اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا  ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ (النساء : ٨٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سلام کا احسن طریقہ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اجنبی شخص تم کو سلام کرے تم اس کو مسلمان جانو ‘ اور یہ نہ سمجھو کہ اس نے جان بچانے کے لیے سلام کیا ہے اور اس کے دل میں کفر ہے کیونکہ باطن کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ‘ اور جس نے اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں وہ کافر تھا اس کا حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا ‘ اس لیے اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ لہذا ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے صدق کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 

امتناع کذب کا بیان :

اللہ تعالیٰ واجب بالذات ہے اور اس کی تمام صفات قدیم اور واجب بالذات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا صدق بھی قدیم اور واجب بالذات ہے اور کذب صدق کی نقیض ہے جب کذب آئے گا تو صدق نہیں رہے گا اور کذب آ نہیں سکتا لہذا صدق جا نہیں سکتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا کذب ممتنع بالذات ہے۔ 

امتناع کذب پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخرالدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور اس کے کلام میں کذب اور خلف محال ہے ‘ ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کاذب ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا زوال ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ قدیم کا عدم ممتنع ہے ‘ اور جب کذب کا زوال ممتنع ہوگا تو اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ ایک ضد کا وجود دوسری ضد کے وجود سے مانع ہے ‘ اس لیے اللہ کو کاذب مانا جائے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا ‘ لیکن اس کا کذب ممتنع ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس علم کے مطابق اس چیز کی خبر دے سکتا ہے اور یہی صدق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت ہوگیا تو اس کا کاذب ہونا ممتنع ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨) 

نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ کذب کا امکان صدق عدم کے امکان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور قدیم ہے اس کا عدم اور سلب ممکن نہیں ہے لہذا اس کے کلام میں کذب بھی ممکن نہیں ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ تفتازانی کے دلائل : 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر رازی تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا کلام ازل میں ماضی ‘ حال اور استقبال کے ساتھ متصف نہیں تھا ورنہ لازم آئے گا کہ ازل میں اللہ کا کلام مثلا فعصی فرعون ” فرعون نے معصیت کی “ کاذب ہو کیونکہ ازل میں فرعون تھا نہ اس نے معصیت کی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کذب محال ہے اولا ‘ اس لیے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے ‘ ثانیا اس لیے کہ معجزہ کی دلالت سے انبیاء (علیہم السلام) کی خبروں کا صدق تواتر سے ثابت ہے اور ان کا صدق اللہ کے کلام پر موقوف نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے کلام کے صدق پر موقوف ہو ‘ ثالثا اس لیے کہ تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے کیونکہ نقص عجز ‘ جہل یا عبث کو مستلزم ہے ‘ رابعا ‘ اس لیے کہ اگر ازل میں اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہو تو ازل میں اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ جس چیز کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ‘ جب ازل میں اللہ تعالیٰ صادق ہے تو ازل میں کذب محال ہوگا۔ (شرح المقاصد ملخصا ج ٤ ص ١٥٩۔ ١٥٨‘ مطبوعہ ایران) 

امتناء کذب پر میر سید شریف کے دلائل :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کی تین دلیلیں ہیں :

(١) پہلی دلیل یہ ہے : کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے نیز اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب واقع ہو تو لازم آئے گا کہ بعض اوقات ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ کامل ہوں یعنی جس وقت ہمارا کلام صادق ہو (اور اس کا کلام کاذب ہو) 

(٢) دوسری دلیل یہ ہے : کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا جو کذب کا مقابل ہے ورنہ اس کی صفت کذب کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے اس کے زوال کو محال فرض کرچکے ہیں کیونکہ اس کی صفات قدیم ہیں اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے اور لازم باطل ہے یعنی اللہ پر صدق کا ممتنع ہونا باطل ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس علم کے مطابق خبر دے۔ 

(٣) اور تیسری اور متعمد دلیل جو کلام لفظی اور کلام نفسی دونوں میں کذب بالبداہت معلوم ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ تواتر سے منقول ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے ‘ جس طرح تواتر سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ‘ اگر اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صادق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق کی اور ان کو صادق فرمایا اب اگر اللہ کا صادق ہونا اور اس پر کذب کا ممتنع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے قول اور ان کی خبر سے ثابت ہو تو یہ دور ہوجائے گا انبیاء کا صادق ہونا اللہ کی خبر پر اور اللہ کا صادق ہونا انبیاء کی خبر پر موقوف ہوا اور یہ کسی شے کا اپنے نفس پر موقوف ہونا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا صدق اللہ کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے بلکہ معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اپنے دعوی نبوت پر معجزہ خارق عادت پیش کرتے ہیں جس سے ان کا صدق ثابت ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا صادق اور متکلم ہونا انبیاء (علیہم السلام) کی خبر پر موقوف ہے ‘ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متکلم اور صادق ہے۔ (شرح موافق ج ٨ ص ١٠٣۔ ١٠١‘ مطبوعہ ایران) 

شرح مواقف کے دلائل پر علامہ میر سید شریف کے اعتراضات 

صاحب مواقف نے امتناع کذب پر پہلی دلیل یہ قائم کی کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے ‘ پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ کلام نفسی میں کذب نقص ہے کلام لفظی میں کذب نقص نہیں ہے ‘ کیونکہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جسم میں کلام کاذب پیدا کردے ‘ اس کا جواب یہ دیا کہ کلام کاذب کو پیدا کرنا بھی نقص ہے اور وہ اللہ پر محال ہے ‘ ثابت ہوا کہ اللہ کے کلام میں کذب مطلقا محال ہے ‘ اس پر علامہ میر شریف نے یہ اعتراض کیا کہ اشاعرہ افعال کا حسن اور قبح شرعی مانتے ہیں اور قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں اور قبح عقلی اور نقص میں کوئی فرق نہیں ہے اور جب اللہ پر قبح عقلی جائز ہے تو اس پر نقص بھی جائز ہونا چاہیے اور جب اللہ پر نقص جائز ہوگیا تو اس کے کلام میں کذب کا ممتنع ہونا ثابت نہیں ہوا۔ (شراح المواقف ج ٨ ص ١٠٣ مطبوعہ ایران) 

علامہ میر سید شریف کے اعتراضات کے جوابات :

ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ فنی نفسہ حسن ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ فی نفسہ قبیح ہے مثلا منعم کا شکر ادا کرنا حسن ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ بھی دیتا تب بھی فی نفسہ حسن ہی رہتا اور قتل ناحق فی نفسہ قبیح ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہ بھی فرماتا تب بھی یہ قبیح ہی رہتا ‘ کیونکہ اول الذکر کے حسن اور ثانی الذکر کے قبح کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے اور یہ معنی ہے ان کے اس قول کا کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے ‘ اور اشاعرہ یہ کہتے ہیں کہ حسن اور قبح شرعی ہے یعنی جس کا شارع نے حکم دیا ہے وہ حسن ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ‘ اگر بالفرض شارع قتل ناحق کا حکم دیتا تو وہ حسن ہوتا اور شکر منعم یا عبادت کرنے سے منع کرتا تو ہو قبیح ہوتی۔ اور اس بحث میں حسن کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مدح کا اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو اور قبیح کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت کا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو ‘ اس حسن اور قبح کو اشاعرہ کہتے ہیں کہ شرعی سے عقلی نہیں ہے یعنی عقل اس کے ادراک میں مستقل نہیں ہے مثلا عقل کیسے جان سکتی ہے کہ تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا موزہ کے اوپر کے حصے پر مسح کرنے سے طہارت ہوجاتی ہے یا سونے اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے ان کا حسن اور قبح شرعی ہے اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی عقل ‘ ان کے حسن اور قبح کی ادراک میں مستقل ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا افعال کے حسن اور قبح کے عقلی ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف اسی معنی میں ہے۔ 

حسن کا دوسرا معنی ہے صفت کمال جیسے علم اور صدق ‘ قبح کا دوسرا معنی ہے صفت نقصان جیسے جہل اور کذب اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ سمیت تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا حسن اور قبیح عقلی ہے اور جب یہ واضح ہوگیا تو مواقف میں جو یہ لکھا ہے کہ کذب نقص ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کذب کا نقص ہونا تو قبح عقلی ہے اور اس کو اشاعرہ نہیں مانتے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ اشاعرہ حسن اور قبح جس معنی کو شرعی کہتے ہیں اور اس کے عقلی ہونے کی نفی کرتے ہیں وہ اور معنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو وہ قبیح ہے اور جس کیوجہ سے دنیا میں میں تعریف اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو وہ حسن ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کے لیے اس معنی کے لحاظ سے نہ کوئی فعل حسن ہے نہ قبیح ‘ اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے حسن وہ فعل ہے جس میں کمال ہو اور قبیح وہ ہے جس میں نقص ہو اور اس معنی کے لحاظ سے حسن اور قبح کا عقلی ہونا اشاعرہ سمیت سب کے نزدیک مسلم ہے اس لیے کذب صفت نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے اور اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ مسلم الثبوت اور اس کی شروحات میں بھی یہی لکھا ہے لیکن ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے اس کو بہت آسان ‘ سہل اور واضح کرکے پیش کیا۔ (شرح مسلم الثبوت للخیر آبادی ص ٨٣۔ ٥٢ ملخصا مطبوعہ کوئٹہ ‘ فوتح الرحموت مع المتصفی ج ١ ص ٤٦۔ ٢٦‘ ملخصا مطبوعہ مصر) 

صاحب مواقف نے دوسری دلیل یہ قائم کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا ‘ جو کذب کا مقابل ہے اور اگر کذب قدیم نہ ہو تو اس کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے فرض کرچکے ہیں کہ کذب اس کی صفت ہے اور قدیم ہے اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے پس اگر کذب کو اللہ کی صفت مانا جائے تو اس کا صادق ہونا محال ہوگا اور یہ باطل ہے کیونکہ ہم بداھۃ جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق خبر دے سکتا ہے۔ 

علامہ سید شریف نے اس دلیل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس دلیل سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی میں کذب محال ہو ‘ کیونکہ قدیم کلام نفسی ہے ‘ رہا کلام لفظی تو وہ مخلوق اور حادث ہے اور کلام لفظی جو صادق ہو وہ ممکن اور حادث ہونے کی وجہ سے زائل بھی ہوسکتا ہے اور کلام لفظی میں صدق کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام لفظی صادق اور حادث ہے اور حادث کا زوال بھی ممکن ہے لیکن کلام صادق کے زوال سے کلام کاذب کا امکان لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ کذب کا معنی ہے ایسی خبر جو واقع کے خلاف ہو اور کلام صادق کے زوال اور عدم کے امکان سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ایسی خبر وجود میں آجائے جو واقع کے خلاف ہو ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کلام لفظی صادق کے زوال کا امکان عام ہے اور کلام کاذب کا ثبوت خاص ہے اور عام کا ثبوت خاص کے ثبوت کو مستلزم نہیں ہوتا ‘ عام کی خاص پر دلالت نہ مطابقی ہوتی ہے نہ تضمنی نہ التزامی ‘ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ کلام صادق لفظی کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ میرسید شریف کی تصریحات : 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

(فرق باطلہ میں سے) مزداریہ نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے ‘ علامہ میر سید شریف اس کا رد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو وہ جھوٹا خدا ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٣٨١‘ مطبوعہ ایران)

امتناع کذب کے متعلق دیگر علماء کی تصریحات اور دلائل :

علامہ محمد عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی ذات پر جہل اور کذب دونوں محال ہیں۔ (حاشیہ عبدالحکیم علی الخیالی ص ٢٥٧‘ مع مجموعہ الحواشی السجھیہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ١٣٩٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق نہیں ہوسکتا اور کذب اللہ پر محال ہے کیونکہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے۔ 

