد ان کو بےسہارا نہیں چھوڑا ان سے نکاح کرنے کی حکمت یہ تھی کہ یہ بہت صدقہ و خیرات کرتی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی اس نیکی کے صلہ میں ان کو شرف زوجیت بخشا۔ 

(٦) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چھٹی زوجہ حضرت ام سلمہ عاتکہ بنت عامر (رض) ہیں۔ ان کے پہلے شوہر ابو سلمہ بن عبدالاسد تھے۔ انہوں نے اور ان کے شوہر نے پہلے حبشہ کی طرف ہجرت کی اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ ان سے سلمہ ‘ عمر ‘ رقیہ اور زینب چار بچے پیدا ہوئے۔ حضرت ابو سلمہ (رض) ٤ ھ میں فوت ہوگئے تھے ‘ عدت پوری ہونے کے بعد شوال چار ہجری میں ان سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کرلیا۔

امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ جس مسلمان کو وہ مصیبت پہنچے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر کی اور وہ یہ دعا کرے ہم اللہ کے لیے ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ اے اللہ مجھ کو اس مصیبت میں اجر دے اور اس کے بعد مجھے اس اچھی چیز عطا فرما تو اللہ تعالیٰ اس کو اس سے اچھی چیز عطا فرمائے گا۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩١٨) نیز امام مسلم نے روایت کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ نے فرمایا میں سوچتی تھی میرے لئے ابو سلمہ سے اچھا کون ہوگا ؟ مجھے پہلے حضرت ابوبکر نے نکاح کا پیغام دیا میں نے انکار کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نکاح کا پیغام دیا تو میں نے کہا مرحبا ! اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میرا شوہر بنادیا۔ میں نے اپنے بچوں کا عذر پیش کیا تو آپ نے فرمایا اللہ تم کو ان سے مستغنی کر دے گا۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٩١٨) 

یزید بن معاویہ کے دور حکومت میں ٦١ ھ یا ٦٢ ھ میں چوراسی سال کی عمر گزار کر حضرت ام سلمہ (رض) کی وفات ہوئی۔ امام طبرانی نے سند معتمد کے ساتھ روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد آپ کی ازواج میں سے سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش کی وفات ہوئی اور سب سے آخر میں حضرت ام سلمہ کی وفات ہوئی۔ 

حضرت ام سلمہ (رض) سے نکاح کی یہ حکمت تھی کہ انہوں نے دعا کی تھی اے اللہ ! مجھے ابو سلمہ سے بہتر شوہر عطا فرما۔ آپ کے ساتھ نکاح کرنے سے انکی دعا کی قبولیت کا اثر ظاہر ہوا نیز بچوں والی بیوہ عورت سے نکاح کرنا اور اس کے بچوں کی پرورش کرنا آپ کی سنت اور آپ کا اسوہ قرار پایا۔ 

