اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا ۞ – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ‌ؕ لَيَجۡمَعَنَّكُمۡ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ لَا رَيۡبَ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ اَصۡدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِيۡثًا  ۞

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے وہ ضرور تم سب کو قیامت کے دن جمع کرے گا جس میں کوئی شک نہیں ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو۔ (النساء : ٨٧) 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے سلام کا احسن طریقہ سے جواب دینے کا حکم دیا تھا ‘ اس کا تقاضا یہ ہے کہ جو اجنبی شخص تم کو سلام کرے تم اس کو مسلمان جانو ‘ اور یہ نہ سمجھو کہ اس نے جان بچانے کے لیے سلام کیا ہے اور اس کے دل میں کفر ہے کیونکہ باطن کا حال صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے ‘ اور جس نے اسلام کو ظاہر کیا اور باطن میں وہ کافر تھا اس کا حساب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لے گا ‘ اس لیے اس کے بعد قیامت کا ذکر کیا اور فرمایا اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ لہذا ہم یہاں اللہ تعالیٰ کے صدق کے متعلق گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ 

امتناع کذب کا بیان :

اللہ تعالیٰ واجب بالذات ہے اور اس کی تمام صفات قدیم اور واجب بالذات ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ کا صدق بھی قدیم اور واجب بالذات ہے اور کذب صدق کی نقیض ہے جب کذب آئے گا تو صدق نہیں رہے گا اور کذب آ نہیں سکتا لہذا صدق جا نہیں سکتا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کا کذب ممتنع بالذات ہے۔ 

امتناع کذب پر امام رازی کے دلائل : 

امام فخرالدین محمد عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اس آیت سے مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور اس کے کلام میں کذب اور خلف محال ہے ‘ ہمارے اصحاب کی دلیل یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کاذب ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا زوال ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ قدیم کا عدم ممتنع ہے ‘ اور جب کذب کا زوال ممتنع ہوگا تو اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ ایک ضد کا وجود دوسری ضد کے وجود سے مانع ہے ‘ اس لیے اللہ کو کاذب مانا جائے تو اس کا صادق ہونا ممتنع ہوگا ‘ لیکن اس کا کذب ممتنع ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس شخص کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس علم کے مطابق اس چیز کی خبر دے سکتا ہے اور یہی صدق ہے اور جب اللہ تعالیٰ کا صادق ہونا ثابت ہوگیا تو اس کا کاذب ہونا ممتنع ہوگیا۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٢٨١‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨) 

نیز ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممکن بھی نہیں ہے کیونکہ کذب کا امکان صدق عدم کے امکان کو مستلزم ہے اور اللہ تعالیٰ کا صدق واجب ہے اور قدیم ہے اس کا عدم اور سلب ممکن نہیں ہے لہذا اس کے کلام میں کذب بھی ممکن نہیں ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ تفتازانی کے دلائل : 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر رازی تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا کلام ازل میں ماضی ‘ حال اور استقبال کے ساتھ متصف نہیں تھا ورنہ لازم آئے گا کہ ازل میں اللہ کا کلام مثلا فعصی فرعون ” فرعون نے معصیت کی “ کاذب ہو کیونکہ ازل میں فرعون تھا نہ اس نے معصیت کی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ کا کذب محال ہے اولا ‘ اس لیے کہ اس پر علماء کا اجماع ہے ‘ ثانیا اس لیے کہ معجزہ کی دلالت سے انبیاء (علیہم السلام) کی خبروں کا صدق تواتر سے ثابت ہے اور ان کا صدق اللہ کے کلام پر موقوف نہیں ہے چہ جائیکہ وہ اللہ کے کلام کے صدق پر موقوف ہو ‘ ثالثا اس لیے کہ تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے کیونکہ نقص عجز ‘ جہل یا عبث کو مستلزم ہے ‘ رابعا ‘ اس لیے کہ اگر ازل میں اللہ تعالیٰ کی خبر کاذب ہو تو ازل میں اس کا صدق ممتنع ہوگا ‘ کیونکہ جس چیز کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے ‘ جب ازل میں اللہ تعالیٰ صادق ہے تو ازل میں کذب محال ہوگا۔ (شرح المقاصد ملخصا ج ٤ ص ١٥٩۔ ١٥٨‘ مطبوعہ ایران) 

امتناء کذب پر میر سید شریف کے دلائل :

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٢ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے نزدیک اللہ تعالیٰ پر کذب کے محال ہونے کی تین دلیلیں ہیں :

(١) پہلی دلیل یہ ہے : کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ تعالیٰ پر محال ہے نیز اگر اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب واقع ہو تو لازم آئے گا کہ بعض اوقات ہم اللہ تعالیٰ سے زیادہ کامل ہوں یعنی جس وقت ہمارا کلام صادق ہو (اور اس کا کلام کاذب ہو) 

(٢) دوسری دلیل یہ ہے : کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا جو کذب کا مقابل ہے ورنہ اس کی صفت کذب کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے اس کے زوال کو محال فرض کرچکے ہیں کیونکہ اس کی صفات قدیم ہیں اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے اور لازم باطل ہے یعنی اللہ پر صدق کا ممتنع ہونا باطل ہے کیونکہ ہم بالبداہت جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو اس کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اس علم کے مطابق خبر دے۔ 

(٣) اور تیسری اور متعمد دلیل جو کلام لفظی اور کلام نفسی دونوں میں کذب بالبداہت معلوم ہے اور اس پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے ‘ لہذا ہم یہ کہتے ہیں کہ تواتر سے منقول ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے کلام میں صادق ہے ‘ جس طرح تواتر سے یہ منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ متکلم ہے ‘ اگر اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جائے کہ انبیاء (علیہم السلام) کے صادق ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تصدیق کی اور ان کو صادق فرمایا اب اگر اللہ کا صادق ہونا اور اس پر کذب کا ممتنع ہونا انبیاء (علیہم السلام) کے قول اور ان کی خبر سے ثابت ہو تو یہ دور ہوجائے گا انبیاء کا صادق ہونا اللہ کی خبر پر اور اللہ کا صادق ہونا انبیاء کی خبر پر موقوف ہوا اور یہ کسی شے کا اپنے نفس پر موقوف ہونا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کا صدق اللہ کی تصدیق پر موقوف نہیں ہے بلکہ معجزہ کی دلالت پر موقوف ہے ‘ انبیاء (علیہم السلام) اپنے دعوی نبوت پر معجزہ خارق عادت پیش کرتے ہیں جس سے ان کا صدق ثابت ہوتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا صادق اور متکلم ہونا انبیاء (علیہم السلام) کی خبر پر موقوف ہے ‘ وہ خبر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ متکلم اور صادق ہے۔ (شرح موافق ج ٨ ص ١٠٣۔ ١٠١‘ مطبوعہ ایران) 

شرح مواقف کے دلائل پر علامہ میر سید شریف کے اعتراضات 

صاحب مواقف نے امتناع کذب پر پہلی دلیل یہ قائم کی کہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے ‘ پھر اس پر یہ اعتراض کیا کہ کلام نفسی میں کذب نقص ہے کلام لفظی میں کذب نقص نہیں ہے ‘ کیونکہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی جسم میں کلام کاذب پیدا کردے ‘ اس کا جواب یہ دیا کہ کلام کاذب کو پیدا کرنا بھی نقص ہے اور وہ اللہ پر محال ہے ‘ ثابت ہوا کہ اللہ کے کلام میں کذب مطلقا محال ہے ‘ اس پر علامہ میر شریف نے یہ اعتراض کیا کہ اشاعرہ افعال کا حسن اور قبح شرعی مانتے ہیں اور قبح عقلی کے قائل نہیں ہیں اور قبح عقلی اور نقص میں کوئی فرق نہیں ہے اور جب اللہ پر قبح عقلی جائز ہے تو اس پر نقص بھی جائز ہونا چاہیے اور جب اللہ پر نقص جائز ہوگیا تو اس کے کلام میں کذب کا ممتنع ہونا ثابت نہیں ہوا۔ (شراح المواقف ج ٨ ص ١٠٣ مطبوعہ ایران) 

علامہ میر سید شریف کے اعتراضات کے جوابات :

ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ فنی نفسہ حسن ہے اور جس چیز سے منع کیا ہے وہ فی نفسہ قبیح ہے مثلا منعم کا شکر ادا کرنا حسن ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا حکم نہ بھی دیتا تب بھی فی نفسہ حسن ہی رہتا اور قتل ناحق فی نفسہ قبیح ہے اگر اللہ تعالیٰ اس سے منع نہ بھی فرماتا تب بھی یہ قبیح ہی رہتا ‘ کیونکہ اول الذکر کے حسن اور ثانی الذکر کے قبح کا ادراک کرنے میں عقل مستقل ہے اور یہ معنی ہے ان کے اس قول کا کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے ‘ اور اشاعرہ یہ کہتے ہیں کہ حسن اور قبح شرعی ہے یعنی جس کا شارع نے حکم دیا ہے وہ حسن ہے اور جس سے منع کیا ہے وہ قبیح ہے عقل کا اس میں کوئی دخل نہیں ‘ اگر بالفرض شارع قتل ناحق کا حکم دیتا تو وہ حسن ہوتا اور شکر منعم یا عبادت کرنے سے منع کرتا تو ہو قبیح ہوتی۔ اور اس بحث میں حسن کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مدح کا اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو اور قبیح کا معنی ہے جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت کا اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو ‘ اس حسن اور قبح کو اشاعرہ کہتے ہیں کہ شرعی سے عقلی نہیں ہے یعنی عقل اس کے ادراک میں مستقل نہیں ہے مثلا عقل کیسے جان سکتی ہے کہ تیمم سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے یا موزہ کے اوپر کے حصے پر مسح کرنے سے طہارت ہوجاتی ہے یا سونے اور ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے ان کا حسن اور قبح شرعی ہے اور ماتریدیہ یہ کہتے ہیں کہ افعال کا حسن اور قبح عقلی ہے یعنی عقل ‘ ان کے حسن اور قبح کی ادراک میں مستقل ہے۔ اشاعرہ اور ماتریدیہ کا افعال کے حسن اور قبح کے عقلی ہونے یا نہ ہونے کا اختلاف اسی معنی میں ہے۔ 

حسن کا دوسرا معنی ہے صفت کمال جیسے علم اور صدق ‘ قبح کا دوسرا معنی ہے صفت نقصان جیسے جہل اور کذب اس میں ماتریدیہ اور اشاعرہ سمیت تمام عقلاء کا اس پر اتفاق ہے کہ ان کا حسن اور قبیح عقلی ہے اور جب یہ واضح ہوگیا تو مواقف میں جو یہ لکھا ہے کہ کذب نقص ہے اور یہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے پھر اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ کذب کا نقص ہونا تو قبح عقلی ہے اور اس کو اشاعرہ نہیں مانتے یہ اعتراض صحیح نہیں ہے کیونکہ اشاعرہ حسن اور قبح جس معنی کو شرعی کہتے ہیں اور اس کے عقلی ہونے کی نفی کرتے ہیں وہ اور معنی ہے ‘ وہ یہ ہے کہ جس کام کی وجہ سے انسان دنیا میں مذمت اور آخرت میں عذاب کا مستحق ہو وہ قبیح ہے اور جس کیوجہ سے دنیا میں میں تعریف اور آخرت میں ثواب کا مستحق ہو وہ حسن ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کے لیے اس معنی کے لحاظ سے نہ کوئی فعل حسن ہے نہ قبیح ‘ اللہ تعالیٰ کے لحاظ سے حسن وہ فعل ہے جس میں کمال ہو اور قبیح وہ ہے جس میں نقص ہو اور اس معنی کے لحاظ سے حسن اور قبح کا عقلی ہونا اشاعرہ سمیت سب کے نزدیک مسلم ہے اس لیے کذب صفت نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے اور اس دلیل پر کوئی اعتراض نہیں ہے ‘ مسلم الثبوت اور اس کی شروحات میں بھی یہی لکھا ہے لیکن ہم نے قارئین کی سہولت کے لیے اس کو بہت آسان ‘ سہل اور واضح کرکے پیش کیا۔ (شرح مسلم الثبوت للخیر آبادی ص ٨٣۔ ٥٢ ملخصا مطبوعہ کوئٹہ ‘ فوتح الرحموت مع المتصفی ج ١ ص ٤٦۔ ٢٦‘ ملخصا مطبوعہ مصر) 

صاحب مواقف نے دوسری دلیل یہ قائم کی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ کذب سے متصف ہو تو اس کا کذب قدیم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ حوادث قائم نہیں ہوسکتے اور جب اس کا کذب قدیم ہوگا تو اس کا صدق سے متصف ہونا محال ہوگا ‘ جو کذب کا مقابل ہے اور اگر کذب قدیم نہ ہو تو اس کا زوال ممکن ہوگا اور ہم پہلے فرض کرچکے ہیں کہ کذب اس کی صفت ہے اور قدیم ہے اور جس کا قدم ثابت ہو اس کا عدم ممتنع ہوتا ہے پس اگر کذب کو اللہ کی صفت مانا جائے تو اس کا صادق ہونا محال ہوگا اور یہ باطل ہے کیونکہ ہم بداھۃ جانتے ہیں کہ جس کو کسی چیز کا علم ہو وہ اس کے مطابق خبر دے سکتا ہے۔ 

علامہ سید شریف نے اس دلیل پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس دلیل سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلام نفسی میں کذب محال ہو ‘ کیونکہ قدیم کلام نفسی ہے ‘ رہا کلام لفظی تو وہ مخلوق اور حادث ہے اور کلام لفظی جو صادق ہو وہ ممکن اور حادث ہونے کی وجہ سے زائل بھی ہوسکتا ہے اور کلام لفظی میں صدق کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم مانتے ہیں کہ اللہ کا کلام لفظی صادق اور حادث ہے اور حادث کا زوال بھی ممکن ہے لیکن کلام صادق کے زوال سے کلام کاذب کا امکان لازم نہیں آتا ‘ کیونکہ کذب کا معنی ہے ایسی خبر جو واقع کے خلاف ہو اور کلام صادق کے زوال اور عدم کے امکان سے یہ کب لازم آتا ہے کہ ایسی خبر وجود میں آجائے جو واقع کے خلاف ہو ‘ خلاصہ یہ ہے یہ کلام لفظی صادق کے زوال کا امکان عام ہے اور کلام کاذب کا ثبوت خاص ہے اور عام کا ثبوت خاص کے ثبوت کو مستلزم نہیں ہوتا ‘ عام کی خاص پر دلالت نہ مطابقی ہوتی ہے نہ تضمنی نہ التزامی ‘ اس لیے یہ کہنا صحیح نہیں ہے کہ کلام صادق لفظی کے زوال کا امکان بعینہ کذب کا امکان ہے۔ 