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : زیادہ صادق ہونے کی نفی کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صدق میں اللہ کے مساوی بھی نہیں ہوسکتا ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں کذب عقلا اور شرعا محال ہے کیونکہ جھوٹ یا تو کسی ضرورت کی بناء پر بولا جائے گا یا بلاضرورت ‘ کسی ضرورت کی بناء پر جھوٹ بولنا اللہ پر اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مستغنی ہے اور بلاضرورت جھوٹ عدم علم کی وجہ سے بولا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ‘ یابلاضرورت قصدا جھوٹ بولا جائے گا اور یہ حماقت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس دلیل سے تو کلام نفسی میں جھوٹ محال ہوگا اور کلام لفظی میں تو جھوٹ ممکن رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں ایسی خبر پیدا کردے جو واقع کے خلاف ہو بایں طور کہ وہ اس مخلوق کا کلام نہ ہو بلکہ اللہ کا کلام ہو اور غیر کی طرف منسوب ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جیسے قرآن کلام لفظی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی نقص ہے کیونکہ اس سے جہل تو لازم نہیں آتا لیکن اس میں تجہیل ہے اور دوسروں کو جاہل بنانا ہے اور یہ بھی اللہ کے لیے نقص ہے اور نقص اللہ پر عقلا محال ہے ‘ علاوہ ازیں یہ محال شرعی بھی ہے۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کون ہے جس کی بات اللہ کی بات سے زیادہ سچی ہو۔ “ اس کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے نہ کوئی صدق میں اس کے برابر ہے اور نہ کوئی صدق میں اس سے زیادہ ہے ‘ مخلوق میں سب سے زیادہ سچے انبیاء (علیہم السلام) ہیں لیکن ان کا صدق واجب بالغیر ہے اور ان کے کلام میں کذب ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ اگر اللہ کا صدق بھی اسی طرح ہو اس کے کلام میں بھی کذب ہو ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہو تو انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ تعالیٰ صدق میں مساوی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ یعنی وہ سب سے زیادہ سچا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کا صدق قدیم اور واجب بالذات ہو اور اس کا کذب ممتنع بالذات ہو۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا جھوٹ ممتنع بالذات ہے کیونکہ پیغمبر کا جھوٹ ممتنع بالغیر اور رب تعالیٰ تمام سے زیادہ سچا تو اس کا سچا ہونا واجب بالذات ہونا چاہیے ورنہ اللہ کے صدق اور رسول کے صدق میں فرق نہ ہوگا۔ (نور العرفان ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

امتناع کذب کے متعلق علماء دیوبند کا عقیدہ : 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں : 

آپ نے مسئلہ امکان کذب کو استفسار فرمایا ہے مگر امکان کذب بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے خلاف پر وہ قادر ہے مگر باختیار خود اس کو وہ نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے اور اس عقیدہ پر قرآن شریف اور احادیث صحاح شاہد ہیں اور علماء امت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ مثلا فرعون پر ادخال نار کی وعید ہے مگر ادخال جنت فرعون پر بھی قادر ہے اگرچہ ہرگز اس کو نہ دیوے گا ‘ اور یہی مسئلہ مبحوث اس وقت میں ہے بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا اس قدرت اور عدم ایقاع کو امکان ذاتی وامتناع بالغیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ فقط : (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٨٥۔ ٨٤ مطبوعہ قرآن محل کراچی)

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممتنع اور محال بالذات ہے اور محال بالذات تحت قدرت نہیں ہوتا ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کا عدم محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جہل اور کذب بھی محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل عبارت میں ہے۔ 

خلف وعید کا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کذب کو مستلزم نہیں ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام قرافی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ کافر کی مغفرت کی دعا کرنا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کو طلب کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ (الی قولہ) کیا خلف فی الوعید جائز ہے ؟ مواقف اور مقاصد کی ظاہر عبارت کا تقاضایہ ہے کہ اشاعرہ خلف فی الوعید کے قائل ہیں کیونکہ خلف فی الوعید جود اور کرم ہے نقص نہیں ہے ‘ اور علامہ تفتازانی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے ‘ علامہ نسفی نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے کیونکہ خلف فی الوعید محال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مایبدل القول لدی “۔ اور فرمایا ہے (آیت) ” لن یخلف اللہ وعدہ ای وعیدہ “ اور اشبہ بالحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف فی الوعید جائز ہے۔ اور کفار کے حق میں جائز نہیں ہے تاکہ دونوں طرف کے دلائل میں تطبیق ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ اور مسلمان نے خواہ کبیرہ گناہ کیا ہو اس کی مغفرت ہوجائے گی ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ ان آیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کی جو وعید فرمائی ہے اس کا خلاف محال ہے اور گنہگار مسلمانوں کے لیے جو عذاب کی وعید ہے اس کا خلاف ہوجائے گا کیونکہ مسلمان کے حق میں وعید کا یہ معنی ہے کہ اگر تم نے فلاں گناہ کیا تو میں تم کو عذاب دوں گا بشرطیکہ میں نے چاہا یا میں نے تم کو معاف نہ کیا اور اس سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے آیات وعید عدم عفو یا مشیت کے ساتھ مقید ہیں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٥١ ملخصا وموضحا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ خلیل احمد ایبیٹھوی متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کی خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ (براھین قاطعہ ص ٢ مطبوعہ مطبع بلالی ہند) 

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اشاعرہ جو خلف وعید کے قائل ہیں وہ گناہ گار مسلمانوں کے حق میں خلف وعید کے قائل ہیں اور عذاب کی آیات کو عدم عفو کے ساتھ مقید کرتے ہیں اور کفار کے حق میں خلف وعید کے قائل نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کذب کے لزوم سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ 

علامہ کمال الدین بن ابی شریف اشعری المذہب متوفی ٩٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اشعریہ اور ان کے غیر کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وہ شے جو بندوں کے حق میں نقص ہو وہ اللہ پر محال ہے اور کذب بندوں کے حق میں وصف نقص ہے سو وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ (مسامرہ ج ١ ص ١٨٤‘ مطبوعہ مکران) 

اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی بن نظام الدین لکھنوی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

حق یہ ہے کہ حقیقت سے عدول کرنے کا موجب موجود ہے اور وہ گنہ گار مسلمانوں ‘ نہ کہ مشرکوں کے لیے جو از عفو کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت آفتاب نیم روز کی طرح قطعی اور یقینی ہے پس کفار کے غیر (گناہ گار مسلمانوں) کی وعیدوں میں ظاہر سے عدول کرنا ضروری ہے پس یا تو آیات وعید کو عدم عفو کے ساتھ مقید کیا جائے گا ‘ (یعنی اگر اللہ ان کو معاف نہ کرے تو یہ سزا دے گا) یا ان کو انشاء تخویف پر محمول کیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہ گار مسلمانوں کو عذاب دینے کی خبر نہیں دی بلکہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لیے ایسا فرمایا ہے) رہا وعد تو اس میں حقیقت سے عدول کرنے کا کوئی موجب نہیں تو وہ آیات اپنی حقیقت پر ہیں۔ (فواتح الرحموت مع المستصفی ص ٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٢٩٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 3 سورہ البقرہ آیت نمبر21 تا 29

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَۙ(۲۱)

اے لوگو (ف۳۳) اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا یہ امید کرتے ہوئے کہ تمہیں پرہیزگاری ملے (ف۳۴)

(ف33)

اوّل سورہ میں کچھ بتایا گیا کہ یہ کتاب متَّقین کی ہدایت کے لئے نازل ہوئی پھر متَّقین کے اوصاف کا ذکر فرمایا ، اس کے بعد اس سے منحرف ہونے والے فرقوں کا اور ان کے حوال کا ذکر فرمایا کہ سعادت مند انسان ہدایت و تقوٰی کی طرف راغب ہو اور نافرمانی و بغاوت سے بچے ، اب طریقِ تحصیلِ تقوٰی تعلیم فرمایا جاتا ہے ۔ 

” یٰاَ یُّھَاالنَّاسُ” کا خِطاب اکثر اہلِ مکّہ کو اور ” یٰاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ” کا اہلِ مدینہ کو ہوتا ہے مگر یہاں یہ خِطاب مومن کافِر سب کو عام ہے ، اس میں اشارہ ہے کہ انسانی شرافت اسی میں ہے کہ آدمی تقوٰی حاصل کرے اور مصروفِ عبادت رہے ۔ عبادت و ہ غایت تعظیم ہے جو بندہ اپنی عبدیت اور معبودکی اُلُوہیت کے اعتقاد و اعتراف کے ساتھ بجا لائے ۔ یہاں عبادت عام ہے اپنے تمام انواع و اقسام و اصول و فروع کو شامل ہے ۔ مسئلہ : کُفّار عبادت کے مامور ہیں جس طرح بے وضو ہونا نماز کے فرض ہونے کا مانع نہیں اسی طرح کافِر ہونا وجوبِ عبادت کو منع نہیں کرتا اور جیسے بے وضو شخص پر نماز کی فرضیت رفعِ حدث لازم کرتی ہے ایسے ہی کافِرپر کہ وجوبِ عبادت سے ترکِ کُفر لازم آتا ہے ۔

(ف34)

اس سے معلوم ہوا کہ عبادت کا فائدہ عابد ہی کو ملتا ہے ، اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو عبادت یا اور کسی چیز سے نفع حاصل ہو ۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً۪-وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَخْرَ جَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْۚ-فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰهِ اَنْدَادًا وَّ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۲۲)

اورجس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو عمارت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا (ف۳۵) تو اس سے کچھ پھل نکالے تمہارے کھانے کو تو اللہ کے لیے جان بوجھ کر برابر والے نہ ٹھہراؤ (ف۳۶)

(ف35)

پہلی آیت میں نعمتِ ایجاد کا بیان فرمایا کہ تمہیں اور تمہارے آباء کو معدوم سے موجود کیا اور دوسری آیت میں اسبابِ معیشت و آسائش و آب و غذا کا بیان فرما کر ظاہر کر دیا کہ وہی ولیٔ نعمت ہے تو غیر کی پرستش مَحض باطل ہے ۔

(ف36)

توحیدِ الٰہی کے بعد حضور سیدِ انبیاء صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی نبوّت اور قرآنِ کریم کے کتابِ الٰہی و مُعجِز ہونے کی وہ قاہر دلیل بیان فرمائی جاتی ہے جو طالبِ صادق کو اطمینان بخشے اور منکِروں کو عاجز کر دے ۔

وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪-وَ ادْعُوْا شُهَدَآءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۲۳)

اور اگر تمہیں کچھ شک ہو اس میں جو ہم نے اپنے خاص بندے (ف۳۷) پر اتارا تو اس جیسی ایک سورت تو لے آؤ (ف ۳۸) اور اللہ کے سوا اپنے سب حمائتیوں کو بلالو اگر تم سچے ہو

(ف37)

بندۂ خاص سے حضور پر نور سیدِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم مراد ہیں ۔

(ف38)

یعنی ایسی سورت بنا کر لاؤ جو فصاحت و بلاغت اور حسنِ نظم و ترتیب اور غیب کی خبریں دینے میں قرآنِ پاک کی مثل ہو ۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَ لَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ۚۖ-اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَ(۲۴)

پھر اگر نہ لا سکو اور ہم فرمائے دیتے ہیں کہ ہر گز نہ لا سکو گے تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں (ف ۳۹) تیار رکھی ہے کافروں کے لیے (ف۴۰)

(ف39)

پتّھر سے وہ بُت مراد ہیں جنہیں کُفّار پُوجتے ہیں اور ان کی مَحبت میں قرآنِ پاک اور رسولِ کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا عناداً انکار کرتے ہیں ۔