(٧) آپ کی ساتویں زوجہ حضرت زینب بنت جحش (رض) ہیں یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی امیمہ کی بیٹی تھیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب حضرت زید بن حارثہ (رض) کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تو آپ نے حضرت زینب بنت جحش سے ان کا نکاح کردیا۔ حضرت زید آزادہ کردہ غلام تھے اور حضرت زینب آزاد اور بنو اسد کے معزز گھرانے سے تھیں اس وجہ سے ان میں ناچاقی رہتی تھی۔ حضرت زید رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان کی شکایتیں کرتے تھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو علم تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کا نکاح آپ سے کر دے گا لیکن آپ کو یہ پریشانی تھی کہ عرب منہ بولے بیٹے کو حقیقی بیٹا قرار دیتے ہیں اور بیٹے کی بیوی سے نکاح ممنوع ہے تو وہ اس نکاح کی وجہ سے آپ کی نبوت پر طعن کریں گے اور اس سے آپ کی تبلیغ پر اثر پڑے گا لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور تھا کہ نکاح ہو اور یہ معلوم ہوجائے کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا اور اس کی بیوی سے انقطاع نکاح کے بعد نکاح کرنا جائز ہے تاکہ مسلمانوں پر اس نکاح میں تنگی نہ ہو۔ بالآخر حضرت زید بن حارثہ (رض) نے تنگ آکر حضرت زینب کو طلاق دے دی اور عدت پوری ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زوجنکھا نازل فرما کر آپ کا حضرت زینب سے خود نکاح کردیا۔ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بغیر کسی عقد کے حضرت زینب آپ کی زوجہ ہوگئیں۔ اس سلسلہ میں قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” واذ تقول للذی انعم اللہ علیہ وانعمت علیہ امسک علیک زوجک واتق اللہ وتخفی فی نفسک ما اللہ مبدیہ وتخشی الناس واللہ احق ان تخشہ فلما قضی زید منھا وطرا زوجنکھا لکی لا یکون علی المؤمنین حرج فی ازواج ادعیآئھم اذا قضوا منھن وطرا وکان امر اللہ مفعولا۔ (الاحزاب : ٣٧) 

ترجمہ : اور جب آپ اس شخص سے فرماتے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے (بھی) اس انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنی زوجیت میں رہنے دو اور اللہ سے ڈرو ‘ اور آپ اپنے دل میں اس چیز (حضرت زینب سے نکاح) کو چھپاتے تھے جسے اللہ ظاہر فرمانے والا تھا اور آپ لوگوں (کے اس اعتراض کہ بیٹے کی مطلقہ سے نکاح کرلیا) سے ڈرتے تھے اور اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں اور جب زید نے (ان کو طلاق دے کر) اپنی غرض پوری کرلی تو ہم نے (عدت کے بعد) آپ کا اس سے نکاح کردیا تاکہ (اس کے بعد) مسلمانوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے میں کوئی تنگی نہ رہے جب وہ (طلاق دے کر) ان سے بےغرض ہوجائیں ‘ اور اللہ کا حکم ضرور ہو کر رہتا ہے۔ 

٣ ہجری میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زینب کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح کردیا ایک قول ٤ ہجری کا ہے اور ایک قول ٥ ہجری کا ہے۔ اس وقت حضرت زینب کی عمر پینتیس سال تھی۔ حضرت زینب دیگر ازواج سے فخر سے کہتی تھیں کہ تمہارا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نکاح تمہارے اہل نے کیا ہے اور میرا آپ سے نکاح اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ 

امام طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ روایت کیا ہے کہ حضرت زینب بنت جحش کی وفات حضرت عمر (رض) کی دور خلافت میں ٢٠ ھ میں ہوئی اور حضرت عمر (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اس وقت آپ کی عمر تریپن سال تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد ازواج مطہرات میں سب سے پہلے آپ کی وفات ہوئی تھی۔ 

حضرت زینب (رض) سے نکاح کرنے کی سب سے بڑی حکمت یہ تھی کہ آپ کی سیرت میں یہ نمونہ ہو کہ منہ بولا بیٹا حقیقی بیٹا نہیں ہوتا۔ 

(٨) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی آٹھویں زوجہ محترمہ حضرت جویرہ بنت الحارث ہیں آپ پہلے مسافع بن صفوان کے نکاح میں تھیں جو حالت کفر میں قتل کئے گئے تھے۔ ٦ ھ غزوہ بنو المصطلق کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے نکاح کیا۔ 