امتناع کذب پر علامہ میرسید شریف کی تصریحات : 

علامہ میر سید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں :

(فرق باطلہ میں سے) مزداریہ نے کہا اللہ تعالیٰ جھوٹ بولنے اور ظلم کرنے پر قادر ہے ‘ علامہ میر سید شریف اس کا رد فرماتے ہیں : اگر اللہ تعالیٰ ایسا کرے گا تو وہ جھوٹا خدا ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے۔ (شرح مواقف ج ٨ ص ٣٨١‘ مطبوعہ ایران)

امتناع کذب کے متعلق دیگر علماء کی تصریحات اور دلائل :

علامہ محمد عبدالحکیم سیالکوٹی متوفی ١٠٦٧ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کی ذات پر جہل اور کذب دونوں محال ہیں۔ (حاشیہ عبدالحکیم علی الخیالی ص ٢٥٧‘ مع مجموعہ الحواشی السجھیہ مطبوعہ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ١٣٩٧ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی متوفی ٦٨٥ ھ نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ سے زیادہ صادق نہیں ہوسکتا اور کذب اللہ پر محال ہے کیونکہ کذب نقص ہے اور نقص اللہ پر محال ہے۔ 

علامہ احمد شہاب الدین خفاجی متوفی ١٠٦٩ ھ اس عبارت کی شرح میں لکھتے ہیں : زیادہ صادق ہونے کی نفی کا معنی یہ ہے کہ کوئی شخص صدق میں اللہ کے مساوی بھی نہیں ہوسکتا ‘ اللہ تعالیٰ کے حق میں کذب عقلا اور شرعا محال ہے کیونکہ جھوٹ یا تو کسی ضرورت کی بناء پر بولا جائے گا یا بلاضرورت ‘ کسی ضرورت کی بناء پر جھوٹ بولنا اللہ پر اس لیے محال ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز سے مستغنی ہے اور بلاضرورت جھوٹ عدم علم کی وجہ سے بولا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا علم ہے ‘ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ‘ یابلاضرورت قصدا جھوٹ بولا جائے گا اور یہ حماقت ہے اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ اس دلیل سے تو کلام نفسی میں جھوٹ محال ہوگا اور کلام لفظی میں تو جھوٹ ممکن رہے گا کہ اللہ تعالیٰ کسی مخلوق میں ایسی خبر پیدا کردے جو واقع کے خلاف ہو بایں طور کہ وہ اس مخلوق کا کلام نہ ہو بلکہ اللہ کا کلام ہو اور غیر کی طرف منسوب ہو بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جیسے قرآن کلام لفظی ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بھی نقص ہے کیونکہ اس سے جہل تو لازم نہیں آتا لیکن اس میں تجہیل ہے اور دوسروں کو جاہل بنانا ہے اور یہ بھی اللہ کے لیے نقص ہے اور نقص اللہ پر عقلا محال ہے ‘ علاوہ ازیں یہ محال شرعی بھی ہے۔

زیر تفسیر آیت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور کون ہے جس کی بات اللہ کی بات سے زیادہ سچی ہو۔ “ اس کا معنی ہے ‘ اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ سچا ہے نہ کوئی صدق میں اس کے برابر ہے اور نہ کوئی صدق میں اس سے زیادہ ہے ‘ مخلوق میں سب سے زیادہ سچے انبیاء (علیہم السلام) ہیں لیکن ان کا صدق واجب بالغیر ہے اور ان کے کلام میں کذب ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہے ‘ اگر اللہ کا صدق بھی اسی طرح ہو اس کے کلام میں بھی کذب ہو ممکن بالذات اور ممتنع بالغیر ہو تو انبیاء (علیہم السلام) اور اللہ تعالیٰ صدق میں مساوی ہوجائیں گے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کون ہے جس کی بات اللہ سے زیادہ سچی ہو ‘ یعنی وہ سب سے زیادہ سچا ہے جس کا تقاضا ہے کہ اس کا صدق قدیم اور واجب بالذات ہو اور اس کا کذب ممتنع بالذات ہو۔ 

مفتی احمد یار خاں نعیمی متوفی ١٣٩١ ھ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کا جھوٹ ممتنع بالذات ہے کیونکہ پیغمبر کا جھوٹ ممتنع بالغیر اور رب تعالیٰ تمام سے زیادہ سچا تو اس کا سچا ہونا واجب بالذات ہونا چاہیے ورنہ اللہ کے صدق اور رسول کے صدق میں فرق نہ ہوگا۔ (نور العرفان ص ١٤٤‘ مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ گجرات)

امتناع کذب کے متعلق علماء دیوبند کا عقیدہ : 

شیخ رشید احمد گنگوہی متوفی ١٣٢٣ ھ لکھتے ہیں : 

آپ نے مسئلہ امکان کذب کو استفسار فرمایا ہے مگر امکان کذب بایں معنی کہ جو کچھ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے اس کے خلاف پر وہ قادر ہے مگر باختیار خود اس کو وہ نہ کرے گا یہ عقیدہ بندہ کا ہے اور اس عقیدہ پر قرآن شریف اور احادیث صحاح شاہد ہیں اور علماء امت کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ مثلا فرعون پر ادخال نار کی وعید ہے مگر ادخال جنت فرعون پر بھی قادر ہے اگرچہ ہرگز اس کو نہ دیوے گا ‘ اور یہی مسئلہ مبحوث اس وقت میں ہے بندہ کے جملہ احباب یہی کہتے ہیں اس کو اعداء نے دوسری طرح پر بیان کیا ہوگا اس قدرت اور عدم ایقاع کو امکان ذاتی وامتناع بالغیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ فقط : (فتاوی رشیدیہ کامل مبوب ص ٨٥۔ ٨٤ مطبوعہ قرآن محل کراچی)

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کلام میں کذب ممتنع اور محال بالذات ہے اور محال بالذات تحت قدرت نہیں ہوتا ‘ مثلا اللہ تعالیٰ کا عدم محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا جہل اور کذب بھی محال بالذات ہے اور یہ تحت قدرت نہیں ہے۔ اس کی تفصیل حسب ذیل عبارت میں ہے۔ 

خلف وعید کا اختلاف اللہ تعالیٰ کے کذب کو مستلزم نہیں ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

امام قرافی اور ان کے متبعین نے کہا ہے کہ کافر کی مغفرت کی دعا کرنا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی خبر کی تکذیب کو طلب کرنا ہے اور یہ کفر ہے۔ (الی قولہ) کیا خلف فی الوعید جائز ہے ؟ مواقف اور مقاصد کی ظاہر عبارت کا تقاضایہ ہے کہ اشاعرہ خلف فی الوعید کے قائل ہیں کیونکہ خلف فی الوعید جود اور کرم ہے نقص نہیں ہے ‘ اور علامہ تفتازانی وغیرہ نے تصریح کی ہے کہ خلف فی الوعید جائز نہیں ہے ‘ علامہ نسفی نے کہا ہے کہ یہی صحیح ہے کیونکہ خلف فی الوعید محال ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” مایبدل القول لدی “۔ اور فرمایا ہے (آیت) ” لن یخلف اللہ وعدہ ای وعیدہ “ اور اشبہ بالحق یہ ہے کہ مسلمانوں کے حق میں خلف فی الوعید جائز ہے۔ اور کفار کے حق میں جائز نہیں ہے تاکہ دونوں طرف کے دلائل میں تطبیق ہوجائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشآء “۔ اس میں یہ تصریح ہے کہ مشرک کی مغفرت نہیں ہوگی ‘ اور مسلمان نے خواہ کبیرہ گناہ کیا ہو اس کی مغفرت ہوجائے گی ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ دعا کی : (آیت) ” ربنا اغفرلی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب “۔ ان آیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ کافر کی مغفرت نہیں ہوگی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے عذاب کی جو وعید فرمائی ہے اس کا خلاف محال ہے اور گنہگار مسلمانوں کے لیے جو عذاب کی وعید ہے اس کا خلاف ہوجائے گا کیونکہ مسلمان کے حق میں وعید کا یہ معنی ہے کہ اگر تم نے فلاں گناہ کیا تو میں تم کو عذاب دوں گا بشرطیکہ میں نے چاہا یا میں نے تم کو معاف نہ کیا اور اس سے کذب لازم نہیں آتا کیونکہ گناہ گار مسلمانوں کے لیے آیات وعید عدم عفو یا مشیت کے ساتھ مقید ہیں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٣٥١ ملخصا وموضحا مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

شیخ خلیل احمد ایبیٹھوی متوفی ١٣٤٦ ھ لکھتے ہیں : 

امکان کذب کا مسئلہ تو اب جدید کسی نے نہیں نکالا بلکہ قدماء میں اختلاف ہوا ہے کی خلف وعید جائز ہے یا نہیں ؟ (براھین قاطعہ ص ٢ مطبوعہ مطبع بلالی ہند) 

ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ اشاعرہ جو خلف وعید کے قائل ہیں وہ گناہ گار مسلمانوں کے حق میں خلف وعید کے قائل ہیں اور عذاب کی آیات کو عدم عفو کے ساتھ مقید کرتے ہیں اور کفار کے حق میں خلف وعید کے قائل نہیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کذب کے لزوم سے برات کا اظہار کرتے ہیں۔ 

علامہ کمال الدین بن ابی شریف اشعری المذہب متوفی ٩٠٥ ھ لکھتے ہیں :

اشعریہ اور ان کے غیر کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ ہر وہ شے جو بندوں کے حق میں نقص ہو وہ اللہ پر محال ہے اور کذب بندوں کے حق میں وصف نقص ہے سو وہ اللہ تعالیٰ پر محال ہے۔ (مسامرہ ج ١ ص ١٨٤‘ مطبوعہ مکران) 

اور علامہ بحرالعلوم عبدالعلی بن نظام الدین لکھنوی متوفی ١٢٢٥ ھ لکھتے ہیں : 

حق یہ ہے کہ حقیقت سے عدول کرنے کا موجب موجود ہے اور وہ گنہ گار مسلمانوں ‘ نہ کہ مشرکوں کے لیے جو از عفو کا ثبوت ہے اور یہ ثبوت آفتاب نیم روز کی طرح قطعی اور یقینی ہے پس کفار کے غیر (گناہ گار مسلمانوں) کی وعیدوں میں ظاہر سے عدول کرنا ضروری ہے پس یا تو آیات وعید کو عدم عفو کے ساتھ مقید کیا جائے گا ‘ (یعنی اگر اللہ ان کو معاف نہ کرے تو یہ سزا دے گا) یا ان کو انشاء تخویف پر محمول کیا جائے گا (یعنی اللہ تعالیٰ نے گنہ گار مسلمانوں کو عذاب دینے کی خبر نہیں دی بلکہ ان کو عذاب سے ڈرانے کے لیے ایسا فرمایا ہے) رہا وعد تو اس میں حقیقت سے عدول کرنے کا کوئی موجب نہیں تو وہ آیات اپنی حقیقت پر ہیں۔ (فواتح الرحموت مع المستصفی ص ٦٢‘ مطبوعہ مصر ‘ ١٢٩٤ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 87

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ

کافر نے موجودہ مسلمانوں پر اس طرح قبضہ جمایا کہ علما کے جذبات ٹھنڈے کردیے اور عوام کو نرم کردیا ۔

بہ قول سیداکبرالٰہ آبادی ؎

سر تراشا اُن کا ، کاٹا اِن کا پاؤں

وہ ہوئے ٹھنڈے ، گئے یہ بھی پگَھل

شیخ کو یَخ کردیا ، مومن کو موم۔۔۔۔۔۔۔۔

دونوں کی حالت گئی آخر بدَل !!

لفظِ شیخ تین حروف کا مجموعہ تھا ، اس کا سر کاٹا ( یعنی پہلا حرف شین مٹایا ) تو یہ یخ ہو گیا ۔

مطلب: موجودہ شیخ ، شیخ نہ رہا ، اس کی قائدانہ صلاحتیں ختم ہوگئیں ، مجاہدانہ جذبات یخ ٹھنڈے ہوگئے ، یہ بزدل بن گیا ۔

اور مومن چار حروف کامجموعہ تھا ، اس کا پاؤں کاٹا

( یعنی آخری حرف نون کاٹا ) تو پیچھے موم رہ گیا ۔

مطلب: بندۀ مومن کے دینی جذبات کو ” امن “ وغیرہ کے نام پر نرم کیا ، پھر انھیں پگھلا کر اپنی مرضی کے سانچے میں ڈھال دیا —

لقمان شاہد

20/2/2019 ء

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞- سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِيۡـعُوا اللّٰهَ وَاَطِيۡـعُوا الرَّسُوۡلَ وَاُولِى الۡاَمۡرِ مِنۡكُمۡ‌ۚ فَاِنۡ تَنَازَعۡتُمۡ فِىۡ شَىۡءٍ فَرُدُّوۡهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوۡلِ اِنۡ كُنۡـتُمۡ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَـوۡمِ الۡاٰخِرِ‌ ؕ ذٰ لِكَ خَيۡرٌ وَّاَحۡسَنُ تَاۡوِيۡلًا  ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد : اے ایمان والو ! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہیں ان کی (اطاعت کرو) پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو بشرطیکہ تم اللہ اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہو ‘ یہ بہتر ہے اور اس کا انجام سب سے اچھا ہے۔ (النساء : ٥٩) 

کتاب ‘ سنت ‘ اجماع اور قیاس کی حجیت پر استدلال :

اس آیت میں یہ دلیل ہے کہ دلائل شرعیہ چار ہیں۔ کتاب ‘ سنت ‘ اجماع ‘ اور قیاس ‘ اطیعوا اللہ ‘ سے مراد کتاب اللہ کے احکام ہیں۔ اطیعوا الرسول سے مراد سنت ہے اور اولی الامر منکم سے مرا داجماع ہے یعنی ہر زمانہ کے علماء حق کی اکثریت کیونکہ علماء حق کی اکثریت کبھی گمراہی پر متفق نہیں ہوگی اور (آیت) ” فان تنازعتم فی شی فردوہ الی اللہ والرسول “ اس سے مراد قیاس ہے یعنی جس مسئلہ کی کتاب اور سنت صاف تصریح نہ ہو اس کی اصل کتاب اور سنت سے نکال کر اس کو کتاب اور سنت کی طرف لوٹا دو اور اس پر وہی حکم جاری کردو۔ 