(ف40)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ دوزخ پیدا ہو چکی ہے ۔ 

مسئلہ : یہ بھی اشارہ ہے کہ مومنین کے لئے بکرمہٖ تعالٰی خلودِ نار یعنی ہمیشہ جہنّم میں رہنا نہیں ۔

وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اَنَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُؕ-كُلَّمَا رُزِقُوْا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِّزْقًاۙ-قَالُوْا هٰذَا الَّذِیْ رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُۙ-وَ اُتُوْا بِهٖ مُتَشَابِهًاؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌۗۙ-وَّ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۵)

اور خوشخبری دے انہیں جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے کہ ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں رواں (ف۴۱) جب انہیں ان باغوں سے کوئی پھل کھانے کو دیا جائے گاصورت دیکھ کر کہیں گے یہ تو وہی رزق ہے جو ہمیں پہلے ملا تھا (ف۴۲) اور وہ صورت میں ملتا جلتا انہیں دیا گیا اور ان کے لیے ان باغوں میں ستھری بیبیاں ہیں (ف۴۳) اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (ف۴۴)

(ف41)

سنّتِ الٰہی ہے کہ کتاب میں ترہیب کے ساتھ ترغیب ذکر فرماتا ہے اسی لئے کُفّار اور ان کے اعمال و عذاب کے ذکر کے بعد مومنین اور ان کے اعمال کا ذکر فرمایا اور انہیں جنّت کی بشارت دی ۔ صالحات یعنی نیکیاں وہ عمل ہیں جو شرعاً اچھے ہوں ان میں فرائض و نوافل سب داخل ہیں ۔ (جلالین) 

مسئلہ : عملِ صالح کا ایمان پر عطف دلیل ہے اس کی کہ عمل جزوِ ایمان نہیں ۔ 

مسئلہ : یہ بشارت مومنینِ صالحین کے لئے بلا قید ہے اور گنہگاروں کو جو بشارت دی گئی ہے وہ مقیّد بمشیتِ الٰہی ہے کہ چاہے از راہِ کرم معاف فرمائے چاہے گناہوں کی سزا دے کر جنّت عطا کرے ۔ (مدارک)

(ف42)

جنّت کے پھل باہم مشابہ ہوں گے اور ذائقے ان کے جُدا جُدا اس لئے جنّتی کہیں گے کہ یہی پھل تو ہمیں پہلے مل چکا ہے مگر کھانے سے نئی لذت پائیں گے تو ان کا لطف بہت زیادہ ہو جائے گا ۔

(ف43)

جنّتی بیبیاں خواہ حوریں ہوں یا اور ، سب زنانے عوارض اور تمام ناپاکیوں اور گندگیوں سے مبرا ہوں گی ، نہ جسم پر میل ہو گا نہ بول و براز ، اس کے ساتھ ہی وہ بدمزاجی و بدخُلقی سے بھی پاک ہوں گی ۔ (مدارک و خازن)

(ف44)

یعنی اہلِ جنّت نہ کبھی فنا ہوں گے نہ جنّت سے نکالے جائیں گے ۔ 

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جنّت و اہلِ جنّت کے لئے فنا نہیں ۔

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَسْتَحْیٖۤ اَنْ یَّضْرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوْضَةً فَمَا فَوْقَهَاؕ-فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَیَعْلَمُوْنَ اَنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّهِمْۚ-وَ اَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَیَقُوْلُوْنَ مَا ذَاۤ اَرَادَ اللّٰهُ بِهٰذَا مَثَلًاۘ-یُضِلُّ بِهٖ كَثِیْرًاۙ-وَّ یَهْدِیْ بِهٖ كَثِیْرًاؕ-وَ مَا یُضِلُّ بِهٖۤ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَۙ(۲۶)

بےشک اللہ اس سے حیا نہیں فرماتا کہ مثال سمجھانے کو کیسی ہی چیز کا ذکر فرمائے مچھر ہو یا اس سے بڑھ کر (ف۴۵) تو وہ جو ایمان لائے وہ تو جانتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے (ف ۴۶) رہے کافر وہ کہتے ہیں ایسی کہاوت میں اللہ کا کیا مقصود ہے اللہ بہتیروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے (ف۴۷) اور بہتیروں کو ہدایت فرماتا ہے اور اس سے انہیں گمراہ کرتا ہے جو بے حکم ہیں (ف ۴۸)

(ف45)

شانِ نُزول : جب اللہ تعالٰی نے آیہ ” مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ ” اور آیہ ” اَوْکَصَیِّبٍ ” میں منافقوں کی دو مثالیں بیان فرمائیں تو منافقوں نے یہ اعتراض کیا کہ اللہ تعالٰی اس سے بالاتر ہے کہ ایسی مثالیں بیان فرمائے ۔ اس کے رد میں یہ آیت نازل ہوئی ۔

(ف46)

چونکہ مثالوں کا بیان متقضائے حکمت اور مضمون کو دل نشین کرنے والا ہوتاہے اور فُصَحائے عرب کا دستور ہے اس لئے اس پر اعتراض غلط و بیجا ہے اور بیانِ امثلہ حق ہے ۔

(ف47)

” یُضِلُّ بِہٖ ” کُفّار کے اس مقولہ کا جواب ہے کہ اللہ تعالٰی کا اس مثل سے کیا مقصو دہے اور ” اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ” اور ” اَمَّاالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ” جو دو جملے اوپر ارشاد ہوئے ان کی تفسیر ہے کہ اس مثل سے بہتوں کو گمراہ کرتا ہے جن کی عقلوں پر جَہل نے غلبہ کیا ہے اور جن کی عادت مکابرہ و عناد ہے اور جو امرِ حق اور کھلی حکمت کے انکار و مخالفت کے خوگر ہیں اور باوجود یکہ یہ مثل نہایت ہی برمَحل ہے پھر بھی انکار کرتے ہیں اور اس سے اللہ تعالٰی بہتوں کو ہدایت فرماتا ہے جو غور و تحقیق کے عادی ہیں اور انصاف کے خلاف بات نہیں کہتے وہ جانتے ہیں کہ حکمت یہی ہے کہ عظیمُ المرتبہ چیز کی تمثیل کسی قدر والی چیز سے اور حقیر چیز کی ادنٰی شے سے دی جائے جیسا کہ اوپر کی آیت میں حق کی نور سے اور باطل کی ظلمت سے تمثیل دی گئی ۔

(ف48)

شرع میں فاسق اس نافرمان کو کہتے ہیں جو کبیرہ کا مرتکب ہو ۔ فسق کے تین درجے ہیں ایک تغابی وہ یہ کہ آدمی اتفاقیہ کسی کبیرہ کا مرتکب ہو اور اس کو برا ہی جانتا رہا ، دوسرا انہماک کہ کبیرہ کا عادی ہوگیا اور اس سے بچنے کی پروا نہ رہی، تیسرا حجود کہ حرام کو اچھا جان کر ارتکاب کرے اس درجہ والا ایمان سے محروم ہوجاتا ہے۔ پہلے دو درجوں میں جب تک اکبر کبائر (شرک وکفر) کا ارتکاب نہ کرے اس پر مومن کا اطلاق ہوتا ہے۔ یہاں فاسقین سے وہی نافرمان مراد ہیں جو ایمان سے خارج ہوگئے قرآن کریم میں کفار پر بھی فاسق کا اطلاق ہوا ہے ” اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ ” بعض مفسرین نے یہاں فاسق سے کافر مراد لئے بعض نے منافق بعض نے یہود ۔

الَّذِیْنَ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَ اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مِیْثَاقِهٖ۪-وَ یَقْطَعُوْنَ مَاۤ اَمَرَ اللّٰهُ بِهٖۤ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ(۲۷)

وہ جو اللہ کے عہد کو توڑ دیتے ہیں (ف۴۹) پکا ہونے کے بعد اور کاٹتے ہیں اُس چیز کو جس کے جوڑنے کا خدا نے حکم دیا اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں(ف ۵۰ الف) وہی نقصان میں ہیں

(ف49)

اس سے وہ عہد مراد ہے جو اللہ تعالٰی نے کتب سابقہ میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کی نسبت فرمایا ایک قول یہ ہے کہ عہد تین ہیں ۔ پہلا عہد وہ جو اللہ تعالٰی نے تمام اولاد آدم سے لیا کہ اس کی ربوبیت کا اقرار کریں اس کا بیان اس آیت میں ہے ” وَاِذْ اَخَذَرَبُّکَ مِنْ م بَنِیْ اٰدَمَ الایۃ ” دوسرا عہد انبیاء کے ساتھ مخصوص ہے کہ رسالت کی تبلیغ فرمائیں اور دین کی اقامت کریں اس کا بیان آیۂ ” وَاِذْ اَخَذَ مِنَ النَّبِیٖنَ مِیْثَاقَھُم ” میں ہے۔ تیسرا عہد علماء کے ساتھ خاص ہے کہ حق کو نہ چھپائیں اس کا بیان ” وَاِذاَخَذَ اللّٰہ ُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُواالْکِتابَ ” میں ہے۔

(ف50)

(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔

(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا ” یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ” تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ ” کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ ” کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔

كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ثُمَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ(۲۸)

بھلا تم کیوں کر خدا کے منکر ہو گے حالانکہ تم مردہ تھے اس نے تمہیں جِلایا پھر تمہیں مارے گا پھر تمہیں جِلائے گا پھر اسی کی طرف پلٹ کر جاؤ گے (ف۵۰ب)

(ف50)

(الف)رشتہ و قرابت کے تعلقات مسلمانوں کی دوستی و محبت تمام انبیاء کا ماننا کتبِ الٰہی کی تصدیق حق پر جمع ہونا یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ملانے کا حکم فرمایا گیا ان میں قطع کرنا بعض کو بعض سے ناحق جدا کرنا تفرقوں کی بنا ڈالنا ممنوع فرمایا گیا۔

(ب) دلائل توحید و نبوت اور جزائے کفر و ایمان کے بعد اللہ تعالٰی نے اپنی عام و خاص نعمتوں کا اور آثار قدرت وعجائب وحکمت کا ذکر فرمایا اور قباحت کفر دلنشین کرنے کے لئے کفار کو خطاب فرمایا کہ تم کس طرح خدا کے منکر ہوتے ہو باوجود یہ کہ تمہارا اپنا حال اس پر ایمان لانے کا متقضی ہے کہ تم مردہ تھے مردہ سے جسم بے جان مراد ہے ہمارے عرف میں بھی بولتے ہیں زمین مردہ ہوگئی عربی میں بھی موت اس معنی میں آئی خود قرآن پاک میں ارشاد ہوا ” یُحْیِی الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ” تو مطلب یہ ہے کہ تم بیجان جسم تھے عنصر کی صورت میں پھر غذا کی شکل میں پھر اخلاط کی شان میں پھر نطفہ کی حالت میں اس نے تم کو جان دی زندہ فرمایا پھر عمر کی معیار پوری ہونے پر تمہیں موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا اس سے یا قبر کی زندگی مراد ہے جو سوال کے لئے ہوگی یا حشر کی پھر تم حساب و جزا کے لئے اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اپنے اس حال کو جان کر تمہارا کفر کرنا نہایت عجیب ہے، ایک قول مفسرین کا یہ بھی ہے کہ ” کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ ” کا خطاب مؤمنین سے ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کس طرح کافر ہوسکتے ہو در آنحالیکہ تم جہل کی موت سے مردہ تھے اللہ تعالٰی نے تمہیں علم و ایمان کی زندگی عطافرمائی اس کے بعد تمہارے لئے وہی موت ہے جو عمر گزرنے کے بعد سب کو آیا کرتی ہے اس کے بعد وہ تمہیں حقیقی دائمی حیات عطا فرمائے گا پھر تم اس کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہ تمہیں ایسا ثواب دے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی دل پر اس کا خطرہ گزرا ۔