امام احمد نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بنو المصطلق کے قیدیوں کو تقسیم کیا تو حضرت جویرہ ثابت بن قیس بن شماس کے حصہ میں آئیں۔ (یہ غزوہ بنو المصطلق میں گرفتار کرکے باندی بنا لی گئی تھیں) انہوں نے نواواق چاندی (ایک اوقیہ ٤٠ درہم کا ہوتا ہے) پر ان کو مکاتب کردیا۔ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا یا رسول اللہ ! میں جویرہ بنت الحارث ہوں۔ حارث اپنی قوم کا سردار تھا آپ کو معلوم ہے مجھے باندی بنا لیا گیا ہے۔ آپ میری مکاتبت کی رقم ادا کر کے مجھے آزاد کر دیجئے۔ آپ نے فرمایا میں اس سے بہتر بات نہ بتاؤں۔ کہا ہاں ! فرمایا میں تمہاری رقم ادا کر کے تم سے نکاح کرلوں، وہ راضی ہوگئیں۔ جب مسلمانوں کو یہ خبر پہنچی تو انہوں نے کہا کہ بنو المصطلق تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سسرال والے ہیں ہم ان کو کیسے غلام بنائے رکھیں تو سب مسلمانوں نے اپنے اپنے حصہ کے غلام آزاد کردیئے اور بنو المصطلق کے سو (١٠٠) نفوس آزاد کردیئے گئے۔ حضرت عائشہ نے فرمایا میں نے کسی اور عورت کو نہیں دیکھا جو اپنی قوم لیے اتنی برکت والی ثابت ہوئی ہو۔ (مسند احمد ج ٦ ص ٢٧٧) 

حضرت ام المومنین جویرہ (رض) ٧٠ سال کی عمر گزار کر ربیع الاول ٥٠ ھ میں مدینہ میں فوت ہوئیں۔ مروان بن الحکم نے آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ 

حضرت جویرہ (رض) سے نکاح کرنے کی حکمت یہ تھی کہ اس نکاح کی وجہ سے بنو المصطلق کے سو نفوس آزاد کردیئے گئے اور آپ کی زندگی میں ایک باندی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرنے کا نمونہ حاصل ہوا۔ 

(٩) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نویں زوجہ حضرت صفیہ بنت حی بنت اخطب ہیں یہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ ان کے والد بنو النضیر کے سردار تھے۔ ان کے پہلے خاوند قتل کردیئے گئے تھے۔ فتح خیبر کے موقع پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو آزاد کر کے ان سے نکاح کیا یہ سات ہجری کا واقعہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اول وقت میں صبح کی نماز پڑھی پھر آپ نے سوار ہو کر کہا اللہ اکبر ! خیبر تباہ ہوگیا۔ ہم جب کسی قوم کے علاقہ پر حملہ آور ہوتے ہیں تو جن کو پہلے ڈرایا جا چکا ہے ان کی کیسی بری صبح ہوتی ہے۔ یہودی اپنی گلیوں سے نکلے اور کہنے لگے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر کے ساتھ آئے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان پر غالب آگئے۔ ان کے جنگ جو مردوں کو قتل کردیا گیا اور عورتوں اور بچوں کو قید کرلیا گیا۔ حضرت دحیہ (رض) نے کہا یا رسول اللہ مجھے قیدیوں میں سے ایک لڑکی دیجئے۔ آپ نے فرمایا ایک لڑکی لے لو تو انہوں نے حضرت صفیہ بنت حیی کو لے لیا پھر ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ نے دحیہ کو حضرت صفیہ بنت حیی عطا کردی جو قریظہ اور نضیر کی سردار ہیں وہ آپ کے سوا اور کسی کے لائق نہیں ہیں۔ آپ نے فرمایا صفیہ کو لاؤ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انکو دیکھا تو آپ نے حضرت دحیہ سے (فتنہ فرو کرنے کے لئے) فرمایا قیدیوں میں سے اس کے سوا کوئی اور باندی لے لو۔ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت صفیہ کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا۔ ثابت نے حضرت انس (رض) سے پوچھا ان کا مہر کتنا تھا ؟ حضرت انس (رض) نے کہا ان کو آزاد کرنا ہی ان کا مہر تھا۔ حضرت ام سلیم نے کا بناؤ سنگھار کر کے راستہ میں قیام کی ایک جگہ پر رات کو انہیں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بطور عروس کے صبح کی پھر آپ نے فرمایا جس کے پاس جو کھانے پینے کی چیز ہو لے آئے پھر چمڑے کا دستر خوان بچھایا گیا کوئی کھجوریں لایا کوئی ستو کوئی گھی پھر اس کا ایک طعام بنایا گیا اور یہ رسول اللہ کی طرف سے ولیمہ تھا۔ (صحیح بخاری : ٩٤٧‘ ٣٧١ صحیح مسلم : ١٣٥٦‘ سنن ابو داؤد : ٢٠٥٤‘ سنن ترمذی : ١١١٥ فی نسخۃ۔ ١١١٨‘ سنن نسائی : ٣٣٤٢‘ سنن ابن ماجہ : ١٩٥٧‘ مسند : ج ٣ ص ١٠٢‘ تحفہ الاشراف : ٢٩١) 