اولی الامر کی تفسیر میں متعدد اقوال اور مصنف کا مختار : 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : (آیت) ” اولی الامر منکم “۔ سے مراد امراء اور حکام ہیں ‘ ابن وہب نے کہا اس سے مراد سلاطین ہیں ‘ مجاہد نے کہا اس سے مراد اصحاب فقہ ہیں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اس سے مراد اہل دین اور اہل فقہ ہیں یعنی دیندار علماء عطاء بن سائب نے کہا اس سے مراد صاحبان علم اور اصحاب فقہ ہیں ‘ حسن بصری نے کہا اس سے مراد علماء ہیں ‘ مجاہد سے ایک روایت یہ ہے کہ اس سے مراد صحابہ ہیں امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ نے فرمایا ان اقوال میں اولی یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر “ سے مراد ائمہ اور حکام ہیں کیونکہ حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عنقریب میرے بعد حکام ہوں گے (ان میں) نیک حاکم بھی ہوں گے اور فاسق بھی ‘ تم ان کے احکام سننا اور ان کا جو حکم حق کے موافق ہو اس میں ان کی اطاعت کرنا اور ان کے پیچھے نماز پڑھنا اگر وہ نیک کام کریں گے تو اس میں تمہارا اور ان کا نفع ہے اور اگر وہ برے کام کریں گے تو تم کو نفع ہوگا اور ان کو ضرر ‘ اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مسلمان شخص پر حکم کی اطاعت لازم ہے خواہ اس کو وہ حکم پسند ہو یا ناپسند ‘ ہاں اگر اس کو اللہ کی معصیت کا حکم دیا جائے تو خالق کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے۔ (جامع البیان ج ٥ ص ٩٥۔ ٩٣‘ ملخصا مطبوعہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ) 

امام فخرالدین رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے فرمایا (آیت) ” اولی الامر منکم “ کی تفسیر میں متعدد اقوال ہیں۔ (١) خلفاء راشدین۔ (٢) عہد رسالت میں لشکروں کے حاکم (٣) وہ علماء حق جو احکام شرعیہ کے مطابق فتوی دیتے ہیں اور لوگوں کو دین کی تعلیم دیتے ہیں یہ قول حضرت ابن عباس (رض) ‘ حسن بصری اور مجاہد سے مروی ہے اور روافض سے مروی ہے کہ اس سے مراد ائمہ معصومین ہیں۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ہماری رائے یہ ہے کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد علماء حق ہیں جو قرآن اور سنت سے مسائل استنباط کرتے ہیں اور پیش آمدہ مسائل میں فتوے دیتے ہیں اس کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے ہوتی ہے : 

(آیت) ” ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “۔ (النسآء : ٨٣) 

ترجمہ : اور اگر وہ اس معاملہ کو رسول اور اپنے اولی الامر کی طرف لوٹا دیتے تو اس کا (حل) وہ لوگ ضرور جان لیتے تو ان میں سے کسی مسئلہ کو مستنبط کرسکتے ہیں۔ 

اور خلفاء راشدین کے دور کے بعد ہر زمانہ میں مسلمان ‘ امراء اور حکام کے مقابلہ میں ائمہ فتوی کی پیروی کرتے ہیں۔ آج بھی اگر عدالت کسی عورت کا یک طرفہ فیصلہ کرکے اس کا نکاح فسخ کردیتی ہے تو مسلمان اس فیصلہ کو ائمہ فتوی کے پاس لے جاتے ہیں اگر وہ اس کی تائید کردیں تو اس فیصلہ پر عمل کرکے عورت کا نکاح کردیتے ہیں ورنہ نہیں کرتے ‘ اور خلفاء راشدین خود اصحاب علم اور ائمہ فتوی تھے اس سے معلوم ہوا کہ (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے مراد ہر دور میں ائمہ فتوی اور علماء اور فقہاء ہی ہیں۔ 

اللہ اور رسول کی اطاعت مستقل ہے اور (آیت) ” اولی الامر “ کی اطاعت بالتبع ہے۔ 

اس آیت میں (آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول “۔ فرمایا ہے اور (آیت) ” اولی الامر منکم “ سے پہلے ” اطیعوا “ کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ اس کا پہلے اطیعوا ‘ پر عطف کیا گیا تاکہ ان کی اطاعت بالتبع ہو اس میں یہ نکتہ ہے کہ اللہ کی مستقل اطاعت ہے اور رسول کی بھی مستقل اطاعت ہے اور علماء اور حکام کی مستقل اطاعت نہیں ہے جب ان کے احکام اللہ اور رسول کے احکام کے مطابق ہوں تو ان کی اطاعت ہے ورنہ نہیں ہے۔ اس کی مثال یہ ہے۔ 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک شخص کو امیر بنادیا اس نے آگ جلائی اور لشکر سے کہا اس میں داخل ہوجاؤ ’ بعض لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا دوسروں نے کہا ہم آگ ہی سے بھاگ کر (اسلام میں) آئے ہیں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا تو جن لوگوں نے آگ میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا آپ نے ان سے فرمایا اگر تم آگ میں داخل ہوجاتے تو قیامت تک اس آگ ہی میں رہتے اور دوسروں کی آپ نے تعریف کی اور فرمایا اللہ کی معصیت میں کسی کی اطاعت نہیں ہے اطاعت صرف نیکی میں ہے (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٨٤٠) 

قرآن مجید اور احادیث صحیحہ اقوال صحابہ پر مقدم ہیں : 

نیز اس آیت میں فرمایا : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو ۔ اس آیت میں یہ تصریح ہے کہ اللہ اور رسول کی ارشادات باقی تمام لوگوں پر مقدم ہیں ‘ ہم اس سے پہلے باحوالہ بیان کرچکے ہیں کہ حضرت عمر اور حضرت ابن مسعود (رض) جنبی کو تیمم کرنے سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جنبی کیلیے تیمم کو مشروع کیا ہے اس لیے جمہور صحابہ ‘ فقہاء تابعین اور مجتہدین اسلام نے حضرت عمر (رض) اور حضرت ابن مسعود (رض) کی جلالت شان کے باوجود انکے قول کو قبول نہیں کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحیح حدیث کو مقدم رکھا۔ 

اس کی ایک اور مثال یہ ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر (رض) زخمی ہوگئے تو حضرت صیہب (رض) روتے ہوئے آئے اور کہنے لگے ہائے میرے بھائی ‘ ہائے میرے صاحب ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے صہیب تم مجھ پر رو رہے ہو حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے میت کے گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٧) جب حضرت عائشہ ام المومنین (رض) کے سامنے حضرت عمر (رض) کا یہ قول بیان کیا گیا تو حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے ‘ خدا کی قسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ نہیں فرمایا کہ گھر والوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے اور تمہارے لیے قرآن مجید کی یہ آیت کافی ہے۔

(آیت) ” ولا تزروازرۃ وزراخری “۔ (الزمر : ٧) 

ترجمہ : اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٨) 

حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک یہودیہ (کی قبر) سے ہوا جس پر لوگ رو رہے تھے ‘ آپ نے فرمایا یہ اس پر رو رہے ہیں اور اس کو قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٢٨٩) 

حضرت عائشہ (رض) نے قرآن مجید کو حضرت عمر کے قول پر مقدم رکھا اور فرمایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ عام قاعدہ نہیں بیان کیا کہ گھروالوں کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے کیونکہ کسی کے گناہ کا دوسرے کو عذاب نہیں ہوتا ‘ بلکہ آپ نے ایک خاص واقعہ میں ایک یہودی عورت متعلق یہ فرمایا تھا ‘ مرتبہ صحابیت میں حضرت عمر (رض) کا مرتبہ حضرت عائشہ (رض) سے بہت زیادہ ہے لیکن حضرت عائشہ (رض) نے اللہ اس کے رسول کے ارشاد کو حضرت عمر (رض) کے قول پر مقدم رکھا۔ 

اسی طرح حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان حج تمتع سے منع کرتے تھے لیکن چونکہ حج تمتع رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت سے ثابت ہے اس لیے جمہور صحابہ اور فقہاء تابعین اور علماء اسلام نے آپ کی سنت ثابتہ کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہیں کیا : مروان بن الحکم بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عثمان اور حضرت علی (رض) کے پاس حاضر تھا ‘ حضرت عثمان تمتع اور حج اور عمرہ کو جمع کرنے سے منع کرتے تھے ‘ جب حضرت علی (رض) نے یہ دیکھا تو آپ نے حج اور عمرہ کا احرام باندھا اور کہا لبیک بعمرۃ وحجۃ “ میں نبی کریم کی سنت کو کسی کے بناء پر ترک نہیں کروں گا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ١٥٦٣) 

حضرت عمران (رض) نے کہا ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تمتع کیا اور قرآن نازل ہوتا رہا اور ایک شخص نے اپنی رائے سے جو کہا سو کہا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٥٧١) 

سالم بن عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ اہل شام سے ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے حج تمتع (الگ الگ احرام کے ساتھ حج اور عمرہ جمع کرنے) کے متعلق سوال کیا ‘ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا وہ جائز ہے ‘ اس نے کہا آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے تھے ‘ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا یہ بتاؤ کہ میرے باپ حج تمتع سے منع کرتے ہوں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہو تو میرے باپ کے حکم پر عمل کیا جائے گا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حکم پر ! اس شخص نے کہا بلکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم پر عمل کیا جائے گا حضرت عبداللہ (رض) نے فرمایا بیشک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج تمتع کیا ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ٨٢٥) 

ان احادیث سے یہ معلوم ہوا کہ اکابر کا کوئی قول اگر قرآن مجید اور حدیث صحیح کے خلاف ہو تو اصاغر کے لیے یہ جائز ہے کہ اس قول سے اختلاف کریں اور اللہ اور رسول کے مقابلہ میں ان کے قول کو قبول نہ کریں اور اس میں انکی کوئی بےادبی اور گستاخی نہیں ہے بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول کی بڑائی کا اظہار ہے اور سورة نساء کی اس آیت پر عمل ہے : پھر اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ 

ائمہ اور فقہاء کے اقوال پر احادیث کو مقدم رکھنا ان کی بےادبی نہیں ہے۔ 

اسی طرح اگر ائمہ مجتہدین میں سے کسی کا قول حدیث صحیح کے خلاف ہو تو حدیث صحیح پر عمل کیا جائے گا اور اس میں کسی امام کی بےادبی نہیں ہے بلکہ اس آیت پر عمل ہے ‘ امام ابوحنیفہ نے عید الفطر کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنے کو مطلقا مکروہ قرار دیا ہے خواہ متصل روزے رکھے جائیں یا منفصل تاکہ فرض پر زیادتی کے ساتھ تشبیہ نہ ہو ‘ لیکن حدیث صحیح میں اس کی فضیلت اور استحباب ہے۔ 

حضرت ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ہمیشہ روزے رکھنے کی مثل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١١٦٤) 

لیکن چونکہ امام اعظم (رح) کا یہ قول حدیث صحیح کے خلاف ہے اس لیے علامہ زین الدین ابن نجیم حنفی متوفی ٩٧٠ ھ نے لکھا ہے کہ لیکن عام متاخرین فقہاء کے نزدیک شوال کے چھ روزے رکھنے میں مطلقا کوئی کراہت نہیں ہے۔ (البحرالرائق ج ٢ ص ٢٥٨) 

علامہ ابن ہمام متوفی ٨٦١ ھ علامہ طحطاوی متوفی ١٢٣١ ھ ‘ علامہ حسن بن عمار شرنبلالی متوفی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ ابن عابدین شامی متوفی ١٢٥٢ ھ سب نے اسی طرح لکھا ہے اور ان روزوں کو مستحب قرار دیا ہے۔ 

اسی طرح امام محمد نے امام ابوحنیفہ سے یہ روایت کی ہے کہ لڑکے کا عقیقہ کیا جائے نہ لڑکی کا (الجامع الصغیر ص ٥٣٤) اور تمام فقہاء احناف نے عقیقہ کرنے کو مکروہ یا مباح لکھا ہے (بدائع الصنائع ج ٥ ص ٦٩ عالم گیری ج ٥ ص ٣٦٢) 

لیکن چونکہ بہ کثرت احادیث سے عقیقہ کا سنت ہونا ثابت ہے اس لیے امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ نے لکھا ہے کہ عقیقہ سنت ہے۔ (فتاوی رضویہ ج ٨ ص ٥٤٢‘ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

دلائل کی بناء پر اکابر سے اختلاف کرنا ان کی بےادبی نہیں ہے ـ: 

اسی طرح امام احمد رضا قادری کے بعد کے علماء نے امام احمد رضا قادری سے بھی اختلاف کیا ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ بدھ کے دن ناخن کاٹنے کے متعلق لکھتے ہیں : 

نہ چاہیے حدیث میں اوس سے نہی (ممانعت) آئی کہ معاذ اللہ مورث برص ہوتا ہے بعض علماء رحمہم اللہ نے بدھ کو ناخن کتروائے کسی نے برنباء حدیث منع کیا ‘ فرمایا صحیح نہ ہوئی فورا برص ہوگئے۔ (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ٣٧ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

صدرالشریعہ مولانا امجد علی قادری متوفی ١٣٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

ایک حدیث میں ہے جو ہفتہ کے دن ناخن ترشوائے اس سے بیماری نکل جائے گی اور شفا داخل ہوگی اور جو اتوار کے دن ترشوائے فاقہ نکلے گا ‘ اور توانگری آئے گی ‘ اور جو پیر کے دن ترشوائے جنون جائے گا اور صحت آئے گی اور جو منگل کے دن ترشوائے مرض جائے گا اور شفا آئے گی اور جو بدھ کے دن ترشوائے وسواس وخوف نکلے گا اور امن وشفا آئے گی الخ۔ (درمختار۔ ردالمختار) ّ (بہار شریعت ج ١٦ ص ١٢٢‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلیکشز لاہور) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انگریزی رقیق دوائیں جو ٹنچر کہلاتی ہیں ان میں عموما اسپرٹ پڑتی ہے اور اسپرٹ یقینا شراب بلکہ شراب کی نہایت بدتر قسموں سے ہے وہ نجس ہے ان کا کھانا حرام لگانا حرام بدن یا کپڑے یا دونوں کی مجموع پر ملا کر اگر روپیہ بھر جگہ سے زیادہ میں ایسی شے لگی ہوئی ہو نماز نہ ہوگی۔ (فتاوی رضویہ ج ١١ ص ٨٨ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی متوفی ١٩٦٦ ء لکھتے ہیں : 