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًاۗ-ثُمَّ اسْتَوٰۤى اِلَى السَّمَآءِ فَسَوّٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوٰتٍؕ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠(۲۹)

وہی ہے جس نے تمہارے لیے بنایا جو کچھ زمین میں ہے (ف۵۱) پھر آسمان کی طرف استوا (قصد) فرمایا تو ٹھیک سات آسمان بنائے اوروہ سب کچھ جانتا ہے (ف۵۲)

(ف51)

یعنی کانیں سبزے جانور دریا پہاڑ جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ تعالٰی نے تمہارے دینی و دنیوی نفع کے لئے بنائے دینی نفع اس طرح کہ زمین کے عجائبات دیکھ کر تمہیں اللہ تعالٰی کی حکمت و قدرت کی معرفت ہو اور دنیوی منافع یہ کہ کھاؤ پیوآرام کرو اپنے کاموں میں لاؤ تو ان نعمتوں کے باوجود تم کس طرح کفر کرو گے مسئلہ کرخی و ابوبکر رازی وغیرہ نے خلق لکم کو قابل انتفاع اشیاء کے مباح الاصل ہونے کی دلیل قرار دیا ہے۔

(ف52)

یعنی یہ خلقت و ایجاد اللہ تعالٰی کے عالم جمیع اشیاء ہونے کی دلیل ہے کیونکہ ایسی پر حکمت مخلوق کا پیدا کرنا بغیر علم محیط کے ممکن و متصور نہیں مرنے کے بعد زندہ ہونا کافر محال جانتے تھے ان آیتوں میں ان کے بطلان پر قوی برہان قائم فرمادی کہ جب اللہ تعالٰی قادر ہے علیم ہے اور ابدان کے مادے جمع و حیات کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں تو موت کے بعد حیات کیسے محال ہوسکتی ہے پیدائش آسمان و زمین کے بعد اللہ تعالٰی نے آسمان میں فرشتوں کو اور زمین میں جنات کو سکونت دی جنات نے فساد انگیزی کی تو ملائکہ کی ایک جماعت بھیجی جس نے انہیں پہاڑوں اور جزیروں میں نکال بھگایا ۔

بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حکایت نمبر150: بڑی چاہتوں سے ہے اس در کو پایا

حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں، مجھ سے حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اِیمان لانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا : مَیں” اصبہان” کے ایک گاؤں میں رہتاتھا، میرا باپ ایک بڑا جاگیردار تھا اور وہ مجھ سے بہت زیادہ محبت کرتا تھا، میں اس کے نزدیک تمام مخلوق سے زیادہ پیارا تھا۔ اسی محبت کی وجہ سے وہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیتا، ہر وقت مجھے گھر ہی میں رکھتا، میری خوب دیکھ بھا ل کرتا،میرے باپ کی یہ خواہش تھی کہ مَیں پکا مجوسی (یعنی آتش پرست) بنوں کیونکہ ہمارا آبائی مذہب ”مجوسیت” ہی تھاا ور میرا باپ پکا مجوسی تھا۔ وہ مجھے بھی اپنی ہی طر ح بنانا چاہتا تھا لہٰذا اس نے میری ذمہ داری لگا دی کہ میں آتش کدہ میں آگ بھڑکاتا رہوں اور ایک لمحہ کے لئے بھی آگ کو نہ بجھنے دو ں۔ میں اپنی ذِمہ داری سر انجام دیتا رہا۔ ایک دن میرا باپ کسی تعمیری کام میں مشغول تھا جس کی وجہ سے وہ زمینوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا تھا۔

چنانچہ میرے باپ نے مجھے بلایا اور کہا: ”ا ے میرے بیٹے !آج میں یہاں بہت مصروف ہوں اور کھیتوں کی دیکھ بھال کے لئے نہیں جاسکتا ۔ آج وہاں تُو چلا جا او رخادموں کو فلاں فلاں کام کی ذمہ داری سونپ دینا اور ان کی نگرانی کرنا، اِدھر اُدھر کہیں متوجہ نہ ہونا، سیدھااپنے کھیتوں پرجانا ہے اور کام پورا ہونے کے فوراً بعدواپس آجانا۔” اپنے باپ کا حکم پاتے ہی میں اپنی زمینوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں عیسائیوں کا عبادت خانہ تھا۔ جب میں اس کے قریب سے گزرا تو مجھے اندر سے کچھ آوازیں سنائی دیں۔وہاں کچھ راہب نماز میں مشغول تھے۔ میں جب اندر داخل ہوا اور ان کااندازِ عبادت مجھے بڑا انوکھااوراچھا لگامیں نے پہلی مرتبہ اس انداز میں کسی کو عبادت کر تے ہوئے دیکھا تھا۔میں چونکہ زیادہ تر گھر ہی میں رہتاتھا اس لئے لوگو ں کے معاملات سے آگاہ نہ تھا۔ اب جب یہاں ان لوگوں کو دیکھا کہ یہ ایسے انداز میں عبادت کر رہے ہیں جو ہم سے بالکل مختلف ہے تو میرا دل ان کی طر ف راغب ہونے لگا اور مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا۔

