فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَـفۡسَكَ‌ وَحَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ ۚ عَسَے اللّٰهُ اَنۡ يَّكُفَّ بَاۡسَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا‌ ؕ وَاللّٰهُ اَشَدُّ بَاۡسًا وَّاَشَدُّ تَـنۡكِيۡلًا‏ ۞

ترجمہ:

سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا ‘ اور آپ مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دی ‘ عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا اور اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے اور اس کا عذاب بہت شدید ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : سو آپ اللہ کی راہ میں قتال کیجئے آپ کو صرف آپ کی ذات کا مکلف کیا جائے گا۔ (النساء : ٨٤) 

شان نزول اور ربط آیات : 

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی بہت زیادہ ترغیب دی تھی ‘ اور ان لوگوں کی مذمت کی تھی جو جہاد سے روکتے تھے اور منع کرتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا آپ ان لوگوں کے منع کرنے کی طرف توجہ اور التفات نہ کیجئے بلکہ آپ خود اللہ کی راہ میں قتال کیجئے۔ 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور بہادر ہیں۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو جہاد کا حکم دیا ہے خواہ آپ کو تنہا کافروں سے جہاد کے لیے جانا پڑے ‘ ابو سفیان نے بدر الصغری میں آپ سے مقابلہ کا وعدہ کیا تھا ‘ بعض مسلمانوں نے وہاں جانا ناپسند کیا ‘ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ آپ نے کسی کے منع کرنے کی طرف توجہ نہیں کی اور ستر مسلمانوں کے ساتھ آپ روانہ ہوئے اگر کوئی نہ جاتا تو آپ تنہا روانہ ہوجاتے۔ 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ شجاع اور دلیر تھے اور قتال کے احوال کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے ‘ کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صرف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قتال کا مکلف کیا ہے۔ 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دیجئے ‘ سو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کو جہاد کی طرف راغب کرنے کے لیے بہت ارشادات فرمائے جن کو ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں۔ اس کے بعد فرمایا عنقریب اللہ کافروں کے زور کو روک دے گا ‘ اللہ کے کلام میں جب بھی عسی (عنقریب) کا لفظ آئے تو وہ یقین کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں یہ پیش گوئی ہے کہ عنقریب کفار مغلوب ہوں گے اور مسلمان غالب ہوں گے ‘ سو بعد میں ایسا ہی ہوا اور تمام جزیر عرب مسلمانوں کے تسلط میں آگیا اور جب تک مسلمان احکام شرعیہ سے تغافل ‘ عیاشی اور باہمی تفرقہ میں مبتلا نہیں ہوئے اور تبلیغ اسلام کے لیے دنیا میں جہاد کرتے رہے تمام ممالک ان کے زیر تسلط آتے رہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 84

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 6 سورہ البقرہ آیت نمبر47 تا 59

یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتُ عَلَیْكُمْ وَ اَنِّیْ فَضَّلْتُكُمْ عَلَى الْعٰلَمِیْنَ(۴۷)

اے اولادِ یعقوب یاد کرو میرا وہ احسان جو میں نے تم پر کیا اور یہ کہ اس سارے زمانہ پر تمہیں بڑائی دی (ف۷۹)

(ف79)

” اَلْعٰلَمِیْنَ” کا استغراق حقیقی نہیں مراد یہ ہے کہ میں نے تمہارے آباء کو ان کے زمانہ والوں پر فضیلت دی یا فضل جزئی مراد ہے جو اور کسی امت کی فضیلت کا نافی نہیں ہوسکتا۔ اسی لئے امت محمدیہ کے حق میں ارشاد ہوا ” کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ” (روح البیان جمل وغیرہ)

وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(۴۸)

اور ڈرو اس دن سے جس دن کوئی جان دوسرے کا بدلہ نہ ہوسکے گی (ف۸۰) اور نہ کافر کے لیے کوئی سفارش مانی جائے اور نہ کچھ لے کر اس کی جان چھوڑی جائے اور نہ ان کی مدد ہو (ف۸۱)

(ف80)

وہ روز قیامت ہے آیت میں نفس دو مرتبہ آیا ہے پہلے سے نفس مؤمن دوسرے سے نفس کافر مراد ہے (مدارک)

(ف81)

یہاں سے رکوع کے آخر تک دس نعمتوں کا بیان ہے جو ان بنی اسرائیل کے آباء کو ملیں۔

وَ اِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَ یَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْؕ-وَ فِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ(۴۹)

اور یاد کروجب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی (ف۸۲) کہ تم پر بُرا عذاب کرتے تھے (ف۸۳) تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے (ف۸۴) اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی یا بڑا انعام (ف۸۵)

(ف82)

قوم قبط و عمالیق سے جو مصر کا بادشاہ ہوا اس کو فرعون کہتے ہیں حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانہ کے فرعون کا نام ولید بن مصعب بن ریان ہے یہاں اسی کا ذکر ہے اس کی عمر چار سو برس سے زیادہ ہوئی آل فرعون سے اس کے متبعین مراد ہیں۔ (جمل وغیرہ)

(ف83)

عذاب سب برے ہوتے ہیں۔ ” سُوْۤءَ الْعَذَابِ ” وہ کہلائے گا جو اور عذابوں سے شدید ہو اس لئے حضرت مترجم قُدِّ سَ سِرُّ ہ، نے ( برا عذاب) ترجمہ کیا ( کما فی الجلالین وغیرہ) فرعون نے بنی اسرائیل پر نہایت بے دردی سے محنت و مشقت کے دشوار کام لازم کیے تھے پتھروں کی چٹانیں کاٹ کر ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمریں گردنیں زخمی ہوگئیں تھیں غریبوں پر ٹیکس مقرر کیے تھے جو غروب آفتاب سے قبل بجبر وصول کیے جاتے تھے جو نادار کسی دن ٹیکس ادا نہ کرسکا اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ ملا کر باندھ دیئے جاتے تھے اور مہینہ بھر تک اسی مصیبت میں رکھا جاتا تھا اور طرح طرح کی بے رحمانہ سختیاں تھیں۔(خازن وغیرہ)

(ف84)

فرعون نے خواب دیکھا کہ بَیْتُ الْمَقْدِسْ کی طرف سے آگ آئی اس نے مصر کو گھیر کر تمام قبطیوں کو جلا ڈالا بنی اسرائیل کو کچھ ضرر نہ پہنچایا اس سے اس کو بہت وحشت ہوئی کاہنوں نے تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیرے ہلاک اور زوال سلطنت کا باعث ہوگا۔ یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو لڑکا پیدا ہو قتل کردیا جائے دائیاں تفتیش کے لئے مقرر ہوئیں بارہ ہزار وبروایتے ستر ہزار لڑکے قتل کر ڈالے گئے اور نوّے ہز ار حمل گرادیئے گئے اور مشیتِ الہٰی سے اس قوم کے بوڑھے جلد جلد مرنے لگے قوم قبط کے رؤسانے گھبرا کر فرعون سے شکایت کی کہ بنی اسرائیل میں موت کی گرم بازاری ہے اس پر ان کے بچے بھی قتل کیے جاتے ہیں تو ہمیں خدمت گار کہاں سے میسر آئیں گے فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے قتل کیے جائیں اور ایک سال چھوڑے جائیں تو جو سال چھوڑنے کا تھا اس میں حضرت ہارون پیدا ہوئے اور قتل کے سال حضرت موسٰی علیہ السلام کی ولادت ہوئی۔