حضرت صفیہ رمضان المبارک ٥٠ یا ٥٢ میں فوت ہوئیں اور بقیع میں مدفون ہوئیں۔ 

حضرت صفیہ (رض) سے نکاح کرنے میں یہ حکمت تھی کہ اگر وہ کسی اور کے حصہ میں آتیں تو فتنہ اور نزاع پیدا ہوتا کیونکہ وہ نبی زادی تھیں قریظہ اور نضیر کی سردار تھیں اس لئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی اور کے ساتھ نکاح پر صحابہ راضی نہ ہوتے نیز ان کے والد قریظہ کے ساتھ قتل کردیئے گئے تھے اور ان کے شوہر جنگ خبیر میں مارے گئے تھے اس لئے ایسی شریف النسب خاتون جو دل شکستہ ہوچکی تھیں انکی تالیف قلب اور انکے اسلام کی یہی صورت تھی اور اس سے بنو اسرائیل کی تالیف قلب بھی ہوئی کہ ان کی معزز خاتون کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شرف زوجیت بخشا۔ 

(١٠) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دسویں زوجہ حضرت ام حبیبہ ہیں ان کا نام رملہ بنت ابو سفیان ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے یہ عبید اللہ بن جحش کے نکاح میں تھیں۔ اس سے حبیبہ نام کی لڑکی پیداہوئی اسی وجہ سے ان کی کنیت ام حبیبہ ہے۔ عبید اللہ نے نے دوسری ہجرت ان کے ساتھ حبشہ کی طرف کی وہ وہاں نصرانی ہو کر مرگیا اور حضرت ام حبیبہ (رض) اسلام پر قائم رہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمرو بن امیہ الضمری کو نجاشی کے پاس بھیجا اس نے آپ کا حضرت ام حبیبہ سے نکاح کردیا۔ نجاشی نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے چار سو دینار مہر رکھا۔ 

امام محمد بن سعد متوفی ٢٣٠ ھ نے بکر بن حزم سے روایت کیا ہے کہ یہ نکاح ٧ ھ میں ہوا تھا اور جس دن حضرت ام حبیبہ مدینہ آئی تھیں اس وقت ان کی عمر تیس سال سے زیادہ تھی۔ ام حبیبہ (رض) ٤٤ ھ میں حضرت امیر معاویہ (رض) کی خلافت میں وفات پاگئیں۔ (الطبقات الکبری ج ٨ ص ١٠٠۔ ٩٩) 

امام ابن جوزی نے زہری سے روایت کیا ہے کہ جب ابو سفیان بن حرب مدینہ میں صلح کی مدت دراز کرنے کی درخواست لے کر آیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ درخواست منظور نہیں کی۔ وہ اپنی بیٹی ام حبیبہ سے ملنے گیا اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بستر پر بیٹھنے لگا تو حضرت ام حبیبہ (رض) نے بستر لپیٹ دیا۔ اس نے متعجب ہو کر پوچھا کیوں ؟ حضرت ام حبیبہ (رض) نے فرمایا یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بستر ہے اور تم ناپاک مشرک ہو۔ (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ١٩٦۔ ١٩٥) 