میں نے دل میں کہا :” خدا عزوجل کی قسم! ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے اچھا ہے ۔” پھر میں سارادن انہیں دیکھتا رہا اور اپنے کھیتوں پر نہیں گیا۔ جب تاریکی نے اپنے پر پھیلانا شروع کئے تو میں ان لوگو ں کے قریب گیا اور ان سے پوچھا: ” تم جس دین کو مانتے ہو اس کی اصل کہاں ہے؟ یعنی تمہارا مرکز کہاں ہے؟ ” انہوں نے بتا یا:” ہمارا مرکز” شام” میں ہے۔” پھرمیں گھر چلا آیا۔ میرا باپ بہت پریشان تھا کہ نہ جانے میرا بچہ کہا ں گم ہوگیا؟ اس نے میری تلاش میں کچھ لوگوں کو آس پاس کی بستیوں میں بھیج دیا تھا۔ جب میں گھر پہنچا تو میرے باپ نے بے تاب ہوکر پوچھا:” میرے لال! تُو کہاں چلا گیا تھا؟ ہم تو تیری وجہ سے بہت پریشان تھے۔ ”میں نے کہا :”میں اپنی زمینوں کی طرف جارہا تھا کہ راستے میں کچھ لوگوں کو نماز پڑھتے دیکھا ، مجھے ان کا اندازِ عبادت بہت پسند آیا چنانچہ میں شام تک انہی کے پاس بیٹھا رہا۔”
یہ سن کر میرا باپ پریشان ہوااور کہنے لگا :”میرے بیٹے !ان لوگوں کے مذہب میں کوئی بھلائی نہیں۔ جس مذہب پر ہم ہیں اورجس پر ہمارے آباؤ اجدادتھے وہی سب سے اچھا ہے لہٰذا تم کسی اور طرف تو جہ نہ دو۔”میں نے کہا:” ہر گز نہیں، خداعزوجل کی قسم !ان راہبوں کا مذہب ہمارے مذہب سے بہت بہتر ہے۔ ”میری یہ گفتگو سن کر میرے باپ کو یہ خوف ہونے لگا کہ کہیں میرا بیٹا مجوسیت کو چھوڑ کرنصرانی مذہب قبول نہ کرلے۔ اسی خوف کے پیشِ نظر اس نے میرے پاؤں میں بیڑیاں ڈالوا دیں اورمجھے گھر میں قید کر دیا تا کہ میں گھر سے باہر ہی نہ نکل سکوں۔ مجھے ان راہبوں سے بہت زیادہ عقیدت ہو گئی تھی۔ میں نے کسی طر یقے سے ان تک پیغام بھجوایا کہ جب کبھی تمہارے پاس ملکِ شام سے کوئی قافلہ آئے تو مجھے ضرور اطلاع دینا۔
چند رو ز بعد مجھے اِطلاع ملی کہ شام سے راہبوں کا ایک قافلہ ہمارے شہر میں آیا ہوا ہے۔ میں نے پھر راہبوں کو پیغام بھجوایا کہ جب یہ قافلہ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد واپس شام جانے لگے تو مجھے ضرور اطلاع دینا ۔کچھ دن بعد مجھے اِطلاع ملی کہ قافلہ واپس شام جارہا ہے ۔میں نے بہت جدو جہد کے بعداپنے قدموں سے بیڑیاں اُتا ریں اور فوراً شام جانے والے قافلے کے ساتھ جا ملا ۔ مُلکِ ”شام ”پہنچ کر میں نے لوگوں سے پوچھا:” تم میں سب سے زیادہ معزز اورصاحب ِعلم وعمل کون ہے ؟” لوگوں نے بتا یا:”فلاں کنیسہ(یعنی عبادت خانہ) میں رہنے والا راہب ہم میں سب سے زیادہ قابل اِحترام اور سب سے زیادہ متقی و پر ہیز گار ہے ۔”چنانچہ میں اس راہب کے پاس پہنچا اور کہا:” مجھے آپ کا دین بہت پسند آیا ہے ، اب میں اس دین کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں۔ اگر آپ قبول فرمالیں تومیں آپ کی خدمت کیا کروں گا اور آپ سے اس دین کے متعلق معلومات بھی حاصل کرتا رہوں گا۔ برائے کرم !مجھے اپنی خدمت کے لئے رکھ لیجئے ۔”
یہ سن کر اس راہب نے کہا:” ٹھیک ہے، تم بخوشی میرے ساتھ رہو اور مجھ سے ہمارے دین کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔”چنانچہ میں اس کے ساتھ رہنے لگا لیکن وہ راہب مجھے پسند نہ آیا۔وہ بہت بُرا شخص تھا، لوگو ں کو صدقات وخیرات کی ترغیب دلاتا ۔ جب لوگ صدقات وخیرات کی رقم لے کر آتے تو یہ اس رقم کو غریبو ں اور مسکینوں میں تقسیم نہ کرتا بلکہ اپنے پاس ہی جمع کرلیتا ۔ اس طرح اس بد با طن راہب نے بہت سارا خزانہ جمع کرکے سونے کے بڑے بڑے سات مٹکے بھر لئے تھے ۔ مجھے اس کی ان حرکتوں پر بہت غصہ آتا بالآخرجب وہ مرا تو لوگو ں کا بہت بڑا ہجوم اس کی تجہیز وتکفین کے لئے آیا ۔ میں نے لوگو ں کو بتایا: ” جس کے بارے میں تمہارا گما ن تھا کہ وہ سب سے بڑا راہب ہے وہ تو بہت لالچی اور گندی عادتو ں والا تھا۔ ” لوگ کہنے لگے :” یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟تمہارے پاس کیا دلیل ہے کہ وہ راہب بُر ا شخص تھا؟” میں نے کہا : ”اگر تمہیں میری بات پر یقین نہیں آتاتو میرے ساتھ چلو، میں تمہیں اس کامال ودولت اور خزانہ دکھاتا ہوں جو وہ جمع کرتا رہااورفقراء ومساکین اوریتیموں پر خرچ نہ کیا ۔” لوگ میرے ساتھ چل دیئے۔ میں نے انہیں وہ مٹکے دکھائے جن میں سونا بھر اہوا تھا ۔ انہوں نے وہ مٹکے لئے اور کہا:” خدا عزوجل کی قسم !ہم اس راہب کو دفن نہیں کریں گے ۔” پھر انہوں نے اس کے مردہ جسم کو سولی پر لٹکایا اور پتھر مار مار کر چھلنی کردیا پھراس کی لاش کو بے گور وکفن پھینک دیا۔ اس کے بعد لوگو ں نے ایک اور راہب کواس کی جگہ منتخب کرلیا۔ وہ بہت اچھی عادات وصفات کا مالک اورانتہائی متقی وپرہیز گار شخص تھا، طمع ولا لچ اس میں بالکل نہ تھی، دن رات عبادت میں مشغول رہتا۔ دُنیوی معاملات کی طر ف بالکل بھی تو جہ نہ دیتا ،میرے دل میں اس کی عقیدت ومحبت گھر کر گئی۔ میں نے اس کی خوب خدمت کی اوراس سے نصرانیت کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہا ۔
جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کی وصیت کر تے ہیں ؟ آپ کے بعد میری رہنمائی کون کریگا ؟” وہ راہب کہنے لگا :” اے میرے بیٹے! اللہ عزوجل کی قسم! جس دین پر میں ہوں اس میں سب سے بڑا عالم وفقیہہ ایک شخص ہے جو ” موصل ” میں رہتا ہے۔میرے نزدیک اس سے بہتر کوئی نہیں جو تمہاری رہنمائی کر سکے، اگرتم سے ہوسکے تو اس کی خدمت میں حاضر ہوجاؤ ۔” راہب کی یہ بات سن کر میں موصل چلا گیا اوروہاں کے راہب کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے واقعی اسے ایسا پایا جیسا اس کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ وہ بہت نیک وزاہد شخص تھا ۔چنانچہ میں اس کے پاس رہنے لگا پھر جب اس کی وفات کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا : ”اب آپ مجھے کس کے پاس جانے کاحکم دیتے ہیں جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟”اس نے جواب دیا : ” اللہ عزوجل کی قسم! اس وقت ہمارے دین کا سب سے بڑا باعمل عالم ” نصیبین ”میں رہتا ہے ۔میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی اور نہیں،اگر ہوسکے تو اس کے پاس چلے جاؤ ۔”
چنانچہ میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتا ہوا ”نصیبین ” پہنچا اور اس راہب کے پاس رہنے لگا۔ وہ بھی نہایت متقی وپرہیزگار شخص تھا ، جب اس کی وفات کا وقت آیا تو میں نے پوچھا: ”آپ مجھے کس کے پاس جانے کا حکم فرماتے ہیں ؟ ”اس نے کہا: ”اس وقت ہمارے دین پر قائم رہنے والوں میں سب سے بڑا باعمل راہب ” عموریہ ” میں رہتا ہے، میری نظروں میں اس سے بہتر کوئی نہیں، تم اس کے پاس چلے جاؤ وہ تمہاری صحیح رہنمائی کریگا۔” چنانچہ میں ”عموریہ” پہنچا اور اس راہب کی خدمت میں رہنے لگا ۔ وہ واقعی بہت نیک وصالح شخص تھا ۔ میں اس سے دینِ نصاری کے بارے میں معلومات حاصل کرتا اور دن کوبطورِ اجیر(یعنی مزدور) ایک شخص کے جانوروں کی دیکھ بھال کرتا۔اس طرح میرے پاس اتنی رقم جمع ہوگئی کہ میں نے کچھ گائے اور بکریا ں وغیرہ خرید لیں ۔ پھر جب اس راہب کی موت کا وقت قریب آیا تو میں نے اس سے پوچھا:”آپ مجھے کس کے پاس بھیجیں گے جو آپ کے بعد میری صحیح رہنمائی کرے؟ ”
اس راہب نے کہا:” اے میرے بیٹے! اب ہمارے دین پر قائم رہنے والا کوئی ایسا شخص نہیں جس کے پاس میں تجھے بھیجوں۔ ہاں! اگر تم نجات چاہتے ہو تو میری بات تو جہ سے سنو: اب اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی جلوہ گری کا وقت بہت قریب آگیا ہے جو دینِ ابراہیمی لے کر آئے گا۔ وہ سر زمین عرب میں مبعوث ہوگا اور کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت فرمائے گا ۔ اس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی کچھ واضح نشانیاں یہ ہیں:”(۱) ۔۔۔۔۔۔وہ ہدیہ قبول فرمائیں گے (۲)۔۔۔۔۔۔ لیکن صدقے کا کھانا نہیں کھائیں گے اور (۳)۔۔۔۔۔۔ اُن کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہر نبوت ہوگی ۔”
اگر تم اُس نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کازمانہ پاؤ تو ان کے پاس چلے جانا ان شاء اللہ عزوجل تم دنیا وآخرت میں کامیاب ہو جاؤ گے ۔اے میرے بیٹے !تم اس رحمت والے نبی صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے ضرور ملنا ۔ اِتنا کہنے کے بعد اس راہب کا بھی اِنتقال ہوگیا۔پھرجب تک میرے رب عزوجل نے چاہا میں”عموریہ” میں ہی رہا۔پھر مجھے اِطلاع ملی کہ قبیلہ ”بنی کلب ”کے کچھ تاجر عرب شریف جارہے ہیں تو میں ان کے پاس گیا اور ان سے کہا: ”میں بھی تمہارے ساتھ عرب شریف جانا چاہتاہوں، میرے پاس کچھ گائیں اور بکریاں ہیں،یہ سب کی سب تم لے لو او رمجھے عرب شریف لے چلو۔” ان تاجروں نے میری یہ بات منظور کرلی اور میں نے انہیں تمام گائیں اور بکریاں دے دیں ۔چنانچہ ہمارا قافلہ سوئے عرب روانہ ہوا۔ جب ہم وادی ”قُرٰی” میں پہنچے تو ان تا جروں نے مجھ پر ظلم کیا اور مجھے جبراً اپنا غلام بنا کر ایک یہودی کے ہاتھوں فر وخت کردیا۔
یہودی مجھے اپنے علاقے میں لے گیا ۔وہا ں میں نے بہت سے کجھوروں کے درخت دیکھے تو میں سمجھا کہ شاید یہی وہ شہر ہے جس کے بارے میں مجھے بتایا گیا ہے کہ نبی آخر الزّماں، سلطان ِدو جہاں ،محبوبِ رب الانس والجاں عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم یہاں تشریف لائیں گے ۔ چنانچہ میں اس یہودی کے پاس رہنے لگا اور اس کی خدمت کرنے لگا۔ کچھ دنوں کے بعد اس یہودی کا چچا زاد بھائی مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے اس کے پاس آیا۔ اس کا تعلق قبیلہ ”بنی قریظہ” سے تھا ۔یہودی نے مجھے اس کے ہاتھوں فر وخت کردیا ۔ وہ مجھے لے کر مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً کی طر ف روانہ ہوگیا۔ خدا عزوجل کی قسم! جب میں مدینہ منورہ کی پاکیزہ فضاؤں میں پہنچا تو میں نے پہلی ہی نظر میں پہچان لیا کہ یہی جگہ میری عقیدتوں کا محور ومرکز ہے۔ یہی وہ پاکیزہ شہر ہے جس میں نبی آخر الزماں، سلطانِ دو جہاں ، سرور کون ومکاں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی تشریف آوری ہوگی۔ جو نشانیاں راہب نے مجھے بتائی تھیں کہ وہاں بکثر ت کھجوریں ہوں گی ،وہ میں نے وہاں پالی تھیں ۔
اب مَیں منتظر تھا کہ کب میرے کانوں میں یہ صدا گونجے کہ اس پاکیزہ ہستی نے اپنے جلوؤں سے مدینہ منورہ کو نور بارکردیا ہے جس کی آمد کی خبر سابقہ آسمانی کتب میں دی گئی ہے ۔
بالآخر اِنتظار کی گھڑیاں ختم ہو ئیں۔ ایک دن میں کھجور کے درخت پر چڑھا ہوا تھا اور میرا مالک نیچے بیٹھا تھا ۔ اس کا چچا زاد بھائی آیا اور کہنے لگا:” اللہ عزوجل فلاں قبیلے (یعنی اوس وخزرج ) کو برباد کرے ،وہ لوگ مقام ”قباء ”میں جمع ہیں او رایک ایسے شخص کا دین قبول کرچکے ہیں جومکہ مکرمہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماًسے آیا ہے اور وہ اپنے آپ کو اللہ عزوجل کا نبی کہتا ہے۔اس قبیلے (یعنی اوس وخزرج) کے اکثر لوگ اپنے آباء واجداد کادین چھوڑکر اس پر ایمان لاچکے ہیں۔” جب میں نے اپنے مالک کے چچازاد بھائی کی یہ بات سنی تو میں خوشی کے عالم میں جھوم اٹھا۔قریب تھا کہ میں اپنے مالک کے اوپر گر پڑتا لیکن میں نے اپنے آپ کو سنبھالا اور جلدی جلدی نیچے اُترا۔ پھر پوچھا: ”ابھی تم نے کیا بات کہی ہے؟ اور کون شخص مکہ سے آیا ہے ؟” میری یہ بات سن کر میرے مالک کو بہت غصہ آیا اور اس نے مجھے ایک زوردار طمانچہ مارا اور کہا:” تمہیں ہماری باتوں سے کیا مطلب؟ جاؤ! ”جا کر اپنا کام کرو ۔”
میں نے کہا : ”میں تو ویسے ہی پوچھ رہا تھا ۔”یہ کہہ کر میں دوبارہ اپنے کام میں مشغول ہوگیا۔ میرے پاس کچھ رقم بچی ہوئی تھی۔ ایک دن موقع پاکر میں بازار گیا، کچھ کھانے پینے کی اشیاء خریدیں اور بے تا ب ہوکراس رخِ زیبا کی زیارت کے لئے قباء کی طر ف چل دیا جس کے دیدار کی تمنانے مجھے فارس سے مدینہ منورہ زَادَ ھَااللہُ شَرْفاًوَّتَعْظِیْماً تک پہنچا دیا تھا۔ جب میں وہاں پہنچا تو میں نے ان کی بارگاہِ بیکس پناہ میں حاضر ہوکر عرض کی: ”اے اللہ عزوجل کے بندے! مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ اللہ عزوجل کے برگزیدہ بندے ہیں اور آپ کے اصحاب میں اکثر غریب اورحاجت مند ہیں، میں کچھ اشیائے خورد ونوش لے کر حاضر ہوا ہوں ، میں یہ اشیاء بطورِ صدقہ آپ کی بارگاہ میں پیش کرتا ہوں، آپ قبول فرمالیں۔”
یہ سن کراس پاکیزہ ومطہر ہستی نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”آؤ! اوریہ چیزیں کھالو ۔” لوگ کھانے لگے او رآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ بھی نہ کھایا۔ یہ دیکھ کر میں نے دل میں کہا: ”ایک اور نشانی تو میں نے پالی ہے۔” پھر کچھ دنوں کے بعد میں کھانے کا کچھ سامان لے کر حاضر خدمت ہوا اور عرض کی: ”حضور! یہ کچھ کھانے کی چیزیں ہیں، انہیں بطور ِہدیہ قبول فرمالیں۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اس میں سے کچھ کھایا اور اپنے اصحاب کو بھی اپنے ساتھ کھانے کا حکم فرمایا ۔ میں نے دل میں کہا :” یہ دوسری نشانی بھی پوری ہوگئی ہے۔”
پھر ایک دن میں جنت البقیع کی طر ف گیا تو دیکھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم وہا ں موجود ہیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے جسمِ اَطہر پر دو چادر یں ہیں۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے گرد ا س طرح جمع ہیں جیسے شمع کے گرد پروانے جمع ہوتے ہیں۔ میں نے جا کر سلام عرض کیا اور پھر ایسی جگہ بیٹھ گیا جہاں سے میری نظرآپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی پشت مبارک پر پڑے تاکہ میں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے مبارک شانوں کے درمیان مہرِنبوت کو دیکھ سکوں کیونکہ مجھے راہب نے جو نشانیاں بتائی تھیں وہ سب کی سب میں نے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی ذات میں دیکھ لی تھیں۔ بس آخری نشانی (یعنی مہرِ نبوت) دیکھنا باقی تھی ۔ میں بڑی بے تابی سے آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طرف دیکھ رہا تھا جب نبی غیب داں صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے میری یہ حالت دیکھی تو میرے دل کی بات جان لی اور میری طرف پیٹھ پھیرکر مبارک شانوں سے چادر اُتارلی جیسے ہی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے چادر ہٹائی تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے دونوں مبارک شانوں کے درمیان مہرِ نبوت جگمگارہی تھی۔ مَیں دیوانہ وار آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی طر ف بڑھا اور مہرِ نبوت کو چُومنا شروع کردیا۔ مجھ پر رقت طاری ہوگئی ،بے اِختیار میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ آج میری خوشی کی اِنتہاء نہ تھی جس کے روئے زیبا کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے مَیں نے اِتنی مصیبتیں اور مشقتیں جھیلیں آج وہ نورِمجسّم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے سامنے موجود تھے اور میں ان کے جلوؤں میں اپنے جسم کومنور ہوتا دیکھ رہا تھا ۔
میں نے فوراً حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں عرض کی:”اے میرے محبوب آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان کردیجئے اوراپنے غلاموں میں شامل فرمالیجئے۔” پھر الْحَمْدُلِلّٰہِ عَزَّوَجَلّ َ مَیں مسلمان ہوگیا ۔میں ابھی تک حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی مہرِ نبوت کو بو سے دے رہا تھا آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:” اب بس کرو۔” چنانچہ میں ایک طرف ہٹ گیا، پھر میں نے حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو اپنی ساری رُوداد سنائی تو صحابہ کرام علیہم الرضوان بہت حیران ہوئے کہ میں کس طرح یہاں تک پہنچااورمیں نے کتنی مشقتیں برداشت کیں۔
حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھ سے فرمایا:” اے سلمان(رضی اللہ تعالیٰ عنہ )! تم اپنے مالک سے مکاتبت کرلو( یعنی اسے رقم دے کر آزادی حاصل کرلو) جب حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے مالک سے بات کی تو اس نے کہا :” مجھے تین سو کھجوروں کے درخت لگا دو اور چالیس اوقیہ چاندی بھی دو پھر جب یہ کھجور یں پھل دینے لگ جائیں گی تو تم میری طرف سے آزاد ہوجاؤگے ۔”
میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہِ بیکس پنا ہ میں حاضر ہوا اور اپنے مالک کی شرطیں آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو بتائیں ۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے صحابہ کرام علیہم الرضوان سے فرمایا: ”اپنے بھائی کی مدد کرو ۔” چنانچہ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے بھرپور تعاون کیا، کسی نے کھجوروں کے 30پودے لاکر دیئے، کسی نے 50 ۔ الغرض !مددگار صحابہ کرام علیہم الرضوان کی مدد سے میرے پاس 300کھجوروں کے پودے جمع ہوگئے ۔

پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ”اے سلمان فارسی( رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !تم جاؤ او رزمین کو ہموار کرو۔” چنانچہ میں گیا اور زمین کو ہموار کرنے لگا تا کہ وہاں کھجور کے پودے لگائے جاسکیں ۔ ا س کام سے فارغ ہو کر میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم!میں نے زمین ہموار کر دی ہے۔” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے ساتھ چل دیئے۔صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ہمراہ تھے ۔ ہم حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو کھجوروں کے پودے اُٹھا اُٹھا کر دیتے اور آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم اپنے دستِ اقدس سے اسے زمین میں لگاتے جاتے ۔

حضرت سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں سلمان فارسی ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی جان ہے ! حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے جتنے پودے لگائے وہ سب کے سب اُگ آئے اور ان میں بہت جلد پھل لگنے لگے ۔”چنا نچہ میں نے 300کھجوریں اپنے مالک کے حوالے کیں۔ ابھی میرے ذمہ 40اوقیہ چاندی باقی رہ گئی تھی ؟پھر حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس کسی نے مرغی کے انڈے جتنا سونے کا ایک ٹکڑا بھجوایا۔ آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے استفسارفرمایا: ”سلمان فارسی کا کیا ہوا ؟ ” پھر مجھے بلواکر فرمایا:”اسے لے جاؤ،اور اپنا قرض اداکرو۔”میں نے عرض کی :”ابھی 40 اوقیہ چاندی اور دینی ہے ،پھر مجھے غلامی سے آزادی ملے گی۔ ” 

حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وہ سونے کا ٹکڑا دیا اورفرمایا:” جاؤ! او راس کے ذریعے 40اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ باقی ہے، اسے ادا کرو ۔” میں نے عرض کی:”اے میرے آقا صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! یہ اِتنا سا سونا 40اوقیہ چاندی کے برابر کس طر ح ہوگا ؟” آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا: ”تم یہ سونا لو اور اس کے ذریعے 40 اوقیہ چاندی جو تمہارے ذمہ ہے، اسے ادا کرو، اللہ عزوجل تمہارے لئے اسی سونے کو کافی کردے گااور تمہارے ذِمہ جتنی چاندی ہے یہ اس کے برابر ہوجائے گا ۔” میں نے وہ سونے کا ٹکڑا لیااوراس کا وزن کیا۔ اس پاک پروردگار عزوجل کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! وہ تھوڑا سا سونا 40 اوقیہ چاندی کے برابر ہوگیا او راس طرح میں نے اپنے مالک کو چاندی دے دی اور غلامی کی قید سے آزاد ہوکر سرکار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے غلاموں میں شامل ہوگیا۔ پھر میں غزوہ خندق میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ شامل ہوا ۔اس کے بعد میں ہر غزوہ میں حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے ساتھ رہا ۔

(المسند للامام احمد بن حنبل، حدیث سلمان الفارسی، الحدیث۲۳۷۹۸،ج۹،ص۱۸۵تا۱۸۹)

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالی علی وسلم)

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَرَ اِلَى الَّذِيۡنَ اُوۡتُوۡا نَصِيۡبًا مِّنَ الۡكِتٰبِ يُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡجِبۡتِ وَالطَّاغُوۡتِ وَيَقُوۡلُوۡنَ لِلَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هٰٓؤُلَۤاءِ اَهۡدٰى مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا سَبِيۡلًا ۞

ترجمہ:

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں آسمانی کتاب سے حصہ دیا گیا وہ بت اور شیطان پر ایمان لاتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ لوگ ایمان والوں کی بہ نسبت زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (النساء : ٥١) 

جبت اور طاغوت کا معنی : 

ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جائے وہ جبت ہے (تفسیر الزجاج ج ٢ ص ٦٤) 

عطیہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ جبت سے مراد بت ہیں اور طاغوت سے مراد بتوں کے ترجمان ہیں جو بتوں کے سامنے بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں اور بتوں کی طرف منسوب کرکے لوگوں سے جھوٹی اور من گھڑت باتیں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو گمراہ کریں ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا جبت سے مراد ساحر ہے اور طاغوت سے مراد شیطان ہے ‘ مجاہد نے کہا طاغوت سے مراد وہ شیطان ہے جو انسان کی صورت میں آتا ہے اور لوگ اس کے پاس اپنے مقدمات پیش کرتے ہیں ‘ مجاہد نے ایک تفسیر یہ بھی کی ہے کہ طاغوت سے مراد کاہن ہے اور جبت سے مراد ساحر ہے ‘ حضرت ابن عباس (رض) سے ایک تفسیر یہ ہے کہ جبت سے مراد ایک یہودی عالم حی بن اخطب ہے اور طاغوت سے مراد ایک یہودی سردار اور عالم کعب بن اشرف ہے۔ (جامع البیان : ج ٥ ص ٨٤۔ ٨٣) 

امام رازی نے بیان کیا ہے کہ حی بن اخطب اور کعب بن الاشرف چند یہودیوں کے ساتھ مکہ گئے وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف جنگ کرنے کے لیے کفار قریش کو اپنا حلیف بنانا چاہتے تھے۔ قریش نے کہا تم اہل کتاب ہو اور ہماری بہ نسبت تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زیادہ قریب ہو۔ ہم تمہاری بات پر اس وقت تک اعتبار نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے بتوں کو سجدہ نہیں کرو گے تاکہ ہمارے دل مطمئن ہوجائیں سو انہوں نے بتوں کو سجدہ کرلیا ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بعض اہل کتاب جبت اور طاغوت پر ایمان لاتے ہیں ‘ پھر ابو سفیان نے پوچھا : یہ بتاؤ کہ ہم زیادہ ہدایت کے طریقہ پر ہیں یا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کعب نے پوچھا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا کہتے ہیں ؟ قریش نے کہا وہ کہتے ہیں صرف ایک خدا کی عبادت کرو ‘ بتوں کی عبادت نہ کرو اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ترک کردیا ہے اور لوگوں میں جدائی ڈال دی ہے ‘ کعب نے پوچھا اور تمہارا دین کیا ہے ؟ انہوں نے کہا ہم بیت اللہ کے محافظ ہیں ‘ حجاج کو پانی پلاتے ہیں ‘ مہمان نوازی کرتے ہیں اور قیدیوں کو چھڑاتے ہیں تو کعب بن اشرف نے کہا تم زیادہ ہدایت یافتہ ہو ‘ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی اور یہودی اہل کتاب کافروں کے متعلق کہتے ہیں یہ زیادہ ہدایت یافتہ ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٣٥)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 51

سستا حج حقائق کی نظر میں

دوربین

سستا حج حقائق کی نظر میں۔

گزشتہ چند دنوں سوشل میڈیا پر ایک شور بپا ہے کہ موجودہ حکومت نے قادیانیوں کو ان کے مذہبی مقام ربوہ جانے والے راستے سستے کر دئیے اور مسلمانوں کے لیے حج جیسی عبادت کو دوگنا مہنگا کر دیا اعتراض کرنے والوں کا اعتراض بلکل بجا ہے حکومت کو چاہیئے تھا کہ وہ اس معاملہ پر سنجیدگی سے غور و فکر کرتی کہ آخر سابقہ حکومت نے جو پانچ حج کروائے جو موجودہ رقم سے آدھی رقم پر تھے

کیا ان کے جہاذ پٹرول کے بجائے پانی پر چلتے تھے؟

کیا سعودی عرب میں ٹرانسپوٹیشن کے لیے بسوں کی جگہ گدھا ریڑیاں استعمال کی جاتی تھیں ؟

کیاحجاج کرام کو کھانا لنگر سے کھلایا جاتا رہا ؟

کیا حجاج کرام کی رہاش کے لیے اچھے ہوٹلز کے بجائے ٹنٹ استعمال کیئے گے؟

جو حج کے اخراجات کو سابقہ ادوار کے مقابلہ میں نصف تک لے آئے لیکن افسوس ہے کہ کوئی سچ سنتا ہے نہ سننا چاہتا ہے ہر چیز کی بنیاد جھوٹ پر رکھی ہوئی ہے

جب ہیلی کاپٹر کی بات چلی تو چوہدری فواد جھوٹ بولنے آ گیا کہ یہ 55 روپے فی کلو میٹر سفر طے کرتا ہے

ساہیوال میں بے گناہ فیملی قتل ہوئی تو کہا گیا یہ دہشت گرد تھے

حج کے مہنگا کرنے پر سوال ہوا تو جواب آیا سابقہ حکومت سبسڈڈی دیتی رہی

الغرض ان لوگوں نے جھوٹوں میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے پھر کبھی اس موضوع پر قلم کو جنبش دینے کی کوشش کروں گا

آج صرف سابقہ حج کے بارے میں کچھ حقائق ہیں جو عرض کرنا چاہتا ہوں۔آخر سابقہ حکومت کے وزارت مذہبی امور جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور دوسرے وزیر سردار یوسف صاحب کے پاس کون سا اللہ دین کا چراغ آ گیا تھا کہ انہوں نے پاکستانیوں کو تاریخ کے سستے ترین حج کروائے