(ف85)

بلا امتحان و آزمائش کو کہتے ہیں آزمائش نعمت سے بھی ہوتی ہے اور شدت و محنت سے بھی نعمت سے بندہ کی شکر گزاری اور محنت سے اس کے صبر کا حال ظاہر ہوتا ہے اگر ” ذَالِکُمْ” کا اشارہ فرعون کے مظالم کی طرف ہو تو بلا سے محنت و مصیبت مراد ہوگی اور اگر ان مظالم سے نجات دینے کی طرف ہو تو نعمت

وَ اِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰكُمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۰)

اور جب ہم نے تمہارے لیے دریا پھاڑ دیا تو تمہیں بچالیا اور فرعون والوں کو تمہاری آنکھوں کے سامنے ڈبو دیا (ف۸۶)

(ف86)

یہ دوسری نعمت کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر فرمائی کہ انہیں فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات دی اور فرعون کو مع اس کی قوم کے ان کے سامنے غرق کیا یہاں آل فرعون سے فرعون مع اپنی قوم کے مراد ہے جیسے کہ ” کَرَّمْنَا بَنِیْ اٰدَمَ” میں حضرت آدم و اولاد آدم دونوں داخل ہیں۔ (جمل) مختصر واقعہ یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام والسلام بحکم الہٰی شب میں بنی اسرائیل کو مصر سے لے کر روانہ ہوئے صبح کو فرعون ان کی جستجو میں لشکر گراں لے کر چلا اور انہیں دریا کے کنارے جا پایا بنی اسرائیل نے لشکر فرعون دیکھ کر حضرت موسٰی علیہ السلام سے فریاد کی آپ نے بحکم الہٰی دریا میں اپنا عصا (لاٹھی) مارااس کی برکت سے عین دریا میں بارہ خشک رستے پیدا ہوگئے پانی دیواروں کی طرح کھڑا ہوگیا ان آبی دیواروں میں جالی کی مثل روشندان بن گئے بنی اسرائیل کی ہر جماعت ان راستوں میں ایک دوسری کو دیکھتی اور باہم باتیں کرتی گزر گئی فرعون دریائی رستے دیکھ کر ان میں چل پڑا جب اس کا تمام لشکر دریا کے اندر آگیا تو دریا حالت اصلی پر آیا اور تمام فرعونی اس میں غرق ہوگئے دریا کا عرض چار فرسنگ تھا یہ واقعہ بحرِ قُلْز م کا ہے جو بحر فارس کے کنارہ پر ہے یا بحر ماورائے مصر کا جس کو اساف کہتے ہیں بنی اسرائیل لب دریافرعونیوں کے غرق کا منظر دیکھ رہے تھے یہ غرق محرم کی دسویں تاریخ ہوا حضرت موسٰی علیہ السلام نے اس دن شکر کا روزہ رکھا سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے زمانہ تک بھی یہود اس دن کا روزہ رکھتے تھے حضور نے بھی اس دن کا روزہ رکھا اور فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کی فتح کی خوشی منانے اور اس کی شکر گزاری کرنے کے ہم یہود سے زیادہ حق دار ہیں ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ عا شورہ کا روزہ سنّت ہے ۔مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ انبیاء کرام پرجوانعامِ الٰہی ہو اس کی یادگار قائم کرنا اور شکر بجا لانا مسنون ہے اگر کفار بھی قائم کرتے ہوں جب بھی اس کو چھوڑا نہ جائے گا ۔

وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِیْنَ لَیْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ(۵۱)

اور جب ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ فرمایا پھر اس کے پیچھے تم نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور تم ظالم تھے (ف۸۷)

(ف87)

فرعون اور فرعونیوں کے ہلاک کے بعد جب حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی طرف لوٹے اور ان کی درخواست پر اللہ تعالیٰ نے عطائے توریت کا وعدہ فرمایا اور اس کے لئے میقات معین کیا جس کی مدت معہ اضافہ ایک ماہ دس روز تھی مہینہ ذوالقعدہ اور دس دن ذوالحجہ کے حضرت موسٰی علیہ السلام قوم میں اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کو اپنا خلیفہ و جانشین بنا کر توریت حاصل کرنے کے لئے کوہ طور پر تشریف لے گئے چالیس شب وہاں ٹہرے اس عرصہ میں کسی سے بات نہ کی اللہ تعالیٰ نے زبر جدی الواح میں توریت آپ پر نازل فرمائی یہاں سامری نے سونے کا جواہرات سے مرصع بچھڑا بنا کر قوم سے کہا کہ یہ تمہارا معبود ہے وہ لوگ ایک ماہ حضرت کا انتظار کرکے سامری کے بہکانے سے بچھڑا پوجنے لگے سوائے حضرت ہارون علیہ السلام اور آپ کے بارہ ہزار ہمراہیوں کے تمام بنی اسرائیل نے گوسالہ کو پوجا (خازن)

ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۲)

پھر اس کے بعد ہم نے تمہیں معافی دی (ف۸۸) کہ کہیں تم احسان مانو (ف۸۹)

(ف88)

عفو کی کیفیت یہ ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا کہ توبہ کی صورت یہ ہے کہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ پرستش کرنے والوں کو قتل کریں اور مجرم برضاو تسلیم سکون کے ساتھ قتل ہوجائیں وہ اس پر راضی ہوگئے صبح سے شام تک ستر ہزار قتل ہوگئے تب حضرت موسٰی و ہارون علیہما السلام بتضرع و زاری بارگاہِ حق کی طرف ملتجی ہوئے وحی آئی کہ جو قتل ہوچکے شہید ہوئے باقی مغفور فرمائے گئے۔

ان میں کے قاتل و مقتول سب جنتی ہیں مسئلہ: شرک سے مسلمان مرتد ہوجاتا ہے مسئلہ : مرتد کی سزا قتل ہے کیونکہ اللہ تعالٰی سے بغاوت قتل و خونریزی سے سخت ترجرم ہے فائدہ گوسالہ بنا کر پوجنے میں بنی اسرائیل کے کئی جرم تھے ایک تصویر سازی جو حرام ہے دوسرے حضرت ہارون علیہ السلام کی نافرمانی تیسرے گوسالہ پوج کر مشرک ہوجانا یہ ظلم آل فرعون کے مظالم سے بھی زیادہ شدید ہیں کیونکہ یہ افعال ان سے بعد ایمان سرزد ہوئے اس لئے مستحق تو اس کے تھے کہ عذاب الٰہی انہیں مہلت نہ دے اور فی الفور ہلاکت سے کفر پر ان کا خاتمہ ہوجائے لیکن حضرت موسٰی وہارون علیہما السلام کی بدولت انہیں توبہ کا موقع دیا گیا یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔

(ف89)

اس میں اشارہ ہے کہ بنی اسرائیل کی استعداد فرعونیوں کی طرح باطل نہ ہوئی تھی اور اس کی نسل سے صالحین پیدا ہونے والے تھے چنانچہ ان میں ہزارہا نبی و صالح پیدا ہوئے

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ(۵۳)

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ پر آؤ

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىٕكُمْؕ فَتَابَ عَلَیْكُمْؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۵۴)

اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم تم نے بچھڑا بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع لاؤ تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو (ف۹۰) یہ تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک تمہارے لیے بہتر ہے تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان (ف ۹۱)

(ف90)

یہ قتل ان کے لئے کفارہ تھا۔

(ف91)

جب بنی اسرائیل نے توبہ کی اور کفارہ میں اپنی جانیں دے دیں تو اللہ تعالٰٰی نے حکم فرمایا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام انہیں گو سالہ پرستی کی عذر خواہی کے لئے حاضر لائیں حضرت ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے طور پر لے گئے وہاں وہ کہنے لگے اے موسٰی ہم آپ کا یقین نہ کریں گے جب تک خدا کو علانیہ نہ دیکھ لیں اس پر آسمان سے ایک ہولناک آواز آئی جس کی ہیبت سے وہ مر گئے حضرت موسٰی علیہ السلام نے بتضرع عرض کی کہ میں بنی اسرائیل کو کیا جواب دوں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں یکے بعد دیگرے زندہ فرمادیا مسئلہ: اس سے شان انبیاء معلوم ہوتی ہے کہ حضرت موسٰی علیہ السلام سے ” لَنْ نُؤْمِنَ لَکَ ” کہنے کی شامت میں بنی اسرائیل ہلاک کیے گئے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد والوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ انبیاء کی جناب میں ترک ادب غضب الٰہی کا باعث ہوتا ہے اس سے ڈرتے رہیں مسئلہ: یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقبولان بارگاہ کی دعا سے مردے زندہ فرماتا ہے۔

وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ(۵۵)

اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ لائیں گے جب تک علانیہ خدا کو نہ دیکھ لیں تو تمہیں کڑک نے آلیا اور تم دیکھ رہے تھے

ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۵۶)

پھر مرے پیچھے ہم نے تمہیں زندہ کیا کہ کہیں تم احسان مانو

وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰىؕ-كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْؕ-وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ(۵۷)

اور ہم نے ابر کو تمہارا سائبان کیا (ف۹۲) اور تم پرمنْ اور َسلْویٰ اتارا کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں (ف۹۳) اور انہوں نے کچھ ہمارا نہ بگاڑا ہاں اپنی ہی جانوں کا بگاڑ کرتے تھے

(ف92)

جب حضرت موسٰی علیہ السلام فارغ ہو کر لشکر بنی اسرائیل میں پہنچے اور آپ نے انہیں حکم الہی سنایا کہ ملک شام حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کا مدفن ہے اسی میں بیت المقدس ہے اس کو عمالقہ سے آزاد کرانے کے لئے جہاد کرو اور مصر چھوڑ کر وہیں وطن بناؤ مصر کا چھوڑنا بنی اسرائیل پر نہایت شاق تھا اول تو انہوں نے اس میں پس و پیش کیا اور جب بجبرو اکراہ حضرت موسٰی و حضرت ہارون علیہما السلام کی رکاب سعادت میں روانہ ہوئے توراہ میں جو کوئی سختی و دشواری پیش آتی حضرت موسٰی علیہ السلام سے شکایتیں کرتے جب اس صحرا میں پہنچے جہاں نہ سبزہ تھا نہ سایہ نہ غلہ ہمراہ تھا وہاں دھوپ کی گرمی اور بھوک کی شکایت کی اللہ تعالٰی نے بدعائے حضرت موسیٰ علیہ السلام ابر سفید کو انکا سائبان بنایا جو رات دن انکے ساتھ چلتا شب کو ان کے لئے نوری ستون اترتا جس کی روشنی میں کام کرتے انکے کپڑے میلے اور پرانے نہ ہوتے ناخن اور بال نہ بڑھتے اس سفر میں جولڑکا پیدا ہوتا اس کا لباس اس کے ساتھ پیدا ہوتا جتنا وہ بڑھتا لباس بھی بڑھتا۔

(ف93)

مَنۡ ترنجبین کی طرح ایک شیریں چیزتھی روزانہ صبح صادق سےطلوع آفتاب تک ہرشخص کے لئےایک صاع کی قدرآسمان سے نازل ہوتی لوگ اس کو چادروں میں لے کر دن بھر کھاتے رہتے سلوٰی ایک چھوٹا پرند ہوتا ہے اس کو ہوا لاتی یہ شکار کرکے کھاتے دونوں چیزیں شنبہ کو تو مطلق نہ آتیں باقی ہر روز پہنچتیں۔ جمعہ کو اور دنوں سے دونی آتیں حکم یہ تھا کہ جمعہ کو شنبہ کے لئے بھی حسب ضرورت جمع کرلو مگر ایک دن سے زیادہ کا جمع نہ کرو بنی اسرائیل نے ان نعمتوں کی ناشکری کی ذخیرے جمع کیے وہ سڑ گئے اور ان کی آمد بند کردی گئی۔ یہ انہوں نے اپنا ہی نقصان کیا کہ دنیا میں نعمت سے محروم اور آخرت میں سزاوار عذاب کے ہوئے۔

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْؕ-وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸)

اور جب ہم نے فرمایا اس بستی میں جاؤ (۹۴) پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو (ف۹۵) اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں (ف۹۶)

(ف94)

اس بستی سے بیتُ المقدِس مراد ہے یا اریحا جو بیت المقدس کے قریب ہے جس میں عمالقہ آباد تھے اور اس کو خالی کر گئے وہاں غلے میوے بکثرت تھے ۔

(ف95)

یہ دروازہ ان کے لئے بمنزلہ کعبہ کے تھا کہ اس میں داخل ہونا اور اس کی طرف سجدہ کرنا سبب کفارہ ذنوب قرار دیا گیا ۔

(ف96)

مسئلہ :اس آیت سے معلوم ہوا کہ زبان سے استغفار کرنا اور بدنی عبادت سجدہ وغیرہ بجالانا توبہ کا متمم ہے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشہور گناہ کی توبہ باعلان ہونی چاہئے مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مقامات متبرکہ جو رحمت الہی کے مورد ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمرات نیک اور سرعت قبول کا سبب ہوتا ہے۔ (فتح العزیز) اسی لئے صالحین کا دستور رہا ہے کہ انبیاء و اولیاء کے موالد ومزارات پر حاضر ہو کر استغفار و اطاعت بجالاتے ہیں عرس و زیارت میں بھی یہ فائدہ متصور ہے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ۠(۵۹)

تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا (ف۹۷) تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا (ف۹۸) بدلہ ان کی بے حُکمی کا

(ف97)

بخاری ومسلم کی حدیث میں ہے کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا تھا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوں اور زبان سے ( حِطّۃٌ) کلمۂ توبہ و استغفار کہتے جائیں انہوں نے دونوں حکموں کی مخالفت کی داخل تو ہوئے سرینوں کے بل گھسیٹتے اور بجائے کلمۂ توبہ کے تمسخر سے حَبَّۃٌ فِیۡ شَعۡرَۃٍ کہا جس کے معنی ہیں( بال میں دانہ)

(ف98)

یہ عذاب طاعون تھا جس سے ایک ساعت میں چوبیس ہزار ہلاک ہوگئے ۔

مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ

مسئلہ: صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وباء میں رضائے الہی پر صابر رہیں اگر وہ وباء سے محفوظ رہیں جب بھی انہیں شہادت کا ثواب ملے گا۔

تین لعنتی چیزوں سے بچو

حدیث نمبر :339

روایت ہے حضرت معاذ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین لعنتی چیزوں سے بچو،گھاٹوں، درمیانی راستہ اور سایہ میں پاخانہ کرنے سے ۱؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ اس کی شرح پہلےگزر چکی کہ ہر وہ جگہ جہاں لوگ بیٹھتے یا آرام کرتے ہوں وہاں پاخانہ کرنا منع ہے کہ اس سے رب تعالٰی بھی ناراض ہے اور لوگ بھی گالیاں دیتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مسجد کے غسل اور استنجاءخانوں میں پاخانہ کرنا سخت جرم ہے۔بندوں کو ستانے والا رب کے عذاب کا مستحق ہے۔

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ لَـهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 57

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدۡخِلُهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ ؕ لَـهُمۡ فِيۡهَاۤ اَزۡوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّنُدۡخِلُهُمۡ ظِلًّا ظَلِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہم عنقریب انکو ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ ان کے لیے جنتوں میں پاکیزہ بیویاں ہیں ‘ اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کیے ہم عنقریب انکو ان جنتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے سے دریا بہتے ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ‘ ان کے لیے جنتوں میں پاکیزہ بیویاں ہیں ‘ اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے۔ (النساء : ٥٧) 

اخروی نعمتوں کے لئے نیک اعمال چاہییں : 

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا یہ اسلوب ہے کہ وعد کے بعد وعید یا وعید کے بعد وعد کا ذکر فرماتا ہے ‘ اس لیے پہلے آخرت میں کفار کے عذاب کا ذکر فرمایا تھا اور اب آخرت میں مومنوں کے ثواب کا ذکر فرمایا : 

اس آیت میں کئی مسائل ہیں ایک یہ کہ اعمال ایمان کا غیر ہیں ‘ کیونکہ اعمال کا ایمان پر عطف کیا گیا ہے اور عطف مغائرت کو چاہتا ہے ‘ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ اخروی انعامات کو ابتداء حاصل کرنے کے لیے صرف ایمان کافی نہیں اس کے ساتھ نیک اعمال بھی ضروری ہیں البتہ دائمی عذاب سے نجات کے لیے صرف ایمان کافی ہے۔ قاعدہ یہی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہے جس کو چاہے اس قاعدہ سے مستثنی کردے۔ جنت میں دوام کا ذکر فرمایا اس میں جہم بن صفوان اور ان جیسے لوگوں کا رد ہوگیا جن کے نزدیک جنت میں ثواب اور دوزخ میں عذاب فانی ہے ‘ پاکیزہ بیویوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ حیض اور نفاس سے پاک ہوں گی۔ جنت میں دھوپ نہیں ہوگی اس کے باوجود جنت میں سائے کا ذکر فرمایا کیونکہ یہاں سائے سے مراد آرام اور سکون ہے جس شخص کو جلتے ہوئے ریگستان میں سایہ میسر آجائے تو وہ اس کے لیے بہت بڑی راحت ہوتا ہے سو یہاں بھی گھنے سائے سے مراد راحت اور آرام ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 57

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا بِاٰيٰتِنَا سَوۡفَ نُصۡلِيۡهِمۡ نَارًا ؕ كُلَّمَا نَضِجَتۡ جُلُوۡدُهُمۡ بَدَّلۡنٰهُمۡ جُلُوۡدًا غَيۡرَهَا لِيَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِيۡزًا حَكِيۡمًا ۞

ترجمہ:

بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں ‘ بیشک اللہ بہت غالب بڑی حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا ہم اس کو عنقریب آگ میں ڈال دیں گے، جب بھی ان کی کھالیں جل کر پک جائیں گی ہم ان کی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدل دیں گے تاکہ وہ عذاب کو (ہمیشہ) چکھتے رہیں۔ (النساء : ٥٦) 

دوزخ میں جلی ہوئی کھالوں کو دوسری کھالوں سے بدلنے پر تعذیب بلامعصیت کی بحث : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

ربیع بیان کرتے ہیں کہ کافروں کی کھال چالیس ہاتھ موٹی ہوگی اور ان کا دانت ستر ہاتھ بڑا ہوگا اور ان کا پیٹ اتنا بڑا ہوگا کہ اس میں پہاڑ سما جائے۔ 

حسن بیان کرتے ہیں ایک دن میں ستر ہزار بار انکی کھال جلے گی اور بدل جائے گی۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٠٩ ھ) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کافر کی ڈاڑھ احد پہاڑ جتنی ہوگی ‘ اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن کی مسافت کے برابر ہوگی۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥١) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دوزخ میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا فاصلہ ایک تیز رفتار سوار تین دن میں طے کرتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ٢٨٥٢) 

قرآن مجید کی اس آیت پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ کافر کی کھال جلنے کے بعد اس کو نئی کھال دی جائے گی اور اس کو عذاب دیا جائے گا تو یہ تعذیب بلا معصیت ہے کیونکہ اس نئی کھال نے تو کوئی گناہ نہیں کیا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اصل عذاب روح کو ہوتا ہے اور جسم اور اس کے اجزاء تو روح تک عذاب پہنچانے کے آلات ہیں ‘ لیکن یہ جواب صحیح نہیں ہے کیونکہ مذہب یہ ہے کہ روح اور جسم دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

روح اور جسم دونوں پر عذاب کی دلیل : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک سفر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم سے پیچھے رہ گئے ‘ آپ ہم سے آملے اس وقت ہم نے نماز میں تاخیر کردی تھی ‘ ہم نے وضوء کیا اور پیروں پر مسح کرلیا ‘ تو آپ نے دو یاتین مرتبہ بلند آواز سے فرمایا : (خشک) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہوگا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٦٠) 