اس نکاح میں حکمت یہ تھی کہ حضرت ام حبیبہ (رض) ہجرت کر کے حبشہ آئیں ان کا شوہر نصرانی ہو کر مرگیا اور یہ ہجرت اور اسلام پر قائم رہیں۔ ان کا باپ سخت دشمن اسلام تھا۔ اب حکمت اور انسانی ہمدردی کا تقاضا کیا تھا کہ اسلام کے لئے ایسی قربانی دینے والی خاتون کو شوہر کے مرنے کے بعد بےسہارا چھورا دیا جاتا جب کہ اس کا باپ اسلام کا کٹر دشمن تھا یا اسلام کی خاطر قربانی دینے والی اس خاتون کو صلہ دینے اور حوصلہ افزائی کرنے کے لئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے نکاح کرلیتے نیز اس نکاح کی وجہ سے بنو امیہ کے ساتھ رشتہ قائم ہوگیا اور اسلام کی تبلیغ اور اس کی نشرواشاعت کا ایک قوی ذریعہ پیدا ہوگیا۔ 

(١١) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گیارہویں زوجہ حضرت میمونہ بنت الحارث (رض) ہیں۔ ان کا نام پہلے برہ تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا نام بدل کر میمونہ رکھ دیا۔ ان کی بڑی بہن کا نام ام الفضل لبابہ کبری تھا جو حضرت عباس کی بیوی تھیں اور چھوٹی بہن کا نام لبابہ صغری تھا جو ولید بن مغیرہ کی بیوی اور حضرت خالد بن ولید کی ماں تھیں۔ حضرت میمونہ پہلے ابی رھم بن عبدالعزی کے نکاح میں تھیں وہ مرگیا تھا اور یہ بیوہ ہوچکی تھیں۔ (الاصابہ ج ٤ ص ٤١٢۔ ٤١١) 

امام محمد بن عبدالبر مالکی متوفی ٤٦٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن شہاب زہری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ کے بعد اگلے سال ذوالقعدہ ٧ ھ میں (فتح خیبر کے بعد) عمرہ کرنے کے لئے مکہ مکرمہ پہنچے وہاں جاکر آپ نے حضرت جعفر بن ابی طالب کو حضرت میمونہ کے پاس نکاح کا پیغام دے کر بھیجا حضرت جعفر نے یہ پیغام پہنچایا تو حضرت میمونہ نے یہ معاملہ عباس بن عبدالمطلب کے سپرد کردیا۔ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انکا نکاح کردیا۔ (الاستیعاب علی ہامش الاصابہ ج ٤ ص ٤٠٧۔ ٤٠٦) 

حافظ ابن عبدالبر ‘ حافظ عسقلانی ‘ امام محمد بن سعد اور علامہ زرقانی سب نے اس نکاح کا سال ٧ ھ ہی لکھا ہے لیکن علامہ محمد بن یوسف صالحی شامی متوفی ٩٤٢ ھ نے ابو عبیدہ معمربن المثنی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ یہ نکاح محرم ٨ ھ میں مقام سرف پر ہوا تھا۔ جب آپ عمرہ قضا کے لئے تشریف لے گئے تھے (سبل الہدی والرشاد ج ١١ ص ٢٠٨) 

امام ابن سعد نے بہ کثرت روایات سے یہ بیان کیا ہے کہ جس وقت یہ نکاح ہوا اس وقت آپ محرم تھے۔ 

حضرت میمونہ کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے۔ علامہ زرقانی نے امام ابن اسحاق کے حوالہ سے اس کو ترجیح دی ہے کہ آپ کی وفات ٦٣ ھ میں ہوئی ہے۔ امام طبرانی نے المعجم الاوسط میں معتمد سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ (شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ ج ٣ ص ٢٥٢ ھ) 