۔(راقم پر بنا پڑھے لعنتیں بھیجنے کے بجائے پہلے ساری تحریر کو پڑھیے گا شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات ۔)

حقائق کچھ یوں ہیں سابقہ دور حکومت میں کوئی بھی وزیر وزارت حج کو لینے پر تیار نہیں تھا کیونکہ یہ بدنام زمانہ وزارت بن چکی تھی اور پی پی پی کے وزیر مذہبی امور الزام کرپشن لگنے پر جیل میں کردہ یا ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے تھے ایسے عالم میں سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے جس شخص کو اس اہم ترین کام کی ذمہ داری سونپی وہ اللہ رب العزت کا سچا بندہ تھا ا ن کے پیش نظر نہ دنیا کی حرص تھی نہ عزت دار بننے کا خمار رب کائنات نے پہلے ہی سب کچھ عطا فرمایا ہوا ہے ۔انہوں نے اس بوجھ کو اٹھایا اور ہمت و حوصلہ و ایمانداری سے اس فریضہ کو نبھایا ۔ان سے پہلے حج کے مہنگا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ حاجی سرکاری حج سکیم میں جانا پسند ہی نہیں کرتے تھے ہر سال حکومت کئی کئی سیٹیں خالی رہ جاتیں اور حجاج کرام پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعہ حج کرتے اور اس میں بھی لوگوں نے کیٹگریز رکھی ہوتی اور بہت زیادہ سہولیات لینے والے حجاج 10 لاکھ تک کا بھی حج کرتے تھے ۔ لوگوں کا سرکاری حج سکیم میں نہ آنے کی سب سے بڑی وجہ سہولیات کا فقدان اور عدم مساوات تھی ایک طبقہ اشرافیہ تھا جو حکومت میں ہوتا تھا ان کے وزیروں ان کے دوستوں اور رشتہ داروں تک کو حج کی سہولیات وی آئی پی اور مفت میں ہوتی تھیں اور دیگر حاجی جو سرکاری حج سکیم میں پیسے دے کر جاتے انہیں سستے ہوٹلز میں رہاش دی جاتی ۔نون لیگ کے

وزراء مذہبی امور نے پہلی ہی میٹنگ میں واضح اعلان کر دیا کہ کوئی وزیر مشیر اور ان کا کوئی رشتہ دار حتی کے وزیر اعظم کا بھی کوئی رشتہ دار تعلق دار مفت میں حج نہیں کرے گا ۔( اور اس پر عمل بھی کیا وزیر مذہبی امور جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کی فیملی ساتھ حج کرنے گئی انہوں نے اپنی فیملی کے اخراجات وزارت حج کے پیسے پر نہیں بلکہ اپنے ذاتی اکاونٹ سے ادا کیئے

1 ۔گویا سرکاری کوٹہ کے حج کو ختم کیا گیا ۔

2۔حجاج کرام کے لیے وی آئی پی اور عام حاجی کی تفریق ختم کی گئی تمام حجاج کو ایک ہی قسم کی رہاش اور کھانے پیش کرنے کا اہتمام کیا گیا حتی کی دونوں ذمہ دار وزراء جناب پیر محمد امین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اپنی رہاش اور کھانا اپنے لیے اسی جگہ اور وہی رکھا جو عام حاجیوں کا تھا۔

3۔سابقہ دور حکومت سے پہلے وی آئی پی حجاج کے لیے وی وی آئی پی ہوٹلز اور عام حجاج کے لیے حرم شریف کے قریب پرانی عمارات میں رہاش رکھی جاتی تاکہ حاجی حرم شریف کے قریب رہیں اور کئی گنا زیادہ کرایہ پرانی بلڈنگز کا دیا جاتا جن میں سہولیات کا بھی فقدان ہوتا

سابق وزراء مذہبی امور نے سب سے پہلے قریب کی مہنگی اور پرانی عمارات کے بجائے حرم شریف سے دور نئی عمارات کرایہ پر حاصل کیں جن میں تمام سہولیات میسر ہوں خاص طور پر لفٹ کی سہولت میسر ہو حجاج کے لیے ہر فلور پر واشنگ مشین اور استری تک کا اہتمام کیا ۔

4۔ حکومت نے بسیں کرایہ پر لیں اور جن کو آڈر یہ تھا کہ وہ 24 گھنٹے مسلسل اپنا سفر جاری رکھیں گی اور ہر 10 منٹ بعد ہر ہوٹل کے دروازے کے سامنے سے بس حجاج کو حرم شریف اور حرم شریف سے ہوٹل تک منتقل کرے گی ۔

5۔ہوٹلز مالکان سے تمام حجاج کرام کے لیے نئے میٹرس کا اہتمام کیا جو مکمل طور پر آرام دے تھے ۔

5۔تمام حجاج کرام کے لیے کھانے کا بہترین انتظام کیا اور ہر حاجی کو کھانا اس کے کمرہ میں ملتا تھا۔ تاکہ حجاج کرام باسی کھانا کھانے کی وجہ سے بیمار نہ ہوں ۔

6 طبی امداد تمام حجاج کے لیے ڈاکٹرز کی ٹیمیں ہمہ وقت مصروف عمل رہتیں ۔

یہ وہ انقلابی اقدامات تھے جن کی وجہ سے گورنمنٹ کی وہ حج سکیم جس کے لیے اشتہار بازی کے باوجود لوگ مہنگا داموں پرائیویٹ حج کرتے لیکن گورنمنٹ کو پیسہ نہ دیتے آخر وہ وقت بھی آیا کہ حکومت کے پاس اتنی درخواستیں آئیں کہ حکومت کو پرائیویٹ کمپنیوں کو حجاج دینے پڑے ۔

6 -پاکستان کی تاریخ میں یہ منظر بھی قوم نے دیکھا کہ سرکار نے حج کے بعد لوگوں کے اخراجات سے بچے ہوئے پیسے واپس کیئے۔

اس سارے عمل کو صاف و شفاف رکھنے میں متعلقہ دونوں وزراء جناب پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب اور سردار یوسف صاحب نے اہم کردار ادا کیا اس میں کامیابی کی سب سے بڑی وجہ پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب کا حجاج کرام کی تکالیف کا ادراک تھا کیونکہ وہ زمانہ طالب علمی میں سعودی عرب قیام کے دوران حجاج کرام کی خدمت کرتے رہے

یہ وہ سبسٹڈی تھیں جو نواز شریف کی حکومت نے مدبر وزراء کے کہنے پر دی اور ملک تاریخ کے سستے ترین حج کروائے ۔یہ صرف وہ باتیں ہیں جو راقم کے ذہن میں محفوظ رہیں جو سابقہ وزیر مذہبی امور پیر محمد آمین الحسنات شاہ صاحب سے برائے راست سنی اس کے علاوہ اور بھی بہت سے انقلابی اقدامات تھے جس کا ذکر حجاج کرام نے واپسی پر کیا ۔اور اس حج انتظامات کے صاف و شفاف ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہے کہ جو میڈیا بال کی کھال اتارتا ہے وہ بھی اعتراف کرتا رہا کہ سب سے بہترین حج ہوئے۔

رہا یہ سوال کہ حج صاحب استطاعت اور مالداروں پر فرض ہے اس لیے انہیں لوٹا جائے یہ نہ دین ہے نہ انسانیت صاحب استطاعت کا معنی یہ نہیں کہ وہ فیکٹریوں کا مالک ہو آیت فرضیت حج کی تشریع پڑھ کر یہ تبصرہ فرمائیں کہ اس شخص پر حج نہیں جو فیکٹریوں کا مالک نہ ہو ۔

اس لیے قوم یوتھ سے ادبا گزارش ہے جتنا زور اور خرچہ جھوٹ کی اشاعت پر کرتے ہیں اس کا نصف بھی اگر سچائی پر لگائیں اللہ کریم عزت بھی دے گا اور ثواب بھی۔

(طارق محمود میر کاشمیری)

حال مقیم دبئی)

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاعۡبُدُوا اللّٰهَ وَلَا تُشۡرِكُوۡا بِهٖ شَيۡــًٔـا‌ ؕ وَّبِالۡوَالِدَيۡنِ اِحۡسَانًا وَّبِذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡيَتٰمٰى وَ الۡمَسٰكِيۡنِ وَالۡجَـارِ ذِى الۡقُرۡبٰى وَالۡجَـارِ الۡجُـنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالۡجَـنۡۢبِ وَابۡنِ السَّبِيۡلِ ۙ وَمَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُكُمۡ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ مَنۡ كَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا

ترجمہ:

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ (نیکی کرو) بیشک اللہ مغرور متکبر کو پسند نہیں کرتا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ (نیکی کرو) اور رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت دار پڑوسی اور اجنبی پڑوسی اور مجلس کے ساتھی اور مسافر کے ساتھ نیکی کرو۔ (النساء : ٣٦) 

اللہ کی عبادت کرنے اور اس کے ساتھ شریک نہ کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں دراز گوش پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا : اے معاذ کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا اپنے بندوں پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں ‘ آپ نے فرمایا : اللہ کا بندوں پر یہ حق ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بنائیں ‘ اور بندوں کا اللہ پر یہ حق ہے کہ جو اس کے ساتھ بالکل شرک نہ کرے وہ اس کو عذاب نہ دے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا میں لوگوں کو اس کی خوشخبری نہ دوں ؟ آپ نے فرمایا ان کو خوش خبری نہ دو ورنہ وہ اسی پر توکل کرکے بیٹھ جائیں گے (عمل نہیں کریں گے) (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٦‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ سنن ترمذی : ٢٦٥٢‘ مسند احمد ج ٥ ص ٢٣٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٢٩٦‘ صحیح ابن حبان ‘ رقم الحدیث : ٢١٠‘ مسند ابوعوانہ : ج ١ ص ١٧) 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو اللہ پر بندوں کے حق کا ذکر فرمایا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ نے اپنے فضل اور کرم سے شرک نہ کرنے والوں کے لئے مغفرت کا وعدہ فرمایا ہے ورنہ عمل کی وجہ سے کسی بندہ کا اللہ پر کوئی حق نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یہ حدیث بیان کرنے سے منع فرمایا تھا لیکن بعد میں خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ بشارت دے دی تو حضرت معاذ (رض) نے موت سے پہلے اس حدیث کو بیان فرمادیا تاکہ علم کو چھپانے پر جو وعید ہے اس میں داخل نہ ہوں۔ 

امام ابو عبد اللہ محمد بن یزید ابن ماجہ متوفی ٢٧٣ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوالدرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک اعرابی آیا اس نے کہا اے اللہ کے نبی مجھ کو وصیت کیجئے آپ نے فرمایا اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو خواہ تمہیں کاٹ دیا جائے یا جلا دیا جائے اور کسی وقت کی نماز ترک نہ کرو اور شراب نہ پیو کیونکہ وہ برائی کی کنجی ہے۔ (سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٤٠٣٤‘ الترغیب والترہیب ج ١ ص ١٩٥‘ مجمع الزوائد : ج ٤ ص ٢١٧۔ ٢١٦) 

ماں باپ کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

(آیت) ” ووصیناالانسان بوالدیہ، حملتہ امہ وھنا علی وھن وفصالہ فی عامین ان ش کرلی ولوالدیک الی المصیر “۔ (لقمان : ١٤) 