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ روح اور بدن دونوں کو عذاب ہوتا ہے۔ 

نیز علامہ محمد بن احمد سفارینی متوفی ١١٨٨ ھ لکھتے ہیں :

امت کے تمام متقدمین اور ائمہ کا مذہب یہ ہے کہ عذاب روح اور بدن دونوں کو ہوتا ہے۔ (لوامع الانوار ج ٢ ص ٢٥‘ مطبوعہ مکتب اسلامی بیروت ‘ ١٤١١ ھ) 

تعذیب بلامعصیت کے اشکال کے صحیح جوابات :

اس لئے اس اشکال کو صحیح جواب یہ ہے کہ کھال کے جل کر پکنے کا معنی ہے اس کا سیاہ پڑجانا ‘ اور اس کو دوسرے کھال سے بدلنے کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی کھال کا رنگ اپنی قدرت کاملہ سے سفید کر دے گا ‘ جیسے دنیا میں انسان جب بیمار ہوتا ہے تو اس کے چہرہ کا رنگ بدل جاتا ہے اور صحت مند ہونے کے بعد اسی چہرہ کا رنگ نکھر کر تروتازہ ہوجاتا ہے۔ 

دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح سنار ایک انگوٹھی کو توڑ کر یا اس کو پگھلا کر اسی مادہ سے دوسری نئی صورت کی انگوٹھی بنا دیتا ہے ‘ اسی طرح تشبیہ و تمثیل اللہ تعالیٰ ایک کھال کو جلا کر اس سے نئی کھال پیدا کر دے گا۔ 

تیسرا جواب یہ ہے کہ اصل میں عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوتا ہے اور وہ ختم نہیں ہوتے باقی اعضاء کا جل جانا اور دوبارہ بن جانا صرف روح اور اجزاء اصلیہ تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہے۔ 

اور جن احادیث میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافر کے دانت ‘ اس کی کھال اور دیگر اعضاء کی جسامت بڑھ جاتی ہے ان پر بھی یہ اشکال ہوتا ہے کہ جس دانت نے گناہ کیا تھا وہ تو احد پہاڑ جتنا نہیں تھا اس دانت کے ساتھ جو اضافہ کیا گیا ہے اس پر عذاب بغیر کسی معصیت کے ہوگا اور یہ اللہ تعالیٰ کے طریقہ کے خلاف ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انہی اجزء اور اعضاء کو کسی اضافہ کے بغیر اتنا بڑا کر دے گا ‘ یا زائد حصہ کو عذاب نہیں ہوگا اور کافر کی شکل قبیح بنانے کے لئے اس کے اعضاء کو بڑا کردیا جائیگا اور صحیح جواب یہی ہے کہ اصل عذاب بدن کے اجزاء اصلیہ اور روح کو ہوگا یہ اضافات تو ان اجزاء تک عذاب پہنچانے کا ذریعہ ہیں۔ 

روح اور جسم دونوں کے مستحق عذاب ہونے کی ایک مثال :

عذاب جسم اور روح دونوں کو ہوتا ہے اس سلسلہ میں علامہ سید محمود آلوسی متوفی ١٢٧٠ ھ نے علامہ سفیری کی شرح بخاری سے نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن روح اور بدن میں بحث ہوگی ‘ روح جسم سے کہے گی کہ گناہ تم نے کیے ہیں میں تو ایک ہوا کی مانند تھی اگر تم نہ ہوتے تو میں کوئی عمل نہیں کرسکتی تھی ‘ اور جسم کہے گا تم نے مجھے کام کرنے کا حکم دیا تھا اگر تم نہ ہوتیں تو میں درخت کے تنے کی طرح ہوتا اور اپنے ہاتھ اور پاؤں کو کبھی حرکت نہ دیتا ‘ تب اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بھیجے گا وہ کہے گا تم دونوں کی مثال ایک لنجے اور ایک اندھے کی ہے یہ دونوں ایک باغ میں گئے لنجے نے اندھے سے کہا میں یہاں پھل دیکھ رہا ہوں لیکن ان کو توڑ نہیں سکتا ‘ تو اندھے نے کہا تم مجھ پر سوار ہوجاؤ پھر جہاں پھل ہوں تو دیکھ کر توڑ لینا ‘ سو دونوں مجرم ہیں اور دونوں سزا کے مستحق ہی لنجابہ منزلہ روح ہے اور اندھا بمنزلہ جسم ہے ‘ علامہ آلوسی نے اس مثال پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اندھے اور لنجے دونوں کو شعور ہے اور یہاں صرف روح کو شعور ہے جسم کو شعور نہیں ہے ‘ پھر اس کا جواب دیا کہ ہوسکتا ہے جسم کو شعورہو اور ہم کو اس کا پتا نہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ٥٩‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

میرے نزدیک اس اعتراض کا یہ جواب ہے کہ مثال صرف مسئلہ کی تفہیم کے لئے ہوتی ہے اس کا ممثل لہ سے بالکلیہ مطابق ہونا ضروری نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 56

کنز الایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 2 سورہ البقرہ آیت نمبر8 تا 20

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ مَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَۘ(۸)

اور کچھ لوگ کہتے ہیں (ف۱۲) کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں

(ف12)

اس سے معلوم ہوا کہ ہدایت کی راہیں ان کے لئے اول ہی سے بند نہ تھیں کہ جائے عذر ہوتی بلکہ ان کے کُفر و عناد اور سرکشی و بے دینی اور مخالفتِ حق و عداوتِ انبیاء علیہم السلام کا یہ انجام ہے جیسے کوئی شخص طبیب کی مخالفت کرے اور زہرِ قاتل کھا لے اور اس کے لئے دوا سے اِنتفاع کی صورت نہ رہے تو خود ہی مستحقِ ملامت ہے ۔

یُخٰدِعُوْنَ اللّٰهَ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ۚ-وَ مَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَؕ(۹)

فریب دیا چاہتے ہیں اللہ اور ایمان والوں کو (ف۱۳) اور حقیقت میں فریب نہیں دیتے مگر اپنی جانوں کو اور انہیں شعور نہیں

(ف13)

شانِ نُزول : یہاں سے تیرہ آیتیں منافقین کی شان میں نازل ہوئیں جو باطن میں کافِر تھے اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے فرمایا ” مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ” وہ ایمان والے نہیں یعنی کلمہ پڑھنا ، اسلام کا مدعی ہونا ، نماز روزہ ادا کرنا ، مومن ہونے کے لئے کافی نہیں جب تک دل میں تصدیق نہ ہو ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ جتنے فرقے ایمان کا دعوٰی کرتے ہیں اور کُفر کا اعتقاد رکھتے ہیں سب کا یہی حکم ہے کہ کافِر خارج از اسلام ہیں ، شرع میں ایسوں کو منافق کہتے ہیں ، ان کا ضرر کھلے کافِروں سے زیادہ ہے ۔