لیکن ہم نے جہاں تک ڈاکٹروں کی زبانی سنا یہی معلوم ہوا کہ یہ (اسپرٹ) بھی شراب سے نہیں بنائی جاتی جس کو شرعا خمر کہا جاتا ہے بلکہ یہ (اسپرٹ) ایسی شراب کا جوہر ہے جو گنے وغیرہ سے بنائی گئی ہے پس اگر یہ صحیح ہے تو اس کا استعمال بغرض صحیح (اس مقدار میں جو مسکر نہیں ہے) حرام نہیں اور اس کی بیع وشراء بھی جائز ہے۔ (فتاوی مظہریہ ص ٢٨٩‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ سید مہدی حسن مارہرہ کے سوال کے جواب میں لکھتے ہیں : 

حضور عورتوں کو لکھنا سکھانا شرعا ممنوع وسنت نصاری وفتح یاب ہزاراں فتنہ اور مستان سرشار کے ہاتھ میں تلوار دینا ہے (فتاوی رضویہ ج ١٠ ص ١٥٤ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

فقیہ اعظم مفتی نور اللہ نعیمی متوفی ١٤٠٣ ھ لکھتے ہیں : 

پھر حدیث صحیح سے بھی یہ مسئلہ تعلیم الکتابہ للنساء ثابت ہے مسند احمد بن حنبل ج ٦ ص ٣٧٢‘ سنن ابوداؤد ج ٢ ص ١٨٦‘ مستدرک حاکم ج ٤ ص ٥٧‘ سنن بیہقی ج ٩ ص ٣٤٩‘ میں حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے بکلمات متقاربہ ثابت ہے کہ حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حفصہ (رض) کے پاس تشریف لائے اور میں بھی حاضر تھی تو مجھے فرمایا کی تو اس کو رقیہ النملۃ کی تعلیم نہیں دیتی جیسے اس کو کتابت کی تعلیم تم نے دی ہے حاکم نے کہا یہ حدیث بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٤‘ مطبوعہ لاہور ١٩٨٣ ء) 

نیز امام احمد رضا قادری نے سماع مع المزامیر کو حرام لکھا ہے اور استاذ العلماء مولانا حافظ عطا محمد چشتی دامت برکاتھم اور حضرت غزالی زماں امام اہل سنت سید احمد سعید کا ظمی قدس سرہ نے اس کو جائز لکھا ہے۔ 

علماء اور مجتہدین حضرات معصوم نہیں دلائل کے ساتھ ان سے اختلاف کرنا جائز ہے۔ 

امام احمد رضا قادری متوفی ١٣٤٠ ھ لکھتے ہیں : 

انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے سوا کچھ بشر معصوم نہیں اور غیر معصوم سے کوئی نہ کوئی کلمہ غلط یا بیجا صادر ہونا کچھ نادر کا لمعدوم نہیں پھر سلف صالحین وائمہ دین سے آج تک اہل حق کا یہ معمول رہا ہے کہ ہر شخص کا قول قبول بھی کیا جاتا ہے۔ اور اس کو رد بھی کیا جاتا ہے جاتا ہے ماسوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ‘ جس کی جو بات خلاف حق و جمہور دیکھی وہ اسی پر چھوڑی اور اعتقاد وہی رکھا جو جماعت کا ہے (فتاوی رضویہ ج ٦ ص ٢٨٣ مطبوعہ مکتبہ رضویہ کراچی) 

نیز فرماتے ہیں : 

ویابی اللہ العصمۃ الالکلامہ ولکلام رسولہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ اپنے کلام اور اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کلام کے سوا کسی کے کلام کو معصوم قرار دینے سے انکار فرماتا ہے (پھر فرمایا) انسان سے غلطی ہوتی ہے مگر رحمت ہے اس پر جس کی خطا کسی امر دینی مہم پر زد نہ ڈالے۔ (الملفوظ ج ٤ ص ٣‘ مطبوعہ مدینہ پبلشنگ کمپنی کراچی) حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ سے سوال کیا گیا کہ اعلی حضرت مجدد مائتہ حاضرہ نے گھڑی کے چین اور عورتوں کی کتابت اور انگریزی لباس وغیرہ کو ناجائز لکھا ہے اور آپ نے ان کو جائز لکھا ہے کیا وہ فتوی وقتی اور عارضی تھا اور اب یہ امور جائز ہوگئے ہیں ؟ حضرت فقیہ اعظم قدس سرہ نے اس کے جواب میں لکھا : 

(١) ہاں مجدد وقت کی ایسی ہدایات و تصریحات (جو کتاب وسنت سے مستنبط ہیں) کی روشنی میں یوں ہوسکتا ہے ؟ بلکہ عملا خود مجدد وقت ہی اس کا سبق بھی دے چکے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ خالصا لوجہ اللہ تعالیٰ ہو ‘ تعجب ہے کہ خود مستفتی صاحب کو روز روشن کی طرح معلوم ہے کہ حضرت امام اعظم (رض) کے محققانہ اقوال وفتاوائے شرعیہ کی موجودگی میں حضرات صاحبین وغیرہما اجلہ تلامذہ بلکہ متاخرین کے بھی بکثرت ایسے اقوال وفتاوی ہیں ‘ جو ان کے خلاف ہیں جن کی بنا قول صوری و ضروری وغیرہ اصول ستہ پر ہے جس کی تفصیل فتاوی رضویہ ج ١ ص ٣٨٥ وغیرہا میں ہے بلکہ یہ بھی اظہرمن الشمس ہے کہ خود ہمارے مجدد برحق کے صدہا نہیں بلکہ ہزار ہا تطفامات ہیں جو صرف متاخرین نہیں بلکہ متقدمین حضرات فقیہ النفس امام قاضی خاں وغیرہ کے اقوال وفتاوی شرعیہ پر ہیں جن میں اصول ستہ کے علاوہ سبقت قلم وغیرہ کی صریح نسبتیں بھی مذکور ہیں اور یہ بھی نہاں نہیں کہ ہمارے مذہب مہذب میں مجددین حضرات معصوم نہیں تو تطفامات کا دروازہ اب کیوں بند ہوگیا ؟ کیا کسی مجدد کی کوئی ایسی تصریح ہے یا کم از کم اتنی ہی تصریح ہو کہ اصول ستہ کا زمانہ اب گزر گیا لہذا الکیر کا فقیر بننا فرض عین ہوگیا ‘ کیا تازہ حوادثات ونوازل کے متعلق احکام شرعی موجود نہیں کہ ہم بالکل صم بکم بن جائیں اور عملا اغیار کے ان کافرانہ مزعومات کی تصدیق کریں کہ معاذ اللہ اسلام فرسودہ مذہب ہے ‘ اس میں روز مرہ ضروریات زندگی کے جدید ترین ہزار ہا تقاضوں کا کوئی حل ہی نہیں ‘ ” ولا حوال ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ 

اسی ایک جواب سے نمبر ٢ اور نمبر ٣ کے جواب میں واضح ہیں البتہ یہ حقیقت بھی اظہر من الشمس ہے کہ کسی ناجائز اور غلط چیز کو اپنے مفاد ومنشا سے جائز ومباح کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں مگر شرعا اجازت ہو تو عدم جواز کی رٹ لگانا بھی جائز نہیں ‘ غرضیکہ ضد اور نفس پرستی سے بچنا نہایت ہی ضروری ہے ‘ کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے ذمہ دار علماء کرام محض اللہ کے لیے نفسانیت سے بلند وبالا سرجوڑ کر بیٹھیں اور ایسے جزئیات کے فیصلے کریں ‘ مثلا یہ کہ وہ لباس جو کفار یا فجار کا شعار ہونے کے باعث ناجائز تھا کیا اب بھی شعار ہے تو ناجائز ہے یا اب شعار نہیں رہا تو جائز ہے ‘ مگر بظاہر یہ توقع تمنا کے حدود طے نہیں کرسکتی اور یہی انتشار آزاد خیالی کا باعث بن رہا ہے۔ ” فانا للہ وانا الیہ راجعون “۔ (فتاوی نوریہ ج ٣ ص ٤٧٠۔ ٤٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء آیت نمبر 59

کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 1 رکوع 4 سورہ البقرہ آیت نمبر30 تا 39

وَ اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَةًؕ-قَالُوْۤا اَتَجْعَلُ فِیْهَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْهَا وَ یَسْفِكُ الدِّمَآءَۚ-وَ نَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَ نُقَدِّسُ لَكَؕ-قَالَ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ(۳۰)

اور یاد کرو جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایامیں زمین میں اپنا نائب بنانے والا ہوں (ف۵۳) بولے کیا ایسے کو نائب کرے گا جو اس میں فساد پھیلائے اور خونریزیاں کرے (ف۵۴) اور ہم تجھے سراہتے ہوئے تیری تسبیح کرتے اور تیری پاکی بولتے ہیں فرمایا مجھے معلوم ہے جو تم نہیں جانتے (ف۵۵)

(ف53)

خلیفہ احکام واوامرکے اجراء و دیگر تصرفات میں اصل کا نائب ہوتا ہے یہاں خلیفہ سے حضرت آدم علیہ السلام مراد ہیں اگرچہ اور تمام انبیاء بھی اللہ تعالٰی کے خلیفہ ہیں حضرت داؤد علیہ السلام کے حق میں فرمایا ” یَادَاو،دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ ” فرشتوں کو خلافت آدم کی خبر اس لئے دی گئی کہ وہ ان کے خلیفہ بنائے جانے کی حکمت دریافت کرکے معلوم کرلیں اور ان پر خلیفہ کی عظمت و شان ظاہر ہو کہ اُن کو پیدائش سے قبل ہی خلیفہ کا لقب عطا ہوا اور آسمان والوں کو ان کی پیدائش کی بشارت دی گئی

مسئلہ : اس میں بندوں کو تعلیم ہے کہ وہ کام سے پہلے مشورہ کیا کریں اور اللہ تعالٰی اس سے پاک ہے کہ اس کو مشورہ کی حاجت ہو ۔

(ف54)

ملائکہ کا مقصد اعتراض یا حضرت آدم پر طعن نہیں بلکہ حکمت خلافت دریافت کرنا ہے اور انسانوں کی طرف فساد انگیزی کی نسبت کرنا اس کا علم یا انہیں اللہ تعالٰی کی طرف سے دیا گیا ہو یا لوح محفوظ سے حاصل ہوا ہو یا خود انہوں نے جنات پر قیاس کیا ہو ۔

(ف55)

یعنی میری حکمتیں تم پر ظاہر نہیں بات یہ ہے کہ انسانوں میں انبیاء بھی ہوں گے اولیاء بھی علماء بھی اور وہ علمی و عملی دونوں فضیلتوں کے جامع ہوں گے۔

وَ عَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلٰٓىٕكَةِۙ-فَقَالَ اَنْۢبِـُٔوْنِیْ بِاَسْمَآءِ هٰۤؤُلَآءِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۳۱)

اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو تمام اشیاء کے نام سکھائے (ف۵۶) پھر سب اشیاء ملائکہ پر پیش کرکے فرمایا سچے ہو تو ان کے نام تو بتاؤ (ف۵۷)

(ف56)

اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام پر تمام اشیاء و جملہ مسمیات پیش فرما کر آپ کو ان کے اسماء و صفات و افعال و خواص و اصول علوم و صناعات سب کا علم بطریق الہام عطا فرمایا ۔

(ف57)

یعنی اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو کہ میں کوئی مخلوق تم سے زیادہ عالم پیدا نہ کروں گا اور خلافت کے تم ہی مستحق ہو تو ان چیزوں کے نام بتاؤ کیونکہ خلیفہ کا کام تصرف و تدبیراور عدل و انصاف ہے اور یہ بغیر اس کے ممکن نہیں کہ خلیفہ کو ان تمام چیزوں کا علم ہو جن پر اس کو متصرف فرمایا گیا اور جن کا اس کو فیصلہ کرنا ہے۔

مسئلہ : اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کے ملائکہ پرافضل ہونے کا سبب علم ظاہر فرمایا اس سے ثابت ہوا کہ علمِ اسماء خلوتوں اور تنہائیوں کی عبادت سے افضل ہے

مسئلہ: اس آیت سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انبیاء علیہم السلام ملائکہ سے افضل ہیں ۔

قَالُوْا سُبْحٰنَكَ لَا عِلْمَ لَنَاۤ اِلَّا مَا عَلَّمْتَنَاؕ-اِنَّكَ اَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ(۳۲)

بولے پاکی ہے تجھے ہمیں کچھ علم نہیں مگر جتنا تو نے ہمیں سکھایا بے شک تو ہی علم و حکمت والا ہے (ف۵۸)

(ف58)

اس میں ملائکہ کی طرف سے اپنے عجزو قصور کا اعتراف اور اس امر کا اظہار ہے کہ اُن کا سوال استفساراً تھا۔ نہ کہ اعتراضاً اور اب انہیں انسان کی فضیلت اور اُس کی پیدائش کی حکمت معلوم ہوگئی جس کو وہ پہلے نہ جانتے تھے ۔

قَالَ یٰۤاٰدَمُ اَنْۢبِئْهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۚ-فَلَمَّاۤ اَنْۢبَاَهُمْ بِاَسْمَآىٕهِمْۙ-قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِۙ-وَ اَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ(۳۳)

فرمایا اے آدم بتادے انہیں سب اشیاء کے نام جب آدم نے انہیں سب کے نام بتادئیے (ف۵۹) فرمایا میں نہ کہتا تھا کہ میں جانتا ہوں آسمانوں اور زمین کی سب چھپی چیزیں اور میں جانتا ہوں جو کچھ تم ظاہر کرتے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو (ف۶۰)

(ف59)

یعنی حضرت آدم علیہ السلام نے ہر چیز کا نام اور اس کی پیدائش کی حکمت بتادی۔

(ف60)