حضرت میمونہ (رض) سے نکاح کی حکمت یہ تھی کہ قبیلہ بنو ہاشم کی مختلف شاخوں کے ساتھ آپ کی قرابت اور رشتہ داری ہوجائے اور اسلام کی تبلیغ اور نشرواشاعت میں آسانی ہو۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نکاحوں کی تاریخ اور ترتیب میں بہت اختلاف ہے میں نے سیرت کی مختلف کتابوں کے تتبع اور مطالعہ سے یہ ترتیب قائم کی ہے لیکن یہ حتمی نہیں ہے۔ میں نے ازواج مطہرات کی مختصر سوانح جو بیان کی اس کا ماخذ یہ کتابیں ہیں : الطبقات الکبری ‘ الاستیعاب ‘ الاصابہ ‘ شرح الزرقانی اور سبل الہدی والرشاد۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تعدد ازدواج کمال ضبط ہے یا حظ نفسانی کی بہتات ؟ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعدد ازدواج کی بحث میں یہ نکتہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے۔ کہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کی سو بیویاں تھیں۔ اسی طرح احادیث میں ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی بھی سو بیویاں تھیں اور انبیاء (علیہم السلام) کو غیر معمولی قوت حاصل ہوتی ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات اور دن کی ساعت واحدہ میں تمام ازواج کو مشرف فرماتے اور وہ گیارہ ازواج تھیں۔ قتادہ نے حضرت انس (رض) سے پوچھا کیا حضور اس کی طاقت رکھتے تھے ؟ حضرت انس (رض) نے کہا ہم آپس میں یہ کہتے تھے کہ آپ کو تیس مردوں کی طاقت ہے۔ ایک اور سند سے قتادہ سے یہ روایت ہے کہ آپ کی نوازواج تھیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٦٨) 

صحیح الاسماعیلی میں ہے کہ آپ کو چالیس مردوں کی طاقت تھی۔ 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابو نعیم نے مجاہد سے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا ہے کہ آپ کو چالیس جنتی مردوں کی قوت دی گئی اور امام ترمذی نے جامع ترمذی میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جنت میں مومن کو اتنی اتنی عورتوں سے جماع کی قوت دی جائے گی۔ عرض کیا گیا : یارسول اللہ ! کیا مومن کو اتنی قوت ہوگی ؟ آپ نے فرمایا مومن کو سو مردوں کی طاقت ہوگی۔ یہ حدیث صحیح غریب ہے ‘ اور امام ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے جب ہم چالیس کو سو سے ضرب دیں تو حاصل ضرب چار ہزار کے برابر ہوگا اور ابن العربی نے لکھا ہے کہ آپ کو چار ہزار مردوں کی طاقت تھی پھر اس کے باوجود آپ کھانے پینے اور جماع کرنے میں کس قدر ضبط سے کام لیتے تھے ! (عمدۃ القاری ج ٣ ص ٢١٧‘ مطبوعہ ادارۃ الطباعۃ المنیریہ ‘ مصر ١٣٤٨ ھ) 

سوچئے جن کو اللہ تعالیٰ نے چار ہزار مردوں کی قوت جماع عطا فرمائی تھی انہوں نے بیک وقت نکاح میں صرف نو ازواج کو جمع کیا وہ بھی مختلف تبلیغی وجوہات سے اور یہ تعدد ازواج میں چون سال کی عمر سے شروع ہوا اور اکسٹھ باسٹھ سال کی عمر میں جاکر نوازواج اکٹھی ہوئیں تو اتنی زیادہ جنسی طاقت رکھنے کے باوجود صرف عمر کے آخری حصہ میں نوازواج کو جمع کرنا اپنے نفس پر کمال ضبط اور غایت اعتماد ہے یا حظ نفسانی کی بہتات !

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 3