” مِنَ النَّاسِ ” فرمانے میں لطیف رَمْز یہ ہے کہ یہ گروہ بہتر صفات و انسانی کمالات سے ایسا عاری ہے کہ اس کا ذکر کسی وصف و خوبی کے ساتھ نہیں کیا جاتا ، یوں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی آدمی ہیں ۔

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ کسی کو بشر کہنے میں اس کے فضائل و کمالات کے اِنکار کا پہلو نکلتا ہے اس لئے قرآنِ پاک میں جا بجا انبیاء کرام کے بشر کہنے والوں کو کافِر فرمایا گیا اور درحقیقت انبیاء کی شان میں ایسا لفظ ادب سے دور اور کُفّار کا دستور ہے ۔

بعض مفسِّرین نے فرمایا ” مِنَ النَّاسِ ” سامعین کو تعجب دلانے کے لئے فرمایا گیا کہ ایسے فریبی مکار اور ایسے احمق بھی آدمیوں میں ہیں ۔

فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌۙ-فَزَادَهُمُ اللّٰهُ مَرَضًاۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ ﳔ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ(۱۰)

ان کے دلوں میں بیماری ہے (ف۱۴) تو اللہ نے ان کی بیماری اور بڑھائی اور اُن کے لیے دردناک عذاب ہے بدلہ ان کے جھوٹ کا (ف۱۵)

(ف14)

اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو کوئی دھوکا دے سکے ، وہ اسرار و مخفیات کا جاننے والا ہے ، مراد یہ ہے کہ منافق اپنے گمان میں خدا کو فریب دینا چاہتے ہیں یا یہ کہ خدا کو فریب دینا یہی ہے کہ رسول علیہ السلام کو دھوکا دینا چاہیں کیونکہ وہ اس کے خلیفہ ہیں اور اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب کو اَسرار کا علم عطا فرمایا ہے ، وہ ان منافقین کے چُھپے کُفر پر مطلع ہیں اور مسلمان ان کے اطلاع دینے سے باخبر تو ان بے دینوں کا فریب نہ خدا پر چلے ، نہ رسول پر ، نہ مؤمنین پر بلکہ درحقیقت وہ اپنی جانوں کو فریب دے رہے ہیں ۔

مسئلہ : اس آیت سے معلوم ہوا کہ تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے ، تقیہ والے کا حال قابلِ اعتماد نہیں ہوتا ، توبہ ناقابلِ اطمینان ہوتی ہے اس لئے عُلَماء نے فرمایا ” لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ”۔

(ف15)

بدعقیدگی کو قلبی مرض فرمایا گیا اس سے معلوم ہوا کہ بدعقیدگی روحانی زندگی کے لئے تباہ کُن ہے مسئلہ : اس آیت سے ثابت ہوا کہ جھوٹ حرام ہے اس پر عذابِ اَلیم مرتب ہوتا ہے ۔

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِۙ-قَالُوْۤا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۱۱)

اورجو ان سے کہا جائے زمین میں فساد نہ کرو (ف۱۶) تو کہتے ہیں ہم تو سنوارنے والے ہیں

(ف16)

مسئلہ : کُفّار سے میل جول ، ان کی خاطر دین میں مُداہنت اور اہلِ باطل کے ساتھ تَمَلّق و چاپلوسی اور ان کی خوشی کے لئے صُلحِ کُل بن جانا اور اظہارِ حق سے باز رہنا شانِ منافق اور حرام ہے ، اسی کو منافقین کا فساد فرمایا گیا ۔ آج کل بہت لوگوں نے یہ شیوہ کر لیا ہے کہ جس جلسہ میں گئے ویسے ہی ہو گئے ، اسلام میں اس کی ممانعت ہے ظاہر و باطن کا یکساں نہ ہونا بڑا عیب ہے ۔

اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰكِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۱۲)

سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ اٰمِنُوْا كَمَاۤ اٰمَنَ النَّاسُ قَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ كَمَاۤ اٰمَنَ السُّفَهَآءُؕ-اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَآءُ وَ لٰكِنْ لَّا یَعْلَمُوْنَ(۱۳)

اور جب ان سے کہا جائے ایمان لاؤجیسے اور لوگ ایمان لا ئے ہیں (ف۱۷)تو کہیں کیا ہم احمقوں کی طرح ایما ن لے آئیں (ف۱۸)سنتا ہے وہی احمق ہیں مگر جانتے نہیں (ف۱۹)

(ف17)

یہاں ” اَلنَّاسُ ” سے یا صحابہ کرام مراد ہیں یا مومنین کیونکہ خدا شناسی ، فرمانبرداری و عاقبت اندیشی کی بدولت وہی انسان کہلانے کے مستحق ہیں ۔

مسئلہ : ” اٰمِنُوْا کَمَا اٰمَنَ ” سے ثابت ہوا کہ صالحین کا اِتبّاع محمود و مطلوب ہے ۔

مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ مذہبِ اہلِ سنّت حق ہے کیونکہ اس میں صالحین کا اِتّباع ہے ۔

مسئلہ : باقی تمام فرقے صالحین سے مُنحَرِف ہیں لہذا گمراہ ہیں ۔

مسئلہ : بعض عُلَماء نے اس آیت کو زندیق کی توبہ مقبول ہونے کی دلیل قرار دیا ہے ۔ (بیضاوی) زندیق وہ ہے جو نبوّت کا مُقِرّ ہو ، شعائرِ اسلام کا اظہار کرے اور باطن میں ایسے عقیدے رکھے جو بالاتفاق کُفر ہوں ، یہ بھی منافقوں میں داخل ہے ۔

(ف18)

اس سے معلوم ہوا کہ صالحین کو بُرا کہنا اہلِ باطل کا قدیم طریقہ ہے ، آج کل کے باطل فرقے بھی پچھلے بزرگوں کو بُرا کہتے ہیں ، روافض خلفائے راشدین اور بہت صحابہ کو خوارج ، حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے رُفقاء کو ، غیر مقلِّد ائمۂ مجتہدین بالخصوص امامِ اعظم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کو ، وہابیہ بکثرت اولیاء و مقبولانِ بارگاہ کو ، مرزائی انبیاءِ سابقین تک کو قرآنی (چکڑالی) صحابہ و محدثین کو ، نیچری تمام اکابرِ دین کو برا کہتے اور زبانِ طعن دراز کرتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ سب گمراہی میں ہیں ، اس میں دیندار عالِموں کے لئے تسلّی ہے کہ وہ گمراہوں کی بدزبانیوں سے بہت رنجیدہ نہ ہوں سمجھ لیں کہ یہ اہلِ باطل کا قدیم دستور ہے ۔ (مدارک)

(ف19)