ملائکہ نے جو بات ظاہر کی تھی وہ یہ تھی کہ انسان فساد انگیزی و خوں ریزی کرے گا اور وجوہات چھپائی تھی وہ یہ تھی کہ مستحق خلافت وہ خود ہیں اور اللہ تعالٰی ان سے افضل و اعلم کوئی مخلوق پیدا نہ فرمائے گا مسئلہ اس آیت سے انسان کی شرافت اور علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے اور یہ بھی کہ اللہ تعالٰی کی طرف تعلیم کی نسبت کرنا صحیح ہے اگرچہ اس کو معلم نہ کہا جائے گا، کیونکہ معلم پیشہ ور تعلیم دینے والے کو کہتے ہیں مسئلہ : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جملہ لغات اور کل زبانیں اللہ تعالٰی کی طرف سے ہیں ۔ مسئلہ : یہ بھی ثابت ہوا کہ ملائکہ کے علوم و کمالات میں زیادتی ہوتی ہے ۔

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓىٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَؕ-اَبٰى وَ اسْتَكْبَرَ ﱪ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ(۳۴)

اور یاد کرو جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہوگیا

وَ قُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اسْكُنْ اَنْتَ وَ زَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَ كُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَیْثُ شِئْتُمَا۪-وَ لَا تَقْرَبَا هٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُوْنَا مِنَ الظّٰلِمِیْنَ(۳۵)

(ف۶۱) اور ہم نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بی بی اس جنت میں رہو اور کھاؤ اس میں سے بے روک ٹوک جہاں تمہارا جی چاہے مگر اس پیڑ کے پاس نہ جانا (ف۶۲) کہ حد سے بڑھنے والوں میں ہوجاؤ گے (ف۶۳)

(ف61)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام موجودات کا نمونہ اور عالم روحانی و جسمانی کا مجموعہ بنایا اور ملائکہ کے لئے حصول کمالات کا وسیلہ کیا تو انہیں حکم فرمایا کہ حضرت آدم کو سجدہ کریں کیونکہ اس میں شکر گزاری اور حضرت آدم علیہ السلام کی فضیلت کے اعتراف اور اپنے مقولہ کی معذرت کی شان پائی جاتی ہے بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کرنے سے پہلے ہی ملائکہ کو سجدہ کا حکم دیا تھا ان کی سند یہ آیت ہے

” فَاِذَا اسَوَّیْتُہ’ وَنَفَخْتُ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَہ’ سَاجِدِینَ ”(بیضاوی) سجدہ کا حکم تمام ملائکہ کو دیا گیا تھا یہی اصح ہے۔(خازن) مسئلہ : سجدہ دو طرح کا ہوتا ہے ایک سجدۂ عبادت جو بقصد پر ستش کیا جاتا ہے دوسرا سجدۂ تحیت جس سے مسجود کی تعظیم منظور ہوتی ہے نہ کہ عبادت۔

مسئلہ : سجدۂ عبادت اللہ تعالٰی کے لئے خاص ہے کسی اور کے لئے نہیں ہوسکتا نہ کسی شریعت میں کبھی جائز ہوا یہاں جو مفسرین سجدۂ عبادت مراد لیتے وہ فرماتے ہیں کہ سجدہ خاص اللہ تعالیٰ کے لئے تھا۔اور حضرت آدم علیہ السلام قبلہ بنائے گئے تھے تو وہ مسجود الیہ تھے نہ کہ مسجودلہ، مگر یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اس سجدہ سے حضرت آدم علی نبینا و علیہ الصلوۃ والسلام کا فضل و شرف ظاہر فرمانا مقصود تھا اور مسجود الیہ کا ساجد سے افضل ہونا کچھ ضرور نہیں جیسا کہ کعبہ معظمہ حضور سید انبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قبلہ و مسجود الیہ ہے باوجودیکہ حضور اس سے افضل ہیں دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں سجدۂ عبادت نہ تھا سجدۂ تحیت تھا اور خاص حضرت آدم علیہ السلام کے لئے تھا زمین پر پیشانی رکھ کر تھا نہ کہ صرف جھکنا یہی قول صحیح ہے اور اسی پر جمہور ہیں۔(مدارک)

مسئلہ سجدۂ تحیت پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں منسوخ کیا گیا اب کسی کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ جب حضرت سلیمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدہ کرنے کا ارادہ کیا تو حضور نے فرمایا کہ مخلوق کو نہ چاہئے کہ اللہ کے سوا کسی کو سجدہ کرے۔ (مدارک) ملائکہ میں سب سے پہلا سجدہ کرنے والے حضرت جبریل ہیں پھر میکائیل پھر اسرافیل پھر عزرائیل پھر اور ملائکہ مقربین یہ سجدہ جمعہ کے روز وقتِ زوال سے عصر تک کیا گیا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ ملائکہ مقربین سو برس اور ایک قول میں پانچ سو برس سجدہ میں رہے شیطان نے سجدہ نہ کیا اور براہ تکبر یہ اعتقاد کرتا رہا کہ وہ حضرت آدم سے افضل ہے اس کے لئے سجدہ کا حکم معاذ اللہ تعالیٰ خلاف حکمت ہے اس اعتقاد باطل سے وہ کافر ہوگیا۔

مسئلہ : آیت میں دلالت ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام فرشتوں سے افضل ہیں کہ ان سے انہیں سجدہ کرایا گیا۔

مسئلہ : تکبر نہایت قبیح ہے اس سے کبھی متکبر کی نوبت کفر تک پہنچتی ہے۔ (بیضاوی و جمل)

(ف62)

اس سے گندم یا انگور وغیرہ مراد ہے (جلالین)

(ف63)

ظلم کے معنی ہیں کسی شے کو بے محل وضع کرنا یہ ممنوع ہے اور انبیاء معصوم ہیں ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا یہاں ظلم خلاف اولی کے معنی میں ہے۔ مسئلہ : انبیاء علیہم السلام کو ظالم کہنا اہانت و کفر ہے جو کہے وہ کافر ہوجائے گا اللہ تعالیٰ مالک و مولیٰ ہے جو چاہے فرمائے اس میں ان کی عزت ہے دوسرے کی کیا مجال کہ خلاف ادب کلمہ زبان پر لائے اور خطاب حضرت حق کو اپنی جرأت کے لئے سند بنائے، ہمیں تعظیم و توقیر اور ادب و طاعت کا حکم فرمایا ہم پر یہی لازم ہے۔

فَاَزَلَّهُمَا الشَّیْطٰنُ عَنْهَا فَاَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِیْهِ۪-وَ قُلْنَا اهْبِطُوْا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّۚ-وَ لَكُمْ فِی الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ(۳۶)

تو شیطان نے جنت سے انہیں لغزش دی اور جہاں رہتے تھے وہاں سے انہیں الگ کردیا (ف۶۴) اور ہم نے فرمایا نیچے اترو (ف۶۵) آپس میں ایک تمہارا دوسرے کا دشمن اور تمہیں ایک وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور برتنا ہے (ف۶۶)

(ف64)

شیطان نے کسی طرح حضرت آدم و حوا (علیہماالسلام) کے پاس پہنچ کر کہا کہ میں تمہیں شجر خلد بتادوں، حضرت آدم علیہ السلام نے انکار فرمایا اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں ، انہیں خیال ہوا کہ اللہ پاک کی جھوٹی قسم کون کھا سکتا ہے بایں خیال حضرت حوّا نے اس میں سے کچھ کھایا پھر حضرت آدم کو دیا انہوں نے بھی تناول کیا’ حضرت آدم کو خیال ہوا کہ ” لَاتَقْرَبَا ” کی نہی تنزیہی ہے تحریمی نہیں کیونکہ اگر وہ تحریمی سمجھتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کہ انبیاء معصوم ہوتے ہیں یہاں حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(ف65)

حضرت آدم و حوا اور ان کی ذریت کو جوان کے صلب میں تھی جنت سے زمین پر جانے کا حکم ہوا حضر ت آدم زمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حوا جدّے میں اتارے گئے۔ (خازن) حضرت آدم علیہ السلام کی برکت سے زمین کے اشجار میں پاکیزہ خوشبو پید اہوئی۔(روح البیان)

(ف66)

اس سے اختتام عمر یعنی موت کا وقت مراد ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کے لئے بشارت ہے کہ وہ دنیا میں صرف اتنی مدت کے لئے ہیں اس کے بعد پھر انہیں جنت کی طرف رجوع فرمانا ہے اور آپ کی اولاد کے لئے معاد پر دلالت ہے کہ دنیا کی زندگی معین وقت تک ہے عمر تمام ہونے کے بعد انہیں آخرت کی طرف رجوع کرنا ہے۔

فَتَلَقّٰۤى اٰدَمُ مِنْ رَّبِّهٖ كَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیْهِؕ-اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ(۳۷)

پھر سیکھ لیے آدم نے اپنے رب سے کچھ کلمے تو اللہ نے اس کی توبہ قبول کی (ف۶۷) بےشک وہی ہے بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان

(ف67)

آدم علیہ السلام نے زمین پر آنے کے بعد تین سو برس تک حیاء سے آسمان کی طرف سر نہ اٹھایا اگرچہ حضرت داؤد علیہ السلام کثیر البکاء تھے آپ کے آنسو تمام زمین والوں کے آنسوؤں سے زیادہ ہیں مگر حضرت آدم علیہ السلام اس قدر روئے کہ آپ کے آنسو حضرت داؤد علیہ السلام اورتمام اہلِ زمین کے آنسوؤں کے مجموعہ سے بڑھ گئے۔ (خازن) طبرانی و حاکم و ابو نعیم و بیہقی نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مرفوعاً روایت کی کہ جب حضرت آدم علیہ السلام پر عتاب ہوا تو آپ فکر توبہ میں حیران تھے اس پریشانی کے عالم میں یاد آیا کہ وقت پیدائش میں نے سر اٹھا کر دیکھا تھا کہ عرش پر لکھا ہے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ میں سمجھا تھا کہ بارگاہِ الہٰی میں وہ رُتبہ کسی کو میسر نہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا نام اپنے نام اقدس کے ساتھ عرش پر مکتوب فرمایا لہذا آپ نے اپنی دعا میں ” رَبَّنَا ظَلَمْنَا ”الآیہ ‘ کے ساتھ یہ عرض کیا ” اَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اَنْ تَغْفِرَلِیْ ” ابن منذر کی روایت میں یہ کلمے ہیں۔

” اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْلَکَ بِجَاہِ محمَّدٍ عَبْدِکَ وَکَرَامَتِہٖ عَلَیْکَ اَنْ تَغفِرَلِیْ خَطِیْئَتِیْ ” یعنی یارب میں تجھ سے تیرے بندۂ خاص محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جاہ و مرتبت کے طفیل میں اور اس کرامت کے صدقہ میں جو انہیں تیرے دربار میں حاصل ہے مغفرت چاہتا ہوں یہ دعا کرنی تھی کہ حق تعالیٰ نے ان کی مغفرت فرمائی مسئلہ اس روایت سے ثابت ہے کہ مقبولان بارگاہ کے وسیلہ سے دعا بحق فلاں اور بجاہ فلاں کہہ کر مانگنا جائز اور حضرت آدم علیہ السلام کی سنت ہے مسئلہ : اللہ تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ہوتا لیکن وہ اپنے مقبولوں کو اپنے فضل و کرم سے حق دیتا ہے اسی تفضلی حق کے وسیلہ سے دعا کی جاتی ہے صحیح احادیث سے یہ حق ثابت ہے جیسے وارد ہوا ” مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہ ِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَقَامَ الصَّلوٰۃَ وَصَامَ رَمَضَانَ کَانَ حَقاً عَلیٰ اللّٰہ ِ اَنْ یُدْخِلَ الْجَنَّۃَ ”

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ دسویں محرم کو قبول ہوئی جنت سے اخراج کے وقت اور نعمتوں کے ساتھ عربی زبان بھی آپ سے سلب کرلی گئی تھی بجائے اس کے زبان مبارک پر سریانی جاری کردی گئی تھی قبول توبہ کے بعد پھر زبان عربی عطا ہوئی (فتح العزیز) مسئلہ : توبہ کی اصل رجوع الی اللہ ہے اس کے تین رکن ہیں ایک اعتراف جرم دوسرے ندامت تیسرے عزم ترک اگر گناہ قابل تلافی ہو تو اس کی تلافی بھی لازم ہے مثلا تارک صلوۃ کی توبہ کے لئے پچھلی نمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے توبہ کے بعد حضرت جبرئیل نے زمین کے تمام جانوروں میں حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا اور سب پر ان کی فرماں برداری لازم ہونے کا حکم سنایا سب نے قبول طاعت کا اظہار کیا ۔(فتح العزیز)

قُلْنَا اهْبِطُوْا مِنْهَا جَمِیْعًاۚ-فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى فَمَنْ تَبِـعَ هُدَایَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۳۸)

ہم نے فرمایا تم سب جنت سے اتر جاؤ پھر اگر تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے تو جو میری ہدایت کا پیرو ہوا اسے نہ کوئی اندیشہ نہ کچھ غم(ف۶۸)

(ف68)

یہ مؤمنین صالحین کے لئے بشارت ہے کہ نہ انہیں فزع اکبر کے وقت خوف ہو نہ آخرت میں غم وہ بے غم جنت میں داخل ہوں گے۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ۠(۳۹)

اور وہ جو کفر کریں اور میری آیتیں جھٹلائیں گے وہ دوزخ والے ہیں ان کو ہمیشہ اس میں رہنا

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَابۡعَثُوۡا حَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهٖ وَحَكَمًا مِّنۡ اَهۡلِهَا‌ ۚ اِنۡ يُّرِيۡدَاۤ اِصۡلَاحًا يُّوَفِّـقِ اللّٰهُ بَيۡنَهُمَا‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيۡمًا خَبِيۡرًا

ترجمہ:

اور (اے مسلمانو) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑنے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو ‘ اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشو) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا بیشک اللہ بڑا جاننے والا بہت خبر رکھنے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم کو جن عورتوں کی نافرمانی کا اندیشہ ہو تو ان کو نصیحت کرو اور ان کو ان کے بستروں پر اکیلا چھوڑ دو اور ان کو (تادیبا) مارو پس اگر وہ تمہاری فرمانبرداری کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ نہ ڈھونڈو۔ (النساء : ٣٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق احادیث : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا : اے لوگو ! عورتوں کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امان میں حاصل کیا ہے اور اللہ کی اجازت سے ان کے جسموں کو اپنے اوپر حلال کیا ہے اور تمہارا ان پر یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستروں پر اس شخص کو نہ آنے دیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو اگر وہ ایسا کریں تو ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کانشان نہ پڑے اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دو ۔ (صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٢١٨) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سلیمان بن عمرو اپنے والد (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ والوداع میں تھے آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد فرمایا : سنو عورتوں کے ساتھ خیر خواہی کرو وہ تمہارے پاس تمہاری قید میں ہیں تم اس کے سوا ان کی کسی چیز کے مالک نہیں ہو ‘ ہاں اگر وہ کھلی بےحیائی کریں تو ان کو ان کے بستروں میں اکیلا چھوڑ دو اور ان کو اس طرح مارو کہ چوٹ کا اثر ظاہر نہ ہو اور اگر وہ تمہاری اطاعت کرلیں تو ان کے خلاف کوئی بہانہ تلاش نہ کرو سنو تمہاری عورتوں پر تمہارا حق ہے اور تمہاری عورتوں کا تم پر حق ہے ‘ تمہاری عورتوں پر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر تمہارے ناپسندیدہ لوگوں کو نہ آنے دیں اور جن کو تم ناپسند کرتے ہو ان کو تمہارے گھروں میں آنے نہ دیں ‘ اور سنو تمہاری عورتوں کا تم پر یہ حق ہے کہ تم ان کو اچھا پہناؤ۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (النساء :) (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث : ١١٦٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث : ١٨٥١) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زیاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی بندیوں کو مارا نہ کرو ‘ پھر حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : عورتیں اپنے خاوندوں کے ساتھ بدخلقی اور بدزبانی کرتی ہیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو مارنے کی اجازت دی پھر بہت ساری عورتوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر جا کر اپنے خاوندوں کی شکایت کی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر بہت ساری عورتوں نے اپنے خاوندوں کی شکایت کی ہے اور یہ لوگ تمہارے اچھے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٦) 

حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کسی شخص سے اس پر باز پرس نہیں ہوگی کہ اس نے اپنی بیوی کو کیوں مارا ہے۔ (سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث : ٢١٤٧) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زمعہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کو غلام کی طرح کوڑے نہ مارے پھر دن گزرنے کے بعد اس سے جماع کرے۔ (صحیح البخاری :‘ رقم الحدیث : ٥٢٠٤) 

بیویوں کو مارنے کے متعلق فقہاء کا نظریہ : 

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

ہمارے اصحاب (احناف) نے یہ تصریح کی ہے کہ چار صورتوں میں مرد عورت کو مار سکتا ہے۔

(١) جب خاوند چاہتا ہو کہ بیوی بناؤ سنگھار کرے اور بیوی میک اپ نہ کرے۔ 

(٢) خاوند بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ نہ آئے۔ 

(٣) جب وہ نماز نہ پڑھے ایک قول یہ ہے کہ جب وہ غسل نہ کرے۔ 

(٤) جب وہ بغیر عذر شرعی کے گھر سے باہر نکلے ‘ ایک قول ہے کہ جب وہ خاوند کو ناراض کرے ‘ حضرت اسماء بنت ابی بکر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت زبیر بن العوام کی چوتھی بیوی تھی جب وہ کسی بیوی سے ناراض ہوتے تو وہ اس کو کھونٹی کی لکڑی سے مارتے حتی کہ وہ لکڑی ٹوٹ جاتی ‘ واضح رہے کہ بیوی کی اذیتوں کو برداشت کرنا اور ان پر صبر کرنا اس کو مارنے سے افضل ہے الا یہ کہ کوئی ناقابل برداشت معاملہ ہو۔ (روح المعانی ج ٥ ص ‘ ٢٥‘ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی ‘ بیروت)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور (اے مسلمانو ! ) اگر تمہیں ان دونوں کے درمیان جھگڑے کا خطرہ ہو تو ایک منصف مرد کی طرف سے مقرر کرو اور ایک منصف عورت کی طرف سے مقرر کرو اگر وہ دونوں منصف صلح کرانے کا ارادہ کریں تو اللہ ان دونوں (زن وشوہر) کے درمیان اتفاق پیدا کر دے گا۔ 

اختلاف زن و شوہر میں دونوں جانب سے مقرر کردہ منصف آیا حاکم ہیں یا وکیل : 

امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک یہ منصف حاکم ہیں اور ان منصفوں کو از خود یہ اختیار ہے کہ وہ مناسب جانیں تو خاوند اور اس کی بیوی کو نکاح پر برقرار رکھیں یا ان میں سے کسی ایک کے ذمہ کسی چیز کی ادائیگی لازم کردیں یا مناسب جانیں تو ان کا نکاح فسخ کردیں ‘ اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک یہ منصف وکیل ہیں اور ان کو اختیار نہیں ہے الا یہ کہ زوجین ان کو فسخ نکاح کا اختیار بھی تفویض کردیں۔ 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورت اور مرد کی طرف سے جو دو شخص مقرر کئے جائیں وہ ان کے وکیل ہوں گے اور بہ حیثیت وکیل کے ان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ان کے حکم کے بغیر از خود ان کا نکاح فسخ کردیں۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ‘ ١٩٠ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد جوزی حنبلی لکھتے ہیں : 

یہ دونوں حاکم زوجین کے وکیل ہیں اور ان کے فیصلہ میں ان دونوں کی رضا کا اعتبار ہوگا یہ امام احمد ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا قول ہے ‘ اور امام مالک اور امام شافعی کا قول یہ ہے کہ حاکموں کے فیصلہ کے لئے زوجین کی رضا کی ضرورت نہیں ہے۔ 

(زادالمیسر ج ٢ ص ‘ ٧٨۔ ٧٧ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

علامہ ابوالحسن علی بن محمد ماوردی شافعی متوفی ٤٥٠ لکھتے ہیں : 

جن دو شخصوں کو بھیجا جائے گا اس کے متعلق دو قول ہیں وہ وکیل ہیں اور ان کو از خود زوجین میں تفریق کا اختیار نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ وہ حاکم ہیں اور ان کا اختیار ہے۔ (النکت والعیون ج ١ ص ٤٨٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھا ہے کہ زیادہ ظاہر قول یہ ہے کہ یہ وکیل ہیں۔ (روضۃ الطالبین ج ٥ ص ٦٧٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت) 

قاضی ابوبکر محمد بن عبداللہ ابن العربی مالکی لکھتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) سے صحیح روایت یہ ہے کہ یہ دونوں شخص حاکم ہیں اور جب یہ دونوں شخص زوجین کے درمیان تفریق کردیں تو تفریق واقع ہوجائے گی۔ کیونکہ نکاح سے مقصود الفت اور حسن معاشرت ہے اور وہ ان کے نزدیک نہیں پائی گئی (الی قولہ) ہمارے علماء نے کہا ہے کہ اگر خاوند کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر عورت کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو ہم عورت کو مرد کا تابع کریں گے اور اگر دونوں کی جانب سے زیادتی پائی گئی تو بھی ان میں تفریق کردی جائے گی اور مرد کو بعض مہر ادا کرنا ہوگا نہ کہ پورا۔ (احکام القرآن ج ١ ص ٥٤١۔ ٥٤٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٨ ھ) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جہاں دونوں حاکم زوجین کے درمیان تفریق کردیں گے تو یہ طلاق بائن کے قائم مقام ہے اور حاکموں کا منصب طلاق واقع کرنا ہے وکالت کرنا نہیں ہے ‘ امام مالک ‘ امام اوزاعی اور اسحاق کا یہی قول ہے۔ حضرت عثمان ‘ حضرت علی اور حضرت ابن عباس (رض) سے بھی یہی مروی ہے اور امام شافعی کا بھی یہی قول ہے کیونکہ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا “۔ ” ایک حاکم مرد کی طرف سے بھیجو اور ایک حاکم عورت کی طرف سے بھیجو “ یہ آیت اس باب میں نص صریح ہے کہ یہ دونوں قاضی اور حاکم ہیں وکیل یا شاہد نہیں ہیں ‘ اور وکیل کی شریعت میں اور تعریف ہے اور حاکم کی شریعت میں اور تعریف ہے اور جب اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کی تعریف الگ الگ بیان کردی ہے تو کسی شخص یا عالم کے لئے یہ کس طرح جائز ہوگا کہ وہ ایک لفظ کی تعریف کو دوسرے لفظ میں محمول کردے (اس کے بعد علامہ قرطبی نے اپنے موقف پر سنن دارقطنی سے حدیث پیش کی) (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ١٧٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران) 

فقہاء مالکیہ نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

عبیدہ سلمانی بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت حاضر تھا جب حضرت علی ابن ابی طالب (رض) کے ایک عورت اور اس کا خاوند آئے ان میں سے ہر ایک کے ساتھ لوگوں کی ایک جماعت تھی ان لوگوں نے عورت کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا اور مرد کی طرف سے بھی ایک حاکم پیش کیا۔ حضرت علی (رض) نے ان دونوں حاکموں سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ تم دونوں پر کیا فرض ہے ؟ اگر تمہاری رائے میں ان دونوں میں تفریق ہونی چاہیے تو تم ان میں تفریق کردو اور اگر تمہاری رائے میں ان کو اکٹھا ہونا چاہیے تو تم ان کو اکٹھا کردو خاوند نے کہا رہی فرقت تو میں اس کو اجازت نہیں دیتا۔ حضرت علی (رض) نے فرمایا تم نے جھوٹ بولا بخدا تم یہاں سے اس وقت تک نہیں جاؤ گے جب تک تم اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی نہ ہوجاؤ وہ تمہارے حق میں ہو یا تمہارے خلاف ‘ عورت نے کہا میں اپنے متعلق کتاب اللہ سے راضی ہوں خواہ وہ میرے حق میں ہو یا میرے خلاف۔ (المنصف ‘ رقم الحدیث : ١١٨٨٣‘ جامع البیان : ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦۔ ٣٠٥) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ اس حدیث کے جواب میں لکھتے ہیں : 

اس حدیث میں حضرت علی (رض) نے خبر دی ہے کہ حاکموں کا فیصلہ اس وقت تک معتبر نہیں ہوگا جب تک کہ دونوں فریق اس فیصلہ پر راضی نہ ہوجائیں ‘ اسی لئے ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حاکموں کا تفریق کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک کہ خاوند اس پر راضی نہ ہوجائے کیونکہ اس میں کسی کا اختلاف نہیں ہے کہ اگر خاوند اس کا اقرار کرلے کہ وہ بیوی کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے تو ان کے درمیان تفریق نہیں کی جائے گی اور نہ قاضی جانبین سے حاکم بنانے سے پہلے اس کو طلاق پر مجبور کرے گا ‘ اسی طرح سے اگر عورت خاوند کی نافرمانی کا اقرار کرلے تو قاضی اس کو خلع پر مجبور کرے گا نہ مہر واپس کرنے پر ‘ اور جب جانبین سے حاکم مقرر کرنے سے پہلے یہ حکم ہے تو جانبین سے حاکم مقرر کرنے کے بعد بھی یہی حکم ہوگا اور خاوند کی مرضی کے بغیر ان حاکموں کا اس کی بیوی کو طلاق دینا صحیح نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٩١‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

امام مالک کی طرف سے یہ جواب دیا جائے گا کہ حضرت علی (رض) کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو بیوی اور خاوند کے جھگڑے میں حاکم بنانے کا معنی ہی یہ ہے کہ یہ اختیار ہے کہ فریقین کے بیان لینے کے بعد وہ اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے خواہ نکاح برقرار رکھے خواہ نکاح و فسخ کردے ‘ اور حاکم بنائے جانے کے بعد بھی ان کو یہ اختیار نہ ہو اور طلاق دینے کا اختیار خاوند کے پاس ہی رہے تو پھر ان کی حیثیت حاکم کی نہیں وکیل کی ہوگی ‘ حالانکہ قرآن مجید نے ان کو حاکم فرمایا ہے نیز حسب ذیل آثار بھی امام مالک کے موید ہیں : 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم میں تفریق کرنا چاہیں تو تفریق کردیں اور اگر ان کو ملانا چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

شعبی کہتے ہیں کہ اگر دونوں حاکم چاہیں تو ان میں تفریق کردیں اور اگر چاہیں تو ان کو ملا دیں۔ 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھے اور حضرت معاویہ (رض) دونوں کو حاکم بنایا گیا ‘ ہم سے کہا گیا کہ اگر تمہاری رائے ان کو جمع کرنا ہو تو ان کو جمع کردو اور اگر تمہارے رائے ان میں تفریق کرنا ہو تو ان میں تفریق کردو ‘ معمر نے کہا مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ ان دونوں کو حضرت عثمان (رض) نے بھیجا تھا۔ (المصنف رقم الحدیث : ٥١٢۔ ٥١١‘ جامع البیان ج ٥ ص ٤٦‘ سنن کبری للبیہقی ج ٧ ص ٣٠٦) 

اگر خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کو دونوں طرف کے وکیل یا منصف ختم کرا سکیں تو جو فریق مظلوم ہو اس کو داد رسی کے لئے عدالت میں جانا چاہیے۔ 

اگر شوہر ‘ بیوی کو خرچ دے نہ طلاق تو آیا عدالت اس کا نکاح فسخ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ 

ہمارے زمانہ میں بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر بیوی کا خرچ نہیں دیتا اور نہ اس کو طلاق دیتا ہے بیوی عدالت میں مقدمہ دائر کردیتی ہے شوہر عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت گواہوں کی بنیاد پر یک طرفہ فیصلہ کرکے اس نکاح کو فسخ کردیتی ہے اور اس کو موجودہ مجسٹریٹ اپنی اصطلاح میں خلع سے تعبیر کرتے ہیں ‘ اب سوال یہ ہے کہ عدالت کا یہ فیصلہ از روئے شرع قابل عمل ہے یا نہیں۔ 

امام دارقطنی متوفی ٢٨٥ ھ روایت کرتے ہیں۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے عیال کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا تمہاری بیوی جو کہتی ہے مجھ کو کھلاؤ مجھ و علیحدہ کردو۔ (سنن دارقطنی ج ٣ ص ٢٩٧۔ ٢٩٦‘ مطبوعہ نشر السنۃ ملتان) 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

جو شخص بیوی کا نفقہ ادا کرنے سے عاجر ہو اس کے بارے میں امام مالک ‘ امام شافعی اور احمد کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی امام ابوحنیفہ یہ کہتے ہیں کہ ان میں تفریق نہیں کی جائے گی جمہور کی دلیل یہ ہے کہ جب شوہر نامرد ہو تو بالاتفاق ان میں تفریق کردی جاتی ہے اور جب کہ نفقہ نہ دینے کا ضرر مباشرت نہ کرنے کے ضرر سے زیادہ ہے تو اس میں بہ طریق اولی تفریق ہونی چاہیے (کیونکہ شوہر کے جماع نہ کرنے پر تو صبر ہوسکتا ہے لیکن بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ) ۔ (بدایۃ المجتہد ج ٣ ص ٣٩‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ المہذب مع شرح المہذب ج ١٨ ص ٢٦٧‘ مطبوعہ بیروت) 