ترجمہ : ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس کی ماں نے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اس کو پیٹ میں اٹھایا اور اس کا دودھ چھوٹنا دو برس میں ہے (اور ہم نے یہ حکم دیا کہ) میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو میری طرف لوٹنا ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھنے لگا کہ کون لوگ میرے اچھے سلوک کے مستحق ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا تمہاری ماں ‘ کہا پھر کون ہے ؟ فرمایا پھر تمہاری ماں ‘ کہا پھر فرمایا تمہارا باپ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٥٤٨‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٩‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٧٠٦‘ مصنف ابن ابی شیبہ ج ٨ ص ٥٤١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ٥٩٧١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٨ ص ٢ شرح السنۃ ‘ رقم الحدیث : ٣٤١٦) 

قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے بعد ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور اپنے شکر کے بعد ماں باپ کا شکر ادا کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ انسان کے حق میں سب سے بڑی نعمت اس کا وجود اور اس کی تربیتت اور پرورش ہے اور اس کے وجود کا سبب حقیقی اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں ‘ اسی طرح اس کی تربیت اور پرورش میں حقیقی سبب اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہری سبب اس کے والدین ہیں۔ نیز جس طرح اللہ بندے کو نعمتیں دے کر اس سے اس کا عوض نہیں چاہتا اسی طرح ماں باپ بھی اولاد کو بلاعوض نعمتیں دے دیتے ہیں ‘ اور جس طرح اللہ بندہ کو نعمتیں دینے سے تھکتا اور اکتاتا نہیں والدین بھی اولاد کو نعمتیں دینے سے تھکتے اور اکتاتے نہیں ‘ اور جس طرح بندے گنہ گار ہوں پھر بھی اللہ تعالیٰ ان پر اپنی رحمت کا دروازہ بند نہیں کرتا ‘ اسی طرح اگر اولاد نالائق ہو پھر بھی ماں باپ اس کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتے ‘ اور جس طرح اللہ اپنے بندوں کو دائمی ضرر اور عذاب سے بچانے کے لئے ہدایت فراہم کرتا ہے ماں باپ بھی اپنی اولاد کو ضرر سے بچانے کے لئے نصیحت کرتے رہتے ہیں۔ 

ماں باپ کے ساتھ اہم نیکیاں یہ ہیں کہ انسان ان کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہے ‘ ان کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرے ‘ ان کے ساتھ سختی سے بات نہ کرے ‘ ان کے مطالبات پورے کرنے کی کوشش کرے ‘ اپنی حیثیت اور وسعت کے مطابق ان پر اپنا مال خرچ کرے ‘ ان کے ساتھ عاجزی اور تواضع کے ساتھ رہے ‘ ان کی اطاعت کرے اور ان کو راضی رکھنے کی کوشش کرے خواہ اس کے خیال میں وہ اس پر ظلم کر رہے ہوں ان کی ضروریات کو اپنی ضروریات پر ترجیح دے ‘ ماں کے بلانے پر نفل نماز توڑ دے البتہ فرض نماز کسی کے بلانے پر نہ توڑے اگر اس کا باپ یہ کہے کہ اپنی بیوی کو طلاق دے دو تو اس کو طلاق دے دے۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میرے نکاح میں ایک عورت تھی جس سے میں محبت کرتا تھا اور حضرت عمر (رض) اس کو ناپسند کرتے تھے انہوں نے مجھ سے کہا اس کو طلاق دے دو ۔ میں نے انکار کیا پھر حضرت عمر (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو طلاق دے دو ۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٣٨‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٩٣، سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٢٠٨٨‘ مسند احمد ج ٢ ص ٥٣‘ ٤٢‘ ٢٠) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ ان سے ایک شخص نے کہ میری ایک بیوی ہے اور میری ماں اس کو طلاق دینے کا حکم دیتی ہے۔ حضرت ابودرداء (رض) نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سنا ہے کہ والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانی دروازہ ہے ‘ تم چاہو تو اس کو ضائع کردو اور تم چاہو تو اس کی حفاظت کرو ‘ سفیان کی ایک روایت میں ماں کا ذکر ہے اور دوسری روایت میں باپ کا ذکر ہے ‘ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٠٦) 

حافظ عبدالعظیم بن عبد القوی لکھتے ہیں : 

سب سے پہلے سیدنا ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو طلاق دینے کا حکم دیا تھا اور بیٹے کی باپ کے ساتھ نیکی یہی ہے کہ جس کو باپ ناپسند کرے اس کو بیٹا بھی ناپسند کرے اور جس سے اس کا باپ محبت کرتا ہو اس سے محبت کرے خواہ اس کو وہ ناپسند ہو ‘ یہ اس وقت واجب ہے جب اس کا باپ مسلمان ہو ‘ ورنہ مستحب ہے۔ (مختصر سنن ابو داؤد ج ٨ ص ٣٥) 

نیز باپ کے ساتھ یہ بھی نیکی ہے کہ باپ کے دوستوں کے ساتھ نیکی کرے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت خدیجہ (رض) کی سہیلیوں کے ساتھ حسن سلوک کرتے تھے اور ان کو تحائف بھیجتے تھے ‘ جب بیویوں کی سہیلیوں کا یہ درجہ ہے تو باپ کے دوستوں کا مقام اس سے زیادہ بلند ہے ‘ نیز ماں باپ کی وفات کے بعد ان کے لئے استغفار کرنا بھی ان کے ساتھ نیکی ہے ‘ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور پوچھا ماں باپ کے فوت ہونیکے بعد میں ان کے ساتھ کس طرح نیکی کروں ؟ آپ نے فرمایا انکی نماز جنازہ پڑھو ‘ ان کے لئے مغفرت کی دعا کرو ‘ انہوں نے لوگوں سے جو وعدے کئے تھے ان کو پورا کرو ‘ انکے دوستوں کی عزت کرو اور جن کے ساتھ وہ صلہ رحم کرتے تھے انکے ساتھ صلہ رحم کرو۔ (عارضۃ الاحوذی ج ٨ ص ٩٤‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤١٥ ھ) 

پڑوسیوں کے حقوق اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

جو پڑوسی رشتہ دار ہو اس کا ایک حق اسلام ہے اور ایک رشتہ داری کا حق ہے اور ایک پڑوسی کا حق ہے ‘ اور جو پڑوسی اجنبی ہو اس کے ساتھ اسلام اور پڑوسی کا حق ہے۔ 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

مجاہد بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے گھر ایک بکری ذبح کی گئی تو انہوں نے دوبارہ پوچھا تم نے ہمارے یہودی پڑوسی کے لئے ہدیہ بھیجا یا نہیں ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ جبرائیل مجھ کو ہمیشہ پڑوسی کے متعلق وصیت کرتے رہے حتی کہ میں نے یہ گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو میرا وارث کر دے گا۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٤٩‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠١٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٦٢٤‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥١‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٣) 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص اپنے دوستوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے ‘ اور جو شخص اپنے پڑوسیوں کے نزدیک اچھا ہو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥١‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث : ١١٥‘ سنن دارمی ‘ ج ٢ ص ٢١٥) 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ لکھتے ہیں 

حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے دو پڑوسی ہیں ‘ میں ان میں سے کس کے ساتھ ابتداء کروں ‘ فرمایا جس کا دروازہ تمہارے دروازہ کے زیادہ قریب ہو۔ اس حدیث کو امام بخاری نے بھی اپنی صحیح میں روایت کیا ہے۔ (الوسیط ج ٤ ص ٥٠‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت معاویہ بن حیدہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پڑوسی کا مجھ پر کیا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر وہ بیمار ہو تو تم اس کی عیادت کرو ‘ اگر وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں شریک ہو ‘ اگر وہ تم سے قرض مانگے تو اس کو قرض دو ‘ اگر وہ بدحال ہو تو اس پر ستر کرو ‘ اگر اس کو کوئی اچھائی پہنچے تو اس کو مبارک باد دو ‘ اگر اس کو کوئی مصیبت پہنچے تو اس کی تعزیت کرو ‘ اپنے گھر کی عمارت اس کی عمارت سے بلند نہ کرو کہ اس کی ہوا رک جائے۔ (المعجم الکبیر : ج ١٩ ص ٤١٩) 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص سالن پکائے تو اس میں شوربا زیادہ کرے۔ پھر اپنے پڑوسی کو بھی اس میں سے دے۔ (المعجم الاوسط ‘ رقم الحدیث : ٣٦١٥‘ کشف الاستار عن زوائد ‘ رقم الحدیث : ١٩٠١‘ مسند احمد ‘ رقم الحدیث : ١٣٦٨) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص پیٹ بھر کر رات گذارے اور اس کو علم ہو کہ اس کا پڑوسی بھوکا ہے اس کا مجھ پر ایمان نہیں ہے۔ (المعجم الکبیر ‘ رقم الحدیث : ٧٥١‘ کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ رقم الحدیث : ١١٩) 

علامہ ابی مالکی متوفی ٨٢٨ ھ نے لکھا ہے کہ جس شخص کا گھر یا دکان تمہارے گھر یا دکان سے متصل ہو وہ تمہارا پڑوسی ہے ‘ بعض علماء نے چالیس گھروں تک اتصال کا اندازہ کیا ہے۔ (اکمال اکمال المعلم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اپنے غلاموں کے ساتھ نیکی کرو۔ 

غلاموں اور خادموں کے ساتھ نیکی کرنے کا بیان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو ذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (یہ) تمہارے بھائی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا ماتحت کردیا ہے۔ سو جو تم کھاتے ہو وہ ان کو کھلاؤ اور جو تم پہنتے ہو وہ ان کو پہناؤ اور ان کے ذمہ ایسا کام نہ لگاؤ جو ان پر بھاری ہو اور اگر تم ان کے ذمہ ایسا کام لگاؤ تو تم ان کی مدد کرو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٣٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٤٣٨٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٧‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ٣٦٩٠)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ابوالقاسم نبی التوبہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے اپنے غلام کو تہمت لگائی حالانکہ وہ اس تہمت سے بری تھا ‘ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس پر حد قائم کرے گا ‘ سوا اس کے کہ وہ بات صحیح ہو ‘ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

(سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٤‘ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٨٥٨‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٦٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٥) 

حضرت ابو مسعود انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے غلام کو مار رہا تھا میں نے سنا کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا یہ کہہ رہا تھا ابو مسعود تحمل کرو ‘ ابو مسعود تحمل کرو ‘ میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھے ‘ آپ نے فرمایا جتنا تم اس پر قادر ہو اللہ تم پر اس سے زیادہ قادر ہے۔ سنن ابوداؤد میں یہ اضافہ ہے میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ اللہ کے لئے آزاد ہے ‘ آپ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرتے تو دوزخ میں جاتے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٥‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٦٥٩‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٥٩) 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے خادم کو دن میں کتنی بار معاف کروں ‘ آپ نے فرمایا ہر دن میں ستر بار۔ (سنن ترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٦) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنے خادم کو مارے اور اس کو خدا یاد آجائے تو اس کو مارنا چھوڑ دے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١٩٥٧ )

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اپنے ایک غلام کو آزاد کردیا وہ ایک تنکے سے زمین کرید رہے تھے انہوں نے کہا اس عمل میں ایک تنکے کے برابر بھی اجر نہیں ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا پیٹا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ اس کو آزاد کردے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٥١٦٨) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے غلام آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلہ میں اس کو عضو دوزخ سے آزاد کر دے گا حتی کہ اس کی فرج کے بدلہ میں اس کی فرج آزاد کردے گا۔ 

اسلام میں غلامی کو ختم کرنے کے لئے بہت سے طریقے مقرر کیے گئے قتل خطا کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ‘ قسم توڑنے کا کفارہ غلام آزاد کرنا ہے ظہار کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے ‘ عمدا روزہ توڑنے کا کفارہ بھی غلام آزاد کرنا ہے اور جس کے پاس غلام نہ ہوں تو وہ کفارہ قسم میں تین دن روزے رکھے گا ‘ اور باقی صورتوں میں دو ماہ کے روزے رکھے گا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 36