منافقین کی یہ بدزبانی مسلمانوں کے سامنے نہ تھی ، ان سے تو وہ یہی کہتے تھے کہ ہم باخلاص مومن ہیں جیسا کہ اگلی آیت میں ہے ” اِذَالَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْآ اٰمَنَّا ” یہ تبرّا بازیاں اپنی خاص مجلسوں میں کرتے تھے ، اللہ تعالٰی نے ان کا پردہ فاش کر دیا ۔ (خازن) اسی طرح آج کل کے گمراہ فرقے مسلمانوں سے اپنے خیالاتِ فاسدہ کو چھپاتے ہیں مگر اللہ تعالٰی ان کی کتابوں اور تحریروں سے ان کے راز فاش کر دیتا ہے ۔ اس آیت سے مسلمانوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ بے دینوں کی فریب کاریوں سے ہوشیار رہیں دھوکا نہ کھائیں ۔

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّاۚۖ-وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْۙ-قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ(۱۴)

اور جب ایمان والوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب اپنے شیطانوں کے پاس اکیلے ہوں (ف۲۰) تو کہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں ہم تو یونہی ہنسی کرتے ہیں (ف۲۱)

(ف20)

یہاں شیاطین سے کُفّار کے وہ سردار مراد ہیں جو اغواء میں مصروف رہتے ہیں ۔ (خازن و بیضاوی) یہ منافق جب ان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم تمہارے ساتھ ہیں اور مسلمانوں سے ملنا مَحض براہِ فریب و استہزاء اس لئے ہے کہ ان کے راز معلوم ہوں اور ان میں فساد انگیزی کے مواقع ملیں ۔ (خازن)

(ف21)

یعنی اظہارِ ایمان تمسخُر کے طور پر کیا یہ اسلام کا انکار ہوا ۔

مسئلہ : انبیاء علیہم السلام اور دین کے ساتھ استہزاء و تمسخُر کُفر ہے ۔

شانِ نُزول : یہ آیت عبداللہ بن اُبَیْ وغیرہ منافقین کے حق میں نازل ہوئی ایک روز انہوں نے صحابۂ کرام کی ایک جماعت کو آتے دیکھا تو اِبْنِ اُبَی نے اپنے یاروں سے کہا دیکھو تو میں انہیں کیسا بناتا ہوں جب وہ حضرات قریب پہنچے تو اِبْنِ اُبَی نے پہلے حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا دستِ مبارک اپنے ہاتھ میں لے کر آپ کی تعریف کی پھر اسی طرح حضرت عمر اور حضرت علی کی تعریف کی (رضی اللہ تعالٰی عنہم) حضرت علی مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اے اِبْنِ اُبَی خدا سے ڈر ، نفاق سے باز آ کیونکہ منافقین بدترین خَلق ہیں ، اس پر وہ کہنے لگا کہ یہ باتیں نفاق سے نہیں کی گئیں بخدا ہم آپ کی طرح مومنِ صادق ہیں ، جب یہ حضرات تشریف لے گئے تو آپ اپنے یاروں میں اپنی چالبازی پر فخر کرنے لگا ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ منافقین مؤمنین سے ملتے وقت اظہارِ ایمان و اخلاص کرتے ہیں اور ان سے علیحدہ ہو کر اپنی خاص مجلسوں میں ان کی ہنسی اڑاتے اور استہزاء کرتے ہیں ۔ (اخرجہ الثعلبی و الواحدی و ضعفہ ابن حجر و السیوطی فی لباب النقول)

مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کرام و پیشوایانِ دین کا تمسخُر اُڑانا کُفر ہے ۔

اَللّٰهُ یَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَ یَمُدُّهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ(۱۵)

اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے (ف۲۲) ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں

(ف22)

اللہ تعالٰی استہزاء اور تمام نقائص و عیوب سے منزّہ و پاک ہے ۔ یہاں جزاءِ استہزاء کو استہزاء فر مایا گیا تاکہ خوب دلنشین ہو جائے کہ یہ سزا اس ناکردنی فعل کی ہے ، ایسے موقع پر جزاء کو اسی فعل سے تعبیر کرنا آئینِ فصاحت ہے جیسے جَزَاءُ سَیِّئَۃ سَیِّئَۃ میں کمالِ حُسنِ بیان یہ ہے کہ اس جملہ کو جملۂ سابقہ پر معطوف نہ فرمایا کیونکہ وہاں استہزاء حقیقی معنی میں تھا ۔

اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ(۱۶)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی (ف۲۳) تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے (ف۲۴)

(ف23)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنا یعنی بجائے ایمان کے کُفر اختیار کرنا نہایت خسارہ اور ٹَوٹے کی بات ہے

شانِ نُزول : یہ آیت یا ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو ایمان لانے کے بعد کافِر ہو گئے یا یہود کے حق میں جو پہلے سے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان رکھتے تھے مگر جب حضور کی تشریف آوری ہوئی تو منکِر ہو گئے یا تمام کُفّار کے حق میں کہ اللہ تعالٰی نے انہیں فِطرتِ سلیمہ عطا فرمائی ، حق کے دلائل واضح کئے ، ہدایت کی راہیں کھولیں لیکن انہوں نے عقل و انصاف سے کام نہ لیا اور گمراہی اختیار کی ۔

مسئلہ : اس آیت سے بیع تعاطی کا جواز ثابت ہوا یعنی خرید و فروخت کے الفاظ کہے بغیر مَحض رضا مندی سے ایک چیز کے بدلے دوسری چیز لینا جائز ہے ۔

(ف24)

کیونکہ اگر تجارت کا طریقہ جانتے تو اصل پونجی (ہدایت) نہ کھو بیٹھتے ۔

مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًاۚ-فَلَمَّاۤ اَضَآءَتْ مَاحَوْلَهٗ ذَهَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَ تَرَكَهُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لَّا یُبْصِرُوْنَ(۱۷)

ان کی کہاوت اس کی طرح ہے جس نے آگ روشن کی تو جب اس سے آس پاس سب جگمگا اٹھا اللہ ان کا نور لے گیا اور انہیں اندھیریوں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں سوجھتا (ف۲۵)

(ف25)

یہ ان کی مثال ہے جنہیں اللہ تعالٰی نے کچھ ہدایت دی یا اس پر قدرت بخشی پھر انہوں نے اس کو ضائع کر دیا اور ابدی دولت کو حاصل نہ کیا ان کا مال حسرت و افسوس اور حیرت و خوف ہے ۔ اس میں وہ منافق بھی داخل ہیں جنہوں نے اظہارِ ایمان کیا اور دل میں کُفر رکھ کر اقرار کی روشنی کو ضائع کر دیا اور وہ بھی جو مؤمن ہونے کے بعد مرتد ہو گئے اور وہ بھی جنہیں فِطرتِ سلیمہ عطا ہوئی اور دلائل کی روشنی نے حق کو واضح کیا مگر انہوں نے اس سے فائدہ نہ اٹھایا اور گمراہی اختیار کی اور جب حق سننے ، ماننے ، کہنے ، راہِ حق دیکھنے سے محروم ہوئے تو کان ، زبان ، آنکھ سب بے کار ہیں ۔

صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْیٌ فَهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَۙ(۱۸)

بہرے گونگے اندھے تو وہ پھر آنے والے نہیں

اَوْ كَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْهِ ظُلُمٰتٌ وَّ رَعْدٌ وَّ بَرْقٌۚ-یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَهُمْ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِؕ-وَ اللّٰهُ مُحِیْطٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ(۱۹)

یا جیسے آسمان سے اُترتا پانی کہ اس میں اندھیریاں ہیں اور گرج اور چمک (ف ۲۶) اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونس رہے ہیں کڑک کے سبب موت کے ڈر سے (ف ۲۷) اور اللہ کافروں کو گھیرے ہوئے ہے (ف۲۸)

(ف26)

ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والوں کی یہ دوسری تمثیل ہے کہ جیسے بارش زمین کی حیات کا سبب ہوتی ہے اور اس کے ساتھ خوفناک تاریکیاں اور مُہِیب گرج اور چمک ہوتی ہے اسی طرح قرآن و اسلام قلوب کی حیات کا سبب ہیں اور ذکرِ کُفر و شرک و نفاق ظلمت کے مشابہ جیسے تاریکی رَہْرَو کو منزل تک پہنچنے سے مانع ہوتی ہے ایسے ہی کُفر و نفاق راہ یابی سے مانع ہیں اور وعیدات گرج کے اور حُجَجِ بیِّنہ چمک کے مشابہ ہیں ۔

شانِ نُزول : منافقوں میں سے دو آدمی حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے مشرکین کی طرف بھاگے ، راہ میں یہی بارش آئی جس کا آیت میں ذکر ہے اس میں شدت کی گرج کڑک اور چمک تھی ، جب گرج ہوتی تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں یہ کانوں کو پھاڑ کر مار نہ ڈالے ، جب چمک ہوتی چلنے لگتے ، جب اندھیری ہوتی اندھے رہ جاتے ، آپس میں کہنے لگے خدا خیر سے صبح کرے تو حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستِ اقدس میں دیں چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا اور اسلام پر ثابت قدم رہے ۔ ان کے حال کو اللہ تعالٰی نے منافقین کے لئے مثل (کہاوت) بنایا جو مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے کہ کہیں حضور کا کلام ان میں اثر نہ کرجائے جس سے مر ہی جائیں اور جب ان کے مال و اولاد زیادہ ہوتے اور فتوح و غنیمت ملتی تو بجلی کی چمک والوں کی طرح چلتے اور کہتے کہ اب تو دینِ محمّدی سچا ہے اور جب مال و اولاد ہلاک ہوتے اور کوئی بلا آتی تو بارش کی اندھیریوں میں ٹھٹک رہنے والوں کی طرح کہتے کہ یہ مصیبتیں اسی دین کی وجہ سے ہیں او راسلام سے پلٹ جاتے ۔ (لباب النقول للسیوطی)

(ف27)

جیسے اندھیری رات میں کالی گھٹا چھائی ہو اور بجلی کی گرج و چمک جنگل میں مسافر کو حیران کرتی ہو اور وہ کڑک کی وحشت ناک آواز سے باندیشۂ ہلاک کانوں میں انگلیاں ٹھونستا ہو ، ایسے ہی کُفّار قرآنِ پاک کے سننے سے کان بند کرتے ہیں اور انہیں یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں اس کے دلنشین مضامین اسلام و ایمان کی طرف مائل کر کے باپ دادا کا کُفری دین ترک نہ کرا دیں جو ان کے نزدیک موت کے برابر ہے ۔

(ف28)

لہذا یہ گریز انہیں کچھ فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ وہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر قہرِ الٰہی سے خلاص نہیں پا سکتے ۔

یَكَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَهُمْؕ-كُلَّمَاۤ اَضَآءَ لَهُمْ مَّشَوْا فِیْهِۗۙ-وَ اِذَاۤ اَظْلَمَ عَلَیْهِمْ قَامُوْاؕ-وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠(۲۰)

بجلی یوں معلوم ہوتی ہے کہ ان کی نگاہیں اُچک لے جائے گی (ف۲۹) جب کچھ چمک ہوئی اس میں چلنے لگے(ف ۳۰) اور جب اندھیرا ہوا کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ چاہتا تو ان کے کان اور آنکھیں لے جاتا (ف۳۱) بےشک اللہ سب کچھ کرسکتا ہے (ف۳۲)

(ف29)

جیسے بجلی کی چمک ، معلوم ہوتا ہے کہ بینائی کو زائل کر دے گی ایسے ہی دلائلِ باہرہ کے انوار ان کی بصر وبصیرت کو خیرہ کرتے ہیں ۔

(ف30)

جس طرح اندھیری رات اور ابر و بارش کی تاریکیوں میں مسافر مُتحیَّر ہوتا ہے ، جب بجلی چمکتی ہے توکچھ چل لیتا ہے جب اندھیرا ہوتا ہے تو کھڑا رہ جاتا ہے اسی طرح اسلام کے غلبہ اور معجزات کی روشنی اور آرام کے وقت منافق اسلام کی طرف راغب ہوتے ہیں اور جب کوئی مشقت پیش آتی ہے تو کُفر کی تاریکی میں کھڑے رہ جاتے ہیں اور اسلام سے ہٹنے لگتے ہیں ، اسی مضمون کو دوسری آیت میں اس طرح ارشاد فرمایا ” اِذَا دُعُوْآ اِلیَ اللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ مُّعْرِضُوْنَ وَ اِنْ یَّکُنْ لَّھُمُ الْحَقُّ یَاْتُوْا اِلَیْہِ مُذْعِنِیْنَ ” ۔ (خازن صاوی وغیرہ)

(ف31)

یعنی اگرچہ منافقین کا طرزِ عمل اس کا مقتضی تھا مگر اللہ تعالٰی نے ان کے سمع و بصر کو باطل نہ کیا ۔ مسئلہ : اس سے معلوم ہوا کہ اسباب کی تاثیر مشیت الٰہیہ کے ساتھ مشروط ہے بغیر مشیت تنہا اسباب کچھ نہیں کر سکتے ۔

مسئلہ : یہ بھی معلوم ہوا کہ مشیت اسباب کی محتاج نہیں ، وہ بے سبب جو چاہے کر سکتا ہے ۔

(ف32)

شئی اسی کو کہتے ہیں جسے اللہ چاہے اور جو تحتِ مشیت آ سکے ، تمام ممکنات شئی میں داخل ہیں اس لئے وہ تحتِ قدرت ہیں اور جو ممکن نہیں واجب یا ممتنع ہے اس سے قدرت و ارادہ متعلق نہیں ہوتا جیسے اللہ تعالٰی کی ذات و صفات واجب ہیں اس لئے مقدور نہیں ۔

مسئلہ : باری تعالٰی کے لئے جھوٹ اور تمام عیوب محال ہیں اسی لئے قدرت کو ان سے کچھ واسطہ نہیں ۔