علامہ ابو البرکات سیدی احمد دردیر مالکی لکھتے ہیں : 

جب عورت فسخ نکاح کا ارادہ کرے اور حاکم کے پاس مقدمہ پیش کرے تو اگر کا خاوند کا افلاس ثابت نہ ہو تو حاکم خاوند کو کھانے کا خرچ اور کپڑے دینے کا حکم دے جبکہ عورت نے نفقہ نہ دینے کی شکایت کی ہو یا اس کو طلاق دینے کا حکم دے یا کہے کہ یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے گا۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوقی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

اب رہا یہ سوال کہ ائمہ ثلاثہ کے مذہب کے مطابق جو اقول پیش کئے گئے ہیں ان میں خاوند عدالت میں حاضر ہوتا ہے اور ہمارے زیر بحث جو صورت ہے اس میں خاوند عدالت میں حاضر نہیں ہوتا اور غائب ہوتا ہے تو غائب کے خلاف جو فیصلہ کیا جائے گا وہ کیسے نافذ ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ۔ علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

اگر غائب کے خلاف دلیل قائم کردی گئی اور قاضی گمان غالب یہ ہے کہ یہ حق ہے جھوٹ نہیں ہے اور نہ اس میں کوئی حیلہ ہے تو غائب کے خلاف یا اس کے حق میں فیصلہ کردینا چاہیے اسی طرح مفتی بھی یہ فتوی دے سکتا ہے تاکہ حرج نہ ہو اور لوگوں کے حقوق ضائع نہ ہوں ‘ اور اس میں ضرورت ہے علاوہ ازیں یہ مسئلہ مجہتدفیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ کا یہی مذہب ہے اور ہمارے اصحاب کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی طرف سے ایک وکیل کرلیا جائے جس کے بارے میں معلوم ہو کہ وہ غائب کی رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کمی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں اس کو برقرار رکھا گیا ہے اور عنقریب مسخر میں اس کا ذکر ہوگا اسی طرح فتح القدیر کے باب المفقود میں ہے کہ جب قاضی غائب کے خلاف یا اس کے حق میں کوئی مصلحت دیکھے تو اس کے مطابق فیصلہ کردے گا اور اس کا حکم نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ خواہ قاضی حنفی ہو اور خواہ ہمارے زمانہ میں ہو اور یہ قاعدہ پہلے قاعدہ کے خلاف نہیں ہے کیونکہ اس قاعدہ کو ضرورت اور مصلحت کی بناء پر جائز قرار دیا گیا ہے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

عدالت کے فسخ نکاح پر اعتراضات کے جوابات : 

کسی مظلوم اور نان ونفقہ سے محروم عورت کے حق میں جب عدالت فسخ نکاح کردیتی ہے اور اس کو دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دیتی ہے تو اس پر بعض علماء کرام یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر عدالت کے فیصلہ کی بناء پر اس نکاح کے جواز کا دروازہ کھول دیا جائے تو جو عورت بھی اپنے خاوند سے نجات حاصل کرنا چاہے گی وہ عدالت میں جھوٹا دعوی دائر کر کے اپنے حق میں فیصلہ کرا لے گی۔ اس اعتراض کے جواب میں پہلے یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زوجہ حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حجرہ کے دروازہ پر کچھ لوگوں کے جھگڑنے کی آواز سنی آپ ان کے پاس باہر گئے اور فرمایا میں صرف بشر ہوں (خدا نہیں ہوں) میرے پاس لوگ اپنے جھگڑے لے کر آتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اپنا فوقف زیادہ وضاحت سے پیش کرے اور میں اس کو سچا گمان کرکے اس کے حق میں فیصلہ کردوں سو (بفرض محال) اگر میں کسی شخص کو کسی مسلمان کا حق دے دوں تو وہ صرف آگ کا ٹکڑا ہے وہ اس کو لے یا ترک کردے۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٢٤٥٨‘ ٧١٨١‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٣) 

علامہ بدرالدین محمودبن احمد عینی حنفی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

یعنی میں (ازخود) غیب اور مخفی امور کو نہیں جانتا جیسا کہ حالت بشریہ کا تقاضا ہے اور آپ صرف ظاہر کے مطابق فیصلہ فرماتے تھے اور مخفی چیزیں اللہ کی ولایت میں تھیں ‘ اور اگر اللہ چاہتا تو آپ کو مخفی امور پر مطلع فرما دیتا حتی کہ آپ (صورت واقعیہ کے مطابق) یقین کے ساتھ فیصلہ فرماتے لیکن اللہ نے آپ کی امت کو آپ کی اقتداء کا حکم دیا اس لئے آپ نے ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ فرمایا تاکہ امت کو آپ کی اتباع کرنے میں آسانی اور اطمینان ہو۔ (عمدۃ القاری ج ١٣ ص ٥) 

اسی طرح حافظ ان حجر شافعی ٨٥٢ ھ نے لکھا ہے۔ (فتح الباری ج ١٣ ص ١٧٥) 

اس حدیث اور اس کی شرح سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی عورت خاوند کے خلاف جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں فیصلہ کرا لیتی ہے تو عدالتتو بہرحال ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرے گی لیکن اس جھوٹ کا وبال اس عورت کے سر پر ہوگا۔ ظاہر صورت حال کے مطابق فیصلہ کرنے کے متعلق ایک اور حدیث یہ ہے : جو لوگ غزوہ تبوک میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نہیں گئے تھے آپ نے واپس آکر ان سے باز پرس کی تو اسی (٨٠) سے کچھ زیادہ لوگ (منافقین) آئے انہوں نے مختلف بہانے کئے اور قسمیں کھائیں سو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے ظاہر کردہ بہانوں کو قبول کرلیا اور ان سے بیعت لی اور ان کے لئے استغفار کیا اور ان کے باطنی امور کو اللہ کے سپرد کردیا۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٤٤١٨) 

دوسرا جواب یہ ہے کہ فقہاء احناف کے نزدیک صرف حجت ظاہریہ کا اعتبار ہے : 

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں : 

جھوٹے گواہوں کے ساتھ ظاہرا و باطنا عقود اور فسوخ میں قضا نافذ ہوجاتی ہے بہ شرطی کہ قضا کے محل میں اسی قضا کی صلاحیت ہو اور قاضی کو گواہوں کے جھوٹے ہونے کا علم نہ ہو۔ (درمختار علی ہامش ردالمختار ج ٤ ص ٣٣٣) 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

فسوخ سے مراد ایسافیصلہ ہے جو عقد حکم کو فسخ کردے ‘ لہذایہ طلاق کو بھی شامل ہے اور اس کی فروع میں سے یہ ہے کہ ایک عورت نے دعوی کیا کہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں اور خاوند اس کا منکر ہو اور اس عورت نے اپنے دعوی پر دو جھوٹے گواہ پیش کردیئے اور قاضی نے ان میں علیحدگی کا فیصلہ کردیا ‘ اس عورت عدت کے بعد کسی اور شخص سے نکاح کرلیا۔ تو اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس شخص کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز ہے خواہ اس کو حقیقت حال کا علم ہو اور ان دو گواہوں میں سے بھی اگر کوئی اس عورت سے نکاح کرے تو عدت کے بعد اس عورت سے نکاح اور مباشرت کرنا جائز ہے اور اس کے پہلے خاوند کا اس عورت سے مباشرت کرنا جائز نہیں ہے اور اس عورت کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ اس کو وطی کرنے کا موقع دے۔ (رد المختار ج ٤ ص ‘ ٣٣٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

اس اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ جس عورت پر اس کا خاوند ظلم کرے اس کو نہ گھر میں رکھے اور نہ کھانے پینے اور کپڑوں کا خرچ دے اور نہ اس کو طلاق دے اور وہ عورتت جوان ہو وہ اپنے معاش کے حصول کے لئے محنت مزدوری یا ملازمت کرے تو اس کو اپنی عزت اور عفت کے لٹ جانے کا بھی خطرہ ہو (اور ایسے واقعات ہمارے ہاں ہوتے رہتے ہیں) تو اس صورت حال کے مطابق اگر عدالت اس کے فسخ نکاح کا فیصلہ کر دے تو یہ ائمہ ثلاثہ کے مطابق ایک جائز عمل ہے ‘ اب اگر کوئی عورت اس قانون سے فائدہ اٹھا کر گواہوں کے ذریعہ شوہر کے آباد نہ کرنے کی فرضی داستان سنا کر اپنے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ کرا لے تو اس کا وبال اس عورت کے سر ہوگا اور اس کے اس جھوٹ کی وجہ سے اس جائز طریقہ کو ترک نہیں کیا جائے گا اس کی نظر یہ ہے۔ 

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

علامہ ابن حجر نے کہا ہے کہ زیارت قبور کو اس لئے ترک نہیں کیا جائے گا کہ زیارت قبور میں بہت سے منکرات اور مفاسد (ناجائز اور برے کام) مثلا مردوں اور عورتوں کا اختلاط اور دوسرے امور (مثلا قبروں پر سجدہ کرنا) داخل ہوگئے ہیں کیونکہ عبادات کو ان کاموں کی وجہ سے ترک نہیں کیا جائے گا بلکہ انسان پر لازم ہے کہ ان عبادات کو بجا لائے اور ان غلط کاموں کا رد کرے اور حسب استطاعت ان بدعات کو زائل کرے (رد المختار ج ١ ص ‘ ٦٠٤ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ) 

ثانیا : یہ کہ جھوٹے گواہ پیش کرکے اپنے حق میں عدالت سے فیصلہ کرانا صرف فسخ نکاح کے عقد کے ساتھ تو مخصوص نہیں ہے۔ ہر قسم کے دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پیشہ ور جھوٹے گواہ عدالت کے باہر مل جاتے ہیں اور ان کی بناء پر بہت سے مقدمات میں ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کردیا جاتا ہے تو اب اگر کسی مقدمہ میں ظاہری شہادت کی بناء پر عدالت کے فیصلہ کو اس لئے معتبر نہ مانا جائے کہ یہ شہادت فی الواقع جھوٹی تھی تو پھر عدالت کا کوئی بھی فیصلہ معتبر نہیں رہے گا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ فیصلہ جھوٹی گواہی کی بناء پر ہو اور اس کا حل یہی ہے کہ عدالت کا کام ظاہری شہادت کی بناء پر فیصلہ کرنا ہے اگر کسی فریق نے جھوٹے شواہد پیش کئے ہیں تو اس کا گناہ اس کے ذمہ ہوگا اور حقیقت کا علم اللہ کے سوا اور کسی کو نہیں ہے۔ 

قضاء علی الغائب کے متعلق مذاہب ائمہ : 

قاضی ابو الولید محمد بن احمد بن رشد مالکی اندلسی متوفی ٥٩٥ ھ لکھتے ہیں : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز ہے انہوں نے کہا جو دور دراز غائب ہو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا اور امام ابوحنیفہ نے کہا کہ غائب کے خلاف مطلقا فیصلہ نہیں کیا جائے گا (بدایۃ المجتہد ج ٢ ص ٣٥٣‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

جس طرح حاضر کے خلاف ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے اسی طرح غائب کے خلاف بھی ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کیا جاسکتا ہے (روضۃ الطالبین ج ٨ ص ١٥٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤١٢ ھ) 

علامہ ابواسحق ابراہیم بن علی فیروزآبادی شافعی متوفی ٤٥٥ ھ لکھتے ہیں : 

اگر ایک شخص قاضی کے سامنے پیش ہو اور شہر سے غائب شخص کے خلاف دعوی کرے یا شہر میں حاضر ہو لیکن بھاگ جائے یا شہر میں حاضر ہو اور چھپ جائے اور اس کو حاض کرنا مشکل ہو تو اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ نہ ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس دعوی کا سننا غیر مفید ہے ‘ اور اگر مدعی کے پاس اس غائب کے خلاف گواہ ہوں تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور اس کے گواہوں کو بھی سنا جائے گا کیونکہ اگر ہم اس کے دعوی کو نہ سنیں تو اس مدعی علیہ کا غائب ہونا یا شہر میں چھپ جانا لوگوں کے حقوق ساقط کرنے کا سبب ہوگا جب کہ ان حقوق کی حفاظت کے لئے حاکم کو نصب کیا جاتا ہے۔ (المہذب ج ٢ ص ٣٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب بیروت ‘ شرح المہذب ج ٢٠ ص ١٦‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت) 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

جس غائب شخص کے خلاف کوئی حق ثابت ہوجائے تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا (الی قولہ) غائب کے خلاف صرف آدمیوں کے حقوق میں فیصلہ کیا جائے گا البتہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں اس کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا کیونکہ حدود میں اسقاط کی گنجائش ہے اگر کسی غائب شخص کے چوری کرنے پر گواہ قائم ہوں تو اس سے مال واپس لینے کا حکم دیا جائے گا اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم نہیں دیاجائے۔ (المغنی ج ١٠ ص ١٣٨‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ١٤٠٥ ھ) 

شیخ علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی متوفی ٤٥٦ ھ کی تحقیق یہ ہے کہ جو شخص مجلس عدالت سے غائب ہو یا اس شہر سے غائب ہو اور اس کے خلاف گواہ قائم ہوں تو اس کے خلاف فیصلہ کردیا جائے گا خواہ اس مقدمہ کا تعلق آدمیوں کے حقوق سے ہو یا اللہ تعالیٰ کی حدود سے۔ (محلی ابن حزم ج ٩ ص ٣٦٦) 

قضاء علی الغائب کے متعلق احادیث :

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ ہند نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ ابو سفیان ایک کم خرچ کرنے والے انسان ہیں اور مجھے ان کے مال سے خرچ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس کے مال سے اتنی مقدار لے لو جو تمہیں اور تمہاری اولاد کے لئے دستور کے مطابق کافی ہو۔ (صحیح البخاری ‘ رقم الحدیث : ٧١٨٠‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث : ١٧١٤) 

اس حدیث میں یہ تصریح ہے کہ حضرت ابو سفیان (رض) اس مجلس سے غائب تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق فیصلہ فرمایا ‘ امام بخاری نے اس حدیث کا عنوان ہی یہ قائم کیا ہے باب القضاء علی الغائب۔ اس حدیث میں مالی معاملات میں غائب کے متعلق فیصلہ کیا گیا ہے اور حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے فسخ نکاح میں غائب کے خلاف فیصلہ کیا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے : 

امام عبدالرزاق بن ھمام صنعانی متوفی ٢١١ ھ روایت کرتے ہیں : 

ابن المسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے مفقود (لاپتہ) شخص کے متعلق یہ فیصلہ کیا کہ اس کی بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد چار ماہ دس دن (عدت وفات گزارے) پھر اگر اس کا پہلا خاوند آجائے تو اس کو اپنے دئیے مہر اور بیوی کے درمیان اختیار دیا جائے گا۔ (المصنف ‘ رقم الحدیث : ١٢٣١٧) 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا : جس عورت کا خاوند لاپتہ ہوجائے اور اس کو معلوم نہ ہو کہ وہ کہاں ہے تو وہ چار سال انتظار کرے پھر چار ماہ دس دن عدت گزارے پھر وہ حلال ہوجائے گی۔ 

امام مالک فرماتے ہیں کہ جب اس نے عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرلیا تو پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا۔ 

امام مالک فرماتے ہیں ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ ایک عورت کو اس کے خاوند نے طلاق دے دی اور وہ غائب ہوگیا اور اس حال میں اس نے اس طلاق سے رجوع کرلیا عورت کو طلاق کی خبر پہنچی اور اس کے رجوع کی خبر نہیں پہنچی اور اس نے دوسری جگہ شادی کرلی حضرت عمر (رض) نے یہ فیصلہ فرمایا جب اس عورت نے نکاح کرلیا تو اب پہلے خاوند کا اس پر کوئی حق نہیں رہا خواہ دوسرے خاوند نے اس سے دخول کیا ہو یا نہیں۔ (موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث : ١٢١٩) 

ان دو حدیثوں میں فسخ نکاح اور طلاق کے معاملہ میں قضاء علی الغائب کا ثبوت ہے۔ 

امام شافعی ‘ امام مالک ‘ اور امام احمد کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے ‘ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے لیکن فقہاء احناف نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر ضرورت کی بناء پر کوئی حنفی قاضی یا مفتی ائمہ ثلاثہ کے اس قول پر فتوی دے تو یہ جائز ہے اور جس عورت کو اس کا خاوند تنگ کرنے کے لئے نہ خرچ دیتا ہو نہ طلاق دیتا ہو اور اپنی عزت اور عصمت کی حفاظت کے ساتھ ملازمت کرکے اس کے لئے روٹی کمانا مشکل اور دشوار ہو اور اندریں صورت وہ عدالت میں اپنا کیس پیش کرے ‘ خاوند حاضر نہ ہو اور عدالت خاوند کے خلاف یک طرفہ ڈگری دے کر خلع کردے (یعنی نکاح فسخ کردے) تو یہ فیصلہ صحیح ہے اور عدت کے بعد اس عورت کا دوسری جگہ نکاح کرنا صحیح ہے۔ 

دفع حرج ‘ مصلحت اور ضرورت کی بناء پرائمہ ثلاثہ کے مذہب پر فیصلہ اور فتوی کا جواز :

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں : 

جو فقہاء احناف قضاء علی الغائب کو جائز کہتے ہیں وہ یہ فرق نہیں کرتے کہ حنفی قاضی یہ فیصلہ کرے یا غیر حنفی فیصلہ کرے ‘ قنیہ میں بھی مذکور ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا حنفی ہونا شرط نہیں ہے ‘ اس تصریح سے علامہ رملی اور علامہ مقدسی کا یہ کہنا غلط ہوجاتا ہے کہ اس فیصلہ کے لئے قاضی کا مجوزین میں سے ہونا شرط ہے اور یہی صاحب البحر الرائق کا نظریہ ہے ‘ صاحب البحر نے قضاء علی الغائب کو مفقود کے ساتھ خاص کیا ہے ‘ علامہ رملی نے ان کا رد کیا ہے اور لکھا ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ اس میں عموم ہے ‘ جامع الفصولین میں مذکور ہے کہ مسئلہ میں فقہاء کی آراء مضطرب ہیں پس میرے نزدیک یہ ظاہر ہے کہ تمام مقدمات میں غور وفکر کیا جائے اور احتیاط سے کام لیا جائے اور حرج اور ضرورت کا لحاظ رکھا جائے اور اگر جواز کا تقاضا ہو تو اس کو جائز کہا جائے ورنہ اس کو ناجائز کہا جائے ‘ مثلا ایک شخص نے اپنی بیوی کو چند نیک لوگوں کے سامنے طلاق دی پھر وہ شہر سے غائب ہوگیا اور اس کی جگہ کا پتہ نہیں یا پتہ تو ہے لیکن اس کو حاضر کرنا مشکل ہے یا عورت یا اس کے وکیل کا اس کے پاس جانا مشکل ہے کیونکہ وہ جگہ دور ہے یا کوئی اور مانع ہے ‘ اسی طرح اگر مقروض غائب ہوجائے اور اس کا شہر میں مال ہو ‘ اس قسم کی مثالوں میں اگر قاضی کے سامنے غائب کے خلاف گواہ پیش کردیئے جائیں اور قاضی کا ظن غالب یہ ہو کہ یہ گواہ سچے ہیں اور ان میں کوئی جھوٹ یا حیلہ نہیں ہے تو قاضی کو چاہیے کہ غائب کے خلاف فیصلہ کر دے اور مفتی کو بھی چائیے کہ حرج اور حاجت کو دور کرنے کے لئے اس کے جواز کا فتوی دے تاکہ لوگوں کے حقوق ضائع ہونے سے محفوظ رہیں جب کہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے ‘ ائمہ ثلاثہ اس کو جائز کہتے ہیں اور ہمارے اصحاب (احناف) کے بھی اس میں دو قول ہیں اور مناسب یہ ہے کہ غائب کی جانب سے ایک ایسا وکیل کرلیا جائے جس کے متعلق یہ معلوم ہو کہ وہ غائب کی جانب سے مکمل رعایت کرے گا اور اس کے حق میں کوئی کوتاہی نہیں کرے گا ‘ نور العین میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے اسی طرح مسخر میں ہے اور فتح القدیر کے باب المفقود میں بھی یہی مذکور ہے کہ غائب کے خلاف قضاء جائز نہیں لیکن جب قاضی غائب کے حق میں اس کے خلاف فیصلہ کرنے میں مصلحت دیکھے تو فیصلہ کردے اور یہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے (علامہ شامی کہتے ہیں) میں کہتا ہوں کہ اس کا ظاہر معنی یہ ہے کہ خواہ قاضی حنفی ہو۔ (درالمختار علی الدر المختار ج ٤ ص ٣٣٩ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

جو شخص اپنی بیوی کو نہ خرچ دے نہ آزاد کرے اس کے متعلق شریعت کا حکم : 

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : 

(آیت) ” فامسکوھن بمعروف او سرحوھن بمعروف ولا تمسکوھن ضرارالتعتدوا “۔ (البقرہ : ٢٣١) 

ترجمہ : اپنی بیویوں کو حسن سلوک کے ساتھ رکھو ورنہ ان کو معروف طریقہ سے علیحدہ کردو اور ان پر زیادتی کرنے اور ضرر پہنچانے کی نیت سے ان کو اپنے پاس نہ رکھو۔ 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

علماء کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ خاوند کے پاس جب بیوی کو نفقہ دینے کی طاقت نہ ہو تو اس کا چاہیے کہ وہ بیوی کو طلاق دے دے ‘ اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو وہ بیوی کو معروف طریقہ سے علیحدہ کرنے کی حد سے نکل گیا پھر حاکم کو چاہیے کہ وہ اس کی بیوی پر طلاق واقع کر دے ‘ کیونکہ جو شخص اس کو خرچ دینے پر قادر نہیں ہے اس کے نکاح میں رہنے سے اس عورت کو ضرر لاحق ہوگا اور بھوک پر صبر نہیں ہوسکتا ‘ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام احمد ‘ اسحاق ‘ ابو ثور ‘ ابو عبید ‘ یحییٰ بن القطان اور عبدالرحمن بن مہدی کا یہی قول ہے ‘ اور صحابہ میں سے حضرت عمر (رض) ‘ حضرت علی (رض) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا یہی قول ہے اور تابعین میں سے سعید بن مسیب نے کہا یہی سنت ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے اس کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے : (الجامع الاحکام القرآن ج ٣ ص ١٥٥ مطبوعہ انتشارات ناصر خسرو ایران ٗ ١٣٨٧ ھ) 

علامہ دردیر مالکی لکھتے ہیں :

حاکم پر لازم ہے کہ وہ خاوند سے کہے یا تو تم بیوی کو خرچ دو یا اس کو طلاق دو ورنہ حاکم اپنے اجتہاد سے ایک یا دو دن انتظار کرنیکے بعد اس کی بیوی کو طلاق واقع کردے۔ (الشرح الکبیر علی ہامش الدسوتی ج ٢ ص ٥١٩‘ مطبوعہ بیروت) 

سو اگر کوئی عورت اپنے خاوند کے خلاف یہ مقدمہ دائر کرے تو کہ اس کا خاوند اس کو خرچ دیتا ہے نہ اس کو طلاق دیتا ہے اور اس پر گواہ قائم کردے اور خاوند بلانے پر بھی عدالت میں پیش نہ ہو تو عدالت پر لازم ہے کہ وہ اس نکاح کو فسخ کر دے ‘ خواہ وہ قاضی حنفی ہو یا شافعی یا مالکی یا حنبلی : 

مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی رئیس دارافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی لکھتے ہیں : 

ہاں شوہر کا ظلم و زیادتی اگر عدالت میں شرعی گواہوں سے ثابت ہوجائے اور شوہر شرعی طریقہ سے اسے آباد کرنے پر رضامند نہیں ہوتا نہ اسے طلاق دیتا ہے اور نہ ہی خلع پر رضا مند ہوتا ہے تو ان مجبوریوں کے بعد عدالت گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر یک طرفہ فسخ نکاح کا اختیار رکھتی ہے۔ (جواہر الفتاوی ج ٣ ص ٣٢٣‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی) 

مفتی رشید احمد کراچی نے بھی اسی صورت میں عدالت کے فیصلہ کو نافذ العمل قرار دیا ہے۔ (احسن الفتاوی ج ٥ ص ٤١١۔ مطبوعہ کراچی) 

میں نے اس مسئلہ کو شرح صحیح مسلم میں بھی لکھا تھا اور یہاں مزید تحقیق کے ساتھ لکھا ہے کیونکہ ہمارے زمانہ میں جب کوئی مظلوم عورت ہمارے زمانہ کے مفتیوں کے پاس جاتی ہے جس کو خاوند نہ خرچ دیتا ہے نہ طلاق ‘ خاوند عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور عدالت یک طرفہ ڈگری دے دیتی ہے تو ہمارے مفتی اس فیصلہ کو نہیں مانتے اور اس عورت کو عقد ثانی کی اجازت نہیں دیتے اور وہ عورت یہ کہتی ہے کہ اس کے مسئلہ کا اسلام میں کوئی حل نہیں ہے ‘ سو میں نے صرف اسلام کے دفاع کے جذبہ سے یہ تحقیق پیش کی ہے اور اللہ نیتوں کو جاننے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 4 النساء – آیت نمبر 35

ایک فرق سمجھیے

ایک فرق سمجھیے

وکلاء اورجج صاحبان ، ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان کو عزت ہمارے قانون نے دی۔

اور علماء کو عزت اللہ اور اس کے رسول ﷺنے دی۔

علماءکو ایسےہی سمجھ لیجئے جیسے وکلاء اورجج صاحبان ، جیسے ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے جج صاحبان ،پس جس طرح ہائی کورٹ کے جج بلکہ ایک ٹرائل کورٹ کے جج کی بھی مخالفت جائز نہیں۔

تو اسی طرح عوام کو علماء کی مخالفت کب جائز ہوگی، میں یہ نہیں کہتا کہ علماء سے غلطی نہیں ہوتی ،بلکہ غلطی ہوجاتی ہے

مگر اس کا پکڑنا عوام کا کام نہیں بلکہ علماء ہی کاکام ہے۔

بہت سے لوگ جو اس حقیقت سے واقف نہیں وہ مذاہب فقہاء اور علماء حق کے فتوؤں میں اختلاف کو بھی حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں، ان کو یہ کہتے سنا جاتا ہے کہ جب علماء میں اختلاف ہے تو ہم کدھر جائیں۔

حالانکہ بات بالکل صاف ہے کہ جس طرح کسی بیمار کے معاملہ میں ڈاکٹروں کا اختلاف رائے ہوتا ہے تو ہر شخص یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ ان میں سے فنی اعتبار سے زیادہ ماہر اور تجربہ کار،سپیشلسٹ کون ہے۔

بس جس کو زیادہ تجربہ کار، ماہر ،سپیشلسٹ سمجھتے ہیں اس سے علاج کرواتے ہیںدوسرے ڈاکٹروں کر برابھلا نہیں کہتے۔

اسی طرح ایک ہی آئین و قانون کو پڑھنے کے باوجود مقدمہ کے وکیلوں میں اختلاف ہو جاتا ہے، تو جس وکیل کو زیادہ قابل اور تجربہ کار جانتے ہیں اس کے کہنے پر عمل کرتے ہیں، دوسروں کی بدگوئی کرتے نہیں پھرتے۔

عوام کو یہی طریقہ علماء کے بارے اپناناچا ہئے،جس کو تقویٰ پرہیز گاری ،علمی اعتبار سے مستند،اور اپنے فن میں ماہر سمجھیں اس کی بات کو لے لیں دوسروں کو چھوڑ دیں،بد زبانی اور بد کلامی سے پرہیز کریں۔

جس طرح انجینئر وکالت میں ماہر ، معتبر نہیں ہوتا۔

جس طرح ڈاکٹر کی رائے انجینئر کے لیے اہمیت نہیں رکھتی۔

جس طرح ایک درزی گاڑی مرمت کرنے میں مہارت نہیں رکھتا۔

جس طرح ایک جج ملاح کی طرح کشتی کنارے لگانے میں ماہر نہیں ہوتا۔

جس طرح ہر شعبہ زندگی میںما ہر ،سپیشلسٹ کو ہی ترجیح دی جاتی ہے۔

اسی طرح دین کے معاملے میں بھی دین کے ماہر لوگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔

تفصٰلات اگلے کالم میں

محمد یعقوب نقشبندی اٹلی